- الإعلانات -

کشمیر میں بھارتی سفاکیت کے نتائج

وادی کشمیر میں ایک نوجوان نے بارود سے بھری گاڑی نیم فوجی سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)کے کانوائے سے ٹکرائی ۔ایک نہایت ہی زور دار دھماکے میں ایک فوجی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی اور اس میں سوار 46افراد ہلاک ہوگئے جبکہ دھماکے کی زد میں آنے والی دوسری فوجی گاڑیوں میں بیسیوں افراد شدید زخمی ہوئے۔جائے وقوعہ کے نزدیک کئی رہائشی مکانات اور دکانیں بھی تباہ ہو گئیں ۔ایک ویڈیو کے مطابق حملہ آور ایک قریبی گاؤں کا رہائشی 22 سالہ نوجوان عادل ڈار ہے اور اس نے اس کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے۔حملہ آور کے والد غلام حسین ڈار کا کہنا ہے کہ تین سال قبل سکول سے آتے ہوئے اسے بھارتی فوجیوں نے تشدد کا نشانہ بنایا اور شرمناک سلوک کیا جس کی وجہ سے وہ ہر بھارتی فوجی سے نفرت کرنے لگا ۔سکول چھوڑ کر مزدوری کرنے لگا ۔گزشتہ انیس مارچ کو کام پر گیا تو لاپتہ ہو گیا اور تلاش کے باوجود نہ ملا ۔گمشدگی کی رپٹ بھی درج کرائی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔یہ فدائی حملہ کشمیر میں 1989ء سے شروع ہونے والی بغاوت میں سب سے جان لیوا حملہ ہے ۔پلوامہ حملہ کے چند منٹ بعد ہی بھارت نے پاکستان کو اس حملے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ بے جی پی سابقہ روش کی طرح آج بھی مسلم اور پاکستان دشمنی کو فروغ دے کر آمدہ انتخابات میں کامیابی کا زینہ طے کرنا چاہتی ہے ۔اپریل کے عام انتخابات کے پیش نظر اور کارپوریٹ میڈیا کے بھڑکائے میں نریندر مودی جنگجوانہ انداز میں منہ توڑ جواب دینے کی باتیں کر رہا ہے ۔2016ء میں ایک ایسے ہی حملے کے جواب میں مودی نے کنٹرول لائن کے پار ’’سرجیکل سٹرائیک کا خوب واویلا مچایا تھا ۔ امکان ہے کہ آئندہ انتخابات میں ممکنہ شکست سے دوچار انتہائی دائیں بازو کی فرقہ پرست ، بھارتیہ جنتا پارٹی ،اس سے کہیں زیادہ شدید اقدام کی طرف جا سکتی ہے ۔جس سے خطے میں دو ایٹمی قوتوں کے درمیان بہت خطرناک صورت حال پیدا ہو سکتی ہے ۔جوں جوں بھارت میں انتخابی سر گرمیاں تیز ہو رہی ہیں سیاسی فضا پراگندہ ہوتی جا رہی ہے ۔ آمدہ انتخابات کے حوالہ سے کہا جا رہا ہے کہ بھارت میں حکمران جماعت بی جے پی کی پتلی حالت عیاں ہے اور ناقص کارکردگی کی بنا پر مودی کا جادو اثر نہیں دکھا سکے گا ۔راجھستان ،چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش سمیت کئی ریاستوں میں بی جے پی کو بری طرح شکست ہو چکی ہے ۔پہلے بھی پاک بھارت تناؤ انتخابی نتائج پر اثر انداز ہوتا رہا ہے اب بھی کوئی اور چارہ نہ پا کر حکمران جماعت نے کانگرس کی طرح اسی حربے پر تکیہ کر لیا ہے۔جریدے انڈین ایکسپریس کے مضمون ’ڈوبتی ہوئی وادی‘ کے مطابق ’’کشمیر میں ہندوستان کی ریاست مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے ۔شدید اور پر تشدد تنازعہ ایک ایسی صورت حال میں جا رہا ہے ،جہاں ہر طرف موت کی خواہش ہے ۔سیکورٹی فورسز کے پاس موت دینے کے سوا ، امن کا کوئی راستہ نہیں ۔بھارتی قوم پرستی کی زیادہ دلچسپی حقیقی مسائل کے حل کی بجائے اپنی طاقت کے اظہار میں ہے ‘‘۔پلوامہ میں فوجی دستے پر حملے کے بعد بھارت میں مسلمان اقلیت اور کشمیریوں کو خاص طور پر شدت پسندی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے مسلمان تاجروں پر تشدد ،ان کی املاک کو نذر آتش اور طلباء کو ہراساں کرنے کی بہیمانہ کاروائیاں شروع کر دی گئیں ۔ جموں میں بھی ہندو انتہا پسندوں نے مقامی پولیس کی سر پرستی میں کشمیری مسلمانوں کے گھروں پر دھاوا بولا اور 100کے قریب گاڑیوں سمیت متعدد گھروں کو آگ لگا دی گئی ۔بھارت کی یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس کی وجہ سے انہیں واپس کشمیر بھیج دیا گیا ہے۔پوری دنیا میں کشمیر ہی ایک ایسا بد نصیب خطہ ارضی ہے کہ جس کے مستقبل کا اندازہ لگانا مشکل ہی نہیں بلکہ محال بھی ہے گزشتہ بہتر برس میں بارہا ایسا لگا کہ اب یہ مسئلہ حل ہو نے والا ہے لیکن ایسا کبھی نہ ہوا ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف یہ مسئلہ پیچیدہ ہوتا گیا بلکہ طوالت نے اس کو ایک آتش فشاں بنا دیا ۔اس بنیادی مسئلے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان 4جنگیں ہوئیں (بشمول کارگل جنگ) اور پانچویں ایٹمی جنگ ہوتے ہوتے رہ گئی۔یہ ہندوستان کی ہٹ دھرمی ، غیر حقیقت پسندی اور وعدہ خلافیوں کا ہی نتیجہ تھا کہ جموں و کشمیر کے امن پسند عوام جو چاقو کو ہاتھ لگاتے ہوئے بھی سو دفعہ سوچتے تھے ،بندوق اور بارود اٹھانے پر مجبور ہو گئے ۔1988ء سے آج تک جمہوری دنیا کے سب سے بڑے دعویدار بھارت کی آٹھ لاکھ درندہ صفت فوج نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد کشمیری مسلمانوں کو انتہائی بے دردی اور سفاکی سے شہید کیا اور اب بھی شائد ہی کوئی ایسا دن گزرتا ہو جب درجنوں کشمیری مسلمان جرم بے گناہی میں موت کے پھندے پر نہ جھولتے ہوں ، رہی بات املاک کی تو کشمیر کی ہر گلی ،ہر کوچہ ،ہر شہر اور ہر بازار بھارت کی دہشت گرد اور بے حمیت فوج کی جارحیت کی ننگی تصویر دکھا رہا ہے ۔کون نہیں جانتا محض آزادی کے حصول کی خواہش میں کشمیر کی عزت مآب خواتین ،بے حرمتی جیسے ناقابل برداشت مظالم کا سامنا کر رہی ہیں ۔کشمیر اور بھارت کی جیلیں نوجوان کشمیریوں سے بھری پڑی ہیں ۔حق خود ارادیت کے جائز مطالبہ پر کشمیر کے بچوں ،جوانوں ،بزرگوں کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے ۔برس ہا برس سے کشمیریوں کی حریت پسند قیادت جیلوں میں قید اور گھروں میں نظر بند ہے ۔کشمیریوں کی نئی نسل ظلم و تشدد کے باوجود اپنی آنکھوں سے آزادی کے خواب کو اوجھل نہیں ہونے دے رہی۔یہ مجاہدین اور مسلمانان کشمیر کا عزم صمیم ہی ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی ظالم اور دہشت گرد قوم کے سامنے سینہ سپر ہیں اور تا حصول مقصد ڈٹے رہنے کا عزم رکھتے ہیں ۔اگر اقوام متحدہ ،یورپی یونین ،او آئی سی ،انسانی حقوق کی چمپئین این جی اوز اور دنیا کے مختلف خطوں میں آباد امن پسند عوام برصغیر میں رہنے والے سو ارب انسانوں کا بھلا چاہتے ہیں تو پھر بھارت کی آٹھ لاکھ دہشت گرد فوج کی دہشت گردی کا سیاہ اور آہنی پردہ چاک کر کے دنیا کے سامنے بھارت کا اصلی چہرہ لانا ہو گا تاکہ بھارت کو حقیقت کا ادراک کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہ رہے اور وہ بار بار زمینی حقائق کو نظر انداز کرنے کی بے شرمانہ جسارت نہ کر سکے اور اس طرح ان لوگوں کا خواب بھی شرمندہ تعبیر ہو گا جو کئی دہائیوں سے بھارتی ظلم و جبر اور قہر و غضب کی چکی میں پیسے جا رہے ہیں اور ہاں اگر اب بھی عدل و انصاف کے تقاضوں کو ماضی کی طرح بے آبرو کیا جاتا رہا تو پھر یہ آتش فشاں صرف برصغیر کے انسانوں کا نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کو غارت کرنے کا سبب بنے گا(خدا نخواستہ)۔ہر ماں اپنے بچے کو آزاد جنتی ہے اور آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے ،دنیا کے اندر رہنے والا انسانوں کا باشعور طبقہ اس آفاقی حقیقت کو تسلیم کرتا ہے اور اس کے پامال کئے جانے پر سراپا احتجاج بھی بن جاتا ہے ۔رنگ و نسل اور قوم و مذہب سے بالا تر ہو کر ہر انسان کا آزادی کے ساتھ جینا اور اپنے عقیدے و نظریے پر آزادی سے عمل پیرا ہونا قیام امن کی ضمانت کی بنیادیں فراہم کرتا ہے اور اسی طرح اگر جان و مال اور عزت و آبرو بھی غیر محفوظ ہوں بلکہ جملہ انسانی حقوق کی پامالی کا یہ عالم ہو کہ انسان سب سے زیادہ پیار کرنے والی زندگی کو بھی داؤ پر لگانے سے نہ ہچکچاتا ہو اور یہی انسانی حقوق کی پامالی اور تلفی اس ستائے ہوئے انسان کو انسانی بم میں بدل دیتی ہیں اور پھر بھی عالمی امن کے پرچارک اسی مظلوم اور محکوم پر ظلم کرنے پر تلے نظر آتے ہیں اور اس انسان کے ماتھے پر دہشت گردی اور جہالت کی مہر ثبت کی جاتی ہے کہ جو پوری انسانیت کے ماتھے کا جھومر کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔کاش عالمی امن کے ٹھیکیدار بغیر مذہب و قوم کی تمیز کے بنیادی انسانی حقوق کی بازیابی میں مظلوم اور محکوم انسانوں کا بھرپور ساتھ دیتے تو چشم فلک صدیوں بعد یہ نظارہ دوبارہ کرتی کہ کرہ ارض کا یہ گلشن امن و سکون اور اطمینان و راحت کے پھولوں کی مہک سے معطر ہوتا اور یہ سسکتی اور تڑپتی انسانیت مدتوں بعد اپنے ازلی حسن سے دوبارہ آراستہ ہوتی اور اس کے پر شکوہ چہرے سے غم و ملال کے تمام نقوش محو ہو جاتے ۔جب تک بد امنی کی بنیادی وجہ کو اس کے حقیقی روپ میں نہیں دیکھا جاتا تب تک قیام امن کا خواب سوتے اور جاگتے دیکھا تو جا سکتا ہے لیکن اس کی حقیقی تعبیر کو نہیں پایا جا سکتا۔