- الإعلانات -

بلوچستان میں بلوچ دشمن سرگرمیاں

بلوچستان میں غیروں کی مہربانی سے کئی علیحدگی پسند تنظیمیں وجود میں آئیں جو پاکستان کی سالمیت کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ ان میں لبریشن یونائیٹڈ فرنٹ ( بی ایل یو ایف) ، بلوچ لبریشن آرمی، بلوچ ری پبلکن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ انتہا پسند تنظیمیں ہیں جن کے سربراہ بلوچستان کے مختلف قبائل کے سردار ہیں۔ ان سرداروں کا زیادہ تر وقت باہر کے ممالک میں گزرتا ہے ۔ ان کا کام صرف دشمنوں سے مالی و حربی امداد لے کر اپنے قبائل کے شرپسند عناصر کو وطن عزیز کے خلاف بھڑکانہ ہے۔ انہی باغی سرداروں میں ایک نام ڈاکٹر جمعہ خان مری کا بھی تھا جو روس میں جلا وطن زندگی گزار رہے تھے۔ گزشتہ سال فروری میں جمعہ خان مری اپنے حامیوں کے ہمراہ نام نہاد علیحدگی پسند تحریک سے منحرف ہوگئے جبکہ بیرون ممالک فری بلوچستان موومنٹ کیخلاف "اوورسیز پاکستانی بلوچ کمیونٹی” کے نام سے نئی تنظیم کے آغاز کا اعلان بھی کیا۔ جمعہ خان مری نے حربیار مری، براہمداغ بگٹی اور مہران مری سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سیاسی پناہ لینے والے بلوچوں کو قومی دھارے میں لائیں گے۔ جلاوطن بلوچوں کو ملک میں واپس لائیں گے۔ بلوچ قوم کو حربیار مری، مہران مری اور براہمداغ بگٹی نے نقصان پہنچایا ہے۔ براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور مہران مری نے بھارتی شہریت کی درخواست دی۔ نام نہاد بلوچ رہنماؤں نے جینوا میں گاندھی کے مجسمے پر پھول چڑھائے۔ لہٰذا ان کے ان کرتوتوں سے ثابت ہوا کہ وہ پاکستان کے دشمنوں کے ہاتھ میں کھیل رہے ہیں۔ اسی لئے جمعہ خان مری نے ان سے علیحدگی اختیار کی۔ ڈاکٹر جمعہ خان مری کی روس میں قائم کردہ’’ او ور سیز پاکستانی بلوچ یونٹی‘‘ تنظیم کا دائرہ کار ماسکو سے پاکستان اور بلوچستان تک پھیلا دیاگیاہے۔ بلوچستان میں یہ تنظیم ’’پاکستان بلوچ یونٹی ‘‘کے نام سے کام کرے گی ۔ اس سلسلے میں کوہلو میں پاکستان بلوچ کمیونٹی کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ کوہلو میں ہونے والی ’’پاکستان بلوچ یونٹی ‘‘ کی افتتاحی تقریب میں بلوچ سیاسی و سماجی رہنماؤں سمیت بلوچ شہریوں کی ایک بڑی تعدادنے شرکت کی ۔ تقریب میں دیگر شخصیات کے علاوہ متعدد قبائلی سرداروں نے بھی شرکت کی ،زعماء اس پرجوش اجتماع سے خطاب کیاجن میں وڈیرا ربنواز ، وڈیرا غازیخان ، وڈیرا سید ناظم شاہ ، وڈیرا بیوراغ مری ، عمر فاروق اور ملک زارک خان شامل تھے۔اس موقع پرڈاکٹر جمعہ خان مری نے ماسکو سے ٹیلیفونک خطاب میں کہا گوادر پورٹ اور سی پیک کا منصوبہ بلوچستان کی قسمت بدل دیگا ۔ وہ لو گ جو ان منصوبوں کی مخالفت کررہے ہیں وہ نہ صرف پاکستان کے دشمن ہیں بلکہ بلوچستان کے عوام کے بھی دشمن ہیں۔ تمام بھٹکے ہوئے بلوچوں سے اپیل کی کہ وہ ہتھیار ڈال کر بلوچستان کی بہتری کے ان منصوبوں میں شمولیت اختیار کریں۔ دشمن بلوچستان میں ان ترقیاتی منصوبوں کی مخالفت اپنی جغرافیائی وجوہات کی بنا پر کررہے ہیں اور اس میں بلوچوں کو ٹشو پیپر کی مانند استعمال کیا جارہاہے ۔ بھارت، افغانستان میں پناہ گزین براہمداخ بگٹی کے علاوہ دیگر بلوچوں کو بلوچستان میں بدامنی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بلوچستان کے علیحدگی پسند بھارتی سرمائے سے یورپی ممالک برطانیہ، کینیڈا، دبئی، اومان کے ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ را کے زیر سرپرستی بلوچ علیحدگی پسندوں کو تخریبی کارروائیوں کیلئے افغانستان میں قائم مختلف تعلیمی اداروں میں ورغلا کرعظیم تر بلوچستان بارے گمراہ کن تھیوریاں بتائی جا رہی ہیں جس میں انہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے متنفر کرنے کیلئے خصوصی سیمینار کا اہتمام بھی کیاگیا۔یہ حقیقت ہے کہ نام نہاد بلوچ رہنماؤں کو بھار ت کی جانب سے بھاری رقوم مل رہی ہیں جس سے وہ یورپ میں عیش و عشرت کی زندگیاں بسر کررہے ہیں جبکہ عام بلوچوں کو دہشت گردی اور شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ حملہ آور وں کانشانہ عام بلوچ بنتے ہیں۔ بھارت چاہتا ہے کہ پاکستان پرتشدد کارروائیوں اور متواتر اشتعال انگیز بیانات کے بچھائے ہوئے جال میں الجھ جائے اور وقت کے ساتھ ساتھ پاکستان اس دلدل میں پھنستا چلا جائے۔ بھارت کا خیا ل ہے کہ جتنی زیادہ افراتفری ہوگی، ترقی کی رفتار اتنی ہی کم ہو گی جس کے نتیجے میں اسلام آباد مختلف تنازعات کا شکار ہوکر بین الاقوامی برادری کی نظر میں اپنا اعتبار کھو دے گا اور نتیجے کے طور پر سی پیک منصوبہ پر کام رک جائے گا، جو کہ بھارت کا پہلا ہدف ہے۔ بلوچ آزادی تحریک سے ڈاکٹر جمعہ خان مری کی علیحدگی اور پاکستان بلوچ کمیونٹی کیلئے بھارتی حمایت یافتہ بلوچ قیادت کے خلاف آواز بلند کرنا اور وہ بھی روس میں ایک تاریخی لمحہ ہے جو کہ بلوچ آزادی تحریک کیلئے ایک بڑا دھچکہ ہے۔ پاکستانی حکام اور فوج ہمیشہ سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کو بلوچستان میں بدامنی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جبکہ اسلام آباد اس حوالے سے اقوام متحدہ کے سامنے شواہد بھی پیش کرچکا ہے تاہم اقوام متحدہ سمیت عالمی برادری بھارتی ہٹ دھرمی اور کشمیر سمیت پاکستان کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے قتل عام پر خاموش ہے۔