- الإعلانات -

سیکولر انتہا پسندی کے فکری تضادات (2)‎

ملا ئیت اور انتہا پسندی وضع قطع کا نہیں، طرز فکر کا نام ہے اور انتہا پسند ہونے کے لئے باریش ہونا ضروری نہیں، آدمی ساغر و مینا بغل میں لئے بھی ’ انتہا پسند ‘ ہو سکتا ہے۔
اختلاف رائے میں تنوع ہے اور تنوع زندگی کا حسن،لیکن اگر دلیل اور دیانت کی قوت ساتھ نہ ہو اور تعصبات غالب آ جائیں تو صرف مُلائیت اور انتہا پسندی ۔جب آدمی سحر زدہ معمول کی طرح ایک ہی دائرے میں گھومنا شروع کر دیتا ہے،جب وہ اپنی عصبیتوں کا اسیر ہو جاتا ہے،جب وہ دلیل کی بنیاد پر موقف اختیار نہیں کرتا بلکہ اپنے موقف کے حق میں حجتیں تراشتا ہے،جب وہ ایک رائے قائم کر کے آنکھیں کان بند کر کے اعلان کرتا ہے کہ اب اس کی رائے میں کسی غلطی کا اور دوسروں کے موقف میں کسی صحت کا امکان نہیں رہا،جب اس کے موقف میں ہٹ دھرمی کی آمیزش ہو جاتی ہے،جب وہ مکالمہ نہیں کرتا مجادلہ کرتا ہے اور دوسروں کی تضحیک سے لطف اندوز ہوتا ہے ،جب اس کا مخاطب پورا سماج نہیں بلکہ صرف اس کی ہم خیال اقلیت ہوتی ہے اور وہ صرف اس اقلیت کو آسودہ کرنا چاہتا ہے،جب وہ ایک لکیر کھینچ کر فکری صف بندی کر کے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کر دیتا ہے،جب وہ دوسروں کی بات کو اہمیت نہیں دیتا اورجب وہ اپنے تضادات سے قطع نظرخود ہی کو سچائی کا واحد علمبردار سمجھ لیتا ہے تو اس کا یہ رویہ انتہا پسندی کہلاتا ہے اور خود وہ فرد انتہا پسند ۔مکرر عرض ہے انتہا پسندہونے کے لئے باریش ہونا ضروری نہیں،یہ خصوصیات موجود ہوں تو آدمی ساغر و مینا بغل میں لئے بھی ’ انتہا پسند‘ ہو سکتا ہے۔جب آپ وضع قطع سے ہٹ کر طرز فکر کی بنیاد پر دیکھیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا وطن عزیز میں انتہا پسندی کی کئی اقسام موجود ہیں ، جن میں سے ایک کا نام سیکولر انتہا پسندی ہے۔
دعوی تو یہ ہے کہ سیکولرزم ا نسان دوستی، محبت، پیار، احترام انسانیت ، برداشت، تحمل اور بقائے باہمی کا نام ہے لیکن سیکولر اجباب کے رویے اور ان کی تحریریں کچھ اور ہی بیان کر رہی ہوتی ہیں۔ایک آدھ استثناءکے ساتھ ان کے ہاں قدر مشترک دوسروں کی تضحیک اور مذہب کا تمسخر اڑانا ہے۔چونکہ سیکولرزم ہے ہی رد عمل کی غیر متوازن نفسیات کا ایک پہلو، اس لیے یہ عدم توازن ایک فطری بات ہے۔تاہم ان کے دعووں کی روشنی میں یہ ایک فکری تضاد کہلائے گا۔
سیکولر انتہا پسندی کے فکری تضادات کی تفہیم کے لیے ہم ان کے سماجی رویوں سے آغاز کر تے ہیں۔سیکولر حضرات کی یہ بات مجھے بہت اچھی لگتی ہے کہ یہ دھرتی کی مقامی شناخت کے بارے میں بہت حساس ہیں اور خارجی تصورات کے ناقد،جب شاہراہوں کے نام برصغیرپر حملہ آور مسلمان جنگجوﺅں کے نام پر رکھے جاتے ہیں تو یہ معترض ہوتے ہیں کہ اپنے مقامی اکابرین کو عزت دینے کی بجائے یہ کیا ہم غوری اور ابدالی کو لے کر بیٹھ گئے،ہم جیسے طالب علم ان سیکولر احباب کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں کہ بات تو درست ہے پا کستانی نیشنلزم کے احیاءکے بغیر ہماری شناخت کیسے ہو سکے گی۔احباب غصے میں ہوں تو چودھری نثار کو طعنہ دیتے ہیں: ’ اب ا پنے بدو آقاﺅں کی طرح تو پ بھی پہننا شروع کر دو‘ اور ہم اسے بھی ایک حساس قوم پرست کی برہمی کے باب میں لکھ کر خاموش ہو جاتے ہیں،کوئی آدمی زندگی کے ایک دو عشرے عرب دنیا میں گزار کر لوٹے اور شوق سے گاڑی کی نمبر پلیٹ عربی میں لگا لے تو احباب طنز سے اسے ’ الباکستانی‘ کہتے ہیں ، انہیں اپنی ثقافت اور تہذیب خطرے میں محسوس ہوتی ہے اور یہ کرب ناک سنجیدگی سے سوال اٹھاتے ہیں: ” کیا اب رمضان کو’ رامادان ‘ پڑھا جائے گا ، ہم اس رویے کو بھی ایک وطن پرست کی برہمی سمجھ کر خوش ہو رہتے ہیں ۔لیکن ان کا فکری تضاد اس وقت سامنے آتا ہے جب کوئی کہہ دے کہ جناب یہ ویلنٹائن ڈے تو دوسروں کی ثقافت اور تہذیب کا استعارہ ہے ۔اب احباب کا بیانیہ بالکل دوسرا ہوتا ہے۔اب یہ تفصیل سے بتاتے ہیں کہ کوئی تہذیب مقامی اورغیر مقامی نہیں ہوتی ، یہ علمی اسلوب میں روشنی ڈالتے ہیں کہ دنیا ایک گلوبل ولیج بن چکی ہے اور ہم سب اس ولیج کے باشندے ہیں۔ یعنی ان کا رویہ مقامی تہذیب سے محبت کا عکاس نہیں ہے بلکہ برہمی اس بات پر ہے کہ عرب دنیا کے مسلم معاشروںسے کوئی چیز اس سماج میں کیوں آ رہی ہے۔نفرت کا ہدف واضح اوربے زاری کا مرکزی نکتہ عیاں ہے۔
یہ ان کا فکری تضاد ہے جو انہیں خلط مبحث کی طرف لے جاتا ہے۔چنانچہ اب جس نے ویلنتائن ڈے پر نقد کیا اس کے جواب میں اختلافی نقطہ نظر انداز کر کے خلط مبحث شروع ہو جاتا ہے۔طعنے اور کوسنے شروع ہو جاتے ہیں؛ ” پھول سے ڈرتے ہو؟ محبت کے دشمن ہو، محبت تو آفاقی جذبہ ہے، دنیا سے پیار ختم نہیں ہو سکتا، نفرت کے سوداگر ہو، لہو کے رسیا ہو“ وغیرہ وغیرہ۔ویلنتائن ڈے کے ناقدین، ایسا نہیں کہ، محبت سے آشنا نہیں یا ان کے دل نہیں دھڑکتے، اختلاف کسی اور بات کا ہے، اس پر لیکن بات نہیں ہوتی ۔کھلنڈرے لہجوں میں ہاﺅ ہو کا شور ، ناقدین کے لیے کچھ دشنام ، چند کوسنے ، تھوڑی تضحیک۔۔۔یہ ہے ان کا طرز بیاں۔
کہنے کو سیکولرزم سماج کی اقدار کا احترام کرتا ہے۔ہمارے ہاں معاملہ دوسرا ہے۔یہ ہر اس چیز کو سینگوں پر لے لیتے ہیں جس کے بارے میں سماج میں حساسیت ہو۔آرٹ کے نام پر کسی آن لائن روزنامے میں عورت کی برہنہ تصاویر چھاپنا کیا پاکستانی سماج کی اقدار کے احترام کے باب میں لکھا جا سکتا ہے؟عورت کے وجود کا آزادی کے نام پر جتنا استحصال سیکولر انتہا پسندی نے کیا یہ اتنا ہی خوفناک ہے جتنا مذہبی انتہا پسندی کے ہا تھوں عورت کا ہونے والا استحصال۔ایک دوست مجھے لاہور کے شاکر علی میوزیم میں لے گئے کہ ان کے بقول یہ میوزیم آرٹ کا شاہکار تھا۔ہر طرف عورت کی برہنہ تصاویر دیکھ کر عرض کی :” یہ آرٹ ہے یا غلاظت“۔۔۔جواب ملا:” غلاظت دیکھنے والی آنکھ میں ہوتی ہے ،یہ آرٹ ہے“۔ عرض کی :”اگر یہ آرٹ ہے تو تین چار برہنہ تصاویر کسی مرد کی بھی بنا کرآویزاں کر لیں ، کہنے کو تو آپ مردو زن میں کسی تفریق کے قائل نہیں، پھر برہنہ تصاویر کے لیے آپ کا انتخاب صرف عورت کیوں؟وطن عزیز میں مردانہ وجاہت کے کئی نمونے موجود ہیں،کسی ایک کو مجسم کیجیے اور آرٹ گیلری میں جگہ نہ ملے تو درائنگ روم میں لٹکا لیجیے“۔کیا یہ خوفناک تضاد نہیں کہ ایک چیز کو آپ آرٹ کا اعلی نمونہ بھی قرار دیں اور اسے اپنے گھر کی زینت نہ بنا سکیں؟
بالعموم ان کا رویہ مکالمے یا ہمدردی کا نہیں ہوتا ، بلکہ مذہبی طبقے کی توہین اور اس کا تمسخر اڑانا ان کے بیانیے کا بنیادی وصف ہے۔سائنس کی دنیا میں کہیں کوئی نئی تحقیق سامنے آئے یہ اپنے ملک کے مذہبی طبقے کا تمسخر اڑانا شروع کر دیں گے کہ ” مولویو دیکھو دنیا کہاں پہنچ گئی تم کہاں کھڑے ہو‘ ‘وغیرہ وغیرہ۔خدا کے بندو تم تو مولوی نہیں ہو ، سیکولر ہو، آسودہ بھی ہو، اچھی تعلیم بھی تمہیں ملی، اقتدار بھی تمہارے طبقے کے پاس رہا ، کچھ اپنے گریبان میں بھی جھانک لو، تم ہی سائنس کی دنیا میں کوئی انقلاب بپا کر دیتے۔یہ ہمارے معاشرے کا اجتماعی زوال ہے ، تعزیر کے لیے کسی ایک طبقے کو چن لینا کہاں کا انصاف ہے؟( جاری ہے)