- الإعلانات -

بھارتی چناؤ۔۔۔مزید آگاہی کی ضرورت !

asgher ali shad

بھارتی عام انتخابی شیڈول کا اعلان ہو چکا ہے جس کے مطابق 23 مئی 2019 کو ووٹوں کی گنتی ہو گی۔ اس سے پہلے سات مختلف مراحل میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ اسی تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ وطن عزیز کے میڈیا اور تحقیقی اداروں میں عام تاثر یہ ہے کہ بھارتی سیاست شاید BJP اور کانگرس کا ہی دوسرا نام ہے، اس وجہ سے بالعموم اس ضمن میں ہماری تمام تر توانائیوں کا محور انہی دو جماعتوں تک محدود رہتا ہے ، جبکہ اس تاثر کو جزوی طور پر ہی درست قرار دیا جا سکتا ہے، وگرنہ حقیقت تو یہ ہے کہ محض 25 سے 30 فیصد بھارتی ایسے ہیں جو کانگرس کی جانب مائل ہیں (Soft Hindutva ) اور تقریباً 30 سے 32 فیصد ایسے بھارتی ووٹرز ہیں جو پوری طرح سے RSS اور BJP کے حامی ہیں ( Hard liners ) اور وہ اس معاملے میں ’’اندھی عقیدت ‘‘ یا ’’ اندھی نفرت‘‘ رکھتے ہیں۔ باقی ماندہ 35 سے 40 فیصد بھارتی ایسے ہیں جن میں ’’بھاری اکثریت‘‘ کا تعلق ساؤتھ انڈیا یعنی تامل ناڈو، کیرالہ، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کرناٹک، پانڈی چری ، آسام اور مغربی بنگال سے ہے اور یہاں کے رہائشیوں کی جذباتی وابستگی ان دو جماعتوں کے ساتھ برائے نام سی ہے۔ اسی وجہ سے وہ مسئلہ کشمیر کی اصل نوعیت سے بھی بڑی حد تک لا علم ہیں، ان کے نزدیک پاکستانی موقف یہ ہے کہ وہ ہر حالت میں مقبوضہ کشمیر پر قبضہ کرنے کا خواہاں ہے، انھیں اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرار دادوں کی ہیئت یا نوعیت کی بابت کچھ زیادہ جانکاری نہیں، لہذا اگر پاکستان مربوط اور سنجیدہ حکمت عملی مرتب کرے تو ان نسبتاً غیر جانبدار حلقوں میں ایسی لابی پیدا کی جا سکتی ہے جہاں سے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کی راہ ہموار ہو سکے۔ راقم کی رائے میں ہم اس ضمن میں جتنی کوشش امریکہ ،یورپ و دیگر بیرونی دنیا کو اپنا ہمنوا بنانے میں صرف کرتے ہیں، اس کا 50 فیصد بھی اگر اس تناظر میں صرف کریں تو ممکنہ طور پر ایسے مثبت نتائج حاصل کر سکتے ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان اور تنازیہ کشمیر کے منصفانہ حل کے حوالے سے قدرے نرم گوشہ پیدا ہو سکے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ اس وقت 12 بھارتی صوبوں میں BJP اقتدار میں ہے جن میں ارونا چل پردیش ، آسام ، گوا ، گجرات ، ہریانہ ، ہماچل پردیش ، جھارکھنڈ ، مہاراشٹر ، منی پور ، تری پورہ ، اترکھنڈ اور اترپردیش شامل ہیں جبکہ بہار میں جنتا دل یونائیٹڈ اور BJP کی مخلوط حکومت قائم ہے۔ اسی طرح ان 6 صوبوں میں کانگرس کی سرکار قائم ہے ، پانڈی چری ، پنجاب ، راجستھان ، چھتیس گڑھ اور مدھیہ پردیش جبکہ کرناٹک میں جنتا دل سیکولر کی کانگرس اتحادی ہے۔ باقی ماندہ بھارتی صوبوں میں علاقائی جماعتیں برسر اقتدار ہیں۔ آندھرا پردیش میں تیلگو دیشم پارٹی ، دہلی میں عام آدمی پارٹی ، کیرالہ CPIM، میگھالہ نیشنل پیپلز پارٹی ، میزورام میزو نیشنل فرنٹ ، ناگالینڈ نیشنل ڈیموکریٹک پروگریسو پارٹی ، اڑیسہ بیجو جنتا دل ، سکم سکم ڈیموکریٹک فرنٹ ، تامل ناڈو AIADMK ، تلنگانہ تلنگانہ راشٹریہ سمتی اور مغربی بنگال میں ترنمول کانگرس کی حکومت قائم ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی لوک سبھا کی کل نشستوں کی تعداد 545 ہے جن میں سے 131 نشستیں شیڈول کاسٹ ( 84 ) اور شیڈول ٹرائبس (47 ) کے لئے مختص ہیں۔ ایسے میں پاک بھارت تعلقات کے ضمن میں مسئلہ کشمیر کی اصل نوعیت کو مذکورہ بالا بھارتی علاقائی جماعتوں پر اجاگر کیا جا سکے ،تو شاید اس خطے کی مجموعی صورتحال میں بھی دیر پا امن اور ترقی و تعاون علاقائی بنیادوں پر استوار ہو پائے اور پورے خطے کی صورتحال کو یکسر تبدیل کر سکے۔ اس بابت جائزہ لیتے یہ امر ذہن نشین رکھا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ یہ بات پوری طرح مد نظر رکھی جانی چاہیے کہ پاک بھارت تعلقات کا مشاہدہ کرتے ہوئے ’’علم جغرافیہ‘‘ ملحوظِ خاطر رکھا جانا اشد ضروری ہے کیونکہ جغرافیائی حقائق بعض حوالوں سے تاریخ سے بھی زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ تبھی تو بسا اوقات ’’سٹیریو ٹائپ‘‘ قسم کے تجزیے دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں اور بعض اوقات تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ اپنی تحریروں اور تقریروں میں جتنا ذکر بھارت کا بغیر کسی جانکاری کے کرتے ہیں، اگر اس ضمن میں کچھ تحقیق بھی کر لی جائے تو منظرنامہ واضح ہو سکے۔ یہ تو غالباً جملہ معترضہ تھا لیکن بھارت کے حوالے سے تحقیقی سطح پر کام کرنے والے ماہرین کی ایک بھاری اکثریت بھارت کے تمام صوبوں کے نام تک سے آگاہی نہیں رکھتی تبھی ہماری تحقیقی کاوشیں خاطر خواہ ڈھنگ سے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتیں۔مثلاً سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کا یہ قول تو اکثر دہرایا جاتا ہے کہ ’’دوست بدلے جا سکتے ہیں مگر ہمسائے نہیں ‘‘۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ تاریخ بدلی سکتی ہے اور نہ ہی جغرافیہ۔ میڈیا کے محاذ پر بھی ہم غالباً اسی مخمصے کا شکار ہیں کیونکہ مختصر الفاظ میں اگر اس ساری صورتحال کا جائزہ لیں تو کہا جا سکتا ہے کہ بھارتی جغرافیے سے بڑی حد تک لا علمی (بھلے ہی وہ نادانستگی میں ہو ) اس تمام تر صورتحال کی ذمہ دار ہے۔