- الإعلانات -

نااہل نریندرا مودی کی اصلیت ۔بے نقاب

بھارتی ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ ملیالم محقق دانشوراورادیبہ ارون دھتی رائے کا ایک تازہ ترین انٹرویوجواْنہوں نے ۳ جنوری ۲۰۱۹ کودیا تھا آج کے کالم کا آغاز ہم اسی انٹرویو کے ایک اقتباس سے کرتے ہیں جس میں اپنے ٹھوس’موثر’مدلل اورغیر جانبدرانہ گفتگو میں ارون دھتی رائے نے بھارتی وزیراعظم مودی کی اصلیت کا پردہ بڑی جرات مندی سے چاک کیا ہے’مس دھتی رائے’ کہتی ہیں’پرائم منسٹر مودی دراصل کارپوریٹ ہندؤ نیشنلزم کی ایک کھلی ہوئی تجسیم ہے’بی جے پی کے اکثر ممبران کی طرح وہ بھی’راشٹریہ سوامیک سنگھ’کا رکن ہے جو آج کے بھارت میں ایک طاقتوربے لگام ہندؤتنظیم ہے’بی جے پی’آرایس ایس کا سیاسی بازو ہے آر ایس ایس کا واحد مقصد عرصہ دراز سے بھارتی آئین کو سیکولر سے ہندو دیش بناناہے مودی نے سیاست میں اپنے کرئیر کا آغاز اکتوبر 2001 میں کیا جب اس کی پارٹی نے اسے (غیرمنتخب) چیف منسٹر برائے ریاست گجرات کے لیے میدان میں اتارا تھا فروری 2002ء میں(جب نائن الیون کے بعد اسلاموفوبیا امریکا اورمغربی دنیا میں پورے عروج پہ تھا) اْن ہی دنوں میں گجرات میں مودی کی سرپرستی میں منظم منصوبہ بندی سے وحشیانہ مسلم کش فسادات کرائے گئے ہندؤغنڈے بلوائیوں نے دن دیہاڑے مسلمانوں کا قتل عام کیا دسیوں ہزاروں کو ان کے گھروں سے بے گھر کردیا گیا اْن کی قیمتی املاک کو نذرآتش کیا گیا مسلم خواتین کی اجتماعی بے حرمتی کے واقعات ریکارڈ پر آئے مذہبی منافرت کے خوفناک مناظر دیکھ کر بھارت کی کئی بڑی بڑی کارپوریشنوں کے سربراہوں نے فورا ہی اعلانیہ مودی کی حمایت کرنا شروع کردی’ ایک ایسا آدمی جس کا کوئی پولیٹکل ٹریک ریکارڈ نہیں تھا اسے انہوں نے اپنا پرائم منسٹرتک چن لیا یہ شاید اس لیے ہوا کہ انہوں نے مودی کے اندر ایک ‘فیصلہ ساز’ ہندو سیاست دان ڈھونڈ لیاتھاایک بے رحم سیاست دان کے طورپر مودی کواْنہوں نے تاڑ لیا تھا، جو نئی معاشی پالیسیوں کوبھی اپنے یکطرفہ فیصلوں سے چلا سکے گا اور ملک سے حقیقی احتجاجوں اور بے چینیوں کی آوازوں کو اپنے سفاکانہ اقدامات کے ذریعے ختم کرسکے گا؟ یہ سارے کام کانگریس پارٹی کی حکومت کرنے میں حیل و حجت سے کام لیتی رہی وہ مسلسل کارپوریشنوں کے ساتھ باہم دلچسپی کی یادداشتوں پہ دستخط کرنے کے باوجود ان کو ٹالتی چلی آرہی تھی اس سارے عمل میں 12 سال لگے’ مئی 2014ء میں مودی بھاری اکثریت کے ساتھ پردھان منتری بنے بین الاقوامی میڈیا اور سربراہان مملکت نے مودی کو جسے گجرات میں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد امریکا نے ویزہ دینے سے انکار کردیا تھا اس کے اندر چھپے ہوئے مسلم دشمن سیاست دان سے امریکا بڑا مرعوب ہوا یوں فورا عالمی منظر نامے پراسے خوش آمدید کہا گیا کیونکہ ان کو یقین تھا کہ’ یہ شخص’بین الااقوامی سرمایہ کی منزلوں کو اْن کی پہنچ تک ممکن بنانے بڑا مددگار ثابت ہوگا، اگرچہ مودی کے اقتدار میں آنے کے چند سال کے اندر ہی اْس کی ہردلعزیز کارپوریشنز اور اس کے قریبی تجارتی اتحادیوں کے خاندانوں نے اپنی دولت کے انباروں میں کئی گناہ اضافہ کرلیا تھا، جیسا کہ آجکل دیش میں امبانی گروپ جیسوں کے ساتھ ملی بھگت اورشراکت ذریعہ سے دفاعی سامان کی خرید کے معاہدوں اوررافیل گھپلوں کا شور دیش کی دردیواروں سے بخوبی سنا جاسکتا ہے اوپر سے مودی اتنا چاک و چوبند آزاد معشیت کا بندہ بھی ثابت نہ ہوا جتنی امیدیں اس سے لگالی گئی تھیں اس کی وجوہات کسی آئیڈیالوجی کی بجائے اس کی نااہلیت میں چھپی ہوئی تھیں جوکسی کو نہ نظرآئیں مثال کے طور نومبر 2016ء4 میں رات گئے ٹی وی پہ وہ آیا اس نے ‘ڈی مونیٹائزیشن’ کی پالیسی کا اعلان کردیا اسی لمحے 80 فیصد سے زائد بھارتی کرنسی نوٹ بے گار ہوگئے اس کا مقصد کالے دھن کا ذحیرہ کرنے والوں پہ بجلی گرانا تھا ذرا سوچئیے ایک ارب سے زائد آبادی کا ملک ایک لمحہ میں’ہالٹ’ کی پوزشن پہ آگیا یہ تو بالکل ایک مطلق العنان آمر کی طرز کا سراسرگھمنڈ پہ مبنی احمقانہ اقدام تھا کئی ہفتوں تک روزکی اجرتوں پرکام کرنے والے مزدور’ٹیکسی ڈرائیورز’چھوٹے دکاندار’کسان اوردرمیانی سرکاری اور غیرسرکاری ملامت پیشہ طبقہ کئی ہفتوں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہوئے تاکہ اپنی تھوڑی بہت بچت پہ مبنی رقوم کو نئے نوٹوں سے بدلواسکیں ساری کرنسی’ کالی اور سفید دونوں ہی قریب قریب باآسانی واپس بینکوں میں پہنچ گئیں کسی ایک بھی بوریاں بھر کر بینکوں میں دولت کے انبار لانے والوں سے یہ نہیں پوچھا گیا کہ’دولت کہاں سے جمع کی ہے؟’ آج بھارت میں جگہ جگہ یہی سوال اْٹھائے جارہے ہیں’ یہ کہنا تھا ارون دھتی راے کا جبکہ یہیں سے راقم اْن سے متفق ہے اور یہ کہنا چاہتا ہے کیا اب بھی مودی کے پاس وقت ہے؟بالکل نہیں ہے کوئی عذر نہ بہانہ ہے گزشتہ پانچ برسوں میں مودی نے یاآریس ایس کی’براہمن سرکار’ نے ایک ارب بیس کروڑ سے زائد عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے کچھ کیا یا نہیں؟ گجرات میں دومرتبہ ایک بار۴۱۰۲ میں فرقہ ورانہ منافرت کی جنونیت کے انتخابی نعرے لگائے گئے لیجئے اب ۹۱۰۲ آگیا اورالیکشن سرپرآگئے بھارتی عوام کو مذہبی جنونیت میں مبتلا کرکے اْنہیں اب کی بار’ماروماردو’ پاکستان کو نیست ونابود کردو؟’پٹھان کوٹ حملہ’اڑی حملہ اور اب پلوامہ حملہ’ایل اوسی پر فائرنگ کی شدت’ رہی سہی کسر بالاکوٹ پر فضائی ہلہ بول دیا گیا جس میں بھارت کو بہت بْری طرح سے منہ کی کھانی پڑی دفاعی اور سفارتی سطح پر بھارت کا رہا سہا بھرم خاک مل گیا آرایس ایس کو ڈیڑھ ماہ بعد ہونے والے چناؤ جتنے کیلئے کیا یہی سودا کافی ہے؟اور کیا’راجستھان کی عدالت کی عمارت پر سے دیش کا ترانگا پرچم اتروا کر ‘بھگوا جھنڈا’ عمارت پر گاڑ دینا مودی کے پاس عوام کو بتانے کے لئے یہی ہے پچھلے پانچ سالوں کے اپنے ‘ رام راج’ کو بیان کرنے کے لئے اوربی جے پی کے پاس کیا ہے یا اْس آئین کو بدلنے کی باتیں ماضی میں جس آئین کی بدولت بھارت سیکولر جمہوریت کا چمپیئن بنا پھرتا تھا اب تو ووٹ کا حق ‘ای وی ایم’مشینی دھوکہ دہی کے نام پر چھینا جارہا ہے دیش میں بی جے پی نفرت کی سیاست کو بڑھاوا دینے اور دیش کے محفوظ مستقبل کے لئے صحیح اشارے کہیں دوردور تک کسی کو نظرنہیں آرہے بلکہ انجانے خطرے کے اشارے نمایاں ہورہے ہیں ‘یدھ’ جنگ’ لڑائی’ اپنے جوانوں کی لاشیں گراکر سیاست کی جارہی ہے’ بھارتی فوج کے سکھ بٹالین کے جوانوں اورافسروں کی بہادری کی باتیں دیش میں جہاں دیکھیں سن لیں’لیکن ذرا عالمی سکھ برادری کی بات بھی سن لیں جو اپنے ساتھ گزشتہ ستر برسوں سے براہمن ہندووں کے امتیازی سلوک پرسخت نالاں دکھائی دیتے ہیں تازہ تفصیلات کے مطابق ورلڈسکھ پارلیمنٹ کاجنوبی ایشیا سیمتعلق اپنا پالیسی بیان جاری کردیا گیا ہے جس میں سکھوں کی عالمی تنظیم نے سکھ فوجیوں کو پاکستان کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت کی ہے اورپاکستانی وزیراعظم کو امن کا سفیر قرار دیتے ہوئے بھارتی پائلٹ کی واپسی کو ایک احسن قدم قراردیا ہے تفصیلات کے مطابق ورلڈسکھ پارلیمنٹ کاجنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی بیان جاری کیا گیا جس میں سکھوں کی عالمی تنظیم نے سکھ فوجیوں کو پاکستان کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لینے کی ہدایت کی ہے ورلڈسکھ پارلیمنٹ کا مزید کہنا تھاکہ ہندو انتہاپسندی دراصل جنوبی ایشیامیں کشیدگی اورتنازع کاباعث ہے، بھارت میں انتہا پسندی نیہمسایہ ممالک اورملک میں اقلیتوں کیلئے حالات ابتر بنادیئے ہیں، مودی سرکار صرف الیکشن کیلئے پاکستان مخالف مہم چلارہی ہے انہوں نے بھارت کو چتونی دیتے ہوئے کہا ہے کہ سکھوں کی زمین بھی بھارتی قبضے میں ہے سکھوں کی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ کی جائے عالمی سکھ پارلیمنٹ نے یہ ہدایت بھی جاری کی ہے اگر پاک بھارت جنگ ہوئی تو سکھ قوم اس جنگ کا حصہ نہیں بنیگی جنگ کی صورت میں سکھ فوجی واپس اپنے گھروں کو چلے جائیں گے جنگی کارروائی کا حصہ نہیں بنیں گے سکھ برادری کا یہ بھی کہنا ہیکہ کشمیریوں کی ا?زادی کیلئے لڑائی درست ہے عالمی برادری کو بھارت کے غاصبانہ قبضے کے خاتمے کیلئے اب اپنا کردار ادا کرنا ہوگا ہر باشعور بھارتی ووٹر اس بات کا گواہ ہے کہ کیسے مرکز اور ریاستوں کا اقتدار حاصل کرنے کے لئے بی جے پی نے قبرستان’ شمشان’ مندر’ مسجد’ ہندووں’ مسلم اورسکھوں میں فاصلے اور اوربدگمانیاں پیدا کردیں حکومت سازی کیلئے سماجی وثقافتی نفرتیں پھیلائی گئیں ایک دوسرے کو لڑایا گیا ‘بھارتی سماج کو ٹکڑوں میں منقسم کرکے خوف وہراس کا غیر انسانی نظام وضع کیا گیا جس کے نتیجے میں سوشل میڈیا کے ذریعہ جھوٹ اور نفرت کو مشتہر کیا جارہا ہے افواہوں کو بڑھایا گیا اور اب تک کئی قتل ہونے کی خوفزدہ افواہیں گردش کرنے لگیں ہیں بھارت کی یہ بڑی بدقسمتی ہے ۔

*****