- الإعلانات -

سیاسی وعسکری قیادت ملکی استحکا م کے لئے پُرعزم

adaria

سیاسی اورعسکری قیادت نے ایک دفعہ پھر واضح کردیاہے کہ پاکستان کے استحکام کو یقینی بنایاجائے گا نیز پاکستان کسی کے خلاف جارحانہ عزائم نہیں رکھتا یہ بات وزیراعظم نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران کہی۔ انہوں نے پاک فضائیہ کی جانب سے بھارت کو بھرپورجواب دینے کو بھی سراہا۔ اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کہاکہ مسلح افواج کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے تیارہیں۔ پاکستان کی جوابی کارروائی کے بعد بھارت میں ایک آہکار مچی ہوئی ہے ،بزدل بنیے کی نیندیں اڑچکی ہیں اب نریندرمودی کو اورکچھ سجھائی نہیں دیتا وہ محض گیدڑبھبکیاں دے رہاہے۔ سرحد پار پاکستان پر الزام تراشیاں کرنا بھارت اور خصوصی طورپر مودی کا وطیرہ ہے ۔ کوئی ثبوت ہوں یانہ ہوں اگرانڈیا میں تنکا بھی گرے تو اس کاالزام پاکستان پر عائد کردیاجاتاہے ۔اب تو بی جے پی اورخصوصی طورپر مودی کو اپوزیشن دہشت گرد قراردے رہی ہے ۔بھارتی اپوزیشن نے شورمچارکھا ہے کہ کوئی پتہ نہیں کس وقت مودی بم ماردے یاپھر الیکشن سے قبل ایک دفعہ پھر وہ پلوامہ جیساحملہ کراسکتاہے جب گھرکے اندر سے ایسی آوازیں اٹھنا شروع ہوجائیں تو پھر جان لیناچاہیے کہ اصل دہشت گرد نریندرمودی ہی ہے اس پر اس کی اپنی قوم اوردیگر سیاسی لیڈراعتباراوراعتماد نہیں کرتے وہ ایک ایسی متذبذب شخصیت کامالک ہے جس کی نہ صبح ہے نہ شام ہے ہروقت وہ انسانی خون کا بھوکا ہے ۔گجرات سے لیکر پلوامہ حملے تک اوراب کنٹرول لائن پربلااشتعال فائرنگ تک ہرجانب بے گناہ اورنہتے انسانوں کاخون بہارہاہے ۔مقبوضہ کشمیرمیں تو انتہا ہوچکی ہے دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد فوج وہاں پرتعینات ہے مگراب ناکامی مودی کے نصیب میں لکھی جاچکی ہے۔انڈین الیکشن کمیشن نے انتخابات کاشیڈول دے دیاہے جس طرح مودی یہ چاہتاہے کہ وہ انسانی لاشوں پر سیاست کرکے انتخابات جیت جائے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہوگی۔ اب پاکستان کاکارڈ نہیں کھیل سکتا اپنے ملک میں اس کی اتنی مخالفت ہوچکی ہے کہ اس کو ہی کلیئرکرنامحال ہے۔ اپنے اندرونی حالات سے مفرحاصل کرنے کے لئے وہ پاکستان پرالزامات عائد کرتارہتاہے۔ مسلح افواج ہمہ وقت تیار ہیں کسی بھی دشمن نے اگر میلی آنکھ سے دیکھاتو صرف پاک فوج ہی نہیں بائیس کروڑ عوام بھی ان کی آنکھیں پھوڑ دے گی۔ مودی کو یہ سب کچھ نظربھی آرہاہے اسی وجہ سے بھارتی میڈیا نے بھی واویلا مچارکھا ہے اتنی بڑی آبادی ہونے کے باوجود ہندوپاکستان سے خوفزدہ ہے ،خوفزدہ بھی کیوں نہ ہو شاید 1965ء کی جنگ آج بھی اس کے خوابوں میں ایک بھیانک خواب کی طرح موجود ہوگی ایم ایم عالم کے ریکارڈ کو بھی انڈیابھولانہیں ہوگامیجرعزیز بھٹی شہید، راشد منہاس اور میجر طفیل شہید جیسے سپوت موجود ہوں تو پھر ملک اورقوم کے استحکام وآزادی کوکوئی بھی زِک نہیں پہنچ سکتی۔ جبکہ بھارت کے پاس کیا ہے ابھی نندن جیسے پائلٹ اورکلبھوشن جیسے بزدل دہشت گرد ،پوری دنیا کے سامنے نام نہاد بھارتی جمہوریت کامکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے جب بھی انتخابات ہوتے ہیں تو بھارت جنگ کاماحول گرمادیتاہے مگرشاید اس دفعہ اس کو یہ پالیسی مہنگی پڑے گی ۔ اب گیندہاتھ سے نکل گئی ہے مسئلہ کشمیرجس سطح پراجاگرہوچکا ہے اب وہاں سے اس کی واپسی ممکن نہیں آزادی یقینی ہے اور بھارت کے مزیدٹکڑے ٹکڑے ہونابھی یقینی ہوچکا ہے اوراس تمام تر کاسہرانریندرمودی کے سرجاتاہے ۔بھارتی قوم بھی مودی کے اقدامات کو ہدف تنقید بنارہی ہے اس کے دورمیں جتنابھارت کو نقصان پہنچاشاید اس کی ماضی میں تاریخ نہیں ملتی۔

بلاول نوازملاقات۔۔۔کیارنگ لاسکے گی؟
بلاول اورنوازشریف کی ملاقات کے بعد سیاست میں کچھ ہلچل مچناشروع ہوئی ہے،بلاول بھٹوکہتے ہیں تین مرتبہ وزیراعظم رہنے والے کے ساتھ ایساسلوک مناسب نہیں،دل کے مریض کودباؤ میں رکھناتشددکے مترادف ہے۔ہم اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ انسانی بنیادو ں پرنوازشریف کو اچھی سے اچھی طبی سہولیات فراہم کی جائیں مگر کیابلاول بھٹو یہ بتاناپسندفرمائیں گے کہ کہیں قانون یاآئین میں ایسالکھا ہے کہ ملزم یامجرم ایک عام آدمی ہویاوزیراعظم اس کوچھوٹ دیدی جائے ۔اگرمیاں نوازشریف کو چھوٹ دیتی ہے توپھرجیلوں میں مقیدہزاروں نہیں لاکھوں قیدی ایسے ہوں گے جن کے جرائم کومعاف کرناپڑے گا جرم آخرجرم ہوتاہے اورمجرم کوقرارواقعی سزا ملنے ہی سے آئین وقانون کابول بالاہوتاہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پارٹی وفد کے ہمراہ سابق وزیراعظم نوازشریف سے ملاقات کیلئے کوٹ لکھپت جیل گئے۔پیپلزپارٹی کے چیئرمین کی سابق وزیراعظم سے ملاقات ایک گھنٹہ سے زائد تک جاری رہی جس میں بلاول نے نوازشریف سے ان کی خیریت دریافت کی۔ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو نے کوٹ لکھپت جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کی عیادت کرنے کیلئے ان سے ملاقات کی، آج تاریخی دن ہے، شہید ذوالفقار علی بھٹو اور آصف زرداری نے اسی جیل میں وقت گزارا تھا، دکھ ہورہا ہے کہ تین بار ملک کا وزیراعظم رہنے والا شخص جیل میں سزا بھگت رہا ہے، سیاسی اختلافات اپنی جگہ لیکن بیمار کو علاج کا حق ملنا چاہیے، حکمرانوں کو پہلے انسان ہونا چاہیے پھر حکمران، عام قیدیوں کے ساتھ بھی اچھا سلوک ہونا چاہیے۔
بے نامی اکاؤنٹس ایکٹ 2019 کی منظوری، مستحسن اقدام
حکومت نے بے نامی اکاؤنٹس ایکٹ 2019 کی منظوری دیدی اور یہ فوری طور پر نافذالعمل بھی ہوگیا۔ ایف بی آر نے بے نامی اکاؤنٹس ایکٹ 2019 نافذ ہونے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔ نئے ایکٹ کے تحت جلد بے نامی اکاؤنٹس رکھنے والوں کو نوٹسز جاری کیے جائیں گے۔ بے نامی اکاؤنٹس پر جاری نوٹس کا جواب نہ ملنے پر رقم فوری طور پر ضبط کی جائے گی۔ ایکٹ کے تحت ایف بی آر کو بے نامی اکاؤنٹس میں موجود رقم ضبط کرنے کا بھی اختیار مل گیا۔ اس وقت بے نامی اکاؤنٹس میں 50ارب روپے ہونے کی معلومات ایف بی آر کے پاس ہیں۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بے نامی اکاؤنٹس پر ایک ہفتے کے دوران نوٹسز بجھوادیئے جائیں گے۔ بے نامی اکاؤنٹس ایک کے تحت کاروائی کیلئے ٹربیونل قائم کردیئے ہیں۔ 20لاکھ سے 50لاکھ کے درمیان بے نامی اکاؤنٹس کی نشاندہی پر 4فیصد کے علاوہ ایک روپے بھی ملیں گے۔ ایک کا اطلاق بے نامی اکاؤنٹس بے نامی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد پر ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان نے دوہفتے پہلے ہی بے نامی اکاؤنٹ ایکٹ نافذ کرنے کا حکم دیا تھا۔ نیزبے نامی جائیداد کے مالکان کیلئے ایف بی آر نے شکنجہ تیار کر لیا،20 لاکھ کی بے نامی جائیداد کی نشاندہی پر پانچ فیصد انعام دیا جائے گا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق بے نامی جائیداد ضبط اور فروخت بھی کی جائے گی،فروخت شدہ جائیداد سے حاصل رقم خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔