- الإعلانات -

عورت مارچ یا عورت راج

گزشتہ دنوں عورت مارچدیکھنے کو ملا، میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ یہ سب کچھ بدقسمتی سے مجھے اس نئے پاکستان میں دیکھنے کو نصیب ہوا، بلکہ یاد پڑتا ہے کہ یہ خباثت توگزشتہ سال پرانے پاکستان میں بھی پوری آب و تاب کے ساتھ جلو افروز ہو ئی تھی جب یہی چند مشہور و معروف آنٹیاں اپنی چند سو اجرتی خواتین کے لاؤ لشکر کے ساتھ مردانہ وار اسوقت بھی پوری بن ٹھن کر مردوں کے اس حیرت زدہ قافلے کو نیست و نابود کرنے کو آ ٹکرا ئی تھیں۔ لیکن مجھے یہ بھی یاد پڑتا ہے کہ اسوقت ان کے تر کشوں میں اتنے زہر یلے تیر نہیں تھے جس سے ہمارے معاشرے،، جو کہ ایک اسلامی معاشرہ ہے ،،کو زیادہ نقصان کا اندیشہ محسوس کیا گیا اسی لیے ان پر کو ئی خاص توجہ بھی نہ دی گئی لیکن پچھلی ۔ہلہ شیری۔ کی وجہ سے جو جو کچھ انہوں نے میدان میں اس دفعہ اتارا، اب کی بار تو انہوں نے اپنے عورت نام کو بھی شرما کر رکھ دیا۔نام نہاد عورت محاذ۔نے عورت کی ا پنی عظمت، شرم و حیاء اور معاشرے کو تہہ و تیغ کرنی کے جو جو تیر اپنے ترکشوں سے اس دفعہ برسائے ،، انکی ایک ہلکی سی جھلک ملاحظہ فرمایے ،،فیصلہ آپ قارئین نے خود فر کرناہے کہ عورتیں یہ جنگ جیتیں یا ہاریں:۔

تمیز جائے بھاڑ میں۔۔۔ لو بیٹھ گئی، صحیح سے (اور ساتھ اتنا بے ہودہ نقشہ بنایا جسے یہاں بیان کرنا بھی ناممکن)،مجھے تمہاری اجازت نہیں چاہیے۔۔۔۔کھانا خود گرم کر لو۔۔Divorced happy ،میں عورت ہوں باغی ہو کر دکھاؤں گی۔۔مجھے ٹائربدلنا آتا ہے،نظر تیری گندی اور پردہ میں کروں۔۔اگر دوپٹہ اتنا اچھا ہے تو آنکھوں پر باند ھ لو،عورت بچہ پیدا کرنے کی مشین نہیں۔۔۔اکیلی، آوارہ، آزاد۔۔میرے کپڑے میری مرضی،اپنا ٹائم آ گیا۔(پوسٹر میں عورت کو سگریٹ پینے کی ترغیب)رشتے نہیں حقوق چاہئیں۔میری شادی کی نہیں، میری آزادی کی فکر کرو۔۔۔میرا جسم میری مرضی،مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے۔۔۔وغیرہ وغیرہ ( یہ سب بظاہر، باپ، بھا ئی یا خاوند کیلئے پیغامات تھے)
میں نے اوپر لکھ دیا ہے کہ فیصلہ قارئین نے فرمانا ہے کہ یہ جنگ کون جیتا یا ہارا، لیکن میری ذاتی را�أ میں مرد اور عورت، جس کے درمیان یہ۔مرد بیزار عورتیں۔ نفرت کی ایک لمبی خلیج پیدا کرنا چاہتی ہیں، کی روزاول سے تخلیق ہی ایک دوسرے کیلئے کی گئی، دونوں ایک دو سرے کیلئے نہایت ہی قابلِ احترام اور ایک دوسرے کی ضرورت ہیں۔اماں حوا کو حضرت آدم علیہ السلام کی پسلی سے پیدا کیا گیا اورپھر یوں نسلوں کی نسلیں اور رشتے قائم ہوتے گئے۔باپ کو اولاد، بہن کو بھا ئی، بھا ئی کو بہن، ماں کو بیٹے ۔بیوی کو خاوند، یہ سب رشتے ایک دوسرے کیلئے انتہا ئی اہم اور ناگزیر ہیں اور اسی سے انسانی ارتقاء آگے بڑھتا اور خاندانی رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور شاید اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ نظام بنا کر اس میں اپنی انواع اقسام کی مخلوقات پیدا کر کے سب میں اشرف المخلوقات کا درجہ انسان ہی کو عطا فرمایا جو نہ صرف اکیلامرد کو اس کا حقدار ٹھرایا ہے بلکہ اس میں عورت کا بھی وہی مرتبہ اور مقام ہے۔ اگر اس محاذ کا یہ کہنا کہ انہیں انکے حقوق نہیں مل رہے تو یہ بھی سرا سر جھوٹ ہے، کیونکہ اسوقت جتنے قوانین ہمارے ملک میں عو رت کے تحفظ کیلئے ہیں، وہ شاید مرد کیلئے موجود نہیں ہیں اور خود قر آن میں سورہ النسا ء خواتین کے حقوق کا مکمل چیپٹر ہے، جسے شاید یہ الٹرا ماڈرن عورتیں پڑھنا گوارہ ہی نہیں کرتیں اور اگر ایسا ہوتا، تو نہ کبھی ایسے عورت مارچ ہوتے اور نہ ہی عورت اپنے اصل حق سے ہٹ خاندانی نظام کو تہہ و تیغ کر کے اپنا عورت راج مسلط کرنیکا سوچتی۔