- الإعلانات -

وہ سوال جو پوچھے نہیں گئے

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے کسی کو لاکھ اختلافات ہوں اپنی جگہ وہ بالکل صحیح بھی ہوں مگر’کپتان کی ذات سے شدید تر اختلافات رکھنے کے باوجود اور اْن پرسنگین اعتراضات کے سیاسی طنز کے وار کرنے والے مانتے ہیں ’کپتان خائن نہیں ہے ‘ بددیانت نہیں ہے‘ اقتدار کو اپنی جاگیر نہیں سمجھتا آج وہ ملک کا منتخب وزیراعظم ہے پاکستانی عوام کے کروڑوں ووٹرز نے اُس پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے قومی اسمبلی میں اُسے منتخب کیا گیا ہے اْسے ایک ‘شہید’سیاسی جماعت کے دو چیئرمین اگر’ سلیکٹڈ وزیراعظم ‘کہہ کر مخاطب کریں گے تو کبھی نہ کبھی اْس کی جانب سے اس کا جواب تو ضرور آنا تھا ، گزشتہ دنوں ایک تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے اگر یہ کہہ دیا تو کیا غلط کہا کہ ‘وصیت اور وراثت میں سیاسی جماعتیں نہیں ملا کرتیں‘ ایسی جماعت کے قائد وہ جو بھی ہوں اُن صاحب نے ایک’ حادثہ‘ کے رونما ہونے کے نتیجے میں نہایت ہی سستے میں پارٹی پر بھی ہتھیائی اور بیٹھے بٹھائے وہ لیڈر بھی بن گئے؟ نہ صرف سیاسی لیڈر بن گئے بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر مملکت بن بیٹھے اْس زمانہ میں جب اْن کا نام نامی صدر مملکت کے عہدے کے لئے میڈیا میں آیا تو پاکستان کی ملٹری اور سول بیوروکریسی سمیت اْس وقت کی سبھی سیاسی جماعتوں کے لیڈروں کی زبانیں گنگ ہوگئی تھیں؟ اْس وقت کے قانون وآئین کے سنجیدہ اور فہمیدہ سیاسی وسماجی دانشور سکتہ کی کیفیت میں آگئے تھے کسی نے سوال نہیں اْٹھایا علمی وادبی میدانوں کے شہ سوار ڈاکٹرز‘ پروفیسرز‘ اساتذہ‘ مذہبی اسکالر‘جانے مانے صحافی قلم کارعقل وخرد کا دامن اپنے ہاتھوں سے چھوڑ بیٹھے تھے؟ اْس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ایک ایسے فرد سے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کا حلف لینا کیسے قبول کرلیا؟ جو علم ودانش عقل وفہم کا اور ملکی و عالمی سیاسی وسفارتی بلکہ علاقائی حساس پیچیدہ مسائل کے ادراک کا رتی برابر درک تک نہیں رکھتا تھا، ہم نے دیکھا اور دنیا نے دیکھا تھا انٹرمیڈیٹ پاس یا فیل ایک ایسے ڈپلومہ ہولڈر کے حامل شخص کی بطور صدر مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی تقریب حلف برداری میں اْس وقت کی تینوں افواج کے چیفس موجودتھے، تینوں سروسنز چیف نے حلف برداری مکمل ہونے کے بعد اُسی ’حادثاتی جمہوری قائد‘ کو ’سرکاری سیلوٹ‘ پیش کیا تھا۔کرپشنز‘ منی لانڈرنگ‘ اقربا پروری ‘غنڈہ گردی کے کئی کیس میں کئی سالوں ملک کی مختلف جیلوں میں قید رہا ہر عہد کی سیاسی مصلحتوں کی آڑ میں اُس پر قائم جرائم کے مقدمات پر سیاسی اور ایک ’فوجی حکومت‘ نے بھی درد مندی سے دلچسپی نہیں لی اور وہ شخص جس نے لاڑکانہ کے ایک سیاسی انڑخاندان کے نامی گرامی شخص کے پیروں سے ٹائم بم باندھ کر اُسے بلیک میل کیا تھا اب وہ شخص اپنی بیوی کے ’حادثاتی قتل‘ کے مصائب رونے پیٹنے کی آڑ میں ملک کا صدر بننے جارہا ہے جبکہ پاکستان میں تو یہ عام ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے مشکوک قتل کی ایف آئی آر درج کرانے تھانے میں جاتا ہے تو پولیس اُسے واپس جانے نہیں دیتی بٹھا لیتی ہے جبکہ اُسے تو صدر مملکت بنایا جارہا تھا کسی جانب سے ‘اُف’تک کی آواز سنائی نہیں دی کوئی ’کہنے والا‘ اپنی آئینی ذمہ داری تو پوری کرتا کہ ’جنابِ والہ! آپ اپنی ہی سیاسی جماعت میں سے کسی کو بھی جس پر کرپشنز کے کوئی داغ دھبے نہ ہوں اُسے ملکی صدارت کے عہدے کے لئے چن لیں چونکہ ’صدر مملکت اپنے عہدے کے اعتبار سے ملک کی افواج کا سپریم کمانڈر انچیف بھی ہوتا ہے ‘ بدقسمتی سے آپ کے داغدار ماضی کے بوجھ کو ہمارا مستحکم تنظیمی ڈھانچہ اُٹھا نہیں سکتا ‘مگر کوئی نہ بولا اور پاکستان کا یہ تماشا دنیا نے دیکھا لیا پاکستانی قوم اور پاکستانی جمہوریت اْسی تماشے کے تباہ کن نتائج اب تک بھگت رہی ہے، اْسی مذکورہ شخص کی مرحومہ بیوی جو ممتاز عالمی شہرت یافتہ سیاست دان ہونے کے علاوہ عالمی سطح کی دانشگاہوں سے فارغ التحصیل مہذب خاتون تھیں، کئی کتابوں کی مصنفہ تھیں جن کے والد پاکستان کے اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندانوں میں سے ایک ممتاز خاندان کے فرد تھے جن کی اعلیٰ علمی وعملی قابلیت کا ایک جہاں معترف تھا اْن کی بیٹی کی شادی بھی اُسی حادثاتی شخص کے ساتھ ہو جا نا ہی پہلا بڑاحادثہ تھا لوگ حیران ہوئے تھے بالکل ایسے ہی جیسے اچانک سے اعلیٰ ذہین وفطین اور دوراندیش ودوربین خاندان کی بیٹی کا بیاہ ایک سنیما مالک کے بیٹے کے ساتھ ہو گیااُس کی موت پر لاکھوں پاکستانیوں نے آنسو بہائے پھر اْسی مرحومہ کی ’وصیت‘ بھی سامنے آگئی ‘وصیت’کے مشکوک مندرجات کو پاکستان کے گونگے بہرے سبھی دانشوروں نے تسلیم کرلیا دیکھیں توسہی کہ اُسی ’وصیت‘ کے فوائد کس کس نے حاصل نہیں کیئے ’حادثہ ‘ اور ’وصیت‘ کی مشکوک ہونے پر آج تک کسی جانب سے سوال نہیں اُٹھایا گیا جس بہیمانہ قتل کے پیچھے ’بلیک واٹر اور سی آئی اے ملوث ہو جس قتل میں ملکی ٹولز ملوث ہوں اُس کی قتل کی تفتیش دنیا میں کہیں نہیں کرائی جاتی یہی پاکستان میں بھی ہوا جس کے نتیجے میں ایک ’حادثاتی لیڈر شپ ‘نے مشروم جیسی بڑھوتی پائی جس نے پاکستان کی سیاسی جمہوریت کی انیٹ سے اینٹ بجاکر رکھی دی ‘ ملکی جمہوریت کرپشن زدہ ہو کر اور مزید سہم گئی، قومی اداروں کی دیواریں شکستہ درکشتہ ہوگئیں قومی جمہوری تاریخ کو وہ سب یقیناًجوابدہ ہونگے جنہوں نے فروری2008 کے انتخابات کے نتائج آنے کے بعد سے تاحال چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے یہاں تفصیل کی گنجائش نہیں ‘ ناپ تول کر لکھنا پڑتا ہے ‘حادثاتی لیڈر اور حوادثات کے تباہ کن اثرات پر اخباری بیان بازیاں شروع ہوئیں تو ہمیں بھی قلم اْٹھانا ہی پڑا ہم تو اْس قافلے کے راہ رْو ہیں ‘جو قلم اْٹھاتے ہیں یا اپنے ہاتھ قلم کراتے ہیں’ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ درازنہیں کرتے راقم کو جانے والے جانتے ہیں بات اگر چل ہی پڑی ہے تو عرض ہے کہ ایک’ مشکوک وصیت‘ کی وراثت میں ملنے والی سیاسی جماعت کے’’ متاثرہ ‘‘قائد نے ملکی سیاسی انفراسٹرکچر کو کیا اپنا مال غنیمت سمجھا ہوا تھا؟ دنیاحیران ہے اْن پر جنہوں نے اْسی مشکوک وصیت کو اپنے لئے بھی ’بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کے مترادف مال غنیمت جان لیاجو ماضی کے ’بالشویک سیاسی ورکروں‘ کی صف میں جانے جاتے تھے کیا وہ نہیں جانتے کہ اُن کے ’حادثاتی قائد‘ کے والد کو بھٹوصاحب نے پارٹی کے عروج کے زمانے میں پارٹی سے نکال باہر کیا تھا جو واپس ولی خان کی اے این پی میں اْس وقت بھی تھے جب بیگم نسیم ولی خان نے اپنے دوپٹے کو پھیلاپھیلا کر ضیا الحق سے بھٹو صاحب کو پھانسی دینے کی سرعام التجائیں کرنے کی جذباتی تقریریں کرنے میں اپنا ریکارڈ قائم کیا تھا ایسے سبھی بالشویک سیاسی ورکروں نے اپنے’حادثاتی قائد‘ سے پوچھنے کی کبھی یہ زحمت گوارا ہی نہیں کی کہ اْن کے موجودہ قائد کے ذاتی کریڈٹ پر شہیدبھٹو کی کونسی’لیگیسی‘ ہے؟ جس کا بنا سوچے سمجھے وہ چرچا کرتے پھرتے ہیں منی لانڈرنگ کے بے نامی اکاؤنٹس کی لاتعداد مکروہ زدہ کرپشنز کی بھرمار کیا بھٹو کی سیاسی ‘لیگیسی’ تسلیم کرلی جائے؟ یہاں کس کس بالشویک ورکرز کا نام لکھا جائے؟ اگر شہید بھٹو زیادہ سے زیادہ بی بی شہید کی سیاسی وجمہوری جدوجہد کی خدمات کا ہی وہ دفاع کیا کریں تو کوئی بات بنتی ہے‘اربوں کھربوں ڈالرز کے بے نامی اکاؤنٹس اور کرپشنز کا ٹی وی ٹاک شوز میں ماضی کے نامی گرامی مزدور لیڈروں اور بالشویک میڈل کلاس وکلاء لیڈرں کو دفاع کرنا زیب نہیں دیتا ہے آج کی بچی کچھی پی پی میں کچھ ہیں جو دل کی باتیں کرنا چاہتے ہیں نجانے ڈرتے کیوں ہیں؟ اُنہیں ہم سے زیادہ یہ علم ہے کہ اْن کے موجودہ قائد میں سرتاپا حسد اور کینہ بھرا رہتا ہے حسد سے بھرا ہوا کوئی شخص ا گر وہ لیڈر بھی ہو تو ہمیشہ ناقابل اصلاح ہوتا ہے کیونکہ مشورہ اور نصیحت سننے والے کان وہ رکھتا ہی نہیں ‘ آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ اس شخص کی گردن میں غرور کا کیسا طوق پڑا ہوا ہے اس کی نظریں مسدود اپنی ناک کے نیچے اِسے کچھ دکھائی نہیں دیتا ،لہٰذا وقت کا انتظار کریں سیاسی عہدوں پر بیٹھ کر جس جس نے بھی سنگین کرپشن کی اس منحوس کشتی میں چرایا ہوا اپنا مال مسروقہ رکھا ہوا ہے اب وہ جان لیں کہ یہ کشتی آج ڈوبی یا کل؟ کسی کوبچنا ہے تو وہ اپنے آپ پر لگے کرپشنز کے الزامات کے داغ فی الفور دور کرلے اوراس ’حادثاتی قائدنما شخص‘ سے ہراقسام کی کم ازکم اپنی سیاسی وابستگیوں سے لاتعلقی کا ہی اظہار کرنے میں اب دیر نہ لگائے ۔

*****