- الإعلانات -

تنازعہ کشمیر پر بین الاقوامی میڈیا اور اداروں کی تشویش

جنوبی ایشیا بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کی متشدد سوچ اور پالیسی کی وجہ سے شدید خطرات سے دوچار ہو چکا ہے اور ایٹمی تصادم کے بادل پونے دو ارب(1ارب 90کروڑ) سے زائد انسانی کے سروں پر منڈلا رہے ہیں۔ خصوصاً گزشتہ ماہ لائن آف کنٹرول پر پاک بھارت فضائی جھڑپ کے بعد اب بین الاقوامی طاقتوں کو بھی یقین ہو چلا ہے کہ یہ خطہ مزید کسی اشتعال انگیزی سے راکھ کا ڈھیر بن سکتا ہے اورپچھلے ستر سال کے دوران پہلی بار بین الاقوامی برادری کو یہ احساس بھی ہوا ہے کہ اس تصادم کی وجہ تنازعہ کشمیر بنے گا۔اگرچہ حالیہ کشیدگی سے دونوں ممالک کی عوام میں خوفناک تشویش پائی جاتی تھی اور اب تک ہے تاہم مسئلہ کشمیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو اس سے ایک مثبت پہلو سامنے آیا ہے جسکا اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ دنیا نے مسئلہ کشمیر کی حساسیت کو مان لیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ بھی اس جانب توجہ مبذول کروا رہے ہیں۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے تو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی برادری کی مداخلت کی تجویز دی ہے۔7 مارچ کی اشاعت میں This Is Where a Nuclear Exchange Is Most Likely۔ Its Not North Koreaکے عنوان سے پاک بھارت کشیدگی اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنے اداریے میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ دنیا کی نظریں شمالی کوریا کے ہتھیاروں کے خطرے پرہیں لیکن شمالی کوریا نہیں بلکہ پاک بھارت تنازعہ ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔پاکستان اور بھارت میں حالیہ کشیدگی میں کسی حد تک سکون اورکمی آگئی ہے لیکن یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اخبارنے خدشہ ظاہر کیا کہ اگرپاکستان اور بھارت میں مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا تو اس کے ناقابل توقع اورخوفناک نتائج ہوسکتے ہیں۔مسئلہ کشمیرکے ہوتے ہوئے ایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہے گا، ہوسکتا ہے آئندہ تصادم اتنی آسانی سے نہ ٹلے۔ ادارایے میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی برادری کی مداخلت کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا کہ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مداخلت کرے، عالمی برادی کے دباؤ کے بغیر مسئلہ کشمیر کا دیرپا حل ممکن نہیں اورایٹمی جنگ کا خطرہ برقرار رہے گا،دونوں ملک خطر ناک حدود میں داخل ہوچکے ہیں لہٰذا اگلے تصادم کے نتائج بعید از قیاس ہوسکتے ہیں۔اسی طرح امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں بھی تجزیہ کاروں نے لکھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی اصل وجہ تنازعہ کشمیر ہے ، جس پر بھارت قابض ہے جبکہ جارحیت پسند مودی کے وزارت عظمیٰ پر براجمان ہونے کے بعد سے ناصرف مقبوضہ کشمیر میں مظالم میں شدت آئی بلکہ لائن آف کنٹرول پر بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ مودی حکومت اپنے دور میں مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے تمام حملوں کا الزام پاکستان پر عائد کرتی ہے جبکہ مودی اپنے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول جو کہ سابق انٹیلی جنس سربراہ بھی ہیں کے مشورے کے مطابق کشمیری مزاحمت کو کچلنے کے درپے ہیں حالانکہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر کے سیاسی مسائل کے ادراک کیلئے بھی تیار نہیں ہیں اور اسے ایک سیکورٹی مسئلہ گردانتے ہیں ۔ اخبار لکھتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلم مخالف ایجنڈے کے باعث وادی بھر میں ان کیخلاف جذبات ابھر رہے ہیں۔ نوجوان کشمیری بھارت میں گاؤ رکشاء کے نام پر ہونے والے تشدد،مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنائے جا نے اور لو جہاد جیسے معاملات پر بھی اعتراض اٹھاتے ہیں۔ اسی طرح ریاست سے باہر کام کرنے والے کشمیری نوجوانوں کو تفرقے کا سامنا کرنا پڑتا ہے، انہیں کرایہ پر گھر نہیں دیے جاتے یا پھر جب بھی کوئی حادثہ یا واقعہ رونما ہوتا ہے تو ان پر حملے شروع کر دیے جاتے ہیں۔مسلم مخالف جذبات، معاشی مواقعوں کا فقدان اور سیاسی روابط کی عدم موجودگی کے باعث کشمیری نوجوان ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔عالمی میڈیا کے ان اہم اخبارات کا تجزیہ موجودہ کشیدہ صورتحال کا درست عکاس ہے کیونکہ دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان اصل وجہ نزاع ہی تنازعہ کشمیر ہے اور وادی میں بڑھتے بھارتی سکیورٹی فورسز کے مظالم ہیں۔برس ہا برس سے کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے جس کے خلاف پاکستان مسلسل آواز اٹھاتا آ رہا ہے۔اب کہیں جا کر بین الاقوامی اداروں کی آنکھ آن کھلی ہے۔حال ہی میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل کی سالانہ رپورٹ سامنے آئی ہے جس میں انسانی حقوق کی سربراہ مشیل باچلے نے انڈیا کو متنبہ کیا ہے کہ ہمیں ایسی اطلاعات مل رہی ہیں جن سے اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ اقلیتوں کے ساتھ تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔ خاص طور پر مسلمان اور تاریخی طور پر پسے ہوئے طبقات جن میں دلتوں اور قبائلیوں کا استحصال بڑھ رہا ہے۔اس سے قبل گزشتہ برس اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کونسل نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور اس کی جانچ کی بات کہی تھی۔اس وقت کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی رپورٹ کو انڈیا نے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا کہ یہ خود مختاری کی خلاف ورزی اور علاقائی اتحاد کے خلاف ہے۔مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی رپورٹس پربین الاقوامی تنظیمیں فکر کا اظہار کرتی رہی ہیں۔2016 میں بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی مذمت کی اور کہا کہ وہ آزادی اظہار پر ہونے والے حملوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
******