- الإعلانات -

ہاؤسنگ ا سکیمیں اور نئے شہر۔۔۔!

khalid-khan

پاکستان کی معیشت میں زراعت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ملکی آمدنی کا زیادہ حصہ زرعی شعبہ کی برآمد ات سے حاصل ہوتا ہے۔پاکستان کی مجموعی آمدنی میں سے تقریباً25 فیصد زراعت سے حاصل ہوتی ہے ۔پاکستان کی کل آبادی کے تقریباً43 فیصدافراد زراعت سے وابستہ ہیں۔ ملکی معیشت میں کلیدی رول ہونے کے باوجود پاکستان میں زراعت تنزلی کا شکارہے۔ پاکستان میں زرعی زمین سکڑتی جارہی ہے۔اس کی سب سے اہم وجہ زرعی زمینوں پر ہاؤسنگ اسکیموں کا بننا ہے۔پاکستان میں وفاقی اور صوبائی سطح پر زمینی حقائق کے مطابق عملی پلاننگ کا فقدان ہے جس کی وجہ سے ملک و ملت کا نقصان ہورہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے زرعی زمینوں کے سکڑنے پر ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔انھوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو ہدایت کی ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے بڑے شہروں میں زرعی اراضی پر ہاؤسنگ سیکم کی منظوری نہ دیں ۔وزیراعظم اور وزیراعلیٰ پنجاب کے اہم اجلاس میں رقبے کے زیادہ استعمال کو روکنے کیلئے بھی نئی حکمت عملی کی منظوری دی گئی جس کے مطابق زمین پر پھیلاؤکے بجائے بلند و بالا عمارتیں تعمیر کی جائیں گی۔اگر زرعی زمین کو بچانے کی عملی کوشش نہ کی گئی تو عنقریب پاکستان کو خوراک سمیت متعدد سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔بدقسمتی سے پاکستان میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام موجود نہیں ہے۔اگر کسی شعبے میں نظام موجود ہے تو وہاں کرپشن کی وجہ سے ریاستی ادارے خاموش ہیں۔ اگر عام دکاندار کوئی چیز مہنگی بیچے تو گاہے بگاہے اس کی دکان سیل کی جاتی ہے یا اس کوجرمانہ کیا جاتا ہے لیکن پراپرٹی کو بے تحاشہ مہنگا کرنے والوں سے کوئی پوچھ گچھ نہیں ہے۔ آلو ٹماٹر مہنگے کرنے والوں کو سزا ہے لیکن پراپرٹی مہنگی کرنے والوں کو سزا کیوں نہیں ہے؟پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں کوبہترین موقع ملنا چاہیے لیکن حکومت ان کاچیک اینڈ بیلنس بھی رکھے۔حکومت کوچاہیے کہ وہ پراپرٹی کی خرید و فروخت کیلئے بھی ضابطہ اخلاق بنائے۔ضابطہ اخلاق یا طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو ہر چھوٹے بڑے شہروں اور قصبہ جات میں ڈبل شاہ ملیں گے۔پراپرٹی کے ڈبل شاہ ملک اور عوام کا نقصان کرتے ہیں۔ ان ڈبل شاہوں کی وجہ سے پراپرٹی کا صاف ستھرا اور جائز کاروبار کرنے والوں اور متوسط طبقے کا بہت زیادہ نقصان ہورہا ہے۔پراپرٹی کے ڈبل شاہوں کی وجہ سے ایک متوسط اور غریب آدمی گھر نہیں بنا سکتا ہے۔ان کی وجہ سے غریب لوگ چھت سے محروم ہیں۔یہ اراضی کے مالکان اور خریدداروں کو سبز باغ دکھاتے ہیں لیکن دراصل وہ سراب ہوتا ہے۔آج ان ڈبل شاہوں کی وجہ سے پراپرٹی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ریاستی اداروں کوبھی اپنا فرض ادا کرنا چاہیے۔ ریاست کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔بزنس ہر شہری کا بنیادی حق ہے لیکن ہر بزنس کیلئے قواعد وضوابط اور طریقہ کار ہونا چاہیے۔ پراپرٹی کا کاروبار کرنے والوں کیلئے ضابطہ اخلاق بننے سے بہت سے مسائل حل ہونگے اور ساتھ ہی ملک وملت کا نقصان بھی نہیں ہوگا۔ حکومت کو چاہیے کہ (الف) پراپرٹی ڈیلرز کی رجسٹریشن کریں۔بغیر رجسٹریشن پراپرٹی کا روبار کرنے والوں کو سزا اور جرمانہ کریں۔ (ب)پراپرٹی ڈیلرز کو پابند کریں کہ وہ پراپرٹی کی خرید و فروخت کا مکمل ریکارڈ رکھیں ۔ایم ای اے یا کسی اور ادارے کے ذریعے اس ریکارڈ کی گاہے بگاہے چیکنک ہونی چاہیے۔(ج)پراپرٹی کے ریٹ حکومت مقرر کریں اور ہرسال اس میں مناسب اضافہ کریں۔ پراپرٹی کے ریٹ شہر یا علاقے کے اہم مقامات پر سائن بورڈز یا اشتہاری بورڈز پر تحریر ہونے چاہئیں۔مقررریٹ سے زیادہ خرید وفروخت کرنے والوں کو سزا اور جرمانہ کیا جائے۔ (د)حکومت پراپرٹی ڈیلرز کیلئے مناسب کمیشن مقرر کریں تاکہ ان کو پراپرٹی کی خرید وفروخت پر مقرر اور مناسب کمیشن ملتا رہے اور ان کا کاروبار چلتا رہے۔(ر) حکومت پراپرٹی کاروبار کیلئے ایپ تیار کریں اورپراپرٹی کاروبار آن لائن ہو جس میں ہر چیز واضح ہو ،تاکہ کوئی جعل سازی وغیرہ نہ ہوسکے اور معصوم لوگوں کے ساتھ فراڈ نہ ہو۔ (ز)حکومت اس کیلئے سوشل میڈیا ایپلی کیشن بھی تیارکرکے تمام خرید وفروخت کی انفارمیشن اپ لوڈ کرتے رہیں۔تاکہ پراپرٹی کی انفارمیشن سب پرواضح ہوں۔اس سے کالے دھن میں کمی واقع ہوجائے گی۔موجودہ حکومت نئے گھر مختلف شہروں میں بنانے کے بجائے نئے شہر بسائے۔ نئے شہر زرخیز اور زرعی زمینوں پر بنانے کے بجائے بارانی اور بنجر زمینوں پر بسائے۔پاکستان کے تمام صوبوں میں ایسے مقامات موجود ہیں جہاں نئے شہر بسائے جاسکتے ہیں۔نئے شہروں کے ساتھ صنعتی زون بنائیں ، بہترین ہسپتال ، یونیورسٹی، اعلی تعلیمی وتربیتی ادارے قائم کریں۔نئے شہروں میں صفائی کا بہترین نظام ہونا چاہیے۔ کشادہ سڑکیں اور مواصلات کے بہترین اور جدید انتظامات ہونے چاہیے۔نئے اور ماڈل شہر بسانے سے بڑے شہروں پر بوجھ کم ہوجائے گا۔لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوجائے گی اور جرائم میں کمی واقع ہوجائے گی۔خاکسار کایہ آئیڈیا پسند آئے تو بے شک پہلے تجرباتی طور پر ایک ماڈل شہر بنائیں تو اس کے بعد مزید شہر بسائے جاسکتے ہیں۔ہر صوبے میں نئے ماڈل شہر بسائے جاسکتے ہیں۔ نئے اور جدید شہر بسانے کیلئے حکومت ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں سے مدد اور تعاون لیں۔ نئے