- الإعلانات -

لبرل ازم اور خواتین

آج کا اہم ترین مذاکراتی موضوع کچھ لبرل لوگوں کا ایک اکٹھ جو جلسے یا اجتماعی مظاہرے کی شکل تھی ، ہے ۔ہر تہذیب کے اپنے اپنے رنگ ہوتے ہیں ۔ یہ رنگ آج سے صدی پہلے سب جگہ تقریباً ایک جیسا ہی تھا لیکن جہاں سائنس نے ترقی کی وہیں پر معاشرے بھی ترقی کی منازل طے کرتے رہے ۔سائنس کی ترقی کے اثرات معاشروں پر پڑنے سے ان کے رہنے سہنے کے ڈھنگ اور ان کے معاشرتی آداب میں بھی تبدیلی آئی ۔یہ سوچنے کی بات ہے کہ یورپ جیسے ٹھنڈے برفانی خطے میں خواتین کے لباس کا کم سے کم ہونا کیا معنی رکھتا ہے ۔ صدی پہلے یہی لباس پورا تھا اور انتہائی حد تک خواتین کے جسم کو ڈھانپنے کا مقصد پورا کرتا تھا ۔یورپین خواتین بھی سرڈھانپا کرتی تھیں ۔ ان کے سر پر سکارف ہوتا تھا ۔وہ چہرے پر بھی جالی نما کپڑے سے چہرہ چھپانے کی ضرورت پورا کرتی تھیں ۔ان کے ہاتھوں پر گلوز بھی ہوتے تھے ۔حالانکہ یہ وہ دور تھا جس میں عورت کی زندگی گھریلو زندگی پر ہی مشتمل ہوتی تھی ۔ گھر میں وہ ماں بہن بیٹی کے حیثیت سے انتہائی عزت سے وقت گزار رہی تھی ۔وہ گھروں میں وہی آیا گیری یا بڑے گھروں میں گھریلو کا م کر کے وقت کو دھکا دیتی تھیں ۔سائنس نے ترقی کی تو بلب ایجاد ہو ا جس کی روشنی میں خواتین کو بھی شاید اپنے حقوق نظر آئے ۔ان حقوق کی تلاش میں یورپین خواتین نے مردوں کے شانہ بشانہ ہر کام میں حصہ لینا ضروری خیال سمجھا ۔ فیکٹریوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتے ہو ئے وہ مردوں کے ساتھ شانے ٹکراتے ہوئے ہر دفعہ ہی مردوں کی نگاہوں اور ان کی ہوس کا شکار ہوتی رہی ۔ یورپین اور دیگر مغربی معاشروں میں خواتین کو گھریلو زندگی سے نکال کر پریکٹیکل لائف کے دھارے میں لانے کی سازش یہودیوں نے مختلف معاشروں کے گھریلو نظام کی شکست و ریخت کرنے اور ان معاشروں کے اجتماعی نظام زندگی کا توڑ کرنے کیلئے خواتین میں اپنے حقوق کے حصول کی بیداری کی مہم کا آغاز کیا ۔یہودیوں نے ہی مسلمانوں میں غیرت کا عنصر ختم کرنے کیلئے اپنی خواتین کو مسلمان لشکروں میں مردوں کو لبھانے کیلئے اکیلے بھیجنے کی پالیسی شروع کی تھی ۔مسلمان جو عورت کے بارے میں کافی مہذب واقع ہوتے تھے اور عورت کی توقیر کرتے تھے کو عورت کے مکروہ روپ سے آشنا کرنے میں یہی یہودی مافیا کام کرتا رہا ۔سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس سازش کو بھانپ کر اپنے سپاہیوں کو اس سے خبردار اور ہوشیار ہونے کے ساتھ بچنے کا حکم صادر کیا تھا ۔آج یورپین خواتین ترقی کے ثمرات سے مستفید ہونے کیلئے اپنی عزت و آبرو کی قربانی دے کر مردوں کے برابر حق حاصل کرتی ہیں ۔ان معاشروں میں عورت کی گھریلو زندگی کا تصور تقریباً ختم ہو چکا ہے ۔ شادی کی جگہ فرینڈ شپ نے لے لی ہے ۔فرینڈ شپ جب تک چلتی ہے تب تک تو دونوں دوست یعنی لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے رہتے ہیں ۔جیسے ہی کسی کو بہتر موقع نظر آتا ہے وہ اپنا راستہ جد ا کر کے دوسری طرف چل پڑتا ہے ۔سوشل کنٹریکٹ کی بنیاد نکاح سے روگردانی کایہ نتیجہ نکلا ہے کہ وہاں انتہائی چھوٹی عمر کی لڑکیاں جن کی ابھی اپنی عمرکھلونوں سے کھیلنے کی ہوتی ہے ماں بن رہی ہیں ۔یہ عورت کی آزادی کا نتیجہ ہے ۔آنے والی نسل کو اپنے باپ کا نام بھی معلوم نہیں ہو تا کیونکہ ان کی رجسٹریشن ماں کے نام سے ہو رہی ہے ۔عورت کااصل حق تحفظ اور اس کی عزت ہے ۔ورنہ کھاتے پیتے تو جانور بھی ہیں ۔ مغربی معاشروں میں کمانے کی ذمہ داری عورت کے سر ڈال کر عورت کو چادر اور چار دیواری سے باہر کر کے ا سے تحفظ اوراس کی عزت کی چادر سے باہر کر دیا ہے ۔اب وہ مرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ اپنی ذمہ دار خود ہے۔اس کیلئے وہ نوکری یا روزگار کی تلاش میں جب نکلتی ہے تو اسے مردوں کی ہوس بھری نگاہوں سے لے کر زبانی و جسمانی ہر طرح کے تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے ۔جنسی بھیڑیے ہر معاشرے ہر مذہب اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں جو عورت تو ایک طرف بچوں اور جانوروں کو بھی نہیں بخشتے ۔عورت کا جو عزت اورمقام گھر کے اندر رہ کر ماں بہن بیٹی بیوی کی حیثیت سے حاصل تھا اس سے وہ ہاتھ دھو بیٹھی ہے ۔اب وہ حقوق کی تلاش میں بے عزت بھی ہوتی اور حاصل بھی وہ کچھ نہیں ہوتا جس کیلئے وہ ہر طرح سے قربانی دے کر آتی ہے ۔عورت کی تخلیق ہی اللہ نے ایسے کی ہے کہ وہ مرد کی ہم سفر بن کر اور اس کی رفیق حیات کا کردار ادا کرکے اپنی زندگی گزارے ۔عجیب منطق ہے کہ مرد کے برابر حقوق اور مردوں کے شانہ بشانہ کا م کرنا ہے ۔اللہ کی تخلیق کے ساتھ ضد کرنے کی سمجھ نہیں آرہی ۔قرآن پاک میں اللہ پاک کا حکم ہے کہ عورت کی گواہی کو آدھا تسلیم کیا جائے ۔ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہونے کے حکم قرآن پاک میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے دیا ہے ۔عورت کو گھر یلو ذمہ داری بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے وعید کردہ ہے ۔جب کما کر لانے کی ذمہ داری اللہ نے مرد کے ذمہ کی ہے تو اس کے برابر عورتیں کیوں ہونا چاہتی ہیں ۔یہ جانتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کے جسم کو اسی وجہ سے ایک خاص صورت دی کہ مرد سے مردوں والے کام اور عورت کے جسم نے عورتوں والی ذمہ داری ادا کرنی ہے ۔عورت کے بارے میں یہ بھی لکھا ہے کہ عورت کمزور اور ناقص العقل ہے ۔یہ ٹیڑھی ہے اسے سیدھا کرنے کی کوشش نہ کی جائے ورنہ یہ ٹوٹ جائے گی ۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان سب سے زیادہ عورتوں پر ہی ان کے ناقص العقل ہونیکی وجہ سے حاوی ہوتا ہے ۔وہ انہیں سمجھاتا ہے کہ چند روپے کما کر لانے والا مرد تم سے زیادہ سخت جان نہیں تم نو ماہ بچہ پیٹ میں رکھ سکتی ہو ، تم بچہ پیدا کرنے والا درد سہہ سکتی ہو لیکن مرد ایک بوجھ انتا عرصہ پیٹ پرباندھ کر نہیں گھوم پھر سکتا ۔وہ بچہ جننے جیسا درد برداشت کرنے کی ہمت نہیں رکھتا ۔ایسے ہی بیوقوفانہ منطقیں پیش کرکے عورت کو مرد کے برابر ہونے دلیل قرار دیا جاتا ہے ۔جب معاملہ ان دلیلوں کو نہیں بلکہ مرد اور عورت کی جسمانی ساخت کے لحاظ سے اپنے اپنے معاشرتی کردار کا ہے ۔عورت عورت ہے اس کو عورت کا کردار ادا کرنا ہے جبکہ مرد مرد ہے اور اسے مردانہ کردار ادا کرنا ہے ۔عورت اپنا کردار بخوبی ادا کرے تو اس کی عزت ہوتی ہے اور مرد اگر اپنا کردار بخوبی ادا نہ کرپائے تو وہ معاشرے کی نگاہوں میں بے قدر ہو جاتا ہے ۔اسلامی معاشرے میں عورت کو عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق دیاہے ۔عورت کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اس کے باپ بھائیوں یا شوہر پر ہے ۔ اگران رشتوں میں سے کوئی بھی دنیا میں موجود نہیں تو اس کی ذمہ داری اس کے ننہیال پر ہے ۔عورت کو گھر میں رہتے ہوئے گھر کے حکمران کا درجہ حاصل ہے ۔وہ گھر یلو کے اندر کے معاملات میں اپنے مردوں کے شانہ بشانہ تمام کردار ادا کرتی ہے اور اسے پورا حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی طرح اپنے حق کیلئے آواز بلند کر سکتی ہے ۔ نکاح میں اس کی مرضی شامل ہوتی ہے اور اس کی مرضی کے بغیر ہوا نکاح شریعت کے نزدیک فاسق ہوتا ہے ۔ہر لڑکی سے نکاح سے پہلے باقاعدہ اس کی رضامندی لینا شرعی تقاضا ہے ۔مشرقی معاشروں میں اگر کسی خاتون کو باآمر مجبوری جیسے خاوند یا والد کے نہ ہونے کی بنا پر کام کرنے کی حاجت محسوس ہو تو معاشرہ اس کی قدر کرتا ہے ۔وہ کام بھی کرتی ہے لیکن اسے کے ساتھ معاشرے میں لوگوں کا رویہ ہمدردانہ ہوتا ہے ۔