- الإعلانات -

بلوچستان دہشت گردی کے پیچھے بھارتی ہاتھ

بلوچستان جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ اس کی آبادی سوا کروڑ ہے، یعنی پورے ملک کی آبادی کا صرف ایک فیصد ہے۔ بیرونی دنیا میں بلوچستان کا تصور خطہ جنت نظیر ہے۔ جہاں پر قدرتی معدنیات کے بے پناہ ذخائر موجود ہیں۔عالمی طاقتوں کی بلوچستان کے وسائل پر نظریں جمی ہوئی ہیں۔ بلوچستان کے بارے میں ” فری بلوچستان” جیسی منفی اشتہاری مہم چلائی جا رہی ہے۔ گزشتہ برس سؤٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں بسوں، ٹیکسیوں پر” فری بلوچستان ” کے اشتہار لگائے گئے تھے، پھر لندن کی بسوں، ٹیکسیوں کے ساتھ سڑکوں کے کنارے ” فری بلوچستان ” کے بورڈز آویزاں کئے گئے۔ مغربی طاقتیں ” فری بلوچستان ” جیسی گھناؤنی مہم کی یورپ میں اجازت دے کر حاصل کیا کرنا چاہتی ہیں۔ بلوچستان میں دنیا کے سب سے بڑے سونے کے ذخائر موجود ہیں۔ بلیک پرل، کوئلہ، گیس، قیمتی پتھر، ہیرے کی بے شمار اقسام، لوہے، زنک اور کرومائٹ کے ذخائر بلوچستان میں موجود ہیں۔ انہیں یہ بھی علم ہے کہ گوادر پورٹ دنیا کی اہم ترین پورٹ بن چکی ہے۔ بلوچ علیحدگی پسند اور ان کے گاڈ فادر بلوچستان کے خلاف متحرک ہیں۔ اور اپنے مذموم مقاصد کے لئے بے گناہ معصوم شہریوں کو موت کے گھاٹ اتار رہے ہیں۔ یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہے کہ عالمی قوتیں بالخصوص بھارت بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں اور علیحدگی پسند تحریکوں کے پیچھے کھڑا ہے۔قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے واشگاف الفاظ میں اس امر کی نشاندہی کی کہ بلوچستان کے ان علیحدگی پسند عناصر کو بھارت کی سرپرستی حاصل ہے ، جو اپنی ایجنسی ” را ” کے ذریعے انکی تربیت اور فنڈنگ کر رہا ہے۔ اور انہیں پاکستان مخالف مہم کیلئے عالمی اداروں تک رسائی دلا رہا ہے۔ بھارت افغانستان کے راستے ” بلوچستان لبریشن فرنٹ ” اور دوسری تنظیموں کو تخریب کاری کے ارتکاب کیلئے اسلحہ اور مالی مدد بھی فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کی سلامتی کو کمزور کرنے کی کھلم کھلا اور گھناؤنی بھارتی سازشوں کو مؤثر طریقہ سے اقوام عالم میں بے نقاب کر کے اس کے توڑ کیلئے مؤثر اقدامات بروئے کار لانے کی ضرورت ہے۔ بھارت بلوچستان کے خلاف اپنا سازشی منصوبہ پروان چڑھا رہا ہے۔پاکستان دشمنی میں اب بھارت ایک قدم او ر آگے بڑھ گیا ہے۔ نئی دہلی میں ’فری بلوچستان دفتر ‘ کا قیام پاکستان کے خلاف بھارت کے ناپاک عزائم کی عکاسی ہے۔اس قسم کے دفاتر کھولنا پاکستان کیخلاف بھارت کے ناپاک عزائم کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس دفتر کے افتتاح میں میں پچاس ساٹھ بھارتیوں نے حصہ لیا۔ یہ سبھی لوگ ’’را‘‘ اور بھارتی اسٹیبلشمنٹ کے کارندے اور کارکن تھے۔بھارت میں اس دفتر کے افتتاح سے بلوچستان کے خلاف باقاعدہ شیطانی میڈیا مہمات جاری رہیں گی۔بھارت کا کہنا ہے کہ وہ نئی دہلی میں قائم کیے جانے والے فری بلوچستان آفس میں بھارتی اور غیر ملکی صحافیوں اور سفارتکاروں کو مسلسل مدعو کیا جا ئے گا اور انہیں بلوچوں پر حکمرانوں اور فوج کی طرف سے ہونے والی نام نہاد زیادتیوں سے آگاہ کیاجائیگا۔اس دفتر کو چلانے کے سارے اخراجات بھارتی خفیہ ادارہ ’را ‘برداشت کرے گا۔ اس طرح اس دفتر کے ذریعے بھارت سی پیک کیخلاف بھی پروپیگنڈہ کرے گا اور سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے ہاتھ پاؤں بھی مارے گا۔ جہاں تک بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی اور مداخلت کا سوال ہے تو اس کا جواب صرف کلبھوشن ہے۔ بھارت نے بلوچستان میں مختلف عناصر کو اپنے نیٹ ورک میں شامل کر کے انھیں نہ صرف سرمایہ اور ہتھیار فراہم کیے ہیں بلکہ بلوچستان میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے لسانی ،فرقہ وارانہ اور قبائلی تعصبات کے شعلے بھڑکائے اور ایسی تنظیمیں بنوائیں جو اپنے آقاؤں کے ایجنڈے کے تحت قومی سلامتی کے ضامن اداروں کیخلاف منافرت پھیلا رہے ہیں۔ بلوچستان میں نسلی ،لسانی اور فرقہ وارانہ تعصبات کی بناء پر سینکڑوں بیگناہ افراد کو دہشت گردی کی بھینٹ چڑھا کر غیر ملکی قوتوں کے پروردہ آلہ کار تخریب کاروں نے خطرناک خونی کھیل کھیلا۔ان غیر ملکی ایجنٹوں نے الیکشن 2018 کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے خوف وہراس کی فضا پیداکر دی ہے۔سی پیک کے منصوبے بھی بھارت کی نظر میں کھٹک رہے۔ بلوچستان اور سندھ میں بھی ایسے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھارتی ایجنٹ سرگرم عمل ہیں۔ بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو بھی یہی مشن لے کر پاکستان آیا تھا۔ اس نے سندھ میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی منصوبہ بندی کی اور بلوچستان میں سی پیک کے منصوبوں کو کسی نہ کسی انداز میں نشانہ بنایا۔ سندھ سے جو لوگ بلوچستان جا کر سڑکوں پر کام کررہے تھے انہیں بھی نشانہ بنایا گیا۔ چینی انجینئروں اور ماہرین کی ٹارگٹ کلنگ بھی کی گئی ان کے اغوا کی وار داتیں بھی ہوئیں۔ جس کی وجہ سے سی پیک کے منصوبوں کی حفاظت کیلئے خصوصی فورس بھی تشکیل کی گئی۔ پاکستان کے دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ یہ منصوبہ کسی نہ کسی طرح آگے بڑھنے سے روک دیا جائے اور اس مقصد کیلئے چینیوں کو خاص طور پر نشانہ اس لئے بھی بنایا جارہا ہے کہ اس طرح چین اس منصوبے سے ہی بددل ہوسکتا ہے۔بعض لوگ منصوبوں کی مخالفت کرتے کرتے اپنی نکتہ چینی کا ہدف چین کو بنانے سے بھی گریز نہیں کرتے اور اس کے حوالے سے بے سروپا اور حقائق کے منافی خبریں بھی اڑاتے رہتے ہیں۔ جو منصوبے بھی سی پیک سے نتھی ہیں ان سب کا ایک ایک کرکے جائزہ لیں اور ان کی مخالفت کرنے والوں کے بیانات کا تجزیہ کریں تو یہ بات الم نشرح ہو جائیگی۔ ان سب کے پیچھے یا بھارت نظر آئیگا یا وہ بھارت نواز عناصر جو اس کے ٹکڑوں پر پل رہے ہیں۔یہ بھارتی سازشیں اقوام متحدہ، او آئی سی، علاقائی تعاون کی تنظیموں اور تمام عالمی قیادتوں کے نوٹس میں لانی چاہئیں۔ بلوچستان کے قدرتی وسائل اور اس کے محل وقوع کی وجہ سے یہاں کی سرزمین کو عالمی قوتوں کے مفادات کی جنگ کا میدان بنانے کیلئے بہت سازشیں ہو رہی ہیں۔ سیاسی اور عسکری قیادت کو مل بیٹھ کر بلوچستان کی صورت حال پر سوچنا ہو گا اور نئی حکمت عملی فوری طور پر وضع کرنا ہو گی۔