- الإعلانات -

دہشت گردی اور کرکٹ

abbas-malik

نیوزی لینڈ میں بنگلہ دیش کی کرکٹ ٹیم پر حملے میں اس کے کھلاڑی بال بال بچ گئے ۔حملہ ایک عیسائی دہشت گرد اور بنیاد پرست نے کیا تھا ۔ اسی حملے کے ساتھ ہی ایک دوسری جگہ بھی ایسے ہی دوسرے حملے کی رپورٹ بھی موصول ہوئی ہے۔دونوں حملوں میں ساٹھ سے زیادہ لوگوں کی اموات رپورٹ ہوئی ہیں اور کافی زیادہ لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع موصول ہوئی ہے ۔اموات کی شرع بڑھ سکتی ہے ۔یہ حملے ایک بنیاد پرست عیسائی کی طرف سے ترکی کی طرف سے یورپ کے ایک علاقہ کے محاصرہ کے دن کے موقع پر انتقاماً کیے گئے ۔ طالبان ہوں یا عیسائی دہشت گرد یا دنیا کے کسی بھی خطے میں کسی بھی طرح مذہبی یا معاشرتی سیاسی مطالبہ کیلئے عام عوام میں دہشت گردی کی کوئی بھی کاروائی قابل نفرت اورقابل مذمت ہے ۔ایسی کسی بھی تنظیم یا کسی بھی کردار کی تعریف کرنا شیطان کی تعریف اور شیطانیت کی ترویج میں شیطانی کردار کے عین مترادف ہے ۔بے گناہ قتل خواہ وہ کسی کا بھی ہو قابل نفرت اورانسانیت کے قتل کے مترادف ہے ۔جہاد یا کسی بھی طرح کی مقدس جنگ جو کہ مذہبی نبیاد پر لڑی جا رہی ہو یا کوئی بھی مذہبی تنظیم مذہبی مقاصدکی ترویج کیلئے طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہو ، میں عام عوام کو دہشت زدہ کرنا اور اس سے عوام کا متاثر ہونا ہرگز بھی مذہبی تعلیمات کے مطابق نہیں ۔مذہب اور بالخصوص اسلام جہاد یعنی مذہبی جنگ کیلئے باقائدہ قوائد و ضوابط مرتب کرتا ہے ۔ ان قوائد کے مطابق ایسے شخص کو نشانہ بنانا جائز نہیں جو جنگ میں براہ راست ہتھیار بند ہو کر شامل نہیں ۔ اس میں بوڑھوں عورتوں اور بچوں کھیتی باڑی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ۔ مذہبی جنگ اگر مذہبی قوائد و ضوابط ہی کے تابع نہیں تو پھر وہ مذہبی جنگ ہی کیسے کہلا سکتی ہے ۔طالبان کی جنگ کو اسی لیے اکثریت مذہبی اکابرین نے مسترد کیا کہ انہوں نے عام شہری آ بادیوں میں براہ راست شہریوں کے جان و مال کو نشانہ بنایا اور انہیں جانی و مالی نقصان سے دوچار کیا ۔عالم اسلام کی اکثریت نے فغانستان میں روس کے خلاف مجاہدین کی جنگ کو اسی بنیاد پر جہاد تسلیم کیا کیونکہ وہ ان کے ملک میں غیر ملکی قبضے کے خلاف مسلح مدافعانہ جدوجہد تھی ۔عالم اسلام فلسطین کے مسلمانوں کی جدوجہدکو بھی اسی لیے جہاد تسلیم کرتا ہے کیونکہ وہ ان کی سرزمین پر غاصبانہ قبضے کے خلاف مدافعانہ مسلح جدوجہد ہے۔ عالم اسلام کشمیر میں کشمیری جدوجہد کی حمایت بھی اسی لیے کرتا ہے کیونکہ وہ انڈیا کے غاصبانہ قبضے کے خلاف سیاسی اور مدافعانہ جدوجہد ہے ۔اپنی سرزمین پر قابض فوج کے خلاف سیاسی جدوجہد کے ساتھ مسلح جدوجہد کی ضرورت اس لیے بھی ضروری ہو جاتی ہے کیونکہ غاضب ممالک طاقت کے زور اپنی در آوری کو مضبوط اورمستحکم بنانے کے ساتھ مستقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ایسے میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ان کے بڑھتے قدموں کو روکنے کیلئے طاقت کا جواب طاقت سے دیا جائے۔دنیا میں یہ تو کوئی اصول کہیں بھی نہیں اور نہ ہی ایسا ہوتا ہے کہ ایک ملک دوسرے ملک پر قبضے کیلئے اپنی افواج کو متحرک کر ے اور دوسرے ملک کی عوام اور فوج مزاحمت کیلئے ہاتھوں میں پھول لیے آئیں۔اسرائیل اور انڈیا گلوبل ویلج کے دو ایسے کردار ہیں جو عالمی امن کو تہ و بالا کرنے میں اہم کردار اورمقام رکھتے ہیں ۔اس وقت دنیا میں جتنی دہشت گرد ی کی فضا ہے اس میں یہ دو ممالک بنیاد ی کردار ہیں ۔ مشرق وسطیٰ کے معاملات اگر مسئلہ فلسطین حل ہو جائے تو بہترہو سکتے ہیں۔ اس وقت اسرائیل کے فلسطین پر غاصبانہ قبضے کی وجہ سے لبنان اردن شام مصر فلسطین تمام براہ راست متاثر ہیں ۔ان کی ممالک کی وجہ سے عالم اسلام میں ایک طرح کی اپنے بھائیوں کیلئے ہمدردی کی بنا پر تحریک پیدا ہوتی ہے ۔دوسری طرف انڈیا کشمیر پر قبضے اور کشمیریوں پر ظلم و بربریت کی جو دستانیں رقم کر رہا اسکی وجہ سے برصغیر کا ماحول گندا ہے ۔ انڈیا کے اس قبضے کے خلاف کشمیری مجاہدین نے سیاسی جدوجہد کرنے کی پوری کوشش کی ۔مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں مسلسل نظر انداز ہونے اور اپنے حق میں اقوام متحدہ کو تاخیری حربوں کے رد عمل سے کشمیر ی لوگوں نے تشدد کا رستہ اختیار کیا ۔وہی چیز جو فلسطین میں فلسطین کی آزادی کی جدوجہد میں میں فلسطین کے لوگوں کو مسلح جدوجہد کی طرف لے گئی وہی عوامل کشمیر میں دھرائے گئے ہیں ۔اگر اقوام متحدہ بروقت کشمیر میں استصواب رائے کیلئے بندوبست کرتی اور انڈیا کو مجبور کردیا جاتا کہ اپنی افواج کو کشمیر سے باہر کرتے اور اقوام متحدہ کی امن فوج کشمیر میں داخل کر دی جاتی تو آج برصغیر کا یہ ماحول نہ ہوتا ۔ اقوام متحدہ نے مسئلہ فلسطین پر مسلمانوں کو مایوس کیا اور پھر مسئلہ کشمیر پر بھی اس کا طرز عمل یک طرفہ اور غیر مسلم اقوام کی طرف جھکاؤ کا تھااور اب تک ہے۔اقوام متحدہ میں مسلمان خلاف جب بھی کوئی قرار داد پیش کی گئی تو فوراً مسلمان ملک کے خلاف پابندیاں اور اسے فورا ہی بین الااقوامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ۔ اس کی مثال افغانستان عراق مشرقی تیمور اور یونان کے ساتھ تنازعہ میں ترک ہیں ۔فلسطین اور کشمیری آزادی کی جدوجہد کرنے کے باوجود بھی اقوام متحدہ سے ایساکوئی بھی کردار ادا کرانے میں ابھی تک بوجہ مسلمان ہونے کے ناکام ہیں ۔ افغانستان پر چون ممالک کی مشترکہ فوج حملہ آور ہوئی ، عراق پر بھی یورپین کمیونٹی اور امریکی اتحاد نے مل کر حملہ کر دیا ۔فلسطین پر اورکشمیر پر یہی اتحادی اور امریکہ کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کرتے آرہے ہیں ۔ دنیا میں مسلمانوں پر مظالم کی تعداد بڑھ رہی اور اس کا جواب مسلح جدوجہد کی صورت میں آتا ہے ۔جس کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مہذب ممالک کے مہذب معاشرے میں مکروہ کردار ادا کرنے والا شخص یا اس تنظیم کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتا ہے ۔ کرکٹ کے عالمی ادارے نے پاکستان میں سری لنکن ٹیم پر دہشت گردی کے حملے کی وجہ سے پاکستان میں عالمی کرکٹ پر پابندی عائد کر دی تھی ۔دنیا کی بیشتر کرکٹ ٹیموں نے بھی اس کے بعد پاکستان میں اپنے ٹیموں کو بھیجنے سے انکار کر دیا تھا اور کھلاڑی بھی پاکستان آنے سے آنکار کرنے لگے تھے۔ ان کی تقلید میں بیشتر کھیلوں کے مقابلے پاکستان میں منعقد ہونے بند ہو گئے اور پاکستان میں کھیلوں کا مستقبل تاریک ہوگیا ۔اس کے دہشت گردی کے پیچھے طالبان کا ہاتھ تھا لیکن دراصل طالبان کی پشت پناہی میں پاکستان کے چھپے دشمن کھیلوں میں پاکستان کے بڑھتے رسوخ کے آگے بند باندھنے میں کامیاب ہوگئے ۔ پاکستان آرمی نے اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف براہ راست ایکشن لیتے ہوئے ان کے بیخ کنی کی ۔پچھلے کافی سالوں سے پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں پر کافی کنٹرول حاصل کر لیا گیاہے ۔ملک کے بیشتر علاقوں میں دہشت گرد کارروائیاں تقریباً ختم ہو چکی ہیں ۔مسلمان اور بالخصوص پاکستان ہمیشہ سے امن پسند ملک رہا جس کا ثبوت اقوام متحدہ کی امن فوج میں پاکستانی فوج کے کردار سے لگایا جا سکتاہے ۔افواج پاکستان ہر قسم کے حالات کا سامنا کرنے کی طاقت رکھنے کے باوجود ہمیشہ جمہوریت اور امن کی علمبردار رہی ہیں ۔دیکھنا تو یہ ہے کہ اب عالمی ادارہ کرکٹ اس کو بنیاد بنا کر کیا نیوزی لینڈ پر کرکٹ اور کھیلوں کے دروازے بند کرے گا۔ کیا وہ پاکستان کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کا مداوا کر ے گا۔اقوام متحدہ انصاف ہر ایک کیلئے کے اپنے نعرے کو عملی جامہ پہنائے گی۔