- الإعلانات -

خوابوں کی دنیا

yasir-khan

ماضی کے تلخ تجربات ہمارے اذہان میں کچھ اس قدر نقش ہو چکے ہیں کہ ہمیں کہیں سے بھی کچھ اچھا ہوتا نظر آئے بھی تو ہم اسے قبول کر نے کو تیار نہیں ،ہمارے دل و دماغ کے کینوس ماضی کی گرد سے اس قدر اٹے ہیں کہ بظاہر صاف شفاف مناظر بھی ہمیں دھندلے دکھائی دیتے ہیں ۔ میں نہ مانوں رویوں کی جھلک ہماری رگ و پے میں اس قدر سرایت کر چکی ہے کہ ہم کسی دلیل و دعوے کو بغیر پرکھے محض ماضی کے تجربات کی روشنی میں پیروں تلے روندتے چلے جاتے ہیں ۔ ہم ناسٹلجیا کا اس قدر شکار ہو چکے ہیں کہ ماضی کے تلخ حقائق و تجربات کو بھی سینوں سے اس لئے لگائے بیٹھے ہیں کہ ہماری آج کے حالات سے لاتعلقی محض قائم و دائم ہی اس وجہ سے ہے کہ ہم کچھ بہتر اور اچھا ہو نے کی امید میں تازہ ہوا کے کسی جھونکے کو بھی محسوس نہیں کر پاتے۔یہ درست ہے کہ کوئی بھی حکومت نہ تو سو فیصد کامیاب ہوتی ہے اور نہ سو فیصد نا کام ،اگر اس حقیقت کا ادراک ہمیں پہلے سے ہے تو کسی کی کامیابی یا ناکامی کے پیمانے ، تجزئیے اور اندازوں میں ہماری اپنی پسند و ناپسند اور چاہنے نہ چاہنے جیسے عوامل کیوں واضح نظر آتے ہیں ۔ موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے اگرچہ بمشکل چھ سات ماہ ہی ہوئے ہیں مگر اتنے تھوڑے عرصے میں کامیابی اور ناکامی کے سرٹیفکیٹ تو کجا ابھی سے خوابوں کے ذریعے الہام ہورہا ہے کہ یہ حکومت اگلے برس تک چل نہیں پائے گی،منظور وسان صاحب ماضی میں بھی اپنے خوابوں کی وجہ سے موضوع بحث رہے ہیں ،یہ الگ بحث ہے کہ انھیں ان خوابوں کی تعبیر مل پائی کہ نہیں ،لیکن ان کے خوابوں کی خوبی یہ ہے کہ انھیں مطلب اور موقع محل کے حساب سے خواب میں دیکھ لینے کا ہنر آتا ہے ۔اس دفعہ کے ان خواب کو بھی خوب ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔شاید ان کے خواب کی سب سے زیادہ ضرورت خود ان کی اپنی جماعت کو تھی ، کھلی آنکھوں تو سب کو نظر آرہا ہے کہ آنے والے دنوں میں انکی جماعت اور قائدین کی مشکلات بڑھتی نظر آرہی ہیں ،مگر خواب دیکھنے پر نہ تو کوئی قدغن ہے اور نہ کچھ خرچہ آتا ہے اور سب سے بڑی پذیرائی خود منظور وسان صاحب کیلئے کہ خود ان کے قائد بلاول بھٹو اس خواب کو لیکر اسمبلی پہنچے ، نہ صرف خواب سنایا بلکہ حکومت کو تنبیہ بھی کر دی کہ وہ اس خواب کو سنجیدگی سے لے ،پتا نہیں کیوں ، ان کے منہ سے یہ بات سن کر بڑا عجیب محسوس ہورہا تھا کہ ،ان خوابوں کی تعبیر تو آج تک کسی کو دیکھنا تک نصیب نہ ہو سکی، جو گزشتہ تیس سال سے ان کی جماعت پورے سندھ کے سیاہ و سفید کی مالک رہی بلکہ باقاعدگی کے ساتھ عوام کو خواب دکھاتی بھی رہی اور سناتی بھی رہی ،مگر آج غربت، بیروزگاری، مہنگائی، رشوت، بدعنوانی اور ادارتی جارہ داری کی صورت کچھ بھی بہتر نہ ہو سکا ہے،کتنی دہائیاں بیت گئیں،روٹی،کپڑا اور مکان کے خواب سندھ کے عوام اپنے آنکھوں میں سجائے،ان کے وعدوں کے وفا ہونے کے منتظر ہیں،بلاول بھٹو زرداری کو گرچہ سیاست میں نہ تو کسی کڑے امتحان سے گزرنا پڑا اور نہ انھوں نے سیاست کی آبیاری کی خاطر کسی قسم تکلیفیں برداشت کیں ،اسلئے اس نوجوان کی سیاست بھی اسکی اپنی جماعت کے کرتا دھرتاؤں کے ماضی کے کارناموں کی بھینٹ چڑھ جانے کے کافی امکانات ہیں۔سیاست بلاول کے گھر کی لونڈی ہے۔ اس کے پیدا ہو نے اور الیکشن لڑنے کی عمر تک کو پہنچے کے انتظار میں خود پیپلز پارٹی کی سینئر قیادت نے بڑی بے صبری سے انتظار کیا ۔کیونکہ موروثی اور نسل در نسل چلنے والی جماعتوں کو اپنے سیاسی نظریات اوراصول و قواعد سے زیادہ سیاسی جانشین کی ضرورت پڑتی ہے، جنھیں بڑی محنت اور صبر آزما مراحل سے گزارنے کے بعد عوام کے سامنے بظاہر نجات دہندہ کے طور پر پیش کر کے یہ ثابت کر نے کی کوشش کی جاتی ہے کہ لوگ اسے مسائل،بحرانوں اور چیلنجز سے نبرد آزما ہو نے کیلئے مسیحا مانیں ان کے پاس ،سوائے میرے نانا شہید ،امی محترمہ شہید کے سوا کہنے کو کچھ بھی نہیں ہوتاوگرنہ ،خود کو ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہو نے کے دعویداروں کے پاس نہ تو ملکی مسائل کا حل ہے،نہ وژن اور سیاسی بالغ نظری ، کتنی عجیب بات ہے کہ بھٹو کی سیاسی وراثت کا وارث آج اسمبلی میں خوابوں کو سنجیدہ لینے کی بات کر نے کی بجائے ،حکومت کو اپنا وژن دیتا، منشور، نظریات اور اپنی جماعت کی پالیسیوں پر عملدر آمد یقینی بنانے کی بات کرتا،محض خوابوں سرابوں سے نکل کر عملی اقدامات کی بات کرتا۔کتنا فرق ہوتا ہے ، ایک جماعت کی آبیاری کی خاطر بائیس سال کی جدو جہد اور پلیٹ میں رکھے جماعتی تاج کو سر پر سجا لینے کا،یہی سے تو پتا چلتا ہے ایک لیڈر کی سوچ میں اور محض اقتدار کی مسندوں پر براجمان ہونے کی خاطر خود کو لیڈر ثابت کر نے والوں میں ۔ لیڈر کی سوچ ملک کو درپیش چیلنجز اور بحرانوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے وقف ہوتی ہے جبکہ حکمرانی کو اپنی گمشدہ میراث سمجھنے والے محض اپنی کرسی ور اقتدار سے آگے سوچ کے تمام زاویے بند ہو جاتے ہیں ۔بلاول بھٹو صاحب کی بد قسمتی شاید یہ ہے کہ انھیں پارٹی کی موروثی قیادت تو بڑی آسانی سے مل گئی مگر مسند اقتدار شاید ان کا خواب ہی رہے،پڑھے لکھے توآکسفورڈاور کیمبرج کے ہیں مگر عمران خان سے متعلق کہتے ہیں ،مجھے نہیں پتا عمران خان ہیں کون ،قومی ہیروسے ملک کے وزیر اعظم تک ان کی جدو جہد سے پوری دنیا واقف ہے ، مگر شاید بلاول صاحب کو نہیں پتا،خوابوں پر یقین کر نے کو کون تیار ہوگا، لیکن خواب دیکھنے پر نہ تو کوئی ٹیکس ہے اور نہ کوئی قدغن۔مشکل حالات میں گھری ان کی اکثر سیاسی قیادت جن میں ڈاکٹر عاصموں،شرجیل میمنوں اور انور مجیدوں کو خوب اچھی طرح پتا ہے کہ عمران کون ہیں ،انہی سے پوچھ لینا چاہئے ، انھیں شاید پہچاننے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔