- الإعلانات -

دنیا میں بھارت اسلحہ کا دوسرا بڑا خریدار

گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں بھارت کو جس خواری اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا اس کے بعد بھی اس کو عقل نہیں آئی۔ مودی سرکار بجائے عقل کے ناخن لینے کے ، مزید پاگل پن کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ بھارت کا جنگی جنون بجائے کم ہونے کے، بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ بھارت دنیا میں اسلحہ خریدنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں کے دوران پوری دنیا میں جتنا بھی اسلحہ فروخت ہوا اس کا 9.5 فیصد صرف بھارت نے خریدا۔2014-2018 کے درمیان جمع کئے گئے اعدادو شمار کے مطابق بھارت دنیا بھر میں اسلحہ کی خریداری میں دوسرے نمبر پر ہے۔ 2013-2017 کے دوران بھارت اسلحے کی خریداری میں پہلے نمبر پر تھا۔ اس دوران بھارت نے دنیا بھر میں فروخت ہونے والے اسلحے کا 13 فیصدخریدا تھا۔ بھارت 58 فیصد اسلحہ روس، 15 فیصد اسرائیل اور 12 فیصد امریکہ سے خریدتا ہے۔ بھارت روس سے بھی 400 ارب کا ایس400 میزائل سسٹم خریدنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ بھارت کے پاس 130 سے 140 ایٹمی ہتھیار ہیں۔بھارت اس کے علاوہ نومبر میں فرانس سے 59 ارب ڈالر کے رافیل جنگی طیارے بھی خریدے گا ۔بھارت نے حال ہی میں روس کے ساتھ ایک نئی آب دوز کرائے پر لینے کا معاہدہ کیا ہے۔ ایٹمی آبدوز کے حصول کا یہ معاہدہ 3 بلین ڈالرز پر مبنی ہے۔ معاہدے کے مطابق روسی ایٹمی آب دوز 10 سال کے لیے لیز پر بھارت کے سمندروں میں خدمات انجام دے گی۔روس کی ایٹمی طاقت کی حامل یہ تیسری آب دوز 2025 تک بھارت کو فراہم کی جائے گی۔ یہاں یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ روس سرد جنگ کے زمانے میں بھی بھارت کو اسلحہ فراہم کرنے والا بڑا ملک تھا۔ اس سے قبل بھی بھارت کو ایک آب دوز کرائے پر دے چکا ہے جس کے کرائے کی مدت میں اضافے کے لیے بھی مذاکرات کیے گئے ہیں۔بھارت کی جانب سے فضائی دراندازی اور بد ترین شکست کے بعد دشمن نے پاکستانی سمندری حدود میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی لیکن مستعد پاک بحریہ نے اپنے سمندری زون میں موجود بھارتی آب دوز کا سراغ لگا کر اس کی دراندازی کی کوشش ناکام بنا دی تھی۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کی 9 جوہری طاقتوں کے ایٹمی ہتھیاروں کی مجموعی تعداد 16 ہزار 300 ہے جن میں سے تقریباً 4 ہزار ہتھیار حملے کے لئے تیار حالت میں ہیں۔ 9 ایٹمی طاقتوں میں امریکا، روس، چین، پاکستان، بھارت، برطانیہ، فرانس، اسرائیل اور شمالی کوریا شامل ہیں۔ بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد 130 سے 140 ہے۔سکیورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے باوجود پاکستان کے دفاعی اخراجات خطے کے دیگر ممالک کی نسبت سب سے کم ہیں۔ایک رپورٹ کے مطابق 2009-2013 کے مقابلے میں 2014-2018 کے درمیان پاکستان کی طرف سے اسلحہ کی خریداری میں 39 فیصد کمی ہوئی جبکہ 2009-2018 تک پاکستان نے امریکہ سے اسلحہ کی خرید میں 81 فیصد کمی کی۔ پاکستان نے دیگر ممالک سے بھی اسلحہ خریدا جیسا کہ ترکی سے 30 کمبیٹ ہیلی کاپٹر خرید کیے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان نے چین کی مدد سے اپنے ہاں بہت سارا اسلحہ تیار کرنا شروع کر دیا ہے۔کیونکہ ہم دفاعی پیداوار میں خود مختیار ہونا چاہتے ہیں۔بھارت 4.2 ارب ڈالر کے ساتھ بڑا دفاعی درآمد کنندہ ہے جبکہ پاکستان دفاعی درآمدات کے لحاظ سے 0.65 ارب ڈالر کے ساتھ 12 ویں نمبر پر ہے۔ پاکستان آرڈیننس فیکٹری نے گزشتہ 5 سال میں 97 فیصد اہداف حاصل کیے۔ پی او ایف میں 14 فیکٹریاں ہیں جو مسلح افواج کی ضروریات پوری کر رہی ہیں۔ ملٹری وہیکل ریسرچ محکمے کی کوششوں سے 426 ملین کی درآمدات کی بجائے مقامی پیداوار سے 249 ملین کی بچت ہوئی۔ جبکہ اگلے پانچ برسوں میں 200 سے 290 ملین روپے سالانہ بچت کا ہدف رکھاگیا ہے۔ ہیوی انڈسٹری ٹیکسلا میں 16 الخالد ، 36 ٹی اور 80 یوڈی ٹینکس بن رہے ہیں۔ اس ادارے نے اب تک 165 بکتر بند گاڑیاں تیار کی ہیں ۔ ایئروناٹیکل کمپلیکس کامرہ 24 سپر مشاق طیارے سالانہ تیار کر سکتا ہے۔ مختلف ممالک کو اب تک 90 طیارے فراہم کر چکے ہیں۔ ملک میں 14 جے ایف 17 تھنڈر بنا کر قومی خزانے کیلئے 49 کروڑ ڈالر بچائے۔ جبکہ میراج ریبلڈ فیکٹری نے ملکی خزانے کو 21 کروڑ 70لاکھ ڈالر کا فائدہ پہنچایا۔ بھارت کے اسلحہ جمع کرنے کے خبط کو بڑھانے میں بڑی طاقتیں بھی برابر کی شریک ہیں۔ بھارت نے جہاں امریکہ اور روس سے اسلحہ خریدا وہیں اسرائیل سے بھی اس کے معاہدے بروئے کار رہے۔ بھارت کے جنگی جنون اور اسلحہ جمع کرنے کے خبط نے خطے میں طاقت کا توازن بری طرح بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ بھارت کو صرف اسلحہ کے ڈھیر لگانے ہی کا جنون ہے اس کے معیار اور حفاظت سے شائد کوئی سرو کار نہیں ہے۔اس کا ایٹمی مواد چوری ہو چکا ہے۔ مناسب حفاظت نہ ہونے سے خوفناک آتشزدگی کے واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔ اس نے گو خطرناک اور طویل رینج کے میزائلوں اور راکٹوں کے تجربات کئے مگر کئی اڑان بھرتے ہوئے ٹھس بھی ہو چکے ہیں۔ پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر تنقید کرنے والی عالمی طاقتوں کو پاکستان اور بھارت کے حفاظتی انتظامات کا جائزہ بھی لینا چاہئے۔ خود امریکی ادارے بھارت کے حفاظتی انتظامات کو ناقص قرار دے چکے ہیں۔ مقابلے میں پاکستان کے حفاظتی انتظامات اب تک فول پروف ثابت ہوئے ہیں۔ پاکستان کے پاس بھارت کے مقابلے میں اسلحہ کے ذخائر تو نہیں ہیں مگر جو روایتی اور غیر روایتی اسلحہ ہے وہ معیاری و دفاعی ضروریات کے مطابق ہے جس کو ضرورت کے مطابق اور فی زمانہ ٹیکنالوجی میں جدت کے تقاضوں کے تحت اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے۔ آج پاکستان کا ایٹمی پروگرام کم از کم ڈیئرنس کی سطح پر ہے جبکہ بھارت اسلحہ کے انبار لگا رہے ۔ عالمی برادری پر بھارت کا جنگی جنون اس کے اسلحہ جمع کرنے کے خبط اور ناقص حفاظتی انتظامات واضح کرنے کی ضرورت ہے۔