- الإعلانات -

نیوزی لینڈ میں بدترین دہشت گردی

adaria

پُرامن ترین ملک نیوزی لینڈ میں مسلمانوں کو دہشت گرد کہنے والوں نے بدترین دہشت گردی کی انتہاکردی، 2مساجد میں نماز جمعہ سے قبل سفید فام مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے49 نمازیوں کوشہید اورمتعدد کو زخمی کردیا،آسٹریلوی حملہ آور دہشت گرد حملے کی براہ راست ویڈیو سوشل میڈیا سائٹ پر شیئر بھی کرتا رہا،حملے کے وقت بنگلہ دیشی کرکٹ ٹیم نماز جمعہ کی ادائیگی کیلئے مسجد پہنچی تھی تاہم مسجد میں فائرنگ سے محفوظ رہتے ہوئے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئی،دونوں حملے ملک کے تیسرے بڑے شہر کرائسٹ چرچ میں ہوئے، پولیس نے ایک خاتون سمیت 4 حملہ آوروں کو گرفتار کرلیا ہے۔دوسری جانب نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈن نے حملے کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ یہ دن سیاہ ترین ہے، مرنیوالے کہیں سے بھی آئے ہوں وہ ہمارے ہیں، مار نے والے ہمارے نہیں، نہ ہی ان کی یہاں کوئی جگہ ہے۔ یہ واقعہ ایک ایسی جگہ پیش آیا جہاں لوگ اپنی مذہبی آزادی کا اظہار کرتے ہیں، ان کیلئے محفوظ ماحول ہونا چاہیے تھا، لیکن آج ایسا نہیں ہوا،یہ حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی سے کیا گیا ہے۔پاکستان نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد میں دہشت گردی کے گھناؤنے اور سفاکانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے ۔دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی عوام اور حکومت اس مشکل گھڑی میں نیوزی لینڈ کی حکومت، عوام، غمزدہ خاندانوں اور متاثرہ برادری کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہم قیمتی جانوں کے ضیاع پردلی تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلدصحتیابی کیلئے دعاگوہیں۔ پاکستان اس حملے کو پورے عالمی ضمیر کی آزادی اور انسانی اقدار پرحملہ تصورکرتاہے۔پاکستان امید کرتاہے کہ نیوزی لینڈ کی حکومت اس دہشت گرد حملے میں ملوث افراد اوران کے سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کیلئے فوری کارروائی اور متاثرہ کمیونٹی کی سلامتی اورتحفظ یقینی بنائے گی۔ دنیا بھر کے مذہبی اور سیاسی رہنما ؤں نے نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذمہ دار وہ کچھ سیاستدان اور میڈیا ہے جو مسلمانوں کے خلاف تعصب پھیلانے میں پیش پیش رہتے ہیں۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہاکہ آج مسلمانوں کے ساتھ محض اس لئے یہ واقعات پیش آرہے ہیں کہ نائن الیون کے بعد دنیابھر کے مسلمانوں کو اس واقعے کاموردالزام ٹھہرایا، ہماری ہمدردیاں نیوزی لینڈ کے ساتھ ہیں۔نیزدہشت گرد کاکوئی مذہب نہیں ہوتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ کیلئے ہم جو بھی کر سکیں، اس کیلئے ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ یہ اسلام مخالف بڑھتے ہوئے جذبات کا نتیجہ ہے لیکن دنیا بس خاموشی سے دیکھتی رہی ۔پوپ فرانسس نے مساجد میں فائرنگ کے واقعے کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے نیوزی لینڈ کے لوگوں بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریزنے اسلام کے بارے میں منفی تاثرکی روک تھام اور عدم برداشت اورہرطرح کی پرتشدد انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے عالمی سطح پر اجتماعی کوششوں کی ضرورت کااعادہ کیاہے۔ایک بیان میں عالمی ادارے کے سربراہ نے ایک بارپھرمساجداورتمام مذہبی مقاما ت کاتقدس برقرار رکھنے پرزوردیا۔سیکرٹری جنرل نے تمام لوگوں پربھی زوردیاکہ وہ جمعہ کے مقدس روز کے موقع پر مسلمانوں کے ساتھ پیش آنے والے اس سانحے پراسلامی برادری کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے نیوزی لینڈ کے شہرکرائسٹ چرچ میں دومساجدپرحملے کی پُرزور مذمت کرتے ہوئے اس عزم کااعادہ کیاہے کہ ہرقسم کی دہشت گردی عالمی امن وسلامتی کے لئے سنگین خطرہ ہے۔سعودی عرب،متحدہ عرب امارات، برطانیہ، یورپین کمیشن ،مصراورروس نے بھی نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کی شدید مذمت کی ہے۔ دہشت گردی کے ایسے گھناؤنے واقعات کے ذمہ داروں اورسہولت کاروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی ضرورت ہے۔ تمام ممالک اس سلسلے میں نیوزی لینڈ کی حکومت اوردیگرمتعلقہ حکام کے ساتھ بھرپورتعاون کریں۔ کسی بھی مذہب، تہذیب، رنگ ونسل سے قطع نظردہشت گردی کے تمام واقعات مجرمانہ اوربلاجواز ہیں۔تمام ممالک دہشت گردوں کی جانب سے عالمی امن وسلامتی کو درپیش خطرات کے ازالے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کریں۔کرائسٹ چرچ حملہ نیوزی لینڈ کے سیکورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ بن گیا ہے اور پاکستان نے پوری دنیا میں امن کیلئے اس ناسور کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ اسلام رواداری اور تمام انسانیت کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا مذہب ہے۔ دہشت گردی کہیں بھی ہوسکتی ہے اور اس کو کسی مذہب کے ساتھ منسوب نہیں کیا جانا چاہیے۔

باجوڑ میں عمران خان کا تاریخی جلسہ
وزیراعظم پاکستان عمران خان کے باجوڑ کے جلسے نے ذوالفقارعلی بھٹو کے جلسوں کی یادتازہ کرادی،اتنا بڑاجم غفیرشاید ہی کسی لیڈر کے نصیب میں ہوتا ہے ، عمران خان ذوالفقاربھٹو کے بعد واحدلیڈر ہیں جنہیں عوامی سطح پربے حد پذیرائی مل رہی ہے ۔باجوڑ کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جو پیسہ لوٹ کر باہر لے گئے ہیں،ان سے ڈیل ہوگئی اور نہ ہی کمپرومائز یا مفاہمت ہوگی ،آج جمہوریت نہیں بڑے بڑے ڈاکو خطرے میں ہیں، ملک کی بہتری اور خوشحالی کیلئے مودی سمیت ہر ایک سے بات چیت کرنے کو تیار ہیں،اگلے 30 دن کے دورا ن بھارت میں الیکشن سے پہلے کسی کارروائی کا خدشہ ہے،اگلے 30دن ہمیں دھیان رکھنا پڑیگا ، کشمیر میں لوگ آزادی کی جنگ لڑرہے ہیں ، دلیری پر سلام پیش کرتاہوں، قبائلی علاقوں پر پیسہ خرچ نہیں کیا تو ہمارے دشمن قبائلی علاقے میں انتشار پھیلانے اور لوگوں کو اکسانے کی کوشش کریں گے،قبائلی علاقوں کی بحالی کیلئے سندھ اور بلوچستان بھی اپنا حصہ ڈالیں،افغانستان میں طالبان اور امریکا کے مذاکرات جاری ہیں جس سے امن کی امید ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے بھی ہمارا فرض ہے کہ پیچھے رہ جانے والوں کی مدد کریں۔ زندگی میں اچھے اور برے وقت آتے ہیں۔ وزیراعظم نے باجوڑ کے نوجوانوں کو بلا سود قرضوں کی فراہمی کے پروگرام کے لئے 2 ارب روپے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس سے نوجوان اپنا کاروبار اور روزگار شروع کر سکیں گے۔پورے قبائلی علاقے میں تعلیم اور صحت کے شعبہ میں آٹھ ہزار نئی نوکریاں دی جائیں گی، فاٹا یونیورسٹی کا کیمپس باجوڑ اور مہمند میں کھل رہا ہے، اس کو اپ گریڈ کریں گے۔ علاقے کے نوجوان صحت مند اور دلیر ہیں، انہیں کھیلوں کی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور اس کے لئے حکومت فنڈز دے گی۔ نیا پاکستان بن چکا ہے، میں اپنے قبائلی علاقے کے عوام کو کہنا چاہتا ہوں کہ انہیں تھوڑا صبر کرنا ہوگا۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ ایسے لوگوں سے خبر دار رہیں جو قبائلی علاقے میں انتشار پھیلانے کی کوشش کریں گے، اس ملک کے دشمن یہ نہیں چاہیں گے کہ قبائلی علاقے کا انضمام پختونخوا کے ساتھ ہو، اس لئے وہ رکاوٹیں ڈالیں گے۔ نوجوانوں نے اس سازش کو ناکام بنانا ہے کیونکہ مستقبل میں جب یہ انضمام ہو جائے گا تو سارے قبائلی علاقے کا مستقبل عظیم ہوگا۔