- الإعلانات -

مہذب ترین قوم کی بدترین دہشت گردی

گزشتہ روز کی دہشت گردی نیوزی لینڈ جیسے پُر امن ملک کی شاید سب سے بڑی دہشت گردی تھی، لیکن حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس ملک کی خاتون وزیرِ اعظم اسے ایک کُھلا قتلِ عام ماننے کی بجائے اسے محض۔ شوٹنگ ۔کا نام دینے سے آگے نہیں بڑھ رہی۔شاید اس لیے کہ چند منٹوں میں پچاس بندے ہلاک اور درجنوں زخمی کرنیوالا۔ شوٹردرندہ۔ انکا اپنا سفید فام ایک آسٹریلین نکلا۔ شوٹنگ تو۔ بی بی ۔مرغابیوں کے شکار پر کی جا سکتی ہے، یہ کیسے مہذب لوگ ہیں کہ بیگناہ لوگوں کے خون کی اس ہولی کو شوٹنگ سے تشبیہہ دی جا کر خون کو خون ہی تسلیم نہیں کیا جا رہا۔ ملا جلا افسوس تو سب کر رہے تھے، لیکن چونکہ ہلاک ہونیوالوں کا تعلق سب کا سب مسلمان قوم سے تھا، اسی لیے اس افسوس میں وہ درد، گِر یہ وہ غم نہیں تھا، جو اتنے اندوہناک سانحے پر د یکھنے کو ملنا چاہیے تھا۔ لگتا ہے سب محض ۔اشک شوئی ۔کا سہارا لے رہے تھے۔یورپ، امریکا، آسٹریلیا جو اندر سے سارے کے سارے مسلم کُش جذبات رکھتے ہیں، اسے اسلامو فو بیا کا شاخسانہ کہنے کو تیار نہیں، کوئی اسے ۔قتلِ عام۔ ماننے کو تیار نہیں، ابھی سے طرح طرح کی دلیلیں اور تاویلیں گھڑی جا رہی ہیں اور لگتا ہے، چند دنوں کے اندر اندر اس۔ جنونی درندے ۔کو محض ایک۔ ذہنی مریض ۔ قرار دے دلوا بے گناہ اور نہتے سیکڑوں نمازیوں کے خون کی اس بہتی ند یا پر تعصب کی مٹی ڈال کرہمیشہ کیلئے پاٹ دیا جائے گا اور پھر سے یہ سارے کے سارے ۔ مہذب ڈریکولے ۔ کسی نئے ۔ مسلم کُش ےُدھ۔ کسی نئے ۔خونی معرکے کی تلاش شروع کر دیں گے۔ اطلاعات کے مطابق، برینٹنٹ ٹیرنٹ نامی 28 سالہ آسٹریلوی شہری نے کرائسٹ چرچ جو نیوزی لینڈ کا بڑا شہر ہے کی ایک مسلمانوں کی مسجد میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے دوران پوری تیاری کے ساتھ آ کر تین چار منٹ تک مسجد میں ہر طرف گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ خونی درندہ فوجی وردی میں ملبوس تھا، ہیلمٹ میں لگے کیمرے سے ویڈیو بناتا رہا اور اپنے کنٹرول سے ہدایات لیتا رہا۔ لائیو ٹی وی کور یج میں صاف دیکھا جا سکتا ہے کہ قاتل بڑی آسانی سے مسجد کے کمپاؤنڈ میں اپنے گاڑی پر داخل ہوا، گاڑی کی ڈگی کھولتا ہے اور ایک سے زائد بندوقوں سے من پسند کی ایک رائفل اٹھاتا ہے، بیک گرا ؤ نڈ میں اس گانے کی بھی آواز سنا ئی دے رہی ہے جو انگریز فوجی جنگ کے دنوں میں سنتے ہیں، کئی قدم وہ چلتا، پھر ایک طرف مڑتا ہے اور تسلی سے گولیوں کی بارش برسانا شروع کر دیتا ہے۔ پہلے ملاقاتی سے۔ ویلکم برادر۔ کے الفاظ کے تبادلے کے بعد اسے گولیوں سے جواب دیتا ہے، لیکن حیرانگی کی بات تویہ ہے کہ اس دوران کو ئی ایک سیکورٹی اہلکار، کو ئی ایک بھی سرکاری بندہ اسے وہاں روکنے والا نہیں ملتا۔ ایسے لگتا ہے نیوزی لینڈ والے اس دنیا میں نہیں کسی اور سیارے پر آباد ہیں، جہاں ہر طرف امن اور شانتی ہی شانتی ہے ، نہ انہوں نے کبھی نائن الیون، حالیہ فرانس، برطا نیہ جیسے وا قعا ت سنے، انہیں یہ بھی خبر نہیں پوری دنیا اسوقت انتہائی الرٹ پر ہے، انکو یہ خبر بھی نہیں کہ خصوصاً مسلمانوں کیخلاف اسوقت کیا کیا نہیں ہو رہا ؟ یہاں مسلمانوں کی نہ تو سیکورٹی ہے اور نہ ہی انکی مسجدیں یہاں محفوظ۔ ایک اور اخباری اطلاع کے مطابق حملہ آور کے اسلحہ پر مسلم عیسا ئی جنگوں کی تاریخ لکھی تھی ۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ یہ کو ئی عام واقعہ نہیں بلکہ یہ سب کچھ جان بوجھ کر اور ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں سے صلیبی جنگوں کا بدلہ لیا جا رہا ہے، جسکی آگ ابھی تک ان انگریزوں کے دلوں میں انگارے کی طرح سلگ رہی ہے اور جسکا اظہار۔ بُش جونیئر۔ نے بھی جنگِ افغانستان چھیڑنے سے پہلے اپنے قوم سے خطاب میں کیا تھا۔ یہ اور بات ہے کہ امریکہ یہ جنگ جیتا یا ہارا، اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ بہادر امریکہ اب افغانستان سے بھاگنے کیلئے ایک محفوظ راستے کی تلاش میں ہے اور یہ محفوظ راستہ اسے کوئی اور نہیں صرف مسلم ممالک، پاکستان اور افغانستان ہی دے سکتے ہیں۔تمام مسلم امہ اس اندوہناک واقعے پر انتہا ئی غمزدہ ہے اور ہم سب شہید ہونیوالوں سوگواران کے غم میں برابر کے شریک اور زخمیوں کی جلد سے جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں اور منتظر ہیں کہ اپنے آپ کو سب سے ترقی یافتہ اور مہذب سمجھنے والے یہ لوگ،اپنے اس۔ عالمی دہشت گرد۔ کو کب اور کیسے اسکے منطقی انجام تک پہنچاتے ہیں۔