- الإعلانات -

نکسل علیحدگی پسندوں پر بھارتی فوج کا تشدد

مغربی بنگال میں ایک گاؤں کا نام نکسل باڑی ہے۔ اسی گاؤں میں پہلی بار 1967 میں اس تحریک کا آغاز ہوا۔ 1970 میں ہندوستان کی حکومت نے یہاں آپریشن کر کے اس تحریک کو ختم کر دیا۔ یہ تحریک بظاہر تو ختم ہوگئی مگر اس سے کئی چھوٹے چھوٹے گروہ بن گئے۔ آج یہی چھوٹے چھوٹے گروپ ایک تحریک کی شکل میں نہایت شدت سے سرگرم ہے اور ان گروہوں میں پیپلز وار گروپ اور ماؤلیٹ کمیونسٹ گروپ علیحدگی کی تحریک میں پیش پیش ہیں۔ کچھ عرصہ قبل بھارت کی سابقہ حکومت نے ایک بیان میں باقاعدہ اعتراف کیا تھا کہ نکسلی انتہا پسندوں سے ملک کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔ جبکہ نکسلی خود کو انصاف اور بنیادی حقوق سے محروم قبائلیوں کا علمبردار بتاتے ہیں۔نکسلیوں کے مطابق وہ قبائلیوں کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور انہیں انصاف دلانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ان کوششوں میں ٹرین کی پٹریاں اڑا دینا ، فیکٹری ، کارخانوں کو بم سے اڑا دینا اور قتل و غارت کی کارروائیاں شامل ہیں۔ چھتیس گڑھ، جھار کھنڈ، مغربی بنگال ، گڈ چرولی(مہاراشٹر) اور آندھرا پردیش کے علاقوں میں نکسلی تخریبی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ ان میں گارڈچپرولی سے مہاراشٹر ابوج مرہ سے چھتیس گڑھ کے 92 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ شامل ہے۔ ماؤ باغی اور نکسل باڑی خود ہی اپنے قوانین بناتے ہیں اور خود ہی ان کا نفاذ عمل میں لاتے ہیں۔ انہوں نے ریاست کے اندر ریاستیں بنا رکھی ہیں۔یوں کہہ لیجئے کہ وسطیٰ بھارت کا ایک بڑا حصہ باغیوں کے قبضے میں ہے۔ 2009 میں جاری رپورٹ کے مطابق 20 ریاستوں کے 220 اضلاع پر نکسل علیحدگی پسندوں کا قبضہ ہو چکا ہے ۔ یہ بھارت کا 40 فیصد علاقہ بنتا ہے۔ جبکہ اس کا کل رقبہ 92000 مربع کلو میٹر سے بھی زائد ہے جس میں تقریباً 20000 ہزار مسلح افراد رہتے ہیں جو آج کل مزید 50000 افراد کو مسلح تربیت دے رہے ہیں۔ نکسلیوں کے خلاف بھارتی مسلح افواج بھی نیم فوجی دستوں کو مزید کمک و امدا د پہنچانے میں مصروف ہے۔ اس معاملے میں اب تک 46343 فوجیوں کو تربیت دی جا چکی ہے۔ بری فوج نے نیم فوجی دستوں کو نکسلیوں سے نمٹنے سے متعلق تربیت فراہم کرنے کیلئے میزورم میں ’’کاؤنٹر جینسی اینڈ جنگل وار فیئر اسکول‘‘کے نام سے ایک تربیتی مرکز قائم کیا ہے۔ نکسلیوں کے خلاف فضائیہ کے ایم 17- ہیلی کاپٹر بھی استعمال کئے جا رہے ہیں جو سیکیورٹی عملے کی نقل و حمل اور سازو سامان لانے ، لے جانے کا کام کر رہے ہیں۔ چھتیس گڑھ کے ضلع دانے والا کے مکرانہ جنگل میں گزشتہ ماہ بھارتی فوج نے نکسلوں کے خلاف ’’آپریشن گرین ہنٹ‘‘ کیا جس کے بعد نکسل باغیوں نے الٹا فوج پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں CRPF کی ایک کمپنی کے 80 سے زائد فوجی مارے گئے۔ باغیوں کے ہاتھ دو مارٹر توپیں اورجدید رائفلوں سمیت کم از کم 82 ہتھیار لگے۔ 2004ء میں نکسل باغیوں کے ساتھ تصادم میں پولیس‘ پیراملٹری فورس اور باغیوں سمیت 1639 افراد مارے گئے۔ 2005ء میں جھڑپوں کی تعداد کم رہی لیکن مرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی۔ 2006ء میں کچھ سکون رہا لیکن 2007ء میں تصادم کے دوران مرنے والوں کی تعداد دو ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔ اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کا قتل کوئی عام بات نہیں تھی۔ اس واقعے نے بھارت کو اندر تک ہلا کررکھ دیا۔اس طرح بھارتی حکومت کو اب ادراک ہوا ہے کہ یہ خطرہ کتنا بڑا ہے۔ بھارت اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کی خاطر ان نکسل علاقوں کے ہزاروں باشندوں کو زندہ رہنے کے حق سے ہمیشہ کیلئے محروم کر چکا ہے اور بے شمار بچے یتیم کر دیئے گئے ہیں مگر ہندوستانی سرکار کی نظر ملک گیری پر ہے کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ اب نکسل باڑی حکومتی عہدیداروں اور علاقے کے اہم افراد کو یرغمال بنا کر اپنے مطالبات منوا رہے ہیں جو حکومت کیلئے زیادہ سنگین اور سنجیدہ مسئلہ ہے۔ دسمبر1999 میں نکسل باڑی دہشت گرد بھارتی طیارے کو اغوا کر کے قندھار لے گئے تھے اور اس پر سوار مسافروں کی جان کے بدلے اپنے دہشت گرد ساتھیوں کو رہا کرانے میں کامیاب رہے تھے۔ چھتیس گڑھ کے ضلع دانے والا کے مکرانہ جنگل میں گزشتہ ماہ بھارتی فوج نے نکسلوں کے خلاف ’’آپریشن گرین ہنٹ‘‘ کیا جو میں نکسل باغیوں نے الٹا فوج پر حملہ کر دیا۔ اس حملے میں CRPF کی ایک کمپنی کے 80 سے زائد فوجی مارے گئے۔ باغیوں کے ہاتھ دو مارٹر توپیں اور جدید رائفلوں سمیت کم از کم 82 ہتھیار لگے۔ اتنی بڑی تعداد میں فوجیوں کا قتل کوئی عام بات نہیں تھی۔ اس واقعے نے بھارت کو اندر تک ہلا کررکھ دیا۔ بھارتی حکومت کو اب ادراک ہوا ہے کہ یہ خطرہ کتنا بڑا ہے۔ بنگال کے مشرقی سمت واقع جنوبی ریاستیں اڑیسہ‘ جھاڑکھنڈ‘ چھتیس گڑھ‘ جنوب مشرقی ریاستیں کرنائکہ‘ تامل لینڈ اور کیرالہ کے علاوہ مشرق میں بنگلہ دیش اور برما کے درمیان پھنسی چھوٹی مگر کثیر آبادی پر مشتمل ریاستیں ناگالینڈ‘ منی پور اور میزو رام وغیرہ ایسے علاقے ہیں جن کے گرد بھارت کے برہمن سامراج نے آہنی پردہ حائل کر رکھا ہے۔ یہ تمام صوبے بند قلعے کی مانند ہیں۔ اس حصار میں بسنے والے کروڑوں انسان اپنے آپ کو ’’ہندو‘‘ تسلیم نہیں کرتے اور نہ ہی وہ سب ہماچل پردیش‘ اترپردیش اور مدھیا پردیش کے برہمنوں کے آگے جھکنے کو تیار ہیں۔لہذا علیحدگی پسندوں اور حکومت کے درمیان کشیدگی چل رہی ہے جس کی وجہ سے یہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے آئے دن تصادم ہوتا رہتا ہے۔ 2004ء میں نکسل باغیوں کے ساتھ تصادم میں پولیس‘ پیراملٹری فورس اور باغیوں سمیت 1639 افراد مارے گئے۔ 2005ء میں جھڑپوں کی تعداد کم رہی لیکن مرنے والوں کی تعداد بڑھ گئی۔ 2006ء میں کچھ سکون رہا لیکن 2007ء میں تصادم کے دوران مرنے والوں کی تعداد دو ہزار سے بھی تجاوز کر گئی۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت کی ریاست آندھرا پردیش میں بھی نکسل تحریک تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ریاست کے دشوار گزار راستے اور گھنے جنگل نکسل باغیوں کیلئے جنت ثابت ہو رہے ہیں۔ بھارت کا انجام کیا ہو گا۔ یہ موجودہ سرحدوں میں کب تک برقرار رہے گا۔ اس پر کچھ کہنا قبل از وقت ہو گا۔ البتہ بھارت میں برہمنوں نے نچلی ذات کے ہندوؤں کے علاوہ اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا ہوا ہے اسے دیکھ کر یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ برہمن سامراج اکھنڈ بھارت کے لئے لاکھ جتن کر لے ٹکڑے ہونا اس کا مقدر اور ایک حقیقت ہے۔ اس میں وقت کتنا لگے گا یہ نکسل و ماؤ باغیوں‘ تاملوں‘ آسام لبریشن آرمی کے جوانوں کی ہمت اور بھارت کے پسماندہ صوبوں کی غلام عوام کے صبر پر منحصر ہے۔ جنہوں نے آزاد ریاستوں کے حساب سے اپنی کرنسی چھاپ رکھی ہے۔ نقشے اور جھنڈے تیار کر رکھے ہیں۔اپنے آپ کو لبرل اور سیکولر کہنے والے ہندو دراصل بہت تنگ نظر ہیں۔ انتہا پسند ہندوؤں کی طرف سے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کے واقعات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس سے بھارت میں عدم برداشت اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔