- الإعلانات -

نیوزی لینڈ سانحہ میں پاکستانیوں کی شہادتیں اور مغربی تعصب

adaria

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں جمعہ کے روز دو مساجد پر کیے گئے دہشت گردانہ حملوں کے پچاس شہدا میں چھ پاکستانی بھی شامل ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق چار کا اردن سے، چار کا مصر سے اور ایک کا تعلق سعودی عرب سے تھا۔ ان کے علاوہ مختلف ایشیائی ممالک کے مسلمان تارکین وطن بھی شامل ہیں۔جاں بحق ہونے والے نو افراد کے علاوہ کچھ پاکستانی شہری ابھی لاپتہ ہیں ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملے کے بعد لاپتہ ہونے والے پاکستانیوں کی تلاش جاری ہے اور پوری قوم اس پر فکر مند ہے۔انہوں نے کہا کہ گردواروں اور مندروں کی حفاظت کی طرح مساجد کی حفاظت کی بھی ضروری ہے۔ نماز جمعہ کے وقت یہ واقعہ ہونا قابل مذمت اور افسوسناک ہے، اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ دہشت گردی عالمی مسئلہ ہے۔

دوسری طرف سانحہ کرائسٹ چرچ سے امت مسلمہ سمیت پوری دنیا اشک بار اورصدمے میں ہے اور مذمت کا سلسلہ جاری ہے ۔بلاشبہ اس واقعہ نے مہذب ہونے کی دعویدار دنیا کا اصل روپ ظاہر کردیا ہے کہ وہ مذہبی منافرت کا کس طرح شکار ہے۔اب تک مغربی دنیا دہشت گردی کو زیادہ تر عسکریت پسند مسلمانوں کا کام ہی سمجھتی تھی۔ کرائسٹ چرچ میں مسلمانوں پر دہشت گردانہ حملوں نے ثابت کر دیا کہ اسلام دشمنی کی بنیاد پر نفرت بھی بالکل اتنی ہی ہلاکت خیز ہے۔اگر مغربی و یورپی دنیا میں اسلام کی اہمیت نہیں تو اس دہشت گردی یا قتل عام کا نشانہ بننے والے دو مساجد میں عبادت میں مصروف انسان ضرور تھے۔عبادت گاہوں میں انسان خود کو محفوظ تصور کرتے ہیں۔ وہ کچھ بھی برا کیے یا سوچے بغیر اپنے تصورات میں گم ہوتے ہیں۔ان حملوں کے مرتکب دہشت گرد نے اپنی کارروائیوں کی بڑی تفصیل سے منصوبہ بندی کی تھی اور ہر پہلو پر قبل از وقت غور کیا تھا۔ اس بارے میں بھی کہ وہ اپنی ان کارروائیوں کی انٹرنیٹ پر تشہیر کیسے کرے گا۔مہذب دنیا سے ایک عام مسلمان کا یہی سوال ہے کہ ایسی منظم منصوبہ بندی اور ’’ورلڈوائیڈ‘‘ تشہیر کسی مسلمان فرد نے کی ہوتی تو تمہارے ایوانوں کیا زلزلہ بپا ہو چکا ہوتا اور کیا کیا اذن جاری ہوچکے ہوتے مگر اب اپنی پالیسیوں پر نا ندامت نا کھل کر مذمت ہو رہی ہے ۔اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملوں کو دہشتگرد نہ کہنا کتنا خطرناک سوچ کی عکاسی ہے۔ ٹرمپ نے اپنے بیان میں سفید فام قوم پرستی کو دنیا کیلئے خطرہ قرار نہیں دیا ، مسلمانوں سے اظہار یکجہتی بھی نہیں کیا ۔ نہ یہ کہا کہ امریکہ مسلمان برادری کیساتھ کھڑا ہے ۔ میڈیا نے جب میڈیا ان سے واقعہ بارے پوچھا تو ہو معاملہ گول کرتے دکھائی دیئے ، کرائسٹ چرچ میں ہونے والے واقعے سے دنیا کو نسل پرستی سے لاحق خطرات کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ اس سے کوئی خطرہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر سفید فام روش اختیار کرتے ہوئے حملہ آور کے حوالے سے نرم موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ میرے خیال میں یہ چند افراد کا گروہ ہے جو کچھ مسائل کا شکار ہیں۔ قبل ازیں ایسے کسی واقعہ میں جس میں بلواسطہ بھی کہیں سے مسلم لنک نکل آتا رہا ہے تو فوری طور پر امریکہ انتہا پسند اسلامی دہشت گردی قرار دیتا رہا ہے ،سین برنینڈینو حملے کے فوری ٹرمپ نے کیا کیا تھا، مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر پابندی کا اعلان کیا تھا ، دہشت گردی کو دہشت گردی کہے بغیر مذمت منافقت ہے،حملے کو دہشت گردی نہ قرار دینا جاں بحق مسلمانو ں کی توہین ہے یہ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی قدرتی آفت کے نتیجے میں جان کھو بیٹھا ہو۔ اسی طرح تعصب پسند آسٹریلوی سینیٹر فریزر ایننگ نے ایک ایسے موقع پر جب آگ لگی ہوئی ہے وہ اپنا خبث باطن نہ چھپا سکاجس پر اسے ایک نوجوان کے ہاتھوں انڈا بھی کھانا پڑا۔آسٹریلیاکے شہر میلبورن میں ایک تقریب کے دوران سینیٹر فریزر ایننگ نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت کا اظہار کیا اور نیوزی لینڈ میں ہونیوالے دہشت گرد حملے کا ذمہ دار نیوزی لینڈ کے مسلم مہاجرین کو ٹھہرایا۔ان کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں مسلم کمیونٹی کا بڑھنا خوف اور دہشت بڑھا رہا ہے جس کی وجہ سے حملے ہورہے ہیں لہذا نیوزی لینڈ کو اپنی ویزا پالیسی تبدیل کرنی چاہئے۔یہ ہے مہذب دنیا کا اصل چہرہ جو چھپائے نہیں چھپتا۔نیوزی لینڈ کی مساجد میں ہونے والے حملوں کے بعد امریکی سمیت کئی مغربی ممالک کے مسلمان بھی مساجد کی سیکورٹی ضروریات کے حوالے سے تشویش کا شکار ہو گئے ہیں اور وہ مساجد کی سیکورٹی میں اضافے کے خواہش مند ہیں۔ کوئی انسان لادین ہے، مسیحی، یہودی یا پھر مسلمان، سب انسان ہیں۔ دہشت گردی مختلف مذاہب، ثقافتی شناختوں اور قومیتوں میں کوئی تفریق نہیں کرتی۔ اس میں یہ پہلو بھی کوئی کردار ادا نہیں کرتا کہ کون کہاں پیدا ہوا یا کوئی کتنے عرصے سے کسی ملک یا شہر میں رہ رہا ہے۔دہشت گرد دہشت گرد ہے ۔اس کے فعل کو اس کے مذہب سے جوڑنے کی روش ترک کرنے سے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ کرائسٹ چرچ میں ان حملوں کی بھی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے ایک عالمی متفقہ سوچ بنا کر پیش کرنا ہو گا ۔ہمارا کتا کتا اور تمہارا کتا ٹونی اس تفریق کو مٹائے بغیر دہشت گردی کے ناسور کا قلع قمع نہیں ہو سگے گا ۔ایسے ہر عمل کی مذمت میں کوئی دوہرے معیارات ہو نہیں سکتے۔جھوٹے من گھڑت پروپیگنڈے کے ذریعے اسلاموفوبیا یا اسلام سے خوف پیدا کرنے کا یہ ایک خطرناک رجحان ہے، جس پر مغربی دنیا کو نظر ثانی کے ساتھ ساتھ بہت گہری نظر رکھنا ہو گی۔مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پرچار معمول بنتا جارہا ہے جبکہ دنیا کو مسلمانوں کو تعصب کی نظر سے دیکھنے کے بجائے انسان کی حیثیت سے دیکھنا ہوگا۔

ایک اور بھارتی تعصب
مودی کی انتہا پسند حکومت پاکستان دشمنی میں اتنی تعصب کا شکار ہو گئی ہے کہ کھیلوں کے بعد اب ثقافت بھی اس کے نشانے پر آ گئی ہے، بھارت نے دارالحکومت نئی دہلی میں18-20 مارچ تک عالمی اردو کانفرنس میں پاکستانی ادیبوں کو شرکت سے روک دیا ہے۔ عالمی اردو کانفرنس کے لیے دنیا بھر کے کئی ممالک سمیت پاکستان سے بھی ادیبوں کو دعوت دی گئی تھی تاہم صرف دو روز قبل بھارت نے پاکستانیوں کو آنے سے روک دیا۔ کانفرنس 9 پاکستانی ادیبوں کو دعوت دی گئی تھی۔بھارتی تعصب اگرچہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے تاہم مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں پر حملے کے بعد بھارت نے حسب معمول پاکستان پر الزام تراشیوں اور جنگی جنون کو ہوا دینے کا سلسلہ شروع کردیا تھا، بھارتی سیاستدان، اداکار اور میڈیا پاکستان کی مخالفت میں ہر حد سے گزر چکے ہیں۔ اس سے قبل بھارت نے انٹرنیشل شوٹنگ ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والے پاکستانی شوٹرز کو آخری وقت میں ویزا دینے سے انکار کردیا تھا۔