- الإعلانات -

ویل ڈن۔پاکستان سپرلیگ

قوموں کے درمیان مختلف نظریاتی و جغرافیائی وحدتوں کے ربط وضبط اور میل جول فی زمانہ کتنی اہمیت رکھتا ہے اس بارے میں گفتگو کرنے والوں کا ماننا ہے کہ سائنسی ترقی وکمال کے اس عہد میں قوموں کو ایک دوسرے سے قریب لانے میں ماضی کی پیچیدگیوں کی مشکلات کی جگہ ‘ ثقافتی ڈپلومیسی’ کی کامیاب حکمت عملی کی باگ ڈور ‘سفارتی فن’کی صورت میں یہ کام اپنے ہاتھ میں جب سے لیا قومیں قربتوں کے ارتقا کے مرحلے طے کرتی ہوئی خود بخود ایک دوسرے سے قریب آنے لگیں یہ سفارتی ڈپلومیسی میں سب سے بڑھ کر عالمی کھیلوں کے مقابلوں نے جس تیز رفتاری سے دنیا کے مختلف خطوں کے عوام کو قریب کیا یہ عمل بہت قابل تعریف رہا ہے بس باقی معاملہ نیتوں کا رہ جاتا ہے قوموں کے درمیان ایک ‘کھیل’ ہی وہ واحد ذریعہ ہے جسے اپنا کر ہم امن وآشتی اور سکون واطمنان کی فوری مسرتیں اپنے اپنے سماج میں پھیلاسکتے ہیں اگر ہماری نیتوں میں بداعتمادی کے فتورکی افزائش نہیں ہورہی اور ہم امن کے خوگر ہیں توکوئی وجہ نہیں کہ ہم میں باہمی اعتماد کی فضا ہموار نہ ہوماضی کی بلاوجہ کی چپقلشیں ہم اپنے سنیوں سے چمٹائے رکھیں گے تو کبھی امن کیلئے ایک قدم آگے نہیں بڑھاسکتے دیکھ لیا نا زمانے نے’ 16 فروری کو بھارت نے پاکستان کی پیٹھ میں خنجر گھونپا اور ایک جھوٹے بے سروپا من گھڑت پلوامہ حملہ کا الزام کی آڑ میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرڈالی یوں سمجھیں اپنے طور پر بھارت نے باقاعدہ جنگ کی پہل کرڈالی تھی پاکستان کا رویہ کیا رہا جنگ کا پانسہ امن کا رویہ اپنا کر پاکستان نے پلٹ دیا 16 فروری سے دوروز قبل 14 فروری کو دبئی میں پی ایس ایل ‘پاکستان سپرلیگ’ کے میچز شروع ہوچکے تھے جس میں مغربی ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے نامور اور ممتاز کھلاڑی شامل تھے بھارتی متشدد تنظیم آرایس ایس اور مودی نے پاکستان کے خلاف بدنامی کی مہم چلارکھی تھی دنیا کے میڈیا نے پاکستان کو بدنام کرنے کی ‘مودی مہم’ کوکوئی اہمیت نہ دی اس دوران پاکستان نے گرفتارشدہ بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرکے دنیا کو انگشت بدنداں کردیا پاکستان بھارت تناو کی اسی کیفیت میں اچانک پاکستان کی سیاسی وسیکورٹی قیادت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان سپرلیگ کے فیصلہ کن میچز پاکستان میں ہونگے اعلان کے مطابق یہ میچز7 ’10 ’13’15 اور17 مارچ کو نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں پوری آب وتاب کے ساتھ عوامی جوش وخروش کی بھرپور خوشیوں اور سرمستیوں میں منعقد ہوئے دنیا کی نظریں کرکٹ کے عالمی شائقین کی نظریں کراچی اسٹیڈیم کے دل موہ لینے والے نظاروں پر لگ گئیں غیر ملکی ممتاز کھلاڑی بھی پاکستانی شائقین کرکٹ کے دیوانے نکلے بعض مصدقہ اطلاعات کے مطابق پہلے بھارت نے اپنے یہاں پی ایس ایل کے مقابلوں کو میڈیا پر نہ دیکھانے کی پالیسی اختیار کی جسے بھارت کے تعلیم یافتہ روشن خیال طبقات نے قبول نہیں کیا بھارت بھر میں بھی پی ایس ایل کے مقابلے دیکھے گئے اب ہوا اندازہ ہوا کہ بھارتی جنگی جنونیت کے شعلوں کو پاکستان نے کیسے ٹھنڈا ٹھار کردیا متعصب بھارتی پالیسی ساز نفرتوں کی اپنی ہی اناوں سمیت مبہوت کے مبہوت ہوکر رہ گئے آئی سی سی کے اعلی عہدیدار اپنے چیف ایگزیکٹو کے ساتھ پی ایس ایل کا فائنل دیکھنے کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں موجود تھے نئی دہلی کو جلد یا بادیر تسلیم کرنا ہو گا کہ ‘کھیل قوموں کے درمیان دوستی کی علامت ہوتے ہیں کھیل عالمی یکجہتی کے نشا الثانیہ ہوتے ہیں چوتھی پاکستان سپر لیگ اس اعتبار سے تاریخی اہمیت کی حامل حکمت عملی اختیار کرچکی ہے لہٰذا سمجھنا ہوگا پاکستان کو ‘تنہا’ کرنے کی بڑھکیں مارنے والے مودی کو اس کی اپنی انسانیت دشمن منافرتوں پر ڈھالی گئی پالیسیوں نے دنیا میں تنہا کردیا بلکہ مودی کی پالیسیوں کے خلاف بھارت میں بھی کئی طبقات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں بھارت نے امن کے مقابلے میں جنگ کو اہمیت دے کر تاریخ کی سب سے بڑی فاش غلطی کا ارتکاب کرڈالا اور اپنے ہی کھودے گئے کنواں میں وہ جاگرے جہاں یہ ایک خاص بات وہاں پاکستانی قوم اور پاکستان کے کروڑوں کرکٹ کے شائقین ‘آئی سی سی’ کے سامنے بھی اپنا مدعا رکھنا چاہیں گے کہ’ وہ عالمی کرکٹ کے مقابلوں کے ذریعے قوموں کے درمیان دوستی اور اعتماد کی فضا کو مضبوط بنانے کیلئے اپنا اہم کردار ادا کریں کھیلوں کے سلسلے میں بھارت سے بلیک میل نہ ہوں آئی سی سی کے قوانین کے احترام کرنے والے تمام ممالک سے یکساں سلوک روا رکھا جائے تاکہ دنیا کے خطوں کی اقوام کے درمیان دوستی’امن اوراعتماد سازی کی فضا میں اضافہ کیا جاسکے کیونکہ یہ طے سمجھیں کہ آج کل کھیلوں کے ذریعے ہی معاشروں میں امن، دوستی اور باہمی تعلقات کو فروغ دیا جانا کتنا ضروری ہوچکا ہے اس کا اندازہ بخوبی لگایا بھی جا سکتا ہے مختلف ممالک کے عوام میں پسندیدہ کھیلوں کے انعقاد کرواکر قوموں کو مزید قریب لایا جائے سکتا ہے عالمی کھیلوں کی تنظیمیں اس بات کا دھیان رکھیں کہ محض سیاسی الزامات اور غیرمتعلقہ مسائل سے کھیلوں کے شعبے متاثر نہ ہونے پائیں عوام کو اپنے پسندیدہ میچز دیکھنے سے محروم نہ کیا جائے مغرب کے بعض ممالک میں جیسے ریسلنگ ہوتی ہے ٹینس کھیلی جاتی ہے کارریسنلگ ہوتی ہے چین اور روس میں کھیلوں کے عالمی پیمانے کے مقابلے ہوتے ہیں مشرقی وسطی اورایران میں فٹ بال بڑا پسندیدہ اور مقبول کھیل صدیوں سے کھیلا جارہا ہے دنیا کی ہر قوم کی طرح جنوبی ایشیائی ریاستوں کے عوام کو بھی برابر یہ حق حاصل ہے وہ بھی بلا خوف وخطردنیا بھر کے اسٹیڈیمز میں جا کر نہ صرف کھیلوں کے عالمی مقابلوں کا خود حصہ بنیں بلکہ وہاں جاکر وہ اپنی قومی ٹیموں کی بہترین پرفارمینس کو دل کھول کر داد بھی دیں اور مدمقابل کے اچھے کھیل کوپسند کریں 7 مارچ تا 17 مارچ تک کراچی کے عوام نے پاکستان کی پرامن پالیسیوں کا پرامن پیغام دنیا کو پہنچایا اور اپنا محب وطن کردار پیش کیا کراچی کے نیشنل اسٹیڈیم میں ہونے والے پی ایس ایل کے سنسنی خیز شاندار میچز کے دروان یہ روح پرور مناظر دیکھ کر پاکستانیوں کے دل میں پھول کھل اٹھے ہونگے ہر اہم میچ کے دوران ہمیں اسٹیڈیم کے انکلوثرز میں پاکستانی پرچموں کی بہار نظرآئی پاکستان زندہ باد کے نعروں سے نینشل اسٹیڈیم گونجتا رہا سندھ کی انتظامیہ نے اس تاریخی ایونٹ کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنے دیا جس کا براہ براست کریڈٹ کراچی کے شائقین کرکٹ کو دیا جائے تو یہ ان کا حق ہے یوں پاکستان نے عالمی دنیا کو ایک پرامن ملک ہونے کا پیغام پہنچادیا ہے "ویل ڈن۔پاکستان سپرلیگ”

*****