- الإعلانات -

مودی کی خود کو طفل تسلیاں

بھارتی وزیر اعظم نے اپنے دو مگ پاک فضائیہ کے ہاتھوں تباہ کروا کر ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست نے بھارت کا بہت نقصان کیا۔ آج رافیل طیارے ہوتے تو نتیجہ مختلف ہوتا۔یوں اپنی ناکامی کا ملبہ رافیل طیارے نہ ہونے پر ڈال کر ایک طرف تو اپنی فضائیہ کی نا اہلی چھپانے کی کوشش کی تو دوسری طرف بھارت عوام اور اپوزیشن کو رافیل طیاروں کی اہمیت بتائی۔ مودی کا یہ کہنا کہ رافیل طیاروں کی موجودگی میں نتیجہ مختلف ہوتا، صرف طفل تسلی ہے۔ کیونکہ رافیل کی بجائے کوئی سے بھی طیارے ہوتے تو نتیجہ یہی ہونا تھا جو ہوا ہے۔ کیونکہ پاک فوج کے ہتھیار وں سے زیادہ جذبے لڑتے ہیں۔ انہی جوانوں کے متعلق علامہ اقبالؒ نے کہا تھا

شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
ہم تو صرف اپنی عوام کی حفاظت اپنے وطن کی حفاظت اور اپنے دین کی حفاظت کیلئے لڑتے ہیں۔ ہمیں نہ تو داد و تحسین کی ضرورت ہے اور نہ ہی نمودو نمائش کی۔ البتہ بھارتی فوج جو ہر سال لاکھوں ڈالر اسلحہ کی خریداری پر خرچ کرتی ہے بڑے غرور میں رہتی ہے۔ اس چند روزہ جنگ میں کیا ہوا۔ اگر آپ کے پاس رافیل طیارے نہیں تھے تو مگ اور دوسرے طیارے تو تھے نہ ۔ اسلحہ کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ اگر کمی تھی تو صرف جذبے کی ، صلاحیت کی، اور تربیت کی۔ مودی نے اپوزیشن اور عوام کا منہ بند کرنے کیلئے ان کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی اور کہا کہ سیاسی مخالفین بھارت کو کمزور کرنا بند کر دیں۔جب ہماری فوج کا مذاق اڑتاہے تو مجھے دکھ ہوتاہے۔ تو عرض ہے کہ صرف انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کیلئے بغیر تیاری آپ اپنی فوج کو جنگ میں جھونک دیتے ہیں اس وقت آپ کو اپنی فوج کی فکر نہیں ہوتی ۔ یا اس وقت آپ کو اپنی فوج کا دکھ نہیں ہوتا جب وہ آپ کی سیاست کی خاطر ڈرامے کر رہی ہوتی ہے۔ مودی کا کہنا ہے کہ میرے اپنے ہی عوام ملک کا مذاق اڑا رہے ہیں۔ فوج پر تنقید کی جا رہی ہے۔ یہ صرف اس لئے ہو رہا ہے کہ اپوزیشن مجھے نیچا دکھانا چاہتی ہے۔ ہمارے ہی کچھ لوگ ہماری فوج اور سیاست کے خلاف پاکستان میڈیا پر آرٹیکل لکھ رہے ہیں، بیانات دے رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنے دیش کے ساتھ دشمنی کر رہے ہیں۔ جبکہ ہماری عوام فوج کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔ مودی کا کہنا تھا کہ ہمیں فضائی حملے میں شکست اس لئے ہوئی کہ ہمارے پاس رافیل نہ تھے۔ آج سارا ہندوستان کہہ رہا ہے کہ رافیل بہت ضروری ہیں۔ رافیل پر پہلے دلچسپی نہ ہونے کی وجہ سے ملک کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔تو مودی صاحب !جہاں تک رافیل طیاروں کا تعلق ہے تو اس کے بھارتی فضائیہ میں شامل نہ ہونے کی وجہ بھی تو آپ ہی ہیں ۔ بھارت نے فرانس سے 35 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا ۔ یہ معاہدہ 7 اعشاریہ 8 ارب یورو میں طے پایا مگر اپوزیشن جماعت کانگریس کا کہنا ہے کہ مودی سرکار نے رافیل ڈیل میں کمیشن کھایا ہے۔ اس ضمن میں ثبوت کے طورپر فرانس کے سابق صدر کا بیان کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ فرانس کے سابق صدر فرانسوآ اولاند نے انکشاف کیا کہ بھارت نے 11 کھرب روپے مالیت کے 36 رافیل لڑاکا طیارے کی خریداری کیلئے مودی سرکار نے کمیشن طلب کیا تھا۔بھارتی حکومت پر یہ الزام بھی ہے کہ اس نے صرف 36 طیاروں کا سودا کیا ہے وہ بھی تین گنا زیادہ قیمت پر۔ حالانکہ ضرورت تو 126 طیاروں کی تھی۔ اگر36 طیاروں کی خریداری پر کمیشن کا یہ حال ہے تو 126 طیاروں کی خریداری پر کیا ہوگا۔ رافیل طیاروں کے گھپلہ میں بدعنوانی کا الزام براہ راست وزیر اعظم نریندر مودی پر ہے لہذا انہیں چاہیے کہ اپنے بچاؤ میں کابینہ کے اراکین کو آگے کرنے کے بجائے انہیں خود اس کا جواب دیں۔ کرپشن کے براہ راست الزامات وزیر اعظم مودی پر لگے ہیں جبکہ فرانسیسی صدر نے بھی مودی کو ’’چور‘‘ قرار دیا ہے ۔ ہندوستانی عوام سوال اٹھا رہی ہے کہ وزیر خزانہ کس طرح مودی کی کرپشن الزامات پر صفائیاں پیش کرسکتے ہیں؟ نریندر ا مودی اپنے اوپر لگنے والے الزامات پر خاموش کیوں ہیں۔رافیل طیاروں کے سودے میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں پر بھارتی اخبار دی ہندو نے بہت سی رپورٹس شائع کی تھیں۔ کچھ ثبوت بھی دیئے گئے جس کی وجہ سے یہ معاہدہ میڈیا اور عوامی حلقوں میں بھی زیر بحث آنے لگا۔ حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی اس بات کا نوٹس لیا ہے کہ اتنے اہم سودے میں کمیشن کا کیا چکر ہے۔ لگتا ہے کہ یہ معاہدہ مودی حکومت کے گلے پڑتا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کے طلب کرنے پرمودی حکومت نے باضابطہ طور پر سپریم کورٹ میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ رافیل طیاروں کے معاہدے سے متعلق خفیہ دستاویزات چوری ہوچکی ہیں اور حساس دستاویزات کا معا ملہ عدالت میں اٹھا کر درخواست گزار آفیشل سیکریٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔عدالت کے مزید استفسار پر بتایا گیا کہ یہ انتہائی خفیہ دستاویزات تھیں جنہیں عام نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وزارت دفاع کے ملازمین اس چوری میں ملوث ہیں۔ عدالت نے پوچھا کہ حکومت کی جانب سے اس کی حفاظت کے لئے اقدامات نہیں کئے گئے تھے۔ اگر یہ چوری ہوگئی ہیں تو اب حکومت کیا کر رہی ہے۔ جس پر اٹارنی جنرل کا صرف یہ کہنا تھا کہ چوری سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ بھارتی وزارت دفاع کی سیکورٹی بھی بالکل ناقص ہی ہے۔ ابھی چند روز قبل بھارت میں سرکاری دفاتر کی عمارت سی جی او (CGO )کے چھٹی منزل پر واقع انڈین ایئر فورس کے دفتر میں ا چا نک آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں انڈسٹریل سکیورٹی فورس کا سب انسپکٹر ہلاک ہوگیا۔ سی جی او کمپلیکس میں لگنے والی آگ نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری منزل کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔رواں برس اس عمارت میں آگ لگنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے، پہلا واقعہ جنوری میں ہوا تھا۔کیا ایسا تو نہیں کہ یہاں بھی رافیل جیسا کوئی ریکارڈ موجود ہو جو عوام کی نظروں سے چھپانا ضروری ہو تاکہ حکمرانوں کی کرپشن ظاہر نہ ہو سکے۔ اسی لئے دفتر کو ہی آگ لگا دی گئی کہ نہ رہے گا بانس اور نہ بجے کی بانسری۔