- الإعلانات -

پی ایس ایل فورکاکامیاب انعقاد۔۔۔پاکستا ن اورامن کی جیت

adaria

\پی ایس ایل فور کاپاکستان میں انعقاد بین الاقوامی دنیا کے لئے ایک واضح اورمثبت پیغام ہے کہ پاکستان میں امن وامان قائم ودائم ہے ۔ دہشت گردقوتوں کوبری طرح شکست ہوئی ہے اور اب پاکستان میں دہشت گردی اور دہشت گردوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ شہرقائد میں جس جوش وخروش سے کرکٹ شائقین سٹیڈیم میں آئے وہ دیدنی تھا اور اب انشاء اللہ انٹرنیشنل کرکٹ بھی پاکستان میں واپس آئے گی۔چونکہ ہمارے وطن عزیز کے وزیراعظم عمران خان بنیادی طورپرسپورٹس مین ہیں، کرکٹ ٹیم کے کپتان بھی رہے ،انیس سوبانوے کے ورلڈکپ کی جیت کاسہرابھی انہی کے سرہے ، اسی وجہ سے انہوں نے کہاکہ آئندہ مکمل پی ایس ایل پاکستان میں ہوگی ۔پاکستان سپرلیگ سیزن فور کے فائنل میچ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پشاور زلمی کو 8وکٹوں سے باآسانی شکست دے کر پی ایس ایل کا ٹائٹل پہلی مرتبہ اپنے نام کرلیا۔بالآخر فتح امن اور پاکستان کی ہوئی، پاکستان میں پی ایس ایل کے فائنل سمیت 8 میچوں کے انعقاد میں کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا،پاکستان سپر لیگ فورکا فائنل دیکھنے کیلئے عوام کا سمندرامڈ آیااورکراچی کا نیشنل اسٹیڈیم ہزاروں تماشائیوں سے کھچاکھچ بھرگیاوہاں تل دھرنے کو جگہ نہیں تھی خوبصورت اور رنگارنگ اختتامی تقریب میں اسٹیڈیم نعرہ تکبیر اور پاکستان زندہ باز کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا ۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پی سی بی بالکونی میں آئے اور شائقین کو ہاتھ ہلا کر نعروں کا جواب دیا اور شکریہ ادا کیا،میچ شروع ہونے سے قبل قومی ترانہ پڑھا گیا اور ہزاروں تماشائیوں نے آرمی چیف کے ساتھ قومی ترانے میں شرکت کی۔ تقریب سے قبل سانحہ نیوزی لینڈ میں شہید افراد سے اظہار یکجہتی کیلئے گراؤنڈ میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ تقریب میں گلوکار ابرارالحق، آئمہ بیگ اور فواد خان سمیت جنون بینڈ نے پرفارمنس کا شاندار مظاہرہ کر کے شائقین کے دل موہ لئے جس پر شائقین جھوم اٹھے فائنل کے اختتام پر آتش بازی کا شاندار مظاہرہ کیا گیا ۔اسٹیڈیم کے اندر اور باہر سکیورٹی کے 20ہزارسے زائد اہلکارتعینات کے گئے، اسٹیڈیم کی فضائی نگرانی بھی کی جاتی رہی۔ اختتامی تقریب میں صدر مملکت عارف علوی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفوروزیر مملکت داخلہ شہریار آفریدی، گورنر سندھ عمران اسماعیل وزیراعلی سندھ سیدمرادعلی شاہ ڈی جی رینجرزآئی سی سی کے سی ای او ڈیوڈ رچرڈسن بلاول بھٹو زرداری ،خورشید شاہ شاہد خان آفریدی شیخ رشیدارکان صوبائی اسمبلی سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد پر قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔ انہوں نے پی سی بی ، تمام ٹیموں، آرگنائزرز، انتظامیہ ، پاکستان رینجرز سندھ، سندھ پولیس اور کراچی کے عوام کو بھی مبارکباد پیش کی ہے۔آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پی ایس ایل کا انعقاد اللہ کی رحمتوں کی بدولت ممکن ہوا ہے، اللہ پاکستان کو ہمیشہ اپنی رحمت کے سائے میں رکھے۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہیں بن سکتا، آ ئندہ سال پاکستان سپر لیگ کے میچز میران شاہ، خیبر پختونخواہ اور مظفر آباد کے اسٹڈیمز میں ہوں گے۔

امریکی رپورٹ نے بھارتی مکروہ چہرہ بے نقاب کردیا
بھارت کو بین الاقوامی اورسفارتی سطح پرایک اور زبردست شکست وہزیمت کا سامنا کرناپڑا ،اب تو امریکہ نے بھی یہ تسلیم کرلیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی دہشت گرد فوج نے ظلم وبربریت کی انتہا مچارکھی ہے ،نہتے کشمیریوں کی شہادت ،پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال ، گلیوں کو خون سے رنگین کرنا،پکڑ دھکڑ،بے گناہ کشمیریوں کو پابند سلاسل کرنا، عزت وناموس کوپامال کرنا،چادراورچادیواری کااحترام نہ کرنا بنیادی انسانی حقوق کا قتل عام کرنا ،یہ وہ چیزیں ہیں جن کی مقبوضہ کشمیرمیں خلاف ورزی ہورہی ہے اسی سلسلے میں امریکہ نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف عالمی سطح پر تحقیقات کرانے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فوج نے 2016 سے 2018 تک 145 بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا، جولائی 2016 سے اگست 2017 میں 17 کشمیری پیلٹس گن سے شہید ہوئے،رت کا کالا قانون صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی چلتا ہے، بھارتی فوج کی جانب سے بغیر کسی کیس کے کشمیریوں کو 2 سال کیلئے جیل بھیج دیا جاتا ہے، بھارتی فوج اور پولیس قیدیوں کے اہلخانہ سے رشوت بھی لیتے ہیں۔ رپورٹ میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کی بنی ہوئی 2018 کی رپورٹ کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق سال 2018 میں قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے پیلٹس گن کے استعمال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ مقبوضہ وادی میں پیلٹ گنز سے 6 ہزار 2 سو 21 افراد زخمی ہوئے۔بھارت کے کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کا بھی رپورٹ میں ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت کا کالا قانون صرف مقبوضہ کشمیر میں ہی چلتا ہے۔جاری کردہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے بغیر کسی کیس کے کشمیریوں کو 2 سال کیلئے جیل بھیج دیا جاتا ہے اور اہلِ خانہ کو ملنے تک نہیں دیا جاتا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2016 سے اگست 2017 تک ایک ہزار سے زائد افراد کالے قانون کے تحت جیلوں میں قید ہیں، جن میں آدھے سے زیادہ کشمیر کے سیاستدان ہیں۔ مقبوضہ وادی میں بھارت کی جانب سے قانون کو برقرار رکھنے کے نام پر کسی بھی بے گناہ شہری کو گرفتار کر لیا جاتا ہے۔رپورٹ کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں جاری مزاحمتی تحریک کو مقامی حمایت حاصل ہے، جولائی 2016 سے فروری 2017 کے درمیان 51 افراد شہید اور 9 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جب کہ سال 2018 میں لاپتہ افراد کی تلاش کیلئے 6 سو سے زائد درخواستیں جمع کرائیں گئی تھیں۔امریکی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات دینے میں ناکام رہی ہے جبکہ بھارتی فوج اور پولیس قیدیوں کے اہلخانہ سے رشوت بھی لیتے ہیں۔امریکہ نے اپنی رپورٹ میں ٹاڈا یعنی کالے قانون کو بھی ہدف تنقید بناتے ہوئے واضح کیاکہ جیلوں میں بے گناہ کشمیری قید ہیں۔اس رپورٹ کے بعد بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آچکا ہے مگراس کے باوجود بھی وہ ہٹ دھرمی پرباقاعدہ قائم ہے ۔دنیا بھرکوچاہیے کہ وہ بھارت کو مقبوضہ کشمیرمیں کئے جانے والے ظلم وستم سے باز رکھے او روہاں پرموجودساڑھے سات لاکھ سے زائددہشت گرد بھارتی فوج کے انخلاء کے لئے آواز اٹھائی جائے جس نے ظلم کی انتہاکررکھی ہے مگر اسے کوئی پوچھنے والانہیں۔اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت مسئلہ کشمیر حل کیاجائے اس میں تینوں فریقین کاہوناانتہائی ضروری ہے۔خطے میں قیام امن اسی وقت قائم ہوسکتاہے جب یہ مسئلہ حل ہوگا بصورت دیگر کسی وقت بھی ناگہانی جنگ سائے منڈلاتے رہیں گے۔امریکہ نے جو رپورٹ پیش کی ہے اس پرعمل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔