- الإعلانات -

اراکین پنجاب اسمبلی کی مراعات

بیت المقدس کی فتح کے موقع پرسلطان صلاح الدین ایوبی نے خزانہ دار سے کہا کہ وہ اس فتح میں شریک فوج کے تمام عہدے داروں اور سپاہیوں میں فی کس اتنا انعام تقسیم کریں ۔خزانہ دار نے حساب لگانے کے بعد کہا کہ حضور اس حساب سے تو سارا خزانہ خالی ہو جائے گا ۔سلطان صلاح الدین ایوبی کہنے لگا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خزانہ خالی ہو جاتا ہے یا اس میں کچھ باقی بچتا ہے ۔ایسے مواقع پر حساب کتاب نہیں کیا کرتے ۔خالی ہونے والا خزانہ پھر بھر جائے گا۔تو معزز قارئین حکمران سلطان صلاح الدین ایوبی کا خزانہ دار کو انعام تقسیم کرنے کا یہ مشورہ خزانے کے بھرا ہونے پر دلالت کرتا ہے اور خالی ہونے پر دوبارہ خزانے کے بھرے جانے کی امید بھی ہے لیکن نہ جانے پنجاب کے حکمران عثمان بزدار صاحب نے کس برتے اور امید پر اراکین پنجاب اسمبلی کی مراعات میں فوراً ہوشربا اضافہ کر لیا جبکہ ہماری معیشت ایک ایسے مریض کی طرح ہے جس کی حالت نازک ہو۔کیا ایسے مریض کا مزید نقصان کرنے کے بارے میں کوئی خیر خواہ و ہمدرد سوچ سکتا ہے۔ہماری حالت تو بقول شاعر ایسی ہے

قرض کی پیتے تھے مے اور سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن
جب ملک و قوم بال بال قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہوں ایسے حالات میں اس قسم کے اقدامات کو کسی طور مناسب قرار دیا جا سکتا ہے۔وطن عزیز کی معیشت کا تو یہ عالم ہے کہ وہ روز بروز پستی کی جانب گامزن ہے ۔زراعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے ،صنعتوں کی صورت حال بھی تسلی بخش نہیں ،عوام بھی مہنگائی کی چکی میں بری طرح پستے جا رہے ہیں اور ان کی اکثریت دو وقت کی روٹی کو ترس گئی ہے جب ایسی دگرگوں صورتحال ہو تو سرکاری اخراجات میں کمی لائی جاتی ہے تاکہ ملکی خزانے پر بوجھ میں کمی واقع ہو سکے اور عوام کو ریلیف دینے کیلئے اقدامات بروئے کار لائے جاتے ہیں لیکن ہمارے ہاں تو ریت ہی نرالی ہے ۔ خزانے اور عوام پر دباؤ کم کرنے کے بجائے اس میں مختلف حیلوں بہانوں سے مزید اضافہ ہی کیا جاتا رہتا ہے۔اس حوالے سے کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے کابل چوبیس گھنٹوں میں قائمہ کمیٹی سے منظوری کے بعد ایوان میں پیش کیا گیا ۔بل کے تحت ارکان اسمبلی کی تنخواہ اور مراعات 83ہزار ماہانہ سے بڑھا کر 2لاکھ روپے تک کر دی گئی ۔ارکان اسمبلی کی بنیادی تنخواہ 18ہزار روپے سے بڑھ کر80ہزار ماہانہ ہو گئی ۔ڈیلی الاؤنس ایک ہزار سے بڑھ کر چار ہزار ،ہاؤس رینٹ 29ہزار سے بڑھا کر 50ہزار روپے کر دیا گیا۔اس اضافے پر بہت سے ارکان خوشی سے نہال اور کئی نے اسے بھی کم قرار دیاجبکہ نو مراعات یافتہ حکومتی حلقوں نے میڈیا میں اٹھنے والے اعتراض کا یہ دلچسپ جواب دیا ہے کہ مہنگائی سے منتخب ارکان اسمبلی کو کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ،وہ بھی گرانی سے متاثر ہو سکتے ہیں ۔ایسے میں یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا غریب عوام کا حکومت کی جانب سے کم ازکم مقرر کردہ تنخواہ میں گزارا ہو جاتا ہے ؟ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے سے تو اس کا تمام تر بوجھ غریب عوام کے ناتواں کند ھے پر ہی پڑنا ہے اور حکومت حسب روایت عوام پر مزید نئے ٹیکسوں کا بوجھ ڈال دے گی جو پہلے ہی اپنی قلیل سی آمدنی کا خطیر حصہ ٹیکسوں کی مد میں ادا کرنے پر مجبور ہیں ۔ارکان سمبلی پہلے ہی امیر گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں روپے پیسے کی ریل پیل موجود ہوتی ہے ۔یہ بھی عجیب منظر نامہ ہے کہ اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کی تجویز سامنے آتے ہی مخالفتیں ایک طرف رکھ کر ایک ہو جاتے ہیں اور اسمبلی بھی اس تحریک کو منظور کرنے میں تاخیر نہیں کرتی اور تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے کی قرارداد فوراً منظور کر لی جاتی ہے۔ عوامی حلقے تو ان سے یہ امید کرتے ہیں کہ بحیثیت رکن اسمبلی وہ ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں رضا کارانہ تنخواہ اور الاؤنسز لینے سے انکار کر دیں گے ۔اگر ان عوامی خدمت گاروں سے یہ پوچھنے کی جسارت کی جائے کہ یہ پورے سال میں کتنے دن منتخب ایوانوں میں حاضر ہوتے ہیں اور وہاں بیٹھ کر کتنی بار لب کشائی کرتے ہیں تو معلوم ہو گا کہ اکثریت کا حال پتلا ہے ۔ایسے ارکان بھی اسمبلی میں موجود ہیں جو یہ قسم کھا کر ایوان میں داخل ہوتے ہیں کہ لب کشائی نہیں کریں گے ۔باب العلم حضرت علیؓ نے اسی بناء پر ایک شخص سے کہا ’’کچھ بولو تا کہ پہچانے جاؤ‘‘۔اگرچہ ان کی اکثریت کروڑ پتی،جاگیردار ،وڈیرے ،سرمایہ دار اور تاجر ہیں ۔اضافے کے بعد ملنے والا مشاہرہ ان کے یومیہ اخراجات سے بھی کم ہے مگر اضافے کے مطالبہ میں یہ بھی پیش پیش تھے۔پنجاب اسمبلی میں اضافے کی قرار داد پیش ہوئی تو کسی نے یہ نہیں کہا کہ پہلے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کیا جائے ۔یہ اضافہ جس طریقے سے کروایا گیا اسے مناسب قرار نہیں دیا جا سکتا پھر ان کی تنخواہوں میںیکدم اتنا جمپ کہ 100فیصد اضافے کا کوئی جواز نہیں تھا کیونکہ سرکاری اور دوسرے ملازمین بھی اتنے ہی متاثر ہوتے ہیں لیکن سرکاری ملازمین کے سارا سال چیخنے چلانے کے باوجود ان کی تنخواہوں میں آٹھ سے دس فیصد سالانہ سے زیادہ اضافہ نہیں کیا جاتا ۔سرکاری ملازم سارا سال کام کرتے ہیں جبکہ ارکان پارلیمنٹ کو سال میں تین چار ماہ ہی کام کرنا پڑتا ہے ۔بیورو کریسی پر اعتراض کیا جاتا ہے لیکن یہ تو سارا سال دفاتر میں حاضر ہو کر اپنے فرائض پورے کرتی ہے۔ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ تو ضرور ہونا چاہیے لیکن اسی نسبت سے جس نسبت سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔
پیاسی زمین ترستی رہی
دریا پر بادل برس گیا
جو شخص کروڑوں خرچ کر کے انتخابات میں حصہ لیتا ہے وہ کوئی عام آدمی نہیں ہوتا وہ کروڑ پتی اور ارب پتی ہوتا ہے ۔دوران اقتدار اس کی تجوریاں دونوں ہاتھوں سے بھرتی رہتی ہیں ۔ان کے دولت کدے ،فیکٹریاں اور کارخانے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔گزشتہ 5سالوں میں وطن عزیز میں غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی تعداد 30فیصد سے بڑھ کر 60فیصد تک پہنچ چکی ہے۔صاف پانی کی عدم دستیابی،بھوک ، افلاس، چھتوں سے محروم اور تعلیم و صحت کے شعبہ میں بدترین بحران کا شکار یہ معاشرہ بیرونی قرضے اتارنے کی سکت تو نہیں رکھتا مگر شائد اس کے ناتواں کندھے میں اپنے حکمرانوں کو مراعات دینے کا حوصلہ ضرور ہے۔ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز اور حکومت کی کفایت شعاری اور سادگی کے سارے دلفریب دعوے پنجاب اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کی تنخواہوں اور مراعات میں 100فیصد اضافے کی چوبیس گھنٹوں میں منظوری کے بعد فضا میں تحلیل ہوگئے ۔اسی وجہ سے عمران خان نے اپنے فوری ٹویٹ میں پنجاب اسمبلی کے اس فیصلے پر شدید برہمی اور مایوسی کا اظہار کیا ۔انہوں نے کہا کہ خوشحالی ہو تو ایسے فیصلوں کا جواز بنتا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے پنجاب اسمبلی کی جانب سے ان کی تنخواہوں اور مراعات میں بے پناہ اضافہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے گورنر پنجاب چودھری محمد سرور کو مجوزہ بل پر دستخط کرنے سے روک دیا اور کہا پنجاب اسمبلی کی جانب سے وزیر اعلیٰ،سپیکر ،وزراء اور ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافہ سخت مایوس کن ہے ۔ اس طرح کے فیصلوں کا دفاع نہیں کیا جا سکتا ۔پاکستان خوشحال ہو جائے تو شاید یہ قابل فہم ہو مگر ایسے حالات میں جب عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے وسائل دستیاب نہیں ،ملک اس طرح کی عیاشیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔اگرچہ وزیر اعظم عمران خان نے کفائت شعاری کی جو پالیسی اپنائی بحیثیت وزیر اعظم اس پر عمل پیرا بھی ہوئے لیکن ریاست مدینہ کے معماروں نے چپکے سے اپنی تنخواہوں اور مراعات میں من پسند اضافہ کر لیا جو ان کے وژن کے سرا سر خلاف ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ پنجاب حکومت سادگی اور کفایت شعاری کے دعوے کی روشنی میں اپنے فیصلے کے مضمرات کا فوراً تدارک کرے ۔بصورت دیگر مہنگائی کے ستائے ہوئے عوام یہ گلہ کرنے میں حق بجانب ہو ں گے
گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی
*****