- الإعلانات -

بھارتی جنگی جنون یا تیز فلمیریابخار؟

فروری کو پلوامہ حملہ ہوتا ہے ، جسکے ڈانڈے فوراً سے پہلے پاکستان کے ساتھ ملا دیے جاتے ہیں، ان دنوں بھارت میں انتخابات کی بھی آمد آمد ہے، اسی لیے وہاں کی اپوزیشن نے اسے۔ مودی۔ کی خاص چال قرار دے کر روزِ اول سے ہی رد کر دیا، لیکن ۔مودی۔ تھا کہ سانپ کی طرح پھنکار رہا تھا، جہاں جاتا، زہر اگلتا اور پاکستان کو اسکے اندر گھس کر مزہ چکھانے کا اعلان کرتا، پھر وہی ہوا، جسکا ایک خاص حد تک ہمیں اندازہ تھا کہ وہ کچھ نا کچھ ضرور کروائے گا ۔ٹھیک دس روز کے بعد26 فروری کو صبح انڈین میڈیا نے شادیانے بجانے شروع کر دیے جسکی زبانی معلوم ہوا کہ اسکے جنگی جہازوں نے پاکستانی سرحدی علاقے۔ بالا کوٹ۔ میں کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شاید کسی جیش کے ٹھکانے کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ وہاں پر موجودساڑھے تین سو کے قریب افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ چونکہ یہ کھلی دہشت گردی تھی، اسی لیے ہماری افواج نے اپنے علاقے میں پیش بندی کے طور پر اپنی۔ ہوا ئی کسی۔ مزید بڑ ھا دی تاکہ کو ئی ۔ مُوزی ۔ادھر گھُس ہی نہ سکے اور اگلے ہی روز جب ہماری آنکھ کھلی توپوری دنیا کے سامنے اینٹ کا جواب پتھر کی شکل میں موجود تھا ، انکا ایک ۔ ویر بہادر مسٹرابھی نندن۔ جیتا جاگتا، آنکھوں پر پٹی اور پشت پر ہاتھ بندھے پاکستان کی قید میں موجود تھا۔ زندہ تو وہ اس لئے موجود تھا کہ جس علاقے میں اسکے جنگی جہاز کو تباہ کیا گیا وہاں قریب ہی انفنٹری کی ایک یونٹ موجود تھی، اور اگر آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے، (یعنی مقامی آبادی کے ہتھے چڑھے ) اس ۔ ونگ کمانڈر۔ کو ہمارا ایک بہادر کیپٹن اپنے جوانوں کے ہمراہ، نہایت ہی اعلیٰ ظرفی اور عین جنگی اصولوں کے مطابق اسے فوراً اپنی تحویل میں نہ لے لیتا، تو مقامی لوگ اس کا کب کا ۔تکہ بوٹی۔ بنا چکے ہوتے۔ سوشل میڈیا کی بہر حال ویڈیوز کے ساتھ خبر یہ ہے کہ اس روز، ایک نہیں بلکہ دو انڈین جنگی جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر بھی تباہ ہوا، جسمیں کافی ہلاکتیں ہو ئیں۔ انڈین پائلٹ کو بہرحال اگلے روز، حکومتِ پاکستان نےgoodwil gesture کے تحت رہا کر دیا، لیکن ایک خاص انڈین ذہنیت نے اسے کسی بڑے احسان کی بجا ئے رویتی ڈینگیں مارتے ہو ئے پاکستان کا ڈرجانیکا پرا پیگنڈہ شروع کر دیا۔پاکستان کی گرفتار پائلٹ کی فراخدلانہ رہا ئی کے بعد انکے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا، لیکن صبح سے شام تک نان سٹاپ مراتھن ٹاک شوز میں انڈین الیکٹرانک میڈیا اپنے آپ اور عوام کو خوش کرنے کیلئے اکہتر میں بنا ئے گئے ہمارے پاکستانی فوجیوں کی یاد دلاتے خود کو خوش کرنیکی کوشش کرتے رہے۔ پلوامہ واقعے کے بعد پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے، گھُس کر کیسے مارتے یا بھگاتے ہیں، یہ انہیں 27فروری کواچھی طرح سے معلوم ہو چکا ہے،، لیکن سخت ہزیمت اور بے عزتی کے باوجود انڈین ذہنیت آرام سے بیٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ ہمیں اپنے سے بہت کم تر اور اپنے آپ کو اس خطے میں امریکہ سمجھنے والے یہ ضرورت سے زیادہ خوش فہم بھارتی اب بھی رات دن وہی ٹاک شوز، جس میں انڈین آرمی کے پرانے سے پرانے جنرلز، بریگیڈیرز، کرنلز، ہوا ئی ، بحری فوج کے سب گِھسے پِٹے ،چلے، چلا ئے کارتوس باقاعدہ سرکاری ٹوپیاں سجا ئے ، سینوں پر بیجز لگا ئے ، منہ سے جھاگ اڑاتے،،، چھوٹی بڑی اسکرینوں پر وہ وہ کرتب کرتے دکھا ئی دیتے ہیں، جو شاید سروس کے دوران انہیں ایسی کسی۔ داد شجاعت۔ دینے کاموقع نصیب نہ ہوا ہو۔ انکے درجنوں ٹاک شوز کے بیک گراؤنڈ میں پورا جنگی ماحول ہوتا ہے، ،،،جہازوں کی گڑگڑاہٹ، ،،،گولیوں کی تڑ تڑاہٹ اور بموں کے دھماکوں کی آوازیں ، ایسا لگتا ہے، انڈین الیکٹرانک میڈیا نے آجکل اپنی عوام کو بے وقوف بنانے کیلئے ۔سینما گھروں۔ کی طرح روزانہ کے چارچار شو لگا رکھے ہیں اور وہیں بیٹھے بٹھا ئے ا سکرین پر ہی پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہر چھوٹا بڑا بھارتی سورما اپنا۔چھپن انچ۔کا سینہ تان کر پھر سے اگلے شو پر آنے کیلئے ٹکٹ کی لائن میں لگ جاتا ہے۔ عوام لائنوں میں لگے ہیں اور میڈیا مودی کی خاص ۔چانکیا ئی ۔ترکیب کے مطابق بیلچوں کے حساب سے مال بٹور رہا ہے۔ اور یوں آجکل یہ۔ ۔بالی وڈ جنگی فلمیریا ۔کا وائرس پورے بھارت میں۔ اپنے پورے عروج پر ہے۔ میرے خیال میں کچھ واقعات ضرور ہو ئے، مثلاً پلوامہ واقعہ ہوا، جسمیں درجنوں آر ایس ایس کے فوجی ہلاک ہو ئے، مودی کہتا ہے، اسکے پیچھے پاکستان کا ہاتھ ہے، کشمیری جو اپنے وطن کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، وہ اسے اپنا خون کا بدلہ سمجھتے ہیں، پاکستان اسے ظالم انڈین قابض فوج کی کشمیریوں کی نسل کشی کا بدلہ سمجھتا ہے جبکہ مودی کے اپنے بھارتی سیاسی حریف اسے مودی کی سیاسی چال سے زیادہ اہمیت دینے کو تیار ہی نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ سب کچھ جو کیا ہے، یہ سب سیاسی ڈرامہ اور سوچی سمجھی سازش ہے، یہ سب کچھ مودی نے اپنے سیاسی فائدے کیلئے کیا ہے، وہ اسے اسکا کریڈٹ لینے دینے کو بالکل تیار نہیں، انڈین اپوزیشن کہتی ہے کہ اگر واقعی کچھ کیا ہے تو ثبوت دکھاؤ اور مودی سرکار ہر ثبوت مانگنے والے کو غدار اور دیش درو ہی کا خطاب دے رہی ہے، لیکن سچ تو یہ ہے کہ بی جے پی اب اپنے ہی جال میں کچھ اس طرح پھنس چکی ہے کہ اسکا اب وہاں سے واپسی کا را ستہ ہی نا ممکن دکھا ئی دے رہا ہے۔اور کہانی اسوقت نہایت ہی دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جب بھارتی اپوزیشن اور ذی شعور اکثریتی طبقہ ان تمام باتوں کا کھلے عام ثبوت مانگ رہا ہے، اور مودی آئیں، بائیں، شائیں کرتا دکھا ئی دیتا ہے، اور ادھر پاکستان اپنے گرا ئے گئے سر سبز و شاداب پیڑوں اور ۔مقتول کوئے۔ کی موت پر عالمی توجہ مبذول کرانیکی کوششوں میں لگاہے، اور اس نے باقاعدہ اسکی عالمی ماحولیاتی ٹریبونل میں تحریری شکایت بھی درج کروادی ہے،،، دیکھتے ہیں اب درختوں کو یا اس پر بیٹھے معصوم۔ کاگا ۔ کو کب انصاف ملتا ہے۔ اور ہم اس بات کے بھی منتظر ہیں کہ تعصب زدہ ا نڈین میڈیا اور انتقام کی آگ میں جلتے اسکے حواس باختہ جرنیلز، کب، کیونکر اور کیسے مودی کو ذلت کے اس گڑھے سے نکالتے یا خود بھی اسکے ساتھ ہی غرق ہوتے ہیں۔

*****