- الإعلانات -

پیغام پاکستان کانفرنس۔روادار‘تحمل مزاج پاکستان

صوبائی عصبیت ہولسانی عصبیت یا مذہبی فرقہ واریت یہ خطرناک موذی امراض کی مانند ہوتی ہیں جن سے ہر انسان کوبچنا چاہیئے خصوصاً مسلمانوں کو اس بارے میں مکمل آگاہی ہونی چاہیئے شعور ہونا چاہیئے چونکہ سماجی عصبیت کی یہ ایسی لاعلاج اور تباہ کن بیماریاں ہیں جن میں مبتلا ہونے والی قومیں صفحہ ہستی سے مٹ گئیں نیست ونابود ہوگئیں ان سماجی امراض کا اگر بروقت تدارک نہ کیا جائے تویہ کسی ایک معاشرے کو ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے موت کا پیغام بن جاتی ہیں، کتنی قومیں ان عذاب کا شکا ر ہوئیں، تباہ ہوکر اپنا نام ونشان تک مٹابیٹھیں اب ذرا سوچیں، آج دنیا کی انگلیاں نیوزی لینڈ کی طرف اْٹھی ہوئی ہیں، عالمی میڈیا میں ہر کچھ دیر بعد نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرج کی دومساجد میں ہوئی دہشت گرد کارروائی پر اہم سوالات اْٹھائے جارہے ہیں نیوزی لینڈ جسے کرائم فری ملک کہاجاتا تھا نسل پرستوں کے دہشت گردوں نے دنیا کی سوچوں کے بالکل برعکس دہشت گردی کے لئے نیوزی لینڈ جیسے ملک کا انتخاب کیا اور نماز جمعہ پڑھنے والوں مسلمانوں کو بے گناہ وبے خطا اپنی وحشت ناک سفاکیت سے قتل کردیا بلکہ اْن کا سرعام قتل عام کیا گیا جدید مہلک اسلحوں سے لیس ایک درندہ صفت گورے دہشت گرد نے نہ صرف مسلمانوں کو اپنی گولیوں کی بوچھاڑ کا نشانہ بنایا بلکہ مساجد میں تڑپتے ہوئے مسلمانوں کی ویڈیوز بناکر اپنے لسانی عصبیت کے سوشل میڈیا کے گروپس پر وائرل بھی کیں، نسل پرستی کے وحشیانہ اور ہولناک تعصب کا اپنی نوعیت کا بڑا دردناک واقعہ تھا، دنیا بھر میں مذمت کا سلسلہ جاری ہے اس واقعہ کے بعد مغربی دنیا کو اپنی یکطرفہ متعصبانہ سوچوں کے انداز اب تو بدلنے ہی پڑیں گے دہشت گردی کا لیبل کسی ایک مخصوص یہاں ہمیں صاف کہنا پڑے گا کہ مذہبِ اسلام کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے اورپیش آئندہ خطرات کا ادراک کیا جائے کسی مذہب پر دہشت گردی کا الزام چسپاں کرنے کی بجائے انسانیت کے خلاف پائی جانے والی پرلے درجے کی دشمنی رکھنے والوں کی شناخت کرنی پڑے گی اوریہ کہنا پڑے گا کہ جو بے گناہ انسانیت کو نقصان پہنچائے اْس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا چاہے وہ کسی رنگ نسل کی شناخت رکھنے والا ہو وہ انسان نہیں ہوتا وہ صرف اورصرف دہشت گرد ہوتا ہے نسل پرستی کے تعصبات پھیلانے والوں نے دیکھ لیا ہے اْن ہی کے اکسانے بہکانے پر یکایک دنیا میں مکالمات کے موضوع یکدم سے تبدیل ہوگئے ہیں کل تک مسلمانوں بالخصوص پاکستان کو پاکستانی قبائلی علاقہ جات کو بات بات میں دہشت گردی سے نتھی کرنا مسلم دشمن عالمی طاقتوں اسرائیل اور بھارت نے اپنی عادتیں ہی بنالی تھیں، نیوزی لینڈ کے افسوس ناک سانحہ نے اْن کی زبانوں پر اب تالے ڈال دئیے ہیں، مغربی میڈیا پر لگتا ہے فالج گرگیا وہ زہریلے چھبتے ہوئے مسلم دشمنی میں گھلے ہوئے تبصرے لمحہ بہ لمحہ کے تجزئیے اب کیوں نہیں ہورہے ہیں؟کیونکہ اس مرتبہ دہشت گردی کہیں باہر سے نمودار نہیں ہوئی بلکہ نسلی دہشت گردی خیر سے اندر ہی پنپ رہی تھی، اب خودبخود کیسے اْبل پڑی ہے توبات سمجھ آئی ہے دنیا کو پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہیئے ، پاکستانی قوم نے‘ پاکستانی مسلح افواج کے جوانوں نے سپا ئیوں نے‘ مقامی پولیس کے افسروں اور سپائیوں سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں شہداؤں نے اپنی قیمتی جانوں کے نذرانے پیش کرکے قیامت خیز اور تباہ کن خوفناک دہشت گردی کے طوفان کو اپنے سینوں پر روکا دہشت گردوں کے اسلحوں کے ٹھکانوں کو تباہ کیا ہزاروں کو جہنم رسید کیا ،سینکڑوں کو زندہ گرفتار کیا ،اْن سفاک درندہ صفت دہشت گردوں کے خلاف فوج نے کئی فیصلہ کن آپریشنز کیئے دنیا نے اسلام اور پاکستان کے ساتھ وہ انصاف نہیں کیا جو اْنہیں کرنا چاہیئے تھا ،پاکستان نے اپنا کام کیا ہے اوراب ملک میں آپریشن ردالفساد جاری ہے ملک میں نیشنل ایکشن پلان پر سیاسی وجمہوری حکومت اپنے اقدامات اْٹھارہی ہے ایک طرف یہ عالم ہے جبکہ دوسری جانب بھارتی خفیہ ایجنسی را کے خفیہ پلان کاسامنا پاکستان کو ہے دوبدو پاکستان کا مقابلہ کرکے بھارت نے دیکھ لیا مطلب یہ ہے دوبدو مقابلہ بھارت کے مفاد میں نہیں وہ پاکستان کے سماجی ڈھانچے کو کمزور کرنے کے لئے ہماری سماجی ومعاشرتی صفوں میں گھس کر ہمیں فکری ونظری اعتبار سے منتشر کرنے اور فرقہ ورانہ انارکی پھیلا نے شدید کا خواہش مند معلوم دیتا ہے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہ خدانخواستہ کامیاب ہوجائے گا؟ اب یہاں سے پاکستانی قوم کے مذہبی زعماؤں پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ اپنی قوم کی دینی بھائی چارے اورسماجی ہم آھنگی کی رہنمائی کافریضہ قرآن پاک اور سنہ کی تعلیمات کی روشنی میں اداکرنے پر کمربستہ جائیں، اسی حوالے سے گزشتہ دوڈھائی برس قبل’پیغام پاکستان کانفرنس‘کا پلیٹ فارم تشکیل دیا گیا تھا، جس کے باقاعدہ اہم اجلاس منعقد ہوتے رہے ابھی حال میں پنجاب کے ایک شہر میں’پیغام پاکستان کانفرنس‘ کا اہتمام ہوا ،جس میں ملک کے ممتاز عالم دین شخصیات نے شرکت کی، سیاسی وسماجی رہنماوں نے علمائے دین کی قیادت میں اپنے اس عزم کو دہرایا قوم کو باورکرایا کہ قوم اپنے درمیان ملی وقومی یکجہتی کو اور مستحکم کرئے اپنے حوصلے بلند رکھے ملکی سیاسی وعسکری قیادت پاکستان کے دفاع پاکستان کے استحکام اور پاکستان کی قومی معیشت کو اور زیادہ مضبوط کرنے کے لئے ایک قومی سوچ میں یکسو ہے، بقول ہمارے ممتاز علمائے دین کے ملٹری اور سویلین آئینی اداروں کے اسی ایک ہی قومی سوچ کی یکسوئی نے بھارتی جنونی ناپاک ارادوں کو زمین بوس کیا ،بھارتی جنگی قیدی کو رہاکرکے پاکستان نے امن کا پیغام دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پہنچا کر دنیا پر باور کرادیا کہ’’ پاکستان میں فوج، عوام، عدلیہ اور سیاسی ادارے پاکستان کے مفاد میں یکجا ہیں‘‘ پیغام پاکستان کانفرنس میں علماء پاکستا ن کے چیئرمین بادشاہی مسجد کے خطیب مولانا عبدا لخبیر آزاد نے اپنے اس عزم کو دہرایا کہ پوری دنیا کیلئے پاکستان کا پیغام امن اور مصالحت ہے، جس کیلئے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور تمام مکاتب فکر کے علماء مادروطن کے دفاع و استحکام کیلئے باہم متحد ہیں اور پاکستان کے دشمن کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہیں اب اسلام اورپا کستان کے دشمنوں کے خطرناک ایجنڈوں کو ناکام بنانے کیلئے علماء اپنا اہم کردار نبھانے کیلئے پوری طرح سے کمربستہ ہوچکے ہیں، اسلام اتحاد بین المسلمین کا درس دیتا ہے اتحادبین المذاہب رواداری اور امن کی علمبردارپاکستانی قوم چوکس ہے، چوکناہے قوم باخبر ہے کہ ملکی آئین تمام اقلیتوں کو بھی مساوی انسانی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، انہیں اپنے مذہبی عقائد کے مطابق ہمہ جہت عبادات کیلئے ان کی عبادت گاہوں کو بھی مکمل تحفظ فراہم کرنے کی گارنٹی دی گئی ہے ملک دشمن عناصر کی ر یشہ دوانیوں اور سازشوں کو اب ہمارے علما کامیاب نہیں ہونے دیں گے حکومت پاکستان نے پارلیمنٹس سے منظورشدہ نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر عمل درآمد کرنے میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور مفتیان عظام کی مشاورت اور اتفاق رائے کو حکومتی فیصلوں سے مشروط کردیا گیا ہے نیشنل ایکشن پلان کے خلاف دین کی آڑ میں کسی کو اپنی سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی لہٰذااسلامی تعلیمات کے عین مطابق پیغام پاکستان کی شکل میں ایسا متفقہ قومی بیانیہ مرتب کردیا گیا ہے لہٰذا وہ گمراہ گروہ خوب جان لیں کہ قومی اتحاد و یگانگت اور ہمارے اجتماعی مفادات کے خلاف سر گرم ملک دشمن عناصر اور گروہوں کے ناپاک عزائم کو پاکستانی قوم اب کسی قیمت پر کامیاب نہیں ہونگے دیں گے ۔