- الإعلانات -

نیوزی لینڈ ، مساجد میں دہشت گردی

مسلمانوں کی تاریخ میں نائین الیون ایک تاریک دن کی حامل ہے۔ وہ دن اور اس کے بعد جب بھی دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی کی واردات ہوتی ہے چاہے وہ مسلمانوں کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو، اس کے تانے بانے انتہا پسند مسلمانوں سے ہی جوڑے جاتے ہیں۔ ابھی تین دن قبل نیوزی لینڈنیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2مساجد میں نماز جمعہ میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں پاکستانی باپ بیٹے سمیت 49 نمازی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے جبکہ نیوزی لینڈ کے دورہ پر موجود بنگلادیشی کرکٹ ٹیم بھی اس حملے میں بال بال بچ گئی۔سانحہ میں 9 پاکستانی شہید ہوئے جن میں 6 کی تصدیق ہو گئی ہے۔فائرنگ کے بعد 4 افراد کو حراست میں لے لیا گیا جن میں آسٹریلوی باشندے سمیت تین مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔ ملزم بریٹن ٹیرنٹ کا تعلق آسٹریلیا سے ہے۔ حملہ آور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا انتہا پسند اور متشدد دہشت گرد ہے۔ یہاں مسلمان دہشت گرد نہیں دہشت گردی کا شکار ہوئے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسینڈا آرڈرن نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ملکی تاریخ کا سیاہ ترین دن قرار دیا۔ نیوزی لینڈ میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالمالک نے کہا نیوزی لینڈ میں دہشت گردی انٹیلی جنس کی ناکامی ہے۔ اس کا ثبوت یوں بھی ملتا ہے کہ خود نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ حملے سے 9منٹ قبل انٹیلی جنس ایجنسیوں کو پیشگی اطلاع مل گئی تھی لیکن پولیس کے پہنچنے سے پہلے ہی حملہ آور مسجد پہنچ چکا تھا۔ اگر ان دستاویزات میں تفصیل ہوتی تو اس کے مطابق فوری کارروائی کی جاتی لیکن بدقسمتی سے اس ای میل میں اس طرح کی کوئی تفصیلات نہیں تھیں۔ دہشت گرد کی جانب سے بھیجی گئیں دستاویزات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس حملے کیلئے دہشت گردانہ خیالات کے ساتھ یہ ایک نظریاتی مینی فیسٹو تھا جو خطرناک تھا۔ مسلم ممالک نے بھی نیوزی لینڈ میں دو مساجد پر ہوئے حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ عبادت کے مقام پر ایسا حملہ ناقابل قبول ہے۔ ملائیشیا، ایران، بنگلہ دیش اور ترکی نے بھی حملوں کی مذمت کی۔ ترک صدر کے ترجمان نے ان حملوں کو نسل پرستانہ اور فاشسٹ قرار دے دیا ہے۔ بھارت کی مسلم کمیونٹی نے بھی ان واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کی وجہ اسلام فوبیا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پوری مسلم اْمہ دہشت گردی کرنے والوں سے لاتعلقی کا اظہار کرتی رہتی ہے اور الزام تراشی کرنیوالوں کو بتایا جاتا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔مغربی دنیا ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کی جان و مال پر حملے اورتضحیک ظاہر کرتی رہی ہے ۔ غلط پراپیگنڈے اور میڈیا کی ہرزہ سرائی نے اسلام دشمنی کی بیماری اسلام فوبیا پیدا کی ہے۔ گستاخانہ خاکے ، مساجد پر حملے اور نقاب و حجاب کیخلاف نفرت کی لہر اسلامو فوبیا کا شاخسانہ ہے۔جبکہ اسلام پرامن مذہب ہے اور بے گناہ انسان کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیتا ہے۔ مغرب میں خود ساختہ تصورات کے تحت اسلام دشمنی کی جو فصل بوئی جا رہی تھی، وہ اب پک کر تیار ہو گئی ہے۔ اس ضمن میں کرائسٹ چرچ کے نمازیوں کے قاتل کا امریکی صدر ٹرمپ کو اپنا ہیرو قرار دینا صرف امریکہ ہی نہیں‘ پوری مغربی دنیا کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ مغربی ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت، ڈاکٹروں ، انجینئروں ، کاروباری افراد اور ہنر مندوں پر مشتمل ہے اور وہ ان ملکوں کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اگر انکی جان و مال اور عزت آبرو کے تحفظ کیلئے ٹھوس اقدامات نہ کئے گئے تو خود ان ملکوں کے عالم اسلام سے تعلقات متاثر ہوں گے۔ دوسری طرف مسلم دنیا کو بھی اس سانحہ کا نوٹس لینا ہو گا۔ اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کا اجلاس فوری طور پر بلا کر ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے متفقہ بیانیہ اور لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔ دہشت گرد ‘برنٹن ٹرنٹ’ نے امید ظاہر کی ہے کہ قید کی سزا کے بعد سے امن کا نوبل انعام ملے گا۔ حملے سے قبل اس نے’فیس بک’ پر75 صفحات پر مشتمل ایک بیان پوسٹ کیا۔ اس بیان میں اس نے مسلمانوں اور پناہ گزینوں کے خلاف اپنی نفرت کا کھل کا اظہار کیا وہیں مسلمانوں کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے توقع ظاہر کی اگر اس کے ہاتھوں کچھ مسلمان مارے جاتے ہیں تو اس پراسے زیادہ سے زیادہ 27 سال قید کی سزا ہوگی۔ رہائی کے بعد اسے امن کا نوبل انعام دیا جائے گا۔ اس نے اشارتاً خود کو جنوبی افریقہ کے نسل پرستانہ نظام کے خلاف جدو جہد کرنے والے ہیرو نیلسن مینڈیلا کے ساتھ تشبیہ دی۔ وہ بھی 27 سال قید رہے اور رہائی کے بعد انہیں نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔اپنے بیان میں آسٹریلوی دہشت گرد نے لکھا کہ اس نے ناروے کے انتہا پسند Anders Behring Breivik بھی رابطہ کیا۔ اینڈرس بیرنگ نے بھی 1500 صفحات پر مشتمل ایک طویل بیان پوسٹ کیا جس کے بعد اس نے ناروے کی تاریخ میں بدترین قتل عام کا ارتکاب کیا تھا۔یہ 22 جولائی 2011ء کا واقعہ ہے جب اینڈرس نے 29سال کی عمر میں اوسلو میں بارود سے بھری ایک کار سے دھماکہ کرکے 8 افراد کو موت کی نیند سلا دیا۔ اس کے بعد اس نے پولیس کا یونیفارم پہنا ناروے کے اقصیٰ جنوب میں واقع’اوٹویا’ جزیرے پر پہنچا۔ وہاں پر لیبر پارٹی کے 700 کارکن کیمپ لگائے ہوئے تھے۔ ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 69 افراد ہلاک ہوگئے۔ اسے حراست میں لے کرمقدمہ چلایا گیا اور اسے صرف 21 سال قید کی سزا سنائی گئی۔