- الإعلانات -

امریکی ہرزہ سرائی غلط ۔۔۔پاکستان کاایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے

adaria

امریکہ کی دوغلی پالیسی ابھی تک ختم نہیں ہوئی، حالانکہ اس کو معلوم ہے کہ خطے میں قیام امن وامان کے حوالے سے پاکستان کس قدر اہمیت کاحامل ہے ،لیکن اس کے باوجود وہ دورخی چال چلنے سے قطعاً گریز نہیں کرتا، جب بھی افغانستان میں اسے مسائل درپیش آتے ہیں تو فی الفورپاکستان کے سامنے گڑگڑاناشروع کردیتاہے ، صرف گڑگڑاناہی نہیں بلکہ باقاعدہ مدد بھی طلب کرتاہے، انتہاتو یہ ہے کہ امریکی صدرڈونلڈٹرمپ بھی ہمارے وزیراعظم عمران خان سے اس حوالے سے مدد کے طلب گاررہے اوراس حوالے سے انہوں نے باقاعدہ بیان بھی دیا کہ امریکہ اورطالبان کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کرداراداکرے۔مگرچونکہ تاریخ کے اوراق اس بات کے گواہ ہیں کہ امریکہ کاجب بھی مفاد پورا ہوا تو اس نے اپنے اسی دوست کے خلاف کارروائی شروع کردی جس کے ذریعے وہ مفاد حاصل کرتارہاہے ۔بہت زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ماضی قریب میں جب افغانستان پر روس نے چڑھائی کی تو ایسے میں امریکہ نے نہ صرف طالبان کی مدد کی بلکہ پاکستان کی بھی حمایت حاصل کی۔جیسے ہی روس افغانستان سے شکست وریخت کے بعدنکلا تو امریکہ نے فی الفور پاکستان پرپابندیاں عائد کرناشروع کردیں کیونکہ امریکہ کاایک فارمولا ہے کہ دوست اوردشمن کبھی ساتھ رہتے ہمیشہ مفادات ساتھ رہتے ہیں۔ اس وجہ سے ہمیشہ امریکیوں نے اپنے مفادات کو ترجیحی بنیادوں پررکھا ۔اب دوحہ/قطرمیں ہونے والے طالبان کے حوالے سے مذاکرات کرانے کے لئے بھی امریکہ نے پاکستان کے سامنے جھولی پھیلائے رکھی اوراب اس نے کچھ دیکھناشروع کیا کہ معاملات سیدھے ہونا شروع ہوگئے ہیں تو پھر امریکیوں نے اپنی تاریخ دہراناشروع کردی یہی اس کی سب سے بڑی تکنیکی غلطی ہے۔امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ایک انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے ہرزہ سرائی کی جوکہ کسی صورت بھی قابل قبول نہیں۔ بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں اور پھر جو اس نے فضائی خلاف ورزی کی اس دوران پوری دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے کس قدرذمہ داری کامظاہرہ کیا ،صبرکادامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور بھارت کومنہ توڑجواب بھی دیا لیکن انسانی جانوں کانقصان نہیں ہوا نہ ہی کوئی ایٹمی دھمکی کے حوالے سے ذکر کیا گیا جبکہ وزیراعظم عمران خان نے تحمل کامظاہرہ کرتے ہوئے ہمیشہ مسائل کاحل مذاکرات کے ذریعے ہی بتایا۔ مائیک پومپیو نے کہاکہ پاک ایٹمی پروگرام سے امریکی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے اوریہ غلط ہاتھوں میں لگ سکتاہے۔ نیزمزیدہرزہ سرائی کرتے ہوئے پومپیو نے کہاکہ پاکستان محفوظ پناہ گاہیں ختم کرے ساتھ ہی بھارت سے کشیدگی کاالزام بھی عائد کردیا۔ساتھ انہوں نے ایک اوربڑھ ماری کہ ہم نے پاکستان کے خلاف جوایکشن لئے ہیں وہ ہم سے پہلے کوئی حکومت نہیں لے سکی۔شایدامریکہ یہ بھول گیاہے کہ وہ طالبان سے مذاکرات بھی کررہاہے اورخطے سے پرامن طریقے سے نکلناچاہتاہے اورساتھ ساتھ پاکستان کی معاونت بھی درکارہے۔ اس دوغلی پالیسی سے کیانتائج نکلیں گے یہ امریکہ بخوبی جانتا ہے الزام درالزام عائد کرنے سے مسائل حل نہیں ہوتے اورگھمبر ہوتے چلے جاتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان دوٹوک الفاظ میں بتاچکے ہیں کہ وہ اب کسی دوسرے کی لڑائی نہیں لڑیں گے سب سے پہلے پاکستان اور اس کی سالمیت ہے ۔پومپیو نے ایک اورعجیب مضحکہ خیزالزام عائد لگایا کہ پاک بھارت کشیدگی جو ہے وہ پاکستان کے علاقے سے جانے والے دہشت گردوں کی وجہ سے ہوئی حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے پلوامہ دھماکے کو دیکھ لیاجائے تو سارے حقائق سامنے آجاتے ہیں وہاں اتنازیادہ دھماکہ خیزموادکس طرح پہنچا،دھماکہ کرنے والابھی کشمیری تھا پھربھارتی انتخابات کی آمدآمدہے ۔اس موقع پراس طرح کے حالات پیدا کرنا آئے دن کنٹرول لائن پربھارت کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کیایہ امریکہ کے لئے کافی نہیں ہے کہ اصل دراندازکون ہے؟کلبھوشن کی گرفتاری اوراس کے اعترافات پھر بھارتی پائلٹ ابھی نندن کی گرفتاری اس کے بھی بیانات کہ ہماری فوج کو پاکستانی فوج سے سبق سیکھناچاہیے ۔ہمارا بھارتی میڈیا بھی مرچی لگاکرخبروں کو پیش کرتا ہے جس کی وجہ سے حالات مزیددگرگوں ہوتے چلے جارہے ہیں ان تمام ثبوتوں کے باوجودامریکہ کی آنکھوں پرپٹی ناقابل فہم ہے ۔لہٰذا امریکہ ،اس کے وزیرخارجہ اوراس کے صدرڈونلڈٹرمپ ودیگرانتظامیہ کو چاہیے کہ وہ انتہائی احتیاط سے کام لیں پاکستان کاایٹمی پروگرام قطعی طورپرمحفوظ ہاتھوں میں اورپرامن ہے ،پاکستان کاواضح موقف ہے کہ کم ازکم اپنی سالمیت کو برقراررکھنے کیلئے ایٹمی صلاحیت رکھی جائے گی یہ کسی کے خلاف نہیں ہے۔آج اس خطے میں جو ایٹمی دوڑ شروع ہے وہ تمام کی تمام بھارت ہی کے مرہو ن منت ہے ۔پاکستان ہمیشہ امن کاداعی رہا اور مستقبل میں بھی تمام معاملات کو مذاکرات سے حل کرناچاہتاہے۔امریکہ کی جانب سے اس طرح کے بیانات دخل دراندازی کے مترادف ہیں وہ بیان دیتے ہوئے تمام حالات کو دیکھ لے کہ اس کے بعد کیااورکیسے نتائج نکل سکتے ہیں کیونکہ زبان کی چاشنی حاصل کرنے کے بعدمعاملات مزید الجھ سکتے ہیں۔

وزیراعظم کی عثمان بزدار سے ملاقات،کفایت شعاری پرزور
وزیراعظم عمران خان سے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے ملاقات کی۔پنجاب میں سیاسی، مجوزہ بلدیاتی نظام اور حکومتی امور پر بات چیت کی گئی۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنی تنخواہ، مراعات کے فیصلے پر وضاحت پیش کی۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کی تاحیات مراعات میں اضافے پر ناگواری کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ کو کفایت شعاری اپنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے گورننس نظام بھی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ گورننس بہتر بنانے کیلئے پارٹی منشور پر عملدرآمد کریں۔ علاوہ ازیں وزیراعظم نے کہا ہے کہ اپنے وعدے کی تکمیل کرتے ہوئے سابقہ قبائلی علاقہ جات میں دس سالہ ترقیاتی پروگرام کیلئے تین ہفتوں کا مشاورتی عمل شروع کیا جارہا ہے۔ قبائلی علاقہ جات سے تعلق رکھنے والے ہمارے لوگ بے مثال ترقی دیکھیں گے۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان نے گیس کے اضافی بلوں کی واپسی کیلئے وزارت خزانہ کو 50کروڑ روپے کی رقم جاری کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ یہ اضافی رقم مرحلہ وار صارفین کو واپس کی جائے گی۔ نیزوزیراعظم عمران خان نے عالمی بینک کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی۔ ورلڈبینک کے وفد نے حکومت پاکستان کی موجودہ معاشی صورتحال پراعتماد کا اظہار کیا وفد نے ملک میں جاری منصوبوں میں مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ۔عالمی بنک کے وفد نے وزیراعظم کو یقین دلایاکہ عالمی بینک منصوبوں کی تکمیل میں فنڈز کی کمی نہیں آنے دے گا مختلف منصوبوں میں پاکستان کیساتھ مل کر کام کرینگے۔ وزیراعظم نے عالمی بینک کے وفد کی پیشکش کا خیر مقدم کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سرمایہ کاری کیلئے آئیڈیل بھی رہا ہے۔