کالم

افغان مہاجرین کی وطن واپسی۔۔۔!

اقوام متحدہ نے 1951ء مےں مہاجرےن کے حقوق کے حوالے سے اےک مسودہ منظور کےا تھا جس مےں ےورپ کے مہاجرےن کے حقوق کا تعےن کےا گےا تھا ۔ 1967ء مےں اس مسودہ کو وسعت دےکردنےا کے دےگر ممالک کے مہاجرےن کو بھی اس مےں شامل کےا گےا جس کو پروٹوکول 1967ء کے نام سے موسوم کےا جاتا ہے ۔ اس معاہدے پر پاکستان نے دستخط نہےں کئے ۔ ےورپ کے بہت سے ممالک اس کو تسلےم کر چکے ہےں مگر زمےنی حقائق دےکھے جائےں تو پاکستان دنےا کا غالباً واحد ملک ہے جس نے معاہدے پر دستخط کئے بغےر چالےس لاکھ سے زائد افغان مہاجرےن کو مصےبت کی گھڑی مےں نہ صرف پناہ دی بلک اپنی محبتےں نچھاور کر کے انہےں گلے لگاےا ،کےمونزم کے خونی پنجوں سے تحفظ کےلئے بہترےن پناہ گاہےں فراہم کےں ۔ 1979ء مےں جب برادر ہمساےہ اسلامی ملک افغانستان پر روسی فوجوں نے ےلغار کر دی تو افغان مہاجرےن کی اےک بڑی تعداد نے پاکستان مےں پناہ لی ۔ حکومت پاکستان نے ان افغانی بھائےوں کو انسانی ہمدردی کی بنا ء پر نہ صرف پناہ دی بلکہ ان کی دےکھ بھال بھی کی ۔ افغانستان کے سےاسی حالات مےں مدوجذر آتے رہے ۔ روسی افواج کو شکست ہوئی اور روس جو کہ دنےا کی دوسری سپر پاور تھا رےزہ رےزہ ہو گےا ۔ اس وقت وہ طاقتےں جو برسر پےکار طاقتوں کی امداد کر رہی تھےں حالات کو سنبھالنے اور عوام کی حکومت قائم کرنے کی بجائے افغانستان کو جلتا ہوا چھوڑ گئےں کےونکہ انہوں نے اپنے مقاصد حاصل کر لئے تھے ۔ چنانچہ افغانستان بےرونی جارحےت سے آزاد ہو کر اندرونی عدم استحکام کا شکار ہو گےا ۔ جنگجوءوں نے اپنی اپنی اجارہ داری قائم کرنے کےلئے اےک دوسرے کے خلاف ہتھےار اٹھا لئے اور ےوں افغان عوام کی اےک بڑی تعداد جو واپس جانا چاہتی تھی وہ امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث نہ جا سکی ۔ 1996ء مےں جب طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی مگر ان کے سخت گےر رویے نے ان کو عوام سے دور کر دےا ۔ وہ جس قسم کا اسلام نافذ کر چکے تھے وہ کتابی طور پر شائد درست ہو مگر وقت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر نہےں رکھا گےا اور اجتہاد کا دروازہ بھی بند کر دےا گےا جس کی وجہ سے اےک بار پھر وطن جانے کی امےدےں ختم ہو گئےں اور لاکھوں مہاجرےن جو کہ کےمپوں اور ملک کے دےگر حصوں مےں رہائش پذےر تھے وہ وطن واپس نہ جا سکے اور زندگی کے مزےد کچھ ماہ و سال گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ اس دوران اسامہ بن لادن صاحب افغانستان مےں نمو دار ہوئے وہاں انہوں نے طالبان کا اعتماد حاصل کر کے امرےکہ کے خلاف کاروائےاں شروع کر دےں 11ستمبر کے واقعہ پر اسامہ بن لادن کو ذمہ دار قرار دے کر امرےکہ اور اس کے اتحادےوں نے افغانستان کی اےنٹ سے اےنٹ بجا دی ۔ افغانستان کی حکومت چلتی بنی اور پھر امرےکہ اور اس کے اتحادےوں نے افغانستان پر توجہ دےنی شروع کی ۔ ماضی مےں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزےن نے حکومت افغانستان اور پاکستان کے درمےان معاہدہ کراےا تھا جس کو سہ فرےقی معاہدہ کہتے ہےں ۔ اس معاہدہ کی بدولت 2005ء تک افغان مہاجرےن کو پاکستان مےں رہنے کی حکومت نے اجازت دی ۔ افغان مہاجرےن گزشتہ40سال سے پاکستان مےں ہےں اور اب تک ان کی تعداد مےں کوئی کمی دےکھنے مےں نہےں آئی ۔ ان برسوں مےں افغانستان کے حالات مےں جوہری تبدےلی آ گئی ، روسی فوجےں واپس چلی گئےں ،خانہ جنگی کے بعد کچھ عرصہ افغانستان مےں طالبان کی حکومت رہی پھر امرےکہ نے اپنی فوجےں وہاں داخل کر دےں ۔ امرےکی افواج کے دس ہزار سے زائد فوجی اب تک افغانستان مےں براجمان ہےں اب تو امرےکی بھی افغانستان سے نکلنا چاہتے ہےں لےکن مہاجرےن واپس جانے پر تےار نہےں ۔ جن چند ہزار لوگوں کو کبھی کبھار واپس بھےجا جاتا ہے وہ بھی اےک چکر لگا کر لوٹ آتے ہےں ۔ ےہاں 40سال تک قےام پذےر مہاجرےن کے قےام کی مدت 30جون2019ء کو ختم ہو رہی ہے اور افغان مہاجرےن کی ےہاں دوسری نسل جوان ہو رہی ہے ۔ پاکستان مےں 14لاکھ سے زائد رجسٹرڈ مہاجرےن ہےں جن مےں سب سے زےادہ خےبر پختونخواہ مےں 8لاکھ 17ہزار،بلوچستان مےں 3لاکھ 23ہزار ،پنجاب مےں 1لاکھ 64ہزار ،سندھ مےں 64ہزار ،اسلام آباد مےں 33ہزار اور آزاد کشمےر اور بلتستان مےں 4ہزار مقےم ہےں ۔ اےک سروے کے مطابق پاکستان مےں مزےد16لاکھ افغان مہاجرےن قےام پذےر ہےں جن کی ابھی رجسٹرےشن نہےں ہوئی ۔ شروع مےں تو عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزےن افغان مہاجرےن کےلئے مدد فراہم کرتے رہے تا ہم گزشتہ کئی برس سے پاکستان تن تنہا ان کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے ۔ اےسے محسوس ہوتا ہے کہ ےہ مہاجرےن اپنے وطن کی نسبت خود کو پاکستان مےں زےادہ آسودہ حال تصور کرتے ہےں ۔ پشاور مےں ٹرانسپورٹ کا سارا کاروبار افغانوں کے ہاتھوں مےں ہے ۔ شہر مےں جگہ جگہ انہوں نے اپنے کاروبار شروع کر رکھے ہےں ۔ پشاور سے باہر اسلام آباد،لاہور اور کراچی تک بھی ان کی کاروباری سرگرمےاں دےکھی جا سکتی ہےں ۔ اسلام آباد کے بعض پوش علاقوں مےں تو افغان گھرانے مقامی لوگوں سے زےادہ بہتر انداز مےں زندگی گزار رہے ہےں پاکستان کے بعد اےران دوسرا ملک ہے جس نے لاکھوں افغان مہاجرےن کو پناہ دی ۔ ہمارے ہاں تو مہاجرےن مےں سے جب کسی کا جی چاہے افغانستان چلے جاتے ہےں اور جب چاہے پاکستان آ جاتے ہےں ۔ ہماری حکومتےں ان کو مہاجر کےمپوں مےں رکھنے مےں ناکام ہو چکی ہےں اس کے برعکس اےران مےں لاکھوں مہاجرےن کےمپوں مےں ٹھہرائے گئے ہےں ۔ وہاں کوئی افغان مہاجر کےمپ سے باہر رہ کر کاروبار نہےں کر سکتا ۔ پاکستان مےں کےمپوں مےں موجود افغان مہاجرےن مےں افغانی دہشت گرد بھی موجود ہےں جو کہ پاکستان مےں دہشت گردانہ کاروائےوں مےں ملوث ہےں ۔ کچھ مہاجرےن کو ڈی پورٹ بھی کےا گےا ۔ بھارت کئی برس سے افغان سر زمےن پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے اور اس کے بہت سے شواہد منظر عام پر بھی آ چکے ہےں ۔ کوءٹہ سے بھارتی جاسوس کی گرفتاری اور اس کے بعد افغانستان کے خفےہ ادارے کے افسر کا پکڑے جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ دونوں خفےہ اےجنسےوں کا پاکستان مےں تخرےب کاری اور دہشت گردی پر تعاون موجود ہے ۔ افغانستان کے اےجنٹ نے تو ےہ بات بھی تسلےم کی تھی کہ اسے پاکستان مےں دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے سلسلے مےں ’’را‘‘ کی معاونت حاصل تھی ۔ جہاں تک افغان سر زمےن پاکستان کے خلاف استعمال ہونے کا تعلق ہے بھارت کے کئی قونصل خانے افغانستان مےں ےہی کام کرتے ہےں اور تخرےب کاروں کو تربےت دے کر پاکستان مےں داخل کےا جاتا ہے ۔ ےہ مسئلہ کوئی نےا نہےں بلوچستان مےں بھارتی مداخلت کے ثبوتوں کا تذکرہ بہت پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور ےوسف رضا گےلانی نے اپنے دور مےں اس وقت کے بھارتی وزےر اعظم منموہن سنگھ کو ثبوت بھی فراہم کئے تھے ۔ پاکستان مےں بھارتی مداخلت کے ثبوتوں پر مشتمل اےک ڈوزئےر اقوام متحدہ مےں بھی پےش کےا گےا تھا ۔ افغان مہاجرےن کی آمد کے ساتھ پاکستان مےں کلاشنکوف کلچر در آےا،ہےروئن جےسی منشےات متعارف ہوئےں ،خود کش دھماکوں کا سلسلہ چل پڑا ۔ ہمارے ہاں افغان مہاجرےن کی بڑی تعداد مختلف جرائم مےں ملوث ہے ۔ قتل ڈکےتی ،اغوا برائے تاوان اور کار چوری جےسی وارداتوں مےں افغان مہاجرےن کے جرائم پےشہ عناصر کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد موجود ہےں لےکن نہ جانے کےوں وفاق لاکھوں افغان مہاجرےن کی بلاوجہ مہمان داری جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ اےران مےں بےشتر افغان مہاجرےن کو اپنے ملک واپس بھےجا جا چکا ہے ۔ پاکستان مےں افغان مہاجرےن کی موجودگی سے پاکستان کی اقتصادی صورتحال پر منفی اثرات پڑے ہےں ۔ 30لاکھ سے زائد افغان مہاجرےن کی موجودگی مےں روز مرہ اشےائے خوردونوش اور مکانات کے کراےوں مےں ہوشربا اضافے نے پاکستانی عوام کی کمر توڑ دی ہے ۔ بدقسمتی سے جب بھی ان افغان مہاجرےن کی واپسی کی طے کردہ تارےخ آتی ہے توہمارے حکمران ان کی واپسی کےلئے نئی تارےخ مقرر کر کے اپنے عوام کے ساتھ ظلم کرتے ہےں ۔ ان کی مدت مےں ےہ بار بار کی توسےع کسی طرح ملکی اور قومی مفاد مےں نہےں آخر کب تک ان کی موجودگی کو برداشت کےا جاتا رہے گا;238; اب حالات اےسے ہےں کہ اس مسئلے کو مستقل بنےادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ امےد ہے حکومت افغان مہاجرےن کی باعزت واپسی کےلئے اپنے اعلان پر قائم رہے گی ۔

بجٹ،جولائی اور گرفتاریاں

حالیہ منظور کردہ بجٹ عوام دشمن بجٹ نہیں ہے ۔ اس بجٹ سے پہلے اور بعد کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بجٹ کو عوام کش بجٹ کہنا زیادہ مناسب ہوگا ۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر نے سچ کہا تھا کہ عوام کی چیخیں نکل جائیں گی ۔ موجودہ حکومت کے دس مہینوں میں کوئی ایسا کارنامہ نہیں ہے جس پر اس حکومت کو داد تحسین پیش کیا جاسکے ۔ لیکن اس وقت جو صورتحال ہے یہ یقینی طور پر نہایت قابل تشویش ہے ۔ سعودی عرب اور دوبئی وغیرہ سے جو رقوم ملی ہیں ۔ ان سے سرکاری خزانے کو تو فائدہ ہو ہوگا لیکن ان رقوم پر تین فیصد سے زیادہ سود دینے والے عوام کو کوئی فائدہ نہ ہوا ۔ بلکہ ان رقوم کی ایک سال بعد واپسی پر عوام تین فیصد سے زیادہ سالانہ کے حساب سے سود ادا کریں گے ۔ یکم جولائی سے سعودی عرب سے ادھار تیل پر خوشیاں منانے والوں نے اسی جولائی میں عوام کو پٹرولیم مصنوعات میں کوئی ریلیف نہیں دی ۔ بلکہ کچھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے ۔ فیس کی قیمت میں دو سو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ بجلی کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ لیکن یہ تو ابھی سالانہ بجٹ کے کرشمے ہیں ۔ جن کی وجہ سے اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں کیئے گئے اضٓفے اور ٹیکسوں کی بھرمار نے غریب عوام کی پہلے سے مہنگائی کی وجہ سے جھکی ہوئی کمر کو توڑ کر رکھ دیا ہے ۔ کاروبار بند ہو گئے ہیں ۔ کارخانے بند ہو گئے ہیں اور مزید بند ہو رہے ہیں ۔ صرف فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کی صنعت سے وابستہ ڈیڑھ لاکجھ سے زائد افراد بے روزگار ہو گئے ہیں ۔ اسی طرح گوجرانوالہ،سیالکوٹ اور دیگر صنعتی شہروں میں مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں ۔ سیمنٹ انڈسٹریز سے وابستہ ہزاروں مزدوروں کے بے روزگار ہونے کا عمل شروع ہو گیا ہے ۔ تعمیراتی کام بند ہونے سے ملک بھر میں لاکھوں مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں ۔ دکاندار صبح کے وقت دکانیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیں لیکن مارکیٹوں میں ویرانی چھائی ہوئی ہے ۔ گاہک ہی نہیں ہے ۔ پراپرٹی کے شعبے سے وابستہ افراد بے روزگار ہو رہے ہیں ۔ پراپرٹی کی خرید و فروخت بند ہو رہی ہے ۔ جب یہ حالات ہوں ۔ لوگ بے روزگار ہو رہے ہوں اور دوسری طرف مہنگائی کا سونامی ہو ۔ تو عام آدمی اس سیلاب میں غرق نہیں ہوگا تو کیا ہوگا ۔ امیروں کو تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن روزانہ کما کر کھانے والا غریب،ملازم اور مزدور کیا کرے ۔ کیا ان حالات اور کمر توڑ مہنگائی کی وجہ سے جرائم میں اضافہ نہیں ہوگا;238;اور کب تک غریب عوام یہ برداشت کر سکیں گے ۔ حکومت نے کوئی ایسا شعبہ نہیں چھوڑا جس کو نچوڑا نہ ہو ۔ اب مرے کو مارے شاہ مداد کے مصداق بڑھتی ہوئی مہنگائی نے عام لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے ۔ آئی ایم ایف جس کے کہنے پر حکومت نے عوام کا خون نچوڑنا شروع کر دیا ہے ۔ وہ چھ ارب ڈالرز دے بھی دے تو عوام کو کسی طرح کا کوئی ریلیف ملنے والا نہیں ہے ۔ کیونکہ آئی ایم ایف کے احکامات پر ہی تو یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ اس صورتحال میں بہتری کی کوئی امید یا امکان نظر نہیں آتا ۔ جولائی کا مہینہ نہایت اہم مہینہ ہے ۔ علم الاعداد کے مطابق ملکی حالات میں سیاسی اور عوامی افراتفری میں بتدریج اضافہ ہوگا ۔ حکومت الٹی سمت چل رہی ہے ۔ مہنگائی اور بے روزگاری کے مارے عوام سڑکوں پر آئیں گے ۔ اپوزیشن جماعتیں اس صورتحال سے بھر پور سیاسی فوائد اٹھانے کی کوششیں کریں گی ۔ حکومت اپوزیشن اور اجتماعی عوام کو دبانے کی ہر کوشش کرے گی ۔ لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہو سکے گی بلکہ حکومتی اقدامات کے منفی اثرات سامنے آئیں گے ۔ جولائی میں مزید گرفتاریاں نظر آرہی ہیں ۔ عوام میں ان گرفتاریوں کا نہایت منفی اثر جائے گا ۔ بے روزگاری اور مہنگائی سے عوام کا غم و غصہ اشتعال میں تبدیل ہو سکتا ہے ۔ حالیہ گرہن کے نتیھے میں نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا پر اچھے اثرات نہیں ہوں گے ۔ بعض ممالک میں حکومتیں تبدیل اور معزول ہو سکتی ہیں ۔ بعض ملکوں کے حکومتی اراکین اور لیڈرز ملک سے فرار اور بعض ملک بدر ہو سکتے ہیں ۔ پاکستان میں حکمران ناقابل تلافی غلطیاں کر سکتے ہیں ۔ جولائی اور اگست میں پاکستان اور بھارت سمیت بعض ممالک میں سیلاب اور زلزلے آسکتے ہیں ۔ جن کی وجہ سے بہت زیادہ جانی و مالی نقصانات ہو سکتے ہیں ۔ جولائی تا دسمبر بھارت میں مذہبی شدت پسندی میں اضافہ اور جانی و مالی نقصانات نظر آرہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و جبر میں اضافہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں کشمیریوں کا ردعمل انتہائی سخت بلکہ شاید فیصلہ کن ثابت ہو جائے ۔ پاکستان میں اس دوران شدید سیلاب کا خطرہ اور دہشت گردی نظر آرہی ہے ۔ اس دوران پاک فوج کا کردار نہایت اہم ہوگا ۔ عوام کے جان ومال کے تحفظ کے لیئے پاک فوج الرٹ رہے گی ۔ گرفتاریوں کے حوالے سے یہ ہے کہ جولائی میں مزید گرفتاریاں ہوں گی لیکن ان گرفتاریوں کا حکومت کا فائدہ نہیں بلکہ نقصان ہو سکتا ہے ۔ بعض سرکاری عہدیداران بھی گرفتار ہو سکتے ہیں ۔ حکومت کو چاہیئے کہ عوام کو فوری ریلیف دینے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے اور کچلنے کی پالیسی کے بجائے افہام و تفہیم کی فضاء بنائے ۔ اپوزیشن کو دبانے اور ٹیکسوں میں اضافہ مسائل کا حل نہیں ہے بلکہ ان سے حکومتی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے ۔ یہ سب ایک علم کی باتیں ہیں ۔ باقی اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے ۔ ہوتا وہ ہے جو اس کی مرضی ہو ۔

جہاد فی سبیل اللہ

جہاد اسلام میں ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ اسلام کی ساری عبادات مسلمانوں کو اس عظیم کام کے لئے تیار کرتی ہیں جس کا نام جہاد ہے ۔ صرف کلمہ پڑھ کر، نماز ادا کر کے، زکوٰۃ دے کر، رمضان کے روزے رکھ کر اور صاحب نصاب ہوتے ہوئے زندگی میں ایک بار حج کر کے بندہ مسلمانوں کی لسٹ میں توشمار ہو سکتا ہے مگر مومن تب بن سکتا ہے جب خلیفہ ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کے حکم پر عمل کرے ۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا کلمہ بلند کرے ۔ شاعر اسلام علامہ شیخ محمد اقبال;231; نے کیا نقشہ کھینچا: ۔

ہر لحظہ ہے ،مومن کی، نئی شان، نئی آن

گفتار میں ،کردار میں ، اللہ کی برہان

مسلمان کو اللہ نے اپنی اس زمین پر خلیفہ بنایا ہے ۔ خلیفہ جیسے دنیوی حکومتیں اپنے اپنے ملک کے صوبوں میں گورنر تعینات کرتی ہیں ۔ کائنات اللہ نے بنائی ہے اور اس کو اللہ ہی چلا رہا ہے ۔ کائنات پر اللہ کی مکمل حکومت ہے ۔ زمین کو اللہ کی کل کائنات کا اگر ایک صوبہ تصور کریں تو یہ بات صحیح سمجھ آ سکتی ہے ۔ اس فلسفہ کو ذہن میں رکھیں کہ انسان اللہ کی زمین میں اللہ کا خلیفہ(’نمائندہ) ہے ۔ اس کا کام اللہ کے قوانین کو اللہ کے بندوں پر نافذ کرنا ہے ۔ کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہاہو تو ان کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑا ہونا ہے ۔ اللہ نے جہاد فی سبیل اللہ کا حکم تب دیا ۔ جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرتے ہوئے گھروں سے نکال دیا ۔ مسلمان مکہ سے مدینہ مسلمان ہجرت کے مدینہ چلے گئے ۔ جب سے دنیا قائم ہے جہاد ہوتا رہا ۔ رہتی دنیا تک جہاد ہوتا رہے گا ۔ یہی کا م ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرتے رہے ۔ قرآن کے مطابق پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری بنی ہیں ۔ ان کے بعد کوئی نبی ;174; نے نہیں آنا ۔ لہٰذایہ کام امت مسلمہ نے کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا کہ’’اورتم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(البقرۃ: ۰۹۱) جہاد کے معنی کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی انتہائی کوشش کرنا ہے ۔ جنگ کے لیے تو قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ مجاہد وہ ہے جو ہر وقت اللہ کے دین کو قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا رہے ۔ اس جدو جہد میں جان بھی چلی جائے تو خوشی سے برداشت کرلیتاہے ۔ دوسری جگہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:آخرکیاوجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں ، عورتوں اوربچوں کی خاطر نہ لڑو، جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے ۔ (سورۃ النساء:۵۷) کیا اب کئی ملکوں ، خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں ایسی صورت حال نہیں کہ مسلمانوں کو مار پیٹا جارہا ہے ۔ ان کی عورتوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں ۔ ان کے نوجوانوں پر پیلٹ گنیں چلا کر اندھا کیا جارہا ہے ۔ ان کے مزاروں کو بارود سے اُڑایا جارہا ہے ۔ ان کی زری زمینوں ِ باغات اور رہائشی مکانات کو گن پاءوڈر چھڑک کر جلایا اور بارود نصب کر کے اُڑایا جا رہا ہے ۔ ہمارے پڑوس میں مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ۷۴۹۱ء سے بت پرست ہندو ظلم و ستم کے پہاڑتوڑ رہے ہیں ۔ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل نہیں کرنے دیا جارہا ۔ وہ کہتے ہیں آزادی کا مطلب کیا’’ لا الہ الا اللہ‘‘ ہم پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں ۔ وہ ہر سال پاکستان کے یوم آزادی کے میں شریک ہوتے ہیں ۔ بھارت کے یوم آزادی پر سیاہ جھنڈے لہر کر یوم سیاہ مناتے ہیں ۔ تکمیل پاکستان کی جد وجہد میں اب تک لاکھوں شہید ہو چکے ہیں ۔ فلسطین میں مسلمانوں کے گھروں پر یہودی نے ناجائز قبضہ کر لیا ہے ۔ ان کو گھروں سے نکال دیا ہے ۔ وہ دنیا میں تتر بتر ہو گئے ۔ جو فلسطینی، فلسطین میں یہودی قابض فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ان پر بمباری ، راکٹ اور ٹینکوں سے حملے کیے جاتے ہیں ۔ ان کی بستی غزہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ غزہ کو لوگ دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ مانتے ہیں ۔ اس قید خانہ کے لئے باہر سے غذا، دوائیاں ، پانی اور انسانی ضروریات کی اشیا کچھ بھی نہیں آنے دیا جارہاہے ۔ جو کچھ اسرائیل کے یہودی غزہ کے قیدیوں کو دیتے ہیں اسی پر گزارہ کرنا پڑتا ہے ۔ ظلم کی انتہا ہے کہ ایک دفعہ ترکی سے ایک بحری جہاز غزہ کے قیدیوں کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت سامان ِ ضروریات لے کر اسرائیل پہنچا ۔ اس جہاز میں دنیا کے انسانی حقوق کے نمائندے بھی شامل تھے ۔ امریکا کی ناجائزولاد اسرائیل کے فوجیوں نے کھلے سمندر میں غیر مسلح جہاز پر حملہ کیاجس میں کچھ کو شہید ہوئے اور کچھ کو قید کر لیا گیا ۔ بعد میں ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلوقات ختم کر دیے ۔ ترکی کے پریشئر پر اسرائیل نے معافی مانگی ۔ اس کے علاوہ مصر ، الجزائر،برما، چیچنیا،بوسینیا ، عراق، افغانستان اور عرب بہا ر کے موقع پر افریقی اور وسط ایشا کے مسلمان ملکوں میں استعمار نے دہشت گردی پھیلائی ۔ مظالم کی ایک لمبی کہانی ہے جو ایک مضمون میں مکمل نہیں ہوسکتی ۔ کیا حکمرانوں نے مسلمانوں پر اس ظلم و ستم ، سفاکیت اورتباہی کے متعلق کبھی تحقیق کی ہے ۔ بات یہ ہے استعمارِ جدید نے سارے اسلامی ملکوں کو ایک جدید قسم کی غلامی میں چھکڑا ہوا ہے ۔ کیا اس موقعہ پر اسلام مسلمانوں کی کچھ رہنمائی کرتا ہے;238; جی کرتا ہے ۔ مسلمانوں کو اپنی اصل کی طرف پلٹنا ہو گا ۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں نے بنو امیّہ کے دور حکومت میں نناویں (۹۹) سالوں کے اندر اندر اس وقت کے موجود، دنیاکے چار براعظموں کے بڑے حصہ پر اسلامی پرچم لہرا دیا تھا ۔ ان براعظموں کے مظلوم عوام پر اس وقت قیصر اور کسریٰ، یعنی روم ( مشرک عیسائی) اور مجوسیوں ( آتش پرست پارسی) کی حکومتیں تھیں ۔ مسلمان کی طاقت صرف اور صرف جہاد فی سبیل اللہ میں تھی ۔ جہاد فی سبیل اللہ کیا ہے;238; اسلام کا وسیع مطالعہ بتاتا ہے کہ قوم ،وطن، علاقوں پر علاقعے فتح کرنے ، خزانوں حاصل کرنے کے لئے لڑائی جہاد فی سبیل اللہ نہیں ۔ یہ دنیا کے لئے لڑائی ہے ۔ بلکہ مسلمان، اللہ کا اس زمین پر خلیفہ ہونے کے ناطے مسلمانوں یا اللہ کے بندوں پر کہیں بھی جب ظلم و ستم ہو رہا ہو تا ہے، ان کی آزادی ور انصاف دلانے کے لیے لڑا جائے تو وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ کشمیر اور فلسطین جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے ہی آزاد ہو سکتے ہیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو پھر سے پہلے والا جہادی مسلمان بنا دے ۔ پھر ساری دنیا کے مسلمان جدید استعمار، چاہے وہ یہودی،عیسائی یابت پرست ہندو ہو، مکمل آزادی نصیب فرمائے گا آمین ۔

وفاقی کابینہ کے تاریخ ساز فیصلے

پروڈکشن آرڈر کے حوالے سے حکومت وقت کا فیصلہ عین حالات کے مطابق ہے، ہمارا دنیا بھر میں واحد ملک ہے جہاں پر ان ملزمان کو جو پابند سلاسل ہیں ایسی نایاب قسم کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جہاں وہ فلور آف دی ہاءوس آکر حکومت کو خوب آڑے ہاتھوں لیتا ہے، کیچڑ اچھالتا ہے ، دیگر اجلاسوں میں شرکت کرتا ہے بلکہ اب یوں کہیں کہ کئی اجلاسوں کی صدارت بھی کرتا ہے، فیصلے صادر کرتا ہے اور پھر واپس پابند سلاسل کردیا جاتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے صحیح کہا کہ پروڈکشن آرڈر کے قوانین میں ترامیم کی جانی چاہئیں تاکہ ملزمان قومی و صوبائی اسمبلی میں آکر مختلف قسم کی لغویات استعمال نہ کرسکیں ، حیران کن بات یہ ہے کہ ایک صوبائی اسمبلی کا اسپیکر جس کو گرفتار کیا گیا اس کے گھر سے مختلف ناجائز مال و دولت اور زیورات برآمد ہوئے پھر اس کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے ، اس نے آکر اجلاس کی صدارت کی اور اب بھی وہ کررہا ہے ۔ اگر ان قوانین کو گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ اس اعتبار سے حکومت کو چاہیے کہ وہ اس تاریخی اقدام کو عملی جامہ پہنائے اور آئندہ کیلئے کوئی بھی ملزم چاہے اس کا کسی بھی ایوان سے تعلق ہو اس کے پروڈکشن آرڈر کسی صورت جاری نہیں ہونے چاہئیں ۔ پھر ساتھ ہی عمران خان نے یہ بھی کہاکہ ان ملزمان کو سیاسی پروٹوکول نہیں ملنا چاہیے ۔ ہم تو یہ کہیں گے کہ سیاسی پروٹوکول کیا چیز ہوتی ہے کسی بھی قسم کا پروٹوکول نہیں دینا چاہیے، ملزم ملزم ہوتا ہے اس کو سزا ملنی چاہیے، پتہ چلنا چاہیے کہ جیل کیا چیز ہے بلکہ دیگر قیدیوں سے ان لوگوں کو زیادہ صعوبتوں میں رکھنا چاہیے اور کرپشن کے الزام میں گرفتار ملزم کو قطعی طورپر کوئی چھوٹ نہیں بلکہ زیرو ٹالرنس پر عمل کرنا چاہیے ۔ اس سلسلے میں حکومت کو چاہیے کہ وہ جیل میں مینول میں بھی تبدیلی کرے بلکہ انہیں چکی میں رکھے تاکہ یہ جلد ازجلد پیسے برآمد کراسکیں ۔ جیل تو ان لوگوں کیلئے جیل کم اور جنت زیادہ ہوتی ہے وہاں پر اے اور بی کلاسز الاٹ کراتے ہیں مزید مال، دولت لگا کر ہسپتال داخل ہوجاتے ہیں اور اسی طرح قید گزر جاتی ہے ۔ وفاقی کابینہ میں کیے جانے والے فیصلے انتہائی مستحسن ہیں البتہ جہاں تک چالیس ہزار روپے کے پرائز بانڈز کے خاتمے کا معاملہ ہے تو اس سے یقینی طورپر کاروبار متاثر ہوگا، 40ہزار کے بعد 25 ہزار اور پھر شاید 15 ہزار کا نمبر بھی آجائے ۔ حکومت کو چاہیے یہ تھا کہ چالیس ہزار کے پرائز بانڈ کو ختم کرنے کی بجائے ان کو جو بھی اس کامالک تھا اس کے نام رجسٹرڈ کرتے تاکہ یہ کاروبار بھی چلتا رہتا اور حکومت کے نیٹ ورک میں دولت کا حساب بھی آجاتا پھر وہ ان سے ٹیکس وصول کرتی تو یہ زیادہ بہتر تھا ۔ وفاقی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کو ہدایت کرتے ہوئے کہاہے کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن میں ملوث ارکان کے پروڈکشن آرڈرجاری نہیں ہونے چاہئیں ارکان اسمبلی پروڈکشن آرڈر کا غلط فائدہ اٹھاتے ہیں انہیں سیاسی قیدیوں کا پروٹوکول نہ دیا جائے حکومت کا راناثنا اللہ کی گرفتاری سے کوئی تعلق نہیں ۔ وفاقی کابینہ نے اولڈ ایج ہومز کے قیام کےلئے سینئر سٹیزن بل 2019اور نیشنل کمیشن برائے حقوق اطفال کے قیام کی اصولی منظوری دیدی سعودی عرب کی جانب سے حج 2019کے اضافی کوٹے کو سرکاری حج اسکیم کے تحت بروئے کار لانے، اسلام آباد میں ماڈل جیل کی تعمیر میں بے ضابطگیوں کا معاملہ تحقیقات کےلئے ایف آئی اے کے حوالے کرنے، اور ملکی ایئر پورٹس کے بہتر انتظام کو یقینی بنانے کےلئے ایک ہفتے میں مستقبل کا لاءحہ عمل مرتب کرنے کا فیصلہ کیا ہے کابینہ نے زبیر گیلانی کو چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ شاہ جہاں مرزا کو ایم ڈی پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ تعینات کرنے چالیس ہزار مالیت کے نیشنل پرائز بانڈز(حامل ہذا) ختم کرنے کی منظوری دیدی ۔ بانڈ کیش کروانے کےلئے مناسب وقت دیا جائےگا ۔ وزیراعظم پہلی حج پرواز میں روانہ ہونے والے عازمین حج کو خود رخصت کریں گے ۔ کابینہ کا اجلاس وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وزیراعظم آفس میں منعقد ہوا ۔ اجلاس کے بعد معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ جیلیں جرم کرنے والوں کو نشان عبرت بنانے کیلئے قائم کی جاتی ہیں لیکن جو لوگ لوٹ مار کرکے بد حالی اور تباہی کے ذمہ دار ہیں وہ جیلوں میں اے کلاس لیکر اور پروڈکشن آرڈر لیکر پاکستان میں ایک عام قیدی کے منہ پر طمانچہ ماررہے ہیں ایک مجرم کے دل کی دھڑکن کوٹھیک رکھنے کیلئے 21ڈاکٹر ز کی ٹیم ہے دل کا کونسا مریض ہریسہ اورسری پائے کھاتاہے نواز شریف کی صحت کےلئے گھر کے مرغن کھانوں کی بجائے جیل کا پرہیزی کھانا زیادہ مناسب ہے 71 سالوں میں ان کا جو علاج کوئی اور نہیں کر سکا وہ عمران خان کر رہے ہیں ۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ پہلی حج پرواز جمعہ کے روز روانہ ہوگی اس پرواز کے تمام مسافروں کے لئے امیگریشن کا تمام عمل اسلام آباد میں ہی مکمل ہوگا ۔ فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ کابینہ نے شمالی کوریا کے شہریوں کے لئے پاکستانی ویزوں کے حوالے سے طریقہ کار کی بھی منظوری دی ہے ۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اسلام آباد کے نئے ماسٹر پلان کو حتمی شکل دینے کے عمل کو جلد از جلد مکمل کیا جائے ۔ اجلاس میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سنٹر کراچی، نیشنل انسٹیٹیوٹ آف کارڈیو ویسکولر ڈزیزز کراچی اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کی صوبوں سے وفاقی حکومت کو منتقلی کے معاملے کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اس ضمن میں سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا اور عدالت کو وفاقی حکومت کی مالی مشکلات سے آگاہ کیا جائے گا ، عدالت کو مطلع کیا جائے گا کہ اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں سے معاملات طے کئے جائیں گے تاکہ صوبائی حکومتیں ان کا انتظام جاری رکھیں ۔ توانائی کے شعبے میں ڈسکوز کی نجکاری کے حوالے سے بھی بریفنگ دی گئی ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ حکومت نے متوازن بجٹ پیش کیا ہے، بعض عناصر اپنے مفادات کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں تاہم استقامت اور مستقل مزاجی سے ایسے عناصر کی سازشوں کا مقابلہ کرنا ہے ۔

پاکستان کی سفارتی سطح پر زبردست کامیابی

امریکہ نے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی اور جیش العدل کو دہشتگردتنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کر دیا ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے )کو دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کر لیا گیا ہے جبکہ جیش العدل کا نام بھی دہشتگردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان تمام تنظیموں کے اثاثے منجمد کیے جائیں گے اور یہ امریکہ میں دہشتگرد تنظی میں تصور ہونگی ۔ بی ایل اے کا نام دہشتگرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہونا پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے ۔ بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دیئے جانا اس کے دہشتگرد ہونے کا واضح ثبوت ہے ۔ ان کو دہشتگرد تنظی میں قرار دینے کےلئے اقوام متحدہ سے بھی درخواست کی جائے گی ۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے امریکہ کی جانب سے کالعدم بی ایل اے کودہشت گرد تنظیم قرار دینے کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ بی ایل اے کو پاکستان میں 2006 میں دہشت گرد قرار دیا گیا تھا،امیدہے بی ایل اے کوبیرونی تعاون دینے والوں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا ۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کالعدم بلوچستان لبریشن ;200;رمی نے پاکستان میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کیں ، امید ہے کہ امریکی اقدام سے کالعدم بی ایل اے کی کارروائیاں کم ہونگی ۔ امید ہے کہ کالعدم بی ایل اے کے کارندوں ، سہولت کاروں اور مالی تعاون کرنے والوں کوپکڑا جائیگا ۔

بھارتی فضائی صلاحیتیں انتہائی ناقص ہیں

امسال 27 فروری کو پاکستان نے اپنی حدود میں رہتے ہوئے بھارتی علاقہ میں چھ جگہوں پر نشانہ بازی کی ۔ اس کے ساتھ ہی دو بھارتی مگ 21 جو ایک دفعہ پھرہماری فضائی حدود عبور کر کے اندر آگئے تھے، کو ہمارے شاہینوں نے نشانہ بنایا اور دونوں طیارے مار گرائے ۔ ایک طیارہ آزاد کشمیر کے علاقے میں گرا جس کا پائلٹ ابھی نندن گرفتار ہوا جبکہ دوسرا طیارہ مقبوضہ کشمیر میں گرا ۔ اسی ہزیمت کو لے کر بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کی صدارت میں فوجی افسران کے اجلاس میں بعض جرنیلوں کا کہنا تھا کہ 27 فروری کو پاکستانی طیاروں کے مقبوضہ کشمیر میں گھس کر اپنے ٹارگٹس حاصل کرلینے سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری فضائی صلاحیتیں کتنی کمزور ہیں لہذا بھارت نے پاکستان کی سرحد پر ائیر ڈیفنس یونٹ تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بھارتی فوجی افسران نے بھارتی فضائی صلاحیتیں کمزور ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بالا کوٹ ائیر اسٹرائیک کے بعد پاکستان کا ہماری حدود میں داخل ہونا یہ ثابت کرتا ہے وہ ہماری کمزوریوں سے واقف ہے لہٰذا ہ میں اپنے ائیر ڈیفنس یونٹوں کو جدید ٹیکنالوجی سے لیس کر کے پاکستانی سرحدوں کے قریب تعینات کرنا چاہیئے تاکہ آئندہ کبھی ایسا واقعہ ہو تو ائیر ڈیفنس یونٹس بروقت جواب دے سکیں ۔ اسی سلسلے میں ریاست جموں و کشمیر کے کئی سرحدی علاقوں میں عارضی ایئر بیس قائم کیے جا رہے ہیں جو پاکستان کی کسی بھی ایئر سٹرائیک کی کوشش کو فوری طورپر ناکام بنا سکتے ہیں ۔ ونگ کمانڈر ابھی نندن کی گرفتاری سے پوری دنیا میں بھارت کی جگ ہنسائی ہوئی اورجوانوں کا مورال بھی ڈاوَن ہوا ۔ پاکستان نے بھی بھارتی فضائی جارحیت کا توڑ کرنے کےلئے سرحد پر اپنی فضائی اور زمینی حدود کی حفاظت کے لیے نیا ائیر ڈیفنس سسٹم تعینات کر دیا ہے جس میں کم رینج والے زمین سے ہوا میں مار کرنے والے میزائل، نگرانی کرنے والے ریڈار اور ڈرون شامل ہیں ۔ دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے لیے سرحدوں پرزمین سے ہوا میں مار کرنے والے ایل وائے80 میزائل اور آئی بی آئی ایس150 ریڈار کے پانچ یونٹ نصب کر دیے ہیں ۔ میزائلوں اور ریڈار کے علاوہ پاکستان نے رین بو سی ایچ4 اور رین بو سی ایچ5 ڈرون بھی سرحد پر تعینات کیے ہیں تا کہ بھارت کے کسی بھی جہاز کی آمد کا پیشگی پتا لگایا جا سکے ۔ اسی طرح بھارت نے پاک سرحد کے قریب جنگی مشقیں شروع کرنے کا بھی پروگرام بنایا ہے ۔ ان مشقوں میں ایسے جدید ہتھیار وں کو بھی استعمال کیا جائے گاجو بھارتی فوج کو جدید ترین فوج بنانے کےلئے حاصل کیے گئے ہیں ۔ ان مشقوں کا مقصد صرف اور صرف پاکستان پر اپنی حربی دھاک بٹھانا اور اسے دھمکانا ہے ۔ بھارت کی اس کمینگی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مکار ہندو بنیا کس حد تک جا سکتا ہے ۔ ایک طرف تو بھارتی سرکارکہتی ہے کہ ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے اس لئے مذاکرات کا عمل ٹوٹنے نہیں دیں گے تو دوسری طرف پاکستان پر فضائی حملہ بھی کر دیا جاتا ہے ۔ یہ صورتحال ہندو بنئے کے متعلق مشہور کہاوت ’’بغل میں چھری منہ پر رام رام‘‘ کی جیتی جاگتی تصویر ہے ۔ اگر آپ کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے تو اس کی ترقی، بقاء اور خوشحالی کےلئے اقدامات کرنے چاہیں ۔ اس کی سالمیت کو یقینی بنانا چاہیے چہ جائیکہ آپ کے طیارے سرحد پار کر کے ویرانے میں اسلحہ گرا کر بھاگ جائیں ۔ یوں بھارت نے پیغام دیا ہے کہ امریکہ اور دیگر ممالک سے پہلے ہم تمہارے سر پر لٹھ لئے کھڑے ہیں ۔ بھارت میں جنگی جنون تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور وہ اپنے عزائم کی تکمیل کےلئے جدید ترین اسلحہ اور ہتھیاروں کے انبار جمع کر رہا ہے ۔ بھارت یہ تمام اسلحہ،جدید طیارے، ٹینک، طیارہ بردار جنگی جہاز، آبدوزیں پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت ڈھرا ڈھر روس، امریکہ ، سویڈن، برطانیہ، فرانس سمیت کئی ممالک سے جنگی سازو سامان اور طیارے خرید رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ بھارت یہ ہتھیارپاکستان کے خلاف ہی استعمال کرے گا تبھی تو جنگی مشقوں کے نام پر ان کی رونمائی کی جا رہی ہے ۔ یہ حیران کن بات ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ دوستی اور خطے میں پرامن ماحول کے لئے مذاکرات چاہتا ہے مگر دوسری جانب بھارت کے معاندانہ جنگی عزائم میں ذرہ بھر کمی نہیں آرہی اور بھارت ایک کے بعد دوسرا ایسا قدم اٹھا رہا ہے جس سے پاکستان کی سلامتی اور حمیت پر حرف آتا ہے ۔ پاکستان واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے جس کی فوج دنیا کی کسی بھی فوج کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 2002ء میں بھی بھارت اپنی فوج سرحد کے ساتھ لگانے کے باوجود حملے کی جرات نہ کر سکا ۔ پاکستانی قوم اپنی سرحد کے چپہ چپہ کا تحفظ کرنے کےلئے خون کا آخری قطرہ بہانے کو تیار ہے اور اس بات کا بھارت کے حکمرانوں کو بھی علم ہے ۔ بھارت کبھی پاکستان کا دوست نہیں رہا اور نہ رہے گا ۔

رواداری کی ضرورت!

آج کے دور کا اہم مسئلہ سماجی نا انصافی ہے عام آدمی معاشی جبر کا شکار ہے اور یہ سرمایہ دارانہ نظام لوٹ کھسوٹ کو روا رکھتا ہے اور ا س نظام نے انسانیت کو بھیڑیوں کے حوالے کردیا ہے محنت کش، مزدور اور کم آمدنی والے لوگ حیوانوں جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان پر ناجائز ٹیکسز تو لگائے جاتے ہیں مگر ایک زرعی ملک ہوتے ہوئے بھی عوام چینی اور آٹے کی تلاش میں ایسے زلیل ہوتے نظر آتے ہیں گویا وہ افریقہ کے کسی قحط زدہ علاقے کے باشندے ہو ۔ وصول تو یہ ہونا چائیے کہ جو چیز بیچتا ہے وہ ٹیکس ادا کرے مگر ہمارے ہاں جو سرمایہ داریت ہے اس کا اصول نرالہ ہے یہاں جو چیز خریدتا ہے وہ ٹیکس ادا کرتا ہے اور وہ بھی دوہرا ور تہرا ٹیکس،ایک مہنگائی اور پھر دوہرا ٹیکس یہ مظلوم انسانیت کیلئے عذاب ہے اس کے نتیجے میں غریب آدمی کی کمر جھکتی چلی جاتی ہے اور سرمایہ دار کی توند بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ عوام کے سامنے میڈیا کے ذریعے جمہوریت کا ڈھنڈورہ بھی پیٹا جاتا ہے لیکن یہ جمہوریت کے نام پر سرمایہ داروں کا سٹیج ڈرامہ ہے جو عوام کو طفل تسلی کے طور پر کھیلا جاتا ہے ۔ حالانکہ دیکھا جائے تو جمہوریت میں اولین چیز عوام کا باشعور ہونا ہے،ووٹر کو معاشی طور پر مضبوط ہونا چاہیے اور ان کی سوچ آزاد ہونی چائیے ۔ ہمارا ذہن مغربی میڈیا بناتا ہے اور مغربی پروپیگنڈے نے ہماری آنکھوں پر ایسی پٹی باندھی ہے کہ ہم وہی کچھ ےاد کرتے ہیں جو ہ میں یہ میڈیا پڑھاتا ہے در اصل ہم نے خولوں میں بند ہوکر سوچنا شروع کیاہے اور کنویں کے مینڈک بنے ہوئے ہوئے ہیں اور آٹے کی تلاش اور روٹی کے چکر نے سب کو چکرادیا ہے یہاں تک کہ ہم آزادی سے واقفیت تک بھول گئے ہیں جب پورے ملک کے وسائل پر چند خاندان قابض ہو اور ملک کے دفاع تک سامراجی بیساکھیوں کی ضرورت ہو ملک کا اسی فیصد چند خاندانوں کے ہاتھ میں ہو اور پھر بھی عوام کی اور ملک کی ترقی کی بات کی جائے تو اس سے حسین مزاق اور کیا ہو سکتا ہے;238;پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس ملک کی اکثریت کا پیشی زراعت ہے اور اکثریتی لوگ بھی اس پیشے سے وابستہ ہیں اس کے باوجود اس ملک میں چینی اور آٹے جیسے بحران کا پیدا ہونا ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ملک میں غلہ کی قلت ہے کیونکہ نہ کوئی طوفان آیا ہے اور نہ ملک میں قحط آیا ہے اور نہ ہی ملک کو جنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ دشمن نے ہمارا سب کچھ ملیا میٹ کردیا ہے بلکہ یہ سب کچھ سرمایہ داروں کا کیا دھرا ہے جنہوں نے اپنے سرمایہ کا حجم بڑھانے کیلئے مصنوعی قحط کی کیفیت ملک میں پیدا کرکے کروڑوں کمائے اور یہ پہلا موقع بھی نہیں ہے کہ ایسا ہوا ہے بلکہ اس ہے پہلے بھی ایسا ہوتا رھا ہے کابھی آٹے کا بحران پیدا کیا جاتا ہے اور کبھی چینی کا اشیائے صرف مارکیٹ سے غائب کر کے سرمایہ دار چند دنوں اربوں کمالیتے ہیں ۔ موجودہ ملکی سیاسی صورت حال اتنی سنگین ہو گئی ہے کہ دوست اور دشمن کی تمیز ختم ہوگئی ہے اورعام آدمی کے لیے یہ سمجھ پانا مشکل ہو گیا ہے کہ ملک کا دوست کون ہے اور دشمن کون ہے;238; قومی سطح پر اگر دیکھا جائے تو صاف طور پر یہ نظر آرہا ہے کہ موجودہ سیاست متضاد نظریات سامنے آرہے ہیں میڈیا پر غوغا آرائی ہورہی ہے مختلف ٹاک شوز کے ذریعے تماشا لگا یا جاتا ہے لوگوں کو الجھایا جارہاہے، مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے بس لفظی مقابلہ کیا جنگ ہوتی ہے ، زبان درازی کو خوب فروغ مل رہا ہے اور کبھی کبھی گالی گلوچ کا تبادلہ بھی ہوتا ہے اور اوراس طرح میڈیا عوام کے ذہنوں میں خلفشار پیدا کر رہا ہے اور اس پر خوشی کا اظہار بھی کیا جارہا ہے کہ میڈیا آزاد ہے ۔ فرقہ پرستی اور مسلک پرستی کے جراثیم نے پورے ملک کو آلودہ کردیا ہے ۔ جس کے باعث ایماندار اور ذمہ دار شہریوں میں پایہ جانے والا اضطراب اور بے چینی فطری ہے ۔ سیاست کے اس خوفناک ماحول نے بہار کے حساس او ربا شعور لوگوں کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے ۔ بار بار کے تجربات نے عوام بہت حساس اور با شعور کردیا ہے اور اگر ماحول اسی طرح رہا تو خلاف توقع واقعہ رونما ہوسکتا ہے جو شاید اس بوسیدہ نظام کو دھڑام سے بھی گراسکتا ہے، لوگوں کا سڑکوں پر نکلنا ایک خطرناک علامت ہے ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی اور سیاسی تنظیموں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ بھی فرقہ واریت اور مسلکی منافرت پھیلا کر اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں سے ہوشیار رہنے اور ہر حال میں ہم آہنگی، امن و بھائی چارہ، پیار و محبت اور مشترکہ تہذیبی اقدار کی حفاظت کے لیے عوام کو بیدار رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔ اسلام اللہ تعالیٰ سے رشتہ مضبوط کرتا ہے اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ اسلام کے اس عالمگیر انسانیت کے پیغام کو عام کرنا ہر مسلمان کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے ۔ اس پوری دنیا میں بد امنی کا ماحول ہے اور خاص کر ہمارے خطے میں سامراج نے مقدس عنوان کے تحت دہشت گردی کو عام کردیا ہے اور کلاشنکوف کلچر کو پروان چڑھادیا ہے جس سے لوگ مضطرب، بے چین اور پریشان ہیں ۔ اسے دور کرنے کی بے حد ضرورت ہے ۔ عالمی امن کے لیے ’’جہاں امن کے کانفرنس‘‘ اور روحانی اور پاکیزہ پروگرام کے انعقاد وقت کی ضرورت ہے وہاں قلم کو بطور ہتیار استعمال کرنے اور ادب اور شاعری کے ذریعے دلوں کو جوڑنا ضروری ہوجاتا ہے ۔ لیکن یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہوتا ہے جب ملک میں صالح نظام موجود ہو جہاں انارکی ہو وہاں یہ نسخہ کارگر نہیں ہے وہاں انقلابی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے اور اس جدوجہد کے دوران بھی قلم ہی کا کردار ہوتا ہے ۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ انقلابی جدوجہد کے دوران شعراء اور ادیبوں نے قلم کا استعمال کیا ہے اور ’’ہاتھوں کو مسلح کرنے سے پہلے دماغ کو مسلح ‘‘کرنے کا پیغام پہنچایا ہے ۔ تاریخ اس کی گواہ ہے کہ مسلمانوں نے ناموافق حالات میں بھی انسانیت کے بنیادی اصولوں سے انحراف نہیں کیا ہے او رہر دور میں وہ محبت و انسانیت کی شمع جلاتے رہے ہیں اور انسانیت کے مابین تفریق کو ختم کرکے ان کو صرف ایک محبوب کے رنگ میں رنگ جانے اور اس کے آگے سر جھکا دینے کا درس دیا ہے اور سچائی پر مبنی یہ پیغام دیا کہ’’ پیار و محبت امن کا راستہ ہے‘‘ ۔ انسا نیت کا یہ درس دیتا ہے انسان کا احترام ہونا چائیے ۔ اس پیغام کو گھر گھر پہنچانے کی بھی کوشش ریاستی اداروں اور سماجی اور سیاسی تنظیموں کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے ۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ملک کی اصلی طاقت اتحاد اور یکجہتی ہے ۔ دلوں کو جوڑنے والے لوگ ہر دور میں رہے ہیں آج بھی موجود ہیں اور رہیں گے ۔ محبت کی شمع نہ کبھی بجھی ہے او رنہ کبھی بجھے گی ۔ اور اس کے مقابل دلوں کو توڑنے والے لوگ بھی ہر دور میں رہے ہیں اور آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں اوران کی سازشوں سے دنیا تنگ ہے ایسے لوگوں کی سازشوں کو ناکام بنانے کا بس ایک ہی راستہ ہے کہ دلوں کو جوڑنے اور محبت کا چراغ روشن رکھنے کی مہم کو مسلسل جاری رکھا جائے اور یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جیت بالآخر روشنی کی ہی ہوتی ہے ۔ ملک میں مسلک اور فرقہ کے نام پر جو سیاست ہو رہی ہے اس کے نہایت ہولناک نتاءج نکل رہے ہیں ملک اب صرف دہشت گردی تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ فرقہ پرستی اور لسانیت کے لپیٹ میں ہے ۔ فرقہ پرست سیاست سب سے پہلے دوسرے مسلک کے ماننے والوں کے خلاف نفرت پھیلاتے ہیں حالانکہ دین لوگوں کو جوڑتا ہے، توڑتا نہیں ہے، مگر آج کی سیاست لوگوں کو ذات پات ، مسلک اور لسانیت کی بنیاد پر تقسیم کر رہی ہے ۔ اس تقسیم کو ختم کرنے میں اہل قلم کا کردار بہت اہم ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ ’’جب سیاست لڑکھڑاتی ہے تو ادب اسے سنبھالتا ہے ۔ ‘‘ یہ جملہ آج پوری طرح سچ ثابت ہو رہا ہے ۔ تاریخ کا یہ سبق ہے کہ جہاں ایک طرف کچھ لوگ سیاست کو پراگندہ کر تے ہیں اور مسلک، فرقہ، ذات اور زبان کی بنیاد پر تقسیم کرکے مفاد پرستی کی سیاست کر تے ہیں ، تو دوسری طرف ادیب، شاعرو ادیب اورصحافی اورقلم کا ر کثرت میں وحدت کا پیغام عام کرنے کی کوشش میں مصروف ہوتے رہے ہیں ۔ یہ لوگ سماجی ہم آہنگی کیلئے انسانیت، محبت، رواداری اور اتحاد و اتفاق کی شمع روشن کرکے ملک کے شیرازہ کو بکھیرنے کی سیاسی سازش میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کرنے اور شعوری بیداری کا فریضہ پورا کرتے ہیں ۔ شاعر اور ادیب جہاں لب ورخسار اور محبوبہ کے نقش ونگار اور اس کی موٹی موٹی آنکھوں ، سیاہ زلفوں کی درازیوں اور جمالیاتی حسن کو موضوع بحث بنا کر یادکرتے ہیں وہاں وہ دھرتی میں بھی محبت عام کرنے کی بات کرتے ہیں اور دنیا کو یہ باور کراتے ہیں کہ انسانیت کے مابین محبت رشتے کا قومی ترقی میں اہم کردار ہوتا ہے اس لیئے اس رشتے کو مضبوط بنایا جائے ۔ محبت کی طاقت جیسے جیسے کمزور ہوتی ہے، اسی تناسب سے نفرت کا اندھیرا بڑھتا چلا جاتا ہے دلوں کو جوڑنے کے کام میں شاعروں اور ادیبوں نے ہردور میں اپنا حصہ ڈالا ہے اورفرقہ پرستی اور فسطائی قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا ہے اور موٹی موٹی آنکھوں کے تذکرے اور لب ورخسار کی حاشہ آرائیاں در اصل اس عظیم مشن کے استعارے ہیں جسے بنیاد بنا کر انہوں نے عظیم مشن کی تکمیل کی ہے اب وقت کا تقاضا ہے کہ تشدد کا راستہ ترک کر کے قلم کو بطورہتھیار استعمال کیا جائے تو کوئی شک نہیں کہ ترقی کے منزل کو پہنچنا آسان ہوجائیگا! ۔

جماعت اسلامی کراچی کا مہنگائی کیخلاف عوامی مارچ (2)

گزشتہ سے پیوستہ

الطاف کا جواب تھا کہ ہم جیت گئے ہیں ۔ اب آپ سیاسی سرگرمیاں بند کر کے گھر بیٹھو ۔ کراچی کے کالجوں میں اسلامی جمعیت کے کارکنوں کو زدوکوب کیا ۔ صرف کراچی ضلع جنوبی کے ایک پروگرام اسلامی جمعیت طلبہ کے تقریباً تیس زخمی کارکنوں کو پریس کے سامنے پیش کیا گیا ۔ پولیس کی وردی میں جماعت اسلامی کے درجنوں کارکنوں کو چند دنوں میں شہید کیا ۔ جب مرحوم قاضی حسین احمد سابق امیر جماعت اسلامی پشاور تا کوءٹہ، اپنا کاروان دعوت و محبت کا قافلہ لے کرکراچی ،لیاقت آباد سے گزرے تودہشت گرد الطاف نے چھوٹے چھوٹے بچوں سے قافلہ پر پتھراءو کرایا تھا ۔ اسی طرح کراچی کے کچھ حلقوں میں ضمنی انتخابات کے موقع پر قاضی صاحب کے جلوس پر اورنگی میں بھی پتھراءوکرایا ۔ پویس کی وردیاں پہن کر الطاف کے غنڈوں نے جماعت کے درجنوں کارکنوں کو شہید کیا ۔ قاضی صاحب نے صبح ایک کارکن کی دوپہر کو دوسرے اور رات گئے تیسرے کی نماز جنازہ الطاف کے گھر ۰۹ کے قریب عزیز آباد کے گراءونڈ میں پڑھائی ۔ مجھے اچھی طرح سے یادہے کہ قاضی صاحب نے ہاتھ اُوپر کی طر ف اُٹھا ئے ۔ اللہ سے فریاد کی کہ اے اللہ آپ کسی کو بھی بد دعا سے منع فرماتے ہیں ۔ الطاف کے غنڈوں نے میرے کارکنوں پر مظالم کی انتہا کر دی ہے ۔ اللہ تو ہی ان سے مظالم کا بدلہ لے ۔ اس کے بعد ایم کیو ایم حقیقی بنی تھی ۔ شہر میں بینر لگے، جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے ۔ دونوں طرف سے خون ریزی شروع ہوئی ۔ ایک دوسرے کے ہزاروں کارکنوں کو قتل کیا گیا ۔ اُس زمانے میں قاضی حسین احمد کراچی کے کارکنوں کا حوصلہ بلند کرنے کراچی تشریف لاتے توا لطاف کسی نہ کسی جماعت کے کارکن کو بے قصور شہید کرا دیتا ۔ ایک دفعہ تنگ آکر قاضی حسین احمد نے ناظم آباد کے ایک جلسہ میں الطاف حسین کو للکار کر کہا تھا ۔ الطاف کان کھول کے سن لو ۔ کراچی کی ہی گلیوں کے میرے کارکن، اگر افغانستان میں روسیوں سے لڑ سکتے ہیں تو کراچی میں تمہارے ہزار، دو ہزار دہشت گردوں کو بھی سیدھا کر سکتے ہیں ۔ مگر ہم اپنے دستور کی مطابق سیاسی ا ختلافات پر کسی کی جان لینے کو اسلام کے خلاف سمجھتے ہیں ۔ مجھ جیسے ہزاروں جماعت اسلامی کے بوڑھے کارکنوں نے یہ ظلم ستم اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں ۔ آج جب کراچی عوامی مارچ میں سہراب گوٹھ تا قائد اعظم کراچی کے عوام کا سمندر اُمڈ آیا ۔ مجھ جیسے ہزاروں بوڑھے جن کی آنکھوں کے آنسو اسلامی نظام زندگی کے لیے ترستے رہے اور اب خشک ہونے کو ہیں ۔ کراچی کے عالی شان مارچ کو دیکھ کر بے حد خوش ہوئے کہ کراچی اپنے حقوق کے لئے تازہ دم ہے ۔ جماعت اسلامی ہی پاکستان میں اسلامیِ نظامِ حکومت اور عوام، خاص کر کراچی کے عوام کو حقوق دلا سکتی ہے ۔ کراچی کی تلخ تاریخ اور جماعت اسلامی پر دہشت گرد الطاف کے ظلم کی کچھ داستان بیان کرنے کے بعد اب جماعت اسلامی کے کراچی عوامی مارچ کی بات کرتے ہیں ۔ ٹھیک چار بجے شہر کے ہرطرف سے قافلے مارچ میں شرکت کے لئے سہراب گوٹھ پہنچنے شروع ہو گئے ۔ مارچ میں بچے، بوڑھے ، خواتین، نوجوان،اور جے آئی یوتھ کے نوجوان موٹر سائیکلوں کی ریلیوں اور جماعت اسلامی کے سبز پرچموں کے ساتھ جماعت اسلامی کراچی کے دفتر نزد مزار قائد ;231; مغرب سے چند منٹ پہلے پہنچے اور ہیڈ پلوں سے مارچ پر پھولوں کی بتیوں سے گل پاشی کی گئی ۔ راستے میں جگہ جگہ مختلف مقامی لیڈروں نے خطاب کیا ۔ جس میں سندھ اسمبلی کے لیاری سے منتخب سید عبدلرشید صاحب نے بھی خطاب شامل ہے ۔ مزار قائد;231; کے پا س سندھ کے امیر محمد حسین محنتی اور امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان اور نائب امیر کراچی اسامہ رضی صاحب نے خطاب کیا ۔ کراچی کے حقوق کےلئے ایک مفصل قرارداد منظور کی گئی ۔ کلیدی خطاب میں سینیٹر اور امیر جماعت اسلامی جناب سراج الحق صاحب نے فرمایا کہ آئی ایم ایف کی غلامی قبول نہیں ۔ عمران خان نے قوم سے کہا تھا کہ میں جھوٹ نہیں بولوں گا ۔ مگرعمران خان مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں ۔ ہم پیپلزارٹی اور نون لیگ کی سیاست کا حصہ نہیں بنے گے ۔ اپنے پلیٹ فارم سے تھرڈ اپوزیشن کے طور پرعوام کے درمیان موجود رہیں گے ۔ اس حکومت سے اب عوام کو کوئی بھی توقعات نہیں ۔ ہم ۲۱ ;241;جولائی کو ملتان میں عوامی مارچ کریں گے ۔ عوام اسلامی نظام حکومت کے قیام کےلئے جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ یہ جدوجہد خون کے آخری قطرے تک جاری رہے گی ۔ انہوں نے کہا حکومت کا کوئی وژن نہیں ۔ مرغی کے انڈے اور بکری کے بچے فروخت کر کے ملک کی معیشت کوکیسے درست کر سکتے ہیں ;238; حکومت سینماءوں کی تعداد بڑھا کر عوام کے کون سے مسائل حل کرے گی ۔ حکومت نے ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کےلئے بھی کچھ نہیں کیا ۔ بھارت سے مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر بات نہیں ہو سکتی ۔ سودی معیشت میں ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔ ہمارا نیب اور حکومت سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں ۔ ہم عوام کے مسائل حل کرانے گھروں سے نکلے ہیں ۔ پچاس لاکھ گھر کہاں ہیں ۔ جہاں تو پچاس لاکھ ٹینٹ بھی نہیں ۔ ڈیزل اورپٹرول تو باہر سے آتا ہے مگر چینی چاول سمیت دیگراشیا کو کیوں مہنگا کیاگیا، کیا شوگر مافیا کو فائدہ پہنچانا تھا;238; عدالت عظمیٰ چینی کی قیمتوں پر اضافہ کا از خودنوٹس لے ۔ حکومت عوام کو کوئی بھی ریلیف نہیں دی سکی ۔ ایم کیو ایم کو روزگار مل گیا دو وزیر تو پہلے ہی کابینہ میں ہیں ایک اور کا وعدہ مل گیا ۔ ایم کیو ایم والے کراچی کے مسائل کی بات کہاں کرتے ہیں ۔ پہلے تیس سالہ دور میں کراچی کے لئے کیا کیا ۔ جب بلدیاتی وقت پور ا ہونے کو ہے تو اب کراچی کو پانی دو کے بینر لگا رہے ہیں ۔ حکومت نے آئی ایم ایف کی مرضی کا بجٹ بنایا ۔ جسے عوام نے رد کر دیا ۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کو ستر فیصد ریونیو کماکے دینے والے کراچی کو عزت دی جائے ۔ کے فور منصوبے کوشروع کیا جائے ۔ پانی کی منصفانہ تقسیم کر کے ٹینکر مافیا سے جان چھڑائی جائے ۔ کے الیکٹرک کے مافیا کو کنٹرول کیا جائے ۔ کچرے کے ڈھیر ختم کیے جائیں ۔ سڑکیں تعمیر کی جائیں ۔ کم از کم ایک ہزار بسوں کا فوری انتظام کیا جائے ۔ نوجوانوں کو ایک لاکھ نوکریاں مہیا کی جائیں ۔ عوام اور تاجروں پر ظالمانہ ٹیکس واپس لیا جائے ۔ ایف بی آر کے ظالمانہ ہتھکنڈوں سے عوام کو نجات دلائی جائے ۔ پاکستان اسٹیل کے ریٹائرڈ ملازمین کے تمام واجبات ادا کیے جائیں ۔ معراج الہدی صدیقی صاحب کی دعا سے ’’ کراچی عوامی مارچ‘‘ اختتام پذیر ہوا ۔

بھارت کو ایک اور محاذ پر شکست

بلوچستان لبریشن آرمی کا نام جب بھی نظر سے گزرتا ہے تو سوائے خون خرابے اور دہشتگرد کارروائیوں کے کچھ ذہن میں نہیں آتا،بھارت اور افغانستان کی پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی سازش عیاں ہوتی ہے اور نام نہاد سیکولر ملک انڈیہ کا اصل چہرہ سامنے آتا ہے،بی ایل اے پرپابندی سے بھارت کوپاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے محاذ پرایک اورشکست کاسامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ پاکستان کی بہترین سفارت کاری ہے،بلوچستان لبریشن آرمی(بی ایل اے) نے 2004ء میں پاکستان میں دہشتگرد کارروائیوں کا آغاز کیاجس کا محور خاص کر صوبہ بلوچستان تھا،بی ایل اے نواب خیر بخش مری کی زیرسرپرستی پروان چڑھی جس کی باگ دوڑ بعد آزاں میر بالاچ مری ،اسلم اچھو اور برآمداغ بگٹی نے سنبھالی،بلوچستان لبریشن آرمی کاہیڈ کوارٹر افغانستان جبکہ زیلی دفاتر بھارت میں بھی قائم تھے،بی ایل اے کو اسلحہ،تربیت اور فنانسنگ دشمن ملک بھارت فراہم کرتا رہا جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے،اسلم بلوچ2005ء سے افغانستان میں رہائش رہا،بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر و جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری بھارت کے ملوث ہونے کا ثبوت ہے،افغان حکومت نے بھی بی ایل اے کی سپورٹ کا اعلان کیا تھا اور افغان پولیس چیف نے بی ایل اے کے کمانڈروں کو پنا ہ بھی دی اور انکے لیے سہولت کار کا بھی کردار ادا کیا،بی ایل اے پاکستان میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں ،سیکیورٹی فورسز،عام شہریوں اور غیر ملکی باشندوں پر حملوں میں براہ راست ملوث رہی اور نہ صرف ملوث رہی بلکہ ڈھٹائی کیساتھ ان تمام دہشتگرد کارروائیوں کی ذمہ داری بھی قبول کرتی آئی ہے ۔ بلوچستان لبریشن آرمی راکٹ حملوں ،ٹیچرز کے اغواء کے بعد قتل،پولیس اہلکاروں کو اغواء کے بعد قتل،پنجابی مزدوروں اور کان کنوں کے اغواء کے بعد قتل،ڈاکٹرز کے قتل،چینی انجینئرز کے قتل،ریل پٹڑی پر دھماکوں ،قائد اعظم ریذیڈنسی پر حملہ،گوادر میں ایف سی نوجوانوں پر حملے سمیت پی سی ہوٹل پر حملے کی ذمہ داری قبول کر چکی ہے اور اسکے علاوہ بھی دہشتگرد کارروائیوں میں ملوث رہی ۔ بی ایل اے کی کارروائیوں کا مقصد پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنا ہے جس کا ماسٹر مائنڈ بھارت ہے،افغانستان اس معاملے میں سہولت کار رہا،پاکستان میں بی ایل اے پر 2014ء میں پابندی لگائی گئی جبکہ 2016ء میں برطانیہ نے بی ایل اے پر پابندی لگائی اور اب 02جولائی 2019ء کو امریکہ نے بھی پابندی لگا دی ہے اور اسکے ساتھ ساتھ اثاثے منجمد کر دئیے،بی ایل اے کو بی ایل ایف،بی آر اے،ایل بی،بی ایل یوایف اور بی ایس او کا ساتھ حاصل رہاتاہم بی ایل اے اور یو بی اے کی آپس میں نہ بن سکی اور یہ ایک دوسرے پر حملوں میں ملوث رہے کیونکہ یو بی اے بی ایل اے کے نظریے کے خلاف تھی،بہرحال اب امریکہ نے بی ایل اے پر پابندی لگا دی ہے اور بی ایل اے کو دہشتگرد تنظیم قرار دیدیا ہے ،اگر امریکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ میں مخلص ہے تو بی ایل اے کے سہولت کاروں کیخلاف بھی کارروائی کرے،امریکہ کو چاہئے کہ وہ بی ایل اے کے کمانڈروں کے بھارت میں علاج کی وجہ پوچھے اور بی ایل کو فنانسنگ کیساتھ ساتھ تربیت سے لیکر اسلحہ فراہمی تک کے سارے عمل کی مکمل تحقیقات کر ے اور اس میں سہولت کاری کے فراءض سرانجام دینے والے افغان حکومت کے اہلکاروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لاتے ہوئے ان تمام ملوث افراد کو قرار واقعی سزاکیلئے اپنا کردار ادا کرے،اگر بی ایل اے کو پروان چڑھانے میں بھارتی حکومت ملوث ہونے کے ثبوت ملتے ہیں (جو کہ ضرور مل جائیں گے)تو بھارتی حکومت کیخلاف بھی کارروائی کا آغاز کیا جائے اور ایسا ہی افغان حکومت کیساتھ کیا جائے،ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے تو پھر بی ایل اے نے جو دہشتگرد کارروائیاں کیں ان کا حساب کون دیگا،بی ایل اے سے تو پاکستان نمٹ رہا ہے مگر بی ایل اے کی ڈوریں ہلانے والوں کیخلاف کارروائی امریکہ کی ذمہ داری ہے،امریکہ آج بھی افغانستان محض اس خوف سے نہیں چھوڑ رہا کہ کہیں دوبارہ دہشتگرد امریکہ پر حملہ نہ کردیں تو پھر آخر وہ دہشتگردوں کیخلاف ٹھوس اقدامات کیوں نہیں کرتا ،امریکہ کو چاہئے کہ وہ گڈ آربیڈ کی سوچ سے باہر نکلے اور غیر جانبداری کیساتھ بی ایل اے معاملے کو سلجھانے میں اپنا کردار ادا کرے اور ملوث ممالک کو عالمی قوانین کے مطابق سزا اور جزا کا فیصلہ کیا جائے،بی ایل اے پر پابندی کا اقدام دہشتگردی کے خاتمے کیلئے کافی نہیں ،جب تک بی ایل اے کے سہولت کار ممالک کا پیچھا نہیں کیا جائے گا تب تک بی ایل اے جیسی تنظی میں معرض وجود میں آکر عالمی امن کو تباہ کرتی رہیں گی ۔ امریکہ ایک سپر پاور ہے اور امریکہ ہی دنیا کے امن میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی طاقت بھی رکھتا ہے اگر امریکہ بی ایل اے کے سہولت کاروں کے پیچھے نہیں جاتا تو پھر ان پر پابندی کے وہ نتاءج حاصل نہیں ہونگے جو امریکہ چاہتا ہے ہاں یہ الگ بات ہے کہ امریکہ نے اگر دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے پابندی لگا ئی ہو لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر امریکہ کو بی ایل اے کی سہولت کاری پر بھارت اور افغانستان کیخلاف کارروائی کرنا ہو گی ورنہ امریکہ کے اس ادھورے اقدام پر سوالات اٹھتے رہیں گے اور تاریخ بہت ظالم ہوتی ہے ہر خاص و عام کی تمام سازشوں کو بے نقاب کرتی چلی جاتی ہے ۔ بی ایل اے پرپابندی سے بھارت کوپاکستان کے خلاف سازشیں کرنے کے محاذ پرایک اورشکست کاسامنا کرنا پڑا ہے جس کی وجہ پاکستان کی بہترین سفارت کاری ہے ۔

Google Analytics Alternative