کالم

زبردست ۔ ۔ ۔ ۔ آگے کیا ہوگا

بلاشبہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ میں زبردست اور شاندار تقریر کی ہے اور کشمیریوں کے سفیر ہونے کے وعدے کو عملی جامہ پہنانے کی بھرپور کوشش کی ہے ۔ عمران خان نے پوری دنیا کو کشمیریوں کے ساتھ بھارت کے ظلم و جبر سے آگاہ کیا ۔ مقبوضہ وادی سے بھارت کے نافذ کردہ کرفیو ہٹانے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا پر زور مطالبہ کیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے جنگ سے احتراز کرنے کی پاکستانی پالیسی کو بھی دنیا کے سامنے رکھا ۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اگر پاکستان پرجنگ مسلط کی گئی تو پاکستان آخری دم تک لڑے گا ۔ انھوں نے دنیا کو خبردار بھی کیا کہ اگر جنگ شروع کی گئی تو شاید یہ روایتی جنگ نہ رہے ۔ جب دو ایٹمی ملک جنگ کی صورت میں آمنے سامنے ہونگے تو کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے اور کچھ ہونے سے نہ صرف یہ خطہ نہیں بلکہ پوری دنیا متاثر ہو سکتی ہے ۔ ان کی تقریر میں دو نکات نہایت اہم اور کشمیر کے بارے میں خطاب کے اس حصے کا نچوڑ ہے ۔ ان دو نکات میں پہلا نکتہ کشمیر کی تازہ صورت حال اور بھارت کے ناجائز قبضے،کرفیو اور کشمیر پر ڈھائے جانے والے ظلم و بربریت سے دنیا کو آگاہ کرنا تھا ۔ دوسرا نکتہ کرفیو ہٹنے کے بعد مقبوضہ وادی میں بننے والی صورتحال اور بھارت کی طرف ممکنہ جنگ اور اس کے اثرات سے متعلق تھا ۔ وزیراعظم عمران خان سے پہلے ایوب خان،ذولفقار علی بھٹو،ضیاء الحق،محترمہ بینظیر بھٹو، میاں نواز شریف اور پرویز مشرف نے اپنے اپنے دور اقتدار میں اقوام متحدہ میں تقاریر میں نہ صرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کیا ہے بلکہ اس مسئلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔ لیکن ان تمام ادوار میں مقبوضہ کشمیر میں شاید ایسے حالات نہیں تھے جیسے کہ اب ہیں ۔ لیکن اب جیسے حالات ہیں وزیراعظم عمران خان نے ان حالات کے مطابق کشمیریوں کی زبردست ترجمانی کی ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نریندر مودی اور عمران خان دونوں سے الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں ۔ دونوں میں سے ناراض کسی ایک کو بھی نہیں کیا بلکہ وہ تو مودی کے جلسے میں بھی گئے اور وہاں بھارتیوں سے خطاب بھی کیا اور مودی کی بہت تعریف بھی کی ۔ عمران خان سے ملاقات میں صدر ٹرمپ نے عمران خان کو عظیم لیڈر قرار دیا ۔ امریکی صدر کے اس رویہ اور پالیسی کو دیکھتے ہوئے ایک قصہ یاد آیا ۔ دو لوگوں کا آپس میں کسی مسئلے پر جھگڑا تھا ۔ طے یہ پایا کہ فلاں بندہ بہت معزز اور علاقے کا بڑا ہے اس کے پاس جا کر مسئلہ بتاتے ہیں وہ جو بھی فیصلہ کرے ۔ دونوں نے جا کر اپنا مسئلہ اور اپنا اپنا موقف بیان کیا ۔ الیکشن قریب تھے اور مذکورہ بڑے نے دونوں کے عزیز و اقارب سے ووٹ لینے تھے ۔ مسئلہ سننے کے بعد اس نے ایک سے کہا کہ آپ کا موقف درست ہے ۔ دوسرے سے کہا کہ بات آپ کی بھی غلط نہیں ہے ۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بالکل وہی پالیسی اپنائی اور ثالثی کی تیسری بار پیش کش بھی کی ۔ میں پہلے بھی اپنے کئی کالموں میں اس خدشہ کا اظہار کر چکا ہوں کہ امریکہ کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں اور جو بھی امریکی صدر ہو وہ اس پالیسی سے ہٹ کر محض انسایت یا ذاتی تعلق کی بناء پر کچھ نہیں کر سکتا ۔ کسی بھی ملک سے متعلق یا کسی بھی اقدام سے پہلے مختلف ادارے اس کو جانچتے ہیں اور اپنی اپنی رائے دیتے ہیں گو کہ امریکی صدر ہی فیصلہ کرتے ہیں لیکن اس فیصلے میں تمام اداروں اور مقتدر لوگوں کی آراء کو مدنظر رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں اور دونوں کے مفادات بھارت سے ہیں انسانیت سے نہیں ۔ امریکہ نے اپنے دوست عراقی صدر صدام حسین کے ساتھ کیا کیا ۔ عراق میں قتل عام، شام، فلسطین، افغانستان، پہلے مجاہدین اور پھر دہشت گرد طالبان اور خود پاکستان کے ساتھ امریکی سلوک جیسی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ مطلب یہ کہ پاکستان کو نہ تو امریکہ کا اعتبار کرنا چاہیئے اور نہ ہی امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کو قبول کرنا چاہیئے ورنہ پھر نہ ہم آگے جانے کے قابل ہوں گے نہ پیچھے جانے کے ۔ جہاں تک مقبوضہ کشمیر کے حالات کا تعلق ہے ۔ علم الاعداد کے طالب علم کی حیثیت سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ کشمیریوں کا مسئلہ باتوں سے حل ہوگا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی تقاریر اور بیانات کا بھارت پر کوئی اثر ہوگا ۔ غیب کا علم تو خدا جانتا ہے لیکن علم الاعداد کی روشنی میں جو نظر آتا ہے وہ یہ ہے ۔ بھارت کرفیو ضرور ہٹائے گا اور اس کے بعد کشمیریوں کا ردعمل آئے گا ۔ اس دوران بھارت پلوامہ جیسا کوئی ڈرامہ کرے گا اور الزام پاکستان پر لگا کر جوابی کاروائی کا جواز بنائے گا ۔ یا کرفیو کے ہٹنے کے بعد کشمیریوں کے ردعمل کو پاکستان کی طرف سے دراندازی قرار دے گا ۔ اور یہ الزام لگائے گا کہ پاکستان نے مقبوضہ وادی میں دہشت گرد داخل کیئے ہیں یا پاکستانی فوجی دہشت گردوں کے روپ میں مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی مدد کے لیئے داخل ہو گئے ہیں اور پاکستان کے خلاف کارروائی کا اب بھارت کو حق حاصل ہے ۔ چونکہ پاک افواج بھی تیار ہیں اور پیچھے نوے لاکھ کشمیری ہیں اس لیئے بھارت کو یہ معلوم ہے کہ ایسی صورت میں وہ اپنی حکمت عملی تیار کر رہا ہے ۔ جنگ کی صورت میں اسرائیل اور بعض یورپی ممالک کھلے عام یا درپردہ بھارت کا ساتھ دینگے ۔ اور پھر کچھ دنوں کی جنگ کے بعد امریکہ مقبوضہ وادی میں مداخلت کرے گا ۔ جس کو وہ امن قائم کرنے کےلئے درست امریکی قدم بتائے گا ۔ نتیجے کے طور پر اس جنگ اور ایسے حالات پیدا کرنے کے دوران سب سے زیادہ جانی نقصان کشمیریوں کا ہوگا لیکن پاکستان اور بھارت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے ۔ اس لیئے پاکستان کو بڑی تیزی کے ساتھ حکمت عملی بنانی چاہیئے ۔ صرف وزیراعظم عمران خان کی امریکہ میں ملاقاتوں اور اقوام متحدہ میں ان کی تقریر کو ہی مسئلہ کشمیر کا حل سمجھ کر بیٹھنا نہیں چاہیئے ۔ ملک کے اندر یکجہتی کی فضاء قائم کرنے کےلئے افہام و تفہیم کی پالیسی بھی فوری بنا کر اس پر عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔ بیرونی دنیا سے رابطہ اور دورے کر کے بھارت کی آئیندہ کی حکمت عملی سے آگاہ کرنا چاہیئے ۔ اور بھارت کو واضح اور دوٹوک پیغام بھی دینا چاہیئے ۔ امریکہ سے واپسی پر مودی کے ہونےوالے اقدامات سے حالات کے رخ کی سمت کا اندازہ ہو جائے گا ۔ اقوام متحدہ میں وزیراعظم عمران خان کی تقریر اور دنیا کے سربراہان اور اکابرین سے ملاقاتوں کا نتیجہ بھی معلوم ہو جائے گا ۔ اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ کشمیر کے بارے میں آئیندہ کی صورتحال اب واضح ہونا شروع ہو جائے گی ۔ لیکن بھارت پر ان خطبات کا اکوئی اثر پڑتا نظر نہیں آتا ۔ اور یہ وقت بتائے گا ۔ اب پاکستان کو بہت زیادہ ہوشیار رہنے کا وقت ہے ۔ ادھر افغانستان میں قیام امن کی روشنی دور ہوتی نظر آرہی ہے ۔

وزیراعظم تقریر،مسائل کا سمندر کوزے میں بند

27ستمبر2019ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے جیسے ہی وزیراعظم عمران خان کی تقریر ختم ہوئی تو ایسا محسوس ہوا جیسے وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان عمران خان نے دنیا بھر میں مسلمانوں کو درپیش مسائل کے سمندر کو کوزے میں بند کر کے دنیا کے سامنے رکھ دیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے جس انداز میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو درپیش ریاستی مسائل کو دنیا کے سامنے رکھا بالکل ایسا لگ رہا تھا کہ بغیر کسی لگی لپٹی وزیراعظم نے دو ٹوک انداز میں دنیا بھر کے مسلمانوں کا موَقف دنیا کے سامنے پیش کیا ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی تقریر پر وزیراعظم عمران خان کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کیونکہ وزیراعظم عمران خان نے دنیا با الخصوص اسلامی رہنماؤں کو بھی بتا دیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جیسے بڑے فورم پر اپنے مسائل کس طرح بیان کیے جاتے ہیں ،وزیراعظم عمران خان کے لب و لہجے میں کہیں خوف تھا نہ ہی کوئی مصلحت نظر آئی،باڈی لینگوءج بھی مثالی تھی ۔ سچ تو یہ ہے کہ ایسی تقریر آج تک کسی پاکستانی لیڈر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نہیں کی ویسے یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ 70سے زائد ملاقاتیں بھی آج تک کسی وزیراعظم نے نہیں کی ۔ آج تک پاکستانی موَقف کو اس موَثر انداز میں بھی کسی جمہوری لیڈر نے نہیں اٹھایا اور اگر مزید سچ بولا جائے کہ تو آج سے پہلے پاکستان کے کسی حکمران کے دورہ امریکہ کو اس طرح کورنہیں کیا گیا جس طرح وزیراعظم پاکستان عمران خان کے دورہ امریکہ کو دنیا کے میڈیا نے کور کیا ۔ اللہ پاک جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے جسے چاہتا ہے ذلت دیتا ہے ۔ میں 27ستمبر2019سے قبل بھی پاکستان کے حکمرانوں کی تقاریر کو یونائیٹڈ نیشن کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے سن اور دیکھ چکا ہوں مگر بغیر لکھے تقریر کرنے کی اہمیت کو صرف عمران خان کے سمجھنے پر انکو خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہو گی ۔ جب بھی آپ کوئی تحریر شدہ تقریر کرتے ہیں تو اس کیلئے جتنا وقت لگتا ہے اس سے کئی گنا زیادہ اپنا بیانیہ زبانی بیان کیا جا سکتا ہے اور یہی وزیراعظم عمران خان نے دنیا کے سب سے بڑے فورم پر کیا اور کم وقت میں بہت کچھ کہ گئے ۔ مجھے وزیراعظم عمران خان کے سیاسی مخالفین پر حیرت ہو رہی ہے جو آج بھی وزیراعظم پر تنقید کرتے نہیں تھکتے اور یہ کہ رہے ہیں کہ صرف تقریر سے کیا ہو تا ہے،ایسے پاگل لوگوں کو کوئی علاج نہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ان لوگوں کے بیانیے کو سامنے رکھ کر ان سے مخاطب ہونا بھی ایک ظلم ہے یہ لوگ اس رویے کے بھی مستحق نہیں کہ ان کو کوئی بھی جواب دیا جائے کیونکہ ان کا کام صرف اور صرف تنقید کرنا ہے اور یہ تنقید کرتے چلے جائیں گے،ہ میں انکی تنقید کو مدنظر رکھ کر نہیں بلکہ اپنے دل و دماغ کے مطابق سوچنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ امریکہ میں کردار کیسارہا اور دل یہی کہتا ہے کہ وزیراعظم کا کردار مثالی رہا اور دماغ کہتا ہے کہ اس فورم پر اس سے زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔ وزیراعظم کے ناقدین کو کشمیر پر کم بولنے پر اعتراض ہے تو جناب مقبوضہ کشمیر میں توکرفیو کے باوجود وزیراعظم کی تقریر پر کشمیریوں نے جشن منایا اور خوشی کے مارے سڑکوں پر نکل آئے ۔ کشمیری عوام نے پٹاخے بھی چلائے اور خوشی سے رقص بھی کیا، اس موقع پر لوگوں نے پاکستان اور آزادی کے حق میں جبکہ بھارت کے خلاف فلک شگاف نعرے بھی لگائے ۔ کیا مقبوضہ وادی کے لوگوں سے زیادہ کشمیر سے متعلق وزیراعظم کی تقریر کو کوئی بہتر سمجھتا ہے;238;سچ چھپائے نہیں چھپتا،اور سچ یہی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں ظلم و بربریت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا اور مسلسل محاصرے اور ذراءع مواصلات کی بندش کے باعث کشمیر یوں کو درپیش مصائب و مشکلات کو بھر پور اور موَثر انداز میں اجاگر کیا ۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بھارتی وزیر اعظم سے متعلق کہا کہ مودی آر ایس ایس کے رکن ہیں جو ہٹلر اور مسولینی کی پیروکار تنظیم ہے، آر ایس ایس کے نفرت انگیز نظریے کی وجہ سے گاندھی کا قتل ہوا، آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پیدا کررہی ہے ۔ کیا اس سے بہتر بھی کہا جا سکتا تھا ;238;نہیں بالکل نہیں کیونکہ ہ میں وقت کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے ۔ وزیراعظم عمران خان نے دبنگ انداز میں ایک ایٹمی طاقت کا حامل ملک کا وزیراعظم جیسے بیان کرتا ہے بالکل ویسے ہی یا اس سے بھی بہتر انداز میں دنیا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ جب ایٹمی طاقت کا حامل ملک آخری حد تک جنگ لڑتا ہے تواس کے اثرات صرف اس کی سرحد تک محدود نہیں رہتے، دنیا بھر میں ہوتے ہیں ، میں پھر کہتا ہوں کہ یہی وجہ ہے کہ میں آج یہاں کھڑا ہوں ، میں دنیا کو خبردار کررہا ہوں ، یہ دھمکی نہیں ، لمحہ فکریہ ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اقوام متحدہ کیلئے ٹیسٹ کیس ہے، اقوام متحدہ ہی تھا جس نے کشمیریوں کو حق خودارادیت کی ضمانت دی تھی ۔ عمران خان نے کہا کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدامات کیخلاف ایکشن لینے کا وقت ہے اور سب سے پہلا کام مقبوضہ کشمیر میں یہ ہونا چاہیے کہ بھارت وہاں 55 روز سے جاری غیر انسانی کرفیو کو فوری طور پر ختم کرے ۔ ان اقدامات کے بعد عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دلوائے ۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے انتہاپسندی کا اسلام سے جوڑنے پربھی دنیا کو مدلل اور موَثر جواب دیا ۔ دنیا کے اسلامی ممالک کے ضمیر کو بھی جھنجوڑنے کی کوشش کی ۔ وزیراعظم عمران خان کا دورہ اتنا مفید تھا کہ اس پرجتنا بھی لکھا جائے کم ہے ۔ میں آخر میں اتنا کہ کر بات کو سمیٹوں گا کہ ویلڈن وزیراعظم عمران خان ویلڈن

میراکپتان چھاگیا

وزےراعظم پاکستان عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 74وےں اجلاس میں چار نکات پر مدلل اور موثر انداز میں بات کی جس کو پوری دنےا میں سراہا جارہا ہے ۔ وزےراعظم پاکستان عمران خان نے15 دسمبر1971 میں ذوالفقار علی بھٹوکی سےکورٹی کونسل میں خطاب کی ےاد بھی تازہ کردی ۔ مےرے کپتان نے اپنے خطاب میں بہت سے لوگوں کا چہرہ بھی بے نقاب کےا ۔ انھوں نے اقوام عالم کے سامنے چار نکات پیش کیے ۔ (الف) موسمےاتی تبدےلی (ب)منی لانڈرنگ (ج)اسلاموفوبےا (د) مسئلہ کشمےر ۔ (1);34;دنےا میں تےزی سے گلیشئےر پگھل رہے ہیں ۔ اب تک پانچ ہزار گلیشئےر پگھل چکے ہیں اور اگر ہم نے اس مسئلے کی طرف ہنگامی بنےادوں پر توجہ نہ دی تو دنےا اےک بڑی تباہی سے دوچار ہوجائے گی ۔ صوبہ خیبر پختوانخواہ میں اےک ارب درخت لگائے لیکن اےک ملک تنہاکچھ نہیں کرسکتا ، اقوام متحدہ اور دنےا کے امےر ممالک کو فوری طور پر توجہ دےنے کی ضرورت ہے ۔ (2)منی لانڈرنگ کی وجہ سے غرےب ملکوں سے اربوں ڈالر نکل کر امےر ملکوں کے بےنکوں میں پہنچ جاتے ہےں ۔ ہمارے ملک کا قرضہ دس سالوں میں چار گنا بڑھ گےا ۔ منی لانڈرنگ کے خلاف کارروائی کی لیکن قوانےن ان کو تحفظ فراہم کررہے ہیں ۔ امےر ممالک کو چاہیے کہ وہ کرپٹ عناصر کو وہاں جائےدادےں بنانے نہ دےں ۔ ہ میں مغربی ممالک میں بھےجی گئی رقوم کی واپسی کےلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ توقع ہے کہ اقوام متحدہ اس سلسلے میں اقدام اٹھائےگی ۔ (3)نائن الیون کے بعد اسلاموفوبےا نے جہنم لیا ۔ مسلم خاتون اگر حجاب پہنتی ہیں تو بعض ممالک میں ان کے لئے بڑا مسئلہ ہے ۔ کوئی سخت گےر اسلام نہیں ہے ۔ صرف اےک اسلام ہے جو حضرت محمدﷺ کا ہے ۔ سخت گےر اور اسلامی دہشت گردی ےہ سب غلط طرےقے سے پھےلاےا گےاجس سے دنےا میں مسلمانوں کی زندگی اجےرن بن گئی ہے ۔ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ نائن الیون سے پہلے خود کش دھماکے تامل ٹائےگرز کرتے تھے جوکہ ہندو تھے،تاہم اس وقت کسی نے دہشت گردی کا تعلق ہندوازم سے نہیں جوڑا ۔ حضرت محمد ﷺ نے رےاست مدےنہ قائم کی جس میں بغےر رنگ و نسل سب انسان برابر تھے اور غلامی کا خاتمہ کیا ۔ رےاست مدےنہ میں ٹےکس کی رقم ضرورت مندوں پر خرچ کی جاتی تھی ۔ رسول اکرم ﷺ کی توہین مسلمانوں کےلئے انتہائی تکلیف دہ ہے،اس لئے اس پر مسلمان سخت ردعمل دےتے ہیں ۔ ہولو کاسٹ کو ےہودی بُرا سمجھتے ہیں ۔ (4) افغان روس جنگ میں امرےکہ اور مغربی ممالک نے فنڈنگ کرکے جہادی بنائے ۔ وہ اس وقت مجاہدےن تھے اور جب امرےکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا ، ان جہادےوں کو دہشت گرد کا نام دےا گےا ۔ نائن الےون واقعے میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا لیکن اس کے بعد دہشت گردی کی جنگ میں ستر ہزار پاکستانی جانبحق، لاکھوں مضروب اور اربوں روپے کا نقصان ہوا ۔ بھارت نے 5 اگست 2019ء کو مقبوضہ کشمےر کی خصوصی حےثےت ختم کرکے آرٹےکل 370کو منسوخ کردےا اور نو لاکھ فوج بھےج کر80لاکھ کشمےرےوں کو محصور کردےا ۔ اگر آٹھ لاکھ ےہودی محصور ہوتے تو پھر کیا ہوتا;238; جبکہ80لاکھ کشمےری محصور ہیں تو دنےا خاموش ہے ۔ نرےندر مودی آر اےس اےس کا رکن ہے جو مسولینی اور ہٹلر کے پیروکار ہیں ۔ آراےس اےس بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی میں محو ہے ۔ وہ مسلمانوں اور عیسائےوں کا خاتمہ چاہتی ہے ۔ اگر پاکستان اور بھارت کے مابےن رواےتی جنگ شروع ہوئی تو اس کے اثرات پوری دنےا پر پڑےں گے ۔ ;34; قارئےن کرام!وزےراعظم پاکستان عمران خان نے دنےا کو گلوبل وارمنگ سے باخبر کیا اور اپنی کاوش و پلاننگ بھی بتادی کہ وہ آئندہ پانچ سالوں میں دس ارب نئے پودے لگائےں گے ۔ منی لانڈرنگ اور دولت کی غےر منصفانہ تقسےم دنےا میں غربت اور افلاس کے اہم اسباب ہیں ۔ منی لانڈرنگ کے ذرےعے زےادہ تررقوم مغربی ممالک منتقل ہو ئی اور ان کے قوانےن اےسے جرائم پیشہ طبقے کا ساتھ دے رہے ہےں ۔ پسماندہ ممالک کے کرپشن کاپیسہ مغربی ممالک میں پڑا ہے لیکن مغربی ممالک اس پر خاموش ہےں ۔ دولت کی غےر منصفانہ تقسےم کی وجہ سے دنےا میں بڑی تعداد میں لوگ غربت ، بے روزگار اور بےمارےوں کا سامنے کررہے ہیں ۔ اسلام مخالف پروپےگنڈوں کا منبع مغربی ممالک ہیں جبکہ انہی ممالک میں ہولوکاسٹ پر بات بھی جرم ہے ۔ مغربی ممالک کا دوہرا معےار افسوسناک ہے ۔ وزےراعظم عمران خان نے خوبصورت انداز سے اسلام اور پاکستان کی وکالت کی ۔ سب پر عےاں کیا کہ دہشت گردی سے اسلام کا کوئی لینا دےنا نہیں ہے ۔ اسلام صرف اےک ہے جو حضرت محمد ﷺ کا ہے ۔ وزےرا عظم پاکستان عمران خان نے بھر پور اور مدلل انداز سے مسئلہ کشمےر کو اٹھاےا ۔ دنےا کو بھارت کا مکرو اور ظالمانہ چہرہ دکھاےا ۔ انھوں نے اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مقبوضہ کشمےر میں جاری بھارتی مظالم اور کرفےو کوختم کرنے کےلئے کہا ۔ عمران خان نے دنےا پر ےہ بھی واضح کیا کہ ہم حق آزادی اور خود مختاری کےلئے آخری سانس تک لڑےں گے ۔ دنےا کو بھارت کی سوا ارب کی آبادی والی مارکےٹ تو نظر آرہی ہے لیکن 80لاکھ کشمےری نظر نہیں آرہے ہیں ۔ پاک بھارت مابےن رواےتی جنگ شروع ہوئی تو اس کے پوری دنےا پر بھےانک اثرات مراتب ہونگے ۔ وزےراعظم پاکستان عمران خان کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب تارےخ ساز تھا ۔

اسلام، پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ

عمران خان پاکستان کی سفارتی تاریخ میں قائد اعظم ;231;کے بعد پہلا سیاسی لیڈر ہے کہ جس نے جراَت سے اسلام، پاکستان اور کشمیر کا مقدمہ پیش کیا ۔ اب مخالفت برائے مخالفت کرتے ہوئے عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر کو توڑا موڑا جائے وہ تو ہر کسی کے اپنے ضمیر کی بات ہے جو چائے وہ کرے ۔ بلاول اور احسن اقبال کو تقریر پسند نہیں آئی ۔ کوئی کہے کہ پاکستان کی قومی زبان اُردو میں تقریر کیوں نہیں کی;238; اس لیے نہیں کی کہ کشمیر کا مسئلہ نازک مسئلہ ہے ۔ اسے فوراً دنیا کے لیڈروں تک پہنچانا تھا اس لیے عمران خان نے انگریزی میں بات کی ۔ اسے مخا فوں کو برداشت کر لینا چاہیے ۔ اورکشمیر کے مسئلہ نظر رکھنی چاہیے ۔ کوئی کہے کہ عمران خان نے جو کچھ بھی کہا ہے ۔ اقوام متحدہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا ۔ ۰۷ سال سے کیا کوئی اثر ہوا ہے ۔ ہمارے نذیک یہ عمران خان مخافوں کی ذہنی اخترا ہو گی ۔ کیوں کہ پہلے اور بات تھی اب دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے گھڑی ہیں ۔ کشمیر میں ۳۱;241; ہزار عورتوں سے بھارتی فوج نے اجتمائی آبرو ریزی کی ہے ۔ ایک لاکھ سے زیادہ کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔ بھارت نے کشمیر کی خصوصی دفعہ ۰۷۳ اور ۵۳;241; اے غیر آ ئینی طریقے سے اپنے آئین سے ہٹا کر کشمیر کو بھارت میں ملا لیا ہے ۔ اب پوزیشن کچھ اور ہے ۔ اب بھارت نے جوا کھیل کر کشمیر کو بھارت میں ملا لیا ہے ۔ عمران خان نے مضبوط دلائل سے اسلام، پاکستان اور کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کے سامنے رکھا ہے ۔ سری نگر میں کرفیو توڑ کر آتش بازی کی گئی ۔ بھارتی فوج نے چھ کشمیریوں کو شہید کر دیا ۔ دوسری طرف مودی نے یہ سمجھ رکھا کہ اس نے کراچی میں الطاف کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کوخراب کر دیا ۔ پوری مغربی دنیا نے پاکستان کو دہشت گرد اسٹیٹ قرار دینے کے آخری مقام تک پہنچا دیا ہے ۔ مگر یہ سارے شیطان کے وسوسے ہیں ۔ جو بھارت اور مغرب کے دماغ میں بیٹھ گئے ہیں ۔ کیا پاکستان ایٹمی طاقت اس لیے بنا تھا کہایٹم بم کو الماری میں رکھ دینا ہے ۔ یا مغرب کی اسکیم کے مطابق اسے اقوا م متحدہ کے حوالے کر دینا ہے ۔ دشمن یاد رکھے اگر پاکستان نہیں تو پھر کوئی بھی نہیں ۔ پاکستانی عوام ۲۷ سال سے بھارت کی پاکستان مخالف پالیسیوں ، پاکستان کے ٹکڑے کرنے اور کشمیر پر قبضے کرنے کے بدلے چکانے ہیں ۔ پاکستانی عوام اپنے سارے اثاثے پاکستان اور پاک فوج کے حوالے کر دی گی ۔ ایک طرف مسلم معاشرہ والا پاکستان جو موت کو گلے لگاتا ہے اور دوسری طرف بھارت کا ہند ومعاشرہ جو لکشمی یعنی دولت کی پوجا کرتا ہے اور یہودیوں کی طرف ہزار ہزار سال زندگی چاہتا ہے اور غزوہ ہند بھی تو برپا ہونا ہے ۔ پھر تاریخ دیکھے گی کون کامیاب ہوتا ہے ۔ عمران خان نے بہادری اور شجاعت والا راستہ چنا ہے ۔ پوری پاکستانی قوم بھارت کی طرف سے پانی بند کر کے سسکیاں لے لے ہلاک ہونے سے جنگ لڑ کر ہلاک ہونے کو ترجیح دے گی ۔ بھارتی میڈیا میں اس پر بحث چل رہی ہے کہ بھارت کو امریکا سے کیا ملا جو مودی نہیں سارے امریکا سے بھارتیوں کو جمع کر کے اوراربوں روپے خرچ کر کے ٹرمپ کی الیکشن مہم چلائی ۔ بھارت امریکا اور اسرائیل کی سب چالیں الٹی بھارت اور امریکا پر پڑیں گی ۔ بھارت ، اسرائیل اور امریکا نے گریٹ گیم کے تحت پاکستان پر جنگ مسلط کی تھی ۔ اس لیے کہ ان کو اسلامی اور ایٹمی پاکستان ہر گز منظور نہیں ۔ اس گریٹ گیم سازش کو پکڑتے ہوئے سابق آرمی چیف جرنل کیانی کا امریکی صدر اوباما کو ایک خط تھا ۔ جس میں لکھا تھا کہ آپ نے پاکستان پر جنگ مسلط کی ہے ۔ آپ کا مقصد پاکستان کو دیوالیہ قرار دلا کر اس کے ایٹمی اثاثے ختم کرنے یا اقوام متحدہ کے حوالے کرناچاہتے ہیں ۔ گو کہ اوباما نے اس کی تردید کی تھی ۔ مگر اس سازش کے ساتھ بھارت اور امریکا نے اپنے حصہ کا کام کرتے ہوئے کراچی، بلوچستان،گلگت میں دہشت گرد کارروائیاں کرائیں ۔ کراچی جو پاکستان کو ستر (۰۷) فیصد ریوینیو کما کر دیتا تھا ۔ اسے الطاف اور گلبھوشن یادیو کے ذریعے ڈسٹرب کیا ۔ اسرائیل اور امریکا نے مل کر نائن الیون کا جعلی واقعہ کرایا ۔ پاکستان کو جہاں جہاں سے مدد ملنی تھی ان عرب ملکوں کو تارج کر دیا ۔ پاکستان میں قوم پرستوں کی مدد سے جعلی تحریک طالبان پاکستان بنائی ۔ جس نے پاکستان میں دہشت کا بازار گرم کیا ۔ پشاور فوجی پبلک اسکول کے ڈیڑھ سو بچوں کا شہید کیا ۔ ہمارے فوجیوں کے گلے کاٹے ۔ ڈکٹیٹر مشرف کو دھوکا دے کر افغانستان پر حملہ کےلئے لاجسٹک سپورٹ حاصل کی ۔ اس سے افغان طالبان کو بھی پاکستان کا مخالف بنایا ۔ اس گریٹ گیم کا مقصد پاکستان کو ختم کرنا تھا ۔ اسلامی ذہن رکھنے والے جرنل گل حمیدمرحوم نے اس گریٹگیم کو اپنے ایک خاص انداز سے پاکستانی عوام کو ہوشیار کرنے کےلئے ا س طرح بیان کیا تھا ۔ ’’ افغانستان بہانہ اورپاکستان ٹھکانہ‘‘ ۔ خیر بھارت امریکا نے مل کر پاکستان کے بری، بحری اور ہوائی فوج کے اڈوں پر خود کش حملے کروائے ۔ بھارت، اسرائیل اور امریکاکے اپنے اندازوں کے مطابق پاکستان ختم ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے ۔

مسئلہ کشمیر۔۔۔ یو این کی جنرل اسمبلی میں وزیر اعظم کا تاریخی خطاب

وزیراعظم عمران خان نے یواین کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے موقع پر وہ سب کچھ حاصل کرلیا جو مودی اور اس کے حواری در،درکی ٹھوکریں کھانے کے بعد بھی حاصل نہ کرسکے، ایک چھت کے نیچے بیٹھ کرانہوں نے دنیابھر کے سربراہان مملکت کو مسئلہ کشمیر کے بارے اور نازی ازم کے پیروکار مودی ،اس کی تنظیم آرایس ایس کے بارے میں تفصیلی بریف کیا،پھر جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران جس اعتماد سے انہوں نے مدلل انداز میں فی البدیہہ تقریر کی یقیناً وہ ایک عظیم لیڈر کی نشانی ہے ،قائداعظم کے بعدعمران خان کانمبرآتا ہے جنہوں نے انتہائی موثرانداز میں تقریر کے دوران مسئلہ کشمیر کواٹھاتے ہوئے دنیاکو دوٹوک انداز میں بتادیا ہے کہ اسے مسئلہ کشمیرحل کرانے کے لئے آگے بڑھنا ہوگا، وزیراعظم عمران خان نے جس اعتماد سے خطاب کیا وہ دنیا کے لیڈروں میں خال خال ہی ملتاہے ۔ اس موقع پر جنرل اسمبلی کے باہرکشمیریوں ، سکھ برادری اوردیگرہزاروں افرادنے مودی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا،جبکہ مودی کاخطاب سن کر یہ واضح ہورہاتھا کہ وہ کنفیوژاورگھبراہٹ کا شکار تھا کیونکہ عمران خان نے جس طرح مودی کا فاشسٹ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے دنیا بھرکے سربراہان کوبتایا کہ جب یہ وزیراعلیٰ تھا تو اس نے گجرات میں کس طرح ہزاروں مسلمانوں کاعام کرایا ۔ عمران خان نے ثابت کردیا کہ انہوں نے سیاسی میدان میں بھی فرسٹ کلاس کپتان کی اننگز کھیلتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کامقدمہ بھرپورانداز میں پیش کیا ۔ ایک پاکستانی نے دنیا کو آرایس ایس جیسی فسطائی تنظیم کے خطرات سے خبردار کردیاہے،جب وزیراعظم نے حضرت محمدﷺ کاذکرکیا تو متعدد اسلامی ممالک کے سفیرآبدیدہ ہوگئے ۔ وزیراعظم نے امت مسلمہ اورپاکستان کے جذبات کی بھرپورترجمانی کی ۔ تاریخ سازیہ خطاب ہمیشہ یادرکھاجائے گاہ میں کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہوناچاہیے اورمقبوضہ کشمیر میں غیرانسانی کرفیو اور محاصرہ ختم کیاجائے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اپنے خطاب میں عالمی برادری کو کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کےلئے بھرپور کردار ادا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ کشمیر پر اب صلح صفائی کا نہیں کارروائی کا وقت ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹنے کے بعد خون کی ندیاں بہیں گی،غرور نے مودی کو اندھا کردیا، ایمان ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ،ہمارے پاس دو راستے،سرنڈر یا جنگ،بھارت نے کچھ غلط کیا تو ہم آخر تک لڑینگے، نتاءج سوچ سے کہیں زیادہ ہونگے،عالمی برادری کشمیر سے فوری کرفیو ہٹوائے ۔ انہوں نے سوال کیا کہ کشمیریوں کی طرح صرف 8ہزار یہودی محصور ہوں توکیایہودی برادری کودرد نہیں ہو گا;238; دنیا میں اسلامی دہشت گردی نام کی کوئی چیز نہیں ،اسلاموفوبیا سے تقسیم ہورہی ہے،پاکستان نے تمام انتہاپسند گروپس ختم کردیے اقوام متحدہ اپنا مشن بھیج کر چیک کرالے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب میں موسمیاتی تبدیلی، اسلامو فوبیا، منی لانڈرنگ اور مقبوضہ جموں و کشمیر کی سنگین صورتحال کو اجاگر کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم کو عالمی فورم بھرپور انداز میں اٹھایا اور بھارت کے اقدامات سے خبردار کرتے ہوئے کہا یہ ایک نازک موقع ہے، اس صورتحال پر ردعمل ہوگا پھر پاکستان پر الزامات عائد کیے جائیں گے،دو جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک آمنے سامنے آئیں گے جن کے سنگین نتاءج برآمد ہوں گے اور ان کے اثرات ان ملکوں کی سرحدوں سے کہیں دور تک جائیں گے ۔ اس سے پہلے کہ ہم اس طرف جائیں اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے، آپ اس کو روکنے کے مجاز ہیں اگر کچھ غلط ہوا تو آپ اچھے کی امید کریں گے لیکن ہم اس سے نمٹنے کی تیاری کریں گے، اگر دونوں ممالک کے درمیان روایتی جنگ شروع ہوئی اور کچھ ہوا تو سوچیے کہ ایک ملک جو اپنے ہمسایے سے 7گنا چھوٹا ہو تو اس کے پاس کیا موقع ہے، یا تو آپ ہتھیار ڈال دیں یا آخری سانس تک اپنی آزادی کےلئے لڑتے رہیں ۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں یہ سوال خود سے پوچھتا ہوں ، میرا ایمان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور ہم لڑیں گے اور جب ایک جوہری ہتھیاروں کا حامل ملک آخر تک لڑتا ہے تو اس کے نتاءج سوچ سے کہیں زیادہ ہوتے ہیں ، اس کے نتاءج دنیا پر ہوتے ہیں ۔ عالمی برادری کشمیر کو ہر صورت حق خود ارادیت دے،صرف 8ہزار یہودی اس طرح محصور ہوں تو یہودی برادری کیا کرے گی، بھارت کے پاس اور کوئی بیانیہ نہیں رہا، جیسے ہی وہ کرفیو ہٹائیں گے جو کچھ ہوگا، وہ اس کا الزام پاکستان پر لگائیں گے اور ایک اور پلواما کا خطرہ موجود ہے، بمبار دوبارہ آسکتے ہیں جس سے نیا چکر شروع ہوسکتا ہے ۔ مودی کو سمجھ ہے کہ 8 کروڑ مسلمان بھارت میں اس وقت کیا سوچ رہے ہیں کیا وہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ کشمیری 55 روز سے محصور ہیں اور آپ کیا سمجھتے ہیں کہ بھارت میں مسلمانوں کو اکسایا جائے گا، میں 180ملین لوگوں کی بات کررہا ہوں ، جب وہ شدت اختیار کریں گے تو پھر پاکستان پر الزام آئے گا ۔ اگر کوئی خون ریزی ہوئی تو مسلمان شدت پسند ہوں گے وہ اسلام کی وجہ سے نہیں بلکہ جو کچھ وہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو انصاف نہیں ملتا ۔ وزیراعظم عمران خان نے انتہائی جراَت،ایمانداری اور متدلل انداز میں اپنا موقف اداکرکے قوم کی ترجمانی کا حق اداکردیابلاشبہ ایک مسلم ملک کے سربراہ کو اتنا ہی جراَت مند ہونا چاہیے جو اقوام ِ عالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے ۔ اُدھرامریکہ نے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں عائد پابندیاں ختم کرتے ہوئے گرفتار سیاسی رہنماوں اور تاجروں کو رہا کرے،پاکستان سے کشیدگی میں کمی کرکے الیکشن کرائے ۔ امریکی معاون نائب وزیر خارجہ برائے وسطی ایشیائی امور ایلس ویلز نے صحافیو ں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ کشمیر سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود کشیدگی ختم کروانے کیلئے ثالثی پر تیار ہیں ، 2ایٹمی ممالک کے درمیان بیان بازی میں کمی کا خیر مقدم کیا جائیگا ۔ بھارت جلد از جلد کشمیری قیادت سے بات کرے،مقبوضہ کشمیر میں گرفتاریوں اور پابندیوں پر امریکا کو تشویش ہے کیونکہ وہاں کا تجارتی طبقہ سیاستدان انٹرنیٹ پابندیوں سے متاثر ہورہے ہیں اور امریکہ چاہتا ہے کہ وہاں زندگی کی سرگرمیاں جلد از جلد معمول کے مطابق چلنے لگیں ۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتریزنے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی ابترانسانی صورتحال پرایک بارپھرگہری تشویش ظاہر کی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان سے گفتگو میں سیکرٹری جنرل نے اس بات کا اعادہ کیاکہ وہ اس مسئلے کے حل کےلئے کوشاں رہیں گے اوراس کے پُرامن حل کےلئے ان کی معاونت کی پیشکش جاری رہے گی ۔ چین نے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اسے عالمی ادارے کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کیاجاناچاہیے ۔ چین کے وزیرخارجہ وانگ ژی نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ مسئلہ کشمیرتاریخ کادیرینہ تنازعہ ہے اوراسے اقوام متحدہ کے منشور،سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اوردوطرفہ معاہدوں کے مطابق پُرامن طورپرحل ہوناچاہیے ۔ چین صورتحال کو پیچیدہ کرنے والے تمام یکطرفہ اقدامات کی مخالفت کرتاہے اورہم خطے میں استحکام کے خواہشمند ہیں ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں طاقتور ترین ملک کی قیادت کررہے ہیں اور وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی اقدام کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہیں ۔ عالمی برادری اس مسئلے پر فوری اقدامات کرے ۔

پاکستان میں قیام امن افغانستان کے امن سے وابستہ

پاکستان میں قیام امن افغانستان کے امن سے جڑا ہوا ہے ۔ یہ بات آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے میران شاہ کے دورے کے وران عمائدین سے ملاقات میں خطاب کے دوران کہی ۔ اس موقع پر آرمی چیف کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کوشکست دینگے،قبائلی عوام سہولت کاروں سے چوکنارہیں ، افغان سرحد پر باڑ لگانے سے سرحد پار دہشت گردی میں کمی آئی ۔ افغانستان پاکستان کا برادر ہمسایہ ملک ہے، ہم وہاں بھی پاکستان کی طرح امن و امان چاہتے ہیں ۔ چیف آف آرمی سٹاف نے بالکل درست کہاہے کہ جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا اس وقت تک پاکستان میں بھی قیام امن مشکل ہے اسی وجہ سے سرحد پر لگی ہوئی باڑ اس سلسلے میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ چونکہ افغانستان میں صدارتی انتخابات بھی ہیں ا س موقع پر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کارونما ہونا بعیدازقیاس نہیں ۔ پاک افغان بارڈرایک دوسرے کے ساتھ متصل ہیں اس وجہ سے وہاں پربھی حفاظتی اقدامات بڑھادیئے گئے ہیں تاہم اس سلسلے میں افغانستان کو بھی عملی طورپراقدامات کرنے ہوں گے تاکہ دونوں ممالک میں امن قائم ہوسکے ۔

اُردو پاکستان کی قومی زبان ہے اسے فوراً راءج ہونا چاہیے

بانیِ پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ;231;نے پاکستان بننے کے بعدکہا تھا کہ پاکستان کی قومی زبان اُردو ،اُردو اور صرف اُردو ہی ہے ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب تک کسی قوم کی سرکاری زبان اپنی زبان نہ ہو تو وہ ترقی کے منازل طے نہیں کر سکتی ۔ سارے ملکوں نے اپنی اپنی قومی زبان زبانیں راءج کر کے ترقی کی منازل طے کی ہیں ۔ برصغیر کے مسلمانوں کی زبان اُردو تھی ۔ مسلم دشمنی میں ،پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے تو اپنے ملک سے اُردو کا دیس نکالا کر دیا ہے اور پاکستان نے بھی اُردو کو آج تک اپنی قومی زبان نہیں بنایا ۔ آج بھارت میں اُردوبولی اور سمجھی تو جاتی ہے ۔ مگر پڑی اور لکھی نہیں جاتی ۔ اگر پاکستان بننے کے بعد اُردو کو قومی زبان قرار دےکر نافذ کر دیاکیا ہوتاتو پاکستان ابھی تک ترقی کے منازل طے کر چکا ہوتا ۔ مگر پاکستان بننے کے بعد کھوٹے سکوں نے تحریک پاکستان میں اللہ کے ساتھ اپنے سب سے بڑے وعدے’’ پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ سے بے وفائی کی ۔ اُردو کی تو بعد کی بات ہے ۔ اس لیے اللہ نے بھی ہاتھ کھینچ لیا ۔ آج پاکستان پریشانیوں میں مبتلا ہے ۔ اگر اب بھی ملک میں اللہ کے ساتھ وعدے اور قائد اعظم;231; کے وژن کے مطابق اسلامی نظام حکومت نافظ کر دیا جائے اور اُردو کو قومی زبان بنا دیا جائے تو اللہ تعالیٰ بھی قرآن میں بیان کیے گئے اپنے وعدے کے مطا بق کہ’’ اگر لوگ اللہ کے احکامات پر چلتے، تو اللہ آسمان سے رزق ناز ل کرتا اور زمین اپنے خزانے اُگل دیتی ۔ ‘‘اُردو پاکستان کے سارے آئینوں میں لازمی سرکاری زبان قرار دی گئی، اور وقت کا بھی تعین کر دیا گیا ۔ مگر کالے انگریزوں نے اس پر عمل نہیں ہونے دیا ۔ بلا آخر سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاکستان کے آئین میں درج اُردو کے نفاذ کی دفعہ پر عمل کرانے کےلئے جماعت اسلامی پاکستان ،مشہور ایڈوکیٹ کوکب اقبال صاحب اور دوسرے شہریوں نے درخواست داہر کی ۔ ایک عرصہ تک اس کو نہ سنا گیا ۔ بلا آخر اس پر شناسائی ہوئی اور جسٹس جود ایس خواجہ کے ینچ نے حکومت کو حکم دیا گیا کہ اس پر فورناً عمل کیا جائے ۔ کس نے عمل کرنا تھا جو اس انگریزی کے بل بوتے پر پاکستان کے عوام پر حکمرانی کر رہے وہ عمل کرنے دیں گے;238;پاکستان کے بیوروکریٹس کے بچے انگریزی اسکولوں میں پڑھ کر آتے ہیں اور مقابلے کے امتحان انگریزی میں پاس کرکے ملک کے حکمران بن جاتے ہیں ۔ جبکہ90 فی صد پاکستانیوں کے بچے اُردو میں تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔ باوجود کے اچھے نمبر بھی لیتے ہیں مگر امتحان ،کیونکہ اُردو کی بجائے انگریزی میں ہوتا ہے اس لیے فیل ہو جاتے ہیں ۔ یہ ایک ظلم ہے جو دوسرے مظالم کے ساتھ ساتھ 90 فیصد پاکستانی عوام کے ساتھ ہو رہا ہے ۔ شہباز شریف کے دور میں اُردو سے نفرت اور پنجاب کے کمسن بچوں سے زیادتی کرتے ہو ئے ، پہلی جماعت سے انگریزی لازم کر دی ۔ اب پنجاب کے عوام کے مطالبے پر موجودہ حکومت نے اسے اُردو میں کر دیا ہے ۔ ملک بھر میں پاکستان کی ترقی چاہنے والے اداروں اور افراد نے اپنے اپنے طور پر حکومت پر نفاذ اُردو کےلئے زور دے رہے ہیں ۔ اس سلسلے میں چند روز قبل جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد کے شعبہ علم و ادب،قلم کاروان اسلام آباد نے’’ نفاذ اُردو مشاعرے ‘‘ کا انتظام کیا ۔ جس کی صدارت علاقہ پٹوار کے مشہور شاعر اور کئی کتابوں کے منصف جناب نسیم سحر صاحب نے کی ۔ مشاعرے میں شاعروں نے اپنے کلام میں نفاذ اُردو پر اشعار سنائے ۔ مشاعرے قبل قلم کاروان کے سیکرٹری نے اسٹیج پر سپریم کورٹ میں آئین کی اُردو نفاذ کے دفعہ پر عمل درآمد کا مقدمہ جیتنے والے مشہور وکیل کوکب اقبال صاحب کو اُردو نفاذ میں ان کی کاوشوں پر تقریر کرنے کی دعوت دی ۔ کوکب اقبال صاحب نے اپنے تقریر میں دشواریوں کا ذکر کیا اور کہا کہ اُردو نفاذ کا مقدمہ جیتاہے ۔ اب کو اس کو پایہ تکمیل تک پہچانے میں بھی مصروف عمل ہوں ۔ اس کے بعد رفیق قریشی صاحب صدر تحریک نفاذ اُردو راولپنڈی نے اُردو نفاذ کےلئے اپنے محنت سے حاضرین کو آگاہ کیا ۔ آخر میں عطالرحمان چوہا ن صاحب صدرتحریک نفاذ اُردو پاکستان اپنے پلیٹ فارم ’’تحریک نفاذ اُردو پاکستان‘‘ پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک نفاذ اُردو کی شاخیں پورے پاکستان میں قائم ہو چکی ہیں ۔ ایک عرصہ سے اُردو کے نفاذکےلئے کام کرنے والی کراچی بیس تحریک نفاذ اُردو کے بانی، مشہور نفسیاتی ڈاکٹر مبین اختر صاحب نے اپنی تنظیم تحریک نفاذ اُردو کو عطالرحمان چوہان صاحب کی تحریک نفاذ اُردو پاکستان میں ضم کر دیا ہے ۔ اب ڈاکٹر مبین اختر صاحب کو تحریک نفاذ اُردو پاکستان کا سرپرست اعلیٰ بنا دیا گیا ہے ۔ عطالرحمان چوہان صاحب نے اس سے چند روز قبل راولپنڈی آرٹس کونسل میں اُردو نفاذ کےلئے ایک بڑا پروگرام بھی کیا ۔ جس میں راقم کو بھی چند کلمے ادا کرنے کےلئے، اسٹیج سیکرٹری محمد نعیم قریشی صاحب نے موقع دیا ۔ عطالرحمان چوہان صاحب نے نفاذ اُردو اپنی کوششوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم نے پورے پاکستان میں اُردو نفاذ کے حق میں ڈیڈھ کروڑ لوگوں کے دستخط کرانے کی مہم شروع کی ہوئی ہے ۔ دستخط ٹارکٹ پورا ہونے کے بعد پورے پاکستان سے اُردو نفاذ کے حانیوں کو اسلام آباد پارلیمنٹ کے سامنے دھرنے کی کال دیں گے ۔ جب تک ہمارے جائز مطالبات پورے نہیں ہوتے دھرنا جاری رکھیں گے ۔ قلم کاروان کے صدر نشین ڈاکٹر پروفیسر ساجد خاکوانی صاحب نے اُردو نفاذ پر تقریریں کرنے والوں اور تمام شعرا کا شکریہ ادا کیا ۔ صاحبو! کتنے افسوس کی بات ہے کہ جس قومی زبان اُردو کے نفاذ کےلئے بانیِ پاکستان قائد اعظم ;231; پاکستان بننے کے بعد فرمایا تھا کہ پاکستان کی سرکاری زبان، اُردو،اُردو اور صرف اُردو ہی ہو گی ۔ جس کے لیے پاکستان کے مظلوم شہری72 سال سے جدو جہد کر رہے ہیں ۔ جس کےلئے پاکستان کے تین دستوروں میں نفاذ اُردو کی دفعہ اورمدت شامل کی گئی ۔ جس کے عملی نفاذ کے درآمد کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس جواد ایس خواجہ صاحب نے درج کرائے گئے اُردو نفاذ کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے حکومت پاکستان کو اُردو کو سرکاری زبان بنانے حکم بھی جاری کیاتھا ۔ جس اُردو کے نفاذ کے لیے اُردو زبان بولنے والی ساری پاکستانی قوم یک جان ہے ۔ جس کے نفاذ کے لیے پاکستان کی سول سوساءٹی نے درجنوں تنظی میں قائم کر رکھی ہیں ۔ آئیں غور کریں ، اس کے پاکستان میں عملی نفاذ کےلئے رکاوٹ کون لوگ رکاوٹ ڈال رہے ہیں ;238; ۔ یہ حکومت ِپاکستان کے بیروکریٹس ہیں جورکاوٹیں ڈال رہے ہیں ۔ یہ آئی ایم ایف اور دیگر امداد دینے والے سود خور ادارے ہیں جس پر صلیبیوں کا کنٹرول ہے ۔ وہ قرضہ دیتے وقت پاکستان کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اس لیے پاکستان کے سارے وزیر اعظم رکاوٹ بنے رہے ۔ اب بھی مدینے کی اسلامی ریاست کی گردان دھرانے والے وزیر اعظم نے کمیٹی، کمیٹی کھیلتے ہوئے اُردو نفاذ کےلئے ایک کمیٹی بنا دی ہے ۔ اس کمیٹی کے تعارفی اجلاس کے بعد کوئی بھی اجلاس نہیں ہوا ۔ ہ میں تو لگتا ہے کہ اس کا حل عطالرحمان چوہان صاحب صدر، نفاذ اُردو تحریک پاکستان کے پاس ہے کہ پارلیمنٹ کے سامنے کتنابڑامجمع اکٹھا کر کے عمران حکومت سے اُردو نفاذ کا مطالبہ منوا سکتا ہے ۔ اللہ ان کاحامی و مدد گار ہو ۔ آمین ۔

وزیراعظم جنرل اسمبلی میں چھاگئے

وزیراعظم عمران کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب انتہائی جامع، موثر اور شاندار رہا ۔ ان کی باڈی لینگویج اُن کے الفاظ سے بھی زیادہ پراعتماداوررعب داررہی ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں نہ صرف پاکستان،کشمیر بلکہ پوری دنیاکے مسلمانوں کی بہترین ترجمانی کی اورساتھ ہی دیگرمذاہب کوبھی دہشتگردی یا انتہاء پسندی کے ساتھ ناجوڑکردنیاکوامن کاجوپیغام دیاوہ دنیاکیلئے ایک مثال بنے گا ۔ وزیراعظم پاکستان کے خطاب کاکوئی ایساپہلوتوکیا ایساکوئی لفظ تک نہیں جس کے ساتھ اختلاف کیا جائے ۔ ویسے توعمران خان کے خطاب اور کردار پر صدیوں بات ہوتی رہے گی ۔ آج میں اپنے قارئین کے سامنے وزیراعظم پاکستان کے تاریخی خطاب کامختصرخلاصہ پیش کرناچاہتاہوں جس کے بعد آپ خودفیصلہ کریں کہ آپ کے وزیراعظم نے آپ کے جذبات کی ترجمانی کس شاندار انداز میں کی اوردنیاکوقائل کرنے میں انتہائی کامیاب بھی رہے ۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے قانونِ ناموس رسالت 295;67; کے خاتمے کامطالبہ کرنے والوں کے گھر میں کھڑے ہوکربڑے شاندارانداز میں دنیا کو بتایا کہ دنیاسمجھ ہی نہیں سکتی مسلمان اپنے نبی حضرت محمدﷺ کے ساتھی کتنی محبت کرتے ہیں ۔ جب مغرب میں ہمارے نبیﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے توہمارے دل میں درد ہوتا ہے ۔ جب مسلمانوں کاردعمل آتاہے توہ میں دہشت گردکہہ دیا جاتاہے ۔ یہودیوں کی دل آزاری نہ ہواس لئے ہولوکاسٹ کی بات نہیں کی جاتی،ہٹلرکاذکرنہیں کیاجاتاتودنیامسلمانوں کی دل آزاری سے بھی بازرہے ۔ دنیاکاکوئی مذہب دہشت گردی کا درس نہیں دیتا ۔ سب سے پہلے خودکش حملے تامل باغیوں نے کئے جوہندءوتھے انہیں توکسی نے کبھی ہندودہشت گرد نہیں کہا ۔ دنیا اس حقیقت کوسمجھے اسلام کادہشتگردی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ۔ اسلام کا اصل پیغام یہ ہے جوہم دنیاکو دینا چاہتے ۔ اسلام کسی کی حق تلفی نہیں کرتا ۔ اسلام عدل وانصاف،امن،اخوت اور بھائی چارے کا دین ہے ۔ ہم مسلمان دنیاکے کسی مسئلے کو جنگ کے ذریعے حل کرنے کے قائل نہیں ۔ دنیاکے امیرملک غریب ممالک کے وسائل چوری کرنے والے مافیا کوپناہ دیتے ہیں ۔ چوری شدہ دولت کوتحفظ فراہم کرتے ہیں جوغریب ممالک کے عوام کی سب سے بڑی حق تلفی ہے جوانتہاء پسندی،تشددپسندی اوردہشتگردی کاسبب بنتی ہے ۔ ترقی یافتہ ممالک غریب ملکوں سے ٹیکس چوری،کرپشن اورلوٹ گھسوٹ کی دولت لانے والوں کوپناہ دینابندکریں تواحساس محرومی ختم کرنے میں مددمل سکتی ہے جو مستقبل میں امن کی بڑی دلیل ثابت ہوگی ۔ مودی آر ایس ایس کا تاحیات عہدیدار ہے اورآر ایس ایس کے بارے میں جاننے کیلئے آپ گوگل سرچ کرسکتے ہیں ۔ ہٹلر کے نظریات کی حامی آر ایس ایس ایسی انتہاء پسند تنظیم ہے جس کے نزدیک ہندوءوں کے علاوہ کسی کوجینے حق نہیں ۔ خدشہ ہے بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں خون ریزی کاپروگرام رکھتی ہے جس کا الزام ماضی کی طرح بغیرکسی ثبوت پاکستان پر عائد کرے گی ایسی صورت میں دوایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ کے خطرات مزید بڑھ جائیں گے جودنیاکیلئے بہت نقصان دہ ثابت ہو گی ۔ جنگ میں دوآپشن ہوتے ہیں ایک ہتھیارڈال دینادوسرالڑنا ۔ ہم جنگ نہیں چاہتے ۔ ہم ایک اللہ پرایمان رکھتے ہیں ۔ جنگ ہوئی توظلم کیخلاف آخری دم تک بھارت سے لڑیں گے ۔ سلامتی کونسل نے کشمیری عوام کے حقوق کی بحالی کیلئے اقدامات نہ کئے تویہ اقوام متحدہ کی ناکامی ہوگی ۔ کشمیریوں سے حق خود ارادیت کا وعدہ اقوام متحدہ نے کیا تھا جسے پوراکیاجاناضروری ہے ۔ 52 روز سے 80لاکھ کشمیری سخت کرفیوکاشکارہیں اُن کی زندگی مفلوج ہوچکی ہے یہاں مغرب میں 80لاکھ انسان توکیاجانوربھی قیدہوتے تواُن کے حقوق کیلئے آوازیں آناشروع ہوجاتیں کیاکشمیری انسان نہیں ;238;کیامسلمانوں کے حقوق نہیں ہیں ;238; اقوام عالم بھارت پردباءوڈالے کہ وہ کشمیرسے کرفیوہٹائے اوراہل کشمیرکواپنے مستقبل کافیصلہ کرنے کا اختیار دے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں کم کپڑے پہننے پر پابندی نہیں پر مسلم خواتین کیلئے حجاب پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اسے دنیا کا بڑا مسئلہ بنا دیا گیا ہے ۔ حجاب تو کوئی ہتھیار نہیں ہے ۔ اسلامو فوبیا سے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی جس سے صورتحال خراب ہے ۔ نائن الیون کے بعد بعض مغربی لیڈروں نے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنے کی کوشش کی حالانکہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ۔ نائن الیون سے پہلے تامل ٹائیگرز خود کش بمبار تھے جو کہ ہندو تھے پھربھی ہندووَں کو کسی نے ہندو دہشت گرد نہیں کہا ۔ وزیراعظم پاکستان نے اپنے تاریخی خطاب کی ابتدا دنیاکودرپیش ماحولیاتی تبدیلی کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ گلیشیئر بڑی تیزی سے پگھل رہے ہیں ۔ ماحولیاتی تبدیلی کے مضراثرات سے نمٹنے کےلئے ہ میں سنجیدہ اقدامات کرنا ہوں گے ۔ ہماری حکومت نے پانچ سالوں میں دس ارب درخت لگانے کا ہدف رکھا ہے ۔ ایک ملک کچھ نہیں کر سکتا ۔ پوری دنیا کو اقدامات کرنا ہوں گے ۔ اقوام متحدہ میں شاندارتقریرکے بعدبھی وزیراعظم پاکستان کے سامنے ملکی مالی مشکلات کاچیلنج اسی طرح موجود ہے جسے جلدحل کرنا ناگزیر ہے ۔ مہنگائی اوربے روزگاری سے پریشان عوام اپنے وزیراعظم سے فوری ریلیف کامطالبہ کررہے ہیں ۔ وزیراعظم کوچاہئے کہ ٹیکس چوروں ،، مصنوعی مہنگائی اوربے روزگاری پھیلانے والوں کے ساتھ سختی سے پیش آئیں تاکہ عوام کچھ ریلیف ملے ۔

وادی میں مودی کے زیر سرپرستی آگ و خون کا کھیل

مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد سب سے زیادہ اثرات خود کشمیریوں پر اور پھر پاکستان پر اثر انداز ہوئے ۔ ہم اپنے کشمیریوں بھائیوں کی شہادتوں ، گرفتاریوں ، بچوں و بزرگوں اور خواتین کی بھارتی فوج کے ہاتھوں تذلیل پر تڑپ اٹھے ۔ وزیر اعظم عمران خان اور وزیر خارجہ نے خارجی محاذ پر دنیا کو باور کرایا کہ مودی نے وادی میں آگ اور خون کا کھیل شروع کر دیا ہے ۔ پہلے سلامتی کونسل کا اجلاس اور اب اقوام متحدہ کے اجلاس میں پاکستان نے بھرپور طریقے سے نہ صرف کشمیر کا مسئلہ پیش کیا بلکہ مودی کے گھناوَنے کردار کو بھی دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ۔ اس وقت حالات کے مطابق پاک بھارت جنگ کے دھانے پر کھڑے ہیں ۔ اگر ذرا سی بھی بد احتیاطی ہوئی تو نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا جنگ کی لپیٹ میں آسکتی ہے اور وہ بھی جوہری جنگ کی ۔ اسی لئے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان روایتی جنگ ہوئی تو کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ ہمارے پاس کوئی آپشن نہیں بچے گا اور اس کا اثر پوری دنیا پر پڑے گا ۔ ہم اپنے ہمسائے سے سات گنا چھوٹے ہیں اور ایک چھوٹا ملک جب لڑتا ہے تو اس کے پاس دو آپشنز ہوتے ہیں ہتھیار ڈالے یا لڑے اور ہم آخری سانس تک لڑیں گے ، ہمارا للہ کے ایک ہونے پر یقین ہے اور ہم لڑیں گے ۔ جہاں تک مسئلہ کشمیر کی بات ہے تو انہوں نے اس کی بھرپور وکالت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ کا امتحان ہے ۔ اللہ کے ایک ہونے پر یقین ہے ۔ آخری سانس تک لڑیں گے ، بھارت کومقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانا ہوگا اور قیدی رہا کرنے ہونگے ۔ میں جنگ کے خلاف ہوں ۔ حکومت میں آنے کے بعد بھارت کومذاکرات کی دعوت دی لیکن بھارت نے مذاکرات کی پیشکش ٹھکرا دی ۔ 5 اگست کے بعد مقبوضہ کشمیر میں اسی لاکھ کشمیریوں جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں کو 9لاکھ فوج کے ذریعے کرفیو لگا کر محصور کردیا گیاہے ۔ 80لاکھ لوگوں کو جانوروں کی طرح بند کیا ہوا ہے ۔ اسی لاکھ جانوروں کواگر ایسے قید کیا جاتا تو مغرب میں شور مچ جاتا ۔ اگر 8لاکھ یہودی اس طرح محصور ہوں تو کیا ہوگا;238; ۔ یہ تو آج کی رپورٹس ہیں ۔ ماضی میں بھی کشمیریوں نے ہمیشہ بھارتی مظالم ہی سہے ہیں ۔ پچھلے تیس سالوں میں ایک لاکھ کشمیریوں کوشہید اور گیارہ ہزار خواتین کی عصمت دری کی گئی ہے اور یہ اقوام متحدہ کی رپورٹس ہیں ۔ بھارت نے اقوام متحدہ کی 11قراردادوں کی خلاف وزری کرکے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت تبدیل کی ۔ دنیا نے سوچا کہ مقبوضہ کشمیر میں خونریزی کا کشمیریوں پر کیا اثر ہوگا ;238;خود ہ میں پاکستان میں بھارتی دہشت گردی کا سامناہے ۔ کلھبوشن بلوچستان میں دہشت گردی کرتا پکڑا گیا ۔ مودی آر ایس ایس کا لاءف ٹائم ممبر ہے اور آر ایس ایس وہ جماعت ہے جس کی بنیاد ہٹلر اور میسولینی کے نظریات پر ہے ۔ آر ایس ایس بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں سے نفرت کرتی ہے اور یہ بات سرعام کی جاتی ہے ۔ آر ایس ایس نے گاندھی کو قتل کیا تھا ۔ ان کا نظریہ نفرت اور قتل وغارت پر مبنی ہے ۔ انتہا پسند مودی اور آر ایس ایس کی تعریف یہ ہے کہ جب مودی گجرات کا وزیر اعلیٰ بنا تو اس آر ایس ایس نے گجرات میں دوہزار سے زائد مسلمانوں کوقتل کردیا تھا ۔ بھارتی سیاسی جماعت کانگریس نے آر ایس ایس کو دہشت گرد تنظیم قراردیاتھا ۔ مقبوضہ کشمیر میں کرفیو کے دوران 13ہزار نوجوانوں کوگرفتار کیا گیا ۔ بھارتی مظالم کے باعث جب کوئی واقعہ ہوگا تو بھارت اس کا الزام پھر پاکستان پر لگائے گا ۔ کیا بھارت سمجھتاہے کہ کشمیری غیر قانونی اقدام تسلیم کرلیں گے;238;پیلٹ گنز کے استعمال سے نوجوانوں کی بینائی چھینی جارہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں نو لاکھ بھارتی فوجی کیا کررہے ہیں ;238;آخر کار بھارت کو مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانا ہوگا اور سیاسی قیدی رہا کرنا ہونگے ۔ کشمیریوں کوحق خود ارادیت دینا پڑے گا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے خطاب کے دوران 26 اور 27 فروری کو پیش آنے والے واقعات کے بارے میں تفصیل بیان کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انہوں نے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو واپس کر کے بھارت کے ساتھ امن کی کوشش کی لیکن مودی نے اپنی ساری الیکشن مہم پاکستان کے خلاف کی ۔ ہم نے پلوامہ حملے پر ثبوت مانگے توبھارت نے ثبوت دینے کے بجائے بمباری کرنے کیلئے اپنے طیارے بھیج دیے اور مودی نے اپنی الیکشن مہم کے دوران یہ جھوٹا دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان میں 350 دہشت گرد مار دیے ۔ وزیر اعظم نے مودی کے اس دعویٰ پر کہا ’ بھارتی طیاروں نے اور کچھ نہیں کیا بلکہ ہمارے 10 درختوں کو قتل کرکے گئے، ہم ان درختوں کو بڑی مشکل کے ساتھ پال رہے ہیں ۔ ‘ عمران خان کی اس بات پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہال تالیوں سے گونج اٹھا ۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مقبوضہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے ۔ مسئلہ کشمیر ان ہی قراردادوں کے مطابق حل ہونا چاہیے ۔ بھارت کے حالیہ اقدام سے خطے کی کشیدگی میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ کشمیر کی صورتحال پر سلامتی کونسل ارکان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اب اقوام متحدہ کے اجلاس میں دنیا کے تقریباً تمام ممالک کے نمائندے موجود ہیں انہیں چاہیے کہ وہ بھارتی وزیر اعظم مودی پر دباوَ ڈالیں اور سب سے پہلے محصور کشمیریوں کو کرفیو کی پابندیوں سے آزاد کرائیں ۔ اس کے بعد یہ بہت اچھا موقع ہے کہ کشمیر میں استصواب رائے کےلئے اقوام متحدہ بھارت پر دباوَ ڈالے اور کشمیریوں کو اپنا خود ارادیت کا حق استعمال کرنے کا موقع دے کیونکہ یہ دس بیس ہزار کی نہیں اسی لاکھ آبادی کی زندگی و موت کا سوال ہے ۔

Google Analytics Alternative