کالم

پاکستان میں اقلیتوں کی صورتحال

مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ قومی مفاد کے تقدس کا احترام کرتے ہوئے صدق دل سے خود کو یقین دلاءوں کہ وطن عزیز میں اقلیتوں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جراَت نہیں کرسکتا ۔ نہ انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایاجاسکتا ہے اور نہ ہی ان کے جان و مال اور عزت و آبرو پر آج تک کوئی آنچ آنے دی گئی ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ میں صحافی بھی ہوں ، لہٰذا قومی مفاد کی دو دھاری تلوار سے بچتے بچاتے تھوڑا بہت سچ جاننے اور اسے خلق خداتک پہنچانے کی کوتاہی اکثر و بیشتر سرزد ہو ہی جاتی ہے ۔ ریاست بلاشبہ اس بات پر کامل یقین رکھتی ہے کہ ملک کا آئین اگر تمام شہریوں کو بلالحاظ جنس، رنگت، نسل اور عقیدہ برابر کا شہری قرار دیتاہے تو پھر ایسا ہی ہوگا، علاوہ ازیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی فرمادیاتھا کہ کاروبار مملکت سے متذکرہ بالا خصوصیات کا کوئی تعلق نہیں اور لوگ اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کیلئے آزاد ہیں تو لازماً ان کا یہی مطلب ہوگا کہ ایک پرامن اور مہذب معاشرے کا قیام ان اصولوں پر عمل کئے بغیر ممکن نہیں ، تو پھرالجھن کیسی ;238;بظاہر سب اچھا اور ریاست کی نیت پر شک کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں لیکن اکثریتی بالادستی کا فارمولا سامنے رکھتے ہوئے سب سے پہلے ہ میں یہ سمجھنا ہوگا کہ اقلیت کامطلب کیا ہے، آئین کے مطابق پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے جس میں اکثریتی آبادی کا مذہب اسلام ہے اور اس کے غیرمسلم شہری عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی، بہائی اور قادیانی اقلیت شمار ہوتے ہیں ، اکثریتی فارمولے کی رو سے سنی عقیدہ رکھنے والوں کے مقابلے میں اہل تشیع کو کیا کہاجائے گا جبکہ وہ بھی دین اسلام ہی کے پیروکار ہیں !ہیومن راءٹس کمیشن آف پاکستان کی متعدد رپورٹس میں اس بات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے کہ ریاست اقلیتوں کے حقوق کا مناسب تحفظ نہیں کرپائی، وسطی پنجاب میں عیسائیوں پر حملوں کے درجنوں واقعات میں بےگناہ مارے جانے والوں کے قاتلوں کو سزا کے بجائے محفوظ راستہ دیا جاتا رہا، اس منصفی اور غیرذمہ دارانہ رویے سے شدت پسند مذہبی عناصر کی حوصلہ افزائی ہوئی ، سندھ میں ہندو آبادی کے ساتھ جو امتیازی اور غیرانسانی سلوک اب تک روا رکھا جارہاہے وہ ہرگز لائق ستائش نہیں ، ہندو لڑکیوں کو اغواء کرکے زبردستی تبدیلی مذہب اور جبری نکاح کے واقعات میں رنکل کماری کیس کے بعد تیزی آئی جس میں سابق پی سی او چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ملک کی سب سے بڑی آئینی عدالت کے سربراہ کی حیثیت سے قانون و انصاف کے تقاضوں کو بری طرح پامال کیا ۔ قادیانی بھی الگ اپنا مقدمہ لئے پھر رہے ہیں ، بقول شخصے کسی قادیانی کی جان لے لینا تقریباً ثواب کے زمرے میں آتا ہے جبکہ ریاست شاید اس بات سے بھی باخبر نہیں کہ اس اقلیت کا معاشی بائیکاٹ کیا جارہا ہے جس کی گنجائش نہ تو اسلام میں ہے اور نہ ہی ملکی قانون اس کی اجازت دیتا ہے، دہشت گردی کے عفریت سے سربرپیکار ریاست کو معاشرے کی سوچ بدلنے کیلئے بھی کوئی مربوط اور جامع حکمت عملی وضع کرنی چاہئے ، امتیازی قوانین کا خاتمہ کئے بغیر مثبت تبدیلی ممکن نہیں ، لگے ہاتھوں اس پہلو پر بھی بات کرلی جائے کہ جس ملک میں مسلکی اختلافات پر فرقہ وارانہ کشیدگی کی چنگاری وقتاً فوقتاً اچانک بھڑک کر شعلہ بن جاتی ہو اور شاعر اس کو یوں بیان کریں

جانے کب ، کون، کسے ماردے کافر کہہ کر

شہر کا شہر مسلمان ہواپھرتا ہے

وہاں اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کتنا آسان ہوگا اور اگر عبادت گاہوں کو اضافی سکیورٹی کی فراہمی کو معیار تسلیم کرلیا جائے تو نمازکے اوقات میں پہرہ مساجد پر بھی دیاجاتاہے، کیا یہ صورتحال تشویشناک نہیں ;238;مناسب یہ ہوگا کہ اقلیتوں کے ساتھ اب تک روا رکھے گئے غلط سلوک، رونما ہونے والے پرتشدد واقعات میں جانی و مالی نقصان، اغواء ہونے والی ہندو لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرکے جبری شادی پر مجبور کئے جانے کے اعداد و شمار سمیت تمام معاملات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لئے ایک با اختیار پارلیمانی کمیشن مقرر کیاجائے، جو شکایات کا ازالہ اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے نہ صرف قانون سازی کرے بلکہ اس پر پوری طاقت کے ساتھ عملدرآمد بھی ممکن بنائے ۔

امریکہ کے کامیاب دورے کے بعد وزیراعظم کی وطن واپسی،احتساب کا واضح پیغام

وزیراعظم عمران خان نے وطن واپس آتے ہی واضح طورپر کہہ دیا ہے کہ وہ چوروں اور لٹیروں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے اور جب تک ان سے لوٹا ہوا پیسہ واپس نہیں لیا جائے گا اس وقت تک معاشی استحکام آنا مشکل ہے ۔ بیرونی دنیا سے بھی ہم نے بات کی ہے کہ وہ پیسہ جو پاکستان کے لٹیرے حکمرانوں نے وہاں جمع کررکھا ہے اسے پاکستان واپس لانے میں مدد کریں تاکہ وہ ملک و قوم کی ترقی پر خرچ ہوسکے ۔ پاکستان کو ایک شاندار اور عظیم ملک بنائیں گے، قائد اعظم کے خواب والا پاکستان بناناہے ، قائد اعظم اور اقبال کے خواب کو پورا کرنا ہے ، ہم خود دار قوم بنیں گے ، پاکستان میں اصلاحات کرنی ہیں ، اداروں کو ٹھیک کرنا ، چوروں ، داکوءوں نے اس ملک کو مقروض کردیا، جب تک ان کا احتساب نہیں ہو گا یہ ملک ترقی نہیں کرسکتا، میں امریکہ میں بھی کہا کہ ان چوروں لیٹروں کی جو دولت بیرون ممالک میں پڑی ہے اسے وطن واپسی کیلئے ہماری مد دکی جائے تاکہ وہ پیسہ اپنی قوم پر لگا سکیں ، وہ امریکہ کے کامیاب دورے سے واپسی پر پارٹی ورکروں سے خطاب کررہے تھے، انہوں نے کہا میں کبھی بھی قوم کو مایوس نہیں کروں گا، وہ دن جلد آئے گا جب ہرے پاسپورٹ کی دنیا بھر میں عزت ہو گی اللہ نے ہ میں 27رمضان المبارک یہ ملک دیا تھا، یہ اللہ کا خاص ملک، آپ اس ملک کے شہری ہو جو اسلام کے نام پر بنا تھا، ہم نے ایک عظیم قوم بننا ہے ہم نے وہ قوم بننا ہے جو علامہ اقبال ;231;کی فکر اور قائد اعظم;231; کا خواب تھا، میں نہ کبھی کسی کے سامنے جھکا ہوں ، نہ اپنی قوم کو جھکنے دینے ہے، ہم نے خود دار قوم بننا ہے ، میری ساری جدوجہد ہے کہ میں مدینہ کی ریاست کی طرز پر ریاست بناءوں ، انشاء اللہ آنے والے دنوں میں مشکل حالات سے نکل کر اصلاحات کرنی ہے ادارے ٹھیک کرنے ہیں ، اسی ملک سے پیسہ اکھٹا کرنا ہے ، پیسہ اکھٹا کر کے ہسپتال بنائیں گے نوجوانوں کو روز گار دیں گے ، دنیا صرف اس کی عزت کرتی ہے جو اپنی عزت کرتاہے ، کبھی دنیا ان کی عزت نہیں کرتی جو دنیاکے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں ، آپ سے وعدہ کرتا ہوں میں آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا، ایک سال ہ میں لگا ہے ملک سنبھالنے میں ، سابق حکمرانوں نے ملک کا پیسہ باہر منتقل کیا،ملک لوٹنے والوں کا احتساب کرنے تک ملک آگے نہیں بڑھ سکتا ، میں امریکہ میں بھی کہا کہ امریکہ اور مغربی ممالک ہماری مدد کریں تاکہ ہم لوٹا ہوا پیسہ واپس لائیں اور ملک کی ترقی کیلئے خرچ کریں ، اللہ نے اس ملک میں ہر قسم کی نعمت دی ہے ، ہم اتنے خوش قسمت ہیں ، قبل ازیں واشنگٹن میں تحریک انصاف کے رہنماءوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ قومی وقار اور غیرت پر سمھجوتہ نہ کیا جائے، عزت نفس بڑی چیز ہے، مدینہ کی ریاست کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ، اوورسیز پاکستانیوں کو زندگی میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے، اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ۔ میں اوورسیز پاکستانیوں کی سب سے زیادہ عزت کرتا ہوں ان کو زندگی میں بہت محنت کرنا پڑتی ہے ۔ اوورسیز پاکستانی ملک کا قیمتی اثاثہ ہیں ، بیرون ملک مقیم پاکستانی محنت سے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرتے ہیں ۔ حکمرانوں کو بیرون ملک مقیم پاکستانی برادری سے اردو میں بات کرنی چاہئے ۔ قومی وقار اور غیرت پر سمھجوتہ نہ کیا جائے، عزت نفس بڑی چیز ہے، مدینہ کی ریاست کے سنہری اصولوں پر عمل پیرا ہو کر کامیابی حاصل کر سکتے ہیں ، سچ بڑی طاقت ہے، اللہ سچ بولنے والوں کو کامیابی عطا کرتا ہے، ایمانداری اور سچائی کی ہمیشہ دنیا میں عزت ہوتی ہے ۔ میری خواہش ہے کہ سچ اور بہادری پاکستانیوں کی دنیا میں پہچان ہو ۔ پاکستانی قوم ایک بہادر اور باصلاحیت قوم ہے، صدر ٹرمپ نے بھی پاکستانیوں کی ذہانت اورصلاحیتوں کا اعتراف کیا ہے ۔

چیئرمین سینیٹ کا معاملہ، حکومت ،اپوزیشن متحرک

چیئرمین سینیٹ کے حوالے سے اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں حکومت خاصی متحرک نظر آرہی ہے ، فضل الرحمن اور بلاول بھٹو سے روابط جاری ہیں مگر کسی جانب سے بھی حوصلہ افزاء جواب نہیں ملا جبکہ حکومت اس بات پر بھی تیار ہے اگر اپوزیشن نہیں مانتی اور اگر چاہتی ہے تو دوبارہ الیکشن کیلئے بھی تیار ہیں ۔ قائد ایوان سینیٹ شبلی فراز نے فضل الرحمن سے ملاقات کی لیکن چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کیخلاف تحریک عدم اعتماد روکنے کے سلسلے میں حکومتی وفد مولانا فضل الرحمن کو منانے میں ناکام ہوگیا ۔ تحریک واپس لینے کے مطالبے پرمولانا فضل الرحمن نے وفدکو دو ٹوک جواب دیا کہ بہت آگے جاچکے ہیں اب واپسی نہیں ہوسکتی،عدم اعتماد کی تحریک کا فیصلہ اپوزیشن نے متفقہ طور پر کیا، کیسے ممکن ہے اس مرحلے پر واپس لے لیں ، وزیراعلی بلوچستان جام کمال اور شبلی فراز نے کہا ہے کہ سینیٹ کے وقار کو بچایا جائے، اپوزیشن سے بات کریں ، امید ہے آپ مثبت کردار ادا کرینگے ۔ دوسری جانب شیری رحمن نے کہا کہ سینیٹ چیئرمین تبدیل ہوں گے، حکومت جو چاہے کر لے نہیں روک سکتی ۔ اسلام آباد میں وزیراعلی بلوچستان جام کمال نے جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی،اس موقع پرسینیٹ میں قائد ایوان شبلی فراز،ایوب آفریدی،مرزا خان آفریدی اور بلوچستان کے سینیٹرزبھی موجود تھے ۔ ملاقات میں چیئرمین سینیٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد اور دیگر سیاسی امور پر بات چیت ہوئی ۔ ملاقات کے بعد شبلی فراز نے کہا کہ سینیٹ کو ہمیشہ سے مقدس پلیٹ فارم سمجھا جاتا ہے، کوشش کریں گے سینیٹ کا وقار متاثر نہ ہو، ہم نے اپنے خیالات مولانا فضل الرحمن کے سامنے پیش کئے، مولانا فضل الرحمن نے شفقت سے ہماری بات سنی،فضل الرحمن اگر ہماری طرف سے اپوزیشن سے بات کرتے ہیں تو اعتراض نہیں ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کہا کہ سینیٹ کی ڈیڑھ سالہ مدت گزر چکی ہے، ڈیڑھ سال رہ گیا، ایسا قدم اٹھانا چاہیے جس سے بہتری کی طرف جائیں ۔ چیئرمین سینیٹ کے معاملے پر مولانا سے ملاقات کی،مولانا فضل الرحمان کے سامنے اپنی درخواست رکھی ہے، اپوزیشن کے اقدام سے شاید اچھے نتاءج نہ نکلیں ، صادق سنجرانی کا تعلق ہماری جماعت سے ہے،ہم انفرادی حوالے سے اس معاملے کو نہیں دیکھ رہے،یقینی طور پر یہ صرف مولانا فضل الرحمن کا فیصلہ نہیں ہے،رہبر کمیٹی کے ممبران یقینی طور پر اپنا کردار ادا کرینگے ۔

سیف اللہ نیازی کی ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی سے گفتگو

نیازی صاحب آپ نے جو ملکی حالات کی بات کی اس میں مشکلات آرہی ہیں ،30سال سے جو کرپشن ہوتی رہی ہے،حالات کی خرابی کا باعث بنی،کرپشن کی وجہ سے اس ملک میں جو کچھ ہوتا رہاہے اسے ٹھیک کرنے ٹائم لگے گا،اس مشکلات سے انشا اللہ ہم گزرجائیں گے اور ایک سنہری وقت آئے گا،بہت سے ممالک کو ہماری ضرورت ہے ،ہم اس ریجن کا حب بنیں گے،عمران خان صاحب نے مجھے اس سال13 مارچ کو چیف آرگنائزر کے عہدے پرلگایا،عمران خان یہ محسوس کررہے تھے کہ پارٹی درست طریقے سے آرگنائز نہیں ہورہی ،جب میں نے عہدہ سنبھالا تو کافی زیادہ ایشوز تھے ، میں روز لوگوں سے مشاورت کرتا تھا،ہم کوشش کررہے ہیں کہ جو تنظیم بن رہی ہے اس میں مختلف لوگوں سے مشاورت کریں ،سیف اللہ نیازی(چیف آرگنائزر پی ٹی آئی) نے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی کیساتھ میں گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ جو تنظی میں ہم بنا رہے ہیں تمام لوگوں کو کہا کہ مشاورت کا عمل رکھنا ہے،ہرلیول پرمشاورت ہونی چاہیے،یہاں پرکسی فرد واحد کے فیصلے نہیں ہونگے،جس بھی مسئلے پر مشاورت کرنی ہوئی اکثریت کی رائے مانی جائے گی ۔

کشمیر پر ثالثی ، بھارت کو تشویش کیوں

وزیر اعظم عمران خان نے حالیہ دورہ امریکہ میں صدر ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں مسئلہ کشمیر کا بڑے اعتماد اور وثوق سے ذکر کیا ۔ ملاقات ہی میں امریکی صدر نے بھارت اور پاکستان کے درمیان مسئلہ کشمیر کے دیرینہ تنازع کو حل کرنے کے لیے یہ کہتے ہوئے ثالثی کی پیشکش کی کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی بھی کشمیر پر ثالثی سے متعلق مجھ سے بات کر چکے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ پہلے جب بھی تنازع کشمیر پر امریکہ کو مصالحانہ یا ثالثی کا کردار ادا کرنے کے لئے کہا گیا تو امریکی حکومت ہمیشہ کنی کتراتے ہوئے یہی کہا کہ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کو باہمی مذاکرات کے ذریے حل کرنا چاہئے ۔ البتہ امریکہ اس سلسلے میں سہولت کار کا کردار ادا کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہے ۔ یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نہ صرف ثالثی کی پیش کش کی بلکہ یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ نریندر مودی بھی اِس پر رضا مند ہیں ۔ امریکی صدر کے ثالثی بیان پر بھارت میں صف ماتم بچھ گئی ۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی امریکی صدر کو مسئلہ کشمیر پر ثالث بننے کی درخواست نہیں کی ۔ شملہ معاہدہ اور لاہور اعلامیہ کی رو سے دونوں ممالک (پاکستان اور بھارت) تمام تر مسائل باہمی طور پر ہی حل کریں گے ۔ انہوں نے بھارت کے پرانے راگ یعنی کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے کو ایک بار پھر دہرایا ۔ بھارت کے سابق وزیر ششی تھرور نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو بالکل بھی نہیں معلوم کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں ۔ ان سے وزیر اعظم نریندر مودی نے ملاقات کے وقت جو کچھ کہا تھا یا تو وہ ٹرمپ نے سمجھا ہی نہیں یا ٹرمپ کو بریفنگ نہیں دی گئی ۔ ٹرمپ کو نہیں معلوم کہ کشمیر پر کسی تیسرے ملک کی جانب سے ثالثی سے متعلق بھارت کا موقف کیا ہے ۔ صدر ٹرمپ اپنا وعدہ نباہتے ہوئے اگر کشمیر پر ثالثی کرانے کا آغاز کرتے ہیں تو دیکھنا ہو گا کہ وہ اس سلسلے میں پاکستان کے مبنی برحق وانصاف موقف کا کس حد تک لحاظ رکھتے ہیں اور کشمیریوں کی آرزووَں اور آدرشوں کو کتنا وزن دیتے ہیں ۔ مسئلہ کشمیر زمین کے کسی ٹکڑے کا معاملہ نہیں ہے ۔ یہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے مستقبل اور حق خود ارادیت کا سوال ہے ۔ یہ بات تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ کوئی پاکستانی یا عالمی لیڈر اگر کشمیریوں کی خواہشات کو نظر انداز کر کے اگر مسئلہ کشمیر کا حل نکالنے کی کوشش کرے گا تو یہ کوئی پائیدار حل نہیں ہو گا ۔ مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور قابل قبول حل کیلئے بھارت سے یواین قراردادوں پر عملدرآمد کرانے میں ان کیلئے کوئی امر مانع نہیں ہو سکتا کیونکہ کشمیریوں کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے استصواب کا حق دینا ہی اس مسئلہ کا اصل اور ٹھوس حل ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے صدر ٹرمپ کو کشمیر میں جاری بھارتی مظالم سے آگاہ کیا اور مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے تعاون مانگا ۔ ہ میں کشمیر پر بہرصورت اپنے موقف کی ہی پاسداری کرنی اور کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کیلئے ہر فور م پر آواز اٹھائے رکھنا ہے ۔ ٹرمپ کی کوششوں سے اگر کشمیریوں کو آزادی کی منزل حاصل ہوجاتی ہے یہی اس خطے کے امن و سلامتی کی ضمانت بنے گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین سیدعلی گیلانی ، میر واعظ عمرفاروق نے امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے اعلان کا خیر مقدم کیا ہے ۔ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین اور بزرگ کشمیری رہنما سید علی گیلانی نے امریکی صدر کے سامنے مسئلہ کشمیر اٹھانے پر وزیر اعظم عمران خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوے کہا کہ میں اپنی زندگی میں پہلا لیڈر دیکھ رہا ہوں جس نے ہم نہتے کشمیریوں کے لیے آواز اْٹھائی ہے ۔ اب امریکا کو کشمیر کی آزادی کے لیے کردار ادا کرنا پڑے گا ۔ کشمیر اقوام متحدہ کے ایجنڈے پردیرینہ حل طلب مسئلہ ہے اورریاست کی گزشتہ تین نسلیں کشمیر کی آزادی کے لئے اپنی قربانی دے چکی ہیں ۔ مسئلہ کشمیر اٹھانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ۔ میر واعظ عمرفاروق نے کہا کشمیری عوام کو تنازعے کے حل کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ۔ جموں کشمیر پیپلز ڈیمو کریٹ پارٹی پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے ایک ٹویٹ میں کہا کشمیر پر وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ملاقات کے دوران ثالثی کی پیشکش بہت اچھی ہے اس سے برصغیر میں امن واپس آئے گا ۔ اس مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں ، یہ معاملہ مذاکرات سے ہی حل ہو گا ۔ آزاد اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور امیدظاہر کی ہے کہ امریکی ثالثی کے نتیجے میں جموں کشمیر کے دیرینہ تنازعے کا حل نکلے گا اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو گا ۔ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے صدر ٹرمپ کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے ثالثی کے اعلان کو غیرمعمولی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہ میں امید ہے کہ امریکہ دیرینہ تنازعے کے حل کے لئے بھرپور کردار ادا کرے گا ۔ جموں کشمیر کا مسئلہ دوطرفہ نہیں بلکہ بین الاقوامی معاملہ ہے اس مسئلے کو عالمی برادری نے حل کرنا ہے چنانچہ اب اقوام متحدہ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلے میں آگے آئے ۔ آزادکشمیر کے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر خان نے ٹرمپ کے اعلان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ تنازعہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق نکالا جائے ۔

کیا کشمیربارے مودی کا غرور ٹوٹ گیا

عمران خان کے دورہ امریکا میں ہمارے لئے جو خوش گوار بات سامنے آئی وہ کشمیر بارے مودی صاحب کا ٹوٹتا ہواغرور ہے ۔ پاکستان جب بھی بھارت سے کشمیر پر مذاکرات کی بات کرنے کا کہتا تھا ۔ مودی صاحب جواب میں نام نہاد دہشت گردی ختم کرنے کی گران دوہراتا رہتا تھا ۔ دورہ کامیاب کرنے کے لیے ویسے تو عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان کے امریکا دورے سے پہلے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید صاحب کو حکومت نے گرفتار کر لیا ۔ جس پر ٹرمپ صاحب نے اپنی بڑی کامیابی قرار دیا تھا ۔ بھارت حافظ سعید کو ممبئی ہوٹل کے واقعہ سے منسوب کرتا رہتا ہے ۔ آزاد حلقوں جس میں جرمنی کے ایک مصنف نے اپنی کتاب میں یہ ثابت کیا ہے کہ بھارت، امریکا اور اسرائیل نے ممبئی دہشت گردی خود کرائی ہے ۔ پاکستان بھارت سے ثبو ت مانگتا ہے تو ثبوت پیش نہیں کیے جاتے تھے ۔ جو ثبوت دیے بھی گئے ان پر پاکستان کی عدالتوں میں مقدمے قائم کیے گئے ۔ عدالتوں نے تفصیل سے مقدمے سن کر حافظ سعید کو باعزت بری کیا ہوا ہے ۔ اللہ کرے عمران خان ان شاتر سیاست دانوں کے کسی جال سے ہوشیار رہیں ۔ بہر حال جو خبرسامنے آئی وہ صدر امریکا ڈونلڈ ٹرمپ صاحب نے مسئلہ کشمیر حل کرنی کی پیش کش ہے جسے پاکستان نے منظور کر لیا ہے ۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ مودی نے بھی کشمیر کے حل کے لیے امریکا سے مدد مانگی ہے یہی غرو ر ہے جس کی ہم نے شروع میں بات کی ہے ۔ ٹرمپ صاحب نے بیان دیا کہ طویل تصفیہ طلب مسئلہ کشمیر پر کچھ کر سکوں اور بھارت پاکستان کے درمیان کشیدہ تعلقات میں بہتری لاسکوں تو مجھے خوشی ہو گی ۔ پاکستان نے تو پہلے سے ہی مودی صاحب اور اس قبل کی وزیر اعظموں کو کشمیر پر بات چیت کرنے کا کہتا رہتا ہے ۔ مودی نے وزیر اعظم بنتے ہی کشمیریوں کے خلاف پہلے سے زیادہ ظلم اور کشمیر مخالف اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں ۔ کشمیر کےلئے بھارت کے آئین میں شق نمبر 370اور35-;65; خصوصی طور پر رکھی ہوئی ہے ۔ جس کے تحت کشمیرے باشندے کے علاوہ اور کوئی بھی کشمیر میں زمین نہیں خرید سکتا ۔ اس کو پہلے مہارجہ کشمیر نے، پھرکشمیر کی پارلیمنٹ نے بھی منظور کیا ہوا ہے ۔ مودی حکومت نے آتے ہی اس شک کو ختم کرنے کی مہم چلائی ہوئی ہے ۔ مودی صاحب جو دہشت گرد ہندو تنظیم آر ایس ایس کے بنیادی رکن ہیں ۔ آر ایس ایس کے حکم پر اپنی انتخابی منشور میں کشمیر بارے اس شقوں کو ختم کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے ۔ اس کے خلاف سارے کشمیری جن میں حیریت کانفرنس ، لیبریشن فرنٹ، سابق حکمران کشمیر محبوبہ مفتی اور تین پشتوں سے کشمیر کے حکمران فاروق عبداللہ بھارت کے سامنے کھڑے ہو گئے ہیں ۔ جہاں تک ڈونلڈٹرمپ عمران خان کی ملاقات کا تعلق ہے تو ٹرمپ صاحب عمران خان وزیر اعظم پاکستان کے استقبال کے لئے واءٹ ہاءوس کے مین گیٹ تک باہر تشریف لائے ۔ واءٹ ہاءوس میں عمران خان اور ٹرمپ کی جو تصویر میڈیا میں آئی وہ برابر کی سطح کی ہے ۔ اس میں عمران خان پر اعتماد نظر آتے ہیں ۔ سابق وزیر اعظم کی طرح کوئی پرچی ورچی ہاتھ میں نہیں تھی ۔ پہلے وفود کو شامل کر کے ملاقات ہوئی ۔ جس میں پاکستان کی طرف سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، جنرل قمر جاویدباجوہ، وزیر تجارت عبدالرزاق داءود صاحبان شریک تھے ۔ بعد میں عمران خان اور ٹرمپ کی ایک گھنٹہ ون ٹو ون ملاقات ہوئی ۔ اس ملاقات میں کیا باتیں ہوئیں یہ صرف عمران خان اور ٹرمپ کو ہی معلوم ہے ۔ ویسے سوشل میڈیا میں یہ کہاجارہا ہے کہ ملک دشمنوں نے عمران خان کے گردگھیرا تنگ کیا ہوا ہے ۔ پاکستان کے حساس قادیانی معاملے کےلئے امریکا میں میدان بنایا گیا تھا ۔ جس کےلئے توہین رسالت کے پانچ سالہ قادیانی مجرم کو پہلے رہائی دلائی گئی ۔ اس قادیانی نے مرحوم سابق گورنر تاثیر کے بیٹے اور ۷۲ رکنی وفد کے ساتھ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کرائی گئی ۔ جس کی رپورٹنگ اخبارات کی زنیت بنی ۔ جس میں پاکستانی عدالت سے سزا یافتہ قادیانی ٹرمپ سے کہہ رہا ہے کہ پاکستان میں ہ میں کافر کہا جاتا ہے جبکہ امریکا میں ہ میں مسلمان مانا جاتا ہے ۔ ہمارے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ۔ امریکا خود جانتا ہے کہ قادیانی ہنود اور نصاریٰ کی مسلمانوں کے خلاف سازش سے پیدا کیا گیا ہے ۔ سوشل میڈیا میں جاری مہم میں عمران خان کو قادیانیوں کا حمایتی دکھایا گیا ۔ لندن میں ایک انیل مسرت قادیانی کی تصویر عمران خان کے بیٹے،پاکستان کی پارلیمنٹ کے اسپیکر اسد قیصر،جرنل قمرجاوید باجوہ ، آئی ایس آئی کے ڈاریکٹر آصف غفور اور خود عمران خان کے ساتھ نشر کی گئیں ۔ ان تصاویر سے ایسا لگتا ہے کہ انیل مسرت کو قادیانیوں کی طرف سے خصوصی طور پر لگایا ہے ۔ عمران خان وزیر اعظم پاکستان کے اس کی وضاحت جاری کرنی چاہیے کہ کیا یہ حکومت پاکستان کا کوئی نمائندہ ہے جو ٹاپ کے لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتا ہے ۔ یا قادیانی کا اتنازیادہ اثرورووخ ہے کہ وہ پاکستان کے حکام کی لندن میں پاکستانی سفیر کی طرح ڈیل کر رہا ہے ۔ اصل میں قادیانی مسئلہ پاکستان کی بقاء کا مسئلہ ہے اس لیے پاکستانی بڑے حساس ہیں ۔ مشترکہ پریس کانفرنس میں ٹرمپ نے کہا کہ عمران خان کی اس سوچ سے سو فیصد متفق ہوں کہ افغانستان کا حل فوجی نہیں مذاکرات ہیں ۔ یہ مسئلہ امریکا طالبان مذا کرات سے ہی حل ہو سکتا ہے ۔ ہم اسی لیے افغانستان سے فوجوں میں کمی کر رہے ہیں ۔ پاکستان پر امن حل کےلئے امریکا کی کوششیں میں مدد کر رہا ہے ۔ عمران خان نے ٹرمپ سے کہا کہ میں جو دعدہ کروں گا اس پر پورا اُتروں گا ۔ ٹرمپ نے پہلے الزام لگایا تھا کہ پاکستان پیسے بھی لیتا ہے اور ہمادی مدد یعنی ڈومور نہیں کرتا ۔ وہ تو عمران خان پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اب ہم کسی کی لڑائی میں شریک نہیں ہونگے ۔ پہلے کی طرح کرائے کی فوجی نہیں بنیں گے ۔ آرمی چیف نے بھی کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم نے دنیا میں سب سے زیادہ قربانی دی ہے ۔ اب دنیا ڈور مور کرے ۔ پاکستان تو خطے میں امن چاہتا ہے ۔ اسی لئے افغان حکومت اور امریکا کی طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد کر ہا ہے ۔ اس دورے سے پاکستان اور امریکا کے درمیان اعتماد کی فضا درست ہو ئی ہے ۔ اب چاہیے کہ امریکا نے جو کولیشن فنڈ، جو پاکستان کا حق بنتا ہے، جسے امریکا نے روک رکھا ہے وہ پھر سے جاری ہو جائے ۔ افغانستان جنگ میں پاکستان کا ۰۵۱;241; ار ب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے ۔ ہزاروں فوجی اور سویلین شہادتیں ہوئی ہیں ۔ اس لئے امریکہ کو چاہیے کہ پاکستان کو بھارت کے ساتھ برابری کا حصہ دار بنایا جائے ۔ بھارت کی ایما پر افغانستان سے جاری دہشت گردی ختم کرائے ۔ مسئلہ کشمیر بھارت،پاکستان اور کشمیریوں کو ملا کر حل کروائے ۔ اگر امریکا ایسا کرتا ہے تو خطے میں امن قائم ہو جائے گا ۔ عمران خان وزیر اعظم پاکستان کا دورہ امریکا بھی صحیح معنوں میں کامیاب مانا جائے گا ۔

علی بابے

اس وقت ملکی معیشت اور مالی ذخائر کی جو افسوسناک صورتحال ہے وہ اس قدر بھیانک ہے کہ رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ، قرضوں کا بوجھ ڈالر کی قیمت میں اضافے اور روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے قرض بے انتہا بڑھ چکا ہے آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں کہ اگر ہم نے کسی کا لاکھ روپیہ دینا تھا تو اس وقت وہ کئی گنا بڑھ چکا ہے ۔ ہمارے ذراءع اتنے نہیں کہ اس بوجھ کو کچھ ہی عرصے میں اتارسکیں ۔ قرض کی واپسی بھی سالوں بعد ممکن ہوگی ۔ ستر سالوں سے لوٹ مار کا جو بازار گرم ہے اسے سرد ہونے میں اگر ستر ماہ بھی لگ جائیں تو سودا برا نہیں ۔ محاصل کی وصولی میں بھی خردبرد کا سایہ ہے جسکی وجہ سے ملکی آمدنی میں خاطر خواہ کامیابی نہیں ہوتی ۔ یہی وجہ ہے کہ عوام ہر آنے والی حکومت سے بہت امیدیں لگا لیتی ہے اور چاہتی یہ ہے کہ پلک جھپکتے تمام مسائل حل بھی ہو جائیں ملک میں خوشحالی ہو قلیل وقت میں دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں ۔ حقائق کچھ اور ہوتے ہیں اس لئے عوام بے خبری میں بے صبرے ہو جاتے ہیں ، ہتھیلی پر سرسوں نہیں جمائی جاسکتی ۔ یہ پہلا موقع ہے کہ وزیراعظم عوام کو حقیقت بتا رہا ہے کہ خزانے خالی ہیں آمدنی کم اور اخراجات زیادہ ہیں انہیں کیسے پورا کیا جائے قرض لئے بغیر چارہ نہیں اور پھر پہلے لئے ہوئے قرض کو اتارنے کی بھی ہمت نہیں انہیں اتارنے کیلئے بھی مزید قرض کی ضرورت ہے ملکی آمدنی کا بیشتر حصہ قرض کی ادائیگیوں میں نکل جاتا ہے جو باقی بچتا ہے وہ ملکی ضروریات کیلئے کافی نہیں ہوتا ۔ ایسی صورتحال میں حکومت وقت کیا کرے ان کے پاس نہ تو جادو کی چھڑی ہے کہ گھمائیں اور مسائل حل کرلیں اور نہ ہی کوئی جن بابا ہے جومدد کو آئے یہاں تو صرف علی بابے تھے جنہوں نے اپنی ٹیم کے ہمراہ خوب دل کھول کر ملکی دولت پر ہاتھ صاف کئے ۔ انہوں نے کبھی عوام کو یہ نہیں بتایا کہ ملکی خزانے خالی ہیں اور قرض پر قرض لیا جارہا ہے عوام تو سب اچھا کے جملوں پر لگے ہوئے تھے وہ خود ہی قرض لیتے اور خود ہی اسکا میجر پورشن ہڑپ کر جاتے ۔ عوام کو تھوڑی بہت خبر اس وقت لگتی جب بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے قرض کے حصول کیلئے بات چیت شروع ہوتی قرض کی اقساط ملنے پر کامیاب معاشی پالیسیوں کا اتنا ڈھنڈورا پیٹا جاتا اور بار بار یہی عمل دہرایا جاتا جیسے ہم نے بہت بڑا معرکہ سر کرلیا ہو، قوم مقروض ہوتی گئی حکومت عیش ، عشرت میں لگی رہی اور آج یہ حال ہے کہ پی ٹی آئی والے کسی کو چور اور ڈاکو کہہ کر پکاریں تو برا لگتا ہے یہ الفاظ کب اور کہاں کہاں استعمال کیے جاتے ہیں آپ خود اسکا تجزیہ کرلیں جواب مل جائے گا ۔ عمران خان نے اس حقیقت کو بین الاقوامی سطح پر بیان کیا صورتحال کو چیدہ چیدہ ملکوں کے سربراہ کے گوش گزار کیا تاکہ ملکی مالی حالت دوستوں کے تعاون سے بہتری کی طرف آسکے ۔ اس کوشش کے کیا فوائد ہوئے وہ بھی آپ کے سامنے ہیں ۔ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، معاشی ماہرین تو ٹیلی ویژن پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ کہہ چکے تھے کہ ملک دیوالیہ ہوچکا لیکن اللہ کا شکر ہے کہ ملک کی جیسی بھی حالت تھی اس کیفیت سے پوزٹیو حالت میں پہنچ گیا ۔ اس وقت ٹیکس نیٹ کو بڑھایا گیا ہے ۔ سرکاری اخراجات میں قابل ستائش حد تک کمی واقع ہوئی بعض اداروں نے ملکی مالی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے رضاکارانہ طورپر مطالبات زر کو پس پشت ڈال دیا ۔ عمران خان ذاتی طورپر مالی بے ضابطگیوں میں ملوث نہیں پائے گئے ۔ شوکت خانم ہسپتال لاہو، پشاور ،کراچی میں تعمیر ہوئے لوگوں نے اور خاص طورپر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے دل کھول کر ہسپتالوں کی تعمیر کیلئے چندے دئیے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ کینسر جیسے موذی مرض کی تحقیق اور علاج ان ہسپتالوں میں اعلیٰ پیمانے پر کیا جارہا ہے ۔ کسی نے آج تک عمران خان پر انگلی نہیں اٹھائی کہ ہسپتالوں کی تعمیر کیلئے جو رقم اکٹھی کی اس میں خردبرد ہوئی ۔ لوگوں کا اعتماد ہے اور اسی اعتماد کے بھروسے پر لوگ عمران خان سے تعاون کرتے ہیں ۔ ایدھی مرحوم نے اتنا بڑا ادارہ قائم کردیا اسکی بڑی وجہ ایدھی صاحب پر لوگوں کا اعتماد تھا ۔ ملک موجودہ کیفیت سے انشاء اللہ نکل آئے گا ۔ اچھے دن بھی آئیں گے ۔ احتساب جو ستر برسوں سے نہیں ہوا تھا اب ہونا شروع ہوا ہے ۔ جنہوں نے گاجریں کھائی ہیں ان کے پیٹ میں مروڑ تو اٹھیں گے ۔ وہ چاہے کسی بڑی سیاسی پارٹی کے رہنما ہوں چاہے چھوٹی سیاسی پارٹی کے انہیں جواب تو دینا ہوگا ۔ قومی دولت کو لوٹ کا مال سمجھ کر کیوں اپنی تجوریوں میں بھرا گیا ۔ احتساب کا عمل کبھی تو شروع ہونا چاہیے تھا وہ اب ہوگیا آئندہ بھی اگر یہ عمل اسی طرح شروع رہا تو امید ہے پاکستان کی دولت غیر ممالک کے بینکوں میں نہیں پہنچ پائے گی ۔ جن قربانیوں کے بعد ہم نے پاکستان کو حاصل کیا وہ کسی بھی نسل کو بھولنا نہیں چاہیے ۔ پاکستان ہی ہماری پہچان ہے اس ملک کو مالی لحاظ سے کمزور ہمارے ہی رہنماءوں نے کیا اب معیشت کو محنت اور لگن سے بہتر بنا کر اپنے ملک کو مضبوط ترین بنائیں گے ۔ انشاء اللہ دعا تو یہی ہے کہ میرا ملک جس نے مجھے سب کچھ عطا کیا اب کبھی بین الاقوامی اداروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے کہ ہ میں قرض دو آنے والے وقت میں ملک کو دفاعی طورپر بھی مزید مضبوط کرنا ہے اور اسکے ساتھ ساتھ ملک کی معاشی اور سیاسی حالت بھی درست سمت میں رہنی چاہیے ۔ یہ علی بابوں کا گٹھ جوڑ اور پھر ان کے پیروکاروں کی جیبوں سے جب تک ملک کی لوٹی ہوئی دولت خزانے میں واپس نہیں آجاتی تب تک ہمارا ملک کمزور معاشی اور مالی صورتحال میں رہے گا ۔ امید ہے مستقبل قریب میں مزید بہتری آئے گی، صورتحال مجموعی طورپر تسلی بخش ہوگی ۔ اللہ سے دعا ہے وہ پاک ذات ہمارے خوابوں کی تعبیر جلد عطا فرمائے ۔

شکیل آفریدی کی حوالگی قومی جرم ہوگا

مشرف دور میں امریکہ کو مطلوب کچھ لوگوں کو امریکہ کے حوالے کیا گیا بلکہ در حقیقت بیچا گیا اوراپنے اس جرم کا اعتراف جنرل مشرف نے خود اپنی کتاب اِن دی لائن آف فائر میں بھی کیا ۔ ان لوگوں کے جرائم جو بھی تھے ان کی فروخت کسی بھی طرح درست نہیں تھی کیونکہ ان کے جرائم پاکستان کے خلاف نہیں امریکہ کے خلاف تھے اور انہی فروخت شدہ لوگوں میں سے ایک ڈاکٹر عافیہ صدیقی تھی ۔ عافیہ کا کس سے تعلق تھا یا خود وہ کون تھی، اُس کے ابتدائی جرائم کیا تھے یا نہیں تھے یہ سب سوالات اپنی جگہ لیکن اُسے جو پچاسی سال قید کی سزا سنائی گئی ، اُس کے ساتھ مقدمے کے دوران جو غیر انسانی سلوک کیا گیا اور اس سے پہلے اُس کو جس طرح نہ صرف حبس بے جا میں رکھا گیا اور بگرام جیل میں اُس کے ساتھ جو وحشیانہ رویہ رکھا گیا وہ سب اُس کو انتہائی قابل رحم بناتا ہے اور زیادہ افسوسناک عمل یہ ہے کہ اس تمام سزا کے لیے اُس کے جس جرم کو بنیاد بنایا گیا وہ یہ تھا کہ اُس نے ایک امریکی فوجی پر صرف بندوق اٹھائی تھی مارا نہیں تھا ۔ عافیہ کے ساتھ پاکستان میں عمومی طور پر ہمدردی کا ایک جذبہ پایا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف ایک مجرم ہے، جو پاکستان کا مجرم ہے، جس نے پاکستان کی عزت اور خود مختاری کا سودا کیا تھا ۔ امریکہ نے 2 مئی 2011 کو ڈاکٹر شکیل آفریدی کی مخبری پر ایبٹ آباد کے بلال ٹاءون میں ایک گھر پر ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حملہ کرکے اُسامہ بن لادن کی ہلاکت کا دعویٰ کیا یہ حملہ پاکستان کے کئی کلومیٹر اندر آکر پاکستان ملٹری اکیڈمی سے دوچار کلومیٹر کے فاصلے پر کیا گیا اور اس کا باعث خود پاکستان کا ایک شہری ڈاکٹر شکیل آفریدی بنا جس نے امریکیوں کی ہر طرح سے رہنمائی کی ۔ خوش قسمتی سے یہ غدارِ وطن پکڑا گیا اور تب سے اب تک امریکہ مسلسل اس بات کے لیے کوشاں ہے کہ کسی طرح اپنے اس مخبر اور ہمارے اس غدار کو رہا کرواکر اپنے ملک لے جائے اور ظاہر ہے کہ وہاں اسے جس طرح نوازا جائے گا اُس کی تفصیل بیان کئے بغیر بھی سب کو معلوم ہے ۔ ابھی تک حکومت ِپاکستان نے عوامی دباءو کے تحت اس غیر ملکی دباءو کو برداشت کیا لیکن اب جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ ممکن ہے کہ حکومت شکیل آفریدی کو امریکہ کے حوالے کر دے اور شائد عوام کو مطمئن کرنے کے لیے اس سے عافیہ صدیقی کو پاکستان کو دے دینے کامطالبہ کیا جائے تا کہ یوں پاکستانیوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا جائے ۔ بات اگر دو عام قیدیوں کی ہوتی تو قابلِ قبول تھی لیکن یہاں بات ایک ایسے غدار کی ہے جس کی غداری نے پوری قوم کا سر جھکا دیا اور پاکستان کو ایک ایسا ملک ثابت کرنے کی پوری کوشش کی جو اپنی سرحدوں کی حفاظت بھی نہیں کر سکتا اور جہاں دشمن جب چاہے سرحدوں کے بہت اندر آکر ہم پر وار کر سکتا ہے ۔ اگر وہ جانتا تھا کہ ایبٹ آباد کے ایک عام سے گھر کے اندر دنیا کا انتہائی مطلوب شخص اُسامہ رہتا ہے تو اُسے یہ راز اپنی حکومت کو دینا چاہیئے تھا نہ کہ ایک غیر طاقت کو اور وہ بھی ایک ایسی طاقت کو جو اسلامی ملکوں پر حملہ کرنا اپنا فرض اور اپنے سُپر پاور ہونے کی تسکین سمجھتا ہے ۔ شکیل آفریدی کوئی عام مجرم نہیں جسے قیدیوں کے تبادلے میں دوسرے ملک کے حوالے کیا جائے ۔ امریکہ اپنے مجرموں کو تو دُنیا کے لیے عبرت بنا دیتا ہے جیسا کہ اُس نے عافیہ کے معاملے میں کیا جب کہ اپنے لیے کام کرنے والوں کو وہ دُنیا کے سامنے ہیرو بنا کر پیش کرتا ہے نہ صرف اپنے لیے بلکہ دنیا والوں پر بھی وہ ان کا ہیرو ہونا مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ وہ اس بات کا بھی قائل ہے اور اس پر مُصر بھی کہ اُس کے شہریوں کو دنیا میں کچھ بھی کرنے کا اختیار حاصل ہے اور وہ کسی بھی جرم کے بعد انہیں بزور بازو چھڑالے جاتا ہے ۔ دُنیا میں تو یقینا اس کی کئی مثالیں ہونگی جب اُس نے اپنے شہریوں کو دوسرے ممالک میں جرائم کے بعد چھڑا کر ہیرو بنا دیا ہوگا لیکن پاکستانیوں کے ذہنوں میں ابھی تک ریمنڈ ڈیوس کا رعونت زدہ چہرہ محفوظ ہے جو لاہور کی سڑکوں پر دو پاکستانیوں کے قتل کے بعد محفوظ و ماموں امریکہ پہنچ گیا تھا ۔ اب اگرچہ معاملہ اُن کے شہری کا نہیں لیکن یہ شخص یعنی شکیل آفریدی امریکہ کے لیے اُس سے بھی زیادہ قیمتی ہے اور پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ۔ حکومت پاکستان کو کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا چاہیے کہ ڈاکٹر آفریدی کی حوالگی کے اثرات کیا ہونگے، ایک ایسی قوم جس کے کچھ افراد اپنی غربت کے مارے بڑی آسانی سے غیر ملکی طاقتوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور کچھ اپنی اخلاقی پسماندگی اور طمع و لالچ اور حرص و ہوس سے مجبور ہوکر اپنے آپ کو بیچ ڈالتے ہیں کیا شکیل آفریدی کی حوالگی کے بعد اُن میں بہت سارے شکیل آفریدی بننے پر آمادہ نہیں ہو جائیں گے اور یہ نئے غدار پرانے سے بڑھ کر ہونگے کیونکہ پرانوں کے ذہن میں کہیں نہ کہیں تو سزا کا خوف ہوگا لیکن نئے تو ہر قسم کے اندیشے سے آزاد ہو کر جرم ِغداری کے مرتکب ہونگے اور بڑی تسلی سے بڑے بڑے قومی جرائم کریں گے ۔ لہٰذا حکومت اس قومی موقف پر جم جائے کہ ڈاکٹر آفریدی قومی مجرم ہے اور اگر پاکستان میں غداری کی سزا موت ہے تو یہی اُس کی سزا ہونی چاہیے ۔ ڈاکٹر عافیہ کے ساتھ یقینا پوری قوم کی ہمدردیاں ہیں اور پاکستان کا ہر فرد ان کی آزادی کا خواہاں ہے اور ان کی بے حرمتی پر ہر پاکستانی تڑپا بھی ہے لیکن اُن کی رہائی کے لیے کوئی دوسری سبیل کی جائے جو پوری قوم کو قابلِ قبول ہو ڈاکٹر آفریدی کی رہائی کے بدلے عافیہ کی رہائی بھی متنازعہ ہو جائے گی اور ایک کمزور عورت جو عرصہ دراز سے امریکیوں کے مظالم سہہ رہی ہے اپنے لیے قومی ہمدردی بھی کھو دے گی ۔ یہاں جذبات نہیں بلکہ ہوش اور فکر کی ضرورت ہے اور قوم یہ توقع کرنے میں حق بجانب بھی ہے کہ عافیہ اور اس کے اہل خانہ ایک غدار کے ساتھ پلڑے میں تُلنے کو راضی نہیں ہونگے، لیکن اس کا یہ مطلب بھی ہر گز نہیں کہ عافیہ کی رہائی کی کوششیں ترک کر دی جائیں بلکہ اس رہائی کو باوقار طریقے سے ممکن بنایا جائے اور عافیہ کو پورے عزت و احترام کے ساتھ واپس اپنے ملک لایا جائے نہ کہ ایک غدار کے بدلے میں ۔ ڈاکٹر آفریدی کی امریکہ کو حوالگی ایک انتہائی حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور اسے کسی صورت عمل میں نہیں آنا چاہیے ورنہ اُسکے فعل سے تو ملک کی جو سُبکی بین الا قوامی سطح پر ہوئی تھی سو ہوئی تھی اب کا معاملہ اس سے زیادہ سنجیدہ نوعیت کا ہوگا اگر ایسا کیا گیا تو دشمن اور شیر ہوگا اور ہر ایک اپنے کارندے نہ صرف بڑی تسلی سے پاکستان بھیجے گا بلکہ یہاں سے بھی اپنے مہرے ڈھونڈ نکالے گا ۔ پاکستانی حکومت ماضی میں بڑی آسانی سے امریکی دباءو میں آتی رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قوم اس خوف میں مبتلاء ہے کہ ایک بار پھر قومی وقار اور عزت کا سودا کر لیا جائے گا لیکن حکومت کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ یوں آسانی سے ہتھیار ڈالنے کی روش نے ہ میں ایک مضبوط قوم نہیں بننے دیا اور تاریخ اور وقت شاید دوچار بار تومعافی دے بھی دیتی ہے ہر بار نہیں ، اور وقت کی پکڑنے بڑے بڑوں کو دنیا سے بے ننگ و نام رخصت کیا ہے لہٰذا موجودہ حکومت اپنی حب الوطنی کے بلندو بانگ دعوءوں کے باوجود اگر کوئی عامیانہ بلکہ غدارانہ قدم اٹھائے گی اور سستی شہرت خریدے گی تو یہ سودا اُسے بہت مہنگا پڑ سکتا ہے اورپھر اُسکی داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں ۔

ہم ایڈنہیں ٹریڈلینے آئے ہیں ۔۔۔وزیراعظم کادورہ امریکہ کے دوران دوٹوک موقف

وزیراعظم پاکستان عمران خان نے امریکی دورے کے دوران واضح کردیا ہے کہ وہ امریکہ سے امداد لینے نہیں بلکہ تعاون لینے گئے ہیں انہیں ایڈنہیں ٹریڈ کی ضرورت ہے، ساتھ یہ بھی انہوں نے کہاکہ مددمانگنے والوں سے مجھے نفرت ہے ،نیزڈونلڈٹرمپ کی مسئلہ کشمیرپرثالثی پیشکش پربھارتی رویے پرحیرانگی کا اظہارکیا، ادھر بھارت کی لوک سبھا میں ہنگامہ آرائی مچ گئی،پورے بھارت میں آگ لگ گئی،بھارتی کانگریس کے اراکین نے نریندرمودی سے وضاحت مانگ لی کہ وہ واضح کریں کہ انہوں نے ٹرمپ کو مسئلہ کشمیر اورپاک بھارت تعلقات کے حوالے سے کیاہے ۔ لوک سبھا میں اتنی ہنگامہ آرائی ہوئی کہ آخرکارانہیں اجلاس ملتوی کرناپڑا، بھارتی میڈیا نے بھی مودی کوآڑے ہاتھوں لیا، عمران خان کادورہ دیکھاجائے تو ہراعتبار سے کامیاب رہا، عالمی میڈیا کی شہ سرخیوں میں جگہ حاصل کی اور ترجیحی بنیادوں پرکوریج دی گئی،امریکی صدرڈونلڈٹرمپ اورسیکرٹری خارجہ مائیک پومپیو سے ملاقات کا اعلامیہ جاری کیاگیا ،وہاں پرانہوں نے کیپیٹل ہل میں امریکی کانگریس کے اراکین سے بھی خطاب کیا،خطاب کے دوران انہوں نے کہاکہ امریکہ میں پاکستان کے حوالے سے غلط فہمی موجودتھی جسے دورکرنے کی کوشش کی گئی، پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ہزاروں قربانیاں دیں ، امریکہ ہمیشہ پاکستان سے ڈومورکامطالبہ کرتاہے ،پاکستان اورامریکہ دونوں خطے میں امن چاہتے ہیں ،قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے امریکی تھنک ٹینک انسٹیٹیوٹ ;200;ف پیس کی جانب سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ امریکاسے امدادنہیں تعاون مانگاہے،مسئلہ کشمیرکاحل موجودہے،کشمیریوں کی امنگوں کومدنظررکھاجائے، اگر آپ چاہیں یا نہ چاہیں آپ کو امریکہ کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں پڑتے ہیں ، ٹرمپ سے ملاقات کر کے خوشی ہوئی، بھارتی ہم منصب سے کہا کہ اگرآپ ایک قدم آگے بڑھیں گے تو ہم دو قدم اٹھائیں گے، پاکستان اوربھارت کوغربت جیسے چیلنجز کاسامناہے،بھارت کےساتھ کشمیرکاتنازع ہے ،شروع سے کہتا آیا ہوں کہ افغان مسئلے کا حل جنگ میں نہیں ہے اور اب سب جانتے مسئلہ سیاسی مذاکرات سے حل ہوگا،افغان جنگ میں پہلا موقع ہے کہ امریکہ اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں ، افغان طالبان امریکہ کےساتھ مذاکرات کررہے ہیں ،بہت جلد امن معاہدہ کا امکان ہے،بھارت ،افغانستان اورایران سمیت تمام ہمسایوں کےساتھ بہترتعلقات چاہتے ہیں ، نائن الیون میں کوئی پاکستانی ملوث نہیں تھا،80کی دہائی کے بعد حکمرانوں کی کرپشن ملک کو نیچے لے گئی، ہم اقتدار میں ;200;ئے تو پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا ، پاکستان کے حکمران اقتدار میں ;200;نے کے بعد خود کو فائدہ دینے کا ہی سوچتے تھے، کرپشن کے ذریعے حکمران خود کو فائدہ پہنچانے کے چکر میں رہتے ہیں ، اپوزیشن ملک کوغیرمستحکم کرنے میں مصروف ہے، پاکستان میں میڈیا برطانیہ سے بھی زیادہ آزادہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بالکل درست فرمایا ہے کہ امریکہ سے امداد نہیں تعاون مانگا ہے، دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم نے دنیا میں سب سے زیادہ قربانی دی ہے ۔ اب دنیا ڈور مور کرے،پاکستان شروع سے ہی خطے میں امن کا خواہاں ہے اسی لیے افغان حکومت اور امریکا کی طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد کرر ہا ہے ۔ اس دورے سے پاکستان اور امریکا کے درمیان اعتماد کی فضا درست ہو ئی ہے ۔ اب چاہیے کہ امریکہ نے جو کولیشن فنڈ، جو پاکستان کا حق بنتا ہے، جسے امریکہ نے روک رکھا ہے وہ پھر سے جاری کیاجائے ۔ افغانستان جنگ میں پاکستان کا ڈیڑھ ار ب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا ہے ۔ ہزاروں فوجی اور سویلین شہادتیں ہوئی ہیں ۔ امریکہ بھارت کی ایما پر افغانستان سے جاری دہشت گردی ختم کرائے ۔ مسئلہ کشمیر بھارت، پاکستان اور کشمیریوں کو ملا کر حل کروائے ۔ اگر امریکہ ایسا کرتا ہے تو خطے میں امن قائم ہو جائے گا ۔ عمران خان وزیر اعظم پاکستان کا دورہ امریکا بھی صحیح معنوں میں کامیاب مانا جائے گا ۔ دوسری جانب عمران خان کے دورہ امریکہ کے موقع پر صدرڈونلڈ ٹرمپ کا پاک بھارت مسئلہ کشمیر پر ثالثی کا کردار ادا کرنے کے بیان پر بھارت میں کہرام مچ گیا ۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ٹرمپ بیان پر لاکھ صفائیاں اپوزیشن کو مطمئن نہ کر سکیں ۔ اس بیان پر تنازعہ بڑھتا جا رہا ہے ۔ عمران خان نے جب صدر ٹرمپ سے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے میں مدد مانگی تو انہوں نے کشمیر مسئلہ پر مصالحت کرنے کی حامی بھری تھی ،مگر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی خواہش پر اس معاملہ میں مدد کروں گا ۔ اب صدر ٹرمپ نے نریندر مودی کی خواہش سب کے سامنے رکھ دی ،بھارت اس پر آگ بگولہ ہو گیا ہے ۔ اب مودی اپنا منہ چھپائے پھر رہے ہیں ۔ یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ بھارتی میڈیا نے ہمیشہ ہی ایسے منفی رویے کا مظاہرہ کیا ہے اور بھارت کو ایک جنگی جنون میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ بدقسمتی سے بھارتی میڈیا کے اس رویے نے دونوں ممالک کے درمیان کسی بھی قسم کی مثبت بات چیت کو آگے بڑھنے نہیں دیا ۔ گزشتہ ادوار میں امریکہ نے ہمیشہ کشمیر معاملے پر دوغلی پالیسی اپنائی ،بیانات کی حد تک پاکستان کی حمایت کرتا نظر آتا ہے ،مگرحقیقت میں تمام تر ہمدردیاں بھارت کے ساتھ ہوتی ہیں ۔ جب تک تینوں فریق یعنی پاکستان ،بھارت اور کشمیری لیڈر شپ مذاکرات کی میز پر نیک نیتی سے نہیں بیٹھیں گے اس مسئلہ کا حل نا ممکن ہے ۔ آج بھی نہتے کشمیری اپنی آزادی کی جدوجہد کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور اپنی زندگیوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں ۔ حقوق انسانیت کی ٹھیکیدار دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر انتہائی جرات مندانہ طریقے سے پیش کیا ۔ اگرچہ امریکہ کی جانب سے یہ ثالثی کی پیشکش کوئی نئی نہیں ہے ماضی میں امریکہ سمیت کئی ممالک یہ پیشکش کر چکے ہیں جنہیں بھارت ہمیشہ سے مسترد کرتے آیا ہے لیکن امریکی صدر کا یہ انکشاف کہ مودی نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا ہے کافی مثبت پیشرفت ہے ۔

مبینہ ویڈیوکیس،چیف جسٹس آف پاکستان کے ریمارکس

چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے جج مبینہ ویڈیو کیس کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس نے آصف سعید کھوسہ نے جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس میں ریمارکس دیئے کہ کوئی کمیشن یا پیمرا احتساب عدالت کا فیصلہ نہیں ختم کر سکتا، شواہد کا جائزہ لیکر ہائی کورٹ ہی نواز شریف کو ریلیف دے سکتی ہے، جوڈیشل کمیشن صرف رائے دے سکتا ہے فیصلہ نہیں ، کیا سپریم کورٹ کی مداخلت کا فائدہ ہو گا یا صرف خبریں بنیں گی، کیا جج کا سزا دینے کے بعد مجرم کے گھر جانا درست ہے، کیا مجرم کے رشتے داروں اور دوستوں سے گھر اور حرم شریف میں ملنا درست ہے، فکر نہ کریں جج کے کنڈکٹ پر خود فیصلہ کریں گے، کسی کے کہنے پر ایکشن نہیں لیں گے، کچھ کرنا ہوا تو دیکھ اور سوچ سمجھ کر کریں گے،جسٹس عمر عطاء نے کہا کہ عدالت دونوں فریقین کے الزامات کی حقیقت جاننا چاہتی ہے،جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو کیس میں وفاق نے دائر درخواستوں کی مخالفت کر دی ۔ اٹارنی جنرل نے کہا قانونی فورم دستیاب ہے تو کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں ۔

بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم

ہندووَں کے بارے میں خاص طور پر آنجہانی گاندھی نے یہ تاثر عام کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ اہنسا کے علمبردار ہیں اور اتنے رحم دل اور شریف النفس ہیں کہ کسی چیونٹی کو مارنا بھی گناہ سمجھتے ہیں لہذا ہندو کسی انسان کو ہلاک کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ حالانکہ ہندووَں کی پوری تاریخ اس تاثر کے برعکس آپس میں کشت و خون کے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ تقسیم ہندکے بعد انہوں نے لاکھوں مسلمانوں کو جس بیدردی اور سفاکی کے ساتھ شہید کیا اس پر انسانیت آج تک نادم ہے بلکہ ہر سال ہزاروں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی جاتی ہے ۔ بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیم وشواپریشد مسلمانوں کے خلاف زہر اگلنے اور نفرت پھیلانے میں سرفہرست ہے ۔ اس تنظیم نے مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کی مہم مزید تیز کر دی ہے اور اس کے جنرل سیکرٹری پروین تو گاڈیہ نے مسلمانوں کی ایک قدیمی درسگاہ دارلعلوم دیوبند اور تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر اور اس کے بعد بھی بھارت کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکانے میں یہ تنظیم ہمیشہ آگے رہی ہے ۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا کے ترجمان اخبار ’’سامنا‘‘ نے ممئی کے ایک تھیٹر میں بم دھماکے میں ملوث ہندو تنظیموں کی کارکردگی کو سراہا لیکن اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کے زیادہ شدت والے ہندو بم بنائے جائیں ۔ آج انہی فرقہ پرست ہندو جماعتوں کے گھٹیا اور متعصبانہ کردار کی بدولت پاک بھارت تعلقات کشیدہ ہیں ۔ تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ سمجھوتہ اور دوستی کے لئے ہاتھ بڑھایا تو ہے مگر اس میں ہندو بنیا لا تعداد کروٹیں بدل بدل کر بین الاقوامی برادری کو ایسے تاثرات دے رہا ہے جس میں اس بات کو حقیقت کا روپ دینے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان جارح ہے اور ابھی تک وہ در اندازی کامرتکب ہو رہا ہے ۔ یوں تو ہندوستان دنیا میں سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں لیکن عملاً بھارت ایک ہندو ملک ہے جہاں جمہوریت صرف ہندوؤں کےلئے ہے ۔ انتہا پسند ہندووَں طرف سے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کے واقعات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس سے بھارت میں عدم برداشت اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ہر حکومت کے دور میں گرجا گھروں کے سامنے باجہ بجانا ہندووَں کی ضد رہی ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ ہم گرجا گھروں اور مسجد وں کے سامنے عبادت کے اوقات میں باجہ بجائیں گے ۔ نام نہاد بی جے پی کی اینٹی مسلم‘ اینٹی کرسچین تحریک نے بھارت میں عدم برداشت اور تشدد پسندی کی فضا قائم کررکھی ہے جس سے فرقہ واریت میں اضافہ ہورہا ہے لیکن جہاں تک عیسائیوں کا معاملہ ہے تو انتہا پسند ہندوءوں کا مقصد مقامی ہندوءوں کو عیسائیت کا مذہب اختیار کرنے سے روکنا ہے جس کا نتیجہ چرچوں پر حملوں کی صورت میں سامنے ;200;یا ہے ۔ بھارتی صوبے اڑیسہ میں عیسائیوں کو جن تکالیف سے گزرنا پڑ رہا ہے ان کی ایک جھلک ایک رپورٹ میں دکھائی گئی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق ایک گاؤں میں بسنے والے عیسائی خاندان کو ان کے پڑوسیوں نے بلایا اور کہا کہ وہ ہندو پجاری کے سامنے جھک جائیں ۔ ان کے گھر سے انجیل اور دیواروں پر آویزاں حضرت عیسیٰ ;174; کی تصاویر اور کیلنڈر بھی اتار کر جلا دیئے ۔ انہیں دھمکی دی گئی کہ وہ ہندو مذہب قبول کر لیں ورنہ انہیں قتل کر دیا جائے گا اور ان کا گھر مسمار کر دیاجائےگا ۔ اڑیسہ میں عیسائیوں کے خلاف ایک مہم چل رہی ہے ۔ عیسائیوں کا کہنا ہے کہ انہیں زندگی کے عوض اپنا مذہب تبدیل کرنے کو کہا جا رہا ہے ۔ ضلع کندھا مل میں تیس سے زائد عیسائیوں کو جان سے مار دیا گیا تین ہزار گھر اور ایک سو تیس گرجا گھر جلا دیئے گئے ۔ غریب عیسائیوں کا کاروبار تباہ کر دیا گیا اور ان کے گھروں کے سامنے ہندو ازم کی علامت مالٹا رنگ کے پرچم لہرائے جاتے ہیں ۔ بے شمار عیسائی مبلغین زندہ آگ میں پھینک دیئے گئے کیونکہ انہوں نے ہندووَں کے سب سے نچلے درجے پر رہنے والے شودروں کو عیسائی بنایا تھا تاکہ وہ متعصب ہندووَں کے چنگل سے نکل کر آزادی حاصل کریں ۔ اس سے قبل بھی بھارتی ریاست اڑیسہ میں انتہا پسند ہندووں نے 11 گرجا گھروں کو جلا دیا ۔ یہ کارروائی کرسمس کے موقع پر کی گئی جبکہ عیسائیوں کا تہوار اپنے عروج پر ہوتا ہے ۔ انتہا پسند ہندووَں طرف سے فرقہ وارانہ تشدد میں ملوث ہونے کے واقعات جس تیزی سے بڑھ رہے ہیں اس سے بھارت میں عدم برداشت اور انتہا پسندانہ کارروائیوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں ہر حکومت کے دور میں گرجا گھروں کے سامنے باجہ بجانا ہندووَں کی ضد رہی ہے ۔ اقتدار ملنے کے بعد اس طبقے کا اثرو روسوخ اور بھی بڑھ گیا ہے ۔ بھارتی فوج میں نسلی اور لسانی تعصبات میں غیر محسوس طریقے سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔ بھارتی فوج میں سکھ افسروں کو کم از کم انتظامی ذمہ داریاں دی جاتی ہیں ۔ بھارتی مسلح افواج میں یہ نسلی، لسانی اور مذہبی تقسیم بڑی تیزی سے افسروں اور ماتحتوں کے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر رہی ہے ۔ ہندوستان دنیا کا غالباً واحد ملک ہے جس کے حکمران قول و فعل کے بدترین تضادات کا شکار ہیں ۔ ایک جانب وہ آزادی، جمہوریت اور مساوات کا پرچارکرتے ہیں تو دوسری طرف روزانہ بھارت کے کسی نہ کسی حصے میں درجنوں افراد افلاس کے ہاتھوں خودکشیاں کرتے ہیں ۔

Google Analytics Alternative