کالم

جعلی نوٹ ،جعلی ادویات ، جعلی سگریٹ ، جائیں تو جائیں کہاں

پچھلے ہفتے راقم اپنے میڈیکل ٹیسٹ دکھانے اسلام آباد نوری اہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فہیم صاحب سے آپ کے آفس گیا ۔ آ پ سے ملا قات ہوئی ۔ رپورٹس دیکھ کر کہا سب اچھا ہے ۔ باتوں ہی باتوں میں مجھے اپنے ٹیبل کے دراز سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر بتایا کہ یہ کوئی مجھے دیا گیا ہے جو کہ جعلی ہے ۔ اس نوٹ کو دیکھ کر راقم کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ واقعی جعلی ہے ۔ میرے پاس بھی ایک پانچ ہزار کا نو ٹ تھا ۔ دونوں کو ایک ساتھ رکھا ۔ سائز میں ایک جیسا ، رنگ میں ایک جیسا ، چمکتی تار بھی موجود ۔ قائد کی فوٹو بھی موجود یعنی ہر چیز وہی تھی جو اصلی نو ٹ میں دکھائی دے رہی تھی ۔ جب نہ سمجھ سکھا تو کہا سر یہ نوٹ بھی اصلی ہے ۔ کہا نہیں یہ نقلی ہے ۔ اسے اپنے پاس رکھو ۔ اس پر ریسرچ کرو ۔ بنک سے انفارمیشن لو اور کالم لکھو ۔ میں نے ڈاکٹر صاحب سے کہا آپ نے میرے دل کی بات کی ہے ۔ میں بھی یہی سوچ رہا تھا ۔ اس کے بعد اس جعلی نوٹ کو الگ سے پرس میں رکھا ۔ دوسرے روز سپریم کورٹ بار میں اپنے چندساتھیوں کو اصلی اور نقلی نوٹ دکھایاتووہ بھی فرق محسوس نہ کر پائے ۔ اس کے بعد سپریم کورٹ میں موجود بنک میں گیا ۔ وہاں آپریٹر منیجر اویس علی سے ملا پوچھا کیا آپ کے پاس نوٹ چیک کرنے والی مشین ہے ۔ کہا جی ہاں ہے ۔ راقم نے دونوں نوٹ اس کے ہاتھ میں دیئے کہ چیک کر کے بتائیں کہ کون سا نو ٹ جعلی ہے ۔ جتنی دیر میں سوال ختم ہوا آپ نے فوری بتا دیا کہ یہ نوٹ جعلی ہے ۔ اتنے میں برانچ منیجر عمران یونس اپنی کرسی سے اٹھے اور کہا دکھائیں میں آنکھیں بند کر کے آپ کو بتا دوں گا کہ کون سا نوٹ جعلی ہے ۔ پھر برانچ منیجر عمران نے دونوں آنکھیں بند کیں اور میں نے دونوں نو ٹ آپ کے ہاتھ میں دیئے ۔ ایک سیکنڈ میں اپنی انگلیوں سے ٹچ کرتے ہوئے کہا یہ نوٹ جعلی ہے ۔ واقعی یہ نوٹ جعلی تھا ۔ پھر مجھے بنک کی دیوار پر لگی جعلی نوٹ کے بارے میں اسٹیٹ بنک کی جانب سے ایشیو پوسٹر دکھایا ۔ جس میں واضح طور پر لکھا تھا کہ عام آدمی کیسے جعلی نوٹ کو پہچان سکتا ہے ۔ لیکن اصل معلومات کم وقت میں جعلی نوٹ کے بارے میں برانچ منیجر عمران یونس نے بتاتے ہوئے کہا کہ اصلی نوٹ کا پیپر رف ہوتا ہے ۔ جبکہ نقلی نوٹ کے پیپر میں پھسلن ہوتی ہے ۔ جعلی نو ٹ پر سلپری سے انگلیاں رگڑنے سے پھسل جاتی ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ ہر کوئی نوٹ لیتے وقت ہر نوٹ کو کوئی غور سے نہیں دیکھتا ۔ انگلیاں پھیر کر چیک نہیں کرتا ۔ اسے یاد بھی نہیں رہتا کہ نوٹ کس نے دیا تھا یہ جعلی نوٹ میرے پاس کہاں سے آیا اگر ایسے میں یہ جعلی نوٹ استعمال کر ے گا تو گرفتار ہوسکتا ہے ۔ پھر ایسے شخص کو پولیس کے حوالے کرنے پر اسے پولیس حراست میں لے سکتی ہے ۔ کیونکہ جعلی نوٹ رکھنا اسے چلانا ایک قابل جرم فعل ہے ۔ لہٰذا احتیاط کی ضرورت ہے ۔ ایک اچھے شہری کا فرض بنتا ہے کہ وہ جانتے ہوئے جعلی نوٹ کو استعمال میں نہ لائیں ، بچوں کو بھی کھیلنے کو نہ دیں ۔ بلکہ بہتر ہے اسے جلادیا جائے ۔ یہی سمجھیں کہ نوٹ کہیں گر گیا ہے مجھے پانچ ہزار کا نقصان ہو چکا ہے ۔ اس نقصان کو برداشت کرنا بہتر ہے ۔ ورنہ اس جعلی نوٹ کو چلا کر خود مشکلات میں پھنس سکتے ہو ۔ اس جعلی نوٹ کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کوئی عام آدمی جعلی نوٹ بنانے والی مشین نہیں رکھ سکتا ۔ یہ کام انہی اداروں میں کام کرنے والے افراد کا ہے جو اصل نوٹ چھاپتے ہیں ۔ سوائے پیپر کے باقی سب اصلی کام لگتاہے ۔ اس پر کوئی تحقیقاتی کمیشن بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ پتا چلا یا جا سکے کہ اس کے پیچھے کون لوگ ہیں ۔ فی الحال تو یہی لگتا ہے کہ جعلی نوٹ بنانے والی وہی لوگ ہیں جو اصلی نوٹ چھاپنے کا تجربہ رکھتے ہیں ۔ ورنہ عام آدمی ایسا دھندہ کر نے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ ہمارے ہاں کوئی کرائم نہیں ہو سکتا جب تک مقامی پولیس اس میں شامل نہ ہو ۔ جعلی نوٹوں کے دھندے سے غریب کی زندگی اجیرن ہو سکتی ہے ۔ پولیس اسے بے جا تنک کر سکتی ہے ۔ لہٰذا ایسے اصل دو نمبر لوگوں کا گرفتار کرنا ضروری ہے جنہوں نے عام آدمی کا جینا محال کر رکھا ہے ۔ ابھی تک تو یہی لگتا ہے کہ قانون کمزور ہے جو اس مکروہ دھندے کو ختم نہیں کر سکا ۔ اسی طرح کا ایک دھندہ جعلی ادویات کا بھی ہے ۔ جس کے باعث انسانی جانوں سے کھیلا جا رہا ہے ۔ بہت ساری ادویات ہماری پڑوسی ملک سے سستی ہونے کی بنا پر اسمگل ہوتی ہیں ۔ پھر پاکستانی کمپنیاں اپنی پیکنک میں لپیٹ کر ڈبل قیمت پر فروخت کر تی ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ادویات کا یہ دھندہ وہی کمپنیاں کرتی ہیں جو پاکستان میں یہ اداویات بناتی ہیں ۔ پھر ڈبل پیسے بناتی ہیں ۔ ہمارے ہاں کرپشن پر کوئی کنٹرول نہیں ۔ اگر کہا جائے کہ کرپشن کی دلدل میں ہر کوئی رنگ چکا ہے تو غلط نہ ہو گا ۔ ادویات کی قیمتوں پر کوئی کنٹرول نہیں رکھتا ۔ کہا جاتا ہے کہ فائل پر پہیہ لگاءو اور ادویات کی قیمتیں اپنی مرضی سے بڑھا ءو ۔ کہا جاتا ہے کہ بعض ادویات کے کھانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس لئے کہ یہ جعلی ہوتی ہیں ۔ ملکہ ترنم نور جہاں مرحومہ جب حیات تھیں تو اپنے علاج سے جب مطمئن نہ ہوئی تو علاج کےلئے امریکہ چلی گئیں ۔ ڈاکٹروں نے وہاں بھی یہی ادویات کھانے کو دیں ۔ میڈم نے ڈاکٹروں کو بتایا یہ تو ادویات تو استعمال کر چکی ہوں لیکن ڈاکٹروں نے میڈم کو بتایا کہ آپ کی بیماری میں یہی میڈیسن ہیں ۔ انہی ادویات سے علاج شروع ہوا اور میڈم تندرست ہو گئیں پتہ چلا کہ جو ادویات یہاں کھا رہی تھیں ان کا نام تو ٹھیک تھا مگر ادوایات جعلی تھیں ۔ یسا ہی حال سگریٹ بنانے والی کمپنیوں کا ہے ۔ مارکیٹ میں اصلی سگرٹ کو خود ہی کم داموں پر فروخت کرتے ہیں ۔ یہ کم قیمت والے سگریٹ اسی فیکٹری کارخانے میں تیار ہوتے ہیں جو سگریٹ اصل قیمت والے سگریٹ بناتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ ایسا اس لئے ہے کہ کسٹم والا مال کم بناتے ہیں جب کہ غیر کسٹم کا مال زیادہ بناتے ہیں ۔ اس میں انہیں کسٹم نہیں دینا پڑتا اس مال سے بننے والے سگرٹ کم قیمت پر فروخت کر کے زیادہ منافع بناتے ہیں ۔ ایسے سگریٹ کھلے عام بازاروں میں فروخت ہو رہے ہیں ۔ مالکان پیسے بنا رہے ہیں ۔ لیکن ان کو پوچھنے والا پکڑنے والا کوئی نہیں ۔ اسلام آباد بار کے ایڈووکیٹ مجیب کیانی میرے دوست بھائی کے سسرالی چائنیز ہیں ۔ ان کے چیمبر میں اکثر چائنیز بیٹھے دکھائی دیتے ہیں ۔ آپ کے چیمبر میں ایک چائنیز بزنس مین سے ملاقات ہوئی ۔ بتایا کہ میرے پاس پاکستانی بزنس کرنے وہاں آتے ہیں ۔ انہیں میں نویش کرنے کی دعوت دوں توفوری قبول کر لیتے ہیں ۔ دونمبر اشیا خریدکر اس پر مشہور برانڈ کی اسٹمپ لگانے کو کہتے ہیں ۔ مگر کھانا کھانے کی آفر دوں تو کہتے ہیں ہم حلال فوڈ کھائیں گے کیونکہ ہم مسلم ہیں ۔ پوچھتا ہوں کیا مذہب پینے کی دو نمبر کام کرنے کی اجازت دیتا ہے ۔ جواب میں یہ مسکرا کر میر ے سوال کو ٹال دیتے ہیں ۔ یہ چینی دوسرے لفظوں میں یہ سب کچھ بتا کر ہم سب کو آئینہ دکھارہا تھا کہ شائد ہ میں شرم آ جائے ۔ مگر شرم ہم کو نہیں آتی ۔ آئینہ توبہت ساری اشیا ہمارے قول فعل اکثر دکھا تی رہتی ہیں ۔ حاجیوں کی تعداد کے لحاظ سے ہم دنیا میں دوسرے نمبر پر اور عمرہ کرنے والوں میں پہلے نمبر پر ہیں ۔ جبکہ ایمانداری کے انڈیکس کے مطابق ہم ایک سو ساٹھ ویں نمبر ہیں ۔ ہمارے ہاں پانچ سو یو نٹ کو پندرہ سو یو نٹ لکھنے والا میٹر ریڈر بھی ہے ۔ گوشت کے ساتھ چھچڑے مکس کرنے والا قصائی بھی ہے ۔ خالص دودھ میں کیمیکل ملانے والا دودھ فروش بھی ہے ۔ بے گنا ہ کی ایف آئی آر لکھنے والا ایس ایچ او بھی ہے ۔ گھر بیٹھ کر حاضری لگوا کر تنخواہ لینے والا استاد بھی ہے ۔ کم ناپ تول کر کے پورا پیسے لینے والا دوکاندار بھی ہے ۔ دس روپے کے سودے میں ایک روپیہ غائب کرنے والا بچہ بھی ہے ۔ انٹرنیشنل میچوں میں میچ فکسنگ کرنے والا کھلا ڑی بھی ہے ۔ ساری رات فل میں دیکھ کر اذان کے سنتے ہی سونے والا نوجوان بھی ہے ۔ دواءوں اور لیبا ٹری ٹیسٹ پر کمیشن کے طور پر عمرہ کرنے والا ڈاکٹر بھی ہے ۔ اپنے قلم کو بیچ کر پیسہ کمانے والا صحافی بھی ہے ۔ جعلی کیس بنانے والا وکیل بھی ہے ۔ یعنی ہمارے ہاں ایسے لوگ وافر مقدار میں ہیں ایسی چھو ٹی مو ٹی بیماریاں ،خامیوں والے لوگ ہمارے ہاں عام پائے جاتے ہیں ۔ ہ میں دوسروں کی خامیاں تو دکھائی دیتی ہیں اپنی نہیں ۔ نہ انسانیت کا ہم پر اثر ہے اور نہ ہی مذہب کا ۔ لہٰذا اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنی اپنی خامیوں کی نشاندہی او اپنا علاج خود کریں اور جو کام اداروں کے کرنے کے ہیں اس کےلئے دعا کریں ۔

دوربین نہیں جناب ۔ عقل سلیم سے کام لیں

چھوٹی سی ریلی کو بہت بڑا ریلا ، دھرنی کو دھرنا بلکہ جم غفیر دکھانا صرف کیمرہ ٹرک سے ممکن ہے، لیکن کراچی کی ایک سیاسی کم لسانی جماعت کا ایجاد کردہ ۔ ۔ پارٹی نظم و ضبط ۔ ۔ شروع سے کچھ ایسے مثالی رہا کہ وہ لوگ صرف چند منٹوں کے نوٹس پر اپنے تربیت یافتہ کارکنان کو اکھٹا کر کے بیٹھنے کی ایسی ترتیب بناتے کہ چند سو بندے ہزاروں میں نظر آتے، یعنی بندے سڑکوں پر پھیلا دو اور قطرے کو سمندر بنا دو اور یوں وہ اپنے حریفوں پر عددی دھاک بٹھاتے ۔ اور کچھ اسی ترتیب سے بالاخر لاکھ سوا لاکھ انسانوں کا ٹھانٹھیں مارتا سمندر مولانا صاحب کی قیادت میں اپنے پروگرام کے مطابق 31 مارچ کی شام کو ایوان اقتدار سے صرف چند فرلانگ دور وزیراعظم ہاوس پر اپنی نظریں جمائے اپنے پہلے پڑاو کی خاطر کشمیر ہائی وے پر قابض ہو کر بیٹھ گیا ہے ۔ خبروں کے مطابق پورا اسلام آباد سیل ہے اور زندگی جام ہو کر رہ گء ہے ۔ لشکر کشی کے بعد سب سے پہلا کام مولانا صاحب نے جو دوسروں سے اچھوتا کیا وہ مجمعے کا دوربین سے مشاہدہ و معائنہ تھا ۔ پچھلے چند دنوں سے مسلسل کم از کم 15 لاکھ انسانوں کا اکٹھا کرنے کا دعوی کیا جاتا رہا، آج بھی کراچی سےخیبر تک عام عوام کی شرکت کے دعوے کیے جا رہے ہیں جو کسی حد تک درست مان لیتے ہیں ، ہاں عام عوام تو ان کا تماشہ دیکھ رہی ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس خاص مذہبی فرقے کے ۔ ماشا اللہ ۔ گوادر سے کراچی اور خیبر سے اسلام آباد تک راستے میں سیکڑوں مدرسے اور مساجد ہیں جہاں سے اگر پندرہ بیس بیس لوگ بھی شرکت کریں اور سپانسر پارٹیوں کے پانچ دس ہزار ورکروں کو بھی شمار کریں تو بات ہزاروں میں پہنچ سکتی ہے ۔ لیکن بھلا ہو ان جدید ۔ ڈرونز ۔ کا، جو ایک ہی گول چکر میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کر دیتے ہیں ۔ دراصل مولانا صاحب دوربین سے مشاہدہ اس بات کا کر رہے تھے کہ دونوں اطراف کشمیر ہائی وے پر نہایت ہی عمدہ ترتیب سے پھیلائے گئے کارکن کتنی دور تک پھیلے ہوئے ہیں ، مجمعے کی ترتیب دیکھیں تو عام کارکن تو سٹیج سے ویسے بھی کافی دور تھے کیونکہ سٹیج کے سامنے مولانا کی خاکی ملیشیا قطار در قطار ایسے بٹھاء گئی کہ وہ خود ایک بڑا کراوڈ لگتا ہے ۔ دوربین سے بہرحال دیکھنے سے چاہے تعداد 15 لاکھ نہ بھی ہو تو ایک نفسیاتی دھوکہ ضرور دیا جا سکتا ہے کہ بندے اتنے ذیادہ ہیں کہ عام نظریں اسکا احاطہ کرنے سے قاصر ہیں اسی لیے دوربین کا سہارا لیا جا رہا ہے ۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ مولانا صاحب دوربینوں سے سیدھا سڑک پر دیکھ رہے تھے دائیں بائیں بالکل نہیں گھومے ۔ کیونکہ مجمع سارا سامنے سیدھا براجمان تھا اور دائیں بائیں خالی تھا ۔ بھائی ظاہر ہے جب بندے اکھٹے کرنے کی ترتیب کچھ ایسی ہو کہ قطاروں کو پیچھے کی طرف اتنا دور تک بڑھایا جائے تو دوربین ہی سے پھیلاوَ کا پتہ چل سکتا ہے ۔ اور اس کام کیلئے انکی ملیشیا خاصی مہارت رکھتی ہے جو تھوڑے تھوڑے وقفے سے کارکنان کی صفوں کو اپنے حساب سے ترتیب دیتے رہتے ہیں ۔ ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ تین چار دنوں کے سفر کے بعد ان مخصوص دوربینوں سے مولانا اپنی اصل منزل مقصود یعنی ۔ پارلیمنٹ ہاوَس ۔ کا بقیہ فاصلہ ماپ رہے تھے یا واقعی بندے گن رہے تھے ۔ جو بھی تھا طریقہ بڑا اچھوتا اور نرالہ تھا ۔ اور نفسیاتی حربہ کے طور پر یقینا اپنا کام کر گیا ہو گا ۔ ایک بات یہ ضرور ثابت ہوتی ہے کہ ایک بڑے پاور شو کے باوجود بندے لاکھ سوا لاکھ سے زیادہ یہاں موجود نہیں ہو پائے، جبکہ اس سے دس گنا تو آپ کا حاصل کردہ ووٹ ہے ۔ اب فیصل واوڈا اور سومرو صاحب نے ایک ٹاک شو میں جو آپس میں شرطیں لگائیں تھیں انکا کیا بنے گا ۔ مولانا غفور حیدری صاحب کے متکبرانہ بلند دعوءوں کا کیا ہو گا کہ لاکھوں کی نہیں کروڑوں کی بات کریں ۔ اس پہلے بھی ہم ۔ ظالموں قاضی آ رہا ہے ۔ کا بہت شور و غلغلہ سنتے رہے، وہ بھی مذہبی طبقے کا مارچ یا دھرنا تھا ، لیکن قاضی صاحب جسکے خلاف آ رہا تھا، اسوقت کا ۔ ۔ وہ ۔ ۔ اپنی جگہ سے ایک انچ پیچھے نہ ہٹا، لیکن قاضی صاحب کی آمد کو اکھیاں اڈیکدیاں اور دل واجاں ہی مارتا رہ گیا ۔ ڈبے خالی کے ساتھ ساتھ عوام کے دل بھی قاضی صاحب کیلئے با لکل خالی نکلے، یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی اپنی تمام تر اچھائیوں کے ملکی سطح پر آج تک کوئی خاص کردار ادا نہ کر سکی ۔ ٹھیک ہے مولانا فضل الرحمان صاحب نے مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے ۔ جمعیتی طالبان ۔ کا ایک اچھا مجمع اکھٹا کر لیا، اور اسلام آبار جیسے چھوٹے شہر میں تو پچاس ہزار بندوں کا اکھٹ ہی بہت بڑی بات ہے، لیکن دیکھنے کی چیز یہ ہے کہ انکے موجودہ دور کے اتحادی 9 ستاروں کی حاضری اس میں بالکل برائے نام رہی ۔ بڑے بڑے لیڈر ایسے سامنے آئے جیسے عام سی فلموں میں دو چار منٹ کے مہمان اداکار آتے ہیں ، یہ بھی ایک ایک کر کے آئے، مولانا کا شکریہ ادا کیا اور خدا حافظ ۔ یہ بڑی بڑی مین سٹریم پارٹیاں اسقدر گر جائیں گی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا،انہیں معلوم نہیں کہ انکا کتنا ناقابل تلافی نقصان ہو چکا ہے، انہوں نے یہاں صرف حاضریاں نہیں لگائیں بلکہ اپنی اپنی سیاسی قبریں کھودتے رہے ہیں جو وقت آنے پر انکے گلے پڑے گا ۔ شہباز شریف صاحب نے بھی اپنا ہومیوپیتھک قسم کا شو لگایا اور کھسکنے میں ہی عافیت جانی ۔ دلچسپ صورت حال اسوقت دیکھنے کو ملی جب بلاول بھٹو زرداری کنٹینر پر کھینچ کر چڑھائے گئے، اوپر آنے پر مولانا نے انکو فورا اچک لیا، ہاتھ کھڑے کرا کے حاضری لگواء، اپنا تازہ کلام سنانے کی دعوت دی اور انکے رٹے رٹائے خطاب کے بعد ابھی انہیں بھاگنے کا پورا موقع ہی نہیں ملا کہ بلند و بالا لاوڈ سپیکروں پر اسلامی دھنوں پر ترتیب دیے گئے جدید اسلامی دور کے آج کے ملاں کی شان میں یہ بول گونجنے لگے،’’مولانا آ رہا ہے، مولانا آ رہا ہے ۔ ‘‘ بے پناہ عوامی مقبولیت کی حامل پاکستان کی کسی دور میں سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے نوزائیدہ لیڈر نے بحرحال خفت مٹانے کےلئے مولانا کی لمبی چوڑی کمر کے پیچھے چھپنے میں ہی عافیت جانی، لیکن انکی بے تکی مسکراہٹ کے پیچھے چھپی حسرت و یاس یہ صاف بتا رہی تھی کہ وہ ضرور ماضی کے ان دھندلکوں میں کہیں گم تھا جب کبھی انکی ممی اور پہلے انکے نانا اپنے اپنے ادوار میں کیسے اس سے بھی دس دس گنا مجمع اکھٹا کر لیا کرتے ۔ بحرحال آج تک کی کارگزاری کا نتیجہ کہہ لیں یا تجزیہ، تو سیاسی طور پر تو سب کچھ مولانا صاحب نے ہی لوٹا ہے اور باقی لوگ ہر چیز داو پر لگانے کے باوجود سارے ہارے ہوئے جواری ہی لگتے ہیں ۔ شام کے اس اجتماع میں مولانا کے دیو ہیکل سائے میں وقفے وقفے سے کء دوسرے اتحادی لیڈر آتے جاتے، اپنا اپنا دکھڑا سناتے رہے، جن سب کا جواب مولانا صاحب نے اپنی تقریر میں مفصل طور پر جواب دیا، خاص طور پر مذہبی کارڈ پر چند دنوں قبل بلاول بھٹو زرداری کے واضح موقف پر کھڑے کھڑے ایسا کھرا جواب ان کے منہ پر دے مارا کہ جہاں ہم چاہیں گے مذہبی کارڈ بھی استعمال کریں گے، وہ کون ہوتے ہیں ہ میں روکنے والے ۔ جس پر بلاول کی شرمندگی قابل دید تھی ۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ہنس رہے تھے یا رو رہے تھے ۔ بہرحال مولانا صاحب نے جب ان سب کو اکھٹا کر لیا تو پھر اچانک اپنے دل کے اندر چھپی وہ شاطرانہ چال چلی ہے کہ یہ سارے نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے ۔ مولانا نے غیر متوقع طورپر اپنے مطالبے کو دو دن کے اندر اندر وزیر اعظم کے استعفے تک محدود کر کے انہیں آگے کھڈا پیچھے کھاء والی صورت حال سے دو چار کر دیا ۔ اوپر سے مولانا کا چیلنج کہ انکے کارکنان وزیراعظم ہاءوس میں گھس کر وزیراعظم کو گرفتار کرنیکی قدرت رکھتے ہیں ۔ مولانا کی یہ دھمکی دہشت گردی کے زمرے میں آتی ہے، جو کسی وقت ان سب کے گلے پڑنے والی ہے ۔ آئے تھے نمازیں بخشوانے، روزے گلے پڑ گئے ۔ مولانا صاحب نے کام کو کچھ اتنا اونچا کھینچ لیا ہے کہ اب ان سب کی واپسی وہاں سے تقریبا ناممکن ہے ۔ نہ عمران خان استعفیٰ دے گا نہ انکو کوئی یہاں سے آگے بڑھنے دے گا ۔ مولانا تو پہلے کا ڈوبا ہوا تھا، یہ اب 9 ستاروں کو بھی ڈبونے کا پروگرام بنا چکے ہیں ، ایک طرف عمران خان کہتا ہے کہ وہ آخری گیند تک کھیلتا ہے ، مولانا بھی کہتا ہے کہ وہ تمام کی تمام کشتیاں جلا کر آیا ہے، سخت اعصابی جنگ شروع ہو چکی ہے،دیکھتے ہیں کون ، کب اور کیسے اپنے موقف پر قائم اور کون یوٹرن لیتا ہے ۔ سو جناب گھوڑا بھی حاضر ہے اور میدان بھی ۔ لیکن جو بات اس نازک صورتحال میں کرنیوالی ہے وہ صبر و تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دور بینوں کی بجائے صرف عقل سلیم سے کام لینا ہے اور اگر حکومت اس میں پہل کردے تو یہ اسکا بڑا پن ہو گا ۔ وگرنہ آئین شکنوں کیلئے قانون اپنا راستہ خود بناتا ہے ۔

کشمیر اور اپوزیشن کی دھرنا سیاسست

پاکستان کے ازلی دشمن بھارت نے کشمیری قوم کو تین ماہ کی اذیتیں ، جس میں قید خانے، کرفیو، محاصرے ، انٹر نیٹ اورمیڈیاکی پابندی کے بعد بلآ آخر کشمیر کو دو حصوں ،لداخ اور جموں کشمیر میں تقسیم کر کے بھارت میں ضم کر لیا جبکہ کشمیری تکمیل پاکستان کے لیے ۲۷ سال سے اپنی جد وجہد جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ وہ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ جب بھی کر فیوذرا نرم ہوتا ہے سڑکوں پر نکل آتے ہیں اورپاکستان کے حق میں نعرے لگاتے ہیں ۔ بھارت نے کشمیری قوم کو جیل میں بند کر کے اور کرفیو لگا کر من مانیاں کیں ۔ بھارت نے لداخ اور کشمیر میں اسسٹنٹ گورنر لگا دیے ہیں ۔ کشمیر کا جھنڈا ختم کر کے بھارت کا جھنڈا لہرادیا ۔ کشمیر کے ریڈیو اسٹیشنوں کا نام بدل کر ریڈیو ریڈیو آل انڈیا رکھ دیا ہے ۔ بلکہ کشمیریوں کا سب کچھ چھین کر بھارتی بنا دیا ۔ اب اپنے پرگروام کے مطابق آزادکشمیر پر حملہ کر کے اسے بھارت میں شامل کرنے کی کارروائی کرنے والا ہے ۔ دوسری طرف مولانا فضل ا لرحمان صاحب نے عمران حکومت کو ختم کرنے کے لیے اپنے پرانے ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے پہلے ملک کے بڑے شہروں میں ۵۱بڑی ریلیاں نکالیں ۔ پھر کراچی سے اسلام آباد تک آزادی مارچ کے نام سے عمران خان حکومت ختم کرنے کے لیے اپنی آخری منزل تک پہنچ گئے ۔ اس احتجاج میں ملک کی چھوٹی بڑی ساری سیاسی جماعتیں شریک ہیں ۔ صرف جماعت اسلامی شریک نہیں وہ اس لیے کہ ایک طرف پاکستان کا ازلی دشمن بھارت پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ۔ پاکستان کی اپوزیشن اپنے خلاف نیب میں جاری مقدمے ختم کرانے کے لیے عمران خان پر دباءو بڑھانے کے لیے مولانا فضل الرحمان کے احتجاج میں شریک ہے ۔ جماعت اسلامی نے پورے ملک میں عوام کو تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ میں کشمیریوں کا ساتھ دینے کے لئے شہروں شہر ریلیاں نکالیں ۔ اس تاریخی موقع پر وہ بھارت کی جنگی عزائم کے خلاف قوم کو یک جان کرنے کی جدوجہدکی ۔ جماعت اسلامی نے پورے پاکستان میں کشمیریوں کی تحریک تکمیل پاکستان کی تحریک میں کشمیریوں کا ساتھ دینے کے لیے ہمہ تن مصروف عمل ہے ۔ ۴ ۔ ۵ نومبر کواسلام آباد میں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد کرنے والی ہے ۔ اس میں مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کو دنیا کے سامنے رکھنے کا پروگرام ہے ۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔ کشمیر پاکستان کا قانونی طور پر ایک حصہ ہے ۔ بھارت نے ۷۴۹۱ء سے اس پر بزور قبضہ کیا ۔ یہ مسئلہ اب بھی اقوام متحدہ کی کازلسٹ پر موجود ہے ۔ اقوام متحدہ کشمیر میں رائے شماری کے لیے درجنوں قراردادیں بھی پاس کر چکی ہے ۔ مگر بھارت اس پر عمل کیا کرتا ،الٹا اب کشمیر کو بھارت میں مکمل طور پر شامل کر لیا ۔ ان حالات میں چاہیے تو یہ تھا کہ جماعت اسلامی کی طرح، پاکستان کی ساری سیاسی پارٹیاں اور حکومت متحد ہو کر بھارت کے ان عزائم کا مقابلہ کرتیں ۔ مگر افسوس ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کے لیے اسلام آباد میں دھرنا ڈالے ہوئی ہیں ۔ اپنی تقاریر میں مسلم لیگ نون کے صدر جناب شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری سمیت سارے مقررین نے حکومت، فوج اور عدلیہ کے خلاف تقریریں کیں ۔ نون لیگ کی قیادت نے نواز شریف کا پرانا نعرہ پھر دھرایا’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ شہباز شریف نے کہا کہ نون لیگ کو حکومت دو ۔ ہم چھ(۶) ماہ میں حالت درست کر دیں گے ۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ ہم اس جعلی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اسے خلائی مخلوق یعنی فوج لائی ہے ۔ عمران خان استعفیٰ دیں ۔ ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں ۔ انتخابات صرف الیکشن کمیشن کرائے ۔ فوج کا انتخابات میں کوئی رول نہیں ہونا چاہیے ۔ دھرنے میں یکم جنوری کے آخری خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے اپنی تقریر میں فوج کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ناجائز حکومت کی سرپرستی چھوڑ دو ۔ عمران خان کو للکارتے ہوئے کہا کہ میں عمران خان وزیر اعظم پاکستان کو دو دن کا وقت دیتا ہوں کہ وہ استعفیٰ دے کر گھر چلے جائیں ۔ ورنہ یہ اجتماع آگے بڑھ کر خود اس سے استعفیٰ لے گا اور اسے گرفتار بھی کرلے گا ۔ لوگوں سے نعرے لگوائے کہ آگے بڑھو گے ۔ ڈی چوک جاءو گے ۔ وزیر اعظم ہاءوس جاءو گے ۔ جلسے میں شریک لوگوں نے کہا آگے بڑھیں گے ۔ جب تک آپ کہیں کے دھرنا دیں گے ۔ وزیر اعظم سے استعفیٰ لے کر ہی جائیں گے ۔ دوسری طرف عمران خا ن نے گلگت میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گا ۔ فضل الرحمان کہتا ہے کہ میں یہودیوں کا ایجنٹ ہوں ۔ قادیانی نواز ہوں ختم نبوت کے خلاف ہوں ۔ میں کہتا ہوں ایک فضل الرحمان کے ہوتے ہوئے کسی اور کی ضرورت نہیں ۔ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ کرپشن میں ملوث یہ سارے لوگ اکٹھے ہو جائیں گے ۔ اپنی کرپشن بچانے کےلئے مجھ پر پریشیر بڑھائیں گے ۔ مگر میں آج پھر اعلان کرتا ہوں کہ کسی بھی کرپٹ کو این او آر نہیں دوں گابلکہ کرپشن میں ملوث مذید لوگ بھی پکڑے جائیں گے ۔ ان حالت کا کوئی محب وطن تجزیہ کار جائزہ لے، تو سب سے پہلے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا اس پر مکمل عمل درآمد ہونا چاہیے تھا ۔ حکومت کہتی ہے کہ اپوزشن نے کو پورے پاکستان سے اسلام آباد آنے اور اپنا جمہوری حق ادا کرنے کا پورا موقع دیا گیا ۔ معاہدے کے مطابق اپوزیشن احتجاج کرتی ۔ مگرجہاں پہنچ کر ریڈ زون میں آنے پر لوگوں سے عہد لینے اور آگے بڑھنے کا کہنا نا جائز ہے ۔ اپوزیشن کہتی ہے کہ پہلے حکومت نے معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے ۔ مگر سب کو معلوم ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا پہلے سے ہی حکومت کو گرانے اور عمران خان کے استعفے کاپروگرام تھا ۔ حکومت کہتی ہے کہ عدلیہ کے حکم اور معاہدے پر عمل نہیں کیا گیا اور ریڈ زون پرچڑھائی کی کوشش کی گئی تو حکومت قانون کے مطابق مظاہرین کو روکے گی ۔ صاحبو!اس طرح تصادم ہونے کا امکان ہے ۔ ضرورت تو اس امر کی تھی کہ ساری قوم کشمیر میں جاری تحریک تکمیل پاکستان کی جنگ میں کشمیریوں کا ساتھ دیتی ۔ بھارت کوغیر آئینی غیر اخلاقی اقدام کرنے کے سامنے بندباندھتی ۔ حکومت کو پانچ سال پورے کرنے کا موقع دیتی ۔ حکومت کے غلط کاموں پر آئین کے مطابق گرفت کرتی ۔ اگر دیکھا جائے تومولانا فضل الرحمان، عمران خاں حکومت کو گرا خود توکبھی بھی پاکستان میں اکثریت حاصل نہیں کر سکتے ۔ توکیا پھر ملک پر چایس سال باریاں بدل بدل کر حکومت کرنے والی نون لیگ یا پیپلز پارٹی کو پھر سے حکومت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ ذراءع کہتے ہیں اگر پاکستان میں اس وقت کرپشن پر کنٹرول نہ کیا گیا تو پھر کبھی بھی نہیں ہوسکے گا ۔ جماعت اسلامی ۶۳۴ آف شور کمپنیوں والوں کے خلاف سپریم کورٹ میں مقد مہ دائر کیا ہوا ہے ۔ ان کو عدالت کے سامنے لا کر قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے ۔ کیا اپوزیشن فوج پر تنقید کر کے اس مشکل وقت میں بھارت کے ہاتھ مضبوط نہیں کر رہی ہے ۔ ہماری فوج نے ملک سے دہشت گردی ختم کی ۔ اب حکومت کے ساتھ مل کر فاٹا میں ترقیاتی کام کر رہی ہے ۔ سرحد پر بھارت جنگ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ اسوقت فوج کے ساتھ ایک پیج پر ہونے کی ضرورت ہے ۔ فوج فاٹا، اندرون ملک اور مغربی باڈر (۲) دو لاکھ فوج لگی ہے ۔ کسی طرح بھی ملک کے حالات خراب نہیں ہونے چاہئیں ۔ ورنہ اس سے بھارت کو آزاد کشمیر پر حملہ کرنے کا موقع مل جائے گا ۔ اپوزیشن کو چاہیے کہ عدالتوں میں اپنی بے گناہی ثابت کرے ۔ حکومت کو پانچ سال مکمل کرنے دے ۔ اپنے مطالبات جمہوری طرز پر پیش کر کے واپس چلے جائیں ۔ یہی جمہوری طریقہ ہے ۔ اگر ملک میں افراتفری ہوئی تو یہ نہ ہی اپوزیشن اورنہ ہی حکومت اور نہ ہی عوام کے لیے چھا ہو گا ۔ اس سے بھارت فائدہ اُٹھائے گا اور ایک روایت پڑ جائے گی کہ لاکھ دو لاکھ لوگ اسلام آباد میں جمع ہوکر کسی بھی حکومت کو گراتے رہیں گے ۔ پاکستان میں پہلی دفعہ، اللہ اللہ کرکے پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے اپنے اپنے پانچ سال مکمل کیے تھے ۔ اس تحریر تک اسلام آباد میں اپوزیشن کا دھرنا جاری ہے ۔ مورخ لکھ رہا ہے کہ پاکستان کی اپوزیشن نے کیا اپنا ملک، اپنی شہ رگ کشمیر کو بچانے کی کوشش کی، اقتدارحاصل کرنے یا اپنے ازلی دشمن بھارت کے ہاتھ مضبوط کرنی کی نادنستہ کوشش کی ۔

بھارتی میڈیا ہاءوسنز ۔ گمراہ خبروں کے گڑھ

جھوٹی خبریں ،بناوٹی خبریں ،من گھڑت خبریں ،فرضی خبریں ’’فیک نیوز‘‘ہی کی مختلف اقسام لیئے ہوتی ہیں جن میں دانستہ پروپیگنڈا یا پیلی صحافت کے واضح اثرات نمایاں ہوتے ہیں ایسی من گھڑت اور منفی خبروں کے پیچھے ذاتی مقاصد کی کار فرمائیاں ہرکسی کو صاف نظرآتی ہیں ایسی بناوٹی خبروں کو شاءع کروانے،نشریا ٹیلی کاسٹ کروانے کا مطلب دھوکہ دہی کے فریب زدہ ماحول کو ہمیشہ کے لئے ہموار بنانے کے علاوہ اور کوئی منفی مقصد نہیں ہوتا، دنیا بھر میں فی زمانہ مودی کی فاشسٹ قیادت نے بھارت کوایک ایسا ملک دیا، جہاں اس طرح کی فیک نیوز کا کاروبار سرکاری سرپرستی میں بہت تیزی سے عام ہوتا جارہا ہےاب جبکہ یہ عہد سوشل میڈیا جیسے جدید ڈیجیٹل ذراءع ابلاغ کا عہد ہے اس دور میں نئی دہلی سرکارکی سرپرستی پرمکمل مالی بھروسہ رکھنے والے زیادہ تر متعصب ’’گودی میڈیا ہاوسنز‘‘ نے اسلام فوبیا میں اور خاص کر پانچ اگست کے مقبوضہ وادی پر شب خون مارنے والے غیرانسانی اور غیر اخلاقی اقدام نے مودی سرکار کی دنیا بھر میں جو مٹی پلید کی ہے، بھارتی وزیراعظم مودی اور اْن کے جنونی ہندوتوا کے حامی اپنی اس انتہائی فاش غلطی پر اپنی سی لاکھ کوششوں اور لگاتار سعی وجستجو کے باوجود اب تک سنبھل نہیں پائے اور بھارتی سرکاری اور پرائیویٹ میڈیا مسلسل لگاتار غلط بیانیوں ،مبالغہ آرائیوں اور دروغ گوئیوں کی کہاونتوں میں بْری طرح سے خود الجھتے جارہے ہیں دلیل اور منطق سے ماورا بھارتی میڈیا کے اخبارات،میڈیا کے جدید ذراءع جن میں نجی اور سرکاری الیکڑونک میڈیا،ایف ایم ریڈیو شامل ہیں بھارت کی نیم خواندہ اور پسماندہ ذہنیت کی ہندوتوا کی جنونیت میں رنگے طبقات کی اکثریت نے اکہتربرس گزرنے کے باوجود آج تک ’’کشمیر‘‘کا نام تو ضرور سنا مگر وہ کشمیر کے بارے میں جانتے بوجھتے کچھ نہیں ،ہاں مگروہ مودی جی کی اس زورروز کی تکرار سے مطمئن اورخوش ہوجاتے ہیں کہ’’ مودی جی نے اور کچھ نہیں تو کشمیرضرورفتح کرلیا;238;‘‘ اْن بچاروں کا کیا پتہ;238; کشمیر کا اصل مدعاہے کیا;238; یہ سب توآرایس ایس سرکار کی سرپرستی میں دیش بھر میں کیئے جانے والے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر اْسی پر انحصار کیئے بیٹھے ہیں اترپردیش،مدھیہ پردیش،بہار، مغربی بنگال اور بھارت کی دیگر ریاستوں کے شہروں اور دورافتادہ پسماندہ ہندوتوا کے جنون میں بے نہیں پرواہ ہوکر بس مودی اور امیت جی کی باتوں کے فریب کے اسیر ہیں ، یہ سب بے خبر مبالغہ آرائیوں میں گھرے مقبوضہ وادی کی تاریخی اہمیت وافادیت سے لاتعلق اِنہیں علم نہیں کہ پاسین ملک کون ہے سید علی گیلانی کا کیا مقام ہے میرواعظ عمرفاروق بلکہ یہ توشیخ اور مفتی فیملیوں کے سیاسی بیک گراونڈسے واقف نہیں بس جو ’’گودی میڈیا‘‘نے لکھا،نشریا ٹیلی کاسٹ کیا اْس پر اپنی آنکھیں بند کرکے اِن کروڑوں نیم خواندہ یا جذباتی جنونی ہندوکارسیکوں نے من وعن تسلیم کرلیا یہ مودی کا بھارت ہے;238;جو جنونی اور مفروضی پروپیگنڈوں کے سہارے ’’گودی میڈیا‘‘ سے لیس نئے سرے سے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھنے جارہا ہے جیسے ہم بین السطور بیان کیا کہ ’’مودی قیادت کے پائے‘‘کس قدر کمزور اور دیمک ذدہ ہوچکے اس کا اسے بالکل اندازہ نہیں ویسے مودی جی’’توانا‘‘ نظرتو آتے ہیں لیکن اْس کے اندر کی شدید ٹوٹ پھوٹ اوربکھرنے کے آثار پانچ اگست کے بعد سے دکھنا شروع ہوگئے تھے اور یکم نومبرکے بعد تو مودی سرکار مزید ننگی ہوگئی 24 اکتوبر 2019 کو بھارت کی جانب سے جب یہ اعلان سامنے آیا کہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنما پاسین ملک پر دہشت گردی،کارسرکار میں مداخلت سمیت انڈین آئیر فورس کے چار اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا تو ہ میں پختہ یقین ہوچلا ہے کہ ’’مودی سرکار پانچ اگست کے اقدام کے بعد شدید دباو میں آگئی ہے، کہاں پانچ نومبر انیس سونوے اور کہاں پانچ اگست دوہزار انیس;238; انتیس سال کے بعد کشمیری عوام میں مقبول کشمیر کی آزادی کے لیئے مزاحمت میں صف اول کے ممتازکشمیری لیڈر یاسین ملک پر ایک ایسا الزام چسپاں کردیا گیا اب باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا جس کی شہادت گواہی کون دے گا;238;یہ خبر چوبیس اکتوبر کے ہندوستان ٹائمز کی اشاعت میں شاءع ہوئی ہے یاد رہے کہ یاسین ملک جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی قائد ہیں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی ملک یاسین پراس وقت اس وقت کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیا سعید کو اغوا کرنے کا مبینہ الزام بھی عائد ہے;238; اور وہ اس وقت تہاڑ جیل میں قید ہیں اس سلسلے میں ’’گودی میڈیا‘‘ نے ایک سنسنی خیز قیاس پھیلایا ہوا ہے اوربھارت کی مودی حکومت اپنے پانچ اگست اور یکم نومبر کے کشمیر کو ہڑپ کرنے جیسے انتہائی اقدامات سے دنیا کی توجہ بٹانے کے لئے ایک فاشسٹ حکومت کی طرح کا برتاوَ کررہی ہے اور بہت سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے خدشات کے مطابق انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے بھارتی حکومت عوامی رد عمل سے بچنے کے لئے بیمار یاسین ملک سے خوفزدہ ہے، جناب یاسین ملک کی کئی بار گرفتاریاں ہوئیں اور ہر بار ان میں کوئی نہ کوئی تبدیلی رونما ہوئی جب سنہ 1994 میں انہیں حراست میں لیا گیا تو انھوں نے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے تشدد کے بجائے امن کے راستے کی پیروی شروع کردی اور ;39;گاندھین;39; بن گئے تھے اور بات چیت کے ذریعے جس میں انڈیا اور پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی بھی شمولیت ہو کی حمایت کرنے لگے تھے، انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد بھی کی اور پھر بعدازاں سیاسی جدوجہد شروع کی جس کی وجہ سے وہ شروع سے ہی ایسی گرفتاریوں کا سامنا کرتے آ رہے ہیں ،مودی ،اجیت اورامیت ٹرائیکا‘‘ ہوسکتا ہے اپنی آخری اننگزکھیل رہے ہونگے تبھی تو اْنہیں دیش کے عوام کی نیم خواندہ کچے فکری ونظری جنونی شعور کے حامل طبقات کو’’فرضی خوشیاں اور مسرتیں ‘‘منانے کے لئے مقبوضہ وادی جیسے حساس ایشو سے جڑے نازک مسائل کے ’’بھڑکے چھتے‘‘کو ہلادیا ہے پاکستان کے پوائنٹ ا;63;ف ویویو سے ایک لحاظ سے مودی نے وہ کام کردکھایا جس کے نتیجے میں ’’کشمیر کا مسئلہ دنیا کے لئے خصوصی اہمیت وافادیت حاصل کرگیا‘‘جو کام نہرو اور واجپائی نہ کرسکے اپنی جلدباز جنونی کارستانی میں یہ مشکل ترین کام مودی نے بالا آخر کرڈالا شیخ عبداللہ فیملی،مفتی فیملی جو بھارت کے طرفدار کشمیری رہنما تھے اْنہیں قید کرکے اور ملک یاسین جیسے ممتازقانون کے پاسدار اورپْرامن کشمیری رہنماوں پر جھوٹے من گھڑت قتل کے سنگین الزامات کے مقدمات قائم کرکے مودی جی نے اپنے ’’سنگ خود ہی پھنسالیئے ہیں ‘‘اور دنیا کی مہذب اقوام کو کشمیر کی جانب متوجہ کرلیا ہے کشمیریوں کے لئے اور ہم پاکستانیوں کے لئے یہی بہت زبردست ہوگیا اور اوپر سے بھارتی میڈیا کے ڈرامے اور من گھڑت خبروں کے سلسلوں نے عالمی غیر جانبدار صحافیوں کی توجہ کشمیر کی جانب مبذول کرادی اب ’’مودی جی ! آپ تیل دیکھیں اور تین کی دھار دیکھیں وہ ہوگا جو آپ نے تصورات میں بھی نہیں سوچا ہوگا ۔

آزادی مارچ کودھرنے میں تبدیل نہ ہونے دیاجائے

آزادی مارچ کو دھرنے میں تبدیل کرنا کسی صورت بھی موجودہ سیاسی حالات کے مفاد میں نہیں ، فضل الرحمن نے جو مطالبہ پیش کیا ہے اور حکومت قطعی طورپرراضی نہیں نہ ہی عمران خان نے استعفیٰ دینا ہے اس سے مزیدانارکی پھیلے گی گوکہ دو د ن کی مہلت حکومت کو دی گئی ہے لیکن اس کے بعد کوئی حوصلہ افزانتاءج نہیں برآمد ہوں گے کیونکہ آزادی مارچ کے نام پر مولانا فضل الرحمان تمام لوگوں کو اسلام آباد لیکر پہنچے اوراب اگراس کو دھرنے میں تبدیل کرتے ہیں تو اس کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا، حکومتی مذاکراتی ٹیم بھی کہہ چکی ہے کہ مذاکرات کے امکانات نہیں لیکن ضرورت پڑی تومذاکرات کریں گے ، وزیراعظم نے بھی اپنے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ جتنا عرصہ چاہیں دھرنے میں بیٹھیں رہیں ہم کچھ نہیں کہیں گے لیکن اگرقانون کی خلاف ورزی کی تو پھرکارروائی ہوگی، ہاں دیکھنے اورسمجھنے کی بات ہے کہ ماضی کے دھرنے بھی اسی نوعیت کے تھے،اسی طرح کے مطالبات تھے اورپھراس کے بعد جوحالات درپیش آئے وہ ساری دنیا نے دیکھے ، حکومت فضل الرحمان کے آزادی مارچ اورممکنہ دھرنے کو بہت زیادہ آسا ن نہ لے اگر دو دن کے بعد آزادی مارچ کے شرکاء کو کہہ دیاگیا کہ وہ ڈی چوک روانہ ہوں تو اس سے حالات مزید خراب ہوجائیں گے لہٰذا درمیانے راستے کی ضرورت ہے تاکہ فریقین بیٹھ کرآپس میں باہمی افہام وتفہیم سے معاملات کو حل کرسکیں نہ کہ ایک دوسر ے پر پراگندہ سیاست کے الزام عائد کریں ،کیچڑاچھالیں ، ذاتیات پرآئیں اس سے من حیث القوم نقصان کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت اور اداروں کو 2دن کی مہلت دیتے ہیں ، وزیراعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو عوام کا یہ سمندر انہیں گھر سے بھی گرفتار کرنے کی طاقت رکھتا ہے،کسی ادارے کو پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق نہیں ، مزید صبرکا مظاہرہ نہیں کرسکتے، پاکستانی گوربا چوف ناکامی کا اعتراف کرکے حکومت سے دستبردار ہوجائے، جبکہ قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان پتھردل، مغرور، خالی دماغ ہیں ، حکومت جادو ٹونے او رپھونکوں سے چل رہی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سلیکٹرز کی وجہ سے اقتدار میں آنےوالے عوام کو خوش کیوں رکھیں ، فوج سب کی ہے متنازع نہیں ہونے دیں گے ۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ آئین سے ہٹ کر کچھ نہیں مانیں گے ۔ عبدالغفور حیدری نے کہا کہ تحریک کو انجام تک پہنچائے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ آزادی مارچ کے دھرنے سے دیگر رہنماءوں نے بھی خطاب کیا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے گلگت میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیسے اوراقتدار کےلئے اسلام کا نام لینے کا دور چلا گیا ہے دھرنا دینے والے بے شک جتنے دن چاہیں بیٹھ جائیں جب کھانا ختم ہو گا وہ بھی بھجوا دیں گے لیکن کسی کو این آر او نہیں ملے گا کچھ بھی ہوجائے استعفیٰ نہیں دوں گا، آزادی مارچ والوں کا مقصد صرف اپنے آپ کو بچانا ہے ۔ اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ جن لوگوں نے ملک کو لوٹاہے ان سب کو جیلوں میں بھجواءوں گا، اسحاق ڈارکے والد کی سائیکل کی دکان تھی آج وہ اور ان کے بچے ارب پتی ہیں ، شہباز شریف کا بیٹا اور داماد ملک سے فرار ہیں ،اگر انہوں نے چوری نہیں کی تو یہ باہر کیوں بیٹھے ہیں بلاول بھٹو لبرل نہیں بلکہ لبرلی کرپٹ ہے ۔ دریں اثناگلگت میں یوم آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہناتھاکہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے قربانی دے کر اپنا علاقہ ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا، یہ علاقہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا گیٹ وے ہے دنیا میں گلگت بلتستان سے زیادہ خوبصورت کوئی علاقہ نہیں ،نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں اپنا آخری پتہ کھیل لیا ہے، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتی جیسے ہی کرفیو اٹھے گا انسانوں کا سمندر باہر نکل کر آزادی مانگے گا ۔ اس موقع پر پاک فوج کے چاک و چوبند دستوں نے وزیراعظم پاکستان کو سلامی دی ۔ عمران خان نے گلگت بلتستان میں 250بستروں کے اسپتال سمیت چار منصوبوں کا سنگ بنیادبھی رکھا ۔

اداروں کوسیاست

میں نہ گھسیٹا جائے

اداروں کوسیاست میں گھسیٹنا کوئی اچھی روایت نہیں ، سیاستدانوں کو سیاسی مسائل سیاسی اورجمہوری انداز میں حل کرنے چاہئیں اورپھروہ ادارہ جو ملکی سالمیت کاضامن ہو ملک میں کہیں بھی کوئی مشکل آن پڑے تو پیش پیش ہو اس کوموردالزام ٹھہرانا کہاں کی عقلمندی ہے ،اس طرح آزادی مارچ میں مولانافضل الرحمان، شہباز شریف اوربلاول بھٹو نے ٹارگٹ کرکے تقرریں کیں اس سے کسی طرح بھی سلجھی ہوئی سیاست کے زمرے میں نہیں لایاجاسکتا، شہباز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیاکہ جس طرح موجودہ حکومت کواداروں کی حمایت حاصل ہے اگر ہ میں دس فیصدبھی حاصل ہو تو ہم چھ ماہ میں اپوزیشن کے ساتھ ملکر تمام حالات بدل سکتے ہیں ، بات چھ ماہ کی نہیں گزشتہ تیس سال سے یہ لوگ مختلف اشکال میں عنان اقتدار پر براجمان رہے تو کیاکیا;238; اس بیانیے کے بعد ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفورنے ایک نجی نیوزچینل سے گفتگو میں دوٹوک الفاظ میں کہاکہ قومی استحکام اور یکجہتی کو ہرگزنقصان نہیں پہنچانے دیاجائے گا اور ہم آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کی حمایت کریں گے ۔ پاک فوج ایک قومی اور غیرجانبدار ادارہ ہے جو آئین وقانون کی بالادستی پریقین رکھتا ہے اوراس نے کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ہمیشہ منتخب جمہوری حکومتوں کی حمایت کی ہے ۔ انتخابات کی شفافیت کے بارے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی شکایات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ فوج نے انتخابات میں اپنی قانونی وآئینی ذمہ داری پوری کی ہے ۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹرجنرل نے کہاکہ حزب اختلاف کی مذاکراتی کمیٹی بہتر طریقے سے کام کررہی ہے اورہ میں امید ہے کہ یہ عمل اچھے انداز میں آگے چلے گا ۔ حکومت کو قائم ہوئے ایک سال سے زائد کاعرصہ گزر گیا ہے اور مسائل محض الزامات کے ذریعے سڑکوں پرحل نہیں ہوتے ۔ حزب اختلاف کو پاک فوج پرالزام لگانے کی بجائے یہ معاملات متعلقہ اداروں کے سامنے رکھنے چاہئیں اوراسے اس کا آئینی حق حاصل ہے سیاسی مسائل جمہوری انداز میں حل کئے جانے چاہئیں ۔ گزشتہ دودہائیوں میں ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے مشکل حالات سے گزرا ہے اوربے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ عوام اور پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو عظیم قربانیاں دیں ان کی مثال کوئی دوسراملک پیش نہیں کر سکا ، کنٹرول لائن پرکشیدگی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں ۔ وطن کے دفاع کےلئے مشرقی سرحد پر ایک لاکھ اورمغربی سرحد پر تقریباً دولاکھ جوان تعینات ہیں ۔ ایسے حالات میں ملک میں انتشاراوربے چینی پھیلانا قومی مفاد میں نہیں ہوگا ۔

مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر

جرمن چانسلرکا اظہارتشویش

بھارت کانام نہاد جمہوریت پسندکلنگ زدہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے مگرچونکہ مودی کا تعلق آرایس ایس دہشت گرد تنظیم سے ہے اس وجہ سے وہ کسی چیز کوبھی خاطر میں نہیں لارہا،ہٹ دھرمی کی انتہاتویہ ہے کہ مقبوضہ کشمیرکو اس نے دوحصوں میں تقسیم کرکے براہ راست دہلی کے زیرنگرانی کردیا، پاکستان اورچین نے اس بھارتی اقدام کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا ۔ اب جرمن چانسلرنے مودی کوآئینہ دکھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیاہے ،انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ٹھیک نہیں اس میں بہتری آنی چاہئے ۔ انجیلا مرکل اپنے ساتھ آئے ہوئے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہی تھیں ان کے اس بیان کو مقامی میڈیا بھارتی حکومت کیلئے سبکی قرار دے رہاہے ۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم مودی سے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ۔ دوسری جانب جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفترکے باہرایک احتجاجی ریلی نے بھارتی حکومت پرزوردیاہے کہ وہ نہتے کشمیریوں اور سکھوں کی نسل کشی بندکرے ۔ ریلی میں سکھوں اور کشمیریوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی ۔ مظاہرین نے کہاکہ مودی حکومت بھارت اورکشمیر میں مسلمانوں اورسکھوں کی نسل کشی کررہی ہے اوراس نے بھارت میں مقیم اقلیتوں کی مذہبی آزادی چھین لی ہے ۔ ریلی کے شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیوہٹانے اورکشمیریوں کامحاصرہ ختم کرنے کامطالبہ بھی کیا ۔

یورپی یونین پارلیمانی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر!

یورپی یونین کے تیئس رکنی پارلیمانی وفد نے گزشتہ ہفتے کے اوائل میں ’’کشمیر میں کیا صورتحال ہے‘‘جاننے کے لئے انڈین زیر انتظام کشمیر کا غیر سرکاری دورہ کیا بھارتی فوج کی نگرانی میں یورپی یونین کے وفد کے معزز اراکان نے نئی دہلی کی ایما پر جہاں یہ باور کرایا کہ وہ ’’نئی دہلی کے امور مملکت میں دخل اندازی کرنے نہیں آئے‘‘مگر دورے کے اختتام پر اپنی پریس بریفنگ میں جو احوال یورپی یونین کے نمائندہ وفد نے بیان کیئے اْس سے یہ واضح ہوگیا کہ انڈین زیرانتظام کشمیر پر بات کرنا اور اپنی انسانی تشویش کا اظہار کرنا ایک الگ مسئلہ ہے اور نئی دہلی کے’’امور مملکت میں دخل اندازی‘‘مقبوضہ وادی کی تشویش ناک ابتر صورتحال کوئی تعلق نہیں بنتا‘‘ یورپی یونین کے وفد نے اپنی اسی پریس بریفنگ میں مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی فوج کے ہاتھوں منگل انتیس اکتوبرکو جنوبی کشمیر کے کلگام ضلع میں مغربی بنگال کے پانچ مزدوروں کی ہلاکت پر اپنے شدید تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’انڈین کشمیر کی اندرونی غیر انسانی صورتحال نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں ‘‘یہاں یاد رہے کہ انڈین زیرانتظام کشمیر کی پولیس انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ’’کلگام میں ایک الرٹ آپریشنل حملہ میں ہلاک ہوئے سبھی مزدور مغربی بنگال مرشد آباد کے رہنے والے تھے‘‘بھارتی سرکار کے زیر اثر ’’گودی میڈیا‘‘ نے مغربی بنگال کے ان بے قصور مزدوروں کی ہلاکت کی ذمہ داری نام نہاد دہشت گردی کے وجہ قرار دی جسے عقل وفہم رکھنے والے باشعور ذہنوں نے با آسانی تسلیم نہیں کیا ایک ایسی محصور وادی میں جہاں نئی دہلی سرپرستی میں کرفیو نافذ ہے لوگوں عام شہریوں کی پل پل کی نقل وحرکت پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے عام کشمیری گھروں سے باہر نہیں نکل پاررہے ایسے میں ’’دہشت گردی کا واقعہ‘‘ کیسے ہوسکتا ہے;238; یہاں یہ امر کیسے پس پشت ڈال دیا جائے یا اسے بھلا دیا جائے کہ سابق امریکی صدر کلنٹن جب بھارت کا سرکاری دورہ کررہے تھے تو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے مقبوضہ وادی کے مقام چنڈی سنگھ پورہ میں تیس کے قریب کشمیری سکھوں کو اپنی تیارہ کردہ سازش کے ذریعے سے قتل کرایا تھا جس قاتلانہ سازش کا بروقت انکشاف ہوگیا تھا ایسا ہی ایک اور افسوس ناک واقعہ سابق امریکی صدر بش کے دورہ بھارت کے دوران پھرہوا مقبوضہ وادی کی جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کی یہ ’’را‘‘کی آزمودہ واردات ہے جسے بار بار دہرایاجاتا ہے مقبوضہ وادی کو مکمل ہڑپ کرنے کی بھارتی ناکام کوشش جو پانچ اگست کو کی گئی دنیا بھر میں اس بھارتی اقدام کی کھل کر ہر جانب سے مذمت کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے اور آپ نے دیکھ لیا جیسا پہلے بھی بیان ہوا کہ یہ ’’حملہ‘‘ اسی دن ہوا ہے جب یورپی یونین کا وفد آرٹیکل 370 کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی ریاست کا درجہ واپس لیے جانے کے بعد مقامی لوگوں سے بات کرنے اور ان کا تجربہ جاننے کے لیے کشمیر کے سفر پر آیا آرٹیکل 370 پر مرکز کے فیصلے کے بعد سے دہشت گرد ٹرک والوں اور مزدوروں خاص کر ان لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو کشمیر کے باہر سے وادی میں آئے ہوئے ہیں مثلاًادھم پور ضلع کے ایک ٹرک ڈرائیور کو اننت ناگ میں دہشت گردوں نے مار ڈالا تھا5 اگست کو آرٹیکل 370 کے زیادہ تر اہتماموں کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد ’’مشکوک دہشت گردوں کے حملوں ‘‘ میں مارا جانے والا یہ چوتھا ٹرک ڈرائیور تھا24 اکتوبر کو دہشت گردوں نے شوپیاں ضلع میں دو غیر کشمیری ٹرک ڈرائیور وں کا قتل کر دیا 14 اکتوبر کو شوپیاں ضلع میں ہی دو دہشت گردوں نے راجستھان کے نمبر والے ایک ٹرک ڈرائیور کا گولی مار کر قتل کر دیا تھا ۔ قارئین اندازہ لگائیں کہ آرایس ایس جسے ’’غیر ریاستی جنونی تنظیم‘‘کہا جائے یا پھر ’’ریاستی جنونی اسلام فوبیا میں مبتلا متشدد تنظیم کا نام دیں اپنے آپ کو ’’بڑا معتبر‘‘قرار دینے کی ایک ناکام کوشش میں اپنے طور پر یورپی یونین کے تیئس رکنی پارلیمانی وفد کو کشمیرآنے کی دعوت تو دیدی مگر اپنے سازشی مقاصد میں آرایس ایس بہت ہی بْری طرح سے ناکام رہی ہے، ہندوتوا کے جنونی غیر مہذب پیروکار کشمیری مسلمانوں سے اپنی نفرتوں میں بالکل اندھے ہوچکے ہیں وہ مہذب اقوام کی سچی جمہوری فطرت کا اندازہ نہیں لگا سکے یہ عجیب بات نہیں ہے کہ بھارتی کانگریس کے صف اول کے لیڈروں اور سیکولر خیال بھارتی صحافیوں کو تو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے یورپی پارلیمانی وفود کو آر ایس ایس مقبوضہ وادی کے دوروں کی دعوتیں دے رہی ہے وجہ کیا یہی وجوہ ہے یورپی دنیا کسی صورت بھی اب دنیا کے کسی ملک میں ’’نازی ازم‘‘ کو پھلنے پھولنے کی اجازت نہیں دے سکتی انسانی حقوق کے حوالے سے یورپی یونین کے ممالک بہت شدید تحفطات رکھتے ہیں رتی برابر سمجھوتہ کرنے کےلئے آمادہ نہیں ہونگے اور مقبوضہ وادی میں تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب یورپی یونین کے تیئس رکنی وفد کے ارکان نے اپنی آنکھوں سے خود ملاحظہ کرلیں بھارت نے کشمیر کی سرزمین کو ’’عالمی بدامنی‘‘کا استعارہ بنادیا نئی دہلی کی بے حسی کس قدر شرمناک ثابت ہوئی ہے افسوس ہے کشمیر کی سرزمین اپنی تاحد نگاہ پْرکیف خوبصورتی اور زرخیری کے اعتبار سے ‘لبنان’کی ہم پلہ ریاست تسلیم کی جاتی تھی یہ اوربھی افسوس کامقام کہ کشمیر کی خوبصورتی اور دلنشینی کا تذکرہ کرتے ہوئے یہاں راقم نے ’’ماضی‘‘ کاصیغہ استعمال کیا;238; آپ بھی اتفاق کریں گے اورواقعی اس میں کوئی شک نہیں ہے‘ممتازکشمیری مصنفہ صابرہ سلطانہ کا سوال بجا، ایک کشمیری مصنفہ ہونے کے ناطے اْنہوں نے دنیا کی اس بے مثال خوبصورت ترین وادی کو آج ‘لہولہان وادی’ ہوتے ہوئے دیکھا تو اْن کے اس حقیقی سوال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے کروڑوں پاکستانی اور لاکھوں کشمیری عوام کو جواب کون دے گا;238; بھارت یا اقوام متحدہ جواب دے گا;238;’جنت نظیروادی کشمیر‘کو اپنی ہٹ دھرمی، ضد اور اور انا سے مغلوب مودی، اجیت اور ڈوبھال بدقماش تثلیثی سیاست کی بے رحمانہ مہم جوئی کے نتیجے میں پانچ اگست کے بعد سے اب تک ‘لہولہان وادی’ میں بدل کررکھ دیا ہے ا یسا کیونکر ہوا ہے;238; کشمیر کو’’جنت نظیر وادی‘‘ سے’’جہنم کی دہکتی ہوئی وادی‘‘ بنادینے والے ان سفاک اور انسان کش ہندوتوا کے پیروکار جنونی سیاست دانوں کی اکہتر برس گزرنے کے باوجود آج تک دنیا میں سوائے خوف زدہ وحشت کی فضا قائم رکھنے والے جنونی طاقت کے بل پربھارتی معاشرے میں تقسیم درتقسیم کے سماجی طبقات بنانے والے اورنا انصافی پر مبنی ظالم وبربریت کے انتہائی بدنما وحشیانہ زرد نشان کی چھاپ پرفخر کرنے والوں کی کوئی اور پہچان کیوں ہونہ سکی یہ سوچنا ہوگا بھارت کی نئی نسل کو کیا بھارت کی نئی نسل اسی بدنما پہچان کے یہ داغ لیئے مستقبل کی جانب گامزن رہنا چاہتے ہیں ;238; ابھرتی ہوئی جدید بھارتی نسل کو آج نہیں تو کل فرسودہ بھارتی ہندوتوا کے پیروکاروں کے خونی پنجوں سے اپنے آپ کو آزاد کرانے کےلئے ہر صورت میں جدید اور روشن خیال افکار سے لیس ہوکر میدان میں اترنا پڑے گا تبھی کہیں جاکر بھارت جدید دنیا سے ہم آہنگ ہو گا ۔

مولانا کی سیاست کا آخری داءو

وقتی طور پر مولانا کی یہ چال جسے ہندوستان، افغانستان اور دیگر ہم خیال ممالک کی آشیر باد حاصل ہے ۔ ضرور کامیاب ہوئی ہے ۔ جن عوام اور دوست ممالک کے تکیے پر مولانا اپنے بل سے دیوانہ وار نکلا ہے ۔ وہ انتہائی نادان ہے ۔ کہ ۔ مالٹا جیسا ملک بھی افراتفری کو کچل دیتا ہے ۔ پاکستان دفاعی اعتبار سے دنیا بھر میں معروف ملک ہے ۔ 20 سالوں سے جاری دہشت گردی کا خاتمہ دنیا کی عسکری تاریخ میں ایک مثال ہے ۔ ایسی منظم فوج کو للکارنا ۔ اِک حماقت ہے ۔ فوج کے ترجمان کا یہ کہنا کہ ہم فساد کو بر داشت نہیں کریں گے جو کہ انکا آئینی حق ہے اورہم حکومت وقت کی ہدایات کے پابند ہیں نہ کہ سیاسی پارٹیوں کے جتھوں کے ۔ ریاست کی یہ جنگ 2008 سے متحرک ہے ۔ الطاف حسین کا تختہ ایسے تو نہیں بکھرا ۔ کرپشن،سیاسی شعبدہ بازیاں اور امن و امان کے مسائل نتھی ہیں ۔ تیسراقوم کی اخلاقی کشتی ڈوب رہی ہے ۔ تو ریاست کی بقاء کا مسئلہ درپیش ہوگیا ۔ اس وقت کرپشن کے خلاف جنگ عمران خان کے حکم پر نہیں ہے بلکہ اتفاق سے اور وقت کے تقاضے آپس میں مل چکے ہیں ۔ ۔ اور اس جلسے کی شکست و ریخت کے بعد ۔ احتساب کا عمل انتہائی سخت ہو جائیگا ۔ اور اب تک جو تازہ فہرستیں ۔ وزیرا عظم ہاءوس میں آویزاں ہیں ۔ وہ ان کی بنیادوں سے آخری سریا تک کھینچ لے گا ۔ معاشی طور پر اس حکومت نے ان حالات میں رہتے ہوئے ۔ اہداف حاصل کر لیے ہیں ۔ ظاہر اس کے اثرات عوام تک پہنچتے پہنچتے 2 سے 3 سال لیں گے ۔ قوم برباد ہوتی ہے رفتہ رفتہ اور بننے میں بھی وقت لگتا ہے ۔ یہ دنیا اسباب پر چلتی ہے ۔ کسی کی خواہش پر نہیں ۔ اس کرپٹ ٹولے کی شکست کے بعد ان میڈیا ہاءوسز اور صحافیوں کی دکانداری ٹھپ ہو جائیگی ۔ جو اس وقت جلسے میں سیاسدانوں کے ہم رکاب ہیں اور اپنے نام کے بل بوتے ۔ غیر یقینی صورتحال کو بڑھا وا دے رہے ہیں ۔ بعض صحافی بھی اپنی کرپشن کے انگاروں پر بیٹھے اچھل رہے ہیں ۔ یہ نظام قدرت ہے اور اے نبی انس کہہ دو جہنم تمہاری نظروں کے سامنے ہے تم اندھے ہو کیوں نظر نہیں آرہا ۔ پھر کہتے ہیں ۔ دراصل انہوں نے قوم کے مفاد کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ یہ اپنی اپنی ٹوکریاں بھر رہے ہیں ۔ لالچ ہوس کے مارے یہ اندھے جانوروں سے بھی برتر ہیں ۔ آخر میں میرے کوئی سیاسی عزائم نہیں مگر یہ جانتا ہوں کہ عمران خان نہ ہوتے تو یہ اس طرح نہ چیختے ۔ کیونکہ انکو نظر آرہا ہے کہ عمران خان کی ایمانداری چل گئی تو ہمارا سورج ڈوب جائیگا ۔ اور ڈوب چکا ہے ۔ پاکستان کی تشکیل مخالفت کرنے والے ۔ پاکستان کی تباہی پر آمادہ یہ مداری اپنے کردار کے ہاتھوں رسوا ہو گئے ۔ میری اپنی رائے میں قائداعظم محمد علی جناح کی بے کل روح کو قرار ملنے والا ہے ۔ دنیا بدل رہی ہے ۔ اگر ہماری قوم کو تعلیم ہنگامی بنیادوں پر دی جائے توہم اپنے اہداف جو قائد اور اقبال نے دیے جلدی حاصل کر سکتے ہیں ۔ قوم کو مبارک ہو ۔ مگر ریاست کا پنجہ گہرا اور جابرانہ ہونا ضروری ہے ۔ مستقل کامیابی اور ریاست اور عوام کو گمراہ کرنے کی انکی چالیں ہزار پردوں میں چھی ہیں ۔ چور،مجرم اور بد عنوان اپنی محنت کو اتنی آسانی جانے نہیں دیتا ۔ یہی کچھ گزشتہ 50سالوں نت نئے حربوں سے چلتا آرہا ہے اور اب نفسیاتی طور چوری کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ راست طریقے سے کمانا انکے بس کا نہیں رہا ۔ سو اپنی دفاع کیلئے سارے چوروں نے اتحاد کرلیا اور کیوں نہ کرتے ۔ قران میں برائی کو ختم کرنے کے دو اصول بیان ہوئے ۔ ’’ کردار سازی،تعلیم اور ابلاغ‘‘ جب اس میں ناکامی نظر آئے یا مطلوبہ نتاءج نظر نہ آئیں تو معاشرے قوم یا ریاست پر لازم ہے کہ ان کو قوت سے کچلا جائے ۔ یہی اس کا علاج ہے اور اگر ان فسادیوں اور چوروں کے ساتھ مصلحت کی گئی تو یاد رکھنا اے مومنین کی جماعت ۔ سچ کبھی جھوٹ کے ساتھ کمپرومائز مصلحت نہیں کر سکتا ۔ ورنہ آپ کا سچ جھوٹ متصور ہو گا ۔ کیونکہ معاشرے میں ایک کرپٹ انسان معاشرے میں بد اعتدالی پیدا کرتا ہے ۔ لہٰذا حکومت وقت اور ریاستی ادارے،اور عوام ایسے عناصر کا خاتمہ فرض سمجھ کر کریں ۔ اس کی آپ سے باز پرس ہوگی ۔ مولانا اور ;848480; کے روابط جلسے میں ہی نظر آگئے ۔ مودی ;828383; اور مولانا کا پاکستانی ;828383; مشہود ہوگیا ۔ قیام پاکستان سے قبل دیونبدی اس ایجنڈے کا سرخیل حسین مدنی کے نظریات کسی ڈھکے چھپے نہیں ۔ اسفندیار،اچکزئی اور مولانا اسی سازشی سیاست کی گود میں پلے ہیں ۔ انکے قلوب میں زہر بھر ا ہے ۔ ریاست کا پنجہ کسی مصلحت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

بھارت کی بے بس اقلیتیں

خلاف ہرزہ سرائی کی مہم مزید تیز کر دی ہے اور اس کے جنرل سیکرٹری پروین تو گاڈیہ نے مسلمانوں کی ایک قدیمی درسگاہ دارلعلوم دیوبند اور تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر اور اس کے بعد بھی بھارت کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکانے میں یہ تنظیم ہمیشہ آگے رہی ہے ۔ اس تنظیم نے ہندووَں پرزور دیا ہے کہ وہ اسلامی دہشت گردوں کے مقابلے میں بہتر بم بنا کر ان کے ذریعے بھارت میں قائم منی پاکستانوں میں تباہی پھیلائیں ۔ دیہی علاقوں میں 60 فیصد سے زائد مسلمان ایسے ہیں جن کے پاس اپنی زمین نہیں ہے جبکہ صرف ایک فیصد مسلمانوں کے پاس ہینڈ پمپ سیٹ ہے ۔ صرف3 فیصد مسلمانوں کو سبسڈی والی بجلی دی جاتی ہے ۔ صرف 2;46;1 فیصد مسلمانوں کے پاس ٹریکٹر ہے اور 0;46;3 فیصد مسلمان گروپ ہاوَسنگ سکیم کے ممبر بن پاتے ہیں ۔ تیس فیصد مسلمانوں کو سرکاری طور پر پندرہ فیصد تسلیم کیا جاتا ہے تاکہ اس تناسب سے انہیں سرکاری ملازمتیں نہ دینا پڑیں ۔ ممبئی بم دھماکوں کے بعد مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی مگر جب امریکہ نے نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیاتو بھارت بھی شیر ہوگیا اور اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگا ۔ بم دھماکوں کا سارا الزام مسلمانوں پر تھوپ دیا گیا ۔ سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ۔ مساجد، مدارس اور دینی مراکز بند کرانے کے احکامات جاری ہوگئے ۔ حد یہ کہ جو ان احکامات کی پابندی نہیں کرے گا اس کو قتل اور اس کی لڑکیوں اور بیوی کو اونچی ذات کے ہندووَں کی عیاشی کےلئے رکھ لیا جائے گا ۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی حکمرانوں نے اعلان کیا کہ 25 کروڑ مسلمان اگر بھارت میں رہناچاہتے ہیں تو انہیں ’’وندے ماترم‘‘کا گیت گانا ہوگا ورنہ وہ اپنا بوریا بستر یہاں سے گول کریں اور بھارت چھوڑ دیں ۔ حکمرانوں کی اس دھمکی سے بھارتی سیکولر ازم کا پردہ چاک ہوگیا ہے ۔ ہندو پیدا ہی مکارانہ ذہنیت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں پر روز بروز ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ خود کو زیادہ غیر محفوظ تصور کرنے لگے ۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ جس ملک میں اقلیتوں سے یہ سلوک روا رکھا جائے کہ ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا جائے ۔ سیاسی لیڈر گھٹنوں گھٹنوں رشوت اور جرائم کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہوں ، فوج ملک کی حفاظت کرنے کی بجائے چوروں ، سمگلروں اور ملک دشمن عناصر سے ملی بھگت میں مصروف ہو تو ایسے ملک کو کیا کہا جائے گا;238; کیایہ سیکولر ملک ہے ;238;مسائل میں گھرے ہوئے بھارت کو کسی صورت بھی ایک کامیاب ریاست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ یہ صرف بھارتی میڈیا اور فلموں کا کمال ہے کہ بھارت کا میک اپ شدہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ اصل بھارت کیا ہے ٗ بھارت کے رہنے والے مسلمان اور دیگر اقلیتیں بخوبی جانتی ہیں ۔ بھارت میں نہ مسلمانوں کی جان و مال محفوظ ہے ،نہ عیسائیوں کی اور سب سے بڑھ کر کم ذات کے ہندو مرد وخواتین بھی اونچی ذات کے ہندووَں کے تشدد اور درندگی کا نشانہ بنتے ہیں ۔

Google Analytics Alternative