کالم

مودی حکومت کے شیطانی ہتھکنڈے مہذب دنیا کےلئے چیلنج

وزیر اعظم عمران خان نے بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں نیشنل رجسٹر آف سٹیزن (این آر سی)جیسے کالے قانون کی ;200;ڑ میں 19لاکھ افراد جن میں زیادہ تر مسلمان شامل ہیں کو شہریت سے محروم کرنے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہندو ستانی اور عالمی میڈیا میں مودی سرکار کے ہاتھوں مسلمانوں کی نسل کشی کی اطلاعات سے دنیا بھر میں خطرے کی گھنٹیاں بج اٹھنی چاہئیں ‘ ۔ وزیراعظم عمران خان کا یہ ردعمل بھارت میں جبر کی زندگی بسر کرنے والے 25کروڑ سے زائدمسلمانوں کی ;200;واز ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت میں اقلیتوں کے حوالے سے اختیار کردہ گھناوَنی پالیسیوں اور اقدامات کی وجہ سے اسکا سیکولر چہرہ اگرچہ پہلے ہی داغدار تھا مگر مودی کے وزیراعظم بننے کے بعد رہی سہی کسر بھی نکل گئی ہے ۔ انتہاپسند ;200;رایس ایس کی سوچ کے پیروکار مودی نے اقتدار میں قدم جماتے ہی اقلیتوں خصوصاً مسلم کش اقدامات سے ;200;گے بڑھنا شروع کیا اور پھر دوسری بار وزارت عظمیٰ کا موقع ملتے ہی کشمیر کی اصل شناخت پر وہ حملہ کیا جس سے جہاں بھارتی ;200;ئین کی دھجیاں اڑ گئی ہیں وہاں بھارت کی تمام ریاستوں کی اقلیتوں کا مستقبل بھی مکمل طور پر غیر محفوظ ہو گیا ہے ۔ بھارت کا ;200;ئین اسے سیکولر شناخت دیتا ہے مگر اب یہ دعویٰ قصہ پارینہ لگتا ہے ۔ دنیا بھر کے ذی ہوش ناقدین یہ بات اچھی طرح محسوس کر رہے ہیں کہ نریندر مودی نے کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والا آرٹیکل 370 ختم کر کے بھارت کی سیکولر حیثیت کو شدید نقصان پہنچایا ہے ۔ اسطرح کا اظہار گزشتہ روز امریکی ڈیموکریٹ رکنِ کانگریس اینڈی لیون نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ پر اپنا مضمون شیئر کرتے ہوئے کہا کہ 2005ء میں بش انتظامیہ نے گجرات میں ہونے والے مسلم کش فسادات نہ روکنے پر نریندر مودی جو اس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے کے امریکہ داخلے پر پابندی عائد کردی تھی ۔ انہوں نے لکھا کہ نریندر مودی نے آرٹیکل 370ختم کر کے بھارت کی سیکولر حیثیت کو شدید خطرات سے دوچار کردیا ہے ۔ امریکی سفارتی حلقے بھی اس حوالے سے تنقید کرتے نظر ;200;تے ہیں انکا کہنا ہے کہ نریندر مودی اپنی مذہبی عقیدت سے متاثر ہوتے ہوئے بھارت کو سیکولر سے ہندو ریاست بنا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف وہ اس حوالے سے مطمئن ہیں کہ حالیہ کشیدہ صورتحال میں بھی پاکستان میں مذہبی عنصر کو ;200;گے نہیں ;200;نے دیا جا رہا ۔ واشنگٹن میں سفارت کاروں نے اس جانب نشاندہی کی ہے کہ جہاں پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر بھارتی اقدام کےخلاف احتجاج کیا جارہا ہے وہیں اس احتجاج کا مرکز مذہبی تنظی میں نہیں ہیں ۔ اس احتجاج کے دوران نہ تو کوئی مذہبی بیان بازی ہوئی نہ جہاد کی کال دی گئی اور نہ ہی اسلحے کی نمائش کی گئی جبکہ بی جے پی حکومت نے پورے بھارت میں مسلمانوں کو عوامی سطح پر پاکستان کی مذمت کروا کر اپنی وفاداری ثابت کرنے کےلئے مجبور کیا اور انکے بیان سوشل میڈیا پر چلائے گئے ہیں ۔ یہ ہے وہ واضح فرق جو دنیا محسوس کر رہی ہے ۔ اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عمر کوٹ میں ہندو برادری کے کشمیری عوام سے یکجہتی اور بھارتی مظالم کےخلاف منعقدہ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا عمدہ بات کی کہ ;200;ج بھارت میں ;200;ر ایس ایس کی سوچ غالب ;200;چکی ہے اور مودی نے مقبوضہ کشمیر میں مساجد ویران کر دیں لیکن پاکستان میں مندر ;200;باد ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تھرپارکر اور عمر کوٹ میں بہت بڑی ہندو ;200;بادی ;200;باد ہے، مودی اور جے شنکر تم سرینگر میں مسلمانوں کے سامنے نہیں کھڑے ہو سکتے لیکن ;200;ج ہندووَں کے سامنے کھڑا ہوں ۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ;200;ج کا بھارت نہرو اور گاندھی کے سیاسی فلسفے کی نفی کر رہا ہے، فاشسٹ مودی نے کشمیری مسلمانوں کو عید کی نماز اور قربانی کی اجازت نہیں دی،جمعہ کو مقبوضہ کشمیر میں مسجدوں کوتالے لگائے گئے، مودی نے بھارت کی منتخب قیادت اور بین الاقوامی میڈیا کو بھی مقبوضہ کشمیر میں داخل ہونے نہیں دیا، لیکن انسانی حقوق کا کوئی نمائندہ ;200;زاد کشمیر ;200;نا چاہے تو ;200;سکتا ہے ۔ بلاشبہ یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ مقبوضہ کشمیر بین الاقوامی اداروں کےلئے مکمل طور پر شجر ممنوعہ ہے ۔ انسانی حقوق کی نگرانی کرنے والی تنظی میں اس امر پر تشویش ظاہر کر رہی ہیں ۔ کشمیر کے حوالے سے جاری کی گئیں حالیہ دو رپورٹس میں بھارتی حکومت کو باور کروایا گیا ہے کہ کشمیر میں اس کی ترجیح شہری آزادی کا تحفظ ہونا چاہیے ۔ اسی قسم کی ایک رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی حکومت پر زور دیا ہے کہ جموں و کشمیر میں تمام سیاسی رہنماں کو فوری طور پر رہا اور وادی میں اٹھنے والی آوازوں کو جان بوجھ کر خاموش کروانے کا سلسلہ ختم کیا جائے امریکی ادارے سی ایس آئی ایس کا کہنا ہے کہ مودی اپنے آپ کو علاقائی طاقتور شخص کے طور پر پیش کرنا چاہتا ہے اور اس طاقتور شخصیت کے اردگرد ہندو قوم پرستوں کی حمایت بھی دکھانا چاہتے ہیں ۔ اس سب کچھ کے باوجود افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہ تنظی میں محض بیان بازی اور کاغذی کارروائی سے ;200;گے نہیں بڑھ پا رہیں اور نہ انکا سرپرست ادارہ اقوام متحدہ مودی کو شٹ اپ کال دے سکا ہے ۔ اقوام متحدہ یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ کشمیر کو متنازعہ حیثیت خود اس کی اپنی قراردادوں نے دے رکھی ہے ۔ یو این سیکریٹری جنرل کبھی وقت نکال کر قرارداد ایک بار پڑھ لیں شاید انہیں احساس ہو کہ مودی نے صرف کشمیر کی الگ شناخت کو چیلنج نہیں کیا بلکہ یو این کی ساکھ کو بھی چیلنج کر ڈالا ہے ۔ یہ اندھیر نگری نہیں ہے تو کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں 28 روز سے لاک ڈاوَن ہے اور اس دوران 10 ہزار سے زائد افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے ۔ اس درندگی کو ;200;خر کسی نے توروکناہے ۔ ایکطرف جہاں مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھارت کے ظلم و جبر کا نشانہ بن رہے ہیں ،اب وہیں ;200;سام کے مسلمانوں کا جینا بھی مشکل کردیا گیا ہے ۔ ایک اور کالے قانون این آر سی کی ;200;ڑ میں ;200;سام سے 19لاکھ شہریوں کو بھارتی شہریت سے محروم کرنا اقلیت دشمنی ہے، ان میں اکثریت غریب مسلمانوں کی ہے ۔ یہ لاکھوں مسلمانوں کو بھارت سے بے دخل کرنے کی سوچی سمجھی کوشش ہے جسکی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ ماہ جولائی میں ہندو قوم پرست بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے بیان دیا تھا کہ حکومت آسام میں اپنی کوششوں کو محدود نہیں رکھے گی بلکہ سختی کی جائے گی جس پر عمل شروع ہو چکا ہے ۔ مودی حکومت کے یہ شیطانی ہتھکنڈے مہذب دنیا کے لئے چیلنج ہیں ۔

تیل کی قیمتوں میں کمی،حکومت پرا ئس کنٹرول کمیٹیوں کو بھی جگائے

وفاقی حکومت نے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کافائدہ عوام کو منتقل کرتے ہوئے ماہ ستمبر کےلئے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 5 روپے63پیسے تک کی نمایاں کمی کا اعلان کیا ہے جسکے تحت اب پٹرول کی نئی قیمت117روپے83پیسے سے کم ہوکر 113 روپے24پیسے ہوگئی ہے جبکہ لاءٹ ڈیزل ;200;ئل کی قیمت میں 5روپے63پیسے کمی کے بعد97روپے 52 پیسے سے کم ہو کر91روپے89پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے ۔ قبل ازیں حکومت نے گزشتہ ماہ اگست میں قیمتوں میں اضافہ جبکہ ماہ جولائی میں قیمتیں برقرار رکھی تھیں ۔ عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنا احسن اقدام ہے کیونکہ اس سے عوام کو کسی حد تک ریلیف کا احساس ہو گا ۔ اگرچہ یہ ریلیف صرف ٹرانسپوٹیشن سے وابستہ افراد کو ہی ہو گا مہنگائی میں کمی نہیں ;200;ئے گی تاہم اس سے یہ بات ضرور واضح ہوتی ہے کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے کےلئے ہمہ وقت تیار رہتی ہے جہاں اسے موقع ملتا ہے ۔ امید ہے کہ حکومت دوسری جانب مہنگائی کو قابو پانے کےلئے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو بھی جگائے گی جو ان دنوں خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں ۔

افغانستان میں دہشت گردی کے تربیتی کیمپ

پاکستان کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ بھارت پاکستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہے ۔ پاکستان نے بھارت کو یہ بھی واضح کردیا تھا کہ افغانستان میں ازبک و دیگر غیرملکی باشندوں کو بھارتی عسکری ٹریننگ دے رہے ہیں ۔ ماضی میں کراچی ائرپورٹ پر ازبک باشندوں کے حملے میں ملوث ہونے کے شواہد ملنے کے بعد کوئی دو رائے نہیں ہوسکتیں کہ اس حملے میں بھارت ملوث ہے ۔

بھارت کی طرف سے غیر ملکیوں کو تربیت دے کر پاکستان میں دہشت گردی کیلئے استعمال کرنے کا معاملہ کوئی نیا نہیں ہے اور کراچی ائر پورٹ پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں کے غیر ملکی ہونے کا انکشاف ہوا ہے ۔ بھارت کس طرح غیر ملکیوں کو تربیت دے کر پاکستان میں دہشت گردی کی آگ بھڑکا رہا ہے اس کا اندازہ ایک اطالوی صحافی کی چشم کْشا تحقیقات سے کیا جاسکتا ہے جو دہشت گردی کے خوفناک بھارتی پراجیکٹ کا چشم دید گواہ بھی ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ فارخور ائربیس (;70;arkhor ;65;irbase) اور آئنی ائر بیس ، تاجکستان کے قریب بھارت نے ٹریننگ کیمپ قائم کر رکھے ہیں جہاں تاجکستان اور ازبکستان کے نوجوانوں کو دہشت گردی کی تربیت دے کر پاکستان میں حملوں کے لئے بھیجا جاتاہے ۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے لوگ تاجکستان اور ازبکستان کے پسماندہ علاقوں سے نو عمر بے روزگار لوگوں کو بھرتی کرتے ہیں ۔ ان نوجوانوں کو شاندار ملازمت کا جھانسہ دیا جاتا ہے اور ان کے خاندان کو پیشگی رقوم ادا کی جاتی ہیں ۔ کیمپ میں قیام کے دوران ان نوجوانوں کو ہر طرح کی آسائشیں فراہم کی جاتی ہیں اور بھارت سے آنے والے مذہبی انسٹرکٹر دو سے تین ہفتے تک مذہبی تعلیم کے نام پر ان کے ذہنوں میں شدت پسندی ، دہشت گردی اور پاکستان سے نفرت کے خیالات بھرتے ہیں ۔

ازبک اور تاجک زبانوں میں دی جانے والی اس تعلیم میں پاکستان کو مسلمانوں کے مسائل کا ذمہ دار بتایا جاتا ہے اور ان نوجوانوں کو یہ باور کروایا جاتا ہے کہ بھارت مذہبی آزادی امن و آشتی کا گہوارہ ہے اور اسے پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں سے تباہی کا خطرہ لاحق ہے ۔ تربیت کا پہلا مرحلہ مکمل ہونے پر ان نوجوانوں سے پوچھا جاتا ہے کہ وہ پاکستان کے خلاف ’جہاد‘ کے لئے تیار ہیں یا نہیں ۔ ہاں میں جواب دینے والوں کی تنخواہ دوگنی کر دی جاتی ہے اور چار سے چھ ماہ پر مشتمل ان کی فوجی تربیت کا مرحلہ شروع کر دیا جاتا ہے ۔

جو نوجوان متذبذب ہوتے ہیں انہیں مائل کرنے کے لئے مزید تربیت کے لئے بھارت بھیج دیا جاتا ہے ۔ فوجی تربیت کے مرحلہ میں ان نوجوانوں کو آٹومیٹک ہتھیار چلانے ، دھماکہ خیز مواد تیار کرنے اور مطلوبہ جگہ پر لگانے اور گوریلا جنگ کی تربیت دی جاتی ہے ۔ اس تربیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے دوران بھارت سے نوجوان اورخوبرو دوشیزائیں کیمپ میں لائی جاتی ہیں جو کہ ان نوجوانوں پر اپنا سحر مکمل طاری کردیتی ہیں اور ان کا دل بہلاتی ہیں ۔ تربیت مکمل ہونے پر ان نوجوانوں کو ایک خصوصی دورے پر بھارت لے جایا جاتا ہے جہاں سے واپسی پر انہیں افغانستان کے راستے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں داخل کردیا جاتا ہے ۔ یہ انکشاف بھی ہوا کہ فاٹا اور بلوچستان کے نو جوانوں کو بھی تاجک اور ازبک نوجوانوں کے ساتھ تربیت میں شامل کیا جاتا ہے تاکہ وہ اپنے آپ کواکیلا محسوس نہ کریں ۔

دہشت گردی کی تربیت دینے والے یہ بھارتی کیمپ 2005ء سے مسلسل کام کر رہے ہیں اور پہلی مرتبہ بھارت کے تاجکستان میں ا ڈ ے بنانے کی خواہش پہلی مرتبہ 2002 میں سامنے آئی تھی ، گو کہ اس بات کا اعتراف حکومتی سطح پر نہیں کیا جاتا ۔

پاک فضائیہ اور جنگِ ستمبر !

بھارت کو اپنے ہوائی بیڑے پر اتنا ناز تھا جتنا بکتر بند ڈویژن پر تھا ۔ اس کے پاس طرح طرح کے طیارے تھے ۔ سب سے زیادہ بھارت کو گھمنڈ تو روس کے بنے ’’ مگ 21 لڑاکا طیاروں ‘‘ پر تھا ۔ جنہوں نے کوریا کی جنگ میں امریکی ہوائی بیڑے کے بھی چھکے چھڑا دیئے تھے ۔ بھارت کے مقابلے میں پاک فضائیہ کی حیثیت بظاہر ایک فلائنگ کلب سے زیادہ نہ تھی ۔ جس کے پاس فضا میں لڑنے کے لئے پرانی طرز کے سیبر طیارے تھے ۔ وہ بھی تعداد کے اعتبار میں بھارت کا ایک چوتھائی ۔

جنگ شروع ہوتے ہی ہر شاہباز کو سورۃ الانفال کی اس آیت کی ایک ایک نقل دے دی گئی تھی جس میں اللہ نے فرمایا ’’ اگر تم میں سے بیس آدمی ثابت قدم رہیں گے تو دو سو پر غالب آئیں گے اور اگر تم میں سے ایک سو آدمی ہوں گے تو ایک ہزار کفار پر قابو پائیں گے ، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ‘‘ مصدقہ اطلاعات کے مطابق یہ آیت ہر شاہباز کی جیب میں تھی ۔

یکم ستمبر کو چھمب جوڑیاں کی فضا میں بھارت نے اپنے ہوائی بیڑے کا جنگی مظاہرہ کیا اور کھل کر کیا ۔ اس نے چار مسٹیر اور دو کینبرا پاک فوج کی پیش قدمی روکنے کے لئے بھیجے ۔ ادھر سے صرف دو شاہبار گئے ۔ زمین و آسمان حیران تھے کہ یہ دو سیبر طیارے کتنی دیر تک فضا میں نظر آئیں گے لیکن فلک نے دیکھا ، زمین پر لڑتی دونوں فوجوں نے دیکھا کہ چار مسٹیر شاہینوں کے ہاتھوں فضا میں پھٹے اور دونوں کینبر ا ایک بھی گولی چلائے بغیر بھاگ گئے ۔

اس معرکے کا اثر پاک فوج پر نہایت خوشگوار پڑا ۔ جوانوں کے حوصلے اور بڑھ گئے ۔ دو ستمبر کو جب دشمن جوڑیاں بچانے کے لئے جم کر لڑ رہا تھا تب ایم ایم عالم اور دوسرے شاہبازوں نے بھارت کا بہت نقصان کیا ۔ تین ستمبر کو دشمن کے چھ نیٹ طیارے چھمب جوڑیا ں کے محاذ پر آئے ۔ ہمارے دو سٹار فاءٹر 104 پہنچے تو بھارتی دم دبا کر بھاگ گئے مگر ایک کو گھیر کر پسرور میں اتار لیا گیا ۔ چھ ستمبر پاک فضائیہ کے لئے کڑی آزمائش کا دن تھا ۔ دونوں ملکوں کی کھلی جنگ شروع ہو گئی تھی ۔ اب فضائیہ کے سامنے چار کام تھے ۔ دشمن کے ہوائی حملوں کو روکنا ، دشمن اڈوں پر ہوئی حملے کرنا ، پاک فوج کو مدد دینا اور گشتی پروازیں کرنا ۔

بظاہر نا ممکن تھا کہ پاک فضائیہ یہ سارے مشن ایک وقت سنبھال سکے مگر شاہبازوں کے پاس ایمان کی قوت اور حب الوطنی کا جذبہ تھا اور اللہ کا وہ فرمان ان کے حوصلے بڑھا رہا تھا جو انہوں نے جیبوں رکھا تھا ورنہ طیاروں کی تعداد تو مایوس کن تھی ۔ لاہور فوج کو پاک فضائیہ کی شدید ضرورت تھی اور وہ اس قدر جلد پہنچے جیسے پہلے ہی سے فضا میں موجود تھے ۔ امرتسر سے ہزاروں سکھوں اور ہندوءوں کاقافلہ سکوٹروں ، سائیکلوں ، کاروں ، بسوں اور پیدل بھی لاہور کو لوٹنے کے لئے چل پڑا تھا ۔ شاہینوں نے بھارتی ٹینکوں اور گاڑیوں سے فارغ ہو کر اس عجیب و غریب لٹیرے گروہ پر حملہ کیا اور لاہور کو لوٹنے کے لئے آنے والے نہ لاہور پہنچ سکے نہ واپس امرتسر جا سکے ۔

اسی روز شام سے پہلے پٹھان کوٹ پر حملہ کیا گیا جہاں چودہ طیارے تباہ کر دیئے گئے ، ایک حملہ ہلواڑہ کے ہوائی اڈے پر بھیجا گیا لیکن انڈین ایئر فورس کے ہنٹر طیاروں کا پورا غول ان پر ٹوٹ پڑا ۔ فضا میں تین اور دس کا خون ریز معرکہ ہوا جس میں سکوارڈن لیڈر سرفراز رفیقی اور فلاءٹ لیفٹیننٹ خواجہ یونس حسن شہید ہو گئے ۔ صرف فلاءٹ لیفٹیننٹ سیسل چوہدری واپس آئے لیکن ان شاہبازوں نے دشمن کے چھ ہنٹر مار لئے تھے ۔

اسی شام پاک فضائیہ کی ایک پرواز آدم پور بھیجی گئی اور تین بھارتی طیاروں کو تباہ کر آئی ۔ پھر جام نگر کے ہوائی اڈے پر بمباری شروع کر دی گئی اور یہ اڈہ ملبے کا ڈھیر بن گیا لیکن سکوارڈن لیڈر شبیر عالم صدیقی اور ان کا نیوی گیٹر سکوارڈن لیڈر اسلم قریشی واپس نہ آ سکے ۔ اگلے روز ;66;57 بمبار طیاروں نے آدم پور پر حملہ کیا اور خوب تباہی مچائی ۔ بمباروں کی ایک اور پرواز پٹھان کوٹ بھیجی گئی تا کہ وہاں کی رہی سہی کسر پوری کر آئیں ، یہی پرواز وہاں سے واپس آئی تو اپنے اڈے سے بم لے کر ہلواڑہ چلی گئی ۔

انڈین فورس پہلے ہی دن بائیس بمبار لڑاکا طیاروں سے محروم ہو گئی ۔ بھارتیوں نے کراچی اور پنڈی پر ہوائی حملے کیا مگر کسی بھی فوجی یا فضائی ٹھکانے کو نقصان نہ پہنچا سکی ۔ سات ستمبر کو انڈین ایئر فورس نے مشرقی پاکستان میں چاٹ گام ، جیسور اور کرمی ٹولہ ڈھاکہ پر راکٹ اور بم گرائے لیکن بے مقصد اور بغیر کسی نقصان کے ۔ یاد رہے کہ مشرقی پاکستان میں پاک فضائیہ کا صرف ایک سکوارڈن تھا ، جونہی بھارتی طیارے واپس گئے ۔ شاہین کلائی کنڈہ کے ہوائی اڈے پر جا جھپٹے ، بھارت نے اپنے ان لڑاکا طیاروں کو بڑے قرینے سے کھڑا کر رکھا تھا جو مشرقی پاکستان پر حملہ کر کے لوٹے تھے ۔ شاہبازوں نے ان تمام طیاروں کو زمین پر نذرِ آتش کر دیا ۔

اسی روز ہمارا ایک فلائنگ آفیسر افضال شہید ہوا اور دشمن چودہ کینبر ا اور دو ہنٹر طیاروں سے ہاتھ دھو بیٹھا ۔ سات ستمبر کو دشمن نے پاک فضائیہ کے اڈے سرگودھا کی طرف بھرپور توجہ دی اور بمباری کے لئے اپنے طیاروں کو غول در غول بھیجا ۔ ان میں سے چار مسٹر زمینی توپچیوں نے اڑا ڈالے ۔ ایک ;70;104 سے گرایا گیا اور پانچ سکوارڈن لیڈر ’’ محمد محمود عالم ‘‘ نے صرف 30 سیکنڈ کے عرصے میں گرا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا ۔ اس روز کے بعد انڈین ایئر فورس نے دن کے وقت سرگودھا پر حملہ کرنے کی کبھی جرات نہ کی ۔ پاک فضائیہ نے فاضلکا سیکٹر چوینڈہ سیالکوٹ ، جسر اور لاہور سیکٹر میں بھی بری فوج کی مدد کے لئے طیارے بھیجے جنہوں نے کئی ٹینک اور گاڑیوں تباہ کیں ۔ مقبوضہ کشمیر کے ہوائی اڈے پر بھی حملے کیے گئے جہاں تین مال بردار طیارے تباہ کیے ۔

پہلے دو دنوں میں بھارتیوں کو ساٹھ طیاروں سے محروم کر دیا گیا ۔ 8 ستمبر کو جب بھارت نے بکتر بند ڈویژن سے چوینڈہ سیالکوٹ پر حملہ کیا تو اس روز کم و بیش بیس پروازیں صرف اسی محاذ پر بھیجی گئیں جنہوں نے درختوں کی بلندیوں تک نیچے اڑ اڑ کر بھارتی ٹینک اور گاڑیوں تباہ کیں ورنہ لوہے اور آگ کے اس سیلاب کو روکنا آسان نہ تھا ۔

( جاری ہے۔۔۔ )

جنگ نہیں امن

کوئی خوابوں کی دنیا میں اگر رہنا چاہئے صرف اپنی پسند کے خواب بننے اور دیکھنے میں اپنی توانائیاں صرف کرتا رہے لاکھ کوئی اْسے سمجھائے کہ بھئی اب بس بھی کردوبہت ہوگیا خوابوں کی دنیا سے باہر نکل آوَ اپنے دشمنوں کو اپنے خوابوں کی دنیا میں زیر کرنے اْنہیں دنیا میں تنہا کردینے والے خوابوں سے اب کام نہیں چلے گا مانتے ہیں دھن راج آپ بڑے اور ہم چھوٹے سہی پھر بھی اتنا تو ہم بھی جانتے ہیں کہ خواب پھر خواب ہوتے ہیں خوابوں میں نہ جنگیں لڑی جاتی ہیں نہ ہی جیتی جاتی ہیں اور نہ مہلک جنگی ہتھیار چاہے وہ جنگی جہازہی کیوں نہ ہوں خوابوں میں کبھی نہیں بنتے 2010 سے ہمارا پڑوسی ملک بھارت اب خود اپنے ہاں جنگی جہاز بنانے کے خواب دیکھ رہا ہے;238; بھارت کے ایک وزیردفاع اے کے اینٹونی ہوا کرتے تھے نامعلوم گردوں کی شدید تکلیف میں مبتلا ہونے اور ویل چئیر پر آنے کے بعد شاید وہ اب تک ایسے خوابوں اورسرابوں کی دنیا میں کہیں کھوئے ہوئے ہوں خوابوں کی دنیا کا یہ راز اْنہوں نے2010 میں افشا کیا تھا جب اْن کا خیال تھا کہ بھارت کا جنگی جہاز بنانے کا خواب جلدہی ہورا ہوجائے گا اْن کی اس’’ٹپنی‘‘کی بازگشت جب اورں تک پہنچی تودفاعی تجزیہ نگاروں نے نفی میں اپنے سرہلاتے ہوئے ترت جواب دیا کہ بھارت کا یہ پراجیکٹ تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی کے تقاضوں پر پورا نہیں اتر سکے گا دفاعی جریدے انڈین ڈیفنس ریویو کے مدیر کیپٹن بھرت ورما کے مطابق جب تک یہ طیارہ (تیجس) بھارتی فضائیہ کو حاصل ہوگا، اس کی ٹیکنالوجی فرسودہ ہوچکی ہوگی اور یہ کہ اس پراجیکٹ پر انحصار اور اس کے انتظار سے ملک کی دفاعی تیاری بڑے پیمانے پر متاثر ہوئی ہے اورہوتی رہےگی یادرہے کہ بھارت نے1983 میں ‘‘لاءٹ کامبیٹ ایئر کرافٹ’’ (ہلکا جنگی طیارہ) بنانے کے پراجیکٹ پر کام شروع کیا تھا اور ابتدائی منصوبہ یہ تھا کہ’’تیجس‘‘ نامی طیارہ بھارتی فضائیہ میں روسی ساخت کے ‘‘مگ21’’ طیاروں کی جگہ لے گا;238;بھارتی دفاعی سائنسدانوں کے مطابق یہ دنیا کا سب سے چھوٹا ’ملٹی رول‘ جنگی طیارہ ہوگا لیکن36 سال کی کوششوں کے بعد بھی ملک کے اندر ایسا طاقتورانجن تیار نہیں کیا جاسکا جسے ایک جنگی طیارے میں کامیابی کے ساتھ استعمال کیا جا سکے تو اب معلوم ہوا کہ بھارت روسی’’مگ طیاروں ‘‘ سے اپنی جان چھڑانے کی کوششیں کب سے کرتا چلا آرہا ہے، مگرخوابوں میں ’جبھی تو کامیابی کاسرا اْسے ڈھونڈے مل نہیں رہا27 فرروری 2019 کو پلوامہ ڈرامے کے بعد پاکستانی فضائیہ نے جب ابھی نندن کے بھارتی مگ طیارے کاشکار کیا تو اْس وقت بھی بھارت ہاتھ ملتا رہ گیا کہ ہم اسی لیئے اس موے روسی ‘مگ’سے جان چھڑانا چاہ رہے تھے ۲۷ فروری ۲۰۱۹ کو جیسے پاکستان نے بھارت پائلٹ ابھی نندن کا شکار کیا تھا بالکل ویسے ہی 26 مئی 1999 کی بات ہے دنیا کی بلندترین چوٹی کارگل وبٹالہ سیکٹر پر موقع ملتے ہی جب پاکستانی فوج نے قبضہ کرلیا اپنی واضح شکست کا اندازہ لگا کر بھارت فورا اپنی فضائی فوجی طیارے لے آیا اس روز بھی27 فروری 2019 کی طرح پاکستانی لڑاکا طیارے فضا میں بھیج دئیے گئے تھے اُس موقع پر بھی پاکستان نے ایک نہیں بلکہ تین بھارتی مگ طیاروں کونشانہ بنایا دو مقبوضہ کشمیر کے علاقہ میں تباہ ہوئے جبکہ تیسرا مگ27 جسے فلائیٹ لیفٹیننٹ نچِکیتاکی اڑارہا تھا مارگرایا گیا پائلٹ نچکیتائی کو پاکستانی فضائیہ نے زندہ گرفتار کیا تھا یہ محدود جنگ اپنے عروج پر تھی اصل میں یہاں بھارت آرٹلری و انفنٹری کے بھرپور استعمال کے باوجود ناکامی کا منہ دیکھنے کے بعد اپنی فضائیہ کو مدد کےلئے لے آیا تھا دن کے گیارہ بجے پاکستانی میڈیا نے خبر بریک کی کہ پاکستان نے تین بھارتی جنگی طیارے مار گرائے ہیں دو طیاروں کے پائلٹ ہلاک ہوگئے جبکہ تیسرے طیارے کا پائلٹ زندہ حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے مذکورہ خبر فوری طورپر عالمی الیکٹرانک میڈیا کی توجہ کا مرکز بن گئی مگر بھارت نے خبر کو جھوٹ قرار دے کر مسترد کر دیا جھوٹ جو نئی دہلی کا پکا وطیرہ ہے اْس وقت بھی بھارت کا اپنے جھوٹ پر تادیر قائم رہنا ممکن نہیں تھا کیونکہ ایک تو پاکستان نے بھارتی پائلٹ کی زندہ سلامت اپنے پاس موجودگی کا بتا دیا تھا علاوہ ازیں آزاد کشمیر میں گرنے والے بھارتی طیارے کے ملبے کو بھی جلد ہی منظر عام پر لانے کا اعلان کر دیا گیا تھا پاکستان کی طرف سے اس بیان کے بعد دہلی میں بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے کابینہ کی ہنگامی میٹنگ میں عالمی سطح پر شرمندگی سے بچنے کےلئے طیاروں کی تباہی کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا میٹنگ ختم ہوئی تو وزیر دفاع جارج فریننڈس نے وزیراعظم کے مشیر برائے دفاع برجیش مشرا کے ہمراہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ بھارتی فضایہ کے تینوں طیارے بھارت کی حدود میں پرواز کر رہے تھے جب انہیں پاک فوج نے زمین سے فضا میں مار کرنےوالے میزائلوں سے نشانہ بنایا ایک طیارہ اس کی زد میں آنے کے بعد تیز رفتاری کی وجہ سے پاکستان کے زیر قبضہ علاقے میں جاگرا جبکہ دوسرے طیارہ فنی خرابی کی بدولت بھارت کی اپنی حدود میں گر کر تباہ ہوئے جن کے پائلٹس کو بچالیا گیاپاکستان کی طرف سے اس بھارتی اعلان کے بعد گرفتار ہونے والے بھارتی پائلٹ اور اس کے تباہ شدہ مگ طیارے کی تصاویر اور ویڈیو فوٹیج دنیا بھر کے میڈیا میں ریلزکردی عالمی میڈیا کے لئے یہ بڑی اہم جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی فضائیہ کے تینوں طیارے پاکستان کے ہاتھوں تباہ ہوئے اس حوالے سے جب نئی دہلی میں میڈیا نے بھارتی وزارت دفاع سے رابطہ کیا تو بھارتی فضائیہ کے اْس وقت کے نمائندے ائیر کموڈور سبھاش بھوجوانی نے جواب دیا کہ بھارتی ائیر فورس کے طیارے دشمن پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اس نے اس خبر کی سختی سے تردید کر دی کہ پاکستان کے پاس موجودہ طیارہ شکن میزائل سسٹم کی موجودگی کی بدولت بھارت کے پائلٹ مزید خطرہ مول لینے کو تیار نہیں جس وقت بھارت

میں ائیر کموڈور سبھاش کی میڈیا والوں سے گفتگو جاری تھی تو اس وقت اطلاع آئی کہ پاکستان نے گرفتار شدہ بھارتی پائلٹ کو اسلام آباد میں بھارتی سفارت خانے کے حوالے کر دیا ہے ان حقائق کے بعد بھارت اپنی فضائیہ، بحریہ و بری فوج کےلئے جس قدر جی چاہے جنگی مشقوں کا اہتمام کرے اْس کے یہ اقدامات عملی جنگ کا متبادل نہیں ہو سکتے اپنے قارئین کی یاد دہانی کے لئے چند سطورکہ بھارت اور پاکستان کے درمیان لائن ا;63;ف کنٹرول کارگل کی اونچائی پر مئی 1999 میں ایک محدود جنگ لڑی گئی تھی پاکستان بھارت اس جنگ کے حوالے سے یہ کہنا کہ بھارت کامیاب رہا ہے بالکل نرا جھوٹ ہے مگر یہ سبھی مانتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے بھارت کے تین لڑاکا جہاز مارگرائے تھے اور دنیا کہتی ہے کہ اس محدود پیمانے کی جنگ میں بھارتی فوج اپنا ذہنی توازن کھو بیٹھی تھی اور بھارت کو ایک بہت بڑا جھٹکا لگا تھا بین الا اقوامی اعداد وشمار کے اندازوں میں یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ کارگل جنگ میں بھارت کے سات سوفوجی ہلاک ہوئے کارگل جنگ کے پس منظراور پیش منظر کے تناظر میں بھارت بیس برس گزرنے کے باوجود آج تک ہیجانی کیفیت سے باہر نہیں نکل پاپا، کچھ ملکی عناصر اور بیرون ملک بیٹھے ہوئے را کے پے رول پر متحرک پاکستانی نڑاد امریکی جنہیں دانشورکہتے ہوئے اچھا معلوم نہیں دیتاجو پاکستانی سیکورٹی اداروں کو خطہ میں وجہ تنازعہ قرار دلوانے میں اپنے قلم چلارہے ہیں اور اپنی زبانوں سے زہر اگل رہے ہیں کہ’’ کارگل جنگ کس نے جیتی بھارت نے یا پاکستان;238; ‘‘ لیکن یہ حقیقت نہیں مان رہے کہ کارگل جنگ شروع ہوتے ہی بھارت نے جب اپنے پیچھے مڑکر دیکھا تو اْسے پتہ چلا کہ یہ تو بہت زیادہ نقصان ہوگیا ہے جب بھارتی نقصانات میں کمی کا کوئی راستہ اْسے دکھائی نہیں دیا تو پھر ہوا کیا وہ ہی ہوا جو تقسیم ہند کے فورا بعد بھارتی فوج جب کشمیر میں اتری تو پاکستانی فوجی بھی میدان میں ا;63;گے تھے اس پہلی پاکستان بھارت جنگ میں پاکستانی دستے سری نگر پہنچنے والے تھے کہ نہرو بھاگم بھاگ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل چلا گیا عالمی ادارے نے جنگ بندی کرادی کارگل جنگ میں بھی دوٹوک فیصلہ ہونے کے قریب تھا تو نئی دہلی ایک بار پھر عالمی پریشر کے پیچھے جاچھپی اب ذرا وہ اندازہ لگائیں جو پاکستانی فوج پرانگشت نمائیاں کرنے میں مصروف ہیں کہ کارگل جنگ کے نتاءج نے اْس وقت کے بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی جیسے بڑے قدآور سیاست دان کو بھی سمجھ آگئی تھی یہی وجوہ تھی کہ’’مین آف دی کارگل‘‘ کو بات چیت کےلئے واجپائی نے بھارت کے سرکاری دورے کی دعوت دی تھی یہ پاکستان کی جیت تھی مسئلہ کشمیر اجاگرہوا تھا یہی نہیں ہوا بلکہ آگرہ سمٹ میں مشرقی پاکستان میں ‘مکتی باہنی’ کی بدمعاشی کی بازگشت بھی دنیا نے سنی، جنگیں مسائل کا حل نہیں ہوتیں جنگوں کے تھمنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ مسائل اتنے گھمبیراور اتنے سنگین ہیں ;238;جی ہاں ، بھارت کو پاکستان کے ساتھ اپنے تنازعات بشمول مسئلہ کشمیرکو طے کرنے کےلئے اب بڑے پن کا مظاہرہ کرنا ہوگا اس خطہ کی ترقی اورخوشحالی کےلئے اور انسانی فلاح وبہبود کے بنیادی مسائل کو فی الفور حل کرنے کےلئے اس کے علاوہ اب اور کوئی چارہ نہیں ہے ۔

حضرت عمر فاروق ۔ ۔ ۔ ۔ !

سرور کائنات ﷺ نے اللہ رب العزت سے دعا مانگی کہ ;34; اے پرورد گار ! عمر بن خطاب ےا عمر بن حشام (ابوجہل) کے ذرےعے اسلام کو تقوےت دے;34; ۔ اللہ رب العزت نے اپنے رسول کرےمﷺ کی دعا قبول کی اور نبوت کے چھٹے سال ماہ ذی الحجہ مےں حضرت عمر ;230; نے اسلام قبول کیا ۔ اےک رواےت کے مطابق حضرت عمر بن خطاب ;230; سے قبل انتالےس(39) افراد مسلمان ہوئے تھے اور چالےسوےں آپ ;230; تھے ۔ 1 ۔ حضرت ابوبکر صدےق ;230;،2 ۔ حضرت عثمان غنی;230;،3 ۔ حضرت علی ;230;،4 ۔ حضرت زبےر;230; ،5 ۔ حضرت طلحہ ;230;،-6حضرت سعد ،7ََّّّّّّّّ ۔ عبدالرحمن ، 8ّ ۔ حضرت سعےد، 9 ۔ حضرت ابو عبےدہ،10 ۔ حضرت حمزہ بن عبدالمطلب ،11 ۔ حضرت عبےد بن الحارث ،12 ۔ حضرت جعفر بن ابی طالب ،13 ۔

حضرت مصعب بن عمےر;230;، 14 ۔ حضرت عبداللہ بن مسعود;230;،15 ۔ حضرت عےاش بن ابی ربےعہ،16 ۔ حضرت ابوذر;230;،17 ۔ حضرت ابو سلمہ

بن عبدالاسد،18 ۔ حضرت عثمان بن مظسون ،19 ۔ حضرت زےد بن حارثہ20 ۔ حضرت بلال بن رباح ،21 ۔ حضرت خباب بن الارت ، 22 ۔ حضرت اعتداد ،23 ۔ حضرت صہےب ، 24 ۔ حضرت عمار،25 ۔ حضرت عامربن فہےرہ،26 ۔ حضرت عمر بن عنبہ ، 27 ۔ حضرت نعےم بن عبداللہ، 28 ۔ حضرت انحام، 29 ۔ حضرت حاطب بن الحارث،30 ۔ حضرت خالد بن سعےد بن العاص ،31 ۔ خالد بن الکبر، 32 ۔ حضرت عبدالرحمن بن حجش ،33 ۔ حضرت ابو احمد بن حجش ،34 ۔ حضرت عامر بن بکر،35 ۔ حضرت عتبہ بن غزوان ،36 ۔ حضرت الارقم بن ابی الارقم ،37 ۔ حضرت واقد بن عبداللہ،38 ۔ حضرت عامربن ربےعہ ، 39 ۔ حضرت اسائب بن مظعون اور 40 ۔ حضرت عمر بن خطاب ;230; ۔

حضرت عمر ;230; کے قبول اسلام کے بعد مسلمانوں نے کھلے عام نماز پڑھنا شروع کی، اس سے قبل وہ چھپ کر نماز پڑھتے تھے ۔ آپ ;230; تمام معرکوں اور جنگوں مےں رسول پاک ﷺ کے ساتھ رہے ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے آپ;230; کو فاروق کا خطاب دےا تھا ۔ سرور کونےن ﷺ نے آپ ;230; کو دنےوی زندگی ہی مےں جنت کی بشارت بھی دے دی تھی ۔ آپ;230; کے بارے مےں حضور اکرم ﷺ نے فرماےا کہ ;34; جس راستے سے عمر ;230; گذرتا ہے، شےطان وہ راستہ چھوڑدےتا ہے ۔ ;34; اسی طرح اےک اور مقام پر رسول اللہ ﷺ نے فرماےا کہ;34; مےرے آسمانوں پر دو وزےر ہےں ،جبرائےل اور مےکائےل اور زمےن پر دو وزےر ابوبکر;230; اور عمر ;230;ہےں ۔ ;34;

جب آپ;230; نے خلافت کا قلم دان سنبھالا تو آپ نے کئی اصلاحات نافذ کےں ۔ ان مےں سے اسلامی کےلنڈر،عدالتی نظام،ڈاک کا نظام، سرکاری خزانے کا نظام سمےت متعدد اصلاحات شامل ہےں ۔ حضرت عمرفاروق ;230; کی بےوی فرماےا کرتی تھی کہ حضرت عمر;230; بستر پر سونے کے لئے لےٹتے تو نےند ہی اڑ جاتی تھی اور بےٹھ کر رونا شروع کردےتے تھے ۔ مےں سبب درےافت کرتی تھی تو فرماتے تھے کہ ;34; مجھے محمد ﷺ کی امت کی خلافت ملی ہوئی ہے ۔ ان مےں مسکےن بھی ہےں اور ضعےف بھی ہےں ، مجھے ڈر لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے ان سب کے بارے مےں پوچھےں گے ۔ مجھ سے کوتاہی ہوئی تو مےں اللہ تعالیٰ اور اللہ کے رسول ﷺ کو کےا جواب دوں گا ۔

حضرت عمر فاروق ;230; فرماتے تھے کہ;34;اگر دجلہ کے کنارے اےک کتا بھی بھوک و پےاس سے مر جائے تو مےں عمر اللہ تعالیٰ کو جواب دے ہونگا ۔ ;34; آپ ;230; ستائےس ذی الحجہ کومسجد نبوی مےں فجر کی نماز پڑھارہے تھے کہ عےن حالت نماز مےں اےک مجوسی ابولولو فےروز نے خنجر کے پے در پے وار کرکے شدےد زخمی کےا ۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف ;230; آگے بڑھ کر نماز مکمل کرائی ۔ آپ ;230; کو نماز کے بعد گھر لائے گئے اور اسی حالت مےں گھرمےں نماز ادا کی ۔ حضرت عمر فاروق ;230; ےکم محرم الحرام تےئس ہجری کوزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش فرمائی ۔

اےک غےر مسلم نے کہا تھا کہ اگر حضرت عمر فاروق ;230; کی حکومت دس سال مزےد رہتی تو تمام دنےا مےں اسلامی حکومت ہوتی ۔ آپ ;230; کا نتقال ہوا تو آپ کی سلطنت کے دور دراز علاقے کا اےک چرواہا بھاگتا ہوا آےا اور چےخ وپکارشروع کی کہ لوگو! حضرت عمر فارو ق;230; کا ا نتقال ہوگےا ۔ لوگوں نے حےرت سے پوچھا کہ تم مدےنہ سے ہزاروں مےل دور جنگل مےں ہو ، تمےں کےسے علم ہوا ;238; چروانے نے کہا کہ جب تک حضرت عمر فاروق ;230; زندہ رہے تو مےری بھےڑےں جنگل مےں بے خوف چرتی تھےں اورکوئی درندہ ان کی طرف آنکھ اٹھا کر نہےں دےکھتا تھا لےکن آج پہلی باراےک بھےڑےا نے مےرے بھےڑوں پر حملہ کےا اور بھےڑ کا بچہ اٹھا کر لے گےا ۔ مےں نے بھےڑےا کی جرات سے جان لےا کہ آج دنےا مےں حضرت عمر فاروق ;230; موجود نہےں ہےں ۔ آپ;230; کا دورِ خلافت اےک سنہرا دور تھا جس مےں اسلامی رےاست کی سرحدوں مےں خاصا اضافہ ہوا تھا ۔ اسلام کی کرنےں دنےا کے چاروں طرف پھےل گئی تھےں ۔ آپ ;230; کا دور خلافت مثالی دور تھا ۔

بھارت کو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی اپیل پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے پوری قوم سڑکوں پرنکل آئی اور بھرپور بے مثال یکجہتی کا اظہار کیا، وزیراعظم نے اس موقع پر مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو سبق سکھانے کا وقت آگیا ہے، کشمیری مسلمان نہ ہوتے تو دنیا ان کے ساتھ کھڑی ہوتی، یہ آخری پتہ کھیل گیا ہے اب کشمیر آزاد ہوگا، ہم جنگ کیلئے تیار ہیں ، فوج بھی تیار ہے، جنرل اسمبلی میں سب کو بتاءوں گا کہ دو ایٹمی قوتیں آمنے سامنے ہیں ، نقصان ہوا تو پوری دنیا کا ہوگا ۔ ہر فورم پر کشمیریوں کے حقوق کی جنگ لڑوں گا، بھارت نے آزاد کشمیر میں کوئی حرکت کی تو بھرپور جواب دیا جائے گا،عالمی برادری تجارتی مفادات سے ماورا ہوکر سوچے، جب بھی مسلمانوں پر ظلم ہوتا ہے تو اقوام متحدہ جیسے ادارے خاموش ہو جاتے ہیں نہ ہی بین الاقوامی برادری اس حوالے سے کوئی قدم اٹھاتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ہٹانے کی مہم شروع کریں گے، دنیا کی خاموشی پر افسوس ہے،80لاکھ کشمیری چار ہفتے سے کرفیو میں بند ہیں ، جب تک کشمیریوں کو آزادی نہیں ملتی پاکستان کی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے، ہ میں سمجھنا ہے کہ آج ہندوستان میں کس طرح کی حکومت ہے جو انسانوں پر ایسا ظلم کررہی ہے، ان کے سمجھنے کیلئے آر ایس ایس کی فلاسفی کا نظریہ سمجھنا پڑے گا، آر ایس ایس میں مسلمانوں کیخلاف نفرت پائی جاتی ہے وہ سمجھتی ہے کہ ہندو سب سے زیادہ اعلیٰ ہے ، جس طرح نازی پارٹی نے جرمنی پر قبضہ کیا اسی طرح آر ایس ایس کا نظریہ ہندوستان پر قبضہ کربیٹھا ہے ۔ دنیا دیکھ رہی ہے کشمیر میں کیا ہورہا ہے ۔ عمران خان نے وعدہ کیا جب تک کشمیر آزاد نہیں ہوتا ہر فورم پر ان کی آزادی کی جنگ لڑوں گا ۔ نیز انہوں نے نیو یارک ٹائمز میں ایک کالم بھی لکھا جس میں بتایا کہ کشمیریوں پر کس طرح سے ظلم ہورہا ہے، آر ایس ایس کا نظریہ مسیحی برادری کیلئے بھی برا ہے، ان پر بھی ظلم و ستم کیا جارہا ہے، اعتدال پسندوں کیلئے ہندوستان عذاب بن چکا ہے ۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی حکومت نے نہرو کی فلاسفی پر عمل نہیں کیا، آر ایس ایس والوں نے گاندھی کو قتل کیا تھا یہ لوگ صرف ہندو راج کو مانتے ہیں ۔ ہم نے عالمی رہنماءوں کو بتایا کہ آج دنیا مود کی فاشسٹ اور نسل پرست حکومت کے سامنے کشمیریوں کیلئے کھڑی نہیں ہوگی اور اس کا اثر ساری دنیا پر جائے گا اور یہ بات یہاں نہیں رکے گی ۔ ہ میں یہ بھی علم ہے کہ بھارت کی کوششیں ہیں کہ دنیا سے کشمیر کی نظر ہٹائی جائے ۔ اس وجہ سے دنیا کو بتارہے ہیں کہ وہ کشمیر کیلئے کچھ نہ کچھ کریں ۔ مودی کو صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ اینٹ کا جواب پتھرسے دیں گے ، ہماری فوج تیار ہے مودی جو تکبر میں کر بیٹھا ہے یہ آخری پتہ کھیل گیا ہے اس کے بعد کشمیر آزاد ہوگا ۔ عمران خان نے مقبوضہ کشمیر میں قتل عام کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اگر دنیا میں کشمیر اور کشمیری عوام پر بھارتی یلغار روکنے کیلئے کچھ نہ کیا تو دو جوہری ریاستوں کے درمیان ممکنہ براہ راست فوجی محاذ آرائی سے پوری دنیا کا امن و امان تہہ و بالا ہو جائے گا ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کے ناجائز الحاق کا فیصلہ واپس لینے کرفیو کے خاتمے اور اپنی افواج کو بیرکوں میں واپس بھیجنے کے بعد ہی مذاکرات شروع ہوسکتے ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان کی یہ بات بالکل درست ہے کیونکہ ان اقدامات کی موجودگی میں بھارت کے ساتھ کسی قسم کی بات چیت کا سوال ہی نہیں پیدا ہوسکتا ۔ وہ آئے دن کشمیریوں پر ظلم و ستم بڑھاتا جارہا ہے، ماءوں بہنوں کی عزتیں مزید غیر محفوظ ہوگئی ہیں ، ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے ۔ ان کا نہیں معلوم کہ وہ اس وقت کہاں پر ہیں ،عمران خان نے اپنے کالم میں مزید لکھا کہ بھارتی وزیر دفاع نے ڈھکے چھپے الفاظ میں پاکستان کو ایٹمی حملے کی دھمکی دے دی ہے ۔ کیونکہ مودی کے توسیع پسندانہ عزائم ہیں جیسا کہ بتایا جاچکا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہے اسی وجہ سے اس نے آسام میں لاکھوں مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے محروم کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا ہے ۔ آسام سے ممکنہ احتجاج سے نمٹنے کیلئے سیکورٹی سخت اور 60ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹیوں پر تعینات کردئیے گئے ہیں اس کے علاوہ 19ہزار فوجی اہلکار بھی آسام پہنچا دئیے گئے ہیں ۔ مودی سرکار اسی مشق کو مغربی بنگال کی سرحدی ریاستوں میں بھی دہرائے گی ۔ ادھر دوسری جانب بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے نکسل علیحدگی پسندوں نے کشمیریوں کی حمایت کا اعلان کردیا ہے ۔ عالمی میڈیا نے بھی مودی کی تمام تر چالاکیوں کا پردہ چاک کردیا ۔ بی بی سی، واشنگٹن ٹائم، وائس آف امریکہ، نیو یارک ٹائمز اور سی این این سمیت کئی دیگر عالمی خبر رساں ادارے وادی میں بھارتی ظلم و ستم کیخلاف واویلا مچا رہے ہیں اور مودی جو بھی الاپ رہا ہے اسے جھوٹا قرار دیا جارہا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا نے واضح کیا کہ بھارتی فورسز گھروں میں گھس کر کشمیریوں کو گرفتار کررہی ہے انہیں تشدد کا بدترین نشانہ بنایا جاتا ہے ، بجلی کے جھٹکے دئیے جاتے ہیں ، الٹا لٹکا دیا جاتا ہے اور کشمیریوں کوزندہ بھی جلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں ۔ کیونکہ مودی فاشسٹ ہٹلر نظریے کا حامی ہے جس طرح اس نے لاکھوں یہودیوں کو زندہ گیس کے چیمبر میں جلا دیا تھا اور پھر ہولوکاسٹ رونما ہوا اسی طرح مودی بھی مقبوضہ وادی کے کشمیریوں کو زندہ جلانے کے درپے ہے ۔ یہی کام وہ آسام اور بنگلہ دیش کی مغربی سرحدوں پر بھی کرے گا ۔ نامعلوم دنیا کس لمحے کا انتظار کررہی ہے ۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ اشاعت میں ایک معصوم کشمیری بچے کی کہانی شاءع کی جس میں معصوم بچے کو قابض بھارتی فورسز نے حراست میں لے لیا اور اس پر ظلم و ستم کرنے کی دل دہلا دینے والی تصاویر بھی اپنے اخبار میں شاءع کی ۔ اسی طرح ماں سے چھینے جانے والے13سالہ نوجوان کی دلخراش کہانی بھی شاءع کی ۔ دنیا کیلئے اب ایسی کونسی ایسی گنجائش رہ گئی ہے کہ وہ آواز نہیں اٹھارہی ۔ وقت تقاضا کررہا ہے کہ مودی کو لگام ڈالی جائے ۔ ادھر چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ قوم نے کشمیر آور کے دوران اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ جس یکجہتی کا اظہار کیا وہ دنیا کیلئے ایک نہایت مضبوط پیغام ہے ۔ انہوں نے گوجرانوالہ کور ہیڈ کوارٹرز کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا ۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق آرمی چیف کو کور کی آپریشنل تیاریوں کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی ۔ چیف آف آرمی سٹاف کا بیان بالکل درست ہے جس میں انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر بگڑتی ہوئی صورتحال خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے ۔ دنیا کو حالات سمجھ کر فی الفور ایکشن لینا چاہیے ۔

ماڈل کورٹس نے عدالتی نظام میں جان ڈال دی

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ماڈل کورٹس نے آئین کے آرٹیکل 37;68; کے مطابق تیز تر اور سستے انصاف کے تصور کو عملی جامہ پہنایا ہے ۔ سستے انصاف کے خواب کو حقیقت میں بدل دیا ہے ۔ سائلین اب جلد انصاف حاصل کررہے ہیں ، ملک بھر میں 167 ماڈل کورٹس نے صرف پانچ ماہ میں 12584 قتل اور نارکوٹکس کے مقدمات نمٹائے جوکہ قابل تحسین ہیں ۔ چیف جسٹس نے ججز میں ایوارڈز تقسیم کیے جس میں اسلام آباد کے سیشن جج سہیل ناصر نے پاکستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ۔

پاک بھارت ایٹمی جنگ کا خدشہ

امریکی قیادت پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے اب بھی تیار ہے تاہم اس کیلئے ضروری ہے کہ دونوں فریق آمادہ ہوں محض ایک فریق کی خواہش پر ثالثی کا کردار نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا ۔ امریکا مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے ۔ اگر بھارت اپنے اقدامات سے باز نہ آیا تو پاک بھارت ایٹمی جنگ ہونے کا خدشہ ہو سکتا ہے ۔

امریکن تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا باعث بن سکتا ہے ۔ جوہری صلاحیت کے حامل پڑوسی ممالک پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت کشیدگی عروج پر ہے جس کا آغاز نئی دہلی کی جانب سے غیرقانونی طور پر کشمیر کو دی گئی خصوصی حیثیت کو آئینی طور پر ختم کرنے سے ہوا ۔ جوہری جنگ کے امکانات میں اس وقت اضافہ ہوا جب بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کھلے الفاظ میں خطے میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دی ۔ راج ناتھ نے ہتھیار استعمال کرنے کے آپشن میں کسی ملک کا نام تو نہیں لیا تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی دھمکی واضح طور پر پاکستان کے لیے تھی ۔

اگر پاکستان اور بھارت نے نیوکلیئر ہتھیاروں کا استعمال کیا تو امریکا اور جاپان کی 1945ء میں ہونے والی جنگ کے دوران جاپانی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی کی تباہی کے بعد یہ جوہری جنگ کا پہلا واقعہ ہوگا ۔ تھنک ٹینک نے اس بات کو مسترد کردیا کہ کشمیر کا مسئلہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے ۔

وزیراعظم عمران خان نے بالکل واضح طور پر کہا کہ پاک بھارت اختلافات ایٹمی جنگ سے حل کرنا خودکشی ہوگی ۔ امن کا واحد راستہ مذاکرات ہیں ۔ بھارت کشمیر میں جو کچھ کررہا ہے وہ وحشیانہ عمل ہے ۔ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی مقامی ہے ۔ بھارت مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے جھوٹا آپریشن کر سکتا ہے ۔ بھارتی میڈیا دعوے کررہا ہے کہ افغانستان سے کچھ دہشت گرد مقبوضہ وادی اور بھارتی جنوبی علاقوں میں بھی داخل ہوئے ہیں تاہم یہ دعوے مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کے ایجنڈے سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی سے توجہ ہٹانے کیلئے دہشتگردی کے جھوٹے الزامات متوقع ہیں ۔ ہم متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ دو ایٹمی قوتوں کو جنگ سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ مشترکہ خودکشی کے مترادف ہو گا ۔

وفاقی وزیر یلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ اکتوبر نومبر میں پاکستان بھارت جنگ دیکھ رہا ہوں ۔ اب جنگ ہوئی تو آخری ہوگی ۔ کشمیر کی آخری جدوجہد کا وقت آگیا ۔ کشمیریوں کے ساتھ کھڑے نہ ہوئے تو وقت ہ میں معاف نہیں کرے گا ۔ فوج نے جو 23 سال سے تیاری کی اب اس کے استعمال کا وقت آگیا ہے ۔ فاشسٹ مودی کی راہ میں صرف پاکستان رکاوٹ ہے ۔ چاہ بہار جانے کے لئے مودی گوادر کو رکاوٹ سمجھتا ہے ۔ قائداعظم نے مسلم دشمن سوچ کا پہلے ہی اندازہ لگا لیا تھا ۔ خونخوار مودی کی وجہ سے کشمیر سے بارود کی بو آرہی ہے ۔ پاک بھارت میں دس جنگیں ہوچکیں یا ہوتے رہ گئیں اب یہ آخری جنگ ہوگی ۔

بھارت نے جب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا آرٹیکل 370 منسوخ کیا ہے اس پر عالمی دباوَ بڑھتا جا رہا ہے ۔ خود بھارت کے اندر سے بھی کشمیریوں کی آزادی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے بارے میں آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ سلامتی کونسل اوردوسرے عالمی فورمز پر شکست کے بعد مودی حکومت کا لب ولہجہ انتہائی جارحانہ ہو گیا ہے ۔ بھارتی حکومت اپنی دہشت قائم رکھنے اور اپنی حیثیت منوانے کےلئے کچھ بھی کرنے کو تیار ہے چاہے وہ جوہری جنگ ہی کیوں نہ ہو ۔

وزیر اعظم عمران خان نے دنیا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو ہندو برتری کی خواہشمند انتہا پسند مودی حکومت کے ہاتھوں میں موجود بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے بارے میں سوچنا چاہئے کیونکہ وہ فسطائی اور نسل پرست ہندو برتری کی خواہشمند مودی حکومت کے کنٹرول میں ہیں ۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو نا صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر اثرانداز ہو سکتا ہے ۔ جس طرح جرمنی پر نازیوں نے قبضہ کیا تھا بالکل اسی طرح بھارت پر ہندو برتری کی خواہشمند انتہا پسند اور نسل پرست نظریات کی قائل مودی حکومت قابض ہے ۔ مودی حکومت نے 90 لاکھ کشمیریوں کو گزشتہ دو ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر میں قید کر رکھا ہے جس نے پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور اقوام متحدہ کے مبصرین حالات کا جائزہ لینے کے لیے مقبوضہ وادی میں بھیجے جا رہے ہیں ۔

ڈاکٹر عافیہ کوقید میں ۲ ستمبر کو ۰۰۰۶ دن پورے ہونےوالے ہیں

ڈاکٹر فوزیہ صاحبہ چیئر مین عافیہ موومنٹ،بہن ڈاکٹر عافیہ صاحبہ جو ۶۸ سالہ امریکی قیدی ہیں ، کی طرف سے کالم نگاروں کو ایک دکھ بھرا خط ملا ہے ۔ جس میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان سے عافیہ صاحبہ کی رہائی کی درخواست کی ہے ۔ یاد کرایا ہے کہ ۲;241; ستمبر ۹۱۰۲ء کو قید کے۰۰۰۶ دن پورے ہونے والے ہیں ۔ مظلومہ امت مسلمہ ڈاکٹر عافیہ صاحبہ کی ضعیف والدہ صاحبہ ،خود ڈاکٹر فوزیہ صاحبہ، عافیہ صاحبہ کے بچوں اور ان کے راشتہ داروں ، پورے پاکستان، بلکہ پوری دنیا میں عافیہ صاحبہ کی رہائی کے لیے اپنے اپنے طور پر کوششیں کرنے والے رضا کاروں کے غموں کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو دل میں مظلوموں کے لیے دکھ درد اور نرم گوشہ رکھتاہو ۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ نرم دل لوگوں پسند کرتاہے ۔ بے گناہ قیدی عافیہ صاحبہ کے دکھوں کے باوجود، ڈاکٹر فوزیہ صاحبہ کو سلام پیش کرتا ہوں کہ وہ عافیہ صاحبہ کے ۰۰۰۶ دن پورے ہونے پر افسوس کا اظہار تو کر ہی رہیں ہیں ۔ مگر وزیر اعظم پاکستان کی کال پر ڈی گرائنڈ میں جمعہ کے روز بارا سے ساٹھ بارا بجے تک کے پروگرام میں ، ڈاکٹر فوزیہ صاحبہ نے عافیہ موودٹ کے رضاکاروں کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل بھی کر رہی ہیں ۔ انہوں نے عافیہ موومنٹ کے رضا کاروں کو کشمیر اور پاکستان کے جھنڈوں کے ساتھ وزیر اعظم عمران خان کی کال اور دہشت گرد مودی کے ہٹلر سے زیادہ مظالم کے پروگراموں میں شریک ہونے کی اپیل کی ہے ، کہا ہے کہ وہ کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کے اظہار لیے نکل پڑھیں ۔ ساتھ ساتھ کشمیر کی مظلوم بیٹویوں کے غم اور یکجہتی کے لیے اشہار بھی جاری کیا ہے ۔ اس اشہار کے ذریعے عافیہ موومنٹ کی ڈاکٹر فوزیہ صاحبہ نے پور ملک میں عافیہ مووومنٹ کے رضاکاروں سے کہا کہ وہ پورے پاکستان میں کشمیریوں کے ساتھ جمعہ بارا سے ساڑھے بارا تک جمع ہو کر اظہار یکجہتی کریں ۔ ڈاکٹر فوزیہ نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے کشمیر کی عافیا ءوں کی عافیت کے لیے یکم ستمبر ،بروز اتوار، بوقت ۰۳ ۔ ۳ بجے سہہ پہرکشمیر کے بھائی بہنوں سے اظہار یکجہتی کے لیے مظاہرے کا اعلان بھی کیا ہے ۔ اس میں ڈاکٹر فوزیہ سمیت اور عافیہ موومنٹ کے دوسرے رہنمابھی خطاب فرمائیں گے ۔ اس پروگرام میں بھی دوست احباب سے بھر پور شرکت کی درخواست کی ہے ۔ مظلومہ امت عافیہ صاحبہ تو شیطان کبیر امریکا میں ناحق ۶۸ سال کی قید تنہائی کاٹ رہی ہیں ۔ عافیہ صاحبہ نے بچوں کی تعلیم میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہیں ۔ حکومت کے نمائندے اور بعض نامور صحافی غلط بےانی کرتے رہے ہےں کہ وہ نےوکلےئر سائنسٹ اور امرےکی شہری ہے ۔ بلکہ ڈاکٹر عافیہ صاحبہ نے leaning through ammitation مےں پی اےچ ڈی ہے ۔ وہ حافظہ قرآن ہیں ۔ اسلام کا گہرا مطالعہ کیا ہوا ہے ۔ امریکا میں لوگوں کو اسلام کے پر امن اورسلامتی والے دین کی تبلیغ کرتی رہی ہیں ۔ میں نے خود ان کا اسلام پر لیکچر کا پروگرام سنا ہے ۔ یہ کیسٹ عافیہ مووومنٹ کے پاس موجود ہو گی ۔ جو بھی اسے دیکھانا چاہے دیکھ سکتا ہے ۔ وہ امریکی شہری نہیں وہ پاکستانی شہری ہے ۔ جب ڈکٹیٹر مشرف نے اسے ڈالر کے ہوض امریکا کو فروخت کیا تھاتو اخبارات میں عافیہ صاحبہ کے خلاف ڈس انفارمینشن کی مہم بھی چلائی تھی ۔ شاید اسی وجہ سے کچھ صحافی عافیہ صاحبہ کو نیو کلیئر سائنسٹ اور امریکی شہری لکھتے رہے ۔ عافیہ صاحبہ پر امریکا میں میں بہت مظالم کیے گئے ۔ ہم اپنے گزشتہ درجنوں کالموں میں ان مظالم کا تذکرہ کر کے عوام تک پہنچانے کی اپنی سی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ دیکھا جائے تو فلسطین میں ، برما میں ،عراق میں ، افغانستان میں ، لیبیا میں ، شام میں ،اس سے قبل بوسنیا اور چیچنیا میں صلیبیوں نے مسلمان خواتین، مردوں بچوں ، بوڑھوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہیں ۔ پاکستان کے صوبہ کشمیر میں ۲۷ سال سے کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں ۔ اب تو ایک ماہ سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے ۔ اخبارات، ٹی وی، لینڈ فون، موبائل فون اور انٹر نیٹ بند ہے ۔ کچھ خبریں باہر آرہی ہیں جس میں دس ہزار سے زاہد کشمیرنوجونوں کو گرفتار کر بھارت کی جیوں میں منتقل کر یا گیا ۔ خواتین کی بے ہرمتی کی جارہی ہے ۔ بیماروں کو دوائیاں نہیں مل رہی ۔ معصوم بچے دودھ کے لیے بلک رہے ہیں ۔ جیسے ہی کرفیو میں نرمی کی جاتی ہے ۔ کشمیری باہر نکل کرگو انڈیا گو کے نعرے لگاتے ہیں ۔ قابض فوج پر پتھر برساتے ہیں ۔ ان کو بلیٹ گنز ماری جارہی ہیں ۔ ایک ہو کا عالم ہے ۔ کشمیریوں کے اجتمائی طور پر ہلاک کرنے کے لیے بھارتی فوجیوں نے شہروں بنکر بنا لیے ہیں ۔ کسی وقت بھی کشمیریوں کی نسل کشی کی جا سکتی ہے ۔ پہلے سے بھارتی آئین میں کشمیر کے لیے خصوصی دفعات۰۷۳ اور ۵۳ ۔ اے غیر آئینی طور پر ختم کر دی گئی ۔ کشمیر کاجھنڈا اُتار کر بھارت کا ترنگا لہرا دیا گیا ہے ۔

صاحبو! یہ ایک دم سے نہیں ہوا ۔ امریکا، اسرائیل اور بھارت نے گریٹ گیم کے تحت اسلامی اور ایٹمی پاکستان کو ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیراہیں ۔ پاکستان کو معاشی طور پر کمزرو کرنے کے لیے کراچی میں بھارت کے ایجنٹ الطاف کے ذریعے ۰۳ سال تک کھیل کھیلاگیا ۔ بھارت، اسرائیل اور امریکا نے پاکستان میں دہشت گردی پھیلائی ۔ کشمیر کے ساتھ بھارت میں مسلمانوں ڈرا یادھمکایا گیا ۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے مسلمانوں کو ظلم و ستم کی چکی میں پیسا اور اب بھی پیس رہا ہے ۔ جیے گاءو ماتا، جیے شری رام، جیے بھارت ماتاکے ذبردستی نعرے لگوائے جاتے ہیں ۔ کفریہ نعرے نہ لگانے والوں کو اذیتیں دے دے کر بے دردی سے ہلاک کیا جارہاہے ۔ ذبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کیاجاتا ہے ۔ پاکستان چلے جانے کے تعنے دیے جاتے ہیں ۔ نریندر داس مودی نے پہلے گجرات کے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے تین ہزار مسلمانوں کو بے قصور، اپنے متعصب پولیس سے ہلاک کروایا ۔ اس درندگی پر امریکا سمیت کئی ملکوں ے مودی کو اپنی ملکوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی ۔ بھارت کا وزیر اعظم بننے پر ۴۱۰۲ء سے سارے بھارت کو پاکستان کے خلاف جنگ پر اُکسایا ۔ بلا آخر پاکستان پرفضائی حملہ کر دیا ۔ گو کہ پاکستان نے اس کے جواب میں بھارت پر حملہ کیا بھارت نے منہ کی کھائی اور دو جہا ز بھی پاکستان نے گرائے ایک پائلٹ بھی گرفتار کیا ۔ مشرقی پاکستان میں اعلانیہ کہا کہ بھارت کی فوج نے پاکستان کے دو ٹکڑے کیے تھے ۔ بھارت کے یوم آزادی پر قوم سے کہا کہ مجھے بلوچستان اور گلگت بلتستان سے مدد کے کرنے کے لئے فون کال آ رہی ہیں ۔ اس کے مرکزی وزیر کہتے ہیں کہ پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کیے تھے اس کے مذید دس ٹکڑے کریں گے ۔ افغانستان کی قوم پرست امریکی پٹھو حکومت کے ساتھ مل کر بھارت نے پاکستان میں دہشت گردی جاری کی ہوئی ہے ۔ پاکستان کے فوج ہیڈ کواٹر،نیوی ، ایئر فورس، پولیس ہیڈ ، آئی ایس آئی ،اسپیشل فورسز، ایئر پورٹ، کرکٹ کی مہمان ٹیموں ،مسجدوں ،امام بارگاہوں ، چرچوں ،مزاروں ،ا سکولوں ،بازاروں ،پاکستان کو ۰۷ فی صد ریوینیو دینے والے کراچی شہر کو بھارت کے پالتوں دہشت گردوں نے چور چور کر دیا ۔ کونسی جگہ ہے جہاں بھارت کے دہشت گردوں نے حملہ نہیں کیا ۔ اس میں امریکا، اسرائیل اور افغانستان نے بھارت کی مدد کی ۔ بہتر سال کے ظلم کو ایک طرف رکھتے ہوئے اب نئے سرے سے پاکستان کی شہ رگ، کشمیر میں ظلم کے پہاڑتوڑے جا رہے ہیں ۔ کشمیری کی آبادی کو کم کرنے کے لیے بھارتی آئین کی خصوصی دفعہ ۰۷۳اور ۵۳ ۔ اے کوغیر آئینی طریقے سے ختم کر دیا ہے ۔ کشمیریوں کی نسل کشی کی جاری ہے ۔ پاکستان کے پہلے حکمران تو اس سارے طلم کو دیکھتے ہوئے بھی بھارت سے دوستی کی پھینگیں بڑھاتے رہے ۔ کشمیر اور ایک طرف رکھ کر آلو پایاز کی تجارت کرتے رہے ۔ کارگل کی جنگ میں بزدلی دکھائی جس سے پاکستانی فوج کا نقصان ہوا ۔ کشمیر میں ۶۲ دنوں سے کشمیر میں کرفیو لگا ہوا ہے ۔ ہزاروں کشمیری نوجوانوں کو قید کر لیا گیا ہے ۔ کرفیو کے دوران کشمیری خواتین کی نے حرمتی کی گئی ہے ۔ اخبارات ،لینڈ فو ن ، موبائل فون اور نیٹ بند ہیں ۔ جب کرفیو کھلے گا تو مذید مظالم کا پتہ لگے گا ۔ ان حالات میں پاکستان نے بھارت کے حملے کا بھر پور جواب دینے کی تیاری کی ہوئی ہے ۔ فوج اور حکومت نے اعلان کر دیا کی بھارت کی طرف سے جاریت کا ویسا ہی جواب دیا جائے جیسے ۶۲ فروری کو دیا گیا تھا ۔ پاکستان کو ڈرایا جارہا ہے کہ پاکستان کی معاشی حالت خراب ہے ۔ مگر ایسی بات نہیں بھارت کے تجزیہ کار بھی بھارت کی معاشی حالت کو خراب کہہ رہے ہیں ۔ عمران خان نے کہا ہے کہ اگربھارت نے پاکستان پر جنگ مسلط کی تو پاکستان اس کا بھر پور جواب دے گا ۔ پاکستان نے دنیا پر واضع کر دیا ہے دو ایٹمی ملکی کی جنگ سے دونوں ملک تباہ ہو جائیں گے ۔ مگر یہ بھی کہا کہ دنیا بھی اس ایٹمی جنگ کی تباہ کاریوں سے بچ نہیں سکے گی ۔ اس لیے بھارت کو اپنے اصلیت سے باہر نہیں نکلنے دیناچاہیے ۔ مسلمان قوم جہادی ہے اور ہندو قوم مایا کی بجاری ہے ۔ اگر جنگ ہوئی تو جہادی ہی فتح یاب ہونگے ۔ مایا کے بجاریوں کو شکست ہو گی ۔ ان شاء اللہ ۔ پھر کشمیر کی ہافیاءوں کے ساتھ ڈاکٹر عافیہ صدیقی صاحبہ بھی بھارت اورامریکی قید سے رہائی پائےں گی ۔ مظالم سے نجات کے لیے عمران خان کو اللہ کے بروصے پر جہادی ڈاکٹرائین پر پلائنگ کرنی چاہیے ۔ اللہ مسلمانوں کا پشتی بان ہو آمین ۔

Google Analytics Alternative