کالم

طبی بنیادوں پر سیاسی کھچڑی

اور پھر اچانک ایک دن خبر ;200;تی ہے کہ جناب نواز شریف صاحب کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک گر گئے ہیں اور ڈاکٹرز کی پوری ٹیم انکی جان بچانے کی جنگ لڑتی دکھائی دیتی ہے، پورے ملک کے بہترین ڈاکٹروں کا پینل رات دن چوبیس گھنٹے بیمار کے ارد گرد موجود رہتے ہیں ۔ سارا میڈیا لمحے لمحے کے پلیٹ لیٹس گننے میں جت جاتا ہے، لمحہ بہ لمحہ لیگی فکرمندوں کے اوپر کے سانس اوپر اور نیچے کے نیچے رہ جاتے ہیں ، میڈیا پر پوری قوم سے صحت اور درازی عمر کی دعائیں طلب کی جاتی ہیں ، منظر کشی کچھ ایسے انداز میں کرتے لیگی لیڈران میڈیا پر ;200;تے جیسے ابھی کچھ ہوا، کہ ابھی کچھ ۔ یہ دو تین ہفتے دراصل عام پاکستانیوں پر بہت بھاری گزر رہے ہیں ، ایک طرف مولوی حضرات اسلام ;200;باد کو فتح کرنے نکلے ہوئے تھے کہ ادھر نواز شریف صاحب کے پلیٹ لیٹس نے عوام کو ایک عجیب مخمصے اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ سومولانا کے زور دار تڑکے میں طبی کھچڑی اب مکمل طور پر پک کر تیار ہو چکی ہے، چھٹی والے دن عدالتیں لگ چکی ہیں ، حکومت بھی بظاہر بیک فٹ پر ;200;چکی ہے، حکومت کے اپنے سیاسی خیر خواہ ڈبل گیم کے ساتھ ساتھ وکٹ پر دونوں طرف کھیلتے نظر ;200;نا شروع ہو چکے ہیں اور کچھ برادران یوسف کی طرح سامنے ;200;نا شروع ہو چکے ہیں ، دراصل اس مخصوص صورتحال میں تو ایک دوراندیش سیاسی طبقے نے مستقبل کا بیانیہ کچھ مختلف انداز میں دیکھنا شروع کر دیا ہے، سب لوگ اپنے اپنے ۔ ۔ سی ویز ۔ ۔ ;200;پ ڈیٹ کرتے نظر ;200; رہے ہیں ،اکثر کی نظروں میں ایک خاص چمک اور منہ سے اقتدار کی رال ٹپکنا شروع ہو چکی ہے ۔ لگتا یہ ہے کہ یہ خاص سیاسی کھچڑی کسی خاص بیمار کیلئے نہیں کھانا تو اسے کوئی اور ہی چاہتا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کے پاس اس سے اچھا فیصلہ کرنا ممکن ہی نہیں تھا، لیکن دونوں طرف سے بڑی چالاکی سے سیاست بھی کھیلی جا رہی ہے، عام ;200;دمی کے ذہن میں چالیس صندوقوں کی پھر سے یاد تازہ ہو چکی ہے ۔ دونوں فریقین معاملے میں روبرو عدالت عالیہ پیش ہو ایک ایک کر اپنا اپنا کارڈ شو کر رہے ہیں ، ن لیگ اس انتہائی نازک ترین صورتحال میں بھی بھونڈی سیاست کھیل رہی ہے جسکی مثال شہباز شریف صاحب کی خالی مخولی انڈرٹیکنگ ہے جو عدالت عالیہ میں پیش کی گئی، جو غیر سنجیدہ ہی نہیں بلکہ ایک مذاق ہے جو کسی اور کے ساتھ نہیں خود اس شخص کے ساتھ ہے بقول ن لیگ جو اسوقت موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ لیکن ایک سوال یہاں یہ بھی پیدا ہو تا ہے کہ جس شخص کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے یا جسکی صحت کے ایک لمحے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، وہ کیوں مکمل خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہے، پہلے تو وہ کہتا تھا کہ کبھی باہر نہیں جاءوں گا، اب سارا زور ہی خروج پر ہی کیوں ;238; جسکی زندگی کی ایک گھنٹے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی تھی، اسکی نازک صورتحال پر دنوں اور ہفتوں کی دیر کیوں ، یہ درخواستوں ،جواب درخواستوں کا کھیل کیسا;238;عام ;200;دمی سمجھ نہیں پا رہا کہ سچ کہاں اور جھوٹ کیا ہے، یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے;238; عام ;200;دمی تو یہ کہتا ہے اگر واقعی زندگی اور موت کا معاملہ ہے تو پھر جب حکومت نے فراخدلی سے ۔ ای سی ایل ۔ سے نام نکال ہی دیا ہے تو اگر من میں سچ ہے تو پھر سات ارب کی گارنٹی نہیں اپنے محبوب قائد پر سات سو ارب بھی وارتے ہیں تو کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ۔ عدالت بھی عالیہ، درخواست گزار بھی اعلیٰ، لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں شاید ہی کبھی عدالت ہفتہ کو لگی ہو، میرا خیال ہے کہ فیصلہ جو بھی ہوا ہے، اس میں حکومت کی کوئی ہار نہیں ہے، حکومت نے اپنے کارڈز نہایت ہی عمدہ ترتیب سے کھیلے، یہ وہ بہترین حکمت عملی ہے جو نہ صرف حکومت کو ہر طرح کی تنقید سے محفوظ رکھے گی بلکہ یقینی دوسرے فریق کیلئے سیاسی طور پر انتہائی خطرناک بلکہ مستقبل کی سیاست میں بڑی مہلک اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔

جدید تعلیم ،اقدار اور ہمار ا مستقبل

اکبر الہ آبادی نے مغربی تعلیم اور تہذیب کو ہدف تنقید بنایا تھا ۔ جبکہ سرسید احمد خان نے اس کے متضاد ، سائنسی علوم اور مغربی تعلیم کی حمایت کی تھی ۔ انہوں نے آکسفورڈ اور کیمبرج کے طرز پر ہندوستان میں علی گڑھ یونیورسٹی کی بنیاد رکھی ۔ ان دونوں مشاہیر کے افکار جدید تعلیم کے حوالے سے آج اپنے اپنے نتاءج کے مطابق ہمارے سماج میں ۔ ابتر حالات سے دو چارہیں ۔ اکبر الہ آبادی کا اندیشہ یہ تھا ۔ کہ اس ’’الحادی‘‘ تصور تعلیم سے مسلمانوں کی تہذیب اور ثقافت تقلیدی ڈگر پر چل پڑے کی ۔ اور وہی ہوا ۔ شروع شروع میں علماء نے بھی بقول ان کے اس بد نہاد ’’ کالج سسٹم‘‘ کے خلاف آواز بلند کی ۔ اور شدت سے مزاحمت کی ۔ علماء چونکہ مسلک اور فرقہی عقائد میں مبتلا تھے وہ ناکام ہوئے ۔ ان کے پاس جدید علوم کی متبادل ایساکوئی نظام نہ تھا ۔ جو عام مسلمانوں کی تربیت کے ساتھ ساتھ تعلیم کا اہتمام کرسکتے ۔ یہ مسالک ہزارسالہ قدیم سلیبس کے ذریعے ’’خد ا پرستی‘‘ ہی کی تعلم دیتے جارہے ہیں ۔ لہٰذا ان کے تصورات ، خیالات اور تعلیمی رویے ۔ جدید عہد کے تقاضے پورے کرنے کے اہل نہ تھے ۔ لہٰذا آج بھی پاکستان میں مدرسوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔ ان اداروں میں تربیت اور تعلیم پانے والے طالب علم نہ سائنسی حقائق، نہ ٹیکنالوجی اور نہ ہی تہذیبی نشوونما کے اُصولوں سے آشنا ہیں ۔ لہذا ان کی فکری اور علمی نشوونما جمود کا شکار ہے ۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب اس کی نشوونما رُک جاہے تو وہ جدت پسندی کا قائل نہیں رہتے ۔ رفتہ رفتہ وہ سماجی ذمہ داری کو لینے سے معذور ہوجاتے ہے ۔ آج پاکستان میں تعلیمی نظام بعینہ اسی روایت کو آگے لے کے جارہا ہے ۔ جہاں اکبر الہ آبادی نے نونہالان کو مغرب تہذیبی یلغار سے محفوظ رکھنے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا ۔ سر سید احمد خان نے جدید تعلیم کے ساتھ سائنس ، قرآن اور اقدار کو ساتھ ساتھ لے کے چلنے کا اُصول وضع کیا تھا ۔ سر سید اور اکبر کے تصورات اپنے عہد کے مسلمانوں کے روہے کی نگرانی کے لیے اہم اور رہنما اُصول وضع کرتے ہیں ۔ مگر بعد ازاں ان مشاہیر کی راہنمائی سے کوئی فائدہ نہ اُٹھایاگیا ۔ پاکستان میں جدید تعلیمی مراکز بھی قائم ہیں جہاں عالمی سطح پر اُجاگر ہونے والے علوم کو مد نظر رکھتے ہوئے ۔ فنی علوم پر زیادہ توجہ دے رہ ہے ۔ اس طرز تعلیم سے اشرافیہ کے 2 تا 5 فیصد بچے مستفید ہورہے ہیں ۔ ایسے تعلیمی اداروں میں بچوں کے خاندانی پس منظر کو انکی مالی حیثیت کے لحاظ سے ان اقدارکو سلیبس بنایا جاتا ہے ۔ جس کا تعلق مغربی تہذیب سے ہوتاہے ۔ ہمارے یہ مسلمان بچے تعلیم کے فنیات سے تو آگاہ جاتے ہیں ۔ مغربی اقدار میں ملبوس ہوتے چلے جارہے ہیں ;238;مثلاً اب ان اداروں میں ’’السلام علیکم‘‘ کا کلچرمفقودہوتا جارہاہے ۔ کیونکہ اسی تہذیب سے آشنائی سے اپنے اقدار کے زریں اُصول سے دلچسپی ختم ہو چکی ہے ۔ اس کو فیشن کہتے ہیں ۔ یہ ایک خوفناک رویہ ہے ۔ تعلیمی ادارے پیسہ کمانے کے چکر میں ۔ نئی نسل کو اس الاوَ کے قریب لے آتے ہیں ۔ جہاں نہ یہ آگے جاسکیں گے اور نہ واپسی کا رستہ انکو نظر آئے گا ۔ اس وقت والدین، اساتذہ اور طالب علم نہ تعلیم اور نہ ہی تربیت کے حیات بخش اُصولوں سے واقف ہیں بلکہ دن بہ دن دلدل میں پھنستے جارہے ہیں ۔ آج جس مغر ب کی تہذیب تک رسائی حاصل کرنے کےلئے ایسے تعلیمی ادارے متحرک ہیں جو ۔ عوام کی ان آرزوں کو مارکیٹ بنارہے ہیں کہ وہ برطانیہ، امریکہ اور کینڈا جاکر اپنے شاندار مستقبل کا آغاز کریں ۔ ا س کےلئے زبان اور فنیات پر دھیان دیا جاتا ہے ۔ جب کہ ان بچوں کی تربیت خالصتاً اسی فضا کے لیے تیار کی جاتی ہے جو اک خیالی دنیا کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ عربوں نے جب کردار اور اخلاق کی نئی تہذیب پیدا کی تو انکی علمی وسعت بھی ایران، روما اور مغرب کے لئے مثال بنی تھی ۔ ان کے سامنے قرآن کے وہ اقدار رہنما اور اُصول رہنما تھے جس کے ذریعے وہ علم کو عالمی انسانیت کے مفاد کےلئے ایک نصب العین کے طور پر اپنا چکے تھے ۔ 100 سال کے اندر اندر ۔ عربوں کا دائرہ اثر وسطی یورپ اور ہندوستان تک پھیلا ۔ مسلمان سائنسدانوں نے ہر شعبہ حیات میں کمال حاصل کیا ۔ اک طرح ایک مہذب معاشرے کے طور پر دنیائے علم وادب اور اعلیٰ معیار کے اقدار کی ضمانت بن گئے ۔ مغرب سے عراق، شام اور مصر کے علمی مراکز سے فیضیاب ہونے یورپ سے آتے تھے ۔ یہاں تک کہ بو علی سینا، الرازی، فارابی اور ابن لہثم کی کتب آکسفورڈ یونیورسٹی کے نصاب کا حصہ رہے ۔ تہذیبی ارتقا اور علمی ارتقا کے حوالے سے عربوں نے یورپ میں علم کی روشنی اس قدر پھیلائی کہ بقول انگریز مفکر برفا کہتے ہیں کہ عربوں نے اپنے اقدار تہذیب اور سائنس کے ذریعے یورپ کو زندگی بخشی ۔ جابر بن حیان تو ’’کیمیا‘‘ کے موجد تھے ۔ یہ تہذیب دُنیائے علم کے صفحات پر تاریخ انسانی میں سب سے مہذب قوم بن گئی تھی ۔ 18 ویں صدی تک یورپ کی خواتین عربوں کی ثقافت کو فیشن کے طور پر استعمال کرتی تھیں اور پردے کی قائل تھیں ۔ تجارت میں عربوں کی زبان کا یہ اثر تھا کہ تمام اصطلاحات انگریزی میں ڈھل گئی مثلاً ;84;arrifیہ عربی لفظ الطریف لفظ کا ماخذ ہے ۔ مخزن ;77;agezine میں رواج پاگیا ۔ اس طرح صک کےلئے ;67;heque لفظ رواج پایا جو آج تک راءج ہے ۔ لُب لباب یہ ہے ۔ کہ علم کا انتقال قوانین فطرت کے مطابق ہوتا ہے ۔ وہ قوم جو کسی بھی سرحد سے آئے ہوئے علم کا حصول کرتی ہے ۔ اُس کا تجزیہ ۔ فنی، اخلاقی اور تہذیبی تقاضوں کے مطابق ضروری ہے ۔ اقدار کے اُصول پر سماج کےلئے ایک اور بنیادی تعلیمی رویہ ضروری ہوتا ہے ۔ ایسی تعلیم جو اپنے اقدار کی سرحد سے بے نیا ز ہوجاتے ۔ وہ بظاہر ماڈرن نظر آتی ہے ۔ تقلید پرست اوبیمار قوم بن جاتی ہے ۔ علم آج کل ;73;nforamtion اور ;68;ate کی بنیاد پر قائم ہے ۔ تحقیق یا ریسراچ کا دور دور تک اب کوئی رویہ نہیں رہا ۔ ہمارا تعلیمی نظام مدارس، سرکاری سکولز اور اس درجہ جدید انگریزی تعلیمی جو کہ بنا تحقیق کے آگے جارہی ہیں ۔ قرآن اور اسلام کے آفاقی اقدار اگر نصاب کا حصہ ہی نہیں ۔ تو مسلمان ہونے کا یہ کیا مطلب ;238; آپ قرآن کے تصورِ تعلیم کو نظر انداز کرلیں او رپھر آپ مسلمان ہونے کے دعوے پر بھی ساری زندگی گزاردیں ۔ پاکستانی نظام تعلیم طالب علموں کےلئے جہنم ثابت ہورہا ہے ۔ نہ کردار کی تربیت ہورہی ہے نہ ہی تحقیق اس رویے کی طرف دھیان دے رہے ہیں کہ آخر میں کیا رُخ اختیار کرےگا ۔ جہالت یہی ہے کہ جو سرسید احمد خان اور اکبر الہ آبادی نے ہندوستان میں جدید تعلیم کے بارے اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا ۔ وہ جذبہ محرکہ ہی نہیں ریا کہ جو دو قومی نظریہ کا تقاضہ ہے ۔ ہم مسلم ملک ضرور ہیں مگر ہماری معاشرت اسلامی نہ رہی ۔ مغربی لباس پہننے میں کوئی عار نہیں مگر یہی لباس پہن کر اپنے اسلامی اقدار کو تہ تیع کرڈالنا ایک خطرناک ڈگر پر چلنے کے مترادف ہے ۔ چین نے جدید علم ذریعے اپنے معاشرے کو جدید تر بنادیا ۔ مگر آج بھی ان کے معاشرے میں ان کے قدیم اقدار متحرک نظر آتے ہیں ۔ ہمارے مسئلہ بالکل عجیب ہے ۔ اگرچہ ہمارے پاس تعلیم اور تربیت مثالی آئین ہے ۔ مگر کیا کیجئے ہر فرد حق کی بات ضرور کرتا ہے ۔ مگر ذمہ داری کا عہد نہیں کرتا ۔ اُستاد، والدین طالب علم اور تعلیمی ادارے بچوں کو نمبر ریس میں لگاکر اقدار کی تربیت سے اپنا ذمہ اٹھا چکے ہیں ۔ اب طالب علم میں حصول تعلیم کا جذبہ ہے نہ کوئی مقصد متعین ہے ۔ اور پریشان کھڑے اپنے تاریک مستقبل کے دھانے پرکھڑے ہیں ۔ تحقیق کسی بھی علم کا وہ ارفع شعبہ ہوتا ہے جس سے مستقبل کا تعین ہوتا ہے ۔ پاکستان ایک مسلمان ملک ہے ۔ تعلیمی نظام کی اس درجہ بندی نے ، اسلامی معاشرت اور اقدار کو مٹاکر رکھ دیا ہے ۔ گھریلو اور معاشرتی نظام اس قدر بے یقینی کا شکار ہے کہ والدین ، اساتذہ طالب علموں کےلئے مستحکم اخلاقی نظام دینے میں ناکام ہوگئے ہیں ۔ ماہرین تعلیم کے اندر بھی وہ قومی جذبہ نہیں رہا کہ وہ اس پیش آمدہ نقصان کا اندازہ کر سکیں ۔ حکومتیں اب تک تعلیمی فلاح کا ڈھانچا تعمیر کرنے میں تاحال ناکام ہے ۔ یہ صورتحال اور بھی گھمبیر ہوجاتی ہے کہ وہ پاکستانی معاشرت اور 56 فیصد جوانوں کی تعلیم اور تربیت کا انتظام کیسے کرپاینگے ۔ یہ ایک قومی جرم ہے ۔ جس کی ذمہ داری اساتذہ، والدین اور حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے ۔

بھارت کو بیرونی نہیں اندرونی خطرات لاحق

حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو بیرونی نہیں اندرونی خطرات زیادہ ہیں ۔ اسی لئے سابق وزیر اعلی مقبوضہ کشمیرکہتے ہیں کہ بھارت کو چین یا پاکستان نہیں بلکہ اپنے لوگوں سے خطرہ ہے ۔ اس وقت بھارت کے اندر سرگرم کچھ گروپ ملک کو جوڑنے کی دہائی دیتے پھر رہے ہیں جبکہ اصل میں ان ہی گروپوں کی وجہ سے ملک میں تقسیم کی فضاء یا ماحول پنپ رہا ہے ۔ جوڑنے کا دم بھرنے والوں کی سرگرمیاں ملک کو توڑنے کا موجب بن سکتی ہیں ۔ بھارت کو باہر نہیں بلکہ ملک کے اندر سے خطرہ ہے ۔ ایسے لوگوں کو لگام دینے کی ضرورت ہے ۔ بھارت میں جس انداز میں ہندو انتہا پسند متحرک ہیں وہ خاصا خطرناک ہوتا جا رہا ہے ۔ حالیہ ایام میں ایسے ہندووَں نے ایک دانشور اور کٹر کمیونسٹ کو قتل کر دیا، پھر گائے کا گوشت کھانے کے شبے میں ایک شخص کو ہلاک کر دیا گیا اور ایسے دوسرے واقعات پر بھارتی معاشرت سے ہمدردی رکھنے والے شدید پریشان ہیں کیونکہ ایسے واقعات میں ملوث افراد بھارت جیسے بڑے ملک کی سماجی بنیادوں کو کھوکھلا کر رہے ہیں ۔ اِس عمل سے بھارتی اقتصادی ترقی کو شدید نقصانات کا اندیشہ لاحق ہو سکتا ہے ۔ بھارت کے انتہا پسند ہندووَں کی جانب سے رونما ہونے والے پرتشدد واقعات سے بھارتی سماج کی مختلف جہتیں خطرات سے دوچار ہیں ۔ انتہا پسند ہندو کھلے عام بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حمایت کرتے نظر آتے ہیں ۔ بھارتی وزیراعظم بھی مذہبی عدم برداشت کے معاشی ترقی پر منفی اثرات کے بارے میں آگہی رکھتے ہیں ۔ نریندر مودی نے کہا تھا کہ مذہبی منافرت پر مبنی تقسیم بھارت کی اقتصادی ترقی کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے ۔ مودی نے واضح طور پر اپنی عوام سے کہا کہ ہندووں نے غربت کے خلاف جنگ کرنی ہے یا مسلمانوں کے خلاف ۔ مودی نے بھارتی کی اجتماعی ترقی میں اتفاق و اتحاد، مذہبی ہم آہنگی، بھائی چارے اور سماجی امن کو اہم قرار دیا ۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مودی بھی منافرت کی سیڑھی پر چڑھتے ہوئے وزارتِ عظمیٰ کے منصب تک پہنچے ہیں اور اْن کے دور میں بھارت کے ہندو اپنی انتہا پسندی کا مظاہرہ ہر انداز میں کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ سارے بھارت میں عدم برداشت کو مذہب اور کلچر میں تطہیر کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے ۔ یہ رویے بھارتی معاشرتی جہتوں کے منافی ہیں ۔ انتہا پسند ہندووَں کے حملوں میں شامل افراد کا تعلق بی جے پی کی نظریاتی اساس رکھنے والے گروپ راشٹریہ سوائم سیوک سَنگھ کے علاوہ کئی دوسرے کٹر گروپ سے خیال کیا جاتا ہے ۔ جو کچھ بھارت میں ہو رہا ہے، اْس کی اخلاقی ذمہ داری ملکی لیڈر پر عائد ہوتی ہے ۔ اگر وزیراعظم ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں تو اِس کا گہرا اثر مرتب ہو گا ۔ اب تو کانگریس کا بھی کہنا ہے کہ بھارت کو مسلم تنظیموں سے زیادہ انتہا پسند ہندووَں سے خطرہ ہے ۔ ہندو انتہا پسند مسلمانوں سے مذہبی و سیاسی منافرت پیدا کرتے ہیں ۔ یہ گروپس بھارت میں مذہبی بنیادوں پر کشیدگی کی بڑی وجہ ہیں ،جس کے باعث بھارت کو مستقبل میں سنگین خطرہ ہو سکتا ہے ۔ بھارت کی کوئی ایک تہائی ریاستی حکومتوں نے مذہب کی تبدیلی یا ذبیحہ گا ئے قوانین کو غیر ہندءووں کے خلاف استعمال کیا اور تشدد کا رخ بھی مسلمانوں اور دلتوں کی طرف رہا ۔ آرایس ایس، ویشوا ہندو پر یشد اوربجرنگ دل ہندو جماعت کی حیثیت سے بھارتی پولیس اور فوج میں اپنے انتہا پسند ارکان کو بخوبی داخل کراتی رہی ہیں جبکہ وقت گزرنے کیساتھ بھارت بھر میں اِس کے تربیت یافتہ رضاکاروں کی تعداد ایک محتاط اندازے کیمطابق 10 لاکھ تک پہنچ گئی ہے ۔ ہندو انتہاپسند گروپوں نے 2017ء میں تشدد کے ذریعہ بھارت کو بھگوا ملک بنانے کی کوشش کی ۔ سرکاری اعداد وشمار میں اس بات کی نشاندہی کے باوجود کہ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں پچھلے دو برسوں میں اضافہ ہوا ہے مودی انتظامیہ نے فرقہ وارانہ تشدد کے بڑے پیمانے پر رونما ہونے والے واقعات کے متاثرین کے ساتھ انصاف کےلئے بھی کچھ نہیں کیا ۔ فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات اکثر مودی کی پارٹی کے لیڈروں کی اشتعال انگیز تقریروں کی وجہ سے پیش آئے ۔ بھارت کی انتہا پسند جماعتو ں آر ایس ایس، ویشواہندوپریشد اوربجرنگ دل کے ٹریننگ کیمپوں میں گزشتہ 20 سالوں سے ہر سال ٹریننگ کی کلاسیں منعقد کی جا رہی ہیں ۔ ٹریننگ پانے والے ہندو لڑکوں کومسلمانوں کے تئیں غصہ دلایا جاتاہے اور بندوقیں ، چاقو اور لاٹھیوں کا استعمال سکھایاجاتا ہے ۔ مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کےلئے بھارت کی کئی ریاستوں میں ایسے کیمپ منعقد کیے جا رہے ہیں جہاں مارشل آرٹ کے نام پر کراٹے وغیرہ کی تربیت بھی دی جاتی ہے ۔ جبکہ کسی بھی س دہشت گردکارروائی کے بعدچھپنے کے طریقوں کی تربیت بھی ان تربیتی کورسز میں شامل ہے ۔ آرایس ایس کی ذیلی تنظی میں ویشوا ہندو پریشد یاوی ایچ پی اور بجرنگ دل کے لیڈروں نے تو کھلے عام کہا ہے کہ بھارتی جمہوریت کو ہندو ثقافت کی بنیاد پر چلانے کی ضرورت ہے ۔ ایودھیا میں اسلحے کی تربیت لینے والے رضاکاروں کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی ۔ ادھرمقبوضہ کشمیرکے صوبہ جموں میں آرایس ایس، ویشواہندوپریشد اوربجرنگ دل جموں کے تعلیمی اداروں میں ہندووں کو ہتھیاروں کی تربیت دے رہی ہیں اس طرح انہوں نے جموں میں ایک بارپھر مسلمانوں کی نسلی صفائی کرنے کیلئے خاکے بنادیئے ہیں ۔ جموں میں مسلمانوں کو جنگلاتی اراضی چھڑانے کے نام پر بے گھر کرنے، ان کی زمینوں پر زبردستی قبضہ کرکے مندر بنانے اور انتظامیہ، عدلیہ، پولیس اور محکمہ مال میں اہم پوسٹوں پر تعینات مسلم افسروں کا تبادلہ کرنے اور ان کی جگہ آر ایس ایس ذہنیت کے لوگوں کو لانے کے بعد اب جموں صوبہ فرقہ پرست اور انتہاپسند ہندووں کی آماجگاہ بن چکا ہے ۔

پی ٹی آئی کی کورکمیٹی کے اجلاس میں وزیراعظم کے اہم فیصلے

وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر عندیادے دیا ہے کہ وہ جن وزراء کی کارکردگی ٹھیک نہیں ہوگی ان کوفارغ کردیاجائے گا، اس سلسلے میں وہ بہت جلد اعلان کریں گے، ظاہری سی بات ہے کہ ملک کو اس وقت ملک کومختلف قسم کے حالات درپیش ہیں جس کی وجہ سے حکومت کو بھی آئے دن عوام کے سامنے جوابدہی کرناپڑتی ہے جو وزراء کارکردگی دکھانے میں ناکام جارہے ہیں وہ یقینی طورپرگھرجائیں گے ملک کاسب سے بڑامسئلہ اس وقت مہنگائی کاہے ،عوام کوکسی چیز سے کوئی سروکارنہیں ، جب اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان پربات کریں گی تو پھر حکومت کو تو سبکی کاسامناکرناہی پڑے گا، جب کہ وزیراعظم کاکہنا یہ ہے کہ مصنوعی مہنگائی دکھاکرعوام کوناکام بنانے کی سازش کی جارہی ہے ہمارا یہاں کپتان سے یہ سوال بنتا ہے کہ اگر مصنوعی مہنگائی ہے تو اس کاذمہ دار کون ہے ان کے آگے بندکوباندھے گا،ذخیرہ اندوزوں کو کون پکڑے گا ان کی نشاندہی کون کرے گا اس سلسلے میں پارٹی عہدیداروں اورضلعی انتظامیہ کو ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہیں لیکن حالت یہ ہے کہ پچھہتر فیصد دکانوں پرقیمتوں کی فہرستیں ہی آویزاں ہی نہیں ہوتیں ۔ ادھروزیراعظم نے نوازشریف کے حوالے سے کہاکہ ان کی کوئی نوازشریف سے ذاتی دشمنی نہیں ہم نے انسانی ہمدردی کے تحت ان کے لئے ہرفورم پرسہولت پیدا کی، اب یہ ان پرمنحصر ہے کہ وہ کیاکرتے ہیں تاہم عدالت جو فیصلہ کرے گی اس کو ہم من وعن تسلیم کریں گے، ہماری نظر میں نوازشریف کی جان بہت عزیز ہے ۔ فضل الرحمن کے دھرنے کے حوالے سے انہوں کہاکہ اُن کے غبارے سے ہوانکل چکی ہے یہ بات حقیقت ہے کہ مولانافضل الرحمان کو فیس سیونگ چاہیے تھی اورآخرکار وہ لیکرنکل گئے ہیں چنددنوں کی بات ہے جو ملک بھر میں سڑکیں بند کی جارہی ہیں وہ بھی ختم ہو جائیں گی، تاہم جو مولانانے تقاریر کی ہیں اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کابھی عندیہ دیدیا ہے ۔ کورکمیٹی میں اہم ترین بات یہ سامنے آئی ہے کہ حکومت نے میڈیا اموردیکھنے کے لئے پانچ رکنی کمیٹی قائم کی ہے ، یہ کمیٹی ریاست مدینہ کے تصورکے مطابق تجویز پیش کرے گی نیزریاست مدینہ کے خدوخال کواجاگر کرے گی، پارلیمنٹ میں قانون سازی مزید موثر بنانے کےلئے چاررکنی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے ،کمیٹیاں بنانا اچھی بات ہے لیکن اگرماضی کوکھنگالاجائے تو کمیٹیوں کی کارکردگی کوئی تسلی بخش نہیں رہی ہے ۔ اب حکومت اتناوقت گزارچکی ہے عوام نتاءج کی طلبگار ہے لہٰذا ایسے مثبت اقدامات اٹھانے چاہئیں کہ ثمرات عوام تک پہنچ پائیں ۔ وزیراعظم کی زیرصدارت پی ٹی ;200;ئی کی کور کمیٹی کا اجلاس ہوا،اجلاس میں نواز شریف کی بیماری اور ای سی ایل میں نام کے معاملے پر تفصیلی مشاورت کی گئی، وزیراعظم نے کہا کہ نواز شریف بیمار ہیں اور ان کو بہتر علاج کیلئے باہر جانا ہے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہم نے نواز شریف کیلئے ہر موقع پر سہولت پیدا کی، ہماری نظر میں نواز شریف کی جان عزیز ہے سیاست ہوتی رہتی ہے، افسوس ہے شریف خاندان نواز شریف کے علاج کی بجائے اس پر سیاست کر رہا ہے، شیورٹی بانڈ نہ دینے کی کوئی منطق سمجھ سے بالاتر ہے، حکومت نے ان سے کون سے پیسے مانگ لئے ہیں ;238; کور کمیٹی ارکان نے موجودہ سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کیا، کور کمیٹی نے مولانا فضل الرحمن کی اداروں پر تنقید کی بھی شدید مذمت کی،اجلاس میں مولانا فضل الرحمن کی تقاریر پر قانونی چارہ جوئی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے ہوا سے 360 میگاواٹ بجلی کی پیداوار کے سپر سکس منصوبے کے معاہدے کی تقریب سے خطاب میں کہاکہ ہماری معیشت مستحکم ہوگئی ہے اور روپے کی قدر میں کسی سپورٹ کے بغیر اضافہ ہورہا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، اب ہم نے آگے بڑھنا ہے اور اپنی معیشت کو چلانا ہے تاکہ لوگوں کو روزگار ملے، جو بھی ہم کریں ہ میں دیکھنا ہے کہ عوام بہتری کیسے کرسکتے ہیں ، ہم نے پیسہ بناکر اس پر ٹیکس لگانا اور ٹیکس سے غریب طبقے کو اٹھانا ہے یہ چین کی کامیابی کا راز تھا، انہوں نے کہا ہم جب 3 مرتبہ چین گئے اور ان کے تھنک ٹینک اور وزارت سے ملے، 30 سال میں دنیا میں کبھی بھی کسی ملک میں اتنی تیزی سے ترقی نہیں کی لیکن چین نے اتنی تعداد میں لوگوں کو غربت سے نکالا ۔ کامیاب جوان پروگرام معیشت کی بہتری میں سازگار ثابت ہوگا،نئے کاروبار سے اقتصادی صورتحال میں بھی بہتری آئیگی، نوجوانوں کے درپیش روزگار کے مسائل حل کرنا حکومت کی ترجیح ہے ۔ دریں اثناء وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ایک اجلاس میں نجکاری عمل میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ، وزیرِ اعظم نے سیکرٹری نجکاری کو ہدایت کی کہ نجکاری کےلئے نشاندہی کیے جانے والے تمام اداروں کی نجکاری کو مقررہ ٹائم فریم میں مکمل کیا جائے، سیکرٹری نجکاری رضوان ملک نے نجکاری عمل پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں ان اداروں اور املاک کو شامل کیا گیا ہے جو سرکاری خزانے پرمسلسل بوجھ ہیں یا اپنی صلاحیت سے کم کارکردگی کا مظاہرہ کررہے ہیں ، اس کے ساتھ ساتھ ایسی سرکاری املاک کو بھی نجکاری عمل میں شامل کیا گیا ہے جو کہ سالہا سال سے غیر استعمال شدہ یا غیر منافع بخش ہیں ۔ نجکاری کے عمل سے ان اداروں کی کارکردگی کو بہتر کرنے میں مدد ملے گی جن کی کاکردگی عدم توجہ کے باعث گزشتہ سالہا سال سے انکی اصل استعداد سے کم رہی ہے ۔ نجکاری عمل کی جلداز جلد تکمیل سے حکومتی مالی وسائل خصوصاً نان ٹیکس ریونیو میں اضافہ ہوگا جس سے حکومت کی جانب سے عوامی فلاح وبہبود کے زیادہ منصوبے شروع کرنے اور صحت، تعلیم و دیگر سہولتوں کی عوام تک فراہمی میں آسانی پیدا ہو گی ۔ بات دیکھنے کی یہ ہے کہ نجکاری تو ضرور کی جائے لیکن جب ادارے پرائیویٹائزہوں گے توان کے ملازمین کوکیاتحفظ ملے گا، کیامزید بیروزگاری پھیلے گی کیونکہ حکومت نے پہلے ہی روزگاردینے کے جووعدے کئے تھے اُن کے اہداف ابھی تک حاصل نہیں ہوپارہے ۔

ملکی ترقی پاک فوج

کی مرہون منت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فرنٹیئر کور کے افسروں اور جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ سکیورٹی فورسز کی کوششوں کی بدولت ملک میں سماجی، معاشی ترقی کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے،اب دائمی استحکام کی منزل کی جانب سفر شروع ہے اور آپریشنز میں حاصل کیے گئے امن اور استحکام کے ذریعہ ترقیاتی عمل کو آگے بڑھایا جائے گا ۔ آرمی چیف نے سابق فاٹا اور صوبہ میں قیام امن اور استحکام امن کیلئے فرنٹئیر کور کی خدمات کی شاندار الفاظ میں تعریف کی ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فرنٹیئر کور ہیڈ کوارٹر خیبرپی کے کا دورہ کیا اور یادگار شہدا پرحاضری دی اور پھول چڑھائے ۔ آرمی چیف نے دورے کے موقع پر ایف سی میوزیم اور قلعہ کی گیلری کا دورہ کیا جنہیں عوام کےلئے کھول دیا گیا ہے ۔ انہوں نے شہدا اور ان کے خاندانوں کو خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے مادر وطن کے دفاع کیلئے عظیم قربانیاں پیش کیں ۔ اُدھر وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان ملاقات میں ملکی سکیورٹی صورتحال اور پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ملاقات میں مقبوضہ کشمیر، مغربی سرحدوں اور اندرونی سلامتی کی صورتحال پر بات چیت کی گئی ۔ وزیر اعظم نے ملکی سرحدوں کے دفاع کےلئے فوج کی مسلسل مساعی کو سراہا ۔ وزیر اعظم نے فوج کی طرف سے اندورنی سلامتی کو یقینی بنانے اور معاشی وسماجی ترقی میں مدد دینے کی بھی تعریف کی ۔ پاک فوج کی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ،دہشتگردی کےخلاف جنگ ہو، قدرتی آفات آجائیں ،امن وامان کامسئلہ ہو، سرحدوں کی حفاظت کامسئلہ ہو غرض کہ جوبھی مسائل درپیش ہوں اُن میں ہماری فوج کے جوان پیش پیش نظرآتے ہیں ۔ اس اعتبار سے اس وقت ملک میں ہونے والی ترقی بھی پاک فوج کے ہی مرہون منت ہے کیونکہ جس طرح دہشت گردو ں کی کمرتوڑی گئی ہے اس کاکریڈٹ فوج کو ہی جاتا ہے ۔ جب امن وامان قائم ہوتو لامحالہ ملک ترقی کی جانب گامزن ہوتاہے اوراس میں ہمارے جری جوانوں کا اہم کردار ہے یہ تمام تر سربراہ مرہون منت ہوتاہے اورجنرل قمرجاویدباجوہ کے اقدامات ملکی معاشی ترقی کے حوالے سے انتہائی کلیدی کرداراداکررہے ہیں ۔

کرفیو کے 104 دن، وادی چنار کے بے بس و لاچار باسی

5 اگست سے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے نافذ کیے گئے کرفیو کو سو دن مکمل ہونے پر وادی چنار کے باسی بے بسی و لاچاری کی تصویر بنے دنیا کی توجہ کے منتظر ہیں جو کہ اب تک خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے ۔ کشمیر ی عوام خود اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے سیاہ جھنڈے، بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے شاہراہوں پر نکلے کہ شایداقوام عالم میں ان کی سنی جائے مگر دنیا اور اقوام متحدہ کے کان پر جوں تک نہ رینگی ۔ احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والے ہزاروں بے گناہ نوجوان کشمیری اپنے ہی وطن میں بھارتی قید میں ہیں ۔ کرفیو کی وجہ سے وادی میں خوراک اور ادویات کی قلت ہے ۔ بچوں کو دودھ نہیں مل پارہا جو کہ منظم نسل کشی کے مترادف ہے ۔ بھارتی فوجیوں نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران ضلع گاندربل میں مزید2نوجوانوں کو شہید کردیا ہے جس سے گزشتہ دو روزکے دوران شہید ہونیوالے نوجوانوں کی تعداد بڑھ کر 4 ہوگئی ۔ 5اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت منسوخ اور اسے دو یونین علاقوں میں تقسیم کرنے کے یکطرفہ اقدام کے بعد بھارت ایک اور کھیل کھیلنے کی جسارت کر رہا ہے اور اسرائیلی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں اہم عمارتوں ، ہسپتالوں ، ہوائی اڈوں ، کرکٹ سٹیڈیم اور شاہراہوں کے نام آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈروں کے نام سے منسوب کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ اس سے قبل ان جگہوں کے نام مسلم شخصیات کے نام پر رکھے گئے تھے کیونکہ کشمیر کا علاقہ ہمیشہ سے مسلم اکثریت کا علاقہ رہا ہے ۔ اب دیکھیں کہ وادی میں شیخ محمد عبداللہ کے نام سے منسوب متعدد مقامات یا اداروں کو سردار پٹیل اور بی جے پی کے دیگر بانیوں کے نام سے منسوب کیاجا رہا ہے حالانکہ شیخ عبداللہ کی بھارت نوازی میں کبھی کوئی شک نہیں رہا مگر یہ صرف اس لئے ہو رہا ہے کہ شیخ عبداللہ مسلمان تھے ۔ بین الاقوامی کنونش سینٹر، انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز ، سرینگر پارک کرکٹ اسٹیڈیم اور انڈور اسٹیڈیم سمیت متعدد مقامات اور ادارے جو شیر کشمیر کے نام سے منسوب تھے کو اب ہندو انتہا پسند لیڈروں کے نام سے منسوب کیا جارہا ہے ۔ سرینگر جموں ہائی وے پر ساڑھے گیارہ کلو میٹر طویل چنانی ناشری سرنگ کانام بھی تبدیل کر کے اب شیاماپرساد مکھر جی سرنگ رکھا جارہا ہے ۔ بی جے پی کے ایک سینئر لیڈر نے انکشاف کیاہے کہ مقامات اور اداروں کو سردار پٹیل کے نام سے منسوب کرنا پارٹی کا دیرینہ مطالبہ تھا ۔ یہ صرف مقامات ، سڑکوں ، اداروں کے نام تبدیل کرنے کا مسئلہ نہیں بلکہ کشمیر کی صدیوں پرانی تاریخ تبدیل کی جا رہی ہے ۔ اس وقت بھارت کا یہی مسئلہ ہے کہ کسی طرح کشمیر کی تا ریخ، مسلم آبادی کی اکثریت اور کشمیر کی زمینی ہیءت تبدیل کی جائے اور اس پر اپنا قبضہ مضبوط کیا جائے ۔ اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے حریت رہنما سید علی گیلانی نے وزیراعظم عمران خان کو خط لکھا جس میں ان کا کہنا ہے کہ بھارت کشمیر کی سیاسی حیثیت ختم کرکے ہماری زمین زبردستی چھیننا چاہتا ہے ۔ بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے ۔ کشمیری خواتین کو ہراساں کرنے کا عمل جاری ہے اور عوام کو نوٹسز بھیجے جارہے ہیں کہ ان کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا جائے گا ۔ بھارت کی جانب سے غیرقانونی فیصلوں کے بعد یہاں کی عوام کو مسلسل کرفیو کا سامنا ہے تاہم کشمیری اپنی جدوجہد سے دست بردار نہیں ہوئے ۔ سید علی گیلانی نے خط میں یہ مشورہ بھی دیاکہ بھارت نے غیر قانونی اقدامات کرکے اپنی طرف سے پاکستان سے کیے گئے معاہدوں کو ختم کیا لہذا پاکستان بھی بھارت کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو ختم کرنے کا اعلان کرے ۔ پاکستان دو طرفہ معاہدوں شملہ، تاشقند اور لاہور معاہدے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرے ۔ ایل او سی پرمعاہدے کے تحت باڑ لگانے کے معاہدے کو بھی ازسرنو دیکھنے کی ضرورت ہے جب کہ حکومت پاکستان ان سارے فیصلوں کو لے کر اقوام متحدہ بھی جائے ۔ سید علی گیلانی نے خط میں عمران خان کا شکریہ بھی ادا کیا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیر کے حق میں نہ صرف بات کی بلکہ بھارتی سازشوں کو کھول کر رکھ دیا ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے توقع ظاہر کی کہ موجودہ صورتحال پر آپ سے رابطہ قومی اور ذاتی ذمے داری ہے تاہم پاکستان کی طرف سے کچھ مضبوط اور اہم فیصلوں کی ضرورت ہے ۔ کشمیریوں کی جدوجہد اور پاکستان کی بقا کے لیے یہ اہم موڑ ہے اور پاکستان کو کل جماعتی پارلیمانی میٹنگ طلب کرنی چاہیے ۔ کشمیری اس وقت پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے جنگی اقدامات کے جواب میں پاکستان کو بھی اسی سطح پر جواب دینا ہوگا ۔ مقبوضہ کشمیر کی عوام کسی بھی امکان کے لئے پوری طرح تیار ہے ۔ حریت رہنما کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ آپ کے ساتھ میرا آخری رابطہ ہو، علالت اور زائد عمری شاید دوبارہ آپ کو خط لکھنے کی اجازت نہ دے ۔ سید علی گیلانی نے ایسے ہی ایک خط میں مودی سرکار کے 5 اگست کے منصوبے بارے دنیا کے سامنے انکشاف کیا تھا ۔ بعد کے حالات نے ثابت کیا کہ ان کی تشویش بالکل درست نکلی اور بھارت نے مقبوضہ کشمیرکے حصے بخرے کر کے وادی میں خونی آپریشن شروع کر دیا ۔ علی گیلانی نے مسلم امہ کے نام پیغام میں کہا تھا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی تاریخ کا سب سے بڑا قتل عام کرنے جا رہا ہے ۔ اگر ہم شہید اور آپ سب مسلمان خاموش رہے تو اللہ تعالیٰ کو جواب دینا ہو گا ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے ۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کیسا گندہ کھیل کھیلا کہ 100 روز گزرنے باوجود ابھی تک کشمیری پابند سلاسل ہیں ۔ 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی تقسیم کے بعد بھارتی فورسز کا سرکاری و نجی عمارتوں پرقبضہ ، 3 لاکھ ہندو یاتریوں کو کشمیر سے نکل جانے کا حکم، ہوائی اڈوں پر فوجی تنصیبات کو تیار کھنا، یہ کیا تھا ۔ کشمیر پر بزور طاقت حملہ اور قبضہ کا منصوبہ ۔ آرٹیکل 370 کی منسوخی ہی بھارت کی بدنیتی تھی جو کشمیر کی موجودہ صورتحال کی بنیاد بنی اور مقبوضہ وادی ابھی تک آرٹیکل کی منسوخی اور اس کے نتیجے میں ہونے والی کشیدگی، ظلم و ستم اور جبر کو صرف اور صرف مظلوم ، نہتے کشمیری ہی جھیل رہے ہیں ۔ بھارتی سیاستدان بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بھارت کے سرکاری اور انتہا پسندسیاستدان دعویٰ کرتے ہیں کہ آرٹیکل 370آئین کی خصوصی نہیں عارضی شق تھی اور مختلف عارضی، عبوری اور خصوصی شقوں میں عارضی شق سب سے کمزور ہوتی ہے اور فیصلہ صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اس شق کو کب اور کیسے ختم کرنا ہے ۔ لیکن ایسی قانونی شق جس سے ایک علاقے کا جغرافیہ ہی تبدیل ہوجائے، وہاں صدیوں سے آباد قوم کی مذہبی ، قومی، ملی آزادی چھن جائے اور وہ شق صرف اور صرف ایک مخصوص حکمران طبقے کو فائدہ پہنچائے اور گزشتہ 72 سالوں سے اس پر احسن طریقے سے عمل درآمد ہو رہا ہو تو اس شق کی منسوخی اشرافیہ کی ذہنی آسودگی کو حاصل کرنے کی ایک سنگین کوشش ہو سکتی ہے ۔ بھارتی سرکار شاید یہ نہیں جانتی کہ بھارت کی طرف سے ایسی کوئی بھی کوشش جو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ آئینی حیثیت کو تبدیل کرے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہو گی ۔ مگر مودی سرکار کے موٹے دماغ والے کارندوں کو یہ کون سمجھائے ۔

’’تنازعات کا حل ‘‘ اور مارگلہ ڈائیلاگ !

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بھارت کی موجودہ نسل پرست حکومت سے بات چیت کا امکان بہت کم ہے، مقبوضہ کشمیر میں جاری کرفیو کو 100 سے زائد دن گزر چکے ہیں اور وہاں کی 80 لاکھ آبادی سخت اذیت میں ہے مگر مودی حکومت کشمیریوں کو طاقت کے زور پر نہیں دبا سکتی ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مودی کے موجودہ نظریات کے ساتھ وقت گزارنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے ۔ انھوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے کہا کہ ہم چین اور امریکہ سے سبق حاصل کر سکتے ہیں کیونکہ امریکہ نے جنگ پر رقم خرچ کی جبکہ چین نے انفراسٹرکچر پر محنت کی ۔ وزیراعظم عمران خان اسلام آباد پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’ مارگلا ڈائیلاگ‘‘ کے اختتامی سیشن سے خطاب کر رہے تھے ۔ مذکورہ کانفرنس کے ابتدائی سیشن سے صدر ڈاکٹر عارف علوی اور صدر آزاد جموں و کشمیر مسعود خان ، اعزاز چوہدری اور صدر اپری خان ہشام نے بھی خطاب کیا تھا ۔ مبصرین کے مطابق بھارتی حکمرانوں کا روز اول سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اکھنڈ بھارت اور رام راجیہ کے قیام کا خواب دیکھتے چلے آ رہے ہیں ۔ اپنی اسی مذموم روش کے تحت انھوں نے حیدر آباد دکن ، جونا گڑھ اور مناور کو ہڑپ کیا، سکم پر قبضہ کیا اور ان سب سے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر پر اپنا ناجائز تسلط قائم رکھنے کیلئے وہ بدترین ریاستی دہشتگردی کا خونی کھیل جاری رکھے ہوئے ہیں ، مگر مقبوضہ کشمیر کے نہتے مگر جری اور غیور عوام اپنی لازوال جدوجہد آزادی سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ۔ مقبوضہ کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جمانے کے بعد کئی برسوں تک بھارت یہ دعدہ کرتا رہا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی غرض سے حق خود ارادیت کا موقع فراہم کیا جائیگا، بلکہ اسی ضمن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اگست 1948 اور 5 جنوری 1949 کو باقاعدہ قرار دادوں کے ذریعے اس امر کا اظہار کیا تھا کہ کشمیری قوم کو استصواب رائے کا حق دیا جائیگا تا کہ وہ یہ فیصلہ کر سکیں کہ وہ بھارت کی غلامی میں رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کرنے کے خواہاں ہیں جس کے ساتھ ان کا مذہبی، ثقافتی رشتہ صدیوں سے برقرار ہے ۔ ہندوستانی حکمرانوں کی وعدہ شکنی کا تو یہ عالم ہے کہ ابتدائی برسوں میں اس وقت کے بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ایک سے زائد مرتبہ واضح طور پر اعتراف بھی کیا اور کھلے لفظوں میں اعلان بھی کہ کشمیریوں کو ہر حال میں رائے شماری کا حق دیا جائے گا مگر بھارت حکمرانوں کی کہہ مکرنیوں کی اس سے بڑی اور بدترین مثال کیا ہو گی کہ وقت گزرنے کے ساتھ پنڈت نہرو نے مقبوضہ ریاست کی بابت اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کر دیا ۔ بہرحال مذکورہ کانفرنس میں جنوبی ایشیائی خطے کو درپیش تمام مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔ کانفرنس میں علاقائی امور پر دسترس رکھنے والے دانشوروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ بھارتی حکمرانوں کی جانب سے مقبوضہ اور آزاد جموں کشمیر کا نیا نقشہ جاری کرنے کے اشتعال انگیز اقدام کی مختلف حلقوں نے بھرپور مذمت کی اور اسے مسلمہ عالمی ضوابط کی صریح خلاف ورزی قرار دیا گیا ۔ اس صورتحال کا تذکرہ کرتے سنجیدہ حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ 5 اگست کو جس طرح پوری کشمیری قوم پر دہشت گردی کا قہر برپا کیا گیا، وہ سلسلہ بتدریج نسل کشی کے حقیقی خدشے کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ مگر اصل توجہ طلب امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ آرٹیکل 370 کے خاتمے تک محدود رہے گا یا آگے بھی بڑھے گا ۔ راقم کی رائے میں ;828383; نے اپنے اس کام کے ذریعے محض پہلا بڑا قدم اٹھایا تھا ، یہ ;828383; کے مشن کی محض ایک کڑی ہے ، دوسرا قدم رام مندر کی تعمیر کی صورت میں واضح ہو چکا ہے ۔ اب چند ہفتوں میں بھارتی راجدھانی دہلی اور جھارکھنڈ میں صوبائی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں بظاہر مسلم دشمنی کی فضا پیدا کرنے کے نتیجے میں ;667480; کی جیت کے امکانات نسبتاً واضح ہیں ۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کانگرس اپنی معمولی سبقت بھی کھو بیٹھے اور ان دونوں صوبوں میں بھی ;667480; کا اقتدار قائم ہو جائے ۔ کرناٹک میں تین ماہ پہلے ہی کانگرس اقتدار سے باہر ہو چکی ہے ۔ مغربی بنگال میں بھی لوک سبھا کی تقریباً نصف نشستیں جیت کر بی جے پی خاصی مضبوط پوزیشن میں ہے اور لگاتار کئی ممبران پارلیمنٹ ممتا بینرجی کا ساتھ چھوڑ کر ;667480; میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ، یوں بظاہر آئندہ 6 سے 8 ماہ کے اندر غالباً ;667480; اس صوبے میں بھی برسر اقتدار آ جائے ۔ بہار میں نتیش کمار ;667480; کے اتحادی اور سشیل کمار مودی بطور نائب وزیراعلیٰ کام کر رہے ہیں ، یوں آنے والے ایک سے ڈیڑھ برس میں بھارت کی داخلی سیاست کا ظاہری منظر نامہ کچھ ایسا نظر آتا ہے کہ بھارتی پنجاب اور چھتیس گڑھ میں کانگرس کی حکومت قائم رہے گی، علاوہ ازیں اڑیسہ میں نوین پٹناءک کی سرکردگی میں بیجو جنتا دل، کیرالہ میں ;67807377; ، آندھرا پردیش میں جگموہن ریڈی، تامل ناڈو میں بی جے پی اتحادی ;6573687775; کے علاوہ لگ بھگ تمام بھارت میں ;667480; اور اس کے اتحادی اقتدار میں آ جائیں گے ۔ اور یہی وہ لمحہ ہو گا جب 1925 کے ;828383; کے دیرینہ خواب کی تکمیل کی جانب واضح پیش رفت کرتے ہوئے 2021 کی مردم شماری کے فوراً بعد بھارت کو باقاعدہ طور پر ہندو ریاست کا درجہ دے دیا جائےگا ، یوں اسکی برائے نام سیکولر حیثیت بھی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچے گی اور ہندومت کو بھارت کا سرکاری مذہب قرار دیا جائے گا ۔ اس ساری صورتحال کے منطقی نتیجے کے طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اپنی بھاری عددی اکثریت کے باوجود بھارت بار بار محکوم اپنی حرکتوں کی وجہ سے ہوتا رہا مگر تاریخ کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ ’’ تاریخ سے آج تک کسی نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا‘‘

مولانا سمیع الحق ہمارے دلوں میں زندہ ہیں

پاکستان کے جید علمائے کرام میں سر فہرست جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کی شہادت کو ایک برس بیت گیا ، لیکن معروف عالم دین مولانا سمیع الحق ;200;ج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں اور ;200;پ کی دینی و سیاسی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی ۔ مولانا سمیع الحق 18 دسمبر 1937 ء کو اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے ، ان کے والد شیخ الحدیث مولانا عبد الحق کا شمار برصغیر کے جید علمائے دین میں ہوتا تھا، جنہوں نے اکوڑہ خٹک میں ممتاز دینی درسگاہ دارلعلوم حقانیہ کی بنیاد رکھی، مولانا عبدالحق نے 1970ء میں قومی اسمبلی کے الیکشن میں حصہ لیا اور پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کوشکست دی، مولانا عبدالحق 1970ء سے 1977ء تک قومی اسمبلی کے رکن رہے، مولانا عبدالحق ،مولانا مفتی محمود، مولانا غلام ہزاروی ، مولانا عبداللہ درخواستی کے ہم عصر تھے ۔ ان کا مدرسہ حقانیہ اکوڑہ خٹک ، دارالعلوم دیوبند کے بعد دیوبندی مکتبہ فکر کا سب سے اہم مدرسہ گردانا جاتا ہے جہاں مولانا سمیع الحق نے 1946ء سے تعلیم کا باقائدہ ;200;غاز کیا، اوریہاں سے فقہ، اصول فقہ، عربی ادب، منطق، تفسیر اور حدیث کا علم سیکھا ۔ عربی زبان کے ساتھ ساتھ پاکستان کی قومی زبان اردو اور علاقائی زبان پشتو پر بھی عبور حاصل کیا ۔ مولانا مفتی محمود، مولانا عبدالحق اور جمعیت کے دوسرے اکابرین کی رحلت کے بعد جمعیت علمائے اسلام دو حصوں میں بٹ گئی، ایک دھڑے کی قیادت مفتی محمود کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن کے حصہ میں آئی جب کہ دوسرے دھڑے کی قیادت مولانا سمیع الحق نے کی ۔ مولانا سمیع الحق نے ملک کی دینی و مذہبی سیاست میں انتہائی متحرک کردار ادا کیا، مولانا 1988ء میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے مہتم بنے ۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف جب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو مدد چاہیے تھی تو اس وقت افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف جدوجہد میں مولانا سمیع الحق کے مدرسے نے کلیدی کردار ادا کیا، اس وجہ ان کی اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ انتہائی قربت تھی ۔ مولانا سمیع الحق کے مدرسہ دارالعلوم حقانیہ کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہے جہاں دنیا بھر میں مقیم ہزاروں علمائے کرام نے ان سے تعلیم حاصل کی ہے ۔ مولانا سمیع الحق دو بار 1985ء سے 1991ء اور 1991ء سے 1997ء تک سینیٹ کے رکن رہے جبکہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں حکمران جماعت تحریک انصاف نے انہیں سینیٹ کا ٹکٹ دیا تھا تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے ۔ وہ متحدہ دینی محاذ کے بھی بانی تھے جو پاکستان کے چھوٹے مذہبی جماعتوں کا اتحاد تھا، جبکہ دفاع پاکستان کونسل کے بھی سربراہ تھے جس میں پاکستان کی بڑی مذہبی و سیاسی جماعتیں جن میں جماعت الدعوۃ ، اہلسنت والجماعت، عوامی مسلم لیگ سمیت دیگر جماعتیں بھی شامل تھیں ۔ مولانا سمیع الحق نے مختلف مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کے لئے سابق امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد کے ساتھ مل کر ’’ملی یکجہتی کونسل ‘‘اور دینی جماعتوں کے سیاسی اتحاد ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تاہم وہ بعض اختلافات کے باعث بعد ازاں ایم ایم اے سے علیحدہ ہو گئے تھے ۔ افغانستان پر امریکی حملے کے بعد انہوں نے مذہبی تنظیموں کا ایک اتحاد’’دفاع پاکستان و افغانستان کونسل‘‘ بھی بنایا تھا جس نے امریکی حملوں کے خلاف پورے ملک میں بڑے بڑے پرامن مظاہرے کیے، اس اتحاد میں ;200;ئی ایس ;200;ئی کے سابق سربراہ جنرل(ر)حمید گل اور شیخ رشید بھی شامل تھے ۔ مولانا سمیع الحق افغان طالبان پر کافی اثرو رسوخ رکھتے تھے اور ملا عمر جو طالبان کے بانی اور امیر تھے کہ بارے میں کہا جا تا تھا کہ وہ مولانا سمیع الحق کے شاگرد ہیں ۔ مولانا سمیع الحق جہادی رہنماؤں کے لیے ’’روحانی باپ‘‘ کی سی حیثیت رکھتے تھے،مولانا جلال الدین حقانی کے علاوہ کالعدم تحریک طالبان کے کئی رہنما ان کے شاگرد رہے ۔ افغانستان میں دیر پا امن اور استحکام کے سلسلے میں اکثر پاکستانی اور افغان اعلیٰ حکام ان سے ملاقاتیں کرتے تھے، اور افغانستان کے پاکستان میں تعینات سفیر ان سے باقاعدگی سے ملتے رہتے تھے ۔ جبکہ شہادت سے چند روز قبل بھی افغان حکومت کے ایک وفد نے دالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں ان سے ملاقات کرتے ہوئے افغان امن عمل کےلئے کردار ادا کرنے کی اپیل کی تھی ۔ مولانا سمیع الحق نے ہمیشہ اپنے عمل سے ثابت کیا تھا کہ وہ ایک محب وطن اور پر امن پاکستانی ہیں ،انہوں نے ملک میں پر تشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ہمیشہ اس کی مذمت کی، انہوں نے پاکستان میں کالعدم تحریک طالبان اور حکومت پاکستان کے درمیان مذاکرات کی ایک کوشش میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا ۔ ایک برس قبل پاکستان کے دینی و سیاسی حلقوں کو انتہائی افسوسناک خبر سننے کو ملی کہ جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو راولپنڈی میں نامعلوم شخص نے چھریوں کے وار کر کے اس وقت شہید کردیا جب وہ عصر کے بعد اپنے گھر میں آرام کر رہے تھے ۔ مولانا سمیع الحق کے بیٹے مولانا حامد الحق نے انکشاف نے بتایا کہ ہ میں ملکی خفیہ اداروں نے بھی کئی بار بتایا تھا کہ مولانا سمیع الحق بین الاقوامی خفیہ اداروں کے ہدف پر ہیں ۔ مولانا سمیع الحق پر اس سے قبل بھی کئی مرتبہ قاتلانہ حملے ہو چکے تھے لیکن ان حملوں میں وہ ہمیشہ محفوظ رہے ۔ مولانا سمیع الحق گفتار میں انتہائی نرم اور خوش اخلاق اور نظریات کے داعی تھے اور ;200;خری وقت تک اس پر عمل پیرا بھی رہے،;200;پ کی دینی و سیاسی خدمات کو تادیر بھلایا نہیں جاسکے گا ۔

عالمی سطح پر مسلمان دہشت گردی کا شکار

دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں لیکن نائن الیون کے بعد ہر واقعے کو اسلام سے جوڑا گیا ۔ آزادی اظہار کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جائے لیکن یورپ میں مسلمانوں کی مساجد پر بھی حملے ہوئے ۔ 1979 میں سوویت یونین کی جانب سے افغانستان پر حملے کے بعد سے اگست 2019 تک دنیا بھر میں شدت پسندوں کی ;34;دہشت گرد کارروائیوں ;34; کا شکار ہونے والے افراد میں سے 90 فیصد مسلمان ہیں ۔ گزشتہ ہفتے فرانس میں کیے جانے والے ایک تحقیقی مطالعے میں اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ 89;46;1 فیصد دہشت گرد کارروائیاں مسلم ممالک میں ہوئیں اور اس کا شکار ہونے والے مجموعی افراد میں سے 91;46;2 فیصد مسلمان ہیں ۔ تحقیقی مطالعے پر مشتمل یہ رپورٹ ’پولیٹیکل کرییٹوٹی فاوَنڈیشن‘ کی جانب سے تیار کی گئی ۔ رپورٹ کے مطابق مذکورہ مدت کے دوران شدت پسند تنظیموں نے دہشت گردی کی 33769 کارروائیاں کیں ۔ ان کارروائیوں میں 167096 افراد ہلاک اور 151431 زخمی ہوئے ۔ رپورٹ کے مطابق داعش تنظیم کی جانب سے یورپ کو خون میں نہلا دینے والی کارروائیوں میں سے 54 فیصد فرانس میں انجام دی گئیں ۔ دنیاکے نقشہ کو دیکھا جائے اور غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ امریکی اثر و رسوخ والے علاقے ہی دہشت گردی کا شکار ہیں بلکہ اب ان میں سے کئی ممالک خانہ جنگی کی لپیٹ میں آچکے ۔ اسلامی ممالک میں یہ سلسلہ رکتا یا تھمتا نظر نہیں آتا ۔ دہشت گردی کے خلاف صرف مسلمان ہی لڑ ر ہے ہیں ۔ اور دہشت گردی میں صرف مسلمان مر رہے ہیں جو کہ تقریباً 98 فیصد ہیں ۔ امریکا میں ہوئی ایک اسٹڈی کے مطابق امریکی میڈیا میں ایسے حملے کی زیادہ سرگرم طریقے سے رپورٹنگ کرتا ہے، جس میں مجرم مسلمان ہو ۔ تاہم اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ امریکا میں دائیں بازو کے انتہا پسند زیادہ حملوں میں ملوث پائے گئے ہیں ۔ جرائم میں ملوث غیر مسلم افراد کے مقابلے میں مسلمانوں کے بارے میں رپورٹنگ کا تناسب 449 فیصد زیادہ ہے ۔ کرائسٹ چرچ کے حملوں کے دو دن بعد ہی جرمنی میں کچھ میڈیا اداروں میں اس خونریز واقعے کے بارے میں کوئی شہ سرخی تک نظر نہیں آئی ۔ جرمنی میں مسلمانوں کی آبادی پانچ ملین کے قریب ہے ۔ جعفر لکھتے ہیں کہ گزشتہ جمعے وہ جرمنی کی ایک مسجد میں گئے اور نمازیوں سے نیوزی لینڈ میں ہوئے حملے پر ان کا ردعمل دریافت کیا ۔ ان لوگوں نے بتایا کہ وہ خوفزدہ ہیں اور خود کو غیر محفوظ خیال کرتے ہیں ۔ نیوزی لینڈ میں پرامن مسلمانوں کے قتل عام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ خود دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ساری دنیا میں مسلمان مارے جا رہے ہیں ۔ ہ میں ان سب چیزوں کا مقابلہ کرنا ہے جس کے لیے اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ اس وقت دنیا میں مسلمانوں کی تعداد دو ارب کے قریب ہے لیکن اتنی بڑی تعداد ہونے کے باوجود وہ منتشر ہیں کیونکہ ان کا کوئی ایک متفقہ پلیٹ فارم نہیں ہے جس سے دشمن فائدہ اْٹھانے کی کوشش کر رہا ہے ۔ مسلمانوں کے اندار اتحاد و اتفاق کے فقدان اور باہم دست و گریبان ہونے کی وجہ سے دوسری طاقتیں مسلمانوں کو وحشی اور ظالم قرار دے رہی ہیں جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ مسلمانوں کے اندر انتشار اور افتراق کی ایک وجہ یہ ہے کہ بیشتر مسلمان ممالک نو آبادیاتی نظام کے زیر تسلط رہے اور نو آبادیاتی تسلط کے خاتمے کے باوجود بیشتر مسلمانوں کے ذہنوں میں اس نظام کے اثرات اب بھی باقی ہیں ۔ ہماری نئی نسل کو جو نصاب پڑھایا جا رہا ہے و ہ نو آبادیاتی دور سے تعلق رکھتا ہے جس کے باعث ہمارے بچے مغرب کے نظام کو تو پڑھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے شاندار نظام اور اس کی فیوض و برکات سے نابلد ہیں ۔ اسلامی نظام تعلیم نہ ہونے کے باعث مسلمانوں کے اندر اتحاد و اتفاق کی فضا نہیں پیدا ہو رہی ہے ۔ ہماری جامعات، کالجز اور سکولز کے لیے یہ نہایت ضروری ہو گیا ہے کہ و ہ دینی تعلیم اور مسلمانوں کی تاریخ کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں ۔ اگر ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں ، اسوہ حسنہ پر عمل کریں اور اسلام کی شاندار روایات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مسلمان آج بھی دنیا کی ایک بڑی قوت بن کر نہ اْبھر سکیں ۔ وزیراعظم عمران خان نے ہیوسٹن میں اسلامک سوساءٹی آف نارتھ امریکا (اسنا) کنونشن سے ویڈیو لنک کے ذریعے براہ راست خطاب میں واضح کیا کہ اسلام امن کا مذہب اور امن سے رہنے کا درس دیتا ہے ۔ مسلمان ناصرف اپنے نبی ;248; سے محبت کرتے ہیں بلکہ پہلے آئے تمام انبیائے کرام کا احترام کرتے اور اْن پر ایمان رکھتے ہیں ۔ لیکن یہاں کیوں ہر مسلمان کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔ کسی ایک شخص کے عمل کو پوری کمیونٹی سے نہیں جوڑا جا سکتا ۔ نائن الیون سے پہلے تو تامل ٹائیگرز دہشت گرد حملے کرتے تھے ۔ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ۔ کسی ایک شخص کے عمل کو مذہب سے نہیں جوڑا جا سکتا ۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تمام غیر مسلم اقلیتوں کو ہر قسم کی مذہبی آزادی حاصل ہے جبکہ بھارت میں آج بھی مسلمان اور دیگر اقلیتیں غیر محفوظ اور حقوق سے محروم ہیں ۔ قائد اعظم نے ہندووَں کے رویے کے سبب الگ ملک کی جدو جہد کی تھی جب کہ مودی کا بھارت گاندھی اور نہرو کے بھارت کے برعکس ہے ۔ آج بھارت پر ایک انتہاپسندانہ نظریہ قابض ہو گیا ہے ۔ مودی حکومت مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کو اقلیت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی قیادت کو حراست میں لیا گیا ہے اور ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ کشمیریوں کو مسلمان ہونے کے علاوہ اس بات کی بھی سزا دی جا رہی ہے کہ وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں اور پاکستان کا حصہ بننا چاہتے ہیں اس لیے آزادکشمیر اور پاکستان کے لوگوں کا یہ فرض ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کریں اور ان کی تحریک کی کامیابی کے لیے سفارتی اور سیاسی محاذ پر اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔

Google Analytics Alternative