کالم

عالمی امن کو لاحق تباہ کن خطرات ۔ وزیراعظم کی وارننگ

وزیراعظم پاکستان آج کل نیویارک میں ہیں ، جہاں اْنہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں خطاب کرنا ہے اپنے خطاب سے قبل دنیا بھر سے وہاں آئے ہوئے ممالک کے سربراہان سے اْن کی ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے سب سے ہم اہم اور کلیدی مسئلہ پاکستان کے سامنے مسئلہ کشمیر ہے جہاں بھارت نے گزشتہ ماہ اگست کی پانچ تاریخ کواپنی حد سے بڑی ہوئی بدترین استعماری جارحیت کا ارتکاب کرکے ثابت کردیا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا سمیت پورے ایشیا اور دنیا کے امن کو تہہ وبالا کرنے جیسی حماقت پر اتر آیاہے وہ سمجھ رہا ہے کہ امریکا اور مغربی مسلم دشمن طاقتیں اْس کی پشت پناہی پر ہیں حالیہ ہیوسٹن میں ہونے والے بھارتی نژ اد امریکیوں کے ایک اجتماع نے جس میں امریکی صدر ٹرمپ نے بھی شرکت کرکے اپنی لاپرواہ اور مضحکہ خیز روایت کے زیراثر گجرات کے لاکھوں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے قاتل قصاب مودی کے بھارت میں گرتے ہوئے قد کاٹھ کو جہاں سنبھالا دیا وہاں مودی نے بھی بھارتی سیاست کے منہ پر کالک مل دی بھارت کو رسوا کیا اور ایک ایسے اجتماع کے شرکاء میں جن کا بھارتی سیاست میں کوئی رول یا کردار نہیں اْنہیں یہ زور دے کر کہا کہ ’’امریکا میں آئندہ باری ڈونلڈ ٹرمپ کی باری‘‘ بھار ت بھر میں مودی پر اس سلسلے میں شدید تنقید ہورہی ہے اگلے برس امریکا میں صدارتی انتخابات ہونگے کیا پتہ کون سی پارٹی کا امیداوار امریکی صدر بنے گا;238; عالمی شہرت یافتہ مفکر ایڈورڈ مورفی کی ایک بات یہاں ہمارے ذہن میں ا;63;گئی وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر کسی کام کو انجام دینے کے کئی راستے ہوں اور اْن میں سے ایک راستہ سب سے زیادہ تباہ کن ہو تو یقین جان لو کہ ایک دن ضرور اس معاشرے میں کوئی ایسا احمق پیدا ہوگا جو سب راستوں کو چھوڑ کر اسی تباہ کن راستے کو اپنا ئے گا‘‘ اگلے برس امریکا میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں مودی نے ٹرمپ کی حمایت کرکے یہ ثابت کردیا کہ اگلا امریکی صدر اگر ٹرمپ نہ بنا تو امریکی سفارت کاری پر اس کے کتنے گہرے اور بْرے اثرات پڑیں گے اس کہتے ہیں ’’ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ‘‘مودی کی یہ حماقت تو ویسے ہی درمیان میں برسبیل تذکرہ آگئی بات ہم مقبوضہ وادی میں اس کی تباہ کن اْس قیامت کے آثار جیسی حماقت پر کرنا چاہ رہے ہیں جس پر پوری دنیا کی نبضیں تیزہوچکی ہیں پچپن چھپن دن گزرچکے ہیں ایک کروڑ کے لگ بھگ کشمیریوں پر زندگی کی سانسیں لینا دوبھر کردیا گیا ہے پاکستان کے وزیراعظم نے امریکا میں صرف مودی ہی کو نہیں بلکہ عالمی دنیا کے سوئے ہوئے مردہ ضمیروں پر عالمی میڈیاکے روبرو سخت اظہار افسوس کیا عالمی میڈیا کے مدبروں کے سامنے سخت تندوتیز تلخ لب ولہجہ اختیار کیا دنیا سے پوچھا جو آج کشمیریوں پر بھارتی عذاب ڈھانے پر خاموش ہیں ان سے پوچھا کہ اگر ایسا کچھ یعنی کہیں دوچار یا چند درجن نامور یہودیوں یا عیسائیوں پر مقبوضہ وادی جیسی آفت پڑتیں یا قیدوبند کی بندشیں لگائی جاتیں تو امریکا اور مغرب کیا یہی غیر انسانی رویہ ہوتا اور پھر ہیوسٹن کے اجتماع میں ’’اسلامی فوبیا‘‘کا سرعام نام لے کر عالمی سلامتی کے ایک مذہب کی توہین کرنا امریکی صدرکوزیب دیتا ہے جیسی سیاسی وسفارتی حماقتیں گزشتہ چھ برسوں سے گجرات کا ایک عام شخص غیر تعلیم یافتہ شخص نیم خواندہ مذہبی معلومات چاہے وہ ہندومت ہی کا ماننے والا کیوں نہ ہو مودی تو ہندومت کی مکمل تعلیمات سے بھی آشنا نہیں ہے وہ چھ برس سے پاکستان کے پڑوس میں ایک ایٹمی ڈیٹرنس کی صلاحیت رکھنے والے دیش کا سربراہ ہے دنیا نے اْس پر اعتبار کیسے کرلیا;238; جو اب جنوبی ایشیا میں ’’اسلام فوبیائی مرض‘‘ کا بہت ہی گیا گزرا اور لاعلاج مریض ہے پاکستانی وزیراعظم عمران خان ملکی تاریخ کے بہت ہی طاقتور،جرات مند، بے خوف اوراگراْنہیں ہم اسلام کا سپاہی کہیں تو پاکستانی یقینا ہماری بات کی تائید کریں گے اْنہوں نے مقبوضہ وادی میں بھارتی جارحیت اور مقبوضہ وادی میں نافذ کرفیو کے ختم ہونے کے بعد جن خطرات کا بروقت اشارہ دیا ہے اگر دنیا متحرک نہیں ہوئی اور دنیا ’’اسلام فوبیا‘‘ کے نعرے لگاتی رہی تو پھر کوئی نہ پاکستان کو الزام دے نہ ’’اسلام فوبیا‘‘ کی آڑ میں دین اسلام کی شان میں گستاخی کرئے پاکستانی وزیراعظم نے لگی لپٹی بغیر دنیا کو بھارتی عزائم سے آگاہ کردیا ہے اور مودی بھگتوں کو بے نقاب کردیا ہے اب مودی جانے مودی کے بھگت جانیں اور عالمی مسلم دشمن پروپیگنڈا باز جانیں ;238; جنوبی ایشیا میں سب کیا دھرا بھارتی موجودہ اسٹبلیشمنٹ کا کیا دھرا ہے امریکا میں پاکستانی وزیراعظم نے ملکی وعالمی سیاسی وسفارتی تاریخ میں انسانیت دشمنوں کو بہت بْری طرح سے بے نقاب کرکے ایک نئے باب کا اضافہ ضرور کردیا وزیراعظم خان مقبوضہ وادی کی حساس اور نازک ترین صورتحال کے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرنے گئے اور وہاں اْنہوں نے موقع پر بروقت فائدہ اْٹھایا مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کے لئے یہ لمحات بہت ہی چیلنجنگ لمحات ہیں بھارت نے اپنی جنونی نالائق سیاسی حرکت کی جس کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کا دیرینہ مسئلہ کشمیر خود ہی دنیا کے سامنے ابھر کر نمایاں ہوگیا پانچ اگست کو جب مقبوضہ وادی میں گورنرراج نافذ تھا ریاستی اسمبلی کاوجود نہیں تھا اچانک سے جلد بازی میں جوکہ ہمیشہ سے شیطانی حربہ مانا گیا ہے کسی سے تو نہ پوچھا گیا نہ مشورہ لیا گیا، کئی دہائیوں سے مقبوضہ وادی میں لاگو بھارتی آئین سے اْس آرٹیکل کو جسے تین سوستر کہا جاتا تھا نکال دیا گیا، یہ آرٹیکل اصل میں مبقوضہ وادی کے ساتھ بھارتی الحاق ایک بہت ہی کمزور ناطہ سمجھ لیں جسے اہل کشمیر بھی تسلیم نہیں کرتے تھے اور ہم پاکستانیوں نے بھی کبھی اس متنازعہ آرٹیکل کو کشمیر کے بھارت کے ساتھ الحاق کا وجہ مانا نہیں ،بقول سابق ریاستی وزرائے اعلیٰ شیخ عبداللہ فیملی اور مفتی سعید فیملی کے کہ ’’ہم اسی آرٹیکل کی وجہ سے بھارت کے ساتھ تھے بھارت کا ساتھ دیتے تھے مگر اب خود بھارت نے ہ میں اپنے سے علیحدہ کردیا اس کامطلب واضح ہوگیا کہ اب مقبوضہ وادی خود مختار اور آزاد ہوگئی ہے پانچ اگست کو جب نئی دہلی نے یہ انتہائی قدم اْٹھایا تو بی جے پی یعنی آرایس ایس کے سیاسی وسفارتی حکام کی سراسیمگیاں دیکھنے کے قابل تھیں پورے کشمیر کو لاک ڈاون کردیا گیا لینڈ لائن فونز بند کردئیے گئے وادی میں انٹر نیٹ سروس جام کردی گئی ٹی وی کیبلز معطل کردئیے گئے، اخبارات کی اشاعت پر پابندی لگادی گئی، تاحال غیر معینہ مدت کے لئے بھارت کی باقاعدہ لڑاکا فوج کی نگرانی میں وادی میں کرفیو نافذ کردیا گیا ایک کروڑ کی آبادی کے کشمیر کا رابطہ دنیا سے تادم تحریر منقطع ہے اس دوران عیدالا اضحی بھی گزر گئی کشمیر کی سبھی بڑی مساجد میں عید کی نماز کے اجتماعات نہیں ہوسکے کئی جمعہ گزر گئے جامع مسجدوں میں بھارتی فوج نے تالے ڈالے ہوئے ہیں ، پانچ اگست سے آج ستمبر کے آخری ایام بیت رہے ہیں ، معلوم اطلاعات کے مطابق اب تک پانچ سے سات ہزار تک کشمیری نوجوانوں کی گرفتاریاں عمل میں لائی جاچکی ہیں ، کشمیر مکمل بند ہے، لاک ڈاون ہے آر ایس ایس کے ہندوجنونی بھارت بھر میں جشن منارہے ہیں کہ ’’ہاوڈی مودی‘‘ نے مسئلہ کشمیر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ’’حل‘‘ کردیا ہے;238; کشمیر میں کیا ہورہا ہے کسی کو معلوم نہیں ;238; یہاں اس بارے مین چند معلوماتی سطریں لکھی جارہی ہیں ، یہ بھارتی سوشل میڈیا کے اْن درجنوں مواصلاتی ذراءع سے لی گئی ہیں جو ہمارے قارئین خود جب چاہے دیکھ سکتے ہیں جن خاص طور پر ’’دی نیوزکلک،دی وائر،پاروش شرما ،رویش کمار،دی آزادی اورجان گن من کی بات‘‘جسے کئی سیکولر طبقات کے صحافیوں کے شوز ہیں جو ’’گودی میڈیا‘‘ کے پھیلائے ہوئے جھوٹ کے پول کھول رہے ہیں ایسے میں یہاں ہم پاکستانی عوام اپنے دلیر،بہادر، نیک نیت اور دیانت دار وزیراعظم عمران خان کو کھل کر سپورٹ کریں گے جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے وزیراعظم مانے جارہے ہیں ، جو بے خوفی کے ساتھ ’’پلے کچھ نہ ہونے کے باوجود‘‘ پاکستان کا کشمیر کیس عالمی میڈیا میں امریکا میں بیٹھ کر جس سیاسی فہم وفراست اور تاریخی حقائق کے دلائل کی جزوئیات کو عالمی میڈیا میں ’’اوپن‘‘کیئے جارہے ہیں ماضی قریب میں ایسا ہوتا ہوا کبھی ہم نے نہیں دیکھا اب بھی وقت دنیا بھارت کی طرف سے بیدار ہوجائے ۔

ٹرمپ عمران خان کی صلاحیتوں کے معترف، مودی کے حوالے سے تحفظات

وزیراعظم عمران خان جس انداز سے نیو یارک میں لمحہ بہ لمحہ کشمیر کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ، ابھی تک ان کی دیگر ممالک کے سربراہان سے ہونے والی ملاقاتوں میں ایجنڈا سرفہرست کشمیر ہی رہا ہے ۔ جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی اس مسئلہ کو اٹھائیں گے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی عمران خان یہ سمجھانے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ خطے کا اہم ترین مسئلہ کشمیر ہے اس وجہ سے امریکی صدر خواہاں ہیں اسکو حل ہونا چاہیے تاہم انہوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کا نکتہ نظر بے حد مختلف ہے ۔ ٹرمپ اس حوالے سے پرامید ہیں کہ عمران خان مسئلہ کشمیر حل کرانے میں کردارادا کرینگے ۔ یہاں یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ پاکستان اور عمران خان مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے سلسلہ میں ہر لمحہ تیار ہیں اگر رکاوٹ ہے تو وہ مودی اور اس کی سرکار ۔ عمران خان کی صلاحیتوں کو اس حوالے سے دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ نے امریکہ اور ایران کے مابین مسئلہ کو حل کرانے کا مینڈیٹ عمرا ن خان کو دیدیا ہے کیونکہ خطے میں جو عمران خان کا وژن ہے وہ کم ہی کسی لیڈر میں نظر آتا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاہے کہ مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 51 روز سے 80 لاکھ کشمیری باشندے محصور ہیں جنہیں 9 لاکھ بھارتی افواج نے یرغمال بنا رکھا ہے، مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کرنا ضروری ہے، جنرل اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ لڑنے کے لیے آیا ہوں دنیا کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط دکھایا جانا ضروری ہے کہ یہ لوگ گزشتہ 70 سال سے اپنے حق کے لیے لڑ رہے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے کشمیری باشندوں کو استصواب رائے کا حق دیا لیکن بی جے پی کی حکومت نے یک طرفہ طور پر مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی، مقبوضہ کشمیر میں جنگی جرائم کا ارتکاب کیا جارہا ہے، کشمیر کی تمام لیڈر شپ جیل میں ہے، مقبوضہ کشمیر سے متعلق خبروں کا بلیک آءوٹ ہے، مسئلہ کشمیر حل کرانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کیوں کہ اقوام متحدہ کی 11 قراردادوں میں مسئلہ کشمیر کو متنازع علاقہ تسلیم کیا گیا ۔ امریکا میں کشمیری افراد سے ملاقات ہوئی جن کا اپنے گھر والوں سے کوئی رابطہ نہیں ، بھارت کشمیر میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنا چاہتا ہے، کشمیر کے معاملے پر دنیا بھر کے سربراہان سے ملا جنہوں نے بھارتی اقدام کو غلط قرار دیا کہ 80 لاکھ افراد کو جیل میں قید کردیا گیا ہے ۔ کیوبا بحران کے بعد تاریخ میں پہلی بار دو جوہری طاقتیں آمنے سامنے ہیں ، خطے میں کشیدگی پیدا ہوچکی، اس بحران کو کم کرنے کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی لیکن مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹنے تک بھارت سے کسی قسم کی بات چیت نہیں ہوسکتی ۔ مقبوضہ وادی میں کرفیو ختم ہونے کے بعد قتل عام کا خدشہ ہے، وہاں سے کوئی خیر کی خبر سامنے نہیں آرہی، کشمیریوں کو گھروں سے اٹھایا جارہا ہے لیکن دنیا مسئلے کو حل کرنے کے لیے کچھ نہیں کررہی، مسئلہ کشمیر پر عالمی برادری کے رویے سے بہت دکھ ہوا ۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مندوب ملیحہ لودھی بھی موجود تھے ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان کی نیویارک میں اقوام متحدہ کے74ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر عالمی رہنما ءوں سے اہم ملاقاتیں جاری ہیں ،ترکی اور ایرانی صدور کے علاوہ برطانوی، چینی، سوئس اور اطالوی رہنماءوں سے ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے علاوہ باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا ۔ وزیر اعظم نے کہا کہ علاقائی اور عالمی معاملات میں دونوں ممالک یکساں موقف رکھتے ہیں ۔ عمران خان کی برطانوی ہم منصب بورس جانسن سے بھی بیٹھک ہوئی، وزیراعظم نے برطانوی وزیر اعظم کو مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال سے ;200;گاہ کیا ۔ چینی وزیر خارجہ سے ملاقات میں کشمیر اور باہمی دلچسپی کے امور پر گفتگو کی گئی ۔ وزیر اعظم نے کہا پاکستان سی پیک کو نہایت اہمیت دیتا ہے، پاکستان اور چین کے تعلقات بتدریج مستحکم ہو رہے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان سے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جاسنڈا ;200;رڈن کی بھی ملاقات ہوئی، جس میں علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔

آزاد کشمیر میں قیامت صغریٰ

قدرتی آفات سے کوئی بچاءو کا طریقہ نہیں البتہ فوری حفاظتی اقدامات سے قیمتی جانوں کو بچایا جاسکتا ہے اس زلزلے سے قبل کوءٹہ اور مظفر آباد کا زلزلہ لوگوں کے ذہنوں سے نہیں گیا ۔ یہ دو اتنے بڑے سانحات تھے جو کہ بیان سے باہر ہیں ان میں بے حد جانی اور مالی نقصان ہوا تھا ۔ اب اس زلزلے نے بھی آزاد کشمیر میں تباہی مچا دی ۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ قیامت صغریٰ برپا کردی تو غلط نہ ہوگا ۔ 26 افراد قیمتی جانوں سے گئے جبکہ سینکڑوں افراد زخمی ہوگئے ۔ آزادکشمیر میں ایمر جنسی نافذ ہے،بجلی کے کھمبے گرگئے، مکانات اور مساجد کو بھی نقصانات پہنچا، جاتلاں میں نہر کا بند ٹوٹنے سے قریبی دیہات بھی زیر آب آگئے میرپور ، جاتلاں اورگردونواح کے علاقوں میں متعدد عمارتوں اور گھروں کو شدیدنقصان پہنچا جبکہ منگلاتاجاتلاں کی مرکزی سڑک دھنس گئی ہے، سڑکوں پر بڑی بڑی دراڑیں اور گہرے شگاف پڑ گئے ہیں اور متعدد گاڑیاں ان میں الٹ گئی ہیں ، زلزلے کے باعث آمدورفت معطل ہوگئی، زخمیوں کو اسپتالوں تک پہنچانے میں دشواری کا سامنارہا، بجلی اور مواصلات کا نظام درہم برہم ہو گیا ۔ جاتلاں کے قریب تین پلوں کو نقصان پہنچا، جاتلاں منگلا روڈ کئی مقامات پر متاثر ہونے کے باعث ناقابل استعمال ہو گیا ہے ۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 5;46;8 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز جہلم سے 5 کلو میٹر شمال کی طرف تھا اور اس کی گہرائی زیر زمین 9 کلو میٹر تھی ۔ زلزلے کے جھٹکے 15 سے 20 سیکنڈ تک محسوس کیے گئے ۔ زلزلے کے جھٹکوں کے باعث اپر جہلم نہر میں شگاف پڑنے کی وجہ سے پانی قریبی دیہات میں داخل ہوگیا، محکمہ آبپاشی پنجاب نے احتیاطی اقدامات کے تحت نہر اپر جہلم بند کردی ہے،منگلا ڈیم کا ٹربائن بندہونے سے 900 میگاواٹ بجلی سسٹم سے نکل گئی، آئی ایس پی آرکے مطابق زلزلہ سے متاثرہ علاقوں کا ابتدائی سروے مکمل کر لیا گیا ہے ۔ پاک فوج کی ٹی میں متاثرہ علاقوں میں پہنچ کر ریسکیو آپریشن کیا،200خیمے، 800 کمبل، غذائی اشیا اور ادویات متاثرہ علاقوں میں پہنچادی گئی ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے پاک فوج کو ہدایات دی ہیں کہ آزاد کشمیر میں زلزلہ سے متاثرہ علاقوں میں سول انتظامیہ کے ساتھ ریسکیو آپریشن میں بھرپور تعاون کریں ۔ اسلام آبادسمیت پنجاب اور خیبرپختونخواکے مختلف شہروں میں بھی زلزلے کے شدیدجھٹکے محسوس کئے گئے، لوگ کلمہ طیبہ اور درود شریف کا ورد کرتے ہوئے گھروں ، عمارتوں اور دفاترسے باہر نکل آئے اور کئی گھنٹے کھلے آسمان تلے گزارے، صدر، وزیراعظم سمیت سیاسی ومذہبی رہنماوں زلزلے سے جانی ومالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ زلزلے کے جھٹکوں کے باعث مختلف شہروں میں لوگ کلمہ طیبہ اور درود شریف کا ورد کرتے ہوئے گھروں ،عمارتوں اور دفاترسے باہر نکل آئے ۔ اسلام آباد ، جڑواں شہر راولپنڈی کے علاوہ پنجاب میں کے متعدد علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے ۔

روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں ڈاکٹرقدیر خان کا تہلکہ خیز انٹرویو

جہاں کہیں حب الوطنی کی ، ملکی نظریاتی اساس کی، سرحدوں کی حفاظت کا معاملہ ہو تو پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز ، روز نیوز اور خصوصی طورپر ایس کے نیازی جو کہ اس میڈیا گروپ کے روح رواں ہیں پیش پیش نظر آتے ہیں ۔ آج سے کچھ روز قبل بھی جب روز نیوز کے پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی نے جنرل اسلم بیگ کا تہلکہ خیز انٹرویو کیا تو یو سمجھئے کہ جیسے بھارت میں ایٹم بم گر گیا ہو ۔ پورا بھارتی میڈیا سیخ پا ہوگیا اور اب ہمارے فخر پاکستان ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایس کے نیازی کیساتھ انٹرویو میں بتایا کہ بھارت مکمل طورپر پاکستان کے نشانے پر ہے اور محض 30 منٹوں کے اندر اندر اس کو نیست و نابود کرسکتے ہیں یہ ہے حفاظت ہمارے نظریاتی اساس کی ۔ سرحدوں کی آج بھی بھارت میں آگ بھڑک اٹھی ہے ۔ مودی کے ایجنٹ غلط خبریں پھیلا رہے ہیں ،وزیراعظم کیخلاف چھوٹی سی بات کر دی جائے تو اسے پکڑ لیا جاتا ہے، ہمارے بارے میں جو کوئی لکھتا رہے اس پر کسی کی کوئی پکڑ نہیں ہوتی، مودی اور ٹرمپ دوست ہیں ،ہ میں گفتار کے نہیں کردار کے غازی چاہئیں ہیں ۔ ایس کے نیازی نے کہا کہ ساشے ہسپتا ل بنانے کیلئے 10کنال زمین دی تھی اس کی مالیت بہت بڑھ چکی ہے،ڈاکٹر قدیر خان کو منصوبے کےلئے زمین اس لیے دی کہ یقین تھا کہ آپ اسے مکمل کریں گے،مجھ پر لوگ اعتماد کرتے ہیں ، ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نام پر ایس کے این ٹرسٹ ہسپتال بنانا چاہتا ہوں ۔ چیئرمین کشمیر کمیٹی سید فخر امام نے پروگرام میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مودی کے 5اگست کے اقدامات عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں ۔ سلامتی کونسل اجلاس سے تصدیق ہو گئی کہ کشمیر عالمی متنازعہ مسئلہ ہے ۔

ڈاکٹرفردوس ۔۔۔زلزلہ اور تبدیلی کا کوئی تعلق تھا.

(عائشہ ملک )

ڈاکٹرفردوس ۔۔۔زلزلہ اور تبدیلی کا کوئی تعلق تھا
زلزلے کی آفت کو جس طرح وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تبدیلی کے ساتھ جوڑا اس پر تنقید ہورہی ہے ، ہم انہیں اپنی دوست اس لئے کہتے ہیں کہ مرد اجارہ دار معاشرے میں خواتین کاکام کرنامشکل بنایا جاتا ہے لیکن وہ جراَت کے ساتھ جدوجہد کرتی رہی ہیں مگر اس بات کی اہمیت اپنی جگہ پر موجود ہے کہ سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے ۔ اکتوبر 2008 میں جو زلزلہ آیا تھا اس کی تباہ کاریاں موجودہ زلزلے سے زیادہ شدید تھیں ۔ شکر ہے کہ اتنی قیامت خیزی اب دیکھنے کو نہیں ملی میرپور کے زلزلہ کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی کے ساتھ بھی جوڑا جارہا ہے کہ خدانخواستہ یہ کسی ایٹمی جنگ کا آغاز تونہیں ;238; اور اتنے سنجیدہ پہلو میں سے یا کسی مصیبت کی گھڑی پر خوشگوار انداز اختیار کرنا قابل تحسین نہیں ہوا کرتا ۔ ہم نے 8 اکتوبر کے زلزلے کے بعد ایک کتاب دیکھی جو احمد حسین مجاہد نے ’’صفحہ خاک‘‘ کے نام سے لکھی اس کے ایک صفحہ پر وہ لکھتے ہیں کہ ’’ یہ ہماری تاریخ کا المناک ترین دن تھا لیکن اس المناکی میں پھر ایک شمع ایسی روشن ہوئی جس پر انسانیت فخر کرسکتی ہے کیونکہ زلزلے کی تباہ کاریوں کا علم ہوتے ہی ایک دنیا کھیچ کر یہاں آگئی تھی یعنی انہوں نے بھی زلزلے کی تباہ کاریوں میں سے ایک مثال ایسی نکال لی جس پر فخر کیا جاسکتا ہے ۔ ڈاکٹر فردوس نے بھی کچھ ایسا ہی کیا مگر یہ سچ ہے کہ ایک وزیر ہونے اور حکومت کا نمائندہ ہونے کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری کچھ اور تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ آئندہ انہیں چاہیے کہ سوچ سمجھ کر بولاکریں ۔ ۔ ۔ ۔ !

کیازلزلے لانے والا آلہ ہوتا ہے;238;

کسی زمانے میں ایک محاورہ مشہور ہوا تھاکہ ’’زلزلہ لانے والا آلہ زلزلہ نہیں لاسکتا ‘‘ مگر اب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا میں زلزلہ لانے والا آلہ ایجاد ہوچکا ہے اور کہا یہ بھی جارہا ہے کہ میرپور میں آنے والا زلزلہ بھی کسی ’’ آلہ‘‘ کی کارستانی ہے تاکہ خدانخواستہ منگلا ڈیم کو نقصان پہنچایا جاسکے اور اس آلے کا نام ’’ ہارپ‘‘ ٹیکنالوجی ہے ۔ یہ تو سچ ہے کہ امریکہ، ہندوستان او اسرائیل کا گٹھ جوڑ رہتا ہے ۔ کسی نے کہا اسرائیل ’’جادو‘‘ بھی کرتا ہے اور ہ میں فی الحال اسرائیل کا جادو امریکہ پر ہی نظر آتا ہے اورہم کیا کریں کہ ہمارے مذہب میں جادو ٹونہ حرام قراردیا گیا ہے ۔ شاید اس لئے کہ یہ سب کچھ شرپسندی کے ساتھ جُڑتا ہے اور مسلمانوں کو انسانیت کا درس دیا گیا ہے لیکن دنیا بھر میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کیلئے شدت پسندی کے ساتھ جوڑ دیا گیا اوردنیا بھر کی آزادی کی تحریکوں کو ’’تخریب کاری کے ساتھ سمجھا گیا‘‘ ۔ لہذا اس وقت دنیا کا امن خطرے میں ڈال دیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر مجیدنظامی کو ایک مرتبہ امریکن سفیر نے بلایا انہوں نے کہا آپ میرے دفتر آجائیں ۔ امریکن سفیر ان کے دفتر تشریف لے گئے تو مجید نظامی کو باتوں باتوں میں منع کیا گیا کہ آپ ’’شیطانی ثلاثہ‘‘ کالفظ استعمال نہ کیا کریں ۔ آج ہم بھی امریکہ کے سفیر کی ہدایت کے مطابق یہ لفظ استعمال نہیں کرتے مگر ایسے شیطانی آلات کے خلاف ضرور بات کریں گے جو انسانیت کی تباہی کیلئے استعمال ہورہے ہیں حالانکہ ہم بھی ایٹمی طاقت ہیں لہذاشیطانی آلات کا اپنے تحفظ کیلئے ہم بھی استعمال کرسکتے ہیں ۔ ا وراتنی تو اجازت بھی ہونی چاہیے ۔ ۔ !

ایک آنکھ والا بچہ او جنرل موشے دایان

سرگودھا کے نواح میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی جس کی ایک آنکھ ہے یہ میڈیکل کے حساب سے بھی کوئی گڑ بڑ والی صورتحال ہوسکتی ہے اور اس ایک آنکھ میں اس بچے کابھی کوئی قصور نہیں ہے لیکن ہمارے ہاں ’’ دجال‘‘ کی ایک آنکھ کا ذکر ملتا ہے لہذا اس خوف میں ایک آنکھ والے بچے کی خبر کو چھپایا جاتارہا مگر میڈیا کی رسائی کی وجہ سے خبر آءوٹ ہوگئی خبر کا چھپانا اور والدین کا پریشان ہونا بجا ہے اس حوالے سے میڈیکل کی رپورٹس کا انتظار کرنا چاہیے مگر ’’دجال‘‘ کی ایک آنکھ کے علاوہ ایک محاورہ بھی موجود ہے جس میں سب کو ایک آنکھ سے دیکھنے کی بات ملتی ہے ۔ یہ محاورہ تو انصاف کے تقاضوں کی بات بھی کرتا ہے مگر یہ علیحدہ بات ہے کہ جس کی آنکھ ہی ایک ہوگی تو وہ سب کو ایک آنکھ سے ہی دیکھے گا ۔ آنکھ سے متعلق ایک اورمحاورہ بڑا دلچسپ ہے اور وہ ہے ایک آنکھ نہ بھانا ۔ ۔ ۔ لیکن آنکھ ایک ہی ہو اور اسکو کوئی منظر پسند نہ آرہاہو تو دوسرا آپشن تو موجود ہی نہیں ہوتا ۔ جنرل موشے دایان کی بھی ایک آنکھ تھی ۔ اکتوبر1973 کی مصر اسرائیل کی جنگ کے شروع میں مصر کا پلہ بھاری تھا ۔ مصری افواج نے نہرسویر کے مشرقی کنارے پر واقع اسرائیلی ہارلیف لائن کے دفاعی مورچوں کو تباہ و برباد کردیا تھا اس تباہی کو دکھانے کیلئے مصری اخبار میں یہ کارٹون چھپا ۔ ’’ جنرل موشے دایان کی ایک آنکھ کسی جنگ میں ضائع ہوچکی تھی ۔ وہ ایک آنکھ سے دوربین کے ذریعے میدان جنگ دیکھ رہے ہیں اورکہتے ہیں کہ ایک آنکھ سے اتنی تباہی نظر آرہی ہے اگر دو آنکھیں ہوتیں تو کتنی زیادہ بربادی نظر آتی ۔۔۔

سرگودھا میں بچہ ایک آنکھ والا پیدا ہوا ۔ اس میں بچے کا کوئی قصور نہیں ۔ موشے دایان کی ایک آنکھ تھی اس میں اسکا بھی کوئی قصور نہیں تھامگر امریکہ کو ہ میں ہندوستان کی آنکھ سے دیکھنا بند کرنا ہوگا ۔ اور ہندوستان کو پاکستان خوامخواہ ایک آنکھ نہیں بھاتا اور اس تعصب کا علاج وہ شرپسندی سے کرتا ہے ۔ اگروہ دنیا کو جنگ میں جھونکیں گے تو پٹاخے چل جائیں گے ۔ اس لئے قیامت سے پہلے قیامت برپا نہ کریں ۔ ۔ ۔ کہ

شیخ رشید کی شادی والی ٹرین اور اچار

شیخ رشید ریلوے کے وزیر بنے تو کئی حادثات رونما ہوئے ۔ شروع شروع میں نام بدل بدل کر کئی ٹرینیں متعارف کروائی گئیں ماضی میں بھی ان کے دور میں ایک ہی ٹرین نام بدل بدل کر چلائی جاتی رہی تھی ۔ ’’ دل کوبہلانے کیلئے غالب یہ خیال اچھا ہے‘‘ ۔ مگر ہمارانظریہ یہ ہے کہ گاڑی چلتے رہنا چاہیے لہذا ہم خوش ہی ہوتے رہے ۔ مگر شیخ رشید کے تازہ ترین بیان نے ہ میں مسکرانے پر مجبورکردیا وہ کہتے ہیں ’’ٹرین روٹ سے ہٹ جائے تو حادثہ قراردے دیا جاتا ہے اور اٹھارہ سو ریلوے پھاٹک ایسے ہیں جہاں کوئی پھاٹک والا نہیں ہوتا‘‘ ۔ ۔ ۔ تو سوال یہ ہے کہ ٹرین روٹ سے کیوں ہٹتی ہے ;238; اور پھاٹک والے کیوں نہیں ہیں ;238; اس کا جواب عوام نہیں دے سکتی اور نہ ہی وہ ذمے دار ہیں ۔ یہ تو وزیر ریلوے کو کوشش کرنی ہے کہ ٹرین روٹ بدل بدل کر نہ چلائی جائیں بلکہ ڈسپلن اختیار کیا جائے تاکہ عوام حادثات اورمشکلات سے بچی رہے ۔

شیخ رشید نے شادی نہیں کی مگر ایک شادی والی ٹرین بھی چلا دی تھی جس پر ’’ اچار‘‘والوں نے چٹ پٹا اشتہار بھی بنادیاتھا جس میں دلہن چٹخارے لے رہی ہوتی ہے حالانکہ نئی نویلی دلہن کویوں سرعام چٹخارے لینے کی اجازت نہیں ہوتی کیونکہ خالائیں اور پھپھیاں وغیرہ دیکھ رہی ہوتی ہیں ۔ شیخ رشید کی شادی والی ٹرین اچار والے اشتہار کی حد تک ہی موجود رہی ۔ مگر یہ حقیقت ہے کہ محض بڑھکوں سے نہیں عملی طورپر ریلوے کا نظام ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے ۔ اب تو مسافر گھروں میں پہنچ کر کئی دن تک کھجاتے رہتے ہیں کیونکہ کھٹمل ہر سفر میں ان کے ساتھ محوسفر رہتے ہیں ۔

تخفیف اسلحہ کا دوہرا عالمی معیار

تخفیف اسلحے سے متعلق چند جوہری طاقتوں کا دوہرامعیارسمجھ سے بالاترہے ۔ اسی سبب ہمارے پڑوسی ملک کا ایٹمی صلاحیت میں اضافہ جنوبی ایشیا کے امن کےلئے خطرہ ہے ۔ پاکستان بھارت کے ساتھ جوہری تجربوں پر دوطرفہ پابندی پر آمادہ ہے جس پر خود بھارت کی جانب سے آمادگی کا اظہار کیا گیا تھا ۔ تخفیف اسلحہ کاعالمی ایجنڈا ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملکوں کی وجہ سے نامکمل ہے اس کی وجہ کچھ ریاستیں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاوَ کی تبلیغ کر رہی ہیں کچھ ریاستیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں میں بے پناہ اضافہ کر رہی ہیں ۔ پاکستان کو برابری کی بنیاد پر نیوکلیئر سپلائر گروپ کی رکنیت ملنی چاہیے ۔ امریکا اور بھارت میں جوہری معاہدہ خطے میں اسلحے کی دوڑ کا باعث بنا ۔ معاہدے سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بگڑا اور اب بھارت کا جوہری ہتھیاروں میں مزید اضافہ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے ۔ امریکی تھینک ٹینک ا نسٹی ٹیوٹ فار سائنس اینڈ انٹرنیشنل سکیورٹی نے انکشاف کیا ہے کہ جنگی جنون میں مبتلا بھارت اپنی جوہری طاقت میں تیزی سے اضافہ کر رہا ہے ۔ میسور کے قریب گیس سنٹری فیوج پلانٹ کی تعمیر مکمل کر چکا ہے جس سے یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں دو گنا اضافہ ہو گیا ہے ۔ اس کےلئے ضروری آلات بین الاقوامی بازار سے غیر قانونی طریقے سے خریدے گئے ۔ بھارت نے ابھی تک جوہری عدم توسیع کے معاہدے پر دستخط نہیں کئے اور اسی لئے وہ اپنے ایٹمی ری ایکٹر کا بین الاقوامی معائنہ کروانے کا پابند بھی نہیں ہے ۔ بھارت نے2010 ء میں میسور کے پاس اپنا دوسرا سنٹری فیوج پلانٹ بنانا شروع کیا اور اپریل میں سیٹلاءٹ سے لی جانے والی تصاویر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ پلانٹ میں کام شروع ہو چکا ہے ۔ امریکی جوہرے ادارے کے مطابق دنیا بھر میں جوہری مواد کے عدم تحفظ کی فہرست میں 32 ممالک شامل ہیں جن میں بھارت، چین ، شمالی کوریا اور اسرائیل کے جوہری مواد سب سے زیادہ غیر محفوظ ہیں ۔ جوہری مواد کے عدم تحفظ کے حوالے سے خصوصاً بھارت سرفہرست ہے جو دنیا کو سب سے زیادہ متاثر کر سکتا ہے ۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت کا ایٹمی پروگرام آغاز سے ہی عدم تحفظ کا شکار رہا ہے ۔ بھارت کی ایٹمی تنصیبات سے اب تک متعدد بار جوہری مواد چرایا جا چکا ہے ۔ بھارت میں انڈر ورلڈ اتنا مضبوط ہے کہ سیکیورٹی ادارے بھی اس کے سامنے بے بس ہیں ۔ جب وہ چاہتے ہیں اور جو چاہتے ہیں چوری کر لیتے ہیں یا سائنسدانوں کو اغوا یا قتل کر دیتے ہیں ۔ دسمبر 2006ء میں ممبئی کے نواح میں قائم ایٹمی ریسرچ سنٹر سے ایک کنٹینر ایٹمی اسلحہ میں استعمال ہونے والے پرزے لے کر روانہ ہوا اور غائب ہو گیا ۔ تاحال اس چوری کا پتہ نہیں چلایا جا سکا اور بھارت یہ بھی بتانے کو تیار نہیں کہ اس کنٹینر میں کیا کچھ تھا ۔ ان کے علاوہ 1984ء سے لے کر اب تک بھارت میں یورینیم کی چوری کے 152 کیس رجسٹر کرائے جا چکے ہیں ۔ جس کی پوری دنیا میں اور کوئی مثال نہیں ۔ یہ بھارت ہی ہے جس نے 1974ء میں پہلا ایٹمی دھماکہ کر کے جنوبی ایشیاء میں اپنی بالادستی قائم کرنے کےلئے پہلا قدم اٹھایا تھا اور یہ بھی بھارت ہی تھا جس نے 1998ء میں پوکھراں کے مقام پر پے در پے پانچ ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کو جوابی ایٹمی اقدامات کرنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ اب ان کے ہی سائنسدانوں نے ان دھماکوں کا پول کھول دیا ہے کہ 13 مئی 1998ء کو پوکھران میں کئے جانے والے بھارتی ایٹمی دھماکے اور ان پر کئے جانے والے تجربات ناکام رہے ۔ یہ صرف پاکستان کو ڈرانے دھمکانے کےلئے کئے گئے تھے ۔ بھارتی سائنسدان کا کہنا ہے کہ ایٹمی تجربات کے بعد جتنی مقدار میں ایٹمی پیداوار کا دعویٰ کیا گیا تھا وہ اس سے کہیں کم تھی ۔ پوکھران میں کئے جانے والے دو دھماکوں کے ایٹمی سگنلز کہیں بھی موصول نہیں ہوئے ۔ وہ ایٹمی دھماکے ہی نہیں تھے ۔ اگر ایٹمی دھماکے تھے تو ناکام تھے ۔ بھارت دراصل ہائیڈروجن بم کے تجربے میں ناکام رہا تھا اس نے بڑی کوشش کی تھی کہ ہائیڈروجن بم بنا لے مگر اس کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ بھارت کے ایٹمی ری ایکٹرز عدم تحفظ کا شکار ہیں ۔ کہیں تو ان کی ساخت میں گڑبڑ ہے تو کہیں ان کا وجود گردو پیش کی آبادی کےلئے خطرہ ہے ۔ اسی لئے بھارتی جوہری ری ایکٹروں سے تابکار مادوں کا اخراج عام بات ہے ۔ لہٰذا بین الاقوامی اداروں کو چاہیے کہ بھارتی ایٹمی پلانٹ بار ے اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور اس سے چشم پوشی نہ کریں کیونکہ ان کی عدم تحفظگی سے صرف بھارت نہیں پورے خطے کو سنگین خطرات لاحق ہیں ۔ آج کل جو پاک بھارت کشیدگی کے حالات ہیں ان میں بھارت کا جوہری استعداد میں اضافہ خطرنا ک ثابت ہو سکتا ہے ۔ ایک تو بھارتی جوہری پروگرام نقاءص سے بھرپور ہے اور پھر اس کے پاس جوہری ہتھیاروں کو استعمال کرنے کےلئے تربیت یافتہ عملہ بھی نہیں ہے ۔ اس صورتحال میں کہیں ایسا نہ ہو کہ بھارتی جوہری بموں کے نرغے میں خود بھارتی ہی آجائیں ۔

اسلام میں سزاءوں کاعمل

بد قسمتی سے مسلم دنیا اور بالخصوص پاکستان کا روشن خیال طبقہ جس کو اسلام اور مذہب کا دور دور سے واسطہ نہیں وہ بھی اسلامی سزاءوں تعزیرات اور قوانین کو جا ہلانہ اور ظالمانہ قرار دیتے ہیں ۔ اور اب یہی خا ص گروہ ناموس رسالت کے قانون اور اسلامی سزاءوں کوختم کرنے پر تُلا ہوا ہے ۔ وہ یہ بات سمجھنے سے قطعاً عاری ہے کہ وہ نام نہاد اور ترقی یافتہ ممالک جو اسلامی قوانین اور نظام کی مخا لفت کرتے ہیں وہاں اُنکی اپنی حالت کو نسی اچھی ہے ۔ اسلام ایک انتہائی دور اندیش مذہب ہے اور نغوذ باللہ اکیسویں صدی میں جب انسان چاند، مریخ اور دوسرے سیاروں پر قدم رکھ چکا ہے ، جدید سائنس اور ٹیکنالوجی ۴۱ سوسال پہلے قُر آن کی ایک آیت غلط ثابت نہ کر سکی ۔ جوں جوں سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کر تی جائی گی اسلام مزید نکھر تا جائے گا ۔ اگر ہم مختلف ممالک کے مجموعی جرائم کی تعداد دیکھیں تو اس میں 2کروڑ جر ائم کے ساتھ امریکہ سر فہرست، جبکہ دوسرے نمبر پر اُنکا حلیف بر طانیہ، تیسرے نمبر پر جرمنی اور دسویں نمبر پر دنیا میں دوسری بڑی جمہوری حکومت کا دعوہ کر نے والا ملک بھارت ہے ۔ یہاں یہ بات خوش آئند ہے کہ 50 ممالک کی اس فہرست میں کوئی مسلم ملک شامل نہیں ۔ اسی طر ح امریکہ میں عصمت دری کے سالانہ ایک لاکھ، کینیڈا میں 30 ہزار جبکہ اسکے برعکس اسلامی ممالک سعودی عرب اور قطر میں عصمت دری کے 12 اور30اقعات ہو تے ہیں ۔ اگر ہم کار چو رممالک کے 10 ٹاپ ممالک کی لسٹ کا تجزیہ کریں تو اس میں ایک بھی مسلم ملک نہیں ۔ اگرہم بین لاقوامی سطح پر طلاق کی شرح دیکھیں تو ٹاپ ٹین میں کوئی بھی مسلمان ملک شامل نہیں ۔ امریکہ جہاں پرطلاق کی شر ح یعنی 5 فی ہزار سالانہ، بر طانیہ میں 4فی ہزار جبکہ اسلامی ممالک میں سعودی عرب0;46;10 فی ہزار ہے جو نہ ہونے کے برابر ہے ۔ اس طر ح اگر ہم دنیا میں قتل کی شرح دیکھیں تو قتل کی شرح امریکہ میں پانچ ہزار فی لاکھ ، بر طانیہ میں چار ہزارفی لاکھ جبکہ سعو دی عرب میں قتل کی شرح فقط ایک فی لاکھ ہے ۔ با وجودیہ کہ جہاں پر اسلامی قوانین اور شریعت سختی سے لاگو بھی نہیں ۔ اگر ہم مندرجہ بالا تناظر میں دیکھیں تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی ممالک میں مختلف جرائم کی شرح وہاں پر راءج کسی حد تک اسلامی نظام اور اسلامی نطام کی وجہ سے اخلاقی، معاشی ، سماجی اور ثقافتی حدود کی وجہ سے ہے ۔ اگر ان اسلامی تعلیمات اورقدروں کو ختم کیا جائے تو مسلمان ممالک کی حالت ان کافروں سے بر تر ہو گی ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اسلام میں سزاءوں کا جو نُقطہ نظر ہے وہ نہ صرف استدلالی بلکہ عقلی ہے ۔ اسلام ایک عالمگیر مذہب ہے ۔ بعض روشن خیال لبرل قصاص اور دیت کو فرسودہ اور غیر اسلامی سزا گر دانتے ہیں ، مگر سورۃ البقرہ 178 میں ارشاد خداوندی ہے اور اے اہل عقل قصاص میں تمہاری زندگانی ہے کہ تم خونریزی سے بچو ۔ اگر مسلمان معاشرے میں قصاص اور دیت کا نُقطہ نظر نہ ہوتا تو آج امریکہ اور بر طانیہ کی طرح مسلمان ممالک میں قتل کی شرح میں نمایاں اضافہ ہو تا ۔ مگر ہماری خوش قسمتی یہ ہے کہ ہ میں ایک ایسا مذہب ملا ہے جو دنیا میں امن ، رواداری اور بھائی چارے کو فروع دینے والا ہے ۔ سورۃ بنی اسرائیل (33) میں ارشاد خداوندی ہے اور جو شخص ظلم سے قتل کیاجا ئے ہم نے ان کے وارث کو اختیار دیا ہے کہ ظالم قاتل سے بد لہ لے تو اسکو چاہئے کہ قتل کے قصاص میں زیادتی نہ کرے ۔ پروفیسر محمد قطب کہتے ہیں کہ 400 سال کے بڑے عر صے میں صرف 6 لوگوں کے ہاتھ چوری کے جرم میں کاٹے گئے ۔ اگر اسکے بر عکس ہم یو رپ اور بالخصوص امریکہ اور انکے اتحادیوں کو دیکھیں تو انہوں نے بنی نوع انسانوں کو مارنے اور قتل کر نے کےلئے کیا کیا خو ف ناک اور خطر ناک ہتھیار نہیں بنائے ۔ کیا ناگاساکی ، ہیرو شیما ، افغانستان اور عراق میں اسلامی نظام یعنی قصاص، دیت اور چوری کی سزا کی وجہ سے لاکھوں لوگ لُقمہ اجل بن گئے ۔ کیا عراق میں لاکھوں بچے قصاص دیت اور چو ری کی سزا کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ جہاں تک اسلام کی سخت سزاءوں کا تعلق ہے اس سے تو جرائم میں انتہائی حد تک کمی ہوئی ہے ۔ اقوام متحدہ کے نیشنل کمیشن فار نار کو ٹکس کنٹرول کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اور بالخصوص امریکہ میں بچوں کے ساتھ بد فعلی،گا ڑیوں کے ایکسیڈنٹ ، قتل اور جنسی جرائم کی سب سے بڑی وجہ شراب نو شی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے شراب نو شی کی سخت سزا مقرر کی ہے ۔ سورۃ البقرہ (218) میں ار شاد خداوندی ہے اے پیغبر لوگ تُم سے شراب اور جوئے کے بارے میں پو چھتے ہیں کہہ دو کہ ان میں نُقصانات بڑے ہیں ۔ حضور ﷺ کے دور میں جب اسلامی حکومت پورے عروج پر تھا ایک معزز خاندان کی عورت چوری کے الزام پکڑی گئی ۔ چوری کا یہ مقدمہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا ، کئی لوگوں نے سفارش کی کہ اس معزز خاندان کی عورت کو چوری کی سزا نہ دی جائے ،آقائے نامدار ﷺ نے فر مایاکہ آپ سے پہلی قو میں اسی وجہ سے تباہ ہوئی تھیں کیونکہ وہ عام لوگوں سزاتو دیتے تھے اور خواص کو کھلا چھوڑ دیتے ۔ خداکی قسم کہ اگر محمدﷺ کی بیٹی حضرت فا طمہ;230; پر بھی چوری کا جرم ثابت ہو جاتا تو اُسکا بھی ہاتھ کا ٹ دیا جاتا ۔ ا سطرح حضرت عمر ;230; کے دور خلافت میں سخت قحط تھا اور ایک آدمی نے چوری کی مگر حضرت عمر ;230; نے بھوک افلاس اور قحط کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹنے کی سزا معاف کر دی ۔ اس طر ح اسلام میں زنا کی جو سزا رکھی گئی ہے وہ بھی غیر عقلی اور استد لالی مبہم نہیں ۔ خدارا ان سزاءوں کا مذاق نہ اُڑایا جائے بلکہ انہی سزاءوں اور اسلامی تہذیب و تمدن کی روایات کی وجہ سے دنیا کے اکثر اسلامی ممالک جرائم کی شرح کسی حد تک کم ہے ۔ حالانکہ انہی اسلامی ممالک میں کوئی آئیڈیل اسلامی نظام نہیں ۔

امرےکہ کے مشرق وسطیٰ مےں پس پردہ مقاصد

سعودی عرب مےں دنےا کی سب سے بڑی تےل فراہم کرنے والی کمپنی آرمکو کی خرےص اور بقےق مےں قائم دو تنصےبات پر حوثی باغےوں کی طرف سے ڈرون حملے کئے گئے ۔ سعودی تےل پر حملے کی ذمہ داری حوثی باغےوں نے قبول کی تھی لےکن امرےکہ اور سعودی عرب نے ا ن حملوں کا ذمہ دار اےران کو ٹھہراےا جبکہ اےران اس کی سختی سے تردےد کر رہا ہے ۔ سعودی تنصےبات پر حملے کے بعد امرےکہ اور اےران آمنے سامنے آ گئے اور دونوں کی جانب سے لفظوں کی گولہ باری جاری ہے جس کے جواب مےں اےرانی وزےر خارجہ جواد ظرےف نے کہا ہے کہ جنگ ہوئی تو ےہ محدود نہےں بلکہ پورا خطہ لپےٹ مےں آئے گا ۔ امرےکی چےنل کو دیے گئے انٹروےو مےں انہوں نے کہا کہ جو جنگ کی شروعات کرے گا وہ جنگ کا اختتام نہےں کرے گا ۔ سعودی عرب ےا امرےکہ کی جانب سے اےران پر کسی بھی حملے کا مطلب کھلی جنگ ہو گا ۔ جواد ظرےف نے مزےد کہا کہ سعودی عرب کے آرمکو کے تےل تنصےبات پر حملہ کا معاملہ غلط سمت کی طرف لے جاےا جا رہا ہے اگر اقوام متحدہ نے غےر جانبدارانہ تحقےقات کےں تو ثابت ہو جائے گا کہ حملہ اےران نے نہےں کےا ۔ ےہ سچ ہے کہ حوثی قبائل سعودی عرب سے مقابلہ کےلئے روس اور اےران سے ہتھےار لے رہے ہےں جن مےں راکٹ اور مےزائل بھی شامل ہےں اور اب ڈرون بھی شامل ہو گئے ہےں ۔ ان حالات مےں ےہ بات قرےن قےاس ہے کہ حالےہ حملے مےں ےمن کے حوثی قبائل کا ہی ہاتھ ہو اگر اےران کے ملوث ہونے کا خےال کےا جائے تو سوال ےہ ہے کہ اس حملے سے اےران کے کون سے مفادات وابستہ تھے ۔ بظاہر تو اےسا کچھ دکھائی نہےں دےتا بلکہ اس کے بر عکس اےران کا نقصان ہی ہوا ہے اور امرےکی صدر نے اےران پر مزےد پابندےاں عائد کرتے ہوئے اےران کے مرکزی بےنک نےشنل ڈوےلپمنٹ فنڈ اور مالےاتی کمپنی اعتماد تجارت پارس پر پابندےاں عائد کرتے ہوئے کہا کہ اےران کو مہلت دی ہے اگر چاہوں تو ےہاں کھڑے کھڑے15اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہوں ۔ ابتدائی مرحلے مےں فوری طور پر تحقےقات سے قبل ہی امرےکہ نے اےران کو مورد الزام ٹھہرا دےا تھا کہ حملہ آور اےران ہی ہے ۔ بعض ناقدےن اےران اور سعودی عرب تنازعہ کو مسلک سے منسلک کرتے ہےں کہ چونکہ اےران اےک شےعہ رےاست ہے اور سعودی عرب مےں آل سعود کی حکمرانی ہے جو وہابی فکر کے پےروکار ہےں لےکن سوال پےدا ہوتا ہے کہ اگر ےہ مسلکی جنگ ہے تو انقلاب اسلامی اےران سے پہلے ےہ مسلکی جنگ کےوں نہ تھی وجہ صرف اتنی تھی کہ اس وقت ہر دو ممالک کا آقا و مالک اےک ہی ےعنی دونوں امرےکی تابعداری مےں تھے مگر پھر 1970ء مےں اسلامی انقلاب کے بعد اےران مےں امرےکی پٹھو حکومت کی چھٹی ہو جاتی ہے ،امرےکہ کا سفارت خانہ بند کر دےا جاتا ہے ۔ اسرائےلی سفارت خانے کی جگہ فلسطےن کا سفارت خانہ کھولنا امرےکہ کو اےک آنکھ نہےں بھاتا ۔ امرےکہ کی شہہ پر ہی انقلاب اسلامی کے اےک سال آٹھ ماہ بعد عراق اےران پر حملہ کر دےتا ہے ۔ ےہ جنگ 9سال جاری رہنے کے بعد اےران کا پلڑا بھاری دےکھتے ہوئے 20جولائی 1987ء کو اجلاس بلا کر سےز فائر کا مطالبہ کرتے ہوئے بغےر کسی نتےجہ کے رکوا دی جاتی ہے ۔ مشرق وسطیٰ مےں امرےکہ نے کوئی اےسا ملک نہےں چھوڑا جو اسرائےل کو ٹکر دے سکے ۔ درےں صورت مقصد اےران کو عراق بنانے اور خطے کے دےگر ممالک کو اپنا اسلحہ بےچنے کے سوا کچھ نظر نہےں آتا ۔ امرےکہ دنےا مےں اسلحے کا سب سے بڑا بےوپاری ہے جو دنےا کا 30فےصد اسلحہ فراہم کرتا ہے اور گزشتہ چھ سال سے دنےا مےں اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک مےں سر فہرست ہے ۔ امرےکہ نے صرف دو برس مےں عرب امارات اور سعودی عرب کو 25ارب ڈالر کے ہتھےار بےچے ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق امرےکہ سے دنےا کے 27ممالک اسلحہ خرےدتے ہےں ۔ ان 27مےں سے 2oاےسے ممالک ہےں جو ہر وقت کسی نہ کسی ملک سے بر سر پےکار ہےں ۔ امرےکہ اےران کا خوف دلا کر سعودےہ سے اپنا مقصد حاصل کرنے مےں کامےاب ہو گےا اب مقدس سرزمےن پر صلےبی اور صےہونی فوجی تعےنات ہوں گے جس کا عربوں سے بھاری معاوضہ وصول کےا جائے گا جبکہ امرےکہ سعودی عرب اور ےو اے او کو اربوں کے ہتھےار بھی بےچے گا ۔ حوثی سےاسی کونسل کے سربراہ مہدی المشاط نے سعودی عرب پر مےزائل اور ڈرون حملے روکنے اور جنگ بندی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ سعودی عرب پر مےزائل و دےگر ہتھےار نہےں چلائےں گے لےکن پھر بھی امرےکی صدر کی طرف سے مزےد فوجی دستے سعودی عرب بھجوانے کا اعلان کر دےاگےا ہے ۔ امرےکہ کی طرف سے سعودی عرب کی اصل قوت پر قبضے کی جنگ ابھی شروع ہوئی ہے اور تےل کی قوت کو اپنے قبضے مےں کرنے کےلئے ساری بساط بچھائی جا رہی ہے ۔ سعودی عرب مےں جن خطرات کا اظہار زوروشور سے کےا جا رہا ہے وہ تو تےزی سے ختم ہو رہے ہےں ۔ اگر امرےکہ چاہتا تو وہ حوثی باغےوں کے مبےنہ ڈرون اور مےزائل حملوں کو اپنے جدےد مےزائل سے ناکام بنا سکتا تھا لےکن اےسا نہےں کےا گےا ۔ معزز قارئےن عالم اسلام کے افق پر جتنے سےاہ بادل آج چھائے ہوئے ہےں وہ اسلامی تارےخ مےں شائد پہلے کبھی نہ تھے ۔ تےرہوےں صدی سے رفتہ رفتہ زوال و تنزل کا شکار مسلم تارےخ آج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اسلامی ممالک اپنی خود مختاری اور سالمےت کےلئے بھی اپنے دشمنوں کے مرہون منت ہےں ۔ عالم اسلام کی سادہ دلی کا اندازہ اس حقےقت سے کےا جا سکتا ہے کہ افغانستان کے بعد عراق ،لےبےا ،شام پر امرےکی تصرف کے باوجود بعض مسلم ممالک امرےکہ سے دوستی کا دم بھرتے نہےں تھکتے ۔ عراق مےں صدام کی پےدا کردہ اذےت ناک صورت احوال کا فائدہ بھی امرےکہ نے ہی اٹھاےا ۔ اےک زمانہ وہ بھی تھا جب قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو نے عالم اسلام کے سربراہ کے ےادگار اجتماع مےں تےل کے ذخائر کو ہتھےار کے طور پر برتنے کا واضح اشارہ دے کر ڈاکٹر ہنری کسنجر(سابق وزےر خارجہ امرےکہ)کے سامنے اپنے مخصوص لب ولہجے مےں اےشےاء کی زمےن کا مستقبل سنوارنے کا عزم ظاہر کےا تو امرےکہ نے اس خطرے سے نمٹنے کا فےصلہ کر لےا ۔ امرےکہ نے جمہورےت کی کوکھ سے جنم لےنے والے عوامی رہنما کی بجائے فوجی آمرےت قائم کرنے کا منصوبہ تےار کےا اور فوجی آمر کے ہاتھوں اس خطرے سے نجات حاصل کی ۔ اسی طرح اس نے مختلف مسلم ممالک مےں اےسی حکومتوں کی تشکےل مےں دلچسپی کا اظہار کےا جو عوام کی خواہشوں کے برعکس امرےکی مفادات کی خاطر سر گرم عمل ہونے مےں اپنی بقا کا سامان ڈھونڈنے لگےں ۔ صدام نے اےران اور کوےت پر چڑھائی کرنے مےں امرےکہ کی خوشنودی حاصل کی لےکن در پردہ امرےکہ تےل کے ذخےروں پر نظر رکھے ہوئے قدم بہ قدم آگے بڑھتا رہا اور پھر عراق کا سب کچھ تباہ ہو چکا تو اس کے تےل کے کنووں کی حفاظت پر مستعد نظر آےا ۔ امرےکہ کا مقصود اس وقت دوسرے ممالک پر بالا دستی حاصل کرنا ،اسرائےل کی توسےع پسندانہ پالےسی کی حماےت کرنا اور مشرق وسطیٰ مےں تےل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے ۔ اےک رپورٹ کے مطابق امرےکہ سےٹلاءٹ کے ذرےعے اےران کے تمام خفےہ ٹھکانوں ،دفاعی تنصےبات اور اےٹمی مراکز کی تصاوےر حاصل کر چکا ہے ۔ امرےکی ماہرےن کا دعویٰ ہے کہ اےران کی تنصےبات اےک ہی حملے مےں اےک دن مےں تباہ کر سکتے ہےں ۔ امرےکہ اےران کے خلاف جارحےت کی آڑ مےں ہمساےہ ممالک کے ساتھ اےران کے تعلقات کو نہ صرف بری طرح متاثر کرنا چاہتا ہے بلکہ ان کے درمےان مستقل مخالفت اور عداوت پےدا کرنے کے مقاصد رکھتا ہے ۔ وہ مسلمانوں کو بے دست و پا بنا کر انہےں اقتصادی اور سےاسی اعتبار سے غلام بنانے کے مشن پر کاربند ہے ۔ اگر کوئی مسلمان ملک امرےکہ کی دوستی کے حوالے سے اپنے آپ کو محفوظ و مامون خےال کرتا ہے تو ےہ اس کی بھول ،خوش فہمی بلکہ خود فرےبی ہے ۔ پےشگی حملہ ،دہشت گردی ،جمہورےت ،مذہبی انتہا پسندی ،بنےادی انسانی حقوق دراصل وہ ٹولز ہےں جن کے ذرےعے امرےکہ دنےا کے جغرافیے کو تہہ و بالا کئے دے رہا ہے ۔ ےہی بات مسلم ممالک کے سمجھنے کی ہے کہ وہ دن دور نہےں جب اسکو دوست سمجھنے والے ممالک امرےکہ کی جمہوری اصلاحات کی زد مےں آکر اپنا تشخص کھو دےں گے ۔

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر کے مابین ملاقات

وزیراعظم عمرا ن خان اور ٹرمپ کے مابین ملاقات کامیاب رہی ، ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات کو تسلیم کیا کہ نریندر مودی نے جلسے میں سخت زبان استعمال کی جبکہ عمرا ن خان عظیم لیڈر ہیں وہ ایسے حالات میں بھی امن کی بات کرتے ہیں اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وزیراعظم عمران خان قائداعظم;231; کا وژن رکھتے ہیں اور وہ اسی کو لے کر چل رہے ہیں چونکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے ۔ اس مسئلہ کے حل کے بغیر برصغیر پاک و ہند کی تقسیم ہی نامکمل ہے جب تک یہ مسئلہ حل نہیں ہوتا خطے میں امن و امان کا قیام ناممکن ہے ۔ پھر مودی کے ہوتے ہوئے جس کی پرورش ہی دہشت گرد تنظیم آر ایس ایس نے کی وہ کیونکر خطے میں قیام امن کا داعی ہوسکتا ہے ۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہمیشہ مذاکرات کی بات کی ۔ اس حوالے سے بھارت کو پیشکش کی لیکن بھارت نے ہمیشہ پاکستان کی آفر کو ٹھکرایا اور امن کی خواش کو کمزوری جانا لیکن اب حالات مختلف ہو چکے ہیں ۔ مودی نے وادی سے 370 اور 35 اے کو ختم کرکے سمجھا کہ وہ کشمیریوں کی آزادی کو سلب کرلے گا لیکن یہ اس کی خام خیال تھی مودی کے اس اقدام سے تحریک آزادی کشمیر کو مزید جلا ملی ۔ تحریک زور پکڑ گئی ، آج یہ تحریک وہاں پہنچ چکی ہے جہاں 70 سال سے نہ پہنچ سکی تھی ۔ پوری دنیا کے سامنے مودی فاشسٹ کا چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے بھارت میں جمہوریت ایک کلنک کا ٹیکہ ہے ۔ جہاں لوگوں کو کوئی بنیادی حقوق حاصل نہیں ۔ وادی تو عقوبت خانہ بن چکا ہے ، لگاتار کرفیو کی وجہ سے وہاں زندگی سسک رہی ہے ۔ ذراءع مواصلات بند ہیں ، تمام انسانی بنیادی ضروریات ناپید ہیں چونکہ عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کشمیریوں کے سفیر ہیں لہذا وہ بھرپور طریقے سے مسئلہ کشمیر کو اٹھا رہے ہیں ۔ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی کہاکہ وہ مقبوضہ کشمیر سے کرفیو ختم کرائیں جس پر ٹرمپ نے کہاکہ میں مودی سے بات کروں گا ۔ اب وقت بات کرنے کا نہیں کسی طورپر کچھ کرنے کا ہے ۔ نامعلوم بین الاقوامی برادری کس لمحے کا انتظار کررہی ہے ۔ عمران خان نے کہا ہے کہ دونوں ممالک ایٹمی قوت کے حامل ہیں اور ان کے مابین جنگ کے کچھ بھی نتاءج نکل سکتے ہیں پھر مودی اور اس کی حکومت اس حوالے سے بالکل غیر سنجیدہ ہے ۔ مودی کے ہوتے ہوئے کسی بھی وقت کسی بھی خطرناک صورتحال سے دوچار ہوسکتا ہے ۔ ہیوسٹن میں مودی نے جو زبان استعمال کی وہ اس امر کی غماز ہے کہ بھارتی وزیراعظم سے کسی بھی اقدام کی بعید کی جاسکتی ہے ۔ امریک صدر نے وزیراعظم سے ملاقات میں ایک مرتبہ پھر اپنی ثالثی کی پیشکش کو دہراتے ہوئے کہاکہ اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو وہ مسئلہ کشمیر حل کرانے کیلئے تیار ہیں ۔ پاکستان تو اس حوالے سے پہلے ہی تیار ہے کیونکہ پاکستان سمجھتا ہے کہ تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا لیکن بھارت نے اس سے ہمیشہ فرار اختیار کرتا ہے اور کررہا ہے ۔ اس مسئلہ میں تین اہم ترین فریق ہیں جس میں فریم اول کشمیری، دوئم پاکستان اور سوئم بھارت ہے پھر پاکستان یہ بھی کہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر کو استصواب رائے سے حل کیا جائے ۔ لیکن بھارت ہمیشہ کی

طرح اب بھی راہ فرار ہی اختیار کررہا ہے ۔ امریکہ بھی یہی چاہتا ہے کہ کشمیر میں ہر ایک کیساتھ برابر سلوک ہو ۔ وہاں کسی کی حق تلفی نہیں ہونی چاہیے ۔ آج جو امریکہ یہ ساری باتیں کررہا ہے اس کا کریڈٹ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور خصوصی طورپر عمران خان کو جاتا ہے ۔ بہترین سفارتکاری کی وجہ سے آج یہ مسئلہ اس جگہ پہنچ چکا ہے جس جگہ اس نے حل ہونا ہے ۔ یاں ہی سے بھارت کی شکست و ریخت شروع ہوگی ۔ امریکی صدر و پاکستان کے وزیرازعظم کی ملاقات کے دوران عمران خان نے کہا کہ ٹرمپ دنیا کے طاقتور ترین صدر ہیں اس اعتبار سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر اثر ڈال سکتے ہیں مسئلہ کشمیر حل کرانا واشنگٹن کی ذمہ داری ہے ۔ نیز امریکہ چاہے تو یہ مسئلہ فی الفور حل ہوسکتا ہے ۔ اب کشمیر آزادی سے نیچے کسی بات پر سمجھوتہ نہیں کیں گے ۔ 70 سالوں سے جو قربانیاں دی ہیں ان کا ثمر ملنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔ عمران خان نے مزید کہاکہ امریکہ طالبان سے دوبارہ مذاکرات کرے دوسری جانب امریکی صدر نے پاکستان سے تجارت بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا ۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ پاکستان کے وزیراعظم سے ملنا اعزاز کی بات ہے ۔ یوں تو ان تین دنوں میں بہت سے وزرائے اعظم ، صدور اور سربراہان مملکت ملنا ہے لیکن عمرا نخان سے ملنے کی خواہش زیادہ تھی ۔ مجھ سے قبل امریکی قیادت نے پاکستان سے اچھا سلوک نہیں کیا عمران خان نریندر مودی سے بہت بہتر انسان ہیں ۔ وزیراعظم پاکستان کا نیو یارک میں بے حد مصروف دن گزرا ۔ انہوں نے چین کے وزیر خارجہ ، برطانوی وزیراعظم سمیت بہت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ایمنسٹی انٹرنیشنل کے وفد سے ملاقات کے دوران عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور وہاں پر انسانی حقوق کے حوالے سے آواز اٹھانے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کا شکریہ ادا کیا اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بریفنگ دی ۔ کونسل آف فارن ریلیشنز سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہاکہ کرتارپور راہداری ہمسایوں سے اچھے تعلقات کیلئے بنائی ہے ۔ کشیدگی کم کرنے کیلئے بھارتی پائلٹ واپس کیا ۔ ایف اے ٹی ایف میں بھارت نے پاکستان کیخلاف لابنگ کی ایسے حالات میں بھارت سے کیسے بات چیت کرسکتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کو اپنا کردارادا کرنا ہوگا ۔ 80 لاکھ کشمیری پابند سلاسل ہیں ، انسانی حقوق کا بڑا المیہ جنم لے رہا ہے ۔ عمران خان نے کہاکہ نائن الیون کے بعد پاکستان نے امریکہ کی جنگ میں شرکت کرکے بہت بڑی غلطی کی ۔ افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ نے پاکستان کو تنہا چھوڑ دیا ۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان 200 ارب کا نقصان کرچکا ہے اس کے علاوہ جو قیمتی جانیں گنوائیں وہ عیلحدہ ہیں ۔ بین الاقوامی دیکھ لے کہ پاکستان کی اس سلسلے میں کتنی قربانیاں ہیں ۔ خطے کے حالات کو درست نہ کیا گیا ، مسئلہ کشمیر کو حل نہ کیا گیا تو بہت دگرگوں حالات پیدا ہوسکتے ہیں ۔ دنیائے عالم کو آگے بڑھنا ہوگا اور مودی کی بربریت کو روکنا ہوگا ۔

آزادی مارچ کھٹائی میں پڑ گیا

جمعیت علمائے اسلام جے ےوآئی( ف) کے سر براہ مولانا فضل الر حمن نے کہا ہے کہ ایک دو روز میں آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کر دیں گے اور میں عمران خان کو کسی صورت این آر او نہیں دوں گا‘ ہ میں امید ہے حزب اختلاف کے ساتھ جو معاملات طے ہوئے ہیں وہ اس پر عمل کریں گے اور ;200;پ دیکھیں گے سب ایک ساتھ ہوں گے‘قوم مہنگائی اور دیگر مسائل میں پس چکی ہے اور اس کی ذمہ دار یہ نام نہاد حکومت ہے جس کے بننے کے بعد امریکہ اور یورپ پوری طرح سے متحرک ہیں ‘ جے یو ;200;ئی ہند کا کشمیر پر بھارت کی حمایت ان کا اپنا معاملہ ہے اور ہم پاکستان میں کھڑے ہیں ۔ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہ میں امید ہے حزب اختلاف کے ساتھ جو معاملات طے ہوئے ہیں وہ اس پر عمل کریں گے اور ;200;پ دیکھیں گے سب ایک ساتھ ہوں گے ۔ ہم اس سے پہلے بھی متعددمارچ کر چکے ہیں اور تن تنہا آزادی مارچ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ یہ مارچ ناموس ختم نبوت، مہنگائی اور نا انصافیوں کے خلاف ہو گا جس کے خلاف قادیانیت اور یورپ سرگرم ہیں ۔ سربراہ جے یو آئی ف نے کہا کہ قوم مہنگائی اور دیگر مسائل میں پس چکی ہے اور اس کی ذمہ دار یہ نام نہاد حکومت ہے جس کے بننے کے بعد امریکہ اور یورپ پوری طرح سے متحرک ہیں ۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ آزادی مارچ کی حتمی تاریخ کا فیصلہ ایک دو روز میں کر لیں گے ۔ ;200;زادی مارچ کی حکمت عملی بنائی جائی گی اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد جلد اعلان کر دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ جے یو ;200;ئی ہند کا کشمیر پر بھارت کی حمایت ان کا اپنا معاملہ ہے اور ہم پاکستان میں کھڑے ہیں ۔ حکومت اور (ن) لےگ میں ڈیل سے متعلق میرے پاس کوئی اطلاعات نہیں ہیں ، ملک میں باربارفراڈ حکومتیں بنتی ہیں اورملک کوبیچ دیا جاتاہے اب اس کے متحمل نہیں ہوسکتے، عمران خان کو ان کے فیصلوں پر کوئی این ;200;ر او نہیں دیں گے، حکومت کشمیرکوبیچ کر اب بین بھی کررہی ہے ۔

لوگوں کاجینادوبھرہوگیاہے

یہ صحیح ہے کہ کرپشن اور مہنگائی پاکستان کو کھا گئی ہے اور عمران خان وزیر اعظم پاکستان ابھی تک کچھ بھی نہیں کر سکے ۔ یہ بھی صحیح ہے کہ آج کل ملک میں کرپشن کے متعلق اتنی آگاہی ہو گئی ہے جیسے کرکٹ کی ۔ شاید یہ بھی عمران خان کے کرکٹ کے بیک گروائنڈ کی وجہ سے ہے ۔ یہ بھی صحیح ہے کہ کرپشن کو عوام میں اُجاگر کرنے کے لیے جماعت اسلامی کے سابق امیر اور سینیٹر مرحوم قاضی حسین احمد صاحب نے شروعات کی تھیں ۔ مگر یہ بھی صحیح ہے کہ عمران خان آپ نے کرپشن سے نفرت کے شعور کوعوام میں بامِ عروج تک پہنچا یا ۔ یہ ایک اچھا شگون ہے ۔ پاکستان کے ووٹروں میں کرپشن کے متعلق زیاد ہ سے زیادہ معلومات ہونگی تو وہ اپنے نمائندے منتخب کرنے میں آسانی محسوس کریں گے ۔ کچھ عرصہ قبل مجھے ایک دفعہ کوءٹہ بلوچستان میں پاکستان کے ایک بڑے ٹھیکیدار سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ یہ ٹھیکیدار صاحب پاکستان بننے سے پہلے انگریزوں کی حکومت میں بھی ٹھیکیداری کرتے تھے ۔ اس نے مجھے اپنی جدو جہد پر لکھی گئی کتاب پڑھنے کے لیے دی ۔ اس کتاب میں ان کی زندگی کا حالات لکھے ہوئے تھے ۔ ایک مزدور سے ترقی کرتے ہوئے ،بہت بڑے ٹھیکیدار بننے کی جدو جہد لکھی ہوئی تھی ۔ وہ اس طرح کہ میں ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازم تھا ۔ وہ کمپنی ہاءوس ہولڈ آٹمز یعنی سلائی مشینیں ، ریفریجریٹرز، گیس کے کوگنگ رینج، گیس کے گیزر وغیرہ فروخت کرتی ہے ۔ بولان یونیورسٹی میں نصب کرنے کےلئے اس ٹھیکیدار نے کمپنی سے گیس کے گیزرز خریدے تھے ۔ کمپنی کی طرف سے گیس کے گیزروں کی تنصیب کے متعلق وزٹ کے دوران میری ان سے ملاقات ہوئی ۔ ملاقات کے دوران ملکی سیاست اور دوسری باتوں کے علاوہ کرپشن پر بھی بات ہوئی ۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ کچھ بتا سکیں گے کہ انگریز بھی رشوت لیتے تھے ۔ ٹھیکیدار صاحب نے جواب میں بتایا کہ ہاں لیتے تھے مگر بہت ہی کم ۔ میرے سوال کی کتنے کم ۔ تو ا نہوں نے کہا کہ اورسینئر صاحب کو ہم ایک پرسنٹ رشوت دیتے تھے تم ہ میں بل ملتا مگر وہ شرمندہ ہو کر رشوت لیتا تھا ۔ صاحبو! اب پاکستان میں شرم نام کی کوئی چیز نہیں ۔ پاکستان میں رشوت ہی رشوت ہے ۔ کرپشن ہی کرپشن ہے ۔ کسی نے کرپشن میں ایم اے اور کسی نے پی ایح ڈی کی ہوئی ہے ۔ کرپشن میں نام پیدا کرنے والے سیاستدانوں میں ایک صاحب نے گزشتہ دور میں کرپشن کے کیسز میں سالوں قید کاٹی ۔ کرپشن پکڑنے والے اداروں میں اپنے بندے نوکر کروائے ۔ انہوں نے کرپشن کا ریکارڈ ہی غائب کر دیا ۔ نیب کے سربراہ نے سپریم کورٹ کی طرف سے مانگے گئے میگا کرپشن کیسز میں یہ کہتے ہوئے ان کا کیس بند کر دیا کہ فوٹو اسٹیٹ پر مقدمے نہیں چل سکتے ۔ شہری معلوم کرنا چاہتے ہیں کہ صاحب آپ ریکارڈ غائب کرنے والوں کے خلاف انکوائری کر کے جرم ثابت ہونے پر سزا کیوں نہیں دیتے ۔ ایسے تو سفارشی ملازموں کے حوصلے بڑھتے ہیں ۔ اگر آپ انکوائری کرتے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ۔ اب جب پان والے، دہی بھلے والوں اور پکوڑے والوں کے نام سے جعلی اکاءونٹ اور منی لانڈرنگ یعنی کرپشن میں پکڑے گئے تو شرمندگی کے اظہار کے بجائے وکٹری کا نشان بناتے ہوئے سیکورٹی وین میں بیٹھتے ہیں ۔ ایک دوسرے سیاست دان کواگر پاکستان کی سپریم کورٹ ۲۶ ۔ ۳۶ پر پورانہ اُترنے پر عمر بھر کے لئے سیاست سے نا اہل قرار دیتے ہیں توکہتے ہیں مجھے کیوں نکالا ۔ بجائے بے گناہی ثابت کرنے کے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ اورفوج پر حملے کرتے ہیں ۔ کہتے ہیں جمہورت خطرے میں ہے ۔ ملک میں مارشل لا لکھنے والا ہے جبکہ نہ جمہوریت رکھی نہ ہی مارشل لا لگا ۔ ملک کا جمہوری نظام پہلے کی طرح چلتا رہا ۔ ہاں اللہ نے پاکستان کے غریب عوام کی سنی اور کرپٹ لوگوں کے لئے جینا دشوار کر دیا گیا ۔ شہروں شہر مظاہرے کر کے پاکستان کے دشمنوں اور غداروں کے لیے کہتے ہیں کہ وہ سچ کہتے تھے ۔ اگر مجیب کی بات مان لی جاتی تو پاکستان نہ ٹوٹتا ۔ جناب آپ ہی اپنی اداءوں پر ذرا غور کریں کہ آپ پاکستان توڑنے والوں کو آپ پاکستان کے عوام کے سینوں پر مونگ دلتے ہوئے اپنے گھر بغیر ویزے کے بلاتے ہیں ۔ اپنے دوست اور پاکستان کے دشمن اسٹیل ٹائیکون کو مری میں بغیر ویزے کے بلا کر گلبھوشن کےلئے نرم گوشے کا پیغام سنتے ہیں ۔ جب لوگ سوال کرتے ہیں کہ آپ کی آمدنی سے آپ کے رہن سہن آپ کے اخراجات سے لگا نہیں کھاتی توکہتے ہیں آپ کو کیا تکلیف ہے;238; ۔ جب منی ٹرائل نہ دینے کی وجہ سے قید کی سزا ملتی ہے تو کہتے ہیں ہم نے ایک پائی کی بھی کرپشن نہیں کی ۔ یا اللہ ایسی حالت میں ملک کے ووٹر کہاں جائیں جن کے خزانے پر اقتدار میں رہتے ہوئے ڈاکہ ڈالنے والے ایسی دیدہ دیلری اور میڈیا کے زرو پر عوام کو مسلسل دھوکے میں رکھیں تو ووٹر کہاں جائیں ;238;عمران خان بھی کرپشن کے مسئلہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی کارکردگی کو چھپانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ۔ ملک میں مہنگائی زوروں پر ہے ۔ بجلی گیس کے بلوں میں بے انتہا اضافے سے لوگوں کا جینا دو بھر ہو گیا ہے ۔ حکومت کی کارکردگی اُس بندر کی ماند لگتی ہے جو جنگل میں ایک درخت سے دوسرے درخت پر جمپ لگاتا پھرتا ہے اور حاصل ضرب کچھ نہیں نکلتا ۔ پھر بھی کہتا ہے کہ دیکھو میں کتنا مصروف ہوں ۔ عمران خان صاحب آپ جتنے بھی مصروف ہیں عوام کو نظر آرہے ہیں ۔ مگر حاصل ضرب کچھ نہیں نکل رہا ۔ آپ نے عوام کوٹیکسوں کے انبار میں تلے دبا دیا ہے ۔ بجلی گیس کے بل بڑھ گئے ہیں ۔ مہنگائی آسمانوں تک پہنچ رہی ہے ۔ اور آپ نے پاکستان کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا ہے ۔ آئی ایم ایف کے ملازمین سے آپ نے بجٹ بنوایا ہے ۔ اب ڈالر آپ کے کنٹرول میں نہیں ہے ۔ آسمان سے باتیں کر رہاہے ۔ آئی ایم ایف کے مطابق ہر تین ماہ بعد بجلی گیس کے بلوں میں اضافہ ہوگا ۔ آپ بے بس ہو چکے ہیں ۔ آپ نے آئی ایم ایف سے لائے گئے وزیر خزانہ کے ساتھ کسی صاحب کو لگا یا تو آئی ایم ایف نے ایکشن لے کر اسے ہٹا دیا ۔ عمران خان صاحب آپ یہ بتائیں کہ پاکستان ، پاکستانی عوام کا ہے یا آئی ایم ایف کا ۔ آپ جس ملائیشیا کے وزیر اعظم صاحب کی مثالیں دیتے ہیں ۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم نے کہا تھا ۔ جس ملک کو برباد کرنا ہے اُسے آئی ایم ایف کے حوالے کر دو ۔ بھائی آئی ایم ایف بین الالقوامی شہکاروں کا ادراہ ہے ۔ اس کا کام غریب ملکوں سے سود اور اپنا قرض وصول کرنے کا کام ہے ۔ یہ غریب قوموں کاخون چوسنے والے ادارے ہیں ۔ ان سے جتنی جلدی ہو پاکستان کی جان چھڑاءو ۔ آپ کے ارد گرد ڈکٹیٹر مشرف، پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم کے کرپٹ لوگ ہیں ۔ ان کے ہوتے ہوئے مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کا خواب پوراہوتا ہوا نظر نہیں آتا;238; آپ نے ابھی تک کسی بھی کرپٹ سے پیسہ واپس لے کر خزانے میں داخل نہیں کروایا ۔ آپ کو چاہیے کہ لوٹا پیسہ واپس لے کر غریب عوام کے خانے میں جمع کراءو، ملک سے جتنی جلدی ہو سکے مہنگائی ختم کراءو ۔ ورنہ مکافات عمل کیلئے تیار رہو ۔ اللہ ہمارے ملک کو ان آفتوں سے بچائے ۔ آمین
Google Analytics Alternative