کالم

جولائی2018 کے شفاف عام انتخابات ۔ نام نہاد واءٹ پیپر

’فرائیڈے اسپیشل‘کے ۱۲ جولائی کے شمارے میں شاءع ہونے والے کالم نگارشاہ نواز فاروقی نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں کی ناپختگی کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے، اْنہوں نے بہت خوب لکھا کہ’شریفوں ‘اور’زرداریوں ‘ کارنامہ یہ ہے کہ اْنہوں نے اپنے ووٹروں اور ہمدردوں کے لئے بدعنوانیوں کوذہنی اور نفسیاتی اعتبار سے قابل قبول بناکر اْنہیں ذہنی اور نفسیاتی سطح پر کرپٹ بنا دیا ہے’’چراغ لے کر ڈھونڈا کرئے کوئی آج کی پیپلز پارٹی میں بے داغ سیاسی قائد یا کرپشن کی آلودگی سے پاک کوئی دوسرے تیسرے درجے کا سیاسی کیڈڑ،مسلم لیگ نون کی یہاں بات نہیں ہورہی کیونکہ مسلم لیگ بحیثت کبھی ایک متحد جماعت نہیں رہی ہمیشہ اقتدار کی جماعت رہی ہے اب اسے آپ وقت کا انصاف کہیں یا وقت کے صبر کا مکافات عمل کہہ لیں تاریخ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا، مسلم لیگ نون کیسے بنی;238;35 برس قبل سندھ کے جدی پشتی مسلم لیگی لیڈر نیک صفت نیک سیرت سیاسی شخصیت سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو مرحوم کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کی سزا میاں محمد نواز شریف اور اْن کا پورا خاندان بھگت رہا ہے اْس وقت مسلم لیگ کی قیادت پر اس تجارت پیشہ خاندان نے راتوں رات کیسے شب خون مارا تھا چونکہ یہ سیاسی عظمت وکردار سے مکمل آشنائی نہیں رکھتے تھے لہٰذا وقت ضرور لگا مگر سرعام چوری اور سینہ زوری کے الزامات ثابت ہونے پر ملکی اعلیٰ معززعدالتوں سے سزاپانے کے بعد اپنے کرتوں کے کیئے کی سزا پارہے ہیں جہاں تک بات ہے پیپلز پارٹی میں پائی جانے والی قائدانہ ناپختگی اور قائدانہ فقدان کی جو نظرآرہی ہے اْس میں کسی کا کوئی دوش نہیں ہے جیسا کہ پاکستان میں سبھی ا;63;گاہ ہیں کہ اچانک شہید بے نظیر بھٹو کی جیتی جاگتی ہنستی مسکراتی شخصیت پاکستان کے سیاسی منظر سے غائب ہوتی ہیں اور اْن کی ‘جلد بازی میں تیار کی ہوئی ایک وصیت’ سامنے آجاتی ہے اور یوں پیپلز پارٹی پر حاکم زرداری’حاکو‘کا بیٹا ‘آصف زرداری’ قبضہ کرلیتا ہے، لگتا ہے اس پورے ڈرامہ میں آصف زرداری اکیلا نہیں کچھ اور عالمی بدمعاش بھی اس گیم کا حصہ تھے انتظار کریں وقت کا مکافات عمل ایک ایک کے کیئے کے جرم کو یقینا بے نقاب ضرور کرئے گا پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں محدود ہوکر مقید ہوگئی بلاول کو کیا پتہ سیاست ہوتی کیاہے;238;بلاول اپنے دائیں بائیں ذرا نظریں تو دوڑائے چہارسو ایک سے ایک سواسیر کے ‘انکلز’ اْسے ہنکا رہے ہوتے ہیں سمجھ نہیں آرہا کہ بلاول زرداری الیکشن کمیشن آف پاکستان کی پیشہ ورانہ امور ومعاملات کی شفافیت کو چیلنج کرتے ہوئے جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات پر گرداْڑا رہے ہیں کوئی اْن سے یہ پوچھتا کیوں نہیں کہ جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات سے قبل سندھ میں اْن کی جماعت کی حکومت تھی دوبارہ اْن کی جماعت پیپلز پارٹی سندھ میں اکثریتی پارٹی بن کر آئی ہے جولائی دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات سے قبل پیپلز پارٹی کی پنجاب اسمبلی میں گنی چنی سیٹیں تھیں وہ کس بات پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی کارکردگی کو باربار چیلنج کرناچاہ رہے ہیں جولائی 2018 کے عام انتخابات دولت مشترکہ کے مبصرگروپ نے پاکستان کی انتخابی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا دولت مشترکہ کے مبصرین کے وفود نے پورے پاکستانی انتخابی حلقوں کے تفصیلی دورے کیئے وہ ووٹروں سے ملے کئی پولنگ اسٹیشنوں کا اْنہوں نے انتظامی جائزہ لیا غیر جانبدار عالمی مبصرین کو جولائی2018 کے عام انتخابات میں کہیں کوئی ‘ریگنگ’ہوتی یا محسوس ہوتی ہوئی نظر نہیں آئی ان غیر جانبدار عالمی مبصرین میں سابق بھارتی چیف الیکشن کمشنر شہاب الدین یعقوبی بھی شامل تھے جنہوں نے ملکی اور غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے جولائی2018 کے عام انتخابات کے انتظامات کو کافی بہتر قرار دیا جس کوئی انگلی اْٹھائی نہیں جاسکتی ان الیکشن کی بنیاد پر بلاول زرداری صاحب آپ کی جماعت کی حکومت ہے ان انتخابات پر گرداْڑانے کے نام پر جو واءٹ پیپر آپ شاءع کرانا چاہ رہے ہیں ، اْس میں کیا ثبوت پیش کیئے جائیں گے پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ کوئی ہیرا پھیری کی گئی اور سندھ میں الیکشن بالکل صحیح ہوئے ہاں یقینا سندھ اور ملک بھر میں پیپلز پارٹی کی مقبولیت میں کمی ہوتی جارہی ہے کیونکہ عوام اب سوشل میڈیا کے رابطوں کی بدولت باشعور ہونے لگے ہیں عوام کی اکثریت کی سوچ میں ترقی یافتہ عنصر غالب آتا جارہا ہے، کئی ملکی ریسرچ انتخابی سروے گروپس جن میں پائلڈ اور فالکن جسے اہم ادارے شامل ہیں اْنہوں نے جولائی2018 کے عام انتخابات کو قابل اعتماد ‘انتخاب’ قرار دیا ہے اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کی شبانہ روز مساعی کو شاندار الفاظ میں تعریفی اسناد سے نوازا ہے لہٰذا پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنے کے لئے عوامی خدمات کا ازسرنو جائزہ لے تنقید وتنقیص اور الزامات کی سیاست سے باہر نکل کر عوام کے روبرو اپنے والدآصف زرداری اور اپنی پھپھو فریال تالپور پر لگنے والے درجنوں الزامات کا تشفی جواب دینے پر اپنی توانائیاں صرف کرئے ایک سال گزر گیا یونہی مزید چار سال اور گزر جائیں گے اور 2023کے عام انتخابات کاسامنا سب کو پھرسب کو کرنا پڑے گا تب کیا ہوگا;238;کچھ سوچا بھی ہے یا نہیں ;238; جناب الزامات لگانا آسان ہے موثراور مصدقہ شہادتیں واءٹ پیپرز کو نمایاں اور وزنی بناتی ہیں یا ہم یہ سمجھ لیں کہ بلاول زرداری کا جولائی2018 کے عام انتخابات پر انگشت نمائی کا ‘واءٹ پیپر’واءٹ ہی رہے گا کسی پڑھنے والے کو اس میں کچھ بھی نہیں ملے گا لہذا پہلی فرصت میں بلاول زرداری نفرتوں پر ابھرتی اپنی سیاست کا اور اپنی سوچوں میں گھٹنوں پر جھکی ہوئی جمہوریت کا فی الفور علاج کروائیں ابھی یہی کچھ سمجھنا اْن کےلئے بہت ضروری ہے بلاول زرداری کو اپنے قدکاٹھ سے اونچی باتیں کرنے سے گریز کرنا چاہیئے بلاول زرداری کو کوئی بتائے کہ ہمہ وقت الزامات اور طنزیہ بیان بازی سنتے سنتے عوام تنگ آچکے ہیں اگر آج پاکستان اور پاکستان کے عوام کی دنیا میں کوئی عزت واحترام کی کوئی بات ہورہی ہے تو یہ پاکستان کے عوام کا حق ہے کیا پاکستان اور پاکستانی عوام کے نصیب میں یہی ماضی کے مسترد شدہ بدعنوان سیاسی قائد رہ گئے ہیں جن میں حکمرانی کی فرعونیت اور رعونت کے علاوہ کچھ اور تعمیری انداز کسی کونظرہی نہیں آتا خدارا،پاکستان اور پاکستانی عوام پر رحم کیا جائے ۔

پاکستان میں اقلیتوں کی صورتحال

 

مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے میرا فرض ہے کہ قومی مفاد کے تقدس کا احترام کرتے ہوئے صدق دل سے خود کو یقین دلاءوں کہ وطن عزیز میں اقلیتوں کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جراَت نہیں کرسکتا ۔ نہ انہیں امتیازی سلوک کا نشانہ بنایاجاسکتا ہے اور نہ ہی ان کے جان و مال اور عزت و آبرو پر آج تک کوئی آنچ آنے دی گئی ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ میں صحافی بھی ہوں ، لہٰذا قومی مفاد کی دو دھاری تلوار سے بچتے بچاتے تھوڑا بہت سچ جاننے اور اسے خلق خداتک پہنچانے کی کوتاہی اکثر و بیشتر سرزد ہو ہی جاتی ہے ۔ ریاست بلاشبہ اس بات پر کامل یقین رکھتی ہے کہ ملک کا آئین اگر تمام شہریوں کو بلالحاظ جنس، رنگت، نسل اور عقیدہ برابر کا شہری قرار دیتاہے تو پھر ایسا ہی ہوگا، علاوہ ازیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے بھی فرمادیاتھا کہ کاروبار مملکت سے متذکرہ بالا خصوصیات کا کوئی تعلق نہیں اور لوگ اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے کیلئے آزاد ہیں تو لازماً ان کا یہی مطلب ہوگا کہ ایک پرامن اور مہذب معاشرے کا قیام ان اصولوں پر عمل کئے بغیر ممکن نہیں ، تو پھرالجھن کیسی ;238;بظاہر سب اچھا اور ریاست کی نیت پر شک کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں لیکن اکثریتی بالادستی کا فارمولا سامنے رکھتے ہوئے سب سے پہلے ہ میں یہ سمجھنا ہوگا کہ اقلیت کامطلب کیا ہے، آئین کے مطابق پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے جس میں اکثریتی آبادی کا مذہب اسلام ہے اور اس کے غیرمسلم شہری عیسائی، ہندو، سکھ، پارسی، بہائی اور قادیانی اقلیت شمار ہوتے ہیں ، اکثریتی فارمولے کی رو سے سنی عقیدہ رکھنے والوں کے مقابلے میں اہل تشیع کو کیا کہاجائے گا جبکہ وہ بھی دین اسلام ہی کے پیروکار ہیں !ہیومن راءٹس کمیشن آف پاکستان کی متعدد رپورٹس میں اس بات کی واضح نشاندہی کی گئی ہے کہ ریاست اقلیتوں کے حقوق کا مناسب تحفظ نہیں کرپائی، وسطی پنجاب میں عیسائیوں پر حملوں کے درجنوں واقعات میں بےگناہ مارے جانے والوں کے قاتلوں کو سزا کے بجائے محفوظ راستہ دیا جاتا رہا، اس منصفی اور غیرذمہ دارانہ رویے سے شدت پسند مذہبی عناصر کی حوصلہ افزائی ہوئی ، سندھ میں ہندو آبادی کے ساتھ جو امتیازی اور غیرانسانی سلوک اب تک روا رکھا جارہاہے وہ ہرگز لائق ستائش نہیں ، ہندو لڑکیوں کو اغواء کرکے زبردستی تبدیلی مذہب اور جبری نکاح کے واقعات میں رنکل کماری کیس کے بعد تیزی آئی جس میں سابق پی سی او چیف جسٹس افتخار چوہدری نے ملک کی سب سے بڑی آئینی عدالت کے سربراہ کی حیثیت سے قانون و انصاف کے تقاضوں کو بری طرح پامال کیا ۔ قادیانی بھی الگ اپنا مقدمہ لئے پھر رہے ہیں ، بقول شخصے کسی قادیانی کی جان لے لینا تقریباً ثواب کے زمرے میں آتا ہے جبکہ ریاست شاید اس بات سے بھی باخبر نہیں کہ اس اقلیت کا معاشی بائیکاٹ کیا جارہا ہے جس کی گنجائش نہ تو اسلام میں ہے اور نہ ہی ملکی قانون اس کی اجازت دیتا ہے، دہشت گردی کے عفریت سے سربرپیکار ریاست کو معاشرے کی سوچ بدلنے کیلئے بھی کوئی مربوط اور جامع حکمت عملی وضع کرنی چاہئے ، امتیازی قوانین کا خاتمہ کئے بغیر مثبت تبدیلی ممکن نہیں ، لگے ہاتھوں اس پہلو پر بھی بات کرلی جائے کہ جس ملک میں مسلکی اختلافات پر فرقہ وارانہ کشیدگی کی چنگاری وقتاً فوقتاً اچانک بھڑک کر شعلہ بن جاتی ہو اور شاعر اس کو یوں بیان کریں

جانے کب ، کون، کسے ماردے کافر کہہ کر

شہر کا شہر مسلمان ہواپھرتا ہے

وہاں اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کتنا آسان ہوگا اور اگر عبادت گاہوں کو اضافی سکیورٹی کی فراہمی کو معیار تسلیم کرلیا جائے تو نمازکے اوقات میں پہرہ مساجد پر بھی دیاجاتاہے، کیا یہ صورتحال تشویشناک نہیں ;238;مناسب یہ ہوگا کہ اقلیتوں کے ساتھ اب تک روا رکھے گئے غلط سلوک، رونما ہونے والے پرتشدد واقعات میں جانی و مالی نقصان، اغواء ہونے والی ہندو لڑکیوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرکے جبری شادی پر مجبور کئے جانے کے اعداد و شمار سمیت تمام معاملات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کے لئے ایک با اختیار پارلیمانی کمیشن مقرر کیاجائے، جو شکایات کا ازالہ اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے نہ صرف قانون سازی کرے بلکہ اس پر پوری طاقت کے ساتھ عملدرآمد بھی ممکن بنائے ۔

کامیاب دورہ امریکہ،سیاسی وعسکری قیادت خراجِ تحسین کی مستحق

وزیراعظم عمران خان امریکہ کا دورہ مکمل کر چکے ہیں جو ہر حوالے سے کامیاب ترین رہا ۔ ان کی امریکی صدر کے علاوہ کانگریس کی چیئرمین نینسی پلوسن سے بھی ملاقات ہوئی ہے ۔ ملاقاتوں میں جہاں دو طرفہ دلچسپی کے امور پر گفتگو ہوئی وہاں خطے کے کوور ایشو پر بھی بات چیت ہوئی ۔ خصوصاً مسئلہ کشمیرپرٹرمپ کا اظہار خیال اور مودی کی ثالثی کی درخواست کے ذکر نے جنوبی ایشیا کے اصل برننگ ایشو کو ٹاک آف دی ٹاوَن بنا دیا ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کشمیر پر ثالثی کے بیان کے بعد بھارتی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے، گزشتہ روزلوک سبھا میں اپوزیشن نے مودی کیخلاف ہنگامہ کرتے ہوئے واک آءوٹ کیا، کانگریس کاکہناہے کہ ٹرمپ سے درخواست کرکے قوم کو دھوکا دیا گیا ہے ۔ امریکی صدر اور وزیراعظم پاکستان کی پریس کانفرنس کے دوران صحافی نے کشمیر میں امن کے حوالے سے سوال کیا تو ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بہت افسوسناک بات ہے کہ پاکستان اور بھارت اس مسئلے کو حل نہیں کرپا رہے، دو ہفتے قبل بھارتی وزیراعظم جب مجھے ملے تو انہوں نے مجھے کہا کہ کیا آپ ثالث کا کردار ادا کریں گے;238; تو میں نے پوچھا کہاں ;238; انہوں نے کہا کشمیر میں کیوں کہ یہ مسئلہ کئی برسوں سے جاری ہے ۔ اس بیان کے بعد بھارتی اپوزیشن نے وزیراعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ پارلیمان میں آ کر ٹرمپ کے دعوے کی وضاحت پیش کریں ۔ کانگریس رہنما سونیا گاندھی کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ غلط بیانی کر رہے ہیں یا بھارتی حکومت جھوٹ بول رہی ہے ۔ اسی طرح راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے درخواست کرکے قوم کو دھوکا دیا ۔ اگر امریکی صدر کا بیان سچ ہے تو نریندر مودی نے بھارت کے مفادات اور1972 کے شملہ معاہدے کے ساتھ دھوکا دہی کی ہے ۔ وزارت خارجہ کی تردید کافی نہیں ، وزیراعظم کو لازمی طور پر قوم کو بتانا چاہیے کہ ان کے اور ٹرمپ کے درمیان ملاقات میں کیا بات چیت ہوئی تھی ۔ دوسری طرف ٹوءٹر پر بھی بھارتی شہری خوب بڑھاس نکال رہے ہیں اور کشمیر پر امریکی صدر کے بیان اور نریندری مودی کیخلاف ٹوءٹ کر رہے ہیں ، ہر کوئی مطالبہ کر رہا ہے کہ نریندر مودی جلد قوم کو سچ بتائیں ۔

اسی طرح افغانستان کا مسئلہ ہے تو وہ بھی زیر بحث آیا اور اسے بات چیت سے حل کرنے پر زور دیا گیا ۔ ٹرمپ نے مانا کہ جنگ اس مسئلے کا حل نہیں ہے، پاکستان ایک عرصہ سے یہی کہہ رہا ہے ۔ اس موقع پرصدر ٹرمپ نے معاملے کی سنجیدگی کو نمایاں کرنے کےلئے افغانستان کی مکمل تباہی کا ذکر کیا مگر افغان صدر بھی اسے برا منا گئے ۔ افغان صدر اشرف غنی نے مطالبہ کیا ہے کہ امریکہ کو ڈونلڈ ٹرمپ کے افغانستان سے متعلق اس بیان پر وضاحت کرنی چاہیے جس میں دعویٰ کیا تھا کہ وہ با آسانی جنگ جیت سکتے ہیں لیکن وہ ایک کروڑ لوگوں کو قتل نہیں کرنا چاہتے ۔ اشرف غنی نے کہا کہ افغانستان کی اپنی پرانی تاریخ ہے اور ماضی میں بھی بڑے بڑے بحرانوں سے گزرا ہے تاہم افغان قوم کبھی کسی بیرونی قوت کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ انکی قسمت کا فیصلہ کرے ۔ یہاں یہ افغانستان اور بھارت کی عاقب نا اندیشی پہ افسوس ہی کیا جاسکتا ہے کہ کس طرح خطہ تنازعہ کشمیر اور افغان جنگ کی وجہ سے جہنم بنا ہوا ہے ۔ ان دو ایشو کا حل نکالنا امریکہ کی ذمہ داری ہے ۔ اس دورے کو اسی حوالے سے اہمیت دی گئی، خود امریکہ سمجھتا ہے کہ مل کر ;200;گے بڑھنے کے نئے در وا ہوں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ مودی اگر سب کچھ گنوا کر ہوش میں آئے ہیں تو اسے صبح کا بھولا شام کو گھر آیا کے مصداق سمجھنا چاہئے ۔ بھارت بھر میں جو رد عمل سامنے آرہا ہے وہ اس بات کی غمازی کررہا ہے کہ وہ نہیں چاہتے کہ جنوبی ایشیا میں امن ہو،جبکہ مسئلہ کشمیر کا اہم فریق پاکستان چاہتا ہے کہ اس تنازعے کو حل ہونا چاہئے، اول اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق جس کا وعدہ بھارت نے ستر برس قبل سے کر رکھا ہے، مگر وہ بھاگ رہا ہے، اور کشمیریوں کو ان کا حق دینے کو تیار نہیں ۔ اگربھارت یو این کی قرارداوں کی طرف نہیں جاتا تو پھر ثالثی کا آپشن ہے جس سے کوئی مناسب حل نکل سکتا ہے ۔ بصورت دیگر تو پھر وہی حل بچتا ہے جو رواں سال فروری کے آخری ہفتے میں ہوا اور بھارت کو ناک بھی کٹوانا پڑی ۔

یہ دورہ جب شروع ہونے جا رہا تھا تو پاکستان مخالف لابیوں نے بہت شور مچایا ،اور امریکہ کو کبھی انسانی حقوق یاد دلائے گئے، کبھی میڈیا کی آزادی پر نام نہاد قدغنوں کا رونا رویا گیا ۔ ٹرمپ کو خصوصی شکایتی خط بھیجے گئے ۔ مذہبی آزادی کا ایشو بھی اُٹھایا گیا ۔ بھارتی لابی کے زیر اثر ڈیموکریٹ اورری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے 10ارکان کانگریس نے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کے دوران پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھائیں ۔ ان ارکان کانگریس میں بریڈشرمن این واگنرایڈم شفجان شکوسی الینر نارٹن کیرولن میلونی ڈیوڈ پر ائسجوآن ورگس ڈیوڈشویکرٹ اورڈین کرینشا وغیرہ شامل تھے ۔ یہ ارکان قبل ازیں بھی ایسی کوششیں کرتے رہے ہیں ۔ صدر ٹرمپ کو بھیجے گئے خط میں کہا گیاکہ جس طرح صدرٹرمپ دہشت گردی کے معاملے پر پاکستان کے رویے میں تبدیلی چاہتے ہیں ،اسی طرح آپ پاکستانی حکومت پر زوردیں کہ وہ اپنے شہریوں کی زندگیوں میں بہتری لائے ۔ بعض مہربان دورے سے قبل یہاں سے امریکہ یاترا کے لئے بھی نکل گئے اوراپنے پرانے تنخوادروں کے ذریعے رنگ میں بھنگ ڈالنے کی بھی کوشش کی مگر کسی کی نہ بن پائی اور سب اپنا اپنا سامنہ لیے رہ گئے ۔ اس دورے کی کامیابی کی بنیادی وجہ ہماری سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک صفحے پر ہوناہے اور کامیاب سفارت کاری بھی حصہ ہے ۔ قبل ازیں سیاسی قیادت کے مفادات ملکی سے ذاتی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتے تھے دوسرا ان میں اتنی اہلیت بھی نہ تھی کہ وہ اپنا مافی الضمیر بدیسی زبان میں پیش کر سکتے ۔ پرچیوں کے سہارے سابق امریکی قیادت کو رام کرنے کا ٹوٹکہ نہ چلانا تھا اور نہ وہ چلا،اسی طرح تب خیر سے وزارت خارجہ اور سفارتکاری بھی ایک قصہ پارینہ تھی ۔ اس کامیاب دورے پر ہماری سیاسی اور عسکری قیادت خراج تحسین کی مستحق ہے ۔

وزیراعظم کا کامیاب دورہ امریکہ اور اپوزیشن کا کردار

وزیراعظم عمران خان نے اپنا دورہ امریکہ مکمل کر لیا جہاں پر انھوں نے کیپیٹل ون ارینا میں پاکستانیوں سے خطاب،امریکی صدر سے ملاقات،فاکس نیوز کو انٹرویو،مائیک پومپیو اور نینسی پلوسی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس اور امریکی تھنک ٹینک آف انسٹی ٹیوٹ آف پیس سے خطاب کیا،وزیراعظم عمران خان کیساتھ وفاقی کابینہ کے وزراء اور مشیروں کیساتھ ساتھ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی ہمراہ تھے،یہ کوئی پہلا موقع نہیں جس میں سول قیادت کے ہمراہ عسکری قیادت موجود تھی تاہم اس بار کے سول و عسکری قیادت کا دورہ امریکہ انتہائی مختلف نوعیت کا تھا اور اس نے غیر معمولی حیثیت اختیار کیے رکھی جس کی بڑی وجہ سول و عسکری قیادت کا تاریخ کے بہترین تعلقات کے باعث ایک پیج پر ہونا تھاتاہم پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی سوچ ابھی تک روایتی ہی چلی آر ہی ہے جس کے باعث اپوزیشن نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ہر ہر اقدام کی نہ صرف مخالفت کی بلکہ تنقید برائے تنقید کے ساتھ وزیراعظم کے دورہ امریکہ کو ناکام ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کی حالانکہ عمران خان کا دورہ امریکہ ذاتی نہیں بلکہ بطور وزیراعظم پاکستان تھا اور وہ اپنے وفد کے ہمراہ پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے مگر کہاں جی،ہم ایسی ڈھیٹ سوچ رکھتے ہیں کہ ذاتی اور سیاسی مفادات کی خاطر ملکی مفادات پس پشت ڈالتے ذرا دیر نہیں لگاتے ۔ اپوزیشن جو بھی راگ الاپے مگر اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان کا اپنے وفد کے ہمراہ دورہ امریکہ کامیاب ترین رہا اب چونکہ ماضی کے حکمران اور آج کی اپوزیشن صرف اور صرف مانگنے کیلئے امریکہ جاتے رہے جس کے باعث آج انکی زبان سے یہی نکل رہا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ امریکہ ناکام رہا ۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ سے پہلے ہی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی امریکہ پہنچ گئے تھے جہاں وہ میڈیا سے بھی مخاطب رہے تاہم ایک موقع پر میڈیا نے اپنے مطالبات کی خاطر شاہ محمود قریشی کی تقریب کا بائیکاٹ کیا اور صرف چند میڈیا نمائندے ہی موجود رہے باقی خالی کرسیاں ہی نظر آرہی تھیں جسے پاکستان کی اپوزیشن نے بھرپور اچھالا اور سوشل میڈیا پر مسلم لیگ ن اور پی پی کے جیالوں نے بھرپورمذاق اڑایا اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ وہاں کے میڈیا نے شاہ محمود قریشی کی نہیں بلکہ پاکستان کے نمائندے کا بائیکاٹ کیا مگر سیاسی مفاد کی خاطر ملکی مفاد پس پشت ڈالنا ہماری پرانی عادت ہے،شاہ محمود قریشی کے بائیکاٹ کا منظر دیکھ کر اپوزیشن کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے کہ کیپیٹل ون ارینا میں وزیراعظم کے خطاب کا بھی یہی حال ہو گا اور ہ میں وزیراعظم پر تاریخی تنقید کا موقع ملے گا اور یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایڈوانس بیان بازی تیار کر لی بلکہ کچھ نے تو وزیراعظم کے خطاب کے بعد بھی خالی کرسیوں کے خطاب والا ہی بیان جاری کر دیا اور معافی تک نہ مانگی ۔ اپوزیشن نے جب کیپیٹل ون ارینا کو لاہور میں مینار پاکستان جلسے کا منظرپیش کرتا دیکھاتوسانپ سونگھ گیا اورایسا لگ رہا تھا جیسے ان کے زخموں پر نمک چھڑک دیا گیا ہو بس پھر کیا تھا بدلے کی آگ دل میں بھڑکنے لگی اور اتنی بھڑک گئی کہ کچھ سیاہ سفید نظر نہ آیا بس صرف تنقید پر زور رکھا اور اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو مزید ہدایات جاری کی گئیں کہ دورہ امریکہ کو ناکام دورہ پیش کیا جائے اور کیپیٹل ون ارینا میں جو ہ میں چوٹ پہنچائی گئی اس کا ازالہ کیا جائے ۔ اپوزیشن کی پہلے سے ایکٹو سوشل میڈیا ٹیم نے ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے ارینا جلسے کو قادیانی رنگ دینا شروع کر دیامگر اب سوشل میڈیا پر بھی عام لوگوں کی سیاسی سوچ میں پختگی آچکی ہے جس کی وجہ سے کسی نے لیگی کارکنوں کے سیاسی رنگ کو گھاس تک نہ ڈالی،اپوزیشن نے ارینا پر آنے والے خرچ کو زیربحث لایا مگر اتنی جرات نہ ہوئی کہ 5لاکھ ڈالر کے دورے کو 50ہزار ڈالر کے دورے میں تبدیل کرنے پر وزیراعظم عمران خان کی تعریف ہی کر دے ۔ امریکہ اور کینیڈا میں مقیم پاکستانیوں نے کیپیٹل ون ارینا میں آکر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا جس کا اثر امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور امریکہ انتظامیہ پر بھی پڑا جس کے باعث صدر ٹرمپ کو یہ کہنا پڑا کہ عمران خان پاکستان کے پاپولر لیڈر ہیں ۔ وزیراعظم کا دورہ امریکہ کیلئے نجی پرواز کا انتخاب،سفارتخانے میں رہائش اختیار کرنا،ارینا میں پاکستانیوں کا دیدنی جوش وخروش سب کچھ بہترین جا رہا تھا مگر اپوزیشن کھسیانی بلی کھمبا نوچے کا کردار ادا کر نے میں مصروف رہی،وزیراعظم عمران خان نے امریکہ صدر سے ملاقات کی جس میں افغان امن عمل،مسئلہ کشمیر اور ایران کے معاملے پر گفتگو ہوئی،وزیراعظم عمران خان نے جس انداز میں پاکستان کا موَقف بیان کیا ساری دنیا حیران تھی اور پاکستان کے بیانیے کیساتھ کھڑی نظر آئی ،مسئلہ کشمیر پر ٹرمپ کی ثالثی پیشکش کسی بھی جیت سے کم نہیں کیونکہ وزیراعظم عمران خان کے خیرمقدم نے پاکستان کے بیانیے کا پوری دنیا میں چرچہ کیا اور پھر دنیا نے بھارت کے انکار سے پیدا بھارتی سیاہ چہرہ بھی دیکھ لیا ۔ امریکہ صدر کا دورہ پاکستان کرنے کی خواہش کا اظہار بھی ہماری اپوزیشن کو اچھا نہیں لگا کیونکہ یہ سب وزیراعظم کے کامیاب دورہ امریکہ کو چار چاند لگا رہا تھا اور سے ملانیا ٹرمپ کی جانب سے ٹویٹ کی گئیں تصاویر اور بیان نے جلتی پر تیل ڈالنے کا کام کیا ۔ اپوزیشن کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ آخر ایسا کیا کہا جائے جس پر ہم یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوں کہ وزیراعظم کا دورہ امریکہ ناکام رہا ۔ وزیراعظم عمران خان کے شکیل آفریدی اور عافیہ صدیقی کے معالے پر بیان نے بھی پوری دنیا میں دھوم مچائی مگرپاکستان میں میاں شہباز شریف یہ کہ رہے تھے کہ وزیراعظم کے دورہ امریکہ پر بات کرنا وقت کا ضیاع ہے تاہم بلاول بھٹو نے پختہ سیاسی سوچ کی عکاسی کی اور بیان جاری کر کے ثابت کیا کہ پاکستان کے اندر ہم ایک دوسرے کے سیاسی مخالف ضرور مگر پاکستان کے باہر ہم سب ایک ہیں مگر افسوس یہ بات باقی اپوزیشن رہنماؤں کو سمجھ نہ آئی ۔ وزیراعظم نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام،اسامہ کی گرفتاری اور ایران افغان معاملات سمیت مسئلہ کشمیر پر جس انداز میں اپنا موَقف پیش کیا وہ مثالی تھا ،انھوں نے تصویر کے وہ رخ بھی امریکہ کے سامنے رکھے جو شائد اسکے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں ۔ وزیراعظم کا ارینا میں خطاب ہو یا ٹرمپ سے ملاقات،فاکس نیوز کو انٹرویو ہو یا مائیک پومپیو اور نینسی پلوسی سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس یا پھر امریکی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیش سے خطاب ہو ۔ ہر جگہ وزیراعظم عمران خان نے انتہائی نپی تلی باتیں کیں اور پاکستان کے بیانیے کو بہتر انداز می پوری دنیا کے سامنے رکھا ۔ اپوزیشن کچھ بھی کہے وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ کامیاب ترین تھا ۔

عمران خان اور ٹرمپ کی تاریخی ملاقات، امریکہ کی جانب سے مسئلہ کشمیر کی ثالثی کی پیشکش

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تاریخی ملاقات انتہائی کامیاب اور سودمند رہی، دونوں رہنماءوں نے سیر حاصل تبادلہ خیال کیا اور سب سے بڑی پاکستان نے یہ کامیابی حاصل کی کہ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کو حل کرانے کیلئے ثالثی کی پیشکش کی لیکن بھارت نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس کی ٹرمپ کے حوالے سے اس سلسلے میں کوئی گفتگو نہیں ہوئی لیکن دنیا کی ایک سپر پاور کے سربراہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتنا بڑا بیانیہ سامنے آنا کوئی مذاق نہیں ، دنیا بھر کے سامنے ٹرمپ نے اس بات کا انکشاف کیا کہ مودی چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہو اور پاکستان سے تعلقات بھی اچھے ہونے کا خواہاں ہے ۔ یہ خوش آئند بات ہے اگر مودی نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا تو کوئی گناہ نہیں کیا مگر چونکہ مودی کے اردگرد ایسے انتہا پسند لوگوں کی سوچ موجود ہے جو اس مسئلے کو حل نہیں ہونے دینا چاہتے اسی وجہ سے بھارتی حکومت نے فی الفور پاکستان کی سفارتی کامیابی کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے لیکن ٹرمپ کے اس بیان کے بعد دنیا جان چکی ہے کہ پاکستان ہر طرح سے مسئلہ کشمیر سمیت ہر مسئلے کو حل کرنا چاہتا ہے ۔ نیزخطے کے دیگر مسائل جس میں افغانستان کا مسئلہ اور دیگر معاملات بھی شامل ہیں ۔ انہیں حل کرنے کا خواہاں ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ثالثی کی پیشکش کردی اور کہا کہ مجھے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بھی کہا تھا کہ امریکا مسئلہ کشمیر کے حل میں معاونت کرے، مجھے ثالث بننے میں خوشی ہوگی ، اگر میں مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے میں کوئی مدد کرسکتا ہوں تو مجھے ;200;گاہ کریں ، امریکا پاکستان بھارت تعلقات میں بہتری کیلئے بھی مصالحت کرسکتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان واءٹ ہاءوس پہنچے تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کا استقبال کیا، دونوں رہنماءوں نے پرجوش مصافحہ کیا اور اجلاس کیلئے اندر چلے گئے ۔ پہلے مرحلے میں وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ون ;200;ن ون ملاقات ہو ئی جو تقریبا ایک گھنٹہ تک جاری رہی ۔ وزیراعظم عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کو سراہا ۔ پاکستان ماضی میں امریکا کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب ہماری کافی مدد کررہا ہے، افغانستان میں اپنی فوج کی تعداد کم کررہے ہیں ۔ پاکستان کے ساتھ مل کر افغانستان سے فوجی انخلا پر کام جاری ہے ۔ عمران خان سے ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات شروع کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جارہا ہے ۔ صدر ٹرمپ نے وزیر اعظم عمران خان اور پاکستانی قوم کی تعریف کی، کہا پاکستان کے لوگ بہت مضبوط ہیں ، مسئلہ کشمیر پر دونوں لیڈرز بڑا کردار ادا کر سکتے ہیں ، عمران خان اور میں دونوں نئے لیڈرز ہیں ، مسئلہ کشمیر حل ہو سکتا ہے، کشمیر اور افغانستان کا مسئلہ حل ہوگا تو پورے خطے میں خوش حالی ہوگی ۔ امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ دورہ پاکستان کی دعوت دی جائے گی تو پاکستان ضرور جاءوں گا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی امریکی صدر سے ملاقات میں وزیر اعظم عمران خان کے ہمراہ موجود تھے ۔ صدر ٹرمپ نے واءٹ ہاءوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو انتہائی خوش گوار دیکھ رہا ہوں ، امید ہے ملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ۔ دونوں ممالک میں تجارتی روابط، دفاعی تعاون اور افغان امن عمل پر خصوصی بات چیت کی گئی ۔ عمران خان کی امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ 2 نشستیں ہوئیں ۔ وفود کی سطح پر ہونے والی ملاقات میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید، سیکرٹری خارجہ سہیل محمود بھی موجود تھے ۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ عمران خان پاکستان کے مقبول ترین وزیراعظم ہیں ، پاکستان میں اب ایک عظیم لیڈر ہے ۔ عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کا خواہشمند تھا، پاکستان کیلئے امریکا بہت اہمیت رکھتا ہے، روس کے خلاف افغان جنگ میں پاکستان فرنٹ سٹیٹ تھا ۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان نے نائن الیون کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دیا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار جانوں کی قربانی دی، افغان تنازع کا حل صرف طالبان سے امن معاہدہ ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں پریس پر پابندی کی بات کرنا ایک مذاق ہے ۔ پاکستانی پریس میں سب سے زیادہ مجھ پر تنقید ہوتی ہے ۔ امریکی صدر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بہت جلد تجارتی معاملے پر نمایاں پیشرفت ہوگی، امریکی صدر نے کہا کہ اگر معاملات حل ہو جائیں تو پاکستان کی امداد بحال کی جا سکتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان امریکہ سے جو وعدے کریگا وہ نبھائے گا ۔ برصغیر میں امن کیلئے امریکی صدر سے کردار کی درخواست کریں گے، ہم کوشش کریں گے طالبان افغان حکومت سے مذاکرات کریں گے ۔ قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ملاقات کی جس میں دونوں ممالک کے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ امریکی سینیٹر لنزے گراہم سینٹ جوڈیشری کمیٹی کے سربراہ بھی ہیں ۔ ملاقات میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی و دیگر بھی شریک تھے ۔ ملاقات کے اعلامیہ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے پاکستان امریکہ تعلقات بہتری کے لیے سینیٹر گراہم کی خدمات کو سراہا جبکہ عمران خان نے سینیٹر کو حکومتی ترقیاتی اور معاشی ترجیحات سے ;200;گاہ کیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان امریکہ سے دونوں ممالک کے مفاد پر مبنی وسیع البنیاد تعلقات کا خواہاں ہے ۔ پاکستان امریکہ سے تجارت اور توانائی اور تعلیم کے شعبوں میں باہمی مفاد پر مبنی تعاون چاہتا ہے، عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان میں عدم استحکام کی وجہ سے بھاری قیمت ادا کرنا پڑی، ہمسایہ ملک میں پائیدار امن چاہتے ہیں ۔ افغان مسئلے کا سیاسی حل اور امن کے لیے امریکہ کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں ۔ سینیٹر لنزے گراہم کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ میں باہمی مفاد کے لیے اعلی سطح پر پائیدار تعلقات کا ہونا ضروری ہے، اسلام ;200;باد نے افغانستان میں امن عمل کی کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کیا، دہشت گردی کے خلاف موثر ;200;پریشنز کے باعث پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہت بہتری ;200;ئی، پاکستان نے افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے لیے شاندار اقدامات کیے ۔ ڈی جی ;200;ئی ایس پی ;200;ر نے کہا کہ ;200;رمی چیف وزیراعظم عمران خان کے وفد کے رکن کی حیثیت سے واءٹ ہاءوس میں ہونے والی میٹنگ میں شریک ہوئے ۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکہ، پاکستان کے ساتھ کام کر رہا ہے اور خطے میں پولیس مین بننا نہیں چاہتا ۔ پاکستان اور امریکی سربراہان کی ملاقات کے بعد خطے کے حالات ایک دم یوٹرن لیں گے اور امید کی جارہی ہے کہ امن و امان قائم ہو جائے گا ۔ جس طرح عمران خان نے وہاں پر صحافیوں کے پراعتماد جوابات دئیے وہ بھی ان کی صلاحیتوں کی ایک واضح مثال ہے ۔ نیز ڈاکٹر عافیہ کے حوالے سے بھی مسئلہ زیر غور آیا اور امید کی جارہی ہے آنے والے دنوں میں یہ معاملہ بھی انتہائی مثبت اور احسن طریقے سے حل ہو جائے گا اور یہی پاکستان کی بہت بڑی جیت ہوگی ۔

پاک امریکہ تعلقات میں بہتری کی امید

وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے تناظر میں جو مثبت تاریخی فضا وجود میں آئی ہے، اس سے بجا طور پر بہت سی خوش کن امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں ۔ اسی کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مسئلہ کشمیر کے حل کی بابت جو ریمارکس دیئے ہیں ان سے بھی بہت سی خوش گمانیوں نے جنم لیا ہے ۔ بہرکیف آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ یہ خوش گمانیاں کوئی ٹھوس شکل بھی اختیار کرتی ہیں یا نہیں ۔ ماہرین کے مطابق وطن عزیز میں ہندوستانی دہشت گرد کلبھوشن یادو سے متعلق جس اتحاد اور اتفاق رائے کا مظاہرہ کیا گیا وہ انتہائی خوش آئند بات ہے ۔ سیاسی قیادت نے بھی اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستانیت کا ثبوت دیا گویا وطن عزیز کے ہر فرد نے یہ مقدمہ لڑا اور اپنی اپنی سطح پر وطن عزیز میں جاری بھارت کی ریاستی دہشتگردی کا موثر جواب دیا ۔ تبھی تو بین الاقوامی عدالت انصاف کے بھارت کی طرف سے دہشتگرد کلبھوشن یادو مقدمے کے سینئر وکیل نوکرن سنگھ نے بھارتی میڈیا کو باور کرایا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے کلبھوشن جھادو سے متعلق فیصلے میں ایسا کچھ نہیں جس پر بھارت خوش ہو ، عدالت نے کلبھوشن یادو کے جاسوس ہونے کا اعتراف کیا ہے ۔ مبصرین کے مطابق بھارتی میڈیا کی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی دیرینہ عادت اتنی پختہ ہو چکی ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سچ کا سامنا کرنے کا ذرا سا بھی حوصلہ باقی نہیں ۔ لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ پاکستانی موقف کو ہر سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی ہے ۔ واضح رہے کہ اس معاملے میں آئی ایس پی آر کی جانب سے بھی جو قابل تحسین کردار ادا کیا گیا، اسے بجا طور پر سراہا جانا چاہیے ۔ دوسری طرف سابقہ فاٹا کے آٹھ اضلاع میں جس پر امن ڈھنگ سے انتخابی عمل انجام پایا، وہ اپنے آپ میں اس امر کا اعتراف ہے کہ پاکستان کی تمام تر سیاسی جماعتیں دیگر مفادات سے بالاتر ہو کر قومی سوچ اپنا رہی ہیں ۔ یہ بھی خوش آئند ہے کہ انتخابات میں خواتین کی خاصی بڑی تعداد نے رائے حق دہی استعمال کیا، جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ دھیرے دھیرے مگر تسلسل کے ساتھ ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے ۔ ایسے میں مشیر اطلاعات فردوس عاشق اعوان کی یہ بات پوری طرح حق بجانب ہے کہ ان انتخابی نتاءج سے کسی بھی پارٹی کی فتح یا شکست نہیں ہوئی بلکہ پاکستان کی جیت ہوئی ہے ۔ اس امر سے بھی سبھی آگاہ ہیں کہ بھارت اور چند دیگر ممالک کی معاونت سے پاکستان میں بعض حلقے بھی اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت بلوچستان اور دیگر پاک علاقوں میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر نسلی و لسانی تعصبات کو ابھار کر باہمی منافرت کو پھیلانے میں عرصہ دراز سے سرگرم ہیں ۔ اگرچہ پاک افواج ردالفساد اور ضرب عضب کے ذریعے ان کے تدارک میں بڑی حد تک کامیاب رہی ہیں مگر اس کے باوجود مخالفین اپنے مکروہ عزائم میں کبھی کبھار بوجوہ کامیاب بھی ہو جاتے ہیں ۔ اسی تناظر میں بلوچستان میں دہشت گردی کی نئی لہر گذشتہ چند مہینوں سے جاری ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بھی اسی سلسلے کو پھیلایا جا رہا ہے ۔ ہندوستان نے ہتھیار اور اسلحہ کی خریداری کے جو بڑے بڑے معائدے کیے ہیں ان کا سیدھا مقصد ہی بھارت کے جنگی عزائم کی معاونت ہے ۔ حالانکہ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے جو کارنامے انجام دیئے، ان کا معترف ہر ذی شعور کو ہونا چاہیے ۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کے کردار کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے ۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو‘‘ جیسے دہشتگرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے ۔ انسان دوست حلقوں کے مطابق اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت اور افغان انتظامیہ کے بعض حلقے تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کےخلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ ہے کہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے، ان طبقات کی جانب سے لگاتار پاکستان کےخلاف اس قدر زہریلا پراپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ الامان الحفیظ ۔ تاہم اس حوالے سے یہ امر غالباً زیادہ توجہ کا حامل ہے کہ اسلامی تعلیمات کسی بھی طور اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ مذہب کو بنیاد بنا کر کسی بھی طبقے کے خلاف جبر و استبداد کا طرز عمل اختیار کیا جائے، لہٰذا ماضی میں اگر کسی بھی جانب سے اس قسم کی روش اپنائی بھی گئی ہے تو اسے کسی بھی طور قابل ستائش نہیں قرار دیا جا سکتا بلکہ ہر سطح پر اس کی حوصلہ شکنی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔ اس ضمن میں یہ بات خصوصی طور پر پیش نظر رہنی چاہیے کہ تمام علمی اور تحقیقی پلیٹ فارم پر شعوری کوشش کی جائے کہ سول سوساءٹی کے تمام حلقوں کی طرف سے قومی سطح پر ایسا بیانیہ تشکیل پا سکے جس کے نتیجے میں باہمی منافرت، فرقہ وارانہ اور گروہی تعصبات کی حوصلہ افزائی کی بجائے ان کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔ اس حوالے سے ایسا ’’متبادل بیانیہ‘‘ تیار ہونا چاہیے جس کے ذریعے اس امر کو اس کی تمام تر جزئیات کے ساتھ واضح کیا جائے کہ اسلام میں تشدد، جبر اور انتہا پسندی کسی بھی لحاظ سے قطعاً نا قابل قبول ہیں اور کوئی بھی معاشرہ یا ریاست اس طرز عمل کے فروغ کی اجازت نہیں دے سکتی، کیونکہ یہ قومی ریاست کی تشکیل کے بنیادی اصولوں کے منافی ہے ۔ ایسے میں دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ خدا وطن عزیز کو دہشت گردانہ ذہنیت کے حامل گروہوں کے شر سے محفوظ رکھے ۔ امید ہے کہ اس ضمن میں عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔ علاوہ ازیں قوم کے سبھی سوچنے سمجھنے والے حلقے اپنی قومی ذمہ داریوں کا بروقت احساس کرتے ہوئے نئے سرے سے قومی شیرازہ بندی کو ایک مضبوط و مربوط مہم کی شکل دیں گے ۔

انفرادی سوچ نہیں اجتماعی سوچ

کئی لوگ سیاست کو عبادت کہتے ہیں مگر میں پاکستان کی موجودہ سیاست کو عبادت نہیں ، تجارت سمجھتا ہوں ۔ بلکہ یہ ایسی تجارت جس میں جائز اور ناجائز کا بُہت کم خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس تجارت میں لوگ سرمایہ کاری کرکے اقتدار میں آکر کسی نہ کسی طریقے سے کئی گنا کما لیتے ہیں ۔ ان میں اکثر خاندان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اقتدار میں آکرصرف اپنا حلقہ انتخاب میں ترقیاتی کام کرتے ہیں ۔ گوکہ اُن میں اکثر کا تعلق مین سٹریم بڑی سیاسی پارٹیوں سے ہوتا ہے مگر وہ ہمیشہ اقتدار کی مسند پر بیٹھنے کے لئے یہی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں پھر وہ ملک اور صوبے کی سیاست نہیں بلکہ اپنی ذات اور خاندان کی سیاست کرتے ہیں اور انکی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے لئے اور آئندہ آنی والی نسلوں کےلئے صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں سیٹ پکی کرلیں ۔ جہاں تک پیسے کا سیاست میں عمل دخل کاتعلق ہے وہ تو تقریباً سارے سیاست دان کرتے ہیں کیونکہ فی الوقت تیسری دنیا اور بالخصوص پاکستان میں سیاست پیسے کے بغیر کی نہیں جا سکتی ۔ وطن عزیز میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کے لئے 4 سے 5 کروڑ روپے اور قومی اسمبلی الیکشن لڑنے کے لئے 10 سے 15 کروڑ روپے تک ضرورت ہوتی ہے ۔ کئی بڑے سیاسی خاندانوں کے بچے بچیاں میرٹ یا سیلف فناس سکیم کے تحت میڈیکل ، انجینیرنگ یا دوسرے پیشہ ورانہ کالجوں میں چلے جاتے ہیں اور جو پڑہائی میں اچھے نہیں ہوتے وہ ان نالائق اور نکٹو قسم بچوں کو سیاست میں لاتے ہیں ۔ اورکہتے بھی ہیں کہ فلاں بیٹا یا بیٹی پڑھائی میں ٹھیک نہیں انکو سیاست میں لایا جائے گا ۔ ویسے تو اکثر و بیشتر سیاست دان ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کاموں کو ترجیح دیتے ہیں مگر خیبر پختون خوا میں کچھ ایسے مُنتخب نمائندے ، وزیر اور سپیکر ہوتے ہیں جو صرف اپنے انتخابی حلقوں میں کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہی سیاسی خاندان جو ہمیشہ حکومتی مشینری کا حصہ ہوتے ہیں ۔ اور جو کسی بھی سیاسی پارٹی میں ہوتے ہیں الیکشن جیت جاتے ہیں اور کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ۔ ان خاندانوں میں سلیم سیف اللہ خاندان اور ارباب فیملی سرفہرست ہیں اور اب جو خاندان اسی نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے وہ اسد قیصر خاندان ہے ۔ ارباب جہانگیر سے ایک دفعہ گاءوں کے لوگوں نے پوچھا کہ آپ پارٹیاں کیوں تبدیل کرتے ہیں تو اسپر ارباب جہانگیر نے کہا کہ آپکو کام چاہئے یا میری پا رٹیاں بدلنا ۔ مُجھ سے پارٹیوں کے بدلنے کے بارے میں مت پوچھیں مجھ سے کام کے بارے میں پو چھیں ۔ مندرجہ بالا دو خاندان یعنی ارباب اور سلیم سیف اللہ فیملی ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اقتدار میں ہوتے ہیں ۔ اور یہ ہمیشہ اپنا حلقہ انتخاب میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور خیبر پختون خوا کے دوسرے حلقوں کی طرف اتنی زیادہ توجہ نہیں دیتے جتنی توجہ یہ اپنے انتخابی حلقوں کی طرف دیتے ہیں ۔ جن جن وزارتوں کے یہ وزیر ہوتے ہیں اُن میں دھڑا دھڑ اپنے علاقے کے لوگوں کو کھپاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی مثا لیں ہمارے سامنے ہیں ۔ موجودہ دور میں اسد قیصر قومی اسمبلی کے سپیکر ہے مگر اسد قیصر کے بارے عام لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اسد قیصر اپنے آبائی حلقے جس سے وہ خود قومی اسمبلی اور اُنکے بھائی صوبائی اسمبلی کے لئے مُنتخب ہوئے ہیں ، اُنکے ترقیاتی کام صرف ان دو حلقوں میں اپنے علاقے تک محدود ہے ۔ اے این پی کے سابق دور میں صوابی میں شہید بے نظیر یو نیور سٹی بنائی گئی تھی اور سپیکر صاحب اب اس یونیورسٹی کو اپنے حلقہ انتخاب میں شفٹ کیا تاکہ انکے حلقے کے عوام خوش ہوں اور آئندہ الیکشن اُن کو ووٹ ملے ۔ حالانکہ جس وقت یونیورسٹی کے لئے فیزیبلٹی رپورٹ اور پی سی ون تیار کیا جا رہا ہوگا تو ماہرین نے فزیبلٹی اور پی سی ون رپوٹ پر 100 دفعہ سوچ لیا ہوگا کہ کیا یہ یونیورسٹی کےلئے لوکیشن ٹھیک ہے کہ نا ۔ اور کافی سوچ و بیچار کے بعد یونیورسٹی بلڈنگ اور دوسرے اہم اُمور پر کام شروع ہوچکا ہوگا ۔ یہ یو نیو رسٹی جس مقام پر ہے یہ ایک انتہائی اچھی اور;65;ccessibleلوکیشن ہے اور مردان روڈ اور جہانگیرہ روڈ پر ضلع کے جتنے بھی گاءوں اور مضافات ہیں وونوں اطراف سے اس یونیور سٹی تک آسانی تک پہنچا جا سکتا ہے ۔ مگر یہاں پر قومی مفادات کا نہیں بلکہ ذاتی مفادات کا سوچا جاتا ہے ۔ سپیکر صاحب کے بارے لوگوں کی یہ بھی رائے ہے کہ اسد قیصر نے جتنے بھی سولر لاءٹس اور ٹیوب ویلز لگائے ہیں وہ زیادہ تر انکے حلقہ انتخاب میں لگے ہیں ۔ اگر ہم غور کرلیں تو ۷۴۹۱ سے لیکر اب تک خیبر پختون خوا کے 21 وزرائے اعلی اور 30 گورنر رہ چکے ہیں ۔ اگر ہم خیبر ختون خوا کے ماضی قریب اور بعید کے وزیر اور وزرائے اعلی کی کا ر کر دگی کا جائزہ لیں تو اُن میں خیبر پختون خوا کے امیر حیدر خان، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ فضل حق ،سردار حسین بابک، فضل علی حقانی اور موجو دہ وقت میں صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان ایسے وزرائے اعلی اور صوبائی وزیر ہیں جنہوں نے و رے خیبر پختون خوا میں تعمیراتی کام کئے ہیں ۔ فض حق ، امیر حیدر خان ، ماضی کے وزیر تعلیم سردار حسین بابک، فضل علی حقانی اورجماعت اسلامی کے سابق وزیر بلدیات عنایت ا اللہ نے پو رے صوبوں کے تمام علاقوں میں برابری کے بنیاد پر کام کئے ہیں ۔ فضل حق اورا میر حیدر خان ہوتی نے خیبر پختون خوا میں جتنے ترقیاتی کام کئے اُنکی نظیر نہیں ملتی ۔ امیر حیدر خان ہو تی نے خیبر پختون خوا کے ہر حصے میں کالج یونیورسٹی اور سکول بنائے ۔ اس طر ح مرحوم فضل حق نے اپنے دور اقتدار میں صوبے ہر علاقے میں ترقی یافتہ کام کرائے تھے، موجودہ دور میں وزیر بلدیات نے صوبے کے مختلف علاقوں میں بے تحاشا ترقی ییافتہ کام کرائے ہیں ۔ ان سب کو انکی اچھی اور شاندار کار کر دگی پریاد رکھا جائے گا ۔ دراصل اس کالم لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ہ میں انفرادی سوچ کے بجائے اجتماعی سوچ کو اپنانا چاہئے ۔ کیونکہ یہ صوبہ اور صوبے کے عوام سب کے ہیں ۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو وطن عزیز میں جماعت اسلامی واحد سیاسی جماعت ہے جس میں قومی ، صوبائی اسمبلی کے ممبران انکے وزراء کی سوچ اجتماعی ہو تی ہے ۔ با قی سیاسی پا رٹیوں میں یہی رُحجان کم ہے ۔

جنوبی پنجاب میں ترقی کی نئی راہیں ہموار

نجاب حکومت نے جنوبی پنجاب کی 71 سالہ محرومیوں کے خاتمہ کیلئے وسائل کا رخ جنوبی پنجاب کیطرف موڑ دیاہے جس سے پسماندگی کا خاتمہ اور ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگیاہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی کاوش سے جنوبی پنجاب میں ترقی کی نئی راہیں ہموارہونے لگی ہیں ۔ حالیہ پنجاب بجٹ 2019;245;20 میں 12,600 ملین روپے کی کثیر رقم مختلف سڑکوں ، ہائی ویز، پلوں کی تعمیر، مرمت و بحالی کے لیے مختص کی گئی ہے ۔ ان اقدامات کو جنوبی پنجاب کے شہریوں کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کا خصوصی تحفہ قرار دیاجارہاہے جس سے جنوبی پنجاب ترقی کی نئی منازل طے کرے گا ۔ حکومت پنجاب نے ضلع ملتان اور مظفر گڑھ کے درمیان دریائے چناب پر پل کی تعمیر کیلئے 200ملین روپے مختص کردیئے ہیں جبکہ دریائے سندھ پر غازی گھاٹ کے مقام پر پل کی تعمیر (;78245;70) کیلئے 500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں اس کے علاوہ تونسہ اور لیہ کو ملانے کے لئے دریائے سندھ پر چار رویہ پل، 2رویہ اپروچ روڈ اور ریور ٹریننگ ورکس 24 کلو میٹر کے لئے 1000ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ،کشمور، ڈی جی خان، رمک اور دیگر علاقوں کی سڑکوں کی مرمت و بحالی کے لئے 8500 ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ، راجن پور، ڈی جی خان چار رویہ ہائی وے کی تعمیر (;656866;) کے لئے 2400ملین روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ نیشنل ھائی وے اتھارٹی نے لیہ اور تونسہ کے درمیان دریائے سندھ پر چار رویہ پل کی تعمیر کاکام شروع کرنے کے لئے سروے شروع کردیا ہے ۔ ڈیڑھ کلو میٹر طویل پل کی تعمیر سے دونوں شہروں کے درمیان سفر آدھا رہ جائیگا ۔ منصوبے پر سات ارب روپے لاگت آئیگی ۔ اس پل کی تعمیر سے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا کے درمیان سفری فاصلے میں بھی کمی آئیگی ۔ اس کے ساتھ ساتھ ڈیرہ غازیخان میں سڑکوں کے جاری و نئے 135 منصوبوں کیلئے بجٹ رقم مختص کی گئی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے تحصیل جتوئی کو ملتان اور راجن پور کو ملانے کیلئے پل بنانے کی منظوری دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ کو اس کے جلد مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ وزیر اعظم نے 10 ارب روپے کی لاگت سے دریائے چناب اور سندھ پر پل بنانے کی منظوری دی جس کے ذریعے جلالپور کو شہرسلطان اور جتوئی کو جام پور سے ملایا جائیگا اس سے ان تینوں شہروں کے درمیان مسافت انتہائی کم ہوجائے گی ۔ بجٹ 2019 میں دونوں پل بنانے کیلئے فنڈز بھی مختص کیے گئے ہیں ۔ اس اہم منصوبے سے تحصیل جتوئی کی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا اور ایک نئے دور کا آغاز ہوگا ۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے علاقے میں قاتل روڈ مظفر گڑھ تا علی پور کو دورویہ کرنے کے لیے بھی فنڈز مختص کردیے ہیں ۔ اسی طرح صوبہ بھر کے دیہی اور شہری علاقوں میں پرانے و نئے روڈز کی تعمیر کیلئے ابتدائی رقم مختص کردی گئی ہے ۔ جمہوری حکومت کے عوام دوست بجٹ نے قوم کے دل جیت لیئے ہیں کیونکہ نامساعد حالات اور سابقہ حکومت کی طرف سے ملک کی مالی ناگفتہ بہ حالت کی صورتحال کے باوجود وذیراعظم پاکستان نے دانشمندی اور مربوط حکمت عملی کے تحت ملک کو تاریکی سے نکالنے کی کوشش میں تیزی سے کامیابی کیجانب گامزن ہیں ۔ جنوبی پنجاب صوبہ سیکرٹریٹ ملتان بہت جلد ورکنگ میں ہوگا جس پر کام آخری مراحل میں ہے جس سے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کے ازالہ اور عوام کو ریلیف میں وسعت ملے گی ۔ پنجاب حکومت کی ایک سالہ کارکردگی میں سب ریکارڈ توڑ ڈالے ۔ سڑکوں ، پلوں اور سکولز کیلئے درجنوں ترقیاتی کام کیے گئے ۔ پنجاب حکومت نے اس سال کے دوران درجنوں ترقیاتی منصوبے مکمل کیے ۔ 13ہزار 4سو 83 ایکڑ پر درخت لگائے ۔ 13 ہزار 4 ایکڑ چراگاہیں قائم کیں ۔ 149سکولز میں بنیادی سہولیات فراہم کیں ۔ 694 اضافی کمرہ جماعت بنائے اور 241 خطرناک عمارات میں قائم سکولز کی تعمیر نو کی ۔ پنجاب حکومت کی جانب سے لاہور رنگ روڈ سدرن لوپ کی تعمیر، 4 ارب 78 کروڑ سے دریائے چناب پر شہباز پور کو گجرات سے ملانے والے پل کی تعمیر بھی کی گئی ۔ کون سی حکومت ہے جس نے اقتدار میں آنے سے پہلے یا دوران اقتدار وعدے نہ کیے ہوں ۔ اربوں روپے کے منصوبے عوام کے سامنے نہ رکھے گئے ہوں اور بہت سارے منصوبوں کی پہلی اینٹ بھی نہ لگائی گئی ہو ۔ مگر ویلیو ہمیشہ اس کام کی ہوتی ہے جو تکمیل کے مراحل میں پہنچنے کے بعدعوام کو اپنے ثمرات سے بھی فائدہ پہنچائے ۔ پی ٹی آئی حکومت کی اگر گیارہ ماہ کی کارکردگی کو دیکھا جائے تواپنے منشور کے مطابق اس حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کے کتنے ہی کام کیے ہیں ۔ سردار عثمان بزدار کا کہنا کہ جنوبی پنجاب کیلئے مختص فنڈز کسی اور مقصد کیلئے استعمال نہیں ہونگے اور جنوبی پنجاب کو ترقی کے لحاظ سے رول ماڈل بنائیں گے، حقیقت پر مبنی ہے ۔

Google Analytics Alternative