کالم

بھارتی میڈیا ہاءوسنز ۔ گمراہ خبروں کے گڑھ

جھوٹی خبریں ،بناوٹی خبریں ،من گھڑت خبریں ،فرضی خبریں ’’فیک نیوز‘‘ہی کی مختلف اقسام لیئے ہوتی ہیں جن میں دانستہ پروپیگنڈا یا پیلی صحافت کے واضح اثرات نمایاں ہوتے ہیں ایسی من گھڑت اور منفی خبروں کے پیچھے ذاتی مقاصد کی کار فرمائیاں ہرکسی کو صاف نظرآتی ہیں ایسی بناوٹی خبروں کو شاءع کروانے،نشریا ٹیلی کاسٹ کروانے کا مطلب دھوکہ دہی کے فریب زدہ ماحول کو ہمیشہ کے لئے ہموار بنانے کے علاوہ اور کوئی منفی مقصد نہیں ہوتا، دنیا بھر میں فی زمانہ مودی کی فاشسٹ قیادت نے بھارت کوایک ایسا ملک دیا، جہاں اس طرح کی فیک نیوز کا کاروبار سرکاری سرپرستی میں بہت تیزی سے عام ہوتا جارہا ہےاب جبکہ یہ عہد سوشل میڈیا جیسے جدید ڈیجیٹل ذراءع ابلاغ کا عہد ہے اس دور میں نئی دہلی سرکارکی سرپرستی پرمکمل مالی بھروسہ رکھنے والے زیادہ تر متعصب ’’گودی میڈیا ہاوسنز‘‘ نے اسلام فوبیا میں اور خاص کر پانچ اگست کے مقبوضہ وادی پر شب خون مارنے والے غیرانسانی اور غیر اخلاقی اقدام نے مودی سرکار کی دنیا بھر میں جو مٹی پلید کی ہے، بھارتی وزیراعظم مودی اور اْن کے جنونی ہندوتوا کے حامی اپنی اس انتہائی فاش غلطی پر اپنی سی لاکھ کوششوں اور لگاتار سعی وجستجو کے باوجود اب تک سنبھل نہیں پائے اور بھارتی سرکاری اور پرائیویٹ میڈیا مسلسل لگاتار غلط بیانیوں ،مبالغہ آرائیوں اور دروغ گوئیوں کی کہاونتوں میں بْری طرح سے خود الجھتے جارہے ہیں دلیل اور منطق سے ماورا بھارتی میڈیا کے اخبارات،میڈیا کے جدید ذراءع جن میں نجی اور سرکاری الیکڑونک میڈیا،ایف ایم ریڈیو شامل ہیں بھارت کی نیم خواندہ اور پسماندہ ذہنیت کی ہندوتوا کی جنونیت میں رنگے طبقات کی اکثریت نے اکہتربرس گزرنے کے باوجود آج تک ’’کشمیر‘‘کا نام تو ضرور سنا مگر وہ کشمیر کے بارے میں جانتے بوجھتے کچھ نہیں ،ہاں مگروہ مودی جی کی اس زورروز کی تکرار سے مطمئن اورخوش ہوجاتے ہیں کہ’’ مودی جی نے اور کچھ نہیں تو کشمیرضرورفتح کرلیا;238;‘‘ اْن بچاروں کا کیا پتہ;238; کشمیر کا اصل مدعاہے کیا;238; یہ سب توآرایس ایس سرکار کی سرپرستی میں دیش بھر میں کیئے جانے والے پروپیگنڈے سے متاثر ہوکر اْسی پر انحصار کیئے بیٹھے ہیں اترپردیش،مدھیہ پردیش،بہار، مغربی بنگال اور بھارت کی دیگر ریاستوں کے شہروں اور دورافتادہ پسماندہ ہندوتوا کے جنون میں بے نہیں پرواہ ہوکر بس مودی اور امیت جی کی باتوں کے فریب کے اسیر ہیں ، یہ سب بے خبر مبالغہ آرائیوں میں گھرے مقبوضہ وادی کی تاریخی اہمیت وافادیت سے لاتعلق اِنہیں علم نہیں کہ پاسین ملک کون ہے سید علی گیلانی کا کیا مقام ہے میرواعظ عمرفاروق بلکہ یہ توشیخ اور مفتی فیملیوں کے سیاسی بیک گراونڈسے واقف نہیں بس جو ’’گودی میڈیا‘‘نے لکھا،نشریا ٹیلی کاسٹ کیا اْس پر اپنی آنکھیں بند کرکے اِن کروڑوں نیم خواندہ یا جذباتی جنونی ہندوکارسیکوں نے من وعن تسلیم کرلیا یہ مودی کا بھارت ہے;238;جو جنونی اور مفروضی پروپیگنڈوں کے سہارے ’’گودی میڈیا‘‘ سے لیس نئے سرے سے جدید ٹیکنالوجی کی دنیا میں قدم رکھنے جارہا ہے جیسے ہم بین السطور بیان کیا کہ ’’مودی قیادت کے پائے‘‘کس قدر کمزور اور دیمک ذدہ ہوچکے اس کا اسے بالکل اندازہ نہیں ویسے مودی جی’’توانا‘‘ نظرتو آتے ہیں لیکن اْس کے اندر کی شدید ٹوٹ پھوٹ اوربکھرنے کے آثار پانچ اگست کے بعد سے دکھنا شروع ہوگئے تھے اور یکم نومبرکے بعد تو مودی سرکار مزید ننگی ہوگئی 24 اکتوبر 2019 کو بھارت کی جانب سے جب یہ اعلان سامنے آیا کہ نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کشمیری رہنما پاسین ملک پر دہشت گردی،کارسرکار میں مداخلت سمیت انڈین آئیر فورس کے چار اہلکاروں کے قتل کا مقدمہ چلایا جائے گا تو ہ میں پختہ یقین ہوچلا ہے کہ ’’مودی سرکار پانچ اگست کے اقدام کے بعد شدید دباو میں آگئی ہے، کہاں پانچ نومبر انیس سونوے اور کہاں پانچ اگست دوہزار انیس;238; انتیس سال کے بعد کشمیری عوام میں مقبول کشمیر کی آزادی کے لیئے مزاحمت میں صف اول کے ممتازکشمیری لیڈر یاسین ملک پر ایک ایسا الزام چسپاں کردیا گیا اب باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا جس کی شہادت گواہی کون دے گا;238;یہ خبر چوبیس اکتوبر کے ہندوستان ٹائمز کی اشاعت میں شاءع ہوئی ہے یاد رہے کہ یاسین ملک جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی قائد ہیں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی ملک یاسین پراس وقت اس وقت کے وزیر داخلہ مفتی محمد سعید کی بیٹی روبیا سعید کو اغوا کرنے کا مبینہ الزام بھی عائد ہے;238; اور وہ اس وقت تہاڑ جیل میں قید ہیں اس سلسلے میں ’’گودی میڈیا‘‘ نے ایک سنسنی خیز قیاس پھیلایا ہوا ہے اوربھارت کی مودی حکومت اپنے پانچ اگست اور یکم نومبر کے کشمیر کو ہڑپ کرنے جیسے انتہائی اقدامات سے دنیا کی توجہ بٹانے کے لئے ایک فاشسٹ حکومت کی طرح کا برتاوَ کررہی ہے اور بہت سے بین الاقوامی انسانی حقوق کے خدشات کے مطابق انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہے بھارتی حکومت عوامی رد عمل سے بچنے کے لئے بیمار یاسین ملک سے خوفزدہ ہے، جناب یاسین ملک کی کئی بار گرفتاریاں ہوئیں اور ہر بار ان میں کوئی نہ کوئی تبدیلی رونما ہوئی جب سنہ 1994 میں انہیں حراست میں لیا گیا تو انھوں نے کشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے تشدد کے بجائے امن کے راستے کی پیروی شروع کردی اور ;39;گاندھین;39; بن گئے تھے اور بات چیت کے ذریعے جس میں انڈیا اور پاکستان کے ساتھ کشمیریوں کی بھی شمولیت ہو کی حمایت کرنے لگے تھے، انہوں نے کشمیر کی آزادی کے لئے مسلح جدوجہد بھی کی اور پھر بعدازاں سیاسی جدوجہد شروع کی جس کی وجہ سے وہ شروع سے ہی ایسی گرفتاریوں کا سامنا کرتے آ رہے ہیں ،مودی ،اجیت اورامیت ٹرائیکا‘‘ ہوسکتا ہے اپنی آخری اننگزکھیل رہے ہونگے تبھی تو اْنہیں دیش کے عوام کی نیم خواندہ کچے فکری ونظری جنونی شعور کے حامل طبقات کو’’فرضی خوشیاں اور مسرتیں ‘‘منانے کے لئے مقبوضہ وادی جیسے حساس ایشو سے جڑے نازک مسائل کے ’’بھڑکے چھتے‘‘کو ہلادیا ہے پاکستان کے پوائنٹ ا;63;ف ویویو سے ایک لحاظ سے مودی نے وہ کام کردکھایا جس کے نتیجے میں ’’کشمیر کا مسئلہ دنیا کے لئے خصوصی اہمیت وافادیت حاصل کرگیا‘‘جو کام نہرو اور واجپائی نہ کرسکے اپنی جلدباز جنونی کارستانی میں یہ مشکل ترین کام مودی نے بالا آخر کرڈالا شیخ عبداللہ فیملی،مفتی فیملی جو بھارت کے طرفدار کشمیری رہنما تھے اْنہیں قید کرکے اور ملک یاسین جیسے ممتازقانون کے پاسدار اورپْرامن کشمیری رہنماوں پر جھوٹے من گھڑت قتل کے سنگین الزامات کے مقدمات قائم کرکے مودی جی نے اپنے ’’سنگ خود ہی پھنسالیئے ہیں ‘‘اور دنیا کی مہذب اقوام کو کشمیر کی جانب متوجہ کرلیا ہے کشمیریوں کے لئے اور ہم پاکستانیوں کے لئے یہی بہت زبردست ہوگیا اور اوپر سے بھارتی میڈیا کے ڈرامے اور من گھڑت خبروں کے سلسلوں نے عالمی غیر جانبدار صحافیوں کی توجہ کشمیر کی جانب مبذول کرادی اب ’’مودی جی ! آپ تیل دیکھیں اور تین کی دھار دیکھیں وہ ہوگا جو آپ نے تصورات میں بھی نہیں سوچا ہوگا ۔

آزادی مارچ کودھرنے میں تبدیل نہ ہونے دیاجائے

آزادی مارچ کو دھرنے میں تبدیل کرنا کسی صورت بھی موجودہ سیاسی حالات کے مفاد میں نہیں ، فضل الرحمن نے جو مطالبہ پیش کیا ہے اور حکومت قطعی طورپرراضی نہیں نہ ہی عمران خان نے استعفیٰ دینا ہے اس سے مزیدانارکی پھیلے گی گوکہ دو د ن کی مہلت حکومت کو دی گئی ہے لیکن اس کے بعد کوئی حوصلہ افزانتاءج نہیں برآمد ہوں گے کیونکہ آزادی مارچ کے نام پر مولانا فضل الرحمان تمام لوگوں کو اسلام آباد لیکر پہنچے اوراب اگراس کو دھرنے میں تبدیل کرتے ہیں تو اس کا ناقابل تلافی نقصان ہوگا، حکومتی مذاکراتی ٹیم بھی کہہ چکی ہے کہ مذاکرات کے امکانات نہیں لیکن ضرورت پڑی تومذاکرات کریں گے ، وزیراعظم نے بھی اپنے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ یہ جتنا عرصہ چاہیں دھرنے میں بیٹھیں رہیں ہم کچھ نہیں کہیں گے لیکن اگرقانون کی خلاف ورزی کی تو پھرکارروائی ہوگی، ہاں دیکھنے اورسمجھنے کی بات ہے کہ ماضی کے دھرنے بھی اسی نوعیت کے تھے،اسی طرح کے مطالبات تھے اورپھراس کے بعد جوحالات درپیش آئے وہ ساری دنیا نے دیکھے ، حکومت فضل الرحمان کے آزادی مارچ اورممکنہ دھرنے کو بہت زیادہ آسا ن نہ لے اگر دو دن کے بعد آزادی مارچ کے شرکاء کو کہہ دیاگیا کہ وہ ڈی چوک روانہ ہوں تو اس سے حالات مزید خراب ہوجائیں گے لہٰذا درمیانے راستے کی ضرورت ہے تاکہ فریقین بیٹھ کرآپس میں باہمی افہام وتفہیم سے معاملات کو حل کرسکیں نہ کہ ایک دوسر ے پر پراگندہ سیاست کے الزام عائد کریں ،کیچڑاچھالیں ، ذاتیات پرآئیں اس سے من حیث القوم نقصان کے سوا کچھ بھی حاصل نہیں ہوگا ۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت اور اداروں کو 2دن کی مہلت دیتے ہیں ، وزیراعظم نے استعفیٰ نہ دیا تو عوام کا یہ سمندر انہیں گھر سے بھی گرفتار کرنے کی طاقت رکھتا ہے،کسی ادارے کو پاکستان پر مسلط ہونے کا کوئی حق نہیں ، مزید صبرکا مظاہرہ نہیں کرسکتے، پاکستانی گوربا چوف ناکامی کا اعتراف کرکے حکومت سے دستبردار ہوجائے، جبکہ قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان پتھردل، مغرور، خالی دماغ ہیں ، حکومت جادو ٹونے او رپھونکوں سے چل رہی ہے، بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سلیکٹرز کی وجہ سے اقتدار میں آنےوالے عوام کو خوش کیوں رکھیں ، فوج سب کی ہے متنازع نہیں ہونے دیں گے ۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ آئین سے ہٹ کر کچھ نہیں مانیں گے ۔ عبدالغفور حیدری نے کہا کہ تحریک کو انجام تک پہنچائے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ آزادی مارچ کے دھرنے سے دیگر رہنماءوں نے بھی خطاب کیا ۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے گلگت میں ایک بڑے عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیسے اوراقتدار کےلئے اسلام کا نام لینے کا دور چلا گیا ہے دھرنا دینے والے بے شک جتنے دن چاہیں بیٹھ جائیں جب کھانا ختم ہو گا وہ بھی بھجوا دیں گے لیکن کسی کو این آر او نہیں ملے گا کچھ بھی ہوجائے استعفیٰ نہیں دوں گا، آزادی مارچ والوں کا مقصد صرف اپنے آپ کو بچانا ہے ۔ اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ جن لوگوں نے ملک کو لوٹاہے ان سب کو جیلوں میں بھجواءوں گا، اسحاق ڈارکے والد کی سائیکل کی دکان تھی آج وہ اور ان کے بچے ارب پتی ہیں ، شہباز شریف کا بیٹا اور داماد ملک سے فرار ہیں ،اگر انہوں نے چوری نہیں کی تو یہ باہر کیوں بیٹھے ہیں بلاول بھٹو لبرل نہیں بلکہ لبرلی کرپٹ ہے ۔ دریں اثناگلگت میں یوم آزادی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان کا کہناتھاکہ گلگت بلتستان کے لوگوں نے قربانی دے کر اپنا علاقہ ڈوگرہ راج سے آزاد کرایا، یہ علاقہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا گیٹ وے ہے دنیا میں گلگت بلتستان سے زیادہ خوبصورت کوئی علاقہ نہیں ،نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں اپنا آخری پتہ کھیل لیا ہے، دنیا کی کوئی طاقت کشمیریوں کی آزادی کا راستہ نہیں روک سکتی جیسے ہی کرفیو اٹھے گا انسانوں کا سمندر باہر نکل کر آزادی مانگے گا ۔ اس موقع پر پاک فوج کے چاک و چوبند دستوں نے وزیراعظم پاکستان کو سلامی دی ۔ عمران خان نے گلگت بلتستان میں 250بستروں کے اسپتال سمیت چار منصوبوں کا سنگ بنیادبھی رکھا ۔

اداروں کوسیاست

میں نہ گھسیٹا جائے

اداروں کوسیاست میں گھسیٹنا کوئی اچھی روایت نہیں ، سیاستدانوں کو سیاسی مسائل سیاسی اورجمہوری انداز میں حل کرنے چاہئیں اورپھروہ ادارہ جو ملکی سالمیت کاضامن ہو ملک میں کہیں بھی کوئی مشکل آن پڑے تو پیش پیش ہو اس کوموردالزام ٹھہرانا کہاں کی عقلمندی ہے ،اس طرح آزادی مارچ میں مولانافضل الرحمان، شہباز شریف اوربلاول بھٹو نے ٹارگٹ کرکے تقرریں کیں اس سے کسی طرح بھی سلجھی ہوئی سیاست کے زمرے میں نہیں لایاجاسکتا، شہباز شریف نے تو یہاں تک کہہ دیاکہ جس طرح موجودہ حکومت کواداروں کی حمایت حاصل ہے اگر ہ میں دس فیصدبھی حاصل ہو تو ہم چھ ماہ میں اپوزیشن کے ساتھ ملکر تمام حالات بدل سکتے ہیں ، بات چھ ماہ کی نہیں گزشتہ تیس سال سے یہ لوگ مختلف اشکال میں عنان اقتدار پر براجمان رہے تو کیاکیا;238; اس بیانیے کے بعد ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفورنے ایک نجی نیوزچینل سے گفتگو میں دوٹوک الفاظ میں کہاکہ قومی استحکام اور یکجہتی کو ہرگزنقصان نہیں پہنچانے دیاجائے گا اور ہم آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے حکومت کی حمایت کریں گے ۔ پاک فوج ایک قومی اور غیرجانبدار ادارہ ہے جو آئین وقانون کی بالادستی پریقین رکھتا ہے اوراس نے کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ ہمیشہ منتخب جمہوری حکومتوں کی حمایت کی ہے ۔ انتخابات کی شفافیت کے بارے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کی شکایات کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ فوج نے انتخابات میں اپنی قانونی وآئینی ذمہ داری پوری کی ہے ۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹرجنرل نے کہاکہ حزب اختلاف کی مذاکراتی کمیٹی بہتر طریقے سے کام کررہی ہے اورہ میں امید ہے کہ یہ عمل اچھے انداز میں آگے چلے گا ۔ حکومت کو قائم ہوئے ایک سال سے زائد کاعرصہ گزر گیا ہے اور مسائل محض الزامات کے ذریعے سڑکوں پرحل نہیں ہوتے ۔ حزب اختلاف کو پاک فوج پرالزام لگانے کی بجائے یہ معاملات متعلقہ اداروں کے سامنے رکھنے چاہئیں اوراسے اس کا آئینی حق حاصل ہے سیاسی مسائل جمہوری انداز میں حل کئے جانے چاہئیں ۔ گزشتہ دودہائیوں میں ملک دہشت گردی کے خلاف جنگ جیسے مشکل حالات سے گزرا ہے اوربے پناہ قربانیاں دی ہیں ۔ عوام اور پاکستان کی مسلح افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جو عظیم قربانیاں دیں ان کی مثال کوئی دوسراملک پیش نہیں کر سکا ، کنٹرول لائن پرکشیدگی اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں ۔ وطن کے دفاع کےلئے مشرقی سرحد پر ایک لاکھ اورمغربی سرحد پر تقریباً دولاکھ جوان تعینات ہیں ۔ ایسے حالات میں ملک میں انتشاراوربے چینی پھیلانا قومی مفاد میں نہیں ہوگا ۔

مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پر

جرمن چانسلرکا اظہارتشویش

بھارت کانام نہاد جمہوریت پسندکلنگ زدہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہوچکا ہے مگرچونکہ مودی کا تعلق آرایس ایس دہشت گرد تنظیم سے ہے اس وجہ سے وہ کسی چیز کوبھی خاطر میں نہیں لارہا،ہٹ دھرمی کی انتہاتویہ ہے کہ مقبوضہ کشمیرکو اس نے دوحصوں میں تقسیم کرکے براہ راست دہلی کے زیرنگرانی کردیا، پاکستان اورچین نے اس بھارتی اقدام کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا ۔ اب جرمن چانسلرنے مودی کوآئینہ دکھاتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر انتہائی تشویش کا اظہار کیاہے ،انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال ٹھیک نہیں اس میں بہتری آنی چاہئے ۔ انجیلا مرکل اپنے ساتھ آئے ہوئے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کر رہی تھیں ان کے اس بیان کو مقامی میڈیا بھارتی حکومت کیلئے سبکی قرار دے رہاہے ۔ انہوں نے بھارتی وزیراعظم مودی سے کشمیر کا مسئلہ اٹھایا ۔ دوسری جانب جنیوا میں اقوام متحدہ کے دفترکے باہرایک احتجاجی ریلی نے بھارتی حکومت پرزوردیاہے کہ وہ نہتے کشمیریوں اور سکھوں کی نسل کشی بندکرے ۔ ریلی میں سکھوں اور کشمیریوں کی بڑی تعدادنے شرکت کی ۔ مظاہرین نے کہاکہ مودی حکومت بھارت اورکشمیر میں مسلمانوں اورسکھوں کی نسل کشی کررہی ہے اوراس نے بھارت میں مقیم اقلیتوں کی مذہبی آزادی چھین لی ہے ۔ ریلی کے شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیوہٹانے اورکشمیریوں کامحاصرہ ختم کرنے کامطالبہ بھی کیا ۔

یورپی یونین پارلیمانی وفد کا دورہ مقبوضہ کشمیر!

یورپی یونین کے تیئس رکنی پارلیمانی وفد نے گزشتہ ہفتے کے اوائل میں ’’کشمیر میں کیا صورتحال ہے‘‘جاننے کے لئے انڈین زیر انتظام کشمیر کا غیر سرکاری دورہ کیا بھارتی فوج کی نگرانی میں یورپی یونین کے وفد کے معزز اراکان نے نئی دہلی کی ایما پر جہاں یہ باور کرایا کہ وہ ’’نئی دہلی کے امور مملکت میں دخل اندازی کرنے نہیں آئے‘‘مگر دورے کے اختتام پر اپنی پریس بریفنگ میں جو احوال یورپی یونین کے نمائندہ وفد نے بیان کیئے اْس سے یہ واضح ہوگیا کہ انڈین زیرانتظام کشمیر پر بات کرنا اور اپنی انسانی تشویش کا اظہار کرنا ایک الگ مسئلہ ہے اور نئی دہلی کے’’امور مملکت میں دخل اندازی‘‘مقبوضہ وادی کی تشویش ناک ابتر صورتحال کوئی تعلق نہیں بنتا‘‘ یورپی یونین کے وفد نے اپنی اسی پریس بریفنگ میں مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی فوج کے ہاتھوں منگل انتیس اکتوبرکو جنوبی کشمیر کے کلگام ضلع میں مغربی بنگال کے پانچ مزدوروں کی ہلاکت پر اپنے شدید تحفطات کا اظہار کرتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ ’’انڈین کشمیر کی اندرونی غیر انسانی صورتحال نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں ‘‘یہاں یاد رہے کہ انڈین زیرانتظام کشمیر کی پولیس انتظامیہ نے بتایا ہے کہ ’’کلگام میں ایک الرٹ آپریشنل حملہ میں ہلاک ہوئے سبھی مزدور مغربی بنگال مرشد آباد کے رہنے والے تھے‘‘بھارتی سرکار کے زیر اثر ’’گودی میڈیا‘‘ نے مغربی بنگال کے ان بے قصور مزدوروں کی ہلاکت کی ذمہ داری نام نہاد دہشت گردی کے وجہ قرار دی جسے عقل وفہم رکھنے والے باشعور ذہنوں نے با آسانی تسلیم نہیں کیا ایک ایسی محصور وادی میں جہاں نئی دہلی سرپرستی میں کرفیو نافذ ہے لوگوں عام شہریوں کی پل پل کی نقل وحرکت پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے عام کشمیری گھروں سے باہر نہیں نکل پاررہے ایسے میں ’’دہشت گردی کا واقعہ‘‘ کیسے ہوسکتا ہے;238; یہاں یہ امر کیسے پس پشت ڈال دیا جائے یا اسے بھلا دیا جائے کہ سابق امریکی صدر کلنٹن جب بھارت کا سرکاری دورہ کررہے تھے تو بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ نے مقبوضہ وادی کے مقام چنڈی سنگھ پورہ میں تیس کے قریب کشمیری سکھوں کو اپنی تیارہ کردہ سازش کے ذریعے سے قتل کرایا تھا جس قاتلانہ سازش کا بروقت انکشاف ہوگیا تھا ایسا ہی ایک اور افسوس ناک واقعہ سابق امریکی صدر بش کے دورہ بھارت کے دوران پھرہوا مقبوضہ وادی کی جدوجہد آزادی کو بدنام کرنے کی یہ ’’را‘‘کی آزمودہ واردات ہے جسے بار بار دہرایاجاتا ہے مقبوضہ وادی کو مکمل ہڑپ کرنے کی بھارتی ناکام کوشش جو پانچ اگست کو کی گئی دنیا بھر میں اس بھارتی اقدام کی کھل کر ہر جانب سے مذمت کا سلسلہ تادم تحریر جاری ہے اور آپ نے دیکھ لیا جیسا پہلے بھی بیان ہوا کہ یہ ’’حملہ‘‘ اسی دن ہوا ہے جب یورپی یونین کا وفد آرٹیکل 370 کے تحت جموں وکشمیر کو حاصل خصوصی ریاست کا درجہ واپس لیے جانے کے بعد مقامی لوگوں سے بات کرنے اور ان کا تجربہ جاننے کے لیے کشمیر کے سفر پر آیا آرٹیکل 370 پر مرکز کے فیصلے کے بعد سے دہشت گرد ٹرک والوں اور مزدوروں خاص کر ان لوگوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے جو کشمیر کے باہر سے وادی میں آئے ہوئے ہیں مثلاًادھم پور ضلع کے ایک ٹرک ڈرائیور کو اننت ناگ میں دہشت گردوں نے مار ڈالا تھا5 اگست کو آرٹیکل 370 کے زیادہ تر اہتماموں کو ختم کرنے کے اعلان کے بعد ’’مشکوک دہشت گردوں کے حملوں ‘‘ میں مارا جانے والا یہ چوتھا ٹرک ڈرائیور تھا24 اکتوبر کو دہشت گردوں نے شوپیاں ضلع میں دو غیر کشمیری ٹرک ڈرائیور وں کا قتل کر دیا 14 اکتوبر کو شوپیاں ضلع میں ہی دو دہشت گردوں نے راجستھان کے نمبر والے ایک ٹرک ڈرائیور کا گولی مار کر قتل کر دیا تھا ۔ قارئین اندازہ لگائیں کہ آرایس ایس جسے ’’غیر ریاستی جنونی تنظیم‘‘کہا جائے یا پھر ’’ریاستی جنونی اسلام فوبیا میں مبتلا متشدد تنظیم کا نام دیں اپنے آپ کو ’’بڑا معتبر‘‘قرار دینے کی ایک ناکام کوشش میں اپنے طور پر یورپی یونین کے تیئس رکنی پارلیمانی وفد کو کشمیرآنے کی دعوت تو دیدی مگر اپنے سازشی مقاصد میں آرایس ایس بہت ہی بْری طرح سے ناکام رہی ہے، ہندوتوا کے جنونی غیر مہذب پیروکار کشمیری مسلمانوں سے اپنی نفرتوں میں بالکل اندھے ہوچکے ہیں وہ مہذب اقوام کی سچی جمہوری فطرت کا اندازہ نہیں لگا سکے یہ عجیب بات نہیں ہے کہ بھارتی کانگریس کے صف اول کے لیڈروں اور سیکولر خیال بھارتی صحافیوں کو تو کشمیر میں داخلے کی اجازت نہیں ہے یورپی پارلیمانی وفود کو آر ایس ایس مقبوضہ وادی کے دوروں کی دعوتیں دے رہی ہے وجہ کیا یہی وجوہ ہے یورپی دنیا کسی صورت بھی اب دنیا کے کسی ملک میں ’’نازی ازم‘‘ کو پھلنے پھولنے کی اجازت نہیں دے سکتی انسانی حقوق کے حوالے سے یورپی یونین کے ممالک بہت شدید تحفطات رکھتے ہیں رتی برابر سمجھوتہ کرنے کےلئے آمادہ نہیں ہونگے اور مقبوضہ وادی میں تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اب یورپی یونین کے تیئس رکنی وفد کے ارکان نے اپنی آنکھوں سے خود ملاحظہ کرلیں بھارت نے کشمیر کی سرزمین کو ’’عالمی بدامنی‘‘کا استعارہ بنادیا نئی دہلی کی بے حسی کس قدر شرمناک ثابت ہوئی ہے افسوس ہے کشمیر کی سرزمین اپنی تاحد نگاہ پْرکیف خوبصورتی اور زرخیری کے اعتبار سے ‘لبنان’کی ہم پلہ ریاست تسلیم کی جاتی تھی یہ اوربھی افسوس کامقام کہ کشمیر کی خوبصورتی اور دلنشینی کا تذکرہ کرتے ہوئے یہاں راقم نے ’’ماضی‘‘ کاصیغہ استعمال کیا;238; آپ بھی اتفاق کریں گے اورواقعی اس میں کوئی شک نہیں ہے‘ممتازکشمیری مصنفہ صابرہ سلطانہ کا سوال بجا، ایک کشمیری مصنفہ ہونے کے ناطے اْنہوں نے دنیا کی اس بے مثال خوبصورت ترین وادی کو آج ‘لہولہان وادی’ ہوتے ہوئے دیکھا تو اْن کے اس حقیقی سوال کی سنگینی مزید بڑھ گئی ہے کروڑوں پاکستانی اور لاکھوں کشمیری عوام کو جواب کون دے گا;238; بھارت یا اقوام متحدہ جواب دے گا;238;’جنت نظیروادی کشمیر‘کو اپنی ہٹ دھرمی، ضد اور اور انا سے مغلوب مودی، اجیت اور ڈوبھال بدقماش تثلیثی سیاست کی بے رحمانہ مہم جوئی کے نتیجے میں پانچ اگست کے بعد سے اب تک ‘لہولہان وادی’ میں بدل کررکھ دیا ہے ا یسا کیونکر ہوا ہے;238; کشمیر کو’’جنت نظیر وادی‘‘ سے’’جہنم کی دہکتی ہوئی وادی‘‘ بنادینے والے ان سفاک اور انسان کش ہندوتوا کے پیروکار جنونی سیاست دانوں کی اکہتر برس گزرنے کے باوجود آج تک دنیا میں سوائے خوف زدہ وحشت کی فضا قائم رکھنے والے جنونی طاقت کے بل پربھارتی معاشرے میں تقسیم درتقسیم کے سماجی طبقات بنانے والے اورنا انصافی پر مبنی ظالم وبربریت کے انتہائی بدنما وحشیانہ زرد نشان کی چھاپ پرفخر کرنے والوں کی کوئی اور پہچان کیوں ہونہ سکی یہ سوچنا ہوگا بھارت کی نئی نسل کو کیا بھارت کی نئی نسل اسی بدنما پہچان کے یہ داغ لیئے مستقبل کی جانب گامزن رہنا چاہتے ہیں ;238; ابھرتی ہوئی جدید بھارتی نسل کو آج نہیں تو کل فرسودہ بھارتی ہندوتوا کے پیروکاروں کے خونی پنجوں سے اپنے آپ کو آزاد کرانے کےلئے ہر صورت میں جدید اور روشن خیال افکار سے لیس ہوکر میدان میں اترنا پڑے گا تبھی کہیں جاکر بھارت جدید دنیا سے ہم آہنگ ہو گا ۔

مولانا کی سیاست کا آخری داءو

وقتی طور پر مولانا کی یہ چال جسے ہندوستان، افغانستان اور دیگر ہم خیال ممالک کی آشیر باد حاصل ہے ۔ ضرور کامیاب ہوئی ہے ۔ جن عوام اور دوست ممالک کے تکیے پر مولانا اپنے بل سے دیوانہ وار نکلا ہے ۔ وہ انتہائی نادان ہے ۔ کہ ۔ مالٹا جیسا ملک بھی افراتفری کو کچل دیتا ہے ۔ پاکستان دفاعی اعتبار سے دنیا بھر میں معروف ملک ہے ۔ 20 سالوں سے جاری دہشت گردی کا خاتمہ دنیا کی عسکری تاریخ میں ایک مثال ہے ۔ ایسی منظم فوج کو للکارنا ۔ اِک حماقت ہے ۔ فوج کے ترجمان کا یہ کہنا کہ ہم فساد کو بر داشت نہیں کریں گے جو کہ انکا آئینی حق ہے اورہم حکومت وقت کی ہدایات کے پابند ہیں نہ کہ سیاسی پارٹیوں کے جتھوں کے ۔ ریاست کی یہ جنگ 2008 سے متحرک ہے ۔ الطاف حسین کا تختہ ایسے تو نہیں بکھرا ۔ کرپشن،سیاسی شعبدہ بازیاں اور امن و امان کے مسائل نتھی ہیں ۔ تیسراقوم کی اخلاقی کشتی ڈوب رہی ہے ۔ تو ریاست کی بقاء کا مسئلہ درپیش ہوگیا ۔ اس وقت کرپشن کے خلاف جنگ عمران خان کے حکم پر نہیں ہے بلکہ اتفاق سے اور وقت کے تقاضے آپس میں مل چکے ہیں ۔ ۔ اور اس جلسے کی شکست و ریخت کے بعد ۔ احتساب کا عمل انتہائی سخت ہو جائیگا ۔ اور اب تک جو تازہ فہرستیں ۔ وزیرا عظم ہاءوس میں آویزاں ہیں ۔ وہ ان کی بنیادوں سے آخری سریا تک کھینچ لے گا ۔ معاشی طور پر اس حکومت نے ان حالات میں رہتے ہوئے ۔ اہداف حاصل کر لیے ہیں ۔ ظاہر اس کے اثرات عوام تک پہنچتے پہنچتے 2 سے 3 سال لیں گے ۔ قوم برباد ہوتی ہے رفتہ رفتہ اور بننے میں بھی وقت لگتا ہے ۔ یہ دنیا اسباب پر چلتی ہے ۔ کسی کی خواہش پر نہیں ۔ اس کرپٹ ٹولے کی شکست کے بعد ان میڈیا ہاءوسز اور صحافیوں کی دکانداری ٹھپ ہو جائیگی ۔ جو اس وقت جلسے میں سیاسدانوں کے ہم رکاب ہیں اور اپنے نام کے بل بوتے ۔ غیر یقینی صورتحال کو بڑھا وا دے رہے ہیں ۔ بعض صحافی بھی اپنی کرپشن کے انگاروں پر بیٹھے اچھل رہے ہیں ۔ یہ نظام قدرت ہے اور اے نبی انس کہہ دو جہنم تمہاری نظروں کے سامنے ہے تم اندھے ہو کیوں نظر نہیں آرہا ۔ پھر کہتے ہیں ۔ دراصل انہوں نے قوم کے مفاد کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ یہ اپنی اپنی ٹوکریاں بھر رہے ہیں ۔ لالچ ہوس کے مارے یہ اندھے جانوروں سے بھی برتر ہیں ۔ آخر میں میرے کوئی سیاسی عزائم نہیں مگر یہ جانتا ہوں کہ عمران خان نہ ہوتے تو یہ اس طرح نہ چیختے ۔ کیونکہ انکو نظر آرہا ہے کہ عمران خان کی ایمانداری چل گئی تو ہمارا سورج ڈوب جائیگا ۔ اور ڈوب چکا ہے ۔ پاکستان کی تشکیل مخالفت کرنے والے ۔ پاکستان کی تباہی پر آمادہ یہ مداری اپنے کردار کے ہاتھوں رسوا ہو گئے ۔ میری اپنی رائے میں قائداعظم محمد علی جناح کی بے کل روح کو قرار ملنے والا ہے ۔ دنیا بدل رہی ہے ۔ اگر ہماری قوم کو تعلیم ہنگامی بنیادوں پر دی جائے توہم اپنے اہداف جو قائد اور اقبال نے دیے جلدی حاصل کر سکتے ہیں ۔ قوم کو مبارک ہو ۔ مگر ریاست کا پنجہ گہرا اور جابرانہ ہونا ضروری ہے ۔ مستقل کامیابی اور ریاست اور عوام کو گمراہ کرنے کی انکی چالیں ہزار پردوں میں چھی ہیں ۔ چور،مجرم اور بد عنوان اپنی محنت کو اتنی آسانی جانے نہیں دیتا ۔ یہی کچھ گزشتہ 50سالوں نت نئے حربوں سے چلتا آرہا ہے اور اب نفسیاتی طور چوری کے اس قدر عادی ہو گئے ہیں کہ راست طریقے سے کمانا انکے بس کا نہیں رہا ۔ سو اپنی دفاع کیلئے سارے چوروں نے اتحاد کرلیا اور کیوں نہ کرتے ۔ قران میں برائی کو ختم کرنے کے دو اصول بیان ہوئے ۔ ’’ کردار سازی،تعلیم اور ابلاغ‘‘ جب اس میں ناکامی نظر آئے یا مطلوبہ نتاءج نظر نہ آئیں تو معاشرے قوم یا ریاست پر لازم ہے کہ ان کو قوت سے کچلا جائے ۔ یہی اس کا علاج ہے اور اگر ان فسادیوں اور چوروں کے ساتھ مصلحت کی گئی تو یاد رکھنا اے مومنین کی جماعت ۔ سچ کبھی جھوٹ کے ساتھ کمپرومائز مصلحت نہیں کر سکتا ۔ ورنہ آپ کا سچ جھوٹ متصور ہو گا ۔ کیونکہ معاشرے میں ایک کرپٹ انسان معاشرے میں بد اعتدالی پیدا کرتا ہے ۔ لہٰذا حکومت وقت اور ریاستی ادارے،اور عوام ایسے عناصر کا خاتمہ فرض سمجھ کر کریں ۔ اس کی آپ سے باز پرس ہوگی ۔ مولانا اور ;848480; کے روابط جلسے میں ہی نظر آگئے ۔ مودی ;828383; اور مولانا کا پاکستانی ;828383; مشہود ہوگیا ۔ قیام پاکستان سے قبل دیونبدی اس ایجنڈے کا سرخیل حسین مدنی کے نظریات کسی ڈھکے چھپے نہیں ۔ اسفندیار،اچکزئی اور مولانا اسی سازشی سیاست کی گود میں پلے ہیں ۔ انکے قلوب میں زہر بھر ا ہے ۔ ریاست کا پنجہ کسی مصلحت کا متحمل نہیں ہو سکتا ۔

بھارت کی بے بس اقلیتیں

خلاف ہرزہ سرائی کی مہم مزید تیز کر دی ہے اور اس کے جنرل سیکرٹری پروین تو گاڈیہ نے مسلمانوں کی ایک قدیمی درسگاہ دارلعلوم دیوبند اور تبلیغی جماعت پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا ۔ بابری مسجد کی شہادت کے موقع پر اور اس کے بعد بھی بھارت کے طول و عرض میں مسلمانوں کے خلاف فسادات کی آگ بھڑکانے میں یہ تنظیم ہمیشہ آگے رہی ہے ۔ اس تنظیم نے ہندووَں پرزور دیا ہے کہ وہ اسلامی دہشت گردوں کے مقابلے میں بہتر بم بنا کر ان کے ذریعے بھارت میں قائم منی پاکستانوں میں تباہی پھیلائیں ۔ دیہی علاقوں میں 60 فیصد سے زائد مسلمان ایسے ہیں جن کے پاس اپنی زمین نہیں ہے جبکہ صرف ایک فیصد مسلمانوں کے پاس ہینڈ پمپ سیٹ ہے ۔ صرف3 فیصد مسلمانوں کو سبسڈی والی بجلی دی جاتی ہے ۔ صرف 2;46;1 فیصد مسلمانوں کے پاس ٹریکٹر ہے اور 0;46;3 فیصد مسلمان گروپ ہاوَسنگ سکیم کے ممبر بن پاتے ہیں ۔ تیس فیصد مسلمانوں کو سرکاری طور پر پندرہ فیصد تسلیم کیا جاتا ہے تاکہ اس تناسب سے انہیں سرکاری ملازمتیں نہ دینا پڑیں ۔ ممبئی بم دھماکوں کے بعد مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بہ تھی مگر جب امریکہ نے نائن الیون کے بعد مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیاتو بھارت بھی شیر ہوگیا اور اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگا ۔ بم دھماکوں کا سارا الزام مسلمانوں پر تھوپ دیا گیا ۔ سینکڑوں مسلمانوں کو گرفتار کیا گیا ۔ مساجد، مدارس اور دینی مراکز بند کرانے کے احکامات جاری ہوگئے ۔ حد یہ کہ جو ان احکامات کی پابندی نہیں کرے گا اس کو قتل اور اس کی لڑکیوں اور بیوی کو اونچی ذات کے ہندووَں کی عیاشی کےلئے رکھ لیا جائے گا ۔ کچھ عرصہ قبل بھارتی حکمرانوں نے اعلان کیا کہ 25 کروڑ مسلمان اگر بھارت میں رہناچاہتے ہیں تو انہیں ’’وندے ماترم‘‘کا گیت گانا ہوگا ورنہ وہ اپنا بوریا بستر یہاں سے گول کریں اور بھارت چھوڑ دیں ۔ حکمرانوں کی اس دھمکی سے بھارتی سیکولر ازم کا پردہ چاک ہوگیا ہے ۔ ہندو پیدا ہی مکارانہ ذہنیت کے ساتھ ہوتا ہے ۔ بھارت میں مسلمانوں پر روز بروز ظلم و ستم بڑھتا جا رہا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ وہ خود کو زیادہ غیر محفوظ تصور کرنے لگے ۔ اب آپ خود فیصلہ کریں کہ جس ملک میں اقلیتوں سے یہ سلوک روا رکھا جائے کہ ان سے جینے کا حق بھی چھین لیا جائے ۔ سیاسی لیڈر گھٹنوں گھٹنوں رشوت اور جرائم کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہوں ، فوج ملک کی حفاظت کرنے کی بجائے چوروں ، سمگلروں اور ملک دشمن عناصر سے ملی بھگت میں مصروف ہو تو ایسے ملک کو کیا کہا جائے گا;238; کیایہ سیکولر ملک ہے ;238;مسائل میں گھرے ہوئے بھارت کو کسی صورت بھی ایک کامیاب ریاست قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ یہ صرف بھارتی میڈیا اور فلموں کا کمال ہے کہ بھارت کا میک اپ شدہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ اصل بھارت کیا ہے ٗ بھارت کے رہنے والے مسلمان اور دیگر اقلیتیں بخوبی جانتی ہیں ۔ بھارت میں نہ مسلمانوں کی جان و مال محفوظ ہے ،نہ عیسائیوں کی اور سب سے بڑھ کر کم ذات کے ہندو مرد وخواتین بھی اونچی ذات کے ہندووَں کے تشدد اور درندگی کا نشانہ بنتے ہیں ۔

بہت دیر کی مہرباں آتے آتے

میں اگر چند سال بلوچستان میں نہ گزارتا تو شاید آج بھی ہراسکینڈل کو سچ جان کر ہمدردیاں دہشت گردوں کی جھولیوں میں ڈال رہا ہوتا ۔ لیکن چونکہ خوش قسمتی سے مجھے بلوچستان میں رہ کر ہر مکتبہ فکر کے لوگوں سے ملنے ، ان کے حالات ِ زندگی دیکھنے ، سمجھنے اور ان پر غور کرنے کے مواقع میسر ہوئے اور پھر خاص طور پر تعلیمی اداروں اور محکمہ صحت پر کام کرنے کا موقع ملا ۔ ان میں سے دیہاتوں اور تحصیل سطح کے سکولوں کے بعد بڑی بڑی جامعات کے ایک سے زیادہ مرتبہ دورے کرنے کے مواقع بھی ملے ۔ اس لئے ان کے متعلق بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے ۔ کوءٹہ شہر میں بیوٹمز یونیورسٹی ، سردار بہادر خان وویمن یو نیورسٹی ، یونیورسٹی لاء کالج اور یونیورسٹی آف بلوچستان میں کافی دفعہ جانے کا موقع ملا ۔ یہ یونیورسٹیاں ہر دور میں دہشت گردوں کے نشانے پر رہی ہیں ۔ بیوٹمز یونیورسٹی اللہ کے خصوصی فضل و کرم سے محفوظ رہی ۔ یونیورسٹی لاء کالج کے پرنسپل امان اللہ اچکزئی کو دن دیہاڑے ان کو ان کی کار میں گولیوں سے بھون دیا گیا ۔ حالانکہ وہ انتہائی شریف النفس شخص تھے ۔ وویمن یونیورسٹی کے اندر مین چوک میں لڑکیوں کے گروہ میں بم دھماکہ کیا گیا ۔ جس سے درجنوں لڑکیاں شہید اور زخمی ہو گئیں ۔ اس وقت دہشت گردوں کا مقصد صرف ان لڑکیوں کو شہید یا زخمی کرنا نہیں تھا بلکہ ان کا مقصد خواتین اور ان کے لواحقین کے دلوں میں دہشت گردی کا ڈر اور خوف و ہراس پیدا کر کے انہیں تعلیم سے روکنا تھا ۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ سردار بہادر خان وویمن یونیورسٹی میں طالبات کی تعداد کم ہونے کی بجائے کئی گنا زیادہ ہو گئی ۔ اسی طرح بلکہ اس سے کہیں بڑی سازش کر کے زیادہ خوفناک دہشت گردی کی واردات یونیورسٹی آف بلوچستان میں کی گئی اور پھر ہمارے غیر ذمہ دار میڈیا نے اس پر پٹرول چھڑک کر وہ آگ لگائی کہ ہر شخص کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔ واردات وویمن یونیورسٹی اور بلوچستان یونیورسٹی کی ایک جیسی تھی ۔ دونوں وارداتوں کا ماسٹر مائینڈ ایک ہی گروپ محسوس ہوتا ہے ۔ کیونکہ دونوں وارداتیں کرنے والے کامقصد ایک ہی ہے کہ کسی بھی طریقے سے بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے دور رکھا جائے اور خاص کر خواتین تو جامعات میں داخلے کا سوچیں بھی نہیں ۔ بلوچستان یونیورسٹی میں خفیہ کیمروں کے استعمال اور خاص طور پر واش رومز میں خفیہ کیمرے پکڑے جانے پر صرف بلوچستان ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان میں تھر تھلی مچ گئی اور لوگوں میں غصے کی لہر دوڑ گئی ۔ کیونکہ اس میں بلوچوں اور پختونوں کی جان پر نہیں بلکہ ان کی غیرت پر حملہ کیا گیا ۔ خفیہ کیمروں کی جھوٹی خبر یا جھوٹے پروپیگنڈے نے اتنی تیزی سے پورے بلوچستان میں گردش کیا جس سے معلوم ہوا کہ جیسے پوری تیاری اور پورے منصوبے کے تحت ایک ہی دہشت گردی کے دونوں دھماکے اکٹھے ہوئے کیونکہ ادھر افواہ پھیلی اور ادھر بغیر تحقیق کے سوشل میڈیا پر نادان اور غیر ذمہ دار اینکروں نے آسمان سر پر اٹھا لیا ۔ یہ حقیقت ہے کہ کچھ دیر کے لئے وہ تمام والدین جن کی بچیاں یونیورسٹی میں پڑھتی یا پڑھاتی ہیں وہ فکر مند ضرور ہوئے ہونگے لیکن میں ذاتی طور پر اس یونیورسٹی کا کئی دفعہ دورہ کر چکا ہوں اور اس کے سخت ترین نظم و ضبط سے اچھی طرح باخبر ہوں ۔ خاص طور پر آرمی کے ادارے ایف سی کی موجودگی میں ایسی کسی بھی حرکت کا سوچنا بھی شاید گناہ کے زمرے میں آتا ہو ۔ کیونکہ ایک تو ان لوگوں کی وہاں مستقل ڈیوٹی نہیں ہوتی، ہردو چار ماہ کے بعد عملہ تبدیل ہوتا رہتا ہے ۔ دوسرا وہ کسی کو ایسی حرکت کرنے بھی نہیں دیتے ۔ وہ ہر وقت چوکنا رہتے ہیں اور ایسی حرکتوں اور نقل وحمل سے آگاہ رہتے ہیں ۔ لیکن اس کے باوجود چونکہ معاملے کی حقیقت پوری طرح سامنے نہیں آئی اس لئے حتمی رائے نہیں دے سکتا ۔ اس گمراہ کن خبر کے ساتھ طلباء کے ایک گروپ نے یہ مطالبہ شروع کر دیا کہ ایف سی کو یونیورسٹی سے ہٹایا جائے اور یونینز کو بحال کیا جائے ۔ اس مطالبے کے حق میں صرف 10;47;12 لڑکے بینر لگا کے بیٹھے ہوئے دکھائے بھی گئے ۔ 15000کی تعداد میں دس بارہ بچوں کی یہ حرکت کرنا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ ان کے دونوں مطالبات غلط اور نہ مانے جانے والے ہیں ۔ ایک تو اگر وہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں تو انہیں ایف سی کے جوان چبھتے کیوں ہیں اِن کا اُن سے واسطہ کیا ہے;238; جبکہ وہ انہی کی جانوں کی حفاظت کے لئے ہر وقت اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ دوسرا یونینز کی بحالی کے ساتھ ہی یونیورسٹی میں قتل وغارت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔ اس یونیورسٹی میں بلوچ گروپ، ہزارہ گروپ اور پشتون گروپ کے علاوہ غیر بلوچستانی گروپ بہت مضبوط ہیں اور ان میں بعض دہشت گردتنظیموں کے طالبعلم بھی ہیں ۔ جس دن یونینز کو بحال کیا گیا اس دن حالات انتظامیہ کے کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے ۔ میرے ذاتی تجربے اور تجزیے کے مطابق یہ دونوں مطالبات تعلیم دشمن ایجنڈے پر کام کرنے والے لوگوں کے ہیں ۔ اس یونیورسٹی میں ایف سی کی موجودگی باعثِ رحمت ہے ۔ طلباء و طالبات بے فکر ہو کر تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ آخر میں سابق وائس چانسلر پوفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کے متعلق لکھنا چاہتا ہوں ۔ وہ گزشتہ 6سال سے اس یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے ۔ وہ ہر گروپ اور ہر گروہ کی سرگرمیوں سے پوری طرح آگاہ ہیں ۔ پھر ان کابلوچستان انتظامیہ ، ایف سی اور تمام سیکیورٹی ایجنسیوں سے مکمل رابطہ رہتا ہے ۔ وہ حالات کو سمجھنے اور کنٹرول کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے کیمرہ اسکینڈل میں بھی انہیں شامل کرنے کی سازش کی گئی ۔ انہوں نے نہایت عقلمندی، جراَت او ربہادری سے ایف آئی اے کی مکمل تفتیش تک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تاکہ ایف آئی اے غیر جانبداری سے معاملے کی تہہ تک پہنچ سکے ۔ کل کوءٹہ سے شاءع ہونے والے ایک قومی اخبار میں یہ خبر شاءع ہوئی (یونیورسٹی کے واش رومز میں کیمرے نصب کرنے کی رپورٹس غلط اور بے بنیاد ہیں ’’ایف آئی اے‘‘)اگر یہ خبر حقیقت پر مبنی ہے تو پھر پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال کو فوری طور پر اپنے عہدے پر بحال کر دینا چاہیئے ۔ تعلیم دشمن اور امن دشمن لوگوں کے پروپیگنڈے کے اثر کو زائل کرنے کے لئے میڈیا پر خبریں شاءع کی جائیں تاکہ طالبات اور ان کے لواحقین کا خوف دور ہو سکے ۔ خاص طور پر ان طالبات کے تحفظات کا خیال رکھا جائے جنہوں نے آنے والے سالوں میں اس یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے ۔ اگرکیمرہ اسکینڈل کے جرم میں کوئی بندہ شریک ہے تو اس کو سخت ترین سزا دی جائے ۔ ان لوگوں کا بھی محا سبہ کیاجائے جنہوں نے یہ گھناوَنی سازش تیار کی ہے ۔ بم سے اڑانے والی خبر سے یہ بڑی اوربُری خبر تھی ۔ ہمارے پڑوسی غیر مسلم ازلی دشمن نے اس خبر پر ہمارا کس قدر مذاق اڑایا، کتنی بے عزتی کی گئی اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ لیکن اس بے عزتی اور سازش کا اثر زائل کرنے کے لئے وائس چانسلر کو بحال کر کے یونیورسٹی کو پہلے کی طرح اپنی سمت پر رواں دواں کر دینا چاہیئے ۔ پاکستان کی مایہ ناز تفتیشی ادارہ ’’ایف آئی اے‘‘ سر توڑ کو شش کر کے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہا ہے ۔ لیکن اس معاملے میں مزید تیزی کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان خصوصاً بلوچستان کے عوام پریشان ہیں اور ہندوستان کا میڈیا اس معاملے پر بہت سخت کیچڑاچھال رہا ہے ۔ اس معاملے میں دیر نہیں کرنی چاہیئے کیونکہ جتنی دیر کی توپھر یہی ہوگا ۔ ’’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘‘ ۔

سانحہ لیاقت پور، حادثات روکنے کیلئے عملی اقدامات کی ضرورت ہے

ریلوے حادثات روز مرہ کا معمول بن گئے ہیں اس کے سدباب کیلئے تاحال کوئی عملی اقدامات سامنے نہیں آرہے، سانحہ لیاقت پور اتنا بڑا سانحہ ہے جو وزارت ریلوے کے ساتھ ساتھ حکومت پر بھی ایک سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے ۔ اس حادثے کے فوری بعد اگلے روز پھر ایک ٹرین میں آتشزدگی ہوگئی تاہم اس مرتبہ کوئی جان نقصان نہیں ہوا ۔ ذمہ داروں کا کون تعین کرے گا، کس کو سزا ملے گی اس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا لیکن ایک بات ضرور ہے کہ حکومت کو اس جانب اہم اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مزید حادثات سے بچا جاسکے ۔ کراچی سے پشاور جانے والی تیزگام ایکسپریس میں لیاقت پور چنی گوٹھ کے قریب تبلیغی اجتماع میں شرکت کےلئے جانے والے مسافروں نے علی الصبح مبینہ طور پرسلنڈر کے ذریعے ناشتہ و چائے بنانے کی کوشش کی کہ اسی دوران گیس لیک ہونے کے باعث سلنڈر زور دار دھماکے سے پھٹ گیا اور بھڑکنے والی آگ نے اکانومی کلاس کی 2 اور بزنس کلاس کی1 بوگی کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، آگ کی شدت اس قدر تیز تھی کہ ان بوگیوں میں سوار مسافروں کو سنبھلنے کا موقع نہ مل پایا اور وہ زندہ جل گئے، بیشتر نے چلتی ٹرین سے چھلانگیں لگا کر جان بچانے کے دوران جانیں گنوادیں ، حادثے میں 74 افراد ہلاک 60 سے زائد زخمی ہو گئے، متاثر ہونے والی 3 بوگیوں میں 207 مسافر سوار تھے ان بوگیوں میں زیادہ تر مسافرحیدر آباد اور میر پور خاص سے سوار ہوئے تھے اور یہ مسافر تبلیغی اجتماع میں شرکت کے لیے رائے ونڈ جارہے تھے ہلاک اور زخمی ہونے والے مسافروں میں زیادہ تر کا تعلق میر پور خاص اور حید ر آباد سے ہے جبکہ ریلوے حکام کے مطابق تیزگام ایکسپریس کی اکانومی کلاس کی 2 بوگیوں کو حیدر آباد سے امیر حسین اینڈ جماعت کے نام سے بک کیا گیا تھا ۔ حادثے میں خواتین اور بچے بھی جاں بحق و زخمی ہوئے، 58لاشیں بری طرح مسخ ہو گئیں ، ڈی این اے کے بغیر شناخت نہیں کی جاسکے گی، جائے وقوع پر قیامت صغریٰ کا منظر دیکھنے میں آیا لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے مسافروں کو جلتا دیکھ کر بے بسی کے عالم میں دھاڑیں مار مار کر روتے دکھائی دیئے، عملے نے جلتی بوگیوں کو مسافروں کی مدد سے ٹرین سے الگ کیا، آگ بجھانے میں بھی شدید مشکلات کا سامنا ہوا،پاک فوج کے جوانوں نے سانحے کے مقام پر پہنچ کر سول انتظامیہ کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں حصہ لیا، پاک فوج کے ڈاکٹرز اورپیرا میڈیکس بھی امدادی کارروائیوں مصروف رہے ۔ ریلوے حکام نے واقعہ کی انکوائری کا حکم دیدیا ہے ۔ وطن عزیز میں ٹرین حادثے کوئی نہیں بات نہیں ،وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد کے وزیر ریلوے کا عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اب تک ہونے والے 7 بڑے ریلوے حادثات و واقعات میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہوچکے ہیں جبکہ کروڑوں روپے کا مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ رحیم یار خان کے قریب ہونے والے اس حادثے سے قبل 11 جولائی کو پنجاب کے علاقے میں صادق آباد میں ولہار اسٹیشن پر اکبر ایکسپریس اور مال گاڑی آپس میں ٹکرا گئی تھیں جس کے نتیجے میں 23 افراد جاں بحق اور 85 زخمی ہوگئے تھے ۔ قبل ازیں 20 جون 2019 کو صوبہ سندھ کے شہر حیدرآباد میں جناح ایکسپریس ٹریک پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکراگئی تھی ٹرین اور مال گاڑی کی اس ٹکر کے نتیجے میں ڈرائیور، اسسٹنٹ ڈرائیور اور گارڈ جاں بحق ہوگئے تھے ۔ اس حادثے سے ایک ماہ قبل 17 مئی کو سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز کے علاقے پڈعین کے قریب لاہور سے کراچی آنے والی مال گاڑی کو حادثہ پیش آیا تھا ۔ اگرچہ خوش قسمتی سے اس حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا تاہم محکمے کو مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا جبکہ ٹرینوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی تھی ۔ وزیر ریلوے شیخ رشید کے دور میں ہی اپریل میں رحیم یار خان میں مال بردار ریل گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور اس کی 2 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں مال بردار گاڑی پی کے اے 34 کی 13 بوگیاں پٹری سے اترنے سے محکمہ ریلوے کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا تھا ۔ اس سے قبل گزشتہ برس ستمبر اور دسمبر میں حادثات ہوئے تھے ۔ 24 دسمبر 2018 کو ہونےوالے حادثے میں فیصل آباد میں شالیمار ایکسپریس کو پیچھے سے آنے والی ملت ایکسپریس نے ٹکر ماردی تھی اس حادثے کے نتیجے میں ایک مسافر جاں بحق اور 5 زخمی ہوگئے تھے ۔ 27 ستمبر 2018 کو دادو میں سن کے قریب ٹرین کی 11 بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں ۔ 11 بوگیوں کے پٹری سے اترنے سے 5 مسافر زخمی ہوئے تھے جبکہ ٹرین کی آمد و رفت کا نظام متاثر ہوا تھا ۔ ہمارے ملک کی یہ بد قسمتی ہے مسافروں کا سامان چیک کرنے کی سہولت صرف بڑے اسٹیشنز پر موجود ہے ،باقی چھوٹے اسٹیشنز پر مسافروں کے سامان کی تلاشی لینے کا کوئی نظام نہیں ہے ۔ مسافروں سے غفلت ہوئی یا پھر ریلوے انتظامیہ کی لاپرواہی سے جانی و مالی نقصان ہوا ،اصل بات یہ ہے ایسے سانحوں سے کئی خاندان تباہ و برباد ہوجاتے ہیں اورکئی سالوں تک سانحہ کے بد اثرات پیچھا نہیں چھوڑتے ۔ ایسے واقعات سے بچنے کےلئے سیکیورٹی کے انتظامات درست کرنے کی ضرورت ہے ،چھوٹے بڑے حتیٰ کہ ہر سٹیشنز پر مسافروں کے سامان کو چیک کیا جائے اس کے علاوہ دیگرایسے اقدامات کئے جائیں جن سے اس طرح کے حادثات دوبارہ رونما نہ ہوں ۔

مقبوضہ کشمیر کی تقسیم،

پاکستان اورچین نے بھارتی

اقدام مسترد کردیئے

بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے کسی طرح بھی بعض نہیں آرہا جب تک وہ خطے کو جنگ کی آگ میں جھونک نہیں دے گا اس وقت تک اسے آرام نہیں آئے گا، دنیا بھی تماشائی بنی ہوئی ہے اب جبکہ اس نے مقبوضہ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے باقاعدہ دہلی کے زیر نگرانی کردیا ہے اس اقدا م کو پاکستان نے قطعی طورپر مسترد کردیا جبکہ چین نے بھی اس کی انتہائی مذمت کی ہے ۔ پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی غیر قانونی طور پر دو وفاقی اکائیوں میں تقسیم مسترد کر دی، مقبوضہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور بھارت کا کوئی بھی اقدام اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا ۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تحاریک اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دوطرفہ معاہدوں خصوصا شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ مقبوضہ جموں و کشمیر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے اور بھارت کا کوئی بھی اقدام اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا، یہ تبدیلیاں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی رو سے غیر قانونی اور بے وقعت ہیں اور مقبوضہ وادی کے عوام کے حق خود ارادیت پر اثر انداز نہیں ہوتیں ۔ پاکستان خاص طور پر رواں سال 5 اگست کے بھارت کے اعلان کردہ ان اقدامات کو واضح کرے گا جو مقبوضہ کشمیر کو 9 لاکھ بھارتی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں ابک بڑی جیل میں تبدیل کرکے کشمیر کے عوام پر بندوق کی طاقت سے لاگو کیے گئے ہیں ۔ 80لاکھ سے زائد کشمیریوں کو سخت پابندیوں کا سامنا ہے اور دنیا کے ساتھ ان کا رابطہ منقطع ہے، خواتین و بچوں سمیت کئی افراد کو بھارتی قابض فورسز کی طرف سے مسلسل ظلم اور تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

آزادی مارچ، مسائل پُرامن طریقے سے حل کرنا ہوں گے

آزادی مارچ اسلام آباد میں ڈیرے ڈال چکاہے ابھی تک یہ پرامن ہے اس سلسلے میں حکومتی اقدامات بھی قابل تعریف ہیں کہ انہوں نے کوئی راستے میں رکاوٹ نہیں کھڑی کی اور پھر سب سے اہم بات یہ کہ حکومت اور آزادی مارچ کے اعلیٰ سطح پر رابطے بھی قائم ہیں ، دونوں جانب سے ابھی تک معاہدوں کی پابندی کی جارہی ہے، حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی تو آزادی مارچ والے خوداس کے ذمہ دار ہوں گے ۔ بہرحال اپوزیشن اور حکمرانوں کو چاہیے کہ وہ جو بھی حالات درپیش ہیں انہیں باہمی بات چیت سے حل کریں تاکہ ملکی حالات انارکی کا شکار نہ ہو پائیں ۔ وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جمعیت علماء اسلام کو ;200;زادی مارچ اور جلسے کی اجازت دے کر ان جماعتوں کے عزائم کو ناکام بنایا جو مولانا فضل الرحمن کا کندھا استعمال کرکے ملک میں انتشار پھیلانا چاہتے تھے، مارچ کے شرکاء کی طرف سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی تو قانون حرکت میں ;200;ئے گا، مولانا فضل الرحمن کی جان کو خطرہ ہے اس سے انہیں ;200;گاہ کردیا گیا ہے،اعظم عمران خان کے استعفیٰ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

پاک چین دوستی ۔۔۔ قولی نہیں عملی ہے

تہذیب اور انسانیت کی یونیورسٹیوں کی جتنی ضرورت آج ہے اس سے پہلے شاید ہی نہ ہوتی ہو مگر فیض کی نظر ہی جمالیاتی لمحہ تخلیق کرتی ہے اورانسان کی حالت بدل جاتی ہے مگر آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم یافتہ اور تہذیب و شائستگی سے مرصع ماں کے وجود سے ہی آسودگی محسوس کر سکتے ہیں ۔ آج ہم علما کو دیکھ رہے ہیں جن کے قول و فعل میں ارض و سما کا بُعد اور تضاد ہے ۔ رات شاہی قلعہ قدیم تہذیب اور ثقافت کا ماحول دیکھ کر ورطہَ حیرت میں ڈوب گیا ۔ کون کہتا ہے کہ عمر رفتہ لوٹتی نہیں ۔ عمر رفتہ تو واقعی نہیں لوٹتی لیکن ہزاروں سال پرانے موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے کھنڈرات کی تہذیب لوٹ سکتی ہے اس کے لئے ہمارے وطن عزیز میں حب الوطنی کے پیکر متحرک جناب کامران لاشاری موجود ہیں جن کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا ہے ۔ آج میں نے اپنے کالم کا آغاز ہی آپ کے منصوبہ ساز ذہن کی خوش نمائی اور رعنائی خیال سے کیا ہے ۔ میزبان خاص محترمہ صباحت رفیق جو فنون و علوم کی تہذیب، شائستگی اور عالمی زبان موسیقی کی یونیورسٹی ہیں شاہی قلعہ کے رائل کچن میں عشائیہ تقریب کے موقع پر تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی تھی اور جناب عادل عمر کے اعجاز نطق سے ہم لطف اندوز ہورہے تھے ۔ جی چاہتا تھا کہ وہ بولتے جائیں اور ہم ساری رات سنتے رہیں ۔ کمال کے زبان آور اور منتہاکے گفتگو طراز تھے ۔ میں نے واقعی ایسے جلیل القدر نقیب مجلس کو بہت دیر کے بعد سنا:

فقط اسی شوق سے پوچھی ہیں ہزاروں باتیں

میں تیرا حسن تیرے حسن بیاں تک دیکھوں

اس میں کوئی شک نہیں ہے آپ کے بعد بات کرنا مشکل کام تھا ۔ وہ بالکل ایسے ہی کہ جس طرح مولانا محمد علی جوہر نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے کہا تھا کہ شاہ جی جب آپ لوگوں کو اپنی تقریروں میں قورمہ اور پلاءو فراہم کرتے ہو تو اس کے بعد یہ کیوں نہیں کہہ دیتے کہ محمد علی کی روکھی سوکھی روٹی بھی قبول کرلیا کریں ۔ شاہ جی کا انکسار اور عجز ملاحظہ فرمائیں ۔ آپ نے کہا حضور یہ باتیں ایک جرنیل ایک سپاہی کے بارے میں کہہ رہا ہے ۔ عادل عمر نے مجھے اپنا گرویدہ اور مداح بنا لیا ہے ۔ مگر وہ بات جو بہت ناگوار گزری کہ میں مہمان خاص کے حوالے سے میں آپ کانام نہیں جانتا ۔ وہ آئندہ نہ دہرائی جائے ۔ بقول شیخ سعدی کے

حفظ مراتب نہ کنی زندیقی

آج کے مہمانِ خاص عزت مآب راجہ ہمایوں یاسرو زیر تعلیم تھے ۔ آپ علم و عمل کے پیکر اور استغنا کی دولت سے مالا مال ہیں اور عمل کے آدمی ہیں ہم نے آپ کے انکسار میں وقار و افتخار تلاش کیا ہے ۔ محترمہ صباحت رفیق بولتی نہیں موتی رولتی ہے اور آپ کے لہجے میں عاجزی اور گفتگو طرازی میں انکساری دلوں میں جگہ بنا لیتی ہے ۔ آپ نے آنے والے سارے مہمانوں کو اپنے خطبہ استقبالیہ میں جس انداز سے خوش آمدید کہا وہ اگلے سال تک ہی نہیں ہمیشہ یاد رہے گا ۔ محترمہ نے راجہ ہمایوں یاسر کو سٹیج پر بلایا اور وہ گویا ہوئے تو فنون و علوم کے موتی آپ کی زبان سے جھڑنے لگے ۔ آپ کی دانش اور ذہانت کی چاندنی جس کا کوئی زوایہ نہیں ہوتا پورے ماحول کو اپنی آغوش میں لیے ہوئے تھی آپ نے ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانوں پر بات کی اور مسلمانوں کی عظمت رفتہ پر بھی ناز کیا اور مسلم سائنسدانوں کی تحقیق و جستجو نے آج یورپ کو آسمان پر پہنچا دیا ہے اور انہوں نے ہمارے ہی چمنستان علم سے خوشہ چینی کرکے اپنے گلدستہ ہائے ایجادات کو گوناگوں دلچسپیوں اور نظر فریبیوں سے مزین و آراستہ کیا ہے ۔ آج یورپ ہوا میں پرواز کر رہا ہے اور تہہ آب مشق خرام ناز ہے ۔ راجہ ہمایوں یاسر نے کہا کہ یورپ نے ہمارے دماغی تجسس اور علمی شغف سے دنیا کے موجودہ ایجادات کے سامان بہم پہنچائے ۔ آپ نے کہا کہ دنیائے سائنس کا کونسا عقدہ ہے جو ہم نے حل نہیں کیا ۔ تہذیب و تمدن کا کونسا راز ہے جو ہم نے کھو ل کر نہیں رکھ دیا ۔ تحقیق و تدیق کا کونسا مرحلہ ہے جو ہم نے طے نہیں کیا میں اس کی تائید میں کہتا ہوں کہ جس زمانے میں یورپ کے لوگ غسل کرنے کی رسم کو بے دینی کی رسم قرار دیتے تھے اس زمانے میں ہمارے علمائے اکرام اور مسلمان سائنسدان قرطبہ کے بہترین حماموں میں لطف اندوز ہورہے تھے ۔ یہ ہمارا عروج تھا اور آج ہم اس عروج اور کمال پر ہی سر نہ دھنتے رہیں ۔ ہ میں زیادہ سے زیادہ ڈاکٹر نوید شیروانی پیدا کرنے ہوں گے جو مسلمانوں کی عظمت رفتہ کی بازیابی کے بہت بڑے محرک ہیں ۔ حضرت علی ;230; کے قول کی برناڈشا نے خوشہ چینی کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم اپنے بچوں کو اپنے عہد کی تعلیم نہ دو کیونکہ یہ تمہارے زمانے کے لئے پیدا نہیں کئے گئے اور آج ہمایوں یاسر جیسی عبقری شخصیت نے انجینئرنگ یونیورسٹی سے آغاز کر دیا ہے ۔ کمپیوٹر چپ کے موجد ڈاکٹر نوید شیروانی مستقبل کے معماروں کے محسن قرار پائیں گے اور چین اور پاکستان کی دوستی میں اعتبار، اعتماد اور یقین سے بھی آگے رشتوں میں مضبوطی قول سے نہیں عمل سے آئے گی ۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز بھی اس پر شکوہ عشائیہ میں موجود تھے ۔ ڈاکٹر نوید شیروانی کی طبع میں روانی اور وضع میں معصومیت ہویدا تھی ۔ وہ جدید عہد کے تقاضوں سے ہم آہنگ فنون و علوم کے بحرِ بیکراں کو ایک قطرے میں محاورۃً نہیں عملاًانڈیل دیا ہے ۔ کمپیوٹر کی چپ کے خالق کو جتنا بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے ۔ امسال آپ کو ایسی ہی خدمات کے اعتراف میں صدارتی ایوارڈ ستارہَ امتیاز سے نوازا گیا تھا ۔ آج چین کے ٹیکنالوجی کے ماہرین کے اشتراک سے شاندار کامیاب اور موَثر حکمت عملی پر عمل پیرا ہورہے ہیں ۔ چین اور پاکستان دونوں میں جو ایک قدر مشترک ہے وہ زراعت کا حوالہ ہے ۔ دونوں ملک زرعی حیثیت سے بہت سے مخفی خزانوں سے مالا مال ہیں ۔ چین کے جاگیردارانہ نظام کی چٹان کو موزے تنگ نے اپنے عزم بالجزم کے کدال سے ریزہ ریزہ کر دیا اور پاکستان کے جاگیردارانہ نظا م نے اپنے مضبوط شکنجے گاڑ کر عوام کو ریزہ ریزہ کر دیا ہے ۔ چین کسانوں کو انسانوں جیسی سہولت سے ہمکنار کرتا ہے اور زندگی کے حسن سے دو چار کرتا ہے اور یہی وہ لذت آشنائی ہے جو چینی قوم کو اپنے وطن کی تعمیر و ترقی کے لیے ہر دم جواں اور جاوداں رکھتی ہے ۔ یہاں کی صورت حال اب مختلف ہے ۔ آج کا چین اور کل کا چین دونوں کا موازنہ کریں تو آپ کو ماءو والا چین اور اُن کی قیادت میں جو انقلاب برپا ہوا تھا اس کا علم بذاتِ خود ایک گراں مایہ سرمایہ ہے اور اس علم کے حصول میں کسی قسم کی کوتاہی اور سستی کسی بھی علم دوست انسان کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے ۔ پاکستان کے عوام کے شام و سحر چین کی عوام کی طرح کیوں نہیں بدلتے اس کی وجوہات کیا ہیں ۔ ہمارا فلاکت زدہ ماحول روشن عزائم اور تند و تیز ارادوں سے حیرت انگیز انقلاب کی راہیں کھول سکتا ہے ۔ میں جب ماضی کے دریچوں میں جھانکتا ہوں تو مجھے چیئر مین ماءو کے وہ روشن کلمات میرے آئینہ ادراک پر رنگ و نور کی طرح پھیل جاتے ہیں ۔ ’’ہماری معاشی تعمیر کی مرکزی کڑی زرعی اور صنعتی پیداوار میں اضافہ کرنا، اپنی بیرونی تجارت کو فروغ دینا اور امدادِ باہمی کی انجمنوں کو مضبوط بنانا ہے ۔ میں نے چالیس برس تک خود کو قومی انقلاب کے مقصد کےلئے وقف کیے رکھا تاکہ چین کے لیے آزادی اور برابری کا درجہ حاصل کیا جاسکے ۔ ان چالیس برسوں کے درمیان میرے تجربات نے مجھے پوری طرح اس بات کا قائل کر دیا ہے کہ اس مقصد کی تکمیل کےلئے یہ ضروری ہے کہ ہم عوام الناس کو بیدار کریں اور ایک مشترکہ جدو جہد میں دنیا کی اُن اقوام کے ساتھ اتحاد قائم کریں جو ہم سے برابری کا سلوک کرتی ہیں ‘‘ ۔ دیکھئے ! نیا چین نظروں کے سامنے ہے ہ میں اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے ۔ نئے چین کا مستول افق پر نمودار ہوچکا ہے ہ میں تالیاں بجاتے ہوئے اس کا خیر مقدم کرنا چاہیے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیجیے نیا چین ہمارا ہے ۔ ہمارے شاندار مستقبل کے دروازے کو امریکی تالا لگا ہوا ہے اس کی چابی ہ میں اپنے اس دوست سے مل گئی ہے جو ہمارے شاندار ماضی کی یادگار دوستی کا ایک تابناک باب ہے ۔ اس نے ہر آڑے وقت میں دوستی کا حق ادا کیا اور دوستی کی حقیقی تصویر عالمی منظر نامے پر دکھائی ۔ چین ہمارا وہ دوست ہے جو اپنے دوست کو خوشحال دیکھنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں وہ اپنا ہنر، علم ، تجربہ اور مہارت تک ہ میں بڑی فراخ دلی سے دے رہا ہے ۔ پاک چین دوستی کی تاریخ اپنے دامن میں لاتعداد خوشگوار یادوں سے لپٹی ہوئی ہے اور وفا شعار اور سلیقہ شعار پاک چین دوستی کے ڈانڈے ہماری قومی زندگی میں معاشی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوئے ہیں ۔ جغرافیائی لحاظ سے بھی ہ میں یہ دوستی وفاشعار شاہراہِ ریشم سے بڑی سبک رفتار دکھائی دیتی ہے ۔ ہمالہ سے بلند سمندر سے گہری اور شہد سے زیادہ میٹھی دوستی کی شیرینی پاک چین دوستی میں ہی مضمر ہے ۔ چائنا کی عبقری شخصیات کی آمد بہار کا وہ خوشگوار جھونکا ہے جس نے ہمارے فنون و علوم میں حیرت انگیز انقلاب کی نوید دی ہے اور ڈاکٹر نوید شیروانی اور صباحت رفیق کا کردار جزوِ اعظم کی حیثیت رکھتا ہے ۔ اس تقریب میں کرکٹ کی مایہ ناز شخصیت اور کرکٹ اینڈ سپورٹس کلچر کے چیئرمین میاں جاوید علی ، محترمہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق، پنجابی اور اردو زبان کے جدید لہجے کے شیریں سخن اعظم ملک، جناب فاروق تسنیم ، جناب نعیم طاہراور اُن کی بیگم، محترمہ یاسمین طاہر کے علاوہ ملک کی نامور شخصیت سابق صدر جنرل محمد ضیاء الحق کے فرزند دلبند جناب اعجاز الحق بھی ہمہ تن گوش تھے ۔ ا س قافلہَ نو بہار کا پورا عملہ جنہوں نے پوری ایمانداری اور ذمہ داری سے اہل علم و ہنر کا حفظِ مراتب کا خیال رکھا جس میں جناب ذوالقرنین اصغرکا ذکر نہ کیا جائے تو نا انصافی ہوگی ۔ راءو فواد قمر کی جگمگاتی شخصیت، شہزاد چٹھہ کی اطمینان افروز سنجیدگی ، شہزاد علی کی زندہ دلی اور عائشہ ظفر کی باضابطہ راہنمائی ظفر مندیوں کی نشاندہی کر رہی تھی ۔ میں نے زمین پر جھکنے والوں کو آسمان کی بلندیوں کو چھوتے دیکھا ہے اور اس مجلس میں موسیقی کے ماہرین میں عجز انکساری اور استغنا کی لازوال دولت دیکھی ۔ وہ صرف داد کے طلب گار ہیں اسی میں وہ دوسروں کو وجد میں لاتے ہیں اور سنتو قوال کے فرزند نے سامعین کے دلوں میں زلزلے ڈال دیے اور ابھی تک میں تو اپنے بدن میں ایک لرزشِ خفی محسوس کر رہا ہوں ۔ یہ تقریب یادگار رہے گی اور چائنا کے ماہرین کےلئے آخر میں چین کے مسیحا ماءوزے تنگ کی خوبصورت نظم ہدیہَ تبریک کے طور پر پیش کرتا ہوں :

ماضی !

جیسے کوئی بھولا بسرا دھندلا سپنا

جس کی یاد کے ساتھ دل میں نفرت کا جذبہ اُبھر آئے

دکھی انسان اٹھے!

ہاتھوں میں سر پھریریے

قربانی کے سچے جذبے سے سرشار

تُند ارادے !

نئے عزائم !

اس دھرتی پہ چمکنے والے

انوکھے چاند، انوکھے سورج!!!

دھان کے کھیت اور گیہوں کے کھلیان

خوشیاں ، موج بہ موج

آج میرا جی کتنا خوش ہے!

شام کی نیلی پیلی دھند میں

اپنے گھروں کو پلٹنے والے ۔ لوگ جیالے !

اُن کے چہرے دیکھ کے آج میرا جی کتنا خوش ہے !

;

Google Analytics Alternative