کالم

بھارتی فوجیوں کا کشمیریوں کے خلاف لڑنے سے انکار

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کو نوجوان کشمیریوں کو شہید کرنے کی ہدایت کر دی گئی جب کہ وادی میں ابھی کرفیو نافذ ہے ۔ بھارتی فوج کے کور کمانڈر جنرل کے ایس ڈھلوں نے دھمکی دی ہے کہ اسلحے کے ساتھ پکڑے جانے والے کشمیریوں کو مار دیا جائے گا اس لیے مائیں اپنے بچوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کریں کیونکہ ہتھیار اْٹھانے والوں کا انجام موت ہے ۔ ان احکامات کی وجہ سے مقبوضہ جموں میں ہزاروں مسلمانوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں ۔ محکمہ اوقاف نے قابض فوج، اور ہندو انتہا پسندوں کے حملوں کے خوف سے پناہ لینے والے مسلمانوں پر مساجد اور درباروں کے دروازے بند کر دیے ہیں ۔ حریت رہنماؤں کی جان کو لاحق خطرات کے پیش نظر نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر انکی سیکیورٹی کے فراءض سنبھال لیے ہیں ۔ ہریانہ میں ہزاروں کشمیریوں کے کاروبار بند کرا دیے گئے ہیں جبکہ دہرادون کے پائن مینیجمنٹ اور بابا فرید انسٹی ٹیوٹ نے آئندہ سے کسی بھی کشمیری طلبہ کو داخلہ نہ دینے کا اعلان کا ہے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشل نے جموں ، اتراکھنڈ، ہریانہ اور بہار میں کشمیری طلبا اور تاجروں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ پاک فوج سے خوفزدہ ہو کر بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اپنی فوج کے حاضر سروس اور سابق افسران کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جنرل بپن راوت بھی پاکستان کی انفارمیشن وار حکمت عملی سے خوفزدہ ہیں ۔ انہوں نے پاکستان کی جانب سے بھارت کو انفارمیشن وارفیئر میں دی جانے والی مات کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ پاک فوج نے بھارت کو انفارمیشن وار میں شکست دی ۔ بھارتی آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ہماری انتہائی خفیہ آپریشنل معلومات لیک ہوئی ہیں ۔ اسی لیے اب بھارتی فوج میں سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے جا رہی ہے ۔ اس سے قبل سابق بھارتی کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عطا حسنین پہلے ہی آئی ایس پی آر کی پے در پے کامیابیوں کا اعتراف کر چکے ہیں ۔ انہوں نے جدید جنگی حربوں اورمہارت کے شعبے میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی بہترین حکمت عملی کی تعریف کی تھی ۔ جبکہ بھارت کی خفیہ ایجنسی ;3939;را;3939; کے سابق چیف اے ایس دولت بھی پاکستان کی حکومت اور آرمی کے معترف ہیں ۔ بھارتی فوجی پاکستان کی جانب سے سیٹ کیے جانے والے ہنی ٹرہپ میں بھی کئی مرتبہ پھنس چکے ہیں جس کے پیش نظر بھارتی فوج نے اس سے قبل بھی اپنے فوجی افسران و اہلکاروں پر اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا تھا تاہم اب بھارتی فوج کی خفیہ آپریشنل معلومات لیک ہونے پر بھارت فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے فوج کے حاضر سروس اور سابق افسران پر سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق پابندی عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں مودی سرکار کے مظالم سے تنگ آکر بھارتی فوج میں بھی پھوٹ پڑ گئی ۔ بھارتی فوج کے کرنل نے اپنی حکومت کے نہتے کشمیریوں پر ظلم ڈھالنے کے احکامات ماننے سے انکار کرتے ہوئے استعفیٰ دےدیا اور ساتھ ہی انکشاف کیا ہے کہ کچھ عرصہ قبل رات کے وقت پاکستان نے میری یونٹ کے 25جوانوں کو ہلاک کیا لیکن میڈیا کی طرف سے کوئی کوریج نہیں کی گئی کیوں ;238;مزید برداشت نہیں کرسکتا ۔ ’بائے انڈین آرمی‘ ۔ کرنل وجے اچاریہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ میرے استعفے کی وجہ کشمیر ہے ۔ میرا مطلب ہم کیسے اپنے لوگوں کو مار سکتے ہیں ۔ بھارتی فوج کے اندر بغاوت کی فضا پیدا ہونے سے ہندو فوج کے افسران اور نریندر مودی سخت پریشان ہوگئے ۔ ان کی پریشانی یہ بھی ہے کہ سکھوں اور اقلیتی فوجیوں کے استعفے اور مقبوضہ کشمیر میں تعیناتی سے انکار کی وجہ سے کہیں سکھوں کی خالصتان تحریک اور کشمیریوں کی تحریک آزادی آپس میں گٹھ جوڑ کر کے بھارت کےلئے پریشانی نہ کھڑی کر دیں ۔ ان تحاریک سے علیحدہ علیحدہ کیسے نمٹا جائے کہ دونوں تحریکیں اکٹھی نہ ہوں اور دم بھی توڑ جائیں ۔ اگر ان تحریکوں کو فوج کے اندر سے مدد مل گئی تو بھارت کو ٹوٹنے سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔ اس کےلئے کچھ سکھ فوجی افسران نے مودی کا ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور ان کو خصوصی طور پر یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ استعفیٰ دینے والے اور کشمیریوں کے لئے ہمدردی رکھنے والے سکھ افسران کو فرنٹ لائن پر لا کر ان کے ہاتھوں سے کشمیریوں کا قتل عام کرائیں ۔ مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت نے مزید اضافی فوج وادی میں بھیجی ہے تاکہ کشمیریوں کے احتجاج کو روکا جا سکے ۔ وادی میں مسلسل کرفیو لگا ہوا ہے جس پر عمل کرنے کےلئے سخت احکامات دیئے گئے ہیں مگر کچھ بھارتی فوجیوں نے کشمیریوں پر مظالم اور تشدد کرنے سے انکار کر دیا ہے ۔ ان میں سرفہرست سکھ فوجی ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر مظالم کیخلاف بھارتی فوج کے اندر ہی کئی اعلیٰ بھارتی سکھ افسروں نے اس کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر دیا اور پھر حکومت کو اپنے استعفے بھی بھیج دیئے ۔ کئی سکھ فوجی افسران نے تو مقبوضہ کشمیر جانے سے حتمی طور پر انکار کر دیا ۔ یوں بھارتی فوج کے اندر بغاوت کی فضا پیدا ہو گئی ۔ اس کے علاوہ بہت سے بھارتی فوجیوں نے مقبوضہ کشمیر میں قائم فوجی چوکیوں میں اسرائیلی ایجنٹوں کے لیکچرز سننے اور ان کا حکم ماننے سے بھی انکار کر دیا ۔

اس طرح کام نہیں چلے گا

تبدیلی کے علم بردار،نئے پاکستان کے دعویدار،کرپشن کے شدیدمخالف،ملکی وسائل کی چوری روکنے کے خواہشمند،مہنگائی کی ذمہ داری گزشتہ حکمرانوں پرعائدکرنے والے، قرض، امداد اوربھیک مانگنے پر خودکشی کوترجیح دینے والے،بے روزگاروں کے ہمدرد،بوسیدہ پولیس کلچرکوپہلی فرصت میں درست کرنے کی بات کرنے والے صادق و امین عمران خان وزیراعظم منتخب ہوئے توآئین و قانون کے پابند شہریوں کوامیدسی ہونے لگی کہ اب بجلی،گیس کی چوری ختم ہوجائے گی،اب ناجائزمنافع خوری،غذائی اجناس کی ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کیخلاف کارروائی کرکے مصنوعی مہنگائی کاخاتمہ ممکن ہوگا،اب انہیں ملاوٹ سے پاک اشیاء خوردونوش مناسب قمیت پردستیاب ہوں گی،گزشتہ حکمران کاروباری طبقے سے تعلق رکھتے تھے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ سرمایہ داروں کیخلاف کارروائی سے گریزاں تھے اب ایسی شخصیت وزارت عظمی کے منصب پربراجمان ہوئی ہے جوخودکولیڈرکے طورپرپیش کرتی ہے، ایک سال سے زیادہ عرصہ گزرنے پراہل اُمید کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں ،کرپشن ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھتی جاتی ہے اورکپتان کہہ رہے ہیں دہائیوں سے بگڑانظام فوراًکیسے ٹھیک ہوسکتاہے،بقول حسن نثار ہرچوک سے تیل نکل آئے تب بھی دو چار سال میں معیشت درست نہیں ہوسکتی،بہت سارے لوگ اس بات کوسمجھنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے جبکہ راقم حسن نثارکے ساتھ سوفیصدمتفق ہی نہیں بلکہ اس سے بھی آگے بات کرناچاہتاہے،ہرچوک سے تیل نکل آئے، ہرمرغی سونے کے انڈے دینے لگے،ہرباغ میں پھلوں کی جگہ ہیرے لگنا شروع ہوجائیں ،ہرکھیت میں ڈالر،پونڈاورریال اُگناشروع ہو جائیں ، کراچی میں لگے کچرے کے پہاڑسونابن جائیں تب بھی نہ صرف دوچارسال بلکہ جب تک کرپشن کی موجودہ رفتاراورقوم کی بے بسی برقرارہے تب تک ہمارے حالات نہیں بدل سکتے چاہے ہزارسال گزرجائیں ،یہاں قائم خانیوں کے گھرخزانوں سے بھرسکتے ہیں پرملکی خزانہ خالی ہی رہے گا،آپ نے دیکھا آج تک کتنے شرجیل، عاصم، شریف، زرداری، چیمے، فواد اوردیگر کے گھروں ،دفتروں سے خزانے برآمد ہو چکے ہیں پر آج تک نوٹس،انکوائریاں ،جے آئی ٹی یاں ، کمیشن،کمیٹیاں ،مقدمات،پیشیاں ،تاریخیں ،بیماریاں ،اسپتالوں میں ملزمان کے وی آئی پی علاجوں کے سوا قوم کو کیا فائدہ ہوا;238; سنانہیں خواجہ آصف نے اسمبلی میں کیا کہا;238;خواجہ سعدرفیق،آصف زرداری، خورشید شاہ ، شاہدخاقان عباسی اوردیگرزیرحراست ملزم سیاستدانوں کے حقوق کاہ میں تحفظ کرنا چاہئے یہ ہماری برادری ہیں ،آج یہ لوگ پکڑ میں آئے ہیں کل ہم آئیں گے،آج ہم زیرحراست ملزمان کوسپورٹ کریں گے توکل وہ ہ میں سپورٹ کریں گے،خواجہ آصف کی باتیں سن کربھی قوم کو سمجھ نہیں آنی توپھرسمجھ لیں کہ ہماراکچھ نہیں ہوسکتا ، صاحب اقتدارطبقہ یعنی مافیاچھوٹی برادری ہے جو ایک مظلوم،بے خبر،بے بس،اپنے ہی بچوں کی دشمن بڑی برادری عوام کویرغمال بنانے کی مہارت رکھتی ہے اوریہ بڑی برادری اس مافیاکے ہاتھوں لٹتی ہے کٹتی ہے اورپھرانہیں کہ نعرے لگاتی ہے، کبھی کسی بکری،کسی گائے،بیل کوقصاب کی حمایت کرتے دیکھاہے;238;اکثرہم دیکھتے ہیں کہ بوقت ذبح بیل کی مزاحمت کئی لوگوں کے زخمی ہونے کا باعث بنتی ہے اوربیل اپنی جان بچانے کی کوشش میں موقع سے فرارہوجاتے ہیں پرہم ایسی بے وقوف برادری ہیں جولٹتی ہے کٹتی ہے بربادہوتی چلی جاتی ہے اپنی نسلوں کی گردنوں پرچھری چلانے والے بھٹوکوزندہ رکھتی ہے،شریف کے قصیدے پڑھتی ہے،مولاناکی سیاست میں اسلامی چندہ ڈالتی ہے اوراپنے حق کیلئے بھی رشوت،سفارش کی محتاج رہتی ہے ،فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے اپنے ملک کے عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ رشوت طلب کرنے والے سرکاری ملازمین اور افسروں کی پٹائی کریں ،فلپائنی صدرنے کہا کہ آپ کے پاس آتشیں ہتھیار ہیں تو ان اہلکاروں کو گولی ماردیں جو رشوت طلب کریں یا کرپشن میں ملوث ہوں تاہم انہیں قتل نہ کریں ،صرف زخمی کر دیں ،سخت گیر صدر نے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ اس اقدام پرانہیں جیل نہیں جانے دیں گے،انہوں نے کہا کہ عوام ٹیکس دیتے ہیں سرکاری واجبات ادا کرتے ہیں ،کسی اہلکار کو ان سے رشوت طلب کر نے کی جرات نہیں ہونی چاہیے اورایک ہمارے کپتان ہیں جوآہستہ آہستہ تبدیلی لانے کی بات کرتے ہیں ،خان صاحب فلپائنی صدرکے اقدام کودیکھیں اسے کہتے ہیں لیڈراوریہ ہیں اصل کرنے کے کام، فلپائن کے مقابلے میں ہمارے حالات اس سے بھی سخت فیصلوں کے متقاضی ہیں ،فلپائنی صدر نے زخمی کرنے کی بات کی ہے کپتان کوچاہئے کہ کم ازکم دونوں ٹانگیں کاٹنے کی اجازت دیں ، آئی ایم ایف کے وفد کوحسین داستانیں سنانے سے معیشت ٹھیک نہیں ہوگی،ماضی کے حکمران بھی یہی کرتے رہے ہیں ،آئی ایم ایف کے پروگرام پرعمل کرنے کاوعدہ اورعوام کوآئندہ ایک دوسال میں مہنگائی کم کرنے کالالی پاپ ،اس طرح کام نہیں چلے گا،جناب وزیراعظم ایسے توہم بھیک مانگنے پرمجبوررہیں گے،گزشتہ قرضوں کے سود کی ادائیگی کیلئے نئے قرض لیتے رہیں گے،جب تک ملک سے کرپشن ختم نہیں ہوگی تب تک ہم پوری دنیاکے وسائل حاصل کرکے بھی معیشت ٹھیک نہیں کرسکتے،وسائل توچلے جاتے ہیں قائم خانیوں ،شرجیلوں ،شریفوں ،زرداریوں ،چیموں ،اورجوادوں کے گھر،یہ بات بڑی حدتک درست ہے کہ کرپشن آخری درجے کاکینسربن چکی جوپیناڈول سے ٹھیک نہیں ہوسکتی ،کرپشن کے خاتمے کیلئے لازمی ہے کہ کینسرزدہ حصوں کوبے دردی کے ساتھ کاٹ دیاجائے،کرپٹ اداروں اور افراد کا احتساب اسی طرح کے ادارے اور افرادکسی صورت نہیں کر سکتے، فلپائنی صدرنے عوام کو رشوت طلب کرنے والے اہلکاروں اور افسران کوزخمی کرنے کی اجازت دے کرانتہائی اقدمات اُٹھایاہے ،میرے کپتان اس طرح کام نہیں چلے گا آپ عوام کو کرپٹ اورراشی اہلکاروں اور افسران کی پٹائی کی اجازت نہیں دے سکتے تو کم ازکم اس سے ملتے جلتے اقدامات ضرور کریں ، بے بس،بے اختیار بڑی برادری عوام کو کرپشن کی بے تاج بادشاہ چھوٹی برادری کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے کا اختیار دیں اور پھر دیکھیں حالات کس تیزی کے ساتھ تبدیل ہوتے ہیں ،یہی تبدیلی ہے جسے لانے کیلئے آج نہیں توکل سخت اقدامات اٹھانے ہوں گے ورنہ آپ بھی ناکام ہوکرسیاہ تاریخ کاحصہ بن جائیں گے اورآپ سے امیدیں وابستہ کرنے والے محب وطن پاکستانیوں کابھرم ٹوٹ جائے گا ۔

درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے

وزیر اعظم عمران خان کی مختلف جماعتوں کے تعاون کی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظلو م ونہتے کشمیریوں پرظلم وستم اور دہشت گردی کی مذمت کی ہے اور مظلوم ونہتے کشمیریوں کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جدوجہد جاری رکھی ہے اور مقبوضہ کشمیر سے ہی آنے والے دریائے چناب کاپانی بھی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں بگلیہارڈیم پر روک رکھا ہے جس کی وجہ سے دریائے چناب کا ستانوے فیصد سے زائد حصہ کم پانی کی وجہ سے خشک ہوچکا ہے اور سیالکوٹ سے نکلنے والا نہر نظام مرالہ راوی لنک اور اپرچناب کے کم پانی کی وجہ سے تباہ ہوا ہے جہاں کاشتکار اور کسان ٹیوب ویلوں کا پانی فصلوں کو لگانے پر مجبور ہیں اور زراعت کا اربوں روپے کا نقصان پہنچ چکا ہے لیکن 1960ء میں سابق صدر جنرل ایوب خان کے دور اقتدار میں بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی بھارت کی طرف سے جاری ہے اور پانی کی مقدار کم ہوکر 29ہزار تین سو سنتالیس کیوسک رہ گئی ہے حالانکہ سندھ طاس معاہدہ کے تحت بھارت دریائے چناب میں ہر لمحہ 55ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہے لیکن بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی بھی خلاف ورزی کرکے پانی روکا ااور پاکستان کو نقصان پہنچایا ،مقبوضہ کشمیر سے آنے والے دو دریاءوں دریائے مناور توی میں پانی کی آمد ایک ہزار چھ سو باون کیوسک اور دریائے جموں توی میں پانی کی آمد دو ہزار چار سو پندرہ کیوسک رہی ، بھارت کی طرف سے ہمیشہ پاکستان میں شامل ہونے والے دریاءوں کا پانی روکا جاتارہا ہے اور اس وجہ سے پاکستان کے لاکھوں ایکٹر زرعی رقبے پر کاشت شدہ فصلوں کو بھی نقصان پہنچ چکا ہے اور پاکستان کے احتجاج کے باوجود بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی کھلی خلاف ورزی کی ہے ،زمینداروں محمد نواز ، برکت علی ، بشارت احمد اور منصور احمد کے مطابق فصلوں کیلئے پانی انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے اور دریاکا پانی بہت زیادہ فائدہ مند ہوتا ہے لیکن مخالف ملک دریائے چناب کا پانی روک رکھا ہے اور پاکستان کو بڑے پیمانے پر زرعی نقصان پہنچایا گیا ہے اس بدقسمتی سے بھارت جان بوجھ کر سازشیں کرکے خطہ کا امن تباہ کررہا ہے اس لئے اسے دریائے چناب کا پانی فوری کھول دینا چاہیے وگرنہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بھی ہوسکتی ہے اور ورکنگ باءونڈری لائن ومقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے دہشت گردی کے ریکارڈ حملے کئے ہیں جن میں انسانی جانوں اور املاک کا نقصان ہوا ، مسلم لیگ (ن) کے سابق وزیر خارجہ ورکن قومی اسمبلی خواجہ محمد آصف کے مطابق بھارت نے ہمیشہ مقبوضہ کشمیر میں مظلوم ونہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کئے اور انسانی حقوق کی جتنی خلاف ورزیاں مقبوضہ کشمیر میں ہوئیں اس کی مثال دنیا بھر میں نہیں ملتی ، بھارت کو ہوش کے ناخن لے کر مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرکے نہتے ومظلوم کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت دے کا فیصلہ کرنے کا ختیار دے ، بھارت مقبوضہ کشمیر پر ناجائز قابض ہوکر ظلم وستم کررہا ہے ،مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کا گہرا تعلق ہے اور زمین رابطے ہونے کے باوجود پاکستان کے مقبوضہ کشمیر میں جانے کے راستے بندہیں اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی کھلی خلاف ورزیاں اور مظلوم ونہتے کشمیریوں کی ہلاکتوں وزخمی ہونے کے علاوہ املاک کو نقصان پہنچنے کے واقعات بدترین انسانی تاریخ کی مثالیں ہیں جن کاہرشہری مذمت کرتا ہے ۔

مسئلہ کشمیر، عمران خان نے بہترین وکیل بن کر مثال قائم کردی

وزیراعظم عمران خان کا دورہ امریکہ انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہورہاہے ۔ نیو یارک میں بہت اہم ملاقاتوں میں عمران خان نے مسئلہ کشمیر کو بہترین انداز میں اٹھایا ۔ ملاقات کرنے والوں میں زلمے خلیل زاد، ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکرٹری جنرل ، امریکی سینیٹر لنزے گراہم اور بانی اسٹڈی کشمیر گروپ کاوفد شامل تھا ۔ وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے پر ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کردار کو سراہا جبکہ انہوں نے کہاکہ ہم نے افغان طالبان سمیت تمام فریقین کو ایک میز پر اکٹھا کیا ۔ امید ہے کہ فریقین کے مابین مسئلہ حل ہو جائے گا ۔ پوری دنیا میں مودی کا اصل چہرہ بے نقاب ہورہا ہے جس طرح بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو جاری رکھا ہوا ہے اس کی مثال دنیا میں نہیں ملتی ۔ جنرل اسمبلی سے خطاب میں بھی وزیراعظم کی تقریر کا اہم ترین موضوع مسئلہ کشمیر ہی ہوگا ۔ اس وقت پوری دنیا جان چکی ہے کہ بھارت کس طرح نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، اب وقت ہے کہ مودی کو ان مظالم سے روکا جائے ، افغانستان کیلئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان مسئلہ کے حوالے سے پاکستان کے کردار کو سراہا ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ پاکستان ہمیشہ سے خطے میں درپیش مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا خواہاں رہا ہے کیونکہ کسی بھی مسئلہ کا حل فوجی نہیں ۔ آخر کار ٹیبل ٹاک سے ہی معاملات حل کیے جاتے ہیں کسی بھی صورت تصادم کا راستہ اختیار کرنے کے ناقابل تلافی نقصان ہوتے ہیں ۔ یہاں امریکہ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ عمران خان نے چونکہ کہا ہے کہ وہ جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اٹھائیں گے کسی نے اس سے قبل مسئلہ کشمیر اس طرح نہیں اٹھایاہوگا ۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور خاص کر عمران خان کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے دنیا بھر میں مسئلہ کشمیر کو اس نہج پر پہنچا دیا ہے جہاں دنیا یہ جان چکی ہے کہ یہ مسئلہ فلش پوائنٹ ہے ۔ دونوں طاقتیں پاکستان اوربھارت ایٹمی صلاحیت کی حامل ہیں اوربھارت اس حوالے سے انتہائی غیر سنجیدہ ملک ہے ۔ وہ پہلے بھی ایٹمی دھمکی دے چکا ہے ۔ گزشتہ روز بھی جب جنرل اسمبلی میں پوری دنیا اکٹھی ہورہی ہے اور مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں پیش کیا جائے گا ۔ ایسے میں بھارتی وزیراعظم نے پھر دھمکی دے کر حالات کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے ۔ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کیخلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان 1965 اور 1971 جیسی غلطی نہ دہرائے ۔ شاید بھارت بھول چکا ہے کہ 1965 میں اس کے ساتھ کیا حال ہوا تھا ۔ اسے یہ جان لینا چاہیے کہ نہ اب 1965 ہے اور نہ ہی 1971 ۔ اب اگر بھارت نے بھول کر بھی کوئی ایسا قدم اٹھایا تو اس کو نیست و نابود کردیا جائے گا ۔ وہ ابھی نند کو یاد رکھے کہ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے کس طرح دشمن کے جہاز کو مار گرایا اور کس طرح اپنے ٹارگٹ لاک کیے تھے ۔ اس وقت پورا بھارت پاکستان کے ٹارگٹ پر ہے اور مسئلہ کشمیر ہماری شہ رگ کی طرح ہے ۔ مودی یہ بھول جائے کہ وہ وادی کے کشمیریوں کی آزادی کو سلب کرلے گا ۔ وہ آزادی حاصل کرکے رہیں گے ۔ ان کے مقدر میں آزادی اور مودی کے نصیب میں شکست لکھی جاچکی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی تنظیموں کو عوام تک رسائی نہیں دی جا رہی ۔ وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے پیلٹ گنز کے استعمال اور اس سے کشمیری نوجوانوں پر ہونے والے اثرات کے حوالے سے ایمنسٹی کی رپورٹ کو سراہا ۔ اس موقع پر وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیری عوام کی سول سوساءٹی وکالت میں معاونت جاری رکھنے کےلئے اقوام متحدہ کی کشمیر پر دو رپورٹس ایک مضبوط بنیاد ہیں ۔ وزیراعظم نے کشمیر اسٹڈی گروپ کے بانی پر زور دیا ہے کہ وہ عالمی برادری کے سامنے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کو بے نقاب کریں ۔ دوسری جانب ہیوسٹن میں بھارتی وزیراعظم مودی کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ مظاہرے کا اہتمام این ;200;ر جی سٹیڈیم کے باہر کیا گیا جہاں مودی نے خطاب کیا ۔ مودی کے خطاب کے موقع پر ریاست ٹیکساس کے کئی شہروں سے مظاہرین بسوں کے ذریعے ہیوسٹن پہنچے ۔ وفاقی وزیر امور کشمیر علی امین گنڈا پور نے بھی مظاہرے میں شرکت کی ۔ مودی کی انسان دشمن کارروائیوں کے خلاف احتجاج میں پاکستانی کشمیری سکھ بھارتی مسلمانوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ان کی ٹی شرٹس اور کیپس پر بھارتی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے ۔ بینرز اور پلے کارڈز پر خالصتان تحریک اور مقبوضہ کشمیر کو ;200;زادی دو اور بھارتی قبضہ ختم کرو کے نعرے درج تھے ۔ اس کے علاوہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی بند کرے ۔ بھارتی دہشت گردی کا چہرہ مودی نازی مودی کے نعرے درج تھے ۔ مظاہرین نے پاکستان اور ;200;زاد کشمیر کے پرچم بھی اٹھا رکھے تھے ۔ احتجاجی ریلی میں خالصتان تحریک مقبوضہ کشمیر کی ;200;زادی والے بینرز پر مشتمل ٹرکوں نے بھی شرکت کی ۔ مظاہرین نے کہا کہ احتجاج کے ذریعے امریکیوں کو بتائیں گے بھارت میں کیا ہو رہا ہے ۔ بھارتی فاشزم کے خلاف لوگ جمع ہوئے ہیں ۔ مظاہرین نے کشمیریوں کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے کشمیر بنے گا پاکستان ہیوسٹن کی فضا گو بیک گو مودی گو کے نعروں سے گونج اٹھی ۔

ڈینگی پر قابو پانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت

ڈینگی کی وبا نے ملک بھر کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے ، چاروں صوبوں میں ڈینگ کا راج ہے اس سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 10 ہوچکی ہے ۔ گزشتہ روز ہی 2 افراد راولپنڈی اسلام آباد میں ڈینگی کی وجہ سے زندگی کی بازی ہار گئے، ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبائی حکومتیں اس جانب توجہ دیں ، خصوصی طور پر ٹائروں کی دکانوں ، سکولوں ، شاپنگ سنٹرز اور ہاءوسنگ سوساءٹیوں میں جہاں جہاں پانی کھڑا ہے وہاں اسے ختم کیا جائے ۔ نیز سپرے کا بھی ترجیحی بنیادوں پر بندوبست کیا جائے تب ہی اس موذی مرض پر قابو پایا جاسکتا ہے ۔ ڈینگی کے وار مسلسل جاری ہیں ، چوبیس گھنٹے میں پنجاب میں مزید 5 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔ صوبے میں 465 نئے مریض مختلف ہسپتالوں میں داخل ہوئے ہیں ، کراچی میں ڈینگی نے مزید 2 افراد کی جان لے لی ۔ رواں سال کراچی میں ڈینگی سے ہلاکتوں کی تعداد 10 ہو گئی ۔ ڈینگی کا مرض ;200;زاد کشمیر تک بھی پہنچ گیا، مظفر ;200;باد، کوٹلی اور میرپور میں درجنوں مریض ہسپتالوں میں لائے جا رہے ہیں ۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا ہے کہ ملک بھر میں 10 ہزار سے زائد افراد میں ڈینگی وائرس کی تصدیق ہو چکی ہے، آئندہ دنوں میں ڈینگی سے متاثرہ افرادکی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے، حکومت ڈینگی کی روک تھام کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، ڈینگی کے مسئلے کوسیاسی جماعتیں فٹ بال نہ بنائیں ، ڈینگی کے معاملے پر بعض پارٹیاں سیاست کر رہی ہیں ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے مزید کہا کہ حکومت ڈینگی کی روک تھام کےلئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے، اس حوالے سے صوبے بھی اپناکردار ادا کر رہے ہیں ۔ پنجاب میں 70فیصد ڈینگی کے مریضوں کا تعلق پوٹھوہار سے ہے ۔ پنجاب میں 2363 ڈینگی کے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے، سندھ میں 2258، خیبر پختونخوا میں 1514 اوربلوچستان میں 1772 ڈینگی کے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے، ڈینگی سے متعلق معلومات کے لئے ہاٹ لائن قائم کردی گئی ہے، اسلام آباد میں ڈینگی کنٹرول اینڈ آپریشن سینٹر بنا دیا گیا ہے ۔

چلاس مسافر کوچ حادثہ

، ناقابل تلافی نقصان

گلگت بلتستان کے ضلع سکردو سے راولپنڈی ;200;نے والی بس موڑ کاٹتے ہوئے بابوسر ٹاپ کے قریب گیٹی داس کے مقام پر پہاڑ سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 27 مسافر جن میں خواتین کے علاوہ 8 بچے اور پاک فوج کے 14جوان بھی شامل تھے، جاں بحق اور 10شدید زخمی ہوگئے ۔ چلاس سے ریسکیو ٹیموں کے علاوہ پاک آرمی کی امدادی ٹیموں نے میتوں و زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چلاس منتقل کیا ۔ فورس کمانڈر شمالی علاقہ جات میجر جنرل احسان محمود نے بھی چلاس پہنچ کر زخمیوں کی عیادت کی اور بعد ازاں فورس کمانڈر کی ہدایت پر دس زخمیوں اور میتوں کو سی ایم ایچ گلگت منتقل کردیا گیا ۔ حادثے کا شکار بس کا نمبر ;667678; ;65; 1495 ہے، واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے ۔ دور دراز علاقے کے باعث امدادی کارروائی میں مشکلات کا سامنا رہا ۔ زخمیوں کو ;200;رمی ایوی ایشن کے ہیلی کاپٹر کے ذریعے سی ایم ایچ گلگت پہنچایا گیا جبکہ نعشیں بھی ہسپتال پہنچا ئی گئیں ۔ صدرڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، سپیکر ڈپٹی سپیکر، وزیر داخلہ اعجاز احمد شاہ ، وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور اور آزاد کشمیر کے وزیر اطلاعات مشتاق منہا س نے بھی حادثے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی بلندی درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ۔

اسرائیلی سپائس بموں کی پہلی کھیپ بھارت کے حوالے

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاک بھارت سرحد پر کشیدگی کے حوالے سے بھارتی درخواست پر اسرائیل کی ایک کمپنی نے بھارت کو سپائس 2000 بم بھیجنے شروع کر دیئے ہیں جن کی پہلی کھیپ حال ہی میں گوالیار پہنچی ہے ۔ گوالیار بھارتی ایئر فورس کے میراج طیاروں کا مرکز ہے اور بھارت نے اپنے میراج جنگی طیارے اس ایئر بیس پر رکھے ہوئے ہیں ۔ سپائس 2000 بموں کو گوالیار اس لیے بھیجا گیا ہے کیونکہ صرف میراج طیارے ہی ان اسرائیلی بموں کو اہداف پر داغنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان بموں کی خاص بات عمارت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہونا ہے ۔ بھارتی ایئر فورس نے اسرائیل کے ساتھ 250 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے مارک 84 قسم کے بموں کی خریدنے کا معاہدہ کیا تھا ۔ اس سال جون میں انڈین ایئر فورس نے بم تیار کرنے والی کمپنی کے ساتھ ایک اور معاہدے پر دستخط کیے جس میں ایک سو سے زیادہ بم ایمرجنسی کے پیش نظر فوری فراہم کرنے کے لیے کہا گیا تھا ۔ یہ وہی بم ہیں جن کو رواں سال فروری میں بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیارے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ بالا کوٹ میں پے لوڈ کی صورت میں جنگل میں گرا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ بھارت یہ بم ایک دفعہ پھر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سوچ رہا ہے ۔ بم چاہے جتنے بھی خطرناک ہوں مگر ان کو پھینکنے والے بھارتی پائلٹ بالکل ہی غیر تربیت یافتہ ہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ پاک فضائیہ سے ڈرتے بھی بہت ہیں ۔ لہذا صرف اعلیٰ نسل کے گولہ بارودسے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ جنگ لڑنے کےلئے جذبے کی ضرورت ہے جو بھارتی فوج کے پاس نہیں ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارتی حکومت معصوم اور نہتے کشمیریوں اور ان کے گھروں پر یہ بم پرکھنا چاہتا ہو ۔ کیونکہ اس بم سے پوری عمارت تباہ ہو جاتی ہے تو بھارتی فوج کشمیریوں کے گھروں اور دکانوں کو تباہ کرنے کےلئے یہ بم استعمال کر سکتی ہے کیونکہ مودی حکومت سے ہر گھٹیا اور نیچ کام کی توقع کی جا سکتی ہے ۔ ابھی کچھ ہی دن قبل بھارت نے کشمیریوں پر اور ایل او سی پر کلسٹر بم برسائے ۔ یوں کشمیریوں پر کلسٹر ٹوائے بم کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ۔ کلسٹرٹوائے بم شہریوں کے خلاف تباہ کن ہتھیار ہے اس بم سے بچوں ‘ گھروں کو خصوصی طورپر نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جنیوا کنونشن اور عالمی قوانین کے تحت کلسٹر ٹوائے بم ممنوع ہے ۔ بھارتی فورسز نے کلسٹر بم کا استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جو جنیوا اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ جنیوا کے کلسٹر ایمونیشن کنونشن کے تحت عام شہریوں پر کلسٹر بم کا استعمال ممنوع ہے ۔ دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والے کلسٹر بموں کی تجارت عروج پر ہے ۔ بھارت کلسٹر بموں کا ایک نمایاں خریدار ہے جو اسرائیل، روس، برطانیہ اور فرانس سے کلسٹر بم خریدتا ہے ۔ کم از کم 12 ممالک 50 سے زائد اقسام کے کلسٹر بم تیار اور فروخت کررہے ہیں ۔ ان کلسٹر بموں کے خریدار ملکوں کی تعداد 58 سے زائد ہے تاہم کلسٹر بموں کی عالمی تجارت کے حقیقی اعداد و شمار کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف وہی بم استعمال کررہا ہے جو شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے شام میں کیے تھے ۔ کلسٹر بارود سے بنے بم، میزائل اور راکٹ اسلحے کی بین الاقوامی نمائشوں کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں ۔ بھارت کا جنگی جنون تمام بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات بھارت کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں ۔ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کوئی خونی واقعہ چاہتا ہے تاکہ اپنے ہاں دہشت گردی کے واقعے پر پاکستان کی جانب انگلی اٹھا کر عالمی رائے کو گمراہ کرسکے ۔ بھارتی ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیر پر پاکستان کا موقف سنا جا رہا ہے ۔ بھارتی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ کشمیر میں تعینات سکیورٹی فورسز بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے چھرے والے کارتوسوں کے بجائے مرچوں والے کارتوس استعمال کریں گی ۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی احتجاج کو دبانے کےلئے بھارتی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران طاقت کی بھرپور استعمال کیا اور عوام اجتماعات پر فائرنگ کے علاوہ چھرے والے بندوق کا استعمال کیا ۔ چھرے لگنے سے سو سے زیادہ نوجوان جوزی یا مکمل طور پر اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں ۔ مقامی حکام اور طبی عملے کے مطابق چھرے لگنے سے چار افراد کی ہلاکت ہوئی جب کہ سو سے زیادہ نابینا ہو گئے ۔ مرچوں والے کارتوسوں کے بارے میں کہا گیا ہے ان کی زد میں آنے والے عارضی طور پر حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتے ۔ ایک ہزار کارتوسوں کی کھیپ کشمیر پہنچ چکی ہے ۔

کشمےر کا انسانی المےہ

بھارتی انتہا پسند ہندو حکمران نرےندر مودی نے 5اگست2019ء کو مقبوضہ کشمےر کی وہ آئےنی حےثےت ختم کر کے ،اسے ٹکڑوں مےں تقسےم کر کے اپنے ملک کا حصہ بنا دےا ہے ۔ بھارت کے 5اگست کے اس غےر قانونی ،غےر آئےنی اور غےر اخلاقی اقدام نے خطے مےں امن و امان کی صورتحال کو انتہائی نازک سطح پر پہنچا دےا ہے ۔ دنےا اس امر سے بخوبی آگاہ ہو چکی ہے کہ بھارت کشمےر کی خصوصی حےثےت کا خاتمہ کر کے اسے مستقل اپنا حصہ بنانے کی سازش مےں مصروف ہے ۔ کشمےری مسلمانوں کے ردعمل کو روکنے کےلئے ہنوز کرفےو نافذ ہے ۔ 9لاکھ سے زائد ملٹری فورسز ،پولےس اور بارڈر سےکورٹی فورسز نے ہر گھر کا گھےراءو کر رکھا ہے ۔ کشمےر کو اہل کشمےر کےلئے قےد خانہ بنا دےا گےا ہے ۔ وادی مےں بھارتی بربرےت و درندگی کی خبرےں باہر کی دنےا تک نہےں پہنچ پا رہےں جس سے اےک کروڑ سے زائد زندگےاں خطرے مےں ہےں ۔ مسلسل کرفےو اور ڈےڈ لاک سے خوراک و ادوےات کی قلت پےدا ہو چکی ہے ۔ بچے،جوان ،بوڑھے ،عورتےں ،بےمار بھوک پےاس اور ادوےات کے بغےر مر رہے ہےں ۔ مودی نے ہسپتالوں مےں بھی فوج کے پہرے لگا دیے ہےں تا کہ اسرائےلی ساختہ پےلٹ گنوں سے زخمےوں کا علاج نہ ہو سکے ۔ دراصل نرےندر مودی بھوک پےاس جےسے ہتھکنڈے استعمال کر کے کشمےری مسلمانوں کو مارنا چاہتا ہے اور جو بچ جائےں انہےں گولےوں کی برسات کا نشانہ بنا کر ان کے حوصلے پست کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت کشمےرےوں کی جدوجہد سے اس قدر خوف زدہ ہے کہ نماز جنازہ کے اجتماع تک پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے ۔ حقوق انسانی کی تنظےموں کا وادی مےں داخلہ بند ہے ۔ حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت کانگرےس نے کہا ہے کہ کشمےر اےک اےسا آتش فشاں ہے جو کسی بھی وقت پھٹنے کےلئے تےار ہے ۔ مقبوضہ وادی مےں لاکھوں فوجےوں کے دستے تعےنات ہےں ،پوری وادی ابھی تک محصور ہے ،ہزاروں نوجوانوں اور نوعمر لڑکوں کو حراست مےں لےا گےا ہے ۔ موبائل فون اور انٹر نےٹ کی سہولےات پر پابندی ہے ۔ ملک کی معروف تجزےہ کار نرومپا سبرا مےنن نے کشمےر کے دورے کے بعد لکھا ہے کہ ، ےہ حےرت انگےز ہے کہ کتنے لوگ ےہ سمجھ رہے ہےں کہ کشمےر کا مسئلہ حل ہو گےا لےکن زمےنی حقےقت اس سے بالکل مختلف ہے ۔ اےک بار اس جشن کی دھند ہٹ جائے گی اس کے بعد ہی کشمےر کے چےلنجز کا پتہ چل سکے گا ۔ ہندوستان حےد ر آباد سے شاءع ہونے والے روز نامہ سےاست کی 19 ستمبر جمعرات کی اشاعت مےں حمرہ قرےشی لکھتی ہےں کہ گورنر جموں و کشمےر سےتہ پال ملک نے دہلی مےں نرےندر مودی سے ملاقات کے موقع پر کہا کہ جموں و کشمےر مےں خصوصی موقف ختم کرنے اور رےاست کو تقسےم کرنے کے اقدام کے بعد سے کہےں گولی نہےں چلی جبکہ سی پی آئی اےم کے کشمےری لےڈر اور سابق رکن اسمبلی محمد ےوسف ترےگامی نے 5اگست کے بعد سے اب تک جموں و کشمےر مےں کوئی گولی نہ چلنے سے متعلق مرکز کے دعویٰ پر تنقےد کرتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمےر کے عوام کا جارےہ پابندےوں کی وجہ سے دم گھٹ رہا ہے اور وہ آہستہ آہستہ مر رہے ہےں ۔ ترےگامی نے کہا کہ انہوں نے ماضی مےں کشمےر مےں انتہائی بد ترےن حالات دےکھے لےکن آج جےسی پرےشان کن صورت حال ہے اس سے پہلے کبھی نہےں تھی ۔ ترےگامی کے بےان سے ظاہر ہو رہا ہے کہ کشمےری عوام کربناک صورتحال سے گزر رہے ہےں ‘‘ ۔ اصل صورتحال ےہ ہے کہ جب بھارت نے مقبوضہ کشمےر کی نےم خود مختار حےثےت ختم کر کے بھارتی فوج کو اس اقدام کے خلاف احتجاج کےلئے نکلنے والے کشمےرےوں کو دےکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دےا تھا اب تک تقرےباً دو درجن کشمےری نوجوان شہےد اور کم سن بچوں سمےت دس ہزار افراد گرفتار کئے جا چکے ہےں ۔ بھارت کو اس وقت دنےا بھر مےں رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور محصور و مظلوم کشمےرےوں کو ظلم و جبر کے خلاف اخلاقی فتح ملی جب سپرےم کورٹ نے مودی حکومت سے کہا کہ مقبوضہ کشمےر مےں کرفےو اور لاک ڈاءون کی غےر انسانی پابندےوں کو ختم کرتے ہوئے مواصلاتی رابطوں سمےت معمولات زندگی بحال کئے جائےں ،شہرےوں کو صحت کی سہولےات فراہم کی جائےں اور تعلےمی اور کاروباری ادارے کھولے جائےں ۔ ےورپی ےونےن نے بھی بھارت کو واضح ہداےت کی ہے کہ مقبوضہ کشمےر مےں کرفےو فوری طور پر ختم کےا جائے اور انسانی حقوق بحال کیے جائےں ۔ ےونےن کے انسانی حقوق کی کمےٹی نے سالانہ اجلاس مےں اس بات کا سخت نوٹس لےا کہ مقبوضہ کشمےر مےں 45روز سے تقرےباً 80لاکھ افراد کو کرفےو کے ذرےعے نظر بند کےا گےا ہے ۔ کمےٹی کی چیئر پرسن نے اس بارے مےں ےورپی ےونےن کے وزےر خارجہ کا بےان پڑھ کر سناےا ۔ ےاد رہے کہ ےورپی ےونےن مےں 16برس کے بعد کشمےر کا مسئلہ زےر بحث آےا ہے ۔ اقوم متحدہ کے رکن ممالک سمےت ساری دنےا کے علم مےں ہے کہ کشمےر اےک متنازعہ رےاست ہے جہاں کشمےری مسلمان اکثرےت مےں ہےں ۔ ہندوءوں کے لےڈر گاندھی نے 1934ء مےں اپنے خط مےں جو بنام پنڈت پرےم ناتھ بزاز لکھا گےا واضع طور پر تسلےم کےا تھا کہ کشمےر مسلم اکثرےتی علاقہ ہے ۔ مسٹر گاندھی کے الفاظ ےہ تھے : چونکہ کشمےر مےں مسلمانوں کی اکثرےت ہے اس لئے مےں جانتا ہوں کہ اےک دن ےہ مسلمان رےاست ہی بنے گا‘‘ ۔ سابق بھارتی وزےر اعظم جواہر لال نہرو نے ےکم اگست 1952ء کو بھارتی پارلےمان سے خطاب مےں کہاتھا’’ کشمےر کے مستقبل کا فےصلہ کشمےرےوں کی مرضی اور خوشی کے مطابق ہو گا ۔ اس انڈےن پارلےمنٹ کے پاس اختےار نہےں کہ وہ کشمےر پر اپنی مرضی مسلط کر سکے‘‘ ۔ موجودہ بھارتی حکمران اٹھارہ لاکھ کی عسکری طاقت اور دنےا مےں اسلحے کے سب سے بڑے خرےدار ہونے کے باوجود بھارت کو امن و سکون کا گہوارہ نہےں بنا سکے ۔ عالمی سطح پر بھی بھارت کو خطرناک ترےن ملک قرار دےا جا چکا ہے وہاں صرف کروڑوں مسلمانوں کی زندگی اجےرن نہےں تمام اقلےتوں کا جےنا دوبھر ہے ۔ جموں و کشمےر کے مسلمانوں نے 71برس تک ظلم سہا ،ان کی کوئی صبح خوش رنگ نہ کوئی شام دل آوےز ۔ انہےں جےنے کا حق ہے نہ حق مانگنے کی اجازت ،اپنے مستقبل کا فےصلہ اپنی مرضی سے کرنا چاہتے ہےں لےکن بھارت پر آج اےسے انتہا پسند ہندو کی حکمرانی ہے جو اپنی انتہا پسندی کی بدولت ہندو قوم کے زوال ےا پھر خاتمے کا سبب بنے گا ۔ ہٹلر بھی اےک اےسا ہی انتہا پسند انسان تھا جس نے چند برسوں مےن جرمنی کو ہر لحاظ سے خصوصاً دفاعی لحاظ سے ےورپ کی سب سے بڑی قوت بنا دےا تھا لےکن جرمن قوم کو اس ترقی اور فوجی قوت کا خمےازہ بھگتنا پڑا ۔ مقبوضہ کشمےر کے حرےت پسند آزادی کی خاطر خون کے نذرانے دے کر اےک خون رنگ تارےخ مرتب کر رہے ہےں اور وہ آزادی کے حصول کےلئے اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھےں گے ۔ بقول طفےل ہوشےارپوری

وقت کے دامن پہ فطرت نے لکھا ہے فےصلہ

پائےں گے آخر مجاہد جانثاری کا صلہ

رنگ لائےں گی ےقےنا ان کی ےہ قربانےاں

مسکرا کر کر رہے ہےں موت کی مہمانےاں

ظلمتےں تبدےل ہوں گی اےک دن تنوےر سے

جنگ آزادی جاری رہے گی وادی کشمےر مےں

اسرائیلی سپائس بموں کی پہلی کھیپ بھارت کے حوالے

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور پاک بھارت سرحد پر کشیدگی کے حوالے سے بھارتی درخواست پر اسرائیل کی ایک کمپنی نے بھارت کو سپائس 2000 بم بھیجنے شروع کر دیئے ہیں جن کی پہلی کھیپ حال ہی میں گوالیار پہنچی ہے ۔ گوالیار بھارتی ایئر فورس کے میراج طیاروں کا مرکز ہے اور بھارت نے اپنے میراج جنگی طیارے اس ایئر بیس پر رکھے ہوئے ہیں ۔ سپائس 2000 بموں کو گوالیار اس لیے بھیجا گیا ہے کیونکہ صرف میراج طیارے ہی ان اسرائیلی بموں کو اہداف پر داغنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ ان بموں کی خاص بات عمارت کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی صلاحیت کا حامل ہونا ہے ۔ بھارتی ایئر فورس نے اسرائیل کے ساتھ 250 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے مارک 84 قسم کے بموں کی خریدنے کا معاہدہ کیا تھا ۔ اس سال جون میں انڈین ایئر فورس نے بم تیار کرنے والی کمپنی کے ساتھ ایک اور معاہدے پر دستخط کیے جس میں ایک سو سے زیادہ بم ایمرجنسی کے پیش نظر فوری فراہم کرنے کے لیے کہا گیا تھا ۔ یہ وہی بم ہیں جن کو رواں سال فروری میں بھارتی فضائیہ کے لڑاکا طیارے پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقہ بالا کوٹ میں پے لوڈ کی صورت میں جنگل میں گرا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔ بھارت یہ بم ایک دفعہ پھر پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سوچ رہا ہے ۔ بم چاہے جتنے بھی خطرناک ہوں مگر ان کو پھینکنے والے بھارتی پائلٹ بالکل ہی غیر تربیت یافتہ ہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ پاک فضائیہ سے ڈرتے بھی بہت ہیں ۔ لہذا صرف اعلیٰ نسل کے گولہ بارودسے جنگ نہیں لڑی جاتی بلکہ جنگ لڑنے کےلئے جذبے کی ضرورت ہے جو بھارتی فوج کے پاس نہیں ہے ۔ دوسری طرف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بھارتی حکومت معصوم اور نہتے کشمیریوں اور ان کے گھروں پر یہ بم پرکھنا چاہتا ہو ۔ کیونکہ اس بم سے پوری عمارت تباہ ہو جاتی ہے تو بھارتی فوج کشمیریوں کے گھروں اور دکانوں کو تباہ کرنے کےلئے یہ بم استعمال کر سکتی ہے کیونکہ مودی حکومت سے ہر گھٹیا اور نیچ کام کی توقع کی جا سکتی ہے ۔ ابھی کچھ ہی دن قبل بھارت نے کشمیریوں پر اور ایل او سی پر کلسٹر بم برسائے ۔ یوں کشمیریوں پر کلسٹر ٹوائے بم کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ۔ کلسٹرٹوائے بم شہریوں کے خلاف تباہ کن ہتھیار ہے اس بم سے بچوں ‘ گھروں کو خصوصی طورپر نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ جنیوا کنونشن اور عالمی قوانین کے تحت کلسٹر ٹوائے بم ممنوع ہے ۔ بھارتی فورسز نے کلسٹر بم کا استعمال کرتے ہوئے عام شہریوں کو نشانہ بنایا جو جنیوا اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ جنیوا کے کلسٹر ایمونیشن کنونشن کے تحت عام شہریوں پر کلسٹر بم کا استعمال ممنوع ہے ۔ دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والے کلسٹر بموں کی تجارت عروج پر ہے ۔ بھارت کلسٹر بموں کا ایک نمایاں خریدار ہے جو اسرائیل، روس، برطانیہ اور فرانس سے کلسٹر بم خریدتا ہے ۔ کم از کم 12 ممالک 50 سے زائد اقسام کے کلسٹر بم تیار اور فروخت کررہے ہیں ۔ ان کلسٹر بموں کے خریدار ملکوں کی تعداد 58 سے زائد ہے تاہم کلسٹر بموں کی عالمی تجارت کے حقیقی اعداد و شمار کا اندازہ لگانا مشکل ہے ۔ بھارت کشمیریوں کے خلاف وہی بم استعمال کررہا ہے جو شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ نے شام میں کیے تھے ۔ کلسٹر بارود سے بنے بم، میزائل اور راکٹ اسلحے کی بین الاقوامی نمائشوں کا لازمی حصہ سمجھے جاتے ہیں ۔ بھارت کا جنگی جنون تمام بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات بھارت کے ہاتھ سے نکل چکے ہیں ۔ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارت کوئی خونی واقعہ چاہتا ہے تاکہ اپنے ہاں دہشت گردی کے واقعے پر پاکستان کی جانب انگلی اٹھا کر عالمی رائے کو گمراہ کرسکے ۔ بھارتی ہتھکنڈوں کے باوجود کشمیر پر پاکستان کا موقف سنا جا رہا ہے ۔ بھارتی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ کشمیر میں تعینات سکیورٹی فورسز بھارتی حکومت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے چھرے والے کارتوسوں کے بجائے مرچوں والے کارتوس استعمال کریں گی ۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں حالیہ تاریخ کے سب سے بڑے عوامی احتجاج کو دبانے کےلئے بھارتی سکیورٹی فورسز نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران طاقت کی بھرپور استعمال کیا اور عوام اجتماعات پر فائرنگ کے علاوہ چھرے والے بندوق کا استعمال کیا ۔ چھرے لگنے سے سو سے زیادہ نوجوان جوزی یا مکمل طور پر اپنی بینائی کھو بیٹھے ہیں ۔ مقامی حکام اور طبی عملے کے مطابق چھرے لگنے سے چار افراد کی ہلاکت ہوئی جب کہ سو سے زیادہ نابینا ہو گئے ۔ مرچوں والے کارتوسوں کے بارے میں کہا گیا ہے ان کی زد میں آنے والے عارضی طور پر حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتے ۔ ایک ہزار کارتوسوں کی کھیپ کشمیر پہنچ چکی ہے ۔

ڈینگی وائرس ،احتیاط علاج سے بہتر

1775ء کے عشرے میں ایشیا،افریقہ اور شمالی امریکا میں ایسی بیماری پھیلی جس میں مریض کو یک دم تیز بخار ہو جاتا،شدید سر درد،جوڑوں میں درد،بعض مریضوں کے پیٹ میں درد،خونی الٹیاں اورخونی پیچس کی بھی شکایت ہو گئی،یہ مریض سات سے دس دن تک اسی بیماری میں مبتلا رہے اور آخر کار مر گئے،لوگوں میں خوف و ہراس پھیل گیا اور ان علاقوں سے لوگوں نے ہجرت کرنا شروع کر دی،اس وقت کے ماہرین صحت نے اس بارے میں تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ ایک خاص قسم کا مچھر ہے جس کے کاٹنے سے یہ مرض لاحق ہو جاتا ہے،یعنی کئی صدیاں پہلے انسان یہ تحقیق کرنے میں کامیاب ہوگیاتھاکہ ڈینگی کامرض ایک خاص قسم کے مچھرکے کاٹنے سے پھیلتاہے،افسوس کے صدیاں گزرنے کے بعدبھی انسان ایک مچھرسے بچنے کاکوئی قابل ذکرطریقہ دریافت نہیں کرسکا،ڈینگی مچھرسے پھیلنے والاخطرناک وائرس نیانہیں ،وقت گزرنے کے ساتھ اس مرض کے پھیلاءو میں آنے والی شدت میں اضافہ ہ میں دعوت تحقیق دے رہاہے کہ ہم اپنے رہن،سہن میں ہونے والی تبدیلوں پرغورکریں اوریہ جاننے کی کوشش کریں کہ آخروہ کون سی وجوہات ہیں جن کے باعث ڈینگی مچھرکی افزائش میں اضافہ ہوتاجارہاہے،ڈینگی سے متاثرہونے کے واقعات میں جس تیزی کے ساتھ اضافہ دیکھنے میں آرہاہے یہ خطرے کی گھنٹی ہے،شہری آبادیوں میں ایک سے زیادہ منزلہ عمارتیں تعمیرکی جاتی ہیں جن کے اندرقدرتی روشنی کاگزرکم ہی ہوتا ہے، عمارتیں تعمیرکرتے وقت صفائی ستھرائی خاص طور پرنکاسی آب کے نظام پر خاص توجہ نہیں دی جاتی جس کے باعث جگہ جگہ پانی کھڑارہتاہے،کراچی اور راولپنڈی جیسے مختلف علاقوں میں پینے کاپانی محفوظ کرکے رکھاجاتاہے،مختصرکہ پانی ہرگھرکی ضرورت ہے ،22کروڑکی آبادی والے ملک میں سب کچھ حکومت نہیں کرسکتی،اپنے گھر، دفتر اور رہنے کے دیگرمقامات کے ساتھ گاڑیوں کی دیکھ بھال ہ میں خودکرنی چاہیے،یقین جانیں ڈینگی مچھرہمارے گھرکے اندرپرورش پاتے ہیں ،کھلے علاقوں یعنی دیہاتوں اورقصبوں میں پیداہونے والامچھرڈینگی وائرس پھیلانے والے مچھرسے مختلف ہوتاہے جس کے کاٹنے سے بہت کم لوگ ڈینگی وائرس سے متاثرہوتے ہیں ،اب تک ملک بھر میں ہزاروں افرادڈینگی وائرس سے متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں جبکہ دس کے قریب مریض جان کی بازی ہارچکے ہیں ،عوام الناس سے التماس ہے کہ ڈینگی مچھرسے بچنے کیلئے حکومتی اقدامات کا انتظارکیے بغیراپنے گھروں اوررہنے کے دیگرمقامات کی صفائی کاخاص خیال رکھیں خاص طورپر غسل خانوں ، لیٹرینوں ، کچرا دانوں ، کچن میں برتن دھونے والے مقام کے اردگرد، اوپرنیچے سے اچھی طرح صفائی کی جائے توڈینگی مچھرکی افزائش کوروکاجاسکتاہے،یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ ہمارے حکمران بدعنوان،بے حس،لاپراہ ہیں توکیاہم حکمرانوں کوتنقیدکانشانہ بنانے کی غرض سے اپنی جانوں کے ساتھ کھیل جائیں ،نہیں بالکل نہیں اپنا،اپنے خاندان، دوستوں اورہمسایوں کاخیال رکھیں ،گھرہمارا ہے، صحت ہماری ہے توخیال بھی ہ میں ہی رکھناچاہیے ، ماہرین کے مطابق ڈینگی وائرس پھیلانے والا مچھر گندگی میں نہیں بلکہ گھروں کے اندرصاف پانی کے ٹینک، غسلخانوں اور جہاں بھی پانی کسی بالٹی، ڈرم یا گھڑوں یاگھملوں میں جمع رہے وہاں یہ مچھر پایا جاتا ہے، ڈینگی وائرس پھیلانے والا مچھر سورج طلوع ہونے سے چند گھنٹے قبل اور غروب ہونے کے چند گھنٹے بعد اپنی خوراک کی تلاش میں نکلتا ہے،ان کے مطابق ڈینگی وائرس کے جسم میں داخل ہونے کی علامات میں نزلہ زکام، بخار، سر درد، منہ اور ناک سے خون آنا،پیٹ کے پیچھے کمر میں درد ہونا اور جسم پر سرخ دانے وغیرہ نکلنا شامل ہیں ،اسے فوری طور پر کنٹرول نہ کیا جائے تو پھر ’ڈینگو ہیمرج فیور‘ شروع ہوتا ہے جو جان لیوا بھی ہو سکتا ہے،کیونکہ احتیاط علاج سے بہترہے لہٰذا ڈینگی مچھرسے بچاءو کی احتیاطی تدا بیر اپنائیں ، مچھر بگاءو لوشن،کریم اوردیگرادویات کا استعمال کریں ، پورے جسم پرلباس پہنچیں ،اپنے گھر، دفتر، فیکٹری، کارکانے ،بچوں کے سکول وکالج اورگاڑی کی صفائی کے ساتھ مچھرمارسپرے کرائیں ،رات کو سوتے وقت مچھردانی استعمال کریں اورماہرین کی دیگرہدایات پرعمل کرکے ڈینگی مچھرسے خود کو اور اپنے پیاروں کومحفوظ رکھیں ۔
Google Analytics Alternative