کالم

بھارتی استبداد کے 72سال

27اکتوبر 1947ء تارےخ کا وہ سےاہ دن ہے جب بھارت نے کشمےری عوام کی مرضی اور خواہش کے برعکس اپنی فوجےں رےاست جموں و کشمےر مےں داخل کر کے اس پر قبضے کی کوشش کی ۔ اس وقت رےاست جموں و کشمےر 80فےصد مسلم اکثرےت کی آبادی پر مشتمل تھی ۔ برصغےر کی تقسےم اور رےاستوں کے الحاق سے متعلق جو فارمولا وضع کےا گےا اس کے مطابق رےاست جموں و کشمےر کا الحاق صرف پاکستان سے ہو سکتا تھا اور کشمےری مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت آل جموں کشمےر مسلم کانفرنس مےں 19جولائی 1947ء کو اےک قرار داد کے ذرےعے اپنا فےصلہ الحاق پاکستان کے حق مےں دےا اور ےہ واضع کےا کہ اگر کشمےری مسلمانوں کے الحاق کا مطالبہ تسلےم نہ ہوا تو عوام اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے لےکن برطانوی حکومت اور آل انڈےا نےشنل کانگرےس جنہوں نے ہندوستان کی جغرافےائی تقسےم کے وقت مسلمانوں کی وسےع آبادےوں کے حقوق کا احترام اور تحفظ نہ کےا تھا انہوں نے مسئلہ کشمےر کو عدل و انصاف سے حل کرنے اور پاکستان کے ساتھ الحاق کے جائز مطالبے کو بھی رد کر دےا ۔ ان دونوں نے پہلے کشمےر کی خواہشات کو روندتے ہوئے 27اکتوبر کی رات ہوائی جہازوں کے ذرےعے اور زمےنی راستے سے کشمےر مےں اپنی فوجےں داخل کر دےں ۔ بھارتی فوج نے رےاست مےں داخل ہوتے ہی مظالم ،قتل و غارت گری ،خواتےن کی عصمت دری اور آبادےوں کو مسمار کرنے کی وہ مثال قائم کی کہ روح انسانےت کانپ اٹھی ۔ 27اکتوبر کے انسانےت کش اقدام کے نتےجے مےں ڈھائی لاکھ کشمےری مسلمان شہےد اور پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوئے ۔ آج گو انسانےت واقعات کو 72سال گزر چکے ہےں اور دنےا 27اکتوبر 2019ء مےں داخل ہو چکی ہے لےکن مقبوضہ کشمےر مےں بھارتی مظالم کا سلسلہ اسی جوش و خروش سے جاری ہے ۔ تقسےم ہند کے وقت فےصلہ کےا گےا تھا کہ مسلم اکثرےتی علاقے پاکستان کا حصہ بنےں گے اسی طرح کشمےر جس کی واضع اکثرےت مسلمانوں کی تھی ،اسے پاکستان مےں شامل ہونا تھا مگر بھارت نے انگرےز کی ملی بھگت سے اس پر فوجی قبضہ کر لےا ۔ بعد ازاں جب قائد اعظم;231; کے کہنے پر جنرل گرےسی نے بھارتی فوج کا غاصبانہ قبضہ ختم کرنے کےلئے پاکستانی فوج بھےجنے سے انکار کےا تو پاکستان کے قبائل اور دےگر علاقوں سے تعلق رکھنے والے مجاہدےن کی بڑی تعداد نے کشمےر کا رخ کےا اور قربانےوں اور شہادتوں کی اےک نئی تارےخ مرتب کرتے ہوئے سری نگر کے قرےب پہنچ چکے تھے کہ نہرو بھاگم بھاگ اقوام متحدہ پہنچ گئے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 21اپرےل 1948ء کو کشمےر کے حوالے سے اےک قرارداد منظور کی جس مےں کشمےری عوام کے حق خود اردےت کو منظور کےا گےا کہ کشمےری عوام کو استصواب رائے کا حق دےا جائے اور وہ اپنی مرضی سے فےصلہ کرےں کہ وہ بھارت کے ساتھ رہنا چاہتے ہےں ےا پاکستان کے ساتھ لےکن بعد ازاں بھارت نے اس قرار داد سے منحرف ہو کر کشمےر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنا شروع کر دےا ۔ کشمےری نوجوان برھان دانی کی شہادت نے تحرےک آزادی کشمےر کو اےک نےا ولولہ بخشا اور کشمےری عوام نے احتجاجی مظاہرے شروع کر دےئے جس پر ہندوستان کی فوج اور پےرا ملٹری فورسز اپنی رواےتی بربرےت کو برقرار رکھتے ہوئے ان احتجاجی مظاہروں کو ختم کرنے کےلئے مےدان مےں اتری ۔ شائد انہےں معلوم نہےں تھا کہ کشمےرےوں کا احتجاج در حقےقت ان کے دل کی آواز ہے ۔ بی جے پی کے دوبارہ برسر اقتدار آنے کے بعد بھارت مےں انتہا پسند تنظےموں ،کشمےر مےں بھارتی فوج اور حکومت کا بہےمانہ کردار اےک بار پھر کھل کر دنےا کے سامنے آگےا ہے ۔ 28جنوری1960ء کو بھارتی آئےن مےں آرٹےکل370کا اضافہ ہوا جس مےں رےاست جموں و کشمےر کو دفاع، خارجہ اور مواصلات کے علاوہ اےک ’’ علامتی خود مختار ‘‘ رےاست کی حےثےت دی گئی ۔ جموں و کشمےر کی ےہ خصوصی حےثےت ختم کرنے کے بعد پوری حرےت قےادت گھروں مےں نظر بند ےا جےلوں مےں قےد ہے ۔ کشمےری نوجوانوں کو گھروں سے زبردستی اٹھا کر جےلوں مےں ڈالا جا رہا ہے ۔ حرےت رہنماءوں اور نوجوان کشمےرےوں کو ناقص غذا اور تشدد کا نشانہ بناےا جا رہا ہے ۔ دختران ملت کی چئےر مےن آسےہ اندرابی سمےت دےگر متعدد کشمےری رہنماءوں کو نئی دہلی کی تہاڑ جےل بھےج دےا گےا ۔ پہلے انہےں جھوٹے مقدمات کے تحت جےلوں مےں ڈالا گےا اور پھر سزائےں سناتے ہوئے ہمےشہ کےلئے جےلوں مےں قےد کر دےا گےا ۔ بھارت مےں موجود تعصب اور ناجائز حکمرانی کی وجہ سے کشمےری نوجوان نسل مےں بھارت کےلئے نفرت کا تن آور درخت پروان چڑھ چکا ہے ۔ باوجود اس کے کہ کشمےرےوں کی تےسری نسل نے پاکستان کو نہےں دےکھا لےکن وہ پاکستان کےلئے اےسے ہی جذبات رکھتے ہےں جےسی ان کی پہلی پشت رکھتی تھی اور آج بھی احتجاجی مظاہروں کے دوران کشمےری اپنی عمارت پر پاکستانی پرچم لہراتے ہےں ۔ اس مےں دو رائے نہےں کہ کشمےر تقسےم ہند کا نامکمل اےجنڈا ہے ۔ مقبوضہ کشمےر مےں اسلام اور آزادی کی علم بردار قوتےں اپنی آزادی اور حق خود ارادےت کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بقاء ،سالمےت اور تکمےل پاکستان کی جنگ بھی لڑ رہے ہےں ۔ مجاہدےن جموں و کشمےر کو بھارت سے آزاد کرانے کےلئے اپنی جان ،مال اور عزت و آبرو کو قربان کر رہے ہےں ۔ سخت کرفےو لگے دو ما ہ سے زائدعرصہ ہو چکا اس کے باوجود کشمےری نوجوانوں کے ہاتھوں مےں سبز ہلالی پرچم ہوتا ہے ۔ گو بھارت کشمےرےوں کی حق کی آواز دبانے کےلئے ہر حربہ استعمال کر رہا ہے مگر وادی مےں جاری بدترےن کرفےو اور ظلم و استبداد کے باوجود تحرےک آزای کشمےر کو دبا نہےں سکا ۔ دنےا مےں سب سے زےادہ انسانی حقوق کی پامالی بھارتی فوج کے ہاتھوں جاری ہے ۔ بھارت نے اپنے فوجےوں کو کشمےرےوں پر ظلم و ستم کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔ بھارتی انتہا پسند تنظےم کے اسلحہ برداروں نے بھی ان مظلوم کشمےرےوں پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے ۔ دنےا کی سب سے بڑی جمہورےت کا دعوے دار بھارت احساس کے جذبے سے عاری ہے ۔ ےہاں بےن الاقوامی قانون بے بس ہے ۔ انسانی حقوق کا چارٹر بے معنی ہے ۔ انسانی حقوق کے تحفظ کا بنےادی اصول ےہ ہے کہ قانون قاعدہ سے ماورا گرفتارےاں ہر گز نہ کی جائےں کسی شخص کو کسی اےسے جرم کی سزا نہےں دی جا سکتی جو اس نے نہ کےا ہو ۔ مظلوم کشمےرےوں کا جرم صرف جرم ضعےفی ہے ۔ اہل کشمےر کی بد قسمتی ہے کہ دنےا کو اس کے سےب کے باغات اور زعفران کے اجڑے کھےت دکھائی نہےں دےتے ۔ اس کے جوانوں کے گرم خون کے نشان اور قبرستان مےں اےک لاکھ سے زائد شہداء کی قبرےں نظر نہےں آتےں ،ہزاروں عزت مآب خواتےن کی عصمت دری کی بہےمانہ کاروائےاں اسے کےوں اس امر کی طرف متوجہ کرنے کا باعث نہےں بن پائےں کہ کشمےری عوام کی زندگی بھارتی تسلط اور فوجی سنگےنوں کے سائے تلے ہر لحاظ سے غےر محفوظ ہے ۔ آج ضروری ہے کہ دنےا کے ضمےر کو جھنجوڑنے کا مسلسل اہتمام کےا جاتا رہے اور ےہ عمل اس وقت تک جاری رکھا جانا چاہئیے جب تک کشمےرےوں کو ان کا حق خود ارادےت نہےں مل جاتا ۔

مسئلہ کشمیر،امریکہ کابھارت سے پھرمذاکرات شروع کرنے کامطالبہ

اب امریکہ بھی یہ جان چکا ہے کہ نریندرمودی نے وادی میں جوظلم وستم شروع کررکھے ہیں وہ نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہیں بلکہ ایک آزاد قوم کے حقوق صلب کرنے کے مترادف ہیں ،80لاکھ سے زائد افراد کی زندگیوں کو جہنم بنارکھا ہے حتیٰ کہ بھارتی سپریم کورٹ بھی مودی کی حکومت سے یہ وضاحت طلب کررہی ہے کہ آخرکارکب تک مقبوضہ کشمیر میں کرفیونافذ رہے گا جس پربھارتی حکومت نے انتہائی لغوبازی سے کام لیتے ہوئے کہاکہ 90فیصدعلاقے میں کرفیونافذنہیں ہے معمولات زندگی رواں دواں ہے حالانکہ ساری دنیاجانتی ہے کہ وادی کو کس طرح مودی نے دنیاکی سب سے بڑی جیل میں تبدیل کیا اور اب وہاں آر ایس ایس کے غنڈے بھیج کرنہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کی داستانیں رقم کی جارہی ہیں ۔ امریکہ نے انہی حالات کو دیکھتے ہوئے بھارت سے کہاہے کہ وہ وادی کے حوالے سے باقاعدہ روڈ میپ دے ،عام زندگی کوبحال کرے کیونکہ اقتصادی سرگرمیاں مفقود ہونے سے اربوں روپے کا نقصان ہورہاہے ۔ امریکی اراکین کانگریس نے بھی بھارتی سفیرکو مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے تفصیلی خط لکھا ہے جس میں وہاں پرعائد پابندیوں کوختم کرنے کامطالبہ کیاگیاہے ۔ یہاں پرامریکہ کایہ اقدا م غلط ہے کیونکہ یہ اس وقت دنیا کی سپرپاور ہے جہاں 80لاکھ افراد کو بھیڑبکریاں سمجھ کررکھاجارہاہو وہاں پرمطالبات نہیں کئے جاتے عمل کرایاجاتاہے ، کیونکہ پاکستان اوربھارت دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ہیں اوربھارتی چیرہ دستیوں کی وجہ سے خطے کے حالات قطعی طورپرجنگ کے دہانے پرکھڑے ہوئے ہیں ، ذرا سی بھی غلطی سے بھی پوری دنیا بھرکے لئے ناقابل تلافی نقصان ہوگا ۔ جہاں تک امریکہ کایہ کہنا کہ پاکستان اوربھارت دونوں ملکرمسئلہ کشمیرحل کریں تو پاکستان توہمیشہ اس سلسلے میں تیاررہا اورتیار ہے کیونکہ پاکستان یہ جانتا ہے کہ مسائل مذاکرات سے ہی حل ہوتے ہیں جب تک سارے فریقین ملکرنہیں بیٹھیں گے یاپھر ایک چوتھی اس مسئلے کو حل نہیں کراتی تو معاملات جوں کے توں قائم رہیں گے جبکہ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات سے راہ فراراختیار کیا اب اس کاچہرہ عیاں ہوچکا ہے ۔ اسی لئے جنوبی اور وسطی ایشیائی امور سے متعلق قائم مقام امریکی نائب وزیرخارجہ ایلس جی ویلزنے کہاہے کہ امریکا کو کشمیر کی صورتحال پر گہری تشویش ہے جہاں پابندیوں کے باعث 80لاکھ لوگوں کی زندگیاں شدید متاثر ہیں ،امریکا نے بھارت پر زور دیاہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں صورتحال معمول پر لانے کےلئے روڈمیپ دے، سیاسی مذاکرات شروع کرکے تمام نظر بند رہا کیے جائیں اوراقتصادی سرگرمیاں بحال کی جائیں ۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے کرتار پور راہداری کے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ نومبر میں راہداری کے باضابطہ کھلنے کے منتظر ہیں ، پڑوسی ممالک کے درمیان عوامی رابطوں کا بننا اچھی خبرہے ۔ ادھر امریکی کانگریس اراکین نے کشمیر کی تشویشناک صورتحال سے متعلق امریکا میں تعینات بھارتی سفیر سے سخت سوالات کے جوابات مانگ لئے ۔ امریکی کانگریس اراکین کی جانب سے بھیجے گئے خط میں بھارتی سفیر سے کہا گیا ہے کہ کشمیر سے متعلق فراہم کردہ بھارت کی معلومات شواہد سے مختلف ہے، خط میں بھارتی سفیر سے کشمیر سے متعلق امور خارجہ کمیٹی کے خدشات پر تفصیلات فراہم کرنےکا مطالبہ کیا گیا ہے،خط میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کی حیثیت بدلنے کے حوالے سے ہمارے لوگوں کو خدشات ہیں ، بھارت کی فراہم کردہ معلومات ہمارے لوگوں کی اطلاعات سے مختلف ہیں ، برائے مہربانی ہمارے چند سوالات کے جواب دیں ۔ کانگریس اراکین نے خط میں بھارتی سفیر سے سوال کیا کہ کیا کشمیر میں مواصلات، انٹرنیٹ بحال کر دیا گیا ;238; موبائل فون سروس کب بحال کی جائے گی;238; جموں وکشمیر میں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کتنی گرفتاریاں ہوئیں ;238; کشمیر میں کرفیو کب ختم کیا جارہا ہے ۔ ;238; ارکان کانگریس نے لکھا کہ غیر ملکی صحافیوں کو جموں و کشمیر جانے سے کیوں روکا جارہا ہے;238; کیابھارتی فورسز مظاہرین پر ربڑ کی گولیاں استعمال کر رہی ہے;238; کشمیر میں کتنے مظاہرین بھارتی فورسز کے تشدد سے زخمی ہوئے;238; کیا بھارت اراکین کانگریس کو جموں و کشمیر کے دورے کی اجازت دے گا ۔

بھارتی آرمی چیف کے غیرذمہ دارانہ

بیانات پرترجمان پاک فوج کاردعمل

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت کے غیرذمہ دارانہ بیانات نے خطے میں جنگ کی آگ لگارکھی ہے اوراسی وجہ سے بھارتی فوج بھی اپنے آپ کوبدمعاش فوج سمجھناشروع ہوگئی ہے ۔ غیرذمہ دارانہ بیانات کانوٹس لیتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ بھارتی آرمی چیف غیر ذمہ دارانہ بیانات دیکر علاقائی امن خطرے میں ڈال رہے ہیں ،بپن راوت کے بیانات اپنے سیاسی آقا کے انتخابی مفادات کےلئے اور اپنے فوجیوں کو مروانے کیلئے ہیں ، انہوں نے بھارتی فوج کو بدمعاش یا روگ فورس میں تبدیل کر دیا ہے،یہ سب پیشہ ورانہ فوجی اخلاقیات کی قیمت پر ہو رہا ہے ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ جعلی سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے سے لے کر آج تک بھارتی آرمی چیف کی واحد کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے بھارتی فوج کو بدمعاش یا روگ فورس میں تبدیل کر دیا ہے ۔ بھارتی آرمی چیف کے بیانات معصوم لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں ، پاکستان کی مسلح افواج کے ہاتھوں بھارتی فوجیوں کو ہونے والے نقصانات، نام نہاد تکنیکی غلطی کی وجہ سے ہونے والے ہیلی کاپٹر کریشز اور اپنے ہی فوجیوں کی ہلاکت، ان سب کا مقصد بھارتی آرمی چیف کا بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف بننا ہے لیکن یہ سب پیشہ ورانہ فوجی اخلاقیات کی قیمت پر ہو رہا ہے ۔ قبل ازیں بھارت کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے الزام عائد کیا کہ آزاد کشمیر پر پاکستانی حکومت کا نہیں شدت پسندوں کا قبضہ ہے جو بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔

آ زادی مارچ۔۔۔معاملات

افہام وتفہیم سے حل کئے جائیں

حکومتی مذاکراتی ٹیم اوررہبرکمیٹی کے درمیان ڈیڈلاک کابرقراررہناکسی صورت بھی خوش آئندنہیں ، وزیراعظم نے بھی اس مطالبے کومسترد کردیاکہ وہ وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ دیں گے، مولانافضل الرحمان اوراپوزیشن کو یہ دیکھنا چاہیے کہ حکومت ہرطرح سے مسائل کوجمہوری انداز میں حل کرنے کی خواہاں ہے اب توطبی بنیادوں پرنوازشریف کی رہائی بھی اپوزیشن کےلئے ایک تازہ ہوا کاجھونکا ہے ایسے میں حالات کوجان بوجھ کرخراب کرنا اور ماحول میں سیاسی جنگی صورتحال پیداکرنا بعدازقیاس ہے ۔ اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ حالات کو دیکھے کہ وقت کیاتقاضا کررہاہے ،آیا آزادی مارچ کے لئے یہ وقت درست ہے کہ نہیں باہمی اتفاق سے مسئلے کوحل کرنا ہوگا ۔ ہٹ دھرمی سے محض دشمن کوفائدہ پہنچنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوسکے گا ۔ گزشتہ روز حکومت اور اپوزیشن کے مابین آزادی مار چ کے حوالے سے مذاکرات کے 2 دور بے نتیجہ ختم ہو گئے تاہم فریقین نے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے ۔ حکومتی ٹیم نے ڈی چوک پر جلسے کی اجازت دینے سے معذرت کرتے ہوئے پریڈگراءونڈ میں جلسے کی تجویز دی جسے رہبرکمیٹی نے ماننے سے انکار کردیا ۔ حکومتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ دونوں طرف سے تجاویز دی گئی ہیں کافی بات چیت ہوئی ہے لیکن حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا تاہم مذاکرات جاری رہیں گے ۔ رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم درانی نے کہا کہ حکومتی ٹیم سے اچھی بات چیت ہوئی، تاہم کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکے ۔ اپوزیشن کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ وزیراعظم فوری طور پر استعفیٰ دیں ، فوج کے بغیر نئے انتخابات کرائے جائیں ، اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی قائم کی جائے جبکہ حکومتی کمیٹی آزادی مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالے ۔ حکومت اوراپوزیشن کے درمیان مذاکرات خوش آئند بات ہے ، مذاکرات کوکسی حتمی نتیجے پرہی ختم ہوناچاہیے ۔ جہاں تک مدارس کے طلبہ کی بات ہے تو اس سلسلے میں طلبہ کو سیاست سے دور رہنا چاہیے اور یکسوئی سے تعلیم پر توجہ دینی چاہیے ، جلسے جلوس میں جانے سے طلبہ کی تربیت کو نقصان پہنچتا ہے ۔ والدین بچوں کودینی تعلیم کے حصول کےلئے مدرسوں میں بھیجتے ہیں ، اس لئے طالب علموں کو چاہیے کہ وہ خود کو عملی سیاست سے دور رکھیں اور کسی بھی سیاسی جلوسو ں میں جانے سے گریز کریں ۔

افہام وتفہیم کی طرف آیاجائے

حکومتی مذاکراتی ٹیم اور اپوزیشن میں رابطے ہو رہے ہیں اور اس قسم کی اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ اب دھرنا نہیں آزادی مارچ ہو گا اطلاع یہ بھی ہے کہ حکومت نے مشروط طور پرمارچ کی اجازت بھی دے دی ہے مگر اس مارچ سے پہلے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور نو کریاں پکی کر نے جیسے جائز مطالبات لے کر ڈی چو ک میں دھرنا دینے والے اساتذہ اور اُستانیوں کو رات سو تے میں ہلہ بو ل کر پولیس نے گر فتار کر کے مختلف تھانوں میں بند کر دیا ہے مگر اب یہ معماران قوم تنخواہیں اور پکی نوکریوں کے چکر میں تھانوں اور عدالتوں میں پیش ہو تے نظر آئیں گے یہ کیا طریقہ ہے ایک طرف ’’ سلام ماسٹر صاحب ‘‘ کا دن بھی بڑے اہتمام سے مناتے ہیں اور دوسری طرف رات کے اندھیروں میں پکڑ کر تھانو ں میں بھی بند کر دیتے ہیں ۔ ارے بھائی حکومتیں تو ہوتی ہی عوام کے مطالبات کو سننے اور جائز باتیں منانے کیلئے ہیں ۔ اساتذہ کے مطالبات مکمل طو رپر جائز تھے ان کو افہام و تفہیم سے حل کر لیناچاہئے تھا میرے خیال میں اپوزیشن مارچ سے ڈری ہو ئی انتظامیہ نے طاقت کا غلط استعمال کر کے معاملہ کو بگاڑ دیا ہے اب بھی اگر بات ذمہ داروں کی سمجھ میں آجائے تو اُنہیں گر فتا ر اساتذہ کو رہا کر کے بات چیت اور ٹھنڈے دماغ سے معاملہ حل کر لینا چاہیے ۔ جوں جوں اپو زیشن مارچ قریب آرہا ہے حکو متی سطح پربے چینی کے آثار نمایاں ہو تے جا رہے ہیں مارچ اور دھر نے موجو دہ حکومت کیلئے نئی بات نہیں یہ خو د بھی ایک سوچھبیس دنوں کا دھر نا اور جلسے جلوس ریلیاں کر چکے ہیں انہیں تجر بہ ہے کہ یہ مارچ اور دھرنے کیسے کئے جاتے ہیں اور حکومتیں ان سے کیسے نپٹتی ہیں ۔ تو پھر یہ بے چینی کس بات کی پر یشا نی اور بے چینی اگر ہے تو وہ مارچ سے پہلے نواز شریف اور آصف زرداری کی ہے کیوں کہ ان بیماریوں کی ٹائمنگ بیماریوں سے زیادہ خطرناک ہے اور خدشہ ہے کے کچھ اور لوگ بھی بیمار ہو سکتے ہیں ۔ ویسے بھی وطن عزیزاس وقت بیما ریوں کی زد میں ہر طر ف ڈینگی نے قبضہ کر رکھا ہے ہسپتالوں کے ہسپتال مریضوں سے بھڑے ہو ئے ہیں اور تما م تر حکومتی تدابیرکے باوجود روزانہ کی بنیا د پر بڑی تعداد میں ڈینگی مریض ہسپتالوں میں لائے جا ر ہے ہیں اور مر نے والوں کی تعداد میں بھی روز بروز اضافہ ہو رہا ہے ۔ جتنی تو جہ اس وقت ان ڈینگی بیماریوں پر دے رہی ہے اس سے آدھی توجہ اگر متعلقہ حکومتی اداروں نے بر وقت ڈینگی کے خاتمے پر بھی ہو تی تو شایدیہ صورتحال نہ ہو تی جسے آج ہم بھگت رہے ہیں ۔ ڈینگی پھیلنے میں متعلقہ اداروں کی کاغذی اور فرضی رپورٹیں اور ناقص منصو بہ بندی ہے مگر کو ئی بات ماننے کیلئے تیار ہی نہیں تو کیا کیا جائے سرکاری ادارے ایک خاص کیفیت کا شکار ہیں تو دوسری طرف حکمران بھی ہر کسی کے ساتھ ففٹی ففٹی میچ کھیلنے میں لگے ہو ئے ہیں تاجر پریشان ہیں کہ حکومت نے ایک دم مختلف قسم کے ٹیکسوں کی بھر مار کر دی ہے تاجر کہتے ہیں کہ ہم ٹیکس دینے کو تیار ہیں مگر متعلقہ محکمے ہ میں بیجا ہراساں کر کے صورتحال خراب کر رہے ہیں صنعتکار پریشان ہیں کہ بجلی اور گیس کے بلوں میں آئے روز اضافہ کر دیا جاتا ہے ہم اپنے کارخانے اور صنعتیں بند کر نے پر مجبور ہیں اور عملی طور پر گو جرانوالہ ،فیصل آباد، حافظ آباد اور دیگر کئی شہروں میں فیکٹریاں ،کارخانے بند ہیں ہزاروں نہیں لاکھوں مزدور اور چھوٹے بڑے صنعتکار ہڑتا ل پر ہیں ۔ شہری پریشان ہیں کہ مہنگا ئی کے ساتھ ساتھ مصنوعی مہنگائی پیدا ہو چکی ہے سبزیوں ،دالوں ،آٹے ، چاول ،گھی اور چینی کی قیمتوں ہو شربا اضا فو ں میں عام آدمی کو فاقوں پر مجبو رکرد یا ہے اوپر سے حکومت نے بجلی ،گیس ،پٹرول کی قیمتوں میں آئے روز اضافوں کا شغل اختیار کر کے بندوں کو یہ سو چنے پر مجبو رکر دیا ہے کہ روٹی کھائے یا بل اداکریں بات یہی پر ختم نہیں ہو رہی پو رے ملک میں بارہ پندرہ روز سے تمام سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈک سٹاف ایم ٹی آئی ایکٹ کے خلاف ہڑتال پر ہیں جبکہ گرینڈ ہیلتھ الائنس کی اپیل پر ہڑتال صو بے کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں تک پھیل گئی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق سینکڑوں آپریشن ملتوی ہو چکے ہیں اور لا کھوں مریض علا ج معالجہ سے محروم ہیں مگر حکومت ان سے ففٹی ففٹی کھیلنے پر لگی ہو ئی ہے ۔ قومی اخبارات روزانہ چوتھائی صفحے کے اشتہارات دے کر حکومت یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ عوام کے مفت اور بہترین علاج کی فراہمی کیلئے سر کاری ہسپتالوں کو انتظامی و مالی طو رپر خو د مختار بنانے کیلئے یہ اصلاحات کی جارہی ہیں ۔ اشتہار میں ڈاکٹرز اور پیرامیڈک سٹاف کو اُنکی نو کریوں اور دیگر امور کے بارے یقین دہانیاں بھی کرائی جارہی ہیں لیکن حکومت یہ بات نہیں سمجھ رہی کہ عوام کی فلاح وبہبو کے خلاف کو ئی بھی قانون زیادہ دیر تک قائم نہیں رہ سکتا ۔ مشورہ گریزحکمرانوں سے التما س ہے کہ وہ اپنے یہ ففٹی ففٹی میچ بند کر دیں ایم آئی ٹی ایکٹ کو ’’انا ‘‘ کا مسئلہ نہ بنائے اسے کسی بہتر وقت کےلئے ملتوی کر دیں ۔ صنعتکاروں ،تاجروں کو تھپڑ نہیں تھپکی دے کر معیشت کی بحالی کی طر ف لائیں اگر کچھ ڈلیور نہیں ہو رہا تو یہ آئے روز کی بجلی گیس بم گرانے سے اجتناب کریں صرف اور صرف اشیاء خو ردونوش سستی کر نے بلکہ فو ری طو رپر سستی کر نے پر تو جہ دیں اور خاص طور پر ایف بی آر اور ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں بنیا دی تبدیلیوں پر تو جہ دیں جس میں زیا دہ تعداد اُن راشی ملازمین کی ہے جو سر کاری خزانہ بھر نے کی بجائے اپنی جیبیں بھر نے میں لگے ہو ئے ہیں ۔ لارڈ جسٹس گلزار احمد نے فیڈرل بورڈ پر ریونیو پر سخت بر ہمی کا اظہا ر کر تے ہوئے کہا ہے کہ اسی فیصد اِ ن ڈائریکٹ ٹیکس اکٹھا ہو تا ہے بیس فیصد ریونیو اکٹھا کر نے کیلئے بائیس ہزار کی فو ج رکھی ہوئی ہے یہ ایف بی آر ملک پر بوجھ ہے اسے ختم کر دے تو دیکھے کتنا پیسہ جمع ہو تا ہے ۔

مےری نصرت ۔ ۔ ۔ ۔ !

23اکتوبر 2011ء کو نصرت بھٹو بےاسی سال کی عمر مےں دل مےں کئی راز لئے اس فانی دنےا سے کوچ کر گئیں تھےں ۔ بےگم نصرت بھٹو کانام تارےخ کا حصہ بن چکا ہے ۔ وہ 1982ء سے پھےپھڑوں کے کےنسر مےں مبتلا تھیں ۔ 1982ء مےں نصرت بھٹو اور بے نظےر بھٹو جےل مےں تھےں کہ نصرت بھٹو کے پھےپھڑوں کے کےنسر کی تشےخص ہوئی ۔ جنرل ضےا ء نے طبی بنےادوں پر بےگم نصرت بھٹو کو ملک سے باہر جانے کی اجازت دی اور پےپلز پارٹی کی بھاگ دوڑ بے نظےر بھٹو نے سنبھالی ۔ بےگم نصرت بھٹو وہ خاتون تھی جس نے اپنی زےست مےں اپنے خاوند کو سولی پر چڑھتے دےکھا، دو بےٹوں مےر شاہ نواز بھٹو اورمےرمرتضیٰ بھٹو اور اےک بےٹی بے نظےر بھٹو کو قتل ہوتے دےکھا ۔ شاےد کوئی خاتون اےسی ہو جس نے آپ سے زےادہ الم دےکھے ہوں لےکن آپ تما م تکلےفوں اور مصیبتوں کو صبر سے برداشت کرتی رہیں ۔ آپ کی زندگی آزمائشوں اورقربانےوں سے عبارت ہے ۔ 3اپرےل 1979ء کو صبح سوےرے بےگم نصرت بھٹو کو بتا ےا گےا کہ جےل مےں ذوالفقار علی بھٹو کو 3اور 4اپرےل کے درمےانی شب2بجے پھانسی دے دی جائے گی ۔ بےگم نصرت بھٹوکو سوا گےارہ بجے راولپنڈی جےل پہنچاےا اور ےہ ان کی آخری ملاقات پونے تےن گھنٹے رہی ےعنی ملاقات سوا گےارہ بجے سے دوبجے تک رہی ۔ بے نظےر بھٹو سارا وقت روتی رہی لےکن آپ نے ضبط و تحمل کامظاہرہ کےا ۔ سابق وزےر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے بے نظےر بھٹو سے آخری ملاقات مےں نصےحت کی کہ;34; بےٹی اےک بات ےادرکھنا، سےاست مےں وہی شخص کامےاب ہوسکتا ہے جس کی سےاست اس شخص کی طرح ہو جس کی انگلےاں اتنی ہلکی اور لچکدار ہوں کہ وہ گھونسلے مےں انڈوں پر بےٹھے ہوئے پرندے کے پنجے سے ےکے بعد دےگرے تمام انڈے نکال لے اور پرندے کو خبر تک نہ ہو ۔ ;34; نصرت بھٹو اےرانی نژاد تھےں ۔ نصرت بھٹو23مارچ 1929ء کو اےران کے شہراصفہان مےں پےدا ہوئیں ۔ آپ کے والد کانام مرزا محمد نجف تھا ۔ 1951ء مےں بےگم نصرت بھٹو کی ذولفقار علی بھٹو کے ساتھ شادی ہوئی تھی ۔ ےہ ذوالفقار علی بھٹو کی دوسری شادی تھی ۔ بےگم نصرت بھٹو کے والد نے شادی سے انکار کےا تھا لےکن ذولفقار علی بھٹو نے خود ان کو مناےا ۔ ذولفقار علی بھٹو کی پہلی اہلےہ کا نام امےر بےگم تھا ۔ نصرت بھٹو اور امےر بےگم کے درمےان تعلقات خوشگوار تھے اور آپس مےں کوئی مسئلہ پےش نہےں ہوا تھا ۔ 1953ء مےں اس کی پہلی اولاد بے نظےر بھٹو پےدا ہوئی تھیں ۔ ذولفقار علی بھٹو اپنی اہلےہ نصرت بھٹو کو ;34;نصرتم;34; ےعنی مےری نصرت کے نام سے پکارتے تھے ۔ بےگم نصرت بھٹو نے اپنے شوہر ذولفقار علی بھٹو کی سےا سی زندگی مےں بھرپور ساتھ دےا او ر مختلف سےاسی محاذوں پر ساتھ رہیں ۔ جب ذالفقار علی بھٹو کو گرفتار کےا گےا تو آپ نے ناقابل فراموش کردار ادا کےا ۔ آپ نے1978ء مےں قذافی اسٹےڈےم لاہور مےں تارےخی جلسہ عام کا انعقاد کیا جس پر پولےس نے دھاوا بول دےا اورلاٹھی چارج مےں ان کاسر پھٹ گےا ۔ آپ نے لےبےا کے رہنما کرنل معمر قذافی کاپےغام ذولفقار علی بھٹو تک پہنچاےا کہ ان کو چھڑوالےں گے ۔ اس طرح متعدد رہنماءوں نے پےشکشےں کی تھےں لےکن ذوالفقار علی بھٹو نے منع فرماےا تھا ۔ ذولفقار علی بھٹو کی وفات کے بعدپےپلز پارٹی کو متحد رکھا اور1979ء سے 1983ء تک پےپلز پارٹی کی چےئر پرسن رہےں ۔ 1988ء اور1993ء مےں قومی اسمبلی کی ممبر رہےں ۔ 1993 ء مےں وفاقی کابےنہ مےں سنےئر وزےر رہےں ۔ اولادبہت پےاری اور ناےاب چےز ہے کہ آپ 1993ء کے انتخابات مےں مےر مرتضیٰ بھٹو کےلئے لاڑکانہ مےں لوگوں کے گھروں مےں ننگے پاءوں بھی گئی تھےں ۔ آپ نے خواتےن کے لئے بھی قابل قدر کام کےا ۔ آپ نے اےک ڈکٹےٹر کے خلاف جدوجہدکی اور طوےل جنگ لڑی ۔ آپ اےک پُرعزم، نڈر اور بہادر خاتون تھےں ۔ پےپلزپارٹی کے کارکن آپ کو مادر جمہورےت کہتے ہےں ۔ قارئےن کرام !نصرت بھٹو کو جدا ہوئے آٹھ برس بےت گئے ہیں لیکن لوگ آج بھی ان کو ےاد کرتے ہیں ۔ جولوگ بھی جدوجہد کرتے ہیں ،وہ لوگ ہمیشہ ےاد رکھے جاتے ہیں ۔ بہرحال ہر فرد کو اپنے شعبے میں جدوجہد کرنی چاہیے ۔ سب کو کرپشن، بےماری اور بے روزگاری کے خلاف جدوجہد کرنی چاہیے ۔ تعلیم ،صحت اور روزگار کےلئے جدوجہد کرنی چاہیے ۔ اپنے لئے ہر کوئی جدوجہد کرتا ہے لیکن دوسروں کےلئے جدوجہد کرنا کمال ہے ۔ سب کو پاکستان کےلئے جدوجہد کرنی چاہیے ۔ ہر مےدان میں سبز ہلالی پرچم کو بلند کرنا چاہیے ۔ سب کو وطن عزےز کےلئے عملی اور مثبت کام کرنے چاہیےں ۔ سےاسی پارٹےوں کو اےک دوسرے کو نےچا دکھانے پر وقت صرف نہیں کرنا چاہیے بلکہ اپنی گھڑئیاں وطن عزےز کی ترقی کےلئے صرف کرنی چاہیےں ۔ نصرت بھٹو کی طرح سب نے اس جہاں فانی سے الوداع ہونا ہے ،آخر ت اور ہمیشہ کی زےست کےلئے بھی تےاری کرنی چاہیے ۔ آخرت کی تےاری میں سب سے بہتر اور آسان طرےقہ اللہ رب العزت کی مخلوق کے ساتھ بھلائی ہے ۔

بیماری پرسیاست یاسازش

صحت کی خرابی جسے بیماری کہاجاتاہے کاسامنا نہ صرف انسان بلکہ اس کائنات پربسنے والی تمام مخلوقات کوزندگی بھرکرناپڑتاہے ۔ زندگی بڑی حقیقت جبکہ موت اٹل حقیقت ہے ۔ بیماری سے شفاء دینایاکسی صحت مندکوموت دے دینافقط اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ۔ ڈاکٹرزحضرات قدرت کے عطاکردہ علم اورسہولت کارادویات کے ذریعے بیماری کاعلاج کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ شفاء اللہ تعالیٰ ہی دیتاہے ۔ بیماری یاموت پرسیاست یاسازش کرنا انتہائی شرمناک عمل ہے ۔ ایمبولیس وین میں منشیات یابارودی مواد کی نقل حرکت کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی ۔ بیماری کا بہانابناکراحتساب یاسزاسے راہ فرار اختیار کرنا بھی انتہائی مجرمانہ فعل ہے ۔ بیماری کامطلب ہے کہ مریض کوڈاکٹراوردواکے ساتھ دعابھی فراہم کی جائے ۔ حکومت ہویا اپوزیشن دونوں کوکسی کی بیماری پرتبصرے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے ۔ بیماری کی تشخیص اورعلاج کرناڈاکٹرزکاکام ہے لہٰذاکسی بھی قسم کی رائے قائم کرنابھی ڈاکٹرزہی کی ذمہ داری ہے ۔ ڈاکٹرزکوبھی اپنے پیشے کے ساتھ مخلص رہنا چاہیے نہ کہ سیاسی بساط کامہرہ بننا چاہیے ۔ ماضی میں بھی ہم نے دیکھاکہ نہ صرف مخالفین بلکہ بیمارفردکے لواحقین بھی اس کی بیماری پرسیاست کرتے ہیں جوآج بھی جاری ہے،بیماری پررائے صرف متعلقہ ڈاکٹرزسے ہی لی جانے چاہیے ۔ حکومتی اوراپوزیشن نمائندوں سمیت کسی بھی غیرمتعلقہ فردکوکسی کی بیماری پرتبصرے یا تجزیے پیش کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے بلکہ اس حوالے سے موثرقانون سازی کرکے اسے قابل سزاجرم قراردیاجاناچاہیے،تفتیش،تحقیقات اوراحتساب کاعمل تیزترین ہوناچاہیے ،سابق وزیراعظم میاں نوازکی صحت کی خرابی کوجس طرح اُن کے حمایتوں اورمخالفین نے سیاست کیلئے استعمال کیاوہ انتہائی غیرمناسب اورقابل مذمت ہے ۔ میاں نوازشرف،سابق صدرآصف زرداری،مریم نوازیاکوئی اوربیمارہیں تواُن کا علاج ڈاکٹرزکریں ۔ انتظامیہ ہرحوالے سے اُن کو علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کرے اورحکومت اپنا کام کرے ۔ کس مریض کاکون سا ٹیسٹ کرناہے اورکون سی دوادینی ہے یہ فیصلہ کرناصرف متعلقہ ڈاکٹرزکی ذمہ داری ہے ۔ میاں نوازشریف یا آصف زرداری کے حمایتی یامخالفین اپنی زبانیں کنٹرول میں رکھیں تواُن کے قائدین کی صحت کیلئے زیادہ بہترہوسکتاہے اورحکومتی نمائندے اپنی زبانوں کولگام دیں تویہ اُن کی حکومت کیلئے نیک شگون ثابت ہوسکتاہے ۔ سیاستدان ایک دوسرے کوچور،غدار،مودی،یہودی،امریکہ،برطانیہ کا ایجنٹ،انگریز،یہودی اورکفارکاغلام کہتے ہیں ، بیماری اورموت پربھی سیاست یاسازش کرتے ہیں ،اپنے ملک کے سکیورٹی اورعدلیہ اداروں کیخلاف زہراگلتے ہیں ۔ عدلیہ اورسکیورٹی اداروں کے سیاسی فیصلے غلط ثابت ہوجاتے ہیں ۔ عدلیہ اور سکیورٹی ادارے جن لوگوں کوریلیف دے کرقوم پر مسلط کرتے ہیں انہی پرکرپشن اورغداری کے الزام لگ جاتے ہیں ۔ کسی ملزم کے کیس کافیصلہ آنے تک اس کی کئی نسلیں پرورش پاجاتی ہیں ۔ تمام ذمہ داراداروں کے ذمہ داران ایک دوسرے پرسنگین الزامات عائدکرتے ہیں اورعوام ان سب پر الزامات عائدکرتے دیکھائی دیتے ہیں ۔ نتیجہ یہ برآمد ہوتاہے کہ سب اپنے اپنے مفادات کے پجاری ہیں کسی کو بھی ملک وقوم کے مستقبل کی فکر نہیں ۔ تمام ادارے عوامی مسائل پرتوجہ مرکوز کرنے کی بجائے عوام کو مزیدمسائل اورسنسنی خیر بیانات میں الجھائے رکھتے ہیں ۔ میڈیابھی اپنے اپنے مزاج اورپالیسی کے مطابق معمولی سی خبر کو انتہائی سنسنی خیزبناکرنہ صرف بریکنگ نیوزکے طور پر پیش کرتاہے بلکہ بارباروہی خبرچلائی جاتی ہے ۔ کسی کی بیماری کے متعلق بھی سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے لی جاتی ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی بھی رپورٹ ۔ کوئی بھی تبصرہ ۔ کوئی بھی تجزیہ ۔ کوئی بھی سروے حتمی نہیں ہوتا اورکسی تجزیہ نگارکی رائے سو فیصدقابل قبول یاناقابل قبول نہیں ہو سکتی ۔ رپورٹ اورسروے محدود حقائق اورلوگوں کی رائے پر مبنی ہوتے ہیں جبکہ مکمل حقائق اورمختلف عوامی حلقوں کی رائے مختلف ہوتی ہے ۔ اس بات کا فیصلہ کرنا انتہائی مشکل ہے کہ ہمارے ہاں بیماری پر سیاست کی جاتی ہے یاسازش پھربھی ہم چاہتے ہیں کہ سابق صدرآصف زرداری،سابق وزیراعظم میاں نوازشریف سمیت تمام سیاسی بیماروں کوملک کے اندرعلاج معالجہ کی بہترین سہولیات فراہم کی جانی چاہیے ۔ بیرون ملک علاج کی اجازت کسی زیرتفتیش ملزم یاسزایافتہ مجرم کونہیں ملنی چاہیے ۔ ویسے توسیاستدانوں کے قول وفعل کے تضادات کے باعث اُن کی کسی بات پریقین کرنا بہت مشکل ہے پھربھی میاں نوازشریف کی صحت زیادہ خراب بتائی جارہی ہے لہٰذاہم اُن کی مکمل صحت یابی کیلئے دُعاگوہیں ۔ اللہ تعالیٰ میاں نواز شریف کوصحت وتندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے اورمیرے ملک کودشمن کی تمام سازشوں سے محفوظ رکھے ۔

عوام کا اصل مسئلہ روٹی،کپڑا ا ورمکان

دنیا کے ننانوے فیصد عوام کا بنیادی مسئلہ روٹی کا ہے،روٹی کے حصول کیلئے عوام مارے مارے پھر رہے ہیں اور نوالے کی تلاش میں ہاتھ پیر مار رہے ہیں اور نوالہ ہے کہ ان کے ہاتھ نہیں آتا ہے ۔ خاص کرپاکستانی نظام کے سیاسی مسخروں نے عوام کو مہنگائی خوف اور بھوک کے تحفے کے اور کچھ نہیں دیا ہے جب بھی انہیں ضرورت ہوتی ہے وہ عوام کے سڑکوں پر نکلنے کی بات ضرور کرتے ہیں لیکن ان کے پاس عوام کے بنیادی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے اس بنا پر عوام نہ سڑکوں پر نکلتے ہیں اور نہ جمہوریت اور آمریت میں ان کی دلچسپی ہے ان کیلئے وہی لیڈر اچھا ہے جو ان کے بنیادی مسائل حل کرسکے ۔ گزشتہ اکہتر سالوں میں پاکستان پر مسلط نظام نے داءو وپیچ تو بہت کھائے ہیں اور روپ بدلنے میں کافی شہرت حاصل کی ہے اگرچہ اس کا حقیقی چہرہ چھپا ہوا ہے اور طاقت کی ڈوری جس کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ کبھی سامنے نہیں آتا ہے ہم نے اس نظام کو عسکری وردی ہی میں دیکھا ہے اس کے علاوہ یہ نظام کبھی واسکٹ اور شیروانی کی نمائش کرتا ہے اور کبھی کوٹ پینٹ ی کی صورت میں سامنے آتا ہے جب بھی یہ نظام اپنا رنگ بدلتا ہے تو غریب آدمی اگرچہ خوشی سے شادیانے بجاتا ہے اور تالیاں پیٹ کر اپنے سرخ کرتا ہے مگر اسکے چہرے کی سرخی زائل ہوتی جاتی ہے اور اسکے چہرے کی زردی میں اور اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ یہ ہمارا ایک قومی المیہ ہے کہ جو روٹی اور کپڑ ا اور مکان کی بات کرتا ہے اوسے تحسین کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے اور اسے سوشلسٹ اور کیمونسٹ وغیرہ قرار دیکربدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کے خلاف فتوے اس طرح داغے جاتے ہیں جس طرح میزائل داغا جاتا ہے اور اسے پھانسی وغیرہ دینے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا ہے جس کی مثالیں موجود ہیں اور جو فتویٰ دینے والے ہیں وہ اس کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ انسان روح اور جسم دونوں سے مرکب ہے اوردونوں کے تقاضے الگ الگ ہیں اس انسان نے اسی سوساءٹی میں زندگی گزارنی ہے اور یہاں اپنا وقت پورا کرنا ہے اسکے روح کے بھی کچھ تقاضے ہیں اور جسم کے بھی کچھ تقاضے ہیں انسان نے ان دونوں سے نمٹنا ہے اپنے مادی تقاضوں کو پورا کئے بغیر انسان معاشرے میں اپنی زندگی گزارنے کی نشوونما جاری نہیں رکھ سکتا ہے روٹی کپڑا اور مکان اور بود وباش ۔ س وقت ہمارے سیاسی لیڈروں کو عوام سے یہ شکوہ ہے کہ وہ ان کی کالو ں پر سڑکوں پر نہیں نکلتے ہیں اپوزیشن کی یہ خواہش ہے کہ عوام سڑکوں پر نکل کھڑے ہوں تاکہ حکمرانوں کا دھڑن تختہ ہو جائے اور اپوزیشن کو اقتدار حاصل کرنے کا موقع مل جائے لیکن عوام ہیں کہ وہ ٹھس سے مس نہیں ہوتے ان کو دال روٹی کا بھی مسئلہ ہوتا ہے اورانہیں اپنے بچوں کا پیٹ پالنا بھی ہوتا ہے کیونکہ ان کی ایک دیہاڑی کے ضائع ہونے سے ان کے گھر کا بجٹ متاثر ہوتا ہے اور پاکستانی عوام یہ بھی جاننے لگے ہیں کہ ان سیاسی لیڈروں نے انہیں کیا دیا ہے سیوائے غربت اور مہنگائی کے اور عوام یہ بھی سمجھنے لگے ہیں کہ ہمارے یہ رہنماءوں اور سیاسی کردار بشمول سیاسی مذہبی لیڈران سب کے سب نو آبادیاتی نظام کی گلی سڑی لاش کے وارث اپنے مفادات کیلئے ایک دوسرے پر غراتے ہیں اور اپنے مفادات کیلئے یہ عناصر عوام کو استعمال کرتے ہیں ۔ دیکھا جائے تو ہمارے ملک میں مذہب اور مسلک کے نام پر ایک دوسرے کو بم کا نشانہ بنانے والے ہو ا،افسر شاہی قبضہ گروپ ہو ےا کسان اور مزدور کا خون چوسنے والے جاگیر دار اور سرمایہ دار ہواور ےا قوم پرستی کے نام پر ایک دوسرے کو تہ و تیغ کرنے والے ہوں ان سب کے مفادات عوام پر ظلم کرنے سے وابستہ ہیں اور یہ قومی مفادات سے عاری ہیں اوریہ سب الا ماشاء اللہ سامراجیت کے آلہ کار ہیں یہ تو نہ دور کے تقاضوں سے آگاہ ہیں اور نہ ان کو اپنے شاندار ماضی کا ادراک ہے اور ان سے بہتر مستقبل کی توقع رکھنا بھی حماقت ہے کیونکہ ان کا کوئی نصب العین ہے اور نہ ان کے پاس کوئی حکمت عملی ہے بلکہ یہ سامراج کی چھتری کے نیچے عوام کا استحصال کرنے میں مصروف ہیں اور مال جمع کرنا اور قومی خزانہ پر ہاتھ صاف کرنا ان کی سیاست کا وطیرہ ہے اور یہی ان کا مشن ہے جس پر سب گامزن ہیں ، اب عام آدمی بھی سمجھنے لگ گیا ہے کہ یہی فرعونی سیاست کی جھلک ہے جو اکسویں صدی میں دیکھی جاسکتی ہے ۔ وطن عزیز میں قدرت نے کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی ہے لیکن ذاتی مفادات اور ناقص حکمت عملیوں اور کمیشن کے عوض کئے ہوئے معاہدوں نے پوری قوم کو بھکاری بنایا ہوا ہے ورلڈبینک اور آئی ایم ایف کے قرضہ جات نے ملک کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے عام آدمی سڑک پر اس لئے نہیں نکلتاہے کہ اس کے مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے اور انہیں اپنے آنے والے نسلوں کا مستقبل بھی تاریک نظر آرہا ہے ۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق روٹی، کپڑا، صحت، تعلیم اورروزگارقوم کے ہر فرد کا بنیادی حق ہے لیکن وہ ملک کے عام آدمی کے دسترس سے باہر ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک سے غربت اور مہنگائی اور بے روزگاری کو ختم کیا جائے عوام کو نہ جمہوریت سے دلچسپی ہے اور آمریت سے بلکہ عوام کو ایک ایسے صالح نظام کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل حل کرسکے اور ان کے حقوق کا تحفظ کرسکے ۔

پاکستان کی معیشت میں بہتری ۔۔۔عالمی بنک کا اعتمادکا اظہار

پاکستان کی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہونا شروع ہوگئی ہے اور اس کے ثبوت دنیابھر سے آرہے ہیں عالمی بنک بھی اس حوالے سے معترف ہے ،یہ حکومت کی بہترین معاشی پالیسیوں کے سبب ایسا ہورہاہے کہ پاکستان کے کاروباری ماحول کی رینکنگ میں بدستوراضافہ ہوتاجارہاہے ۔ بھارت اوربنگلہ دیش کو پاکستان نے پیچھے چھوڑ دیاہے گوکہ بقول حکومت کے جب انہیں عنان اقتدار ملاتو خزانہ بھی انتہائی کمزورتھا اورزرمبادلہ کے ذخائر بھی تسلی بخش نہیں تھے اس کی خاطر حکومت نے رات دن تگ ودو کی نظام کو بہتربنانے کی تاحال کوشش کی جارہی ہے، ٹیکس نیٹ کو بڑھایاجارہاہے اس کے علاوہ معیشت کے حوالے سے دیگر بھی بہت سارے اقدامات کئے جاچکے ہیں یاپھر مزید پربھی غوروخوض شروع ہے ۔ ایسے میں جہاں عوام تو حکومت سے تعاون کر رہی ہے ٹیکس بھی دیتی ہے دیگرقوانین کی بھی پابندیاں کرتی ہے لیکن اصل ٹیکس نادہندگان جو ہیں ان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کی ضرورت ہے ۔ اگرہمارے ملک کاصرف ٹیکس کانظام بھی درست ہوجائے تو بہت سارے مسائل حل ہوسکتے ہیں لیکن اس کےلئے ضروری ہے کہ مساوات کے اعتبار سے اس کو لاگو کیاجائے ۔ اقرباپروری کہیں نہیں ہونی چاہیے قانون سب کےلئے برابر ہوتا ہے، حکومت بھی اس سلسلے میں مزید کام کرے اداروں کا اعتماد بڑھناچاہیے ۔ عوام کو اگرحکومت یہ باورکرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے کہ اس سے وصول کردہ ٹیکس ملک اور قوم کی ہی بھلائی پرخرچ ہوگا تولامحالہ ہرشخص خودبخود ٹیکس دے گا لیکن اگرایسا ہو کہ بڑے بڑے سرمایہ دار مختلف حیلے بہانوں سے ٹیکس چوری کرتے رہیں یاٹیکس معاف کراتے رہیں توپھر یہ ملک اور قوم کے ساتھ زیادتی ہوگی تاہم حکومتی اقدامات کے نتاءج سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں ،نہ صرف پاکستان کی درجہ بندی میں اضافہ ہوا بلکہ اب یہاں پر سرمایہ کاری میں بھی اضافہ ہوگا ۔ حکومت بیرونی سرمایہ کاروں کو سہولیات دینے کےلئے خاطرخواہ اقدامات کررہی ہے ۔ اسی وجہ سے اگر دیکھاجائے تو گزشتہ دنوں سے کئی بین الاقوامی کمپنیاں بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے کی خواہاں ہیں حکومت سے اُن کے مذاکرات چل رہے ہیں کچھ کے معاہدے طے ہوئے ہیں کچھ تیاری کررہی ہیں ۔ نیزسی پیک بھی پاکستانی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت کی مانند ہے اب آنے والے وقت میں پاکستان میں نوجوانوں کےلئے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے، خوشحالی بھی ہوگی،امن وامان بھی قائم ہوگا یہ سب کچھ بہترین معیشت کے ہی مرہون منت ہے ۔ معیشت کی بہتری کا واضح ثبوت یہ ہے کہ عالمی بینک کی ڈوئنگ بزنس رپورٹ 2020کے مطابق پاکستان کاروبار میں آسانی کی درجہ بندی میں 28 درجے بہتری کے ساتھ 136 ویں نمبر سے 108 ویں نمبر پر آگیا ہے، پاکستان کاروباری اصلاحات کرنے والے 10 بڑے ممالک کی فہرست میں بھی شامل ہو گیا ہے اس لسٹ میں پاکستان چھٹی پوزیشن پر ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی درجہ بندی میں تاریخ کی سب سے زیادہ بہتری پر قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ عوام سے کیا گیا ایک اوروعدہ پوراکردیا ۔ رپورٹ کے مطابق عالمی درجہ بندی میں نیوزی لینڈ پہلے سنگاپور دوسرے اور ہانگ کانگ تیسرے نمبر پر ہیں جبکہ ڈنمارک ، کوریا،امریکا جارجیا، برطانیہ، ناروے اور سوئیڈن بھی پہلے 10ممالک کی درجہ بندی میں شامل ہیں ۔ عالمی درجہ بندی میں بھارت 63،بھوٹان 89،نیپال 94،سری لنکا 99اور بنگلہ دیش کا درجہ 168رہا ۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی بینک کی کاروبار کے حوالے سے رپورٹ میں پاکستان نے اتنی نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کا ڈوئنگ بزنس اسکور55;46;5سے بڑھ کر 61 ہو گیا ہے پاکستان کے بزنس ڈوئنگ اسکور میں 5;46;6، چین کا 4;46;0،بھارت کا 3;46;5جبکہ بنگلہ دیش کے اسکور میں 2;46;5کا اضافہ ہوا ۔ اس طرح پاکستان نے ان تینوں ممالک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ پاکستان کی 6 اشاریوں میں رینکنگ میں بہتری آئی ہے جن میں کاروبار، تعمیراتی پرمٹس، کاروبار کےلئے بجلی کے حصول، پراپرٹی کی رجسٹریشن، ٹیکسوں کی ادائیگی اور سرحدوں کے آر پار تجارت شامل ہے ۔ اسی طرح 7 اشاریوں میں پاکستان کے اسکور میں اضافہ ہوا ہے جن میں کاروبار، تعمیراتی پرمٹس، کاروبار کےلئے بجلی کے حصول، پراپرٹی کی رجسٹریشن، ٹیکسوں کی ادائیگی اور سرحدوں کے آر پار تجارت اوراقلیتی سرمایہ کاروں کا تحفظ شامل ہے ۔ پاکستان کے علاوہ جن ممالک نے اس رینکنگ میں بہتری دکھائی ہے ان میں سعودی عرب، اردن ، ٹوگو، بحرین، تاجکستان، کویت، چین، بھارت اور نائیجریاشامل ہیں ۔ کاروبار کے آغاز کے ضمن میں اصلاحات کے اشاریے میں پاکستان 72 ویں نمبر پر ہے، گزشتہ سال پاکستان کی رینکنگ 130 پوزیشن پر تھیں ۔ تعمیراتی پرمٹس کے حوالے سے اصلاحات کی رینکنگ میں پاکستان 112 ویں نمبر پر ہے، گزشتہ سال پاکستان اس رینکنگ میں 166 ویں پوزیشن پر تھا ۔ بجلی کنکشن کے حصول میں گزشتہ سال پاکستان 167ویں نمبرپر تھا رواں سال پاکستان کی رینکنگ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور پاکستان 123 ویں پوزیشن پر آگیا ہے ۔ پراپرٹی کی رجسٹریشن میں گزشتہ سال کے مقابلہ میں پاکستان کی رینکنگ میں 10 درجے کی بہتری آئی ہے ۔ ٹیکسوں کی ادائیگی کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن میں 22 درجے کی بہتری آئی ہے ۔ گزشتہ سال اس رینکنگ میں 173 ویں نمبر پر تھا رواں سال 161ویں نمبرپر ہے ۔ سرحد پار تجارت کے حوالے سے اصلاحات میں بھی پاکستان نے نمایاں بہتری دکھائی ہے گزشتہ سال اس رینکنگ میں 142 ویں نمبر پر تھا رواں سال پاکستان 111ویں نمبرپر آگیا ہے ۔ درجے میں بہتری کی وجہ وفاق اور صوبوں کی جامع اصلاحات ہیں ، وفاق، سندھ اور پنجاب نے نمایاں اصلاحات کی ہیں ۔ ابھی پاکستان کو اس سلسلے میں بہت کچھ کرنا ہے ۔ یہاں پر صوبائی تعاون بھی انتہائی ضروری ہے اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ اب جبکہ ملکی معاشی حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں ،دنیا بھی ا س کو تسلیم کررہی ہے تو ایسے میں سیاسی انارکی پھیلاناکہیں کی عقلمندی نہیں ہے ۔

کرتارپورراہداری معاہدے پر دستخط، پاکستان کو ایک اورسفارتی کامیابی

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق تاریخی معاہدہ طے پاگیا جس پر دونوں جانب سے دستخط کردیے گئے، اب وزیراعظم عمران خان اس کا باضابطہ افتتاح 9 نومبر کو کریں گے ۔ معاہدے کے تحت روز5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزا کرتار پور آسکیں گے ،بھارتی یاتریوں کو پاسپورٹ، آدھار کارڈ یا پین کارڈ بطور شناخت دکھانا ہوگا،کرتارپور راہداری پر 20 ڈالر سروس چارجز لئے جائیں گے ۔ پاکستان کی طرف سے ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹرمحمد فیصل جبکہ بھارت کی طرف سے امور خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری ایس سی ایل داس نے معاہدے پر دستخط کیے ۔ سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورت حال میں سہولت میسر نہیں ہوگی ۔ پاکستان امیگریشن حکام ہر بھارتی یاتری کو ایک بار کوڈوالا کارڈ جاری کریں گے، بھارتی یاتریوں کی آمد صبح 8سے دن 12بجے تک ہوگی اور غروب آفتاب تک سب یاتریوں کو واپس جانا ہوگا ۔ کرتارپورراہداری کے حوالے سے دیکھاجائے تو یہاں بھی بھار ت کوشکست ہوئی پہلے اس نے فرار کے راستے اختیار کئے لیکن آخرکاراسے بادل نخواستہ اس معاہدے پردستخط کرنے ہی پڑے یہ پاکستان کی بہترین سفارتکاری کی مثال ہے ۔ ہزاروں یاتری روزانہ کی بنیاد پر پاکستان آسکیں گے نیزپھرسہولت یہ بھی ہے کہ وہ پیدل بھی داخل ہوسکتے ہیں اس میں کوئی خرچ نہیں سوائے معمولی سی داخلہ فیس ادا کرنا ہوگی ۔ پاکستان کے اس اقدام کے بعد مودی حکومت آب بے ماہی کی طرح تڑپ رہی ہے کرتا ر پور راہداری سے دنیا کو یہ پیغا م جاچکا ہے کہ جو بھی کسی بھی ملک کو مسائل درپیش ہوں ان کاحل صرف باہمی بات چیت، افہام وتفہیم اورمذاکرات میں ہی مضمرہے ۔ کرتارپورراہداری پاکستان کی معاشی حالت بھی درست کرنے میں ممدومعاون ثابت ہو گی ۔ سکھ برادری نے بھی اس سلسلے میں پاکستان سے اظہارتشکرکیاہے وزیراعظم پاکستان کی جانب سے اس کے افتتاح کے بعد باقاعدہ سکھ یاتریوں کا آناجاناشروع ہوجائے گا ۔

27 /اکتوبر ۔ کشمیر میں بھارتی استبدای فیصلہ کامنحوس دن

گزشتہ 72 برسوں سے آج تک ہرسال اکتوبر کی 27 تاریخ کا سورج جب طلوع ہوتا ہے تو پاکستان میں اہل وطن کے دل اور آزادہ جموں وکشمیر سمیت دنیا بھر میں کشمیریوں کے دل مسموم ہوکررہ جاتے ہیں اْن کے دلوں میں اس خوفناک اور بھیانک غموں کی یادوں کے احساسات تازہ دم ہوجاتے ہیں جب مقبوضہ وادی کے ہندومہاراجہ ہری سنگھ نے تقسیم ہند کے پلان کی صرِیحا خلاف ورزی کرتے ہوئے وادی کی واضح مسلمان اکثریت کی مرضی ومنشا کا احترام کے بغیر کشمیر میں بھارتی تسلط کے لئے پہلی راہ ہموار کی اور بھارتی فوجیں کشمیر پر قابض ہونے کے لئے داخل ہوگئیں ہرسال کشمیری عوام نسل درنسل مقبوضہ وادی میں یہ منحوس دن ;39;بطوریوم سیاہ;39; مناتے چلے آرہے ہیں 72 برس بیت چکے نئی دہلی کی مرکزی پر چاہے کانگریس کی طویل حکمرانی کا دور رہا یا آج کی بی جے پی کی حکمرانی ہو کشمیریوں کے انسانی حقوق کی قدروں کو پائمال کیا جارہا ہے اور عالمی طاقتیں تماشائی بنی ہوئی ہیں دنیا کتنی بے حس ہوگئی ایک کروڑ انسانوں کے ساتھ انصاف مگر ہوتا نظر نہیں آرہا آئیے ایک سرسری کا جائزہ لیتے ہیں کہ 27 اکتوبر1947 کو بھارت نے انگریزسامراج کی ملی بھگت سے اپنی استبدادی بالادستی کو قائم رکھنے کے لئے علاقہ کی آئندہ جارحانہ سیاست کا آغاز کیسے اور کیونکر کیا اْس کی ابتدا سے اب تک کے واقعات سے اندازہ لگالیں کہ بھارت نے خطہ کو عدم استحکام کیئے رکھنے تقسیم ہند کے بعد سے اب تک کیا کچھ کیا ہے 14;245;15 اگست 1947: برطانیہ سے آزادی کے بعد دو خود مختار ریاستیں پاکستان اور بھارت وجود میں آئیں ، ریاستوں اور راجواڑوں کو یہ اختیار دیا گیا تھا کہ وہ اپنی ریاستوں کے عوام کی مرضی و منشا کے مطابق کسی بھی ملک پاکستان یا بھارت میں شامل ہونے کا فیصلہ کر سکتے ہیں کشمیر میں مسلمانوں کی واضح اکثریت تھی مگر اس کے باوجود ہندو متعصب راجہ ہری سنگھ نے وقت پر کوئی فیصلہ نہیں کیا یقینا اْس کے دماغ میں کشمیری مسلمانوں کے خلاف مذہبی تعصب تھا کشمیری عوام ریاست کے ہندوراجہ کی ذہنیت سے بخوبی اگاہ تھے اور وہ فیصلہ کرچکے تھے کہ اْن کا اور ان کی نسلوں کا مستقبل اْن کی مسلم مذہبی شناخت;39;مسلم تہذیب وتمدن کی بقا اور نسلی وثقافتی اقدارکا تحفظ اگر محفوظ رہ سکتا ہے تو ہرصورت میں اْنہیں پاکستان کی نئی مسلم ریاست ہی ;34;سوٹ;34;کرتی تھی مگر مہاراجہ نے ایک کروڑ بیس پچیس لاکھ کی مسلم آبادی کے خلاف جب فیصلہ کیا تو ریاست کے مسلمان بپھر گئے وہ سراپا احتجاج ہوگئے اپنی ریاست کشمیر کا الحاق وہ پاکستان کے ساتھ کرنا چاہتے تھے یہ جنوبی ایشیا کا ایک انتہائی اہم اور حساس اسٹرٹیجک مسئلہ ہے جس سے کسی صورت صرف نظر نہیں کیا جاسکتا تھا لہذا جب کشمیری عوام کی ہندومہاراجہ کے زمینی حقائق کے خلاف تحریک میں شدت آنے لگی تو بھارت کے پہلے وزیراعظم نہرو اور لارڈماونٹ بیٹن کی مشترکہ استبدانہ سوچ کے نتیجے میں 27 اکتوبر1947 کو کشمیر میں بھارتی فوج اتاردی گئی اس کے بعد جوکچھ ہوا وہ ہمارے اور آپ کے سامنے ہے یادرہے اس دوران میں کشمیر ی مسلمانوں کے قائدین کے پاکستان کے ساتھ ٹیلی گرام رابطے رہے اور کشمیری مسلمانوں کے مسلسل اصرار پر بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فوری فیصلہ کیا اور یوں خطہ میں بھارت اور پاکستان کے مابین کشمیر ایک سنگین تنازعہ کی صورت بن گیا جس کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان پہلی جنگ شروع ہوگئی قارئین بہتر جانتے ہیں کہ بھارت کا سری نگر جوکہ کشمیر کا دارلخلافہ تھا کوئی زمینی راستہ نہ تھا بھارت نے کشمیر میں 27 اکتوبر1947 کو اپنی فوجیں ہوائی جہازوں کے ذریعے اتاری تھیں اور یہاں یہ اہم بات قطعی نہ بھلائی جائے کہ 26 اکتوبر 1947 کو وادی کے بگڑتے ہوئے حالات کا اندازہ لگا کر مہاراجہ سمجھ چکا تھا کشمیر ہر صورت میں پاکستان سے جاملے گا تواْس نے نئی دہلی سے مدد حاصل کرنے کے لئے ایک ;39;الحاقی دستاویز;34;پر دستخط کردئیے جس میں یہ شرط رکھی گئی تھی کہ جیسے ہی ریاست میں حالات معمول پرآئیں گے کشمیر میں رائے شماری ہو گی لیکن بھارتی فوج کی کشمیر میں دخل اندازی نے اور سنگینی پھیلادی پاکستانی فوج کشمیر کی جانب بڑھنے لگی کشمیری مسلمان پاکستانی فوج کی مدد کرنے لگے بھارتی فوج کے قدم اْکھڑنے لگے توبھارت نے یکم جنوری 1948 بھارت نے مسئلہ کشمیر پر اقوام ِ متحدہ سے مدد مانگ لی یوں عالمی مسلم دشمن طاقتوں کی ایما پر ;39;جنگ بندی;39; ہوگئی ذرا عالمی مکاری وعیاری کا اندازہ لگائیں کہ اصل میں منصوبہ تھاکیا;238;5 فروری 1948 اقوام متحدہ نے ایک قرار داد کے ذریعے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا تاکہ وہاں رائے شماری کرائی جاسکے;238; شیطانی ذہنیت رکھنے والوں کے منصوبے بھی شیطانی فطرت کے تابع ہوتے ہیں یعنی ایک جانب برصغیر کا پورا خطہ حالات تقسیم کے دور سے گزر رہا تھا مسلمانوں کے لٹے پٹے قافلے تاریخ کی بدترین قتل وغارت گری کا مقابلہ کرتے ہوئے مشرقی پنجاب میں سے پاکستان کی جانب ہجرت کررہے تھے ایسے میں ;34;کشمیر میں جنگ;23834; اورمہاراجہ ہری سنگھ;39;انگریز سامراج کے ساتھ ہندوبراہمن واد کی سیاست وسفارت کاریاں یہ سب تماشا ایک جانب کیونکہ نئی مسلم ریاست پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیئے رکھنا کا ناپاک منصوبہ اْن کے ذہنوں میں کلبلا رہا تھا اْوپر سے کشمیر کو وہ کسی صورت نہیں چھوڑنا چاہتے تھے ایسے میں برطانیہ اور امریکا نے بھارت کی پوری پشت پناہی کی جس کے نتیجے میں یکم جنوری 1949 کو اقوامِ متحدہ نے جنگ بندی کراتے ہوئے دونوں ممالک کی فوجوں کو جنگ بندی لائن کا احترام کرنے کا پابند کیا اور وہاں جلد ازجلد رائے شماری کرانے کا ساتھ ہی اعلان کردیا تاکہ بپھرے ہوئے کشمیریوں مطمئن ہوسکیں اور پھر نہلے پہ دھلہ وہ یہ کہ 26 جنوری 1950 کو بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کا اضافہ ہوا جس میں ریاست جموں و کشمیر کو دفاع ، خارجہ اور مواصلات کے علاوہ ایک ;34;علامتی خود مختار;34;ریاست کی حیثیت دی گئی ،اکتوبر 1950 شیخ عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس نے جموں و کشمیر میں انتخابات کا مطالبہ کیا تاکہ ریاستی اسمبلی کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ہوسکے 30 مارچ 1951 کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل نے کشمیر میں انتخابی عمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسمبلی رائے شماری کا متبادل نہیں ہے اور نہ ہی کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتی ہے، ساتھ ہی ایک نمائندہ مقرر کرنے اور کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینے کا اعلان کیا گیا مگر اس پرعالمی فیصلے پر عمل در آمد نہ ہو سکا، کیوں نہ ہوسکا;238; اقوام متحدہ اور بھارت آج تک اس کا کوئی موثر،ٹھوس اور تسلی بخش جواب نہیں دے سکے یہی وجہ ہے کہ 71 برس ہوچکے ہیں اب جب بھی دنیا کے انصاف پسندوں کے سامنے مقبوضہ وادی کا نام آتا ہے تو وہ کشمیر کا نام سنتے ہی جنگ ، لاشیں ، حراستیں ، جبری گمشدگیاں ، حراستی قتل ، املاک کی تباہی و بربادی ، پیلٹ گنز سے چھلنی ، بے بینائی لوگ، ظلم وجبر کے سائے میں پلتی ہوئی معصوم بچوں کی زندگیاں ، لاپتہ شوہروں کی منتظر ;34;نصف بیوہ خواتین;34;، انتظار میں بیٹھی وہ ماں جس کا بیٹا قابض فوج کے تاریک عقوبت خانوں میں مار دیا گیا، اجتماعی قبریں اور عصمت دری کا شکار زندہ لاشیں ذہنوں میں آتیں ہیں کشمیر جو کبھی ایشیا کا سوءٹزر لینڈ کہا جاتا تھا آج دنیا کے خطرناک ترین تنازعے کا مرکز بن چکا ہے اس کی وجہ سے اسلامی دنیا کی بڑی قوت پاکستان اور خطے کے اہم ترین ملک ہندوستان کے مابین تین جنگیں ہو چکی ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے سروں پر 5 ;241;اگست کے مودی سرکار کے فیصلے نے ایٹمی جنگ کے سائے اور منڈلا دئیے ہیں ،کاش! اب دنیا کو ہوش آ جائے اور وہ بھارت پر دباو بڑھائیں تاکہ جنوبی ایشیا توکم ازکم یقینی امن واستحکام کا خواب دیکھ سکے ۔

Google Analytics Alternative