کالم

افغانستان میں دہشت گردوں کی تربیت گاہیں ہیں

گزشتہ روز سرحد پر باڑ لگانے والے فوجیوں پر بلا اشتعال فائرنگ کر کے پاک فوج کے 3 جوانوں کو شہید اور ایک کو زخمی کر دیا جس پر پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے شدید احتجاج کیا ۔ افغان حکام اپنے علاقے میں صورت حال کنٹرول کرنے کے ذمہ دار ہیں ۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان حکومت بارڈر محفوظ بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے ۔ پاک فوج کے ہزاروں جوان اور سیکٹروں گاڑیاں سرحد میں باڑ لگانے کے منصوبے پر روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے کےلئے مختلف مقامات پر تعینات ہیں جو چترال سے لے کر جنوبی وزیرستان تک پاک;245;افغان سرحد پر باڑ کی تنصیب کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ امریکہ افغانستان میں ناکام ہو چکا ہے اور اس کی ناکامی کے سبب دہشت گرد عناصر کی سرگرمیوں کے اثرات پاکستان پر پڑ رہے ہیں ۔ پاکستان سیکورٹی ادارے ان حالات کو بھانپتے ہوئے قبل از وقت بندوبست کرنے کی کوشش میں ہیں تاکہ پاکستان کو امریکی ناکامیوں کے اثرات سے بچایا جا سکے ۔ اس مقصد کےلئے اب تک افغانستان کے ساتھ ساتھ خیبر ایجنسی، باجوڑ ایجنسی اورمہمند ایجنسی کا انتہائی خطرناک 237 کلومیٹر بارڈر محفوظ بنالیا گیا ہے اور ابھی کام جاری ہے ۔ پاکستان کے محدود مالی وسائل کے باوجود سرحدوں پر امریکہ کی جانب سے پیدا کردہ خطرات سے نمٹنے کی خاطر بھاری اخراجات ہو رہے ہیں ۔ 40 ارب روپے سی پیک کی خصوصی سیکورٹی پر خرچ ہو چکے ہیں جبکہ نو ارب روپے افغان سرحد کی فضائی نگرانی پر خرچ کرنا پڑے ۔ حسب روایت افغان حکام اس اہم کام میں روڑے اٹکانے کی روش پر کارفرما ہیں ۔ اسی روش کی وجہ سے بارہا افغان فورسز نے بلا اشتعال فائرنگ کرکے پاکستانی حکومت کی کوششوں کو سبو تاژ کرنے کی کوشش کی ۔ افغان حکام بھارتی شہ پر سرحد پر باڑ لگانے کے پاکستانی کوششوں میں رخنہ ڈالنے کے درپے ہیں ۔ پاکستان کے پڑوس افغانستان میں امن قائم ہوجائے یہ دلی سرکار کو پسند نہیں ۔ پڑوسی سے دشمنی اور پڑوسی کے پڑوس میں بیٹھ کر سازشیں کرنا چانکیہ کا پْرانا نسخہ ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہرافغانستان سے اٹھ رہی ہے ۔ دہشت گردی کی تربیت کے بھارتی مراکز افغانستان سے پاکستان میں کارروائی کرتے ہیں ۔ بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے جب کہ افغانستان کے ساتھ یہ معاملہ متعدد مرتبہ اٹھایا ۔ امریکہ کے سامنے بھی افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف استعمال کا معاملہ رکھا گیا ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف قربانیاں دیں اور پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے تاہم بھارت پاکستان میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کیلئے بھارت نے کبھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا ۔ افغانستان میں دہشت گردوں کی کمین گاہیں ، تربیت گاہیں ہیں ۔ یہ تربیت گاہیں بھارت کے قونصل خانے ہیں ۔ جی ہاں بھارت کے یہ قونصل خانے کالعدم تحریک طالبان کے خفیہ ٹھکانے ہیں ۔ بھارت کے یہ خفیہ ٹھکانے مختلف دہشت گرد گروہوں کیلئے پناہ گاہیں ہیں ۔ نئی دہلی افغانستان کی طرف سے پاکستان کا گھیراوَ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ پاکستان مخالف افغانستان تخلیق کرنا چاہتا ہے ۔ افغانستان کودہشت گردوں کی جنت بنانا چاہتا ہے ۔ پاکستان نہیں چاہتا کہ افغانستان بھارت کے ہاتھوں دوزخ بن جائے، پاکستان کے خلاف مورچہ بن جائے ۔ پاکستان کی طرف سے بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں افغانستان سے تعاون کے لئے متعدد بار کہا گیا لیکن اس کا رویہ منفی ہے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے افغانستان کو پاکستان سے جو تعاون کرنا چاہیے اس کی عدم موجودگی سے انسداد دہشت گردی کی کوششیں متاثر ہو رہی ہیں ۔ دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کو بھارت کی پشت پناہی حاصل ہے ۔ یہ المیہ ہے کہ جن دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے ۔ انہیں بھارت اور افغانستان اپنے مذموم مقاصد کے لئے استعمال کر رہے ہیں ۔ کامیاب آپریشن ضرب عضب میں بھارتی ایجنٹوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے ۔ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں نے بھارت کا آلہ کار بننے سے انکار کردیا ہے اور پاکستانی فوج کے آگے ہتھیار رکھ دیئے ہیں ۔ پورے پاکستان میں ;39;را;39; پراکسی جنگ کی جڑیں اکھاڑدی گئی ہیں ۔ افغان عوام کے ساتھ مل کربھارت کو افغانستان سے بھی باہر کر دیا جائے گا ۔ افغانستان کو بھارت کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنے مفادات کو دیکھنا چاہیے ۔ اس کے مفادات پاکستان سے وابستہ ہیں اور پاکستان کے مفادات اس سے منسلک ہیں ۔ دونوں کا امن ایک دوسرے کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔ کابل انتظامیہ کو اپنی روش درست کرنی چاہیے بصورت دیگر اس کے لئے بہت سی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں ۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کا یہ فیصلہ احسن ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کے اثرات کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیا جائے گا اور ملک بھر میں موجود دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔

شعبہ تعلیم کی ترقی حکومتی توجہ کی طالب

نبی پاک;248; کا ارشاد ہے کہ علم و حکمت مومن کی میراث ہے جہاں ملے لے لوکیا ہمارا نظام تعلیم حضوراکرمٖ;248;کے اس ارشاد پر پورا اترتا ہے تو جواب نفی میں ہو گا کہ ہماری حکومتوں نے اس طرف توجہ ہی نہیں دی تعلیم اور صحت دوایسے شعبے ہیں جو کسی بھی معاشرے کی ترقی کی ضمانت ہیں کہ تعلیم یافتہ اور صحت مندمعاشرہ ہی ہ میں ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا کر سکتا ہے دُکھ کہ بات یہ ہے کہ ہمارا نظام تعلیم منتشر ہے کہ پرائیوت تعلیمی اور سرکاری اداروں کا نصاب اور معیار یکسر مختلف ہے اور ان میں کہیں بھی مماثلت نہیں پائی جاتی جس کے باعث وطن عزیز میں تعیلم کا فیصد تناسب کم ہے ہمارے گردونواح میں واقع سارک ممالک کاتعلیمی تناسب ہم سے کہیں زیادہ ہے ۔ سری لنکا جو ہم سے آبادی اور رقبے کے لحاظ سے قدرے چھوٹا ملک ہے وہاں کا تعلیمی تناسب 96فیصد ،ہم سے الگ ہونے والے بنگلہ دیش کا 71فیصد ،بھارت کا 74فیصد،نیپال 77،بھوٹان کا 60فیصد ،سینکڑوں جزیروں پر مشتمل مالدیپ کا تعلیمی تناسب 98فیصد ہے جو ہمارے ارباب بست و کشاد کے لئے ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ غورطلب بات یہ ہے کہ ان ممالک نے اس طرح شرح خواندگی میں قابلِ ذکراضافہ کیابہتر ہوگاکہ ان ممالک میں ماہرین تعلیم کے وفودبھیجے جائیں جوان کی تعلیمی ترقی کا باعث بننے والے عوامل کامطالعہ کریں اوران سے استفادہ کیا جائے ۔ کہنے کو تو ہمارا تعلیمی تناسب 58فیصد ہے لیکن اعلٰی تعلیم کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ تناسب صرف2فیصد رہ جاتا ہے اور اس 2فیصد کو بھی ان کے تعلیمی معیار کے مطابق مناسب روزگار میسر نہیں ہوتا جس کے باعث وہ تذبذب کاشکار رہتے ہیں یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ جو طلباء اپنی قابلیت کی بنیاد پر سکالر شپ کے ذریعے یا پھر وہ طلباء جن کے والدین متمول ہونے کے باعث اپنے بچوں کو اعلٰی تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجتے ہیں اور فارغ التحصیل ہونے کے بعد واپسی پر ان کو تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے روزگار میسر نہیں آتا اور وہ روزگار کے حصول کے لئے بیرونی ممالک کا رُخ کرتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لئے وہیں کے ہو کے رہ جاتے ہیں ۔ یہاں اس امر کاتذکرہ بھی بے جا نہ ہوگا کہ وطن عزیز کو ایٹمی اور میزائل قوت بنانے والے معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدلقدیر خان بھی اگر بیرون ملک سے اعلٰی تعلیم حاصل نہ کرتے تو آج ہم اس صلاحیت سے محروم ہوتے ہماری حکومتوں نے تعلیم پر وہ توجہ نہیں دی جو دی جانی چاہیے تھی بلاتفریق ہر حکومت نے تعلیمی بجٹ کم رکھا جس کے باعث ہمارا نظامِ تعلیم روبہ زوال رہاجس سے ہمارے طلباء اورتعلیمی ادارے بھی متاثر ہوئے ایک دانشوراناکہاوت ہے کہ کسی قوم کو ختم کرنا مقصود ہو تواس کے نظام تعلیم کومفلوج اور منتشر کردو ۔ قرونِ اولٰی سے لے کر ماضیِ بعید تک عالم اسلام تعلیم کے محاذ کے اوجِ ثریا پر متمکن تھا آج جتنی سائنسی اور دیگر تخلیقات منظرِعام پر ہیں ان میں سے بیشتر مسلمانوں کی ایجاد ہیں مگرازاں بعد رفتہ رفتہ مسلمان تعلیم سے روگردانی کرتے رہے جو ان کے زوال کا سبب بنی بعینہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے شعبہ تعلیم کو درخوراعتناء نہ سمجھا گیا جس کے باعث ہم ترقی کی وہ منازل طے نہ کر سکے جو ہونی چاہیے تھیں ۔ ریاست مدینہ کے دعویدار موجودہ حکومت کے حالیہ تعلیمی بجٹ میں تخفیف کی گئی اورایک بار پھر تعلیم کے شعبہ کو نظر انداز کردیا گیا ہے جوناقابلِ فہم ہے عوامی توقعات تو یہ تھیں کہ تعلیمی بجٹ کو دیگر شعبوں پر ترجیح اور فوقیت دی جائے گی مگر عمل اس کے برعکس ہوا اور اس میں کمی کی گئی جو ایک تکلیف دہ بات ہے ۔ ہمارے نونہالوں کو ایک عجیب نفسیاتی کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے کہ گھر میں ان کے ساتھ ان کی مادری علاقائی زبان میں گفتگو کی جاتی ہے سکول میں قومی زبان میں تعلیم دی جاتی ہے اوردفتروں میں انگریزی زبان استعمال کی جاتی ہے ماہرین نفسیات کے مطابق اس سے بچے کی ذہنی نشونما متاثر ہوتی ہے وہ کہتے ہیں کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری زبان میں دی جائے جس سے وہ گھر اور سکول میں یکسانیت محسوس کرے گاجس سے اسے ذہنی پختگی حاصل ہو گی اور وہ ذہنی دباوسے محفوظ رہے گاجبکہ بعد کی کلاسوں میں اسے قومی زبان اور دیگر زبانوں میں تعلیم دی جائے تووہ ذہنی طورپراسے قبول کرنے کی صلاحیت کا حامل ہو چکا ہوگا ۔ ہمارے نظامِ تعلیم کی بہتری کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ حکومت پرائیوٹ اور سرکاری سکولوں کے نصاب اور معیار میں یکسانیت اور مماثلت پیدا کرے اور نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں کو اس حد تک لے آئے جوعام آدمی کے لئے قابلِ برداشت ہو تاکہ غریب طالبعلم کو احساسِ محرومی نہ ہواور ایسے جوہر قابل اس لئے ضائع نہ ہوں کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کی فیس برداشت کرنے سے قاصر ہوں ۔ نجی تعلیمی اداروں کے مالکان کو ْتعلیم فروش، کے بجائے ْفروغِ تعلیم ،کا پابند بنایا جائے ملک کے سالانہ بجٹ میں تعلیم کو دیگر شعبوں پر فوقیت دی جائے اوراسے دُگناکیا جائے ۔ جہاں کہیں ممکن ہو اور بہتر نتاءج کی توقع ہو تو ان نجی تعلیمی اداروں کو ہر ممکنہ سہولیات فراہم کی جائےں ۔ ریسرچ کا ایک الگ مکمل شعبہ قائم کیا جائے اور اس حوالے سے ملک میں موجود ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں اور اس شعبہ کی فراغ دلی سے مالی اعانت کی جائے تاکہ ملک و قوم ان کی جدید ترین ایجادات سے استفادہ کر سکےں ۔ ہمارے ملک کی اکثریت دیہی آبادی پر مشتمل ہے اور تعلیمی شرح خواندگی کے اضافہ کے لئے تعلیم کا دائرہ کار ایک منظم اور مربوط نظام کے تحت دیہاتوں تک پھیلایا جائے جیساکہ پہلے عرض کیا گیا ہے ان تمام امور کی انجام دہی کے لئے اعلٰی ماہرین پر مشتمل ایک ٹاسک فورس بنائی جائے جو باقائدگی سے ہر ماہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ مرتب کرے جو اخبارات اور دیگر ذراءع ابلاغ کے ذریعہ عوام تک بھی پہنچائی جائے اور اس ٹاسک فورس کی نگرانی وزیراعظم خود کریں ۔

کیا وزیراعظم تین لفظ دے سکتے ہیں

پاکستان کی سیاست میں اس وقت گومگو کی صورتحال ہے اور بھونچال اس آیا ہوا ہے اور اگر کہاجائے کہ سیاسی عدم استحکام ہے ملک کی سیاست میں یہ بات غلط نہ ہوگی اور جب ملک میں سیاسی عدم استحکام ہوتا ہے تو اس کا گہر اثر ملک کی معیشت پر پڑتا ہے ۔ اسی وجہ سے ملک کے معاشی حالات دن بدن سدھرنے کی بجائے خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں ۔ ملکی معاشی اداروں کی رپورٹس اور عالمی معاشی اداروں کی رپورٹس کے مطابق پاکستان کے معاشی حالات بہت زیادہ خراب ہوچکے ہیں اور ان کو ٹھیک کرنے میں وقت لگے گا اور وقت کا تعین کون کرے گا اس کا سارا انحصار ملک کی سیاسی صورتحال پر ہے ۔ اگر پہلے کے حالات کو دیکھا جائے تو کہا جاتا تھا اور محاورتاً بولا جاتا تھا کہ اس ملک میں امیر لوگ امیر ہوتے جارہ ہیں اور غریب لوگ غریب ہوتے جارہے ہیں اگر اس حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے کہا جارہا ہے کہ امیر لوگ اور غریب لوگ دونوں ہی غریب سے غریب تر ہوتے جارہے ہیں اور اس کی بنیادی وجہ ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے اس وقت ملک میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی پوری قیادت کو مختلف نوعیت کے مقدمات میں گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا گیا ہے ۔ دونوں پارٹیوں کی قیادت اور رہنماءوں کا کہنا ہے کہ یہ یکطرفہ احتساب ہورہا ہے ۔ صرف دو خاندانوں کا احتساب کیا جارہا ہے ، سیاسی احتساب ہورہا ہے جس میں عملی احتساب ہوتا نظر نہیں آرہا ہے ۔ سپریم کورٹ نے بھی اپوزیشن کے رہنماءوں جیسی بات کی ہے کہ ملک میں احتساب کا سسٹم ٹھیک نہیں ہے جبکہ دوسری وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھیوں کا کہنا ہے یہ سیاسی مقدمات نہیں ہیں یہ کرپشن کے مقدمات ہیں ، اختیارات کا ناجائز استعمال کے مقدمات ہیں ۔ وزیراعظم بار بار یہی کہتے ہیں کہ اس ملک کو کرپشن کرنے والوں نے لوٹا اور کرپشن کرنے والوں کو معافی نہیں مل سکتی ہے اور کڑا احتساب ہوگا اور کوئی ڈیل نہیں کی جائے گی ۔ پاکستان تحریک انصاف ےن 25 جولائی 2018 کا الیکشن کرپشن فری نعرے پر جیتنا ہے ہمارے منشور میں سب سے پہلے کرپشن فری پاکستان کی بات ہے ۔ 21 جولائی 2019 کو وزیراعظم پاکستان نے سمندر پار پاکستانیوں کے اجتماع سے خطاب کیا اور جلسہ امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ،ڈی سی کے سب سے بڑے اسٹیڈیم;67;apital one ;65;rena کیپیٹل، ون ایرینا میں منعقد کیا گیا اس میں پورے امریکہ اور کینیڈا سے لوگ اپنے خاندانوں ، بزرگوں ، عورتوں اور بچوں کے ساتھ شریک ہوئے ۔ اس میں تقریباً20 ہزار سے 30 ہزار لوگ جمع تھے اور لوگوں کا جذبہ بھی دیدنی تھا اور مجھے ان تمام چیزوں کا اس لئے علم ہے کہ میں بھی امریکہ کے دورے پر تھا اور میں اپنے دوستوں کے ساتھ اس اسٹیڈیم میں موجود تھا یہ وہ دوست تھے جو بالواسطہ یا بلاواسطہ کسی نہ کسی طریقے سے انتظامیہ کا حصے تھے اور ان کے انتظامات کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے اور اس وقت اگر میں ان کے نام نہ لکھوں تو بڑی زیادتی ہوگی ان معروف کاروباری شخصیات ہیں آصف بیگ نیو یارک ، علی رشید نیو یارک، محسن اقبال مرزا نیویارک، امین غنی نیو یارک ، عدیل شجاع گوندل نیو یارک، سیم خان نیو جرسی، محمد سعید واشنگٹن ڈی سی ، سعدیہ تقی نیو یارک ،چوہدری حسنین رفاقت اوہائیو موجود تھے اس کے علاوہ پاکستان کے صحافی، محسن ظہیر، عالیہ صدیقی، سبینہ محمود ، اسد علی خان ، سمد خان بھی وہاں موجود تھے وہاں پر وزیراعظم نے تقریر کی اور پوری اپوزیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہاکہ ان چوروں ، ڈاکوءوں نے ملک کو لوٹا ہے ہم ان سے حساب لیں گے اور اس میں کسی کو رعایت نہیں دی جائے گی اور کبھی اس کی نوبت آئی تو میں اقتدار سے الگ ہو جاءوں گا ۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمن کا نام لے کر اور باقی اپوزیشن رہنماءوں کا نام لئے بغیر تنقید کی اور وہاں کے مجمعے سے خوب داد وصول کی اوروہاں کے مجمعے سے پوچھا کیا آپ کو پتہ ہے کہ اپوزیشن کیا چاہتی ہے کسی نے کچھ جواب دیا تو کسی نے کچھ کہا اور وزیراعظم پاکستان نے کہاکہ یہ تین لفظ چاہتے ہیں اور وہ یہ تین لفظ یہ ہیں ;78;-;82;-;79; اور میں کس صورت ان کو یہ تین لفظ نہیں دوں گا چاہے مجھے اپنے اقتدار کی قربانی کیوں نہ دینی پڑھ جائے اور یہ الفاظ تھے کہ حاضرین سے وزیراعظم پاکستان نے خوب تالیاں اور ڈانس کے ذریعے داد وصول کی اور اس لمحے کو وزیراعظم نے خوب ;69;njoy کیا یعنی خوب محظوظ ہوئے جب این آراو کی بات کی جاتی ہے تو آپ کو تھوڑی سی اس کی تفصیل بنانا ضروری ہے ۔ 5 اکتوبر 2007 کو ایک آرڈیننس جاری کیا گیا جس میں کہا گیا کہ جنوری ایک 1986 سے 12اکتوبر 1999 کے جتنے بھی سیاسی مقدمات ہیں ان کو ختم کیاجاتا ہے اس قومی مفاہمتی فرمان سے سیاستدانوں ، سرکاری ملازمین ، کاروباری حضرات اور مختلف طبقہ ہائے زندگی کے لوگوں نے فائدہ اٹھایا لیکن دو سال بعد 16دسمبر 2009 کو اس وقت کے چیف جسٹس سپریم کورٹ افتخار محمد چوہدری نے اس کو ختم کردیا اور یوں این آراو تاریخ کا حصہ بن گیا ۔ این آر او دینے کیلئے سیاسی اسٹیک ہولڈرز سے ملاقات ضروری ہے اور بات چیت ضروری ہے کیا ملاقات اور بات چیت چل رہی ہے اس بارے میں مختلف چہ میگوئیاں اور افواہیں اس وقت مارکیٹ میں موجود ہیں اور ہر کوئی اپنے مطابق اس کی تشریح کررہا ہے مجھے بھی بہت سی چیزوں کا علم ہے مگر میری قلم اس کو لکھنے کی اجازت نہیں دیتی ہے ۔ میں نواز شریف کے ساتھیوں ، رفقاء اور مختلف فیملی ممبرز سے بھی ملا ہوں جب ان سے ڈیل کی بات کی جاتی ہے سوال ہوتا ہے تو ان کا موقف یہی ہے کہ جو ہمارے ساتھ کرنا تھا کریں اب ہ میں کسی قسم کی ڈیل کی ضرورت نہیں ہے ۔ ہمارے پورے خاندان کو جیل میں ڈال دیا اور اب ڈیل کیوں ان کا کہنا تھا کہ ہم نواز شریف کے نظریے ، ووٹ کو عزت دو‘‘ پر قائم ہیں اور نواز شریف جیل میں قائم و دائم ہے اور ان کی باتوں سے پتہ چلا کہ وہ ہم سے ڈیل کرنا چاہتے ہیں اور جب تک ملک میں مکمل جمہوریت بحال نہیں ہو جاتی ہے ہم ڈیل نہیں کریں گے ہم اداروں کا احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور دوسری طرف کا موقف بھی سننے کا موقع ملا تو حکومتی جماعت کے عہدیداران وزیروں کا کہنا تھا کہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے بھی ملاقات کرنے کا موقع ملا ان کا بڑا سیدھا سادہ موقف تھا کہ ہم وہی کریں گے جو پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق ہوگا ۔ میں نے ارادتاً ڈیل کی بات کی تو اسٹیبلشمنٹ نے بھی مذاق میں بات ٹال دی اور وہ اپنے موقف میں ;67;lear تھے کہ کوئی ڈیل نہیں ہوگی اور ایسی چیز ہمارے علم میں نہیں ہے ۔ باتوں باتوں میں ایک بات سمجھ آئی کہ شہباز شریف ان کی good books میں ہیں اور یہ کہ نہ ہی این آراو دینے والے راضی ہیں اور نہ ہی این آراو لینے والے راضی ہیں تو بھی پھر این آراو کی بات کیوں کی جارہی ہے کہ وزیراعظم سیاسی پوائنٹ سکورننگ کی بات کررہے یا سیاسی اصطلاح کے طورپر استعمال کررہے ہیں ۔ اگر پاکستان کی سیاسی تاریخ دیکھیں تو آج تک کسی بھی سیاسی صدر، وزیراعظم نے این آراو نہیں دیا ہے ۔ این آراو ہمیشہ ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ دیتی ہے اور اس کی زندہ مثال جنرل (ر)پرویز مشرف ہیں جب وزیراعظم صاحب این آراو نہیں دے سکتے ہو تو بات کیوں کرتے ہو

مقبوضہ کشمیر کے اصل حالات کی رپورٹ جاری کرنے کی تائید پاکستان کے اصولی موقف کی بھارت کی سپریم کورٹ میں جیت

مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر بھارتی سپریم کورٹ نے بھی نریندر مودی کو آئینہ دکھاتے ہوئے پاکستان کے موقف کی تائید کردی ہے، چونکہ وادی میں نظام زندگی قطعی طورپر مفلوج ہوچکی ہے، بنیادی سہولیات ناپید ہیں ، ذراءع مواصلات بھی بالکل بند ہیں جس کی وجہ سے دنیا بھر سے مقبوضہ کشمیر کا رابطہ منقطع ہے وہاں پر نہیں پتہ چل رہا کہ مودی اور اس کی دہشت گرد فوج کتنے ظلم و ستم ڈھارہی ہے ۔ آئے روز نہتے کشمیریوں کو شہید کیا جارہا ہے، وسیع پیمانے پر گرفتاریاں کی جارہی ہیں ، وادی دنیا کی سب سے بڑی جیل میں تبدیل ہوچکی ہے، بین الاقوامی میڈیا بھی اس سلسلے میں آواز اٹھارہا ہے، وہاں پر ہونے والے ظلم کو دنیا کے سامنے واشگاف کیا جارہا ہے لیکن مودی حکومت کی ہٹ دھرمی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے ، جب بھارتی سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ مقبوضہ کشمیر کے معمولات زندگی بحال کئے جائیں ، شہریوں کو سہولیات فراہم کی جائیں ، تعلیمی ادارے اور کاروبار کھولے جائیں ۔ نیز مسلم کانگریسی لیڈر کو سرینگر جانے کی اجازت دی جائے ، بھارتی سپریم کورٹ میں دوران سماعت مودی سرکار نے جھوٹی کہانیاں سناتے ہوئے کہاکہ کشمیر میں کوئی گولی نہیں چلائی گئی اوروہاں پر کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا، لداخ کے علاقے میں کوئی پابندی نہیں ہے، 93 پولیس اسٹیشنوں سے پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں جبکہ وادی میں ہسپتال، میڈیکل سٹور سمیت دیگر کاروبار کھلے ہوئے ہیں ۔ یہ کتنا بڑا سفید جھوٹ اور آنکھوں میں دھول جھونکنے کے برابر ہے ، پوری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ وہاں پر مودی کی دہشت گرد فوج نے کس طرح نہتے کشمیریوں پر عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے ۔ نہ وہاں پر زندگی محفوظ ہے، نہ ہی کسی ماں بہن کی عزت، تشدد کی ایسی ہولناک کہانیاں سامنے آرہی ہیں جن کو سن کر بدن کے رونگٹے بھی کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ ایک بھائی کے سامنے دوسرے بھائی کو مارا پیٹا گیا، بجلی کے جھٹکے لگائے گئے ، برہنہ کیا گیا، اب کشمیری یہ کہتے ہیں کہ ہم پر تشدد نہ کیا جائے، گولی مار دی جائے ۔ چونکہ مودی ہٹلر کا پیروکار اور نازی نظریے پر عمل کرنے والا ہے، اس کی منزل اکھنڈ بھارت بنانا ہے اسی وجہ سے اس نے بھارت میں بھی مسلمانوں سمیت ہندوءوں کی نچلی ذاتوں پر بھی ظلم و ستم شروع کررکھا ہے لیکن اب وقت دستک دے رہا ہے کہ مقبوضہ وادی بہت جلد آزاد ہوگی ۔ وہاں کے حالات چاہے جتنے دگرگوں ہوں کشمیری ہتھیار ڈالنے والے نہیں ، موت کا خوف ان سے نکل چکا ہے ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے مودی سرکار کو مقبوضہ کشمیر میں کرفیو ہٹا کر حالات نارمل کرنے کا حکم دے دیا، عدالت نے کانگریس رہنما غلام نبی ;200;زاد کو بھی وادی کا دورہ کرنے کی اجازت دے دی، وادی کے اصل حقائق عدالت میں رپورٹ کرنے کی ہدایت بھی کی،سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ضرورت پڑی تو وہ خود بھی مقبوضہ وادی جائیں گے، وادی کے لوگوں کوہائی کورٹ تک رسائی نہ دینے پر تشویش ہے ۔ سپریم کورٹ میں بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی کارکن اناکشی گنگولی کی مقبوضہ کشمیر میں پابندیوں کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی ۔ سپریم کورٹ میں دوران سماعت مودی سرکار کے سالیسٹر جنرل نے جھوٹی کہانیاں سناتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں کوئی گولی نہیں چلائی گئی اور وہاں کوئی جانی نقصان بھی نہیں ہوا ۔ اناکشی گنگولی نے درخواست میں کہا کہ مودی حکومت نے جموں و کشمیر میں آرٹیکل 370 منسوخ کرنے کے بعد سے پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور مکمل لاک ڈاءون ہے، اس کے نتیجے میں کشمیری بچے اور کم عمر لڑکے انتہائی مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں ۔ بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے کہا کہ یہ معاملہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے متعلق ہے اور وہی اس پر کوئی فیصلہ کرے گی ۔ اس پر اناکشی گنگولی نے جواب دیا کہ پابندیوں کی وجہ سے جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا تو ناممکن ہے ۔ بھارتی چیف جسٹس رانجن گوگوئی نے ریمارکس دیے کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ پہنچنا کیوں مشکل ہے، کیا کوئی راستہ روک رہا ہے، ہم ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے صورتحال جاننا چاہتے ہیں ، ضرورت پڑنے پر میں خود جموں و کشمیر ہائی کورٹ جا ءوں گا ۔ سپریم کورٹ نے حکومت کو حکم دیا کہ جموں و کشمیر کی صورتحال فی الفور معمول پر لائی جائے، لوگوں کو طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور قومی مفاد کو مدنظر رکھ کر ہر قدم اٹھایا جائے، جبکہ جموں کشمیر ہائی کورٹ ریاست میں جاری لاک ڈا ون اور پابندیوں کے معاملے پر فیصلہ دے سکتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے غلام نبی ;200;زاد کو ہدایت کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر کے اصل زمینی صورتحال کے بارے میں عدالت کو رپورٹ کریں ۔ عدالت نے قرار دیا کہ غلام نبی مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں سے ملاقاتیں کرسکیں گے تاہم انہیں جلسے جلوس کی اجازت نہیں ہو گیبھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے سے متعلق کیس کی سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کردی ۔ پاکستان نے بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے ۔ اپنے ایک بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت بڑی کامیابی ہے، اس سے کشمیریوں کا حوصلہ مزید بلند ہوگا، غلام نبی ;200;زاد کو سری نگر جا کر حقائق دنیا کے سامنے لانے ہوں گے، غلام نبی ;200;زاد کے ساتھ میڈیا وفد کو بھی جانے کی اجازت ہونی چاہیے ۔ فیصلے پر عمل نہیں ہوتا تو بھارتی ;200;ئین درہم برہم ہوجائے گا ۔ بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر میں تمام عالمی قوانین کو پامال کررہی ہے، پاکستان ہر محاذ پر مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اٹھاتا رہے گا ۔ آج مودی کو علم ہوچکا ہوگا کہ وہ غلطی پر تھا اور غلطی پر ہے، بھارتی سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد کرتے ہوئے مقبوضہ وادی میں فی الفور عام زندگی بحال کی جائے تب ہی اس سے آگے بات چل سکتی ہے ۔

حکومت کا ایک مرتبہ پھر ڈیل نہ کرنے کا عزم

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کسی طرح کی بھی ڈیل نہیں کرے گی گو کہ نواز شریف سے شہباز شریف اور دیگر ن لیگ کے رہنماءوں کی ملاقاتیں ہوئیں اس میں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کے مارچ کی مکمل حمایت کرتے ہوئے کہاکہ کوئی ڈیل نہیں ہونی چاہیے نہ ہی کسی قسم کی ڈھیل، اب بات دراصل یہ ہے کہ دونوں اطراف سے ڈٹے رہنے کا عزم ہے ۔ وزیراعظم نے بھی کہہ دیا ہے کہ کسی قسم کی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، ہم اس بات سے قطعی طورپر متفق ہیں لیکن وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت ڈیل نہ کرے مگر جو بھی افراد کرپشن کے الزام میں گرفتار ہیں ان سے ایک ٹائم فریم کے تحت لوٹی ہوئی رقم کا شیڈول عوام کے سامنے آنا چاہیے اور وہ رقم خزانے میں بھی آئے تاکہ وطن اس وقت جس کسمپرسی کی حالت سے گزر رہا ہے اس کو سہارا مل سکے ۔ ڈیل اور ڈھیل کے حوالے سے بیانات سنتے سنتے عوام قطعی طورپر اکتاہٹ کا شکار ہوچکے ہیں ، قوم اس وقت نتاءج چاہتی ہے، حکومت نے بھی اس سلسلے میں خاصا وقت گزارلیا ہے مگر ابھی تک مثبت نتاءج سامنے نہیں آرہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے پھر دو ٹوک موقف اپنایا کہ نو ڈیل نو کمپرومائز، کسی ڈیل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وزیر اعظم عمران خان کامزید کہنا تھا کہ پوری توجہ کشمیر کاز پر مرکوز ہے، جنرل اسمبلی میں خطاب اہم ہوگا ۔ احتساب کا عمل اسی طرح جاری رہے گا ۔ پہلی مرتبہ احتساب کا عمل سیاسی مداخلت سے آزاد اور شفاف و بے لاگ ہے ۔ نیز وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں حکومتی رہنماءوں اور ترجمانوں کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا نے دیکھ لیا بھارت مقبوضہ کشمیر میں حالات نارمل ہونے سے متعلق جھوٹ بولتا رہا ۔ پاکستان کشمیریوں کی ہر فورم حمایت جاری رکھے گا،27 ستمبر کو کشمیر کا سفیر بن کر جنرل اسمبلی میں خطاب کروں گا،موجودہ حکومت کی کوششوں کی بدولت مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے ۔ مقبوضہ وادی میں بھارتی تسلط اور جبر کے حوالے سے دنیا کو آگاہ کرنا ہماری ذمہ داری ہے اور ہم یہ ذمہ داری پوری کررہے ہیں ۔ ادھر نیوبالاکوٹ سٹی منصوبے پر پیشرفت کے جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ نیو بالا کوٹ سٹی کا محل وقوع مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کےلئے کشش کا باعث بن سکتا ہے، پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے بہت سے مواقع ہیں ، سیاحت کو فروغ دے کر مقامی افراد کےلئے روزگار کے مواقع پیدا کئے جا سکتے ہیں ، نیا شہر بنانے کےلئے نجی اور سرکاری شعبے کی شراکت داری کا جائزہ لیا جائے ۔

ستمگر ستمبر اور الطاف حسین قریشی کی کتاب

ایک کتاب منظر عام پر آنے والی ہے ۔ اس کی تفصیلات تو بعد میں بتائیں گے مگر دو باتوں کا ذکرکردیں کہ اس کتاب کا تعلق بھی ایک صحافی شخصیت سے ہے اوردوسرا اس کتاب کے آنے کے بعد عوام کو علم ہوگا کہ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کالم نگار رہ چکے ہیں مگر انہیں کالم نگار بنانے میں اہم کردار کس نے ادا کیا اور وزیراعظم عمران خان کیسے کالم نگار بنے یہ بات جاننے کیلئے انتظارکرنا پڑے گا ۔ اس وقت معروف صحافی الطاف حسین قریشی کی کتاب’’ جنگ ستمبر کی یادیں ‘‘ پربات کرنا مقصود ہے ۔ اس کتاب کا انتساب سرفروش افواج اورحوصلہ مند عوام کے نام ہے مگر اس انتساب میں یہ نہیں لکھا ہوا کہ سرفروش افواج، حوصلہ مند عوام اور عظیم حکمرانوں کے نام اور ہمارے حکمرانوں کیلئے یہ بات لمحہ فکریہ ہے ۔ کتاب میں الطاف حسین قریشی نے بتایا کہ پہلی بار جنرل ضیاء الحق نے جنگ ستمبر کی مستند تاریخ مرتب کروانے پر توجہ دی چنانچہ میجر جنرل شوکت رضا نے ;84;he ;80;akistan ;65;rmy 1965 تحریر کی اس کے برعکس ایک برطانوی محقق الاسیٹرلیمب نے جو کتاب لکھی اس کے بارے میں الطاف حسین قریشی لکھتے ہیں کہ’’ مسٹر لیمب کی سال ہا سال کی تحقیق نے وہ بنیادہی منہدم کردی جس پر سیکولر جمہوری اور سوشلسٹ بھارت کے وزیراعظم نہرو نے بدترین دغا بازی کی عمارت کھڑی کی ۔ الطاف صاحب ! اسی لئے ہمارے محققین اور صحافیوں کو بھی کتاب لکھنے اورتاریخ کو محفوظ کرنے کا کام کرنا چاہیے ۔

’’معرکہ ستمبر کی یادیں ‘‘موجودہ حالات میں مزید اہمیت اختیار کر گئی ہیں اور ہ میں وہ ولولہ انگیز یادیں تازہ کرنے اوردہرانے کی ہ میں ضرورت آپڑی ہے کیونکہ ہندوستان پر اب مودی کا تسلط ہے اور مودی نے ہماری توقعات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں پر ظلم کی نئی داستان رقم کرنے کی ابتداء کردی ہے ۔ اب دیکھیں کہ ستمبر میں ہی ٹرمپ کی مودی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقاتیں ہیں اب یہ ملاقاتیں کیا گل کھلاتی ہیں ۔ مگر قوم ہر قسم کے مشکل حالات کیلئے تیار ہے ذہنی طور پر اس تیاری کے ساتھ قوم کو یکجہتی کی ضرورت ہے اورپھر جنگ ستمبر جیسا ماحول بنانے اوربرقرار رکھنے کی اہمیت ہے ۔ 1965 کے جو واقعات قابل غور ہیں ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ جب غیر ملکی صحافی آتے تھے تو عوام کے حوصلوں پر عش عش کیا کرتے تھے کیونکہ منظر یہ تھا کہ شہروں اور قصبوں میں فوجی قافلے گزرتے تو بچے بوڑھے ، نوجوان ان پر گل پاشی کرتے ۔ خون دینے کیلئے نوجوانوں کی قطاریں لگی رہتیں ۔ لاہور کے چھت آباد ہوگئے تھے جہاں وہ پاکستانی ہوا بازوں کی ’’ڈاگ فائیٹ‘‘ شوق سے دیکھتے تھے ۔ اور پھر ریڈیو پاکستان کیسے آباد رہتا تھا ۔ جہاں وہیں کے وہیں نغمات لکھے جاتے، دھنیں ترتیب دی جاتیں اور پھر نور جہاں اورمہدی حسن جیسے گلوکار اپنی آواز کا جادو جگانے کیلئے تیار رہتے ۔ الطاف حسین قریشی نے بڑی درست بات لکھی کہ سترہ روزہ جنگ کے دوران جو عظیم اور روحانی تجربے ہوئے وہ افسانہ نگاروں کے افسانوں کا موضوع بنے ۔ الطاف حسین قریشی کی کتاب کا ایک اہم موضوع شروع میں ہی شامل ہے جس کا عنوان ہے ’’تصادم کے بنیادی محرکات ‘‘ اور ان محرکات کو تاریخ کے آئینے میں تفصیل سے دیکھا گیا ہے ۔ باقی تاریخ کو چھوڑ کر اگر ہندوستان کی تاریخ میں ہندو مسلم اتحاد کے زمانے کو دیکھیں کہ جب گاندھی جی کے زیر اثر اور علی برادران کی پرجوش قیادت کے بعد مسجدوں میں ہندو آنے جانے لگے اور مسلمان مندروں میں جانے لگے تو ایک چھوٹے سے گاءوں ’’ چورا چوری‘‘ میں خون ریز تصادم ہوا اور سب کچھ ختم ہوگیا اور ہندو مسلم اتحاد کافور ہوگیا ۔ پرانے تنازعات پھر سے زندہ ہوگئے ۔ دراصل یہ اتحاد مستقل بنیادوں پر ہونا ناممکن تھا اور پاکستان کا علیحدہ وجود ضروری تھا اور اب مقبوضہ کشمیر میں مودی کا تجربہ بھی گاندھی جی کے تجربے کی طرح ناکام ہوگا ۔ گاندھی تو مودی سے بہت بڑے لیڈر تھے وہ ایسا کام نہ کرسکے تو مودی مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت میں لاکر بھی یہ سازش کامیاب نہیں کرسکے گا ۔ اگر ٹرمپ کے دباءو کے بعد کوئی ایسا فیصلہ کرنے کی کوشش ہوئی تو بھی ناکام ہوگی لہٰذا تاریخ کے اس نازک موڑ پر درست فیصلہ کرنا ضروری ہے اور اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کو مکمل مشاورت دینے کی بھی اہمیت ہے اور یہ مشاورت تاریخی پس منظر میں دی جانی چاہیے تاکہ وہ حقائق کو سامنے رکھ کر اصولی موقف اختیار کریں ۔ مسلمان ہندوستان میں اقلیت بن کر نہیں رہے تو پھر مقبوضہ کشمیر کے مسلمان ہندوءوں کے ساتھ بھی اقلیت بن کر نہیں ر ہیں گے ۔ الطاف حسین قریشی نے مغلیہ تاریخ کے کشمیر کی تاریخ کا بھی جائزہ پیش کیا ہے اور یہ صورتحال مجھے اپنی کتاب ’’ کشمیر 2014‘‘ میں بھی پیش آئی تھی جب میں نے علامہ اقبال ،قائداعظم اور تحریک پاکستان سے کشمیر کی بات شروع کی تھی اور پھر کشمیر کی قدیم تاریخ کا تذکرہ کیا تھا ۔ دراصل یہ سارا کچھ ایک ہی لڑی میں پرویا ہوا ہے کیونکہ تحریک پاکستان کی بنیاد ’’دو قومی نظریہ‘‘ ہے جس کو مودی سرکار نے پھر سے زندہ کرکے یہ ثابت کردیا کہ مقبوضہ کشمیر کی آزادی تک اس بنیادی حصار سے باہر نہیں نکلا جاسکتا ۔ دو قومی نظریہ آنے والوں زمانوں میں بھی جبر کی قوتوں کے سامنے زندہ کرتا رہے گا ۔ کتاب میں بڑی دلچسپ بات یہ ہے کہ 25 فروری 1947 کو ہند کی سیاست میں ایک فیصلہ کن واقعہ ہوا جب وزیر خزانہ لیاقت علی خان نے مرکزی اسمبلی میں بجٹ پیش کیا ۔ اس سے عبوری حکومت میں شدید بحران ہوا اس بجٹ میں تجویز کیا گیا تھا کہ ٹیکس چوروں سے لوٹی ہوئی دولت کے بارے میں تحقیقات کیلئے خودمختار کمیشن قائم کیا جائے ، دوسری تجویز نمک پر محصول ختم کرنے کی تھی ۔ مرکزی اسمبلی میں اسے غریب کا بجٹ قرار دیاگیا مگر اس کے خلاف کانگریس کے سرمایہ کار متحد ہوگئے ۔ انہوں نے سردار پٹیل سے کہاکہ مسلمان سماجی انصاف کے نام پر ہندوءوں کی دولت میں حصہ پانے کا تقاضا کررہے ہیں ، سردار پٹیل کو محسوس ہوا کہ لیاقت علی خان نے وزیر خزانہ بن کر اسے بے بس کردیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ تقسیم ناگزیر ہوگئی ہے اور نئے حالات سے نبردآزما ہونے کیلئے لارڈ ماءونٹ بیٹن کو بلا لیا گیا اس قسم کے اہم واقعات کے ساتھ کتاب میں محاذوں کی طرف کے سفر اور جنگ کے چشم دید واقعات موجود ہیں ۔

وقت گزر گیا ہے آج ستمبر ہے وہ بھی ستم گر ستمبر تھا ۔ کشمیر آزادی کی دہلیز پر ہے بالکل اسی طرح جیسے پاکستان آزادی کی دہلیز پر تھا ۔ ہندوستان کی سیاست میں وزیر خزانہ کا ٹیکس چوروں اور دولت مندوں پر ہاتھ ڈالنا بھی ایک فیصلے کی حمایت کا باعث بنا تھا ۔ ہندو بنیا سرمایہ کار ہے اور کاروباری ذہن اور سوچ کے مالک ہیں ۔ دنیا اس وقت اسی سوچ کی اسیر ہے مگر پھر خدا تعالیٰ کی ذات بھی موجود ہے ہندو کو دولت کا خطرہ تھا اور نمک اس وقت بھی زیر بحث تھا ۔ ہمارے پنک نمک پر آج بھی ہندوستان دولت کمارہا ہے اور بدقسمتی سے آج بھی ٹیکس چوروں پر ہاتھ ڈالنا مشکل بات نظر آتی ہے مگر ایسی کتابیں موجود ہیں اور تجزیے ہوتے رہتے ہیں جو ملک و قومی مسائل میں اہم کردارادا کرسکتے ہیں ۔ ایک اور کتاب بھی ملکی و قومی معاملات میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے کیونکہ اس میں خود وزیراعظم عمران خان بحیثیت کالم نگار موجود ہیں اور اس میں وزیراعظم عمران خان کو کالم نگار بنانے والے موجود ہیں ۔

کالم کے آخر میں ایک واقعہ کہ ستمبر1949 جب ریاست جموں کشمیر میں بھارت نے اپنی گرفت مضبوط کی تھی تو پاکستان کو فوجی اور معاشی لحاظ سے نقصان پہنچانے کیلئے مسلسل تصادم کی فضا برقرار رکھی تھی انہی دنوں برطانیہ نے پاءونڈ کی قیمت کردی تھی جس کے جواب میں بھارت نے اپنے سکے کی قدر میں کمی کردی ۔ مگر پاکستان نے اپنے روپے میں استحکام برقرار رکھا ۔ آج ہماری معاشی حیثیت میں ہندوستان ویسی ہی چالاکی دکھا رہا ہے اور جنگی ماحول بنا کر فائدے اٹھا رہا ہے لہٰذا یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ مکار دشمن پر بھروسہ کسی بھی صورت نہیں کیا جاسکتا ۔ اپنا خیال رکھیئے گا ۔

بھوٹان کے ساتھ بھارت کا منفی رویہ

بھارت کا اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ ایسا ہی منفی رویہ رہا ہے ۔ نیپال، بھوٹان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور پاکستا ن کے ساتھ اس کے منفی تعلقات سبھی پر عیاں ہیں ۔ بھارت ، عوامی لیگ خفیہ معاہدوں کے تحت بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی پر حاوی ہو چکا ہے لیکن بنگلہ دیش میں سیاسی اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود بھارت ، وزیراعظم حسینہ واجد کی قیادت میں عوامی لیگ کی مقبولیت میں کمی اور حکومت کے خلاف مذہبی سیاسی گروپوں کے ارتقاء اور روزمرہ اجتجاجی تحریکوں سے خاءف ہے ۔ بھارت اور بھوٹان کے مابین تعلقات بہت روایتی ہیں ۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ بھوٹان کو محفوظ ریاست بناتا ہے لیکن اس پر اپنا حق بھی جتاتا ہے ۔ جبکہ بھوٹا ن کو یہ سب قبول نہیں ۔ بھوٹان کا کہنا ہے کہ ہم بھارت کی پروٹیکٹوریٹ;223;محکوم ریاست نہیں ۔ بھوٹان کی خارجہ پالیسی، دفاع اور تجارت پر بھارت اثر انداز ہوتا ہے ۔ بھارت بھوٹان میں 1,416 میگا واٹ کے 3 ہائیڈرو پاور منصوبے چلا رہا ہے اور مزید 3 منصوبے 2,129 میگا واٹ زیر تکمیل ہیں ۔ عام تاثر ہے کہ بھوٹان میں ہر امر کی منظوری کے لیے بھارتی اجازت درکار ہوتی ہے ۔ بھوٹان اپنی تاریخ میں اکثر دوسری دنیا سے الگ تھلگ محفوظ ریاست کے طور پر رہا ہے ۔ اس وقت بھوٹان کے 52 ممالک اور یورپی یونین سے خارجہ تعلقات اور 45 بین الاقوامی تنظیموں کی رکنیت رکھنے والا ملک ہے ۔ برطانوی دور میں بھوٹان ایک زیر حمایت ریاست تھا ۔ 1910 کے ایک معاہدے کے تحت برطانیہ نے بھوٹان کو اپنی حفاظت کے لیے گائیڈ رکھنے اور خارجہ امور کی اجازت دے دی ۔ 1947ء میں بھوٹان پہلا ملک تھا جس نے بھارت کو ایک الگ ملک کے طور پر تسلیم کیا ۔ بھوٹان کے ساتھ چینی سرحدی تنازعے کے دوران بھارت اس چھوٹی سے ریاست کے دفاع کے لیے میدان میں اتر آیا تھا ۔ دونوں ممالک کی افواج بہّتر دنوں تک ایک دوسرے کے مدمقابل رہی تھیں ۔ ڈوکلام کے سرحدی تنازعے کے بعد اب چینی حکومت نے ہمالیہ کے دامن میں واقع چھوٹی سی ریاست بھوٹان پر مہربان ہونا شروع کر دیا ہے ۔ چین اور بھوٹان کے درمیان سفارتی روابط بھی موجود نہیں ہیں ۔ اس وقت بھوٹانی دارالحکومت تھِمپْو میں چینی کھلونوں اور سامان کی بہتات دکھائی دیتی ہے ۔ چین اور بھوٹان کے درمیان سرحدی تنازعہ نیا نہیں ہے ۔ 1951 میں چین نے تبت کو اپنے ریاستی علاقے میں شامل کر لیا تھا ۔ بھوٹان کے ساتھ چینی تعلقات مسلسل نازک حالت میں رہے ہیں ۔ دوسری جانب تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی دلچسپی اس میں ہے کہ ان دونوں کے تعلقات میں بہتری اور گرمجوشی کا فقدان رہے ۔ حالیہ مہینوں کے دوران بھوٹان میں چین کی کئی مصنوعات دستیاب ہونا شروع ہو گئی ہیں ۔ ان میں کھلونے، مشینری، سیمنٹ اور الیکٹرانکس کا سامان شامل ہیں ۔ اس طرح بھوٹان کے لیے چین تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے، جہاں کی مختلف مصنوعات اس کی داخلی منڈیوں میں دستیاب ہیں ۔ بھارت بھوٹان سرحد بھوٹان اور بھارت کے درمیان میں بین الاقوامی حد بندی ہے ۔ یہ سرحد 699 کلومیٹر طویل ہے اور بھارتی ریاستوں آسام (267 کلومیٹر)، اروناچل پردیش (217 کلومیٹر)، مغربی بنگال (183 کلومیٹر) اور سکم (32 کلومیٹر) پر واقع ہے ۔ بھارت بھوٹان سرحد کے قریب بھوٹان کے ڈوکلام خطے پر چین اپنا دعویٰ کرتا ہے ۔ بھوٹان کا یہ علاقہ فوجی اعتبار سے بھارت کے لیے بہت اہم ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ 2017ء میں یہاں چین کے سڑک تعمیر کرنے پر بھارت نے شدید احتجاج کیا اور بھوٹان نے بھی، چین کو معائدے کی خلاف ورزی سے اجتناب کا کہا ۔ بھوٹان اور بھارت کے درمیان میں سرحد بھوٹان میں داخل ہونے کا واحد زمینی راستہ ہے ۔ چین کے ساتھ بھوٹان کی سرحد مکمل طور پر بند ہے ۔ غیر ملکی شہریوں کے لیے بھوٹان میں داخل ہونے کے راستے جیگاؤں بھارتی ریاست مغربی بنگال اور پھونتشولنگ، بھوٹان کے جنوب مغرب میں ہیں ۔ اس وقت بھوٹان کے عوام میں یہ کیفیت پائی جاتی ہے کہ وہ بھارت پر انحصار کی حکومتی پالیسی میں تبدیلی چاہتے ہیں اور اْن کی خواہش ہے کہ تعلقات کو وسیع تر کرنا ملکی مفاد میں ہے ۔ مگرجغرافیائی صورت حال ایسی ہے کہ بھوٹان کسی بھی صورت میں بھارت کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ بھارتی ریاست آسام میں باغیوں کے ہاتھوں دیہاتیوں کے قتل کے بعد بھارت نے پڑوسی ممالک بھوٹان اور میانمار کو ہراساں کرنا شروع کردیا ۔ بھارتی آرمی چیف نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا ہے کہ وہ باغیوں کیخلاف آپریشن کے دائرے کو وسیع کررہے ہیں اوربھارتی فوج باغیوں کیخلاف بھوٹان اور میانمار میں کارروائی پر بھی غور کررہی ہے ۔ اس معاملے پر بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے بھوٹان اور میانمار کے وزرائے اعظم سے بات چیت بھی کی ہے ۔ نئی دہلی حکومت کا موقف ہے کہ ہندو انتہاء پسند بوڈو کے سربراہ میانمار کے علاقے کاچن میں مفرور ہیں اور یو ایل ایف اے کے باغیوں کے ساتھ ان کے مشترکہ کیمپ بھی موجود ہیں ۔

عوام کو روزگار، خوشحالی اور سکیورٹی چاہیے!

سابق صدر مشرف نے ایک انٹریو میں کہا تھاکہ ’ ڈیموکریسی ہو، یا ڈکٹیٹرشپ ہو، یا کمیونزم ہو یا سوشلزم ہو، یا بادشاہت ہو ۔ ۔ ۔ عوام کو، یا ملک کو اس سے کوئی زیادہ فرق نہیں پڑتا ۔ عوام اور ملک کو ترقی، عوام کی خوشحالی چاہیے ۔ عوام کو روزگار، خوشحالی اور سکیورٹی چاہیے ۔ ‘اس تناظر میں دیکھا جائے توملک شدید معاشی اور دہشت گردی کے لپیٹ میں ہے اور ہمارے سیاست دان سیاست چمکا رہے ہیں اس حقیقت میں کوئی مبالغہ نہیں کہ نعرے ایجاد کرنے اور ہجوم اکھٹا کرنے اور عوام کے من پسندسیاسی اصطلاحات وضع کرنے اور ایک دوسرے کو ترکی بہ ترکی جواب دینے میں ہم دنیا میں یکتائے روزگار ہیں سیاست میں ایسے ایسے عنوانات تخلیق کرتے ہیں اور ایک خاص پلیٹ فارم کے تحت عوام کو جمع کرتے ہیں کہ اللہ کی پناہ ملکی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتدائی دس سالہ دور میں بھی سیاست دان مرغ لڑائی کی طرح ایک دوسرے کو پٹختے رہے اور ایک بیمار اور فالج ذدہ شخص جو صحیح طرح بول بھی نہیں سکتا تھا اور نہ اس کی زبان اس کی امریکی خاتون سیکرٹری اور اس کی والدہ کے علاوہ کوئی سمجھ سکتا تھا اس نے اسمبلیاں بھی توڑی اور ملک کے سیاہ وسفید پر قابض رہا مگر ہم اسے برداشت کیا اور مارشل لاء لگا تو اس چھتری کے نیچے بھی بکاوَلیڈرزمفادات کے حصول کیلئے ایک دوسر ے کو نیچا دکھانے اور خود کو بکنے کیلئے پیش کرنے میں سبقت کرتے رہے قومی سوچ ، بامقصد نظریہ، قومی ترقی پلاننگ اور صحیح حکمت عملی نہ ہونے کے نتیجے میں سامراجی غلامی میں ہی عافیت محسوس کرتے اور قومی مفادات کو اس طرح بیچنے کے لئے تیار ہوتے جیسے حلوائی اپنی دکان پر مٹھائی بیچتا ہے آج بھی ہجوم اکٹھا کرنے والوں کا المیہ بھی یہی ہے کہ ان کے ہاں سوچ ، نظریہ اور قومی مفادات کی بجائے ،متعصب سوچ اور ذاتی وگروہی مفادات کے ساتھ بیرونی آقاؤں کے مفادات عزیز ہیں جس کے واضح اشارے گاہے بگاہے سیاسی اکابرین کے بیانات کی روشنی میں ملتے رہتے ہیں ۔ گزشتہ ستر سالوں کی تاریخ گواہ ہے وطن عزیز میں حقیقی سیاسی قیادت موجود نہیں رہی ابتدا ء سے لے کر آج تک سیاست کے سنگھاسن پربراجمان بزر جمہوری ملک و قوم کا نام تو لیتے رہے لیکن ملک و قوم کی تعریف ان کے ہاں ذاتی جاگیر اورخاندان و گروہ ہوتا تھاقومی سیاست کے نام پرذاتی مفادات کا حصو ل اولین ترجیح ہوتی تھی اور جب بات ذاتی مفادات کی ہوئی تو اس میں لڑائی و جھگڑے کا کھیل لازمی عنصرکی حیثیت اختیارکر گیا یہ کھیل اُسوقت اور مظبوط ہو گیا جب امریکی سامراج نے یہاں کے مقتدر طبقات کو اپنے ذیر اثر کر لیا ۔ یہاں ہر اچھے عمل کو سبوتاژ کرنابھی ایک روایت ہے اوریہ ایک بھی حقیقت ہے کہ یہاں آئین میں ترمیمات ہوتی رہتی ہیں اور بل وغیرہ پاس کئے جاتے ہیں لیکن کیا ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں ملک میں موجود سامراجی استحصالی نظام تبدیل تبدیل ہوتا ہے;238; اور کیا ان ترمیمات کے ذریعے جاگیر داریت اور سرمایہ داریت کو کوئی خطرہ درپیش ہوتا ہے ;238;یقینا اس کا جواب نفی میں ہے اور کیا ان آئینی ترامیم کے نتیجے میں مزدوروں کے معیار ذندگی میں کوئی فرق آیا اورغریبوں کی غربت اور امیروں کی کی امارت میں کوئی کمی ہوئی ہوئی ہے اور کیا طبقاتی نظام کا خاتمہ ہوا ہے;238; اور کیا ججوں کے تقرر کے جھگڑے چکانے میں عد ل و انصاف کا بول بالا ہوا اور کیاقوم کے حقیقی مجرم کیفر کردار کو پہنچے ;238; اور کیادہشت گردی اور بنیاد پرستی ختم ہوئی یامذہبی و سیاسی فرقہ واریت کے جراثیموں کا خاتمہ ہوا;238; ۔ بازار سیاست کے تاجروں کو ذرا یہ سوچنا چاہیئے تھا کہ اگر بھولے بھالے ،معصوم اور ستم ذدہ عوام کو ان لولی پاپ ٹاءپ ترامیموں سے (جن سے اکثریت عوام شاید ہی واقف ہوں ) اورمحض نعروں سے کچھ دیر کےلئے بہلایا جائے تو اس سے ان کے پیٹ کے کون سے کیڑے بلبلاتے ہیں ;238; بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں قومی مفادات وسوچ کی حامل باکردار ،باصلاحیت قومی قیادت کا فقدان ہے کیوں کہ کسی بھی قوم کی حقیقی اور خیر خواہ قیادت وہی ہوتی ہے جس کے پاس قومی وحدت کا نظریہ ،قومی مسائل کا فہم وادراک اور ان کے حل کرنے کا شعور واہلیت ہو ،قوم کے سامنے جوابدہی کا احساس ہو ۔ ہمارے حکمران اور لیڈرز ہم میں سے نہیں وہ امریکی سامراج کے وفادار اور اس کو جوابدہ ہیں آج حزب اختلاف ہو یا حزب اقتدار ،سیاسی رہنماہوں یا مذہبی کارڈ کھیلنے والے سب کو اپنے اپنے مفادات کا پاس ہے قوم کو ڈبونے میں سب مشترکہ کردار ادا کر رہے ہیں ،اس سیاست گردی کا ایک ہی علاج ہے کہ اس روگی نظام کو تبدیل کر کے قومی سوچ و نظریہ کے مطابق صحت مند نظام قائم کیا جائے لیکن یہ سب کچھ محض نعروں سے نہیں ہوتا اس کیلئے عمل کی ضرورت ہے جو مشکل ضرور ہے مگر نہ ممکن نہیں کیونکہ کبھی تو وہ صبح طلوع ہوگی جس کا قوم کو انتظار ہے! ۔

ہمارا یہ مقدر تو نہیں

حکومت کرپشن کے خاتمے کیلئے بہت کام کررہی ہے اس لعنت سے مکمل طورپر کب نجات ملے گی کچھ کہانہیں جاسکتا ۔ اس موذی مرضی کے جراثیم اتنے طاقتور ہیں کہ سخت سے سخت ادویات اور پرہیز کے باوجود یہ جراثیم مرنے کا نام ہی نہیں لیتے ۔ ملک کے جسم میں اتنی جان نہیں کہ اپنی قوت مدافعت سے کام لے سکے بہرحال خیر اور شر کی جنگ جاری ہے دیکھیں کب تک تماشہ لگا رہتا ہے ۔ ہماری مجموعی بدقسمتی یہ بھی ہے کہ پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے اب تک متبادل لیڈر شپ موجود نہیں ہوئی ۔ قائداعظم;231; کا ثانی نہیں تھا قائد ملت کی شہادت کے بعد قوم یہ سوچ رہی تھی کہ اب حکومت کون سنبھالے گا ۔ بھٹو کے بعد بھی یہی سوچ تھی لیڈر شپ کا خلاء اپنی جگہ قائم رہتا ہے ۔ ہمارے ملک کی سیاسی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو قوم ایک شخصیت کے گرد منڈلاتی رہی اگر کسی نے متبادل کے طورپر سر اٹھانے کی کوشش کی بھی تو وہ کامیاب نہ ہوسکا ۔ قومی سطح کا لیڈر ہر زمانے میں ایک ہی رہا اور دوسرے کی تلاش جاری رہی ۔ نواز شریف شہباز شریف اور حکومتی اختیارات ایک شخص کے گرد گھومتے رہے ۔ ایک شخص سیاہ و سفید کا مالک بنا رہا ۔ اس نے چاہا تو عوامی نمائندوں کو اذن باریالی عطا کردیا ورنہ مہینوں نمائندوں کی تانگ ختم نہ ہونے پاتی ۔ عوام کی ذمے داری ہوتی ہے کہ وہ اچھے تعلیم یافتہ خاندانی باکردار سیاسی راہنماءوں کی پذیرائی کرتے ہوئے انہیں اہم منصبوں تک پہنچائیں ۔ ہر دور میں یہی مشکل پیش نظر رہی کہ اس لیڈر کے بعد کون عنان حکومت سنبھالے گا ۔ کونسی جماعت حکومتی ایوانوں تک پہنچے گی ۔ بس ہلے گلے شور شرابے بھنگڑے ڈالتے زندہ باد اور مردہ باد کے نعرے لگاتے ہوئے ہم بھیڑ چال میں لیڈر بنا لیتے ہیں ۔ اسکی سیاسی ماعت کا منشور سابقہ کارکردگی ترقیاتی کام عوامی بہبود کے کارنامے سے کچھ بھی تو نہیں پرکھتے بس بندوں کی گنتی ہوتی ہے اور فیل یا پاس کا نتیجہ برآمد ہو جاتا ہے ۔ عمران خان ذاتی طور پر اصول پسند دیانتدار محنتی کچھ کر گزرنے کی دھن میں ضرور ہے لیکن اسکا بھی متبادل نہیں اسکی ٹیم کے باقی افراد کے بارے میں مذکورہ بالا ٹائیٹلز کہتے ہوئے سوچنا پڑے گا ۔ ہمارے ہاں سیاست تجارت ہے ۔ دس لگانے والے کو سو کی امید ہوتی ہے ۔ ماجھا گنڈیراں فروش پیسے کے زور پر اور افرادی قوت کے بل بوتے پر منتخب ہوسکتا ہے لیکن ضمیر خان اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندانی اور دیانتدار ہونے کے باوجود کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ سسٹم ہی ایسا ہے کہ تعداد دیکھی جاتی ہے اہلیت اور قابلیت نہیں ۔ جمہوریت جیت جاتی ہے اور پھر اسی میں سے ایسے ایسے ناسور جنم لیتے ہیں کہ ملک ، قوم کے ہاتھ میں کاسہ گدائی ہوتا ہے اور مدد کی درخواست اسلامی طرز حکومت میں جمہوریت ہے لیکن کنٹرولڈ جمہوریت ایسی نہیں جس طرح کی ہمارے ہاں مغربی ، جمہوریت ہے ۔ جو سیاسی جماعت برسر اقتدار آتی ہے وہ احتساب کرنے والے اداروں سے لیکر انتظامی اداروں تک اپنے پروردہ اور بہی خواہوں کے سہارے حکومت کرتی ہے ۔ ایسا کیوں نہیں ہوتا کہ ادارے بغیر سیاسی دباءو کے قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں ایسا کلچر کیوں نہیں بن پارہا کہ انتظامی امور انجام دینے والے سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ریاستی قوانین کے تحت فراءض انجام دیں ۔ ریاست کے تمام ادارے حکومت کے وفادار ہونے کے ساتھ ساتھ ریاست کے زیادہ وفادار ہوں ۔ عوام کے مسائل خودبخود حل ہوتے رہیں ۔ سفارشیں اور تعلقات پر کام نہ ہوں بلکہ ہر فرد بغیر کسی پریشانی کے ہر ادارے سے اپنا کام کرواسکے ۔ یہ آڈئلزم نہیں اندھوں کے خواب والا معاملہ بھی نہیں ۔ پاکستان میرے ملک کو ایسا ہونا چاہیے ۔ دوسرے ممالک کیوں منظم اور خوشحال ہیں وہاں کس طرح قانون کی حکمرانی ہے ۔ معاشرہ کیسے پرامن پرسکون اور فلاحی ہے ۔ ان ممالک میں کیا انسانوں کی بجائے جنوں کی حکومتیں ہیں ۔ 72 سالوں سے ہم گردش ایام کے بھنور میں پھنسے ہوئے ہیں جو بھی حکومت اقتدار سنبھالتی ہے اسکا یہی رونا ہوتا ہے کہ خزانہ خالی ہے پہلی حکومت لوٹ مارکرگئی اب قرضے پر گزارہ ہوگا قوم مزید قرضوں کے بوجھ تلے آئے گی وغیرہ وغیرہ یہ جملے سنتے سنتے کئی نسلیں جوان ہوگئیں لیکن یہ روایتی جملے جان نہیں چھوڑ رہے ۔ ہر دور میں مہنگائی بڑھتی چلی گئی ۔ اس دفعہ گزشتہ ادوار سے زیادہ بری حالت ہے کچھ سمجھ نہیں آتا مہینے کے تیس دن کیسے پورے کئے جائیں ۔ اندھیر نگری کی طرح کا ماحول ہے جسکا جو جی چاہے کررہا ہے تاجروں اور دکانداروں نے لوٹ مچا رکھی ہے کوئی پرسان حال نہیں ۔ ہزار کا نوٹ تو سوروپے کے برابر بھی نہیں ایک چھوٹے سے بیگ میں ہزار روپے سے خریدی ہوئی اشیاء سما جاتی ہیں کھانے پینے کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے ذہن الجھاءو میں ر ہتا ہے ایسے میں انسان لاکھ سوچ بچار کا ملک ہو لیکن معاشرے کی اصلاح کیلئے یا بہتری کیلئے تلقین شاہ نہیں بن سکتا ۔ اندر ہی اگر پریشانی ہو تو اوپر شیروانی کیا کرے گی ۔ میں نے چند دن پہلے اصلاح معاشرہ کرنے والوں سے پوچھا بھائی ملک میں مساجد لاتعداد ہیں نمازی بھی بہت ہیں آپ کا اپنے خرچ پر سفر بھی بہت ہے اسلام کے لازوال اصولوں پر زندگی گزارنے کا درس بھی پھیل رہا ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ اتنی محنت اور مشقت کے باوجود ہمارے ہاں برائیاں عروج پر ہیں ۔ نماز بھی جاری ہے تسبیح بھی ساتھ ہے مساجد کی تعمیر بھی تیزی سے ہورہی ہے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں بچے اسلامی تعلیم سے آراستہ ہوکر مدرسوں سے باہر آتے ہیں معاشرہ پھر بھی نہیں بدل رہا ۔ دن بدن تنزلی کی طرف گامزن ہے ملک اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اسلامی اصولوں کا عمل دخل ہمارے معاشرے میں بہت کم ہے ۔ ہمارا فرض ہے کہ پہلے اپنے آپ کو صحیح معنوں میں مسلمان بنائیں اپنے گھر محلے ، گاءوں ، شہر کو مثالی بنائیں پھر دوسروں پر توجہ کریں ۔ میں نے مزید کہا کہ تین مساجد ہمارے ایریا میں قریب قریب ہیں کافی تعداد میں لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں لیکن محلے کے دودھ دہی بیچنے والے کا دودھ ملاوٹ زدہ ہے سبزی والا اپنی مرضی کے ریٹ لگا رہا ہے ، پرچون کی دکان پر آپ کو جعلی او دونمبر چیزیں ملتی ہیں یہ سب ٹھیک کیوں نہیں ہورہے سب کچھ سننے اور سمجھنے کے باوجود ہمارا معاشرہ ڈیٹھ لوگوں کا معاشرہ کیوں بن چکا ہے ۔ نہ تو سیاسی لیڈروں میں باکردار نظر آتا ہے اور نہ ہی دیگر شعبہ ہائے زندگی سے ایسی توقع کی جاسکتی ہے ۔ بے ایمان بے ضمیر اللہ سے نہ ڈرنے والے قاتل لٹیرے یورپ اور امریکہ میں ٹیکسی چلانے والے یہاں کامیاب ہیں قوم کہاں سے نیک شریف اور باکردار لوگوں کو ڈھونڈ کر لائے جبکہ ہر طرف اندھیرا ہے ۔ میں بار بار اپنی عقل کے مطابق کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ملک کیلئے صدارتی نظام حکومت مناسب ہے چھوٹی کیبنٹ اور صرف ایک ہاءوس پر مشتمل ایوان ہونا چاہیے یہ پارلیمانی حکومت کا ہاتھی جو ہم نے پال رکھا ہے اس پر خرچہ ہی خرچہ ہے اور حاصل بہت کم ۔ جمہوری صدارتی طرز حکومت میں اخراجات کم ہوں گے کارکردگی اچھی ہوگی ۔ جلد فیصلے اور عملدرآمد تیزی سے ہوگا ۔ احتساب کا نظام بھی بہترین ہوگا ۔ اب وقت ہے کہ ملک کی دولت کو لوٹنے والوں اور اسے کنگال کرنے والوں کو سر عام سزائیں دی جائیں کرپشن کی سزا موت ہو اور وہ بھی سرعام ۔ اسلامی قوانین کے تحت سخت سزائیں اس لئے ہیں کہ معاشرے کی اصلاح ہو اور جرائم کم سے کم ہوں ۔ موجودہ وقت میں کیا جان مال عزت کا تحفظ ہے ہ میں سوچنا چاہیے ہم کب تک ملک کو جنگل بنائے رکھیں گے ۔ اب بھی طاقتور بہت کچھ ہے اور غریب کچھ بھی تو نہیں ۔ ہمارے ہاں مثالی معاشرہ نہیں بن پایا ۔ من اپنا پرانا پاپی ہے یہ مسلمان نہیں ہورہا ہم صرف لسانی مسلمان ہیں اورکچھ نہیں وقت گزر رہا ہے اب ضرورت سخت ترین حکومتی رویے اور ڈنڈے سوٹے کی ہے زبانی کلامی کچھ فرق نہیں پڑتا ۔ عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ قانون صحیح معنوں میں نافذ کریں اصلاح کے مواقع زیادہ ہونگے ۔ امیدوں کے چراغ جلتے رہیں گے ہمارا یہ مقدر نہیں جو موجود ہے ۔

Google Analytics Alternative