کالم

کلبھوشن کو بریت نہ ملی بھارت کا منہ ضرور کالا ہوگیا

رواں ہفتہ مُلکی اور عالمی سیاسی معاملات کے حوالوں سے گرما گرم رہا،لکھنے کو تو بے شمار خبریں تھیں ۔ مگر دوخبریں الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر چھائی رہیں ۔ اِدھر ایک طرف جہاں پوراہفتہ مُلکی سیاست میں وفاق سے لے کر صوبوں تک احتسابی عمل میں تیزی رہی تووہیں گرفتاریوں ، پریس کانفرنسوں اور الزام تراشیوں سے بھی یہ ہفتہ بھر پوررہا ۔ تواُدھر دوسری جانب کلبھوشن یادیو کے حوالے سے عالمی عدالتِ اِنصاف کے سزاکے خاتمے اور حوالگی کی بھارتی درخواستیں مسترد کئے جانے کے فیصلے کے بعد خطے میں ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے ۔ آئی سی جے سے آنے والے کلبھوشن کے فیصلے کے بعدبھارتی حکمران وبھارتی میڈیا اور عوام خوشی کے بھنگڑے ڈال رہے ہیں کہ اِن کی کامیابی ہو ئی ہے ۔ جبکہ اِنہیں اچھی طرح یہ سمجھ آجانی چاہئے کہ بھارت کو کلبھوشن کی بریت کے حوالے سے صریحاََ ناکامی اور سُبکی ہوئی ہے ۔ عدالتی فیصلے کے مطابق بھارتی جاسوس پاکستان کی ہی تحویل میں رہے گا ۔ یوں آج اگرحقیقی کامیابی نصیب ہوئی ہے ۔ تو صرف پاکستان کو فتح و نصرت ملی ہے ۔ پچھلے دِنوں عالمی عدالتِ اِنصاف نے کلبھوشن یادیو کا ملا جلا فیصلہ سُنا کر پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو خوش کردیاہے ۔ جس نے گول مول فیصلہ کرکے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ جیسے دونوں ممالک اپنی جگہہ ٹھیک ہیں ۔ اگردونوں چاہیں ۔ تو مستقبل قریب میں خطے اور اپنی سرحدوں کے اندر اورباہرقیام امن اور اپنی ترقی اور خوشحالی سے متعلق اپنی راہیں متعین کرنے کے لئے کلبھوشن یادیو کے معاملے پر نظرثانی کریں ۔ تو ممکن ہے کہ خطے سمیت دونوں ایٹمی طاقتوں کے درمیان مسئلہ کشمیر کے حل سمیت برسوں سے جاری کشیدگی کم ہو کر ختم بھی کی جاسکتی ہے ۔ بہرحال ، اَب کچھ بھی ہو مگر اِتنا یہ ضرور ہے کہ عالمی عدالت اِنصاف کے فیصلے کے بعد یہ واضح ہوگیاہے کہ کلبھوشن یادیوبھارتی جاسوس ہے ۔ جس کے پاس دو پاسپورٹ تھے،جو پاکستان میں انارکی پھیلا کرپاکستان کو جانی و مالی ا ورمعاشی نقصان پہنچانے کےلئے اپنے منظم نیٹ ورک کا سہارا لیتارہا اور متحرک رہا ۔ اگرچہ، عالمی عدالت اِنصاف (آئی سی جے ) نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکی بریت کی بھارتی درخواست مسترد کرکے بھارت کے منہ پر طمانچہ مارنے کے ساتھ ساتھ اِس کا منہ بھی کالاکردیا ہے ،اِسے بتادیاہے کہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑے کلبھوشن سے پہلے بھی بہت سے جاسوس پکڑے گئے اور سزائیں پوری کیں ہیں ۔ ایک کلبھوشن یادیو کے معاملے کو لے کربھارت کیوں ;238; عالمی عدالتِ اِنصاف میں چلا آیا ہے ۔ اَب بھارت کیامنہ لے کر دنیا میں پھرے گا;238;کلبھوشن کے معاملے کو لے کر کہاں کہاں اپنا سر پیٹے گا ۔ جہاں بھی جائے گا ۔ اِسے ہر فورم پر سُبکی کا سامنہ رہے گا ۔ اور تو اوراَب بھارتی حکمران اپنے عوام کو کیا بتا ئیں گے ;238; کیوں کہ اُلٹی ہوگئیں سب تدبیریں ،یاد رہے کہ کلبھوشن کا معاملہ بھارت ہی عالمی عدالت میں لے کر گیاتھا ۔ اَب عالمی عدالتِ اِنصاف کے فیصلے کے بعد تویہاں سے بھی اِسے منہ کی کھانی پڑی ہے ۔ لازمی ہے کہ اَب بھارت کلبھوشن یادیو کے معاملے کو اُلٹی گنگا بہانے کا خواب سمجھ کر بھول جائے ۔ اور بھارت ہمارے ملٹری کورٹس ٹرائل کو تسلیم کرتے ہوئے ۔ خاموشی اختیار کرے اور خطے میں دائمی امن و سلامتی کے قیام اور عوام کی ترقی و خوشحالی کے لئے پاکستان کے خطے میں جاری امن پسندی اور ترقی و استحکام کے منصوبوں میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کی سعی کرے ۔ جو کہ بھارتی حکمرانوں اور عوام کےلئے بہتر ہوگا ۔ اَب ذرا کچھ بات ہوجائے مُلک میں جاری تیزی سے آگے بڑھتے قومی لٹیروں اور قومی خزانہ لوٹ کھانے والوں کی نیب کے ہاتھوں گرفتاریوں کے بعد جاری احتسابی عمل پرحکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے پر الزام تراشیوں کے داغے جانے والے گھن گرج گولوں کی ۔ تو آج کل وطن عزیز پاکستان میں دونوں جانب سے الزام تراشیوں کا گھمسان کا رن جاری ہے ۔ یقینا اِس عمل میں ووٹرز بھی برابر کے شریک ہیں ۔ جو قومی لٹیروں اور چوروں کو اپنا مسیحا سمجھ بیٹھتے ہیں ۔ اور جانتے بوجھتے، بہروپیوں ، قومی چوروں ، لٹیروں ، اچکوں ، منافقوں اور فراڈیوں کو حکمرانی کی کنجی تھما کر جنہیں اپنے مقدر اور نصیبوں سے کھیلنے کا حق دے دیتے ہیں ۔ جو عوامی مینڈیٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر معصوم ووٹرز کو محرومیوں اور لاچارگی کی چکی میں پیس کر رکھ دیتے ہیں ۔ اور عوام کی ہڈیوں کا سُرمہ بنا کر خود قومی خزانے کو اپنے اللے تللے اور عیاشیوں کےلئے بہتا سمندر سمجھ کر استعمال کرتے ہیں ۔ اور عوام کے اگلے میں غلامی کا طوق ڈال دیتے ہیں ۔ آج ایسے ہی بہروپیئے ، فراڈیوں اور قومی چور اچکوں ، حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اِن کے چیلے چانٹوں کے خلاف حکومت احتسابی اداروں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ اِنہیں مکمل آزادانہ اختیارات دے کر قومی چوروں کے کڑے احتساب کےلئے متحرک ہوگئی ہے ۔ جیسا کہ گزشتہ دِنوں وزیراعظم عمران خان نے گوجرانوالہ سیالکوٹ اور گجرات کوبرآمدی صنعتوں کے حوالے سے گولڈن ٹرائی اینگل بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہڑتال کے ڈر سے پیچھے نہیں ہٹوں گا،اسمگلنگ کا سامان بیچنے والے شناختی کارڈ شرط کے اصل مخالف ہیں ، سروسز سیکٹر ایک فیصد ٹیکس نہیں دیتا ماضی میں جیسے مُلک کو چلایاجارہاتھا ۔ اَب ویسے نہیں چل سکتا پاکستان کو عظیم سے عظیم تر مُلک بنائیں گے ۔ ‘‘ آج بھی وزیراعظم اول روز سے مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کو بلاتفریق ختم کرنے کے عزم پر قائم ہیں ۔ تاہم اَب ضروری ہے کہ اِس منظر میں کرپٹ عناصر کو بھی چاہئے کہ اِنہوں نے جتنا لوٹ مار کرکے قومی خزانہ خالی کیا ہے ۔ وہ خاموشی سے لوٹی ہوئی قومی دولت حکومت کو واپس کر دیں ۔ اَب اِن کے احتجاجوں ،ہڑتالوں اور چیخنے چلانے سے کچھ نہیں ہوگا ۔ سولازمی ہے کہ جتنے بھی بڑے چھوٹے قومی لٹیرے اور قومی چور ہیں ۔ وہ اِسی کو اپنی بھلائی سمجھیں کہ آج اللہ نے عمران خان کی حکومت میں انہیں اپنے گناہوں سے توبہ کرنے کا موقعہ دےاہے ۔ اِسی کو غنیمت جانیں ۔ اِسے اللہ کی رضا سمجھتے ہوئے ۔ اپنے گناہ کو اِسی دنیا میں معاف کروالیں ۔ باریاں لگا لگا کر پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ و ادنی قیادت اور اِن کے خاندان والوں نے جتنا قومی خزانہ لوٹاہے ۔ اِنہوں نے مُلک کے اندر اور باہر جہاں کہیں بھی جتنی بے نامی جائیدادیں بنائیں ہوئیں ہیں ۔ اَب وہ بسم اللہ کریں ۔ آگے بڑھ کر حکومت اور احتسابی اداروں کوخود سے واپس کردیں ۔ اِسی میں اِن کی نجات ہے ورنہ ;238;اگلے آنے والے دِنوں میں قومی لٹیروں اور چوروں کا جو حشر ہو گا وہ کسی نشانِ عبرت سے کم نہ ہوگا ۔

بھارت کی عالمی شرمندگی

بھارت کو ایک بار پھر عالمی شرمندگی ہوئی ۔ بقول ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کے بھارت کو 27 فروری کی طرح ایک اور سرپرائیز مل گیا ۔ مذکورہ تاریخ کو بھی بھارت کا جھوٹ دنیا کے سامنے عیاں ہو گیا تھا اور بھارت کو عالمی سطح پر ذلت اور شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ کلبھوشن یادیو کے کیس میں عالمی عدالت کے فیصلے سے بھارت ایک بار پھر پوری دنیا کے سامنے بے نقاب اور رسوا ہوا ۔ اس فیصلے کے کئی پہلو ہو سکتے ہیں لیکن اس میں دو نکات بڑے اہم ہیں اور ان نکات کی وجہ سے بھارت دنیا کے سامنے صرف جھوٹا ہی ثابت نہیں بلکہ بے نقاب بھی ہوا ۔ ایک نکتہ یہ ہے کہ دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت کا پاکستان مخالف پروپیگنڈہ سراسر جھوٹ اور عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے علاوہ کچھ نہیں ۔ بھارت کے اندر یا مقبوضہ کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے پاکستان کے ساتھ جوڑنے کی باتوں میں کبھی بھی کوئی حقیقت نہیں رہی ہے بلکہ کلبھوشن کے کیس کے عالمی عدالت کے فیصلے سے واضح ہو گیا کہ دراصل بھارت خود بہت بڑا دہشت گرد ہے ۔ وہ مقبوضہ کشمیر میں کھلی اور ریاستی دہشت گردی کرتا رہا ہے اور آج بھی کر رہا ہے اور بھارتی حکومت ہندو انتہاء پسندوں کی سرعام دہشت گردی کی سرپرستی کرتی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ کشمیریوں پر بھارتی فوج ریاستی دہشت گردی کر کے ظلم و جبر کے پہاڑ توڑتی ہے ۔ اب تو اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو مقبوضہ وادی پر بھارت کے غاصبانہ قبضہ ختم کرانے اور کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کےلئے سامنے آکر اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیئے ۔ دوسرا نکتہ جو نہایت اہم ہے وہ پاکستانی ملٹری کورٹس کا کلبھوشن یادیو کے بارے میں فیصلہ ہے ۔ جس کو بھارت کی لاکھ کوششوں اور پروپیگنڈے کے بوجود عالمی عدالت نے مسترد نہیں کیا ۔ نہ ہی کوئی ایسی قدغن لگائی کہ پاکستان لازمی طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرے ۔ عدالت کے تفصیلی فیصلے سے قطع نظر میرے موقف کی مضبوطی کےلئے اتنا کافی ہے کہ عالمی عدالت نے بھارت کی طرف سے کلبھوشن کی رہائی اور پاکستانی ملٹری کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کے خاتمے کی اپیل کو یکسر مسترد کر دیا ۔ عالمی عدالت نے تو بھارت کی اس درخواست کو بھی مسترد کر دیا کہ کلبھوشن کو بھارت کے حوالے کیا جائے اور صاف کہہ دیا کہ نہ تو عالمی عدالت پاکستانی فوجی عدالت کی طرف سے سنائی سزا کو کالعدم کر سکتی ہے نہ کلبھوشن یادیو کی رہائی اور بھارت کے حوالے کرنے کا فیصلہ کرتی ہے ۔ یہ بات عیاں ہے کہ کلبھوشن بھارتی شہری اور بھارتی نیوی کا افسر ہے ۔ اور وہ جاسوسی اور بدترین کاروائیوں میں ملوث رہا ہے ۔ عدالت نے قرار دیا کہ پاکستان اس کیس پر دوبارہ غور کرنا چاہے تو اس پر دوبارہ غور کرے اور اس صورت میں دوبارہ فیصلہ آنے تک سنائی گئی سزا پر عملدرآمد روک دے ۔ لیکن یہ سب پاکستان کی مرضی اور قانون پر منحصر ہے ۔ بھارت ہمیشہ سے پاکستان میں اپنے جاسوس بھیجتا رہا ہے ۔ اور ان میں اکثریت پاکستان کے حساس ادارے کے ہاتھ چڑھے ہیں ۔ بھارت تو بڑے ٹرینڈ جاسوسوں کو پاکستان بھیجتا ہے لیکن پاکستان کے حساس ادارے کی کارکردگی کی وجہ سے بلا آخر وہ پکڑے جاتے ہیں ۔ پاکستان کے اس اہم ادارے کی شاندار کارکردگی کی وجہ سے بھارت بے بس ہے ۔ 1990ء کے اگست کے مہینے میں خفیہ ادارے نے سربھجیت سنگھ کو گرفتار کیا ۔ یہ جاسوس لاہور،فیصل آباد اور ملتان میں بم دھماکوں میں ملوث تھا ۔ اس کو سزائے موت سنائی گئی ۔ اور 2013ء میں کوٹ لکھپت لاہور میں قیدیوں کے ہاتھوں زخمی ہو کر مر گیا ۔ جس کی لاش بھارت کے حوالے کی گئی ۔ اسی طرح نبی احمدشاکر کے نام سے پاکستان آنیوالا جاسوس بھی گرفتار کیا گیا ۔ اس نے تو پاکستان میں شادی بھی کی تھی ۔ ایک بچہ بھی پیدا ہوا تھا ۔ اس جاسوس کا اصل نام تھیرویندرا تھا ۔ گرفتاری کے سولہ سال کے بعد 2011ء میں جیل میں مرگیا ۔ 2004ء میں رام راج پکڑا گیا ۔ جس کو چھ سال بعد رہا کر دیا گیا ۔ شوکت علی کے نام سے پاکستان میں جوسوسی کے لیئے آنے والا گر بخش رام پاکستان میں کچھ عرصہ رہنے کے بعد جب واپس بھارت جا رہا تھا تو گرفتار کیا گیا ۔ سرجیت سنگھ نامی جاسوس کو 30 سال قید گزارنے کے بعد 2012ء میں رہا کیا گیا ۔ اسی طرح ایک طویل فہرست ہے ۔ دوسری طرف پاکستان سے غلطی سے سرحد پار کرنے والے یا رشتہ داروں سے ملنے بھارت جانےوالے یا کسی کام کی غرض سے بھارت جانے والے پاکستانیوں میں سے بعض کو بھارت میں گرفتار کیا جاتا ہے اور ان پر جاسوسی کا الزام لگا دیا جاتا ہے ۔ بھارت کا کوئی ایک جھوٹ ہو تو اس پر بات کی جائے ۔ میں نے گزشتہ متعدد کالموں میں تحریر کیا ہے کہ بھارت ایک جھوٹا،فریبی اور مکار دشمن ہے ۔ اس کے مکر و فریب اور چالبازیوں سے ہمہ وقت محتاط اور تیار رہنا چاہیئے ۔ امریکہ افغان امن مذاکرات میں پاکستان کی بہترین خارجہ حکمت عملی کی وجہ سے بھارت کو کان سے پکڑ کر باہر کیا گیا ہے ۔ حالانکہ بھارت نے افغانستان میں نہ صرف بہت سرمایہ کاری کی ہے بلکہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کےلئے افغانستان کو محفوظ اڈے کے طور پر بھی استعمال کرتا رہا ہے ۔ امریکہ کی شہ پر اچھل کود کرنے والے بھارت کو امریکہ نے گھاس بھی نہیں ڈالی ۔ امریکہ اور افغانستان نے امن مذاکرات کی کامیابی کا محور پاکستان کو قرار دیا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا امریکہ کا سرکاری دورہ اور امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستانی وزیراعظم کو واءٹ ہاءوس میں خصوصی دعوت پر بلانا اسی کامیابی کا غماز ہے ۔ کلبھوشن یادیو کے کیس میں عالمی عدالت میں پاکستانی ماہرین قانون کو بھیجنے اور اس قانونی جیت میں آرمی چیف جنرل باجوہ کی کوششیں قابل تحسین ہیں ۔

عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی تاریخ ساز فتح

عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن کے حوالے سے فیصلہ دے کر دنیا کو یہ بتا دیا ہے کہ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے اور پاکستان آئین و قانون کا پیروکار ملک ہے ۔ بھارت کی جتنی سبکی اس فیصلے کے بعد ہوئی ہے شاید ہی ماضی میں کبھی ہوئی ہو ۔ پاکستان کی سفارتی سطح پر ناقابل شکست فتح ہوئی ہے اور عالمی عدالت نے کلبھوشن کو دہشت گرد قرار دیا ہے اور اب اس کا فیصلہ پاکستان کے آئین و قانون کے مطابق کیا جائے گا ۔ بھارت کو عالمی عدالت انصاف میں منہ کی کھانی پڑ گئی ،عدالت نے پاکستان سے گرفتار ہونے والے بھارتی دہشت گرد کمانڈر کلبھوشن یادیوکی رہائی کی بھارتی درخواست مسترد جبکہ کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دینے سے متعلق بھارتی درخواست منظور کرتے ہوئے پاکستان کو کلبھوشن کے سزائے موت کے فیصلے پر بھی نظر ثانی کرنے کو کہا ہے ،جج نے اپنے فیصلے میں موقف اپنایا کہ کلبھوشن یادیو کو سنائی جانے والی سزا کو ویانا کنونشن کے ;200;رٹیکل 36 کی خلاف ورزی تصور نہیں کیا جاسکتا، کلبھوشن بھارتی شہری ہے، ویانا کنونشن جاسوسی کے الزام میں قید افراد کو قونصلر رسائی سے محروم نہیں کرتا ، پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی دے، پاکستان کا موقف تھا کہ فوجی عدالتوں کے فیصلوں کے خلاف اپیل کے فورم موجود ہیں ، پاکستانی آئین ہر ملزم کے منصفانہ عدالتی ٹرائل کی ضمانت دیتا ہے ۔ ہالینڈ کے دارالحکومت دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے صدر جج عبدالقوی احمد یوسف نے دی ہیگ کے پیس پیلس میں کلبھوشن کیس کا فیصلہ سنایا ۔ کارروائی میں عالمی عدالت کا 15 رکنی فل بینچ بھی موجود تھا، بینچ میں پاکستان کے ایک ایڈ ہاک جج اور بھارت کے ایک مستقل جج بھی شامل تھے، فیصلہ سننے کے لئے پاکستان کی ٹیم اٹارنی جنرل کی قیادت میں دی ہیگ پہنچی تھی جو عالمی عدالت انصاف میں موجود رہی ۔ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوجوبھارتی بحریہ کاحاضرسروس کمانڈر اور بھارتی خفیہ ایجنسی کے تحقیق اورتجزیاتی شعبے سے وابستہ ہے،تین مارچ2016ء کو بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں پاکستان کے خلاف جاسوسی اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پرایک خفیہ کارروائی کے دوران گرفتارکیاگیاتھا ۔ بھارتی جاسوس نے اپنے بیان میں اعتراف کیاتھاکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را نے اسے کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں کی ذمہ داری سونپی تھی ۔ اسے دس اپریل2017ء کو سزائے موت سنائی گئی ۔ وزیراعظم عمران خان نے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی رہائی اور بھارت کے حوالے نہ کرنے کے فیصلے کو سراہاہے ۔ انہوں نے ایک ٹویٹ میں کہاکہ کلبھوشن پاکستان کے عوام کے خلاف جرائم میں ملوث ہے ۔ پاکستان قانون کے مطابق مزید کارروائی کرے گا ۔ فیصلے میں کلبھوشن یادیوکے جاسوسی اور دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے سے متعلق پاکستان کے موقف کا اعتراف اورتائیدکی گئی ہے ۔ عدالت کافیصلہ پاکستان کی بڑی کامےابی اور اخلاقی فتح ہے ۔ عدالت نے مقدمے کے فیصلے میں واضح طورپر کہاہے کہ پاکستان اپنی مرضی سے مجرم کی سزا پر نظرثانی کرسکتا ہے ۔ فےصلے سے اےک اہم چےز ےہ سامنے آئی ہے کہ عالمی عدالت نے پاکستان کی فوجی عدالت کا فےصلہ منسوخ نہےں کےا جس کی درخواست بھارت نے کی تھی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پوری عالمی برادری نے پاکستان کے نظام پر اعتماد ظاہر کےا ہے ۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائرےکٹر جنرل مےجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن ےادےو کے مقدمے کا فےصلہ پاکستان کی شاندارکامیابی ہے ۔ انہوں نے مقدمے مےں بھرپور قانونی دلائل دےنے پر پاکستان کی قانونی ٹےم کو مبارکباد دی ۔ جنرل غفور نے کہا کہ بھارت نے عالمی عدالت انصاف مےں پانچ نکات اٹھائے تھے اور عالمی عدالت انصاف نے اپنے فےصلے مےں ان تمام نکات کو مسترد کردےا ۔ پاکستان کواس فیصلے کے بارے میں مکمل اعتماد تھا کیونکہ اس کے پاس پاکستان کی سرزمین پر دہشت گردی کی سر گرمیوں میں کلبھوشن یادیوکے ملوث ہونے کے شواہدتھے ۔ عالمی عدالت کے فیصلے میں یہ بھی ظاہر ہوتاہے کہ کلبھوشن یادیوبھارتی بحریہ کا حاضر سروس کمانڈرتھا جو پاکستان کی سرزمین میں دہشت گردی کی سرگرمیوں ملوث تھا اور جعلی دستاویزات کے ساتھ نام بدل کرپاکستان آیاتھا ۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کے بعددنیا بھی یہ بات سمجھ جائے گی کہ بھارت پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں کی پشت پناہی کرتاہے ۔ کلبھوشن ےادےو کےس مےں عالمی عدالت انصاف کا فےصلہ پاکستان کی سفارتی فتح ہے اس فیصلے سے بھارت کا حقیقی چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیاہے ۔ مقدمے مےں عالمی عدالت انصاف کے فےصلے نے پاکستان مےں بھارتی رےاستی دہشت گردی کے پاکستانی موقف پر مہر تصدےق ثبت کردی ہے ۔ پاکستان نے بھارت کو عالمی برادری کے سامنے کامےابی سے بے نقاب کیاہے ۔ بھارت کوعالمی عدالت انصاف کے سامنے شکست کاسامناکرناپڑا ہے ۔

سب کو ٹیکس ادا کرنا ہوگا

وزیراعظم عمران خان نے گوجرانوالہ سیالکوٹ اور گجرات کو برآمدی صنعتوں کے حوالے سے گولڈن ٹرائی اینگل بنانے کا اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ ماضی میں جیسے ملک کو چلایا جارہا تھا اب ویسے نہیں چل سکتاپاکستان کو عظیم ملک بنائیں گے اقتصادی استحکام و اصلاحات اور ٹیکس کی بنیاد میں وسعت کیلئے کوئی بھی دباءو قبول نہیں کریں گے ،دباءویا ہڑتال کے ڈرسے پیچھے نہیں ہٹوں گا ،پیچھے ہٹنا ملک و قوم سے غداری ہو گی سروسز سیکٹر 20 فیصد ہے مگر ایک فیصد بھی ٹیکس نہیں دیتا سب کو ٹیکس نیٹ میں لیکر آنا ہے اسمگلنگ کا سامان بیچنے والے تاجر شناختی کارڈ کی شرط کے مخالف ہیں لوگوں کو ایف بی آر پر اعتماد نہیں ،ادارے میں اصلاحات کرتے ہوئے خودکار نظام لایا جائے گا ا، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ایک موثر اور فعال پالیسی کے ساتھ کریک ڈاءون کیا جائے گا، سابقہ حکمرانوں نے منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ بیرون ملک بھجوا کر جائیدادیں بنائی ہیں ان کا احتساب جاری رہے گایہ رکے گا نہیں ۔

سچی بات میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کا تاریخی انٹرویو

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں ایس کے نیازی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری بدقسمتی ہے کہ بغیر کسی ججمنٹ کوپڑھے اورسمجھے بات کرتے ہیں ،یہ تاثردیا جارہاہے کہ میں نے فیصلہ دیاجس سے ملک کونقصان ہوا، میں اس ملک وقوم کےلئے ہر وہ فیصلہ کرونگاجوقانون اورآئین مجھے اجازت دیتا ہے،ایک ٹی وی اینکر نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ قوم کے غدار ہیں ، اپنے ملک،آئین اورقانون کے تحت جوبھی فیصلہ کرنا پڑا کرونگا،یہ غداری کی بات کرتے ہیں مجھے تواس ملک کی خاطر پھانسی بھی قبول ہے،ججز کو کسی قسم کی وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ہوتی ، میں پاکستانی اداروں اور ملکی وسائل کے ساتھ ہوں ، ریکوڈک بہت بڑا خزانہ ہے کوئی چھوٹی موٹی چیز نہیں ہے،ریکوڈیک سینکڑوں کلومیٹر پر محیط علاقہ ہے ،ریکوڈک میں کاپر، سونا ،گیس اورپٹرولیم کا خزانہ ہے، یہ دنیا کا پانچواں سب سے بڑا خزانہ ہے، اگر اسے ڈویلپ کرلیں توبیرونی قرضوں کی ضرورت نہیں رہتی،بلوچستان ہمارا ایک صوبہ ہے اس ملک کا ایک یونٹ ہے،بلوچستان کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی جیسی ہے،بلوچستان کے اوپر ساری دنیا کی نظریں ہیں ، امریکہ نے بھی ایک رپورٹ بنائی کہ یہاں خزانہ بہت زیادہ ہے،بعض قوتیں یہ نہیں چاہتی ہیں کہ بلوچستان میں ایسا کام ہوجس سے لوگوں کو فائدہ ہو،قومی اسمبلی کی ایک کمیٹی ہے جو نیشنل ریسورس پر بنائی گئی ہے ۔

کلبھوشن کیس ، ہمارے موَقف کی پذیرائی

گزشتہ روزعالمی عدالت انصاف نے بھارتی دہشت گرد جاسوس کلبھوشن جادیو کا فیصلہ سنادیا جس کے مطابق اس بات پر تصدیقی مہر ثبت ہو گئی کہ بھارت اپنے و پرائے ایجنٹوں کے ذریعے پاکستان میں تخریب کاری اور دہشت گردی کی وارداتیں کرواتا ہے ۔ کلبھوشن جادیو کو قانون نافذکرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات ہیں اور بھارتی جاسوس نے تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف کیا تھا جس پر اس کوفوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تھی ۔ عالمی عدالت انصاف میں بھارت خود یہ کیس لے کر گیا اور اس نے 5 مطالبات کیے تھے جو مسترد کردیے گئے ۔ بھارتی مطالبہ تھا کہ ملٹری کورٹ کی سزا کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا جائے ۔ ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کیا جائے ۔ کلبھوشن کو رہا کیا جائے اور اس کو واپس بھارت بھیجا جائے ۔ ان تمام مطالبات پر عالمی عدالت نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیا ۔ بھارتی مطالبہ ’ اگر کلبھوشن کو رہا نہیں کیا جاتا تو ملٹری کورٹ کی سزا کو ختم کرکے سول کورٹ میں مقدمہ چلایا جائے ‘ پر عالمی عدالت نے اسے رہا نہیں کیا اور نہ ہی ملٹری کورٹ کے فیصلے کو ختم کیا ہے ۔ عالمی عدالت نے ہمارا موَقف کہ کلبھوشن جادیو نیوی کمانڈر ہے ، تسلیم کیا ۔ اسی طرح ہمارا یہ کہنا کہ وہ دہشتگرد ہے، بھی درست ثابت ہوا ۔ عالمی عدالت میں ہمارے کلبھوشن کے پاسپورٹ کے حوالے سے موقف کو بھی تسلیم کیا گیا اور پاکستان کی ملٹری کورٹ کی جانب سے دی جانے والی سزا کو بھی قانون کے مطابق قرار دیا ہے ۔ یہ پاکستان کی عدلیہ اور پاکستان کی فتح ہے کیونکہ عالمی عدالت نے کلبھوشن کے کیس میں کہا ہے کہ پاکستان اس کو جس طریقے سے بھی چاہتا ہے اس کو دیکھے ۔ جب بھی کسی ملزم کو عدالت موت کی سزا دیتی ہے تو اس پر نظر ثانی اسی سسٹم کے اندر ہوتا رہتا ہے ۔ عدالت نے فیصلہ سنا یا کہ کلبھوشن جادیو پاکستان کی تحویل میں ہی رہے گا ۔ عدالت نے کلبھوشن جادیو کو قونصلر رسائی کا حق دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے فریق ہیں اور بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی مانگی تھی ۔ پاکستان نے بھارتی موقف کے خلاف 3اعتراضات پیش کیے ۔ پاکستان کا موقف تھا کہ کلبھوشن جعلی نام پر پاسپورٹ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو تا رہا ۔ بھارت کلبھوشن کی شہریت کا ثبوت دینے میں ناکام رہا ۔ کلبھوشن نے پاکستان میں جاسوسی کے ساتھ دہشت گردی کی ۔ عالمی عدالت نے کلبھوشن کا حسین مبارک پٹیل کے نام سے بھارتی پاسپورٹ اصلی قرار دے دیا ۔ پاسپورٹ اصلی ، تصویر اصلی مگر نام جعلی ہے ۔ عالمی عدالت نے کہا کہ کلبھوشن جادیو اسی پاسپورٹ پر17 بار بھارت سے باہرگیا اور واپس آیا ۔ عدالت کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کو کلبھوشن جادیو کے شہریت کے دستا ویزات نہیں دکھائے اور پاکستان کے مطالبے کے باوجود کلبھوشن جادیو کا اصلی پاسپورٹ بھی پاکستان کو نہیں دکھا یا گیا جبکہ بھارت پاکستان کے دو پاسپورٹ کی موجودگی کا جواز پیش کرنے میں ناکام رہا ۔ کلبھوشن جادیو بھارتی شہری ہے اور اس بات کو پاکستان اور بھارت دونوں نے تسلیم کیا ۔ عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن جادیو کیس میں ایڈ ہاک جج تصدق جیلانی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا ۔ جس میں ان کا کہنا تھا کہ بھارتی درخواست ناقابل سماعت قرار دی جانی چاہیے تھی کیونکہ ویانا کنونشن کا اطلاق جاسوس پر نہیں ہوتا ۔ ویانا کنونشن لکھنے والوں نے جاسوسوں کو شامل کرنے کا سوچا بھی نہیں ہو گا ۔ کلبھوشن جادیو نے ’’را‘‘کا جاسوس ہونے کا اعتراف کیا ۔ بھارت مقدمے میں حقوق سے ناجائز فائدہ اٹھانے کا مرتکب ہوا ہے ۔ کلبھوشن جادیو کیس کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ عالمی عدالت انصاف نے ایک شاندار فیصلہ دیا ہے جس میں پاکستان کی واضح جیت ہوئی ۔ شکر کا مقام یہ کہ اللہ پاک نے پاکستان کو ایک ملک کے طور پر سرخرو کیا ہے ۔ اس کامیابی پر پاکستانی قوم عدلیہ کا سسٹم، اٹارنی جنرل اور ان کے وکلا کی ٹیم اور دفتر خارجہ سمیت سب خراج تحسین کے مستحق ہیں ۔ اس اہم مقدمے کا فیصلہ سننے کیلئے اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور کی قیادت میں پاکستانی ٹیم بھی ہالینڈ پہنچی ۔ دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل بھی اس ٹیم کا حصہ تھے ۔ کلبھوشن کیس کی آخری سماعت 18 سے 21 فروری تک ہوئی تھی جس میں بھارتی اور پاکستانی وفود نے شرکت کی تھی ۔ بھارت کی جانب سے جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل جبکہ پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کی تھی ۔ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن جادیو سے متعلق کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کیا تھا ۔ مکران کے ساحلی علاقہ سے را کے بھارتی ایجنٹ کمانڈر کل بھوشن جادیوکی گرفتاری پانسہ پلٹنے والا ایسا واقعہ ثابت ہوا جس نے باہمی تعلقات کے اتار چڑھاوَ میں بھارت کو دفاعی اور پاکستان کو بالادست پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے ۔ پاک چین معاشی راہداری کے خلاف نہ صرف بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہوگیا بلکہ یہ شواہد بھی ملے ہیں کہ ایران کی سرزمین پاکستان کیخلاف استعمال ہورہی ہے ۔ ابتدائی معلومات کے مطابق کل بھوشن جادیو بھارتی بحریہ کا افسر ہے جس کی خدمات را نے مستعار لی ہیں اور وہ پاک چین معاشی راہداری کے بری و بحری راستوں اور گوادر کی بندرگاہ کی تعمیر و ترقی کے بارے میں خفیہ معلومات جمع کرنے کیلئے نیٹ ورک کی تشکیل اور اس نیٹ ورک کی تربیت کے مشن پر تھا ۔ کل بھوشن جادیو کی گرفتاری سے پاک چین معاشی راہداری کے خلاف بھارتی سازشوں کی بعض جزئیات سامنے آنے کی توقع ہے

شہبازشریف کی للکار ۔۔۔حقیقت یا افسانہ

شہبازشریف پر مبینہ کرپشن چارجز سے متعلق برطانوی جریدے میل ;200;ن سنڈے یا ڈیلی میل نے جو تحقیقاتی رپورٹ شاءع کی ہے اس کے تناظر میں کئی گریں کھولنے کی ضرورت ہے اس سے قبل شریف خاندان کی برطانیہ میں جائیدادوں کے حوالے سے کئی رپورٹس شاءع ہوچکی ہیں جس میں اسی اخبار ڈیلی میل کی24 جون 2018 کی رپورٹ بھی شامل ہے جس میں میاں نواز شریف اور انکے بیٹوں کی 32 ملین پونڈز کی برطانیہ میں جائیدادوں کا انکشاف ہے شریف خاندان نے اس سے پہلے ان رپورٹوں کے بارے میں کوئی قانونی کارروائی نہ کرکے اخبار کی رپورٹس پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے ۔ ;200;ج بھی ایسا ہی لگ رہا ہے کہ پوری مسلم لیگ ن اور پھر شہبازشریف کا برطانوی اخبار کے خلاف جارحانہ انداز محض بیان بازی ہے یا چیخ وپکار ہے جو وقتی طور پر اپنے خلاف برپا ہونے والے بھونچال کو صرف زبانی کلامی روکنا ہی ہے ۔ برطانیہ میں کسی بھی شخص کی ہرزہ سرائی یا اس کے خلاف بے بنیاد الزامات لگانے والوں کے لئے قانون کی تلوار موجود ہے اور برطانیہ کا ہتک عزت کا قانون تمام دولت مشترکہ کے ممالک میں بھی اسی طرح لاگو ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ شہبازشریف عدالت کا دروازہ کٹھکائیں گے یا نہیں شہبازشریف کا موقف ہے کہ انکے خلاف اخبار میں یہ من گھڑت کہانی وزیراعظم پاکستان عمران خان اور انکے مشیر شہزاد اکبر کی ملی بھگت ہے ۔ اور کہانی کا رپورٹر ڈیوڈ روز عمران خان سے ملاقات کرچکا ہے اس حوالے سے شہادت کے طور پر مسلم لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے ایک تصویر وزیراعظم کے ساتھ صحافی کی دکھائی ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ ایک سال پرانی ہے ۔ اخبار کا بنیادی الزام یہ ہے کہ برطانوی ڈیپارٹمنٹ ;200;ف انٹرنیشنل اینڈ فارن ٹریڈ جو امداد ی رقم زلزلہ زدگان کے لئے فراہم کی اس کو زاتی ضرورتوں کے لئے استعمال کیا گیا اور اس رقم کو ہنڈی اور ٹی ٹی کے زریعے واپس منتقل کیا گیا اور یہاں اسی رقم سے شہبازشریف فیملی نے مختلف جائیدادیں خریدیں یہ بھی سننے میں ;200;یا ہے کہ اس برطانوی اخبار کے انکشافات کے بعد پاکستان میں پاکستان میں شہباز شریف کئی جائیدادیں نیپ نے تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ لوٹی ہوئی دولت واپس لینے کا ;200;غاز ہوگیا ہے ۔ برطانیہ میں ہتک عزت کا قانون 1207 سے موجود ہے 2014 میں باقاعدہ پارلیمنٹ نے اس قانون کو ایک بل کی صورت میں پاس کیا تھا یہ ;200;زادی اظہار رائے کے متعلق بھی ہے ہتک عزت کا دعویٰ ہر وہ شخص ہائی کورٹ میں جاکر کر سکتا ہے جس کی شہرت، تجارت یا عزت پر کسی کے عمل سے اسے نقصان ہو -شہبازشریف اگر ڈیلی میل کے خلاف ہتک عزت کا دعوی کریں اور اخبار کے خلاف مقدمہ جیت جائیں تو نہ صرف انکی اپنی نیک نامی ہوگی بلکہ پاکستان ہمارے ملک کی جو بدنامی ہوئی ہے جو دھبہ لگا ہے ان کے اس عمل سے ملک کا امیچ بہتر ہوگا لیکن قانونی پیچیدگیوں کے باعث لگتا نہیں کہ شہبازشریف واقعی اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے لندن میں مقیم برطانوی ماہر قانون اور پہلے برٹش پاکستانی کوئین کونسل کے رکن بیرسٹر صبغت اللہ قادری کا کہنا ہے کہ شہبازشریف اخبار کے خلاف قانونی چارہ جوئی نہیں کریں گے چونکہ اخبار کے پاس سارے ثبوت موجود ہونگے اور اگر مقدمہ ہوا تو شہباز شریف کی اہلیہ بیٹا، داماد اور دیگر تمام افراد عدالتی کارروائی کا حصہ ہونگے جن کا زکر اخبار میں موجود ہے جن پر جج جرح کرے گا قانونی طور پر اس مقدمے کا فیصلہ ;200;نے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں مقدمہ ہائی کورٹ کا جج سنے گا جج پبلک جیوری تشکیل دینے کا بھی ;200;رڈر کرسکتا ہے فیصلہ شواہد کے تحت اور الزامات کو غلط ثابت کرنے کی بنیاد پر ہوگا ;34;یاد رہے کہ ماضی میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پر 96-1995 میں سابق انگلش کرکٹرز اور کپتان ;200;ئن بوتھم اور ایلن لیمب نے ہتک عزت کا ایک دعویٰ کیا تھا کہ عمران خان پر الزام یہ عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے انگلش کرکٹرز کو نسلی تعصب برتنے اور بال ٹمپرنگ کرنے والے کہا تھا عمران خان نے اپنا دفاع برطانوی عدالت میں ڈٹ کر کیا تھا اور عدالت نے انگلش کرکٹرز کو جھوٹا قرار دیا تھا اور عمران خان کو صادق اور ;200;مین قرار دیا تھا یہ کرکٹ کی تاریخ کا مہنگا ترین مقدمہ تھا جس پر پانچ لاکھ پونڈز خرچ ہوئے تھے مقدمے کا فیصلہ 15 اگست 1996 میں ;200;یا تھا مقدمہ ڈھائی ہفتے مسلسل چلا تھا ۔ میری دعا ہے کہ شہبازشریف مقدمہ برطانوی عدالت میں ضرور کریں لیکن شاید وہ ایسا نہیں کریں گے برطانوی معاشرہ انصاف کی بنیاد پر قائم ہے یہاں نہ کوئی ملک قیوم ہے نہ جسٹس سعید الزمان صدیقی ہے ۔

دینی علوم سے دوری۔۔۔!

کسی بھی معاشرے میں خاندان کا اہم اور کلیدی کر دار ہوتاہے ۔ خاندان میں جو لوگ شامل ہیں اُن میں والدین اور بچے ہیں ۔ خاندان کسی ملک کے بنانے اور سُنوارنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہوتا ہے ۔ اگر کسی ملک کا خاندانی نظام مختلف معاشرتی، سماجی اور اقتصادی وجوہات کی وجہ سے خراب ہو جائے تو وہ معا شرہ اور ملک تباہ و بر باد ہو جاتا ہے ۔ مشرقی خاندان میں ماں باپ، خاوند بیوی اور بچوں کا اہم کردار ہو تا ہے مگر بد قسمتی سے آج کل ہمارے معا شرے میں دوسری کئی سماجی برائیوں کی طر ح طلاق کا رواج زیادہ عروج پر جا ر ہا ہے جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ہم اپنے معا شرے کو وہ موثر خاندانی نظام مہیا نہیں کر سکتے جو ایک فلا حی معاشرے اور ریاست کی بنیا د اور آساس ہو تا ہے ۔ نپولین کا قول ہے کہ آپ مجھے اچھی مائیں دیں میں آپکو بہترین قوم دوں گا ۔ اگر ہم وطن عزیز میں طلاق کے اعداد و شمارپر نظر ڈالیں تو بد قسمتی سے پاکستان میں طلاق کے اعداد و شمار انتہائی تکلیف دہ ہیں ۔ اگر ہم ما ضی میں مغربی ممالک سے مشرقی اور اسلامی ممالک کی طلاق کی شرح کا موازنہ کریں تو ما ضی میں مسلمان ممالک میں اسلامی تعلیمات ، مشرقی اقدار اور روایات کی وجہ سے طلاق کی شرح انتہائی کم تھی مگر بد قسمتی سے فی الوقت اسلامی اور مشرقی ممالک میں طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ ما ہرین سماجیات کہتے ہیں کہ پاکستان میں گذشتہ دو دہائیوں میں طلاق کی شرح میں انتہائی اضافہ ہوا ۔ ایک مختاط اندازے کے مطابق پاکستان میں سالانہ 2 لاکھ 55 ہزار عورتوں کو طلاق ہو جاتا ہے ۔ ایک مشہور سماجی سائنس دان اور شادی سے متعلق امور کے ماہر ویلیم ایج ڈونی کہتے ہیں کہ امریکہ میں پہلی شادی کی 40 سے 50 فیصد تک اور دوسری شادی کی 60 فیصد شادیوں کا خاتمہ طلاق پر ہو تا ہے، ڈاکٹر صاحب نے معاشرے میں طلاق کی بُہت ساری وجوہات بیان کی ہیں جن میں چھو ٹی عمر میں شادی، کم تعلیم، کم آمدنی، طلاق یافتہ خاندان سے تعلق رکھنا، مذہب سے دوری اور نا وابستگی، شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی آپس میں اکٹھا رہنا، اللہ کی ہستی سے انکار، خاوند اور بیوی کا ایک دوسرے سے توقعات رکھنا، میاں بیوی کے اقتصادی لحا ظ سے ناہمواری اور غیر مسا ویانہ بر تری، شادی سے پہلے دونوں خاندانوں کے ایک دوسرے کے بارے میں صحیح معلومات نہ رکھنا،امریکہ اور اکثر یو رپی ممالک میں شادی سے پہلے ایک تہائی یعنی 40 فیصد بچوں کو جنم لینا ، میڈیا کردار اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی عوامل شامل ہیں ۔ پاکستان کے ایک مشہور ماہر اقتصادیات اور سماجی علوم کے ماہر رءوف احمد کہتے ہیں کہ پاکستان میں طلاق کی شرح 2001 میں مسلم فیملی قانون میں تبدیلی ، این جی اوز کے منفی کر دار ، الیکٹرانک میڈیا پر بے ہودہ فیشن شو اور فضول پروگرام دکھانا،، حد سے زیادہ غُربت ، بھارت اور پاکستانی چینلز سے بے ہو دہ ڈرامےاور پروگرام دکھانا ، دلہن کی طرف سے جہیز کانہ ہونا وغیرہ ۔ اُنہوں نے کہا کہ وطن عزیز کے کئی این جی اوز اور الیکٹرانک میڈیا کے چینلز اسلامی معاشرتی آساس کو نہ جا نتے ہوئے بغیر عورتوں کے حقوق کے نام پر معصوم عورتوں کو expolite کرتے ہیں ، جسکی وجہ سے وطن عزیز میں طلاق کی شرح ، خلعہ اور ماں بیوی کے درمیان علیحدگی میں اضافہ ہوا ۔ گیلانی سر وے کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شرح میں اضافہ صبر اور بر داشت کی کمی اور الیکٹرانک میڈیا پر غیر اخلاقی ، غیر اسلامی چیزوں کے دکھانے کی وجہ سے ہوا ۔ گیلانی سروے کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شر ح میں زیادتی کی وجوہات میں 60 فیصد دین سے دوری اور 40فیصد مغرب اور مغربی میڈیا کا اثر رسوخ ہے ۔ مگر جب میں اپنے ارد گر د پر نظر ڈالتا ہوں تو میرے خیال میں ہمارے معاشرے میں طلاق کی تین بڑی وجوہات ہیں 1) اسلام اور مذہب سے دوری2) الیکٹرانک میڈیا کی یلغار اور اس پر پیش کی جانی والے بے ہو دہ اور فضول پروگرام 3) تیسری بڑی وجہ غُر بت اور افلاس جس سے ہمارے پیغمبرحضرت محمد ﷺ نے بھی پناہ مانگی ہے اور چو تھی سب سے بڑی وجہ جہیز ہے ۔ مگر اس میں سب سے زیادہ تیزی الیکٹرانک میڈیا ، کیبلز ، انٹرنیٹ اور موبائیل کی وجہ سے آئی ۔ اگر ہم جا ئزہ لیں تو الیکٹرا نک میڈیا نے نہ صرف ہ میں مذہب، کتابوں اور مُثبت سر گر میوں سے دور کیا بلکہ الیکٹرانک میڈیا پر ملک کے ٹی وی چینلز کے مالک اور پر و ڈیو سرز مغربی اور یہودی ایجنڈے کے تحت ایسے پروگرام ، ڈرامے ٹی وی ٹاک بچوں کے لئے کارٹون کے بیہو دہ پروگرام اور ایسے فیشن شو دکھاتے ہیں جو ہماری نئی نسل اور آئندہ آنے والی نسل کی اخلاقی قدروں اور مشرقی روایات کا بیڑہ غرق کر رہے ہیں ۔ مُجھے وطن عزیز کے اہل دانش اور اہل علم اور صا حب قلم لوگ بتا دیں کہ جس گھر میں بیٹا بیٹی، بہن بھائی ماں باپ اور خاندان کے دوسرے افراد اور رشتہ دار ڈراموں ، بیہو دہ فیشن شوز اور فلموں میں لڑکے لڑکیوں کے گھر سے بھاگنے، عدالتوں میں اپنی مر ضی سے شادی کر نے ، فیشن کے نام پر عریاں لباس اور بیہو دہ لباس زیب تن کر رہے ہو نگے اُس معاشرے میں طلاق جیسا فعل معیوب کب سمجھا جائے گا ۔ میں پھر ایک یہودی سکالر اور نوبل انعام یا فتہ ابلاع عامہ کے اس بات کو دہراءوں گا کہ ہماری نسل کی تباہی اور بر بادی کے ذمہ دار ، میڈیا موبائل فو ن اور سگریٹ نوشی ہے ۔ اس کالم کے تو سط سے میری مذہبی سکالروں ، تمام سیاسی پا رٹیوں کے راہنماءوں اور اس معاشرے کے درد رکھنے والے لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ حکومت کو اس بات پر مجبور کر دیں کہ وطن عزیز میں کم ازکم اپنے ٹی وی چینلز پر ایسے پروگراموں سے گریز کیا جائے جو وطن عزیز میں مشرقی اسلامی اخلاقی اقدار کےلئے نُقصان دہ ہو ۔ ہ میں ایک مشرقی ملک ہونے کے ناطے ;74;oint ;70;amily systemیعنی مشترکہ خاندان کو رواج دینا چاہئے ۔ بد قسمتی سے آج کل ہم دنیاوی علوم سیکھنے پر حد سے زیادہ زور دے رہے ہیں ۔ مگر بد قسمتی سے ہم اپنی دینی علوم سیکھنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتے ۔

پرا نے دہلی میں فرقہ وارانہ فسادات

بھارت میں ہونے والے لوک سبھا چناءو میں نریندرامودی ایک بار پھر پانچ برس کےلئے دیش کے وزیر اعظم منتخب ہوئے دنیا کو یہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ اْنہوں یعنی مسٹر مودی;39;بی جے پی اورآرایس ایس سمیت بھارت کی تمام ہندو فرقہ ورانہ علبردار شدت پسند تنطیموں نے ;39;بھارت کو ایک ہندو دیش;39; بنانے کے کیسے کیسے جنونی نعرے نہیں لگائے مسلمانوں کے خلاف انتخابی ریلیوں میں بھارتی نڑاد مسلمانوں اور بالخصوص پاکستان دشمنی میں کیا کیا بڑکیں نہیں ماری گئیں جس کی ابتدا مودی اور اْن کے حواریوں نے عین انتخابات کے آغاز پر بھارتی خفیہ ادارے ;39;را;39; کو استعمال کرکے پلوامہ خود کش حملے کا الزام میں پاکستان کو کیسے ملوث کیا گیا;238; پلوامہ خود کش حملہ کی اب تک شفاف اورغیر جانبدار تحقیقات صرف اس وجہ سے نہیں کرائی جارہی ہیں کہ کہیں نہ کہیں اس حملہ کی مشکوک کڑیاں بھارتی انتظامیہ کے اندر کے یقینا جاملتی ہیں آج یہاں ہمارا مدعا یہ ہے کہ اگلے پانچ برس کے لئے دوبارہ منتخب ہونے والے وزیراعظم مودی نے اب تک ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل نہیں آج بھی دنیا کے غیر متعصب اور غیر جانبدار میڈیا کے ذراءع یہی کہہ رہے ہیں کہ آر ایس ایس ایک کثیر المذاہب;39;کثیر الثقافتی;39;کثیر النسلی اور ذات پات کے غیر انسانی ماحول کے شکنجے میں دبے ہوئے ملک کو;39;ایک ہندو راشٹریہ دیش;39;بنانے کے اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کی دوبارہ سے کیل کانٹوں سے لیس ہوکر کوششیں شروع کردی گئی ہیں ہم پاکستانی اور دنیا کے پْرامن طبقات آج تک نہیں بھولے کہ آرایس ایس کے ایک جنونی قاتل ;39;گوڈسے;39; نے دیش کے سب سے پہلے عدم تشدد کی علامات سمجھنے والے گاندھی جی کو کس بیدردی سے گولی مار کر شہید کردیا گیا تھا حس ہوگئی جناب، گزرے ان انتخابات میں بی جے پی نے بھارت میں بدنام ترین جنونی اور عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہونے والی ایک ساگھویہ پرگیہ دیوی کو کو بھی لوک سبھا کا ٹکٹ دیدیا اور جو چناو جیت چکی ہیں جن کا نعرہ یہی ہے کہ بھارت صرف ہندووں کا دیش ہے غیر ہندووں کو بھارت کی سرزمین فورا چھوری دینی چاہیئے یوں تو اس منافرانہ زہریلی سوچ رکھنے والے سبھی جنونی کارسیوک برصغیر کی آزادی سے پہلے ہی اس دیش کو ;39;ہندوراشٹریہ دیش;39;بنانے کے خواب دیکھ رہے تھے لیکن اْن کا یہ خواب آج تک خواب ہی رہا یہ بڑا المیہ ہے کہ دنیا میں مذاہب کی تفریق کے نام پر ابھرنے والے ہر جنونی تشدد کو غیر انسانی رویہ کہہ کر اس کی کھلی مذمت کی جارہی ہے دنیا کے پْرامن طبقات جو عالمی سطح کی سیاسی وسفارتی چوکیداری کرنے میں ہمہ وقت اپنے آپ کو نمایاں رکھتے ہیں وہ نریندرامودی جیسے انتہا پسند جنونی مذہبی منافرت رکھنے والی سوچ کے حامل شخص کے بھارت میں دوبارہ انتخاب جیتنے پر جہاں اْس کی ہلہ شیری کررہے ہیں یا اْسے ;39;مبارک باد;39; دے رہے ہیں اْس سے یہ سوال نہیں کریں گے کہ وہ پاکستان کے مشرقی بارڈر پار اپنے ملک میں مذہبی عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کو مزید بڑھاوادے گا یہ ایسے غیر انسانی سانحات اور المیوں سے بھارت کو آئندہ کےلئے محفوظ بنانے کی کوئی اپنی انسانی ذمہ داری نبھائے گا یا نہیں ;238; دنیا کوشش کرلے مگر ہم پاکستانیوں کو اور مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسلمانوں کو ایسا ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا بھارت میں صدیوں سے رہنے والے کروڑوں مسلمان اگلے پانچ برس کےلئے ہونے والے لوک سبھا کے چناءو کے بعد مودی کو دوبارہ وزیراعظم بننے پر شدید خوف وہراس کی کیفیت میں مبتلا ہیں اْس کی کچھ بنیادی وجوہات ہم پاکستانیوں سے زیادہ بھارت میں آباد مسلمان برابر محسوس کررہے ہیں اگلے پانچ برس مودی صاحب کیا اقدامات کریں گے یہ تو وقت بتائے گا کیونکہ اْنہوں نے اپنے گزشتہ پانچ برسوں کے دوران بھارتی مسلمان جو ایک واضح اکثریتی ;39;اقلیت;39; ہے اْن کے ساتھ امتیازی برتاو کتنا برتا جارہا ہے ایک اندازے کے مطابق مودی کی حکومت نے اپنے گزشتہ پانچ برس سب سے پہلے آر ایس ایس سے ہمدردی رکھنے والوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا مودی کابینہ میں سادھو اور سادھوی شامل ہوئے;39; بی جے پی نے انڈین کونسل آف ہسٹو ریکل ریسرچ، سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج بورڈ آف انڈیا، فلم اینڈٹیلی ویڑن انسٹیٹیوٹ آف انڈیا، جیسے اہم اداروں کے اہم عہدوں کے علاوہ مختلف ریاستوں کے گورنروں کے عہدوں پر سو یم سیوکوں کو فائز کیا گزشتہ پانچ برس کے دوران وزیراعظم کے علاوہ ان کی کابینہ کے سات ارکان ایسے تھے جن کی پوری جوانی آر ایس ایس کے سرگرم سیوک کی حیثیت سے گزری ہے مودی حکومت کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ آر ایس ایس کو خوش کرنے کےلئے دریائے سرسوتی کی محکمہ آثار قدیمہ کی مدد سے تلاش کروا رہی ہے جس کا اب تو نام و نشان تک مٹ گیا ہے اس دریا کا ذکرصرف ہندووَں کی کتابوں میں موجود ہے مودی حکومت اپنے گزرے اقتدار کے برسوں میں سب سے پہلے ملک کی 31اسمبلیوں کے منجملہ کم سے کم 20پر قبضہ کرنے کی کوششوں میں رہی اْس وقت 11پر اسکا قبضہ تھا اس کام کو پوراکرنے کیلئے آر ایس ایس کی تمام ذیلی تنظیموں نے اپنے کیڈر کو ضرورت سے زیادہ متحرک کر دیا تھا گزشتہ70برسوں کے دوران پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ ملک میں مسلم ووٹوں کی اہمیت ختم ہوتی جارہی ہے کوئی جماعت اگر مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کو اسطرح ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ اقلیتوں کو خوش کر رہی ہے نتیجہ میں اس پارٹی کو اکثریتی ووٹوں سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہوجاتا ہے بتایا جاتا ہے کہ اس سلسلے میں آر ایس ایس اور بی جے پی نے دو مرحلوں کی حکمت عملی بھی تیار کی ایک تو قومی سطح پر انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا(جو حاصل کی جاچکی ہے)اور دوسرے یہ کہ ریاستوں کی اسمبلیوں پر قبضہ کر کے ایوانِ بالا یعنی راجیہ سبھا میں بھی اکثر یت حاصل کرنا ضروری ہوگا ملک میں سیاسی، سماجی، تہذیبی تبدیلی لانے کےلئے صرف مرکز پر اقتدار کافی نہیں ہے اس کےلئے ریاستوں میں بھی اقتدار پر ہونا ضروری ہے آر ایس ایس کے جنرل سیکرٹری نے راءٹر کو بتایا کہ 2014کی فتح صرف ایک شروعات ہے اور ہمارے طویل مدتی مشن کا نقطہ آغاز بھی ہے جیسے اْوپر بیان ہوا کہ چاہے بھارت کی مرکزی حکومت ہو یا ریاستیں حکومتیں یہ جگہ یہ پوائنٹ بہت سختی سے نوٹ کیا جاتا ہے کہ پولیس کے محکمہ میں کسی مسلمان تو درکنار کسی بھی غیر ہندو اور جو آرایس ایس کی سفارش لائے صرف اْسی کو پولیس اور نیم پیرا ملٹری فورسنز میں بھرتی کیا جائے یہ ہے آرایس ایس کا نیابھارت جہاں اب نئی دہلی سے لیکر واہگہ تک اور واہگہ سے لیکر;39;سیون سسٹر ریاستوں اور بنگال تک اور لداخ سے ممبئی کے ساحلوں تک ایک فرقہ ورانہ ہندو دیش کے قیام کو ممکن بنانے کی مذموم کوشش;238;جس کی ایک تازہ جھلکیاں بطور نمونہ اب آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہوچکی ہیں نئی دہلی سے منسلک پرانی دہلی کے علاقے لال کنواں محلہ،جامع مسجد محلہ، چاندنی چوک اور ان سے جڑے ہوئے دیگر علاقوں میں گزشتہ ہفتہ سے تادم تحریر ایک بہت ہی معمولی سے اختلاف کو بہانہ بناکر ;39;ہندومسلم کشیدگی;39; پیدا کی گئی جہاں ایک مسلم نوجوان نے 30 جون کی رات اپنی موٹر سائیکل غلط پارک کی جسے وجہ بناکر بجرنگ دل کے غنڈے جو رات گئے تک گلیوں اور چوراہوں پر بیٹھے رہتے ہیں ہر آنے جانے والے مسلمانوں پر جملے کستے ہیں دوہفتے ہونے کو ہیں مقامی پولیس نے اب تک کئی شکایات اْن تک پہنچائی جانے کے باوجود بجرنگ دل کے ہندو غنڈوں کی غنڈہ گردی اور مسلمان نوجوانوں کو تشدد کرنے کی ایف آئی آر تک درج نہیں کی ہے پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اورلال کنواں سمیت پرانی دہلی کے ان علاقوں کے مسلمان عوام خوف وہراس کے عدم تحفظ کا شکار ہیں اگر دہلی حکام نے یونہی مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھی اور علاقہ میں کشیدگی اور خوفزدگی کا یہی مہیب ماحول برقرار رہا چونکہ یہاں کا کاروبار ایک ہفتے سے بند ہے اور تنازعہ بڑھا تو علاقہ میں فسادات کی آگ بھڑک سکتی ہے چونکہ اب دوسرے علاقوں سے بھی مسلمان اس علاقہ میں آنا شروع ہوگئے ہیں دونوں اطراف سے پْرجوش مذہبی نعرے بازیاں ہورہی ہیں اور دہلی حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی جسے وہ بھنگ پئے ہوئے ہو اور;39;مودی زندہ باد ۔ ہندوایکتا زندہ باد;39; کے نعروں کی تپش کے جواب میں کبھی بھی مسلمانوں کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑے گا لہٰذا نئی دہلی کی حکومت فوراً ہوش کے ناخن لے کیونکہ پرا نے دہلی میں ایک ;39;فرقہ ورانہ فسادات کے شروع ہونے کےلئے ماحول پوری طرح پک چکا ہے ۔

سابق حکمرانوں کی شاہ خرچیاں ، بے نامی جائیدادیں ، احتساب جاری

ماضی میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ قومی خزانے کو ہر آنے والے حکمران نے اپنا ذاتی خزانہ سمجھا اور وہاں سے مال نکال کر خوب گلچھرے اڑائے اس میں چاہے علاج معالجے کیلئے رقم درکار ہو ، بیرون ممالک کے دوروں کیلئے رقم درکار ہو، خریدوفروخت کیلئے رقم درکار ہو یا دیگر ذاتی اخراجات کیلئے رقم درکار ہو، سرکاری خزانے کے دروازے ان کیلئے ہمیشہ ’’وا ‘‘رہے ۔ یوں عوام کے خون پسینے کی کمائی سابقہ حکمران اللے تللوں میں اڑاتے رہے اور عوام مہنگائی کی چکی میں پستی رہی ۔ اب حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ گزشتہ دس سالوں کے دوران جن حکمرانوں نے قومی خزانے کو اپنا ذاتی خزانہ سمجھ کر اڑایا ان سے اس کاحساب کتاب لیا جائے گا ۔ ملک کی کمزور ترین معیشت قرضوں میں ڈوبی رہی اور یہ ظالم حکمران عوام کے حقوق پر ڈاکے ڈالتے رہے اپنی طرز زندگی شاہانہ گزاری، عوام کسمپرسی کی زندگی گزارتی رہی ۔ جس کے ہاتھ جتنا چڑھا اسی نے اس کو اپنے لئے حلال اور جائز سمجھا اب چونکہ حکومت پاکستان کو فری کرپشن کرنے کی خواہاں ہے اسی وجہ سے وہ تمام حساب کتاب لے رہی ہے ۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیاکوبریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ کابینہ نے گزشتہ 10 سال کے دوران سابق صدور آصف زرداری، ممنون حسین، سابق وزراء اعظم نواز شریف ،یوسف رضا گیلانی، راجہ پرویز اشرف اور شاہد خاقان عباسی کی سکیورٹی، انٹرٹینمنٹ اور کیمپ آفسز پر عوام کے پیسے کو بےدردی سے خرچ کرنے کی روش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ کیا ہے کہ ان سابقہ حکمرانوں سے ذاتی اخراجات وصول کئے جائیں گے وفاقی کابینہ نے ریکوڈک معاملہ پر عالمی عدالت کے فیصلہ کے جائزہ اور ذمہ داران کے تعین کیلئے وزیر قانون کی سربراہی میں خصوصی کمیٹی کے قیام، 14 اگست سے پلاسٹک بیگز پر پابندی کے قانون، اسلام آباد ہیلتھ کیئر فیسیلیٹیز مینجمنٹ ایکٹ، خوردنی تیل پر عائد ٹیکس سات فیصد کو کم کرکے 2 فیصد کرنے، ای کامرس پالیسی فریم ورک، سکوک بانڈ اور یورو بانڈ کے اجراکیلئے لیگل ایڈوائزر کی تعیناتی، توصیف ایچ فاروق کو چیئرمین نیپرا محمد شہباز جمیل کو صدر زرعی ترقیاتی بینک اورڈاکٹر ناصر خان کو نیوٹیک کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقررکرنے کی منظوری دےدی وزیراعظم عمران خان نے آٹے اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیتے ہوئے وزرا اعلی اور چیف سیکرٹریز سے مہنگائی پر وضاحت طلب کرلی ہے، وزیراعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت تاجروں سمیت تمام اسٹیک ہولڈروں سے ان کے مسائل اور مشکلات بارے بات چیت کیلئے تیار ہے لیکن رجسٹریشن کے معاملہ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔ کابینہ کو برطانوی اخبار میں شاءع ہونے والی رپورٹ کے بارے میں تفصیلی طور پر آگاہ کیا گیا ۔ کابینہ نے اس بات کا سخت نوٹس لیا کہ بعض عناصر کی جانب سے ضروری اعداد و شمار کی تفصیلات فراہم کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا جا رہا ہے ۔ کابینہ نے اس امر کا اعادہ کیا کہ ایسے عناصر کے خلاف آئندہ سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔ ادھر معاون خصوصی وزیراعظم شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ حسن نواز، حسین نواز، سلیمان شہباز اور علی عمران اشتہاری ملزم ہیں ان کی جائیدادیں ضبط کی جائیں گی وہ وزیر بحری امور علی زیدی اور حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس کررہے تھے ۔ شہزاد اکبر نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے بے نامی جائیدادیں سیل کرنے کی سفارش کی تھی اور اب تک کارروائی کے دوران 32 کمپنیوں کے اثاثے سیل کردئیے گئے ہیں ۔ ان کمپنیوں میں شوگر ملز اور سیمنٹ فیکٹریاں شامل ہیں ، اومنی گروپ کیس میں بہت سی جائیدادوں کو منجمد کیا گیا ۔ ٹھٹھہ سیمنٹ سمیت مختلف کمپنیوں کے بے نامی شیئرز بھی فریز کردئیے گئے ۔ زرداری کی بے نامی کمپنیوں کی تعداد 32 ہے جن میں شوگرملز، اور سیمنٹ فیکٹریاں شامل ہیں ۔ 60دن میں جائیدادوں کی ملکیت کے ثبوت پیش نہ ہوئے تو ضبط کرلی جائیں گی اور ان بے نامی جائیدادوں کوفروخت کردیا جائے گا ان سے حاصل ہونے والا پیسہ سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے گا ۔ ہم نے اربوں روپے کی بے نامی جائیدادیں پکڑی ہیں ، پاکستان میں ایک بے نامی بینک بنایا گیا ، عارف بینک اور اٹلس بینک کوضم کرکے سمٹ بینک بنایا گیا، سمٹ بینک کے شیئرز کو بھی سیل کردیا گیا ہے اب اگلی باری حدیبیہ کی ہے وہ بھی بے نامی ہے ۔ حکومت کے یہ اقدام بہترین ہیں صرف ان کو یہاں تک ہی محدود نہیں رہنا چاہیے ہر جانب اور بلا تفریق تحقیقات ہونی چاہیے جس کی بھی بے نامی جائیداد ہو 60 دن کے اندر اندر ضبط کرکے نیلام کردی جائیں ۔

شرح سود میں ایک فیصد اضافہ،مہنگائی کی نوید

اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے ساتھ ہی گورنر اسٹیٹ بینک نے کہہ دیا کہ مہنگائی میں اضافہ ہوگا صرف مہنگائی میں ہی نہیں اس سے معیشت اور صنعتیں بھی تباہ حال ہوں گی کیونکہ اس خطے میں سب سے زیادہ شرح سود ہمارے ملک میں ہے جس سے معیشت مضبوط نہیں ہوسکتی ۔ اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کا اضافہ کردیا جس کے باعث قرضوں پر چلنے والی صنعتوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کی پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوجائے گا، اس بات کا اعلان گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے اسٹیٹ بینک ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس میں کیا، ان کا کہناہے کہ مہنگائی اندازے سے زیادہ ہے، اگلے سال نیچے آئے گی، شرح سود میں ایک فیصد اضافہ کردیا جو 13;46;25فیصد ہوگئی، پالیسی ریٹ 100بی پی ایس بڑھ گیا،رواں مالی سال مہنگائی میں 12فیصد تک اضافے کا خدشہ ہے،آئندہ 2، 3ماہ میں گیس، بجلی اور دیگر کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافے کا امکان ہے،مالی سال 19 میں مہنگائی بڑھ کر 7;46;3 فیصد ہوگئی ۔ دوسری طرف حکومت نے اسٹیٹ بینک سے قرض لینے کا سلسلہ بھی ختم کرنے کا عزم کیا ہے جس سے مہنگائی کے منظرنامے میں معیاری بہتری آئے گی ۔ دوم، آئی ایم ایف کی توسیعی فنڈ سہولت کے تحت پہلی قسط کی موصولی، تیل کی سعودی سہولت کے بروئے کار آنے اور کثیر طرفہ و دوطرفہ شراکت داروں کی جانب سے امداد کے دیگر وعدوں کے نتیجے میں بیرونی مالکاری کا منظر نامہ مزید مضبوط ہوا ہے ۔ جاری کھاتے کا خسارہ مسلسل گھٹ رہاہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بیرونی دباءو میں کمی آتی جارہی ہے ۔

ملک کو معاشی مسائل درپیش

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوزکے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام’ ’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو اس وقت معاشی مسائل بھی درپیش ہیں ،حالات کی بہتری میں موجودہ حکومت کو بھی کریڈٹ جاتا ہے، یہاں تو نہ سزا ہے اور نہ جزا ہے اس ملک کے اندراندھیر نگری ہے، غریب آدمی تو مر رہا ہے ،عمران خان بھی چاہتے ہیں کہ ملک ترقی کرے، شرح سود میں اضافہ سے کاروبارپر اثرپڑے گا،اس وقت معاشی مسائل درپیش ہیں ،کسی کی بھی ویڈیو ریکارڈ کرنا زیادتی ہے،اگر شہباز شریف سچے ہیں تو انہیں قانونی چارہ جوئی کرنی چائیے، تاجر تو ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ،تاجر کرپٹ نہیں ادارے کرپٹ کرتے ہیں ،ہم کہتے ہیں مدینہ کی ریاست ہوگی ،مدینہ کی ریاست میں سود کانظام تو نہیں ہوتا ۔

Google Analytics Alternative