کالم

آزادی مارچ ،حکومت نے مذاکرات کیلئے کمیٹی تشکیل دیدی

کامیاب جمہوریت ہمیشہ اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلتی ہے ۔ اس کے جائز مطالبات سنتی ہے اور ان کو حل بھی کرتی ہے ۔ احتجاج کرنا اپوزیشن کا حق ہوتا ہے اور دنیا بھر میں اپوزیشن کے احتجاج کو روکا نہیں جاتا ۔ البتہ اسے آئین و قانون کی حدود میں ہونا لازمی ہے ۔ جب بھی قانون کو ہاتھ میں لیا جاتا ہے تو پھر لامحالہ ریاست حرکت میں آتی ہے ۔ اب حکومت مولانا فضل الرحمن سے مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن ایسے میں مولانا ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے یں جوکہ جمہوریت کے بھی اور آئین کے خلاف ہے ۔ وفاقی حکومت نے جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات کیلئے وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دیدی جو اپوزیشن سے اس کے مطالبات پر مذاکرات کرے گی ۔ کور کمیٹی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی قسم کا انتشار کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے گا،ملک کو اس وقت اور بھی خطرات درپیش ہیں ،حکومت اپوزیشن کے جائز مطالبات ضرور سنے گی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمن کے ;200;زادی مارچ کا معاملہ حکومتی اور پارٹی سطح پر زیر بحث لانے کا فیصلہ کیا ، اس سلسلے میں وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت کورکمیٹی کا اجلاس بنی گالہ سیکرٹریٹ میں ہوا ۔ کور کمیٹی نے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں فوری بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا ۔ وزیراعظم عمران خان نے شرکاء کو سعودی عرب، ایران اور چین کے دوروں پر اعتماد میں بھی لیا ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی قسم کا انتشار کشمیر کاز کو نقصان پہنچائے گا،ملک کو اس وقت اور بھی خطرات درپیش ہیں ،ہم کشمیریوں کا مقدمہ عالمی فورمز پر لڑ رہے ہیں ، حکومت کو معیشت اور کشمیر جیسے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے،حکومت اپوزیشن کے جائز مطالبات ضرور سنے گی ۔ وزیر دفاع پرویزخٹک نے کہا کہ اگرمولانا فضل الرحمان مذاکرات نہیں کرناچاہتے تویہ ملک کیخلاف سازش ہوگی،مذاکرات کرنے سے مولاناکی عزت کم نہیں ہوگی ،بندگلی میں جائیں گے توپھرکسی کے ہاتھ کچھ نہیں ;200;ئےگا ،انہیں مذاکرات کرناہوں گے، ڈکٹیٹرنہ بنیں جمہوری اندازاپنائیں ، ان کاون پوائنٹ ایجنڈاوزیراعظم کوہٹاناہے جوممکن نہیں ،اگریہی رویہ رہا تو پھر بات چیت کیسے ہوگی پرامن احتجاج سب کاحق ہے لیکن احتجاج سے ملک کونقصان ہواتوایکشن لینا پڑےگا ۔ دوسری جانب جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کیساتھ مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفیٰ سے قبل حکومت سے مذاکرات نہیں ہوں گے، اداروں سے تصادم نہیں چاہتے، قوم نے 10ماہ میں جعلی الیکشن کے نتاءج دیکھ لئے ہیں ، 400ادارے بیچے جارہے ہیں ، اب پوری قوم کی ایک ہی ;200;واز ہے نئے الیکشن کرائے جائیں ، انتخابات کے بعد جو بھی نتاءج ہوں اور جو بھی جیتے نتاءج ہم قبول کریں گے،حکومتی لوگ غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں ، حکومت کے تمام حربے ناکام ہوچکے ، ;200;ئین کی حکمرانی اور اداروں کا حدود میں رہ کر کام کرنے کے مطالبے پر دوسری رائے نہیں ہوسکتی ۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کے استعفے کی صورت میں ہی مذاکرات کریں گے ۔ ;200;ئین کی حکمرانی اداروں کا حدود میں رہ کر کام کرنے کے مطالبے پر دوسری رائے نہیں ہوسکتی ،قوم نے دس ماہ میں جعلی الیکشن کے نتاءج دیکھ لئے چارسو ادارے بیچے جارہے ہیں ،عوام کی ایک ہی ;200;واز ہے ،نئے الیکشن کرائے جائیں ، جو بھی نئے الیکشن کے بعد جیتے نتاءج قبول کریں گے، حکومتی لوگ غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں ، حکومت کے تمام حربے ناکام ہوچکے ہیں ۔ کسی ادارے نے عوام کا راستہ روکنے کی کوشش کی تو یہ ادارے ریاستی نہیں کسی کے لئے استعمال ہورہے ہیں ۔ اداروں سے تصادم نہیں چاہتے ۔ انہوں نے کہا کہ اداروں کو بتانا چاہتا ہوں کہ اگر مارشل لاء کی کوشش کی گئی تو ;200;زادی مارچ کا رخ ان کی طرف موڑ دیا جائے گا، حکومت کے استعفے کے علاوہ مذاکرات نہیں ہوسکتے ۔ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا موجودہ صورت حال میں گول میز کانفرنس بلائی جائے، تمام ادارے اپنی ;200;ئینی حدود میں کام کریں ، ;200;زادی مارچ میں بھرپور شریک ہونگے ، ہ میں کسی کی شکل پسند کا مسئلہ نہیں ،پاکستان دن بدن تنہا ہورہا ہے ، اس خطرناک صورتحال میں سب مل کر بات کریں ، میں مولانا فضل الرحمن کو اس گول میز کانفرنس میں لیکر ;200;ءوں گا، ہم ;200;زادی مارچ میں شرکت کریں گے، ہم مارچ کا استقبال کریں گے ۔

18 ویں ترمیم کے حوالے سے ایس کے نیازی کی تجویز کی پذیرائی

ملک کی تینوں بڑی جماعتوں نے معروف اینکر پرسن ایس کے نیازی کی 18ویں ترمیم کی از سر نو غور کی تجویز کی حمایت کر دی ، پروگرام’’ سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے آرگنائزر رکن قومی اسمبلی اور چیئرپرسن قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ امین الحق نے کہا کہ کراچی کے تمام مسائل اس سبب ہیں کہ سندھ حکومت 18ویں ترمیم کے تحت ملنے والے اختیارات لوکل گورنمنٹ کو دینے کیلئے تیار نہیں ، پیپلز پارٹٰ کے رکن قومی اسمبلی سابق وفاقی وزیر یوسف تالپور نے کہا کہ 18ویں ترمیم پر پارلیمنٹ میں بحث کرائی جا سکتی ہے ، پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی آفتاب جہانگیر کا کہنا تھا کہ وہ جس سے بھی بات کریں ہر مسئلہ کی رکاوٹ 18ویں ترمیم کو قرار دیتا ہے ، میزبان ایس کے نیازی نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ صوبوں کو اختیارات کی منتقلی کی حمایت کرتے ہیں مگر 18ویں ترمیم کی وجہ سے اختیارات کی تقسیم کی کھینچا تانی ختم کرنے کیلئے اس پر غور ناگزیر ہے ۔ سندھ حکومت تمام اختیارات اپنے پاس رکھتی ہے ، کسی کو اختیارات منتقل کرنے کیلئے تیار نہیں ،وفاق کی جانب سے سندھ حکومت کو 832ارب روپے دیے جاتے ہیں ،کراچی میں 2سے 3روز بارش ہونے سے شہر میں سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے ۔ رکن قومی اسمبلی ایم کیو ایم ، چیئرمین قومی اسمبلی کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ امین الحق نے کہا کہ سندھ اور کراچی کیلئے ملنے والا پیسہ جعلی اکاوَنٹس میں چلا جاتا ہے،سندھ حکومت کو کراچی ، حیدر آباد سمیت صوبے کے تمام اضلاع میں پیسہ خرچ کرنا چاہیے،سندھ حکومت کو ملنے والے 832ارب روپے سے کوئی ترقیاتی منصوبہ شروع ہوتا نظر نہیں آتا،18ویں ترمیم پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے،سندھ حکومت نے میئر کراچی سے تمام اختیارات چھین لیے ہیں ،رکن قومی اسمبلی پی ٹی آئی آفتاب جہانگیر نے کہا کہ کراچی شہر وفاقی ، صوبائی اور شہری حکومت کے درمیان پھنس چکا ہے،مصطفی کمال کراچی کے میئر تھے تو ان کو تمام اختیارات حاصل تھے،18ویں ترمیم کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے،ہم جب بھی 18ویں ترمیم پر بات کرتے ہیں پی پی پی قیادت اشتعال میں آ جاتی ہے،سندھ میں کسی بھی مسئلے پر بات کر لیں 18ویں ترمیم رکاوٹ بن جاتی ہے،ملک کی معاشی صورتحال بہتر ہو رہی ہیں ، ہم ڈلیور کر کے دکھائیں گے ۔ رکن قومی اسمبلی پاکستان پیپلز پارٹی نواب یوسف تالپور نے کہا ہے کہ کراچی میں صفائی مہم جاری ہے، وزیراعلیٰ مراد علی شاہ خود اس کی نگرانی کر رہے ہیں ،تسلیم کرتا ہوں کہ نئے بلدیاتی قانون سے منتخب نمائندوں کے اختیارات کم ہوئے ہیں ،وفاق کو اختیارات صوبائی حکومت ، اور صوبوں کو بلدیاتی نمائندوں کو منتقل کرنے چاہئیں ۔

ایل او سی پر بھارت کی

پھر بلا اشتعال فائرنگ

بھارتی فوج کی لیپہ سیکٹر پرسویلین آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری متعدد رہائشی مکانات تباہ، دو افراد شدید زخمی ہو گئے ۔ پاکستان نے بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے،بھارتی گولہ باری کا پاک فوج نے منہ توڑجواب دیا،بھارت کی جانب سے سیزفائرمعاہدےکی خلاف ورزی پربھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفترخارجہ طلب کر کرے احتجاج کیا ۔ بھارتی فوج نے لیپا وادی میں سویلین آبادی پر بلا اشتعال گولہ باری شروع کر دی جس سے لبگراں میں تین رہائشی مکانات تباہ ہو گئے ہیں ۔ اسکول کے قریب گولہ پھٹنے سے دوطالب علم انور مغل اور عمر شدید زخمی ہو گئے ہیں جن مقامی ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد کے بعد سی ایچ مظفرآباد ریفر کر دیا گیا ہے ۔

امید کے نخلستان سے نکلا کالم

وہ ایک مزدور تھا ۔ اسے اپنے مختصر سے کنبے کےلئے ایک کمرہ بنانا تھا ۔ اس کمرے کو ہم کوٹھا بھی کہہ سکتے ہیں ۔ میں بھی اسے کوٹھا ہی کہوں گا ۔ اسے کو ٹھا بنانے میں مشکل یہ درپیش تھی کہ اس کا دروازہ کس طرف کو رکھا جائے کیونکہ کوٹھے کے مغرب کی جانب ایک گھنا جنگل تھا اور مشرق کی طرف ایک بہت بڑی چٹان تھی جو دھوپ اور روشنی روک لیتی تھی ۔ اس نے کچھ دیر سوچا اور پھر کوٹھے کا دروازہ،چٹان کی سمت رکھ دیا ۔ کوٹھا تعمیرہو گیا تواس کی بیوی نے کہا!اس برفیلے موسم میں دھوپ کدھر سے آئے گی ۔ اس نے کچھ سوچتے ہوئے پر عزم لہجے میں جواب دیا، اس چٹان کو یہاں نہیں ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مگر یہ تو بہت بڑی ہے ۔ ۔ ۔ تم اسے کیسے ہٹاوَ گے ۔ ۔ ۔ میں اسے یہاں سے ہٹا دوں گا ۔ ۔ جواب سن کر بیوی بچے ہنس پڑے مگر وہ سنجیدہ تھا ۔ اس نے چٹان کو توڑناشروع کر دیا ۔ اسے دن رات میں جتنا وقت بھی ملتا، بڑی مستعدی سے مسلسل پتھر توڑتا رہتا ۔ اب تو اس کی دھن اور لگن دیکھ کر اس کے بیوی بچے بھی اس کے ساتھ شریک ہو گئے تھے ۔ ۔ ۔ وقت گزرتا رہا ۔ ۔ ۔ تیشہ چلتا رہا ۔ ۔ ۔ پتھر ٹوٹتے رہے ۔ ۔ ۔ اور آخر ایک دن ایسابھی آیا جب اس کے کوٹھے اور سورج کے درمیان حائل ہونے والی وہ چٹان نیست و نابود ہو گئی تھی ۔ سورج کی تمازت بھری کرنوں کو کوٹھے میں جاتادیکھ کروہ بہت طمانیت محسوس کر رہا تھا ۔ وہ خوشی سے سب کو بتا رہا تھا کہ اس نے وہ چٹان توڑ ڈالی ہے جو اس کے کوٹھے اور سورج کے درمیان حائل تھی اوراب اس کا مکان مکمل ہو گیا ہے ۔ ۔ ۔ یہ تو وہ کہانی تھی جسے گراں خواب، افیونی چینی قوم کے عظیم لیڈر ماوزے تنگ نے لکھا تھا ۔ اس سبق آموز کہا نی کوماوَ اور اس کے انقلا بی ساتھیوں نے اپنی طویل محنت اور جدوجہد سے آخر کار سچ کر دکھا یا اور چین ایک طاقتور اور عظیم ملک بن کر دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا ۔ چینی قوم کو آزاد،خود مختار،بیدار مغز اور مستحکم بنانے میں ماوَ اور اس کے ساتھیوں کا کردار لازوال ہے اورآج چین کی تاریخ کا ہر طالب علم ماضی اور حال کے چین کو دیکھتا ہے تو حیرت واستعجاب سے تصویر بن جاتا ہے ۔ ۔ ۔ میں حیران ہوں کہ ایک ایسی ہی جدوجہدکی کہانی کو ہمارے بابائے قوم نے بھی عملی جامہ پہنایا تھا ۔ ان کے ساتھ تو برصغیر کے کروڑوں افراد کھڑے تھے جوہاتھ میں ہاتھ دیے عزم وحوصلے کی داستان رقم کر رہے تھے مگر پھر کیا ہوا;238; پاکستان بننے کے بعد قوم کیوں تقسیم ہونا شروع ہوگئی;238;تحریک پاکستان کے دوران لسانی عصبیتیں موجود تھیں نہ ہی صوبائیت کا غلغلہ تھا ۔ پھر آہستہ آہستہ ان عصبیتوں نے سر اٹھایا اور نفرتوں کے زہر بھرے انجیکشن ہماری قوم کی رگوں میں اتارے جانے لگے ۔ ہم تضادات کا شکار ہوکر تقسیم ہوگئے ۔ دشمن قوتیں تو پہلے دن سے پاکستان کے خلاف تھیں ۔ انہیں آج بھی پاکستان کے وجود سے تکلیف ہے ۔ انہوں نے دو جنگوں کے ساتھ ساتھ ملک توڑنے کے سارے حربے آزما ڈالے ہیں مگر وہ یہ نہیں جانتے کہ ہمارے ملک پر اللہ کا خاص کرم ہے ۔ آج اگر ہمارے حکمران کرپشن فری معاشرہ کے لیے پرعزم ہیں تو دھرنوں کی سیاست چھوڑ کر انہیں موقع دینا چاہیے کہ وہ یہ کام کر کے دکھائیں اور جو مقاصد اور ایجنڈا لے کر آئیں ہیں وہ پورا کریں ۔ اس سب کے لیے دوسروں پر کیچڑ اچھالنے کے بجائے سب سے پہلے، ہ میں اپنے اندر شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرنا ہو گا ۔ شکرگزاری ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ یہ عمل جتنا سکون اور طمانیت بخشتا ہے کوئی عمل نہیں بخشتا ۔ شکرگزاری سے انسان کے اندر ٹھہراوَ اور صبر پیدا ہوتا ہے اور وہ منزل اور مقاصد کا درست ادراک بھی کرتا ہے اور صحیح منصوبہ بندی سے مقصد کے حصول کی کوشش میں مصروف ہوجاتا ہے ۔ بحیثیت قوم،انفرادی اور اجتماعی سطحوں پر ہم میں شکرگزاری کے جذبے کی کمی ہے ۔ اپنے نصیب پر خوش ہونے کے بجائے دوسرے کی خوش نصیبی پر کڑھتے ہیں ۔ ہم آگے جانے والے آگے جانے نہیں دیتے بلکہ اسے رستے گرانے کے منصوبے بناتے اور ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں ۔ حسد،بغض،نفاق،خودپسندی اور خود غرضی کازہر ہمارے معاشرے کی رگوں میں سرایت کر چکا ہے ۔ اس کا مظاہرہ ہ میں اپنے گھروں سے لے کر حکومتی سطح پر ہر کہیں نظر آتا ہے ۔ ہم شخصی خود غرضی اور مفاد پرستی کا شکار ہو کر قومی ہمدردی، قومی عزت اور قومی ترقی سے بے پروا ہو گئے ہیں ۔ ہمارے ذاتی مفادات وطن کی محبت سے بالا ترہیں تو مفاہمت اور کبھی منافقت کی دبیز تہیں ہماری کرپشن،بددیانتی اور بے ایمانی کو کیموفلاج کرتی نظر آتی ہیں ۔ نتیجہ یہ کہ بحیثیت قوم ہمارا سفر ابھی تک معکوس ہے ۔ یہ سفر معکوس اس لیے بھی ہے کہ ہم اپنے کام آدھی قوت ارادی اور آدھی طاقت سے کرتے ہیں ۔ ا ن صورتوں میں بھی ناکامی مقدر بن جاتی ہے ۔ ہم ہرچھوٹی کامیابی کوبھی حتمی کامیابی سمجھ لیتے ہیں ۔ ہمارا استاد صرف اپنا نصاب مکمل کرنا چاہتاہے تو ڈاکٹرکا مطمح نظر علاج معالجے کی بھاری فیسیں ہیں ،انجینئر کے لیے کسی گورنمنٹ یا پرائیویٹ سیکٹر میں جاب کافی ہوتی ہے توافسر شاہی محض اپنے پروٹوکول کو اہمیت دیتی نظر آتی ہے ۔ ہمارے مفادات اور پسند اور ناپسند کمترین سطح پر آچکی ہے ۔ پاکستان کی ترقی اور کامیابی کوئی یوٹوپیائی چیز ہوگئی ہے ۔ کامیابی چاہے شخصی ہو یا اجتماعی، منزل کے تعین کے بعد کا سفر ہمیشہ جاری وساری رہنے والا سفر ہونا چاہیے ۔ ایک منزل آجاتی ہے تو نئی منزلوں کے رستے پکار رہے ہوتے ہیں ۔ دنیا کی نظریں ہم پر لگی ہیں ۔ عالم اسلام بھی ہماری طرف دیکھ رہا ہے ۔ ہم نے عسکری لحاظ سے مضبوط ہونا ہے توسائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی نئی فتوحات کرنی ہیں ۔ ہم نے علم وادب کے میدان میں جھنڈے گاڑھنے ہیں تودین اسلام کے سنہری اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے،اسلام کی روشنی سے کفروشرک کی تاریکیوں کو بھی منور کرنا ہے ۔ لیکن اس کے لیے پہلے اپنے اندر سے نفرتوں کی چٹانوں کو پاش پاش کرنا پڑے گا ۔ شخصی عزت،شخصی محنت،شخصی ہمدردی اور شخصی ایمانداری کے اصولوں کی پاسداری کرنا پڑے گی ۔ ایک طرف کشمیر میں بھارتی ظلم وستم کے خلاف ہماری میڈیا وار عروج پر ہے تو دوسری طرف، حکومت ڈھانے کی کوششیں بھی کمال پرہیں ۔ اگر ہم سب اپنے گھر(پاکستان) میں پورے قد سے کھڑ ے ہو جائیں تو بھی ہمارے دروازے کے سامنے ایک چٹان نہیں بلکہ پورا پہاڑ کھڑا ہو گیا ہے اور ہ میں اس پہاڑ میں سرنگ نہیں کرنی بلکہ اپنے کوٹھے (پاکستان)کے سامنے سے پورا پہاڑ ہٹا نا ہے ۔ ہ میں اپنے’’عظیم ماءوزے تنگ‘‘ اور اس کے ساتھیوں کا ساتھ دینا ہوگا ۔

انسانی تاریخ کا سُلگھتا ہوا مسئلہ کشمیر

بہت کڑھنے خو ن کے آنسو بہانے کے با وجود غم ہے کہ ہلکا ہو نے کی بجائے بڑھتا ہی جا رہا ہے ۔ اور یہ صرف میری ہی نہیں ہر درد دل رکھنے والے انسان کی کیفیت ہے دکھ کی اس گھڑی میں میری نظر تاریخ عالم پر پڑ تی ہے ۔ تومجھے تاریخ کے ان صفحات میں بہت سے خونی جنونی درندہ صفت چہرے کبھی یزید کی شکل میں تو کبھی چنگیز خان ، ہلاکوخان ،امیر تیمور سے ہو تے ہو ئے روس کے سٹالن ،جرمنی کے ہٹلر ،سپین کے فرانکو ،اٹلی کے مسو لینی چلی کے پنو شے، ہٹی کے ڈویلر ;68;uvalierسے لے کر مشرق وسطیٰ کے آمروں تک ایک سے بڑھ کر ایک ظالم سفاک اور درندے کا مکروہ چہرہ نظر آتا ہے جنہوں نے ہزاروں نہیں لاکھوں بلکہ کڑروں بے گناہوں اور معصوموں کے خون میں ہاتھ رنگے بستیوں کی بستیاں اُجاڑ دیں انسانی کھوپڑیوں کے مینار بنا ئے اور پھر خود ایک روز مو ت کے ہاتھوں کچلے جا کر جہنم واصل ہوگئے ۔ لیکن آج بھی جہاں ظلم ہو تا ہے انسانی خون ارزاں ہو تا ہے وہاں ان مکروہ درندوں کا حوالہ بنتا ہے اور اب انہی قاتلوں ،جنو نیوں ،درندوں کی نسل سے ایک نام بھارتی وزیراعظم نریندر مو دی کا بھی ہے جس کے ہاتھ گجرات کے بے گناہ ،نہتے اور معصوم مسلمانوں کے خون سے رنگے ہو ئے ہیں ۔ اور اب وہ طاقت اور اقتدار کے نشے میں بد مست ہو کر اپنے ہی ملک کے قا نون اور آئین کو پا ئمال کر تے ہو ئے متنا زعہ اور مقبوضہ وادی کشمیر کے اسی لاکھ سے زائد افراد پر گزشتہ اناسی دنوں سے ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور انکی مر ضی و منشاء کے بر عکس انہیں پو لیس اور بگھوڑے فو جی گماشتوں کے ذریعے اُنکے گھروں میں قید کر کے جمہو ریت اور انسانیت کے سنہری اصولوں اقوام متحدہ کی قراردادوں ملکی اور غیر ملکی معاہدوں کی خلاف ورزی کر تے ہو ئے جبر کی نئی داستان لکھنے میں مصروف ہے سو چ رہا ہوں اس جدید دور میں جہاں انسان تو انسان کسی جانور پر ظلم کے خلاف بھی حکومتیں ،عوام ، ادارے اور عدالتیں اُٹھ کھڑے ہو تے ہیں وہاں انا سی دنوں سے ظالم و جابر واحشی و درندہ حکمران کس طرح پو ری دنیا کو ایک طر ف رکھ کر ایک سر سبز و شاداب وادی کو گو لہ و بارود کی بو میں لپیٹ کر زندہ انسانوں کا قبرستان بنانے میں لگا ہوا ہے ۔ سو چ رہا ہوں کہ ان انا سی دنوں کے ایک ہزار اٹھ سو چھیانوے گھنٹوں کے گیارہ لاکھ تین ہزار سات سو ساٹھ منٹوں کے ارسٹھ لاکھ پچیس ہزار چھ سو سیکنڈ وں میں یہ اسی لاکھ بیچارے کشمیری جن میں مرد و خواتین کے علاوہ بوڑھے ،بیمار ، بچے اور معذور بھی شامل ہیں کا ہر لمحہ ہر گھڑ ی ہر پل بے گناہی کی اس قید اور کر فیو میں کس طرح گزرتا ہو گا وہ اپنی ادویات اور خوراک اور دیگر ضروریات کو کس طرح پو رے کر تے ہو گے ۔ خو ف و جبر کے سایے میں وہ سن کی روشنی اور رات کی تاریکیوں میں کس طرح زندگی گزار رہے ہو گے اس کا اندازہ لگا نا اُن کے دکھ درد کو سمجھنا محسوس کر نا صر ف وہ لو گ ہی جان سکتے ہیں جو کبھی ایسے دردناک منظر سے گزرے ہو ۔ سو چ رہا ہوں کے اقوام متحدہ اور اس میں شامل مہذب ترقی یا فتہ مما لک سے لےکر عرب دنیا تک سب کے سب قاتل مو دی کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں ۔ امیر مما لک اس لئے خا موش ہیں کہ اُن کو بھارت کی اربوں ڈالر کی منڈی بات کر نے سے روکے ہوئے ہے جبکہ عرب حکمران اپنی ضرورتوں ، تنازعات اور مجبوریوں کے ہا تھوں مجبور ہیں ۔ جس سے کشمیر کا المیہ پو ری دنیا کے سامنے ایک سلگھتا ہوا سوال بن کر کھڑا ہوں ۔ سوچ رہا ہوں کہ تحریک پاکستان میں کامیابی جتنی کو شیشں مسلمانوں نے کی اُن سے کہیں ذیا دہ ولبھا بھائی پٹیل جیسے انتہا پسند کٹر ہندوءوں کی نفرت نے پاکستان بنانے کا مو جب بنی اور آج انتہا پسند کٹر نریندر مو دی نے مقبو ضہ کشمیر کا سٹیٹس تبدیل کر نے کیلئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 237اور بھارتی قانون کی دفاع 35;65;کو ختم کرکے کشمیر پر قبضہ کر نے کی سنگین تاریخی غلطی کر کے مسئلہ کشمیر کو ایک مر تبہ پھر زندہ کر دیا ہے اور کشمیر کی آزادی کی راہ دراصل بحال کر دی ہے ظلم کی سیا ہ رات طویل ضرور ہے لیکن اسکی روشن صبح جلد طلوع ہو نے والی ہئے ایک لاکھ کشمیروں کے قتل اور اتنی ہی تعداد میں زخمی اور اپاہج کشمیریوں کی داستانیں اور ان میں شامل بہادر خوا تین کی عز تیں اور عصمتیں قر بانیوں کی لازوال داستانیں ہیں جو انسانی تاریخ کے صفحا ت پر لکھی جارہی ہیں ۔ آزادی کشمیر کی تحریک اب کشمیر تک محدود نہیں رہی بھارت کی پانچ ریاستوں آڑیسہ ،تلگانہ ، خالصتانہ اور دیگر ریاستوں میں بھی بھارت سے آزادی حاصل کر نے کے نعرے بلند ہونا شروع ہو گئے ہیں تاریخ بتاتی ہے کہ جب انسان آزادی کیلئے نکلتے ہیں اور قربانیوں کی منزلیں طے کر تے ہوئے آگے بڑھتے ہیں تو طاقتور سے طاقتور حکمران گو لی بندوق اور توپے اُنکا راستہ روکنے سے عاجزہو جاتی ہیں اور یہ سلسلہ ہندوستا ن میں چل نکلا ہے اتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والا گہرا دھواں بتا رہا ہے کہ اندر سے نکلنے والا لاوہ مو دی کی انتہا پسندی کو غرق کر تے ہوئے ہندوستا ن کا نقشہ تبدیل کر دے گا آخری بات میں یہ بھی سوچ رہا ہوں کہ دو ایٹمی طاقتیں انسانی تاریخ اس سلگتے ہو ئے مسئلے پر اگر آمنے سامنے آگئی تو پھر ہندوستا ن کے طو ل و عرض میں نہ انسان نظر آئے گے نہ جانور نہ سبزا ہو گا نہ پھو ل کھلے گے نہ مندروں میں گھنٹیا ں بجے گی نہ پرندے چہچہائیں گے اور بات یہیں پر شاید نہ رُکے پوری دنیا جو آج اس مسئلہ پر خا موش بیٹھی ہے وہ بھی ایٹمی تابکاریوں سے محفوظ نہ رہ سکے گی اور یہ دونوں عالمی جنگوں سے بڑی تباہی ہو گی جس میں شاید صدیوں کے بعد انسان دو بارہ تمدن پر آسکے گا اس سے پہلے ایسا کچھ ہو پو ری دنیا کو مسئلہ کشمیر کی حساسیت پر تیزی سے غو ر کر نا ہو گاو رنہ پو ری دنیا اس انسانی المیے کا شکار ہو جائے گی ۔

مودی جی نوشتہ دیوار کیوں نہیں پڑھتے

پڑوسی ملک بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہ وہ پاکستان کا پانی روکے گا ۔ ریاست ہریانہ کے ضلع چرخی دادری میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کے پانی کا ایک ایک قطرہ استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ پانی بھارت کے کسان استعمال کریں اور اسکے لیے کام شروع کیا جاچکا ہے ۔ ان دریاؤں پر ہریانہ، راجستھان اور ملک کے دیگر علاقوں کا حق ہے، میں یہ کرکے رہوں گا ۔ یہ دھمکی پہلی بار نہیں جو دی گئی ہے، ہر چھ ماہ بعد انہیں ایسے پاگل پن کے دورے پڑتے رہتے ہیں ۔ جیسا وزیراعظم ویسے ہی اس کے ;200;رمی چیف اور اسکے سکیورٹی ایڈوائزر، انہیں بھی کوئی نہ کوئی پھلجھڑی چھوڑنے کی عادت ہے ۔ بھارتی آرمی چیف بپن راوت اور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت اپنی اگلی جنگ مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں سے نا صرف لڑے گا بلکہ اس جنگ میں اپنے دشمنوں کو شکستِ فاش دے کر اپنی عسکری برتری ثابت بھی کردے گا ۔ مقامی طور پر تیار کردہ ہتھیاروں کے دعوے بارے دونوں صاحبان نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کونسے ہتھیار ہیں جو تیار کر رہے ہیں یا اب تک کیے جا چکے ہیں ۔ ہر سال اربوں ڈالر کا گولہ بارود خریدنے والا بھارت دوسرا بڑا ملک ہے ۔ رافیل طیارے تو فرانس سے خریدے جا رہے ہیں جبکہ دوسرے طرف پاکستان تیزی کے ساتھ اس شعبے میں خود انحصاری کی طرف بڑھ رہا ہے ۔ پاکستان میں جے ایف تھنڈر طیاروں کی تھرڈ جنریشن پر کام جاری ہے جبکہ چند ماہ قبل 27فروری کو جے ایف تھنڈر طیاروں نے ہی بھارتی غرور کو خاک میں ملایا تھا ۔ رہی گئی بات نریندر مودی کے اس دھمکی یا دعوے کی کہ وہ پاکستان کا پانی روکے گا اوریہ پانی بھارت کے کسان استعمال کریں گے،شاید مودی جی اچھے دن ;200;ئیں کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے کچھ ہذیان بکنے لگے ہیں ۔ نریندر مودی یہی سبز باغ دکھا دکھا کر پہلی بار اقتدار میں ;200;ئے تھے اور دوسری بار بھی یہی لولی پاپ اپنی عوام کو دینے میں کامیاب ہو گئے ۔ اچھے دن ;200;ئیں کی ;200;س میں بھارتی عوام کے جیسے تیسے جو دن تھے وہ بھی ہاتھ سے نکل رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی معیشت کو ریورس گیئر لگ چکا ہے ۔ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق شرح نمو میں بھارت بنگلہ دیش اور نیپال سے بھی نیچے چلا گیا، عالمی بینک کے مطابق رواں برس بھارت کی شرح نمو 6;46;9 فیصد سے گر کر 6 فیصد تک رہنے کا امکان ہے اور اسکی ترقی کی شرح مسلسل دوسرے سال کم ہوئی ہے جو 2017-18 میں 7;46;2 فیصد تھی اور 2018-19 میں کم ہوکر 6;46;8 فیصد ہو گئی ۔ اسی طرح کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے بھی 2019 کے اقتصادی جائزہ رپورٹ میں ہندوستان کی جی ڈی پی نمو کو کم ظاہر کی تھی ۔ موڈیز کے مطابق، ہندوستان کی جی ڈی پی کی شرح نمو 6;46;2 فیصد رہنے کا امکان ہے ۔ جبکہ 2020 کے لئے جی ڈی پی کی شرح نمو کے تخمینہ کو بھی 7;46;30 سے کم کر کے 6;46;7 فیصد بتایا گیا ہے ۔ موڈیزکے علاوہ جاپان کی بروکریج کمپنی نمورا نے بھی جون کی سہ ماہی میں اس کی جی ڈی پی کی شرح نمو کے 5;46;7 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا ۔ یوں بھارت میں حالات روز بروز دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں ۔ روزگار کے مواقع ہر گزرتے دن کے ساتھ کم سے کم ہو رہے ہیں اوربے روزگاری کا 45 سالہ ریکارڈ ٹوٹ چکا ہے ۔ خود بھارتی سرکاری ادارے نیشنل سیمپل سروے آفس کی رپورٹ اسکی تصدیق کر رہی ہے ۔ ماحولیات ، فرقہ واریت، منافرت، بدعنوانی، غربت، جتھوں کی شکل میں حملوں کی وارداتیں الغرض ہر شعبے میں بھارت میں واضح تنزلی دیکھنے میں آ رہی ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے سب سے زیادہ دس آلودہ شہر بھارت میں واقع ہیں ۔ انوائرمنٹل پرفارمنس انڈیکس کہتا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی سے متاثرہ ممالک کی فہرست میں بھارت سب سے اوپر ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق گذشتہ 30 برسوں میں اتنے بھارتی فوجی ہلاک نہیں ہوئے جتنے صرف مودی کے عہد اقتدار میں ہو چکے ہیں ۔ بھارتی فوج خود اقرار کرتی ہے کہ مودی کے عہد اقتدار میں کشمیریوں نوجوان دھڑا دھڑ بندوقیں اٹھا کر قابض بھارتی فوج کیخلاف حق خود ارادیت کیلئے برسرپیکار ہو رہے ہیں ۔ بھارتی ادارے نیشنل کرائمز ریکارڈ بیورو کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس کے دوران ایک لاکھ33ہزار سے زائد افراد نے خود کشی کی ۔ تھامس راءٹر سروے پہلے ہی بھارت کو خواتین کے رہنے کیلئے بدترین ملک قرار دے چکا ہے ۔ گلوبل ہیلتھ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں مالی عدم مساوات 80 سالہ ریکارڈ توڑ چکی ہے ۔ مودی کے حکومت میں آنے کے بعد سے گءو رکشا کے نام پر مسلمانوں کو تشدد کر کے موت کے گھاٹ اتارنا معمول کی بات بن چکی ہے ۔ ہول سیل پرائس انڈیکس بتاتا ہے کہ گذشتہ18سالوں میں بھارتی کسانوں کی حالت بدترین سے بھی آگے کی حد عبور کر چکی ہے اور مودی جی انہیں پاکستان کا پانی روکنے کے لارے لگا رہا ہے ۔ اب تو2019 کا نوبل انعام جیتنے والے بھارتی ماہر معیاشیات ابھجیت بنرجی نے بھی کہہ دیا ہے کہ اس وقت ہندوستانی معیشت غیر مستحکم حالت میں ہے ۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے ترقیات سے متعلق موجودہ اعداد و شمار دیکھنے کے بعد اس بارے میں پراعتماد نہیں ہوں کہ اس کا مستقبل قریب میں کیا اثر پڑنے والا ہے ۔ نوبل پرائز ڈاٹ او ;200;ر جی کو دیے گئے انٹرویو میں ابھجیت بنرجی نے کہا کہ موجودہ پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملک کی معیشت میں جلد کوئی بہتری متوقع نہیں ۔ ورلڈ ہنگر ڈے کے موقع پر جاری ہونے والی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیابھر میں بھوک کا شکار ممالک کی عالمی درجہ بندی میں بھارت کا نمبر تنزلی کے بعد 102 پر پہنچ گیا ۔ بھوک اور غذائی قلت کا اندازہ لگانے والے گلوبل ہنگر انڈیکس2019ء کے مطابق بھارت گزشتہ برس 2018 کے مقابلے میں 95نمبر پر تھا جو اس برس 102 پر پہنچ گیا ۔ جبکہ سال 2000ء میں بھارت 113 ممالک میں 83 ویں نمبر پر موجود تھا ۔ اس طرح بھارت کا جی ایچ ;200;ئی اسکور 2005 ء میں 38;46;9سے کم ہوکر 2010 ء میں 32پر ;200;گیا تھا اور اب 2019 ء میں یہ مزید کم ہو کر 30;46;3 پر پہنچ گیا ہے ۔ انڈیکس کے مطابق 117 ممالک میں سری لنکا 66، نیپال 73، بنگلہ دیش 88، میانمار 69 اور پاکستان 94نمبر پر ہیں ۔ ;200;ئرش ایڈ ایجنسی کنسرن ورلڈ واءڈ اور جرمنی کی تنظیم ویلٹ ہنگر کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کی گئی اس رپورٹ میں بھارت میں بھوک کی سطح کو سنگین قرار دیا گیا ہے ۔ غرض یہ کہ مودی جی حقائق سے نظریں چرانے اور پاکستان مخالف

کشمیر سے آنے والے دریاؤں پر بھارتی ڈیمز کی تعمیر

بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع چرخی دادری میں ایک اجتماع سے خطاب میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کی جانب بہنے والے دریاؤں کے پانی کا ایک ایک قطرہ استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ پانی بھارت کے کسان استعمال کریں اور اس کے لیے کام شروع کیا جاچکا ہے ۔ گذشتہ 70 سالوں سے وہ دریا جن پر بھارت اور اس کے کسانوں کا حق ہے پاکستان کی جانب بہہ رہے ہیں لیکن اب مزید ایسا نہیں ہوگا ۔ ان دریاؤں پر ہریانہ، راجستھان اور ملک کے دیگر علاقوں کا حق ہے اس لیے یہ پانی روکنے کے لیے اقدامات جاری ہیں اور میں یہ کرکے رہوں گا ۔ پچھلے کچھ عرصہ سے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف مسلسل آبی جارحیت اور دھمکیوں کا سلسلہ جاری ہے اور دریاؤں کی تقسیم کے حوالے سے ہونے والے سندھ طاس معاہدے کو بھارت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا مسئلہ 1948 میں ہی اس وقت شروع ہوگیا تھا جب بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کردیا تھا ۔ دونوں ملک کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کے باعث عالمی برادری متحرک ہوئی اور 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہد ہ طے پایا ۔ اس معاہدے کے تحت انڈس بیسن سے ہر سال آنے والے مجموعی طورپر 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو پاکستان اور بھارت کے درمیان تقسیم کیا گیا جس میں تین مغربی دریاؤں یعنی سندھ ،جہلم اور چناب سے سے آنے والے 80 فیصد پانی پر پاکستان کاحق تسلیم کیا گیا جو 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے جبکہ بھارت کو مشرقی دریاؤں جیسے راوی،بیاس اور ستلج کا کنٹرول دے دیا گیا ۔ چوں کہ مغربی دریاؤں میں کئی کا منبع بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں تھا اس لئے بھارت کو 3 اعشاریہ 6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے اور محدود حد تک آب پاشی اور بجلی کی پیداوار کی اجازت بھی دی گئی لیکن بھارت نے معاہدے کی اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا اور مقبوضہ علاقوں سے گزرنے والے دریاؤں میں یعنی سندھ ، چناب اور جہلم پر 15 سے زائد ڈیم بنا چکا ہے جبکہ مزید 45 سے 61 ڈیمز بنانے کی تیاری کررہا ہے ۔ بھارت کشمیر سے آنیوالے پانی پر 62 ڈیمز تعمیر کرکے پاکستان کو صومالیہ، ایتھوپیا اور ریگستان بنانا چاہتا ہے ۔ اس سے کسی خیر کی توقع نہیں ۔ بھارتی آبی جارحیت کے مسئلہ پر حکومت پر دباوَ بڑھانے اور قومی سطح پر شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے ۔ بھارت نے چار ہزار ڈیموں کی تعمیر مکمل کر لی مگر ہماری حکومتیں دو ڈیم بنانے کے بعد تیسرا نہیں بنا سکیں ۔ آج قوم اس قدر تقسیم ہو چکی ہے کہ قومی شعور کی بات نظر نہیں آتی ۔ برسات کے موسم میں سیلاب کی صورت حال کا ذمہ دار بھارت ہے جس نے مقبوضہ جموں کشمیر سے نکلنے والے دریاءوں پر قبضہ کر رکھا ہے اور ان دریاءوں پر بنائے جانے والے ڈیموں کے پانیوں کو جنگی ہتھیار کے طور پر پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے ۔ ریاست جموں کشمیر آبی وسائل کا اہم منبع تھا ۔ دریائے کابل کو چھوڑ کر پاکستان کے باقی تمام بڑے دریا ریاست جموں کشمیر سے نکلتے ہیں اسی وجہ سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے جموں و کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ۔ سیلاب کی وجہ سے ہر سال فصلیں برباد اور دیہاتوں و شہروں میں شدید نقصان ہو رہا ہے ۔ پانی کی کمی دور کرنے کیلئے دس لاکھ ٹیوب ویل چلائے جارہے ہیں جس سے پانی کا لیول نیچے چلا گیا ہے ۔ اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو فصلوں کی بربادی کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی کامسئلہ بھی کھڑا ہو جائے گا ۔ ہ میں اس طرح سے خاموش نہیں رہنا چاہیے ۔ بھارت کی اس آبی دہشت گردی پر حکومت پاکستان کو ایکشن لینا چاہیے تھا ۔ سیلابوں سے بچنے کیلئے بھارتی آبی دہشت گردی روکنا اور نئے ڈیموں کی تعمیر بہت ضروری ہے ۔ پاکستان کے پنجاب اور سندھ کا شمار دنیا کے بہترین خوراک پیدا کرنے والے علاقوں میں ہوتا ہے لیکن بھارت کی طرف سے پانی کی بندش اور آبپاشی نہ ہونے کی وجہ سے 20ملین ایکڑ کا یہ عظیم خطہ ایک ہفتے میں خشک ہو جائے گا اور لاکھوں لوگ فاقوں کا شکار ہو جائیں گے ۔ دنیا کی کوئی بھی فوج بموں اور گولوں سے کسی زمین کو مکمل طور پر تباہ نہیں کر سکتی جس طرح ہندوستان پاکستان کے پانی کے منصوبوں کو بند کر کے تباہ کر سکتا ہے ۔ قومی وسائل کا استعمال نہ کرکے حکمران وطن فروشی کا ثبوت دے رہے ہیں اگر کماحقہ پاکستان کے قدرتی وسائل کو استعمال کیا جائے تو ہمارا ملک دنیا کی بڑی معاشی قوتوں میں شامل ہو سکتا ہے ۔ خصوصاً بجلی کے ہائیڈل منصوبوں کی تکمیل سے سستی توانائی کو ممکن بنا کر وطن عزیز کی معیشت میں انقلابی تبدیلی لائی جا سکتی ہے ۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ایسے منصوبوں کے بجائے رینٹل منصوبوں کو تقویت دی گئی جس سے ہماری معیشت مفلوج ہوئی ۔ توانائی کے بحران کو حل کرنے کیلئے پاکستان کو بیرونی اور اندرونی دونوں محاذوں پرہوش مندی سے کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ بھارت کشمیر میں پاکستانی پانیوں پر ڈیم بنا کر پاکستان کو بنجر بنانے کے 212 ارب ڈالر کے ماسٹر پلان پر عمل پیرا ہے ۔ بگلیہار اور اس جیسے کئی ڈیموں کی تکمیل سے پاکستانی پانی کے ایک حصہ کو کنٹرول کر لیا گیا ہے ۔ پاکستانی اداروں کی کوتاہی کے اس جرم میں پاکستانی واٹر کمیشن پوری طرح شریک ہے ۔ پاکستانی حکمران اب بھی ہوش کے ناخن لیں ۔ اس جنگ کو ہمارا ازلی دشمن بڑی چالاکی اور مکاری سے لڑ رہا ہے ۔ امریکہ اور اسرائیل اس اتحاد ثلاثہ کے اہم رکن ہیں ۔ اب بھی وقت ہے ہم اپنے فیصلے خود کریں ۔ پاکستان کے عوام اپنے وطن سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ صرف حکمرانوں کے جذبہ حب الوطنی کی ضرورت ہے ۔ پاکستان کی عوام نے ہر موقع پر اپنی حب الوطنی کو ثابت کیا ہے اسکے برعکس حکمرانوں نے ہمیشہ پیٹھ دکھائی ہے ۔ ہمارے حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے حکمران اس خاموشی کو توڑیں ، جرات کا مظاہرہ کریں اور اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے کر جائیں ۔ پاکستان وسائل کے لحاظ سے کسی سے کم نہیں ۔ کمی ہے تو صرف حکمران ٹولے کی نیک نیتی کی ہے ۔

ایران کے بعد عمران خان کا کامیاب دورہ سعودی عرب

عمران خان صرف خطے کیلئے نہیں بلکہ امت مسلمہ کیلئے ایک لیڈر کی حیثیت سے بن کر ابھرے ہیں چونکہ اس وقت مسلم دنیا کے حالات انتہائی دگرگوں ہیں اور دشمن کی ہر طرف سے یلغار جاری ہے ایسے میں ایک ایسے لیڈر کی ضرورت تھی جو مسلم امہ کے مابین چلنے والی چپقلش کو ختم کراسکے ایسے میں یہ بیڑہ عمران خان نے اپنے کندھوں پر اٹھایا چونکہ ایران اور سعودی عرب کے مابین تنازعہ بڑھنے سے جہاں خطے کے حالات خراب ہونے تھے وہاں دنیا کی معیشت پر بھی انتہائی برے اثرات مرتب ہونے تھے ۔ پھر امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وزیراعظم عمران خان کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ان سے سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازع ختم کرانے کی درخواست کی تھی ان ہی تمام حالات کو مدنظررکھتے ہوئے عمرا ن خان نے سہولت کاری کی ذمہ داری لی ۔ وزیر اعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود سے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال اور دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر بات چیت کی گئی جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ علاقائی امن و استحکام کی خاطر خطے میں اختلافات اور تنازعات کے سیاسی اور سفارت کاری کے ذریعے حل کر نے کی ضرورت ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی فرمانروا خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود سے ریاض میں ملاقات کی ۔ ملاقات میں دونوں رہنماءوں نے دوطرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ انہوں نے دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر بات چیت کی ۔ وزیراعظم عمران خان نے علاقائی امن و استحکام کی خاطر خطے میں اختلافات اور تنازعات کے سیاسی اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زو ردیا ۔ وزیراعظم نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے دو روز قبل ایران کا بھی ایک روزہ دورہ کیا تھا جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ ہم برادر اسلامی ممالک سعودی عرب اور ایران کے مابین تنازع نہیں چاہتے، تصادم کی صورت میں خطے میں غربت اور تیل کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوگا اور اس کے پیچھے مفاد پرست خوب فائدہ اٹھائیں گے ۔ ایرانی صدر کو مخاطب کرکے کہا کہ ’ہم خطے میں تصادم نہیں چاہتے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے گزشتہ 15 برس میں 70 ہزار انسانی جانوں کی قربانی دی، افغانستان تاحال مسائل سے دوچار ہے جبکہ شام میں بدترین صورتحال ہے، ہم دنیا کے اس خطے میں مزید تصادم نہیں چاہتے ۔ وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ سعودی عرب ہمارا قربی دوست ہے، ریاض نے ہر مشکل وقت میں ہماری مدد کی، ہم موجودہ صورتحال کی پیچیدگی کو سمجھتے ہیں ، لیکن ایران اور سعودی عرب کے درمیان جنگ نہیں ہونی چاہیے ۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے دوران وزیراعظم عمران خان نے ریاض اور تہران کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات کی ۔ جبکہ دوطرفہ تعاون کو مزید بڑھانے پر بھی بات چیت کی گئی ۔ وزیراعظم عمران خان نے علاقائی امن و استحکام کی خاطر خطے میں اختلافات اور تنازعات کے سیاسی اور سفارت کاری کے ذریعے حل پر زور دیا ۔ وزیراعظم نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا ۔ وفود کی سطح پر ملاقات میں پاک سعودی تعلقات اور دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا ۔ وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، حرمین کے تقدس اور حرمت کیلئے پاکستانی قوم یک آواز ھے ۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک سمیت پورے خطے میں امن و استحکام چاہتے ہیں ، خطے میں ہر قسم کے تنازعات اور اختلافات کا سیاسی رابطوں اور سفارتکاری سے حل ممکن ہے ۔ وزیراعظم نے محمد بن سلمان کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورتحال سے بھی آگاہ کیا ۔ وزیراعظم کا رواں سال سعودی عرب کا تیسرا دورہ ہے، اس سے قبل اتوار کو وزیراعظم عمران خان نے ایران کا ایک روزہ دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے صدرحسن روحانی اور ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کیں تھیں ۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں پاکستان کی کامیابی

بھارت کو فنانشنل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے پھر منہ کی کھانا پڑی، حافظ سعید کے حوالے سے اس نے بہت واویلا مچایا کہ کسی نہ کسی طرح پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کیا جاسکے ۔ لیکن وہ کسی طرح بھی کامیاب نہیں ہوا ۔ چین، ترکی اور ملائیشیاء کی حمایت کے باعث پاکستان کو فتح حاصل ہوئی ۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) میں بھارت کو ایک اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے،ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کا مطالبہ مسترد کر دیا اورپاکستان کو فروری2020 تک بدستور گرے لسٹ میں ہی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، بھارت نے حافظ سعید کے منجمد اکاءونٹ سے رقوم نکلوانے کی اجازت دئیے جانے پر پاکستان کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی، ٹاسک فورس نے ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت جیسے معاملات پر پڑنے والے ممکنہ اثرات پر تحفظات کا اظہار بھی کیا،تاہم ترکی، چین اور ملائیشیا کی حمایت کے باعث پاکستان بلیک لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا ۔ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اس حوالے سے اپنے فیصلے کا باقاعدہ اعلان جمعہ 18اکتوبر کو کرے گی ۔ جرمن میڈیا کے مطابق 36 ممالک پر مشتمل ایف اے ٹی ایف کے چارٹر کے مطابق کسی بھی ملک کا نام بلیک لسٹ میں نہ ڈالنے کے لیے کم از کم بھی تین ممالک کی حمایت لازمی ہے ۔ جرمن میڈیا کو بتایا گیاکہ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کو مزید چار ماہ تک گرے لسٹ میں ہی رکھا جائے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گہا کہ اسلام آباد ان چار ماہ میں مزید اقدامات کرے ۔ اس تنظیم کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ اگر پاکستان منی لانڈرنگ روکنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خلاف تسلی بخش اقدامات میں ناکام رہا، تو اسے ممکنہ طور پر بلیک لسٹ بھی کیا جا سکتا ہے ۔ یہ فورس اس حوالے سے اپنا حتمی فیصلہ فروری 2020 میں کرے گی ۔ قبل ازیں اسی سال اگست میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی علاقائی تنظیم ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی)نے تکنیکی خامیوں کی بنا پر پاکستان کی کارکردگی پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا ۔ پاکستان ہر تین ماہ بعد اے پی جی کو اپنی کارکردگی سے متعلق رپورٹ دینے کا پابند ہے ۔

برطانوی شاہی جوڑے کا دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کوخراج تحسین

شاہی جوڑے نے پاکستان کے دورے کے موقع پر صدر مملکت اور وزیراعظم سے ملاقاتیں کیں ۔ عشائیے میں بھی شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہزادہ ولیم نے پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات کو اچھوتی دوستی سے تعبیر کیا ۔ شہزادہ ولیم کے دورے سے قبل1991ء میں ان کی والدہ مرحومہ لیڈی ڈیانا نے پاکستان کا دورہ کیا تھا ۔ اس وقت لیڈی ڈیانا کہ استقبال کے حوالے سے پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر ایس کے نیازی کو ڈیانا کے استقبال کی ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں ان کے ہمراہ دیگر شخصیات بھی تھیں ۔ لیڈی ڈیانا جب لاہور گئیں تو بھی ایس کے نیازی ان کے ہمراہ تھے ۔ یہ دورہ اتنی کامیابی سے ہمکنار ہوا کہ اس کے بعد انہوں نے مزید پاکستان کے دودورے کیے ۔ اگر لیڈی ڈیانا کے ساتھ زندگی وفا کرتی تو وہ اور بھی پاکستان کے دورے کرتیں ۔ شہزادہ ولیم نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہاکہ برطانیہ ہمیشہ پاکستان کی ترقی کا متمنی رہا ہے ۔ برطانیہ میں 15 لاکھ سے زائد پاکستانی یہاں کی ثقافت کے امین ہیں ۔ نیز برطانیہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے ۔ ہم پاکستان کو قابل بھروسہ شراکت دار اور دوست سمجھتے ہیں ۔ اتنے کم عرصے میں پاکستان نے بہت مشکلات کا سامنا کیا ۔ دہشت گردی جیسی عفریت کا مقابلہ کیا ۔ انہوں نے پاکستان کی صلاحیتوں کا اعتراف کیا ۔ شاہی جوڑا رکشے میں بیٹھ کر مونومنٹ پہنچا ۔

ایران ،سعودی کشیدگی اور پاکستان کی سہولت کاری

سعودی عرب اور ایران مسلم دنیا کے دو اہم ملکوں میں شمار ہوتے ہیں ۔ 2017ء کے اعداد وشمار کے مطابق سعودی عرب کی آبادی 8کروڑ20لاکھ جبکہ ایران کی 3کروڑ 30 لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جبکہ ہر دو کا رقبہ بالترتیب 22لاکھ 48ہزارمربع کلومیٹر اور 16 لاکھ48 ہزارمربع کلومیٹر پر محیط ہے ۔ ایک طویل عرصہ سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی چلی آرہی ہے ان دنوں اس میں کچھ زیادہ ہی اضافہ ہوگیا ہے اور دونوں ملک ایک دوسرے پر مختلف الزامات عائد کر رہے ہیں جس کے باعث دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کے خطرات بڑھتے نظر آتے ہیں ، جس پر اسلامی دنیا تذبذب کا شکار ہے ایک لمبے عرصے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایران پرپابندیاں بھی عائد کر رکھی ہیں بعینہ ایران کے خلیج کے ایک اور اہم ملک متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلقات بھی خوشگوار نہیں کہ دونوں کے درمیان وجہ تنازع خلیج میں واقع دو جزیرے طنبہ الصغریٰ اور طنبہ الکبریٰ ہیں جن کی ملکیت کے دونوں ملک دعویدار ہیں ۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان بڑھتی ہوئی تشویشناک کشیدگی کے پیش نظر پاکستان نے اپنے طور پر سہولت کاری شروع کی ہے ۔ اس سلسلہ میں وزیراعظم عمران خان نے دونوں ملکوں کادورہ کیا پہلے وہ پاکستان کے ہمسایہ ملک ایران گئے جہاں انہوں نے ایرانی صدر حسن روحانی اور ایرانی سپریم کمانڈر علی خامنہ ای سے ملاقاتیں کیں جو مفید رہیں جس میں ایرانی قیادت نے خطے کے مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر اتقاق کیا اور اس امر کا اظہار عمران خان اور صدر حسن روحانی نے ایک مشترکہ کانفرنس میں کیا جو ایک خوش آئند بات ہے ۔ عمران خان کے اس اقدام کو سراہا جارہا ہے اور اگر دونوں ملک مذاکرات کرنے پر تیار ہوجاتے ہیں توشنید یہ ہے کہ یہ بات چیت اسلام آباد میں ہوگی کیونکہ طویل عرصہ سے سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی کے باعث سفارتی تعلقات منقطع ہیں ۔ کسی بھی دوملکوں کے درمیان اگر سفارتی تعلقات ختم ہوجائیں تو یہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ان ملکوں کے درمیان مسائل پیچیدہ ہیں جن کا حل ناممکن تو نہیں مگر مشکل ضرور ہوتا ہے لیکن یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض ممالک ایک دوسرے کے خلاف پیچیدہ اور مشکل معاملات میں بھی سفارتی تعلقات قائم رکھتے ہیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان اسلامی رشتے کا ایک مضبوط تعلق موجود ہے اور اسی بنا پر ہر دو ممالک کو چاہیے کہ وہ سفارتی تعلقات قائم کریں اور عمران خان نے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو استوار رکھنے کےلئے جو کوشش کی ہے دعا ہے کہ وہ کامیاب ہو اور ہم وزیر اعظم پاکستان سے کہیں گے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کو بحال کرانا اپنی اولین ترجیح بنائیں ۔ ازاں بعد دیگر مسائل کے حل کی کوششیں جاری رکھیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل اور ان جیسی بعض اسلام دشمن طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ ہو تاکہ وہ اس سے مالی اور دیگر فوائد حاصل کر سکیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کے اس اقدام سے سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کی جھلک نظر آئی جو مسلم امہ کے اتحاد کے داعی تھے اور اس حوالے سے 22سے 24فروری 1974ء میں لاہور میں اسلامی ممالک کے سربراہوں کی ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس کا اہتمام بھٹو نے کیا تھا جس میں دور رس نتاءج کے حامل فیصلے کئے گئے ۔ جہاں تک عمران خان کی سعودی ، ایران سہولت کاری کا تعلق ہے تو یہ ایک اچھا اقدام ہے اسی طرح انہیں چاہیے کہ وہ پاکستان کے اندرونی مسائل پر بھی ٹھوس اقدامات کریں او رخصوصاً ملک کے داخلی اور سیاسی مسائل پر فوراً توجہ دیں اس وقت جو فوری اہمیت کا حامل مسئلہ ہے وہ ہے مہنگائی اور بے روزگاری ۔ اس پر جس قدر جلد ممکن ہوں قابو پایا جائے کہ اس سے عوام میں اضطراب پایا جاتا ہے جس میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ ملکی و قومی مسائل کے حل کے لیے تنہا حکومت ہی کافی نہیں اس کے لیے ملک کی دوسری سیاسی قوتوں کا اشتراک بھی ضرور ی ہے کہ قومی اسمبلی کی 342نشستوں میں 177پر مشتمل پاکستان تحریک انصاف کی مخلوط حکومت ہے جبکہ 165اراکین کا تعلق مختلف سیاسی جماعتوں سے ہے جو خاصی تعداد ہے جہاں تک سینیٹ کا تعلق ہے تو اس میں اپوزیشن کی اکثریت ہے اسے ایک سیاسی کرامت ہی کہہ سکتے ہیں جس کے باعث سینیٹ کے چیئر مین صادق سنجرانی تحریک عدم اعتماد سے محفوظ رہے ۔ ہم اگر وزیرعمران خان سے یہ کہیں تو بے جانہ ہوگا کہ وہ قوم سے خطاب کریں اور اپوزیشن کے لوگوں کو مل بیٹھ کر ملکی و قومی مسائل کو حل کرنے کی دعوت دیں اور مخالف سیاسی رہنماءوں کو کرپٹ ، چور اور ڈاکو کہہ کر دیوار سے نہ لگائیں ۔ ویسے بھی کہنے کو تو ہم جمہوری ملک ہیں مگریہ ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کا المیہ رہا ہے کہ کل کی اپوزیشن آج جب حکومت میں آتی ہے تو وہ کل کے حکمرانوں اور آج کی اپوزیشن کوخاطر میں نہیں لاتی جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں ایسا نہیں ہوتا وہ ملکی و قومی مسائل کو متحد ہوکر حل کرتے ہیں اور اگر وہاں کسی سیاستدان پر کرپشن کے الزامات ہوں بھی تو وہ عدالتوں کے فیصلوں پر اکتفا کرتے ہیں ان کا میڈیا ٹرائل نہیں کرتے ۔ یہاں ہم اپوزیشن کو بھی یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان کسی ایک فرد یا جماعت کا نہیں ہے ہم سب کا ملک ہے اور اس کے مسائل کا حل ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ اس حوالے سے حکومت مخالف سیاستدانوں کو بھی چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور ملک سے غربت، مہنگائی اور دیگر مسائل جن کا ملک کو سامنا ہے کے خاتمے کے لئے حکومت کا ساتھ دیں اوراس کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائیں ۔ یہی درخواست ہماری حکومت سے بھی ہے کیونکہ برسرا قتدار طبقہ پر یہ ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے کہ وہ سب کو ساتھ لے کر چلے ۔ اس وقت ہ میں بیرونی اور اندرونی خطرات لاحق ہیں ہمارا ازلی دشمن بھارت اس تاک میں ہے کہ وہ ہمارے سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا کر ہ میں نقصان پہنچائے اس سے پہلے کہ ایسا کوئی لمحہ آئے ہم تمام تر سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈال کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرکے جیسا کہ ہم نے کشمیر کے مسئلے پر کیا اوردشمنان پاکستان کو متحد ہوکر یہ دکھا دیں کہ ہم ایک ہیں جس سے انہیں مایوسی ہوگی اور اسی میں ہماری جیت ہے ۔ جہاں تک بیرونی خطرات کا تعلق ہے تو الحمد للہ! ہم ایک ایٹمی و میزائل قوت ہیں اور اپنے دشمن کا دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی قابل قدر کوششوں سے وطن عزیز کوناقابل تسخیر بنا دیا ہے ۔ اب عوام، حکومت ، فوج اور جملہ سیاستدان من حیثت القوم پاکستان کو درپیش اندرونی مسائل کو ختم کرنے کی جدوجہد کریں تاکہ ایک خوشحال پاکستان وجود میں آسکے ۔ یہاں مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے پرویز مشرف نے جو نامناسب اور ناپسندیدہ رویہ روا رکھا عمران خان اس کی تلافی کریں او ران کو چاہیے کہ وہ ڈاکٹر صاحب کو مدعو کریں یا پھر خود ان کے پاس جائیں ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وزیر اعظم بننے سے پہلے عمران خان دو مرتبہ ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ پر جا کر ان سے ملاقات کر چکے ہیں مگر حکومت میں آنے بعد انہوں نے ایسا نہیں کیا اگر وہ خود چل کر ڈاکٹر صاحب کے پاس جائیں تو اس پرعوام میں ان کی توقیر و عزت میں بھی اضافہ ہوگا کہ محسن پاکستان قومی ہیرو ہیں اور پاکستانی قوم انہیں دل و جان سے پیار کرتی ہیں اس اقدام سے عمران خان کی مقبولیت میں بھی خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔

احتجاجی سیاست کا تاریخی پس منظر!

اس وقت دوبارہ دھرنے اور مارچ کا غلغلہ ہے اور میڈیا نے زیادہ اچھال کر کچھ زیادہ ہی حد کو کراس کردیا ہے ۔ پہلے جب دھرنے ہوتے تھے اس وقت دھرنے حرام تھے کیوں کہ مولانا اقتدار میں تھے اور اب حلال ہیں کیوں کہ مولانا بذات خود اقتدار سے باہر ہیں حالانکہ ان کے خاندان کے باقی افراد پارلیمنٹ میں موجود ہیں ۔ ملک عز یز میں عوام کو سڑکوں پر نکانے کا رواج فروغ پا رہا ہے طاہر القادری کا انقلاب اور عمران خان کی سونامی جس کا نام وعظ ونصیحت کرنی والی ایک شخصیت کی خواہش پر آزادی مارچ رکھ دیا گیا تھا بھی اس سلسلے کی کڑیاں ہیں آج کل وہ شخصیت موجودہ حکومت کیلئے راہ عامہ ہموار کرنے میں پیش پیش ہے ۔ گزشتہ مرتبہ طاہر القادری نے سخت سردی میں عوام کو سڑکوں پر نکالا تھا اور اس کے نتاءج بھی عوام نے دیکھ لئے تھے اور پھر سخت گرمی میں انہوں نے دوبارہ انقلاب کی کال دی تھی اور سونامی اور آزادی مارچ کیلئے تحریک چلائی گئی احتجاج ہوئے اور دھرنے بھی جن کے نتاءج عوام کے سامنے ہیں ۔ فی الوقت مولانا سرگرم ہے اور جوڑ توڑ جاری ہے اور درون خانہ کچھڑی پک رہی ہے ۔ عوام سے یہ گلہ کیا جاتا ہے کہ وہ سڑکوں پر نہیں نکلتے ;238;آئیے اس بات جائزہ لیتے ہیں کہ عوام سیاسی رہنماءوں کی کال پر سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتے;238; اس میں شک نہیں کہ عوام پریشان ہیں بے روزگاری عام ہے اور مہنگائی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ’’جس پرزے کیلئے گریس کی ضرورت ہوتی ہے وہ آوازیں نکالتا ہے‘‘ لیکن ہمارے ہاں سب کچھ برداشت کیا جاتا ہے کچھ عناصر سیاست دان اور سول سوساءٹی وغیرہ عوام کو سڑکوں پر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن عوام ان سے کی تحریکوں سے علیحدہ ہی رہتے ہیں باوجود اسکے کہ عوام کی اکثریت ان پالیسیوں کو پسند نہیں کرتی آخر اس کنارہ کشی کی وجہ کیا ہے;238;اگر ہم سرزمین برعظیم کی مٹی کا جائزہ لیں تو اس کی تاریخ تحریکوں سے بھری پڑی ہے انگریز دور کی غلامی کے خلاف سب سے پہلی تحریک شاہ عبدلعزیز دہلوی نے فتویٰ دارلحرب دیکر شروع کی پھر اسکے نتیجے میں تحریک بالاکوٹ سامنے آئی ۔ اس کے بعد 1857;247;ء کی جنگ آزادی کی تحریک چلی بعد ازاں اسی کا تسلسل تحریک ریشمی رومال اور پھر تحریک خلافت کی صورت میں سامنے آیا ان سب تحریکوں کا مقصد دراصل انگریزوں سے نجات حاصل کرنا تھا اور انہیں کے نتیجے میں بل آخر انگریز اس برعظیم سے نکلا اور یہ تحریکات اپنے مقصد میں کامیاب وکامران ہوئیں ۔ انگریز کے جانے کے وقت برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان کیلئے تحریک چلائی اور یہ بھی کامیاب ہوئی اور پاکستان بن گیا ۔ پاکستان بننے کے بعد 1947;247;ء سے1969;247;ء تک ہ میں کوئی تحریک نظر نہیں آئی کیونکہ عوام کو امید تھی کہ پاکستان بننے کے مقاصد آج نہیں تو کل حاصل ہونگے لیکن 1969;247;ء میں اپوزیشن کی رہنمائی میں عوام نے اس لئے تحریک چلائی کہ اپوزیشن برسر اقتدار آکر حصول پاکستان کے مقصد کو پورا کریگی اس تحریک کے نتیجے میں ایوب خان رخصت ہوگئے اور حزب اختلاف بعد میں آپس میں لڑنے لگی جسکی وجہ سے پاکستان کا مشرقی بازو کٹ گیا ملک کے دوٹکڑے ہونے کے ساتھ نظریہ پاکستان بھی دوٹکڑے ہوگیا اہل بنگال نے کہا کہ بنگالی الگ قوم ہیں یہ پاکستان کے ساتھ نہیں چل سکتے اس کے بعدتحریک ختم نبوت 1974;247;ء میں کامیاب رہی ۔ اس کے بعد 1977;247;ء حزب اختلاف کے اتحاد قومی اتحاد کی سرکردگی میں تحریک نظام مصطفی چلی ۔ اس تحریک میں تمام مذہبی سیاسی اور سیاسی پارٹیاں شریک ہوئیں عوام نے بھی اسلام کے نفاذ اور تحریک پاکستان کے مقاصد کے حصول کی خاطر اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہر قسم کی جانی اور مالی قربانی دی یہ تحریک نفاذ اسلام کے مقصد میں سرے سے ناکام رہی البتہ اس مقصد ضرور کامیاب ہوئی کہ برسر اقتدار پارٹی ہٹا کر مارشل لاء لے آئی گویا عوام کی قربانیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ ذولفقار علی بھٹو چلاگیا اور جنرل ضیاء الحق آگیا ۔ اگر تحریک کے رہنماءوں واقعی مقصد نفاذ اسلام ہوتا تو جس طرح بھٹو کے خلاف تحریک چلائی تھی اسی طرح وہ ضیاء الحق کے مارشلاء کے خلاف بھی تحریک چلاتے لیکن قومی اتحاد کی ایک بڑی مذہبی جماعت نے ضیاء الحق کے ہاتھ پر بیعت کی اسے مرد مءومن مرد حق کا خطاب دیا اور پورے گیارہ برس اس اسکی ہم نوالہ اور ہم پیالہ بنی رہی ۔ اسی دور میں انوکھا اسلام نافذ کیا گیا بینکوں میں سود اور زکوٰۃ دونوں اکھٹے نافذ رہے عدالتوں میں اسلامی سزائیں نافذکی گئیں اور اور ساتھ انگریز کا قانون بھی جاری وساری رہا ۔ گیارہ برس اسلام کے نام پر حکومت ہوتی رہی اس کے بعد پھر جمہوریت کا آغاز ہوا اور 88;247;ء سے لیکر 99;247;ء اکتوبر تک فوج کے زیر سایہ جمہوری حکومتیں رہی 1999;247;ء میں پھر مارشل لاء آگیا جو 2002;247;ء میں جمہوریت کی شکل اختیار کرگیا جوپندرہ اکتوبر 2007;247;ء جاری رہا اور اس بار انہونی بھی ہوئی کہ پہلی بار پاکستان کی تاریخ میں اسمبلیوں نے اپنی مدت پوری کی البتہ اس دوران تین وزیر اعظم بھی تبدیل ہوئے ۔ مارچ 2007;247;ء اور پھر نومبر 2007;247;ء چیف جسٹس کی برطرفی کے بعد مشرف ہٹاءو تحریک کا آغاز ہو جس میں وکلاء اور صحافی برادری کے ساتھ حزب اختلاف نے بھی بھر پور حصہ لیا لیکن یہ تینوں عوام کو اپنے ساتھ شریک کرنے میں ناکام رہے جس کی مختلف توجیہات پیش کی جاتی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ تمام حزب اختلاف ایک ایجنڈے پر متفق ہوکر تحریک چلائیں تو تحریک کامیاب ہو لیکن یہ محض خام خیالی اور اور خوش خیالی کے سوا کچھ نہیں ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ پارٹیاں پہلے تو متحد ہی نہیں سکتیں اور اگر بالفرض ہو بھی جائیں تو عوام کو اپنے ساتھ ملانے سے قاصر رہےں گی ۔ لہٰذا انہیں کیا ضرورت ہے کہ ایک کو ہٹا کر دوسرے کو لائیں اور جو آنے کے آرز و مند ہیں عوام نے ان کے دور کو بھی دیکھا بھالا ہے اور انکی سابقہ حکومتیں ان کے سامنے ہیں ۔ ماضی میں عوام نے اسلام کے نام پر تحریکیں چلائی جس کے نتیجے میں مارشل لاء آگیا اب مذہبی کارڈ کے نام پر تحریک چلائینگے جس کے نتیجے میں وہی پرانے جانے پہچانے آزمودہ شخصیات اورچہرے سامنے آئینگے ۔ جو بھی آیا عوام کے مسائل تو گزشتہ اکہتر سال ہی طرح رہیں گے ۔ لہٰذا وہ کیوں اپنا مال، جان اور وقت ان کی خاطر ضائع کریں ;238; ۔ کیونکہ عوام ایشو کی سیاست سے تنگ آچکے ہیں اور انہیں کسی ایک ایشو پر سڑکو ں پر نکلنے کی ضرورت نہیں وہ تو اس ظالمانہ نظام سے چھٹکارہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور عوا م یہ سمجھتے ہیں اس دور کا بت سرمایہ دارانہ نظام ہے اور عوام سرمایہ پرستی کو فروغ نہیں بلکہ اس کو جڑوں سے اکھیڑنا چاہتے ہیں اور اس قسم کے انقلابات محض ریلیوں سے نہیں آتے ریلیوں کے ذریعے انقلاب کی بات کرنے والے دراصل انقلاب کے نام کو بدنام کر رہے ہیں اور مذہبی کارڈ کھیلنے والے در اصل کسی سرمایہ دار اور جاگیردار کیلئے راستہ ہموار کرنے کے درپے ہیں !۱

Google Analytics Alternative