کالم

صدر مرسی کی وفات ، امت مسلمہ کےلئے عظیم سانحہ

مصر کے سابق صدر محمد مرسی کمرہ عدالت میں سماعت کے دوران انتقال کرگئے ۔ محمد مرسی پر قطر کیلئے جاسوسی کا الزام تھا ۔ محمد مرسی 30 جون 2012 سے تین جولائی 2013 تک مصر کے صدر رہے ۔ صدر مرسی کی وفات سے امت مسلمہ ایک عظیم رہنما محروم ہوگئی ۔ مصر میں طویل آمریت کے بعد 2012 میں انتخابات منعقد ہوئے جن میں 51 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے بعد 30جون 2012ء کو فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی کے رہنما جناب محمد مرسی مصر کے صدر منتخب ہوئے ۔ مصر میں انتخابات جمہوریت کے ہر پیمانے کے حوالے سے شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں ہوئے ۔ ان انتخابات کو مغربی جمہوریت کے تمام پیمانوں پر پرکھا جائے تو بھی اس میں کوئی جھول نظر نہیں آتا ۔ یہ ملک جمہوریت کے راستے پر رواں ہوا لیکن ایک سال کے اندر ہی اس کی جمہوری بساط لپیٹ دی گئی ۔ آئین معطل ہوا اور فوج نے ڈاکٹر مرسی کی حکومت کا تختہ الٹ کر سابق صدر سمیت ان کے رفقاء کو نظر بند کر دیا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو ملک کا عبوری صدر مقرر کر کے ٹیکنو کریٹ حکومت قائم کر دی ۔ صدر مرسی کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ اس نے دینی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ کے مجبور اور محصور اور بے کس مسلمانوں کی مدد کی اور اسرائیل کو پیغام دیا کہ وہ بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام بند کرے ۔ صدر مرسی کا یہ جرم اسرائیل اور مصر کے عیش پرست جرنیلوں کو پسند نہیں آیا نتیجتاً انہوں نے ان کی حکومت کا خاتمہ کردیا محمد مرسی کی مخالفت میں تمام سیکولر جماعتیں آج بھی متحد ہیں ۔ ان سب نے مل کر جمہوریت کو ختم کیا اور جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے فوج کا ساتھ دیا ۔ عدلیہ جو پہلے ہی فوج کی لونڈی بنی ہوئی تھی وہ بھی کھل کر آئین، قانون، اخلاق اور انصاف کے مقابلے میں لاقانونیت، بدمعاشی اور بے انصافی پر اتر آئی ہے ۔ تب امریکا نے مصر کی فوج جو کہ لادینیت کا شکار تھی ، کو آلہ کار بنانے کا فیصلہ کیا اور فوج کے سربراہ نے صدر مرسی اور اخوان المسلمین کے چیدہ چیدہ لیڈرز کو گرفتار کرلیا ۔ اس پر اخوان نے جگہ جگہ دھرنے دینے شروع کردیے ۔ فوج یہ دلیل دیتی ہے کہ عوام صدر محمد مرسی کے خلاف ہوگئے تھے ۔ اسی لئے ان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا ۔ حالانکہ محمد مرسی کے حامیوں نے ثابت کیا کہ ان کے حامیوں کی تعداد ان کے مخالفین سے کہیں زیادہ ہے وہ کئی ہفتوں سے سراپا احتجاج تھے ۔ ان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ عوام کے منتخب صدر محمد مرسی کو بحال کیا جائے لیکن فرعون صفت جرنیلوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی بلکہ صدر مرسی کے ساتھ اخوان المسلمون کی قیادت کو بھی پس دیوار زندان کردیا ۔ محمد مرسی سے اقتدار چھیننے کے بعد مصری فوج کے جنرل سیسی نے اقتدار سنبھال لیا ۔ جس کی اصلیت یہ ہے کہ وہ ایک یہودی خاتون کا بیٹا ہے جس کا نام ملیکہ تیتانی تھا ۔ 1958ء میں اْس نے مصر کی شہریت اختیار کی ۔ اس پر مستزاد یہ کہ اس کا بھائی عوری صباغ اسرائیل کا وزیر تعلیم رہا ہے ۔ صرف مصری فوج کا جنرل ہی نہیں بلکہ ا س کا نامزد کردہ صدر بھی مسلمان نہیں ہے ۔ صدر عدلی منصور عیسائیوں کے اس فرقہ سے جو بقول عیسائی یہودیوں کی شاخ ہے ۔ جنرل سیسی نے اقتدار میں آتے ہی چار سے پانچ ہزار اخوان قتل، پچیس ہزار زخمی کر دیئے جن میں بہت سے معذور ہو چکے ہیں ، دس ہزار گرفتار کر لئے اور کئی ہزار لاپتہ ہیں ۔ ان سب کا گناہ یہ تھا کہ وہ راسخ العقیدہ مسلمان تھے اور جنرل سیسی یہودی ۔ لہٰذا اس نے نہ صرف 45ہزار علمائے کرام کے مساجد میں داخلے پر پابندی لگائی بلکہ مصر کی تیرہ ہزار سے زیادہ مساجد میں جمعے کی نماز روک دی ۔ اس فوجی حکومت نے فلسطینیوں کی پہلے سے بھی سخت ناکہ بندی کر دی اور غزہ کو دنیا سے ملانے والا واحد راستہ جو سرنگوں کی شکل میں تھا تباہ کر دیا اور فلسطینیوں کی مصر آمدورفت روک دی ۔ یہ تو ہے مصر کی فوجی حکومت کی اصلیت ۔ پھر بھی نہ جانے کیوں عرب ممالک اس کی حمایت کر رہے ہیں ۔ گویا ایک دو ممالک کو چھوڑ کر امریکہ اسرائیل نے تمام عربوں کے ذہنوں پر قبضہ جما رکھا ہے ۔ جنرل السیسی کی طرف سے جمہوری حکومت کا تختہ الٹانے کے اقدام کی کچھ مغربی ممالک نے حمایت اور ستائش کی تھی ۔ اگر جمہوری حکومت عوامی یا فوجی قیادت کی توقعات پر پورا نہیں اْتر رہی تھی تو اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ جمہوریت کو ڈی ریل کر دیا جائے ۔ جرنیلوں اور انکی پشت پناہی کرنے والی قوتوں کو شاید عوامی سطح پر اس شدید ردعمل کا ادراک نہیں تھا جو فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد سامنے آیا اور پھر جلتی پر تیل کا کام فوجی حکومت نے احتجاج کرنے والوں کے خلاف متعدد انسانیت سوز آپریشن کر کے کیا ۔ یہ آپریشن سب سے زیادہ خوفناک تھا ۔ اس سے یوں لگا جیسے فرعون ایک بار پھر اقتدار میں آ گیا ہے ۔ عالمی رائے عامہ بھی یہی ہے کہ معزول مصری حکومت کی بحالی کے سوا کوئی بھی حل اس ملک میں امن قائم نہیں کرسکے گا لہذا اقوام متحدہ کو مصر میں امن اور شہریوں کے تحفظ کے لئے ان ہی خطوط پر کام کرناہوگا ۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سابق امیر سید منورحسن ،سیکرٹری جنرل امیر العظیم ،لیاقت بلوچ ،راشد نسیم ،اسد اللہ بھٹو،میاں محمد اسلم ،ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ،عبد الغفار عزیز ،پروفیسر محمد ابراہیم ،ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی ،حافظ محمد ادریس، سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف، جماعت اسلامی کے رہنماءوں اور کارکنوں ، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے اکابرین نے مصر کے منتخب صدرڈاکٹر محمد مرسی کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہارکرتے ہوئے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ عالم اسلام اور امت مسلمہ آج ایک عظیم رہنما محروم ہوگئی ہے ۔

شاہ رخ خان پر سوشل میڈیا صارفین کا اقربا پروری کا الزام

ممبئی: بالی ووڈ کے کنگ شاہ رخ خان کی اپنے بیٹے آریان خان کے ساتھ فلم میں انٹری پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے اقربا پروری کا الزام عائد کیا جار رہا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شاہ رخ خان نے بیٹے آریان خان کے ساتھ فلم نگری میں انٹری کے حوالے سے اعلان کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ اور آریان ڈزنی کی اینی میٹڈ فلم لائن کنگ کے ہندی ری میک ورژن میں مفاسا اور سمبا کی وائس اوور کریں گے۔ اداکار کے اس اعلان کے بعد اُن کے مداحوں کی جانب سے کافی گرم جوشی دیکھنے میں آئی۔

بہت سے فنکاروں نے شاہ رخ کو بیٹے کی انٹری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے مبارکباد بھی دیں لیکن کچھ شائقین ایسے بھی ہیں جنہوں نے شاہ رخ کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

لکشیا متل نامی ایک صارف نے لکھا کہ ڈزنی والوں کو پتا تھا کہ بھارت میں لائن کنگ کا اسکرپٹ بیچنے کے لیے بھی اقربا پروری کا سہارا لینا پڑے گا۔ وہ اس لیے کہ کیوں کہ ہم اس کے حق دار ہیں، ہمیں آریان کے فلم کرنے سے کوئی شکوہ نہیں لیکن لائن کنگ جیسی اتنی بڑی فلم پلیٹ میں رکھ کے اسے پیش کردینا اقربا پروری نہیں تو اور کیا ہے۔

شہری ونود نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پیسے میں کتنی طاقت ہوتی ہے، اقربا پروری کو خوش آمدید کہتے ہیں اسی طرح ایک خاتون نے کہا کہ بھارتیوں نے خاندانی سیاست کو تو مسترد کردیا لیکن بالی ووڈ میں اب بھی موروثی اور خاندانی نظام کو مسترد نہیں کیا جاسکا۔

شیوتا نامی خاتون نے تنقید کے تیر برساتے ہوئے کہا کہ خود کو بادشاہ سمجھنے والے شاہ رخ خان نے ایک نئے انداز کے ساتھ اقربا پروری کی بنیاد رکھ دی۔

دہرے بھارتی معیار ۔۔۔ !

وزیر اعظم عمران خان اور نریندر مودی کی بشکک میں رسمی سی علیک سلیک کےحوالے سے ہندوستانی پریس میں بہت کچھ چھپا ہے اور اکثر دانشوروں نے توقع ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام شاید عملی شکل اختیار کرے اگر بھارتی حکمران اپنی دیرینہ ہٹ دھرمی کو ترک کر دیں ۔ بہرکیف بھارتی حکمران اٹھتے بیٹھے یہ راگ الاپتے ہیں کہ بھارت نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے بلکہ وہاں انسانی حقوق کے احترام کے حوالے سے صورتحال بھی بڑی حد تک مثالی ہے ۔ ستم ظریفی یہ بھی ہے کہ وطن عزیز پاکستان کے چند حلقوں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری کا کچھ حصہ بھی اس بھارتی پراپیگنڈے سے خاصا متاثر ہے ۔ اس پر تبصرہ کرتے کئی اعتدال پسند دانشوروں نے کہا ہے کہ بھارت میں اچھوت ہندوءوں کے خلاف دہلی کے تمام بالادست ہندو طبقات جس بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف وزریوں کا ارتکاب کر رہے ہیں ، وہ اگرچہ کوئی نئی بات نہیں تاہم یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ عالمی برادری اور اقوام متحدہ اس جانب خاطر خواہ توجہ مرکوز نہیں کر رہے ۔ اس پس منظر میں کثیر الاشاعت ہندی روزنامے ’’راجستھان پتریکا‘‘ نے ایک نیوز سٹوری شاءع کی جس کے مطابق اونچی ذات کے ہندوءوں نے چند روز قبل بانس واڑہ، قصبے میں ایک 38 سالہ اچھوت ہندو خاتون کے ساتھ غیر انسانی بلکہ مکروہ رویہ اپنائے ہوئے اسے غلاظت کھانے اور پینے پر مجبور کیا گیا ۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت میں ایسے واقعات روز مرہ کا معمول ہیں ، جو بھارتی حکمرانوں اور سول سوساءٹی کے لمحہ فکریہ ہونے چاہیےں اور یہ صورتحال انسانی حقوق کے عالمی چمپئنز کیلئے بھی ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ ہندوستان میں اچھوت ہندءوں کے ساتھ ایسا غیر انسانی بلکہ شیطانی طرز عمل بظاہر معمول کی بات ہے اور اس میں حیران ہونے والی کوئی بات نہیں ، مگر انسان دوست مبصرین نے اس امر پر افسوس اور تعجب کا اظہار کیا ہے کہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے اس گھناءونے جرم کے مرتکب افراد کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی اور یہ بات بھارتی حکمرانوں کے لئے ہی نہ صرف باعث شرم ہے بلکہ ایسے واقعات سے بین الاقوامی رائے عامہ کی آنکھیں بھی کھل جانی چاہیں اور سے دہلی سرکار کے سیکولر ازم اور جمہوریت کے دعوءوں کی اصلیت سے بخوبی آگاہ ہونا چاہیے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے کئی بھارتی صحافیوں نے کہا ہے کہ بظاہر دنیا بھر میں اکیسویں صدی کے آغاز پر کہا جا رہا تھا کہ انسانی تہذیب و تمدن، ترقی اور شائستگی کی انتہائی حدوں کو چھو رہا ہے، ٹیکنالوجی اور میڈیا کی ترقی کے سبب دنیا ایک ’’گلوبل ولیج‘‘ میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ ایسے میں کسی گروہ یا ملک کے لئے ممکن ہی نہیں رہا کہ وہ بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو سکے اور اپنی کوتاہیوں پر پردہ ڈال پائے ۔ مگر اس بابت اگر بھارت کے احوال پر نظر ڈالی جائے تو ہر باشعور انسان کا سر مارے ندامے کے جھک جاتا ہے کیونکہ ہندوستان میں اپنے ہی ہم مذہب نیچی ذات کے ہندوءوں کے خلاف جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جا رہا ہے، اس بدقسمت گروہ کو اونچی ذات کے ہندوءوں کے مندروں تک میں پوجا کی اجازت بھی نہیں ، اگر کوئی بھولا بھٹکا اچھوت سورن جاتی کے مندروں میں داخل ہو جائے تو اسے جان سے مار دیا جاتا ہے کیونکہ اونچی ذات کے ہندوءوں کے خیال میں ایسا کرنے سے ان کا مندر اور بھگوان بھرشٹ اور ناپاک ہو جاتا ہے ۔۔۔ اچھوت ہندو اگر کسی برتن کو چھو لے تو اس کا وہ حشر کیا جاتا ہے جس کا تصور بھی کوئی نارمل انسانی معاشرہ نہیں کر سکتا ۔ ماہرین کی رائے ہے کہ جس معاشرے میں اپنے ہی ہم مذہبوں کے ساتھ یہ برتاءو کیا جاتا ہے وہاں دوسری مذہبی اقلیتوں کی حالت زار کیا ہو گی ۔ اس کا اندازہ کرنا شائد زیادہ مشکل بات نہیں ، مگر اس سب کے باوجود حیرانی کی بات ہے کہ عالمی برادری کے موثر حلقے مکمل چشم پوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے سطحی مفادات کی خاطر بھار ت کو سب اچھا ہے کا سرٹیفیکیٹ دیتے ہوئے ذرا بھی تاخیر کا مظاہرہ نہیں کرتے ۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ عالمی برادری کو اس امر کا احساس کرنا چاہیے کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے ضمن میں محض ;667480; کی روش ہی قابل مذمت نہیں بلکہ کانگرس کا ریکارڈ بھی کسی طرح قابل رشک نہیں ۔ بلکہ اکثر بھارتی رہنما اور سیاسی جماعتیں کھلے عام مذہبی رواداری اور اعتدال پسندی کی کٹر مخالف ہیں ، یہی وجہ ہے کہ بھارت کی آزادی کے بعد سے وہاں ہزاروں بار اقلیت کش فسادات ہو چکے ہیں ۔ دوسری جانب اس حوالے سے پاکستان اعتدال پسندی کی جیتی جاگتی مثال ہے، بھارتی حکمرانوں کو بھی سمجھنا چاہیے کہ کسی ایک آدھ اقلیتی فرد کو کسی اعلیٰ نمائشی عہدے پر فائز کر دینا ہی سیکولرازم نہیں ، بلکہ یہ اجتماعی رویوں کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ توقع کی جانی چاہیے کہ عالمی برداری اس ضمن میں بھارت اور پاکستان کو ایک پلڑے میں نہیں تولے گی بلکہ بھارت میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے قابل مذمت سلسلے کو بند کرانے میں اپنا موثر کردار ادا کرے گی ۔ عالمی برادری کے ایک بڑے حلقے کے دہرے معیاریوں کی اس سے بڑی مثال کیا ہو گی کہ گجرات میں ہزاروں مسلمانوں کی نسل کشی کے بعد 2005 میں نریندر مودی کو امریکی ویزہ دینے پر بھی پابندی تھی، مگر اب وہی نریندر مودی عالمی برداری کی آنکھوں کا تارہ بنے ہوئے ہیں ۔

اسمارٹ فونز کا شوق انسانی کھوپڑی کی ساخت کو بدلنے لگا

دنیا بھر میں اسمارٹ فونز کا استعمال بڑھ رہا ہے، اس کے جو بھی اثرات مرتب ہوں مگر اب سائنسدانوں نے دریافت کیا ہے کہ یہ عادت ہمارے جسم کو بھی بدلنے لگی ہے۔

جی ہاں ممکنہ طور پر اسمارٹ فونز کا بہت زیادہ استعمال کھوپڑی کی ساخت کو بدلنے کا باعث بن رہا ہے اور ایسا نوجوانوں میں زیادہ نظر آرہا ہے۔

یہ دعویٰ آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا۔

سن شائن کوسٹ یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ متعدد افراد کے گلے سے اوپر ایک چھوٹی سی عجیب ہڈی بن رہی ہے اور یہ کئی بار یہ اتنی بڑی ہوتی ہے اسے کھوپڑی کی بنیاد کو انگلیوں سے دبا کر بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ گزشتہ دہائی کے دوران لوگوں کی کھوپڑی میں اس عجیب نشوونما کو دریافت کیا گیا۔

اس کی وجہ کی واضح شناکت تو نہیں ہوسکی مگر محققین کے خیال میں اس کی وجہ اسمارٹ ڈیوائسز کو گردن ایک انداز میں رکھ کر استعمال کرنا ہوسکتا ہے۔

تحقیق کے مطابق انسانی سر کافی وزنی ہوتا ہے جس کا وزن ساڑھے 4 کلو تک ہوسکتا ہے اور اسے اسمارٹ فونز کے استعمال کے لیے جھکا کر رکھنا گردن پر بوجھ بڑھاتا ہے۔

اس کی وجہ سے اکثر افراد کو گردن میں تکلیف کا بھی سامنا ہوتا ہے جسے ٹیکسٹ نیک بھی کہا جاتا ہے جس کی وجہ گردن کے مسلز پر عجیب انداز میں سر جھکانے کی وجہ سے پڑنے والا دباﺅ ہوتا ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ 18 سے 30 برس کے افراد کی کھوپڑیوں میں تبدیلی بہت تیزی سے عام ہورہی ہے۔

اس تحقیق کے دوران 18 سے 86 سال کی عمر کے ایک ہزار افراد کی کھوپڑیوں کا اسکین کیا گیا اور محققین کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سر جھکا کر نیچے دیکھنا ہوسکتی ہے۔

یعنی گھنٹوں اسمارٹ فونز، ٹیبلیٹ اور لیپ ٹاپ پر اسکرولنگ کرتے ہوئے گزارنا گردن کے مختلف حصوں پر دباﺅ بڑھاتا ہے جس سے یہ تبدیلی رونما ہوتی ہے۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے تاکہ گردن کے مسلز زیادہ بڑے اور مضبوط ہوسکیں اور اس کے نتیجے میں کھوپڑی میں ہڈی کی ایک نئی تہہ بن جاتی ہے جبکہ وہ حصہ زیادہ کشادہ ہوجاتا ہے۔

کہاں ہے تبدیلی

پی ٹی آئی کے اکابرین اور راہنما اقتدار میں آنے سے پہلے دعویٰ کرتے تھے کہ وہ نیا پاکستان بنائیں گے ۔ اس میں ہر پرانی چیز کو نئے انداز میں پیش کیا جانا مطلوب تھا یا پھر واقعی نیا پاکستان بنا نا مقصود تھا ۔ جس میں نئی روایات اور طرز معاشرت و تمدن بھی نیا ہی ہو تا ۔ شروع سے ہی مجھے ایسے لگتا ہے کہ یہ بھی دیوانے کی بڑ ھی ہے ۔ ایک ملاقا ت میں خان صاحب کی باتوں کو سن کر محسوس ہوا کہ یہ بندہ کچھ اور ہے اور کرنا کچھ اور چاہتاہے ۔ میرا سوال شاید اس وقت خان صاحب کو برا لگا ہو اور آج بھی یہ کچھ اچھا تاثر قائم نہیں کرے گا ۔ لیکن پچھلے چاہ ماہ کے اقتدار سے حاصل نتاءج کا اس سوال سے جو تعلق بنتا ہے اس بنیاد پر اسے دہرانے کاموقع ملا ہے ۔ سالہا سال پہلے کے سوال کو دہرانے کا مقصد یہ ہے کہ اس وقت بھی خان صاحب کا ویژن دھندلا تھا اور آج بھی و ہ بے بس ہے ۔ اقتدار سے پہلے کم از کم یہ بھرم تو قائم تھا کہ اسے موقع دیا جائے تو پاکستا ن اور پاکستانیوں کیلئے بہتری لائے گا ۔ محترم خان صاحب اس وقت کہتے تھے اور آج بھی کہتے ہیں کہ کپتان اگر چاہے تو ٹیم پر اپنی گرفت سے فتح کی بنیاد رکھ سکتا ہے ۔ خان جی اگر ٹیم ہی بکی ہوئی ہو تو آپ کی گرفت کیا کرے گی ۔ کیسا کھیل اور کیسے نتاءج ۔ آپ نے جیتے ہوئے میچ ہارے اور ہارے ہوئے جیتے کہ نہیں ۔ کہیں سوئنگ کے بادشاہوں کی جوڑی نے وہ مار کھائی کہ آپ دیکھتے ہی رہ گئے اور جہاں آپ نے امید لگائی کہ میچ ڈرا ہو وہاں پر جیت ہوئی کیونکہ ہم جیت چاہتے تھے اورآپ ڈرا ۔ یہ جواری مافیا بھی بہت اوپر کی فلم ہیں ۔ جو نہ تو آپ کرسکتے ہو اور نہ ہی سمجھ سکتے ہو ۔ سمجھو تو تب جب آپ کر نا چاہو اور اس میں دلچسپی لو اور اس کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کر و ۔ یہی فارمولا آپ کے سیاسی کیریئر پر بھی لاگو ہوتا ہے ۔ آپ سیدھی سادھی خدمت کی سیاست کرنا چاہتے ہو اور جو آپ کے ساتھی ہیں وہ سیدھا سادہ ہاتھ مارنا چاہتے ہیں ۔ اگر پاکستان میں خدمت کی سیاست کو ترجیح دی جاتی تو کیا خیال ہے کہ پاکستان کے گوشے گوشے میں فلاحی مراکز اورتعلیمی ادارے مفت تعلیم نہ دے رہے ہوتے ۔ معذرت کے ساتھ تلخ جملہ لکھنے پر مجبور ہوں کہ یہاں جو مسیحا کہلاتے ہیں وہ بھی میموریل ہسپتال میں مریض کا فری علاج نہیں کرتے ۔ اس کی بھی پرچی فیس سے لیکر آخری بل تک مریض کی مسیحائی کہیں بھی نظر نہیں آتی ۔ یہاں پر اساتذہ کہلانے والے تنخواہ اور مراعات کیلئے احتجاجی مظاہروں کا اہتما م کرتے ہیں لیکن کسی بھی لائق اور مستحق طالبعلم کی سکالر شپ حاصل کرنے کیلئے راہنمائی سے قاصر ہیں ۔ اپنی اکیڈمی میں ٹیوشن تو پڑھا سکتے ہیں لیکن قوم کے مستقبل کو بہتر بنانے کیلئے کلاس روم میں طلبا کو دوسری دفعہ سوال پوچھنے پر ذلیل و رسوا کردیتے ہیں تاکہ کوئی علمیت کو پول نہ کھل جائے ۔ بات سیاست کے موضوع پر ہو رہی ہے تو سیاسی ارباب اختیار کی طرف واپس آتے ہیں ۔ اکابرین سیاست سات دہائیوں سے پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے دعویٰ اور نعرہ پر سیاست کر رہے ہیں ۔ ایسا کوئی بھی سیاستدان میرے علم میں نہیں جس نے اپنی سیاست کا محور و مرکز اس نعرہ کی بجائے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے نعرہ سے سیاست کی ہو ۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ اور فلاحی ریاست تو نہیں بن پایا لیکن دنیا اسلام کی پہلی ایٹمی قوت ضرور بن گیا ۔ اس میں سیاستدانوں کو کوئی خاص کردار نہیں کیونکہ جرنل ایوب دور میں شروع کیا گیا ایٹمی پروگرام جرنل ضیاء کے دور میں مکمل ہو گیا تھا ۔ سیاستدانوں نے اس پر بھی سیاست کی اور اس میں لہو لگا کر شہید ہونے کے دعویدار بن بیٹھے ۔ 1962 میں شروع ہوئے ایٹمی پروگرام کا بھٹو کے ساتھ کیا تعلق اورضیاء دور میں کولڈ ٹیسٹ کرنے سے ہمارے محترم میاں نواز شریف کا کیا رشتہ ۔ شیخ رشید ویسے تو کم ہی سچ بولتے ہیں لیکن کلنٹن کی دھمکی اور دیگر مراعات سے بھرپور کالز رد کرنے والے بیانات کے سرخیلوں کیلئے یہ کافی ہے کہ آرمی کے اس وقت کے بڑوں نے میاں صاحب کو مجبور بھی کیا اور ان کی پشت پر ہاتھ بھی رکھا تب دنیا کے سامنے ایٹمی قوت ہونے کا مظاہر ہ کیا گیا ۔ یہ بات پورے ثبوت کے ساتھ موجود ہے کہ اس پروگرام میں کسی بھی سیاسی مداخلت کی کسی بھی نوعیت اور کسی بھی سطح سے کبھی بھی اجازت نہیں دی گئی ۔ یہ براہ راست ایک ادارے کے ماتحت اور اس کے زیر نگرانی ہی کام کرتا ہے ۔ سیاستدان بس زبانی جمع خرچ سے سنی سنائی باتوں پر بیان بازی سے منہ کا ذائقہ بدلتے اور میڈل کے طلب گار رہتے ہیں ۔ بات پھر سیاسیوں سے چلتی تھوڑی ادھر ادھر ہو گئی ۔ نیا پاکستا ن بنانا خان صاحب اور ان کی ٹیم کا نعرہ تھا کیونکہ کہیں نظر نہیں آرہا کہ وہ اپنے نعرے پر عمل پیرا ہونے کیلئے پیش قدمی کر رہے ہیں یا اس کی بنیاد رکھ رہے ہیں ۔ نہ تو وہ بادشاہانہ پروٹوکول میں کوئی خاص کمی کرنے میں کامیاب ہو سکے کہ تیل پیڑول کی بچت ہو کر قومی خزانے کا بوجھ کم ہو ۔ وزیر مشیر بھی اسی تعداو میں ہیں جیسے کہ پرانے پاکستان کی کابینہ کا دستور تھا ۔ جو جو حلیف ہیں ان کو قابلیت پر نہیں بلکہ حمایت کرنے پر قومی لوٹ سیل میں سے حصہ دیا جاتا تھا اور آج بھی دیا جا رہا ہے ۔ وہی مشرف کی آمریت کے دست و بازو آج انصافی حکومت کی ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ہیں ۔ ایم کیو ایم اور ق لیگ جو مشرف دور میں سیاسی طور پر محترک کردار ادا کرتے رہے آج پی ٹی آئی کی حکومت کو سہارا دیئے ہوئے ہیں ۔ مشرف دور کے کابینہ کے وزیر آج پی ٹی آئی کے اقتدار کی ناءو کے ملاح ہیں ۔ تنقید برائے تنقید کی بات نہیں لیکن مشرف کو وردی میں صدر منتخب کرانے والوں کو جمہوریت سے کیا غرض ہو سکتی ہے ۔ ان کی سیاست کو فلاحی سیاست کیسے کہا جائے ۔ آمر کے ٹریننگ کیمپ اور کوچنگ سے فارغ التحصیل سیاستدانوں کو جمہوری رویوں کی پہچان کیسے ہو سکتی ہے ۔ ایک سپنر کیسے فاسٹ باءولنگ کر سکتا ہے ۔ لیگ بریک کرنے والا آف بریک کرے گا ۔ نہیں کر سکتا تو پھر آمریت کی گود میں پلنے والے جمہوریت کے محافظ بھی نہیں ۔ ان کی سیاست بھی جمہوری نہیں اور ان کی جماعتیں بھی جمہوری نہیں ۔ میاں نواز شریف ہو ں یا راجہ ظفر الحق صاحب یا یوسف رضا گیلانی یا چوہدری برادران سب کو ضیا ء الحق نے جمہوریت کا درس دیا تھا ۔ آج یہ جمہوریت کیلئے بوجھ اسی لیے بننے ہیں کہ یہ اس ہنر سے آشنا ہی نہیں جس کی ان سے توقع رکھی جا رہی ہے ۔ تحریک انصاف کے قائد کو چاہیے کہ یا انصاف کریں یا پھر اپنی جماعت کا نام بدلیں کیونکہ ان کی جماعت کے بڑے بڑے معتبر نام نا اہل قرار پائے ہیں ۔ اپنے ماضی کے حوالے سے وہ سب کرپشن اور دوسرے جرائم میں سزا یافتہ ہونے کے باوجود بھیس بدل کر قومی راہنماکا کردار اداکر رہے ہیں ۔ ویسے کرپٹ قوم کے راہنما کرپٹ نہ ہو ں تو کیا ہوں ۔ چوروں کے سردار چور اور سادھوں کے گرو سادھو ہوتے ہیں ۔ خان صاحب اٹھارہ بیس سال پہلے کہا تھا کہ وہ فرشتے کہاں سے لاءو گے جو اس قوم کو اپنے کردار کے سحر میں جکڑ کر راہ راست پر لا سکیں ۔ اگر وہ مل گئے تو وہ دھرتی کہاں سے لاءو گے جہاں پر آپ اپنی مرضی کا نیا پاکستان بنانا چاہتے ہو ۔ آپ کو اس وقت بھی غصہ آیا تھا اور آج بھی آئے گا ۔ مجھے اس وقت بھی آپ پر رحم آیا تھا اور آج بھی آ رہا ہے ۔ چور چوری سے جائے پر ہیرا پھیری سے نہ جائے ۔ خان جی پرانے پاپیوں کی جماعت آپ کے پیچھے بے وضو نماز پڑھتے ہیں ۔ مہنگائی بے روزگاری اور عوام کی ہائے ہائے آپ کو شاید سنائی نہیں دے رہی پرانے پاکستان میں بھی یہی کچھ تھا اور نیا پاکستان بھی ویسا ہی ہے ۔

وزیراعظم کا نوٹس احسن اقدام، سہولت کار آزاد کیوں ;238;

پیر17جون2019ء کو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس میں پی ٹی آئی کی اتحادی جماعتوں نے بھی شرکت کی ۔ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن والے چور ڈاکو ہیں اور دنیا میں کہیں مجرم پروڈکشن آرڈر پر ایوان میں آکر حکومت اور وزیراعظم کیخلاف تقریریں نہیں کرتے،آصف زرداری سمیت کسی کے بھی پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونگے ۔ شکر ہے وزیراعظم عمران خان نے پروڈکشن آرڈر بارے آئین میں گنجائش کے غلط استعمال پر توجہ دی کاش یہ توجہ شہباز شریف،حمزہ شہباز،سلمان رفیق اور سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری کرتے وقت دی ہوتی تو آج قوم کو پروڈکشن آرڈرکے غلط استعمال پر دکھ نہ ہوتا ۔ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی آئین میں گنجائش اس لیے پیدا کی گئی کہ اگر پارلیمنٹ میں انتہائی ضروری بحث چل رہی ہو تو ہر علاقے اور ہر ذہن کونمائندگی دی جائے تاکہ جس موضوع پر بحث چل رہی ہو اس بارے کوئی بھی پہلو نظر اندازنہ ہو مگر یہاں پر تو نظام ہی الٹا نظر آ رہا تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا کہ اشرافیہ قوم کا مذاق اڑارہی ہے اور ہر خاص و عام کو پیغام دیا گیا کہ ہم کچھ بھی کر لیں مگر قانون کی گرفت ہم پر مضبوط نہیں ہو سکتی ،ہمارے لیے قانون کمزور اور ہم قانون سے زیادہ طاقتور ہیں ۔ بھلا ہو وزیراعظم عمران خان کا جنھوں نے اس صورتحال کا نوٹس لیا ،چلو دیر آئید درست آئید،اب بھی کونسا زیادہ وقت گزرا ہے جو موجودہ صورتحال پر قابو نہ پایا جا سکے ۔ یہاں پر اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی سوچنا چاہئے کہ ضروری نہیں آئین میں جو لکھا ہو اس پر آنکھیں بند کر کے عمل کیا جائے ۔ آئین پر عمل کرنا ضروری مگر آئین کو بھی مکمل پڑھنا چاہئے ۔ اسپیکر قومی اسمبلی کو بھی سوچنا چاہئے کہ کہیں اپوزیشن پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کی آئینی سہولت کا غلط استعمال تو نہیں کر رہی ،ایسا تو نہیں کہ قانون کا غلط استعمال ہو رہا ہو،جن کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے انھوں نے قومی اسمبلی اجلاس میں کیا کردار ادا کیا;238;کیا انھوں نے پروڈکشن آرڈر پر قومی اسمبلی فورم کا غلط استعمال کیا یا نہیں ;238;جن ارکان اسمبلی کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے انکی تقاریر کا جائزہ لیا گیایا اس کیلئے کوئی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی;238;کیا قومی اسمبلی یا پنجاب اسمبلی کے اسپیکرز نے عدالت کو خطوط لکھے کہ ہم نے جسمانی ریمانڈ کے دوران پروڈکشن آرڈر جاری کیے لہٰذا ان ایام کو جسمانی ریمانڈ میں شامل نہ کیا جائے;238;کیا کسی نے اپنے اختیارات سے تجاوز تو نہیں کیا;238;یا پھر اپنے اختیارات کا بے دریغ استعمال کیا ہو;238;آئین اسپیکرکو اجازت دیتا ہے کہ وہ پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مکمل اختیار رکھتا اور مرضی کا مالک ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کو اس معاملے کو بھی دیکھنا چاہئے اور متعلقہ حکام سے وضاحت طلب کرنی چاہئے ۔ یہ بات طے ہے کہ اپوزیشن حکومت کیساتھ مخلص نہیں ،حکومت کیا وہ تو شائد قوم کیساتھ بھی مخلص نہیں کیونکہ اگر اپوزیشن قوم کیساتھ مخلص ہوتی تو پارلیمنٹ کے باہر ہونے والی ملاقاتوں میں اس پر اتفاق نہ ہو رہا ہوتا کہ بجٹ پاس نہیں ہونے دینگے ۔ قوم کو بھی سوچنا چاہئے کہ پارلیمنٹ میں انکے بھیجے نمائندے آخر کیا کر رہے ہیں اگر وہ قانون سازی بھی نہیں کر سکتے تو پھر انکو پارلیمنٹ میں بھیجنے کا فائدہ;238;کیا عوامی نمائندے ذاتی سیاست کیلئے پارلیمنٹ میں آتے ہیں یا قانون سازی کے فرض کو پورا کرنے کیلئے ایوان میں پہنچتے ہیں ;238;مگر ہمارے ملک میں عجیب ہی نظام راءج ہے ،جہاں اسپیکر چیمبر کو جیل قرار دے دیا جائے اور قوم خاموش تماشائی بن کر تماشا دیکھتی رہے اور قانون نافذ کرنیوالے ادارے اپنے آپ کو بے بس محسوس کریں وہاں پر ارکان اسمبلی و سینیٹ کے کردار پر کون انگلی اٹھا سکتا ہے یا پھر کون جوابدہی مانگ سکتا ہے کیونکہ ماضی میں ایسی کوئی مثال ملتی نہیں اور ہمارے ہاں نئی مثال قائم کرنا انتہائی مشکل بلکہ ناممکن بات ہے ۔ اب آپ اسی بات سے اندازہ لگا لیں کہ قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے اور اپوزیشن آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کرنے پر سراپا احتجاج ہے ۔ ووٹ کو عزت دینے بیانیے کیساتھ انصاف تو یہ تھا کہ بجٹ سے متعلق بات کرتے،اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اور عوام کیلئے اپوزیشن ہنگامہ آرائی کرتی مگر عوامی نمائندوں نے ذاتی سیاست کا وطیرہ چھوڑنا ذرا بھی گوارا نہ کیا اور ڈھٹائی کیساتھ قوم کے مال پر نہ صرف احتجاج کیا بلکہ ایوان کی کارروائی بھی نہ چلنے دی ۔ پی پی نے تو دو قدم آگے جا کر اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور اسپیکرقومی اسمبلی کے چیمبر کے سامنے دھرنا دیکر اسپیکر کو کافی دیر تک اجلاس میں شرکت کرنے سے روکے رکھا ۔ آفرین ہے اپوزیشن کے احتجاج پرجس کے باعث قومی اسمبلی کی کارروائی نہ چل سکی اور اسپیکر کو پیر کے روز اجلاس ملتوی کرنا پڑا ۔ ہم سب کو انفرادی طور پر اپنے اپنے کردار بارے سوچنا چاہئے کہ کیا ہم قوم کے پیسے کا ضیاع تو نہیں کر رہے;238;ایسا تو نہیں کہ ہم اپنے اپنے فراءض منصبی سے غفلت برت رہے ہوں ;238;جس ملک کے پارلیمنٹیرنزکرپشن میں گرفتار افراد کیلئے سراپا احتجاج ہوں اور ایوان کی کارروائی نہ چلنے دیں تو پھر اس ملک کی ترقی کا سفر سست روی کا شکار ہی ہو گا ۔ وزیراعظم عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ کرپشن کے سہولت کاروں کو بھی انصاف کے کٹہرے میں لائیں اور جس جس نے بھی جس سطح پر بھی کرپشن میں سہولت کاری کے فراءض سرانجام دیے انھیں قانون کے مطابق پابند سلاسل کیا جائے تاکہ کرپشن کرنے اور سہولت فراہم کرنے والے دونوں اپنے اپنے انجام کو پہنچ سکیں اور آئندہ اس ملک و قوم کیساتھ کھلواڑ کرنے کا کوئی سوچے بھی نا ۔

مریم اور بلاول کی ملاقات۔۔۔احتساب کے عمل میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے

مریم اوربلاول کی ملاقات کے بعد سیاست میں اہم پیشرفت ہونے جارہی ہے ،دونوں رہنماءوں نے اس بات پراتفاق کیاہے کہ وہ حکومت کے خلاف ملکرجدوجہد کریں گے نیز بجٹ کو بھی کسی صورت پاس نہیں ہونے دیاجائے گا تاہم حکومت نے ان کے اس الٹی میٹم کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ اپوزیشن ہاتھ ملتی رہ جائے گی اور ہم بجٹ پاس کرالیں گے، اس کے لئے متحدہ اپوزیشن نے لاءحہ عمل طے کرتے ہوئے کہاہے کہ وہ تمام اپوزیشن جماعتیں بمعہ حکومتی اتحادی جماعتوں سے بھی رابطہ کرے گی، اب بات یہ ہے کہ اگر حکومت اپنی اتحادی جماعتوں سے کئے گئے وعدے وعید کو پورے نہیں کرپاتی توپھریقینی طورپرخطرے کی تلوارسرپرلٹک رہی ہے، ایک بات ضرورت اہمیت کی حامل ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی زندگی کی تاریخ بتاتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ انہونے اور ناممکن فیصلے کرتے ہوئے انہیں ممکنات میں شامل کیا اور اب بھی یہی صورتحال ہے، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاسوں کی حالت صرف ہنگاموں ،آوے آوے ،جاوے جاوے اورواک آءوٹ کے علاوہ کچھ بھی نہیں لیکن اس کے باوجود اب حکومت اپنے موقف پرڈٹی ہوئی ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کی دعوت پر چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے جاتی امرا میں ملاقات کی ۔ مریم نواز نے گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری کو ملاقات کی دعوت دی تھی جسے بلاول نے قبول کیا تھا ۔ ملاقات میں دونوں جانب سے چند قریبی رفقا بھی شریک تھے ۔ وفود کی سطح پر ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جس کے بعد مریم نواز اور بلاول بھٹو نے ون آن ون ملاقات بھی کی ۔ ملاقات کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کیاگیا جس کے مطابق مریم اور بلاول نے اتفاق کیا کہ ملک میں ہر شعبہ زندگی زوال کا شکار ہے، ملک کو اقتصادی تباہ حالی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے ۔ مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ معیشت کے تمام اعشاریے شدید بحران کی طرف جا رہے ہیں ، پاکستان کو عالمی ساہوکا روں کے پاس گروی رکھ دیا گیا، قومی ادارے غیروں کے سپرد کرنے کے باوجود صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے، روپے کی قیمت مسلسل گر رہی ہے اور مہنگائی بڑھ رہی ہے ۔ اعلامیے کے مطابق مریم بلاول ملاقات میں چیئرمین نیب کی یکطرفہ انتقامی کارروائیوں اور حکومتی ملی بھگت کے ساتھ اپوزیشن کے ساتھ ٹارگیٹڈ سلوک پر بھی غور کیا گیا جب کہ نیب کے جعلی، بے بنیاداور من گھڑت مقدمات سے متعلق عدالتوں کا طرز عمل بھی زیر غور ;200;یا ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ملاقات میں مولانا فضل الرحمان کی مجوزہ اے پی سی اور دونوں جماعتوں کے مشترکہ لاءحہ عمل پر بھی بات چیت کی گئی اور اتفاق کیا گیا کہ موجودہ غیر نمائندہ حکومت عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی ترجمانی نہیں کرتی ۔ اعلامیے میں دونوں رہنماں نے اعلی عدلیہ کے معزز جج صاحبان کے خلاف حکومتی ریفرنس واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اعلی عدلیہ کے جج صاحبان کے خلاف ریفرنس بد نیتی پر مبنی اور عدلیہ کی ;200;زادی پر حملہ ہے ۔ دونوں رہنماں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے گرفتار ارکانِ کے پروڈکشن ;200;ڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی جانبدارانہ رویہ ترک کریں ، تمام پابند سلاسل قومی اسمبلی کے ارکان کے فوری طور پر پروڈکشن ;200;رڈر جاری کئے جائیں ۔ مریم نواز سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام اور جمہوریت کی خاطر آواز اٹھائیں گے، مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلیں گے اور 21 جون کو نواب شاہ جلسے سے مہم شروع کروں گا ۔ دوسری جانب معاون خصوصی اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ رائے ونڈ میل ملاپ میں شہبازشریف کی عدم موجودگی انتشار اور دھڑے بندی کا واضح ثبوت ہے ۔ ;200;ج محترمہ بینظیر بھٹو شہید کی روح تڑپ رہی ہوگی ۔ محترمہ کے جانشین ابا کی کرپشن بچانے کیلئے رائے ونڈ گئے، مہنگائی اور عوام کے درد کا ذکر کرنے والے منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوئے ۔ قوم کو سمجھ جانا چاہئے دونوں کے ابو کارستانیوں کا حساب دینے اصل جگہ پر ہیں ، دونوں نے اپنے اپنے ابو کو تحفظ دینے کیلئے فادرز ڈے کا چناءو کیا ۔ فرانس کے منرل واٹر، چارٹر طیاروں میں گھومنے والے عوامی مسائل سے ناواقف ہیں ۔ حکومت اپنے اتحادیوں سے مل کر بجٹ پاس کرے گی ۔ سیاسی یتیموں کا ٹولہ ہاتھ ملتا رہ جائے گا، کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ حکومت سیاسی اداکاروں کا حساب لینے ;200;ئی ہے ۔ سزا یافتہ شہزادی کا مشترکہ ایجنڈے پر اتفاق عمران خان کے بیانیے کی جیت ہے ۔ قوم عمران خان کی قیادت میں مشکلات سے نکلے گی ۔ ان لوگوں نے اپنوں کو نوازنے کیلئے پالیسیاں بنائیں ۔ غریبوں کے لیڈر کروڑوں روپے کی بلٹ پروف گاڑیوں میں بیٹھ کر اربوں کی سلطنت میں پہنچے ۔ دونوں نے ڈیزائنر فرنیچر پر تشریف رکھتے ہی فرانس کے پانی سے ان کی تواضع کی گئی ۔ حکومت کی مریم بلاول ملاقات پرتنقیدبجالیکن حقائق پر بھی نظررکھنا لازمی ہے کیونکہ کپتان نے حکومت میں آنے کے لئے کرپشن کے خاتمے کانعرہ بلند کیاتھا جس کے عوض عوام نے انہیں اپنے ووٹ سے نوازا،لیکن حکومت میں آنے کے بعد پاکستان تحریک انصاف مہنگائی کو کنٹرول نہ کرسکی ،ڈالر کی پرواز بھی لگاتار برقرار ہے لہٰذا اس وقت وہ پارٹی کامیاب ہوگی جو مہنگائی کے خلاف نعرہ بلند کرے گی سو اپوزیشن نے یہی یک نجاتی ایجنڈا طے کیاہے، بلاول کہتے ہیں کہ حکومت جاتی ہے تو جائے مگر ہم مہنگائی اور ون یونٹ پرکسی طرح بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے گوکہ ون یونٹ کے حوالے سے حکومتی وزراء کابھی یہی موقف ہے کہ ملک میں کوئی صدارتی نظام نہیں آرہا لیکن مہنگائی کے حوالے سے حکومت کے اقدامات قابل ستائش نہیں ہیں مشیرخزانہ بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ موجودہ حالات میں ڈالر کو کنٹرول کرنامشکل میں ہے ایسے میں اپوزیشن جو ترپ کے پتے کھیل رہی ہے وہ خاصی درست سمت میں جارہے ہیں حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسا لاءحہ عمل اختیارکرے جس سے نہ صرف ڈالر کنٹرول ہو بلکہ مہنگائی کو بھی قابو میں لایاجاسکے ۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام اقدامات کو پس دیواررکھ کرصرف ایک جانب توجہ دے کہ جن افراد کو کرپشن کے الزام میں پابندسلاسل کررکھا ہے ان سے ایک ٹائم فریم کے تحت رقم کی وصولی یقینی بنائے اورپھر عوام کو بتائے کہ اس نے اتنی رقم برآمدکرلی ہے ۔ یقینی طورپراس اقدام کے بعد وہ عوام کی نظر میں سرخروہوسکے گی یہی ایک نکتہ ہے جس کے ذریعے اپوزیشن کے غبارے سے ہوا نکل سکتی ہے ۔

پاک فوج میں تقرریاں اورتبادلے

پاک فوج میں متعدد لیفٹیننٹ جنرلز کے تقرر و تبادلے کردیئے گئے ہیں ، لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی ;200;ئی ایس ;200;ئی تعینات کیا گیا ہے ۔ اتوار کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (;200;ئی ایس پی ;200;ر) کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پاک فوج میں متعدد لیفٹیننٹ جنرلر کے تقرو و تبادلے کردیئے گئے ہیں ، لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر کوکو ر کمانڈر گوجرانوالہ تعینات کردیا گیاہے ، لیفٹیننٹ جنرل عامر عباسی کو کوارٹر ماسٹر جنرل تعینات جبکہ لیفٹیننٹ جنرل معظم اعجاز کوجی ایچ کیو میں انجینئران چیف تعینات کیا گیاہے ۔ بیان کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ساحرشمشاد مرزا جی ایچ کیو میں ایڈجوٹینٹ جنرل تعینات جبکہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو ڈی جی ;200;ئی ایس ;200;ئی تعینات کردیا گیا ہے ۔

بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی پربے لگام قانون کا ظلم کے عنوان سے رپورٹ جاری کی ہے جس میں جموں کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بے نقاب کرنے کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے بنیادی حقوق سے متصادم جموں و کشمیر پبلک سیفٹی ایکٹ فوری منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے 210 گرفتار کشمیری افراد پر تحقیق کے بعد یہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں کالے قانون کے تحت زیر حراست افراد کو شفاف ٹرائل اور متعلقہ حقوق سے محروم رکھا گیا اور ضمانت کا حق بھی نہیں دیا گیا ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھارتی ریاستی جبر و استبداد اور ظلم کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے بھارتی سرکار کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اورزبردستی جیلوں میں رکھنے کی مجرم قرار دیدیا ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کالے قانون کے تحت بچوں کو بھی بغیر ٹھوس شواہد کے حراست میں لیا جاسکتا ہے ۔ زیر حراست افراد کو عدالت سے رہائی ملنے پر نئی ایف آئی آر میں فوری حراست میں لے لیا جاتا ہے ۔ انہیں بیک وقت 2 مختلف قوانین کے تحت گرفتار رکھا جاتا ہے ۔ ان کے خلاف مجسٹریٹ کے سامنے ایک جیسے جرائم کی رپورٹس پیش کی جاتی ہیں ۔ پولیس فوجداری قانون سے زیادہ پبلک سیفٹی قانون کا سہارا لیتی ہے جس سے متاثرہ افراد رہائی ملنے کے بعد نوکریوں سے محروم رہتے ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں بچوں کی نظربندی، خفیہ احکامات آنا اور ریوالونگ ڈور (غیر معینہ مدت تک) حراست معمول کی بات ہے ۔ قیدیوں کو ضمانت سے روک دیا جاتا ہے ۔ ریوالونگ ڈور کے 71 واقعات میں حراست کا ایک کے بعد ایک نیا حکم جاری کیا گیا ۔ 90 فیصد واقعات میں نظربند افراد کو ایک ہی الزام میں 2،2 کیسز میں پکڑ لیا گیا ۔ بھارتی فوج گرفتار افراد کو اپنے گھروں سے دور جیلوں میں ڈالتی ہے تاکہ گھر والے نہ مل سکیں ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی حکومت غیر قانونی حراستوں ، اذیت رسانیوں اور تشدد کے تمام الزامات کی آزادانہ غیر جانبدارانہ تحقیق کرے ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق پبلک سیفٹی ایکٹ کا قانون بھارت کے انسانی حقوق قوانین سے متصادم ہے جو عدالتی نظام سے ماورا اور شفافیت و انسانی حقوق کے خلاف ہے ۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو 2 سال تک نظربند رکھنے کی اجازت ہے اور اس کی وجہ سے ریاستی انتظامیہ اور مقامی آبادی کے درمیان کشیدگی بڑھی ہے ۔ ماضی میں بھی انسانی حقوق کے عالمی ادارے سنگین خلاف ورزیوں کی رپورٹس دے چکے ہیں ، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے مبصرین کوزمینی حقائق دیکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور دنیا کی سب سے بڑی نام نہاد جمہوریت بھارت نے ان خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرنے پر فرانسیسی صحافی کو گرفتار بھی کیا ۔ چین نے پاکستان بھارت تعلقات کی بحالی میں تعمیری کردار ادا کرنے کی پیش کش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کشمیر کی کشیدہ صورت حال نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی طرف مرکوز کی ہے لہٰذا چین کشمیر کی موجودہ صورت حال کو نظرانداز نہیں کر سکتا ۔ اس دوران چین نے واضح کیا کشمیر میں کنٹرول لائن پر کشیدگی سے برصغیر کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے لہذا اس مسئلے کو حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ کشمیر میں جو صورت حال پیدا ہو رہی ہے وہ انتہائی خطرناک ہے اور اس صورت حال سے اب براہ راست عالمی برادری کی توجہ کو اپنی جانب مرکوز کر دیا ہے ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر میں کنٹرول لائن پر جو سرحدی کشیدگی بڑھ رہی ہے وہ نہ صرف دونوں کے امن کو غارت کر رہی ہے بلکہ پڑوسی ممالک بھی اس سے متاثر ہوں گے لہذا چین کسی بھی صورت میں اس مسئلے کو نظر انداز نہیں کر سکتا ۔ دونوں ممالک اس نازک مرحلے پر کشمیر مسئلے کے حل کے لئے کوششیں شروع کریں تاہم چین نے دونوں ممالک کو پیش کش کی ہے کہ چین دونوں ممالک کو قریب لانے اور مذاکرات کی بحالی میں تعمیری روال ادا کر سکتا ہے ۔ اگرچہ بھارت ہر محاذ پر یہ کہتا آیا ہے کہ کشمیر کے معاملے پر تیسرے فریق کی ثالثی ناقابل قبول ہے لیکن اس کے باوجود جو صورت حال بن رہی ہے اس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ بھارتی دانشور پرتاب بھانو مہتا نے اعتراف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خراب کرنے کے ذمہ دارہم خود ہیں ۔ پلوامہ واقعہ کے بعد پاکستان پر کوئی عالمی، سیاسی اور سفارتی دباءو نہیں ۔ بھارت نیم روایتی جنگ میں پاکستان کو شکست دینے کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ پلوامہ حملے کے بعد ہمارا رویہ ایسا ہوگیا جیسے پاکستان جیت چکا ۔ سرجیکل سٹرائیک جیسا کوئی عمل صورتحال کو تبدیل نہیں کرسکتا ۔ امریکہ جیسی بڑی طاقت بھی افغانستان میں بے بس ہوگئی ۔ پاکستان کے خلاف بھارت نے اپنی استعداد کار میں اضافہ نہیں کیا ۔ پاکستان جیت گیا کیونکہ مقبوضہ کشمیر میں احساس محرومی حقیقی ہے ۔ بھارتی دانشور نے اعتراف کیا 5 سال میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال خراب کرنے کے ذمہ دار ہم خود ہیں ۔ پلوامہ حملے کے بعد عوام میں غصہ اپنی ہی تباہی کا باعث بن گیا ۔ پاکستان جیت گیا کیوں کہ بھارت کی ثقافت گل سڑ گئی ہے ۔ بھارت کامیاب خفیہ آپریشن کرنے اور جدید فنی صلاحیتیں حاصل نہیں کرسکا ۔ بھارت کی بڑھکیں مارنے والی سیاسی قیادت امن قائم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی اور اس صورتحال کا اعتراف کرنا ہمارے لئے مشکل ہے ۔

Google Analytics Alternative