کالم

معیشت استحکام کی جانب گامزن،20اداروں کی تشکیلِ نوپرغور

کسی بھی ملک کی معیشت کا دارومدار اس کے ٹیکس کے نظام پر ہوتا ہے ۔ گزشتہ 70 دہائیوں سے ہمارے ملک کا عجیب و غریب نظام رہا ہے، غریب سے توٹیکس وصول کیا جاتارہا لیکن اصل لوگ جوٹیکس دینے والے تھے وہ آٹے میں نمک کے برابر ٹیکس دیتے رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے ملکی خزانے کو بھی نقصان رہا، معیشت بھی کمزور رہی، ملک ترقی بھی نہیں کرسکا، خزانہ کو بھی ناتلافی نقصان پہنچتا رہا اور ذاتی خزانے بڑھتے رہے جب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی ہے اس نے ٹیکس کے نظام میں نہ صرف ریفارمز لانے کیلئے کمر باندھی ہے بلکہ اس کو ہر صورت بہتر بنانے کیلئے بھی کوشاں ہے اور ٹیکس نیٹ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیاجارہا ہے تاکہ ملکی معیشت اپنے پاءوں پر کھڑی ہوسکے ۔ اسی سلسلے میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہاہے کہ ٹیکسوں پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی ، معیشت کو دستاویزی بنانے کیلئے ڈٹ کرکھڑے ہیں ، عوام پرامید رہیں خوشحالی لائیں گے، روپیہ مستحکم ہوگا ،نیزنان ٹیکس ریونیو سے ایک ہزارارب ملنے کی توقع ہے ۔ 10کمپنیوں کی نجکاری کا عمل تیزی سے مکمل کیا جائے گا ۔ وزیر اعظم عمران خان کی معاشی ٹیم کا کہنا ہے کہ ٹیکس پر سودے بازی نہیں کرینگے، معیشت بحران سے نکل کر معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے، 10کھرب روپے نان ٹیکس آمدنی ہوگی، نجکاری کے عمل میں تیزی لارہے ہیں ، 10نئی کمپنیوں کی نجکاری کیلئے اشتہارات دیدیئے، نیشنل بینک اور اسٹیٹ لاءف کو فاسٹ ٹریک پرائیوٹائزیشن میں شامل کر سکتے ہیں ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے گردشی قرضوں میں کمی لا رہے ہیں ، کرنٹ خسارے میں 73فیصد کمی، زرمبادلہ کے ذخائراور روپے کی قدر مستحکم، موبائل کمپنیوں سے 200ارب وصول ہونگے، بجلی کی چوری میں کمی واقع ہوئی ،20اداروں کی تشکیل نو ہوگی ۔ صرف عوام کے فائدے کیلئے کام کررہے ہیں ، مہنگائی چیلنج ہے، اقتصادی شرح نموکا 2;46;4فیصد ہدف حاصل کرلیں گے، آئی ایم ایف کا وفد آج معمول کے دورے پر پاکستان آئیگا ، اے ڈی بی اور ورلڈ بینک سے بھی قرضوں پر بات جاری ہے، کاروباری افراد کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں لیکن ٹیکس کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں دی جائے گی ۔ گزشتہ روز مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی کے ہمراہ ملکی معاشی صورتحال پر میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ جب یہ حکومت بنی تو ملک کی معاشی حالت بری تھی، ہم اقتصادی طور پر دیوالیہ ہونے جا رہے تھے، ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کےلئے ہ میں بہت سے اہم اقدام اٹھانا پڑے ۔ دوست ممالک سے تعاون پروگرام طے کئے اور ملک میں ڈالر ریزرو کو سنبھالا، ڈومیسٹک ٹیکس ریوینو میں 38فیصد اضافہ ہواہے ۔ پاکستان میں ٹیکس فائلر 19 لاکھ تھے جنہیں 25 لاکھ تک بڑھایاگیا، حکومت نے سرمایہ پاکستان ادارے کو ایکٹو کیا ہے اور 20 کمپنیوں کو چناجن میں تیز رفتار ری اسٹرکچرنگ ہو گی، بجلی کی ڈسٹربیوشن کمپنیوں کو بھی نجکاری کیلئے پیش کیا جائےگا ۔ نیشنل بینک اور اسٹیٹ لاءف انشورنس کی بھی نجکاری کا سوچا جارہا ہے، بجلی کے گردشی قرضوں میں کمی لائی جارہی ہے ، حکومت نے ایک سو ارب روپے کی بجلی چوری پر قابو پایا ہے جو کہ اہم اقدام ہے جس سے عوامی پیسے کی چوری کو کم کیا گیا ہے ۔ موجودہ معاشی صورتحال کے باعث ورلڈ بینک اور دوسرے ادارے آگے بڑھ رہے ہیں ان تمام چیزوں کا ملکی معیشت پر اچھا اثر ہو گا، پاکستانی عوام پُر امید رہے،بہت جلد ان کے اچھے اثرات سامنے آئیں گے، مہنگائی کے جن کو قابو کرنا حکومت کےلئے ایک چیلنج ہے ، حکومت کی سب سے بڑی کوشش ہے کہ مہنگائی کو کم کیا جائے ۔ جب ٹیکس نیٹ مضبوط ہوگا اور ہر شخص کو پتہ ہوگا کہ اس کاٹیکس دہندہ ہونا ضروری ہے تو مہنگائی بھی کنٹرول ہوگی ۔

مقبوضہ وادی میں بھارت کی بربریت جاری،تین نہتے کشمیری شہیدکردیئے گئے

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت انتہا کو پہنچ چکی ہے ، انسانی حقوق کی پامالی سرعام ہورہی ہے، زندگی سسک رہی ہے، مریض طبی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے بستر پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے رہے ہیں مگر بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے خاموشی اختیار کررکھی ہے، انتہا یہ کہ وادی میں پیلٹ گنز اور اسلحے کا بھارتی فوج کی جانب سےبے دریغ استعمال کیا جارہا ہے اور نہتے کشمیریوں کو شہید کردیا جاتا ہے ۔ نیز مسلمانوں کو اپنے پیاروں کے جنازے میں بھی شرکت کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ گزشتہ روزبھارتی فوج نے مقبوضہ وادی میں مزید 3کشمیریوں کو شہید کردیا، جبکہ بھارتی مظالم کیخلاف مظاہروں میں شدت بھی دیکھی جارہی ہے ۔ ادھر بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ وادی سے مجموعی طور پر 4100افراد کو گرفتار کیا جن میں 170مقامی سیاسی رہنما بھی شامل ہیں ، یہ بھی کہا کہ کرفیو کے باوجود مظاہرے جاری ہیں اور کرفیو بھی کام نہیں آرہا ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے بھارت سے ایک بار پھر کشمیر سے کرفیو اٹھانے کا مطالبہ کردیا ہے ۔ قابض فوج نہتے کشمیریوں کا لہو بہانے میں مصروف ہے ۔ دریں اثناء سینئر بھارتی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیر میں بھارتی فوج کے کرفیو اور لاک ڈاءون کے باوجود روزانہ اوسطاً 20 مظاہرے ہوتے ہیں ، کرفیو کے باوجود یہ مظاہرے جاری ہیں ، مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا درجہ ختم کیے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے ۔ 5 اگست کے بعد سے اب تک 722 مظاہرے ہوچکے ہیں اور سرینگر کے بعد شمال مغربی ضلع بارہمولہ اور پلوامہ میں بڑی تعداد میں مظاہرے ہوئے ۔ 200 سویلین اور 415 سیکیورٹی فورسز کے ارکان زخمی ہوئے ہیں ، حکام نے بتایا کہ گزشتہ دو ہفتوں میں 95 شہری زخمی ہوئے ہیں ،170 مقامی سیاسی رہنماءوں سمیت 4100 افراد کو سیکیورٹی فورسز نے مقبوضہ وادی سے گرفتار کیا ۔ گزشتہ دو ہفتوں میں 3000 افراد کو رہا بھی کیا گیا ہے ۔ تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ ان رہا ہونے والے افراد میں سیاسی رہنما بھی شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹر نیشنل نے بھارت سے کشمیر سے کرفیو اٹھا نے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں بھارتی بلیک آءوٹ کو 40 روز سے زائد ہوگئے ہیں وہاں سے کرفیو فوری طور پر اٹھایا جائے اور کشمیریوں کو بولنے کا مو قع دیا جائے ۔ کشمیر میں بھارتی لاک ڈاون سے 80 لاکھ افراد متاثر ہیں جبکہ موبائل فونز، انٹرنیٹ کنکشن تاحال منقطع ہیں ۔ واضح رہے کہ کشمیر میں لاک ڈاون کو 42 روز ہوگئے ہیں جس سے اشیائے خور و نوش کا قحط اور اسپتالوں میں ادویات ناپید ہوگئی ہیں ، جبکہ وادی میں پانچ اگست سے مسلسل کرفیو اور دیگر پابندیاں برقرار ہیں ۔

سیاسی مسائل کے حل کے لئے

بہترین فورم پارلیمنٹ ہے

جے یوآئی (ف)کے سربراہ مولانافضل الرحمان اور شہبازشریف کے مابین ملاقات میں اسلام آباد کو لاک ڈاءون کرنے اور ملک میں موجودہ سیاسی صورتحال پر بحث ہوئی جس میں لاک ڈاءون کے حوالے سے اتفاق کیاگیا، لاک ڈاءون کرناچاہیے مگر اس سے پہلے یہ بات بھی غور طلب ہے کہ مسائل حل کرنے کے لئے جمہوری نظام میں ایک فورم موجود ہے جس کانام پارلیمنٹ ہے پارلیمنٹ نے تما م سیاسی مسائل کو حل کرناچاہیے ، سڑکوں پرآنے سے ، جلسے جلوس نکالنے سے ، لاک ڈاءون کرنے سے ،ہڑتالیں کرنے سے ، سوائے حالات خراب ہونے کے اورکچھ بھی حاصل نہیں ہوتا، وقت کاتقاضا یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے فورم پر ہی معاملات کو حل کیاجائے کیونکہ ملک کے اندرونی اور بیرونی حالات اس بات کے متقاضی ہیں کہ باہمی اتفاق کاپیغام بیرونی دنیا میں جاناچاہیے ۔ سرحد وں کے حالات بھی دگرگوں ہیں پاک افغان بارڈر ہو یا بھارت کے ساتھ ایل او سی، دونوں جانب ہی نازک حالات ہیں ،دشمن کو اگر یہ پیغام جائے کہ پاکستان کی اندرونی سیاسی قوتیں ہی آپس میں دست وگریباں ہیں اورایک دوسرے کو پچھاڑنے کے لئے کوشاں ہیں تو پھردشمن بھی حاوی آجاتا ہے ، ملکی استحکام انتہائی ضروری ہے اختلافات رائے رکھنا چاہیے کیونکہ یہ جمہوریت کا حسن ہے لیکن جمہوریت کاقائم ودائم رہنابھی لازمی ہے ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم پہلے ہی ایک آزادمملکت کے باسی ہیں ایسے میں اپوزیشن کون سی آزادی مارچ کا اعلان کررہی ہے لفظوں کا استعمال اوراس کارکھ رکھاءوبہت اہمیت کاحامل ہوتا ہے ۔

حالات نے بیٹے کو میرے ساتھ رہنے نہ دیا

بچہ مختلف مراحل سے گزر کر پرائمری کلاس تک پہنچتا ہے ۔ پھر اے لیول اور او لیول کالج یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتا ہے ۔ والدین بھاری فیسیوں کے ساتھ دیگر ر اخراجات برداشت کرتے ہیں پھر کچھ بچے پڑھ کر انجینئر بن جاتے ہیں ، کچھ ڈاکٹر بن جاتے ہیں ، کچھ وکالت کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں ۔ اس کے بعد جاب کی باری آتی ہے ۔ کچھ سی ایس ایس کر لیتے ہیں ، کچھ فورسز میں کمیشن حاصل کر لیتے اور کچھ بزنس میں اور کچھ نوکری کی تلاش میں اور کچھ دلہا بن جاتے ہیں ۔ والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ بیٹا ہمارا تمام عمر ہمارے ساتھ رہے ، ہمارے بڑھاپے کا سہارا بنے ۔ یہ ساری تمہید اس لئے باندھی ہے کہ بتایا جائے کہ یہ تمام مراحل بچپن سے لیکر جوانی تک کے کتنے کھٹن مشکل ہوتے ہیں ۔ اب دنیا کے تمام ترقی پذیر ممالک اپنی ملکی ترقی کےلئے باہر سے بنا بنایا ٹیلنٹٹ نوجوانوں کا اپنے ہاں ہاتھوں ہاتھ ایسے لیتے ہیں ۔ جیسے کوئی پودا خود لگانے کے درخت ہی لے لے ۔ اس لئے کہ یہ ہمارے نوجوان پھل دار درخت بن چکے ہوتے ہیں ان نوجوانوں کو خوشی خوشی قبول کر لیتے ہیں ۔ انہیں نوکریاں دیتے ہیں ۔ نیشنلٹیاں دیتے ہیں ۔ دوسری جانب ہ میں ان کی قدر نہیں ہوتی اپنے کچھ ملکی ادارے ان بچوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کرتے ہیں ۔ نوکری کے ساتھ اسے ٹاچر دیتے ہیں ۔ اس کی ترقی میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں ۔ انہیں ذلیل کرتے ہیں ۔ ایک سرکاری ملازم نے سائیکل خریدی ویسے تو سائیکل بہت پیاری تھی لیکن اس کے پیچھے کیئریر نہیں تھا اس نے بیٹے کو دوکاندار کے پاس بھیجا کہ اسے درست کر دے ۔ جب دوکاندار سے ٹھیک کر کر واپس آیا تو دیکھا اس کا کیئریر تو ہے مگر اسٹینڈ غائب ہے ۔ واپس وہ خود دوکاندار کے پاس گیا پوچھا کیا ماجرا ہے اسٹینڈ کیوں نکالا ۔ دوکاندا ر نے کہا صاحب جی سرکاری نوکری میں ایک چیز مل سکتی ہے یا کیئریر یا اسٹینڈ ۔ اگر اسٹینڈ لوگے تو کیئریر ختم اور اگر کیئریر بنانا ہے تو تو کبھی اسٹینڈ مت لینا ۔ سرکاری ملازم ہمیشہ گھر سے آفس جاتے یہی سوچتے رہتے ہیں کہ آج میری دم پر کون پاءوں رکھے گا اور میں نے آج کس کی دم پر پاءو رکھنا ہے ۔ اکثر باس چونکہ خود بوٹ پالش کرتے ہوئے ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے لہٰذا یہ سلسلہ دوسروں کے ساتھ جاری رکھتا ہے ۔ ایسے میں یہ نوجوان اپنے باس کے رویہ اور اداروں کے حالات سے تنگ آ کر کسی ترقی یافتہ ملک میں جانے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ اپنا ملک اور اپنے والدین جھنوں نے اس نوجوان کو اپنے ہاتھوں سے پالا ہوتا ہے پڑھایا ہو تا ۔ اب جب اس نوجوان کا والدین اور ملک کی خدمت کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ بے بس دکھائی دیتے ہیں اور مجبورا پھر ملک اور والدین سے دور چلے جاتے ہیں اور پھر یہ نوجوان دوسروں کا قیمتی اثاثہ بن جاتے ہیں چمکتے ستارے بن جاتے ہیں اور ہم دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ۔ ایسی ایک بے بسی کی ایک تصویر پچھلے دنوں فیس بک پر باپ بیٹے کی دیکھی ۔ جسے دیکھ کر پڑھ کر آنکھیں نم ہوئیں ۔ سوچا کیوں نہ آپ سے بھی یہ شیئر کروں ۔ فیس بک پر اس تصویر میں باپ اپنے نوجوان ڈاکٹر بیٹے کے ساتھ ایئرپورٹ پر کھڑا ہے ۔ باپ بیٹے کو الواع کہنے آیا تھا ۔ باپ نے اس تصویر کے نیچے جو کچھ لکھا وہ حقیت پر مبنی ہے ۔ باپ یہ بھی کر سکتا تھا کہ خوشی خوشی بیٹے کو چھوڑ آتا ۔ دل میں اداس ہوتا اور سو جاتا ۔ میں اس باپ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جس نے اپنے درد اور غم کو ہم سب سے شیئر کیا ۔ باپ لکھتا ہے کہ آج میں یہاں اپنے بیٹے ڈاکٹر محمد ماجد خان کو انگلینڈ رخصت کرنے آیا ہوں ۔ ہم دونوں اس بات پر اداس نہیں تھے کہ ایک دوسرے سے جدا ہو رہے تھے ۔ اداس اس بات پر تھے کہ وہ ایوب میڈیکل کالج کا گریجویٹ تھا اس کو ڈاکٹر بنایا ۔ پاکستان میں اس نے میڈیسن میں سپیشلسٹ بننے کے امتحان پاس کئے اور بے نظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی ہسپتال سے ٹرینک چار سال میں مکمل کی ۔ ہر تحریری امتحان پہلے چانس میں پاس کیا لیکن کلینک ٹیسٹ میں علم سے زیادہ اداکاری کی ضرورت تھی یا سفارش کی ضرورت تھی ۔ جس میں یہ مسلسل فیل کیا جا رہا تھا ۔ گورنمنٹ کی نوکری اسے اس لئے نہیں مل رہی تھی کہ وہ میرٹ سرکاری پرائیویٹ چائنا روس اور افغانستان کا ایک تھا ۔ جس پر سرکاری کالج کے ڈاکٹر ہمیشہ کم ہوتے ہیں ۔ بہت کوشش کے بعد اسی حکومت میں اس کو نوکری ملی دیر بالا وہاڑی میں ۔ اس سے کام میڈیکل سپیشلسٹ کا لیا جا رہا تھا لیکن وہ عام میڈیکل آفیسر کی سیٹ پر تھا ۔ ساتھ ساتھ وہ ہر امتحان میں حصہ لیتا تھا ہر بار تحریری امتحان میں پاس ہوتا رہا لیکن جونہی بات انفرادی بغیر ریکارڈ کے ایک پروفیسر کے ہاتھ آتی وہ فیل ہو تا گیا ۔ اس لئے اس کو ;70808367; کی ڈگری نہیں مل سکی ۔ اس دوران وائس چانسلر کا بیٹا جس کو پاس کرنے کےلئے تحریری امتحان کا معیار نیچے کیا گیا ۔ اور پہلے چانس میں کلینیکل میں پاس کیا گیا جس کی پوری میڈیکل ڈیپارٹمنٹ گواہ ہے ۔ میرا بیٹا جو کہ پاکستان میں سروس کےلئے پر عزم تھا آئستہ آئستہ حو صلہ ہارنے لگا ۔ اس نے گوروں کے امتحان ;77826780; کی تیاری کی اور پہلے دو تحریری امتحان پاس کئے اور انہوں نے رزلٹ دیکھ لئے تو پیچھے پڑھ گئے اور چار مختلف جگہوں سے اسے جاب کی افر ملی اور با لاخر آج وہ انگلینڈ روانہ ہو چکا ہے ۔ میرے بیٹھے کو پاکستان نے ٹرین کیا اور ہم نے اسے پڑھایا کہ یہی رہ کر ملک اور ہماری خدمت کرے گا مگر ایسا اس نظام کی خرابیوں کی وجہ سے نہ ہو سکا ۔ میرا بچہ جسے ناز و نعمتوں پالا تھا پڑھایا تھا اب وہ گوروں کی خدمت کرے گا ۔ والدین سے دور رہے گا ۔ اسی طرح نہ جانے کتنے اور ڈاکٹر ماجد پاکستان میں ہونگے جو جا چکے ہیں یا جانے کو تیار بیٹھیں ہیں اسی کو ;66;rain ;68;rain کہتے ہیں ۔ یہ کہانی اس باپ کی ہے جس کا دل کرتا ہے کہ بیٹا اس ملک کی خدمت ہمارے پاس رہ کر کرے ۔ باپ بھی تیار اور بیٹا بھی مگر ہمارا نظام ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ ہم چہرے بدلتے ہیں نظام نہیں بدلتے ۔ ہم اپنے اداروں کے سسٹم کو ٹھیک نہیں کرتے ۔ اداروں میں ایسے لوگوں کو لایا ، لگایا جاتا ہے جن کی کمزوریاں دوسروں کی فائلوں میں بند ہوتی ہیں ۔ لہٰذا ان سے اپنے مرضی سے کام لیتے ہیں ۔ کسی ادارے کا ملاز م اپنی نوکری سے فارغ ہو جانے پر اس نے یہ شعر لکھا ۔ ترقی کی فصل میں کاٹ لیتا ۔ تھوڑے سے تلوے اگر چاٹ لیتا ۔ میرے لہجے میں جی حضور نہ تھا ۔ اس کے علاوہ کوئی قصور نہ تھا ۔ ہمارے ہاں علی بابا چالیس چور وں میں ہمیشہ علی بابا ہی بدلا جاتا ہے چالیس چور وہی کے وہی رہتے ہیں یہی چور بعد میں نئے علی بابا کے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں ۔ ہم سمجھتے ہیں اب تبدیلی آئے گی کیونکہ علی بابا چلا گیا ہے نیا ذہین فتین افسر آ گیا ہے مگر بعد میں پتہ چلتا ہے یہ بھی وہی کام کررہا ہے جو پہلے والا علی بابا کرتا تھا ۔ صرف چہرہ بدلا ہے ۔ جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ بندوں کو نہیں نظام کو بدلو ۔ یہ کام لگتا آسان ہے مگر کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے ۔ لہٰذا ڈاکٹر ماجد جیسے نوجوان غیروں کی خدمت کریں گے ۔ والدین سے دور رہے گے ۔ سچ تو یہ ہے کہ ہم بے وقوف ٹھہرے اور وہ سمجھ دار ۔ جو بچپن سے جوانی تک کا بچے کا عرصہ مشکل ہی نہیں مانگا ترین بھی ہوتا ہے جبکہ پڑھنے کے بعد کا وقت جو آسان ہوتا ہے ۔ انہیں تھوڑی سے پش کی ضرورت ہوتی ہے پھر اس نوجوان سے ساری عمر فائدے اٹھا تے ہیں اور ہم جب پھل کھانے کا وقت آتا ہے تو اسے دوسروں کے ہاں چھوڑ آتے ہیں ۔ پھر نہ پھل ملتا ہے اور نہ چھاءوں ۔ ہم سب کےلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ کب تک ہمارا ٹیلنٹ باہر جاتا رہے گا ۔ کب ہم ہوش کے ناخن لیں گے ۔

بہری ،گونگی اور اَندھی دنیا

بعض اوقات ایسی خبریں یا اطلاعات سامنے ;200;تی ہیں کہ بندے کا انسانیت سے بھی اعتبار ڈگمگانے لگتا ہے اور سر پیٹ کے رہ جاتا ہے ۔ اس مادی دنیا میں ہر گزرتے دن کے ساتھ یقینا انسانیت اور انسانی قدریں قصہ پارینہ بنتی چلی جا رہی ہیں ۔ زر پرستی کا یہ عالم ہے کہ انسانیت کی بجائے انسانی منڈی ہر معاشرہ چاہے وہ مشرقی ہے یا مغربی اسکی اولین ترجیح ہے ۔ مغربی معاشرہ خود کو زیادہ مہذب اور انسان دوست گردانتا ہے اس میں کسی حد تک سچائی بھی ہے لیکن یورپی اور مغربی دنیا کی صورتحال کو بھی ;200;ئیڈیل قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ انسانیت کے مقابلے میں انسانی منڈی کی ترجیح ان ہی معاشروں کاسکہ راءج الوقت ٹھہرا ہے ۔ اس کی دلیل میں ڈھیروں واقعات پیش کئے جا سکتے ہیں کہ کس طرح انسانی منڈی کو انسانیت پر ترجیح دی جا رہی ہے، لیکن ایک تازہ مثال ملاحظہ ہو کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے باوجود بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو بل گیٹس فاوَنڈیشن کی جانب سے ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے ۔ بل گیٹس کو انسانیت دوست اور تعلیم دوست مانا جاتا ہے ۔ ان کے کریڈٹ پر بیسیوں ایسے پروجیکٹ ہیں جن پر وہ بھاری رقم خرچ کرتا ہے ۔ بل گیٹس فاوَنڈیشن کی جانب سے مودی کو بھارت کے قوم پرست رہنما سواچ بھرت ابھیان کی کلین انڈیا مشن کے تحت ملک میں محض بیت الخلا تعمیر کرنے کے مسئلہ کی طرف توجہ دینے کے اعتراف میں ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ہے ناں دورنگی کہ ایک مسئلے کی جانب صرف توجہ دینے پر ایک بڑی فاوَنڈیشن کے من میں لڈو پھوٹ اُٹھے لیکن دوسری جانب یہی مودی مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت کے اندر اقلیتوں اور مذہبی ;200;زادی کےلئے جلاد بنا ہوا ہے ۔ یہ وہی مودی ہے جو 2002 ء میں گجرات فسادات کا ذمہ دار اور ایک ہزار سے زائد مسلمانوں کے قتل کا موجب بنا تھا ۔ اس وقت مودی گجرات کے وزیراعلیٰ تھے ۔ اسی وجہ سے اُسے ;200;ج بھی گجرات کے قصائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ امریکہ نے2005 ء میں انٹرنیشنل ریلیجیس فریڈم ایکٹ کے تحت مودی کی امریکہ داخلے پر پابندی عائد کردی تھی لیکن یہ پابندی امریکہ ہی کی طرف سے اُس وقت ہوا میں اڑا دی گئی جب 2014 میں انتہا پسند بھارتی معاشرے نے ایک قاتل کو اپنا وزیر اعظم منتخب کر لیا ۔ ایوارڈ دینے کے اس قبیح فعل پر بل اینڈ ملینڈا گیٹس فاوَنڈیشن کو شدید تنقید کا سامنا تو ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مغربی و یورپی پالیسی سازوں کی منافقت کہاں دم لیتی ہے ۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیائی نژاد امریکی ماہرین تعلیم وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی جانب سے بل گیٹس فاوَنڈیشن کے فیصلے کے خلاف ;200;ن لائن پٹیشن شروع کردی گئی ہے جس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ یہ کھلا تضاد ہے کہ انسانی حقوق کے حوالے سے ایوارڈ ایک ایسے ;200;دمی کو دیا جائے جو گجرات کے قصائی کے نام سے مشہور ہے ۔ مہم کے منتظمین نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اگر مودی کو ایوارڈ دیا جاتا ہے تو پھر یہ انسانی حقوق کی پامالی، بھارتی سول سوساءٹی اور انصاف کے لیے لڑنے والوں کی حوصلہ شکنی اور بھارت میں اقلیتی حقوق کی کوئی حیثیت نہ ہونے کا پیغام سمجھا جائے گا ۔ انہوں نے بل گیٹس فاوَنڈیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ مودی کو یہ ایوارڈ نہ دے ۔ دوسری جانب امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے اداریہ میں کہا گیا ہے کہ بیت الخلا تک رسائی کی مہم کیسے اہم ہوسکتی جب دیگر انسانی جانوں کو جرائم اور تشدد کا سامنا ہو ۔ واشنگٹن پوسٹ کا یہ کہنا بجا اور حقیقت پر مبنی ہے کہ مودی کے اقتدار میں ;200;نے کے بعد بھارت ایک متشدد اور انتہا پسند ملک کے طور ابھرا ہے جہاں سکھ ،دلت ،کرسچن اور مسلمانوں کو شدید قسم کی اذیتوں کا سامنا ہے ۔ مذہبی ;200;زادی سوالیہ نشان بن چکی ہے ۔ مسلمان مذہبی فراءض کی ادائیگی کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر تشدد برداشت کر رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ مسلم عبادت گاہیں بھی ہندو انتہا پسندوں کے نشانہ پر ہیں ۔ مساجد پر مسلح حملے توڑ پھوڑ اور ان کو سرکاری سرپرستی میں مسمار کرنے کا سلسلہ بلا خوف خطر جاری ہے ۔ روز ایسے کلپس وائرل ہو رہے ہیں جن میں مسلمانوں کا پیٹا جا رہا ہوتا ہے یا مساجد پر حملے ہو رہے ہوتے ہیں ۔ معروف تاریخی بابری مسجد کی شہادت کیسے بھلائی جا سکتی ہے جو بھارت کے نام نہاد لبرل چہرہ پر بدنما داغ ہے ۔ بھارت میں انصاف کا نظام بھی اب مودی زدہ ہو چکا ہے ۔ چھبیس ستائیس برس سے بابری مسجد انہدام کا کیس عدالتوں میں چل رہا ہے لیکن مسلم اقلیت کو انصاف نہیں مل رہا،ایسے میں یہ اطلاعات سامنے آرہی ہیں کہ ایک اور تاریخی مسجد گیان واپی بھی کٹر ہندوءوں کے نشانے پر ;200;چکی ہے ۔ اس بارے ذرا بذریعہ انٹرنیٹ تحقیق کی تو یہ اطلاعات سچ ثابت ہوئیں ،اور یہ بھی بات سامنے آئی کہ اس مسجد کو گرانے کی سازش کے پیچھے بھی وہی سطحی جواز تراشہ جا رہا ہے کہ اسے بھی مندر کی جگہ پر تعمیر کیا گیا ہے ۔ گیان واپی مسجد یو پی میں واقع ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر نے17 ویں صدی میں تعمیر کرایا تھا لیکن بعض مورخوں کے نزدیک مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے عہد میں بھی یہ مسجد موجود تھی اورنگ زیب عالمگیر نے 1658 میں اسکی صرف تعمیر نو کرائی تھی ۔ اب ;200;ر ایس ایس اور بی جے پی جیسی دیگر انتہا پسند جماعتوں کا دعوی ٰہے کہ اسے کاشی وشوناتھ مندر کے کھنڈرپر تعمیر کیا گیاہے ۔ یہ مسجد دریائے گنگا کے کنارے کے قریب واقع ہے ۔ بابری مسجد کی طرح اسکی حیثیت بھی مسلمہ ہے ۔ حالیہ الیکشن مہم کے دوران بھارتیہ جنتا پارٹی، وشوا ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے کرتا دھرتاؤں کے انتخابی نعروں میں سے ایک بنیادی نعرہ تھا کہ’’ ایودھیا تو صرف جھانکی ہے، کاشی، متھرا باقی ہیں ‘‘ ۔ مسلمانوں کے لیے یہ واضح پیغام تھا کہ وہ بابری مسجد کے انہدام کے بعد کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ گیان واپی مسجد کے قرب جوار کا45000 مربع میٹر علاقے کو زبردستی خالی کروایا جا چکا ہے ۔ الیکشن کے موقع پریوپی وارنسی سے انتخابی کاغذات جمع کرانے کے موقع پر نریندر مودی نے کہا تھا کہ کاشی وشواناتھ مندر ہر حال میں تعمیر ہو گا اور اس کےلئے600کروڑ روپے مختص کر دیے گئے ہیں ، چونکہ نریندر مودی اسی حلقہ سے منتخب ہوئے ہیں تو اس بنا پر کاشی مندر کو خصوصی اہمیت حاصل ہو چکی ہے اور کام پر تیزی سے پیشرفت جاری ہے ۔ مودی کے اس نئے شیطانی پروجیکٹ سے 300گھر مسمار اور600 خاندان در بدر ہونگے ۔ مقامی طور رہائشیوں میں بے چینی دیکھنے اور سننے میں ;200; رہی ہے ۔ ایک ہزار سے زائد پولیس والے اب وشواناتھ مندر اور گیان واپی مسجد پر پہرہ دیتے ہیں اور ;200;نے جانے والوں کی تفصیلی تلاشی لی جاتی ہے سکیورٹی اس قدر سخت ہے کہ انتہاپسند ہندووَں کے سوا کوئی اسکے اندر نہیں جاسکتا،یہ بات بھی سامنے ;200;ئی ہے کہ پوجا پاٹھ کےلئے جانے والا یہ عہد کرتا ہے کہ وہ اپنی زندگی میں مسلمانوں کو نقصان پہنچانے اور انکے خاتمے کیلئے کوئی نا کوئی ایک قدم ضرور اٹھائے گا ۔ وشوا ناتھ مندر میں ہی انتہاپسند ہندو تنظیم وشوا ہندو پریشد کی بنیاد رکھی گئی تھی ۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ 2013 ء میں جب بی جے پی کی طرف سے نریندرا مودی کو لوک سبھا کے لیے پہلی بار پارٹی ٹکٹ دیا گیا تو اس نے اپنی انتخابی مہم کا ;200;غاز اسی کاشی وشوا ناتھ مندر کے دورے سے کیا تھا اور کئی گھنٹے پوجا پاٹھ میں گزارے اور اپنے روایتی مسلم کش عقائد کے مطابق مسلمانوں کے خلاف عہد کیا تھا ۔ اسکے بعد سے بھارتی سرزمین مسلمانوں کیلئے تنگ ہونے لگی ہے ۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف زہر تو مودی کے ڈی این اے میں شامل ہے اسے جہاں موقع ملتا ہے ڈنگ مارنے سے نہیں چوکتا مگر وہ انسانی حقوق اور مذہبی ;200;زادیوں کے ٹھیکیدار مودی کے معاملے میں کیوں گونگے اور بہرے ہو جاتے ہیں ۔ کیا اسلئے کہ بھارت انسانوں کی ایک بڑی منڈی ہے،یہاں انسانیت ثانوی حیثیت رکھتی ہے ۔ کشمیر اور کشمیریوں کا بیالیس روز سے ناطقہ بند ہے،کیا امن اور ;200;زادی کے ذمہ دار انٹرنیشنل ادارے انسانی المیہ جنم لینے کے انتظار میں ہیں تاکہ وہ تب کھل کر ماتم کر سکیں ۔ مقبوضہ کشمیر اور بھارت کے اندر اقلیتوں کےخلاف نریندر مودی حکومت کے رویہ پر عالمی برادری کی خاموشی انتہائی شرمناک ہے ۔

طاقت کی زبان سمجھنے کی بھارتی روش ۔ ۔ !

17 ستمبر 1950 کو ایک صاحب اس دنیا میں وارد ہوئے جن کا نام ان کے والدین نے نریندر بھائی مودی رکھا اور موصوف اب تلک 25 ہزار 199 دن اس کائناتِ حیات میں گزار چکے ہیں ۔ یہ شخصیت چھبیس مئی 2014 کو پہلی بار ہندوستان کے وزارت عظمی کے منصب پر فائز ہوئی اور 2019 میں دوبارہ واضح اکثریت سے جیتنے کے بعد مودی اپنے دوسرے عہد اقتدار کے پہلے 100 دن بھی گزار چکے ہیں ۔ انھوں نے گویا ہمیشہ یہ تہیہ کئے رکھا کہ انھوں نے اپنے ہمسایوں کے علاوہ خود اپنے یہاں کی اقلیتوں کو چین سے نہیں رہنا دینا اور اس ضمن میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہے ہیں ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے بعض افراد اور گروہوں کی نفسیات ہی کچھ ایسی بن جاتی ہے کہ وہ محض طاقت کی زبان سمجھتے ہیں اور دلیل اور منطق کو سامنے والی کی کمزوری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ ویسے تو یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ زیادہ تر لوگ قوت کو ہی سب سے بڑی دلیل قرار دیتے ہیں مگر اس ضمن میں ہندوستان کی تاریخ پر ذرا سی بھی نگاہ ڈالیں تو واضح ہو جاتا ہے کہ وہاں کے حکمران طبقات ہمیشہ ہی سے قوت کے پجاری رہے ہیں ۔ اسی وجہ سے ہر وہ شے جو نفع یا نقصان پہنچا سکتی ہے ، اس کی پوجا شروع کر دی جاتی ہے مثلا آگ ، سانپ اور مختلف درندے وغیرہ اور شاید اسی وجہ سے گذشتہ سینکڑوں برسوں میں بھارت دوسری قوموں کا غلام رہا ہے ۔ مگر اب جب کہ 72 برسوں سے اسے آزادی میسر آئی ہے تو وہ اپنے چھوٹے ہمسایوں کو ڈرا دھمکا کر ، مقبوضہ کشمیر میں بدترین ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کر کے اور پاکستان چین کیخلاف توسیع پسندانہ عزائم اختیار کر کے گویا اپنی صدیوں کی غلامانہ محرومیوں کی تسکین کا خواہش مند ہے ۔ مگر بھارت کے بالا دست طبقات اس تلخ حقیقت سے جانے کیوں صرف نظر کر رہے ہیں کہ اس روش کے نتاءج کبھی بھی کسی کے حق میں اچھے نہیں ہوتے ۔ اس تناظر میں موثر عالمی قوتیں بھی ، اپنی سطحی اور وقتی مصلحتوں کی بنا پر بھارت کی مجرمانہ روش سے چشم پوشی کرتے ہوئے غالبا اجتماعی انسانی کوتاہیوں کی مرتکب ہو رہی ہیں ۔ اور یہی وجہ ہے کہ مودی سرکار کے اقتدار میں آنے کے بعد خود بھارت کے اندر بھی ایک بحرانی کیفیت پیدا ہو چکی ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ بھی بھارتی تعلقات کسی طور قابلِ رشک نہیں ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ کوئی بھی حکومت اس ریاست کا حقیقی چہرہ ہوتی ہے ۔ ایسے میں مودی سرکار آئے روز اپنی مذہبی اقلیتوں کے خلاف جس طرح عدم برداشت کے ماحول کو جان بوجھ کر فروغ دے رہی ہے ، یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور فاروق عبداللہ جیسی بھارت نواز شخصیات کو بھی احساس ہو رہا ہے کہ اس وقت دو قومی نظریہ کے ساتھ نہ چلنا کس قدر عاقبت نا اندیش فیصلہ تھا ۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ جموں کشمیر کے حوالے سے دہلی سرکار اپنی پارلیمنٹ کی منظور کردہ ایک قرار داد کا ذکر تو بار بار کرتی ہے مگر شاید وہ یہ بھول چکی ہے کہ اس ضمن میں اقوام متحدہ نے بھی کتنی قرار دادیں منظور کر رکھی ہیں لہٰذا اگر واقعتا بھارت کے حکمرانوں کو امن عزیز ہے تو انھیں پاکستان اور کشمیریوں سے بات چیت کا راستہ اپنانا ہو گا وگرنہ قابض بھارتی فوج کیسے اور کب تلک مقبوضہ ریاست پر اپنا تسلط بر قرار رکھ پائے گی ۔ یہ امر اور بھی قابل ذکر ہے ایک روز قبل نریندر مودی نے بھارتی ریاست جھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں اپنی حکومت کے 100 دن پورے ہونے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گوہر افشانی کی کہ 100دنوں میں تو ہم نے محض ٹریلر دکھایا ہے، پوری فلم ابھی باقی ہے ۔ ابھی تو صرف 100 دن گزرے ہیں جبکہ ہماری حکومت کے پورے پانچ سال باقی ہیں ۔ ہم نے وہ کیا ہے جو اس سے قبل کے بھارتی حکمرانوں اور دوسروں نے سوچا بھی نہیں ہو گا اور ہم آگے بھی ایسے سارے کام کریں گے ۔ اس تمام صورتحال کے باوجود دہلی کے حکمران تو ہٹ دھرمی سے جمہوریت اور سیکولر ازم کے دعوے کرتے رہتے ہیں مگر افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ چونکہ عالمی برادری کے ایک بڑا حلقے کے ہندوستان کی بڑی آبادی سے کافی مفادات وابستہ ہیں ، اس لئے دنیا دہلی کے ان لغو دعوءوں پر یقین بھی کر لیتی ہے ۔ اور عالمی برادری ان پر یقین بھی کرے تو اس بابت کچھ نہ کہنا ہی غالبا بہتر ہو گا ۔

وزیراعظم صاحب، اللہ کرے ایساہی ہوجائے……. !

یقینا اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ ہمارے بعددنیا کے جو مُمالک آزاد ہوئے، آج اُن کی ترقی اور خوشحالی کی رفتار ہم سے کئی گنا بہتر ہے، وہاں کے عوام کو ہم سے بہتر بنیادی حقوق اور دیگر سہولیات زندگی حاصل ہیں ۔ مگر ایک ہم ہیں کہ ابھی تک گٹر وسیوریج ، بجلی وتوانائی، خوراک وصحت اور تعلیم و ٹرانسپورٹ اور صاف پینے کے پانی کے حصول جیسے مسائل سے ہی نہیں نکل سکے ہیں ۔ اِس پربھی ہمارا گھمنڈ اور فخر یہ ہے کہ ہم نے بنیادی مسائل میں گھیرے رہنے کے باوجود بھی ایٹم بم بنا لیا ہے ۔ اَب ہم بھی دنیا کی ایک ایٹمی طاقت بن گئے ہیں ۔ بس خالی پیٹ اور بنیادی اِنسانی حقوق سے محروم رہ کر بھی اپنی بقاء و سالمیت کےلئے اتنا ہی ہمارا فخریہ کام ہے ۔ ورنہ، تو حقیقت یہ ہے کہ ہم ترقی یافتہ اور ترقی پذیر بہت سے دنیا کے ممالک کے مقابلے میں عُشرِعشیر بھی نہیں ہیں ۔ کیوں کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہمارے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اداروں کے درمیان ایک دوسرے کے مفادات کےلئے مصلحت، منافقت اور مصالحت پسندانہ رویوں نے مُلک کی ترقی اور خوشحالی کو خاک میں ملا کر ساری قوم کو اِس کے بنیادی اِنسانی حقوق اور سہولیات زندگی سے محروم رکھ کر پستی میں دھکیل دیاہے ۔ اِس پر راقم الحرف کو کہنے دیجئے کہ ہمارے یہاں صرف رہنما اور حکمران ہی منافق اور کرپٹ نہیں ہیں ۔ بلکہ وہ ووٹرز بھی اتنے ہی ذمہ دار دار اور کرپٹ اور منافق ہیں ۔ جو ستر سال سے ایسے لوگوں کو ایوانوں میں پہنچاتے رہے ہیں ۔ جو اپنے ووٹرزاور مُلک کی ترقی اور خوشحالی کوبلائے طاق رکھ کر قومی خزانے سے لوٹ مارہی میں لگے رہے اور مُلک و قوم کا بیڑاغرق کرگئے ۔ آج ماضی کے مقابلے میں کیا واقعی ہمارے معاشی اور اقتصادی لحاظ سے قریب ا لمرگ مُلک میں بہتری کے اثرات نمودار ہونے شروع ہوگئے ہیں ;238;جہاں ایک سال پہلے تک تومایوسی اور مبالغہ کا غلبہ تھا ۔ پچھلے دِنوں جیسا کہ غیرمُلکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ’’ حکومت کا پہلا سال بہت مشکل تھا، لیکن اَب یہاں سے آگے لوگ فرق محسوس کریں گے، اَب مُلک کی سمت ٹھیک راستے پر گامزن ہے ۔ ‘‘ ہماری دُعا ہے کہ اللہ کرے ایسا ہی ہو جیسا کہ وزیراعظم نے فرمارہے ہیں مگر ابھی بہت سے کڑے اور سخت امتحان باقی ہیں ۔ خواب خرگوش میں رہنے کے بجائے وزیراعظم کو ابھی بہت سے کٹھن فیصلے کرنے ہوں گے اِن کا کام یہیں تک نہیں ہونا چاہئے ۔ چند ماہ کی حکومت میں ہی وزیراعظم سینہ ٹھونک کر اور گردن تان کر سب ٹھیک کے دعوے کرنے لگیں اور چین کی بانسری بجاتے پھیریں جبکہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ 70سال کی گند ایک سال میں ختم ہوجائے;238; وزیراعظم عمران خان صاحب ابھی تو بہت سے نازک مراحل آئیں گے اور آپ کو کئی ایسے فیصلے مزید کرنے ہوں گے جس سے قومی لٹیروں پر لرزہ طاری ہوجائے اور آئندہ کوئی قومی خزانے کو لوٹ کھانے کےلئے شب خون مارنے کا عملی مظاہر ہ کرنے سے پہلے اپنے عبرت ناک انجام کو سوچے،اور اگر کوئی کہیں سے بہکائے تو وہ ایسا کرنے کا سوچنا اور خواب دیکھنا بھی چھوڑ دے ۔ قومی خزانے کو لٹیروں اور قومی چوروں کے ناپاک عزائم سے بچانے کے سخت قوانین وضع کرنے ہوں گے توتب بات ہوگی ۔ ویسے معاف کیجئے گا، وزیراعظم صاحب، ابھی لگ بھگ ایک سال کے عرصے میں آ پ نے کئی قومی اور عالمی معاملات میں سِوائے یوٹرن لینے کے کچھ نہیں کیا ہے ۔ مگر اِس پر بھی یہ دعویٰ ہے کہ ’’ اَب مُلک کی سمت ٹھیک راستے پر گامزن ہے’’ اپنے اندر بہت گہرائی رکھنے کے ساتھ کئی سوالات بھی لئے ہوئے ہے ۔ بہرحال، آج یقینا یہ حوصلہ افزاء موقع ہے کہ کئی سالوں بعد ہمارے کسی وزیراعظم نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے قوم کو یقین دِلانے کی کوشش تو کی ہے کہ ’’ اَب مُلک صحیح سمت میں آگے بڑھ رہاہے ‘‘ ورنہ تو 70سال سے اپنے کسی حکمران سے قوم اِس جملے کو سُننے کےلئے ترس رہی تھی ۔ چلیں ، کسی وزیراعظم نے اِتنا بھی کہہ کر قوم کی ہمت بڑھائی ہے ۔ تب ہی تو یہ یک زبان ہو کر کہہ رہی ہے ’’ قدم بڑھاوَ عمران خان قوم تمہارے ساتھ ہے‘‘ ۔ بیشک، وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل جاوید قمر باجوہ سے قوم کو بڑی اُمیدیں وابستہ ہیں ۔ قوم کے دل میں اِن حضرا ت کی اتنی عزت پیداہوگئی ہے ۔ اَب یہ سمجھنے لگی ہے کہ اللہ نے اِن شخصیات کو مُلک اور قوم کو ماضی کے لٹیرے حکمرانوں اور سیاستدانوں سے نجات دلانے کےلئے وطن عزیز پاکستان کے عوام پر اپنا احسان العظیم کیا ہے ۔ تاہم آج پاکستانی قوم میں وزیراعظم اور آرمی چیف سے متعلق اتنی محبت اور احترام کا جذبہ پیداہوگیاہے کہ اَب پاکستانی قوم کے دل میں ماضی کے کسی بھی حکمران کے بارے میں کوئی گنجائش ہی نہیں رہی ہے ۔

تماشائیوں کو اسٹیڈیم لانے کیلیے بسمعہ معروف میدان میں آگئیں

قائد اعظم ٹرافی کے دوران روٹھے تماشائیوں کو اسٹیڈیم میں لانے کے لئے پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی کپتان بسمعہ معروف میدان میں آ گئیں

.بسمہ معروف سدرن اور سینٹرل پنجاب کی ٹیموں کے درمیان جاری میچ کے موقع پر قذافی اسٹیڈیم پہنچیں جہاں انہوں نے ایک تعلیمی ادارے کے چند طالب علموں کو آٹو گراف دیئے اور سیلفیز بھی بنائیں۔

یاد رہے کہ قائد اعظم ٹرافی کا پہلا مرحلہ ملک بھر میں جاری ہے لیکن اسٹیڈیمز میں تماشائیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ پیر کو بھی سدرن اور سنٹرل پنجاب کی ٹیموں کے درمیان پہلے مرحلے کے تیسرے دن بھی قذافی سٹیڈیم کرکٹ شائقین کی جی آیاں نوں کہنے کے لئے ترستا رہا۔

وزیراعظم عمران خان امریکی صدر کی ثالثی سے پُرامید

وزیراعظم عمران خان نے قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے پاک بھارت حالیہ کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بار بار ثالثی کی پیشکش کے پس منظر میں امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صدر ٹرمپ سنجیدہ مداخلت کرتے ہیں تو مسئلہ کشمیر کے حل کی گارنٹی دی جاسکتی ہے ۔ اب یہ معاملہ دوطرفہ بات چیت سے حل نہیں ہوسکتا، بات اس سے آگے نکل چکی ہے، اس کے حل کا راستہ صرف امریکہ ہے ۔ انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرےگا، وہ جنگ کے خلاف ہیں ، تاہم انہوں نے ساتھ دو ٹوک الفاظ میں خبردار کیا کہ پاکستان اور بھارت میں روایتی جنگ ہوئی تو اختتام ایٹمی جنگ پر ہوگا جس کے نتاءج بھیانک ہوں گے، ۔ جنگ کے حوالے سے وزیراعظم کا موقف کہ پاکستان جنگ میں پہل نہیں کرے گا اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان ایک پُر امن ملک ہے اور کسی بھی نوعیت کی جنگ کے خلاف ہے ۔ اسی اصولی موقف پر وہ اول روز سے کار بند چلا ;200;رہا ہے مگر شومئی قسمت کہ دوسری طرف بھارت نے اسے ہمیشہ کمزوری سے تعبیر کیا اور پاکستان کی سالمیت کو کئی بار چیلنج کیا تاہم ہر بار اسے منہ کی بھی کھانا پڑی جس کی تازہ مثال رواں سال فروری میں ;200;زاد کشمیر میں اس کی وہ جارحیت کی کوشش ہے جس میں اس کے دو جہاز تباہ اور ایک پائلٹ گرفتار ہوا تھا ۔ پاکستان نے خیر سگالی کے طور پر اسکے گرفتار پائلٹ کو واپس کر دیا تھا تاکہ امن کی کوششوں کو فروغ ملے اور متنازعہ امور کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی راہ ہموار ہو ۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اس جذبہ خیر سگالی کو بھی مودی حکومت کی امن دشمن انتظامیہ نے پاکستان کی کمزوری گردانہ ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے انٹرویو میں اسی بھارتی رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت عظمیٰ کامنصب سنبھالنے کے بعد سے اب تک انہوں نے بھارت کو کئی بار مذاکرات کی پیشکش کی ہے، لیکن بھارت پاکستان کی مذاکرات کی پیشکش کو غلط طریقے سے لے رہاہے ۔ جہاں تک تعلق ہے امریکی صدر کی ثالثی یا سنجیدہ مداخلت کا تو وزیراعظم کا یہ کہنا سو فیصد درست ہے کہ امریکی مداخلت سے کشمیر کا مسئلہ گارنٹی سےحل ہو سکتا ہے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے علاوہ روسی صدر ویلادی میر پیوٹن اور چینی صدر شی جن پنگ وہ بڑی شخصیات ہیں جو مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ حل کروانے کےلئے اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ امریکہ یا اسکی دیگر حواری طاقتیں جن کا یو این او اور سلامتی کونسل پر مکمل کنٹرول ہے وہ چاہیں تو معاملہ مہینوں میں نہیں بلکہ دنوں میں حل ہو سکتا ہے ۔ تنازعہ کشمیر یو این کی قرار دادوں کے تحت حل ہونا ہے اور بھارت نے کشمیریوں کو حق خودارادیت دینے کا وعدہ ستر برس قبل سلامتی کونسل کے سامنے کر رکھا ہے ۔ بس بھارت کو اسے یہ وعدہ یاد دلانے کے ساتھ نبھانے کے انتظامات کروانے ہیں ۔ یہ انہی طاقتوں کی اخلاقی اور منصبی ذمہ داری ہے کہ وہ جلد اس سے عہدہ بر;200; ہوں ۔ جب تک وہ اس معاملے کا کوئی سلوشن نہیں نکالتے مقبوضہ وادی میں بہنے والے خون کے چھینٹے امریکہ اور اسکی حواری طاقتوں کے دامن پر پڑتے رہیں گے ۔ صدر ٹرمپ سہ بار ثالثی کا اعادہ کر چکے ہیں کہ اگر پاکستان اور بھارت چاہیں تو وہ ثالثی کےلئے تیار ہیں ، لیکن اس اعادے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ مودی وہ دم ہے جو سو سال بعد بھی ٹیڑھی کی ٹیڑھی ہی رہے گی ۔ ایسے ہٹ دھرم کرداروں کا علاج پیشکشوں سے نہیں بلکہ شٹ اپ کال دینے میں ہے ۔ امریکہ بھارت اور پاکستان کو ایک ٹیبل پر بٹھانے کےلئے مودی پر دباءوڈالے تاکہ خطہ کسی بڑے تصادم کا شکار نہ ہو ۔ صدر ٹرمپ اور اقوام متحدہ سمیت سب کےلئے یہ بات لمحہ فکریہ ہونی چاہیے کہ تنازعہ کشمیر ایٹمی جنگ کا ایندھن بننے کے قریب ہے اور ہٹلر ثانی مودی کی کوئی بھی شرارت تباہ کن ہو سکتی ہے ۔ اسی لیے وزیراعظم ایک بار پھر اپنے انٹرویو کے ذریعے دنیا کو خبردار کر رہے ہیں کہ دو ایٹمی طاقتیں جنگ کے دہانے پر ہیں اگر یہ طاقتیں لڑیں گی تو انجام بھیانک ہوگا، تاہم ایٹمی جنگ سے بچنے کےلئے عالمی برادری اپنا کردار ادا کرے ۔ کوئی بھی ذی شعور انسان ایٹمی جنگ کی بات نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے پاک بھارت کشیدگی کو امریکہ اور روس کے درمیان 1962 کے کیوبن میزائل بحران سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان صورتحال بہت کشیدہ ہے، جنگ کی صورت میں اس کے اثرات برصغیر کے باہر بھی محسوس کیے جاسکیں گے ۔ الجزیرہ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے اسی قسم کے مزید خیالات کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ بھارت نے گزشتہ 6 ہفتے سے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ مسلمانوں کو یرغمال بنا رکھا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بھارت اپنے غیرقانونی الحاق اور کشمیریوں کی نسل کشی سے عالمی دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا رہا ہے ۔ پاکستان جنگ شروع کرنے میں کبھی پہل نہیں کرے گا اور میں اس پر واضح ہوں ، میں پرامید ہوں ، میں جنگ کا مخالف ہوں اور سمجھتا ہوں کہ جنگ سے کوئی مسائل حل نہیں ہوتے ۔ اس لیے ہم اقوام متحدہ تک گئے اور ہر عالمی فورم پر جارہے ہیں ، انہیں سمجھداری کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ اب بھارتی حکومت سے بات چیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے انہوں نے اپنے ہی ;200;ئین کے ;200;رٹیکل 370 کو منسوخ کرکے مقبوضہ کشمیر پر غیرقانونی طریقے سے قبضہ کیا جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا بیرونی میڈیا کو انٹرویو نہایت فکر انگیز اور عالمی برادری کو سوچنے پر مجبور کرنے والا ہے ۔ انہوں نے جہاں امریکہ کو مسئلے کی سنگینی کی طرف متوجہ کیا ہے وہاں یو این او کو اپنی ذمہ داری کا بھی احساس دلایا ہے کہ اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے اور وہ اقوام متحدہ کا کشمیری عوام کے ساتھ کیا جانے والا وعدہ ہے، جو انہوں نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت سے متعلق کر رکھا ہے ۔ خدا کرے کہ یو این کے تن مردہ میں جان ;200;ئے اور وہ کشمیریوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کا ارادہ باندھ لے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے تئیں اس انٹرویو میں کشمیریوں کے سفیر بننے کا حق خوب ادا کیا ہے اور اقوام متحدہ کے اگلے ہفتے ہونے والے سالانہ اجلاس کے موقع پر اس مسئلے کو بھر طریقے سے اٹھانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا ہے ۔

باڑ لگانے میں مصروف فوجی جوانوں پر فائرنگ، افغان حکومت کی چشم پوشی کا نتیجہ

پاک افغان سرحد کے اس پار سے دہشت گردوں کی فائرنگ کے واقعہ پر جس میں پاک فوج کے تین جوان شہید ہوگئے ہیں پاکستان نے افغان ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے افغان حکومت کے نام احتجاجی مراسلہ تھمایا ہے ۔ دفترِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق احتجاجی مراسلے میں کہا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر بلا اشتعال فائرنگ سے پاکستان کے 3 جوان شہید ہوئے ہیں ۔ مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افغان حکومت اپنی طرف کے علاقوں کو محفوظ بنانے کے اقدامات کرے ۔ فائرنگ کا یہ واقعہ پاک افغان سرحد پر دیر کے قریب پیش ;200;یا ۔ شہید ہونے والے فوجی جوان سرحد پر باڑ لگانے میں مصروف تھے ۔ دہشت گردی کے اس طرح کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں ۔ اس کی بنیادی وجہ اس پار سکیورٹی فورسز کی نا اہلی اور افغان حکومت کی چشم پوشی ہے ۔ بارڈرمینجمنٹ کے تحت سرحد کو محفوظ بنانا دونوں ممالک کی ذمہ داری ہے لیکن افغان حکومت اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں مسلسل غفلت کا مظاہرہ کر رہی ہے ۔ سرحد پر باڑ لگانے میں جہاں پاکستان کا مفاد ہے وہاں افغانستان کا بھی اتنا ہی مفاد ہے ۔ جب سرحد پر ;200;زادانہ نقل و حرکت رک جائے گی تو دہشت گرد عناصر کی بیخ کنی بھی ;200;سان ہو جائے گی ۔ دونوں ممالک کے مابین چھبیس سو سے زائد کلو میٹر کی یہ سرحد ستر سال سے سمگلروں اور دہشت گردوں کی ;200;ماجگاہ بنی رہی ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان کئی شکایات سر اٹھاتی رہیں ۔ خصوصا ًنائن الیون کے بعد افغان جنگ کے باعث تلخیوں اور کشیدگی کی انتہا ہو گئی ۔ اس دو طرفہ تناءو کے خاتمے کیلئے پاکستان نے از خود باڑ لگانے کا فیصلہ کیا جس کے اچھے نتاءج بر;200;مد ہو رہے ہیں لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان میں بھارت کے زیر اثر ایک لابی اس منصوبے کو ناکام بنانے کےلئے متحرک رہتی ہے ۔ باڑ لگانے میں مصروف پاک فوج کے جوانوں پر فائرنگ اسی لابی کی پشت پناہی کا نتیجہ ہے ۔ اس پار بیٹھی بھارتی لابی ہو یا افغان حکومت وہ یہ بات پلے باندھ لے کہ باڑ لگانے کا منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ کر رہے گا ۔ اس پار سے سرکاری سرپرستی میں جاری یہ دہشت گرد کارروائیاں پاک فوج کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں ، اس کا ہر جوان وطن کی سالمیت کی خاطر اپنی جان دینے کے لیے ہمہ وقت تیا رہتا ہے ۔ افغان حکومت ہوش کے ناخن لے اور اپنی طرف سکیورٹی کو موثر بنائے تاکہ ;200;ئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہوں کہ جس سے دونوں ممالک میں کسی قسم کا تناءوپیدا ہو ۔

مقبوضہ وادی سے وارانسی تک ۔ آتش فشاں چنگاریاں

آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سیکرٹری ڈاکٹرمنظور عالم کا لکھا گیا ایک مضمون آج سے پانچ برس قبل راقم کی نظر سے گزرا، اتنے برس گزرنے کے بعدآج جب ہم موجودہ بھارتی قیادت کی متشددانہ اور جنونی دہشت زدہ حکمرانی کے لائق نفریں اقدامات کا مشاہدہ کرتے ہیں تو ہ میں اور آپ کو یہ ماننے میں لحظہ بھر ذرا تامل نہیں ہونا چاہیئے دنیا آگے بڑھ رہی ہے اور بھارت پتھروں کے زمانے کی طرف گامزن ہے ڈاکٹر منظور عالم نے اپنی بصیرت افروزسیاسی وسماجی دانشورانہ پیش بندیوں کا اپنے مضمون باعنوان ’’نقطہ نظر‘‘ میں جرات مندی اور دلیری سچائی سے اظہار کیا ہے اْن کے لکھے ہوئے ایک ایک لفظ سے آرایس ایس کی آج کل کی کارسیوک سرکار کے زہریلے، متعصبانہ اور مسلم دشمن رویوں کی کھلی عکاسی دنیا کی نظروں کے سامنے عیاں ہوچکی ہے، ڈاکٹر منظور عالم چونکہ خودبھارتی نڑاد شہری ہیں صاحب علم ہونے کے ناطے جانتے ہیں کہ’’ آئین ہند کا ابتدائیہ پانچ بنیادی اجزاء پر مبنی ہے یہ اجزاء انصاف، آزادی، برابری، بھائی چارہ اور سیکولرازم پر مبنی ہیں جس کے تحت یونین کے آئین نے در اصل سماجی ڈھانچے کی ہیءت ترکیبی کو اجاگر کیا ہے، ملک میں کثرت وحدت کا فلسفہ اسی وقت پروان چڑھ سکتا ہے، جب یونین آئین کے ابتدائیہ کے ان پانچوں اجزاء پر عمل در آمد ہوتا ہوا نظربھی آئے، چونکہ یہ کام حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے اس لیے توقع کی جاتی ہے کہ جو حکومت بھی نئی دہلی کے اقتدار میں ہوگی وہ اس پر عمل درا;63;مد کرکے آئین ہند کواور مضبوط کرے گی کیونکہ اسی بنیاد پر اس نے اقتدار حاصل کیا ہے’’اب کوئی موجودہ بھارتی قیادت سے پوچھے کہ جس یونین کے آئین کے تحت بھارت میں انتخابات ہوتے ہیں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے منتخب اراکان جس یونین آئین کے تحت حلف اْٹھاتے ہیں ’’کیا وہ اس یونین کے آئین کودل وجان سے تسلیم کرتے بھی ہیں یا نہیں ;238;بھارت میں ’’سیکولرازم‘‘کی ارتھی تو مودی سرکار نے 2014کے عام چناوَ کے بعد اقتدارکی لگا میں اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہی نذرآتش کردی تھی پھر باقی پیچھے کیا بچا;238;کہاں کا انصاف;238; کہاں کی آزادی;238; برابری اور بھائی چارے کو بھارت میں اب تو کوئی پوچھتا بھی نہیں ہے ،بھارت کی سب سے بڑی اقلیت ’’مسلم نڑاد بھارتی لاکھ اپنے سینے ٹھوک ٹھوک کر رکن لوک سبھا صدر الدین اویسی کی طرح چیختے پھریں کہ’’ہم بھارتی ہیں بھارتی رہیں گے پاکستان کی کیا مجال کہ وہ بھارت کی سرزمین کی طرف انکھ اْٹھاکر بھی دیکھے;238;‘‘ وہ کہتے رہیں پہلے تو یہ کہ اْنہیں ’’بھارتی شہری‘‘سمجھتا کون ہے;238;اور اْن کی مسلم تہذیب وشناخت کی کھلے بندوں دھجیوں پر دھجیاں اْڑائی جارہی ہیں ایودھیا میں ایک بابری مسجد شہید ہوگئی ہے اگلے پانچ برسوں میں مزید کئی اور بابری مساجد یونہی ڈھائی جاتی رہیں گی ’’اویسی‘‘ جیسے بھارتی نڑاد مسلمان رکن ِ لوک سبھا کو کیا علم نہیں پوگا کہ بنارس وارانسی جسے کاشی بھی کہا جاتا ہے جوکہ بھارتی وزیراعظم مودی کا اپنا حلقہ انتخاب ہے وہاں مسلم کش فسادات کی تیاریاں اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکی ہیں اب معلوم ہوا کہ مودی نے وارانسی ہی کو اپنا حلقہ انتخاب کیوں بنایا;238; بنارس کی اپنی تاریخ ہے، جسے مندروں کا شہر کہا جاتا ہے2014 کی طرح اس بار2019 کے عام چناو میں مودی نے اپنے ووٹروں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اس بار اقتدار میں آتے ہی ’’کاشی وشواناتھ مندر‘‘ہی نہیں بلکہ ہندووں کے مذہبی پوجا پاٹھ کےلئے ایک جدید طرزکا مذہبی کملیکس ضرور تعمیر کرائیں گے چاہے اْنہیں کسی حد تک بھی جانا پڑے اور اب وہ وقت آگیا مودی سرکار نے 600 کروڑ کی لاگت سے’’کاشی وشوناتھ مندر یا وشوناتھ دھام‘‘ کی تعمیر کو مکمل کرنے کا اعلان کردیا ہے،یاد رہے کہ کاشی وارانسی دریائے گنگا کے مضبوط کناروں پر ہندووَں کا ایک انتہائی مقدس شہرہے جسے عام طور پر’’شیو لنگ‘‘کی نمائندگی کے طور پر’’شیو دیوتا‘‘ سے منسوب کیا جاتا ہے، اس منصوبے کے مقصد کو پائیہ تکمیل کو پہنچانے کےلئے آرایس ایس سرکار نے 45000 مربع میٹر کے ارد گرد کے علاقے کواپنے گھیرے میں لے لیا ہے ’’ وشوناتھ دھام‘‘تک جانے کےلئے 50 فٹ چوڑا راستہ تیارکیا جائے گا وزیراعظم مودی کا حلقہ انتخاب ہونے کی وجہ سے ان انتظامات پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے اس منصوبے کو یوپی سرکار نے ہندو انتہا پسند سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ کی غیر معمولی توجہ حاصل ہورہی ہے چونکہ جس مقام پر وشوناتھ مندر کی تعمیرات کے انتظامات شروع ہوچکے ہیں یہ علاقہ وارانسی کاشی شہرکا بہت گنجان آباد علاقہ ہے چونکہ بقول مودی کے یہ ایک بہت بڑا کمپلیکس بنے گا تو اس عظیم منصوبے کےلئے اراضی تو بہت کافی ہونی چاہیئے وزیراعظم اور یوپی کے وزیراعلیٰ خود اس کام کی نگرانی کررہے ہیں تعمیر ہونے والے اس مندر کے اردگرد کی بہت سی پرانی تاریخی عمارتوں کو گرایا جانے لگا ہے اطلاعات کے مطابق 300 مکانات اب تک مسمارہوچکے ہیں جس کے نتیجے میں 600 خاندانوں کو بے گھر کردیا گیا ہے، بہت سے مقامی رہائشیوں نے شکوہ کرنا شروع کردیا ہے کہ ان کے مکانات خالی کیوں کرائے گئے یا زبردستی خریدے کیوں جارہے ہیں ;238;اپنی ناپسندیدگیوں کودرج کرنے کےلئے اب وارانسی کے مقامی رہائشیوں نے باقاعدہ احتجاج کرنا شروع کردیا ہے ہندووَں کے مندروں کی تباہیوں اور شیو دیوتا مقامات کی بے حرمتیوں کی یہ جو نئی سے نئی کتھا ہیں اور نئی کہانتیں بھارت کے ہندووَں کے جنونی جذبات کو اکسانے اور بڑھانے کےلئے آرایس ایس کی جانب سے گھڑی جارہی ہیں ٹارگٹ کرکے بڑی مسلم اقلیت کے مذہبی کلچر کے مستقبل کےلئے خطرات کے عفریت کھڑے کیئے جارہے ہیں اس کی تشویش ناک سنگینی کے احساس کےلئے عالمی دنیا بیدار ہوگی جب ہوگئی پہلے خود بھارتی ممبران میں بیٹھے ہوئے مسلمان ارکان توہوش کے ناخن لیں وہ اپنی آوازیں بلند کریں اپنے مسلم مذہبی کلچر کے تحفظ وبقا کےلئے کوئی لاءحہ عمل اختیار کریں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے مسلمان اراکین بھارتی اعتدال پسند روشن خیال اور بھارتی اعلیٰ تعلیم یافتہ یونیورسٹی کے طلبا اور طالبات کو اس بارے میں آگاہ کریں اْنہیں مختلف وفود کی شکلوں میں وارانسی میں اس مقام پر لیجائیں جہاں ہندو اور مسلمانوں کے مکانات اور دکانیں ڈھائی جارہی ہیں اْنہیں وہ مقام دیکھایا جائے بتایا جائے کہ یہاں صدیوں پرانی مسلمانوں کی عبادت گاہ مسجد’گیاناوپی مسجد‘ بھی واقع ہے جو مودی کے’’ کاشی وشوناتھ مندر‘‘ پروجیکٹ سے متصل ہے، اطلاعات کے مطابق کچھ ہندو انتہا پسند کارکنوں نے (بابری مسجد مسئلے کی بنیاد پر) یہ دعوی کرنے کےلئے بیل (نندی) کے بت کو دفن کرنے کی ایک مذموم کوشش کی تھی کہ یہ مسجد ساءٹ ایک’’ ہندو ساءٹ‘‘ ہے;238; تاہم وہ ساری کھتا بالکل غلط ثابت ہوئی بھارت کا پڑوسی مسلم ملک ہونے کے ناطے پاکستان میں ’’ کاشی وشوناتھ مندر پروجیکٹ‘‘ شدید غم وغصہ کی لہرامڈ آئی ہے بھارت بھر میں مودی قیادت کے تباہ کن طوفانوں کی بلائیں لینے والے غیر انسانی اقدامات پر سخت ردعمل پایا جاتا ہے دنیا بھی چوکنا ہوتی جارہی ہے اب بھارتی مسلمان اراکین لوک سبھا اور راجیہ سبھا نیند سے فوراً بیدار ہوں کیونکہ بابری مسجد ساءٹ کی تاریخ کی طرح ہندو گروہ مزید غنڈہ گردی پر اترآئے ہیں وہ اب ’’گیاناوپی مسجد‘‘ کی سرزمین پر حقوق کے دعوے کرنے لگے ہیں 1936 کی تاریخ ہمارے سامنے ہے کہ علاقے کے ہندو باشندوں سے اس بارے میں جھگڑے کے بعد اس وقت کے مسلمانوں نے بنارس کی سول عدالت میں مقدمہ دائر کیاتھا 1937 میں عدالت نے مسلمان کو نماز پڑھنے اور مسجد کے صحن میں دفن صوفی بزرگوار کا عرس منانے کی اجازت دیدی تھی وارانسی کی سول عدالت نے ’’نرسمہاراوحکومت کے عہد کے پاس کیئے ہوئے ایک قانون کی روشنی میں فیصلہ دیا تھا کہ دیش میں آباد کوئی بھی مذہبی عبادت گاہ کے تقدس کو کسی صورت پائمال نہیں کیا جاسکتا‘‘اس قانون میں یہ واضح کردیا گیا تھا کہ ’’ تمام مذہبی مقامات کو اسی طرح سے برقرار رکھا جائے گا جیسے وہ 15 اگست 1947 کو تھے اس قانون کے باوجود آرایس ایس کے کارکن سومناتھ ویاس نے وارانسی کی ایک سول عدالت میں اب ایک مقدمہ دائر کیا ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کاشی وشوناتھ کمپلیکس سے متصل مسلمانوں کی مسجد’’گیانا وپی مسجد‘‘ کے ایک حصہ کو وشوناتھ کمپلیکس کے منتظمین کے حوالے کیا جائے;238; بھارت کی مسلمان سیاسی اشرافیہ کی جانب سے تاحال احتجاج کی کوئی کال فی الحال ہمارے سامنے نہیں آئی جیسے جیسے کاشی وشوناتھ کمپلیکس کے کام میں تیزی آرہی ہے تو کیا بھارت میں ایک ایسا نازک موقع دوبارہ سامنے آتا کسی کو دکھائی نہیں دے رہا ہے کہ پورا دیش ایک بار پھر ہندومسلم کشیدگی کی لپیٹ میں نہیں آجائے گا;238; یقینا ایسا ضرور ہوگا، ہم یہاں پاکستان میں بیٹھ کر وارانسی کاشی میں بھڑکنے والی ہندومسلم کشیدگی کی تپش کو محسوس کررہے ہیں اس بارے میں اطلاعات یہ ہیں کہ علاقے کے مسلمان اب مذکورہ مقام پر جمع ہوناشروع ہوچکے ہیں اور انتظامیہ کے اس فیصلے پر اپنا احتجاج کرتے ہوئے وہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے اس اقدام سے’’گیانا وپی مسجد‘‘کو خطرہ لاحق ہو گا، یہاں آخر میں عالمی امن کے اْن نام نہاد متعصب ٹھیکیداروں سے مخاطب جو ہر معاملے میں وقت بیت جانے کے بعد منصفی نبھانے کود پڑتے ہیں جبکہ بھارت میں تازہ ترین بڑھتی ہوئی ہندوتوا کی فرقہ وارانہ منافرت کی شدید تپش کو محسوس کیئے جانے کے باوجود اْن کی مجرمانہ خاموشی کشمیری عوام سمیت بھارت کے کروڑوں مسلمانوں کے خلاف مودی کی جبر وستم کی بربریت نما پالیسیوں کے بارے میں عالمی برادری کا رویہ قابل افسوس بے، دنیا ہر طرح کی انتہا پسندی کی مخالفت کرتی رہی ہے اب کیوں بین الاقوامی برادری ہندو انتہا پسندوں کے مظالم پر خاموش ہے گونگی بنی ہوئی ہے اور بہری بن چکی ہے ۔

Google Analytics Alternative