کالم

ڈاکٹرآصف محمود جاہ کی فرض شناسی ایک مثال ہے

جو لوگ اپنی ذات پر یقین محکم رکھتے ہیں اُن کا ہر فعل جہاد کا درجہ رکھتا ہے اور وہ ناکامی کو آخری اور حتمی ماننے سے انکار کر دیتا ہے اور حصولِ مقصد کے لئے مسلسل کوشش کرتا رہتا ہے ایسے شخص کو ہم نے زندگی میں ناکام نہیں دیکھا وہ کامیابی کی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیتا ہے ۔ ایسے شخص تاریخ میں خال خال آپ کو دکھائی دیں گے جنہوں نے اپنے یقین محکم سے پہاڑوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر پہنچایا ہے ۔ خلوص اور اعتماد کے پیکر متحرک آپ دیکھنا چاہتے ہیں تو ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں ۔ خود اعتمادی ڈاکٹر آصف محمود جاہ کا وہ مضبوط ترین ہتھیار ہے جو انہیں ترقی کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے ۔ دنیا ایسے ولولہ انگیز لوگوں کی ہے جن کی پُر جوش سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اطمینان کی دولت بھی ہو ۔ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے ;706682; کے افسران سے گفتگو کرتے ہوئے دیانت داری، خود اعتمادی، تجربات، کفایت شعاری، محنت اور ملک کی خوشحالی کا انحصار ایف بی آر کی اعلیٰ کارکردگی سے ہی مشروط کرتے ہوئے فکسڈ ٹیکس ادا کرنے والی عوام کو ٹیکس نیٹ میں لینے کی ضرورت پر زور دیا ۔ وزیر اعظم عمران خان نے خود کفالت، خود انحصاری اور خود روزگاری کو کفایت شعاری سے جوڑتے ہوئے اپنی مثال پیش کی کہ میں وزیر اعظم ہاءوس میں نہیں رہتا اپنے گھر رہتا ہوں او راپنے گھر تک سڑک بھی اپنی جیب سے بنوائی ہے ۔ سابق حکمرانوں کی فضول خرچیوں اور اُن کے غیر ملکی دوروں پر گراں بہا دولت کے اعداد و شمار بھی بیان کیے ۔ آپ نے بتایا کہ میں نے واشنگٹن کا دورہ 65 ہزار ڈالر میں کیا ہے اور زرداری صاحب نے 12لاکھ ڈالر اور نواز شریف نے 11لاکھ ڈالر خرچ کیے تھے ۔ ہماری پاکستانی عوام خیرات صدقات اور عطیات پر گراں بہا رقم دیتی ہے جس کی مثال شوکت خانم ہسپتال ہے مگر وہ ٹیکس کی طرف مائل نہیں ہوتی اور یہ کام اب آپ جیسے دیانت دار افسران کا ہے کہ وہ عوام کو ٹیکس نیٹ میں لائیں ۔ میرے سامنے ڈاکٹر آصف محمود جاہ موجود ہیں جن کی دیانت داری اور ایمانداری کے چرچے ہیں اور میں انہیں ربع صدی سے جانتا ہوں ۔ شوکت خانم ہسپتال کےلئے آپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ ایک بہادر ، نڈر اورحب الوطنی کے چلتے پھرتے سفیر اور اشتہار ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے آپ پر اعتماد کیا ہے اوروزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر ناقابل برداشت ہوگی ۔ 170ترقیاتی منصوبے رواں مالی سال میں مکمل کیے جائیں گے ۔ 170 ترقیاتی منصوبے رواں مالی سال میں مکمل کیے جائیں گے 701 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں 38 بڑے منصوبے مکمل ہوں گے نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے ;676682; کے افسران پر زور دیا کہ وہ عوام کو حکومت پر اعتماد کی بحالی میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کفایت شعاری کو شعار بنا کربچت کا مثالی کردار ادا کیا ہے ۔ گورنر ہاءوسز کے اخراجات آئندہ سال زیرو تک لے آئیں گے ۔ کفایت شعاری سے زندگی کی نصف مہم سر ہوجاتی ہے اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنا اور کسی خدائی عطیے کا امید وار رہنا بہت بڑی جہالت ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ جو لوگ کفایت شعاری سے کام لیں گے وہ خوشحال زندگی بسر کریں گے ۔ پاکستان میرا گھر ہے اور میں اپنے گھر کے اخراجات اپنی آمدنی سے اگر زیادہ کروں گا تو بہت جلد محتاج ہوجاءوں گا ۔ فضول خرچ انسان کی مثال اس کسان کی سی ہے جو اپنی فصل سے کچے خوشے اتار کر انہیں کھانے لگتا ہے اور جب دوسروں کی فصل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو اس کے کھیت میں خشک تنکوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا ۔ ٹیکسوں کی بہتات سے عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے ۔ تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ریاست مدینہ میں غریبوں کی سہولت اور ضرورت کے اسباب فراہم کیے جاتے ہیں امرا سے لے کر غریبوں پر خرچ کیا جاتا ہے ۔ اگر وزیر اعظم عمران خان گراس روٹ تک ریاست مدینہ کے فیوض و برکات پہنچانا چاہتے ہیں تو ریاست مدینہ کے خدو خال کا جائزہ لیں جہاں غریب، مسکین کے ہاتھ میں ہنر دیا جاتا ہے او روہ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مسکین سمجھا جاتا ہے ۔ مسکین وہ ہوتا ہے جس کا کاروبارِ حیات ساکن ہوگیا ہو اس کو حرکت میں لانا ریاست مدینہ کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان جناب عمران خان اس وقت جن افسران سے مخاطب تھے اُن کی دیانت داری، ایمانداری ، ذمہ داری اور فرض شناسی کی بلائیں جس افسر کی لینے کو جی چاہتا ہے وہ ڈاکٹر آصف محمود جاہ کی ذات گرامی ہے ۔ 21 اور 22 گریڈ کے اِن افسروں نے ملک کی گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دیا ہے ۔ یہ بات ڈاکٹر آصف محمود جاہ کے عمل کو اور زیادہ تیز تر کرتی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان آپ کو عرصہ 25 سال سے نہ صرف جانتے ہیں بلکہ آپ کی فرض شناسی کے بھی معترف ہیں ۔ اس موقع پر محترمہ فردوس عاشق اعوان، وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ اور عبدالرزاق داءود کے علاوہ دوسرے;676682; کے افسران بھی موجود تھے ۔ ڈاکٹر آصف محمود جاہ نے اپنے محکمہ کی کارکردگی کھل کر بیان کی اور اندیشہ ہائے دور و دراز کا بھی اظہار کیا کہ ہم نے ملک کا ریونیو جو ملین میں تھا اسے سینکڑوں ٹریلین میں بدلا ہے اور یہ میرے ساتھ ;676682; کے دیانت دار اور ایماندار ساتھیوں کی شبانہ روز کاوش کا نتیجہ ہے ۔ عمران خاں نے نام لے کر کہا کہ آصف میں آپ کو 25سال سے جانتا ہوں اور آپ کی ایمانداری کا بھی معترف ہوں اور اس پر کوئی دوسری رائے پیش نہیں کی جاسکتی ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو یقین دلایا کہ ہم آپ کی مشاورت سے اس محکمہ کو مثالی بنائیں گے ۔ مجھے یاد ہے کہ عمران خان سے ربع صدی پہلے میری بھی ایک ملاقات محترم ریاض صحافی نے کروائی تھی جہاں ملک کے نامور کالم نگار، صحافی برادری کے معروف لوگ موجود تھے اور اس وقت عمران خان سیاست اور صحافت دونوں میدانوں میں قدم رکھنے کی تیاریاں کر رہے تھے ۔ کھیل کے میدان سے اذکارِ رفتہ ہونے کے بعد وہ ایک اخبار بھی شاءع کرنا چاہتے تھے ۔ سارے صحافی بھائیوں نے اخبار کے اخراجات کے تخمینے اپنی جیبوں میں رکھے ہوئے تھے اور اخبار کا نام کوئی انصاف کہہ رہا تھا کوئی عدل کہہ رہا تھا ۔ جب میری باری آئی تو میں نے کہا خانِ معظم روزے کی قضا ہے روزنامے کی نہیں ہے اس وقت قومی اخبار آپ کو پہلے صفحے پر چھاپ رہے ہیں جس روز آپ کا اپنا روزنامہ آئے گا کوئی دوسرا اخبار آپ کو اپنے اخبار میں جگہ نہ دے گا اس لئے آپ اس بھاری پتھر کو نہ اٹھائیں صرف چوم کر ہی واپس آجائیں ۔ میری اس بات کی تصدیق ریاض صحافی اور محترم حافظ شفیق الرحمان نے کی ہے ۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میری رائے اور تجویز کو سراہا گیا اور خان صاحب اس بازار سے خریداری کیے بغیر ہی گھر واپس چلے گئے تھے اور اس کے بعد میں نے خانِ معظم کا کراچی کے قومی اخبار میں خصوصی انٹرویو بھی شاءع کیا تھا ۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کو ہم اپنا گھر سمجھیں اور جہاں جہاں ہ میں کمزوریاں نظر آئیں اُس کو دور کرنے کے لئے اپنی تجاویز حکومت کے گوش گزار کریں ۔ میں انشاء اللہ پوری دیانت داری اور ایمانداری سے موجودہ صورت حال کے بارے میں ڈاکٹر آصف محمود جاہ کو آگاہ کروں گا ۔

سکھوں کی دلی مراد پوری ہوئی

یہ امر خوش آئند ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے سکھ مذہب کے مقدس مقام کرتار پور میں دربار صاحب کے نام سے راہداری سکھوں کےلئے کھول دی ہے ۔ اب سکھ برادری سارا سال اپنے مذہبی فراءض بخوبی انجام دے سکے گی ۔ یہ سکھوں کی گزشتہ 72 سالوں سے دلی خواہش تھی کہ انہیں کرتار پور دربار صاحب کی آزادانہ یاترا کی اجازت دی جائے ۔ یوں ہندوستان اور دنیا بھر میں بسنے والے 14 کروڑ سکھوں کا دیرینہ خواب پورا ہوگیا ۔ راقم الحروف کو فروری 1976 میں سرہند شریف جانے کا موقع ملا ۔ وہاں قیام کے دو ران محسوس ہوا کہ سکھ برادری پاکستان میں اپنے مقامات مقدسہ کی زیارت کی خواہش رکھتے ہیں ۔ تقسیم ہند کے بعد مشرقی پنجاب میں سکھوں نے اپنی آزادی کی خاطر علیحدہ وطن خالصتان کے قیام کی تحریک شروع کی جسے ہندوستانی حکومت نے طاقت کے بل پر کچل دیا بلکہ وسیع پنجاب کو تین صوبوں ہریانہ، ہماچل پردیش اور مشرقی پنجاب میں تقسیم کر دیا ۔ سکھ برادری گزشتہ 350 برسوں سے اپنی آزادی کی جدوجہد کر رہی تھی ۔ دورہ بھارت کے دوران راقم الحروف معروف اور نامور سکھ لیڈروں سے ملاقاتوں کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ سکھ بر ادری برسوں سے اپنی آزادی کے لئے کوشاں ہے اور وہ اپنے علیحدہ وطن خالصتان کےلئے تڑپ رہے ہیں ۔ راقم الحروف نے اپنے دورے کے بعد ایک بڑی جامع رپورٹ سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کو پیش کی جس میں ایک تجویز یہ بھی تھی کہ سکھوں کو پاکستان میں واقع اپنے مذہبی مقامات تک آنے کی اجازت دی جائے اور ننکانہ صاحب ، دربار صاحب، حسن ابدال اور ایمن آباد یاترا کی کھلی اجازت دی جائے ۔ سکھوں کو کم از کم 5000 کے جتھے کی صورت میں ویزا دیا جائے ۔ ان کے پاکستان میں قیام کے دوران صدر پاکستان یا وزیر اعظم پاکستان سکھوں کی ممتاز شخصیات مرد و خواتین کے اعزاز میں استقبالیہ دیں اور اس موقع پر انہیں تحاءف بھی پیش کیے جائیں ۔ رپورٹ میں دوسری تجویز یہ تھی کہ ننکانہ صاحب میں گرونانک یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایاجائے تاکہ ہندوستان اور دنیا بھر سے سکھ لڑکے لڑکیاں تعلیم حاصل کر سکیں ۔ اس سے پاکستان کو زر مبادلہ بھی ملے گا اور سکھوں کے ساتھ خیر سگالی کے تعلقات بھی بڑھیں گے ۔ اس رپورٹ میں ایک تجویز یہ بھی تھی کہ ننکانہ صاحب، دربار صاحب، حسن ابدال اور ایمن آباد میں سکھوں کے مقدس مقامات کی تزئین و آرائش کی جائے اور سکھوں کو جتھے کی صور ت میں ان مقامات کی یاترا کی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے یہ تفصیلی رپورٹ دیکھی اور انہوں نے ان تجاویز سے اتفاق کیا ۔ بلکہ انہوں نے متروکہ وقف املاک، وزارت مذہبی امور، وزارت داخلہ اور وزارت اطلاعات و نشریات کو فوری طور ان تجاویز پر عمل درآمد کےلئے ہدایات جاری کر دیں ۔ پاکستان میں سکھ برادری کے مقدس مقامات اور یاتر ا کی خواہش بارے ایک جامع رپورٹ دیکھنے اور مکمل جائزہ لینے کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے راقم الحر وف کونہ صرف ایک ہفتے کے اندر اندر اپنے لیٹر فارم پر مہر شدہ رجسٹرڈ خط بھیجا بلکہ انہوں نے متعلقہ محکموں کو راقم الحروف سے تعاون کرنے اور تجاویز پر عمل درآمد کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ جولائی 1977 ء میں تحریک نظام مصطفی اور حکومت کے درمیان سمجھوتہ نہ ہونے کی صورت میں اس وقت کے چیف آف سٹاف جنرل ضیاء الحق مرحوم نے مارشل لاء نافذ کر دیا ۔ راقم الحروف نے انہیں بھی اپنے رپورٹ ارسال کی تو انہوں نے فوری اقدامات کا حکم دیا ۔ اس وقت پہلی بار 500 سکھوں کا جتھہ آنے والا تھا ۔ میں نے جنرل ضیاء الحق سے چودھری ظہور الہیٰ مرحوم سے سکھوں کے اعزاز میں استقبالیہ دینے کی درخواست کی ۔ صدر صاحب نے میری اس تجویز کو منظور کیا اور انہوں نے باقی تجاویز کو بھی پسند کیا ۔ اس سلسلے میں راقم الحروف کے پاس چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کا سیلڈ اور رجسٹرڈ خط بھی موجود ہے ۔ جب سکھوں کا جتھہ آیا تو ضیاء الحق صاحب نے سکھوں کی ممتاز شخصیات کو اپنے ہاں استقبالیہ دیا ۔ اور تب سے یہ روایت چلی آرہی ہے کہ سکھوں کو پاکستانی حکومت کے سربراہ استقبالیہ دیتے ہیں ۔ اس مرتبہ بھی گورنر ہاوَس لاہور میں صدر پاکستان عارف علوی صاحب اور گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور کی جانب سے کرتار پور کوریڈور اور بابا گورونانک کی 550 ویں سالگرہ کے موقع پر آئے سکھ یاتریوں کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا ۔ یہاں سکھ مہمانوں کیلئے ظہرانے کا اہتمام تھا ۔ اس موقع پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ کرتارپور راہداری حکومت پاکستان کی طرف سے سکھ یاتریوں کیلئے بہت بڑا تحفہ ہے ۔ دنیا میں امن دوستیوں سے بڑھے گا ۔ سکھ مذہب امن و دوستی کا مذہب ہے ۔ راہداری کھولنے کی وجہ سے سکھ یاتریوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر بہت مسرت محسوس کرتے ہیں ۔ مہمان یاتریوں کا گورنر ہاوَس میں پرتپاک اور والہانہ استقبال ہوا ۔ ڈھول کی تھاپ پر گھوڑوں کا رقص بھی پیش کیا گیا ۔ راقم الحروف نے 1976ء میں جوخواب دیکھا تھا وہ اب کرتار پور راہداری کھلنے اور ننکانہ صاحب میں گرونانک یونیورسٹی کے سنگ بنیاد رکھے جانے کی صورت میں شرمندہ تعبیر ہوتا نظر آنے لگا ہے ۔ کرتار پور راہداری اور گرونانک یونیورسٹی کے قیام سے خالصتان کے قیام کی راہ ہموار ہوگی ۔ 2020ء میں دنیا بھر کے سکھوں نے خالصتان کے قیام کےلئے 500 ممتاز سکھ شخصیات پر مشتمل پارلیمنٹ بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ پارلیمنٹ سکھوں کی آزاد حکومت قائم کرے گی جو ہریانہ، ہماچل پردیش اور مشرقی پنجاب بلکہ ہندوستان کے کونے کونے میں بسنے والے سکھوں کی حمایت کےلئے ریفرنڈم کا انعقاد کرے گی ۔ دنیا بھر کے سکھوں نے کرتار پور کی راہداری اور گرونانک یونیورسٹی کے سنگ بنیاد پر بے پناہ خوشی کا اظہار کیا ہے ۔ نیز مستقبل قریب میں یہ اقدامات پاکستان اور سکھوں کے درمیان خیر سگالی کے جذبات کو بڑھانے اور خالصتان کے قیام کےلئے بہت فائدہ مند ثابت ہوں گے ۔ انگریزوں نے دہلی کو اپنا دارالحکومت بنایا تھا اور پنجاب کے علاقوں غازی آباد، سہارنپوراور میرٹھ کا وسیع علاقہ صوبہ پنجاب سے علیحدہ کر کے یوپی میں شامل کر دیا تھا ۔ اس سے قبل دہلی، غازی آباد، سہارنپوراور میرٹھ پنجاب کے حصے تھے ۔ لہذا سکھوں کی یہ بھی خواہش ہے کہ ان علاقوں کو خالصتان میں شامل کیا جائے ۔ جب پاکستان کی سیاسی ، سفارتی اور اخلاقی سطح پر حمایت سے خالصتان کا قیام عمل میں آئے گا تو یہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک بفر سٹیٹ وجود میں آئے گی اور خالصتان کی توپوں کا رخ ہندوستان کی طرف رہے گا ۔ آج بعض ناعاقبت اندیش اورکم عقل عناصر کرتار پور راہداری کھولنے کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ نہیں جانتے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایک بہت بڑا قدم اٹھایا ہے اور انہوں نے بقول نجوت سنگھ سدھو، 14 کروڑ سکھوں کے دل جیت لئے ہیں ۔

اَب کیا حکومت ایک کروڑ نوکریاں نہیں دے گی

رواں حکومت کے چودہ ماہ میں پاکستانی قوم جتنی مایوس اور نا اُمید ہوئی ہے ۔ اِس کی مثال نہیں ملتی ہے ۔ ٹھیک ہے پارسا تو آف شورکمپنیوں ، اقامے اور جعلی بینک کھاتوں سے قومی خزانہ لوٹ کھانے والے حکمران نواز اور زرداری بھی نہیں تھے ۔ سب اُن ہی کا کیا دھراہے ۔ آج جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑرہاہے ۔ مگر اِس حکومت نے بھی تبدیلی اور نئے پاکستان کے نام پر مُلک کے غریب عوام پر بیجا ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ لاد کرزندہ درگور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے ۔ اقتدار میں آنے کے چندہ ہی ماہ میں قدم قدم پر یوٹرن لینے والی رواں حکومت کی بوکھلاہٹ بڑھتی ہی جارہی ہے ۔ کوئی ایک بھی حکومتی اقدام ایسا نہیں ہے ۔ جس پر حکومت قائم رہی ہواور اِسے پایہ تکمیل تک پہنچاپائی ہو ۔ جس سے عوام کا حکومت پر اعتمادبحال ہورہاہو ۔ بلکہ یوٹرن پہ یوٹرن لینے کی عادت کے باعث عوام کا حکومت پر سے اعتماد ختم ہوتاجارہاہے ۔ اگر ایسا ہی ہوتا رہاتو پھر حکومت کمزور سے کمزورتر ہوتی جائے گی ۔ اور پھر اگلے الیکشن کے بعد اپوزیشن بن کر اُبھرے گی ۔ قبل اِس کے کہ ایسا ہونے میں اَب دیر لگے ۔ عوام کی خواہش زور پکڑتی جارہی ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کامیابی سے ہمکنار ہواور حکومت کا بستہ لپیٹ کر اِس کی کمر پر رکھ کر جلد ازجلد اِسے چلتاکیا جائے ۔ آج عوام میں حکومتی گراف گرنے کی ایک بڑی وجہ حکومتی وزراء بھی ہیں ۔ وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری جو وقت بے وقت بولنے کے عادی ہیں ۔ اِن کی یہی عادت اِن کے لئے نقصان کا باعث بنی ہوئی ہے ۔ مگر ہر بار اپنی عادت کے ہاتھوں سُبکی سے دوچار ہوتے فواد چوہدری کچھ سیکھنے کو تیارہی نہیں ہیں ۔ جیسا کہ پچھلے دِنوں ایک بار پھر فواد چوہدری نے اپنے خود ساختہ سیاسی مدبرانہ انداز سے کہہ دیا کہ’’ عوام حکومت سے نوکریاں نہ مانگے ، روزگاردینا حکومت کا نہیں نجی شعبے کا کام ہے ۔ حکومت نوکریاں نہیں دے سکتی ،حکومت 400محکموں کو بند کرنے پر غور کررہی ہے ۔ اَب ہم روزگار ہی لانے لگ جائیں ۔ تو معیشت تباہ ہوجائے گی ۔ ‘‘(کیا آپ کی حکومت کے چودہ ماہ میں معیشت پوری طرح مستحکم ہے;238;)ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے سرکاری اداروں کونوکریوں کی بندربانٹ سے تباہ کیا‘‘ تو کیا تم نے اور تمہاری حکومت نے 14ماہ میں اداروں کو سنبھالا ہے;238; مسٹر! تمہاری حکومت میں بھی سرکاری ادارے بغیر کسی سرکاری نوکری کی بند بانٹ سے پہلے ہی تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں ۔ تم نے یا تمہاری چودہ ماہ کی حکومت نے کس ادارے کے استحکام کے لئے کونسا کوئی قابل تعریف اقدام کیا ہے;238; اگر کسی ادارے کے لئے کوئی ایک بھی رتی برابر اقدام کیا ہے ۔ تو بتادیں مسٹر;238;یقین جانیں کہ وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری کے ’’ عوام حکومت سے نوکریاں نہ مانگے‘‘ والے بیان کے بعد عوام مگر بالخصوص پی ٹی آئی کے اُن 18سال یا اِس سے کچھ زیادہ عمرکے نوجوان ووٹروں جن کی وجہ سے پی ٹی آئی کو روتے پیٹتے اقتدار ملا ہے ۔ اِن بے روگار نوجوان ووٹرز میں شدیدمایوسی پیدا ہوگئی ہے ۔ آج جن کے پی ٹی آئی اور عمران خان کی حکومت کے خاتمے کےلئے دستِ دُعا بلند ہورہے ہیں ۔ سوچیں کہ اِن مایوس ،بے روزگار اورپریشان حال نوجوان پی ٹی آئی کے ووٹرز میں کوئی تو ایسا اللہ کا ولی ہوگا ۔ جس کی دُعا رب کائنات قبول کرلے گا ۔ اور مولانا فضل الرحمان نے حکومت مخالف آزادی مارچ شروع کیا ا ہوا ہے ۔ تو پھر سوچیں ، جیت مولانا کی ہوگی یا اُن بے روزگار نوجوانوں کی جو فواد چوہدری کے نوکری نہ دینے کے بیان کے بعد دن رات حکومت کے جانے اور حکومت سے آزادی کےلئے دعائیں کررہے ہیں ۔ اگر ایسا ہوگیا پھر مولانا فضل الرحمان اور حکومت کہاں کھڑی ہوگی;238;خیر جانے دیجئے ، مگر اتنا ضرور سمجھیں کہ ہر مذہب و ملت کے ہرزمانے کی ہر تہذیب کے ہر معاشرے اور قانون میں اخلاقی اور سیاسی طور پر کسی کو سبزباغ دِکھا نا اور پھر کسی کے معیار پر پورانہ اترنا بھی تودھوکہ ہوتا ہے ۔ جِسے دنیا کے اعلیٰ ظرف ، باشعوراور دانشور لوگ سخت ناپسند کرتے ہیں ۔ مگر افسوس ہے کہ ہمارے یہاں توسبزباغ دکھانا اور جھوٹے وعدوں اور دعووَں کو کوئی غلط کیا بُرابھی نہیں سمجھتا ہے ۔ بلکہ ہمارے یہاں جتنا زیادہ جھوٹ بولتا ہے اور جھوٹے سچے وعدے او ر دعوے کرتا ہے ۔ وہ اُتنا ہی زیادہ عزت و عظمت والا معزز اور قابلِ احترام گردانا جاتا ہے ۔ بلکہ میرے مُلک میں توپچھلے کئی سالوں سے پاکستانی قوم کے ساتھ سیاسی جماعتیں ہر الیکشن سے پہلے وعدوں اور دعوءوں کے ساتھ سبزباغ دکھانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ جواپنے اِن ہی جھوٹے وعدوں اور دعووَں کی بنیاد پر اقتدار میں بھی آجاتی ہیں ۔ مگر اپنے اقتدارکے آخری دن تک بھی عوام سے کئے ہوئے وعدوں اور دعووَں سے دیدہ و دانستہ منہ چُرا کرعملی جامہ نہیں پہناپاتی ہیں ۔ اِس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آج سینہ پھولا کر گردن تان کر پی ٹی آئی کی حکومت نے بھی حسبِ روایات ویسا ہی کیا ہے ۔ آپ رواں حکومت کی اَب تک کی صفر کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ۔ یوں کہہ لیں ۔ تو زیادہ بہتر ہوگا کہ اِس حکومت نے تو ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں عوام سے کئے گئے وعدوں اوردعوءوں سے منحرف ہوکر عوامی اُمنگوں اور خواہشات کوچکناچور کرنے میں کوئی کسر نہیں رکھ چھوڑی ہے ۔ آج تب ہی کہنے والے تو یہ تک کہتے نہیں تھک رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان جو تبدیلی اور نئے پاکستان کے علمبردار بنا کرتے تھے اور مُلک سے کرپشن اور کرپٹ عناصر کے کڑے احتساب سے متعلق بہت زیادہ باتیں کیا کرتے تھے ۔ آج اِ ن کی حکومت بھی تو71سال کے دوران آنے والے سِول اور آمر حکمرانوں سے دوچار ہاتھ آگے بڑھ کراتنا کچھ غلط کررہی ہے کہ گزشتہ حکومتوں کے سارے ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں ۔ یا ٹوٹنے جارہے ہیں ۔ بہر کیف ، اگر اتنے غیر تسلی بخش اور عوام کی مہنگائی کے ہاتھوں کمر دُہری کردینے والے حکومتی لچھن کا عوام کوپہلے سے ذرا بھی اندازہ ہوگیاہوتا ۔ تو دیکھتے کہ کون کم بخت اِسے ووٹ دیتا اور پی ٹی آئی کواقتدار کی مسند پر بیٹھاتا اور حکمرانی کا تاج اِس کل منہی کے سرپر سجاتا ;238;وہ تو عوام کی ہی آنکھوں پر سیراب نما تبدیلی کی پٹی اور طلسماتی مہنگائی اور پریشانیوں سے لبریز کرنے دینے والے نئے پاکستان کو بھوت سوار تھا ۔ جس کی وجہ سے یوں پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار نصیب ہوا;464646;!! ورنہ تو مزید 21سال تک اِس کے سربراہ عمران خان اور مُلک کے موجودہ وزیراعظم حکمرانی کےلئے ایڑیاں رگڑتے تو بھی اِنہیں کبھی اقتدار نہیں ملتا ۔ اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ آج پی ٹی آئی کو صرف اور صرف تبدیلی اور نئے پاکستان کے سیراب نما خواب اور کڑے احتساب کے کھوکھلے نعروں کی وجہ سے ہی اقتدار ملا ہے ۔ مگراَب جب جائز و ناجائز دھرنے اور پی پی پی اور ن لیگ کے سیاہ کرتوتوں پر کھلی تنقیدوں کی وجہ سے اللہ اللہ کرکے اقتدار کی کنجی پی ٹی آئی والوں کے ہاتھ کیا آگئی ہے;238;آج اِنہوں نے تو چار دانگ عالم میں اندھیر نگری مچارکھی ہے یہ اقتدار کی نشے میں ایسے مست ہوگئے ہیں کہ اِنہیں کچھ سجھائی نہیں دے رہاہے کہ یہ کیا ٹھیک اور کیا غلط کررہے ہیں ;238; اِس طرح مُلک و قوم کا بیڑاغرق کرنے پر تلے بیٹھے ہیں ۔ ماضی میں اسلام آباد کوکئی ماہ تک لاگ ڈاون کرنے والے مُلکِ پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان اور اِن کی پارٹی کے رہنماؤں نے اپنی انتخابی مہم اور جلسے، جلوسوں اور ریلیوں میں اپنے گلے پھاڑ پھاڑ کر مُلکی معیشت کو آسمان کی بلندیوں پر لے جانے اور مُلک سے بے روزگاری کے خاتمے کےلئے ترجیحی بنیادوں پر ایک کروڑ نوکریوں کا بے روزگار نوجوانوں کو سبزباغ دِکھا کر توجیسے تیسے ووٹ لئے اور اقتدار کی کنجی پر قابض ہوئے ۔ مگر اَب جب پی ٹی آئی کی حکومت کو اقتدار ملے چودہ ماہ کے قریب ہوگئے ہیں ۔ تو اِس کے لچھن ہی کچھ عیب و غریب نظر آنے لگے ہیں ۔ سوفیصدیقین سے کہاجاسکتاہے کہ ابھی تک تو کچھ بھی ایسا اچھا ہوتا ہوانظر نہیں آرہاہے کہ جس سے اندازہ ہوکہ حکومتی اقدامات سے آنے والے ماہ و سال میں مُلک اور قوم کی بہتری کے لئے نئے دریچے کھولیں گے ۔ اور عوام میں کچھ اچھائی کی اُمید پیدا ہوگی، ابھی جدھر نظراُٹھاوَ ہر طرف مایوسیوں کے سمندر میں مہنگائی اور ٹیکسوں کے بوجھ تلے عوام ہی غوطہ زن نظر آرہے ہیں ۔

دھرنا سیاست ، سیاسی جماعتیں اور کشمیر

بلا آخر جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ جناب فضل الرحمان نے اسلام آباد اپنے احتجاجی دھرنے کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔ شرکاء اپنے پنے خیمے اُکھاڑ کر واپس اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے ۔ ہ میں جناب علامہ طاہر قادری کا دھرنا یاد آگیا ۔ انہوں نے بھی کہا تھا کہ جب تک لاہور کے مظلوموں کا بدلہ نہیں لوں ، واپس نہیں جاءوں گا ۔ مولانا نے تو قبریں تک کھود لیں تھیں ۔ مگر وہ بھی غلط طریقہ کار کی وجہ سے خیمے اُکھاڑ کر واپس پورے پاکستان میں احتجاج کو پھیلانے کے نام سے اسلام آباد سے واپس روانہ ہو گئے تھے ۔ بعد میں و ہ احتجاج کو جاری نہیں رکھ سکے ۔ پھر قانونی کاروائی پر ہی عمل کرنا پڑا ۔ اب تو وہ سیاست سے بھی کنارہ کش ہو گئے ۔ اسی طرح عمران خان کا ۶۲۱;241; دن کا دھرنا ایک اتفاقی حادثے پر ختم ہوا تھا ۔ بعد میں موصوف نے سول نافرمانی پر زور دیا تھا ۔ جوڈیشل ٹریبونل نے فیصلہ دیا تھا کہ الیکشن میں مکمل دھاندلی نہیں ہوئی اِکادُکا خرابیاں تھی ۔ اب مولانا نے بھی شروع دن سے الیکشن کو نہیں مانا ۔ نہ قانونی کاروائی کی طرف گئے ۔ عمران خاں کا استعفیٰ نئے الیکشن کے لیے دھرنا سیاست پر ہی انحصارکیا ۔ اب عمران خان کے استعفے اور نئے الیکشن کے مطالبات منظور نہ ہونے پر دھرنا ختم کر کے اپنے بی پلان پر عمل کرنے اعلان کیا ہے ۔ دوسرے مرحلہ جس میں پاکستان کی بڑی بڑی شا ہرائیں بند کرنے کی کال دی گئی ۔ کارکنوں کو اس نئے احتجاج میں شامل ہونے کی ہدایت دی گئیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کارکن اپنے خیموں کے بوجھ کے ساتھ شاہرئیں بلاک کرنے کے عمل میں شریک ہوتے ہیں یا اپنے گھروں میں جا کر پھر تازہ دم ہو کر احتجاج میں شریک ہوتے ہیں ۔ مولانا صاحب نے ۷۲;241; اکتوبر کو کراچی سے آزادی نام کا احتجاج شروع کیا تھا ۔ جو پورے ملک کارکن مارچ کرتے کرتے اسلام پہنچے تھے ۔ دو ہفتے سردی اوربارش کی سختیاں برداشت کر کے بلا آخر بغیر کچھ حاصل کیے پلان بی میں داخل ہو گئے ۔ کارکنان کو ہدایات کی گئیں کہ وہ اپنے اپنے اضلع جائیں اور مقامی لیڈروں کی ہدایت پر شاہرائیں بلاک کرنے کے احتجاج میں شامل ہو جائیں ۔ اس دھرنے اور سابق دھرنوں پر تبصرے شرو ع ہو گئے ہیں ۔ لوگوں کو جماعت اسلامی کے مرحوم امیر قاضی حسین احمد یاد آتے ہیں ۔ لوگ کہتے ہیں کہ یہ مرد مجائد اپنے کارکنوں کے ساتھ رہ کر دھرنا سیاست کرتے تھے ۔ جبکہ دوسرے حضرات کنٹینر میں محفوظ بیٹھ کر دھرنے کی سیاست کرتے تھے ۔ عمران خان، علامہ طاہر القادری اور اب مولانا فضل الرحمان نے کارکنوں سے دور رہ کر کروڑوں کے خرچ سے تیار کردہ کینٹینز میں بیٹھ کر دھرنا سیاست کی ۔ مولانا کے دھرنے کی بات کی جائے تو پاکستان کے سیکولر حضرات اپنے بیرونی آقاءوں کے ساتھ مل کر اور تعصب کے چشمہ لگا کر ہمیشہ دینی جماعتوں میں ساری خرابیاں تلاش کرتے رہتے ہیں ۔ مولانا فضل ا لرحمان کے پر امن دھرنا کر کے ان منہ بند کر دیے ہیں ۔ نہ مسلمان دہشت گرد ہیں اور ملک کو نقصان پہنچانے والے ہیں ۔ ساری دنیا میں جماعت اسلامی کے کارکنوں کے نظم و ضبط کے لئے مشہور تھے ۔ اب اس میں جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں نے بھی دو ہفتے سردی اور بارش میں نظم ضبط اور پر سکون رہ کر اپنا نام لکھوا لیا ۔ نون لیگی حکومت نے توعمران خان کے کارکنوں پر تشدد کیا تھا ۔ مگر عمران خان حکومت نے بھی بغیر رکاوٹ کے کارکنوں کو اپنا جمہوری حق ادا کرنے کی سہولت دی کردانش مندی کا ثبوت پیش کیا ۔ کچھ سیاسی رہنماءوں کی سوچ ہے کہ مولانا نے جو کام آخر میں کرنا چاہے تھا وہ پہلے کر کے اپنی سیاست میں کمزروری ظاہر کر دی ۔ کچھ حضرات کا کہا تھا کہ سیاست کرنے میں قومی سوچ کا بھی خیال رکھا جاتا تو شاید بہتر ہوتا ۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت پاکستان کی بقا کی جنگ جاری ہے ۔ بھارت نے اپنا آخری کارڈ استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی شہ رگ کشمیر کو بھارت میں ضم کر لیا ۔ وہ بھی بین الاقوامی اصولوں اوربھارت کے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ۔ اپنے پٹھو گورنر کی درخواست کشمیر کی خصوصی دفعات ۰۷۳ اور ۵۳;241; اے کو یک سر قلم ختم کر کے پاکستان کی شہ رگ جموں کشمیر کو دوحصوں میں بانٹ کر جموں کشمیر اور لداخ کارگل میں اپنے گورنر لگا دیے ۔ آزاد کشمیر پر حملہ کر کے اسے بھی بھارت میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا ۔ یہ واقعی پاکستان کی بقاء کی جنگ کا موقعہ ہے ۔ جس کو مولانا نے اپنی سمجھ کے مطابق صحیح نہیں سمجھا ۔ حکومت کو کشمیر بارے اقدامات کرنے اور زور ڈالنے کے بجائے اسے مقامی طور پر مصروف کر دیا ۔ جسے مورخ غلطی ہی تصور کرے گا ۔ ایک نکتہ نظر یہ بھی اُٹھا یا گیا کہ ۷۲;241; تاریخ کو بھارت نے کشمیر میں اپنی فوجیں داخل کر کے قبضہ کیا تھا ۔ جبر کے اس دن کو کشمیری ۲۷ سال مناتے ہیں ۔ مولانا صاحب سے درخواستیں کی گئی کہ ۷۲;241; کے بجائے کوئی اور تاریخ مقرر کر لی جائے مگر مولانا نے اسی تاریخ کو ا حتجاج رکھ کر غلطی کی ۔ ویسے ان کے اتحادی ۹جماعتوں میں سے دو بڑی جماعتوں نے اپنی رائے دی تھی ۔ نون لیگ نے کہا تھا کہ نومبر کی بجائے دسمبر میں احتجاج شروع کیا جائے مگر مولانا نہیں مانے ۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے دھرنے سیاست کو ناپسند کیا ۔ پیپلز پارٹی نے بھی جمہوری طریقہ اختیار کرنے پر ساتھ دینے کا کہا تھا ۔ مگر مولانا نے دھرنے پر ہی اپنی سوچ رکھی ۔ گو کہ شہباز شریف اور بلاول زرداری نے دھرنے میں خطاب کیا مگر ان کی ٹوکن ہی حاضری تھی ۔ اسفند یار ولی صاحب بھی اپنے جماعت کے کارکنوں کے ساتھ آئے تھے مگر ان کے دھرنے میں بھرپور شرکت نہ ہو سکی ۔ صرف پختون ملی خواہ پارٹی نے مولانا کے ساتھ شامل رہی ۔ صاحبو! کیا ہی اچھا ہو کہ جس طرح پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے الیکشن جیت کر کے اپنے حق حکمرانی کے پانچ پانچ سال مکمل کیے تھے ۔ سیاست دان اس پرعمل کرتے ۔ الیکشن کے طریقہ میں خرابیوں کو مل جل کر پارلیمنٹ میں قانون سازی سے ختم کرتے ۔ پڑوسی ملک کی طرح الیکٹرونک ووٹنگ کا طریقہ اختیارکرتے ۔ یہ کیا بات ہے کہ جب جمہوری الیکشن ہوتے ہیں تو ہارنے والوں کوہار ماننی چاہیے بلکہ ہارنے والی پارٹیاں دست و گریبان ہوجاتی ہیں ۔ اس نورا کشتی سے عوام کا نقصان ہوتا ہے ۔ پارٹیاں پارلیمنٹ میں عوام کی بھائی کے بجائے ایک دوسرے سے لڑتی رہتی ہیں ۔ دشمن پاکستان پر چاروں اطراف سے حملہ آورہے اور یاست دان اقتدار کی جنگ میں مصروف ہیں ۔ یہ بزور وقت منتخب حکومتوں کے ختم کرنے کے ڈرامے ختم ہونا چاہیے ۔ جو کچھ کرنا ہے وہ پارلیمنٹ کے ا ندر ہی کریں ۔ سیاست دانوں کی سیاسی لڑائیوں کی وجہ سے جر نیلوں کو ملک میں مارشل لا لگانے کابہانہ ملتا رہا ہے ۔ اب سیاسی اختلافات ختم کر کے ملک کو بھارت کی دھمکیوں کو سامنے رکھ کر پالیساں بنائیں ۔ حکومت اور اپوزیشن پاکستان کے نا مکمل ایجنڈے میں مصروف کشمیریوں کی عملی مدد کرنے کی پالیسیاں وضع کریں ۔ پانچ سال انتظار کریں ۔ عوام میں اپنی کارکردگی بڑھائیں ۔ الیکشن میں جیتنے کی کوشش کریں ۔ ورنہ تاریخ پاکستان کے سیاستدانوں کو نہیں بخشے گی ۔ اللہ پاکستان کی حفاظت کرے آمین ۔

نواز شریف کو بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت، گو مگو کا شکار

حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو انسانی اور صحت کی بنیادوں پر بیرون ملک جانے کی اجازت دے کر ایک اچھی اور جمہوری روایت قائم کی ہے تاہم اس سلسلے میں شورٹی بانڈ بنیادی رکاوٹ ہے ۔ جب تک نواز شریف وہ نہیں فراہم کریں گے اس وقت تک وہ بیرون ملک نہیں جاسکتے ۔ ن لیگ نے اس سلسلے میں عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ہم یہاں کہتے ہیں کہ جان ہے توجہان ہے ۔ یہ دنیا کا جاوحشمت یہیں رہ جانا ہے یہ جتنے بھی میلے ہیں سب زندگی سے منسوب ہیں ۔ حکومتی اقدام سے ن لیگ اور خصوصی طورپر نواز شریف کو مستفید ہونا چاہیے اور اس حوالے سے جو شرائط عائد ہیں ان کو پورا کرکے ہی بیرونی دنیا کا رخت سفر باندھا جاسکتا ہے ۔ حکومت کہتی ہے کہ وہ آئینی اور قانونی طور پر شورٹی بانڈ لے سکتی ہے جبکہ ن لیگ اس کی مخالف ہے ۔ ماضی کے جھرونکے میں جھانکا جائے اور جو بھی سیاسی راہنما باہر گئے پھر وہ وطن واپس نہیں آئے انہیں واپس لانے کیلئے حکومت کو بہت پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں لیکن پھر بھی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوتی ۔ بہت دور کی بات نہیں اسحاق ڈار جوکہ ن لیگ کے وزیر خزانہ تھے انہیں حکومت نے وطن واپس لانے کیلئے کیا جتن نہیں کیے ۔ مگر نتاءج زیرو ہیں ۔ اسی وجہ سے حکومت نے شورٹی بانڈ کی شرط عائد کی ہے ۔ حکومت کے مطابق چونکہ کیس کرپشن کا ہے اور عوام کی دولت لوٹی گئی ہے لہذا سکی واپسی ہر صورت لازمی ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا کہ وہ کیونکر معاف کرسکتے ہیں ۔ یہ اختیار صرف عوام کو حاصل ہے کیونکہ لوٹی عوام کی دولت گئی ہے بلکہ یہ شورٹی بانڈ کا سلسلہ مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے کہ کوئی بھی کسی بھی مقدمے میں ملوث شخص چاہے اس کا تعلق سیاست سے ہو یا زندگی کے کسی شعبے سے ہو وہ ہر صورت شورٹی بانڈ بھرے ۔ پھر المیہ یہ ہے کہ ان حکمرانوں نے ملک میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں بنایا جہاں ان کا علاج معالجہ ممکن ہو سکے، عوام بیچارے تو ان ہی ہسپتالوں میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر جان دے رہے ہیں پھر یہ سیاسی راہنما کیوں علاج کیلئے باہر جاتے ہیں ۔ بیرون ملک علاج کا سلسلہ ہی ختم ہونا چاہیے ۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو حکومت کی جانب سے عائد شرائط درست اور حقائق پر مبنی ہیں ۔ وزارت داخلہ نے نوازشریف کو بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ۔ سابق وزیراعظم نوازشریف کو 4 ہفتوں کیلئے ایک بار بیرون ملک جانے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے اور یہ فیصلہ نواز شریف کی صحت کی تشویش ناک صورت حال کے باعث کیا گیا ہے ۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری میمورنڈم میں 80 لاکھ پاوَنڈ، 2 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر، 1;46;5 ارب روپے جمع کرانے کی شرط رکھی گئی ہے، نوازشریف یا شہبازشریف وزار ت داخلہ کے ایڈیشنل سیکرٹری کو شورٹی بانڈ جمع کرواسکتے ہیں ، جبکہ نوازشریف روانگی کی تاریخ سے چار ہفتوں کا میڈیکل ٹریٹمنٹ کروا سکیں گے ۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے کہا کہ

حکومت کو کسی بھی سزایافتہ مجرم سے ضمانت اور سیکیورٹی بانڈ لینے کا حق حاصل ہے، نواز شریف کو شیورٹی بانڈ دینا ہوگا، حکومت شرائط کے ساتھ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ جاری کرے گی، باقی ان کی مرضی ہے کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں ۔ اگر دوران علاج نواز شریف کی طبیعت بہتر نہیں ہوتی تو انہیں ملنے والی مدت میں توسیع ہوسکتی ہے ۔ ماضی میں کچھ لوگ بیرون ملک گئے اور واپس نہیں آئے، کیا ضمانت ہے کہ نواز شریف وطن واپس آئیں گے;238; ہم سے سوال ہوسکتا ہے کہ جانے کی اجازت دی تو کیا کوئی ضمانت بھی لی ۔ دوسری جانب سابق وزیر اعظم نواز شریف نے حکومت کی جانب سے 7 ارب روپے کے سیکیورٹی بانڈ جمع کرانے کی شرط پر بیرون ملک جانے سے انکار کردیا ہے، انہوں نے اپنے اس فیصلے سے شہباز شریف کو بھی آگاہ کردیا ہے ۔ اس فیصلے کے بعد ن لیگ کو بھی چاہیے کہ وہ کوئی ایک ایسا درمیانہ راستہ نکالے جس سے ملک میں سیاسی انارکی نہ پھیلے ۔ اس وقت نواز شریف کی صحت اور ان کا علاج ترجیحی بنیادوں پر ہونا لازمی ہے، جب حکومت نے ایک سہولت فراہم کی ہے تو اس سے فائدہ اٹھانا ن لیگ پر منحصر ہے ۔ اب بال ن لیگ کے کورٹ میں ہے کیونکہ کوئی بھی غلط فیصلہ کسی بھی بڑے سانحہ کا سبب بن سکتا ہے جس سے ملکی سیاسی حالات خراب ہوسکتے ہیں ۔ دیگر سیاسی رہنماءوں کو بھی ن لیگ کو اس امر پر قائل کرنا چاہیے کہ وہ دنیاوی دولت سے زیادہ نواز شریف کی صحت اور ان کی جان کو ترجیح دیں ۔ شورٹی بانڈ تو ایک ضمانت ہے جب نواز شریف نے ملک واپس ہی آنا ہے تو پھر کس بات کے تحفظات ہیں ۔

مولانا فضل الرحمن کی جانب سے اسلام آباد سے دھرنا ختم کرنا خوش آئند اقدام

وفاقی دارالحکومت سے مولانا فضل الرحمن کی جانب سے دھرنا ختم کرنا احسن اقدام ہے ۔ سردی کی شدت میں اضافہ ہونے کی وجہ سے تقریباً لوگ آہستہ آہستہ روانہ ہورہے تھے ۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے فضل الرحمن نے یہ ہی بہتر سمجھا کہ دھرنے کو ختم کرکے اسے ملک بھر میں پھیلا دیا جائے ۔ اس طرح فیس سیونگ بھی مل جائے گی اور یہ بات بھی و جائے گی کہ اب احتجاج ملک بھر ہوگا لیکن درحقیقت بات یہ ہے کہ اس آزادی مارچ اور دھرنے میں جے یو آئی (ف) تنہا کھڑی نظر آئی ۔ ملک کی دونوں بڑی جماعتیں جن میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی شامل ہیں وہ اس دھرنے میں شامل نہیں ہوئیں ۔ اس وجہ سے بھی دھرنے کا ختم ہونا ہی بہتر تھا ۔ تاہم ایک بات ضرور ہے کہ اسلام آباد میں چودہ روز رہنے والا دھرنا انتہائی آرگنائز تھا، کسی قسم کی توڑ پھوڑ نہیں کی گئی ۔ کوئی ناچ گانا نہیں تھا ۔ اور نہ ہی لوگ ڈی چوک کی جانب بڑھے ۔ اس اعتبار سے ان کو داد بھی دینی چاہیے ۔ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پشاور موڑ دھرنا ختم کرتے ہوئے پلان بی کا اعلان کردیاہے اور کہاہے کہ ملک بھر کی اہم شاہرائیں بند کردی جائیں گی،کشمیری عوام کے ساتھ ہیں ، پرامن دھرنے سے تاریخ رقم کی ہے، پرامن جدوجہد جاری رہے گی ،حکومت نوازشریف کی بیرون ملک روانگی میں رکاوٹیں ڈال کر ظالمانہ اور بدنیتی پر مبنی رویہ اختیار کررہی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں ۔ حکومتی حلقوں میں خیال تھا اجتماع اٹھے گاتو حکومت کے لئے آسانیاں ہوجائیں گی لیکن گلی گلی احتجاج کے اعلان سے صوبوں اورضلعوں میں حکومت کی چولیں ہل گئی ہیں ۔ کارکن گھروں سے نکل آئیں ،احتجاج ہمارا حق ہے ،عرصہ دراز سے ڈاکٹرعافیہ کوامریکہ نے قید کیا ہوا ہے لیکن ہمارے حکمران خاموش ہیں ،کشمیریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم کشمیریوں کے ساتھ ہیں ۔

روزنیوز کے پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کے اہم ترین انکشافات

پاکستان گروپ آف نیوزپیپرز اورروز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے معروف پروگرام ’’ سچی بات ‘‘ میں ملک کی تازہ ترین صورتحال پر تجزیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف گیا ، مریم چلی جائے گی مگر پنجاب بھی تحریک انصاف سے چلا گیا ، انہوں نے پیشن گوئی کی کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ کے طور پر چوہدری پرویز الٰہی کے امکانات زیادہ جبکہ شہباز شریف کا چانس بھی موجود ہے ، ایس کے نیازی نے کہاکہ عثمان بزدار ایک اچھا آدمی ہے ، نوازشریف کےلئے سات ارب کی کیا اہمیت ہے ، ان کاباہرجانا یقینا ڈیل کا نتیجہ ہے لیکن یہ این آر او نہیں ہے ، قانون میں کسی ایسی بیماری کی صورت میں جس کا علاج ملک میں ممکن نہیں باہر جانے کی اجازت مل جایا کرتی ہے ، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری جیلوں میں ایسی ایسی بیماریوں والے لوگ پڑے ہوئے ہیں جن کا علاج یہاں ممکن نہیں ، ایس کے نیازی نے کہا نواز شریف نے دس ارب کی ڈیل کر لی مگر زرداری کچھ دینا نہیں چاہتے ۔

پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق

آج ہم عشق رسول ;248; کے بہت بڑے داعی اور محبت رسول کے قولی دعویدار بنے ہوئے ہیں اور حقیقی اور عملی محبت سے کوسوں دور ہیں ۔ گزشتہ روز پورے پاکستان میں عید میلاد النبی کے حوالے سے پُر شکوہ تقریبات کا انعقاد سرکاری اور غیر سرکاری ہر سطح پر ہوا جس میں ہم نے شہروں کے شہروں کو اور پاکستان کے ہر صوبے کو، قصبوں اور گاءوں کے کوچہ و بازار کو دلہن کی طرح سجا دیا، بام و در پر چراغاں ، بازاروں اور درختوں پر قمقموں کی لڑیاں اس طرح لٹکادیں جس طرح آسمان پر تارے جگمگاتے ہیں ۔ ہم نے یہ سارے ظاہری مصنوعی انداز اختیار کرکے تعلیمات نبوی;248; کی روشنی سے انحراف کیا ہے ۔ ریاست مدینہ کے خدو خال ظاہری سجاوٹوں اور بناوٹوں میں نہیں ہیں اور نہ ہی مسجد نبوی اور روضۃ النبی کے ماڈل تیار کرنے میں اسلامی فلاحی مملکت کا تصور سامنے آتا ہے ۔ آج ریاست مدینہ اور اسلامی فلاحی مملکت کا تصور تعلیمات نبوی کی روشنی میں ایک روزہ کانفرنس میں مصر، ایران، عرب و عجم سے ممتاز علمائے اکرام دانشور، موَرخ ، محقق اور مقالہ نگاروں کی شرکت نے حقیقی تصور ریاست مدینہ کے خدوخال پیش کئے یہ وہ علمائے اکرام تھے جو علمی حلقوں میں بے پناہ قدر منزلت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف الرحمان علوی، وزیر اعظم پاکستان عمران خان، وفاقی وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیرنورالحق قادری مسلم ہینڈز انٹرنیشنل کے سربراہ فضیلت مآب پیرسید لخت حسنین شاہ نے اس موقع پر حکمرانوں کے اوصاف بیان کیے کہ نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو کی مثال اور صلح و جنگ میں مثالی شخصیت کا مالک ہو ۔ جس کی امیدیں قلیل اور مقاصد جلیل ہوں جو فقر میں غنی اور امیری میں فقیر ہو، بوقت تنگ دستی خود دارو غیور اور بوقت فراغ کریم و حلیم ہو جو عزت کی موت کو ذلت کی زندگی پر ترجیح دیتا ہو ۔ ایسے اوصافِ حمیدہ کے مالک راہنما ہی آنے والی نسلوں کی فصلوں کو شاداب کر سکتے ہیں ۔ پیر مکرم حضرت سید لخت حسنین نے اسلوب حکمرانی کے گُر بتاتے ہوئے انتہائی بلیغ اشاروں میں تفصیل پر اختصار کو ترجیح دی ۔ ریاست مدینہ کے امیر، رہبر و راہنما کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے عمر بن عبدالعزیز کی مثال پیش کی ۔ نوجوان ملنے کےلئے آئے تو اس کے ساتھ کون سا انداز و اسلوب اپنانا ہے کہ وہ آپ کا گرویدہ ہوجائے ۔ بوڑھوں کو محسوس ہو کہ یہ حاکم نہیں بلکہ ہماری اولاد ہے اور ایک سعادت مند بیٹا ہے اور حاکم وقت بوڑھوں کی اپنے والد کی طرح تعظیم کرے اور بچوں سے شفیق اور بہت زیادہ مہربان بن کر اولاد کی طرح سلوک کرے ۔ غریب رعایا کو اپنی آنکھوں کے سامنے رکھے اوراُن کی طرف زیادہ متوجہ رہے ۔ ریاست مدینہ کے سربراہ کا یہی طرز واسلو ب تھا کہ غریب صحابہ کادل نہ ٹوٹے کیونکہ دلوں میں اللہ رہتا ہے ۔ اے میرے نبی یہ تیرے غریب صحابہ ہیں ان سے آپ کا رخ نہیں بدلنا چاہئے ۔ ایک اچھے راہنما کی حیثیت سے پیر سید لخت حسنین شاہ کاخطاب وزیر اعظم عمران خان کےلئے شاندار تھا کیونکہ سیاستدان اور راہنما میں یہی تو فرق ہوتا ہے کہ سیاست دان صرف آنے والے انتخابات کے بارے میں اور راہنما آنے والی نسلوں کی فصلوں کو شاداب کرتا ہے ۔ جب تک ہمارے واعظ، ہمارے خطیب، ہمارے اہل قلم ، ہمارے دانشور، ہمارے علما، ہمارے حکمران، ہمارے فقہا اور حکمران اسلام کو لوگوں کی زندگی میں نہیں اتارتے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک معاشرہ میں معاش و اقتصاد کے نظام کا استحصال موجود ہے ۔ بقول آغا شورش کاشمیری کے اس وقت تک جو لوگ سیرت النبی کی آڑ لے کر خطابت یا خیرات کے میدانوں میں چوکڑی بھر رہے ہیں وہ سیرت النبی کے اتباع میں کبھی بھی مخلص نہیں ہوسکتے کیونکہ روح اسلام کو جتنا گزند سرمایہ داری کے ہاتھوں پہنچاہے یا جن لوگوں نے اسلام میں ملوکیت کی بنیاد رکھی ان کے ہاتھوں قرآن و سنت کی جو اہانت ہوئی اور کسی کے ہاتھوں یہ سانحہ نہیں بیتا ہے جو لوگ معاشرہ کی اصل برائی پر ہاتھ نہیں ڈالتے وہ بنیادی طور پر کسی مرض کو دور نہیں کرسکتے ۔ نسل انسانی اس کو تسلیم کرتے ہوئے ہچکچائے گی کہ سامراج کا ایک کل پرزہ جو لاکھوں انسانوں کی محنت پر قابض ہے وہ صرف اس لئے ممدوح و محترم ہوجائے کہ وہ لوٹی ہوئی دولت یا ہتھیائی ہوئی محنت میں سے زکوٰۃ دیتا ہے خیرات کرتا ہے عام لوگوں میں سخی کہلاتا ہے نیاز، نذر بانٹتا ہے، مسجدیں بناتا ہے، چراغاں کرتا ہے، تبرک لٹاتا ہے ، اپنے دسترخوان پر واعظوں اور خطیبوں کو کھانے کھلاتا ہے اس کی وسیع دولت میں سے ایک آدھ طالب علم کو وظیفہ اور ایک آدھ بیوہ کو ماہانہ بھی ملتا ہے، اصل سوال یہ ہے کہ جس معاشرے کے ہم فرد ہیں اس میں لوگ بھوکے کیوں ہیں ، بیمار بے دوا کیوں ہے ، بچوں کو تعلیم کیوں نہیں ملتی، لوگ ننگے ہیں تو کیوں ہیں ;238;سب کے لئے مکان کیوں نہیں ، دولت چند خاندانوں کا ہی حصہ کیوں ہے، مرید فاقہ مست ہے پیر جام بدست اس کے ہاں روشنی، اس کے ہاں اندھیرا، جس معاشرے میں آنکھوں کے چراغ بجھ رہے ہوں ، جہاں دل ٹوٹ گئے ہوں ، زبانیں تشنہ ہوں ، پیٹ گر سنہ، جسم برہنہ، اولاد نا خواندہ وہاں سیرت فروشی یا بازاروں کی مینا کاری کوئی رونق پیدا نہیں کرسکتی ۔ معاف کیجئے یہ اتباعِ رسول نہیں او رنہ عشقِ رسول ہے یہ ظواہر کی نمائش ہے ۔ آج سنت رسول اور ریاست مدینہ کے خدو خال کی معراج یہ ہے کہ ہم اس معاشرہ کو تہس نہس کر دیں جس میں انسان مادی ضرورتوں کا غلام ہوگیا ہے اور سیرت رسول انسانی دلوں میں جگہ پیدا کرنے کی بجائے واعظوں کی زبانوں پر آگئی ہے یا اس کا اظہار بازاروں کی سجاوٹوں کا طغریٰ ہوگیا ہے ۔ ہمارے نزدیک یہ سیرت کی پیروی نہیں سوداگری ہے ۔ سیرت کی پیروی اور اس کا فلسفہ پیر سید لخت حسنین شاہ نے اپنی انتہائی مختصر تقریر میں اسلوب حکمرانی کے انداز اس طرح اپنا کر جس طرح ریاستِ مدینہ کے والی نے اپنے دونوں ہاتھوں سے مسکینوں ، یتیموں اور بے سہاروں کو جد انہیں ہونے دیا اور کمزوروں اور لاچاروں کو وہ تقویت ملی کہ وہ پکار اٹھے کہ ہم اس دنیا میں تنہا نہیں ہیں اللہ کا نبی ;248; حکمران ہمارے ساتھ ہیں ۔ سید لخت حسنین شاہ نے اپنی تقریر میں آگے چل کر بتایا کہ حضرت عمر بن عبدلعزیز ;230; خلیفہ بنے تو انہوں نے علمائے اکرام کو بلایا اور اُن کی مشاورت حاصل کی کہ میں حکمران تو بن گیاہوں مجھے طریقہ بتاءو کہ میں نے کیسے حکمرانی کے انداز اختیار کرنے ہیں تو علمائے اکرام نے خلیفہ کو بتایا جس کا تذکرہ شاہ جی نے پہلے کر دیا ہے کہ بچوں جوانوں اور بوڑھوں کے ساتھ ملتے وقت رشتوں کی تعظیم بدل جائے گی ۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف الرحمن علوی وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور مذہبی امور کے وزیر پیر نورالحق قادری نے بجا طور پر کہا ہے کہ 70سالوں میں کسی بھی حکمران نے ریاست مدینہ کی بات نہیں کی ہے اور نہ ہی ریاست مدینہ کا تصور پیش کیا ہے ۔ ریاست مدینہ کے خدوخال تو علمائے اکرام ہی بتائیں گے ۔ فلاحی ریاست کا تصور عمران خان کا وژن ضرور ہے مگر جس انداز میں حکمرانی کی فرمانروائی سید لخت حسنین شاہ نے بتائی ہے ۔ ریاست مدینہ کی حقیقی روح ہے ۔ ریاست مدینہ میں لنگر خانے نہیں ہوتے یتیموں ، مسکینوں ، کمزوروں اور بے سہاروں کا مستقل سامان پرورش ہوتاہے ۔ طعام المسکین کا ہم نے بہت آسان مفہوم لے لیا ہے اور مسکین کے معانی دو وقت کی روٹی سے محروم کسی انسان کا تصور کر لیا ہے ۔ مسکین وہ ہوتا ہے جس کا کاروبار حیات ساکن ہوجائے اس کے کاروبارِ حیات کو رواں دواں کرنا ریاست مدینہ کی ذمہ داری ہے اس وقت کتنی ہی صنعتیں بند ہورہی ہیں اور وہاں کام کرنے والوں کو نکالا جارہا ہے ۔ ریاست مدینہ بے روزگاروں کو روزگار اور بے سہاروں کو سہارادیتی ہے اور ان کے ہاتھوں میں ہنر اور دماغ میں علم کی روشنی فراہم کرتی ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے قرآن حکیم کی روشنی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک قوم خود اپنے آپ کو نہیں بدلے گی اُس وقت تک انقلاب نہیں آسکتا اور جس تبدیلی کی خواہش اور آرزو 21 کروڑ انسانوں کے دلوں میں جاگ اٹھے گی وہ تبدیلی کا سال ہوگا ۔

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جسے خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

وزیر مذہبی امور ڈاکٹر پیر نورالحق قادری نے اپنے استقبالیہ کلمات میں علامہ اقبال کے اشعار کا بر محل استعمال کرکے خوب داد لی اور 12 ربیع الاول کی خوشی میں خوبصورت پیغام دیا ۔

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو

چمنِ دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو

یہ نہ ساقی ہو تو پھر مے بھی نہ ہو خم بھی نہ ہو

بزمِ توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو

خیمہَ افلاک کا ایستادہ اسی نام سے ہے

نبضِ ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

پیر سید لخت حسنین شاہ نے آخر میں علامہ اقبال کے اس شعر پر اپنی تقریر کا اختتام کیا

ہجوم کیوں ہے زیادہ شراب خانے میں

فقط یہ بات کہ پیرِ مغاں ہے مردِ خلیق

مولاناتمہارے ہاتھ کیا آیا

بڑے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کی ٹانگیں بھلے سے قبروں میں پھنسی ہوئی ہوں اور آنکھوں سے کچھ نظر نہ آتاہو، مگرپھر بھی اِن کی نظریں دولت پر جمی رہتی ہیں ۔ اِن کا دماغ دولت کمانے کےلئے دن رات چلتارہتاہے ۔ یہ قومی خزانے سے دولت لوٹ کھانے سے بھی دریغ نہیں کرتے ہیں ۔ ہمارے ارد گرد ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں ۔ آج اکثر اِسی وجہ سے احتسابی شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں ۔ اور اِن دِنوں زندگی اور موت کی کشمکش میں ہیں ۔ یہ جان کر بڑی حیرت ہوتی ہے کہ دولت مندوں نے خواہ کیسے بھی دولت جمع کی ہو;238;اِن کے نزدیک بھی اِن کی دولت کے سامنے اِن کی اپنی جان کی بھی قدر کچھ نہیں ہوتی ہے ۔ اَب اِسی کو ہی دیکھ لیں ۔ آج صرف سات یا ساڑھے سات ارب کی شیورٹی حکومت کے پاس جمع نہ کرانے کی ضد پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرکے ن لیگ والے اپنے قائد کو بیرون مُلک علاج کے لئے نہیں بھیج پا رہے ہیں ۔ حالاں کہ حکومت نے تو مشروط شیورٹی کے بعد نوازشریف کو باہر جانے کی اجازت دے دی ہے ۔ کیوں ن لیگ والے اپنے قائدبیچارے میاں نوازشریف کی جان کو خطرات سے دوچارکرنے پر تُلے ہوئے ہیں ۔ چلیں ،چھوڑیں ، دیر کس بات کی ہے;238; اِتنا اِسی مُلک سے تو کمایا ہے ۔ زندگی رہی تو پھر اِس سے زیادہ کمالیں گے ۔ بس زیادہ نہ سوچیں ، عدلیہ نے جو کام کرناتھا ۔ اِس نے کردیاہے اور اَب حکومت جو چاہ رہی ہے ،وہ بھی کردیں ۔ بالخصوص نواز شریف کے بھائی شہبازشریف اور ن لیگ والے بالعموم جلدی کریں سات یا ساڑھے ساتھ ارب کی شیورٹی حکومت کے پاس جمع کروائیں ، اپنے قائد کو پسند کے بیرون ملک علاج کےلئے روانہ کریں ۔ حکومت تو پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ سیاسی اختلافات ایک طرف مگر اِنسانی ہمدردی کی بنیادپر نوازشریف علاج کےلئے باہر جانا چاہئے ۔ ن لیگ کی قیادت کو یاد رکھنا چاہئے کہ مولانا دھرنوی کا جتنا کام تھا وہ اِنہوں نے تیرہ چودہ دِنوں میں اپنے پلان اے کے مطابق کردیاہے ۔ اَب مولانا دھرنوی کا اگلا پلان بی زرداری پلس اَدی فریال تالپور کےلئے جاری ہے ۔ دیکھتے ہیں کہ کرائے کے دھرنی اپنے دھرنے پیکچ سے بیچارے آصف علی زرداری اور بہن فریال تالپور کو کتنا ریلیف دلوانے میں کامیاب ہوتے ہیں غالب گمان ہے کہ مولانا کے پلان بی سے پی پی پی کی اعلیٰ قیادت اور اِن کی بہن کو بھی کسی نہ کسی بیماری کی وجہ سے کچھ نہ کچھ ریلیف مل ہی جائے گا اور یہ بھی اپنے علاج کے لئے لوٹی ہوئی اربوں قومی دولت میں سے اربوں کی شیورٹی حکومت کے پاس جمع کرواکرکسی بیرونی مُلک چلے جائیں گے ۔ آج پاکستانی قوم اور دنیا کو لگ پتہ گیا ہے کہ مولانا دھرنوی کا مضحکہ خیز وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ اورآزادی مارچ اور اسلام آباد میں دھرنا نوٹنکی کس کےلئے تھی;238; آج کسی کا کچھ نہیں چھپا ہے ۔ اَب سب کا سب کچھ سامنے آگیاہے ۔ جیسے جیسے وقت اور حالات آگے بڑھتے جائیں گے آنے والے دِنوں میں مولانا کا سب کیا دھرا سامنے آتاجائے گا ۔ ویسے اِس میں کوئی دورائے نہیں ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ سے سب سے زیادہ فائدہ ن لیگ والوں کو پہنچا ہے ۔ کہنے والے کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف اور اِن کی بیٹی کی ضمانت ہوئی اور رہائی ملی ۔ اگرمولانا یہ سب ڈرامہ بازی نہیں بھی کرتے توخالصتاََ انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کچھ دو اور کچھ لو کی بنیاد پر نواز شریف فیملی کو رہائی مل ہی جانی تھی ۔ بس ذرا سا وقت مزید درکار ہوتا ۔ مگربس اِتنا ہوا کہ مولانا دھرنوں کی حکمتِ عملی کی وجہ سے نواز شریف اینڈ بیٹی کو جلدی ضمانت پر رہائی مل گئی ۔ مولاناکے آزادی مارچ اور دھرنوں سے مولانا کوسِوائے شہرت کے کچھ نہیں ملا ہے ۔ بس اِنہیں اپنے لوگوں کو متحرک کرنا تھا ۔ سو اِنہوں نے اپنے آزادی مارچ اور دھرنوں سے کرلیا اور اپنے عمل سے ن لیگ اور پی پی پی کی مقدمات میں گھری قیادت کو ریلیف دلاناتھا اِس میں یہ کامیاب رہے ہیں ۔ اِس لئے مولوی فضل الرحمان کو اتنے پاپڑ بیلنے پڑے ۔ ورنہ کہاں یہ کسی کےلئے کچھ کرتے ۔ اور ہاں یہ بھی کہ مولانا نے اسلام آباد میں اتنے دن آزادی مارچ اور دھرنے سے بس اتنا ثابت کرناتھا کہ یہ اور اِن کی جماعت جس کا نام جے یو آئی (ف) اسلامی تو ہے ۔ مگردرحقیقت اِن کی یہ جماعت خالصتاََ ایک پُر امن سیاسی جماعت ہے ۔ اگر آج مولانا کا اسلام آباد میں آزادی مارچ اور تیرہ دن کا دھرنا حقیقی معنوں میں پُر امن رہنے کے بعد اِسی پُرامن طریقے سے منتشر نہ ہواتو مولانا کا دنیا کو یہ میسج بھی نہ جاتا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) ایک پُر امن سیاسی اور مذہبی جماعت ہے ۔ اِس لئے کبھی کوئی اندرونی یا بیرونی طاقت اِس پُر امن جماعت جے یو آئی (ف) پرپابندی لگانے کی بات کرنا تو در کنار ہے ۔ کبھی کوئی اِس جماعت پر پابندی لگانے کا سوچے بھی نہیں ۔ کیونکہ اتنے ہزاروں افراد کے ساتھ درالحکومت اسلام آباد میں نصف ماہ تک پُر امن رہنا یہ ثابت کرتا ہے کہ واقعی جمیعت علماء اسلام (ف) ایک پُر امن سیاسی اور مذہبی جماعت ہے ۔

اقبال کو اپنے کشمیری ہونے پر فخر تھا

حضرت علامہ اقبال ;231; کا تعلق محض اس لیے کشمیر سے نہیں تھا کہ خطہ کشمیر، ارض خداوندی پر ایک جنت نظیر وادی ہے، بلکہ علامہ کے اجداد بذات کشمیری تھے اور یوں اْن کی رگوں میں رواں رہنے والا خون خالص کشمیری ہی تھا ۔ کشمیر سے اپنے تعلق پر اقبال;231; ہمیشہ فخر کرتے اور کشمیرسے جدائی کا احساس رکھتے تھے ۔ علامہ اقبال صرف فلسفی شاعر ہی نہیں بلکہ انسانوں کے استحصال کے بھی خلاف تھے ۔ ان کی خواہش تھی کہ انسان رنگ ، نسل اور مذہب کی تمیز کے بغیر ایک دوسرے سے اچھے رویے سے پیش آئیں اور باہمی احترام کی فضا قائم کریں کہ یہی رب کائنات کی منشا ہے ۔ پاکستان کی نئی نسل بھی اقبال کی احترامِ آدمیت کی سوچ کو سراہتی ہے ۔ کشمیر، ہندوستان سے الگ ایک خطہ وجدا ریاست ہے اور اسکی اپنی تمدنی و تہذیبی اور ثقافتی شناخت ہے جوہندوستانی سماج میں سما ہی نہیں سکتی ۔ علامہ اقبال نے کشمیر کی اس جداگانہ شناخت کو بحال رکھنے اور منوانے کےلئے، بذات خود پنجاب کے شہر لاہور میں تب کے کشمیریوں کی قائم کردہ ;3939; انجمن کشمیری مسلمانان ;3939; کے ابتدائی دنوں ہی میں شمولیت کی اور جلد ہی اْن کو انجمن کشمیری مسلمانان کا سیکرٹری جنرل بنادیا گیا ۔ اپنے اس منصب کے حوالے سے اور جنت ارضی، جموں و کشمیر سے قلبی محبت کے ناطے ، اقبال نے کشمیر کے اندر اور پنجاب کے ساتھ ساتھ ہندوستان بھر میں کشمیریوں کی حالت زار بہتر بنانے اور انہیں آزاد شہریوں کے حقوق دلوانے کےلئے جدوجہد تیز کردی ۔ اقبال کا مطالبہ تھا کہ زبر دستی بے وطن اور بے گھر کر دیئے گئے کشمیریوں کوریاست میں اپنے گھروں کو واپس جانے، وہاں آباد ہونے اور اپنی املاک کے خود مالک ہونے کا حق دیا جائے ۔ اقبال ہی کی تحریک و ایما پر، انجمن کشمیری مسلمانان، نے جموں و کشمیر کے مہاراجہ پرتاپ سنگھ کو لاہور بلایا اور اْن سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں پر اپنے فوجیوں کے ظلم و ستم رکوائیں اور کشمیریوں کو اپنی مذہبی و سماجی اور تمدنی و ثقافتی اقدارو رسومات پورا کرنے کی آزادی کی راہ میں روڑے نہ اٹکائیں ۔ مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے اس موقع پر اقبال کو یاد دلایا کہ کشمیر اقبال کا آبائی وطن ہے اور کہا کہ انہیں کشمیر کا دورہ کرنا چاہیے ۔ اقبال نے برجستہ مہاراجہ کو جواب دیا ;3939; ہم نے کشمیر کو فراموش ہی کب کیا ہے جو آپ ہ میں یاد دلاتے ہیں ، ہم اس وقت آپ کے سامنے سرتاپا، کشمیرہی کشمیر ہیں ;3939; ۔ اقبال بعد میں کشمیر گئے لیکن دعوت کے باوجود وہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ کے مہمان نہیں تھے ۔ اپنے سرکاری کام کاج سے فارغ ہو کراقبال کشمیر میں کچھ عرصے کےلئے ٹھہرے اور مختلف شہروں ، قصبوں اور دیہاتوں میں بھی، وہاں کے قدرتی حسن کا ہی نہیں روزمرہ کی زندگی اور مسلمانان کشمیر کے شب و روز کی مصیبتوں کا خود جائزہ لیا اور اس کے بعد تو پھر اقبال اور کشمیر کبھی آپس میں جدا ہی نہیں ہوئے ۔ اقبال کہتے ہیں تنم گلے زخیابانِ جنت ِکشمیردلم ز خاکِ حجاز و نواز شیراز است یعنی کہ: میرا بدن، گلستان کشمیر کا ایک پھول ہے اور میرا دل ارض حجاز سے اورمیری صدا شیراز سے ہے ۔ اگر یہ کہا جائے توغلط نہ ہوگا کہ جموں و کشمیر کی آزادی کی تحریک در اصل انیس سو اکتیس ہی میں شروع ہو چکی تھی لیکن تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ اقبال;231; کشمیر کے سیاسی جغرافیے کی بساط اْلٹ جانے کی پیش گوئی بہت پہلے کر چکے تھے اور لاہور میں انہوں نے انجمن کشمیری مسلمانان کے ایک سالانہ اجلاس میں اپنے اس خواب کو یوں بیان کیا تھا ;3939; ہم کشمیر میں سیاست کی میز اْلٹ جانے کو دیکھ رہے ہیں ، میں دیکھ رہا ہوں کہ کشمیری جو روایتی طور پر محکوم اور مظلوم ہیں اور جن کے بت معبود تھے ان کے دلوں میں اب ایمان کے شرارے پھوٹ رہے ہیں ۔ کشمیریوں کو یہ احساس ہونے لگا ہے کہ ان کے ہنر سے جو ریشم و کمخواب کے لباس بنتے ہیں ان کو پہنتا کون ہے اور ننگے بھوکے کو ن رہتے ہیں ۔ علامہ اقبال کی فکر کشمیر کی آزادی اور پاکستان کے ساتھ مستحکم رشتہ کی ضمانت ہے ۔ اقبال کشمیر کے عظیم سپوت تھے جنہوں نے روح آزادی کو بیدار کیا ۔ حکیم الامت علامہ اقبال ;231; کو کشمیر کے ساتھ بے پناہ جذباتی اورروحانی وابستگی تھی ۔ اس وابستگی کا اظہار علامہ اقبال;231; نے اپنے کلام ،خطوط اورخطبات میں جا بجا کیاہے ۔ علامہ اقبال ;231; کے بزرگوں کا تعلق خطہ کشمیر سے تھا جس پر علامہ اقبال ;231; کو بہت ناز تھاجس کا اظہار انہوں نے ایک موقع اس طرح کیا کہ ان کی شیریانوں میں دوڑنے والا خون کشمیر کے شفق فام چناروں کی طرح سرخ ہے ۔ اقبال بنیادی طور پر آزادی فکر کے شاعر ہیں جنہوں نے اپنی انقلابی شاعری کے ذریعے ظلم وجبر کا شکار انسانوں کے دلوں کے اندر آزادی وحریت کی شمع روشن کی ۔ اقبال کا نظریہ تھا کہ غلامی انسان کو اندر سے کھوکھلا کردیتی اوراس کی سوچ وفکر کو محدود کر دیتی ہے ۔ جس کے نتیجے میں گروہی، علاقائی اورلسانی تعصبات پیدا ہوتے ہیں ۔ علامہ اقبال;231; نے1932ء میں اپنے ایک مشہور خطبہ میں مسلمانا ن کشمیر کو ان قوتوں کی سازشوں سے خبردار کردیا تھا جو کشمیریوں کے اندر انتشار وافتراق پیداکرناچاہتے تھے ۔ ڈاکٹر علامہ اقبال;231; نے کشمیر کے لوگوں کو مختلف جماعتوں اور گروہوں میں تقسیم ہونے کے بجائے ایک جماعت کے پلیٹ فارم سے جدوجہد آزادی کو آگے بڑھانے کا مشورہ دیا تھا ۔ علامہ محمد اقبال;231; جو بذات خود ایک کشمیری النسل تھے، خطبہ آلہ آباد 1930ء سے قبل بھی وہ ہندوستان میں کشمیریوں کی تحریک حریت کے داعی و علمبردار رہے اور اولاً آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے سیکرٹری اور بعد ازاں کشمیر کمیٹی کے صدر بھی رہے ۔ علامہ اقبال;231; نے ہی 14 اگست 1934 کو کشمیریوں کیسا تھ اظہار یکجہتی منانے کیلئے پورے مسلمانان ہند کو دعوت دی تھی ۔ 1931ء کے واقعات جن میں سرینگر میں 22افراد نے جام شہادت نوش کیا تھا اس واقعہ کے صدائے بازگشت کو ہندوستان تک پہنچانے میں علامہ اقبال;231; کا بہت بڑا کر دار تھا ۔ حضرت علامہ محمد اقبال نے جب 1930 میں مسلمانان ہند کیلئے ایک الگ وطن کا مطالبہ پیش کیا تھا اسی دوران انہوں نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ معرض وجود میں آنے والی نئی مملکت اسلامیہ میں اگر کشمیر شامل نہ کیا گیا تو اس مملکت کو بنانے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا ۔

Google Analytics Alternative