کالم

قومی لٹیروں کاگٹھ جوڑ۔۔۔!

اِس سے اِنکارنہیں ہے کہ آج حکومت کےلئے اپوزیشن جماعتیں بال توڑ سے پیدا ہونے والا پھوڑابنی ہوئیں ہیں ۔ جن کا وجودوقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کےلئے باعث تکلیف بنتا جا رہا ہے، وہ حضرات بال توڑ پھوڑے کی تکلیف سے اچھی طرح واقف ہوں گے جو اِس کی وجہ سے پہنچنے والی تکلیف سے گزر چکے ہیں ۔ آخر حکومت اپوزیشن کی تکلیف کو کب تک برداشت کرے گی اِسے حزب اختلاف سے پیدا ہونے والی تکلیف اورپریشانیوں سے نجات کےلئے قانونی راستہ تو اپنانا ہی پڑے گا جس کےلئے حکومت نے اپنی مکمل تیاری کرلی ہے بہت جلد حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آنے والی ہے ۔ بہرکیف، اچھی بھلی سات ، نو ماہ کی حکومت کےلئے اپوزیشن نے اپنے وجود کا احساس انتہائی تکلیف دہ سیاسی رویے کو اپنا کر باور کرانے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے ، جس پر مجھ جیسا ایک عام اور سادہ پاکستانی شہری یہ سوال کئے بغیر نہیں رہ سکا ہے کہ’’ کیوں اپوزیشن کی جماعتیں ( ن لیگ، پی پی پی اور دونوں جماعتوں کی لاڈلی لے پلک جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) حکومت کےلئے بال توڑ کا پھوڑابنی ہوئیں ہیں ;238; ‘‘جو حکومت کے قیام کے اول روز سے ہی اِس کی راہ میں کانٹے بچھانے ، بات بات پہ ٹانگیں اڑانے ، روڑے اٹکانے، بے جاتنقیدوں کے نشتر چلانے، لات مار کر حکومت گرانے اور حکومت کو بہت برداشت کرلیا جیسے دھمکی آمیز انارگی پھیلانے والے بیانات اور خطابات سے یہ سمجھتی ہیں کہ اِس طرح یہ جمہوریت کی اُوٹ سے مثبت سیاست کررہی ہیں ۔ تو اے !میری اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والوں موقع پرستوں ، مُلک اور قوم کو لوٹ کھانےوالوں مفاد پرستوں ، بہروپیوں ،ایسا نہیں ہے ۔ جو تم سمجھ رہے ہو، بات اصل میں یہ ہے کہ عوام تمہارے گھناوَنے اور مکروہ چہروں پر چڑھے نقاب کو سمجھ چکے ہیں ۔ تمہاری سیاست جمہوریت کا نام لے لے کر صرف اور صرف اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات کے گرد گھومتی ہے ۔ تمہیں نہ کبھی مُلک اور قوم کی بقاء اور سلامتی سے کوئی مطلب رہاہے اور نہ ہی آج تم قوم کی بہتری کے خیر خواہ ہو، تم تو بس اپنے ذاتی ، سیاسی اور کاروباری مفادات کےلئے حکمرانی کی مسند پر سوار ہوتے ہواور اِسی طرح پھر آج اپنے آپ کو کسی کڑے احتساب سے بچانے کےلئے نکل پڑے ہو ،ورنہ تمہاری نظر میں تو مُلک اپنے پرائے سے سود پر قرضے لے کر تمہارے لئے دولت پیدا کرنے کی بھٹی اور اِس کے 22کروڑعوام کی حیثیت کیڑے مکوڑے جیسی ہے ۔ پچھلے دِنوں جب سماجی رابطے کی ویب ساءٹ ٹویٹرپر وزیر اعظم عمران خان نے امیر اور غریب کےلئے الگ الگ قانون سے متعلق ٹویٹ کرتے ہوئے حضورﷺ کا فرمان لکھ کر یہ کیا شیئرکیا ’’ حضورﷺ کا فرمان ہے کہ نا انصافیوں کی وجہ سے کئی قو میں تباہ ہوئیں ، ‘‘ گویا کہ اپوزیشن والے آگ بگولہ ہوگئے ۔ جبکہ اپنے ٹویٹر پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے صرف یہی تو لکھا تھاکہ’’ آپ ﷺ کا واضح فرمان موجود ہے کہ تباہی کی وجہ طاقتور اور کمزور کےلئے الگ الگ قانون تھا‘‘ جس کے بعد اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی قومی کرپٹ سیاسی جماعتیں اپنے دردناک انجام سے خوفزدہ ہو کر اَب کھلم کھلا طور پر اپنے بچاوَ کے خاطر جمہوریت بچاوَ کا لبادہ اُوڑھ کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہورہی ہیں ،سارے قومی چور گردنیں تان کر ، سینہ پھولا کر ، آستینیں چڑھا کر ہاتھوں کی زنجیر بنا کر حکومت پر دباوَ بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ حکومت اِن کے قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور مُلکی اور قومی معیشت کا ستیاناس کرنے والے سیاہ کرتوتوں کا احتساب اداروں سے احتساب کرانے سے باز آ جائے ۔ آج بیشک اِسی بنیادپر تب ہی قومی لٹیروں کی بغل بچہ پارٹی جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اپنی پریس کانفرنس میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بن کر یہ کہہ چکے ہیں کہ’’ ہم نے حکومت گرانے کا فیصلہ کرلیا اِنہوں نے جو کرناہے کرلیں ، جعلی مینڈیٹ اور جعلی وزیراعظم ملک و عوام کےلئے عذاب بن چکے ہیں ، نیب انتقامی ارادہ ہے ‘‘ بس ایسے حکومت مخالف اپوزیشن کے تعلق رکھنے والے چیلے چانٹوں کےلئے یہی کافی ہے کہ اِن جیسے بہت سے لوگوں کےلئے احتساب کا شکنجہ تنگ سے تنگ ہوتا جارہاہے عنقریب شکار صیاد کے جال میں ہو کر اپنے سیاہ کرتوتوں کے ساتھ اپنے عبرت ناک انجام کو پہنچنے والے ہیں بس اِن سمیت قوم کی انتظار کی گھڑیاں جلد ختم ہونے والی ہیں ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) سمیت دیگر اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مُلک اور قوم کی ترقی اور خوشحالی کے ساتھ واقعی مخلص ہیں تو پھر یہ حکومت مخالف تحاریک چلانے کا ارادہ کرنے کے بجائے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کےلئے نیب میں پیش ہوجائیں تاکہ دودہ کا دودہ پانی کا پانی ہوجائے ، آج اگر بانی مسلم لیگ (ن) نوازشریف اور اِن کے بھائی شہبازشریف ، حمزہ شہباز اور دیگر سمیت پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری ، فریال تالپور، بلاول زرداری اور اِسی طرح دوسری اپوزیشن جماعتیں اپنے احتساب سے بھاگ کر مُلک میں لاقانونیت اور انارکی کو پھیلاناچاہتی ہیں تو اِس سے عوام پر یہ واضح تاثر جائے گا کہ دال میں ضرور کچھ کالاہے کیا ;238; بلکہ پوری ہانڈی ہی کالی ہے ۔ سو ، اَب لازمی ہے کہ جن اپوزیشن جماعتوں کے سربراہان اور اِن کے چیلے چانٹوں کے گرد نیب اور احتساب کے قومی اداروں نے شکنجہ سخت کرکے تنگ کر رکھا ہے ۔ اَب وہ بغیر کسی بیماری کی حیلہ بازی،حیلہ سازی، حیلہ گری ،حیلہ جوئی عدالتوں میں خاموشی سے پیش ہوجائیں ۔ اِن کی آئندہ کی سیاست کےلئے جو عوام کی نظر میں اچھا عمل ہوگا ۔ ورنہ سیاست دانوں کی موجودہ ہٹ دھرمی سے اچھی طرح سے واقف پاکستانی عوام یہی سمجھیں کہ یہ مُلک میں اپنے بچاوَ کےلئے اشتعال انگیزی اور انارکی کو ہوانے دینے والے سیاستدان ہی اصل میں قومی لٹیرے اور قومی چور ہیں ۔

تیزرفتار انصاف کی ضرورت

پاکستان طویل عرصہ تک دہشت گردی سے شدید ترین طور پر متاثر رہا اگرچہ اس کا مکمل خاتمہ ابھی بھی نہیں ہوا لیکن اس میں نمایاں کمی ضرور آئی ہے اور ایسا تب ہو اجب 2014 میں پشاور اے پی ایس پر حملے کے بعد سیاسی جماعتوں نے مکمل اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان پر دستخط کیے ۔ دراصل یہ حادثہ اتنا بڑا اور اندوہناک تھا اورقوم کی کمر پر ایسا وار کیا گیا تھا کہ سخت ترین اقدامات کے علاوہ کوئی چارہ ِکار نہیں تھا اس لیے جواباََدہشت گردوں پر کاری وار کیے گئے اور حقیقتاََ پہلی بار اِن کی کمر توڑ دی گئی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ دہشت گردی میں ریکارڈ کمی آئی ۔ عوام پاکستان نے سالوں بعدسکون کا سانس لیا اگرچہ اس سکون کی بہت بڑی قیمت ادا کی گئی ۔ سانحہء اے پی ایس کے147 شہداسے پہلے بھی ہزاروں شہری اور فوجی اس پرائی جنگ کی بھینٹ چڑھ چکے تھے فوج اِن دشمنوں سے مسلسل برسرپیکار تھی قربانی پر قربانی دی جارہی تھی اور ہر بار ہر شہادت پر یہ کہہ کر قوم کو بہلا دیا جاتا تھا کہ ہ میں شہادتوں پر فخر ہے اور یہ کہ دشمن کی کمر ٹوٹ چکی ہے اور یہ اس کی زخمی سانسوں کی آخری کاروائی ہے ۔ سالہاسال سے قوم یہی سن رہی تھی اور آخر وہ ہوا جس کی کسی کو اُمید نہیں تھی،قوم کی اُمیدوں اور اس کے مستقبل پر حملہ کردیا گیا اورقوم تو چیخ ہی اُٹھی لیکن ہماری قومی قیادت نے بھی آخر کار دہشت گردی سے نمٹنے کا فیصلہ کر ہی لیا اور جنوری 2015 میں نیشنل ایکشن پلان منظور کر لیا گیاجس میں شامل کیے گیے تمام نکات نے دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا ۔ انہی میں سے اہم ترین فوجی عدالتوں کا قیام اور پھانسی کی سزا پر سات سالہ غیر اعلانیہ عائد پابندی کا خاتمہ بھی تھا ۔ اِن عدالتوں کے قیام کا مقصد دہشت گردی کے مقدمات کا تیزی سے فیصلہ تھا اور ایسا ہوا بھی اِن عدالتوں نے دہشت گردوں کو پھانسی کی سزائیں سنائیں اور چیف آف آرمی سٹاف نے اُن کی توثیق بھی کی لیکن اِن میں بہت کم سزاءوں پر عمل ہوالیکن اِن کم سزاءوں نے بھی عوام کو تحفظ کا احساس ضرور دلایا ۔ ایک جائزے کے مطابق اپنے اختتام سے پہلے تک پیش کیے گئے مقدمات میں سے جن مجرموں کو موت کی سزا سنائی گئی ان میں عمل درآمد بہت کم پر ہوا ۔ تقریباََ نصف تعداد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ایک کم تعداد لیکن بَری بھی کیا گیا یعنی مقدمات کا فیصلہ اِن کی نوعیت کے مطابق میرٹ پر ہوا لیکن پھر بھی اعتراضات اُٹھائے گئے اگرچہ یہاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت صوبائی تعصب،نفرت،فرقہ پرستی و منافرت اور ایسے ہی دوسرے مقدمات بھی بھیجے گئے تاہم پھر بھی انہیں متنازعہ بنا دیا گیا اور انہیں ایک مدت کی توسیع دینے کے بعدختم کر دیا گیا ۔ ایسا نہیں ہے کہ دہشت گردی میں کمی صرف فوجی عدالتوں کے قیام کی وجہ سے آئی بلکہ ایسا اِن تمام اقدامات کی وجہ سے ہوا جو نیشنل ایکشن پلان کے تحت اُٹھائے گئے مثلاََ بڑی تعداد میں یعنی تقریباََ پچپن ہزار افغان مہاجرین کی فوری واپسی جن میں کئی دہشت گرد چھپے بیٹھے تھے، موبائل سموں پر سخت ترین چیک، نفرت انگیز مواد اور تقاریر پر پابندی، کالعدم تنظیموں پر کسی بھی نام سے کام کرنے پر مکمل پابندی، بلوچستان میں خاص اقدمات ،پنجاب میں بھی دہشت گردوں کی کسی بھی طرح کے نقل و حمل پر مکمل پابندی وغیرہ اور اسی طرح کے دیگر اقدامات شامل تھے،لیکن سزا و جزا کے عمل کی اہمیت سے کسی کو انکار نہیں اور اسی وجہ سے اینٹی ٹیررسٹ کورٹس اور فوجی عدالتوں کے قیام اور کردار کا حصہ دہشت گردی میں کمی لانے میں سب سے اہم رہا جس کا اندازہ اِس بات سے لگا یا جا سکتا ہے کہ مارچ 2019 میں فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہونے کے بعد دہشت گردی کے کئی واقعات یکے بعد دیگرے رونما ہوئے ۔ جن میں عام شہری علاقوں سے لے کر قانون نافذ کرنے والے اداروں سب پر حملے شامل ہیں ۔ مکرا ن کوسٹل ہائی وے پر بس سے اُتار کر چودہ افراد کو اُن کے قومی شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد شہید کر دیا گیا اِن میں سیکیورٹی اداروں کے اہل کار اور عام شہری شامل تھے اس واقعے کے ڈانڈے جہاں سے بھی ملتے ہیں لیکن اِن بیرونی عناصرکے سہولت کار تو ہمیشہ مقامی ہی ہوتے ہیں ۔ اسی طرح گوادر پی سی ہوٹل پر حملہ تاکہ بیرونی سرمایہ کاری کو نقصان پہنچایا جائے ۔ داتا دربار میں زائرین پر دہشت گرد حملہ ،کوءٹہ میں ہزارہ کمیونٹی پر حملہ، پشاور میں حیات آباد میں ایک گھر میں دہشت گردوں کی پناہ اور کاروائی یعنی ملک کے ہر حصے میں دہشت گردوں نے اپنی موجودگی کا احساس دلایاکہ ابھی بھی وہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں اور دوبارہ سے زور پکڑ سکتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ دوبارہ اِن کے زور پکڑنے سے پہلے ہی اپنے آپ کو مضبوط اور محفوظ کر لیا جائے ۔ ہمارے سیاستدان فوجی عدالتوں پر اعتراض تو کرتے ہیں لیکن اُن کے پاس اس کا کوئی نعم البدل منصوبہ یا طریقہ کار بھی نہیں ۔ اسی طرح اِن عدالتوں کے بڑے مخالفین میں انسانی حقوق کی تنظی میں بھی شامل ہیں جو مجرموں کی سرپرستی اور پشت پناہی کے لیے تو اُٹھ کھڑی ہوتی ہیں لیکن کسی سکول یا دربار پر دھماکوں میں مرنے والوں اور اِن کے خاندانوں کے حقوق انہیں یاد نہیں رہتے ۔ ایسے معاملات میں بین الاقوامی اداروں کے پاکستانی تنخواہ دارمیڈیا پر بیٹھ کر لمبے لمبے تبصرے نما تقاریر تو کرتے ہیں اور یوں قومی معاملات میں مداخلت کرتے ہیں کیونکہ انہیں تو اپنی تنخواہ لینی ہوتی ہے لہٰذا انہیں بے گناہ مرنے والوں سے زیادہ ملک کے اِن مجرموں کا خیال رہتا ہے ۔ ایک خاص نکتہء نظر پھیلانے میں بیرونی این جی اوز کا انتہائی اہم کردار ہوتا ہے جن کا کاروبار ہی تباہ حال ملکوں میں کام کرنے سے چلتا ہے یعنی نہ تباہ حالی ہو گی نہ اِن کے مشن ہوں گے نہ فنڈ ہوں گے نہ شہرت ہو گی نہ تنخواہیں اور مراعات اور بنگلے ہوں گے اِن تمام مخالفین سے اگر پوچھا جائے کہ مقدمات کی تیز تر سماعت کیسے ہو اور جن خاندانوں اور جس معاشرے کے نقصان کا ازالہ تو ممکن نہیں لیکن کم از کم اِن نقصان پہنچانے والوں کو سزا کیسے دی جائے تو اِن کے پاس کوئی قابل عمل منصوبہ نہیں ہوتالیکن مسئلہ اِن کا نہیں مسئلہ پاکستان اور پاکستانیوں کا ہے جن کے بچے، ماں ، باپ اور بہن بھائی شہید ہوتے ہیں جن کی املاک تباہ ہوتی ہیں جن کے گھر اجڑے ہیں کیا اُن کے حق میں بولنے والا اور کچھ کرنے والا کوئی ہے ۔ ضروری نہیں کہ فوجی عدالتیں یہ کام کرے کیونکہ مقدمہ ، انصاف اور فیصلہ عدالتوں کا کام ہے فوج کا نہیں لیکن کیا ہماری عدالتوں میں سالہا سال تک چلنے والے مقدمے اور فیصلے اور نظام تیزی سے فیصلے کر سکتا ہے ۔ کیا ایسا بھی نہیں ہوا کہ ثابت شدہ دہشت گرد بلکہ ٹیلی وژن کی سکرین پر اعتراف جرم کرتا یا جرم کرتے ہوئے نظر آنے والا مجرم بھی بَری نہیں ہوا اس کے جرم کی گواہ پوری قوم تھی لیکن ثبوت ناکافی تھے ۔ عدالت فوجی ہو یا سول فیصلہ اُسی رفتار سے چاہیے جس رفتار سے فوجی عدالت کرتی ہے ۔ وہ مقدمے جو صرف ضابطے کی ایک کاروائی ہوتے ہیں وہ بھی لٹکا دیے جاتے ہیں اور اِس دوران یا ڈی آئی خان کی جیل ٹوٹ جاتی ہے اور یا شکیل آفریدی کی جیل توڑنے کی کوشش کر لی جاتی ہے لہٰذا کیا یہ بہتر نہیں کہ رفتارہی اتنی ہو کہ ایسا موقع ہی نہ آئے اِس سے یہ بھی ہر گز غرض نہیں کہ فیصلہ آنکھ بند کر کے ہو لیکن تاریخ پہ تاریخ اور پھراور پھر تاریخ ۔ اگر کاروائی ہی اتنی تیز ہو کہ جرم کو پنپنے کا موقع ہی نہ ملے چاہے عدالت فوجی ہو یا دہشت گردی کے خلاف خصوصی عدالتیں ےا عام عدالت عوام کو تیزرفتار انصاف بہر حال چاہیے ۔

اپریل میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا آغاز۔۔۔ خوش آئنداعلان

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے آخر کار50لاکھ گھروں کی تعمیر کے حوالے سے اعلان کردیا کہ ان کا آغاز اپریل میں ہوگا ، گو کہ یہ منصوبہ انتہائی کٹھن ہے لیکن عمران خان کے مصمم ا رادے کے سامنے یہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا ۔ یہ ایک ایسا پروجیکٹ ہے جس سے بہت ساری صنعتیں جُڑی ہوئی ہیں اس سے روزگار کے مواقع فراہم ہونگے ، ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا، عوام کو سر پر اپنے گھر کی چھت ملے گی اور وہ سکھ کا سانس لے سکیں گے ۔ گو کہ ماضی میں روٹی ،کپڑا اور مکان کا نعرہ لگتا رہا ہے مگر آج تک اس مہنگائی کی حالت میں عوام دو وقت کی روٹی کو ترس ہی رہی ہے، کپڑا اور مکان تو دور کی بات ہے، اسی ملک میں ایسے بھی علاقے ہیں جہاں پر رہنے والے والدین شاید اپنے بچوں کو عید کے موقع پر بھی نئے کپڑے فراہم نہ کرسکتے ہوں ۔ آئے دن ایسی خبریں اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں کہ کسی نے بیروزگاری سے تنگ آکر خودکشی کرلی، کسی نے مفلسی کے تحت اپنے بچے فروخت کردئیے، کوئی پیٹ کی دوزخ پالنے کیلئے اپنے گردے فروخت کررہا ہے یہ وہ دل دوز خبریں ہیں جن کے بارے میں حکومت کو سوچنا چاہیے، جب روزگار کے مواقع میسر نہیں ہونگے تو پھر یقینی طورپر اسی طرح کے حالات بھی پیدا ہونگے اور ہم پھر خط غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کررہے ہوں گے ۔ گو کہ پی ٹی آئی کی حکومت معاشی بحران پر قابو پانے کیلئے کوشاں ہے لیکن دوسری جانب مہنگائی بھی آسمان تک پہنچی ہوئی ہے، بجلی اور گیس کے بل اتنے ہوشربا ہیں کہ ان کی ادائیگی کرنا ناممکن ہے ۔ اسی طرح دیگر اشیاء خوردونوش کی چیزیں بھی قوت خرید سے باہر ہیں ۔ حکومت کو چاہیے کہ جہاں وہ 50لاکھ گھروں کے منصوبے کا افتتاح کرنے جارہی ہیں وہاں پر ساتھ ساتھ مہنگائی کو بھی کنٹرول کرے اور خصوصی طورپر ڈالر کو کنٹرول کرنے کا اہتمام کیا جائے ۔ گھروں کی تعمیر انتہائی احسن منصوبہ ہے اس سلسلے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ ملک میں 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کیلئے ہاوسنگ سکیم اپریل میں شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی زمین سے متعلق معلومات چھپانے کو ایک جرم قرار دیا جائیگا، قبضہ کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا جائے گا، پاکستان میں غریبوں کے پاس قرضہ لینے کا تصور موجود نہیں ہے، ایک مرتبہ اگر 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کا کام شروع ہوگیا تو ہر گزرتے سال کے ساتھ اس میں بہتری آئیگی، حکومت کچی آبادیوں کو ریگولرائز کرنے کےلئے کام کررہی ہے جس کےلئے بھارت اور ترکی کے ہاوسنگ سکیم ماڈلز کو اپنایا جائے گا ۔ پاکستان میں ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے ابھی حکومت کے پاس لوگوں کو قرضہ دینے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، اس کیلئے سٹیٹ بینک نئے قوانین بنانے کےلئے حکومت کی مدد کر رہا ہے ۔ گھروں کی تعمیر سے 40 صنعتیں جڑی ہوئی ہیں ، سرکاری محکموں میں بہت زمینیں ہیں ، ان زمینوں سے متعلق معلومات لیں ، سرکاری ادارے حکومت سے اپنی زمینیں چھپا رہے ہیں ۔ حکومت پر بھروسہ نہیں ہوتا لوگ اس وجہ سے ٹیکس نہیں دیتے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے کیونکہ جب تک دہشت گردوں اور ساتھ ساتھ کرپشن کے سہولت کاروں کو پابند سلاسل نہیں کیا جائے گا اس وقت تک مسائل جوں کے توں درپیش رہیں گے ۔ عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی داخلی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ملک کی اندرونی سلامتی صورتحال اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل در;200;مد میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا ۔ اجلاس میں ملک کی اندرونی سلامتی صورتحال اور نیشنل ایکشن پلان پر عمل در;200;مد میں پیشرفت کا جائزہ لیا گیا ۔ وزیراعظم کو مدارس اصلاحات کے حوالے سے بریفگ دی گئی جبکہ انتہاپسندی اور دہشت گردی کیخلاف ملک گیر اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا ۔ زیراعظم نے کہا کہ پاک سرزمین پر کسی عسکری گروپ کو کسی بھی قسم کی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد ہماری حکومت کی پہلی ترجیح ہے، نیشنل ایکشن پلان تمام سیاسی جماعتوں کا متفقہ پلان ہے ۔ حکومت نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرے گی ۔ پاکستان نے انتہا پسندی، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں گی ۔ اجلاس میں انسداد دہشت گردی کیلئے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان(این اے پی)پر عملدر;200;مد اور اداروں کے درمیان روابط ;200;سان بنانے کیلئے ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ دریں اثنا وزیراعظم عمران خان سے امریکی سرمایہ کاری وفد کیپٹل گروپ نے ملاقات کی ۔ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان میں دلچسپی لینے پر سرمایہ کاری وفد کا خیرمقدم کیا ۔ مزید برآں وزیر اعظم عمران خان سے رکن قومی اسمبلی جے پرکاش اکرانی نے ملاقات کی ۔ انہوں نے وزیر اعظم کو سندھ میں اقلیتوں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا اور سندھ میں حالیہ واقعات کے حوالے سے بتایا ۔ جے پرکاش نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے اقلیتوں کے تحفظ کیلئے قانون سازی کا یقین دلایا ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کا مکمل تحفظ کرے گی ۔ جہاں تک اقلیتوں کو تحفظ دینے کا مسئلہ ہے تو پاکستان نے صرف بیان بازی سے ہی نہیں بلکہ عمل سے بھی ثابت کرکے دکھایا ہے ۔ گزشتہ دنوں دو ہندو لڑکیوں کے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد شادی کی خبریں جب میڈیا پر آئیں تو وزیراعظم نے بذات خود اس کا نوٹس لیا اور وہ کیس ابھی چل رہا ہے، یقینی طورپر اس میں پاکستان انصاف فراہم کرے گا، جبکہ بھارت میں اس کے بالکل الٹ کام ہے ۔ وہاں پر مسلمانوں اور دیگر نچلی ذات کے ہندوءوں کا عرصہ حیات تنگ کرکے رکھا گیا ہے لیکن پاکستان میں مذہبی اعتبار سے مکمل آزادی حاصل ہے ۔

بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے

بلوچستان وہ علاقہ ہے جس پر باقاعدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے، معدنیات کے لحاظ سے زرخیز ہے، رقبے کے لحاظ سے وسیع تر ہے لیکن مسائل کے اعتبار سے وہاں ایک انبار لگا ہوا ہے جن کو ہر آنے والی حکومت حل کرنے کی خواہش رکھتی ہے مگر نامعلوم کیوں نہیں حل ہوتے ۔ جہاں دیگر صوبوں پر حکومت توجہ دیتی ہے وہاں بلوچستان میں بھی ترجیحی بنیادوں پر نہ صرف سہولیات فراہم کی جائیں بلکہ ان کے جائز حقوق بھی ان کو دئیے جانے چاہئیں ۔ گزشتہ روز چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کوءٹہ میں سدرن کمانڈ کے ہیڈکوارٹرز میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے اور صوبے کی حکومت اور عوام کو درخشاں مستقبل کیلئے بھرپور معاونت فراہم کرنا ہمارا فرض ہے ۔ کوءٹہ میں سدرن کمانڈ کے ہیڈکوارٹرز میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاک فوج نے اندرونی سیکورٹی خطرات کو کم کرنے اور سرحدوں پر موثر جوابی کارروائی میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ قوم دہشتگردی اور عسکریت پسندی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے کردار کو تسلیم کرتی ہے اور اس کی مکمل حمایت کرتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے عوام کی توقعات پر ہمیشہ پورا اتریں گے جو ہماری اصل طاقت ہیں ۔ اس سے پہلے فوج کے سربراہ کو صوبے کی سیکورٹی صورتحال، قومی لاءحہ عمل پر عملدرآمد، آپریش ردالفساد اور خوشحال بلوچستان پروگرام کے حصے کے طور پر شروع کئے گئے سماجی اور اقتصادی منصوبوں کے بارے میں بتایا گیا ۔ فوج کے سربراہ اطمینان کا اظہار کیا اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات مجموعی سلامتی کی صورتحال کو بہتر بنانے اور صوبے کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اضافے میں مدد کرینگے ۔

یتیموں کی کفالت ہمارا اخلاقی و مذہبی فریضہ

پوری دنیا میں اس وقت چھ ارب سے زائد لوگ بستے ہیں لیکن ان میں سے 15 کروڑ30 لاکھ سے زائد بچے یتیم ہیں ۔ پاکستان میں 45 لاکھ سے زائد بچے یتیم ہیں ۔ یہاں یتیم خانوں کی تعداد خاصی محدود ہے ۔ زیادہ تر سرکاری یتیم خانے ہیں جہاں یتیم بچے کسمپرسی کی حالت میں رہتے ہیں ۔ تاہم ہمارے ہاں نجی سطح پر این جی اوز، رفاہی فلاحی تنظی میں یا مخیر حضرات یتیم بچوں کی مالی امداد اور سرپرستی کرتے ہیں جو کہ ایک کارخیر ہے ۔ غریب یتیم بچوں کی کفالت کرنا بہت بڑی سعادت ہے ۔ ہر مسلمان کی اخلاقی اور دینی ذمہ داری ہے کہ وہ یتیم اور غریب بچوں کی کفالت کرے ۔ ایسے ادارے اور افراد نہایت خوش قسمت ہیں جو غریب یتیم بچوں کی کفالت کررہے ہیں ۔ ہمارے ہاں بہت سے نجی تنظی میں یتیم بچوں کی کفالت کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہیں ۔ لیکن ان میں صرف 35سے 40ہزار یتیم بچوں کی کفالت ممکن ہے جو کہ آٹے میں نمک کے برابرہے ۔ ہ میں ایمان ہے کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد انتہائی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ حقوق العباد کی معافی نہیں ہے ۔ یہاں یہ بات قابل قدر ہے کہ الخدمت فاوَنڈیشن نے پاکستان بھر میں ان تمام این جی اوز کو اکٹھا کیا جو یتیموں کےلئے کام کر رہی ہیں اور ایک فورم ’’پاکستان آرفن کئیر فورم ‘‘ تشکیل دیا جس میں 17ادارے شامل ہیں جو سب مل کر یتیم بچوں کی فلاح وبہبود کےلئے کام کررہے ہیں ۔ دنیا میں سب سے زیادہ محبت اور شفقت بھرا رشتہ صرف والدین کا ہی ہوتا ہے ۔ ان کی قدر تو ان سے پوچھیں جو اس نعمت سے محروم ہیں ۔ اسی لئے اسلام نے بھی یتیم کی کفالت اور پرورش کا بہت بڑا اجر رکھا ہے ۔ ایک مسلم معاشرے میں بھی یتیم بچوں کی پرورش اور کفالت کرنا کسی چیلنج سے کم نہیں ۔ چند صاحب حیثیت لوگوں نے اپنے طور پر یتیم بچوں کو گود لیا ہوا ہے لیکن زیادہ تر یتیم بچے سرکاری اور نجی طورپر بنائے گئے اداروں میں ہی پل رہے ہیں ۔ نجی اداروں میں ایدھی کی طرح الخدمت فاوَنڈیشن کا بھی ایک نام ہے ۔ ایس اے شمسی الخدمت فاوَنڈیشن میں مرکزی کوآرڈینیٹر ہیں ۔ چند روز قبل ان سے بات ہوئی تو الخدمت نے اس سال ملک بھرسے 10,300 یتیم بچوں کی کفالت کا تہیہ کیا ہے اورعوام کے تعاون سے بہت امید ہے کہ یہ ٹارگٹ پورا ہو جائےگا ۔ اس کے ساتھ ساتھ اپنے آٹھ ریجنز میں ایک پروگرام چلا رہی ہے ۔ ان آٹھ ریجنز میں چار صوبوں کے ساتھ ساتھ کراچی ، گلگت بلتستان، فاٹا اور آزاد جموں و کشمیر شامل ہیں ۔ یتیم بچوں کی کفالت اور تعلیم و تربیت کیلئے ;34;کفالت یتامیٰ پروگرام ;34;کا آغاز کیا ہے جس میں 7,200 یتیم بچوں کی کفالت کا کام شروع ہے ۔ اس پروگرام کے دو حصے ہیں جن میں ایک آرفن فیملی سپورٹ پروگرام ہے ۔ اس پروگرام کے تحت 6,500سے زائد یتیم بچوں کی کفالت ان کے گھروں میں کی جا رہی ہے ۔ آرفن فیملی سپورٹ پروگرام کے ذریعے فی بچہ 3,500 روپے ماہانہ یا 42,000 روپے سالانہ دے کر ایک یا زیادہ بچوں کی کفالت کی جا سکتی ہے ۔ اس میں بیوہ الاوَنس ، سکول فیس، تعلیم وتربیت اور غیر نصابی سرگرمیاں شامل ہیں ۔ پروگرام کا دوسرا حصہ آغوش ہومز پر مشتمل ہے جس میں 700 سے زائد یتیم بچے زیرکفالت ہیں ۔ یہ تنظیم یتیم بچوں کی مکمل ذہنی، فکری، ادبی اور اصلاحی تربیت کےساتھ ساتھ معیا ری خوراک، بہترین رہائش، لباس، تعلیم اوردوسری صحت مندانہ سرگرمیاں کےلئے دن رات کوشاں ہے ۔ لہٰذا اس صورتحال کے پیش نظر مختلف مقامات پر موسم کی مناسبت سے;34; آغوش ہومز ;34;بنائے ہیں ۔ جہاں ان بچوں کو ;34; آغوش ;34; میں لے کر ایک اچھا شہری بنانے کی مسلسل کوشش کی جا رہی ہے ۔ آغوش شیخوپورہ، اٹک ، راولپنڈی، پشاور، مانسہرہ، باغ اور راولاکوٹ شامل ہیں جبکہ مری، گجرانوالہ اور مٹھی سمیت دیگر شہروں میں منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں ۔ اس کے علاوہ لاہور شہر بھر میں 1431 یتیم بچوں کی کفالت کر رہی ہے جس میں ان کی تعلیم و تربیت ، کھانا ، رہائش اور صحت جیسی بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے اور یہ سب شہر کے مخیر اور معاشرے کے اہل خیر جذبہ ایثار رکھنے والے افراد کے تعاون سے ممکن ہو رہا ہے ۔ یہ تنظیم ہزاروں یتیم بچوں کی کفالت کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے ۔ خدمت کا یہ سفر جاری رہے گا ۔ بے سہارا اور غریب یتیم بچوں کی مدد دینی اور اخلاقی فرض سمجھ کر کرتے رہیں گے اور ہر فردکی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو دینی اور اخلاقی فرض سمجھ کر ادا کرے ۔ معاشرے اور سوساءٹی اسی صورت میں قائم اور آگے بڑھتے ہیں جب وہ مستحق لوگوں کی خدمت کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں اور عملاً کرتے ہیں ۔ معاشرے میں موجود یتیم اور مستحق بچوں کی کفالت بحیثیت مسلمان ہمارے اوپر فرض بھی ہے اور قرض بھی ۔ دونوں جہان میں اللہ اور رسول;248; کی خوشنودی و قربت حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ معاشرے میں محروم طبقات کی مدد کرنا ہے ۔ صرف تصور کریں کہ خدا نہ کرے کل ہمارے بچوں کے ساتھ ایسا ہو جائے تو کیا کیفیت ہو گی ۔ کون کرے گا ہمارے بچوں کی کفالت ۔ اس لئے آگے بڑھیں اور اس مشن کو اپنا مشن سمجھیں ۔ یتیم بچوں کا سہارا بننے والی تنظیموں کے ہاتھ مضبوط کریں ۔

ادائیگیوں کے توازن کا مشکل وقت ۔ قیادت پرمکمل بھروسہ

لمحہ موجود;39; پاکستان کےلئے ایک اہم وقت ہے سازگار لمحہ بھی ہے ہمارا ملک جو ناخوشگوار‘ مشکل اور پیچیدہ مالیاتی مراحل طے کرنے کے بعد اپنی معاشی ہیءت ِ قلبی کے عمل سے گزر کر قدم بہ قدم اپنی ترقی یافتہ منزل کو بس پہنچا ہی چاہتا ہے ایسا لمحہ پْرعزم ہے جو پاکستان کوابھرتی ہوئی معیشتوں کی صف میں کھڑاکرسکتا ہے حیران اور متعجب ہونے کی کیا ضرورت‘ کئی ترقی پذیر ایسی اقوام ہیں جو اُبھریں ، گریں اور اتھاہ گہرائیوں میں گرکر دوبارہ اُبھری ہیں ،فیصلہ کن قیادت کے مالیاتی فیصلوں کا جتنا تمسخر اُڑانا تھا ہم یہ سب نازبیا تماشا کرچکے لیکن کیا ہ میں ہم پاکستانیوں کو اس طرح سے سوچنے کا بھی کوئی حق نہیں یہی حقیقت نہیں ہے دنیا جسے اب ماننے لگی ہے عالمی مالیاتی اداروں میں یہ بحث ہورہی ہے کہ عالمی بنک نے پاکستان کو گزشتہ برسوں میں جو اربوں کھربوں کے ترقیاتی منصوبوں کےلئے قرضے دئیے تھے کیا وہ قرضے واقعی پاکستان میں انسانی فلاح وبہبود کے منصوبوں پر لگائے گئے یا اُن قرضوں کا بڑاحصہ ’کک بیکس‘ کی صورت میں پاکستان کے ماضی کے حکمرانوں کے غیر ملکی اکاونٹس میں منتقل ہواجبھی تو آج کی سنجیدہ ملکی قیادت سخت امتحان کی گھڑی میں کھڑی ہے پاکستانی قوم کے سامنے یہی سلگتے سوالات اُن کمروں کو دہراکئے جارہے ہیں کیا قوم ہاتھوں پر ہاتھ دہرکر کسی غیبی امداد کی منتظر ہوجائے جو ناممکن ہے تحریک انصاف کے قائد اورملکی وزیر اعظم عمران خان کے ان سوالوں کا جواب اُن کے سیاسی مخالفین کے پاس تو نہیں ہے اُ ن کے ذاتی مخالف میڈیا مینیجر اپنی ’معاندانہ پُرزورلہجوں ‘ میں عوام کے ذہنوں میں ڈھونس رہے ہیں مگر عوامی طبقات میں یہ رائے مضبوط ہے کہ قوم کی واضح اکثریت نے تحریک انصاف کی اعلیٰ حکومتی قیادت کے حالیہ کٹھن اور مشکل فیصلوں کو قبول کرکے قومی محنت کے نتاءج کے اور معاشی اصلاحات کے سنگ میل تک پہنچنے کا عزم و ارادہ کرلیاہے کئی معاشی چینلجز کے لڑکھڑاتے ہوئے پل عبورکرنے کے بعد عالمی معیشت کے میدان میں اقتصادی حرکیات کی بتدریج تبدیلی کوپاکستان میں عمیق اور تجزیاتی تحقیق کی نظر سے دیکھنے کے عمل کے بعد پتہ چلتا ہے کہ پاکستان اگر یونہی نئے سرے سے اپنے معاشی ترقی کے میدان میں محوسفر رہا تو پھر یہ کہنا بے جانہ نہ ہوگا کہ پاکستان عالمی معیشتی منظرنامہ میں اگلے دس پندرہ برسوں میں اپنا نمایاں اور اہم مقام بنانے میں ضرور کامیاب رہے گا، آج اگر پاکستان میں معاشی ترقی کے امتحانات درپیش ہیں توہم بحیثیت قوم یہ کیوں فراموش کردیں کہ’ہ میں ترقی کرنے کے مواقع کیا کبھی میسر نہیں آئیں گے;23839;عالمی بنک کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ گروپ ایم ایس سی آئی نے ایک حالیہ سروے میں ان ہی خطوط پر واضح نشاندہی کردی ہے کہ پاکستان میں چندبرس پیشتر ہر سال دو ملین سے زائد نوجوان روزگار کی منڈی میں داخل ہوتے ہیں یہ نمو معاشی ترقی کے لئے زبردست مواقع کی اہمیت رکھتی ہے لیکن اس کی وجہ سے چیلنجز اپنی جگہ ضرورآئیں گے، عالمی معیشت اتنی سست رفتار ہو تو نئے روزگار کے متلاشی لوگوں کو کہاں کھپایا جاسکتا ہے;238; ظاہر ہے اِس ابھرتے ہوئے ماحول میں پاکستان کو مزید نمو اور روزگار پیدا کرنے اور متحرک ابھرتی ہوئی معیشتوں کے گروپ میں شامل ہونے کےلئے اپنی مالیاتی پالیسیوں کی مضبوطی پر انحصار کرنا ہوگا یہاں سے تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے فیصلوں پر انحصار کرنا ہوگا جس کے حوصلہ افزاء اشارے عالمی مالیاتی کی جانب سے آرہے ہیں کوئی اورنہیں یہ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ اگلے 28 سالوں میں پاکستان کو 2 کروڑ ڈالر ٹراوَن کی معیشت کی بنیادوں پر لاکھڑا کیا جاسکتا ہے اگر ملک اپنے معاشی اصلاحات میں ثابت قدم رہتا ہے اور اس کی آبادی کی شرح میں 1;46;2 تک کم کرنے کا تشفی انتظام ہوجاتا ہے ورلڈ بینک کے ڈائریکٹرکاماننا ہے کہ ;34;مسلسل اصلاحات کے ساتھ پاکستان اگلے 28 سالوں میں 100 سے ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی معیشت بن کر عالمی مالیاتی صفوں میں اپنا منفرد مقام بنالے گا اس نکتہ نظر سے پاکستان کی معاشی ترقی کے گراف کی جانچ پڑتال کرنے والوں کی اس ٹھوس دلیل سے مفر نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان دنیا کی چھٹی بڑی آبادی والا ملک ہے ،جہاں 20;245;35 سال عمر رکھنے والے افراد 60 فی صد سے زیادہ ہیں اس پر غوروخوض کیئے بناء فی کس آمدنی کے اعداد وشمار کے صحیح اندازے سامنے نہیں آسکتے ساتھ ہی یہ نکتہ بھی یکسر نہیں بھلایا جاسکتا کہ پاکستان ترقی پذیر ملک ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور پاکستان فی الحال اقتصادی لبرلائزیشن کے عمل سے بھی گزر رہا ہے ،جس میں نجکاری بھی شامل ہے جس کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی طرف متوجہ کرنا بجٹ کے خسارہ کو یوں کم بھی کیا جاسکتا ہے’چین پاکستان اقتصادی کوریڈور‘ ایک بہت اہم معیشتی ترقی کا سنہری موقع پاکستان کے پاس ہے یہ منصوبہ $ 62 بلین ڈالرکا ہے سعودی عرب نے اسی منصوبے میں 20 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کی جس کے تمام تر امیدافزاء اشارے پاکستانی اقتصادی استحکام کی طرف بڑھتے نظر آرہے ہیں دیگر ممالک میں اگر چین اور بھارت کی شرح فی صد کی ترقی کو دیکھیں توہ میں علم ہوگا کہ چین اور بھارت7;245;6 فیصد کی شرح سے ترقی ہورہی ہے جبکہ برازیل اور روس میں شدید کساد بازاری کی ایک مدت کے بعد وہاں بہترین علامات دکھائی دے رہی ہیں اشیاء خصوصا تیل کی کم قیمتوں نے اشیاء کے برآمد کنندہ ممالک پر شدید ضرب لگائی ہے اور مشرق وسطی کے ممالک جاری تنازعات اور دہشت گردی سے مسلسل نبردآزما ہیں ایسی صورتحال میں ہم کیوں نہ تسلیم کریں کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں اپنے ہاں بھی عبوری تبدیلی سے گذر رہی ہیں یہ وہ تبدیلیاں ہیں جو چیلنجز پیدا کررہی ہیں لیکن مواقعوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا ان میں سے دو ممالک میں سے ایک کا تعلق خاص طورپر پاکستان سے بنتا ہے زیرنظر کالم کے اعداد وشمار اور پاکستان کی معاشی پیش بندیوں کے اشارے ہم نے عالمی بنک کی جاری کردہ جامع رپورٹ کی مدد سے پیش کیئے ہیں عالمی بینک نے پاکستان کے اقتصادی مستقبل کے بارے میں ڈیڑھ برس قبل ایک جامع رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو اپنے قیام کی سوویں سالگرہ تک یعنی آئندہ28 سال میں اوپر کی سطح کے متوسط آمدنی والے خوشحال ملکوں میں شامل ہونے کے لئے ابھی مزید سخت فیصلے کرنا ہوں گے، یاد رہے کہ عالمی بنک کی یہ رپورٹ پاکستان کے لئے ایک معاشی روڈ میپ ہے ‘جو اسلام آباد میں ہونے والی انسانی سرمایہ کاری کانفرنس میں جاری کی گئی تھی اس میں کئی مفید اور قابل عمل مشورے شامل ہیں جن پر عمل کرکے پاکستان نہ صرف موجودہ مالی بحران پر قابو پا سکتا ہے، بلکہ ایک قابل لحاظ اقتصادی قوت بھی بن سکتا ہے رپورٹ میں اعداد وشماردے کر بتایا گیا ہے کہ اپنے قیام کے ابتدائی تیس برسوں میں پاکستان میں ترقی کی رفتار موجودہ سست اور غیر متوازن رفتار سے کہیں زیادہ تھی لوگوں کا معیار زندگی بلند ہو رہا تھا مگر بعد کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے دستیاب وسائل کا موثر استعمال نہیں کیا گیا اور بہانہ بازی کی پالیسیاں چلتی رہیں اور اس وقت کے کمزور اور کرپٹ ریونیو نظام کی وجہ سے ملک کے نا اہل معاشی مینیجرز معاشی ضروریات پوری کرنے کے قابل نہ ہوسکے عالمی بینک کی رائے میں بتایا گیا ہے کہ آئندہ عشرے میں کئے جانے والے مالیاتی پالیسی فیصلے پاکستان کے اقتصادی مستقبل کا فیصلہ کریں گے بینک کی سفارشات 8نکاتی ایجنڈے پر مبنی ہیں جس کے مطابق خوشحال ملک بننے کےلئے پاکستان کو پہلے مرحلے میں آبادی پر کنٹرول کرنا، ٹیکس اصلاحات لانا اور تعلیم و صحت کا بجٹ بڑھانا ہوگا آبادی میں اضافے کی موجودہ شرح 2;46;4فیصد سے کم کرکے2047تک اسے 1;46;2 فیصد تک لانا ہوگا ٹیکس ریونیو کی شرح جی ڈی پی کے 13فیصد سے بڑھا کر 20فیصد کرنا ہوگی علاقائی تجارت کا حجم ساڑھے 18ارب سے بڑھا کر 58ارب ڈالر تک پہنچانا ہوگا کاروبار میں آسانیوں کے حوالے سے اس وقت پاکستان دنیا کے ملکوں میں 136ویں نمبر پر ہے ملک کو50ویں نمبر تک لانا ہوگا پاکستان کے معاشی بحران کی بڑی وجہ ڈھانچہ جاتی چیلنجز ہیں ترقیاتی اخراجات کےلئے بیرونی قرضوں ، غیر ملکی امداد اور ترسیلات زر پر انحصار کیا گیا ہے زرعی شعبے کا ملکی جی ڈی پی میں حصہ 20فیصد ہے عالمی بینک نے تجویز دی ہے کہ موجودہ صورت حال پر قابو پانے کےلئے کاروباری ماحول بہتر بنایا جائے وفاقی اور صوبائی سطح پر شفافیت کو یقینی بنائی جائے علاقائی روابط بڑھانے کےلئے سی پیک میں توسیع کی جائے شفافیت اور احتساب کے متواتر عمل سے گورننس اور اداروں کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو گا اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جائے، یہ سب ممکن کیوں نہیں ہوسکتاعوام نے اپنے آپ کو قومی یکجہتی کے ترقی پذیر اس دھارے میں یونہی منسلک کئے رکھا اور دہشت گردی کے خلاف اپنی افواج کے ہم قدم رہے مذ ہبی فرقہ ورانہ تعصبات کےخلاف سینہ سپر رہے تو پھرکوئی وجہ نہیں ہے کہ ابھرتی ہوئی علاقائی معیشتوں میں پاکستان شامل ہونے سے پیچھے رہ جائے ہے ’ہمت ِ مرداں مدد ِ خدا‘ ۔

پالیسیاں ، مہنگائی اور عوام

حکمران حکومت میں آنے سے پہلے دعویٰ کرتے تھے کہ وہ مہنگائی کے طوفان کو روک کر عوام کو محتاجی کی زندگی سے نکالیں گے ۔ آج جب عنان اقتدار پر براجمان ہیں تو ہر روز مہنگائی کا ایک زینہ اوپرکی طرف طے ہوتا ہے ۔ عوام مہنگائی کے سبب زیر زمین جانے کی سوچتے ہیں ۔ ڈالر بے لگام ہو رہا ہے ۔ آئے روز ڈالر کی قیمت میں اضافہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں کمی ہوتی جا رہی ہے ۔ جس سے سونا مہنگا ہوتا جا رہا ہے اور دیگر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا جا تا ہے ۔ حکومت کیلئے سونا مہنگا ہونا تو نیک شگون ہے کیونکہ حکومت کے پاس سٹیٹ بینک میں محفوظ سونے کی قیمت میں اضافہ ہونے سے حکومتی ریزرو ز میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ حکمران پارٹی غیر پیداواری اخراجات میں کمی کے وعدے کو سو فیصد کرنے میں کیوں دلچسپی نہیں لے رہی ۔ وزراء کی تعداد میں کمی کی بجائے اس میں اضافے کی نوید سنائی جاتی ہے ۔ وزراء کے ساتھ مشیروں کی فوج ظفر موج ہے ۔ عنان حکومت چلانے کیلئے وزرا ء کی ضرورت اپنی جگہ لیکن براہ راست وفاقی اور صوبائی سیکرٹری بھی حکومت کی پالیسیوں کا اطلاق کرا سکتے ہیں ۔ کمشنر وغیرہ بھی اس سلسلے میں اہم کردار ادا کرتے رہے اور کر سکتے ہیں ۔ وزرا ء کیلئے آفس اور دیگر سٹاف کو کم کر کے یہی کام سیکرٹری اور کمشنر سے لیا جا سکتا ہے جو حکومت کے اعلیٰ ترین عہدیدار ہیں ۔ ان کو تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں تو ان قابل دماغوں کو استعمال بھی کیا جائے ۔ اگر کوئی عہدیدار مطلوبہ نتاءج نہیں دے رہا تو اسے تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔ ہر آنے والی حکومت کے وزراء کی اپنی سوچ اور ان کا اپنا طریقہ عمل ہوتا ہے ۔ ایسے میں اصل کا م کاغذی کارروائی میں غرق ہو جاتا ہے ۔ حکومت بدلنے سے پالیسی بد ل جاتی ہے اور کوئی بھی منصوبہ درمیان میں رہ جاتا ہے ۔ جبکہ بیورکریسی کو ہر حال میں اپنی مدت ملازمت پورا کرنا ہوتی ہے اوروہ لمبا عرصہ تک خدمات سر انجام دے سکتے ہیں ۔ ہر سیاسی حکومت کی سیاسی مجبوریاں بے شمارہوتی ہیں ۔ وہ کئی وجوہ کی بنا پر بہت ہی قومی نوعیت کے پروگرام بھی تعطل میں رکھنے پر مجبور ہو تی ہے ۔ اس کی مثال ڈیموں کی تعمیر سے ہی لی جا سکتی ہے ۔ سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے ایک اہم ترین قومی ضرورت پر سیاسی دباءو یا سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے عملدرآمد نہیں ہو پارہا ۔ کا لا باغ ڈیم پر کتنا قومی سرمایہ خرچ ہو چکا تھا اس کی فزیبلٹی بنا نے اور اس کی ابتدائی تعمیر کیلئے کالونی کی تعمیر اور مشینری منگوائی گئی ۔ جو زنگ آلود ہو کر اور استعمال نہ ہو کر اب بالکل ہی ناقابل استعمال ہو چکی ہے ۔ یہ قومی سرمایہ تھا اور اس کیلئے بین الا اقوامی قرضے لے کر قوم کو مقروض کیا گیا ۔ آج بھی شاید اس قرضہ کی قسط عوام اپنے خون پسینے سے اداکرنے پر مجبور ہوں ۔ سیاسی ایشو بن جانے کی وجہ سے آج قوم پانی کے مسئلہ پر بری طرح پریشان ہے ۔ سیاسی حضرات کو اپنی ذات کی فکر ہے کسی کی ضمانت نہیں ہو رہی تو کسی کو ای سی ایل سے نام نکلوا کر باہر جانے کی جلدی ہے تو کسی کو خدشہ ہے کہ کہیں عدلیہ اسے منی لانڈرنگ کیس میں ہاتھ نہ ڈال لے ۔ انہیں پانی کے مسئلہ کی کوئی فکر نہیں ۔ انہیں مہنگائی سے کوئی سروکار نہیں ۔ کیونکہ یہ منرل واٹر پیتے ہیں اور ان کے محلوں میں پانی کے وسیع ذخائر کیلئے ہر طرح کی سہولت مہیا کی گئی ہے ۔ انہوں نے علاج بیرون ملک سے کرانا ہوتا ہے اور ان کی شاپنگ بھی بیرون ملک ہے ۔ ان سیاسی قائدین کے پاس اتنا وقت تو نہیں ہوتا کہ وہ سبزی منڈی میں آلو ٹماٹر اور سبزی کا بھاءو تاءو کرتے پھریں ۔ انہیں معلوم ہی نہیں ہوتا کہ عام آدمی کی ضرورت کیا ہے کیونکہ نہ وہ عام آدمی ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں عام آدمی کے احساسات اور ضروریات سے کوئی راہ ہوتی ہے ۔ سیاسی لوگ کوئی کوھڑ مخز نہیں ہوتے بلکہ انتہائی تیز ذہن کے مالک ہوتے ہیں ۔ وہ جوڑ تو ڑ منانے اور ماننے میں ماہر ہوتے ہیں ۔ جیسے جیسے وہ ذمہ داریوں سے متعارف ہوتے جاتے ہیں تو انہیں ان کی ادائیگی میں ملکہ حاصل ہوتا جاتا ہے ۔ البتہ آخری دم تک کوئی بھی سیاستدان خود سے یہ نہیں سمجھ سکتا کہ ریلوے کے انجن اور ٹریک ٹریفک کنڑول کیسے ہوتا ہے ۔ اس کی باریکیاں انہیں ریلوے کے متعلقہ لوگ ہی بتاتے ہیں اور انہی کے مشورے سے وہ ہر روز نیا ٹریک چلانے اور ایک ٹرین کی فالتو بوگیاں نکال کر دوسرے میں لگانے کے ماہربن جاتے ہیں ۔ اسی طرح وزارت دفاع ہو یا ٹیلی کام یا تیل و گیس کی وزارت ہو ان کیلئے باقاعدہ ٹیکنیکل علم کی ضرورت ہے ۔ انہیں کوئی بھی عام آدمی نہیں سمجھتا اور نہ سمجھ سکتا ہے جب تک کہ متعلقہ عملہ اس کی بریفنگ اور اس سے متعلق ٹیکنیکل معاونت نہ کرے ۔ جب سٹاف نے ٹیکنیکل بریفنگ اور معاونت ایک لاعلم شخص کو کرنی ہے اور اس نے صرف ہاں یا نہ بھی اسی ٹیکنیکل بریفنگ کے سر پرکرنا ہے تو کیا ضروری ہے کہ لاعلم شخص پر وقت اور سرمایہ ضائع کیا جائے ۔ اس کی بجائے ٹیکنیکل بندے کو یہ ذمہ دار اور مختار بنایا جائے تاکہ وہ بہتر فیصلہ کر سکے ۔ وزارت کی مسند پر بیٹھنے والے موجودہ تمام اکابرین کو ملکی حالات کو سمجھنے کیلئے ٹائم درکار ہے ۔ جب تک وہ اس کا م میں مہارت حاصل کر پائیں گے اتنے میں ان کا دور اقتدار کا وقت مقررہ ختم ہونے کے قریب ہو گا ۔ اگلے انتخابات میں وہ منتخب ہو تے ہیں یا نہیں یا قسمت یا نصیب ۔ ہماری سیاست میں اس کی بہت سی امثال موجود ہیں ۔ بیوروکریسی کو کام کرنے میں مختار کیا جائے لیکن ان پر احتساب اور اختیارات کے ناجائز استعمال اور اپنے اختیار سے باہر ہونے پر کڑا احتسابی قانون بھی تیار کیا جائے ۔ اپنے اختیار سے باہر ہوتے ہی قانون اس کو اپنے شکنجے میں لینے کیلئے تیار ہو ۔ کسی کو غلط الزام یا کسی پر غلط دباءو کیلئے ایسا ہی قانون ہونا چاہیے کہ کوئی بھی مختار شخصیت کسی بھی سرکاری ملازم کو سرکاری املاک اختیار کے غلط استعمال پر مجبور نہ کر سکے ۔ ہمارے ہاں روایت بن چکی ہے کہ ایک فیصلہ حق میں آتا تو دوسرا مخالف آ جاتا ہے ۔ سمجھ نہیں آتی کہ پہلے والا غلط ہے یا موجودہ صحیح ہے ۔ جب پچھلے فیصلہ دے گئے کہ بندہ مجرم ہے تو آج وہ کیسے ملزم ہو گیا ۔ غلط فیصلہ دینے والے کو غلط فیصلہ کے نتاءج بھگتنا چاہئیں ۔ ایک بے گناہ کو سزا دینے والے عادل نہیں اور اسے عدلیہ کی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں ۔ اگر بے گناہ قید بھگت سکتے ہیں تو ان گناہ گاروں پر بھی گرفت ہونی چاہیے تاکہ وہ سوتے ہوئے یا کرسی کی طاقت میں فرعونیت کے فیصلے نہ دے پائیں ۔ پیپلز پارٹی روٹی کپڑا مکان کے نعرہ سے کئی دفعہ اقتدار میں آئی لیکن عوام اس سے محروم ہی رہے ۔ مسلم لیگ ایشین ٹائیگرجیسے وعدوں کے ساتھ تین دہائیوں سے حکمران رہی لیکن عوام محروم رہے ۔

ایشیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ دریافت(2)

گزشتہ سے پیوستہ

تو اللہ تعالیٰ اپنی مستقل سنت کہ لوگ اللہ کے احکامات کے مطابق مانگیں تو اللہ ضرور مدد کرتا ہے ۔ جب برصغیر کے مسلمانوں نے لا الہ الا اللہ کا نعرہ لگایا تو اللہ نے ہندوءوں اور انگریزوں کی شدید مخالفت کے باجود مثل مدینہ ریاست تشتری میں رکھ کر مسلماناں ِبرصغیر کو پیش کر دی ۔ قائد اعظم ;231;نے توپاکستان بننے کے بعد اپنے اللہ سے وعدے کے مطابق نو مسلم اسکالر علامہ اسد ;231; کو اسلامی نظام حیات پر قانون سازی پر لگا یا تھا ۔ قائد اعظم کو اللہ نے جلد ہی اپنے پاس بلالیا ۔ پھر حکومت میں موجود کیمونسٹ ، قادیانی اور سیکولر لابی نے علامہ اسد;231; کو اس کام سے ہٹاکر بیرون ملک سفیر بنا دیا ۔ جب حکمرانوں نے اللہ کے ساتھ کیے گئے وعدے کی خلاف وردی کی تو اللہ نے بھی انہیں بلا دیا ۔ ۶۵۹۱ء کا اسلامی آئین منظور ہوا تو ڈکٹیٹر ایوب خان نے اس منسوخ کر کے پاکستان میں پہلا مارشل لا لگا دیا ۔ جب عوام نے اسے اقتدار سے ہٹایا تو دوسرے ڈکٹیٹر شرابی یخییٰ خان کو اقتدار دے گیا ۔ اس کے دور میں ہی بھارت نے قائد اعظم;231; کے دو قومی نظریہ والے پاکستان کو بنگلہ قومیت کے پرچارک دشمن ِپاکستان شیخ مجیب کے ساتھ مل کر مشرقی پاکستان کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کر کے قوم پرست بنگلہ دیش بنا دیا ۔ اس سارے عرصہ میں اسلام دشمنوں لابی نے پاکستان کا اسلامی آئین نہیں بننے دیا ۔ قائد اعظم;231; کے وژن کے اصلی جانشین پاکستان کے علما ، جس کا ہراول دستہ جماعت اسلامی ہے، نے اپنی کوششیں جاری رکھیں ۔ جد وجہد کر کے پہلے قرارداد پاکستان کو آئین کا مستقل حصہ بنایا ۔ پھر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں ۳۷۹۱ء کا اسلامی آئین بنا ۔ مگر اس کے باوجودروشن خیال بھٹو صاحب نے قائد اعظم;231;کے اسلامی وژن سے بغاوت کی روش اختیار کی ۔ پاکستان کو مدینہ کی فلاحی ریاست کیا بناتا، اسلام میں پیوند لگاتے ہوئے اسلامی سوشلزم کے تحت ملک کے پانچ سال ضائع کیے ۔ اب بھی پیپلز پارٹی اپنے روشن خیال ایجنڈے پر قائم ہے ۔ ضیا الحق ڈکٹیٹر خود تو اسلام پسند تھا ۔ کچھ محکموں کو اسلامی رنگ میں بھی رنگا ۔ مگر جب تک اس کام کے لیے پوری ٹیم نہ ہوایک آدمی کے مخلص ہونے سے مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست قائم نہیں ہو سکتی ۔ نون لیگ کو بھی اللہ نے تین دفعہ وقت دیا ۔ اس نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے جو کرپشن کی ہے اس سے واپس لے کر پاکستان کے خزانے میں داخل کروں گا ۔ نواز شریف مدینہ کی فلاحی ریاست کیا قائم کرتا الٹا قائد اعظم;231; کے نظریہ پاکستان اور دو قومی نظریہ کی کھلم کھلا مخالفت شروع کر دی ۔ بھارت مشرقی پاکستان کی طرح پاکستان کے دس ٹکڑے کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ۔ نواز شریف امریکی کی پرانی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ ٓالو پیاز کی تجارت کی کرتا رہا ۔ پورے دور میں ملک کی مسلح افواج سے لڑتا رہا ۔ اب بھی اپنے رویہ پر پشیمان نہیں ۔ ملک کی عدالت سے کرپشن میں سزا ملنے اور قید کے باجود، کہتا کہ میں ایک پائی کی کرپشن نہیں کی ۔ دل کی بیماری کی وجہ سے عدالت نے علاج تک ضمانت منظور کی ۔ پیپلز پارٹی اور نون لیگ نے مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست کے ساتھ غداری کی اور کرپشن میں نام پیدا کیا ۔ ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے پاکستان میں مارشل لا لگا کر نواز شریف کی منتخب حکومت کو ختم کیا ۔ پیپلز پارٹی کی طرح ملک کو روشن خیالی کے ایجنڈے پر لگا دیا ۔ ڈکٹیٹر مشرف نے پاکستان کے ساتھ سب سے بڑی دشمنی کی کہ امریکا کے ساتھ مل کر پاکستان کو دوسروں کی جنگ میں ملوث کر دیا ۔ پاکستان کے دشمنوں کے مطابق پاکستانی فوج کو کرایا کی فوج بنا دیا ۔ اس کے دور میں مغربی ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں نے ملک میں دہشت گردی کو عام کیا ۔ بلیک واٹر اور ٹی ٹی پی نے ملک کی اینٹ اینٹ بجا دی ۔ مشرف ڈکٹیٹر نے بھی ملک کو اسلام سے دور لے جانے کی کوشش کی ۔ بے نظیر صاحبہ کی شہادت کے بعد آصف علی زرداری صاحب کو حادثاتی پر حکومت ملی ۔ وہ بھی پیپلز پارٹی کے روشن خیال ایجنڈے پر چلتے رہے ۔ پھراس کے بعد پی ٹی آئی میدان میں آئی ۔ عمران خان نے کہا کہ دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی باریاں بانٹی ہوئی ہیں ۔ یہ دونوں پارٹیاں کرپشن میں غرق ہیں ۔ میں غریب عوام کی لوٹی ہوئی دولت واپس غریب عوام کے خزانے میں داخل کروں گا ۔ میں علامہ اقبال ;231; کے خواب اور قائد اعظم;231; کے وژن کے مطابق پاکستان کو مدینہ کی فلاحی اسلامی ریاست بناءوں گا ۔ عوام نے عمران خان کو موقعہ دیا ۔ اب عمران ملکِ پاکستان پر حکومت کر رہا ہے ۔ جب قائد اعظم;231; نے اللہ سے مدینہ کی فلاحی ریاست قائم کرنے کےلئے ایک خطہ زمین مانگا تھاتو اللہ نے مثل مدینہ اسلامی ریاست تشتری میں رکھ کر پیش کر دی تھی ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جلد انہیں اپنے پاس بلالیا ۔ قائد اعظم ;231; تو یقیناً ا للہ سے اِس کا اَجر پائیں گے ۔ مگر ان کی مسلم لیگ کے کھوٹے سکوں نے قائد اعظم ;231; کے ساتھ اور اپنے اللہ کے ساتھ بے وفائی کی اور ملک میں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست قائم نہیں کی ۔ اب عمران خان نے بھی پاکستان کے کرڑوں عوام کے سامنے پاکستان کو مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست بنانے کا وعدہ کیا ہوا ہے ۔ کچھ وعدے پورے کرنے شروع بھی کیے ہیں ۔ کرپشن میں ایک پارٹی کا سربراہ قید کاٹ رہا ہے ۔ دوسری پارٹی کے سربراہ پر شکنجہ سخت ہو رہا ہے ۔ ۶۳۴ آف شور کمپنیوں والوں کامقدمہ سپریم کورٹ میں لگا ہوا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے زور دیا ہے کہ صرف ایک کو سزا ہوئی ہے ۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ باقیوں کے مقدموں پر پیش رفت شروع کی جائے ۔ شاید اللہ نے اپنی مستقل سنت پر عمل کرتے ہوئے کراچی سے سمندرکے دو سو میل کے فاصلے پر ایشیا کے سب سے بڑے تیل کے خزانے عمران خان کے حوالے کر دیے ہیں ۔ اللہ کرے عمران خان مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کی طرف اپنی رفتار کو تیز تر کرے اور اللہ کے خزانوں سے پاکستان کے عوام مستفید ہوں ۔ عمران خان صاحب،آپ نے مدنیہ کی اسلامی ریاست اور کرپشن سے پاک ریاست کا وعدہ پاکستان کے عوام اور اپنے اللہ سے کر رکھا ہے ۔ آپ کو چاہیے اپنی کابینہ کی اسلامی خطوط پر تربیت کریں جو اسلام سے مخلص نہیں ان کو فارغ کریں ۔ پھر اللہ کی رحمت پاکستان پر نازل ہو گی ۔ اللہ تعالیٰ کی مستقل سنت ہے کہ اگر بستیوں کے لوگ اللہ کے احکامات پر عمل کرتے تو اللہ آسمان سے رزق نازک کرتا اور زمین اپنے خزانے اُگل دیتی ہے ۔ اللہ ہ میں وہ دن ضرور دکھائے ۔ آمین

چینی نائب صدر کا کامیاب دورہ پاکستان

چین کے نائب صدر وانگ کشان اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ تین روزہ دورے پر پاکستان پہنچے جہاں ائیر پورٹ پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیر منصوبہ بندی خسرو بختیار نے ان کا استقبال کیا ۔ وانگ کشان نے اسلام ;200;باد میں فرینڈز ;200;ف سلک روڈ سیمینار میں بھی شرکت کی جس کے بعد وہ ایوان صدر گئے جہاں پر ان کو پاکستان کا سب سے بڑا سول اعزاز دینے کی تقریب ہوئی، صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے چینی نائب صدر کو پاکستان کے سب سے بڑے سول اعزاز’’نشان پاکستان‘‘ سے نوازا ۔ بعد ازاں چین کے نائب صدر ایوان وزیراعظم پہنچے جہاں وزیراعظم نے معزز مہمان کا استقبال کیا ۔ دونوں رہنماءوں کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی جس کے بعد پاکستان اور چین کے درمیان مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کرنے کی تقریب منعقد کی گئی ۔ پاکستان اور چین نے معاشی، تکنیکی امور اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تعاون کے ایم او یوز پر دستخط کیے ۔ پاکستان اور چین کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات میں وزیر اعظم عمران خان نے پاکستانی وفد اور چینی نائب صدر وانگ چی شن نے چینی وفد کی قیادت کی ۔ حکومت کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ دونوں رہنماءوں نے دو طرفہ تعلقات کے امور، علاقائی صورتحال سمیت جنوبی ایشیا میں حالیہ واقعات پر تبادلہ خیال کیا اور تمام شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا ۔ اعلامیے کے مطابق اسٹریٹیجک تعاون اور شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے عزم کا بھی اعادہ کیا گیا ۔ اس موقع پر وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین کا روڈ اینڈ بیلٹ منصوبہ قابل تحسین ہے، بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ پائیدار ترقی اور خطے کے درمیان رابطوں کیلئے انتہائی موثر ہے ۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے لیے پرعزم ہیں ، اقتصادی راہداری سے زراعت، صنعتی، سماجی و معاشی ترقی کو فروغ ملے گا ۔ چینی نائب صدر وانگ چی شن کا گرمجوش استقبال اور میزبانی پر وزیر اعظم سے اظہار تشکر کیا اور پاک چین دو طرفہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ چینی نائب صدر کا کہنا تھا کہ معاشی ترقی اور سماجی بہبود کےلئے پرعزم ہیں ۔ چینی نائب صدر نے ہمسایہ ملکوں سے تعاون اور امن کے لیے پاکستان کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کامیابی قابل تحسین ہے ۔ چینی نائب صدر کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور یہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب خطے میں امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ ایک نئی جنگ کی تیاری کی جارہی ہے اور پاکستان بھی اندرونی معاشی دباءو کا شکار ہے، یہی وجہ ہے کہ چینی نائب صدر کا دورہ پاکستان کی سماجی و اقتصادی حالت بہتر بنانے کیلئے بھرپور حمایت کے پس منظر میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ چینی نائب صدر خارجہ امور کے پس منظر میں چینی صدر اور وزیراعظم کے بعد قائدانہ شخصیت کے حامل ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ چینی نائب صدر کے دورہ پاکستان سے چینی سفارتکاری میں پاکستان کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے اور اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ چین اپنی خارجہ پالیسی میں پاکستان کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ۔ پاک چین دوستی ہر آزمائش پر پوری اترتی آئی ہے اور دونوں ممالک کی قیادت ہمیشہ سے اس دوستی کو مزید بلندی پر لے جانے کے عزم کا اظہار کرتی آئی ہے اور کررہی ہے جس کا واضح ثبوت سی پیک کی شکل میں موجود ہے، سی پیک چین کیلئے جہاں اہم ہے وہیں پاکستان کیلئے بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے، سی پیک سے نہ صرف ملک میں بھاری سرمایہ کاری آرہی ہے بلکہ پاکستان میں نئے اقتصادی زونز اور صنعتیں قائم کی جارہی ہیں ان صنعتوں سے پاکستان کی برآمدات میں اضافہ ہوگا جس سے پاکستان کی معاشی صورتحال انتہائی بہتر ہونے کی امید ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دشمن ممالک کو سی پیک ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ ہروقت سی پیک کو سبوتاژ کرنے کیلئے سازشوں میں مصروف رہتے ہیں مگر پاک چین قیادت ان سازشوں کا ڈٹ کر نہ صرف مقابلہ کررہی ہے بلکہ ہر روز پہلے سے زیادہ عزم کے ساتھ سی پیک پر کام کیا جارہا ہے اور اس منصوبے کو وسعت دی جارہی ہے ۔ چونکہ پاکستان واحد اسلامی ریاست ہے جو ایٹمی طاقت کے ساتھ بھرپور جنگی صلاحیت رکھتی ہے جوکہ دشمنان پاکستان کو کھٹکتی رہتی ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت پاکستان کی امن خواہش کے باوجود پاکستان کیخلاف ہر وقت سازش میں مصروف رہتا ہے اور سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے پاکستان میں دہشت گردی جیسے گھناءونے کھیل کھیل رہا ہے جس کی واضح مثال کلبھوشن یادیو ہے جوکہ ایک بھارتی جاسوس ہے اور پاکستان میں گرفتار ہے ۔ امریکہ کو بھی سی پیک ایک آنکھ نہیں بھاتا اور وہ اس منصوبے کی کھل کر مخالفت کرتا ہے، اب چونکہ بھارت اور امریکہ کا آج کل گٹھ جوڑ چل رہا ہے جس میں بھارت اسرائیل دوستی کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ایسی صورتحال میں امریکہ کی خلیج فارس میں موجودگی بھی کئی خدشات کو ظاہر کرتی ہے کہ کہیں امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے بہانے سی پیک کو ناکام بنانے کیلئے تو خطے میں موجود نہیں اور امریکہ بھارت گٹھ جوڑ سی پیک کے تناظر میں کوئی نئی سازش نہ تیار کررہا ہو ایسی صورتحال میں چینی نائب صدر کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ پاکستان کو دونوں آنکھیں کھلی رکھنی ہوں گی اور ملک دشمنوں کی ہر سازش کوناکام بنانا ہوگا جس کیلئے سفارتکاری بہترین ہتھیار ہے، پاکستان کو اپنی فوجی صلاحیت بڑھانے کے ساتھ ساتھ سفارتکاری پر بھی بھرپور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

فوجی چیک پوسٹ پر حملہ خالصتاً ملک دشمنی ہے

شمالی وزیرستان میں بویا سکیورٹی چیک پوسٹ پر ایک گروہ نے محسن جاوید داوڑ اور علی وزیر کی قیادت میں حملہ کردیا، جس کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوگئے ۔ آئی ایس پی آر کے جاری بیان کے مطابق خرقمر چیک پوسٹ پر حملے کا مقصد گزشتہ روز گرفتار کیے جانے والے مبینہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو چھڑوانے کے لیے دباءو ڈالنا تھا ۔ چیک پوسٹ میں موجود اہلکاروں پر براہ راست فائرنگ کی گئی جس پر اہلکاروں نے تحفظ کے لیے جواب دیا ۔ جوابی کارروائی میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 10 زخمی ہوئے ۔ واقعے کے بعد علی وزیر سمیت 8 افراد کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ محسن جاوید داوڑ ہجوم کی آڑ میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ۔ ممبران قومی اسمبلی کی جانب سے فوجی چیک پوسٹ پر حملہ انتہائی تشویشناک اور ملک دشمنی ہے، اگر علی وزیر اور محسن داوڑ کو کچھ شکایات تھیں تو وہ فوج کے سامنے اپنے مطالبات رکھ سکتے تھے، اگر بٹالین ہیڈ کوارٹر میں مسئلہ حل نہ ہوتا تو ڈویژن ہیڈ کوارٹر میں شکایت درج کراسکتے تھے اگر وہاں بھی ان کے مطالبات پورے نہ ہوتے تو آرمی چیف کے سامنے بھی مطالبات رکھے جاسکتے تھے اگر پھر بھی مسئلہ حل نہ ہوتا تو وزیراعظم عمران خان والا آپشن موجود تھا اگر یہاں بھی شنوائی نہ ہوتی تو پارلیمنٹ میں اپنی آواز بلند کرسکتے تھے غرض علی وزیر اور محسن داوڑ کے پاس بہت سے ایسے در تھے جن کے ذریعے وہ اپنے مسائل حل کراسکتے تھے یا پھر اپنی آواز بلند کر سکتے تھے مگر یوں ایک شرپسند جتھے کے ساتھ سادہ لوح قبائلیوں کو گمراہ کرکے اپنے ساتھ ملا کر فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرنا خالصتاً ظاہر کرتا ہے کہ یہ ملک دشمنی ہے کیونکہ پیارے وطن کی حفاظت کیلئے چیک پوسٹ پرمامور فوجی جوانوں نے ان کے مطالبات تو پورے نہیں کرنے تھے پھر آخر یہ انتہائی قدم کیوں اٹھایا گیا، کیا ایسا تو نہیں کہ علی وزیر اور محسن داوڑ ملک دشمن عناصر کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں ، ملک کے سیکورٹی اداروں ، انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اس کی مکمل تحقیقات کرنی چاہئیں اور کسی بھی صورت میں فوجی چیک پوسٹ پر حملہ کرنے والوں کو نہ بخشا جائے، تمام افراد کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے اور جو آئین کہتا ہے اس کے مطابق ان کیخلاف مقدمات قائم ہونے چاہئیں ۔ پی ٹی ایم کے جو بھی مطالبات ہیں ان کے حل کا آئینی راستہ موجود ہے، غیر آئینی راستے کی کسی صورت حمایت نہیں کی جاسکتی ۔

Google Analytics Alternative