کالم

پولیس چیک پوسٹ پر خود کش حملہ

اسلام دین فطرت ہے جو اپنے پیروکاروں کو راہ راست پر رہنے کا درس دیتا ہے یعنی صراط مستقیم پر چلنے اور مل جل کر معاشرے میں رہنے اور حقوق العباد پر رہنے کا سبق دیتا ہے ۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ انسانی جان کی حرمت کو قائم رکھیں اور معاشرے کو امن و ;200;شتی پر چلائیں مگر حالیہ چند سالوں میں نام نہاد مسلمان جن کا فلسفہ ہی قتل و غارت گری ہے دین اسلام میں ایک ناسور اور نئے فتنہ کی صورت اختیار کرچکے ہیں اور ابوجہل کی طرح جاہلیت پر مبنی فلسفہ پر گامزن ہیں ۔ یہ لوگ اپنے سیاسی مفادات کے تحت اسلام کی غلط ترجمانی کرتے ہیں اور دنیا بھر میں امت مسلمہ کو ان نام نہاد جہادیوں کی وجہ سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ یہ لوگ تو اسلام کو اور مسلمانوں کو اس حد تک بدنام کر رہے ہیں کہ پوری مغربی دنیا اسلام کو ایک خوفناک مذہب سمجھنے لگی ہے اور اپنے ممالک میں موجود مسلمانوں کو جو وہاں گزشتہ کئی دہائیوں سے مقیم ہیں کو اس طرح شک کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ جیسے القاعدہ اور تحریک طالبان کا تعلق ہر اس مسلمان سے ہوسکتا ہے جو کہ نماز پڑھتا ہو اور دین اسلام پر سختی سے کاربند ہو ۔ پاکستان بھی پچھلی دو دہائیوں سے ان نام نہاد مسلمانوں کے ہاتھوں دہشت گردی کا شکار رہا ہے ۔ فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا جس کی وجہ سے آج ہمارے ہاں دہشت گردی تقریباً ختم ہو چکی ہے مگر کبھی کبھار کوئی ایسا واقعہ ہو جاتا ہے جو ان انتہا پسند مسلمانوں کی دہشت گردی کو ظاہر کرتا ہے ۔ پاک فوج اور پولیس کے جوان آج بھی آپریشن ردالفساد اور کومبنگ آپریشن کے تحت حساس علاقوں کو چھان کر ان میں سے دہشت گرد اور ان کے حواری ڈھونڈ رہے ہیں ۔ کچھ دہشت گرد پولیس چوکیوں اور فوجی قافلوں پر حملے بھی کر رہے ہیں ۔ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے کوٹلہ سیداں میں پولیس چیک پوسٹ پر ایسے ہی ایک حملے میں دو افراد شہید ہوگئے ۔ پولیس چیک پوسٹ پر اہل کار معمول کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے کہ موٹر سائیکل پر سوار 2 دہشت گردوں نے چیک پوسٹ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے دونوں اہل کار موقع پر ہی شہید ہوئے ۔ حملے کے بعد شہداء کے جسد خاکی کو ہسپتال منتقل کرنے کے دوران ہسپتال گیٹ پر خود کش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے مزید 6 افراد شہید ہوگئے ۔ واردات کے بعد دہشت گرد فرار ہوگئے ۔ حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کی ناکہ بندی کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا ۔ کہا جا رہا ہے کہ ہسپتال کے گیٹ پر ہونے والا خودکش دھماکا خاتون نے کیا ۔ خود کش حملہ آور کے جسمانی اعضاء جائے وقوعہ سے اکھٹے کرلیے گئے ہیں ۔ تحریک طالبان پاکستان نے ڈی آئی خان میں ہوئے دونوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے ان حملوں میں سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ۔ تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان محمد خراسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں کا مقصد ڈی آئی خان میں 23 جون کو ہلاک ہونے والے ایک طالبان شدت پسند کی ہلاکت کا بدلہ لینا تھا ۔ دیگر حملوں آوروں کی طرح ان خود کش حملوں کے مرتکب نوجوانوں کو بھی یقین کامل ہوگا کہ وہ دھماکے بعد سیدھے جنت میں جائیں گے جہاں اللہ تعالیٰ کے انعامات ان کے منتظر ہوں گے کیونکہ ان کی برین واشنگ کرنے والوں نے انہیں پڑھایا اور سکھایا ہے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ نہتے اور معصوم مسلمانوں کو مارنے والے کو جہنمی کہا گیا ہے ۔ ان کو مارنے کے بعد اس کا ٹھکانہ صرف جہنم ہی ہے ۔ اب تک خود کش حملوں میں جن نوجوانوں نے اپنے جسم سے بند باندھ کر نہ صرف اپنی جان لی بلکہ دوسروں کو جاں بحق کیا ان کی بڑی تعداد غریب ، کم پڑھے لکھے، سماجی اعتبار سے پست لوگوں میں سے تھی ۔ ان لوگوں کو مذہب کے نام پر گمراہ کرکے خود کش حملوں کےلئے تیار کیا گیا ۔ برین واشنگ کے ذریعے ان کو یہ باور کرایا گیا کہ ان کے سیاسی و نظریاتی مخالفین واجب القتل ہیں ۔ انہیں کافرانہ نظام کے خاتمے کےلئے جدوجہد کرنے پر جنت کی نوید سنائی گئی ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور انتہا پسندی کے خاتمے کا عزم کرنے کی بجائے طاقت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے کی پالیسی کے جاری رہنے سے ایک نئی عالمگیر جنگ کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں ۔ حالات اور وقت کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی پر قابو پانے اور قبائلی علاقوں میں امن و امان اور وطن عزیز کو خود کش حملوں اور بم دھماکوں سے بچانے کےلئے موَثر حکمت عملی اپنائی جائے تاکہ گوناں گوں مسائل سے دوچار ہمارے عوام پر امن ماحول میں سکھ کا سانس لینے کے قابل ہو سکیں ۔ خود کش حملے کے بعد خود کش حملہ آور کا سر اور ٹانگیں تو مل جاتی ہیں مگر مزید کوئی کاروائی نہیں ہوتی ۔ بات صرف مذمتی بیانات تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے ۔ اس کے لئے کبھی نام نہاد طالبان اورکبھی تحریک طالبان کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے مگر ان کے خلاف اقدامات کے لئے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جاتا ۔ آخر یہ سلسلہ کب تک چلتا رہے گا;238;انتہا پسندوں کو ایک بات اپنے ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستانی حکومت کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کارروائی کرے کیونکہ کوئی بھی ملک کسی کو قانون ہاتھ میں لینے اور امن و امان خراب کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام پاکستانیوں کو ان دہشت گردوں سے یقینی طور پر نمٹنے کےلئے اکٹھے کام کرنا چاہئے ۔

قبائلی الیکشن‘وزیراعظم کا دورہ امریکہ،نئی دہلی کی تلملاہٹ

ماضی کے آزاد قبائلی علاقہ جات عرف عام میں جنہیں ‘فاٹا’کہا جاتا تھا علاقہ کے عوام نے سابقہ فاٹا کی ریاستوں کو قومی اسمبلی کی ایک آئینی ترمیم کے ذریعے سے صوبہ خیبر پختونخواہ میں انضمام کے تاریخی اقدام کواپنی جذباتی وابستگیوں سے منسوب کیا ہے اورانضمام کے اس سلسلے میں افواج پاکستان سمیت سیاسی وجمہوری حکومت کی عملی کوششوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے سابقہ ‘فاٹا’ کے ساتوں اضلاع اب صوبہ خیبر پختونخواہ میں آئینی لحاظ سے شامل ہوچکے ہیں اس اہم اقدام کے پس منظر میں محب وطن پشتون عوام کی عملی اور مسلسل جدوجہد بھی برابر شامل رہی ہے قبائلی اضلاع صوبہ خیبر پختونخواہ کے آئینی حصہ بننے کے بعد پشتون عوام بہت ہی پْرامید تھے کہ قبائلی اضلاع کے انضمام کی قانون سازی کے بعد جتنی جلد ہوسکے ان پسماندہ قبائلی علاقوں میں بھی آئین پاکستان کے تحت صوبائی انتخابات کرادئیے جائیں تاکہ ان اضلاع کے عوامی نمائندے صوبہ خیبر پختونخواہ کی اسمبلی میں اپنے علاقوں میں بنیادی انسانی ضروریات کے عوامی فلاح وبہبود کے منصوبوں کی نشاندہی کریں تاکہ قبائلی اضلاع آئینی طور پر صوبہ خیبر پختونخواہ میں برابر کے حصہ دار بن سکیں یاد رہے کہ اب ہرقبائلی اضلاع میں ضلعی اور تحصیل کی سطح پر پولیس اسٹیشن قائم ہونے لگے ہیں بلکہ کئی مقامات پر پولیس اسٹیشن قائم ہو چکے ہیں ڈسٹرکٹ اور تحصیلی عدالتوں کے قیام کے منصوبے تکمیل کے آخری مراحلے میں ہیں اور وہاں انتظامی گورننس کا انفراسٹرکچر بن رہا ہے تازہ ترین آئینی اقدام کے نتیجے میں مورخہ20 جولائی کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخواہ کے ساتوں قبائلی اضلاع میں صوبائی اسمبلی کے الیکشن کامیابی منعقد کرادئیے ہیں ، پاکستان دشمن بھارتی خفیہ تنظیم ‘را’ کی مذموم سازشوں کو ہمیشہ کےلئے اب ملیامیٹ کر دیا گیا ہے، قبائلی اضلاع کا جب سے صوبہ خیبر پختونخواہ میں ا نضمام ہوا ہے، پاکستان کے مغربی سرحد پار بیٹھے دشمنوں کو ہاتھ ملتے دیکھا گیا اور جبکہ پشتون عوام نے اپنے علاقوں میں پاکستانی آئین کی مکمل اتھارٹی کو تسلیم کیا تو دشمن تلملاکررہ گیا کیا سماں تھا جب ۰۲ جولائی کی صبح ۸ بجے سے پولنگ ختم ہونے تک اپنے اپنے ووٹ کا حق استعمال کرکے پشتون عوام دشمن غیر ملکی آلہ کاروں کے پروپیگنڈا کے غباروں سے ہوا نکال دی دنیا کو یہ باور کرادیا کہ پشتون عوام ایک محفوظ ومستحکم ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان کے کل بھی دست وبازو تھے آج بھی اْن کے قابل احترام بزرگوں کی طرح اْن کے دلوں کی دھڑکنوں کی زیروبم کے ساتھ پاکستان کا نام چلتا رہتا ہے پاکستان کے عوام سمجھتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کا راز کرپشن سے پاک’میرٹ کی بنیاد پر’انصاف کی فوری فراہمی اور قانون کی بالادستی پریقین رکھنے والی ایک بہترین عوام دوست جمہوریت سے ہی وابستہ ہے اور یہی وجوہ ہے کہ قبائلی علاقوں میں 20 جولائی کو منعقد ہونے والے عام انتخابات میں قبائلی عوام نے جذباتی جنون کے احساسات کے ساتھ اپنا ووٹ استعمال کیا جو یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کے پشتون عوام میں بھی جمہوری شعورکی کمی نہیں ‘ جو قابل تعریف ہے20 جولائی کو قبائلی اضلاع میں ہونے والے عام انتخابات کے موقع پر پاکستان میں متعین برطانوی سفیرمسٹر تھامس ڈریونے قبائلی اضلاع میں ہونے والے انتخابات کو پاکستان کی تاریخ کا ایک بہت اہم دن قرار دیا ہے 20 جولائی ہفتہ کی شب جب قبائلی اضلاع میں ووٹنگ کے آخری لمحات جاری تھے تو اْس وقت پاکستان متعین برطانوی سفیر نے اپنے ٹوئیٹرکے پیغام میں کہا کہ قبائلی اضلاع کے لوگوں کو پہلی مرتبہ خیبر پختونخواہ اسمبلی میں اپنے منتخب نمائندوں کو بھیجنے کا موقع ملا ہے اورہم امید کرتے ہیں کہ قبائلی اضلاع میں جاری یہ انتخابی مرحلہ آزادانہ اور باحفاظت مکمل ہوگا اور پھر دنیا دیکھ لیا کہ بالکل عین ایسا ہی ہوا اور یہ صوبائی انتخابات پْرامن طورپراپنے اختتام کو پہنچے جس پر پاکستانی قوم الیکشن کمیشن آف پاکستان سمیت خاص طور پر پاکستانی فوج کو تہہ دل سے مبارک باد پیش کرتی ہے جنہوں نے دہشت گردی سے بے انتہا متاثرہ علاقوں میں جہاں دنیا کی بدترین دہشت گردی جاری رہی پاکستانی فوج نے دہشت گردی سے تباہ حال ان ہی کھنڈرات میں زندگی کی رمق دوبارہ بحال کردی قبائلی اضلاع میں زندگی کی رمق کی بحالی کےلئے ملکی فوج نے بے مثال قربانیاں دی ہیں ،قبائلی علاقوں میں امن و امان بحال کیاہے علاقہ کے پشتون خاندانوں میں امید کے چراغ روشن کیئے ہیں اْن کے ٹوٹتے ہوئے اعتماد اور پڑمردہ بھروسہ کو توانائی کی تابندہ زندگی کا سہارا فراہم کیا ہے یوں پاکستانی فوج اور پشتون عوام یکجا ہوئے ہیں اپنے سماجی وثقافتی ورثہ کو نشانہ بنانے والے اپنے دشمنوں کے مذموم منصوبوں خاکستر کردیا ہے، قارئین کو علم ہوگا کہ خیبر پختونخواہ میں ضم ہونے والے سات اضلاع کی سولہ صوبائی اسمبلی کی نشستوں پرآزاد امیدوار زیادہ کامیاب ہوئے جنکہ پاکستان تحریک انصاف نے جماعتی بنیادوں پرقبائلی اضلاع کی سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں اب جبکہ ملک کے انتہائی حساس اورشورش زدہ علاقوں کے انتخابات کے نتاءج آ چکے ہیں 16 جنرل نشستوں پر 297 امیدواروں کے مابین انتخابی مقابلہ ہوا 2 پشتون خواتین بھی جنرل الیکشن میں بطور امیدوار میدان میں اتری ہیں خیبر پختونخواہ کے قبائلی اضلاع کے 1897 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 554 انتہائی حساس ترین اور461 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا تھا20 جولائی کو صبح 8 بجے سے پولنگ بوتھس پر ووٹ کاسٹ کرنے والے افراد آناشروع ہوگئے تھے حالیہ انتخابات میں ان علاقوں میں سیاسی سرگرمیاں خوشگوارانداز میں بڑی حیران کن رہیں قبائلی اضلاع میں انتخابی رنگوں میں رنگی ریلیاں نکالی گئیں انتخابی مہم کے دوران علاقوں میں بڑے پیمانے پرپاکستانی محب وطن پشتون عوام میں جوش وخروش بڑا دیدنی تھا ملک بھر سے آئے ہوئے اور غیر ملکی مبصرین نے اپنی رپوٹوں واضح اظہار کیا ہے کہ سابقہ فاٹا جو اب صوبہ خیبر پختونخواہ کے اضلاع پر مشتمل علاقہ قرار دیا گیا ہے اس علاقہ میں منعقدہ انتخابات میں پاک فوج کے تاریخ ساز کردار کو پاکستان کی انتخابی تاریخ میں سنہری حرفوں سے لکھا جائے گا ۰۲ جولائی کو قبائلی اضلاع میں بیس لاکھ سے زائد قبائلی پاکستانیوں نے پاکستان کی انتخابی تاریخ میں پہلی بار اپنے صوبہ کی اسمبلی کےلئے اپنا ووٹ استعمال کیا اور اتفاق دیکھیئے یہی وہ موقع بھی رہا جس روز پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سرکاری دعوت پرملکی فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ کے ہمراہ امریکا پہنچے آج کسی پوچھنے والے کو نئی دہلی سے کچھ چبھتے ہوئے یہ سوال ضرور کرلینے چاہئیں نئی دہلی ضرور بتائے کل تک جو دعوے کرتے رہے کہ وہ خطہ میں پاکستان کو تنہا کرنے کی پوزیشن میں ہیں ;238; افغانستان میں امریکی شہ پر تکبر کی منہ زوری میں یہ کہتے ہوئے تھکتے نہیں تھے کہ قبائلی علاقوں میں پاکستانی آئین کی ‘رٹ’نہیں ہے کلبھوشن یادیو کو پاکستانی ملٹری کورٹ سے دی جانے والی سزائے موت کو نئی دہلی نے عالمی عدالت انصاف میں چیلنج کرکے تصور کرلیا تھا کہ ‘پاکستان کی دنیا میں کون سنتا ہے’پاکستان کا یہ پہلا وزیراعظم ہے جسے امریکی صدر نے منت ترلے کرکے امریکاکا دورہ کرنے پر رضامند کیا ہے پاکستان یقینا عالمی دنیا میں اپنا ایک وقار اور سفارتی متانت حامل ملک ہے عالمی عدالت انصاف نے پاکستان کے عالمی وقار اور سفارتی متانت کی توثیق کی پاکستان کے اس اعلامیہ پر اپنی مہر تصدیق ثبت کردی کہ پاکستانی ملٹری کورٹ نے ایک جاسوس کو دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پائے جانے کے بعد اْسے سزائے موت سنائی ہے یہ سزا برحق ہے عالمی عدالت انصاف سے آنے والے عالمی فیصلہ جس میں بھارتی نیوی افسر حاضر سروس کلبھوشن یادیو کی پاکستانی فوج کی ملٹری کورٹ سے دی جانے والی سزائے موت کی برقراری نے نئی دہلی کو ;39;سکتہ;39; کی سی کیفیت میں مبتلا ضرور کردیا چلیں پاکستانی نکتہ نظر سے تحفظات کے ساتھ اب ریکارڈ قائم ہوگیا ہے کہ اگردنیا کا کوئی ملک اپنے خلاف کسی جاسوس کو گرفتار کرتا ہے اور اْسے کوئی انتہائی سزاملتی ہے تو بقول ;39;آئی سی جے;39;وہ جاسوس مجرم اپنے ملک کی ;39;کونسلررسائی;39;کا حقدار تو اب ضرور بنے گا;238;

بھارتی خفیہ اداروں کے سربراہان کی تبدیلی

یہ امر قابل ذکر ہے کہ کچھ روز پہلے بھارتی خفیہ اداروں کے سربراہان کی تبدیلی ہوئی ہے اور ;826587; اور انڈین ;7366; کے نئے چیف بنائے گئے ہیں ۔ راء کا نیا سربراہ سمانت گوئل کو مقرر کیا گیا ہے ۔ بھارتی مرکزی کابینہ کی اپوائنٹمنٹ کمیٹی آف کیبنٹ (;656767; ) کے اجلاس اور توثیق کے بعد عمل میں آنے والی اس تقرری کو دلچسپ قرار دیتے مبصرین نے کہا ہے کہ 1984 کے بیچ سے تعلق رکھنے والے سمانت گوئل کا تعلق بھارت کی پنجاب کیڈر سے ہے ۔ وہ بلاشبہ ایک پیشہ ور افسر ہیں مگر ان کی تقرری کے حوالے سے بھارت کے تمام انگریزی اور ہندی اخبارات نے جو مختصر سرکاری پریس ریلیز یا ہینڈ آءوٹ شاءع کیا ہے، اس میں شامل مواد پاکستان کے ہر ذی شعور کیلئے توجہ کا باعث ہونا چاہیے ۔ سمانت گوئل کی نئی تقرری کے ضمن میں شاءع مختصر خبر میں واضح انداز میں کہا گیا ہے کہ وہ بھارت کی نام نہاد بالا کوٹ ایئر سٹراءک کے ماسٹر مائنڈ تھے ۔ 2016 میں سرجیکل سٹراءک کے ڈرامے کو بھی انہی کے ذہن کی اختراع مانا جاتا ہے ۔ وہ 1990 کے بعد بھارتی پنجاب میں سکھوں کا خون بہانے کی اضافی شہرت بھی رکھتے ہیں ۔ وہ راء میں ڈائریکٹر آپریشنز کی سیٹ پر کام کر رہے تھے اور پاکستانی امور کے ماہر سمجھے جاتے ہیں ۔ دوسری جانب ’’اروند کمار ‘‘ کو بھارتی انٹیلی جنس بیورو کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا ہے ۔ انھیں مقبوضہ کشمیر سے متعلق معاملات کا ایکسپرٹ سمجھا جاتا ہے ۔ ان کی خاصیت مقبوضہ کشمیر سے بھارتی ’’ ;65;ssets ‘‘ کی صورت میں مہرے تلاش اور تیار کرنا ہے ۔ ان کا تعلق آسام میگھالیہ کیڈر سے ہے جبکہ سربراہ مقرر ہونے سے پہلے بھی وہ آئی بی میں سپیشل ڈائریکٹر فار کشمیر افیئرز کے طور پر کام کر رہے تھے ۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق یہ مختصر الفاظ اپنے آپ میں ایک پوری داستان اور انکشاف ہیں ۔ کیونکہ ظاہر ہے یہ افراد سندھ، بلوچستان اور مقبوضہ کشمیر میں تعلیمی ادارے، ہسپتال اور سڑکیں بنانے کے کارہائے نمایاں تو یقینا سر انجام نہیں دیتے رہے ۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ حضرات ماضی قریب میں پاکستانی مفادات کو ضرب پہنچانے اور مقبوضہ کشمیر میں ظلم و زیادتی کی داستانیں رقم کرنے کی کارروائیوں میں مصروف عمل رہے ، اپنے ان مقاصد میں ان کو کافی حد تک کامیابی بھی حاصل ہوئی ۔ تبھی تو حالیہ برسوں میں بدقسمتی سے پاکستانی معاشرہ بھی تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزررہا ہے ۔ مذہبی، لسانی اور گروہی اختلافات کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کے مابین تصادم کی فضا پیدا کرنے کا تاثر یقینا ایسے کارہائے نمایاں ہیں ، جن کو بھارتی نکتہ نظر سے بڑی کامیابی ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ لہٰذا دہلی سرکار ایسے کارناموں کو انجام دینے والوں کو نہ صرف ;826587; اور ;7366; کی سربراہی بلکہ جو بھی انعام دے وہ کم ہے ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ یہ چند افراد محض اپنے بل بوتے پر ایسی فضا پیدا نہیں کر سکتے ، لازمی بات ہے کہ انھیں اپنی کار گزاریوں کے لئے بہت سی پاکستانی کٹھ پتلیوں کا تعاون اور سہولت کاری بھی حاصل رہی ہو گی ۔ گویا ’’ہوئی اگر تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا‘‘ والا معاملہ ہے ۔ مگر یہ امر طے ہے کہ ان تمام کٹھ پتلیوں کی ڈوریاں ان کے دہلی کے آقا ہی ہلاتے ہیں اور تاحال اسی کام میں مصروف ہیں ۔ اس تمام مذموم مہم کے نتاءج بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ۔ وطن عزیز میں پاک فوج اور عوام کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی ناکام سعی ان کا واحد مقصد ہے ۔ اس کے علاوہ سی پیک اور بلوچستان کی بابت شرانگزیزیوں کا جو لامتناہی سلسلہ جاری ہے، وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ تقریباً سبھی قومی اداروں میں ایک نام نہاد ’’تصادم‘‘ کی تھیوری کو حقیقت بنا کر پیش کرنے کا منفی عمل بھی جاری و ساری ہے ۔ اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ بھارت میں کوئی بھی چھوٹا بڑا ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش آتا ہے تو اس کی ذمہ داری پاکستانی قومی سلامتی کے اداروں خصوصاً آئی ایس آئی پر ڈال دی جاتی ہے ۔ اس بھارتی روش کی وجہ سے اکثر اوقات اعتدال پسند حلقے ہندوستانی سرکار کا مذاق اڑاتے رہتے ہیں ۔ مگر آج یہ عالم ہے کہ پاکستان کے اندر کسی بھی کونے میں کوئی حادثہ یا نا خوشگوار واقعہ رونما ہوتا ہے ، چاہے کسی کی گاڑی کا ٹائر بھی پنکچر ہو جائے تو وطن عزیز کی سول سوساءٹی اور میڈیا کا ایک حلقہ فوری طور پر اس کے لئے پاک فوج اور خفیہ اداروں کو ذمہ دار ٹھہرانا اپنا فرض اولین سمجھتا ہے ۔ ظاہر ہے اس سے بھارتی طبقات کو ہی فائدہ حاصل ہوتا ہے ۔ اب یہ پاکستانی عوام، حکومت اور مقتدر حلقوں پر منحصر ہے کہ وہ ان ممکنہ بھارتی سازشوں کا جواب کس قدر اتحاداور توانائی کے ساتھ دیتے ہیں ۔ ایسے میں عالمی رائے عامہ کے ساتھ خود بھارت کے انسان دوست حلقوں کا بھی فرض ہے کہ وہ دہلی سرکار کی اس معاندانہ روش کی حوصلہ شکنی کرے ۔

قبائلی اضلاع میں تاریخ ساز انتخابات

پاکستان کے شمال مغرب میں واقع قبائلی علاقہ جات اپنی ایک مخصوص شناخت رکھتے ہیں ۔ انگریز نے جہاں پورے برصغیرکے او پر قبضہ کیاوہیں اس علاقے کو کبھی بھی پوری طرح اپنے قبضے میں نہیں لے سکا ۔ اُسے ہمیشہ یہاں مشکلات کا سامنا رہا اور یہ علاقہ میدانِ جنگ ہی بنا رہا ۔ اُسے اس علاقے کو اپنے قابو میں رکھنا اس لیے بھی ضروری تھا کہ روس وسطی ایشیا سے ہوتا ہوا ہندوستان تک نہ پہنچ جائے اور اسی لیے وہ یہاں پیسے کے ذریعے بھی حالات کنٹرول کرتا رہا لیکن اُسے کبھی بھی مکمل کامیابی نہیں ہوئی ۔ اُس نے علاقے کے مشران پر مشتمل جرگہ سسٹم بھی بنایا لیکن جب یو ں بھی کام نہ چلا تو پورے بر صغیر سے مختلف تعزیراتی قوانین لا گو کرتے ہوئے اُس نے فرنٹیر کرائمز ریگولیشن یعنی ایف سی آر کے نام سے ایک قانون بنایا ۔ یہ قوانین اس نے 1871 سے1876کے درمیا ن لاگو کیے لیکن خاص کامیابی نہ ہونے کی وجہ سے 1901 میں ایک نئی ایف سی آر بنائی گئی اور علاقہ مشران کے ساتھ ساتھ وسیع اختیارات کے ساتھ ہر ایجنسی میں پولیٹیکل ایجنٹ کی تعیناتی بھی کی گئی جو علاقے کے بے تاج بادشاہ تھے جو کسی بھی شخص کو کوئی بھی سزا دے سکتے تھے ۔ اسی دوران ایک الگ صوبہ یعنی شمال مغربی سرحدی صوبے کا قیام بھی عمل میں لایا گیا جس میں کوہاٹ، بنوں ،ڈیرہ اسما عیل خان، ہزارہ اور پشاور کے پانچ اضلاع کے ساتھ پانچ ایجنسیاں یعنی دیر، سوات، کرم، چترال اور شمالی وزیرستان بھی شامل کیے گئے تاہم انگریز ان تمام بندوبستی ، انتظامی اور سخت حاکمانہ کاروائیوں کے باوجود علاقے کو مکمل طور پر قابو نہ کر سکا اور اسی اثناء میں بر صغیر کو آزادی دے کر چلا گیا ۔ 1947 میں آزادی کے بعد بھی یہاں یہی قوانین راءج رہے تاہم اس دوران قبائلیوں نے تو آزاد مملکت کے ساتھ تعاون کا مظاہرہ کیا لیکن پاکستان کے کسی آئین کو یہاں لا گو نہیں کیا گیایہاں تک کہ 1973 کے آئین میں بھی ان علاقوں کے بارے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی نہ تو یہاں فکری ترقی ہوئی نہ مادی اگرچہ یہاں سے بے شمار ڈاکٹر،انجینئر اور دوسرے اعلیٰ عہدہ دار بھی نکلتے رہے یہاں کے لوگوں کے لیے پیشہ ورانہ اداروں میں نشستیں بھی مخصوص کی گئیں کچھ دیگر سہولتیں بھی دی گئیں لیکن بنیادی سطح پر جو تبدیلیاں درکار تھیں وہ نہ ہو سکیں اس میں یہاں کے سخت جغرافیائی حالات کا بھی عمل دخل رہا اورلوگوں کے مزاج کا حصہ بھی لیکن سیاسی اور حکومتی سطح پر جو لاپرواہی برتی گئی اس نے یہاں کے حالات میں اہم کردار ادا کیا اور یہی وجوہات تھیں کہ اِن علاقوں میں حالات وہاں تک پہنچے جس کو درست کرتے کرتے قوم نے بڑی قیمت ادا کی ہے ۔ ان علاقوں میں جانا کبھی بھی بہت آسان نہیں تھا،دہشت گردی کی حالیہ لہر سے پہلے بھی اگر کوئی سیاح بھی وہاں جاتا تھا تو اسے ہدایت کی جاتی تھی کہ وہ ہوشیار رہے اور سڑک کے ساتھ ساتھ رہے کیونکہ علاقے میں پاکستانی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا اور پچھلے چالیس سال سے تو یہ سارا علاقہ مختلف جنگجوءں کا مسکن بنا رہا، پہلے روس افغان جنگ نے اسے بے تحاشہ متاثر کیا اور اس کے بعد امریکہ افغان جنگ نے تو اسے ممنوعہ علاقہ ہی بنا دیا ۔ یہاں دشمن طاقتوں نے دہشت گردی کے اڈے اور تربیت گاہیں تیار کرنے میں اپنا اپنا حصہ خوب ڈالا اور یوں ادھر تیار ہونے والے دہشت گردآگ اور خون کا کھیل کھیلتے رہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہاں کے لوگ متاثر ہوتے رہے انہیں کبھی اپنے گھروں میں موت کا سامنا کرنا پڑا اور کبھی اپنے گھروں سے دربدر ہو کر محفوظ علاقوں میں خیمہ بستیوں میں وقت گزارنا پڑالیکن اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے دوسرے شہر بالعموم اور خیبر پختونخواہ کے شہر بالخصوص دھماکوں سے لرزتے رہے ۔ پشاور جیسے خوبصورت شہر کو تو خوف کا شہربنا دیا گیا تھا ۔ یہاں کاروبار شدید متاثر ہوا ،بازاروں ، مسجدوں ، جنازوں ، دفتروں ،پارکوں ، جلسوں حتیٰ کہ گھروں تک پر حملے کیے گئے یو ں کوئی گوشہ محفوظ نہ تھا ۔ خود اِن علاقوں میں کئی سکول دھماکوں سے اڑا ئے گئے اور حد تو یہ کہ دن کے وقت بچوں سے بھرے ہوئے پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملہ کر کے ان کا بے رحمانہ قتل کیا گیا اور یہی وہ لمحہ تھا جب قوم نے متحد ہو کر اس دہشت گردی کو ختم کرنے کے کئی سارے فیصلے کئے، نیشنل ایکشن پلان بنایا گیا اور دہشت گردوں پر ہر طرف سے زمین تنگ کر دی گئی اور ایک فیصلہ کن جنگ لڑی گئی جس میں پاک فوج نے اپنے بے شمار افسروں اور جوانوں کی قربانیاں دیں ۔ یہاں اسلحے اور بارود کے کارخانے تباہ کئے،خود کش جیکٹوں کی فیکٹریاں اڑا دی گئیں اوربارودی سرنگیں صاف کرتے ہوئے کئی فوجیوں نے اپنی جانوں کی قربانی دی یوں ایک ایسی سخت ترین جنگ لڑی گئی جس میں دشمن کو تو معلوم تھا کہ یونیفارم پہنے یہ فوجی یا ایف سی کا اہلکار اس کے ظلم کو ختم کرنے آیا ہے لیکن اس طرف کی فوج نہیں جانتی تھی کہ عام لباس کے اِن لوگوں میں پُر امن اور دہشت گرد ہ کون ہے لہٰذا وہ تو کھلے نشانے پر تھا اور اسے نشانہ باندھنے سے پہلے ہزار احتیاطیں کرنا پڑتی تھیں لیکن آخر کا ر یہ جنگ پاکستان کی افواج اور سیکیورٹی اداروں نے جیت لی اور تاریخ میں پہلی بار ان علاقوں میں پاکستان کے عام شہروں سے زیادہ ترقیاتی کا م کیے گئے ۔ یہاں آٹھ سو کلومیڑ طویل سڑکوں کا جال بچھایا گیا، سکول اور کالج قائم کیے گئے، کیڈٹ کالجوں کا قیام عمل میں لا یا گیا، تباہ شدہ سکولوں کو بحال کیا گیا اور ترقی کی پہلی سڑھی پر پہلا قدم رکھا گیا ۔ یہاں کھیل کے میدان بنائے گئے تا کہ نوجوانوں کو صحتمندانہ سرگرمیوں میں مشغول کیا جائے ۔ یہاں بنیادی سطح پر کام شروع کیا گیا اور ذہنی سطح پر یہاں کے لوگوں کو تبدیلی کے لیے تیار کیا گیا ۔ دوسری طرف سیاسی سطح پر بھی کام شروع ہوا اور کچھ سیاسی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود 31مئی2018کو قومی اسمبلی میں آئین میں پچیسویں ترمیم کے ذریعے فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کر دیا گیا اور سوا سو سال پُرانے کالے قانون کا خاتمہ ہو گیا اور قبائلی علاقہ جات یعنی فاٹا کو پاکستان کے دوسرے شہروں کی طرح آئین پاکستان کے تحت لایا گیا اور یہاں کے لوگوں کو پاکستان کے ہر شہری کی طرح دوسرے حقوق کے ساتھ ساتھ ووٹ کا حق بھی مل گیا جس کے تحت تاریخ میں پہلی بار 20 جولائی2019 کو یہاں کے باشندوں نے عام انتخابات میں اپنے نمائندوں کے انتخاب کے لیے ووٹ ڈالا ۔ فاٹا کے سات اضلاع میں قومی اسمبلی کی سولہ اور صوبائی اسمبلی کی اکیس نشستوں جن میں پانچ مخصوص نشستیں بھی شامل ہیں پر انتخاب لڑاگیا، مخصو ص نشستوں میں چار خواتین اور ایک اقلیتوں کے لیے ہے ۔ فوج نے سخت حفاظتی انتظامات میں انتہائی پُر امن طریقے سے یہ سارا عمل مکمل کروایا جس میں انتہائی حساس قرار دیے گئے 461پولنگ سٹیشن بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے پُر امن رہے ۔ دوسری خوش آئند بات یہ تھی کہ یہاں کی خواتین بھی گھروں سے نکلیں اور اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔ یہ انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل اس لیے ہیں کہ ان کے ذریعے ایک صدی سے زیادہ پُرانے اُس کالے قانون کا خاتمہ ہوا جس نے ان علاقوں کو ملک کے اندر ہی ایک ایسا خطہ بنائے رکھا تھا جہاں کئی مواقع پر ریاست بے بس تھی اور صرف فوجی کاروائی ہی مسائل کا واحد حل تھی ۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں پورے ملک کے جرائم پیشہ پناہ لے کر محفوظ ہو جاتے تھے ،جہاں سمگلنگ عام پیشہ تھا ،افغانستان کے تمام جرائم پیشہ بھی یہی آکر پناہ لیتے تھے اور اسی راستے پاکستان کے جرائم پیشہ افغانستان میں جا چھپتے تھے ۔ اسی سرحدی دہشت گردی کو ختم کرنے کے لیے یہاں سرحد پر باڑ لگا کر اسے بھی کافی حد تک محفوظ کرنے کی ابتدا کردی گئی ہے ان تمام اقدامات سے یہ اُمید کی جاتی ہے کہ فاٹا کے عوام خود کو پہلے سے بہت بہتر محسوس کریں گے ۔ پاک فوج تو اپنا کام پہلے ہی شروع کر چکی تھی اب قانون سازی میں یہاں کی نمائندگی اس احساس کو مزید آگے بڑھائے گی اور ترقی کا یہ عمل مزید اور مزید آگے بڑھتا جائے گا اور ماضی کے ان تمام بُرے احساسات کا خاتمہ کرے گا جس سے یہاں کے عوام گزرے ہیں اور اُس تاثر کا بھی خاتمہ ہو گا جو پچھلی کئی دہائیوں کی دہشت گردی کی وجہ سے ان علاقوں کے بارے میں پیدا کیا گیا ۔ اس بات سے قطع نظر کی کون سی سیاسی جماعت یہاں کامیاب ہوئی ایک خوش آئند مستقبل کی ابتداء ہو چکی ہے جو اس بات ثبوت ہے کہ پاکستان ایک امن پسند اور پُرامن ملک ہے جس نے دور حاضر میں کئی دشمنوں کی ملی بھگت سے پیدا کردہ بدترین بدامنی اور دہشت گردی کوبڑی کامیابی سے شکست دے دی ہے ۔

شورش زدہ قبائلی علاقوں میں پُرامن صوبائی انتخابات،شکریہ پاک فوج

حال ہی میں صوبہ خیبر پختونخواہ میں ضم کیے گئے قبائلی اضلاع میں ہفتہ کے روز پہلی بار صوبائی اسمبلی کے انتخابات ہوئے جس میں تمام سیاسی جماعتوں نے بھر پور حصہ لیا ۔ کئی دہائیوں بعد قبائلی اضلاع کی عوام نے صوبائی اسمبلی کے لئے اپنے نمائندوں کا ;200;زادانہ انتخاب کیا ۔ فاٹا کے انضمام کے بعد اس علاقہ کےلئے16 جنرل اور5 مخصوص نشستیں مختص کی گئی ہیں جن میں سے 4 نشستیں خواتین اورایک نشست اقلیتوں کےلئے مخصوص کی گئی ہے ۔ انتخابات کےلئے ایک ہزار 897پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے تھے، جن میں سے 554کو انتہائی حساس قرار دیا گیا تھا ۔ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے تمام پولنگ اسٹیشنوں کو حساس ترین اور حساس قراردیا گیا تھا ۔ حساس ترین پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اور باہر فوج کے جوان تعینات کیے گئے تھے جبکہ دیگر پولنگ اسٹیشنوں کے باہر پاک فوج کے جوانوں نے سیکورٹی کے فراءض سرانجام دئیے ۔ خوش ;200;ئند بات یہ ہے کہ پولنگ مقررہ وقت صبح 8بجے شروع ہو کر انتہائی پرامن اور بلاتعطل شام پانچ بجے تک جاری رہی ۔ یقینا اس بات کا سہرا پاک فوج اور اسکے سکیورٹی اداروں کے سر جاتا ہے جنہوں نے الیکشن کا پرامن انعقاد ممکن بنایا ، صرف یہی نہیں بلکہ ان الیکشن کے لیے ماحول بھی ساز گار بنایا ۔ ایک مخصوص دھڑے اور لابی نے علاقے کا ماحول خراب کرنے کی بھر پور کوشش کی مگر غیور عوام نے انہیں مسترد کرتے ہوئے انتخابات میں اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ۔ سیاسی جماعتوں نے بھی اپنا سیاسی کردار احسن طریقے سے نبھایا ۔ ملک کی تمام نمائندہ بڑی سیاسی جماعتوں کے علاوہ ;200;زاد امیدواروں کی بڑی تعداد نے بھی انتخابات میں حصہ لیا جبکہ دو خواتین نے بھی جنرل نشستوں پر الیکشن لڑا ۔ 28لاکھ سے زائد ووٹرز اپنے نمائندوں کا انتخاب کرنے کے لئے اہل تھے ۔ الیکشن سے قبل ہفتہ رفتہ کے دوران پورے قبائلی علاقے میں زبردست انتخابی گہماگہمی رہی اور الیکشن میں حصہ لینے والے امیدواروں کی انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہیں ۔ تمام پاکستانیوں کےلئے یہ انتہائی مسرت و شادمانی کا موقع ہے کہ ماضی میں دہشت گردی کا گڑھ کہلانے والے یہ علاقے پہلی بار قومی دھارے میں شامل ہورہے ہیں ۔ ماضی میں یہ علاقے نظر انداز ہوتے ;200;ئے پھر گزشتہ چند سال سے دہشت گردی کے ;200;سیب نے اسے لپیٹ میں لیے رکھا ۔ دہشت گردی کی جنگ کی وجہ سے اہل علاقہ کو بے پناہ نقصانات اور صدمات سے دوچار ہونا پڑا ۔ بدقسمت قبائلیوں کو اس ناسور سے نجات دلانے کےلئے پاک فوج نے انتہائی مشکل جنگ لڑی اور اس علاقہ کے چپے چپے سے دہشت گردوں کو نکال کر اپنی قوم کے سامنے سرخرو ہوئی ۔ دہشت گردی کیخلاف ;200;پریشنوں ضرب عضب اور ردالفساد کے دوران سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک اور گرفتار کیا گیا ۔ دہشت گردوں کی خفیہ کمین گاہوں سے جدید ترین خطرناک جنگی اسلحہ بھی بر;200;مد کرکے ضبط کیا گیا جبکہ علاقہ میں قائم ;200;ئی ای ڈی مینوفیکچررز اور اسلحہ ساز فیکٹریوں کو بھی تباہ کیا گیا ۔ اس مقصد کے حصول کے دوران پاک فوج کے سینکڑوں افسران و جوانوں نے بھی دفاع وطن کی خاطر اپنی قیمتی جانوں کی قربانیاں دیکر شہادتیں پائیں اور ان سے کئی گنا زیادہ زخمی بھی ہوئے ۔ دنیا کی عسکری تاریخ کی اس خطرناک ترین جنگ میں پاک افواج کی کامیابی کو دنیا بھر کے عسکری حلقے سراہانے پر مجبور ہوئے کہ پاک فوج نے ناممکن کو ممکن بنایا ۔ بلاشبہ یہ مبالغہ ;200;رائی نہیں بلکہ روشن حقیقت ہے کیونکہ سرحد کی دوسری طرف سولہ سال سے بر سر پیکار اتحادی افواج اپنے مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں ۔ دہشت گردی کی پائیدار بیخ کنی کے لئے ابھی مزید اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ سرحد پار سے دہشت گردوں کی ;200;مدورفت اور منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کےلئے پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا بھی سلسلہ شروع ہے اور 2600کلومیٹر سے زائد طویل پاک افغان سرحد پر باڑ لگائی جارہی ہے جوکہ ;200;ئندہ سال 2020 میں مکمل ہوجائیگی ۔ اب تک خیبر پختونخواہ کی حدود میں ساڑھے چار سو کلومیٹر جبکہ صوبہ بلوچستان کی حدود میں ایک سو اسی کلومیٹر باڑ لگائی جا چکی ہے، اس کے علاوہ سرحد کیساتھ ساتھ پاک فوج کی 843 چیک پوسٹیں بھی قائم کی گئیں جن میں سے 233 چیک پوسٹوں کی عمارتیں مکمل ہوچکی ہیں باقی چیک پوسٹوں کی تعمیر کا کام تکمیل کے ;200;خری مراحل میں ہے ۔ یہ سب کچھ فوج خود کر رہی ہے ۔ پاک فوج کی دن رات کی محنت کے نتیجے میں امن بحال ہونے کے بعد اندرون علاقہ کئی چیک پوسٹیں ختم کی جا چکی ہیں ۔ علاقہ میں تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور پختون عوام کو سفری سہولیات فراہم کرنے کےلئے مواصلات کا جدید ترین نظام قائم کرنےکا سلسلہ بھی جاری ہے اور اب تک اس علاقہ میں 8 سو کلومیٹر نئی سڑکیں تعمیر کی جاچکی ہیں ، تباہ ہونیوالے تعلیمی اداروں کو بھی بحال کردیا گیا ہے ۔ ماضی میں دہشت گردی اور شورش کا گڑھ سمجھے جانیوالے اس علاقہ کے غیور پختونوں کو طویل مشکلات کے بعد پہلی بار پاکستانی ریاست کی مین سٹریم میں شامل ہونے کا موقع مل رہا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے اس علاقہ کی محرومی اور پسماندگی کو ختم کرنے کےلئے اربوں روپے مالیت کے فنڈزکا اعلان کیا ہے جن کا مقصد اس علاقہ کو پاکستان کے دوسرے علاقوں کے برابر لانا ہے ۔ فاٹا میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر انتخابات ہوتے رہے ہیں لیکن یہ نمائندے نہ تو قانون سازی میں کامیاب ہوسکے اور نہ ہی فاٹا کو وہ سہولیات فراہم کرسکے جن کی وہاں اشد ضرورت تھی ۔ اس پس منظر میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات سے کئی امیدیں وابستہ ہیں ۔ امید ہے کہ انتخابات کے بعد قبائلی اضلاع میں ;200;ئینی و قانونی حقوق، سیاسی و شہری حقوق اور پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں تک رسائی کے حوالے ;200;سانیاں پیدا ہوں گی ۔

لائن ;200;ف کنٹرول پر بھارتی اشتعال انگیزی

لائن ;200;ف کنٹرول کے مختلف سیکٹرز پر بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ اور گولہ باری کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک اہلکار شہید اور خواتین سمیت 4 شہری زخمی ہوگئے ۔ بھارتی فوج نے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بٹل، ستوال، خنجر، نکیال اور جندروٹ سیکٹرز میں ;200;رمی کی چیک پوسٹوں اور شہری ;200;بادی پر اندھا دھند فائرنگ، مارٹر گولے اور راکٹ فائر کیے ۔ جس سے حوالدار منظور عباسی شہید ہوئے ۔ رواں ماہ کے ;200;غاز میں ;200;زاد جموں و کشمیر میں ایل او سی سے چند میٹر کے فاصلے پر چھمب سیکٹر میں دھماکے کے نتیجے میں پاک فوج کے پانچ جوان شہید ہو گئے تھے ۔ ایل او سی پر جنگ بندی کےلئے 2003 میں پاکستان اور بھارتی افواج کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے باوجود بھارت کی جانب سے جنگ بندی کیخلاف ورزی کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہتا ہے ۔ جس سے معصوم اور بے گناہ شہری جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں ۔ جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے ۔

ادھار تیل کی فراہمی،سعودی حکومت کا لائق تحسین تعاون

پاکستان اور سعودی عرب کے مابین مضبوط برادار تعلقات ہر وقت کے آزمودہ ہیں ۔ پاکستان پر جب بھی مشکل وقت پڑا سعودی حکومت نے بھرپور ساتھ دیا،حالیہ شدید معاشی بحران میں بھی سعودی عرب نے وہ کام کر دکھایا جو جس کی ہمیشہ اس سے توقع رہتی ہے ۔ چند ماہ قبل ادھار تیل کا جو وعدہ کیا تھا اس کی فراہمی شروع ہوگئی ہے، عرب لاءٹ کروڈ آئل کی پہلی کھیپ لے کر سعودی جہاز کراچی بندرگاہ پہنچ گیا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے معاہدے کے مطابق سعودی عرب پاکستان کو3ارب20کروڑمالیت کا تیل ادھارفراہم کرے گا ۔ پاکستان کو ادھار پر ملنے والے تیل کے رقم کی ادائیگی آئندہ 3سال میں کرنا ہوگا ۔ یقینا یہ ایک بہت بڑی امداد ہے اس سے جہاں تیل کی قیمتیں مستحکم رہیں گی وہاں امپورٹ بل کا دباوَ بھی کم ہو گا،اس لئے سعودی حکومت کا یہ تعاون لائق تحسین ہے ۔

مقبوضہ وادی میں پنڈتوں کی نئی مسلح تنظیم

مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے میں ناکامی کے بعد بھارتی حکومت نے وادی میں کشمیری پنڈتوں پر مشتمل ایک نئی مسلح تنظیم قائم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جو علاقے میں ہندووَں کے 30 مقدس مقامات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کرے گی ۔ یہ فورس پلگام، بارہ مولہ، تاوَمل، اننت ناگ، ویری ناگ کے علاوہ دیگر علاقوں میں کام کرے گی ۔ اس فورس کو مقبوضہ کشمیر میں قائم بھارتی چھاوَنیوں میں مسلح تربیت دی جائے گی ۔ مقبوضہ کشمیر میں معصوم ، نہتے اور مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھانے کےلئے بھارتی فوج کیا کم تھی جو ایک نئی مسلح پنڈت فورس کا قیام عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کےلئے پہلے سے موجود آٹھ لاکھ فوج میں مزید اضافہ کیا جا رہا ہے ۔ گزشتہ سال کے وسط سے اب تک وادی میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے 70 سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں ۔ بھارتی فوج کی طرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو کوریج دینے کےلئے میڈیا پر مکمل پابندی ہے ۔ کشمیریوں کو نماز جمعہ اور دیگر نمازوں کےلئے مسجد جانے سے روکا جاتا ہے حتیٰ کہ سال میں دو عیدین بھی سنگینوں کے سائے میں پڑھی جاتی ہیں ۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی نے جو نیا رخ اختیار کیا ہے وہ پوری دنیا میں توجہ کا مستحق ہے ۔ بھارت جموں و کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے اسی لئے وہ کشمیری عوام پر اپنا جابرانہ تسلط برقرار رکھنے کےلئے ہر قسم کے غیر قانونی و غیر انسانی حربے استعمال کر رہا ہے ۔ بھارتی قیادت کا یہ طرزعمل نیا نہیں ۔ جب بھارتی لیڈر اٹوٹ انگ کا راگ الاپنا شروع کر دیتے ہیں تو پھر کشمیر سمیت تمام مسائل پر جامع مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں ۔ اگر جموں و کشمیر واقعی بھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو اب تک وہاں کی عوام نے اس کو قبول کیوں نہیں کیا ۔ کشمیر جیسی صورتحال بھارت کی کسی اور صوبے میں کیوں نہیں ;238; یہ حقیقت ہے کہ جموں و کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہ تھا اور نہ بن سکتا ہے ۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے ہی مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ میں پیش کیا تھا اور جب اس عالمی ادارے نے کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار کشمیریوں کو دے دیا تو انہوں نے اسے تسلیم کیا لیکن کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ مستحکم کرنے کی کارروائی بھی جاری رکھی ۔ اقوام متحدہ کی قراردادیں نصف صدی گذر جانے کے بعد بھی برقرار ہیں ۔ بھارت نے ابتداء میں تو ان قراردادوں پر عمل کرنے کا وعدہ کیا مگر بعد میں مکر گیا اور کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دینے لگا ۔ مسئلہ کشمیر پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تین جنگیں ہو چکی ہیں ۔ آج بھی پاکستان اور بھارت اپنے وسائل کا زیادہ تر حصہ دفاع پر خرچ کر رہے ہیں ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے مسئلہ کشمیر کو حکومت ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کی معاشی بدحالی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف مسئلہ کشمیر کے حل نہ ہونے کی وجہ سے ان دونوں ممالک کوسالانہ اربوں روپے اپنے دفاعی اخراجات پر خرچ کرنے پڑ رہے ہیں ۔ بھارت کا دفاعی بجٹ 19لاکھ کروڑروپے کے قریب ہے اور تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ بھارت میں 45 فیصدبچے خوراک کی کمی کے شکار ہیں ۔ بھارت کی سول سوساءٹی ، پالیسی ساز اداروں اور دانشوروں کو حقائق سے چشم پوشی کے بجائے یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہے کہ مسئلہ کشمیر کے ہوتے ہندوستان کے عوام معاشی بدحالی کے دلدل سے نہیں نکل سکتے ۔ طاقت کے بل پر کسی قوم کے جذبات کو زیادہ دیر نہیں دبایا جا سکتا اور بھارت کو چاہئے کہ دور اندیشی اور عقل سے کام لیتے ہوئے پاکستان اور کشمیری آزادی پسند قیادت کے ساتھ بامعنی مذاکرت کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششوں کا آغاز کریں ۔ گوکہ پاکستان اس وقت اپنے مسائل میں الجھا ہوا ہے مگر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے وعدے اوراپنی ذمہ داریوں کو پس پشت نہیں ڈال سکتا ۔ مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کے پیچھے پاکستانی ہاتھ کا واویلا کر کے بھارت سمجھتا ہے کہ دنیا کو اس بارے یقین دلادے گا مگر دنیا کی آنکھیں کھلی ہیں اور وہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں ۔ اسی تناظر میں بھارتی فوج کے سربراہ نے سرحد پار دراندازی کو متواتر چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پار عسکریت پسندی کا ڈھانچہ بدستور منظم اور متحرک ہے اور تقریباً 42تربیتی کیمپوں میں مجاہدین کو ہتھیاروں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ۔ پاکستان اور پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں موجود تربیتی کیمپوں میں جنگجوءوں کو ہتھیار چلانے کی تربیت فراہم کی جارہی ہے اور سرحدوں پر برف پگھلنے کے ساتھ ہی تربیت ہافتہ جنگجوءوں کو بھارتی حدود بالخصوص جموں و کشمیر میں دھکیلنے کی ایک بار پھر کوششیں کی جاسکتی ہیں ۔ ہماری حکومت کئی بار بھارت کو یقین دلانے کی کوشش کرچکی ہے کہ پاکستان کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں کوئی مداخلت نہیں کی جا رہی اگر بھارت کو شبہ ہے تو کنٹرول لائن پر غیر جانبدار مبصرین تعینات کئے جا سکتے ہیں لیکن بھارتی حکومت یہ تجویز قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ دنیا کا ہر باشعور فرد اس سے بخوبی اندازہ کر سکتاہے کہ بھارتی لیڈر پاکستان کے ساتھ مذاکرات کےلئے مخلص نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کشمیر کو آزادی دینا چاہتے ہیں ۔

حکومت نے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے ہیں

جن ممالک میں عوام اپنے حکمرانوں کو جوابدہی کے کٹہرے میں لانے کے خلاف سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کرنے کی کھلے عام باتیں کرنا شروع کردیں اور اپنی عدلیہ پر سوالیہ انگلیاں اْٹھانی شروع کردیں تو کیا ایسی قوموں کو جدید سائنسی دنیا میں مہذب اور متمدن قراردیا جاسکتا ہے اوریہی نہیں بلکہ کیا ایسی اقوام کے چند افراد یا گروہ جو بدترین کرپشنز کے الزامات میں پکڑے جانے والے اپنے پسندیدہ سیاسی قائدین کی عدالتوں میں پیشیاں بھگتنے کے شرمناک مواقعوں پراْن کے گرد جمع ہوجانے کی ذلت و خواری اور ندامت بھری ریتوں اور روایات کو بڑھوادینے کی بُری عادتیں اپنا لیں کیا وہ سیاسی اخلاقیات کے زمرے میں معتبر کہلائے جانے کے لائق ہوسکتے ہیں ;238; چند ماہ پیشتر پاکستان میں گزشتہ ستر برسوں کے بعد ہماری عمروں کے لوگوں نے پہلی بار اپنی آنکھوں سے اپنے ملک میں یہ خوش آئند نظارہ دیکھا ہے کہ جن خاندانوں نے چالیس اور بیس برسوں تک پاکستان کی مرکزی حکومت میں اور پنجاب اور سندھ کی صوبائی حکومتوں پر مسلسل حکمرانی کی آج کل وہ ملک کی عدالتوں میں مالی کرپشنز کیسوں میں تفتیشی ریمانڈ پر سلاخوں کے پیچھے ہیں کہیں اْن کو باقاعدہ مجرم تسلیم کر لیا گیا ہے اور وہ جیلوں میں بند پڑے ہیں ، گزشتہ چالیس برسوں سے ملکی قانون ساز اداروں میں یہی لوگ باربار الیکشن جیت کر آتے رہے، ملکی آئین اور قانون سے مجرمانہ کھلواڑ کرتے رہے، اعلیٰ ترین سیاسی آئینی عہدوں پر فائز رہنے والوں کے لئے قانون کے شکنجوں میں استثنائیٰ سقم کی مشگافیاں بناتے رہے یوں ملکی جیلیں بھی ان کےلئے محلات سے کم نہیں رہیں آخر عوام کب تک جمہوری سیاست کے نام پر یہ مظالم برداشت کرتے یوں عوام کے شعور نے جونہی ترقی کی تو جولائی سن دوہزار اْٹھارہ کے عام انتخابات نے لگ بھگ تین چار ادوار کے لگاتار انتخابات کا یکدم سے پانسہ ہی پلٹ دیا اور پاکستان کے نوجوانوں میں مقبولیت پانےوالے نئے ابھرتے ہوئے سیاسی قائد عمران خان کی سحر انگیز اور پُرکشش شخصیت نے اُن کی سیاسی جماعت پاکستان تحریک انصاف کو ملکی پارلیمنٹ میں عددی برتری سے جیتادیاجس کے نتیجے میں دنیا بھر کے سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں نے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر ایک بالکل نئے چہرے کو پاکستان کے وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہوتے دیکھا نئے وزیراعظم عمران خان نے اپنی بیس سالہ سیاسی جدوجہد میں اپنے عملی کردار کے ذریعے سے پہلے یہ ثابت کرکے دیکھا دیا تھاکہ وہ اپنے فیصلہ سازی میں میرٹ پر سختی سے کار بند رہنے پرکوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور ہمیشہ اپنے آپ کو ملکی قانون کے سامنے جوابدہ بنائیں گے ملکی خزانے کو عوام کی امانت کے حقیقی تصورکو عام کیا جائے گا،قومی خزانے کی ایک ایک پائی کا برابر حساب رکھا جائے گا اورخاص طورپر پاکستان میں جاری جمہوریت میں وراثتی اورحادثاتی لیڈر شپ کی فرسودہ روایات کو ختم کردیا جائے گا ایسے موقعوں پرایک انتہائی شرم اور ذلت کا یہ مقام بھی ہ میں اورآپ کو دیکھنا پڑرہا ہے کہ ماضی میں جن کرپٹ زورآوروں نے اپنی بدمعاش طینت ذہنیت کی فطرت پر مبنی حکمرانیوں کے دور میں جہاں بیورکریٹوں کی کھیپ کی کھیپ تیار کی تھی جو آج موجودہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کےلئے ایک بڑی چیلنج بنی ہوئی ہے وہاں فیک نیوز اور جعلی خبریں گھڑنے والے بکاو قلمکاروں کی ایک بھرمار بھی ان کے پاس بطور قلم بردار کھڑی نظرآتی ہے جو وزیراعظم عمران خان اور اْن کے حکومتی فیصلوں کو نیچا دکھانے کےلئے اپنے طور پر وپیگنڈامہم چلا ئے ہوئے ہے گزشتہ ماہ(جون) میں شاءع ہونےوالے ہفتہ وار جریدے ‘‘فرائی ڈے ٹائمز’’ نے اپنے ایڈیٹوریل میں سال دوہزار انیس ۔ بیس کے مالیاتی میزانئیے پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے جریدے مالک ایڈیٹر کے دل کے پھپھولوں کو پھوڑنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ،یہ کون ہیں سب جانتے ہیں وقت آنے پر راءٹسٹ بن جاتے ہیں لبرل بن جاتے ہیں قوم پرست اور سیکولر بن جاتے ہیں جس انگریزی جریدے کی بات بیان کی گئی وہ کبھی ماضی میں ’امن کی آشا‘کے گلوکار بھی رہے وہ صاحب کیا کیا نہیں رہے ;238; آج کل وہ ایک ہفت روزہ جریدے کے ایڈیٹر ضرور ہیں ، پی سی بی کے چیئرمین اب وہ رہے نہیں اپنے تین ماہ کی عارضی وزارت اعلیٰ ‘کیئر ٹیکروزارت اعلیٰ کے دوران ‘پینتیس پنکچروں ’ کے نام سے جتنی بہت بدنامی اْنہوں نے کمانی تھی سو کمائی جس کا نقدر آور اجر بھی اْنہیں خوب ملا اور گھر میں اب صوبائی اسمبلی پنجاب کی ایک نشست بھی ہاتھ آگئی بحیثیت صحافی ہونے کے ناطے قلم اْن کا ایک آزمودہ ہتھیار تسلیم، مگر قلم کے اپنے کچھ دیانت وصداقت کے تقاضے بھی ہوتے ہیں یقینا ہر اہم قومی وبین الا اقوامی مسئلہ پراْنہیں اپنے لکھنے کی ذمہ داری ضروری پوری کرنی چاہیئے مگر سچائی کا دامن چھوڑے بغیر اْنہیں پاکستانی قوم کو گمراہ کرنے سے اپنے قلم کی روانی کو روکنا ہوگا ہم مانتے ہیں کہ نواز عہد میں اْن کے نام سے ساتھ پینتیس پنکچروں کا بڑا شورہوا تھا اور یوں اْن کے دل میں پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے خلاف چھپا پوا بغض وعناد اور حسد کی رقابت کی وہ آگ ابھی تک اْن کے اندریقینا سلگ رہی ہے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان الا ماشا اللہ اب ملک کے وزیراعظم کے مقتدر عہدے پر فائز ہیں اور اْن کی ٹاورنگ قائدانہ شخصیت سے حسد کرنے والوں کی ملک میں کوئی کمی بھی نہیں اْن کے حاسد آج کل اْن کے خلاف بولنے اور لکھنے پر ایکا کیئے ہوئے خاموش رہنا اْن کی فطرت نہیں ہے عمران خان کی ذات سے اندروانی بغض و حسد کا کینہ ایسوں کے دلوں میں کنڈلی مار ہمہ وقت پھنکارتا ہوا دکھائی دیتا ہے کہتے ہیں کہ حاسد اپنے محسود کو ہمیشہ اپنے زہریلے طنز کے نشانے پر لیئے رہتا ہے اب اْن کے سامنے سال دو ہزار انیس ۔ بیس کا مالی بجٹ آگیا ہے ویکلی فرائی ڈے ٹائمز کے ایڈیٹوریل کا ذکر اس لیئے ضروری سمجھیں وہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت کا یہ بجٹ جمہوری تقاضوں کی عکاسی نہیں کرتا یہ بجٹ ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے سویلین بیورکریسی کو ڈکٹیٹ کرایا ہے، جو انتہائی سخت اور عوام دشمن بجٹ ہے ‘‘خان مخالفت’’ میں اپنی آنکھیں بند رکھنے والوں کے مطابق عوام کواس بجٹ کے مندرجات کے اعداد وشمار کے چکروں میں اکسایا جارہا ہے کہ ایف بی آر نے موجودہ مالی سال کے بجٹ میں سے تقریباً چالیس فیصد جو ایک اعشاریہ پانچ کھرب روپے بنتے ہیں آئندہ بارہ ماہ میں عوام سے زبردستی ٹیکسوں کی صورت میں وصول کیئے جائیں گے یعنی گزشتہ بجٹ سے ٹیکسوں کی مد میں جانے والی مذکورہ رقم زائد ہوگی اور اسکے باوجود ہمارا جی ڈی پی تین اعشاریہ تین فیصد سے اور گھٹ جائے گا حکومت مخالفت سیاسی کرپشنز کے حمایتی کہتے ہیں کہ حکومت کا مسئلہ دوچیزوں سے ہے یعنی جن اخراجات کا تذکرہ خصوصی طور پربجٹ میں کیا گیا ہے جن میں دفاعی اخراجات اور قرضوں پر سود کی ادائیگی کی بات کی گئی ہے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ سودکی ادائیگی پر حکومت کو جو ریونیو ملے گا اْس پر تو پچاس فیصد سے زائد رقم خرچ ہوجائے گی جبکہ دفاعی اخراجات پر چونتیس فیصد خرچ آئے گا یوں یہ موجودہ حکومت عوام کا اعتماد بالکل کھو بیٹھے گی جوحکومت گزشتہ بارہ ماہ میں اپنے ٹارگٹ حاصل نہیں کرپائی اور جوحکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کو نوماہ تک ٹالتی رہی پھر یوٹرن لیا گیا گزشتہ دس برسوں کی ماضی کی سابقہ دوادوار کی حکومتوں نے عالمی اداروں سے جو اربوں ڈالر قرضے لئے وہ ملک میں کن منصوبوں پر خرچ کیئے گئے اس کی تفتیش کےلئے سویلین اور جمہوری نمائندوں کے علاوہ ملکی افواج کے سربراہ کو شامل کرکے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہے فرائی ڈے ٹائمزنے اسی ٹاسک فورس کے بارے میں لکھا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی سربراہی میں قائم ہونے والی ٹاسک فورس میں عالمی اداروں کے نمائندے بھی شامل کیئے گئے ہیں اور یہ جھوٹ ہے اور سچ یہ ہے کہ قوم پوچھنے کا حق رکھتی ہے نیشنل مالیاتی تفتیشی ٹاسک فورس کو بتایا جائے کہ عالمی قرضوں کے اخراجات ملک میں کہاں لگائے گئے;238; عوام کی اکثریت کو قومی ٹیکس نیٹ میں لانا ایک قومی فریضہ ہے ملک میں جمہوری سسٹم رواں دواں ہے ریاستی جبرکی باتیں ،میڈیا اورعدلیہ پر دباءورکھنے جیسی احمقانہ سوچ فاشسٹ طرز کی آمرانہ افواہوں کو پھیلانے والے پاکستان کی بنیادوں کو کھوکھلی کرنے کی ناکام کوششیں کررہے ہیں ملک میں نہ تو ترکی اور مصرجیسا جبروقہر کا کوئی مالی سسٹم آرہا ہے اور نہ ہی ریاستی حساس ادارے رواں جمہوری نظام کے طے کردہ آئینی حدود وقیود کو پار کریں گے پاکستانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے چندروز پیشتر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ماہرین اقتصادیات کے معززین سے خطاب کرتے ہوئے یہ واضح کیاتھاکہ مسلح افواج نے رضاکارانہ طور پر دفاعی بجٹ میں سالانہ اضافہ لینے سے انکار کیا ’اور یہ واحد قدم نہیں جو ہم معیشت کی بہتری کےلئے اٹھا رہے ہیں جنرل قمر جاوید باجوہ کے مطابق مالیاتی بدانتظامی کے باعث پاکستان مشکل معاشی حالات کا شکار ہے انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتیں اس حوالے سے تامل کا شکار رہیں انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت نے دور رس فوائد کےلئے مشکل مگر ضروری فیصلے کیے ہیں اور ہم بھی اپنے عملی اقدامات کے ذریعے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں آرمی چیف نے کہا کہ مشکل وقت میں کوئی فرد تنہا کامیاب نہیں ہوسکتا اس کیلئے قوم کا متحد ہونا ضروری ہے انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے مشکل فیصلوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کےلئے پاکستانی قوم کو مل کر اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے ۔

5لاکھ 25 ہزار آبادی کے لئے ایک ماہر نفسیات

اِس مشینی اور جدیددور میں بُہت ساری آسائشوں اور سہولیات کے باوجود بھی انسان کسی نہ کسی مسئلے کی وجہ سے ڈیپریشن یا ذہنی امراض کا شکارہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اِس وقت پاکستان میں 50ملین یعنی 5 کروڑافراد مختلف قسم کے نفسیاتی امراض اور ڈیپریشن کا شکار ہیں ۔ ڈپریشن ، تناءو یا ذہنی امراض کے علامات میں مسلسل پریشان اور اُداس ہونا،نا اُمیدی کی باتیں کرنا، اپنے آپکو بے یار ومدد گار اور ناتوانامحسوس کرنا، پریشان رہنا،،مختلف سماجی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینا، سیکس کی طرف کم رُغبت ، تھکان، کام میں عدمِ دلچسپی اور عدم توجہی ، حافظے کا کمزور ہونا، غلط فیصلے کرنا، صبح جلدی اُٹھنا یا حد سے زیادہ سونا،وزن کا کم ہونا یا بڑھنا، خودکشی کی کوشش کرنا، موت کو ِسر پر سوار کرنا، بے چینی کی سی کیفیات اور بعض ایسے امراض جو کہ دوائیوں کی مسلسل استعمال سے بھی ٹھیک نہیں ہوتے، مثلاسر درد، معدے اورہاضمے کے امراض وغیرہ یہ ذہنی امراض کی علامات ہیں ۔ عورتوں میں مردوں اور بچوں کی نسبت ڈپریشن یا ذہنی امراض بہت زیادہ یعنی ستر فی صد پایا جاتا ہے ۔ میں جب اپنے آبائی گاءوں صوابی گھو متا پھرتا ہوں تو صوابی کے میں بازار میں مُجھے بُہت سارے ذہنی معذور اور پاگل لوگ نظر آتے ہیں ۔ یہ بے دنیا مافیہا سے بے خبر اپنے دھن میں مگن ہو تے ہیں ۔ یہ میرا تجزیہ ہے کہ گذشتہ 20سالوں میں اس قسم کے ذہنی امراض میں بے تحا شا اضافہ ہوا ۔ اسکی بُہت ساری وجوہات میں ایک وجہ معاشرتی اور سماجی بے انصافی ، بغیر محنت کے خوب سے خوب تر کی تلاش ، ذکر الہی اور دین سے غافل ہونا اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی عوامل ہیں جو ذہنی امراض کا سبب ببنتے ہیں ۔ آبادی کا جو زیادہ طبقہ اس سے متا ثر ہے وہ عورتیں ہیں ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم اس قسم کے مریضوں کا علاج نہیں کرتے بلکہ کبھی اس قسم کے مریضوں کو جا دوگروں ، ٹونے بازوں ، جعلی پیروں ، پیر بابا ، مجذوبوں ، مجنونوں اور کبھی مزارات پر لے کر اُس کو پھراتے رہتے ہیں اور انکی حالت بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہو تی ہے ۔ اگر ہم اسلامی تعلیمات پر نظر ڈالیں تو علاج جو کہ سُنت نبویﷺ ہے ۔ اسکے ساتھ ہ میں تاکید کی گئی ہے کہ ہم خود قُر آن مجید فُرقان حمید کو پڑھیں کیونکہ ان میں شفا ہے ۔ مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم خود اپنے ذھنی مریضوں پر قُر آن اور قُر آنی آیات کے اور علاج کے بجائے نام نہاد پیرعوں عاملوں اور جا دو گروں کے پاس لے جاتے ہیں اور انکے مرض میں مزید اضافہ کرتے ہیں ۔ اور اس قسم کے نفسیاتی مریضوں پر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ پھر اُس کا علاج قطعی نہیں ہو سکتا اور وہ معاشرے کے اچھے پُرزے کے بجائے ایک ناکارہ پُر زہ بن جاتا ہے ۔ اگر ہم مزید عور کر لیں تو اس قسم کے نفسیاتی امراض میں مبتلا مریض عورتیں ہیں اور یہ اسلئے کہ یہ لوگ علاج کے بجائے فضول کامواں میں لگ جاتے ہیں ۔ ما ہر نفسیات کے مطابق اس وقت پاکستان میں ذہنی امراض کی مریضوں کی تعداد 50 ملین یعنی 5کروڑ ہیں اور اس میں انتہائی تیزی کے ساتھ اضافہ ہوتا ہے ۔ اگر ہم مزید غور کر لیں تو وطن عزیز میں 21 کروڑ آبادی کے لئے 400 ماہر نفسیات اور 4 ہسپتال ہیں جو اونٹ کے مُنہ میں ریزے کے مترادف ہیں ۔ یا با الفاظ دیگر پاکستان میں 5لاکھ 25 ہزار مریضوں کے لئے ایک ڈاکٹر ہے ۔ ایک طرح اگر مریض کے لوا حقین ذہنی مریضوں پر جا دو ٹونوں کے تجربے کرتے ہیں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ بعض اوقات ڈاکٹر بھی اس قابل نہیں ہو تے جو اس قسم کے مریضوں کا احسن طریقے سے علاج کر سکیں ۔ ڈاکٹروں کے لئے بھی چاہئے کہ سال میں دو دفعہ کم ازکم ریفریشر کو رس کریں اور سینر ڈاکٹروں پرفیسروں کے زیر نگرانی کام کریں تاکہ انکو اپنے فیلڈ کے بارے میں پورا پورا علم ہو ۔ علاوہ ازیں نفسیاتی امراض کے ڈاکٹروں کو بیرون ملک بھی بھیجنا چاہئے تاکہ وہ ذہنی امراض سے متعلق امراض سے متعلق نئے رُحجانات سے با خبر ہوں ۔ جہاں تک میرا ذاتی تجربہ ہے اس قسم کے ڈاکٹروں میں سے ایک ہوگا جو اپنی فیلڈ کے ساتھ انصاف کر رہا ہوگا ۔ حکومت کو چاہئے کہ انکی استعداد کار کے لئے ڈاکٹروں کا ریفریشر کورس کریں تاکہ ڈاکٹر کی استعداد کار ٹھیک ہو ۔ دوسری میری حکومت اور صاحب ثروت لوگوں سے استد عا ہے کہ جو لا وارث پا گل لوگ بازا روں اور دوسرے جگہوں میں در بد ر کی ٹوکریں کھا رہے ہوتے ہیں ، اُنکے کھانے، سر چھپانے، اُنکے علاج، اور اُنکے نگہداشت کے لئے تحصیل اور ضلع سطح پر دارلکفالہ بنانا چاہئے تاکہ اس قسم کےء مرید بگا ڑ سے بچے رہیں اور ساتھ ساتھ معاشرے کے کا ر آمد شہری بنیں ۔ آقائے نامدار و دوجہان حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ تُم میں بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لئے زیادہ مفید اور اچھا ہو ۔ میری والدین سے بھی گزارش ہے کہ اگر کسی کے بچے کو نفسیاتی عارضہ ہو تو اُسکو جعلی پیروں اور عاملوں کے بجائے ماہر نفسیات کے پاس لے جانا چاہئے تاکہ اُسکا مرض نہ بگڑیں ۔ جس طرح ہ میں نزلہ زکام، بخار، ملیریا اور ٹائی فائیڈ ہو سکتا ہے اس طرح ہ میں ذہنی عارضہ بھی لا حق ہو سکتا ہے ۔ لہٰذاء دوسرے بیماریوں کی طرح اسکا علاج بھی کرنا چاہئے ۔ میں اس کالم کے تو سط سے ایک دفعہ پھر حکومت اور صاحب ثروت لوگوں سے استد عا کرتا ہوں کہ وہ آگے آئیں اور ان کے لئے سویٹ ہوم کے طرز پر جگہیں بنائیں تاکہ یہ معاشرے کے بہترین اور صحت مند شہری بن سکیں ۔

Google Analytics Alternative