کالم

مصنوعی مہنگائی کی ذمہ دار تاجر برادری ہی ہے

وفاقی دارالحکومت سمیت ملک بھر میں جمعرات 11جولائی 2019ء سے ہی تاجر برادری نے مہنگائی کیخلاف ہڑتال کی کال کے بینر لگانا شروع کر دئیے تھے اوریہ بینرز اگلے دو روز میں ہر گلی ،محلہ،شاہراہ سمیت بازاروں میں لگائے جا چکے تھے اور ایسا لگ رہا تھا کہ اس بار پورے پاکستان میں مہنگائی کیخلاف تاجر برادری یکجا ہو کر مکمل ہڑتال کر دیگی جس سے عوام کی مشکلات میں ہونیوالے اچانک اضافے سے حکومت پر دباوَ بڑھے گا اور وہ دکانداروں پر عائد 17%سیل ٹیکس کی شرح کو کم یا ختم کرنے کیساتھ ساتھ شناختی کارڈ کی شرط بھی ختم کر دیگی اور تاجر برادری کو ٹیکس سے چھوٹ مل جائیگی مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا اور مکمل ہڑتال نے جزوی ہڑتال کی جگہ لے لی،جزوی ہڑتال میں بھی کئی دکاندار آدھا شٹر کھول کر اپنی دکانداری کرتے رہے ہاں جہاں پر تاجر تنظیموں کا اثرورسوخ تھا وہاں پر مکمل ہڑتال دیکھنے میں ملی،ناجائز تجاوزات کے خاتمے کے بعد اب تاجر تنظیموں کی اہمیت بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگی ہے،جب میں نے تاجروں کے بینر پڑھے جس پر لکھا تھا کہ ملک میں جاری شدید مہنگائی کے خلاف تاجر برادری کی ہڑتال ۔ بینر پڑھ کر قلم اٹھانے کا فیصلہ کیا تاکہ قارئین سے اپنے کچھ تجربات شیئر کر سکوں ،سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تاجر برادری کو مہنگائی سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی یہ مہنگائی کی وجہ سے سڑکوں پر نکلتے اور ہڑتالیں کرتے ہیں کیونکہ ہم تاجربرادری کی جانب سے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کی ٹریلر ہر رمضان المبارک میں بچپن سے دیکھتے آرہے ہیں مگر یہ کبھی نہیں دیکھا کہ قیمتیں دوگنا کرنے کیخلاف تاجروں نے ہڑتال کی کال دی ہو یا اتنے سنجیدہ ہوئے ہوں جتنا اب اور مشرف دور میں ہوئے تھے ۔ لہٰذا تاجر برادری ضرور ہڑتال کرے مگر اپنے مطالبات کے پیش نظر کرے عوام کو اپنے مفاد پرست کھیل میں نہ دھکیلے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ رمضان المبارک میں تمام سبزی اور پھل سمیت کپڑے و سلائی کے نرخ دوگنا سے تجاوز کر جاتے ہیں اور غریب کا جینا حرام ہو جاتا ہے مگر تاجر ناجائز منافع خوری سے باز نہیں آتے بلکہ ڈھٹائی سے مہنگے داموں گھٹیا کوالٹی کی چیز سینہ تان کر فروخت کر رہے ہوتے ہیں جس کا یہ جو بھی عذر پیش کریں قابل قبول نہیں کیونکہ ہر جگہ تاجر ہی تو بیٹھا ہے تب تو انکو کسی قسم کی ہڑتال یاد نہیں آتی مگر جب حکومت کو ٹیکس دینا پڑ جائے تو یہ ناجائز منافع خوروں کیلئے موت بن جاتا ہے ۔ تاجروں نے 13جولائی کو جو جزوی ہڑتال کی اس کا مقصد مہنگائی نہیں بلکہ دکانداروں پر عائد17فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ شناختی کارڈ کی شرط کو ختم کرانا ہے کیونکہ اس سے انکی سیل ثابت ہو جائیگی ۔ کاش اس ملک کے تاجر عوام سے مخلص ہوتے تو رمضان المبارک میں غریب بھی اپنے بچوں کو روزہ افطار کے وقت کھجور اور پھل دسترخوان پر سجا سکتا ۔ اب ذرا مہنگائی پر ایک نظر ڈالتے ہیں جس کیخلاف تاجر برادری سراپا احتجاج نظر آرہی ہے اور عوام کو گمراہ کر رہی ہے ۔ 9جولائی2019کو میرا اسلام آباد کی منڈی میں جانا ہواجہاں پر اشیاء خوردونوش سن کر میرے ہوش اڑ گئے کہ مہنگائی کا رونا رونے والے ہی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں ،مارکیٹ میں ناقص کوالٹی کا 120روپے فی کلو فروخت کیا جانیوالا آم منڈی میں اعلیٰ کوالٹی کیساتھ 65روپے میں فروخت ہو رہا ہے،لنگڑا اور دوسہری آم کا منڈی میں ریٹ 25سے35روپے فی کلو تھاجو کہ عام مارکیٹ میں 100روپے دھڑلے کیساتھ فروخت کیا جاتا ہے،150روپے والا ناقص کوالٹی کا آڑو منڈی میں بہترین کوالٹی کا 70روپے میں فروخت ہو رہا تھا،درمیانی کوالٹی کا آڑو 40روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا جو کہ عام مارکیٹ میں 100روپے کلو فروخت کیا جاتا ہے،چیری کا ڈبہ عام مارکیٹ میں 350روپے کا فروخت کیا جا رہا ہے جبکہ منڈی میں اسکی قیمت 150روپے تھی،عام دکانوں پر 100روپے فروخت کی جانیوالی کم کوالٹی کی خوبانی منڈی میں اچھی کوالٹی کیساتھ 50روپے فی کلو فروخت ہو رہی تھی اسی طرح 160روپے کلو فروخت کیا جانیوالا لیمن منڈی میں 80روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا،اعلیٰ کوالٹی کا کیلا منڈی میں 60روپے فی درجن تھا،پودینے کی ایک درجن گٹھیوں کی قیمت صرف 30روپے مانگی جا رہی تھی،مارکیٹ میں 40روپے کلو فروخت کیا جانیوالا ٹماٹر منڈی میں 12سے 15روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا(یہاں یہ بات بتاتا چلوں کہ یہ ریٹ منڈی کے دکانداروں کے نہیں بلکہ انہی سے خرید پر منڈی کے تھڑوں پر سامان فروخت کرنیوالوں کے نرخ ہیں ،دکانداروں کے نرخ تو اور بھی کم ہونگے)اسی طرح آلو پیاز اور لہسن سمیت دیگر سبزیوں کی انتہائی کم قیمت میں فروخت منڈی میں دیکھ کر اوسان خطا ہوتے چلے گئے اور یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ دکاندار اسلامی اصولوں کی بنیاد پر اشیاء خوردونوش فروخت نہیں کرتے شائد اسی لیے بے برکتی ہے ۔ معاشرے کو چور ،ڈاکو اور لٹیروں نے نہیں بلکہ انہی ناجائز منافع خوروں نے خراب کیا جن کی مصنوعی مہنگائی کے پیش نظر عام آدمی پیٹ کا دوزخ بھرنے کیلئے جرائم کی دنیا میں قدم رکھتا ہے،کیسی عجیب سی بات ہے کہ ملک میں مہنگائی ہے مگر کسان اسی طرح غربت کی چکی میں پس رہا ہے مگر آڑھتی روز بروز اپنی خزانے کی تجوریوں میں اضافہ کر رہا ہے،کسان آج بھی وہیں کا وہیں مگر تاجر کچھ ہی عرصے میں گھر،گاڑی اور پھر بنگلے خریدنا شرو ع ہو جاتے ہیں ،ایک منٹ کیلئے سوچا جائے کہ ہفتہ وار بازاروں میں اگر ایک سٹال ہولڈر صرف 100کلو آم فروخت کرتا ہے تو وہ خالص10ہزار روپے کا منافع کما کر گھر جاتا ہے مگر اگر حکومت اس میں سے کچھ ٹیکس مانگ لے تو موت پڑ جاتی ہے،فیصل آباد سے 3سو سے4سو روپے میں ملنے والا سوٹ 15سو سے 18سو میں فروخت کرنیوالا تاجر غریب عوام کو لوٹتے وقت ایک لمحے کیلئے بھی نہیں سوچتا کہ اس ناجائز منافع خوری کا اللہ پاک کو کیا جواب دونگا جہاں پر نہ کوئی جھوٹ چلے گا اور نہ ہی کوئی بہانا ۔ میں یہ نہیں کہتا کہ تاجر برادری احتجاج نہ کرے مگر خدارا اپنے دھندے میں عوام کے نام کو نہ گھسیٹا جائے ۔ مجھے تو مشرف دور کی تاجروں کی لمبی لمبی ہڑتالوں کے بعد دکانوں کا کھولنا اور ٹیکس کی ادائیگی کی آمادگی بھی یاد ہے اور پھر راولپنڈی کے سیلاب میں ہونیوالے نقصان بھی یاد ہیں ۔ اللہ پاک کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے مگر جب یہ پڑتی ہے تو پھر کوئی چارہ ،کوئی حیلہ اور کوئی تدبیر کام نہیں آتی،تاجر برادری کو چاہئے کہ وہ ناجائز منافع خوری کی عادت کو ترک کریں اور اس ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے ٹیکس ادا کریں تاکہ اس ملک کے غریب عوام مصنوعی مہنگائی کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کر سکیں ۔

سی پیک پاک چین دوستی کومزیدمستحکم کرنے میں گیم چینجرثابت ہوگا

پاکستان اورچین کی دوستی روز اول سے لازوال اور مضبوط بنیادوں پر قائم رہی ہے، ہرمشکل وقت میں چین نے پاکستان کاساتھ دیا، اب بھی سی پیک کامنصوبہ پاک چین دوستی کی ایک عظیم مثال ہے ، چین کے سفیرودیگروفود سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے بتایا کہ وہ چین کی ترقی سے متاثر ہیں ، اس میں کوئی شک نہیں کہ چین نے جتنے کم عرصے میں معاشی ترقی کی ہے وہ پوری دنیا کےلئے ایک ماڈل اورمثال ہے،چونکہ ہرملک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں اور خطے کی صورتحال بھی اہم ہوتی ہے ، اس اعتبار سے پاک چین دوستی خطے میں بہت اہمیت کی حامل ہے ، یہ جہاں پاکستان کے لئے فائدہ مند ہے وہاں پر چین کے بھی مفادات وابستہ ہیں ، دونوں ممالک مل کرخطے میں ایک نئی تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں ، پاکستان کومشکل معاشی صورتحال سے نکالنے میں چین کا اہم کردار ہے ۔ گزشتہ روز وزیراعظم نے چینی بزنس کمیونٹی کے وفد سے ملاقات کے دوران کہا کہ پاکستان اور چین کی عوام گہری دوستی کے مضبوط بندھن میں بندھے ہیں ، چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، چینی قیادت کے وژن اور تدبر خصوصاً امن و ترقی، گورننس اور عوام کو غربت سے نکالنے کی حکمت عملی سے متاثر ہیں ،چین کے تجربات سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں ،سی پیک منصوبے کے تحت مختلف شعبوں میں طے شدہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا اولین ترجیح ہے، سی پیک منصوبوں پر بروقت عملدر;200;مد کےلئے خصوصی شعبہ قائم کیا گیا ہے ۔ وفد میں سے 55سے زائد مختلف چینی کمپنیوں کے سربراہان شامل تھے ۔ مختلف صنعتوں اور شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی چینی کمپنیوں کے سربراہان کی جانب سے پاکستان میں ;200;ئندہ تین سے پانچ سال میں پانچ ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ۔ سمال اور میڈیم شعبے سے تعلق رکھنے والی چینی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کرنے اور انڈسٹری پاکستان منتقل کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا گیا ۔ چینی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری اور انڈسٹری کی منتقلی کے نتیجے میں پہلے سال پچاس ہزار سے زائد نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے ۔ سی پیک منصوبہ پاکستان چین دوستی کو مزید مستحکم کرنے اور دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی تعلقات کے پوٹییشنل سے بھرپور استفادہ کرنے کے ضمن میں گیم چینجر ثابت ہوگا ۔ سی پیک منصوبے کے تحت مختلف شعبوں میں طے شدہ منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا اولین ترجیح ہے ۔ چینی سفیر نے وفد میں شامل مختلف چینی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع اور چینی کمپنیوں کی دلچسپی کو اجاگر کیا ۔ دوسری جانب وزیرِ اعظم کی زیر صدارت بورڈ آف انویسٹمنٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس ہوا، اجلاس میں مختلف شعبوں میں ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، کاروبار کی راہ میں درپیش رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنے، اسپیشل اکنامک زونز کے قیام، صنعت و حرفت سے وابستہ افراد کو سہولیات بہم پہنچانے اور وفاقی و صوبائی سطح پر کاروباری برادری کےلئے سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کےلئے بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات اور اس ضمن میں مستقبل کے لاءحہ عمل پر غور کیا گیا ، چیئرمین بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے سرمایہ کاری کے حوالے سے مرتب کی جانے والی نئی اسٹرٹیجی برائے 2020-24کا پہلاتجویز کردہ مسودہ بھی وزیر اعظم کو پیش کیا گیا ۔ بورڈ اراکین کی تجاویز کے مطابق مسودے کو حتمی شکل دی جائے گی ۔

مبینہ ویڈیوسکینڈل۔۔۔چیف جسٹس کانوٹس

جج ویڈیو سکینڈل پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے احتساب عدالت نمبر 2کے جج ارشد ملک کو کام کرنے سے روکتے ہوئے ان کی خدمات وزارت قانون کے سپرد کردی ہیں ۔ قائم مقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق کی ہدایت پر رجسٹرار اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت قانون کو سفارش کی ہے جج ارشد ملک پر چونکہ ایک ویڈیو میں متعدد الزامات عائد کیے گئے ہیں لہٰذا ان کو احتساب عدالت کے جج کے عہدے سے ہٹا کر انہیں لاہور ہائی کورٹ کے پیرنٹ ڈیپارٹمنٹ میں واپس بھیج دیا جائے ۔ دوسری جانب وفاقی وزیر قانون و انصاف بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ وزارت قانون نے احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک کو مبینہ ویڈیو اور پریس ریلیز کی بنا پر مزید کام کرنے سے روک دیا ہے، جبکہ ان کی خدمات ان کے اپنے محکمہ لاہور ہائی کورٹ کو واپس کی جائیں گی، چیف جسٹس آصف سعید خان کھوسہ نے احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی انکوائری کیلئے دائر درخواست ایک ہی دن بعد سماعت کے لئے مقررکردی ہے ۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں بنچ 16 جولائی کو سماعت کرے گا ۔ ارشد ملک کی بطور جج احتساب عدالت تقرری وزارت قانون کی طرف سے این اے او 1999کے تحت کی گئی تھی، وزارت قانون کے ذراءع کا بھی یہی کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 203کے تحت اسلام آباد ہائی کورٹ ہی ماتحت عدالتوں کو دیکھتی ہے، احتساب عدالت سمیت خصوصی عدالتیں اسلام آباد ہائی کورٹ کے علاقائی دائرہ کار میں آتی ہیں ، لہٰذا چیف جسٹس ہائی کورٹ اس معاملے میں کوئی کارروائی کرنے کے مجاز ہیں ۔ اسی لیے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے جج کو ہٹانے کی سفارش کی ۔ خیال رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے 24دسمبر 2018 کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کر دیا تھا ۔

چیئرمین ایف بی آر کی ٹیکس بارے وضاحت

چیئرمین ایف بی آر شبرزیدی نے واضح کیاہے کہ تاجروں کی ہڑتال کے پیچھے کون سے کردارکارفرماہیں ،آٹے اورمیدے پرکوئی ٹیکس نہیں لگایاگیا،روٹی مہنگی کرنے اورہڑتال کاکوئی جوازنہیں ، روٹی کی قیمت کو قابو کرنا ضلعی انتظامیہ کی ذمہ داری ہے، خریدوفروخت کے حوالے سے شناختی کارڈ کی شرط برقراررہے گی،چیئرمین ایف بی آرنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مزید کہاکہ شناختی کارڈ کی شرط سیلز ٹیکس رجسٹرڈ صرف 47ہزار افراد کیلئے ہے، دستاویزی معیشت کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کےلئے حکمت عملی مرتب کر لی ہے، ایک کنال گھروں کے مالکان کا ڈیٹا بھی حاصل کیا جارہا ہے ، ایک کینال گھر کے مالکان اور ایک ہزار سی سی یا زائد کے مالکان کے انکم ٹیکس ریٹرن جمع نہ کرانے کی صورت میں کارروائی کی تیاری مکمل ہے ، لاہور ، کراچی سمیت بڑے شہروں کے پوش علاقوں میں بڑے گھروں کے خلاف پہلے کارروائی کی جائے گی ، 17فیصد سیلز ٹیکس وصول کرنے کا اختیار صرف رجسٹرڈ سیلز ٹیکس تاجروں پر ہے اور کسی کو اختیار نہیں کہ وہ سیلز ٹیکس کو خریداری پر وصول کر سکے، بغیر ٹیکس لگائے روٹی کی قیمت بڑھنے کا تعلق ہم سے نہیں ، ذخیرہ اندوز کسی کے نام پر کھیل رہے ہیں ۔ عوام کو بھی چاہیے کہ وہ ٹیکس ادائیگی کے سلسلے میں حکومت سے تعاون کرے ،کیونکہ یہ ملکی ترقی کےلئے انتہائی ضروری ہے ۔

پاک سرحد پر بھارتی فوجی مشقیں

پاک بھارت سرحد پر بھارتی بارڈر سکیورٹی فورسز نے امکانی دراندازی سے نمٹنے کےلئے نے یکم جولائی سے آپریشن ’’ سدھرشن ‘‘ کے تحت مشقوں کا آغاز کیا ۔ اس کےلئے جموں اور پنجاب میں پاکستان کے ساتھ لگنے والی سرحدوں پر جدید ہتھیاروں اور مشینری سے لیس ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے ۔ آپریشن کے دوران فورسز اہلکاروں کو سہارا لے کر دراندازوں کو مار گرانے کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ۔ مشقوں کے دوران بی ایس ایف کے اہلکاروں کو دراندازی پر قابو پانے کے سلسلے میں نئی ترکیبیں فراہم کی جا رہی ہیں ۔ پاک سرحد کے قریب مجوزہ بھارتی جنگی مشقوں سے پاکستان کے بارے میں بھارت کے مذموم عزائم بے نقاب ہوگئے ہیں اور بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے ۔ بھارت کی ان جنگی مشقوں سے بخوبی ظاہر ہو گیا ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ مذاکرات میں ہرگز سنجیدہ نہیں اور وہ مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر پاکستان کو ایک بار پھر دھوکہ دینا چاہتا ہے ۔ گزشتہ 72 برسوں کے دوران میں بھارت نے بارہا پاکستان سے مذاکرات کیے لیکن ہر بار مذاکرات ناکام رہے اور بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ مضبوط کرلیا ۔ پاکستان کی جانب سے بارہا امن مذاکرات اور دوستی کا ہاتھ بڑھائے جانے کے باوجود بھارت اپنی جارحیت سے باز نہ آیا ۔ بھارت پر تاحال جنگی جنون سوار ہے جس کے ہاتھوں مجبور ہو کر بھارتی فضائیہ نے پاکستانی سرحد کے ساتھ بھارتی پنجاب اور مقبوضہ کشمیر میں جنگی مشقوں کا آغاز کرد یا ہے ۔ ان مشقوں میں بھارتی فضائیہ کے طیاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ مشقوں میں فرنٹ لائن ائیر کرافٹس بھی موجود تھے جنہوں نے امرتسر سمیت بارڈر کے ساتھ موجود دیگر اضلاع پر سپر سونک اسپیڈ میں پروازیں کیں ۔ یہ پروازیں پاکستان کی جانب سے کسی بھی دراندازی یا بھارتی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی صورت میں زبردست جوابی کارروائی کی تیاری کے لیے کی گئی ہیں ۔ پاک بھارت کشیدگی میں گزرتے دنوں کے ساتھ کمی تو آرہی ہے لیکن ایسے میں بھارت کا جنگی جنون تشویشناک ہے ۔ بھارتی انتخابات کے بعد سے خیال کیا جا رہا ہے کہ مودی سرکار اپنی جارحانہ پالیسیوں کے تحت پھر سے کوئی ایڈونچر کر سکتی ہے اور بھارتی فضائیہ کی یہ مشقی پروازیں اسی سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتی ہیں ۔ تاہم اْمید کی جا رہی ہے کہ بھارت اب پاکستان میں دراندازی کی کوشش نہیں کرے گا کیونکہ اگر اس بار بھارت نے پاکستان میں دراندازی کی کوشش کی تو پاک افواج بھارت کا 27 فروری سے بھی زیادہ بْرا حال کریں گے ۔ حال ہی میں بھارتی فضائیہ نے کشمیر کے علاقے پلوامہ میں سکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد پاکستان کی سرحد سے متصل ریاست راجستھان میں بڑی فضائی مشقیں کی ہیں جن میں فضائیہ میں شامل ہر قسم کے جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا ہے ۔ یہ فضائی مشقیں پوکھران کے علاقے میں کی گئیں اور ان میں بھرپور فائر پاور کا مظاہرہ کیا گیا ۔ یہ مشقیں کرانے کا منصوبہ بہت پہلے بنا لیا گیا تھا ۔ بھارت جنوبی ایشیاء بلکہ سارے ایشیاء میں اپنا تسلط قائم کرنا چاہتا ہے ۔ سارک ممالک کے بارے میں بھارت کے عزائم اب ڈھکے چھپے نہیں رہے ۔ بھارت بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، سری لنکا، مالدیپ اور پاکستان کو طفیلی ریاستیں بنا کر پورے جنوبی ایشیاء کو اپنے مال کی منڈیاں بنانے پر تلا بیٹھا ہے ۔ بھارت مذاکرات کا ڈھونگ رچا کر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست حاصل کرنے کے خواب دیکھ رہا ہے لیکن پاکستان، مسلم ممالک اور سارک تنظیم کے ممالک بھارت کے مذموم عزائم سے پوری طرح با خبر ہو چکے ہیں ۔ بھارت میں جنگی جنون تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے اور وہ اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے جدید ترین اسلحہ اور ہتھیاروں کے انبار جمع کر رہا ہے ۔ بھارت یہ تمام اسلحہ، جدید طیارے، ٹینک، طیارہ بردار جنگی جہاز، آبدوزیں ، ایٹمی میزائل پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت ڈھرا ڈھر روس، امریکہ، سویڈن، برطانیہ، فرانس سمیت کئی ممالک سے جنگی سازو سامان اور طیارے خرید رہا ہے ۔ ظاہر ہے کہ بھارت یہ ہتھیار چین کے خلاف استعمال نہیں کر سکتا کیونکہ وہ چین کے ساتھ تعلقات معمول پر لانا چاہتا ہے ۔ کچھ عرصہ قبل بھارت نے برطانیہ کے ساتھ مل کر مقبوضہ کشمیر کے علاقے لداخ میں مشترکہ فوجی مشقوں کا آغاز کیا تھا ۔ پاکستان نے بھارت سے احتجاج کرتے ہوئے یاد دلایا کہ مقبوضہ کشمیر عالمی سطح پر ایک متنازعہ علاقہ تسلیم کیا جاتا ہے ۔ اس لئے اس پر بھارت اور برطانیہ کی مشترکہ مشقیں جائز نہیں ۔ اس سلسلے میں پاکستان نے بھارت اور برطانیہ دونوں سے احتجاج کیا ۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں بھی موجود ہیں بھارت مسائل حل کرنے پر آمادہ نہیں ۔ مذاکرات کے ادوار میں بھارت نے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنے کا کوئی موقع نہیں گنوایا ۔ اقوام متحدہ اور دنیا کے ہر قابل ذکر فورم میں اس حوالے سے درجنوں مباحثے ہو چکے ہیں اور متعدد مرتبہ بھارتی حکومت کی طرف سے مظلوم کشمیریوں پر ظلم و ستم اور اقوام متحدہ میں کشمیر کے حوالے سے موجود قراردادوں پر عمل پیرا نہ ہونے کا رونا رویا جاتا ہے ۔ بجائے اس کے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں حالات سنوارتا اور کشمیریوں کو ان کے حقوق دیتا ا س نے برطانیہ کے ساتھ مل کر جنگی مشقوں کا منصوبہ بنایا جو نہ صرف پاکستان کے لئے تشویش کا باعث بنیں بلکہ کشمیریوں کے لئے ایک وارننگ سے کم نہیں تھیں ۔ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر رکھنا چاہتا ہے لیکن پاکستان کسی بھی صورت بھارت کی جانب سے جنوبی ایشیاء میں عدم توازن پیدا نہیں ہونے دیگا اور اپنی دفاعی ضروریات کا ہمیشہ خیال رکھے گا ۔ بھارتی قیادت کو جنگی جنون ترک کر کے پاکستان کے ساتھ نہ صرف اپنے تعلقات معمول پر لانا ہوں گے بلکہ بھارتی رہنماؤں کو مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات پرامن طور پر حل کرنا ہوں گے ۔

معاشی مسائل پر تمام تر توجہ مرکوز کی جائے

گزشتہ بہتر برسوں میں پاکستان اور بھارت کے آپسی تعلقات کیسے رہے ہیں یہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ ہر کوئی بخوبی جانتا ہے کہ ان تعلقات کو اتار چڑھاءو کا نام دینا بھی مشکل ہے کیونکہ زیادہ تر ان دونوں ممالک میں تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں ۔ اگرچہ اس ضمن میں مختلف اوقات میں بہتری کی کوششیں متعدد بار ہوتی رہیں یوں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مارچ 1977 میں جب مرار جی ڈیسائی نے بھارتی وزارت عظمی کا منصب سنبھالا تو اس کے بعد کے 27 ماہ کو ہی پاک بھارت باہمی تعلقات کا نسبتاً بہتر عرصہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا کہ اسی دوران پاکستان کی جانب سے مرار جی ڈیسائی کو وطن عزیز کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان دیا گیا تھا ۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ موصوف واحد شخصیت ہیں جنھیں پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ نشان پاکستان اور بھارت رتن حاصل ہوئے ۔ یاد رہے کہ مرار جی ڈیسائی نے اپنے منتخب ہونے کے فوراً بعد راء کے بجٹ میں تقریباً نصف حد تک کٹوتی کر دی تھی ۔ اس کی وجہ انھوں نے بیان کی کہ را جنوبی ایشیا میں امن کے قیام میں رکاوٹ ہے اور اس کے طرز عمل کی وجہ سے بھارت کے تعلقات خطے کے ممالک سے بہتر نہیں ہو رہے ۔ بہرکیف بھارت میں انتخابات کا عمل مکمل ہوا ۔ نتاءج کے اعلان کے مطابق بی جے پی نے کامیابی حاصل کی ۔ پانچ سالوں میں تو مودی نے اقتدار سنبھالنے کے روز اول سے ہی گویا طے کر لیا تھا کہ ہندوستان کے اقتصادی مسائل چونکہ انتہائی زیادہ ہیں اس لئے اس ضمن میں کوئی بڑی پیشرفت ان (مودی)کےلئے تقریبا ناممکن ہے، لہٰذا عیاری پر مبنی سفارت کاری کے ذریعے دنیا بھر میں یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان ہی علاقے میں تمام تر مسائل کا ذمہ دار ہے ۔ اپنے اسی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر مودی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے چند گھنٹوں میں ہی پہلا حکم انڈین انٹیلی جنس بیورو کے سابق چیف اجیت ڈووال کو بھارتی قومی سلامتی کا مشیر مقرر کرنے کا جاری کیا اور پھر یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا جو تاحال پوری شد و مد سے چل رہا ہے ۔ کسے معلوم نہیں کہ اجیت ڈووال ہی وہ شخصیت ہیں ، جنھوں نے افینسیو ڈیفنس کی اپنی نام نہاد تھیوری پر عمل پیرا ہونے کا فخریہ طور پر اعلان کیا اور اپنے قول و فعل سے اس پر عمل کر کے دکھانے کی بھی ہر ممکن سعی کی ۔ اس ضمن میں آنجہانی بھارتی وزیر دفاع منوہر پریارکر نے بھی ایک سے زائد مرتبہ کانٹے سے کانٹا نکالنے کی اپنی پالیسی کا اظہار کیا ۔ اس سے موصوف کی مراد یہ تھی کہ پاکستان کے اندر دہشت گردی کو منظم ڈھنگ سے فروغ دیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں بھارتی وزیر مملکت برائے اطلاعات راجیو وردن اور سابق انڈین آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ اعتراف اور انکشاف کر چکے ہیں کہ پاکستان کو اندر سے ہی نقصان پہچانے کی ہر ممکن سعی کی جائے گی ۔ پچھلے چند سالوں میں جس طرح سے را اور این ڈی ایس کے ذریعے منگلا ڈیم سی پیک ، پولیو اور سابقہ فاٹا کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں ، یہ بھارت کی اسی مکروہ روش کا تسلسل ہے ۔ خطے کے بعض دیگر ممالک بھی وقتا فوقتا بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے اس ضمن میں اپنا حصہ ڈالتے چلے آ رہے ہیں ۔ اس حوالے سے داعش کا نام بھی جس طرح سامنے آ رہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ساری قوتیں مل کر وطن عزیز کے خلاف سہولت کار کا کردار ادا کر رہی ہیں اور یوں یہ بھارتی ریشہ دوانیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں ۔ حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ پاکستان کی تمام تر حکومتیں کہہ چکی ہیں کہ پاکستان بھارت کیساتھ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ پر کسی بھی سطح کے مذاکرات شروع کرنے پر ہمہ وقت تیارہے ۔ مگر چونکہ دہلی کا حکمران ٹولہ اس حوالے سے سنجیدہ نہیں لہٰذا یہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد دہلی کی جانب سے کسی نہ کسی بہانے سے توڑ دیا جاتا ہے اور معاملات پھر جمود کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ مذاکرات کی کوشش کو اگرچہ جاری رکھا جائے مگر اس حوالے سے کسی مثبت نتیجے کی امید نہ رکھی جائے ۔ دوسری جانب پاکستان کے معاشی مسائل پر تمام تر توجہ مرکوز کی جائے ۔ اسی کیساتھ ساتھ بھارتی دیرینہ روش کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قومی سلامتی کے تقاضوں کی جانب سے کسی قسم کی غفلت اور تساہل ہر گز نہ برتا جائے اور اس بھارتی ففتھ جنریشن وارفیئر کا خاطر خواہ جواب دیا جائے ۔

مقبوضہ کشمیر میں ظلم و ستم کی ہولی جاری

جہاد اسلام میں ایک مذہبی فریضہ ہے بلکہ اسلام کی ساری عبادات مسلمانوں کو اس عظیم کام کےلئے تیار کرتی ہیں جس کا نام جہاد ہے ۔ صرف کلمہ پڑھ کر، نماز ادا کر کے، زکوٰۃ دے کر، رمضان کے روزے رکھ کر اور صاحب نصاب ہوتے ہوئے زندگی میں ایک بار حج کر کے بندہ مسلمانوں کی لسٹ میں توشمار ہو سکتا ہے مگر مومن تب بن سکتا ہے جب خلیفہ ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے جہاد فی سبیل اللہ کے حکم پر عمل کرے ۔ اللہ کی زمین پر اللہ کا کلمہ بلند کرے ۔ شاعر اسلام علامہ شیخ محمد اقبال;231; نے کیا نقشہ کھینچا: ۔

ہر لحظہ ہے ،مومن کی، نئی شان، نئی آن

گفتار میں ،کردار میں ، اللہ کی برہان

مسلمان کو اللہ نے اپنی اس زمین پر خلیفہ بنایا ہے ۔ خلیفہ جیسے دنیوی حکومتیں اپنے اپنے ملک کے صوبوں میں گورنر تعینات کرتی ہیں ۔ کائنات اللہ نے بنائی ہے اور اس کو اللہ ہی چلا رہا ہے ۔ کائنات پر اللہ کی مکمل حکومت ہے ۔ زمین کو اللہ کی کل کائنات کا اگر ایک صوبہ تصور کریں تو یہ بات صحیح سمجھ آ سکتی ہے ۔ اس فلسفہ کو ذہن میں رکھیں کہ انسان اللہ کی زمین میں اللہ کا خلیفہ (’نمائندہ) ہے ۔ اس کا کام اللہ کے قوانین کو اللہ کے بندوں پر نافذ کرنا ہے ۔ کہیں بھی مسلمانوں پر ظلم ہو رہاہو تو ان کی مدد کے لیے اُٹھ کھڑا ہونا ہے ۔ اللہ نے جہاد فی سبیل اللہ کا حکم تب دیا ۔ جب کفار مکہ نے مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرتے ہوئے گھروں سے نکال دیا ۔ مسلمان مکہ سے مدینہ مسلمان ہجرت کے مدینہ چلے گئے ۔ جب سے دنیا قائم ہے جہاد ہوتا رہا ۔ رہتی دنیا تک جہاد ہوتا رہے گا ۔ یہی کا م ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرتے رہے ۔ قرآن کے مطابق پیارے پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری بنی ہیں ۔ ان کے بعد کوئی نبی ;174; نے نہیں آنا ۔ لہٰذایہ کام امت مسلمہ نے کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا کہ’’اورتم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا(البقرۃ: ۰۹۱) جہاد کے معنی کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اپنی انتہائی کوشش کرنا ہے ۔ جنگ کے لیے تو قتال کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔ مجاہد وہ ہے جو ہر وقت اللہ کے دین کو قائم رکھنے کے لیے جدوجہد کرتا رہے ۔ اس جدو جہد میں جان بھی چلی جائے تو خوشی سے برداشت کرلیتاہے ۔ دوسری جگہ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ:آخرکیاوجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں ، عورتوں اوربچوں کی خاطر نہ لڑو، جو کمزور پاکر دبا لیے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مدد گار پیدا کر دے ۔ (سورۃ النساء:۵۷) کیا اب کئی ملکوں ، خصوصاً مقبوضہ کشمیر میں ایسی صورت حال نہیں کہ مسلمانوں کو مار پیٹا جارہا ہے ۔ ان کی عورتوں کی عزتیں لوٹی جارہی ہیں ۔ ان کے نوجوانوں پر پیلٹ گنیں چلا کر اندھا کیا جارہا ہے ان کے مزاروں کو بارود سے اُڑایا جارہا ہے ۔ ان کی زرعی زمینوں ِ باغات اور رہائشی مکانات کو گن پاءوڈر چھڑک کر جلایا اور بارود نصب کر کے اُڑایا جا رہا ہے ۔ ہمارے پڑوس میں مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پر ۷۴۹۱ء سے بت پرست ہندو ظلم و ستم کے پہاڑتوڑ رہے ہیں ۔ کشمیر کے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر عمل نہیں کرنے دیا جارہا ۔ وہ کہتے ہیں آزادی کا مطلب کیا’’ لا الہ الا اللہ‘‘ ہم پاکستان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں ۔ وہ ہر سال پاکستان کے یوم آزادی کے میں شریک ہوتے ہیں ۔ بھارت کے یوم آزادی پر سیاہ جھنڈے لہر کر یوم سیاہ مناتے ہیں ۔ تکمیل پاکستان کی جد وجہد میں اب تک لاکھوں شہید ہو چکے ہیں ۔ فلسطین میں مسلمانوں کے گھروں پر یہودی نے ناجائز قبضہ کر لیا ہے ۔ ان کو گھروں سے نکال دیا ہے ۔ وہ دنیا میں تتر بتر ہو گئے ۔ جو فلسطینی، فلسطین میں یہودی قابض فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ ان پر بمباری ، راکٹ اور ٹینکوں سے حملے کیے جاتے ہیں ۔ ان کی بستی غزہ کو یرغمال بنایا ہوا ہے ۔ غزہ کو لوگ دنیا کا سب سے بڑا قید خانہ مانتے ہیں ۔ اس قید خانہ کے لئے باہر سے غذا، دوائیاں ، پانی اور انسانی ضروریات کی اشیا کچھ بھی نہیں آنے دیا جارہاہے ۔ جو کچھ اسرائیل کے یہودی غزہ کے قیدیوں کو دیتے ہیں اسی پر گزارہ کرنا پڑتا ہے ۔ ظلم کی انتہا ہے کہ ایک دفعہ ترکی سے ایک بحری جہاز غزہ کے قیدیوں کے لیے انسانی ہمدردی کے تحت سامان ِ ضروریات لے کر اسرائیل پہنچا ۔ اس جہاز میں دنیا کے انسانی حقوق کے نمائندے بھی شامل تھے ۔ امریکا کی ناجائزولاد اسرائیل کے فوجیوں نے کھلے سمندر میں غیر مسلح جہاز پر حملہ کیاجس میں کچھ کو شہید ہوئے اور کچھ کو قید کر لیا گیا ۔ بعد میں ترکی نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلوقات ختم کر دیے ۔ ترکی کے پریشر پر اسرائیل نے معافی مانگی ۔ اس کے علاوہ مصر ، الجزائر،برما، چیچنیا،بوسینیا ، عراق، افغانستان اور عرب بہا ر کے موقع پر افریقی اور وسط ایشا کے مسلمان ملکوں میں استعمار نے دہشت گردی پھیلائی ۔ مظالم کی ایک لمبی کہانی ہے جو ایک مضمون میں مکمل نہیں ہوسکتی ۔ کیا حکمرانوں نے مسلمانوں پر اس ظلم و ستم ، سفاکیت اورتباہی کے متعلق کبھی تحقیق کی ہے ۔ بات یہ ہے استعمارِ جدید نے سارے اسلامی ملکوں کو ایک جدید قسم کی غلامی میں چھکڑا ہوا ہے ۔ کیا اس موقعہ پر اسلام مسلمانوں کی کچھ رہنمائی کرتا ہے;238; جی کرتا ہے ۔ مسلمانوں کو اپنی اصل کی طرف پلٹنا ہو گا ۔ جس کی وجہ سے مسلمانوں نے بنو امیّہ کے دور حکومت میں نناویں (۹۹) سالوں کے اندر اندر اس وقت کے موجود، دنیاکے چار براعظموں کے بڑے حصہ پر اسلامی پرچم لہرا دیا تھا ۔ ان براعظموں کے مظلوم عوام پر اس وقت قیصر اور کسریٰ، یعنی روم ( مشرک عیسائی) اور مجوسیوں ( آتش پرست پارسی) کی حکومتیں تھیں ۔ مسلمان کی طاقت صرف اور صرف جہاد فی سبیل اللہ میں تھی ۔ جہاد فی سبیل اللہ کیا ہے;238; اسلام کا وسیع مطالعہ بتاتا ہے کہ قوم ،وطن، علاقوں پر علاقعے فتح کرنے ، خزانوں حاصل کرنے کےلئے لڑائی جہاد فی سبیل اللہ نہیں ۔ یہ دنیا کےلئے لڑائی ہے بلکہ مسلمان، اللہ کا اس زمین پر خلیفہ ہونے کے ناطے مسلمانوں یا اللہ کے بندوں پر کہیں بھی جب ظلم و ستم ہو رہا ہو تا ہے، ان کی آزادی ور انصاف دلانے کے لیے لڑا جائے تو وہ جہاد فی سبیل اللہ ہے ۔ کشمیر اور فلسطین جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے ہی آزاد ہو سکتے ہیں ۔ اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کو پھر سے پہلے والا جہادی مسلمان بنا دے ۔ پھر ساری دنیا کے مسلمان جدید استعمار، چاہے وہ یہودی، عیسائی یابت پرست ہندو ہو، مکمل آزادی نصیب فرمائے گا آمین ۔

کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دی جائیں

صنعت ، زراعت اور سروس کسی ملک کی ترقی اور خو شحالی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ پچھلے سال گنے کے سیزن میں کسان مل مالکان گنا نہ لینے کی صورت میں یہ فصلیں جلاتے تھے اور اب پنجاب کے مختلف علاقوں میں کسان آلو کی فصل کو مناسب قیمت نہ لینے پر سڑکوں کے کنارے پھینک کر احتجاج کا اظہار کر ہے ہیں ۔ اسی طرح گندم کے موسم میں حکومت کسانوں اور ہا ریوں سے گندم نہیں خریدتے ۔ کتنی افسوس کی بات کہ پاکستان کو زرعی ملک کہتے ہیں مگر ہماری حکومت کسان ، ہاری اور زمین دار کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ۔ ابھی خیبر پختوں خوا میں گُڑ کا سیزن ہے مگر گُڑ کی قیمت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ایک تو زراعت بُہت مہنگی ہوگئی ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ جو پیداوار وہ پیدا کر رہے ہیں کسانوں کو اچھے اور معقول نرخ دینے کے بجائے کسان اسکو احتجا جاً جلاتے اور ضائع کرتے ہیں ۔ یپاکستان کی آبادی تقریباً 21 کروڑ کے لگ بھگ ہے ۔ پاکستان کے تقریباً 60 فیصد لوگ زراعت سے وابستہ ہے ۔ موجودہ اعداد وشمار کے مطابق 4 کروڑ زراعت سے وابستہ ہیں ۔ زراعت کے شعبہ سے وابستہ چا ر کروڑ لوگوں کو روز گار میسر ہے مگر بڑے دکھ کی بات ہے کہ وطن عزیز میں زراعت کے ساتھ سوتیلی ماں والا سلوک کیا جاتا ہے ۔ پاکستان چک پیا کی پیداوار میں دنیا میں تیسرے نمبر پر، خوبانی کی پیداوار میں چھٹے نمبر پر، کا ٹن یعنی روئی کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر، دودھ کی پیداوار میں چوتھے نمبر پر، کھجور کے پیداوار میں پانچویں نمبر، پیاز کی پیدوار میں ساتویں نمبر پر، کینو کے پیدوار میں چوتھے نمبر پر ، گندم میں ساتویں نمبر پرچاول کی پیداوار میں ۱۱ ویں نمبر پر ۔ پاکستان میں اعلیٰ معیار کا ٹوبیکو اور ورجینیا بھی صوابی اور خیبر پختون خوا کے مختلف علاقوں میں پیدا ہوتا ہے ۔ پاکستان کا گنا بھی دنیا میں اعلیٰ قسم کا ہے ۔ علاوہ ازیں پاکستان کا کل رقبہ8لاکھ مربع کلومیٹر ہے ۔ جس میں صرف2یا ڈھائی لاکھ مربع کلومیٹر میں پاکستان ، پاکستان کے شہر اور زرعی ز میں میں ہیں جبکہ ۵ لاکھ مربع کلومیٹر سے زیادہ رقبہ بنجر ہے اور یا اس میں پہاڑ ہے ۔ بھارت اپنے ملک کی کل آمدنی کا 2;46;5فیصد جبکہ پاکستان اپنی ملک کی کل آمدنی کا 0;46;4فیصد خرچ کر رہا ہے جو بھارت سے 7 گنا کم ہے ۔ بھارت اپنے کسانوں کو 40ارب ڈالر کی سبسڈی دے رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارت کی زرعی اجناس کی قیمتیں پاکستان کی نسبت 15سے لیکر 20 فیصد تک کم ہے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان بھارت کی کم لاگت پر حا صل کی گئی زرعی مصنوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتا ۔ بھار ت میں کسانوں کو ٹیو ب ویلوں کے لئے مفت بجلی دی جاتی ہے ۔ بھارت میں ڈی اے پی کھادکی قیمت 1100 روپے ہے جبکہ پاکستان میں ڈے اے پی کھاد کی قیمت 3500 روپے ہے ۔ اسکے بر عکس پاکستان میں زراعت کے لئے بجلی، کھاد، بیج بُہت مہنگی ہیں اور اس پر بُہت زیادہ انڈائریکٹ ٹیکس عائد ہے جسکی وجہ سے کسان اور زمیندار پر مزید بوجھ بڑھتا جا رہا ہے ۔ پاکستان میں زراعت کی طر ف توجہ نہ دینے کی صورت میں زرعی زمینیں ہاءوسنگ سوساءٹیوں میں تبدیل ہو رہی ہیں اور پاکستان کے تمام حصوں میں پراپرٹی کی قیمتوں میں انتہائی اضافہ ہوا ہے ۔ کیونکہ پاکستان کے کسانوں کو زراعت میں کوئی مستقبل نظر نہیں آ رہی ہے جسکی وجہ سے وہ اپنی زمینوں کو پراپرٹی کے بزنس میں تبدیل کر رہے ہیں اور یہی حال آج کل ملک میں صنعت کاروں کا بھی ہے ۔ وہ بھی صنعتوں کے فروع کے بجائے پراپرٹی بزنس میں لگے ہوئے ہیں ۔ بدقسمتی سے پاکستان کے 60 فیصد پالیمینٹیرین کا تعلق دیہاتی علاقوں سے ہے مگر بد قسمتی سے یہی قانون ساز دیہاتی علاقوں اور زراعت سے وابستہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ نہیں کر رہے ہیں اور وہ شہری علاقوں کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کر رہے ہیں ۔ اگر ہم تجزیہ کریں تو پاکستان کی مینو فیکچرنگ اور زرعی صنعت موجودہ حکومت کی منفی پالیسیوں کی وجہ سے زوال اور ابتری کا شکار ہے ۔ پاکستان باہر اور بالخصوص بھارت سے زرعی اور خو راکی اجناس منگوا رہے ہیں ۔ جب تک پاکستان کی حکومت کسانوں کو کو سبسڈی نہیں دے گی اُس وقت تک پاکستان کی زرعی مصنوعات کی قیمتیں کبھی بھی کم نہیں ہونگی اور ہم اپنے پڑوسیوں اور بالخصوص بھارت سے کبھی بھی عالمی ما رکیٹ میں مقابلہ نہیں کر سکیں گے ۔ آج سے کچھ عر صہ پہلے پاکستان کی کپاس، چاول ، کینو ، آم ، تمباکو اور دوسری زر عی اجناس باہر بھیج کر قیمتی زر مبادلہ کما یا جاتا تھا، مگر بد قسمتی پاکستان کی خراب اور ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے اب پاکستان کی ان پروڈکٹ کی ڈیمانڈ میں انتہائی کمی واقع ہو رہی ہے اور اس طرح پاکستان قیمتی زر مبادلہ سے محروم ہو رہا ہے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے حا کموں کو چاہئے کہ وہ پاکستانی کسانوں کو سبسڈائز ریٹس پر کھاد اور دوسری انکی ضرورت اشیاء دیں اور بجلی کی قیمتوں ، پٹرول کی قیمتوں ، ٹریکٹر کی قیمتوں میں کمی کر دیں تاکہ زراعت سے وابستہ لوگ اس پیشے اور صنعت سے نہ بھاگنے پائیں اور اپنی زمینوں کو پلازوں اور پلاٹوں میں تبدیل کرنے سے باز رہیں ۔ بھارت پاکستان کو سالانہ ڈھائی ارب ڈالر کی چیزیں بر آمد کرتا ہے جس میں زیادہ تر زرعی اجنا س شامل ہے ۔ جبکہ اسکے بر عکس پاکستان بھارت کو صرف 50 کروڑ ڈالر کی چیزیں بر آمد کرتا ہے جو بھارت کے مقابلے میں بُہت کم ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر کہ سبسڈائز چیزوں کی وجہ سے بھارت میں فی ایکڑ پیدوار پاکستان سے کافی زیادہ ہے ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے حکومت کو چاہئے کہ وہ زرعی مد میں کسانوں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور انکو مجبور نہ کریں کہ وہ اس اہم پیشے کو چھوڑیں ۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ کسانوں ، ہاریوں اور زمینداروں کو مجبور نہ کریں کہ وہ کچھ ایسے اقدام کریں جس سے ملک اور قوم کو نُقصان پہنچے ۔

تاجروں کی ہڑتال کے پس پردہ اصل محرکات

حکومت کی جانب سے ٹیکس کے اقدامات اور خریدوفروخت کے سلسلے میں شناختی کارڈ کی لازمی شرط کیخلاف ملک بھر میں تاجر برادری میں سخت غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس کی وجہ سے انہوں نے ہڑتال کی کال دیدی ہے، اب یہ ہڑتال کیوں ہورہی ہے، کون کرارہا ہے، کس وجہ سے ہورہی ہے اس کے پس پردہ اصل محرکات کیا ہیں ، کس کے کیا عزائم ہیں ، کون اپنا کاروبار بچانا چاہتا ہے، کون صنعتوں اور فیکٹریوں کے ورکرز کو استعمال کررہا ہے، اصل فائدہ کس کو ہوگا، یہ وہ تمام سوالات ہیں جن کا حکومت کو تفصیل سے جواب دینا چاہیے اور جو بھی حکومتی ترجمان ہے وہ میڈیا پر آکر عوام کو اصل حقائق سے آگاہی کرائیں تاکہ انہیں پتہ چل سکے کہ یہ حکومتی اقدامات ان کے کتنے فائدے میں ہے اسی سلسلے میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہاہے کہ تاجروں کی ہڑتال کا کوئی جواز نہیں بنتا، ہم مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں ، اگر وہ اس کے باوجود ہڑتال کرنا چاہیں تو ان کی مرضی، تاجروں کے معاملے پر فرنٹ پر کوئی اور ہے اور پیچھے کوئی اور ۔ ہم تمام معاملات بخوبی سمجھتے ہیں ، پاکستان کو چیلنجز کا سامنا ہے ، ڈیڈ لاک پیدا نہیں کرنا چاہتے مسائل کو طریقے سے حل کرنے کے خواہاں ہیں ۔ کامیاب ہوگئے تو ٹھیک ورنہ اللہ مالک ہے ۔ تاجروں کا احتجاج کرنا ان کا حق ہے لیکن ایف بی آر شناختی کارڈ فراہمی کی شرط کو واپس نہیں لے گا، عام صارفین کیلئے پچاس ہزار روپے سے زائد خریداری پر شناختی کارڈ فراہم کرنے کی شرط ہے جبکہ کاروباری افراد کیلئے تمام قسم کی باہمی خریداری پر شناختی کارڈ لازمی قرار دیا گیا ہے ۔ دراصل اس کا مقصد معیشت کو دستاویزی بنانا ہے، شناختی کارڈ کی شرط کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کا ہوگا ۔ ہم یہاں وزیراعظم کو کہیں گے کہ آپ کا یہ فیصلہ انتہائی مستحسن ہے اس سلسلے میں آپ نے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹنا کیونکہ یہی بنیادی نکتہ ہے جس سے ٹیکس جمع کرنے میں اضافہ ہوگا اور لوگ زیادہ سے زیادہ ٹیکس نیٹ میں آئیں گے ۔ نیز ٹیکس چوری کا بھی خاتمہ ہوگا ، جو لوگ ، سرمایہ دار، صنعت کار یا دیگر بڑے بڑے کاروباری حضرات مختلف طریقوں کو اپناتے ہوئے ٹیکس بچاتے ہیں ان کیلئے اب دروازے بند ہو جائیں گے ۔ یہاں پر وزیراعظم کو بلند حوصلے ، ہمت اور عزم کا مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ ہ میں معلوم ہے کہ کپتان جس بات پر ڈٹ جائے اس سے پیچھے نہیں ہٹتا جیسا کہ کرپشن کے سلسلے میں انہوں نے کہاکہ اس کو ہر صورت میں ختم کرنا ہے ، منی لانڈرنگ کے بارے میں بھی ان کے اسی طرح کے مصمم ارادے ہیں لہذا ہم کہیں گے شناختی کارڈ کی شرط کے سلسلے میں بھی وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند ثابت ہوں یہی ان کی سب سے بڑی کامیابی اور سرمایہ دارانہ نظام کی شکست ہوگی ۔ دراصل بات یہ ہے کہ یہ آجر اوراجیر کی جنگ نہیں یہ صرف سرمایہ دار، بڑے بڑے صنعت کاروں کی جنگ ہے وہ محض اپنی ٹیکس چوری کو بچانے کیلئے ورکروں کو نکال کر ملک میں بیروزگاری اور انارکی پھیلا رہے ہیں اس شر سے نہ تو دکاندار کا نقصان ہے نہ ہی خریدار کا صرف بات یہ ہے کہ جو چیز بھی خریدی جائے گی وہ دستاویزی صورت میں دستیاب ہوگی اگر ایک فیکٹری سے ایک خاص تعداد میں مال نکلتا ہے اور مارکیٹ میں اس سے زیادہ فروخت ہوتا ہے تو یہ شناختی کارڈ کی شرط بتا دے گی کہ فیکٹری سے کتنا مال ٹیکس کی ادائیگی کی مد میں نکلا ہے اور کتنا مال ٹیکس چوری کی مد میں نکالا گیا ہے یہاں سے ہی ان کی گردنوں کے گرد گھیرا تنگ ہوگا ۔ اسی وجہ سے بڑے بڑے سرمایہ کار سخت پریشان ہیں لہذا حکومت کو اپنے فیصلے پر ڈٹے رہنا چاہیے ۔

چیئرمین سینیٹ، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے

وزیراعظم عمران خان سے چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے ملاقات کی ،وزیراعظم چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی ناکامی کیلئے پراعتماد ہیں اور انہوں نے صادق سنجرانی کو ڈٹ جانے کا مشورہ دیا ہے ۔ وزیراعظم کا صادق سنجرانی کو کہنا تھا کہ ;200;پ ہاءوس کو شاندار انداز میں چلا رہے ہیں ، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کو ہم سب ملکر ناکام بنائیں گے ۔ چیئرمین سینٹ نے بھی اپوزیشن کی تحریک سے متعلق وزیراعظم سے مشاورت مکمل کر لی ہے ۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جمہوریت کا راگ الاپنے والے بتائیں چیئرمین سینٹ کو ہٹانے کی کوششیں کون سی جمہوری اقدار ہیں ۔ مفاد پرست لوگ جمہوریت کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔ ادھراپوزیشن جماعتوں کی رہبر کمیٹی نے بلوچستان سے نیشنل پارٹی کے رہنما میر حاصل خان بزنجو کو چیئرمین سینیٹ کےلئے متفقہ طور پر اپنا امیدوار نامزد کردیا ۔ اس بات کا فیصلہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی کی سربراہی میں ہونے والے رہبر کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا ،شہباز شریف اورنیئربخاری نے چیئرمین سینیٹ کا امیدوار نامزد ہونے پر حاصل بزنجوکو مبارکباد دی ہے، مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف نے بھی میر حاصل بزنجو کو چیئرمین سینیٹ بنانے کے فیصلے پر اعتماد کا اظہار کردیا جبکہ اکرم درانی نے کہاہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں حاصل بزنجوکو ووٹ دیں گی اوران کو اپنا امیدوار مان کر ان کی جیت کی کوشش کریں گی، میر حاصل خان بزنجو کے نام پر کسی بھی پارٹی نے اختلاف نہیں کیا، ریکوزیشن جمع کرانے کے بعد اب چیئرمین سینیٹ 14 دن کے اندر اجلاس بلانے کے پابند ہیں ۔

نیاپاکستان ہاءوسنگ اسکیم اسلام آباد زون فور کا سنگ بنیاد

وزیراعظم عمران خان نے اسلام ;200;باد کے زون 4 میں نیا پاکستان ہاءوسنگ سکیم کے تحت 18 ہزار 500 گھروں کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے غریب اور نادار طبقات کو چھت کی فراہمی ان کا خواب ہے، نیا پاکستان ہاءوسنگ منصوبہ کے تحت معاشرے کے کمزور بالخصوص چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لئے اپنی چھت کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، حکومت نجی شعبہ کے ساتھ مل کر شہروں کی کچی بستیوں کے مکینوں کو سہولیات کے ساتھ گھروں کی فراہمی کو ممکن بنائے گی، گھروں کی تعمیر کیلئے بینکوں سے قرضے حاصل کرنے میں ;200;سانیاں فراہم کر نے کیلئے قانون سازی سمیت دیگر اقدامات کئے جا رہے ہیں ۔ منصوبے کے تحت ڈیڑھ سال کے عرصہ میں 18 ہزار گھر تعمیر ہوں گے جن میں سے 10 ہزار گھر غریب اور نادار طبقات کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں جن کا انتخاب قرعہ اندازی کے ذریعے کیا جائے گا ۔ پاکستان میں پہلے صرف پیسے والے لوگ اپنا گھر بنا سکتے تھے، حکومت کی سکیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ عام ;200;دمی بالخصوص چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لئے ;200;سان شرائط اور چھوٹی چھوٹی قسطوں کے ذریعے چھت فراہم کی جا سکے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا میں عام ;200;دمی کے لئے گھر بنانے کے مواقع ملتے ہیں لیکن پاکستان میں پہلے یہ سہولت میسر نہیں تھی ۔ بھارت میں بینک 10 فیصد، ملائیشیا میں 30 فیصد اور برطانیہ و امریکہ میں 80 سے 90 فیصد گھروں کی تعمیر کے لئے بینک قرضے فراہم کرتے ہیں ۔ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں عام ;200;دمی کو اپنی چھت کی فراہمی کا خواب پورا ہوگا ۔

ایٹمی پروگرام ، بھارت اور اسرائیل کی پریشانی کا باعث

پاکستان کا ایٹمی پروگرام چار عشروں سے نہ صرف بھارت بلکہ اسرائیل اور دوسرے مغربی ممالک کےلئے سوہان روح بنا ہوا ہے کیونکہ ایک اسلامی ریاست کا نیوکلیئر صلاحیت حاصل کر لینا کسی کو گوارا نہیں ۔ چنانچہ وقتاً فوقتاً ہماری ایٹمی تنصیبات پر حملوں اور دباوَ کے حربوں کے ذریعے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے محروم کرنے کی منصوبہ بندی سامنے آتی رہی ہے ۔ 1980ء کے عشرے میں پاکستان کو اسرائیل کی طرف سے ایسی ہی کارروائی کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں ، جیسی اس نے عراقی تنصیبات کے خلاف کی تھیں ۔ جبکہ 1998ء میں بھی اسرائیل اور بھارت کی ایسی ہی سازش منظر عام پر آئی تھی جس کے بعد پاکستان نے ایٹمی دھماکے کر کے اپنے نیوکلیئر ریاست ہونے کا اعلان کیا ۔ حال ہی میں پاک بھارت چپقلش اور فضائی جنگ میں اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ بھی سامنے آیا ۔ اسرائیلی پائلٹوں نے بھارتی مگ اڑائے ۔ اس کے علاوہ بہاولپور اور کراچی پر حملہ کا مشترکہ منصوبے کا انکشاف بھی ہوا ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ اگرچہ نئی بات نہیں لیکن دونوں ملکوں کی طرف سے پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کو سازشوں کا مرکز بنانا ضرور تشویش ناک ہے ۔ یہ معاملہ اس حوالے سے بھی خطرناک ہے کہ افغانستان میں امریکہ بنفس نفیس موجود ہے اور وہ پاکستان کے خلاف کی جانے والی سازشوں سے لاعلم نہیں ہوگا ۔ تو کیا یہ سمجھا جائے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں کسی نہ کسی طرح امریکہ بھی شریک ہے ۔ بھارت اور اسرائیل دونوں پاکستان کے دشمن ہیں اور انہیں پاکستان کا وجود بلکہ ترقی و خوشحالی، آزادی اور سلامتی گوارا نہیں ۔ اس لیے وہ زبانی کلامی امن و آشتی کا راگ الاپنے کے باوجود پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے، اسے سیاسی و اقتصادی عدم استحکام سے دو چار کرنے اور اس کے دفاع کی موَثر ضمانت ایٹمی پروگرام سے محروم کرنے کےلئے ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں ۔ بھارت اسرائیل تعلقات بہت عرصے سے قائم ہیں ۔ ماضی میں بھی بھارت اسرائیل گٹھ جوڑ کی اطلاعات ملتی رہی ہیں اور خاص طور پر کہوٹہ پلانٹ پر حملے کے حوالے سے کافی افواہیں گردش میں رہی ہیں کہ بھارت اسرائیل کے تعاون سے پاکستان کی ایٹمی لیبارٹری پر حملے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ کیونکہ پاکستان کا ایٹمی ٹیکنالوجی میں پیش قدمی کرنا دونوں ممالک کے لئے ناپسندیدہ ہے ۔ اسی طرح مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے حملوں سے بچنے اور ان کی کارروائیوں سے با خبر رہنے کےلئے اسرائیل نے بھارت کو فوجی اور افرادی امداد مہیا کی تھی اور اس کے ثبوت میں چند اسرائیلی کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں مجاہدین کے ہاتھوں گرفتار اور مارے بھی گئے تھے لیکن بھارت نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی اور ان اطلاعات کو جھٹلایا کہ اسرائیلی کمانڈوز مقبوضہ کشمیر میں سر گرم عمل ہیں ۔ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے جس کے بانی اور قائد نے قیام پاکستان سے قبل فلسطینی کاز کی حمایت کی ۔ اسرائیل کے قیام کو ناجائز قرار دیا ۔ اسرائیلی لیڈروں کی طرف سے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات بنانے کےلئے مسلسل کاوش جاری ہے مگر دوسری جانب وہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان اور مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچانے کا موقع بھی جانے نہیں دیتے ۔ مقبوضہ کشمیر میں خوں ریزی اسرائیلی رہنمائی میں ہی جاری ہے اور بھارتی حکومت کو اسرائیلی لیڈروں نے کبھی پاکستان کی حمایت میں کسی عمل کا مشورہ نہیں دیا ۔ اسرائیل نے اپنی اسلام دشمنی کا بھارت کو بھی راستہ دکھایا ہے کہ جس طرح اسرائیل میں نوجوان فلسطینیوں کو شہید کیا جا رہا ہے اس طرح بھارت بھی مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں نوجوان مسلمانوں کو مسلسل شہید کرتا رہے ۔ اس طرح وہ مسلمانوں کی نسل کشی میں کامیاب رہے گا ۔ تحریک آزادی کشمیر کو دبانے کے لئے بھارت پہلے ہی اسرائیل کا تعاون حاصل کر رہا ہے ۔ مجاہدین کی نقل و حمل کا سراغ لگانے اور ان کی کارروائیوں کو روکنے کےلئے اسرائیل زمینی راڈار سمیت دوسرے ہتھیار بھی بھارت کو فروخت کر رہا ہے ۔ اسکے علاوہ اسرائیل کمانڈوز بھارتی کمانڈوز کو جدید تربیت بھی دے رہے ہیں ۔ یہود و ہنود کا گٹھ جوڑ اب تک کچھ مصلحتوں کی بناء پر درپردہ رہا مگر اب یہ کھل کر سامنے آگیا ہے ۔ قران پاک نے بھی ان دونوں قوموں سے مسلمانوں کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی تھی ۔ اس جوڑ کا توڑ مسلم اتحاد اور مسلم ممالک کی اقتصادی و فوجی ترقی ہے ۔ پاکستان کو اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے اپنے دیرینہ دوست چین کے ساتھ معاونت ضروری ہے ۔ تاکہ دونوں ملک ان دونوں شیطانوں کے ممکنہ حملے سے محفوظ رہیں ۔ اسرائیل بھارت گٹھ جوڑ کی ایک بڑی وجہ اسرائیلی اسلحہ کی بھارت کو فروخت بھی ہے ۔ اسرائیل امریکہ کا اسلحہ استعمال کرتا ہے ۔ اسرائیل نے بھارت کو حال ہی میں اسلحہ کی پیش کش کی ہے اس طرح امریکہ اپنا اسلحہ اسرائیل کے ذریعے بھارت کو فروخت کرے گا ۔ بھارت کا طیارہ سازی کا پروگرام بالکل ختم ہو چکا ہے وہ اس کو اسرائیل کے تعاون سے دوبارہ شروع کرنا چاہتا ہے ۔ بھارت کے پاس مگ21 ساخت کے طیارے ہیں جو اپنی عمر پوری کر چکے ہیں اب ان کو اپ گریڈ کرنے کا مسئلہ ہے ۔ اسرائیل نے بھارتی فضائیہ کو اپ گریڈ کرنے کی حامی بھری ہے ۔ مزید اسرائیل بھارتی پائلٹوں کو اسرائیل میں تربیت دینے کےلئے بھی تیار ہے ۔ یہ حال میزائل سازی کا بھی ہے ۔ اسرائیل ماضی میں بھی بھارت کو اسلحہ کی کافی امداد دیتا رہا ہے ۔ کارگل میں آپریشن کے دوران اسرائیل نے بھارت کو بغیر پائلٹ کے جاسوس طیارے اور جدید فضائی نگرانی کے الات دیے ۔ اسی طرح بھارت کو جدید ترین فالکن طیارہ بردار راڈار فراہم کیے ۔ یہ تمام ہتھیار امریکی ساخت کے ہیں اور امریکی حکومت کی اجازت کے بغیر اسرائیل ان کو کسی ملک کو فروخت نہیں کر سکتا ۔ ماضی میں امریکہ اسرائیل پر بھارت کو یہ آلات فروخت کرنے پر پابندی لگاتا رہا لیکن اب امریکہ کی رضامندی سے یہ سب کچھ ہو رہاہے ۔

Google Analytics Alternative