کالم

انوکھالاڈاکھیلن کومانگے چاند

مودی جیسے ظالم شخص کے نام کے ساتھ میں ۔ ۔ اسد محمد خان ۔ ۔ کی لازوال غزل کے یہ خوبصورت بول ہر گز اپنے کالم کا عنوان نہیں بنانا چاہتا تھا لیکن ;200;ج کے تازہ ترین موضوع کے ساتھ بالکل میچ کرنے کی وجہ سے مجبوراً;34; ایسا کرنا پڑا ۔ یہ مکار اتنا چالاک ہے کہ ایک طرف تو اس نے گزشتہ ایک ماہ سے زائد عرصہ سے نہتے مظلوم کشمیریوں پر قیامت ڈھائی ہوئی ہے اور دوسری طرف دنیا کو دکھانے اور اقوام عالم کی توجہ اس المناک انسانی المیے سے ہٹانے کیلئے ۔ ۔ مشن چندرایان2 ۔ ۔ سے چاند کی سیر کرنے پر بھی یہ بنیا نکلا ہوا ہے ۔ کشمیریوں پر جو ظلم بپا ہے اس پر تو جناب مضطر فیروزپوری کا ایک لاجواب شعر ;200;جکل کے حالات پربڑا صادق ;200;تا ہے جس کے ذریعے بہادر کشمیریوں کے لازوال جذبے وحوصلے کی نشاندہی ہوتی ہے:–

قیامت کی راتیں بھی دیکھی ہیں مضطر

قیامت کے دن کیا نئی بات ہو گی

اور چندرایان2 کی بری طرح ناکامی پر ہمارے فواد چوہدری اور سینٹر فیصل خان کے ٹویٹ ہی اس جنونی کیلئے کافی ہیں جنہوں نے پورے بھارتی میڈیا میں کل سے اک ;200;گ سی لگائی ہوئی ہے اور ایک طرف بے وقوف جذباتی ہندو اپنے اس مہنگے ترین خلائی مشن کی ناکامی پر جلے بھنے بیٹھے ہیں وہیں دوسری طرف ہمارےبرمحل اور بر موقع ۔ ۔ ٹویٹوں ۔ ۔ سے پوری انتہا پسند قوم بری طرح تلملا رہی ہے ۔ سینیٹر صاحب نے اس ننگی بھوکی قوم کو بالکل صحیح مشورہ دیا ہے جسکا خلاصہ کچھ یوں بنتا ہے کہ چاند پر پینگھیں ڈالنے سے پہلے ۔ مودی ۔ اپنی اس ننگی قوم کو;34;کھلے میں شاٹ;34; اور امیتابھ بچن کہتے کہتےجو اب خاصا بوڑھا ہو چکا ہے ;34;دروازہ بند تو بیماری بند;34; کے اشتہاروں پر تو پورا پورا عمل کروالو ۔ اپنی ننگ مننگی قوم کو بیت الخلاوں کا پہلے صحیح استعمال اور راستہ دکھا دو، ایک رپورٹ کے مطابق انڈیا میں سالانہ دو لاکھ انسان گندا پانی پینے سے مر جاتے اور ساٹھ کروڑ لوگوں کو پینے کا صاف پانی ہی دستیاب نہیں ۔ لیکن حکومت عوام کا پیسہ انکے فلاحی یا سماجی مسائل کے حل کیلئے استعمال کرنےکی بجائے یہ چالاک رات دن پیسے جوڑ جوڑ کر دنیا کو دکھانے کیلئے اپنے ;200;پ کو ایک بڑی اکنامک پاور کے طور پر پیش کرتا رہتا ہے یا اس جیسے نام نہاد خلائی تسخیر جیسے منصوبوں پر لٹا کر دنیا کو ایک بڑی سائنسی قوت کے طور پر ابھارنے کی کوشش کرتا ہے لیکن یہ اور بات ہے کہ اس کی تمام شعبدہ بازیاں ناکام اور کروڑوں اربوں روپے خلائی ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکے ہیں ۔ اور ساتھ ساتھ انڈیا کے اندر سے بھی اس پر سخت تنقید ہونا شروع ہو چکی ہے ۔ سائنسی تحقیق اور اس جیسے خلائی مشن کوء برا کام نہیں ، اتنا بڑا قدم ہندوستانی سائنسدانوں کا یقینا;34; قابل ستائش ہے، لیکن اصل برا کام تواس کے پیچھے چھپے بدنیتی اور برے ارادے کا ہے ۔ برا کام تو صرف چین اور پاکستانیوں سے خواہ مخواہ کی ضد بازی کا ہے ۔ اسی بے جا ضد میں اپنے 900 کروڑ روپے کے ضیاع کا ہے ۔ بھوکی ننگی قوم کو بنیادی ضروریات دینے کے، محض برتری اور دوسرے کو نیچا دکھانے کا ہے ۔ کروڑوں کی تعداد میں غربت کی لکیر سے نیچے ایک وقت کی روٹی سے بھی محروم ہندوستانی لوگوں کا ہے ۔ اس دور میں بھی یہاں اپنا گھر نہ ہونے کی وجہ سے کروڑوں لوگ پلوں ، غاروں اور فٹ پاتھوں پر سوتے اور یہاں مرنے کے بعد کمیٹی والے کثرت کے طور پر اٹھائے جاتےہیں ۔ یہاں جرائم سرعام، کسی کی غرت نہ جان و مال محفوظ، لیکن دنیا کے دکھلاوے کیلئے ۔ ۔ چندرایان2 ۔ ۔ کا مشن مودی کی زندگی اور موت کا مشن بن چکا تھا ۔ دراصل چین کے کامیاب خلائی مشن کے بعد مودی کی رات کی نیندیں حرام ہو چکی تھیں اور بغیر پوری تیاری لگے یہ ۔ ۔ چھوٹو رام چائے والے ۔ ۔ چاند کی سیر کو ۔ ابھی یہ کھٹارہ راکٹ اپنی منزل کی طرف پوری طرح بڑھ بھی نہیں پا رہا تھا کہ مودی کا سینہ 56 انچ پہلے ہی پھول چکا تھا، ہر ایک کی گردن یوں اکڑ چکی تھی کہ شاید ٹوٹ ہی جائے ۔ مودی کا ایک ترجمان تو ایک نجی ٹی وی پر جمعہ کی شام اتنا اترا رہا تھا اور ایک اینکر کو بڑے فخر و تکبر سے کہہ رہا تھا کہ صرف چند گھنٹے کے بعد انکا ۔ ۔ وکرم ۔ ۔ (چاند گاڑی) اب چندرایان2 کو چھونے ہی والا ہے جس کے بعد دیکھنا اس کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے بڑے بڑے ۔ ۔ دیش ۔ ۔ ہم سے مشورے لینے کیلئے وقت مانگتے ہوئے لائین میں کھڑے ہو کر ہم سے سائنسی مشورے مانگ رہے ہوں گے ۔ میں سمجھتا ہوں یہ تھاوہ غرور اور اکڑ ، جو ہندوستانی سائنسدانوں کی دن رات کی محنت کے باوجود وہ بری طرح ناکام رہے ۔ خلائی مشن کا سربراہ بلک بلک کر رو رہا تھا اور مودی خفگی مٹانے کیلئے جھوٹی تقریریں اور قوم کو جھوٹے دلاسے دیتا رہا ۔ 2008 کے بعد چاند سے باتیں کرنے کا یہ دوسرا خواب تھا جو پھر سے سراب ثابت ہوا لیکن بنیادی ضروریات سے عاری اس قوم کے کروڑوں اربوں ڈبو گیا ۔ کہتے ہیں غرور کا سر نیچا ہوتا ہے، لیکن اتنی ناکامی پر شرمندگی محسوس کرنے کے بھارتی میڈیا اور اسکے حکومتی ترجمان، کمال ڈھٹائی سے اسے پھر بھی کسی بڑی کامیابی سے ملاتے رہے، جبکہ ساتھ والی ونڈو میں انڈین چینلز اپنے ہی خلائی مشن کے سربراہ کو مودی کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روتا دکھاتے رہے ۔ ان جیسے لوگوں کیلئے کسی منچلے نے شاید بالکل ٹھیک کہا ہے

شرم تو ;200;نی جانی چیز ہے

بندے کو بس ڈھیٹ ہونا چاہیے

پاک چین اور افغانستان سہ فریقی بات چیت،خوش آئند کوشش

مسئلہ کشمیر کی طرح مسئلہ افغانستان بھی اس خطے کا ایک اہم مسئلہ بن ہوا ہے جو دنیا کے امن کو متاثر کر رہا ہے خصوصاً جنوبی ایشیاء کا امن اس کی وجہ سے داوَ پر لگا ہوا ہے،تاہم خوش ;200;ئند امر یہ ہے کہ اسکے حل کےلئے کچھ عرصہ سے کوششیں بھی تیزی ہو چکی ہیں ۔ ان کوششوں میں پاکستان ایک کلیدی کردار ادا کر رہا ہے،چاہے وہ امریکہ طالبان مذاکرات ہوں ،روس طالبان بات چیت ہو یا پھر چین افغانستان ڈائیلاگ ہو ان سب میں پاکستان پیش پیش رہتا ہے ۔ اس سلسلے میں ہفتہ کے روز بھی سہ فریقی بات چیت کا ایک اہم دور اسلام ;200;باد میں ہوا جس میں پاکستان ، چین اور افغانستان نے افغان امن عمل کے سلسلے میں اقتصادیات، رابطہ سازی، سیکورٹی ، انسداد دہشت گردی اور سفارتی تربیت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ سمیت پانچ نکاتی معاہدے پر اتفاق کیا ہے ۔ پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، چینی وفد کی قیادت چینی وزیر خارجہ وانگ ژی جبکہ افغانستان کے وفد کی قیادت ان کے وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی کر رہے تھے ۔ دوران مذاکرات تینوں وزرائے خارجہ کی طرف سے افغانستان کے مسئلے کے جلد پر امن حل کی امید کا اظہار کیا گیا ۔ افغانستان میں قیام امن کیلئے افغان قیادت کی سربراہی میں جاری کاوشوں کی حمایت کا عندیہ بھی دیا گیا ۔ بعدازاں مشترکہ پریس کانفرنس میں بھی افغان امن عمل کے حوالے سے تینوں ممالک میں طے پانے والے5نکاتی اتفاق رائے کی تفصیل بتائی گئی ۔ اس موقع پر چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے بتایا نے کہ ہم نے اس بات پر تبادلہ خیال کیا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا مرحلہ وار اور ذمہ دارانہ ہونا چاہئے ۔ پاکستان اور چین افغان تنازع کے پرامن حل کیلئے طالبان اور افغان حکومت میں براہ راست مذاکرات کے خواہاں ہیں ،افغان فریقین پرمشتمل مذاکرات کے ذریعے ہی مستقبل کے سیاسی معاہدے کی ضرورت ہے اور فریقین معاہدے تک مذاکرات جاری رکھیں ۔ پاکستان چین اور افغان حکومت کے مابین سہ فریقی بات چیت کا یہ تیسرا دور تھا ۔ قبل ازیں 2017 اور2018 میں دو دور ہو چکے ہیں ۔ سہ ملکی مذاکرات کے پہلے دو ادوار بیجنگ اور کابل میں ہوئے جبکہ تیسرا دور ہفتہ کو اسلام آباد میں ہوا ۔ ان مذاکرات کا بنیادی مقصد اقتصادی رابطوں کا فروغ ہے تاکہ سرحد ;200;ر پار تجارتی سرگرمیاں پرامن طریقے سے جاری رہیں ۔ اس سلسلے میں چین نے افغانستان اور پاکستان کی سرحد پر تاجروں اور لوگوں کی سہولت کے لیے کولڈ اسٹوریج، طبی مراکز، ایمیگریشن کاونٹرز اور واٹر سپلائی اسکیم میں تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ مشترکہ پریس بریفنگ کے موقع پر افغان وزیر خارجہ صلاح الدین ربانی نے کہا کہ حکومت امن مذاکرات کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھے گی تاہم طالبان کو بھی امن مذاکرات میں اپنے مکمل خلوص کا عملی مظاہرہ کرنا ہوگا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان اور چینی ہم منصب وزرائے خارجہ کی آمد کو خوش آئند قرار دیا اور کہا کہ چین ہمارا دیرینہ ہمسایہ اور آزمودہ دوست ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں سیاسی تعلقات، افغان امن عمل، سیکورٹی تعاون پر بات ہوئی تاہم ہم افغان امن عمل کی کامیابی کے لیے دعا گو ہیں ۔ شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی وہ اگلے مرحلے میں افغانستان اور پورے خطے میں پائیدار امن کیلئے بین الافغان مذاکرات کی جانب پیشرفت کریں گے ۔ سہ فریقی اجلاس میں آئندہ مذاکرات بیجنگ میں کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا ۔ انہوں نے بتایا کہ مذاکرات میں افغان امن عمل پر پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا ہے ۔ یہ سہ ملکی میکانزم انتہائی سود مند فورم ہے ۔ پاکستان اور افغانستان تاریخی اور جغرافیائی طور پر جڑے ہوئے ملک ہیں ،انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ پاک افغان تعلقات آنے والے دنوں میں مزید بہتر ہونگے ۔ چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے پریس کانفرنس میں اجلاس کے انعقاد اور بہترین میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ۔ چین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امن وا مان کے لیے علاقائی رابطوں کا فروغ ضروری ہے‘‘ ۔ افغانستان میں قیام امن کے لیے اب تک جتنی بھی کوششیں ہو رہی ہیں گرچہ وہ ابھی تک سود مند ثابت نہیں پا رہیں کیونکہ افغانستان تاحال دہشت گردانہ حملوں سے لرز رہا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے ان حملوں کو جواز بناتے ہوئے گزشتہ روز طالبان سے بات چیت معطل کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ تاہم اس بات کے امکانات ابھی بھی ہیں یہ تعطل زیادہ دیر نہیں رہے گا اور جلد امریکہ اور طالبان کے درمیان کوئی امن معاہدہ طے پا جائے گا جس سے اس سلسلے ہونے والی دیگر کوششوں کو بھی تقویت ملے گی ۔ افغانستان تنازعہ کے بنیادی فریق تو امریکہ طالبان اور افغان حکومت ہے لیکن بدقسمتی تینوں کے مابین اعتماد کی فضا قائم نہیں ہے جسے بہرحال دور کرنا بے حد ضروری ہے،خصوصاً افغان حکومت کو اعتماد لیے بغیر کوئی معاہدہ کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ امریکہ، روس پاکستان اور چین فریق بننے کی بجائے ضامن بنیں ۔ اگر افغان حکومت اور طالبان کا اعتماد بحال ہوگا تو ;200;ئندہ کوئی بھی معاہدہ پائیدار ہوگا، بصورت دیگر ہر طرح کی بات چیت کی کوششیں رائیگاں جائیں گی ۔ اس میں دو رائے نہیں کہ افغانستان کا امن پاکستان اور دنیا کے امن کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اس لیے حکومتِ پاکستان سمیت دیگر ممالک کو بھی ان امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے اس طرز کی کوششیں بھی کرنی ہوں گی کہ جس میں افغان حکومت کو بھی اعتماد میں لایا جا سکے ۔ یہاں طالبان قیادت جو امریکہ سے بات چیت کر رہی ہے وہ بھی اپنی کارروائیاں روک کر صرف امن کے لیے ;200;گے بڑھیں ۔ یہ امر افسوسناک ہے کہ جیسے جیسے افغانستان میں امن مذاکرات کی بات ;200;گے بڑھ رہی ہے دہشت گردانہ کارروائیوں میں بھی اضافہ ہو گیا ہے، جن کے تدارک کےلئے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، بصورت دیگر جس طرح امریکی صدر ٹرمپ نے طالبان سے بات چیت معطلی کا اعلان کیا ہے اور افغان طالبان بھی مکمل طور پر پیچھے ہٹ گئے وہ خطرے کی گھنٹی ہے ۔

فضائی حدود کی بندش، مزید سخت اقدام کی ضرورت ہے

پاکستان نے بھارتی صدر کی جانب سے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے، اور کہا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور کرفیو ختم نہ ہوا تو اس سلسلے میں مزید سخت اقدام ہوسکتے ہیں ۔ اس سلسلے میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے واضح کیا ہے کہ رام ناتھ آئس لینڈ جانے کیلئے پاکستانی حدود سے گزرنا چاہتے تھے، فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جنونیت کی وجہ سے کیا،کشمیر میں بربریت و ظلم جاری ہے، ہم نے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرکے نہایت محتاط طریقے سے مسئلے کو اٹھایا لیکن بھارت ٹس سے مس نہیں ہو رہا،فضائی اجازت نہ دینے کی منطوری وزیراعظم نے دی ہے، دوسری جانب وفاقی وزیر ایوی ایشن غلام سرور خان نے بھی بھارت کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ کشمیر میں اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا تو اس کے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال پر مکمل پابندی لگا دیں گے ۔ پاکستان کا یہ فیصلہ احسن بھی اور وقت کا تقاضہ بھی کیونکہ بھارت نے جو کشمیر میں اندھیر نگر مچا رکھی ہے اس کے تدارک کے لئے پاکستان سے جو کچھ ہوسکتا ہے وہ کرے ۔ آخر مظلوم کشمیر بھائیوں کے دکھوں میں پاکستان شریک نہیں ہوگا تو اور کون ہوگا ۔ اگرچہ ایسے اقدامات پوری مسلم ورلڈ کواُٹھانے چاہئیں تاکہ وحشی مودی کو اپنے وحشیانہ اقدامات کے لئے کہیں سے جواز نہ ملے،لیکن دوسری طرف یہ بھی بدقسمتی ہے کہ مسلم ورلڈ پر ایک سکوت سا چھایا ہے ۔ پاکستان یہ ایک ایسا کڑا وار ہے کہ اس کی معیشت کی بنیادیں ہل سکتی ہیں ۔ پچھلے دنوں جب 3ماہ کے لیے فضائی حدود بند کی گئی تو بھارت کی ایک نجی ایئرلائن دیوالیہ ہو گئی ۔ پاکستان کو ایسے مزید سخت اقدامات اُٹھانے چاہئیں تاکہ بھارت پر دباوَ بڑھے اور وہ کشمیر سے کرفیو اٹھانے پر مجبور ہو ۔

اجیت دوول کا بیان،الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے

بھارت میں قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول نے مقبوضہ کشمیر جاری بربریت پر عجیب جواز گھڑا ہے کہ اگر پاکستان اپنا رویہ درست کرے گا اور مبینہ دراندازی بند کردے گا اور اپنے ٹاورز سے مقبوضہ وادی میں سگنلز بھیجنا بند کردے گا تو ہم وادی میں عائد تمام پابندیاں ختم کردیں گے ۔ انہوں نے کشمیر کے سیاسی رہنماءوں کی گرفتاری کا دفاع کرتے ہوئے کہاکہ ان رہنماءوں کو حفاظتی طو پر قید کیا گیا ہے اور انہیں اس وقت تک قید رکھا جائے گا جب تک کہ جمہوریت کیلئے ماحول سازگار نہیں ہوجاتا ۔ ان کا کہنا تھا ہم چاہتے ہیں کہ مقبوضہ وادی میں تمام پابندیوں کا خاتمہ ہو لیکن اس کا انحصار پاکستان کے رویے پر منحصر ہے ۔ کشمیر میں جاری بھارتی سکیورٹی فورسسزکے مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کےخلاف دنیا بھر میں آواز بلند ہو رہی ہے اور یہ حقیقت ہے کہ بھارت کو شدید سبکی کا سامنا ہے مگر ڈھٹائی کا عالم یہ ہے کہ وہ الٹا پاکستان پر الزام تراشی کررہا ہے،یہی روش فساد کی اصل جڑ ہے ۔ جب تک بھارت زمینی حقائق کو تسلیم نہیں کرتا تب تک وہ کشمیر کی دلدل میں سکھ کا سانس نہیں لے پائے گا ۔

کتاب ’’حلقہ احباب‘‘ اورسفر آمادہ لوگ!!

’’حلقہ احباب‘‘ بڑا دلچسپ لفظ ہے، آپ کن لوگوں میں اٹھتے بیٹھتے ہیں یہ سارے کاسارا بھید کھل جاتا ہے اور یہ بات بھی بڑی دلچسپ ہے کہ اگر کہاجائے کہ وہ شخص میرے حلقہ احباب میں ہے تومطلب اورنکلتا ہے مثلاً میں یہ نہیں کہہ سکتی کہ مجیدنظامی میرے حلقہ احباب میں تھے بلکہ میں یہ لکھونگی یاکہوں گی کہ میں مجیدنظامی کے حلقہ احباب میں شامل تھی ۔ کالم کے آخر میں بتائیں گے کہ ہم نے حلقہ احباب سے بات کیوں شروع کی;238; مجھے یاد ہے کہ جن دنوں میں نے مجیدنظامی کی یادداشتوں پرمشتمل کتاب جب تک میں زندہ ہوں لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا توبہت سارے احباب نے منع کیا کہ اس قسم کی کتاب لکھنے کی کوشش اورارادہ انورسدید بھی کرچکے ہیں مگر وہ بھی اس کام کوشروع نہ کرسکے ۔ مجیدنظامی کے حلقہ احباب میں کچھ اورلوگ بھی شامل تھے جو ان کی یادداشتیں مرتب کرنا چاہتے تھے مگر پھر اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں یہ کام کرتے کرتے نوکری سے ہی ہاتھ نہ دھونا پڑجائے کیونکہ مجید نظامی کی یادداشتیں ان سے مسلسل ملاقاتوں ، سیاست پر بات چیت اورپھر ان کی مختصرکلامی کو ملحوظ خاصر رکھ کرلکھناپڑتی تھی اور پھر مارے احترام کے نہ توبہت زیادہ حجت کی جاسکتی تھی اورنہ ہی یہ کہاجاسکتا تھا کہ فلاں بات سمجھ میں نہیں آئی تو دوبارہ بتادیجئے ۔ یعنی ;69;xposeہی نہیں ہواجاسکتاتھا لیکن ہم نے یہ’’ رسک‘‘ لینے کا ارادہ کیا اورچھ ماہ کے مختصر عرصہ میں کتاب لکھی بھی اورچھپ کربھی آگئی ۔ آج مجید نظامی نہیں ہیں ۔ وقت نیوزبند ہوچکا ہے ۔ نوائے وقت اخبار کے لئے بھی لوگ دعائیں ہی کرسکتے ہیں مگر اچھی بات یہ ہے کہ کتاب’’ جب تک میں زندہ ہوں ‘‘ کی شکل میں مجیدنظامی کی تمام صدور، وزرائے اعظم، وزرائے خارجہ دیگراہم شخصیات سے باتیں اورپھرپاکستان کی تاریخ کے اہم واقعات موجودہیں ۔ ایسی کتابیں اتنی ہی اہم ہوا کرتی ہیں ۔ مجیدنظامی کی کتاب لکھنے کے مرحلے کے دوران کا ایک دلچسپ واقعہ سن لیجئے ۔ میں نے ٹیلی فون لاہور آفس میں ملاقات کے وقت لیناتھا ۔ مجیدنظامی نے کہا آپ پرسوں بارہ بجے آجائیے گا ۔ میں پونے بارہ بجے لاہورآفس پہنچ گئی ۔ مجیدنظامی ایک اہم میٹنگ میں تھے ، میں نے چٹ لکھ کربھیجی ’’نظامی صاحب !بارہ بج چکے ہیں ‘‘ ۔ مجھے فوراً بلالیاگیا بارہ بجنے کا پڑھ کران کے چہرے کے تاثرات میں مسکراہٹ بھی موجودتھی ،کچھ عرصہ کے بعد پھرٹیلی فون پردوبارہ وقت طلب کیاتوکہنے لگے ’’پرسوں بارہ بجے نہیں ڈیڑھ بجے آئیے گا‘‘ اس لطیف کنائے کی بغیروضاحت کئے باقی کے عرصہ میں مسکراہٹوں کے تبادلے کو میں انجوائے کرتی رہی ۔ مجید نظامی کے حلقہ احباب میں ایس کے نیازی بھی شامل ہیں ۔ جن کاتذکرہ ان کی غیرموجودگی میں بھی مجیدنظامی کیاکرتے تھے ۔ ایک مرتبہ دوقومی نظریہ کشمیر کی آزادی اورافواج کے خلاف گفتگو کرکے ملک دشمن عناصر کوتقویت پہنچانے والوں اورنظریاتی، پختگی اورتنزلی جیسے موضوعات پربات ہورہی تھی تومجیدنظامی نے ایس کے نیازی کاذکر کیا کہ وہ مستقبل میں انہی موضوعات کے تحفظ کے لئے کام کرسکتے ہیں ۔ مجیدنظامی مجھے اپنی ’’روحانی بیٹی‘‘تصورکرتے تھے جس کے گواہ جسٹس (ر)میاں آفتاب فرخ بھی تھے جواس دنیا میں نہیں رہے مگر ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر موجود ہے ۔ وقت گزر گیا اورآج میں ایس کے نیازی کی کتاب ’’حلقہ احباب‘‘ کی تزئین وترتیب میں ان کے ساتھ شامل ہوں ،یہ کتاب ایس کے نیازی کے روزنامہ پاکستان میں لکھے گئے کالموں پرمشتمل ہے اوراس کے ساتھ اس کتاب میں کئی اہم باتیں قابل غور ہیں جواگلے کالم میں شامل ہوں گی ۔ اس وقت بات کرتے ہیں ہندوستان کے چاندپرجانے کی کوشش کی جو ناکام ہوگئی ہے مجھے شعریادآرہاتھاکہ ’’انوکھالاڈاکھیلن کومانگے چاند‘‘ اس مرتبہ چاندپرجانے کامشن توناکام ہوگیا مگرمودی ایسا شخص ہے کہ اب اس کوشش کو جاری وساری رکھے گا جب تک اپنی شرمندگی دورنہیں کرلیتا ۔ حالانکہ اگرمودی سرکار کوشرمندگی سے ہی بچنا ہے تو وہ اس خطے کوجنگ میں جھونکنے سے پرہیزکرسکتا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرکے مسلمانوں کوحق خودارادیت دینے پرراضی ہوسکتا ہے ۔ خطے میں امن قائم کرنے کا اعلان اورجنگ وجدل سے دستبرداری اختیارکرسکتاہے مگرمودی اس انداز سے اپنی شرمندگیاں دورنہیں کرے گا بلکہ ہندوستان کے ماہرین اس وقت سرجوڑ کربیٹھ جائیں گے اوراگلے کامیاب تجربے کی طرف جائیں گے تاکہ دنیا کے سامنے فخرکرسکیں اورہندوستان کا یہ رویہ اس لئے ایسا ہے کہ وہ امریکہ کے حلقہ احباب میں ہے کہنے کوتو ایک عرصے کے بعد وزیراعظم عمران خان کے اس مرتبہ کے دورے کے بعدہ میں یہ محسوس ہونے لگاتھاکہ ہم بھی امریکہ کے حلقہ احباب میں اب آچکے ہیں ۔ مگرپھرکچھ دنوں بعد ہی صدرٹرمپ فرانس کے دورے میں مودی کے ساتھ سولہ سال کے لڑکوں کی طرح ’’ٹھٹھے مذاق‘‘کرتے نظرآئے توایک تویہ یقین نہیں آرہاتھا کہ یہ اتنے بڑے ممالک کے سربراہان ہیں اوردوسرا ان کے چہروں پرجومسکراہٹیں تھیں ان میں کسی طرح کی کوئی معصومیت شامل نہیں تھی، کسی بھی شخص کی ’’باڈی لینگویج‘‘بڑی اہم ہوا کرتی ہے خصوصاً دنیابھرکے سربراہان کی کیونکہ ان کی نیت اورارادوں میں جوبات شامل ہوتی ہے وہ ظاہر ہوجاتی ہے اور دوسرا کون کس کے دباءو میں ہے یہ بات بھی نوٹس کی جاسکتی ہوتی ہے جیساکہ ماضی میں نوازشریف جب بھی امریکہ جاتے تھے تو دباءو میں آجایاکرتے تھے اس کانقصان یہ بھی ہوتاتھا کہ امریکہ جیسے ممالک کا’’ٹہکہ‘‘ تصویردیکھنے والوں پر ہی پڑ جاتاتھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورے میں اس قسم کے تاثر کوختم کردیا اوربڑے اعتماد کے ساتھ تمام فورمز میں شرکت کی اوراس میں وزیراعظم عمران خان کی جلسہ کرنے والی ’’ٹپ‘‘ کوبھی داد دیناپڑتی ہے جس کے بعد خودٹرمپ دباءو میں آگیاتھا اور ہم نے یہاں اورپوری دنیا نے یہ تاثر لیا کہ ہم اب امریکہ کے حلقہ احباب میں ہیں مگریہ علیحدہ بات ہے کہ ہ میں ملحوظ خاطررکھناپڑے گا کہ وزیراعظم عمران خان کی ڈپلومیسی کے بعدماحول توبن گیامگردراصل ہندوستان اورامریکہ آپس میں قریب ہیں اورہم پھربھی ان سے فاصلے پر ہیں اوراس میں چین کے ساتھ دوستی کاعنصر بھی شامل ہے اورگوادر کی ترقی کے ساتھ ہمارامستقبل روشن ہونے کی تکلیف بھی بہت ساری جگہوں پرموجود ہے اورامریکہ کے ان دوروں اورملاقاتوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان نے جارحیت اختیار کرلی ۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے مظالم بڑھانے سے پہلے صدرٹرمپ نے یہ ذکر کردیاتھا کہ ایک راہداری میں مودی نے کشمیر کے مسئلے پربات کی تھی اور ثالثی کرنے کی استدعاکی تھی ۔ اس لئے یہ بات بعیدازقیاس نہیں ہے کہ کھچڑی پک چکی تھی اوراب ساری بات یہ ہے کہ وزیراعظم عمران خان اورپاک افواج نے بھی آخری سانس لک لڑنے کا ارادہ ظاہر کردیاہے ۔ مرتضیٰ برلاس کاشعر ہے کہ

یہ تومجھے معلوم نہیں ، یہ منزل ہے یاجادوہے

اتنی خبر ہے شوق سفراب پہلے سے بھی زیادہ ہے

تپتی ریت ،نکیلے کانٹے، راہیں اوجھل، منزل دور

میراشوق آبلہ پائی ،پھر بھی سفرآمادہ ہے

مقبوضہ کشمیرکامسئلہ اب لوہاگرم ہوجانے کے مقام پر ہے،اب پیچھے ہٹ جانے کی صورت میں ہ میں ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے اس لئے اس وقت یہ کہاجاسکتا ہے کہ خارجہ پالیسی کوایک تسلسل دے کر ضرب لگاتے جائیں اورہم نے اپنے حلقہ احباب یعنی اپنے دوست ممالک کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں ۔ باقی سول سوساءٹی بھی اہم کرداراداکرسکتی ہے دنیا اب گلوبل ویلج ہے اورپھرسوشل میڈیاکادور ہے کسی بھی نکتہ نظر کوآگے بڑھانے میں آسانیاں موجود ہیں ہ میں ایران اورروس کواپنے حلقہ احباب میں شامل کرنا ہے یا ان کے حلقہ احباب میں شامل ہونا ہے اوراب جب ایس کے نیازی کی آنے والی کتاب حلقہ احباب کامزیذذکرہوگا توآپ کواندازہ ہوجائے گا کہ جس کے نام کے اتنے معنی نکل رہے ہیں اس کتاب میں کیاکچھ شامل ہوگا ۔ ویسے آج کل ڈیل کی بات ہورہی مجیدنظامی کی کتاب کاواقعہ ہے کہ مجیدنظامی عمرے پرجانے لگے تو’’باس‘‘نے مجیدنظامی کوایوان صدربلایا اور کہاکہ آپ عمرے پرجارہے ہیں تو(نوازشریف) سے ملاقات تو ہوگی ،جائیں اورمسلم لیگ کوایک کریں ۔ مجیدنظامی نے بتایا کہ مشرف نے اس موقع پر کوئی تجویز وعمرہ نہیں دی لہٰذا مجیدنظامی نے کہاکہ ہم آپ کومسلم لیگ ’ن‘ پلیٹ میں رکھ کرنہیں دے سکتے آپ کوئی تجویزنہیں دے رہے;238; مجیدنظامی کی جدہ میں نوازشریف سے ملاقات ہوئی اورجب لیگ کوایک کرنے کی بات ہوئی تو نوازشریف کہنے لگے آپ مذاق تونہیں کررہے;238; یہ تو ڈیل ہوئی نا;238;تومجیدنظامی نے کہا ڈیل تووہ تھی کہ جس کے تحت آپ سرورسس جدہ میں ’’سسرور‘‘ لے رہے ہیں اورشاہی مہمان بنے ہوئے ہیں باقی باتیں اگلے کالم میں مگردیکھیں ہم کیسے کیسے لوگوں کے حلقہ احباب میں شامل ہیں ۔

آر ایس ایس،حتمی ایجنڈا……..

مودی کی جنونیت بدستور جاری ہے اور بھارت نے 5 اگست کو جس طرح پوری کشمیری قوم پر دہشتگردی کا قہر برپا کیا، وہ سلسلہ بتدریج نسل کشی کے حقیقی خدشے کی جانب بڑھ رہا ہے ۔ مگر اصل توجہ طلب امر یہ ہے کہ یہ سب کچھ آرٹیکل 370 کے خاتمے تک محدود رہے گا یا آگے بھی بڑھتا رہے گا ۔ راقم کی رائے میں ;828383; نے اپنے اس کام کے ذریعے محض پہلا بڑا قدم اٹھایا ہے ، یہ ;828383; کے مشن کی محض ایک کڑی ہے ۔ آنے والے چند ماہ کے دوران مہاراشٹر، ہریانہ، جھارکھنڈ اور دہلی میں صوبائی انتخابات ہونے والے ہیں جن میں بظاہر مسلم دشمنی کی فضا پیدا کرنے کے نتیجے میں ;667480; کی جیت کے امکانات خاصے واضح ہیں ۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں کانگرس اپنی معمولی سبقت بھی کھو بیٹھے اور ان دونوں صوبوں میں بھی ;667480; کا اقتدار قائم ہو جائے ۔ کرناٹک میں ایک ماہ پہلے ہی کانگرس اقتدار سے باہر ہو چکی ہے ۔ مغربی بنگال میں بھی لوک سبھا کی تقریباً نصف نشستیں جیت کر بی جے پی خاصی مضبوط پوزیشن میں ہے اور لگاتار کئی ممبران پارلیمنٹ ممتا بینرجی کا ساتھ چھوڑ کر ;667480; میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں ، یوں بظاہر آئندہ 6 سے 8 ماہ کے اندر غالباً ;667480; اس صوبے میں بھی برسر اقتدار آ جائے ۔ بہار میں نتیش کمار ;667480; کے اتحادی اور سشیل کمار مودی بطور نائب وزیراعلیٰ کام کر رہے ہیں ، یوں آنے والے ایک سے ڈیڑھ برس میں بھارت کی داخلی سیاست کا ظاہری منظر نامہ کچھ ایسا نظر آتا ہے کہ بھارتی پنجاب اور چھتیس گڑھ میں کانگرس کی حکومت قائم رہے گی، علاوہ ازیں اڑیسہ میں نوین پٹناءک کی سرکردگی میں بیجو جنتا دل، کیرالہ میں ;67807377; ، آندھرا پردیش میں جگموہن ریڈی، تامل ناڈو میں بی جے پی اتحادی ;6573687775; کے علاوہ لگ بھگ تمام بھارت میں ;667480; اور اس کے اتحادی اقتدار میں آ جائیں گے ۔ اور یہی وہ لمحہ ہو گا جب 1925 کے ;828383; کے دیرینہ خواب کی تکمیل کی جانب واضح پیش رفت کرتے ہوئے 2021 کی مردم شماری کے فوراً بعد بھارت کو باقاعدہ طور پر ہندو ریاست کا درجہ دے دیا جائےگا ، یوں اسکی برائے نام سیکولر حیثیت بھی بالآخر اپنے اختتام کو پہنچے گی اور ہندومت کو بھارت کا سرکاری مذہب قرار دیا جائے گا ۔ یہاں یہ بات توجہ کی حامل ہے کہ اندرا گاندھی نے 1976 کی ایمرجنسی کے دوران بھارتی آئین کی 42 ویں ترمیم کے ذریعے ہندوستان کو سیکولر ریاست قرار دیا تھا وگرنہ اس سے پہلے اس کا کوئی وجود نہ تھا ۔ بھارت کو ہندو ریاست قرار دینے کے مقصد کے حصول کی خاطر آرٹیکل 370 کا باقاعدہ خاتمہ ہو چکا ہے ۔ 2 ) بابری مسجد کی شہادت بھی عمل میں لائی جا چکی ہے ۔ 3 ) تین طلاق کا بل پاس ہونے سے بھارت بھر میں یکساں یونیفارم سول کوڈ کے نفاذ کی راہ بھی ہموار ہو رہی ہے ۔ اس عمل کے ذریعے ;828383; کا خیال ہے کہ اپنے قیام کا سو سالہ جشن مناتے ہوئے یعنی 2025 تک رام راجیے کا قیام عمل میں لایا جائے اور بھارت کے طول و عرض میں یہ پیغام ہر خاص و عام تک پہنچ جائے کہ ہندو قوم نے بالآخر اپنی 1000 سالہ غلامی کی تاریخ کا بدلہ چکا دیا! واضح رہے کہ کچھ ہفتے قبل مودی سرکار نے 2011 میں ہوئی مردم شماری کے اعداد وشمار جاری کیے جن کے مطابق ہندوءوں کی آبادی 96 کروڑ 63 لاکھ ہے جبکہ مسلمان 17 کروڑ 22 لاکھ جو بھارتی آبادی کا 14;46;23 فیصد بنتا ہے ۔ مودی سرکار نے تو یہ ڈیٹا اس لئے جاری کیا تھا کہ ہندو اکثریت میں اس اندیشے کو ہوا دی جائے کہ آگے چل کر وہ اقلیت میں تبدیل ہو سکتے ہیں کیونکہ مسلمانوں میں شرح نمو 24;46;6 فیصد ہے جبکہ ہندوءوں میں آبادی کا اضافہ 16;46;8 فیصد ہے اور اگر یہی شرح بر قرار رہتی ہے تو 2021 میں ہندو 112 کروڑ اور مسلمان 21 کروڑ ، 2031 میں ہندو 131 کروڑ ، مسلمان 26 کروڑ اور سو سال بعد یعنی 2111 میں ہندو 455 کروڑ ، مسلمان 455کروڑ اور دو سو سال بعد یعنی 2211 میں ہندو 2150 کروڑ مسلمان 1400 اور 2281 میں ہندو 6378 کروڑ اور مسلمان 6531 کروڑ ہو جائیں گے ۔ یوں بھارت میں مسلمان اکثریت میں آ جائیں گے ۔ ظاہر ہے یہ فی الحال اندیشہ ہائے دور دراز ہے کیونکہ اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ تعلیم اور خوشحالی کے آنے سے یہ سلسلہ رک جائے جیسا کہ مغرب کے ترقی یافتہ ملکوں میں ہے ۔ مگر اس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر یہ سلسلہ ترقی معکوس کا شکار ہو گیا تو 270 برس سے بھی بہت پہلے بھارت مسلم اکثریت کی آبادی کا ملک بن سکتا ہے اور ہندو جنونی گروہوں نے حالیہ دنوں میں جو روش اپنا رکھی ہے ، اس سے تو لگتا ہے کہ دائمی غلامی ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے ۔ یوں بھی قوموں کی زندگی میں سو دو سو سال کی اتنی بھی اہمیت نہیں ہوتی اور اگر مودی اور ان کے سر پرستوں کا یہی طرز عمل بر قرار رہا تو اس رفتار کو کئی گنا تیز کرنے کی اہلیت بھی رکھتا ہے ۔ بہر کیف اگرچہ فی الحال یہ سب اندیشہ ہائے دور دراز ہیں مگر یہ ایسا غیر حقیقی بھی نہیں ۔

قا د یا نیت برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا

الحمد اللہ ہم مسلمان ہیں ۔ اللہ کو ایک مانتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ وعلیہ و سلم کو اللہ کا آخری نبی ;248; مانتے ہیں ۔ قرآن اور اس سے قبل آسمانی کتابوں توریت ،انجیل، اور زبور پر ایمان لاتے ہیں ۔ اس پر بھی ہمارا ایمان ہے کہ رسول ;248; اللہ کے آخری پیغمبر ;248;ہیں ۔ ہ میں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہر کوئی اپنی جان کی حفاظت کرتا ہے ۔ اپنے مال کی حفاظت کرتا ہے ۔ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے ۔ مگر یہ بھی المیہ ہے کہ جب کوئی ہمارے اس عقیدے پر نقب لگائے تو مسلمان اس کی حفاظت کی با لکل پرواہ نہیں کرتے ۔ ہم اپنے عقیدے اور ایمان کی حفاظت کیوں نہیں کرتے;238; کیا جس کی جومرضی ہو وہ ہمارے دین کے اندر نقب لگا لے ;238;مسلمانوں کو دین کے بارے میں کم از کم بنیادی معلومات ہر حالت میں اَزبر ہونی چاہیے تاکہ کوئی ان کے دین میں نقب نہ لگا سکے ۔ چند دن پہلے میں نے محمد متین خالد صاحب کی کتاب ’’قادیانیت برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا‘‘ حرف بہ حرف پڑھی تو مجھے محسوس ہوا کہ مسلمانوں کے عقیدے کی حفاظت کے لیے یہ کتاب ایٹم بم کا درجہ رکھتی ہے ۔ جس طرح ڈاکٹر قدیر خان صاحب نے پاکستان کی حفاظت اورسا لمیت کے لیے ایٹم بم بنایا تھا ۔ پاکستان دشمنوں سے محفوظ ہو گیا اور دشمن اس کی طرف ٹیڑھی نظر رکھنے سے پہلے ہزار بار سوچتا ہے ۔ اسی طرح اس کتاب کے ہوتے ہوئے اور اس کو سمجھ کر اسے یاد رکھنے، اس پر عمل کرنے سے مسلمان کے عقیدے کی حفاظت ایک ایٹم بم کی سی ہے ۔ مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف دشمن سو قسم کی مکاریاں اور ٹگھیاں کرے وہ اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ نہیں سکے گا ۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کے مندرجات پڑھنے سے محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے کس طرح عرق ریزی اور محنت سے قادیانیوں کے اپنے لڑیچر سے حقیقی مواد اس کتاب کے اندر جمع کر دیا ہے ۔ کس طرح فتنہ قادیانیت جس نے ہمارے دین میں نقب لگایا ہے کے بت کو بے نقاب کیا گیا ہے ۔ اس محنت کو دیکھ کر ایک مسلمان کا ایمان تازہ ہو جاتا ہے اس کو اگر مصنف کا’’ انسائیکلوپیڈیا آف قادیانیکا‘‘ مانا جائے تو بے جا نہ ہو گا ۔ قادیانیوں کا نبی الگ،قرآن الگ،نماز روزہ ،حج،اور زکوٰۃ مسلمانوں سے مکمل الگ ہے اس کے باوجود ٹھگی کر کے خود کومسلمان کہلوانے اور شعائر اسلامی استعمال کرنے پر بضد ہیں ۔ قادیادنی مذہب کے پیروکارمرزاقادیانی کی بیوی کوام المومنین ،اس کے گھر والے اہل بیت مانتے ہیں ۔ قادیانی ٹھگی کر کے اپنے آپ کو مسلمانوں کا ایک فرقہ ظاہر کرتے ہیں جبکہ وہ فرقہ نہیں ہیں غیر مسلم ہیں ۔ پاکستان کے آئین ۳۷۹۱ء میں ان کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے ۔ ۷;241; ستمبر ۴۷۹۱ء بلاشبہ عالم اسلام بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کے لیے ایک یادگار دن ہے جب منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر پر ان کو اقلیت قرار دیا ۔ اپریل ۴۷۹۱ء میں رابطہ عالم اسلامی کے اجلاس میں ۰۴۱;241; تنظیموں اور ملکوں کے نمائندوں نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا ۔ حکیم لا امت علامہ اقبال;231; نے قادیانیوں کو ’’ قادیانیت یہودیت کا چربہ ہے‘‘ کہا ہے علامہ اقبال ;231; نے ۶۳۹۱ء میں پنجاب مسلم لیگ کی کونسل میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی تجویز پاس کرائی اور مسلم لیگی امیدواروں سے حلفیہ تحریر لکھوائی تھی کہ وہ کامیاب ہو کر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے لیے آئینی اداروں میں مہم چلائیں گے ۔ بانیِ پاکستان قائد اعظم ;231; سے ۸۴۹۱ء میں کشمیر سے واپسی پر سوال کیاگیا کہ قادیانیوں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے تو انہوں نے فرمایا’’ میری رائے وہی ہے جو علمائے کرام اور پوری اُمت کی رائے ہے‘‘ اس سے ظاہر ہے وہ قادیانیوں کو غیر مسلم سمجھتے تھے ۔ شہیدِ ملت لیاقت علی خان;231; نے اپنے قتل کی سازش بے نقاب ہونے پرسر ظفراللہ کے ہم زلف میجر جنرل نذیر احمدقادیانی کو جو امپریل ڈیفنس کالج لندن میں ایک تربیتی کورس پر گیا ہوا تھا واپس بلوا کر گرفتار کر لیا تھا ۔ قادیانیوں کی پاکستان کے خلاف سازشیں کا ذکر کچھ اس طرح ہے ۔ ذوالفقارعلی بھٹو کے دور میں ۳۷۹۱ء حکومت کا تختہ الٹنی کی سازش میں تین فوجی قادیانیوں کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ جن میں میجر فاروق،سکوارڈرن لیڈر محمد غوث اور میجر سعید اختر (ملک اختر حسین کا بیٹا اور لیفٹینیٹ جنرل عبدالعلی ملک کا بھتیجا) ملوث تھا ۔ اس کے دو ماہ بعد ایک اور سازش کا انکشاف ہوا جس میں فوج کے چودہ افسران ملوث تھے ۔ ان کے خلاف ۲;241; جولائی ۳۷۹۱ء کو مقدمہ شروع ہوا ۔ گروپ کیپٹن عبدالستار نے انکشاف کیا قادیانی افسر بھٹو حکومت کو ختم کرنے کی سازش کر رہے ہیں ۔ ایک بار ایئر فورس کے سربراہ ظفر چودھری قادیانی کے ہاتھوں کورٹ مارشل ہونے والے ایک مسلمان افسر نے بھٹو تک رسائی حاصل کر کے، ظفر چودھری کے مقاصد بیان کیے تو بھٹو نے کہا ’’اچھا یہ ہے ان کا اصل روپ‘‘(موید قومی ہیرو ایم ایم عالم صفحہ ۳۸۱ ۔ ۴۸۲) پھر۵۲ جولائی ۴۷۹۱ء کو جسٹس صمدانی کے سامنے جب یہ معلومات آئیں کہ مرزا ناصر احمدکی صدارت میں سرکردہ قادیانیوں نے بھٹو کو راستے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے(جسٹس صمدانی رپورٹ یکم اکتوبر ۴۷۹۱ء) دسمبر۲۷۹۱ء کو قادیانیوں کا جلسہ ربوہ میں ہو رہا تھا تو ایک ایک کر کے تین قادیانی پائلٹوں نے غوطہ لگا کر مرزا ناصر قادیانی کو سلامی دی ۔ اس کے بعد ائیر فورس کے قادیانی سربراۃ ائیر مارشل ظفر چودھری کی قیادت میں انہی جہازوں نے قادیانیوں کے جلسے پر پھولوں کی پتیاں نچھاورر کیں ۔ اس پر مرزا ناصر نے کہا تھا’’ میں دیکھ رہا ہوں احمدیت کا پھل پک چکا ہ ہے‘‘ اس کے بعد جلسے میں احمدیت زندہ باد کے نعرے لگائے گئے ۔ اخبارات میں اس کی رپورٹنگ ہوئی اور خفیہ والوں نے بھی یہی رپورٹ دی تو بھٹو نے ایئر مارشل ظفر چودھری کو رخصت کر دیا ۔ اس دور میں ایک سائنس کی کانفرنس ہو رہی تھی ۔ نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو بھی دعوت تھی ۔ مگر اس نے کارڈ پر لکھ کہ واپس کر دیا کہ ’’ میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا ۔ جب تک کہ آئین میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے‘‘ بھٹو نے یہ ریمارکس پڑھ کر اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری وقار احمد کو لکھا ڈاکٹرعبدالسلام کو فارغ کر دیا جائے ۔ مگر اس حکم کو کا ریکارڈ میں رکھنے کے بجائے اپنے پاس رکھ لیا اور بعد میں معلوم ہوا کہ وقار احمد بھی قادیانی ہے ( ڈاکٹر عبدالقدیر اور کہوٹہ سنٹر ازیونس خلش صفحہ۰۸) ایک اہم واقعہ زاہد ملک کی کتاب ’’ڈاکٹر عبدالقدیر اور اسلامی بم‘‘کی کتاب کے صفحہ ۳۲ پر ڈاکٹر عبدالسلام کی پاکستان دشمنی کے بارے میں بتاتے ہیں ۔ نیاز اے نائیک نے صاحبزادہ یعقوب علی خان کے بیان کردہ واقعہ بتایا کہ امریکہ میں ایک دورے کے دوران پاکستان کے ایٹمی پروگرام کا ذکر ہو رہا تھا ۔ مجھے بتایا اورکہا گیا پاکستان ایٹمی پروگرام میں مصرو ف ہے اور ایٹم بم بنا رہا ہے ۔ میں نے انکار کیا تو سی آئی اے کا ایک اہلکار دوسرے ممبران کے ساتھ مجھے اور ان کو ایک کمرے میں لے گیا ۔ کسی چیز پر پڑا ہوا ایک پردہ ہٹایا ۔ کوئی گول سی گیند نما چیر دکھائی اور کہا ہم کو سب کچھ معلوم ہےں یہ ہے آپ کا اسلامی ایٹمی بم ۔ اس پر میں نے کہا، میں ٹیکنیکل آدمی نہیں ہوں اگر آپ کہتے ہیں تو ہوگا اسلامی بم ۔ ہم سب باہر نکل رہے تھے تو جیسے ہی میں نے پیچھے موڑ کر دکھا تو ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی ایک دوسرے کمرے سے نکل کر اس کمرے میں داخل ہو رہاتھا ۔ میں نے دل میں کہا اچھا ! تو ےہ بات ہے ۔ ۲۷۹۱ء میں قومی اسمبلی میں مولانا ظفر احمد انصاری نے پارلیمنٹ کو یہ بتا کر حیران کر دیا کہ’’ فلسطین میں قادیانی مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں ۔ ۰۰۶ سو قادیانی اسرائیلی فوج میں بھرتی ہیں حوالہ’’ اسرائیلی اے پروفائل ‘‘ یہودی مصنف پروفیسر آئی آئی نومائی(۹۲ دسمبر ۵۷۹۱ء نوائے وقت لاہور صفحہ ۵) قادیانی یہودیوں کے ساتھ مل کر فلسطینی مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں ۔ اسرائیل میں کوئی بھی مذہبی مشن کام نہیں کر سکتا ۔ لیکن قادیانی مشن کام کر رہا ہے ۔ اس کی تصدیق کچھ عرصہ قبل نوائے وقت میں ایک تصویر سے عیاں ہوئی کہ قادیانی مشن اسرائیل کے شہر حیفہ کا انچارج شیخ شریف نئے آنے والے قادیانی مشن کے انچارج شیخ محمد حمید کا تعارف کروا رہا ہے ۔ اس سے ایک طرف قادیانیوں میں غم کی لہر دوڑی اور دوسری طرف مسلمانوں کو حیرت میں ڈال دیا ۔ ہفت روزہ تکبیر مارچ ۶۸۹۱ء کے مطابق مشہور سراغرساں جیمز سالمن ونسٹنٹ نے انکشاف کیا کہ شہید ملت لیاقت علی خان کو قتل کرنے والا ایک جرمن جیمز کنز ہے ۔ اس کا نام قادیانی ہونے کے بعد عبدالشکور تھا ۔ اس کو سر ظفراللہ نے قادیانی بنایا تھا ۔ یہ اب بھی مغربی جرمنی کے شہر برلن میں زندہ ہے ۔ کتاب’’ قادیانیت برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا ‘‘کے مندرجات سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان بنتے و قت قا دیانیوں بظاہر ٹھگی کرتے ہوئے پاکستان کی حمایت اور اندر ہی اندر اپنے نکتہ نظر کی آبیاری کی گئی ۔ اس امر کی تصدیق (الفضل قادیان مئی ۷۴۹۱ء صفحہ نمبر ۲) سے ہوتی ہے اس کا مفہوم یہ ہے’’ مرزا قادیانی اپنی رُویا بیان کرتے ہیں کہ ہندوستان کی تقسیم عارضی ہے ۔ ساری قو میں متحد رہیں تو احمدیت کےلئے بہتر ہے ۔ ہم اگر ہندوستان کی تقسیم پر رضا مند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے ،اور پھر کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح جلد متحد ہو جائیں ۔ ‘‘ سر ظفراللہ بظاہر پاکستان کے وکیل تھے مگر ساتھ ساتھ قادیانیوں کو غیر مسلم ظاہر کر کے قادیان کو وٹیگن سٹی قرار دینے کےلئے الگ میمورنڈم بھی باءونڈری کمیشن کو پیش کیا جو ۰۴۹۱ ء میں تیار کیا گیا تھا ساتھ ہی ساتھ گرداسپور کا نقشہ بھی پیش کیا گیا تھا جس کو دیکھ کر باءونڈری کمیشن اس وقت حیرت میں پڑ گیا تھا ۔ وٹیگن سٹی کا مطالبہ تو نہ مانا گیا مگراسی وجہ سے گرداسپور کو بھارت میں شامل کر لیاگیا تھا ۔ اس سے بھارت کو کشمیر ہڑپ کر لینے کی راہ میسر آگئی ۔ حوالہ (قادیانیت کا سیاسی تجزیہ از صاحبزادہ طارق محمود) ۔ اس واقعہ کو مزید تقویت اس حرکت سے ملتی جو قادیانی ظفراللہ نے کی ۔ گرداسپور میں تقسیم کے وقت مسلمان ۱۵ فیصد ،ہندو ۹۴ فیصد اور قادیانی ۲ فیصد تھے ۔ جب ۲ فیصد قادیانی مسلمانوں سے علیحدہ ہو گئے تو مسلمان ۱۵ فیصد کی بجائے ۹۴ فیصد رہ گئے ۔ قادیانی سر ظفراللہ کی اس چال سے گرداسپور جاتا رہا ۔ مسلم لیگی رہنما میاں امیرالدین صاحب نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا، کہ باءونڈری کمیشن کے مرحلے پر ظفراللہ کو مسلم لیگ کا وکیل بنانا مسلم لیگ کی بہت بڑی غلطی تھی ۔ پٹھان کوٹ کا علاقہ قادیانیوں کی سازش سے ہندوستان میں شامل ہوا حوالہ (ہفت روازہ چٹان ۶ اگست تا ۳۱;241; اگست۴۸۹۱ء) قادیانی سر ظفراللہ کی دوغلی پوزیشن کا ذکر ہندوستان ٹائمز میں بھارت کے سابق کمشنر، سری پرکاش کی قسط وار سوانح عمری سے واضح ہوتا ہے ۔ اس نے ۷۴۹۱ء میں قائدِ اعظم محمد علی جناح;231; کو بیوقوف قرار دیا تھا اور کہا تھا اگر پاکستان بن گیا تو ہندوءوں سے زیادہ مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا ۔ کچھ عرصہ بعد کراچی میں ملاقات کے دوران اس سے معلوم کیا، اب آپ کا کیا خیال ہے تو سرظفراللہ نے کہا میرا وہی جواب ہے حوالہ( اداریہ روز نامہ مشرق ۵۱ فروری ۴۶۹۱ء) محمد خالد متین کی کتاب کے مدراج سے معلوم ہوتا ہے پاکستان کے اندر قادیانی ریاست بنانے کے منصوبے کو بے نقاب کرتے ہوئے قادیانی ریاست کاموادقادیانیوں کی کتابوں سے جمع کیا گیا ہے، جس سے انکار ممکن نہیں رہتا ۔ قادیانیوں کا رابطہ پاکستان کے دشمنوں سے اور ملک کے اندر مسلمانوں کے ملی وجود کے مخالفوں سے بھی ہے ان کے عزائم یہ ہے ’’ ہم احمدیت کی حکومت چاہتے ہیں ہ میں اس کےلئے تیار رہنا چاہیے ۔ ۸۴۹۱ء مرزا محمود اس مقصد کےلئے بلوچستان گیا اور اسے قادیانی صوبہ بنانے کا اعلان کیا اور کہابلوچستان کی آبادی ۵ لاکھ ہے اتنی آبادی کو احمدی بنانا کوئی مشکل کام نہیں جب تک ہماری بیس نہ ہو گی کامیابی مشکل ہے میں جانتا ہوں یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں سے نہیں بچ سکتا یہ ہمارا شکارضرور ہو گا‘‘( روزنامہ الفضل قادیان ۸۴۹۱ ء )جسٹس تنویر احمد یک رکنی ٹربیونل کی رپورٹ کے مطابق فروری۷۹۹۱ء میں شانتی نگر خانیوال میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان تصادم کا ذمہ دارقادیانی جماعت خانیوال کا صدر نور احمد تھا ۔ اس سے پورے پاکستان میں لاء ایند آڈر کا مسئلہ پیدا ہوا تھا ۔ مگر افسوس حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ اِس سے گمان ہوتا ہے کی قادیانی غیر ملکی ایجنسیوں ، جیسے بلیک واٹر سے مل کر پاکستان کے حالات خراب کرنے میں ملوث ہو سکتی ہیں ۔ یوں تو اس کتاب کے صفحہ ۸۶ تا ۵۴۲ تک مرزا قادیانی انگریز کو اپنی اور اپنے خاندان کی وفاداری،خیرخواہی، خدمت گزاری،شکرگزاری،تقریری اور تحریری خدمات سے انگریز سلطنت کی تعریف،جانثاری کا یقین دلاتے نظر آتا ہے مگر خاص کر خود اپنے آپ کو ’’برطانوی سامراج کا خود کاشتہ پودا‘‘ ثابت کرتا ہے ۔ اپنے ایک عریضہ میں اس طرح رقطراز ہے’’ عریضہ بعالی خدمت گورنمنٹ عالیہ انگریزی‘‘ میں لکھتا ہے’’ اِس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے کر اور اپنے ماتحت حکام کو اشارہ فرمائیے کہ وہ بھی اس خاندان کی ثابت شدہ وفاداری اور اخلاص کا لحاظ رکھ کر مجھے اور میری جماعت کو ایک خاص عنایت اور مہربانی کی نظر سے دیکھیں ‘‘ ۔ ایک دوسری جگہ مسلمانوں کے خلاف انگریزوں کی مدد کرتے ہوئے ایک خط بنام ملکہ ہندوستان و انگلستان میں رقم طراز ہے کہ’’ میرے والد مرزا غلام مرتضیٰ نے ۷۵۸۱ء کی جنگ آزادی میں انگریز حکومت کی مدد پچاس گھوڑوں مع سواروں سے کی تھی اور ساتھ ساتھ یہ بھی ارادہ کیا تھا کہ جنگ کا کچھ اور طول ہوتا تو مےرے والد سو اور سواروں کی بھی مدد کے لیے تیار تھے‘‘ صاحبو!اوپر بیان کردہ تجزیہ کے تحت جس گروہ کو علامہ اقبال ;231; ۶۳۹۱ء میں اقلیت قرار دینے کا مسلم لیگی امیدواروں سے عہد لیا تھا ۔ قائداعظم;231; ۸۴۹۱ء میں اِنہیں غیر مسلم مان چکے ہیں ۔ لیاقت علی خان ;231; نے ۱۵۹۱ء نے اپنی شہادت سے قبل، قتل کی سازش بے نقاب ہونے پر سرظفراللہ کے ہم زلف میجر جنرل نذیر احمد جوقادیانی کو جو امپریل ڈیفنس کالج لندن میں ایک تربیتی کورس پر گیا ہوا تھا واپس بلوا کر گرفتار کر لیا تھا ۔ مولانا ظفر احمد انصاری;231; ۲۷۹۱ء ۰۰۶ قادیانیوں کا اسرائیلی فوج میں بھرتی اور فلسطینی مسلمانوں کو قتل کرنے کا انکشاف کیا تھا ۔

ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو منظوم ’’خراج تحسین‘‘

معروف ایٹمی سائنسدان ، محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی شخصیت اور ملکی خدمات پر انہیں کئی ملکی و غیر ملکی یونیورسٹیوں نے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریوں سے نوازا ہے ۔ علاوہ ازیں متعدد ملکی اور بیرونی ممالک کی تنظیموں نے انہیں سونے کے تاج پہنائے اور گولڈ میڈل پیش کئے ۔ حکومت پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار انہیں تین مرتبہ اعلیٰ سول ایوارڈز دئیے ہیں ان پر ملک کے اندر اور باہر متعدد کتابیں شاءع ہوچکی ہیں ۔ آج جو پاکستانی قوم دشمنان وطن کے سامنے فخر سے سر اٹھا کر چل رہی ہے تو اس کا سہرا بھی ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ان کے رفقاء کے سر ہے ۔ جنہوں نے دن رات ایک کرکے ملک کو ایٹمی و میزائل قوت بنایا اس میں کوئی شک نہیں کہ بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ;231; اورمصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ;231; کے بعد محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بڑی قومی شخصیت ہیں ۔ جہاں دنیا بھر میں ان کی قومی خدمات کو سراہا گیا ۔ وہاں ملک کے ممتاز و معروف شعرائے کرام نے بھی ان کے کارہائے نمایاں پر منظوم خراج تحسین پیش کیا جسے معروف صحافی ، دانشور اور شاعر جبار مرزا نے یکجا کرکے خراج تحسین کے عنوان سے کتابی شکل دی ہے جو 218صفحات پرمشتمل ہے پوری کتاب دیدہ زیب انداز میں آرٹ پیپر پر شاءع کی گئی ہے اور اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ پاکستان بھر کے ممتاز شعرا نے ہماری قومی زبان اردو کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کو پنجابی ، سرائیکی اور پوٹھوہاری زبانوں میں بھی خراج تحسین پیش کیا ہے ۔ کتاب کا ابتدائیہ پیر سید نصیر الدین آف درگاہ غوثیہ مہریہ گولڑہ شریف اسلام آباد نے موثر انداز میں تحریر کیا ہے جبکہ کتاب کا دیباچہ مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد کے چیئر مین اور ممتاز شاعر افتخار عارف نے تحریر کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایٹمی جنگ کا تصور تباہی و بربادی سے منسلک ہے جس میں کوئی فاتح نہیں ہوتا مگر سب سے بڑی شکست انسانیت کی ہوتی ہے اور کوئی بھی ذی شعور اس کی حمایت نہیں کرسکتا لیکن بھارت کی ممکنہ مہم جوئی کے پیش نظر وطن عزیز کو اپنے دفاع کا پورا پورا حق حاصل ہے اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پاکستان کو مضبوط ایٹمی و میزائل قوت بنا کر یہ حق ادا کر دیا ۔ کتاب خراج تحسین سے کچھ شعراء کا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو منظوم خراج تحسین پیش خدمت ہے ۔

مسلم ہیں ، ہم ہیں ماننے والے حسین;230; کے

ہم خاک پا ہیں فاتح بدر و حنین کے

اے خاک پائے فاتح خیبر تمہیں سلام

عبدالقدیر خان مکرر تمہیں سلام

(جاوید منظر)

مانا کے اپنے علم و ہنر کے کمال پر

تحسین و داد کے نہیں قائل قدیر خان

لیکن ہر ایک قلب کی آواز ہے یہی

سونے میں تولنے کے قابل ہیں قدیر خان

(منظر ایوبی)

کیا صاحب کمال ہے عبدالقدیر خان

ایک شخص بے مثال ہے عبدالقدیر خان

محسن ہے قوم کا تو محافظ وطن کا ہے

سب خواب ہے خیال ہے عبدالقدیر خان

(ناصر زیدی)

نسلوں کی زندگی کا ضامن ہے کام تیرا

تاریخ کی جبیں پہ روشن ہے نام تیرا

احسان مند ہیں ہم اپنے قدیر خان کے

گرویدہ ہوگیا ہے ہر خاص و عام تیرا

چند ساعتوں میں دشمن اب ہے ہماری زد پر

کیا خوب بات تیری کیا انتظام تیرا

ہر شخص کے لبوں پر تیرے لیے دعا ہے

ہے یہ تری محبت ہے یہ انعام تیرا

(تسنیم شاہ)

اب نہ دشمن سے خوف ہے نہ خطر

سارے اوہام مٹ گئے یکسر

ہیں وہ سالار جیش علم وہنر

تاج نصرت قدیر خان کے سر

(سید نعیم حامد علی الحامد ، مدینہ منورہ)

تیری عظمت کو سلام قدیر

تو پاکستان میرے کی شان قدیر

دیکھ کے غوری کی پروازوں کو

بھڑک اٹھے ہمت کے طوفان قدیر

ہر دم لب پہ دعا یہ اجمل

ہو تیرا محافظ پاک قرآن قدیر

(اجمل خان اعظم)

اے وطن کے پاسباں ہے تیری عظمت کو سلام

تیری ہمت! تیری جرات! تیری رفعت کو سلام

ہے دعا ہر دم قمر تو جیئے لاکھوں برس

ہر برس ہو لاکھ کا پھر لاکھ ہوں لاکھوں برس

(پروفیسر اشتیاق احمد قمر)

یوں ہراساں ہوگئے اغیار تجھ سے اے قدیر

چھین سکتے ہی نہیں تلوار تجھ سے اے قدیر

کس طرح مانگیں ترا شہکار تجھ سے اے قدیر

کہہ رہا ہے مطلع انوار تجھ سے اے قدیر

(منصور ملتانی)

دن ہے اٹھائیس مئی کا فضل ربانی کا دن

عالم اسلام دنیا پر سلطانی کا دن

نعرہ اللہ اکبر یوم تکبیر آگیا

ہوگیا طالع فروغ جوش ایمانی کا دن

(راغب مراد آبادی)

طاقتوں کی طاقت ہے جوہری توانائی

اللہ کی عنایت جوہری توانائی

اپنے سائنسدانوں کو میں سلام کرتا ہوں

عقل کی وضاحت ہے جوہری توانائی

ہیں دعائیں خاور کی سب قدیر خان تم کو

تم سے ہی عبارت ہے جوہری توانائی

(پروفیسر ڈاکٹر خورشید خاور امروہوی)

اک مرد بے مثال ہیں عبدالقدیر خان

سچ ہے کہ لازوال ہیں عبدالقدیر خان

ان کے کرم سے آہنی دیوار بن گیا

میرے وطن کی ڈھال ہیں عبدالقدیر خان

ظلمت کدے میں آپ نے حق کی اذان دی

اس دور کے بلال ہیں عبدالقدیر خان

(عبدالبصیر قریشی ایڈووکیٹ)

ڈاکٹر عبدالقدیر خان ملک کو ناقابل تسخیر بنانے کے بعد اب سسکتی انسانیت کی خدمت کے پیش نظر رفاہی کاموں کی طرف بھرپور توجہ دے رہے ہیں اور لاہور میں مستحق اورنادار مریضوں کےلئے ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کی نئی عمارت تعمیر کررہے ہیں جس میں غریبوں کو مفت علاج و معالجہ فراہم کیا جا رہا ہے اور کیا جاتا رہے گا ۔ اس پر ملک کے ممتاز شاعر اور دانشور امجد اسلام امجدنے یوں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کیا ۔

خلق خدا کی خاطر رحمت کی راہ گزر میں

ہم سب ہیں ساتھ ان کے خدمت کے اس سفر میں

ہر ہر قدم پہ جس کے برکت کے ہیں خزانے

آءو کے مل کے ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالیں

ہر جان اک جہاں ہے ، ہر جان کو بچالیں

احساں ہیں ہم پہ کتنے اس محسن وطن کے

چاغی سے لے کے اب تک دیکھو تو ان کو گن کے

بے زر کا بے نوا کا اس میں علاج ہوگا

اب تک جو ہو نہ پایا وہ کام آج ہوگا

کیا راستہ بنایا عبدالقدیر خان نے

ہر ہر قدم کے جس کے برکت کے ہیں خزانے

آءو کے مل کے ان کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالیں

ہر جان ایک جہاں ہے ، ہر جان کو بچالیں

یہ نظم صنعت توشیع میں ہے جس کے ہر شعر کے پہلے مصرعے کا حرف اول لینے سے ممدوح کا نام یعنی عبدالقدیر خان برآمد ہوتا ہے

ع عزم و عمل کو تجھ سے ملا ہے ثبات کیا سرمایہ ملک و قوم کا ہے تیر ی ذات کیا

ب بخشا مقام قوم کو ارفع جہان میں پرچم کچھ اور اونچا ہوا آن بان میں

د دشمن کو ترے نام سے آنے لگا ہے خوف ظالم بھی ترے کام سے کھانے لگا ہے خوف

ا ابدالی اور غوری ترے عز م کے نشاں جن سے وطن پاک کی پیشانی زر فشاں

ل لکھی جبین وقت پر تونے وہ داستاں جو بن گئی ہے ملت بیضا کی پاسباں

ق قندیل امن تونے عمل سے جلائی ہے ملت نے ترے دم سے بلندی وہ پائی ہے

د دنیا میں سر اٹھا کے بھی چلنے لگے ہیں ہم ذہنوں میں کوئی خوف نہ دل میں کوئی غم

ی یوں سر بلند پا ک وطن اپنا ہوگیا تاریکیوں میں جل اٹھا امید کا دیا

یو م دفاع۔۔۔سیاسی وعسکری قیادت کا ایل او سی کادورہ،جوانوں کے عزم کوسراہا

ملک بھر میں یوم دفاع انتہائی ملی جوش وجذبے اورشہدائے وطن کے ساتھ محبت اورعقیدت کے ساتھ منایاگیا، عوامی ریلیاں منعقدکی گئیں ، شہداء کے مزاروں پرحاضری اوران کے اہلخانہ سے ملاقاتیں کی گئیں ،شہرقائد میں مزارقائدپرگارڈزکی تبدیلی ہوئی، آزاد کشمیر میں بھی یوم دفاع وشہداء منایاگیا، قوم نے یوم دفاع اورشہداء کے ساتھ یوم یکجہتی کشمیر’’کشمیربنے گاپاکستان ‘‘ کے نعرے کے ساتھ منایاگیا، یوم دفاع پروفاقی دارالحکومت میں دن کا آغاز اکتیس اور صوبائی دارالحکومت میں اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ ہوا،نمازفجر کے بعد مساجد میں ملکی سلامتی اور کشمیریوں کی آزادی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ،وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر پی ٹی آئی کے مختلف رہنما شہداء کے گھرگئے اور انہیں وزیراعظم کے خصوصی پیغامات پہنچائے، وزیراعظم عمران خان ،چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمرجاویدباجوہ نے اس موقع پرلائن آف کنٹرول کادورہ کیا ،سیاسی وعسکری قیادت نے اگلے مورچوں پرپاک فوج کے افسران اور جوانوں سے ملاقاتیں کیں ، ان کے بلند حوصلے کی تعریف کی، وزیراعظم نے کہاکہ بھارتی مہم جوئی کامنہ توڑ جواب دینے کے لئے تیار ہیں ، وزیراعظم کوایل او سی کی تازہ ترین صورتحال پربھی بریفنگ دی گئی، عمران خان نے بھارتی جارحیت کانشانہ بننے والے افراد سے ملاقات کی، انہو ں نے پاک فوج کی آپریشن تیاریوں اوربھارت کے سیزفائرمعاہدے کی خلاف ورزی کاموثرجواب دینے پرپاک فوج کوسراہا، وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان حق خودارادیت دلانے کے لئے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ،ہماری توجہ فی الحال فاشٹ بھارتی حکومت کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنے پرہے ،آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے یوم دفاع کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیرتکمیل پاکستان کانامکمل ایجنڈا ہے ،پاکستان کبھی بھی کشمیریوں کو تنہا اورحالات کے رحم وکرم پرنہیں چھوڑے گا،آخری گولی، آخری فوجی اورآخری سانس تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں ، کشمیریوں پرحملہ ہمارے اورپورے عالم انسانیت کے لئے چیلنج ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد اب غربت ،جہالت اور پسماندگی کے خلاف جنگ لڑیں گے ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کراپنافرض پورا کردیاہے ، سیاسی اور عسکری قیادت کے عزم کو دیکھاجائے تووہ انتہائی پختہ ہے ، وزیراعظم نے بھی درست کہاکہ پاک فوج دشمن کوہرطرح کاجواب دینے کے لئے تیار ہیں جبکہ آرمی چیف کی جانب سے یہ کہنا کہ آخری گولی، آخری سپاہی اور آخری سانس تک کشمیریوں کے ساتھ کھڑے ہیں یہ بھارت کے لئے واضح اور دوٹوک پیغام ہے وہ کسی طرح بھی خام خیالی میں نہ رہے کہ 370 اور 35 اے ختم کرکے وہ مقبوضہ کشمیرپرقبضہ جمالے گا،مسئلہ کشمیر کاحل صرف حق خودارادیت اوراقوام متحدہ کی قراردادوں میں مضمر ہے کیونکہ یو این کی قراردادوں کے خلاف کوئی بھی حل یہاں قابل قبول نہیں اورنہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہے ،مسئلہ کشمیر میں تین فریقین ہیں جن میں پاکستان، کشمیری اوربھارت شامل ہیں اور فریق اول کی حیثیت کشمیریوں کو حاصل ہے اور ان کی مرضی کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا، آرمی چیف نے کہاکہ پوری قوم شہداء کو سلام پیش کرتی ہے ،شہید ہماری پہچان ہیں ، اپنے شہیدوں کے خاندانوں کاحوصلہ دیکھ کراعتمادبڑھا ہے، قیام پاکستان سے بقائے پاکستان کاسفرشہداء کی عظیم قربانیوں سے سجا ہوا ہے ، میں پورے یقین سے کہہ رہاہوں کہ ہمارے شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی، جب بھی ضرورت پڑی وطن کے بیٹوں نے لبیک کہا، دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ دنیا کےلئے ایک مثال ہے، جب تک وطن کے جانثارموجود ہیں کوئی بھی پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا، پاکستان میں امن کی فضاء بہتر ہے ،اب اقوام عالم کی ذمہ داری ہے کہ انتہاپسندی کو عملی طورپررد کردے ،امن برقراررکھنا دنیا کی ذمہ داری ہے ۔ ہم نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدارامن کی کوشش کی ہے آئندہ بھی کوششیں جاری رکھیں گے، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی عروج پر ہے ، وہاں پرانسانی حقوق کی خلاف ورزیاں عالمی اداروں کے لئے لمحہ فکریہ ہے ہ میں وہاں پر اپنے بھائیوں اوربہنوں کی مصیبتوں کا ادراک ہے آج کاکشمیرہندوتوا کی پیروکارہندوستانی حکومت کے ظلم وستم کاشکاربن چکاہے ،کشمیری خون ارزاں ہوچکا ہے اورجنت نظیر کشمیرظلم کی آگ میں جل رہاہے،ہندوستانی قیادت نے مذہبی جنونیت ،نفرت اورطاقت کے زعم میں کشمیریوں پرجوحملہ کیا وہ بلاشبہ ہمارے اورپورے عالم انسانیت کے لئے ایک آزمائش ہیں ، قبل ازیں آرمی چیف نے یادگارشہداء پر حاضری دی اورپھول چڑھائے ۔

بھارت کاچاندپرجانے کاخواب چکناچور

بھارت کا چاند پر جانے کاخواب چکناچور ہوگیا اسے پوری دنیا میں رسوائی کاسامنا ہوا جس سے900کروڑ روپے کانقصان بھی ہوا،بھارتی وزیراعظم نریندرمودی شن کی ناکامی پرشدید مایوس ہوکر سپیس سنٹرسے چلے گے ۔ انڈین خلائی مشن چندرایان 2 کے ساتھ رابطہ اس وقت منقطع ہو گیا جب اس کا وکرم ماڈیول چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ سے چند لمحے دور تھا ۔ ابھی تک اس خلائی جہاز کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں ۔ انڈین خلائی ریسرچ ;200;رگنائزیشن کے صدر کے سیون نے مشن کے بارے میں کہا کہ چاند گاڑی وکرم منصوبے کے مطابق اتر رہی تھی اور چاند کی سطح سے 2;46;1 کلومیٹر دور سب کچھ معمول پر تھا ۔ لیکن اس کے بعد اس کا رابطہ ختم ہو گیا ۔ اس سیٹلائیٹ کی رات 1;58;30 بجے سے 2;46;30 بجے کے درمیان چاند کے جنوبی قطب پر لینڈنگ متوقع تھی ۔ انڈیا کا چندرایان ٹو خلا میں چھوڑے جانے کے ایک ماہ بعد 20 اگست کو چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا ۔ اب سے پہلے کوئی ملک چاند کے اس حصہ پر نہیں گیا ۔ اگر انڈیا کو اس مشن میں کامیابی حاصل ہو جاتی تو وہ سابق سوویت یونین، امریکہ اور چین کے بعد چاند کی سطح پر لینڈنگ کرنے والا چوتھا ملک بن جاتا ۔ یاد رہے کہ انڈیا کے چاند کے پہلے مشن چندرائن 1 نے ریڈارز کی مدد سے سنہ 2008 میں چاند کی سطح پر پانی کی پہلی اور سب سے مفصل تلاش کی تھی ۔ انڈیا کا پہلا مشن ;39;چندرایان ون;39;2008 میں چاند کی سطح پر اترنے میں ناکام رہا تھا ۔

مسئلہ کشمیرکاحل

حق خودارادیت میں ہے

قائد حزب اختلاف سینیٹ راجہ ظفر الحق نے روزنیوز کے پرورگرام سچی بات میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ میں 23متفقہ قرار دادیں موجود ہیں ۔ ہر قرار داد کے بعد یہ لکھا جاتا ہے کہ اس کی کس نے حمایت کی اورکس نے مخالفت کی اور کون نیوٹرل رہا ۔ اس اعتبار سے تمام قراردادوں پر تمام ممالک نے اتفاق کیا حتیٰ کہ بھارت اور روس نے بھی ان کی مخالفت نہیں کی ۔ یواین او قائم کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مختلف معاشروں کو حق خود ارادیت فراہم کیا جائے اور اس کا تحفظ بھی کیا جائے اس حوالے سے ;200;رٹیکل 2بھی موجود ہے ۔ نیز اقوام متحدہ کی قراردادوں سے ہٹ کر کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی معاہدہ یا قرارداد ہو نہ وہ قابل تسلیم ہے اور نہ اُس کی کوئی حیثیت ہے ۔ ان معاہدوں میں واضح لکھا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین ایل او سی کا احترام کرنا ضروری ہے اور مسائل مذاکرات کے ذریعے امن کے تحت حل کرینگے ۔ 1971کے تحت جو ایل او سی ہے اس کا احترام کیا جائیگا ۔ نیز دو ممالک یو این کی قراردادوں کے تحت اتفاق کرتے ہوئے جنگ کے بجائے مسئلہ کشمیر کو حل کرینگے ۔ لہٰذا جو لو گ یہ کہتے ہیں کہ شملہ معاہدہ مسئلہ کشمیر کے حل میں رکاوٹ ہے یا لاہور ڈیکلریشن میں کشمیر کا کوئی ذکر نہیں تو وہ قطعی طور پر غلط ہیں ۔ 24جنوری1957 میں قرارداد کے تحت واضح کہا گیا کہ بھارت جو مرضی کرنا چاہے ہم اس کو تسلیم نہیں کرینگے اور مسئلہ کشمیر کا واحد حل استصواب رائے ہی ہے اور اس حوالے سے یواین او کی طرف سے کوئی تبدیلی نہیں ہوگی ۔ کشمیر کا جو ڈیسپورا ہے وہاں سے ;200;واز اُٹھانا انہتائی ضروری ہے اس کا بہت اثر ہوگا اس دفعہ جو مسئلہ کشمیر اتنا ہائی لاءٹ ہوا اس میں جہاں دیگرعوامل شامل ہیں وہاں پر برطانیہ میں موجود کشمیریوں کا بھی اہم کردار شامل ہے ۔ بھارت مقبوضہ وادی میں انتہائی ظلم وستم کر رہا ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے متعلق بھارت نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت قدم اٹھایا ہے، بھارت کا اقدام غیر متوقع نہیں تھا کیونکہ انہوں نے انتخابی منشور میں اعلان کیا تھا، پاکستان نے دیر سے رد عمل دکھایا اور کوئی مناسب ردعمل نہیں دکھایا گیا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بنیاداسلامی دنیا ہے، اسلامی دنیا کے ساتھ تعلقات رکھنا ہمارا فرض ہے ۔ تمام معاملات پر گہری نگاہ رکھنے کی ضرورت ہے ۔ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیریوں نے ہی کرنا ہے، یہ زمین کا نہیں انسانیت کا مسئلہ ہے ۔

عمران خان بیوروکریسی کے شکنجے میں

مدینے کی اسلامی ریاست کےلئے72 سال سے ترستی آنکھوں والے غریب عوام نے جب عمران خان صاحب وزیر اعظم پاکستان کو عنان حکومت پر بیٹھتے دیکھا تو اُس سے اُمیدیں باندھ لی تھیں کہ انہیں اب انصاف ملے گاکیونکہ عمران خان صاحب ۳۲ سال سے تسلسل سے کہہ رہے تھے کہ میں اقتدار میں آکر حضرت علامہ شیخ محمد اقبال ;231; شاعر اسلام کے خواب اور حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کے وژن کے مطابق ،مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان مثل مدینہ ریاست کو مدینے کی اسلامی فلاحی ریاست کے مطابق بناءوں گا ۔ ملک میں انصاف کا بول بالا ہو گا ۔ حقدار کو حق ملے گا ۔ ملک کو کرپشن فری کروں گا ۔ غربت ختم ہو جائے گی ۔ ملک میں امن وامان ہوگا ۔ عمران کہتے تھے کہ ملک کا چیف اگر ایمان دار ہے تو رفتہ رفتہ نیچے والے بھی ایمان دار ہو جائیں گے ۔ اس بیانیہ کو عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بننے سے آج تک اپنی تمام تقاریر میں میں بڑے عزم اور حوصلے سے دھراتے رہے ہیں ۔ مگر ۲۷ سال سے جن کے منہ کو کرپشن کاخون لگا ہوا ہے ان کو عمران خان آج تک درست نہیں کر سکے ۔ ان کے ارد گرد آج بھی پہلے والی سیاسی پارٹیوں کے کرپٹ اور قرضے معاف کرانے والے لوگوں کا جھمگٹا ہے ۔ کرپٹ لوگوں کے حمائیتی بیوروکریٹس حکومت میں اب بھی موجود ہیں ۔ جنہوں نے عمران خان کو اپنے شکنجے میں جھگڑ رکھا ہے ۔ سرمایہ داروں کے حمایتی بیوروکریٹس نے اب عمران خان سے غریب عوام کی محنت مزدوری سے کمایا ہوئے پیسے، جو ان سے گیس کے معاملات کو درست کرنے کے لئے ٹیکس کے ذرےعے وصول کیے تھے ۔ وہ گیس کے معاملات کو درست کرنے کی مد میں خرچ کرنے کے بجائے سرمایاداروں ، جن کے پاس پہلے سے اربوں سرمایا موجود ہے کو معاف کر دیا ہے ۔ غریب عوام کے۰۰۳;241; ارب روپے قرضے معاف کر کے ایک صدارتی آرڈینس کے ذریعے سے لوٹ لیے گئے ہیں ۔ اس اقدام سے ملک میں شور مچ گیا ہے ۔ الیکٹرونک میڈیا میں عمران خان کے پرانے بیانات کو بار بار دھرایا جا رہا ہے ۔ جس میں عمران خان کہہ رہے ہیں کہ کیا غریب عوام کے پیسے جو حکومت ٹیکس کی مدد میں وصول کرتی ہے، کسی بھی معاف کرانے والے اور معاف کرنے والوں کو عمران خان کہتے تھے کہ کیا یہ پیسہ تمھارے باپ کا پیسہ ہے ۔ جو تم معاف کروا رہے ہو یا معاف کر رہے ہو ۔ اب خود اپنے ارد گرد کے سرمایا داروں کے قرضے ایک صدارتی ایکٹ نافذ کر کے معاف کر دیے ہیں ۔ لوگ کہہ رہے کہ کیا یہ پیسے قرضے معاف کرانے والے یاعمران خان کے باپ کے پیسے ہیں جو سرمایا داروں کو معاف کر دیے ہیں ۔ عمران خان کو اپنے پرانے بیانیہ کے مطابق ان سے یہ پیسے وصول کرنے چاہیے تھے ۔ مخالفوں کے مطابق آتے ہی عمران خان نے کچھ نمائشی اقدامات کیے ۔ وزیر اعظم ہاءوس کو یونیورسٹی میں تبدیل کرنا ۔ وزیر اعظم ہاءوس کی بجائے خود اپنے گھر بنی گالہ میں بیٹھ کر امور حکومت چلانا ۔ وزیر اعظم ہاءوس ، گورنرز ہاءوسز اورمملکت کے دفاتر میں خرچے کم کرنا ۔ گورنرز ہاءوسز کو حکومتی استعمال کے بجائے عوام کے مفاد میں استعمال کرنا ۔ ریسٹ ہاءوسز کو حکومتی اہلکاروں کے استعمال کے بجائے ان کو کمر شل استعمال کرنا ۔ غریب عوام کےلئے شیلٹر ہاءوسز بنانا ۔ وزیر اعظم کابیرونی دوروں کےلئے جہاز چارٹیڈ کرنے کے بجائے عام فلاءٹ میں سفر کرنا ۔ مگرکیا ان اقدامات سے عوام کو کچھ فائدہ ہوا ہے ۔ نہیں قطاً نہیں بلکہ عوام پہلے سے زیادہ مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں ۔ پٹرول اور گیس مہنگی ہو گئی ۔ عمران کیں کے کچھ اقدامات کا مذاق بھی اُڑایا جاتا ہے ۔ مثلاً وزیر اعظم ہاءوس میں رکھی بھینسوں کی نیلامی، مرغیان انڈے ، کٹے پالنا ۔ لوگ کہتے ہیں عمران خان صاحب ان اقدامات سے ملک ترقی نہیں کرتے یہ تو صرف ٹوٹکے ہیں جو تم نے چھوڑے ہیں ۔ عمران خان ملک کی بند انڈسٹری کو چلانے کے اقدامات کرو ۔ ملک کی واحد اسٹیل ملز کو دوبارا سے فعال کرو ۔ ملک میں بند کاٹن انڈسٹریل یونٹ کو پھر بحال کرو ۔ ایکسپورٹ بڑھا ہو ۔ باہر سے سرمایہ لانے کے اقدامات کرو ۔ تب ملک ترقی کرے گا ۔ عمران خان اپنے الیکشن میں عوام سے کہتے رہے کہ نون لیگ اور پیپلز پارٹی ۰۳ سال سے اپنی اپنی باریاں پوری کرتی رہیں ۔ میثاق جمہوریت نہیں ، میثاق کرپش پر ایک دوسرے کی کرپشن چھپائی ۔ میں اقتدار میں آکر ان سے کرپشن کا ایک ایک پیسہ نکلواءوں گا ۔ ملک کے بیوروکریٹس ان دونوں پارٹیوں سے ملے ہوئے ہیں ۔ گو کہ ملک کی اعلیٰ عدالت نے بھی آف شورکمپنی کیس میں ریمارکس دیے تھے کہ حکومتی اہل کاروں کی سمت صحیح نہیں ۔ سفارشی بھرتی کیے ہوئے حکومتی اہلکار کرپٹ لوگوں کے خلاف کوئی بھی کارروائی نہیں ہونے دیتے ۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاءونٹ کمیٹی نے بھی کرپشن پکڑنے والے اداروں کے سربراہوں کو بلایا تو پہلے تو وہ آنے کےلئے تیار ہی نہیں ہوئے ۔ جب تنگ آ کر قانونی نوٹس جاری کیے گئے تو پھر تشریف لائے ۔ معلوم کرنے پر بیان دیا کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے ۔ ملک میں رفتہ رفتہ پہلے سے زیادہ بدحالی ، بے روز گاری اور مہنگائی ہو گئی ہے ۔ کہاوت ہے نا کہ’’پیٹ نہ پیاں روٹیاں تے ساری گلاں کھوٹایاں ‘‘ کیاعوام کی قسمت میں وہی پہلے والی، بلکہ اُس سے بھی زیادہ لکھی ہوئی ہے;238; عمران خان کی سیاسی پارٹی کا نام ہی تحریک انصاف ہے، یعنی عوام کو انصاف مہیا کرنے والی پارٹی ۔ عمران خان نے اپنے سیاسی بیانات میں کرپشن سے پاک پاکستان کا بیانیہ عوام میں عام کیا تھا ۔ اِسی بیانیے کو تحریک انصاف کے منشور میں شامل کیا ۔ آتے ہی پہلے دور میں رجسٹرڈ کیے گئے میگا کرپشن کے مقدمات، جن کی سپریم کورٹ آف پاکستان نے بھی لسٹ مانگی تھی، نیب کی طرف سے کھولے گئے ۔ جن میں نواز شریف صاحب،مریم صفدر صاحبہ اور داماد کیپٹن صفدر صاحب کو سزا ہوئی ۔ مریم صفدر صاحبہ ضمانت پر ہیں اور نیب نے ایک نئے مقدمے میں تفتیش کے لیے گرفتار بھی کیا ہوا ہے ۔ مگر عوام کہتے ہیں ان کو سزا اور گرفتاریوں سے ہ میں کیا فائدہ ہوا ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ عمران خان صاحب بےورو کریٹس کے شکنجے سے باہر نکل کر اس صدارتی ایکٹ کو منسوخ کرنے کا اعلان کرو ۔ ورنہ مکافات عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہو جاءو ۔ غریب عوام اب اعلانات پر یقین نہیں کرےں گے بلکہ آپ کی حکومت گرانے والوں کا ساتھ دینے پر مجبور ہو جائے گی ۔

Google Analytics Alternative