کالم

بھارتی مکروہ چہرہ اور پاکستان کا کردار

مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طورپر نہ تو سندھ طاس ختم کرسکتا ہے اور نہ ہی اسے معطل اس کی خلاف ورزی کرسکتا ہے ۔ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے ۔ بھارتی مداخلت کے تفصیلی شواہد تیار کررہے ہیں اقوام متحدہ اور دیگر اہم ممالک کو بجھوائے جائیں گے۔ عالمی بینک معاہدے میں سہولت کار اور ضامن بھی ہے۔ بھارت تین دریاؤں کا پانی استعمال کرسکتا ہے روک نہیں سکتا ۔ پاکستان کسی بھی قسم کا دباؤ قبول نہیں کرے گا۔ پاکستان نے اس ضمن میں عالمی بینک سے رجوع کرلیا ہے۔ بھارت نے پانی روکا تو یہ جنگ تصور ہوگی ۔ سرتاج عزیز نے درست کہا ہے پانی روکنا جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ بھارت ایک طرف مقبوضہ کشمیر بھی مظالم ڈھا رہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کروانے کے ساتھ ساتھ اب پانی کی بندش کی دھمکی دے رہا ہے۔ بھارت کا یہ جارحانہ رویہ پاکستان کیلئے سخت تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے اور اس کی خواہش ہے کہ بھارت کے ساتھ تمام متنازعہ مسائل مذاکرات کے ذریعے حل ہوں لیکن بھارتی مخاصمانہ انداز دوطرفہ تعلقات کو خراب کرنے کاذریعہ قرار پارہا ہے ۔ نریندر مودی کبھی جنگ کی اور کبھی پانی روکنے کی دھمکی دے رہا ہے جو اس کی انتہا پسندی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو دشمن کے دانت کھٹے ہونگے کیونکہ پاکستان کی افواج اپنے وطن کیلئے جان قربان کرنے پر فخر محسوس کرتی ہیں اور جذبہ شہادت اس کی طرہ امتیاز کیفیت ہے ۔ بھارت بخوبی جانتا ہے کہ پاک فوج وطن کے دفاع میں تغافل پسند نہیں ہے اور اس میں وہ صلاحیت موجود ہے جو ایک بہادر فوج میں ہونی چاہیے ۔ 1965 کی جنگ میں عملی طورپر بھارت نے پاک فوج کے لڑنے کے جوہر دیکھے ہوئے ہیں پھر اس فوج کو للکارنا بھارتی حماقت ہی کہی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی پرامن کوششوں کو کمزوری نہ گردانا جائے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت اور عوام ایک ساتھ ہیں اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جوا ب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت کیلئے بہتر ہے کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنے معاملات مذاکرات کے ذریعے حل کرے ۔ عالمی ادارں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بھارت پر اپنا دباؤ بڑھائیں اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل نکالیں ۔ بھارت خطے کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے جس کے انتہائی بھیانک نتائج برآمدہونگے۔ بھارت کی مکاری سے دنیا بخوبی آگاہ ہے اور وہ جانتی ہے کہ بھارت کے عزائم کیا ہیں وہ کیا چاہتا ہے ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو دبانے کی ناکام کوشش کررہا ہے تو دوسری طرف کبھی جنگ کی دھمکی دے کر اور کبھی پانی کی بندش کی دھمکی دے ک اپنی دھاک بٹھانا چاہتا ہے لیکن پاکستان اس طرح کی گیدڑ بھبھکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا ۔ عالمی بینک کو بھارتی رویہ کا نوٹس لینا چاہیے ۔ پانی روکا گیا تو پاکستان اس کا شدید ردعمل دے گا ۔ بھارت کیلئے بہتر ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کی پاسداری کرے اور اس طرح کا رویہ ترک کرے۔ بھارت ہمیشہ جارحانہ انداز اپناتا چلا آرہا ہے جس سے خطے میں بدامنی کے بادل منڈلاتے دکھائی دے رہے ہیں۔ خطے میں پائیدار امن کیلئے مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔ عالمی اداروں کو اس ضمن میں اپنا بھرپورکردار ادا کرنا چاہیے۔
پاک فوج کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کیلئے تیار
ترجمان پاک فوج نے کہا ہے کہ مشرقی سرحد پر نظر ہے کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار ہیں۔ راجگال کی پہاڑیوں پر پاک افغان سرحد کی کلیئرنس کردی گئی خفیہ معلومات پر یکم جولائی سے 1400 آپریشنز ہوچکے ہیں۔ ورسک حملے کے دو ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ راجگال کی پہاڑیوں پر جوان مورچہ زن ہیں اور بارڈر مینجمنٹ کی بیس فیصد پوسٹیں مکمل ہوچکی ہیں۔ چیک پوسٹیں مکمل ہونے سے بارڈر پر نقل و حرکت ختم ہوجائے گی ۔ وارسک کی کرسچن کالونی میں چار خودکش حملہ آوروں نے کارروائی کی تھی حملے میں دہشت گردوں کے چار سہولت کار شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ کرسچن کالونی پر حملے کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی گرفتار دہشت گردوں کے قبضے سے خودکش جیکٹس بھی برآمد کیں۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے گیارہ واقعات کو ناکام بنایا ہے اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے افغان حکومت اور انٹیلی جنس اداروں سے رابطے میں ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے 75 فیصد افراد گھروں کو واپس جاچکے ہیں۔ ٹی ڈی پیز کی بحالی میں ہر ممکن مدد کرنا ہوگی۔ سہولت کار خواتین کو بھی گرفتار کیا ہے۔ باعزت طریقے سے ر کھاگیا ہے اور سہولت کاروں کا نیٹ ورک گھیرے میں آرہا ہے۔افغانستان کے تعاون سے ہی بارڈر مینجمنٹ کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ کوشش ہوگی کہ آنے والے دنوں میں افغانستان اپنی سرحد پر سکیورٹی بڑھائے اور مشرقی سرحد پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور پوری طرح تیار ہیں ۔ کے پی کے کے لوگ اپنے ارد گرد کے علاقوں پر نظر رکھیں ۔پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری کے ساتھ بات کی کبھی جھوٹا الزام نہیں لگایا۔ پاکستان میں کئی حملے ہوئے لیکن کبھی کسی پر انگلی نہیں اٹھائی۔ سہولت کار خواتین کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کریں گے۔ پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے۔ پاکستان پر بغیر ثبوت کے الزام لگا دیئے جاتے ہیں۔ اڑی حملے میں بھارتی الزامات پر ہمیں افسوس ہے۔ پاک فوج کی نظریں سرحدوں پر بھی مرکوز ہیں وہ ایک طرف دہشت گردوں سے برسرپیکار ہے تو دوسری طرف مکار دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار بیٹھی ہے۔ دشمن نے ہوشن کے ناخن نہ لئے تو پھر خطے کی تباہی کا ذمہ دار خود ہی ہوگا ۔ بھارت کے الزامات بے بنیاد اور بے سروپاا ہیں ان کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ بھارت کا جنگی جنون اس کی تباہی کا باعث بنے گا۔
وزیراعظم نا اہلی درخواستیں سماعت کیلئے منظور
سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس کے متعلق عمران خان ، سراج الحق ، وطن پارٹی اور طارق اسد کی درخواستوں پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ختم کرکے سماعت کیلئے منظور کرلیں ۔ سماعت اوپن ہوگی ۔ رجسٹرار کی طرف سے درخواستوں کو ناقابل سماعت قرار دینا درست نہیں۔ سماعت تین رکنی بنچ کرے گا ۔ پانامہ کا ہنگامہ حکومت کیلئے درد سر بنتا جارہا ہے ۔ سینٹ میں پانامہ لیکس کی تحقیقات کی قرارداد کی منظور کے بعد حکومت کیلئے دوسرا بڑا دھچکا ہے ۔ عدالت عظمیٰ ٹی او آرز بنا کر تحقیقات کا حکم دے سکتی ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لیتی اور سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرتی تو آج یہ شورنہ ہوتا حکومت کی ہٹ دھرمی سے معاملات بگڑتے چلے گئے اور اپوزیشن احتساب کا ایک تواتر سے مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے اور ہر طرف پانامہ کا شور سنائی دیتا ہے ۔ سپریم کورٹ کا درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کیلئے منظور کرنا لائق تحسین ہے۔ اب عدالت جو بھی فیصلہ دے گی وہ یقیناً قابل قبول ہوگا۔ عوام کی نگاہیں عدلیہ پر لگی ہوئی ہیں اور عوام پانامہ میں انصاف کے متقاضی ہیں۔

ایم کیو ایم کی شکست و ریخت اور نیکٹاکی کارروائی

اگلے دن ایک حوصلہ افزاء خبرسامنے آئی کہ سٹیٹ بینک نے نیشنل کاونٹر ٹیررزم اتھارٹی (نیکٹا) کی ہدایات پر عمل درآمد کا آغاز کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے اکاؤنٹس منجمد کرنا شروع کردیئے ہیں۔ اطلاع ہے کہ شیڈول 4 میں شامل افراد کے ملک بھر میں2 ہزار 100 کے قریب بینک اکاونٹس منجمد کردئیے گئے ہیں۔یقیناًیہ ایک بہت بڑی پیشرفت ہے جسے بہت پہلے شروع ہوجانا چاہیے تھا کیونکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب ملک دشمن عناصر پر ’’زر‘‘ اور’’ زمین‘‘ تنگ کرنا شروع کردیں تو ان کے پاؤں اکھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ضرب عضب لانچ کرنے اور نیشنل ایکشن پلان میں یہی بنیادی نکتہ تھا کہ آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں پر زمین تنگ کی جائے جبکہ NAP کے ذریعے مالی وسائل کی ناکہ بندی کے علاوہ سہولت کاروں کی بھی بیخ کنی کی جائے۔ ضرب عضب کے ذریعے ’’زمین‘‘ تو تنگ کردی گئی لیکن مالی وسائل کی شہ رگ پر ہاتھ نہ ڈالا گیا۔ تقریباً دوسال کی تاخیر کے بعد اب یہ سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ بھی غنیمت ہے۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عمل کو مزید موثراور تیز کیا جائے۔جن افراد کے اکاونٹس منجمد کئے گئے ہیں ان میں لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز، مولانا احمد لدھیانوی بھی شامل ہیں، پنجاب سے 1443، سندھ سے 226، بلوچستان سے 193، گلگت بلتستان سے 106، آزادکشمیر سے 26 اور وفاقی دارالحکومت کے 27 کالعدم رہنماؤں اور کارکنوں کے اکاونٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح شیڈول 4 میں شامل 2021 افراد کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک ہوں گے۔ بلاک شناختی کارڈز پر جاری موبائل فون سمز بھی بند کردی جائیں گی۔اس عمل سے اب تک 2 ارب روپے کا اکاونٹس منجمد ہو چکے ہیں۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 117 مدرسوں کے 101ملین روپے کے مشکوک فنڈز بھی منجمد کردیے گئے ہیں۔یہ ایک مستحسن اقدام ہے اس کا دائرہ کار پھیلا کر سہولت کاروں پر بھی ہاتھ ڈالنے کا عمل شروع کرنا چاہیے کہ آپکا دشمن جنگ مسلط کرنے میں ناکامی کے بعد اب ایک دفعہ پھر اپنے مہروں کو حرکت میں لائے گا۔بلوچستان والے مہرے براہمداغ کو بھارتی شہریت کی پیشکش کی جا چکی ہے توافغانستان کی کٹھ پتلیاں بھی مودی کے اشارے پر ناچ رہی ہیں۔البتہ بھارت کو الطاف کی ایم کیوایم کی شکست وریخت سے شدید دھچکا لگا ہے۔متحدہ کی مرحلہ وار ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل اب مزید تیز ہونے کو ہے۔الطاف حسین کا بچے کھچے اپنے کارکنوں کے نام حالیہ ٹویٹ پیغام اس امر کی غماضی کرتا ہے کہ متحدہ قومی مومنٹ اب متحدہ نہیں رہی اور اس کے مزید حصے بخرے ہونے کے عمل کو کوئی نہیں روکا جا سکتا۔الطاف نے ٹویٹ پیغام میں ورکوں مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ میں نے حمایت کا جو اعلان کیا تھا میں چاہتا تھا کہ unity برقرار رہے لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا conspiracy ہو رہی ہے اور وہ constitution سے اپنے قائد کا نام تک نکال دیں گے،لہذا یہ قطعی غیر آئینی اور احمقانہ فیصلہ ہے۔میں اس فیصلے کو نہیں مانتا اور ندیم نصرت کو اختیارات دے دیے ہیں۔‘‘
اس ٹویٹ میں ان کی شکستہ دلی کا واضح اظہار ہورہا ہے، انہوں نے ’’باہمی یونٹی‘‘ کی شکست وریخت کا غیرارادی طور پراقرار بھی کرلیا ہے۔اس ٹویٹ میں انہوں نے اپنے ایم پی ایز ،ایم این ایز اور سینٹروں سے استعفوں کا بھی مطالبہ کیا جو یکسر مسترد کردیا گیا۔ الطاف حسین نے ندیم نصرت کو پاکستان میں نئی تنظیم سازی کی ہدایت بھی کردی ہے۔ انکو ہر سطح پر پارٹی کے انفرا سٹرکچر کے قیام کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ الطاف کی متحدہ بلکہ مودی اور RAW کی متحدہ منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔ایم کیو ایم اگر باقی رہی تو فاروق ستار کی رہے گی انہوں نے اگر کوئی ڈبل گیم کھیلی تو انجام ان کا بھی یہی ہوگا۔لیکن ادھر یہ خطرناک اطلاعات بھی گردش کررہی ہے کہ ایم کیو ایم کی لندن کمانڈ نے الطاف حسین کے احکامات بجا لانے سے انکار کرنے اور نئی متحدہ بنانے کی کوششیں کرنے والے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کیلئے اقدامات کی منظوری دیدی ہے۔ایک قومی انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق الطاف کی مخالفت کرنیوالے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے بہت خطرناک انکشافات کئے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ ان جیسے رہنماؤں کو لندن کمان کے ڈیتھ سکواڈ سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔ نشانہ بنانے والے (قاتل) جنوبی افریقہ، ملائیشیا اور تھائی لینڈ سے آئے ہیں اور موقع کی تلاش میں ہیں،مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر کسی گروپ کا نام بتائے بغیر ایم کیو ایم پاکستان میں الطاف کے مخالفین نے بتایا کہ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ، رابطہ کمیٹی کے ارکان اور دوسرے پارٹی رہنما نئی متحدہ قومی موومنٹ بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔یہی ہوتا ہے ایسے عناسر کا انجام کہ ایک دن وہ نہ گھر کے رہتے ہیں اور نہ گھاٹ کے۔

میاں صاحب !ہمت کریں

کشتی دریا میں اتری ،خانسامے کولگاکہ وہ ڈوب جائے گا ،اس نے چلانا شروع کردیا، چیخ و پکار سے بادشاہ کا سکون غارت ہوگیا، وزیرنے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا ،کنارے پر کھڑے مچھیرے نے مسئلہ سلجھانے کی اجازت مانگی ، اندھاکو کیا چاہیے دو آنکھیں ، بادشاہ نے اجازت دی ، مچھیرا کشتی میں آیا، خانسامے کو بالوں سے پکڑکرسمندرمیں پھینک دیا، دوتین غوطے کھانے کے بعد جب وہ واپس کشتی میں آیا تو سکون سے ایک طرف بیٹھ گیا، بادشاہ بڑا حیران ہوا، اس نے مچھیرے سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوگیا؟ مچھیرے نے جواب دیا’’یہ سمندر سے ناواقف بھی تھااور خوفزدہ بھی،سمندر میں جانے کے بعد یہ اس سے مانوس ہوا، اور غوطے کھانے کے بعد اس کا ڈرختم ہوا،یوں مسئلہ ختم ، بادشاہ نے پوچھا میرا لائق وزیر یہ مسئلہ کیوں حل نہ کر سکا؟ اس نے جواب دیا سمندر، وزیر کا شعبہ نہیں تھا ، یہ نہ کبھی سمندر میں اترا نہ ہی کبھی اس کی تباہی کا شکار ہوا ، اس لیے وہ اس کا حل نکالنے سے بھی قاصر رہا ۔ بادشاہ مچھیرے کی منطق سے متفق نظر آنے لگا۔
آپ اس کہانی کے کرداروں کو سامنے رکھیں تو آپ کو پاکستان کے سرکاری سکولوں کی حالت زار سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی۔جس طرح یہاں امیر لوگ غربت پر بحث کرتے ہیں ، کروڑوں روپے کی ماہانہ آمدنی والے پندرہ ہزار تنخواہ لینے والے مزدورکابجٹ بناتے ہیں ، منرل واٹر پینے والے پانی کی قلت اور آلودگی کا حل تلاشتے ہیں ، سولر سسٹم اور جنریٹر زکی سہولیات سے مستفید ہونے والے لوڈشیڈنگ کی بات کرتے ہیں ، بیرون ممالک سے علاج کرانے والے ہیلتھ منسٹر بنادئیے جاتے ہیں،بالکل اسی طرح تعلیم کوبزنس بنانے والے ،نجی تعلیمی اداروں کو فروغ دینے والے ، سرکاری سکولوں کا نام آنے پر ناک بھوں چڑہانے والے سرکاری سکولوں کے کرتے دھرتے بن کر مسائل کا ’’ حل‘‘ نکالتے ہیں۔
1999 ء کے بعد سرکاری سکولوں میں زوال کا سفر شروع ہواجوابھی تک جاری ہے ۔ پرویزمشرف اور ہمنواؤں نے یورپ کی تقلید میں کچھ ایسے اقدامات کیے کہ جوبروقت نہ تھے، بے شک وہ اقدامات ااچھے ہوں گے مگر کسی بھی قسم کا تجربہ کرنے سے پہلے ماحول کو سازگار بنایاجاتاہے ،چونکہ اس بات کا خیال نہ رکھاگیالہذا نتیجہ یہ نکلا کہ کوّا ہنس کی چال تو کیاچلتا اپنی بھی بھول گیا،مثلا اس دور میں ایک نعرہ لگایا گیاکہ مارنہیں پیار، مقصد یہ تھا کہ سزاکی حوصلہ شکنی ہو تاکہ بچوں کی عزتِ نفس مجروح نہ ہومگر بسا آرزوکہ خاک شدہ۔ ’’پیار نہیں مار‘‘کے نعرے کا اثربھی الٹا ہوا، سٹوڈنٹس کے دلوں سے خوف اور احترام کی چڑیا اڑگئی ، سٹوڈنٹس اپنی مرضی سے سکول آنے لگے کیونکہ انہیں اندازہ ہوچکا تھا کہ جواب طلبی کرنے والے اب جوابدہ ہیں ،اس طرح حاضری کم ہوگئی ، ہوم ورک کا تصور ختم ہوگیا ، سبق یادنہ کرنا وطیرہ بن گیا،رزلٹ خراب آنے لگے ،نتیجہ یہ نکلاکہ والدین نے نجی اداروں کا رخ کرلیاکیونکہ سرکاری سکولوں میں لڑکوں پر چیک اینڈ بیلنس قائم رکھنے والوں کوبے بس کردیا گیا تھا۔’’اہل نظر‘‘ کی بارگاہوں میں اس بگاڑکاواحد ذمہ دارٹیچرتھا، کیونکہ جن کی پالیسیاں اس بگاڑ کا سب تھیں ان کی گردنیں موٹی تھیں ،لہذا پھندے اساتذہ کی گردن میں ڈال دیئے گئے۔
بگاڑکو یہ پالیسی ہی کم نہ تھی کہ سونے پر سہاگا (سہاگہ، غلط لفظ ہے)یہ ہوا کہ ’’ویمن رائٹس‘‘کے نام پر بوائز سکولوں میں بھی خواتین ٹیچرزکی تعیناتی شروع ہوگئی ،یہ اقدام پرائمری کی حد تک ہوتاتوٹھیک تھا مگر اسے مڈل اور ہائی حصے تک پھیلادیاگیا،سکولوں میں سٹاف کی کمی تھی ،لہذا خواتین کو بھی بڑی کلاسز میں بھیجنا پڑگیا،جب ان لیڈیز ٹیچرز نے آٹھویں ، نہم اور دہم کی کلاسوں کا رخ کیاتووہاں سٹوڈنٹس نے ان کی تصاویر بھی لیں، ان پر آوازے بھی کسے اور ان سے بدتمیزی بھی کی ،یوں رائٹس کے نام کیا گیا یہ اقدام رانگ نکلا،ان سٹوڈنٹس کو روکنے والابھی کوئی نہ تھا کیونکہ اگر سختی کی جاتی تو ’’مارنہیں پیار‘‘ کی تلوار سر کاٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار تھی، اگر بدتمیزی کرنے پر ان کوسکول سے نکالاجاتا تو بھی یہ ’’جرم‘‘ناقابل معافی تھا۔ ’’ مار نہیں پیار‘‘ کا نعرہ لگانے والے یہ بات بھول گئے تھے کہ بچے کا سفر گھر سے شروع ہوتا ہے ، ماں کی گود ہی اس کی پہلی درسگاہ ہے ، جہاں پیار اور مار میں توازن رکھا گیا ، ماں کاپیار اس کا حوصلہ قائم رکھتا ہے جبکہ باپ کی سختی اسے ایک حد کے اندر رکھتی ہے ،کاش ’’مارنہیں پیار‘‘ کا نعرہ لگانے والے فطرت کے اس پہلے سبق کو یاد کرلیتے توآج ماتم کدے کی بجائے شادمانی کی کیفیت ہوتی۔
جب ماحول خراب ہوگیاتو’’ بہتری ‘‘ لانے کے لیے ٹیچرز کی انکریمنٹس بند کی گئیں،انہیں سزائیں دی گئیں ،معطل کیاگیا، دوردرازتبادلے کئے گئے ، مانیٹرنگ کا نظام لایا گیا،سب کچھ کیا گیا مگربے سود،مرض کی تشخیص کے بغیر ہی علاج جاری رہا اوریوں مریض ICUمیں چلاگیا۔میاں صاحب ! آپ ایک کام کریں ، آئندہ جب بھی تعلیم کے حوالے سے’’اعلیٰ سطحی ‘‘ اجلاس ہو تو اپنے اردگردبیٹھے ہوئے لوگوں سے صرف ایک سوال پوچھ لیں کہ تم میں سے کتنے لوگوں کے بچے سرکاری سکولوں میں زیرتعلیم ہیں؟ اگر یہ سوال خود سے بھی پوچھ لیں تو اچھا ہے ،اس سوال کا جواب ہی ’’Master Key‘‘ ہے ،اس سے تمام لاک کھل جائیں گے ۔کیا ایساہوسکتا ہے ؟ ہاں ہو توسکتاہے مگرہوگا نہیں کیونکہ خانساماں کبھی سمندر میں اترا ہی نہیں، اسے چپ وہ وزیر کرارہا ہے جو مسئلے کو سمجھتاہی نہیں اور وہ مچھیراجس کے پاس مسئلے کاحل ہے ، وہ اجازت ملنے کا منتظر ہے ۔

دہلی ۔ ۔ ۔ دیوالیہ پن!

ایک جانب بھارتی وزیر خارجہ ’’ سشما سوراج ‘‘ نے ڈھٹائی کی ساری حدیں پار کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سراسر بے بنیاد الزام تراشیاں کیں ہیں تو دوسری طرف مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر پردہ ڈالے کے لئے دہلی سرکار نے شر انگیزی کا نیا سلسلہ شروع کیا ہے ۔ انڈیا اور پاکستان کے درمیان دہلی کی پیدا کردہ اس کشیدگی نے نیا موڑ لے لیا ہے ۔ واضح رہے کہ انڈین حکومت نے 65 سال پرانے اُس معاہدے کو توڑنے کا اشارہ دیا ہے ، جس کے تحت کشمیری علاقوں سے بہہ کر مشرقی اور مغربی پنجاب کے میدانوں کو سیراب کرنے والے چھ دریاؤں کے استعمال کے حقوق دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہوتے ہیں ۔
یاد رہے کہ 1960 میں ورلڈ بینک اور کئی مغربی ممالک نے انڈین وزیراعظم جواہر لعل نہرو اور پاکستانی صدر فیلڈ مارشل ایوب خان کے درمیان اس معاہدے کی ثالثی کی اور یہ معاہدہ سندھ طاس معاہدے کے نام سے مشہور ہے۔ سبھی جانتے ہیں کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر پر زبردستی اپنا ناجائز تسلط جما رکھا ہے اور وہاں سے دریائے سندھ، ستلج، بیاس، راوی، چناب اور جہلم نکلتے ہیں۔ معاہدے میں ستلج، بیاس اور راوی پر انڈیا کے حق کو تسلیم کیا گیا جبکہ پاکستان کو چناب، سندھ اور جہلم پر حقوق دیے گئے۔
اوڑی کے مبینہ حملے کے بعد پہلے تو بھارت میں پاکستان پر فوجی کارروائی کی باتیں ہوئیں اور اور اسی کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کے مشن کا آغاز ہوا۔سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے مسلح تصادم کی دھمکیوں یا سفارتی مورچہ بندی اپنی جگہ، لیکن اب بھارت میں پاکستان کے خلاف پانی کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی باتیں بر سرِ عام ہو رہی ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ بی بی سی جیسے ادارے کے مطابق بھی یہ ’غیر ضروری اور غیرذمہ دارانہ باتیں ہیں۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو کوئی خصوصی رعایت نہیں دی گئی تھی بلکہ دریاؤں کے رُخ اور جغرافیائی حقائق کو تسلیم کیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں ماہرین نے کہا ہے کہ اگر پانی کو جنگی ہتھیار بنا کر انڈیا نے پاکستان کی طرف جانے والے دریاؤں کا پانی روکنے کی ذرا سی بھی حماقت کی تونہ صرف کشمیر میں ہر لمحہ سیلابی کیفیت طاری رہے گی بلکہ پھر اگر چین نے یہی حربہ استعمال کر کے تبت سے آنے والے برہم پترا دریا کا رُخ موڑا تو بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں برباد ہو جائیں گی ۔یہ مہذب بات نہیں مگر اگر اس معاہدے کو توڑا گیا تو انڈیا کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے گا۔ چین کے پاس ایسی ٹیکنالوجی ہے کہ وہ ہفتوں کے اندر برہم پترا کا رُخ موڑ سکتا ہے اور پھر تو بھارتی پنجاب، ہریانہ، دہلی اور دیگر کئی ریاستوں میں اندھیرا چھا جائے گا۔
اس صورتحال کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ دہلی سرکار نے سندھ طاس معاہدے پر سوال اُٹھا کر پاکستان کے اُس موقف کو خود ہی تقویت دے دی ہے جس کے تحت وہ کشمیر کو اپنی شہ رگ کہتا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ کشمیریوں کو انڈیا کے اس اقدام سے بقا کا خطرہ لاحق ہوگا اور بھارت مخالف تحریک مزید زور پکڑے گی ۔ پاکستان کے مشیرِ خارجہ ’’ سر تاج عزیز ‘‘ نے 27 ستمبر کو واشگاف الفاظ میں کہ ’’ پاکستان کا پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کو اعلانِ جنگ تصور کیا جائے گا ‘‘ ۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ’’ پانی کی یہ جنگ کشمیریوں کو نہیں بلکہ بھارت کو انتہائی مہنگی پڑے گی ‘‘۔
مقبوضہ کشمیر کے آبی وسائل کے سابق وزیر پروفیسر سیف الدین سوز نے سندھ طاس معاہدے کو توڑنے کی باتیں کرنے والوں کو انسانیت کا دشمن قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بھارت حکومت اپنی جنونی روش پر فوری طور پر نظر ثانی کرے وگرنہ اس کے نتائج اس کے لئے اچھے نہیں ہوں گے ۔ بھار ت کے ہندو جنونیوں نے گذشتہ روز یہ نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ اس معاہدے کی وجہ سے کشمیر ( مقبوضہ ) کو ہر سال ساڑھے چھہ ہزار کروڑ روپے کا نقصان بھگتنا پڑتا ہے۔کیونکہ دہلی سرکار کو جہلم، چناب اور سندھ کے دریاؤں پر انڈیا کو بند تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی نائب وزیر اعلیٰ ’’ نر مل سنگھ ‘‘ نے بھی مودی کے اس

بھارت میں آزادی کی تحریکیں

ہندوستان کہنے کو تو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ وہاں سب امن ہے اور نہ ہی قومی یکجہتی۔ جتنا بڑا ملک اتنے بڑے مسائل لیکن ہمارے ہاں کچھ لوگ یہ تاثر دینے کی کوشش میں مسلسل مبتلا رہتے ہیں کہ بھارت میں ایسا کچھ نہیں جبکہ آج بھی وہاں دو درجن سے زیادہ آزادی کی زندہ تحریکیں موجود ہیں جن سے بھارت کے 200 سے زیادہ اضلاع متاثر ہیں ۔ شدید ترین متاثرہ علاقوں میں سے آسام کی ریاست بھی شامل ہے اور یہاں اکثر اوقات حکومت اور باغیوں میں جھڑپیں جاری ہی رہتی ہیں لیکن ہمارے میڈیا کی چونکہ تمام تر توجہ اپنے ملک میں چلنے والی غیر حقیقی تحریکوں پر رہتی ہے لہٰذا یہ خبریں پاکستانیوں تک پہنچ پاتی ہے اور نہ ہی باقی دنیا تک۔ ابھی حال ہی میں ان تازہ جھڑپوں میں وہاں 78 افراد مارے گئے آسام میں تین لاکھ لوگ کیمپوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں جبکہ اس کے چار اضلاع میں کسی بھی مشکوک شخص کو دیکھتے ہی گولی مار دینے کا حکم ہے۔ تین کروڑ کے اس علاقے میں لوگ انتہائی غریب ہیں جبکہ علاقہ معدنی ذخائراور چائے کی دولت سے مالا مال ہے لیکن مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس دولت میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور یہ بھارت کے دیگر علاقوں کی ترقی پر خرچ ہو رہا ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی تازہ جھڑ پیں بوڈوز کے ساتھ ہوئیں جو کہ سالہا سال سے آزادی کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور اسی لیے بدترین سیاسی تشدد اور ریاستی دہشت گردی کا شکار ہیں اورکیمپوں کو گھر سے بہتر سمجھ رہے ہیں۔ آسام کوئی اکیلا صوبہ نہیں جو علیحد گی کا مطالبہ کر رہا ہے یہی مطالبہ جھار کنڈ ، نا گالینڈ، سکم، گجرات اور سب سے بڑھ کر کشمیر کے لوگوں کا ہے۔ یہاں تک کہ خالصتان کی تحریک جسے بظاہر تو 1984 میں کچل دیا گیا تھا اب تک کسی نہ کسی صورت میں زندہ ہے اور انٹرنیٹ پر اس کا جھنڈا اور مواد اب بھی موجود ہے یعنی سوچا جائے تو یہ لوگ بھی وقت کے انتظار میں ہیں اور موقع پاتے ہی یہ تحریک پھر موثر ہو سکتی ہے۔ اس وقت بھارت میں جو تحریکیں بڑے زور و شور سے چل رہی ہیں ان میں ایک جھارکنڈ بھی ہے اس صوبے میں پچھلے دنوں 560 بارودی سرنگیں پکڑی گئیں ہیں ظاہر ہے اُس کو بچھانے والے دہلی کے دوست تو نہیں تھے یقیناًوہ اُن فوجیوں کے لیے تھیں جو ان صوبوں میں کسی بھی شخص کو گولی مار دیتے ہیں ۔ بھارتی حکومت نے2006 میں نکسلائٹ تحریک کو بھارت کی یکجہتی کے لیے سب سے بڑا اندرونی خطرہ قرار دیا جو کم از کم نو صوبوں میں عملی طور پر بر سر پیکار ہیں جن میں کرناٹک، اڑیسہ، چھتیس گڑھ، آندھراپر دیش ، مہاراشٹرا، جھار کنڈ، بہار، اتر پر دیش اور مغربی بنگال شامل ہیں بھارتی حکومت نے 2011 میں دعویٰ کیا کہ یہ تحریک 180 اضلاع سے گھٹ کر80 اضلاع تک محدود ہو گئی اور ان کی کاروائیوں میں بھی پچاس فیصد کمی آئی ہے جبکہ سنٹرل ریزرو فورس کے چیف وجے کمار نے اپنی ریٹائرمنٹ سے صر ف دو دن پہلے کہا کہ اِن علاقوں میں ماؤنواز نکسل باڑی اس لیے طاقتور ہیں کہ یہاں حکومت کہیں نظر نہیں آتی یہاں کی ایک نسل نے اِنہی نکسلائٹ کو اپنے معاملات طے کرتے دیکھا ہے اور یہ کہ چھتیس گڑھ کو جیتنے کے لیے انہیں یہاں کے لوگوں کے دل جیتناہونگے۔ انتیس ستمبر 2012 کا یہ اخبار ی بیان بھارت سرکار کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دیتا ہے کہ وہ اِن صوبوں میں مرکز گریز قوتوں کو قابو کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں جبکہ 1967 میں بے زمین کسانوں میں زمینوں کی غیر منصفانہ تقسیم کے خلاف ایک چھوٹے سے گاؤں نکسل باڑی میں اٹھ کھڑے ہونے والے اس چھوٹے سے ماؤ نواز گروہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ پچھلے پچیس سال سے وہ عملاََ اس علاقے میں حکمران اور منتظم ہیں ۔
بھارت جو دوسرے ملکوں میں حالات بگاڑنے میں بھر پور دلچسپی لے رہا ہے اگر اپنے ملک کے حالات بہتر بنانے پر اپنی توانائیاں صرف کرتا تو شاید اس کے اپنے سمیت پورا علاقہ امن میں رہتا۔ ہاں اس کی خارجہ پالیسی کی داد دینا پڑتی ہے کہ ابھی تک اقوام متحدہ کا ویسا کوئی کمشن بھارت نہیں پہنچا جیسا کہ بلوچستان میں تشریف لایاحالانکہ بھارت کے نقشے پر نظر ڈالیں تو یہ لوگ ایک بہت بڑے علاقے میں پھیلے ہوئے ہیں اور باوجود حکومتی دعوؤں کے مکمل طور پر متحرک ہیں اور اپنے مسائل سے اپنے ہی وسائل کے ذریعے لڑرہے ہیں اگر چہ بھارت کی طرف سے اکثر اوقات یہ غیر منطقی دعویٰ بھی سنائی دے دیتا ہے کہ انہیں پاکستان، بنگلہ دیش اور چین امداد فراہم کر رہے ہیں لیکن بھارت میں کچھ سچ بولنے والے یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ یہ اندرونی طور پر پیدا شدہ اندرونی مسئلہ ہے اور صرف اور صرف وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے ہے ۔صرف چھتیس گڑھ اور جھار کنڈ میں ایک ٹریلین ڈالر کے ثابت شدہ معدنی ذخائر موجودہیں ۔آسام چاول اور چائے کی وسیع پیداوار کے باوجود بھارت کی مجموعی معاشی ترقی سے کہیں پیچھے ہے اور محض محدود صنعتیں اسکی مرکزی حکومت کی طرف سے

4 تصادم سے گریز میں ہی جمہوریت کی بقاء ہے

احتجاج  جمہوریت کا حسن ہے اور پرامن احتجاج روکنے کیلئے ڈنڈے ، گنڈاسے اٹھا کر سیاسی ماحول کو مدر کرنا دانشمندی نہیں کون کہتا ہے کہ حکمرانوں کو کچھ نہ کہو، ان کی کوتاہی کی نشاندہی نہ کی جائے لیکن مثبت تنقید سے اپنی بھی اصلاح کریں حکومتی کارکردگی کے حوالے سے ’’وائٹ پیپر کی یہ ریت سابقہ حکومتوں کے دور میں ڈالی گئی اور اس کا مقصد جائز طورپر حکومت کے غلط کام کی نشاندہی کرکے صحیح سمت متعین کرنا نہیں بلکہ آپس کی محاذ آرائی کو اور بڑھانا اور کردار کشی تھا۔ ماضی کے ادوار پر نظر ڈالی جائے تو وہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتقام و نفرت کی سیاست کے سوا کچھ نہیں ملتا یہاں تک کہ ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک اور غدار بھی کہا گیا ۔ ایک دوسرے کی پارٹیوں کے عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج ہوتے رہے اورگرفتاریاں ہوتی رہیں۔ کوچہ سیاست میں آج بھی لہوگرمانے اور گرانے کامرحلہ درپیش ہے۔ اقتدار کے کراؤن تک رسائی ہی شاید مطمع نظر ٹھہرا لیا گیا ہے ضد اور انا ہے کہ دونوں طرف پھنکار رہی ہے ۔ چیئرمین تحریک انصاف ہر حال میں 30 ستمبر کو رائیونڈ مارچ کیلئے کمربستہ ہیں ۔ ان کے بقول ملک کا آئین انہیں احتجاج کا حق دیتا ہے۔ حکمران جماعت کے بعض لوگ اس انتہا پسندی کو شہ دے رہے ہیں اور کارکنوں کو امادہ فساد کررہے ہیں ۔ سیاسی درجہ حرارت اس قدر آگے تک لے جانا اور کارکنوں کو تشدد پر اکسا کر ڈنڈا بازی کی تربیت دینا کسی سیاسی جماعت میں تشدد اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی عکاسی قرار دیا جاسکتا ہے۔ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن مار دھاڑ ، گھیراؤ جلاؤ کی نہ تو آئین میں کوئی گنجائش ہے نہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ دنیا میں کوئی لیڈر جو انسانی جان کی حرمت سے واقف ہو اور ریاست کے ساتھ تصادم کی سوجھ بوجھ رکھتا ہو جسے عوام سے ہمدردی ہو وہ کبھی ایسا راستہ اختیار نہیں کرتا ۔ جدوجہد ہمیشہ آئین و دستور کے مطابق جمہوری اور مسلمہ اخلاقی روایات کے مطابق ہونی چاہیے معاشرہ کسی تخریب ، اشتعال اور تصادم سے گزرے بغیر تبدیلی سے دوچار ہو۔ ہمارے ہاں سیاست کی یہ ایک تلخ حقیقت رہی ہے کہ عوامی بیانات محض پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ اور الفاظ سے سیاست چمکانے کا ایک عمل ہے، عوام کا کبھی جمہوریت ، کبھی آمریت ، کبھی انصاف اور کبھی مذہب کے نام پر استحصال کیا جاتا رہا ہے۔ دھونس ، ہر کام کیلئے ناجائز دباؤ ڈالنا اور ڈلوانا اور شارٹ کٹ کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا یہی وہ سماجی رویے ہیں جن کی قبولیت اور عدم قبولیت ہی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کوئی رہنما کتنا عالیٰ ظرف ہے یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سیاسی شخصیتوں کے تصادم میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے ۔ اگر اختلافات کو تصادم کا رنگ دے دیا جائے تو تعمیری سوچ ختم ہو جاتی ہے ۔ پاکستان میں یہی کہانی دہرائی جارہی ہے۔جب ہم ہاتھوں میں ڈنڈے اور جیبوں میں پتھر بھر کر اسلحے کے سہارے سڑک پر آتے ہیں تو ساری دنیا ہماری وطن پرستی پر عش عش کر اٹھتی ہے۔ قوم دھرنوں، گھیراؤ جلاؤ اور ایجی ٹیشن کے ہولناک نتائج پہلے ہی بھگت چکی ، سیاسی مسائل کا حل سیاسی انداز میں تلاش کرنا چاہیے ملک جو پہلے ہی حالت جنگ میں ہے اور ہماری فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے تک اس جنگ کو لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ان کی قربانیوں کو ایسے متوقع پرتشدد احتجاج کی نذر کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت کو بھی چہے کہ وہ اپنا پلان واضح کرے اور ہرقسم کے ابہام کو دور کرے اور ہر قسم کے اختلافات اور معاملات کو جمہوری طریقوں سے حل کرے ۔ ایک بڑے مارچ کو روکنا ممکن نہیں جب ریاستی ادارے اسے نہیں روک سکتے تو سیاسی کارکن کیسے روکیں گے ۔ بہترین حل یہی ہے کہ حکومت اس احتجاج کی اجازت دے دے اور پولیس اور انتظامیہ کو یہ ذمہ داری سونپے کہ وہ تحریک انصاف کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس مارچ کا روٹ اور حدود طے کرے ۔ بعض عناصر پرتشدد سیاست کو فروغ دے کر جمہوریت اور نظام کو خطرات سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کریں اور اپوزیشن اپنا موقف اس ایوان میں ارکان کے سامنے رکھے جو بہترین پلیٹ فارم ہے۔ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جائے تاکہ انصاف مل سکے ۔ صرف عوام کو سڑکوں پر لاکر اور تلخی بڑھا کر مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے فی الحال معاملہ کچھ یوں ہے ۔ رائیونڈ کا رخ کرنے پر تحریک انصاف سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری بھی لندن روانہ ہوچکے ہیں۔ پانامہ لیکس پر ساتھ کھڑی جماعتیں بھی رائیونڈ جانے سے متفق نہیں۔ پیپلز پارٹی صاف انکار کرچکی ہے۔ جماعت اسلامی بھی رضا مند نہیں۔ تحریک انصاف کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب طاہر القادری نے رائیونڈ جانے سے انکار کیا۔ طاہر القادری جتنی تیزی سے منظر پر ظاہر ہوتے ہیں اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ اوجھل بھی ہو جاتے ہیں ۔ بلا شبہ وہ ایک شعلہ بیان مقرر اور پرجوش سیاسی قائد ہیں مگر یہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کب کیا کریں ۔خان صاحب کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ جو لوگ شیشے کے گھروں میں رہتے ہیں وہ ایک دوسرے پر پتھر نہیں پھینکتے ۔ اگر میاں صاحب کا احتساب ہوتا ہے تو آصف علی زرداری کیسے بچ سکتے ہیں ۔ حکومت گرنے کی صورت میں عمران کا راستہ صاف ہوگا یہ پیپلز پارٹی کو کسی صورت قبول نہیں۔ اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن عمران خان کے منطقی حریف ہیں ۔ خان نے ایک کو اقتدار سے محروم کیا ہے تو دوسرے کا راستہ روکا ہے ۔ ان کی دلی خواہش ہوگی کہ وہ غلطی پر غلطی کریں اور ان کی مقبولیت میں کمی ہو جائے ۔ پی ٹی آئی میں خلفشار روز بروز بڑھ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری سیف اللہ نیازی کا احتجاجاً استعفیٰ اور یوتھ ونگ کا جہانگیر ترین کے خلاف اعلان بغاوت خان صاحب کیلئے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ عمران خان کو جاتی امراء مارچ کرنے کی بجائے پارٹی کے تنظیمی امور پر توجہ دینی چاہیے۔ 2018ء کا الیکشن بھی اب زیادہ فاصلے پر نہیں ۔ ایم کیو ایم شکست و ریحت کا شکار ہے لہذا ایم کیو ایم سے کسی قسم کی امید یا توقع کی وابستگی عبت ہے۔ جماعت اسلامی بدقسمتی سے نہ تیرہ میں ہے نہ تین میں خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی کارکردگی بھی اتنی قابل رشک نہیں کہ عوام اسے بہتر حکمران تصور کریں ۔ عمران خان نے سیاست کے عملی میدان میں پختگی ، بصیرت اور بہتر سمجھ بوجھ کا ثبوت نہیں دیا۔ تجزیوں کے مطابق 2018ء میں مسلم لیگ(ن) کے سویپ کرنے کے امکان ہیں۔ اس کی وجہ تمام تر تنقید کے ب اوجود مسلم لیگ(ن) کی ضمنی انتخابات میں بہتر کامیابی معاشی راہداری ، سی پیک کی تکمیل ، گوادر کی اہم بندرگاہ کی تعمیر سے پسماندہ علاقوں میں خوشحالی آنے اور عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ

دھوکے باز پڑوسی اور ہم

قرآن مجید سورہ الاسرا کی 80 ویں آیت میں حق و باطل کے معرکے کی خبر دیتا ہے جب سے دین حق آیا ہے باطل قوتیں متحرک ہو گئیں آج بھی یہ کسی نہ کسی صورت میں متحرک ہے بر صغیر کی تقسیم کے وقت ریڈ کلف ایوارڈ کے ذریعے بہت بڑی ڈندی ماری جس کے پیچھے مانٹ بیٹن اور نہرو کا گٹھ جوڑ تھاجس میں مسلم اکثریتی تحصیل گرداسپور راتوں رات انڈیا کو دے دی گئی جہاں سے گزر کر ہی کشمیر جانے کا واحد راستہ تھا جو پٹھان کوٹ سے ہو کر کشمیر میں داخل ہوتا تھا اور پاکستان آنے والے تمام دریا کشمیر سے آتے ہیں ان کے ہیڈورکس بھی انڈیا کے حوالے کردیے گئے اور نتیجا اپریل 1948 میں پاکستان جانے والا پانی مکمل طور پر بند کر دیا گیا یوں کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان لائف لائن پانی انڈیا کے کنٹرول میں دے دی گئی اب ہمارے پانی انڈیا کے کنٹرول میں چلے گئے نوبت یہاں جا پہنچی کہ پاکستان کو پانی انڈیا سے خریدنا پڑ گیا ہندوستانی سیاسی قیادت کو انگریزوں کی آشیرباد حاصل تھی اسلئے انڈیا ہمیشہ پاکستان سے نخوت اور تکبر کا مظاہرہ کرتا رہا اور کسی بین الاقوامی قانون کوخاطر میں لانے کو تیار نہیں تھا پاکستان نے معاملے کو ہیگ کی عالمی عدالت میں کے جانے کا اعلان کیا لیکن ہندوستان کو معلوم تھا کہ اگر معاملہ عالمی عدالت میں چلا گیا تو فیصلہ پاکستان کے حق میں آنے کا قوی امکانات ہیں لہذا وہ عالمی عدالت میں جانے سے پس وپیش کرتا رہا اس دوران امریکی ایٹمی توانائی کمیشن کے سابق سربراہ ڈیوڈ ایتھال نے علاقے کا دورہ کیا اور تجویز دی کہ انڈیا پاکستان عالمی بنک کی معاونت سے ایسا نہری نظام اور ڈیم بنائیں جس سے دونوں ملکوں کو مناسب پانی حاصل ہو سکے اس تجویز کی روشنی میں مذاکرات شروع ہوئے تو ہندوستانی اعتراضات اس قدر تھے کہ پاکستانی وزیراعظم سہروردی کے دور میں جنگ کی دھمکیوں تک بات چلی گئی بالآخر عالمی بنک نے خود ایک پلان بنایا اور فریقین کواس پر رضامند کیا اور 1960 میں سندھ طاس معاہدہ ہوا اورکراچی میں اسپر دستخط ہوئے جس کے مطابق تین مشرقی دریاؤں ستلج بیاس اور راوی ہندوستان کے حصے میں آئے اور مغربی دریاؤں سندھ جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کرلیا گیا لیکن ڈنڈی یہ ماری گئی کہ جب تک کشمیر پر انڈیا کا کنٹرول ہے وہ ان دریاؤں میں سے گھریلو استعمال زراعت اور ہائیڈروجنریشن (پانی سے بجلی پیدا کرنا)کے لئے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جسے ہمارے کمزور مرعوب اور لالچی وفد نے تسلیم کرلیا یہ سوچے سمجھے بغیر کہ انڈیا اس کی تشریح کس طرح کرے گا اور وہ من مانی تشریح کر کے دھوکہ دے رہا ہے پاکستان ورلڈ بنک کی مدد سے انڈین بیسن ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا گیا جس میں کئی ملکوں نے فنڈ فراہم کئے پاکستان نے دو بڑے ڈیم بنا لئے اور نئی نہریں بنا کر مغربی دریاؤں کا پانی بند شدہ مشرقی دریاؤں میں ڈالا معاہدے میں ہر بات کی مکمل تفصیل موجود ہے جس کی رو سے انڈیا پاکستان کا پانی روکنے یا کمی کرنے کا مجاز نہیں اگر روکا تو وہ پانی چند روز کے اندر پاکستان کو واپس کرنے کا پابند ہوگا انڈیا میں اس وقت 6 ڈیم موجود تھے اور انڈیا مزید 8 بنانا چاہتا تھا معاہدے کے مطابق جو نئے ڈیم انڈیا بنائے گا اس کی اطلاع اور اس کا تفصیلی ڈیزائن پاکستان کو دیا جائے گا اگر پاکستان کو کوئی اعتراض نہ ہو تو ڈیم پر کام شروع کیا جاسکتا ہے لیکں منظور شدہ ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور دونوں طرف کے واٹر کمشنر تعمیرات کی نگرانی کریں گے 30 سال تک تو یہ معاہدہ چلتا رہا بنئے نے پاورجنریش کی شق کا فائدہ اٹھانے کی سوجھی اور وولر بیراج سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم بنانے شروع کئے اور اس میں ڈنڈی مارنی شروع کی بگلیہار مقبوضہ کشمیر میں ڈوڈہ کے مقام پر بنایا گیا مء 1992 میں انڈیا نے تفصیلات فراہم کیں پاکستان نے مئی میں اعتراض لگا کر واپس کردیا کہ اس ڈیزائن میں ایک تو پانی میں کمی واقع ہوگی دوسرے انڈیا کو کنٹرول حاصل ہوگا بہرحال 1999 میں کام شروع ہوا اور 2004 تک انڈیا پاکستان کو بات چیت میں الجھا کر تعمیرات کرتا رہا جب ڈیم کی تعمیر تقریبا مکمل ہوگئی تو ہمارے لوگ جا گے اور گونگلوؤں پر سے مٹی جھاڑنے جیسا اعتراض کردیا انڈیا نے دو کام کئے کہ کسی کو دبی میں فلیٹ لے کردئے کسی کو برطانیہ میں جائیداد دلوائی اور کسی کو کینیڈا میں معاملات ٹھیک کر کے دئے اور ڈیم کے ڈیزائن کی خلاف ورزی ہوتی رہی اور متعلقہ پاکستانی کارپردازان خاموش رہے یا انڈیا نے ان کو مذاکرات میں الجھائیبرکھا تاوقتیکہ تعمیر انڈیا کے مفاد میں مکمل ہو گئی تو معاہدے کے مطابق غیر جانب دار ماہر سے تب رجوع کیا جب تعمیر مکمل ہو گئی حالانکہ پاکستاں اعتراض کرکے تعمیر رکوا سکتا تھاتو اب ماہر تعمیر گرانے کا حکم تو نہیں دے سکتا تھا ماہر نے معمولی سی ردوبدل کے ساتھ اپنی رائے دے دی انڈیا نے اس پر جشن منایا ہم نے بغلیں جھانکیں اور کہا کہ ہماری فتح ہوئی ہے آج بھی کشن گنگا دریا جو پاکستان میں داخل ہو کر دریائے نیلم ہو جاتا ہے اس پر تعمیرات جاری ہیں ہندوستان کی جانب سے سرنگیں ڈال کر اس کا پانی وولر جھیل کی جانب لے جانا تھا جہاں ہائیدرو الیکٹرک پاور پلانٹ لگانا مقصود تھا اس سے پاکستان کے پانی میں کمی ہوگی اور پاکستان دریائے نیلم پر 969 میگاواٹ پاور پروجیکٹ کا منصوبہ رکھتا ہے جو اس سے یقیناًمتاثر ہوگا انڈیا اب بھی مزید کئی ڈیم بنانا چاہ رہا ہے اور بنیا ڈنڈی مارے گا آج انڈیا ہمیں سخت نقصان پہنچانے کے درپے ہے ہمیں آنکھیں کھول کر رکھنی ہوں گی کہ دشمن بہت عیار اور مکار ہے متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ خواب خرگوش سے جاگیں جو آپ کا فرض اور ذمہ داری ہے اللہ پاکستان کا

کشمیربھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کیوں ؟

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے روایتی ہٹ دھرمی سے کام لے کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کی دھجیاں اڑا دیں اور جنرل اسمبلی میں بھی اٹوٹ انگ کا راگ الاپ دیا۔ سشما سوراج نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور رہے گا۔ پاکستان کشمیر کا خواب دیکھنا چھوڑ دے اور بلوچستان کی جانب دیکھے۔کوئی بھارت سے کشمیر کو علیحدہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو بلوچستان کی طرف دیکھنا چاہیے۔ اگر پاکستان سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات دے کر کشمیر کو بھارت سے الگ کر سکتا ہے تو ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ دہشت گردی بونے، اگانے والے ملک کی پہچان کرکے جواب لیا جائے۔
سشما سوراج نے وزیراعظم نوازشریف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مذاکرات کی کوئی شرط نہیں لگائی۔ ان قوموں کو تنہا کیا جائے جو دہشت گردی نہیں چھوڑ رہے۔ ہم اوڑی کے لوگوں کے دکھ کو سمجھتے ہیں اسی طرح کا حملہ ہم پر پہلے ہوچکا ہے۔ ہم نے دوستی کی پیش کش کی لیکن ہمیں دہشت گردی ملی ہم نے دوستی کی ہمیں پٹھان کوٹ پر حملہ ملا۔ پاکستان بھارت واٹرکمشن کا اجلاس نہیں ہوگا، یہ اسی وقت ہوگا جب دہشت گردی رکے گی۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کو کون تحفظ دے رہا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے ہمارے ساتھ ہاتھ ملائیں اوڑی حملہ آوروں کے خلاف کارروائی نہ کی تو معاف نہیں کریں گے۔ دفتر خارجہ نے بھارتی وزیرخارجہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے جس پر بات کر کے سشما سوراج نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایک سال پہلے مذاکرات بھارت نے معطل کئے اور 21ستمبر کو وزیراعظم نوازشریف کی مذاکرات کی پیشکش کا بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔ تمام باتیں دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے کی گئیں۔ بھارت کا سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے لاتعلقی کا اظہار حیران کن ہے۔ کشمیر بھارت کا لازمی حصہ ہے تو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کیوں ہے؟
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا خطاب جھوٹ کا پلندہ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے مذاکرات کا عمل منسوخ کیا۔ سشما سوراج نے پہلا جھوٹ یہ بولا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریکارڈ پر ہیں۔ سشما سوراج نے یہ بھی سب سے بڑا جھوٹ بولا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔ انہوں نے یہ بھی جھوٹ بولا کہ ہم نے مذاکرات پر کوئی شرط نہیں لگائی۔ بھارت نے مذاکرات منسوخ کئے ساری دنیا جانتی ہے۔
سشما سوراج نے بلوچستان پر پاکستان کو بدنام کرنے کا خواب دیکھا، کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بھارت نے جھوٹ بولا، بھارت نے بے بنیاد الزامات لگائے، پاکستان جواب دے گا۔ یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ بھارتی الزامات کے جواب دے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات پاکستان سے بغض کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتا۔ دنیا کو پتہ چل گیا پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔ بھارت نے کشمیر کے مظالم پر جھوٹ بولا، الزامات بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم چھپانے کیلئے لگائے گئے۔ 50 سال سے بھارت ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی معاونت کرتا رہا ہے۔ ڈھائی ماہ میں 100 سے زائد کشمیری شہید، سینکڑوں بینائی سے محروم ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل عام ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ یہ ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرائم کی بدترین مثال ہے۔ مقبوضہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہوگا۔ پاکستان اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیر میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔
پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کا حامی ہے۔ مذاکرات خطے کی سلامتی اور امن کے لئے ضروری ہیں۔ یو این جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ بھارتی الزامات کا مقصد کشمیری خواتین اور بچوں پر ظلم سے توجہ ہٹانا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب تہمینہ جنجوعہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کی کڑی ہے۔ حالیہ بھارتی مظالم کے باعث کشمیری مائیں 100 سے زیادہ بیٹے، بیٹیاں دفنا چکی ہیں۔ سینکڑوں کشمیریوں کو بینائی سے محروم کردیا گیا، کرفیو کی وجہ سے لاکھوں کشمیری بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ کشمیری مذہب، تقریر اور تحریر کی آزادی سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل آزاد اور منصفانہ رائے شماری ہے۔ بھارت کے ایک نجی ٹی وی نے کشمیریوں کی آزادی کے معاملے پر سروے میں سوال کیا کہ کیا آپ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں؟ جس کے جواب میں 70 فیصد کشمیریوں نے کہا کہ ہاں ہم بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ 30 فیصد نے جواب دیا کہ بھارت کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔ ایک اور بھارتی چینل پر سینئر بھارتی صحافیوں نے بتایا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حالات جاننے کیلئے وفد لے کر گئے۔ جہاں انہوں نے سینئر سیاسی ورکروں اور عام لوگوں سے بات کی سب کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ جہاں تک کشمیری پنڈتوں کو بھگانے کا الزام ہے انہیں پنڈتوں کو بھگانے میں کوئی دلچسپی نہیں اگر ایسا ہی ہے تو انہوں نے وہاں سے سکھوں کو کیوں نہیں بھگایا۔ وہاں 6 سال کے بچے سے لے کر بڑوں تک کشمیر کی آزادی کیلئے لڑنے کا کہہ رہے ہیں

Google Analytics Alternative