کالم

حکومت اب”قربانی کیلئے تیار ہیں“ کی رٹ چھوڑ دے

آج پھر پاکستان کا پرچم سرنگوں رہا غمگین اور اُداس کہ ٓاج چارسدہ میں اس کے بچے خون میں نہلا دیے گئے تھے جوان گھبرو بچے۔وہ جوان جنہوں نے صرف چند ماہ بعد بہت سارے میدان سنھبالنے تھے عملی زندگی میں آنا تھا، سائنس،انتظامیہ،ادب اور بہت سارے دوسرے میدان مارنے تھے وہ مار دیے گئے اور ساتھ ہی بہت سی اُمیدیں بھی مار دی گئی۔ اس سے صرف ایک دن پہلے حیات آباد میں دس افراد ایسی ہی بر بریت کا شکا ہو ئے ،ننھا شاہ زیب دس روپے کا نوٹ مٹھی میں دبائے معلوم نہیں ٹا فیاں ،چپس یا کچھ اور خریدنے کے ارمان دل میں لیے اپنی جان ہار گیا اس شہید بچے کی معصوم لاش نے پہاڑوں کو بھی رُلا دیا۔اس سے پہلے کوئٹہ میں گیارہ بے گناہ خون میں نہلا دیے گئے۔ نیا سال جس کی مبارک بادیں یوں دی جا ر ہی تھی جیسے عید آگئی ہواسے دہشت گردی کے خاتمے کا سال بھی قرار دیا گیا خدا کرے کہ ایسا ہو لیکن ابھی تک تو اس نے اپنے ابتدائی دنوں میں خون ہی خون دیکھ لیا اورپرچم کو سر نگوں ہوتے دیکھا۔ابھی تک کوئی پرچم کے اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہے کہ آخر اس کا قصور کیا ہے کیوں اسے بار بار سر نگوں ہونا پڑتا ہے پرچم کے ساتھ یہ سلوک پہلے بھی ہوتا رہا ہے لیکن آج اسے یوں سر جھکائے دیکھ کر آنسو ٹپک رہے تھے یہ اُن نوجوانوں کے خون کی سُرخی تھی جو چارسدہ میں بہہ گیا تھا اور پوری قوم کو رُلا گیا۔ قوم کو یہ بتایا گیا ہے کہ بہت ساری کڑیاں مل گئی ہے، واقعے کی تہہ تک پہنچنے والے ہیں وغیرہ وغیرہ، ایسا ہے تو پھر مجرم پکڑے کیوں نہیں جاتے اور جب پکڑے جاتے ہیں تو سزا کیوں نہیں پاتے۔ سانحہ اے پی ایس ہو ا تو قوم یک جان ہو گئی ،نیشنل ایکشن پلان بنا ، پھانسی کی سزا پر پابندی ختم ہوئی اور آپریشن ضرب عضب میں تیزی لائی گئی۔ اگر چہ جون2014 میں شروع ہونے والا یہ آپریشن دہشت گردی کے خلاف آخری اور حتمی قرار دیا جا رہا تھاتاہم اس میں اصل تیزی 16دسمبر2014کے بدقسمت حادثے کے بعد آئی اور قوم اس کے حتمی نتیجے کا انتظار کرنے لگی۔ اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ دہشت گردوں کے خلاف نمایاںکامیابیاں بھی حاصل ہوئیںاور دہشت گرد کاروائیوں میں کمی بھی آئی لوگ کچھ پُرسکون بھی ہوئے اگر چہ ایسا نہیں تھا کہ یہ سب ختم ہو گیا تھا لیکن بہتری ضرور آئی تھی مگر 2016 کے شروع ہوتے ہی دہشت گرد پوری تیاری کے ساتھ پھر میدان میں اُتر آئے اور پے در پے وار کرکے قومی وجود کوپھر ہلا دیا ۔ایک بار پھر جب طلباءکا خون بے دریغ بہاد یا گیاتو حکومت کچھ جاگی ،سینٹ اور قومی اسمبلی کو ہوش آیا اور شور اُٹھا معلوم نہیں کب تک یہ شور رہے گا اور پھر کب یہ آوازیں دب جائےں گی۔ قومی ایکشن پلان جس کو شروع کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ قوم کا نجات دہندہ بن جائے گا ، فوجی عدالتوں کو کھل کر کام کرنے دیا جائے گا لیکن ہمارے ماہرین قانون اس کے خلاف بولتے نہیں تھک رہے ۔ عاصمہ جہانگیر جیسے کچھ خدائی خدمتگار جو یہ فرض صرف اورصرف نام و نمودکی خاطرانجام دیتے ہیںاور ایسا کرتے ہوئے انہیں ملک اور قوم یاد نہیں رہتے اس مشن میں آگے آگے رہتے ہیں انہوں نے ہی ان فوجی عدا لتوں سے سزا پانے والے تیرہ دہشت گردوں کی سزائے موت کے خلاف سٹے آرڈر لیا ۔یہ لوگ ان سزاوئں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے دیتے ہیں لیکن باچا خان یو نیورسٹی کے جوان طلباءکے جوان لاشے بھی اِن کو لب کھولنے پر مجبور نہیں کرتے اور حیرت انگیز طور پر یہ آوازیں ان احتجاجی آوازوں میں شامل نہیں ہوتیں۔ معلوم نہیں کس کا ایجنڈا ہے جسے پورا کیا جاتا ہے۔اس بار تو ہمارے بہادر وزیر دفاع بھی غائب ہیں حکومت تو، حقیقت یہ ہے کہ قومی ایکشن پلان پر بھی ابھی تک خاطر خواہ عمل نہیں کرا سکی ہے اور اب تک صرف 42 سزائے موت پر عمل ہوا ہے جبکہ اس ایک سال کے دوران مزید 77 فوجی اور 287 شہری شہید ہوئے اگر چہ اس سے کہیں زیادہ دہشت گرد فوج کے ساتھ مقابلوں میں یا کاروائیوں میں مارے گئے لیکن عدالتوں اور حکومتی اداروں کی طرف سے جو رویہ اپنایا جارہا ہے اس سے صاف نظر آتا ہے کہ قومی ایکشن پلان کو بنا کر ایک مقدس صحیفے کی طرح لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے جبکہ اس وقت ہم غیر معمولی حالات میں ہیں اور ہمیں غیر معمولی فیصلے بھی کرنے ہونگے اور ان پر غیر معمولی طور پر عمل بھی کرنا ہوگا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے باچا خان یونیورسٹی کے پانچ سہولت کاروں کو میڈیا کے ذریعے عوام کے سامنے پیش کیا اگر یہ ملزمان اقرار جُرم کر چکے ہیں تو کیا پھربھی انہیں عدالتوں کے حوالے کیا جائے گا،سالہاسال ان پر مقدمہ چلایا جائے گا، معاملہ ٹھنڈا ہو جائے گا ،ملزمان چھوٹ جائیں گے اور ایک دفعہ پھر کسی اور حملے کی تیاری میں لگ جائیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان کو سرِ عام پھانسی دی جائے اور فوری دی جائے تاکہ آئندہ کسی کو دہشت گردوں کی مدد کرنے کی ہمت ہی نہ ہو۔مجھے یہ بھی یقین ہے کہ منصوبے میں شامل دو عورتیں جو مفرور ہیں اگر پکڑی گئیں ان کے بہت سارے ہمدرد بھی حقوقِ نسواں کے نام پر میدان میں آجائیں گے اور آجائیں گی لیکن برائے خدا جو بھی اس طرح کی کاروائیوںمیں ملوث ہیںانہیں قرار واقعی اور فوری سزا دی جائے اور ان ملکوں سے بھی سخت لہجے میں بات کی جائے جو یا تو خود ان حملوں میں ملوث ہیں یا ان کی سر زمین استعمال ہو رہی ہے۔بظاہرلگتا تو یہی ہے کے بھارتی وزیر دفاع نے اپنے کہے اور دھمکی پر عمل کر دکھایا ہے کیونکہ ایک موقع پر بھارتی قونصلیٹ سے تیس لاکھ روپے کی فراہمی کا بھی ذکر ہوا آخر اس کا کچھ تو تعلق ہو گامعاملے سے اور جیسا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے تصدیق کی کہ افغانستان سے دس کالیں دہشت گردوں کے نمبر پر کی گئی تو اس میں تو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ افغانستان میں بیٹھے بھارت کے نمک خوار ملا فضل اللہ اور عمر منصور جیسے درندے معصوم پاکستانیوں کے خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ حملہ افغانستان سے بذریعہ ٹیلی فون کنٹرول کیا گیا لہٰذا افغان حکومت سے بھی پُر زور مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ اِن درندوں کو پکڑنے میں پاکستان کی مدد کرے اور یاپاکستان کو اجازت دے کہ وہ خود ان کے خلاف کاروائی کرے۔ افغانستان کو یہ احساس دلانا بھی ضروری ہے کہ پاک افغان امن ایک دوسرے سے منسلک ہے اور یہ تب ہی ممکن ہے جب بھارت کو افغانستان سے بے دخل کیا جائے اور افغان عوام کو بھی وہ احسان یاد دلایا جائے جب پاکستان کی سر زمین نے اُنہیں اُس وقت پناہ دی جب ان پر اپنی زمین بھی تنگ کر دی گئی تھی یہ اب بھی لاکھوںکی تعداد میں پاکستان میں موجود ہیں ، لیکن یہ” مہمان“ جس طرح ہمارے لیے مسائل کا باعث بن رہے ہیں ضروری ہے بلکہ لوگوں کاشدید مطالبہ ہے کہ ا نہیں ان کے ملک واپس بھیج دیا جائے تاکہ ہم اپنے ملک کو محفوظ بنا سکیں۔ ہماری حکومت کی پہلی ذمہ داری اپنے عوام ہیں اگر یہ حکمران اپنے ہی ملک کو سنبھال لیں تو بہت ہے جب ہم خود کو مضبوط اور پُر امن بنا لیں اور اگر ہماری کچھ صلاحیتیں ، وسائل اور ذرائع بچ رہیں تو دوسروں کی مدد کے لیے اُسے استعمال کر لیں گے۔بے شک کہ مسلمان ہونے کے ناطے ایک دوسرے کی مدد کرنا ہمارا فرض ہے لیکن دوسری طرف سے کیا رسپانس مل رہا ہے اسے بھی مدِنظر رکھانا چاہیے۔ پڑوسی اگر دشمن سے مل جا ئے تو اُس کی بھی شنوائی ضروری ہے۔ہمارے حکمران اپنی تجارت چھوڑ کر ملکی مسائل کی طرف توجہ دیں گے تو دوسرے ہمارے ہاں یوں کُھل نہیں کھیلیں گے۔اگر ہم ان کی محبت میں ان کے یوں گُن نہیں گائیں گے تو وہ اپنی دھمکیوں پر اتنی جلدی عمل نہیں کر سکیں گے۔ہماری حکومتیں اب اگر ”قربانی کے لیے تیار ہیں“ کی رٹ بھی چھوڑدیں تو اچھا ہو گا کیونکہ اس ملک کو زندہ جوانوں کی ضرورت ہے جوان مقبروں کی نہیں کیونکہ جوان مقبروں کی تکلیف کسی پوری قوم کو مار دینے کے لیے کافی ہوتی ہیں ،اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے، آمین۔

ڈاکٹرجمشید ترین(م) کی مثالی خدمات

تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن، چیئرمین تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ اور ممبر بورڈ آف گورنرز نظریہ پاکستان ٹرسٹ کرنل (ر) ڈاکٹر جمشید احمد ترین 91 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ کچھ عرصہ سے علیل تھے۔ انکا شمار حمید نظامی مرحوم اور مجید نظامی مرحوم کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ مرحوم نے ساری زندگی نظریہءپاکستان کی ترویج و اشاعت کیلئے بھرپورکام کیا۔28 نومبر 1998ءکو تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے ٹرسٹی اور اگست 2009ء میں اسکے چیئرمین بننے کے بعد انہوں نے کارکنان تحریک پاکستان کی فلاح و بہبود کیلئے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر کرنل جمشید احمد ترین کا شمار ان مدبرین میں ہوتا تھا جنہوں نے تحریک پاکستان کے دوران مسلم لیگ اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کیلئے بڑی جانفشانی سے کام کیا۔ 1940ءمیں جب ایمرسن کالج ملتان میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی گئی تو آپ اسکے بانی ارکان میں شامل تھے۔ 1941ء میں ایف۔ سی کالج لاہور میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی بنیاد رکھی گئی تو آپ یہاں پر سال سوم کے طالب علم تھے اور بانی ارکان میں شامل تھے۔ بعد میں آپ کو صدر چ±نا گیا۔ 1943ء میں آپ نے کے۔ ای میڈیکل کالج میں داخلہ لیا۔ اس وقت کے۔ای میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کا قیام عمل میں آ چکا تھا لیکن اس کے عہدیداران کا انتخاب ابھی نہیں ہوا تھا۔ وہاں آپ کو فیڈریشن کا پہلا جنرل سیکرٹری چنا گیا۔ اسی سال آپ مجلس عاملہ کے رکن بھی چنے گئے۔ جب تحریک سول نافرمانی کا آغاز ہوا تو اس میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ کئی مرتبہ پولیس کے ہاتھوں تشددکا نشانہ بنے اور پابند سلاسل بھی ہوئے۔ 1946ء میں الیکشن ہوئے تو مسلم لیگی ا±میدواروں کی کنویسنگ کے لئے دن رات کام کرتے رہے۔ 14 اگست 1947ء کو جب دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نام ا±بھرا تو مہاجرین کے لٹے پٹے قافلے پاکستان پہنچنا شروع ہو گئے جن کی بحالی کیلئے کام کیا۔ میڈیکل کے طالب علم ہونے کی حیثیت سے مہاجرین کو طبی سہولیات بہم پہنچاتے رہے۔آپ کو قائداعظمؒسے کئی بار ملاقات کا شرف حاصل رہا۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ نے پاکستانی فوج کی میڈیکل کور میں شمولیت اختیار کر لی۔ فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد لاہور کے سرگنگا رام ہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر کی ذمہ داریاں سنبھالیں اور اس ہسپتال کی ترقی و توسیع کے سلسلے میں شاندار کردار ادا کیا۔ بعدازاں خود کو قومی اور سماجی کاموں کیلئے وقف کر دیا۔ ڈاکٹر جمشید ترین کی خدمات زریں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ تحریک پاکستان کے ورکرز کو انہوں نے کھوج کھوج کر نکالا، ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی، گولڈ میڈل دینے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے خاندانوں کو احساس دلایا کہ جس شخص کو انہوں نے پرانے سامان کی طرح گھر کے کونے میں جگہ دے رکھی ہے، اس کی اہمیت اس معاشرے میں آج بھی ہے چنانچہ تحریک پاکستان کے ورکرزکو نہ صرف گولڈ میڈلز دے کر حوصلہ افزائی کی بلکہ انہیں سر چھپانے کے لئے پلاٹس بھی لے کر دیئے گئے۔ورکرز کی اپنی ذاتی جیب سے بھی خدمت کی، ہر کسی سے مسکرا کر ملتے تھے اور ہمیشہ سر اٹھا کر جینے کا درس دیتے تھے۔ ڈاکٹر جمشید ترین کے صاحبزادوں میں سے شوکت ترین نے بینکاری کے شعبے میں عالمی سطح پر بہت نام کمایا ہے اور پاکستان کی حکومت کو ماضی میں معاشی مسائل سے نکالنے کے لئے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں ،ورنہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان چند سال پہلے ہی عالمی سطح پر دیوالیہ قرار دے دیا جاتا۔ زندگی میں نشیب و فراز آتے ہی رہتے ہیں ، لیکن ڈاکٹر جمشید ترین کبھی حالات سے دل برداشتہ نہیں ہوئے تھے۔ انہیں دو مرتبہ قید و بند میں بھی ڈالا گیا۔ پہلی بار 1944ءمیں بطور سٹوڈنٹس لیڈر اور دوسری بار 1971ء میں مشرقی پاکستان میں جنگی قیدی بنایا گیا۔ جب میجر نادر پرویز فرار ہوئے چونکہ ڈاکٹر جمشید ترین بھی ان کے ساتھ ہی بند تھے ،لہٰذا دشمنوں نے ان پر بہت سختی کی اور کہا کہ اس کے فرار میں آپ کا ہاتھ ہے تو اس وقت کرنل جمشید ترین نے سینہ تان کر کہا ،اگرچہ میرا اسے فرار کرانے میں کوئی کردار نہیں ہے ،لیکن اگر وہ کہتا تو میں ضرور اس کی مدد کرتا۔ جنگی قیدی کی حیثیت میں وہ دن رات تلاوت قرآن پاک میں مصروف رہتے اور بعض اوقات تو دن میں ایک پورا قرآن حکیم پڑھ لیتے۔اللہ تعالیٰ ان کی روح کو جنت میں رکھے ،کیونکہ وہ اللہ کے سپاہی تھے۔ کرنل (ر) ڈاکٹر جمشید احمد ترین کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کا انعقاد تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا گیا جس میںپروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد‘شوکت ترین‘عظمت ترین ‘ کرنل (ر) سلیم ملک ‘ میاں فاروق الطاف‘جسٹس(ر) آفتاب فرخ‘ مجیب الرحمن شامی‘ چوہدری نعیم حسین چٹھہ‘ افتخار علی ملک‘ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان‘بیگم مہناز رفیع‘ڈاکٹر اجمل نیازی‘ایم کے انور بغدادی اور میاں محمد ابراہیم طاہر بھی موجود تھے۔ محمد رفیق تارڑ نے کہا کہ کرنل (ر)ڈاکٹر جمشےد احمد ترےن مرحوم نے نہ صرف قےامِ پاکستان کے لئے جدوجہد کی بلکہ پاک فوج مےں شامل ہوکر دفاع وطن کا مقدس فرےضہ بھی انجام دےا۔ کرنل (ر) ڈاکٹر جمشےد احمد ترےن مرحوم کو بذاتِ خود تحرےک پاکستان مےں حصہ لےنے کا شرف حاصل تھا‘ لہٰذا تحرےک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے ٹرسٹی اور چےئرمےن کی حےثےت سے انہوں نے قائداعظمؒ کے ان سپاہےوں کی فلاح و بہبود کے لئے گرانقدر خدمات انجام دےں۔پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر رفیق احمد نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر جمشید ترین پاکستان اور قائد اعظمؒ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔کسی کو اجازت نہیں دیتے تھے کہ وہ قائد اعظمؒ یا پاکستان کی شان میں گستاخی کرے یا ان کے خلاف کوئی بات کرے۔ بڑی محبت سے بتاتے تھے کہ پاکستان کتنی قربانیوں سے حاصل کیا گیا۔ بچوں سے بہت محبت کرتے تھے اور نظریہءپاکستان میں بچوں کے لئے نظریاتی سمر سکول میں بھی ان کی کاوشوں کا بہت عمل دخل ہے۔ بچوں کو بہت محبت سے پاکستان کی تاریخ بتایا کرتے تھے۔بہت سادہ طبیعت اور انصاف پسند تھے ،اسلام کی بنیادی تعلیمات پر عمل پیرا رہتے تھے۔ ہمیشہ سچ بولتے تھے اور بہت بیباک تھے۔ کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوتے تھے۔ مرحوم کے بڑے بیٹے سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کرنل (ر) جمشید احمد ترین بحیثیت باپ رول ماڈل کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے ہماری تربیت یہ کہہ کر کی کہ ہمیشہ سچ بولیں، ایماندار رہیں، کسی سے ڈریں نہیں اور رزق حلال کمائیں۔ وہ بہت شفیق باپ تھے۔ پاکستانیت اور انسانیت ان میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ شوکت ترین نے کہا علامہ محمد اقبالؒ اور قائداعظم محمد علی جناحؒ کے ساتھ انہیں والہانہ عقیدت تھی۔کرنل (ر) ڈاکٹر جمشید احمد ترین کو اللہ تعالیٰ نے بڑا فےاض طبع بناےا تھا۔ ےتےموں اور مسکےنوں پر دست شفقت رکھنا اور تنگ دستوں کی مدد کرنا ان کا شےوہ تھا۔ وہ خود بھی خلق خدا کے کام آتے تھے اور دوسروں کوبھی اےسا کرنے کی تاکےد کرتے تھے۔ ان کی فےاضی نے اےک عالم کو ان کا گروےدہ بنا دےا تھا اور مےں سمجھتا ہوں کہ انہوںنے ان اوصاف کی بناءپر دنےا مےں ہی جنت کمالی تھی۔

کشمیریوں کا یوم سیاہ اور فلم”پی کے“

”ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں کسی کی زندگی پربات کی جائے تو اسے جیل میں ڈال دیا جاتا ہے، کوئی آزادانہ طریقے سے نہ لکھ سکتا ہے اور نہ ہی کچھ کہہ سکتا ہے تو ایسے ماحول میں ہم اپنے آپ کو جمہوری کس طرح کہہ سکتے ہیں، ملک میں بڑھتی عدم برداشت کے ماحول پر کچھ نہیں بولوں گا کیوں کہ بالی ووڈ کے مایہ ناز اداکاروں نے اس پربولنے کی کوشش کی لیکن ان کے ساتھ کیا ہوا وہ سب کو معلوم ہے اور اس ملک میں آپ وہ نہیں کرسکتے جس کی حکومت آپ کو اجازت نہ دے۔ بطور ہدایت کار انہیں ہرسطح پرلگتا ہے کہ وہ جکڑے ہوئے ہیں اور جہاں جاتے ہیں خوف کے سائے ساتھ چلتے ہیں۔جہاں جاتا ہوں وہاں قانونی نوٹسز انتظارکررہے ہوتے ہیں اورمجھ پراتنے مقدمات قائم کردیئے گئے ہیں کہ مجھے ایف آئی آر کا بادشاہ بنادیا گیا ہے اور مجھے نہیں پتا کہ تقریب کے بعد جب گھر پہنچوں توکون میرے خلاف مقدمہ درج کرا دے“ ۔ یہ الفاظ ہیں دنیا کی سب بڑی جمہوریت ہونے کے دعویدار ملک بھارت کے ایک فلم ساز کرن جوہر کے جوانہوں نے جے پورلٹریچرفیسٹیول میں اپنے خطاب کے دوران کہے۔یہی ملک آج26 جنوری کو اپنا 56 واں یوم جمہوریہ منا رہا ہے۔ بھارت میں یہ دن 1950 سے منایا جارہا ہے اس دن دستور ہند کا نفاذ عمل میںآیا تھا جبکہ اس سے قبل 1935 کا حکومت ہند ایکٹ نافذ تھا۔ بھارتی حکمرانوں کو اس بات پر ناز ہے کہ وہ دنیا کی ایک بڑی جمہوریت ہیں اور اسکاآئین مکمل طورپر سیکولر ہے۔یوم جمہوریہ بھارت کے علاوہ مقبوضہ کشمیر میں بھی منایا جاتا ہے، مگر کشمیری اس دن کو یوم سیاہ کے طورپر مناتے ہیں۔گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی کشمیری رہنماﺅں نے یوم سیاہ کی کال دے رکھی ہے۔یوم جمہوریہ کا دن قریب آتے ہی مقبوضہ کشمیر میں پکڑ دھکڑ اور کرفیو کا سماںعروج پر پہنچ جاتا ہے۔ اس برس بھی یہی صورتحال ہے۔بڑے دھوم دھڑکے سے یوم جمہوریہ منانے والے بھارتی حکمرانوں خصوصاً مودی جی کو اپنے گریباں میں جھانک لینا چاہیے کہ وہ کس منہ سے آج یوم جمہوریہ منا رہے۔ حقیقی جمہوری ملکوں میں رواداری ، برداشت اور انسانی حقوق کا بول بالا ہوتا ہے، مگرگزشتہ دو سال میں یہ سب کچھ بھارت سے عنقا ہوچکا ہے۔اقلیتیں تو اقلیتیں ادیب ، لکھاری ، فلم ساز اور فنکار بھی اب مودی کی ”جمہوریت“ کا شکار ہوچکے ہیں۔بھارتی فلم ساز کرن جوہر نے بھاری جمہوریت کا جس طرح پردہ چاک کیا ہے یہ کوئی نئی بات نہیں ہے قبل ازیں گزشتہ سال اپنی 50ویں سالگرہ کے موقع پر شاہ رخ نے بھی ایک شو کے دوران ہندوستان میں بڑھتی عدم برداشت کے حوالے سے بات کی تھی جس میں ان کا کہنا تھاہندوستان میں عدم برداشت ہے، میں سمجھتا ہوں یہاں عدم برداشت میں اضافہ ہوا ہے۔ شاہ رخ کے بیان کے کچھ عرصے بعد عامر نے بھی ملک میں بڑھتی عدم برداشت پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ان دونوں اداکاروں کے خلاف ہندوستان میں کئی احتجاج کیے گئے جس سے شاہ رخ کی فلم دل والے بھی متاثر ہوئی۔عامر خان کی بخشش تو اب تک نہیں ہوئی۔ اب ان کے خلاف بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سبرامنیم سوامی اگلے روزنے ایک نیا الزام دھر دیا ہے کہ ان کی فلم پی کے کو آئی ایس آئی نے سپانسر کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عامر خان نے اپنی فلم ’پی کے‘ کے پروموشن کے لئے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کی مددحاصل کی تھی۔ نیوز ایجنسی اے این آئی کو دیئے اپنے بیان میں سوامی نے اس بات کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ عامر نے اپنی فلم’ پی کے‘ کے پروموشن کے لئے آئی ایس آئی کے ساتھ ہاتھ ملایا تھا۔حسب سابق موصوف سوامی نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ان سے یہ بجا طور پر پوچھا جانا چاہئے کہ ‘پی کے‘ فلم 2014میں ریلیز ہوئی تھی۔ اس فلم کے پروموشن کےلئے اگر عامر نے آئی ایس آئی سے ہاتھ ملایا تھا تو اس وقت وہ کیوں خاموش رہے؟ اپنی و قوم کو کیوں نہیں بتایا کہ عامر اور آئی ایس آئی ساز باز کر رہے ہیں۔ عامر خان نے گزشتہ سال نومبر میں کہا تھا کہ ملک میں عدم برداشت کے ماحول کی وجہ سے ایک موقع پر انکی اہلیہ کرن راﺅ نے ملک سے منتقل ہو کر کہیں اور بس جانے کی بات کہی تھی۔حالانکہ عامر خان نے وضاحت سے کہا تھا کہ وطن چھوڑنے کا مشورہ انکی اہلیہ جو ہندو ہیںکا تھالیکن آفتوں کا پہاڑ عامر خان پر ٹوٹنے لگا۔ بی جے پی کے کئی شِکرے آستینیں چڑھا کرمیدان میں آگئے اور عامر خان کو غدار وطن تک کہہ ڈالا۔ عامر خان سے متعلق یہ تنازعہ تقریباً ختم ہو چکا تھا لیکن بی جے پی نے شاید کچھ سوچ کر اسے از سر نو زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ابھی چند روز پہلے بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے عامر کا نام لئے بغیر ایک بیان میں کہا کہ انہیں ملک کے وقار کے بارے میں صرف آٹو ڈرائیوروں کو ہی نہیں بلکہ اپنی بیوی کو بھی ملک پر فخر کرنے کا گیان دینا چاہئے۔ اس سے قبل بی جے پی کے رہنما کیلاش وجئے ورگیہ نے ایک پروگرام میں عامر اور شاہ رخ کو اشاروں ہی اشاروں میں دھمکی دے ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ عدم تحمل کی بات کرنے والوں کا علاج کرنا پڑتا ہے۔ ابھی ایک کا علاج ہوا ہے دوسراباقی ہے۔ ہمیں دنگل میں منگل کرنا ہے۔ اس بیان کے ذریعہ انہوں نے اپنے کارکنوں کو عامر کی آنے والی فلم دنگل کی طرف اشارہ کر کے اسکی ریلیز میں رکاوٹ ڈالنے کا اشارہ دے دیا ہے۔بھارت کے اندر موصوف کے بارے رائے ہے کہ متنازعہ بیانات دینے اور سنسنی پھیلانے میں وہ اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ بھارتی پارلیمنٹ کے ممبراورآل انڈیاتعلیمی وملی فاو¿نڈیشن کے صدرمولانا اسرار الحق قاسمی اپنے ایک حالیہ تجزیے میں لکھتے ہیں کہ” الزام تراشی ان کی فطرت میں شامل ہے۔ بغیر سوچے سمجھے کسی پر بھی کوئی بھی الزام لگا دیتے ہیں۔ دعوی کرتے ہیں کہ انکے پاس پختہ ثبوت ہیں لیکن آج تک شاید ہی اپنا کوئی بھی الزام ثابت کر سکے ہوں۔نتیجے میں عدالتوں کی پھٹکار ان کا مقدر بنتی ہیں۔ پھر بھی باز نہیں آتے۔نہرو گاندھی خاندان سے خداواسطے کا بغض رکھتے ہیں۔ کبھی سونیا گاندھی نشانے پر رہتی ہیں تو کبھی راہل گاندھی۔ ان ہی کج رو خیالات و افکار بلکہ خرافات کی وجہ سے سوامی آج کل آر ایس ایس کی آنکھوں کا تارا بنے ہوئے ہیں اور اس ہندوتوا وادی تنظیم کی سرپرستی میں اسلام اور مسلم مخالفت کے ساتھ ساتھ شہیدبابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر کا علم بلند کئے ہوئے ہیں۔ ابھی 12 جنوری کو دارالسلطنت دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے زور دیکرکہا کہ مسلمانوں کو ایودھیا‘ متھرا اور بنارس میں تین مساجد پر اپنا دعویٰ ترک کر دینا ہوگا تاکہ وہاں مندر بننے کی راہ ہموار ہو سکے“۔موصوف کی مقامی سیاست میں کتنی قدر ہے اس کا اندازا اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ برس ستمبر میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی کا وی سی بنانے کی اطلاع سامنے آئی تو یونیورسٹی کے طلبہ یونین نے انہیں وائس چانسلر بنائے جانے کی تجویز کی سخت مخالفت کی اور فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا کی طرح تحریک چلانے کی دھمکی دی تھی۔طلبہ یونین کی طرف سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ مودی حکومت تعلیم کو بھگوا رنگ میں رنگنے کے لئے سوامی کو اس یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنانے جا رہی ہے تاکہ وہ اپنے ایجنڈے کو نافذ کر سکے لیکن ہم طلبہ ایساہونے نہیں دیں گے اور اس کی جم کر مخالفت کریں گے۔یہ بھی کہا گیا کہ سوامی اپنے اسلام مخالف بیانات کے لئے جانے جاتے رہے ہیں اور اس وجہ سے ہی وہ آکسفورڈ یونیورسٹی سے وزیٹنگ پروفیسر کے طور پر ہٹائے بھی گئے تھے۔پاکستان سے کارروائی کا مطالبہ کرنے والی مودی حکومت بتائے کہ پی آئی اے کے دہلی آفس پر حملہ کیا دہشت گردی نہیں ہے اور حملہ آور بجرنگ دل کے دہشت گردوں کے خلاف کیا کارروائی ہوئی۔

کیا بھارت یوم جمہوریہ منانے کا حقدار ہے؟

بھارت میں ہر برس 26 جنوری کو یوم ِ جمہوریہ منا یا جاتا ہے تاکہ دنیا کو یہ بتایا جائے کہ بھارتی جمہوری نظام میں مختلف مذاہب، نسل اور مختلف زبانیں بولنے والے کو کس قدر آزادی حاصل ہے۔ بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے، اس روز اس بارے میں جھوٹا پروپیگنڈہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا ہے اور اتنا جھوٹ بولا جاتا ہے کہ سچ کا گمان ہونے لگے۔
ہندو قوم کی اکثریت کے اِس دیش میں ہندوو¿ں میں دوتہائی سے زیادہ تعداد دلتوں کی ہے جنہیں بھارت بھر میں اچھوت کہا جاتا ہے۔ ہندوبراہمنوں نے گزشتہ 67 برسوں سے سیکولرازم کی آڑمیں جمہوری چالبازیوں کا ڈرامہ رچا نے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ۔ مودی سرکار کے آنے کے بعد سیکولر ازم کا نقاب بھی اتر گیا اور اب بھارت کا اصل بھیانک روپ سامنے آگیا ہے۔ طاقت و قوت کے زور پر بھارتی عیسائیوں ‘ بھارتی مسلمانوں ‘ بھارتی سکھوں اور بدھسٹ اقلیتوں کو ہندو بنایا جارہا ہے۔
مقبوضہ جموں وکشمیر کو بزور ِ قوت نئی دہلی کے زیر تسلط رکھنے کا منصوبہ کیا جمہوریت ہے۔ کشمیری عوام آج بھی68 برسوں کی طرح بھارت کے یوم ِ جمہوریہ کو ’یوم سیاہ ‘ کے طور پر منا کر اَمن پسند دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے میں کامیاب ہیں۔ بھارت فوجی برتری کے زعم میں لاکھوں کی تعداد اپنی فوجی دستے کشمیر میں داخل کر کے نہ و ہ کشمیریوں کے دِل ودماغ پر قابض ہوسکا وہ نہ سرزمین ِ کشمیر پر اپنا ا خلاقی جواز دنیا کے سامنے پیش کرپا یا۔
بھارت نے مذاکرات اور امن کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں ظلم و تشدد جاری رکھا ہوا ہے۔ ہر روز نہتے کشمیریوں کو فوجی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو ابھی تک ختم نہیں کیا اور بھارت نے دنیا کی توجہ کشمیر سے ہٹانے کےلئے نئے ڈرامے شروع کر دیئے ہیں۔ بھارت کا گھنا¶نا کردارکھل کر دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ بھارت میں کوئی جمہوریت نہیں ہے۔ بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے۔ کشمیری عوام نے بھارت کے ظلم کے خلاف آزادی کی جدوجہد شروع کی ہے۔ بھارت کا یوم جمہوریہ، یوم سیاہ کے طور پر منانا بھارت کا اصل روپ اور کردار دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ بھارتی حکمرانوں کے کسی وعدے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ بھارت اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کےلئے وقت حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے ہمیشہ پیش رفت ہوئی ہے مگر بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کے طرز عمل کو کمزوری سمجھ کر نئی شرائط سامنے رکھ دیتاہے کیونکہ بھارتی حکومت مسائل کو پر امن طور پر حل کرنے میں بھی مخلص نہیں۔
15 اگست 1947ءکو بھارت برطانوی اقتدار سے آزاد ہوا تھا۔ یہ خیال کیا جاتا تھا کہ چونکہ ہندوستان صدیوں تک خود غلام رہا ہے لہذا اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ محکوم قوموں کی نفسیات کیا ہوتی ہے اور وہ کس قدر احساس محرومی کا شکار ہوتی ہیں۔ ایسے میں شائد بھارت دنیا بھر میں امن و آتشی کے فروغ کےلئے کام کر سکے۔ مگر آزادا ہوتے ہی بھارتی حکمرانوں نے انسانیت دوست حلقوں کی امیدوں پر پانی پھیر دیا اور جوناگڑھ، منادو اور حیدرآباد دکن پر اپنے غیر قانونی تسلط کے فوراً بعد مقبوضہ کشمیر پر فوج کشی کر کے اپنی نام نہاد جمہوریت اور امن پسندی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ دوسری طرف بھارت کی آئین ساز اسمبلی نے 26 نومبر 1949ءکو آئین کی منظور دی جس کے تحت 1952ءمیں پہلی بھارتی لوک سبھا کا چنا¶ ہوا۔ اس کے بعد سے لیکراب تک لوک سبھا کے چنا¶ مخصوص وقفوں سے ہوتے رہے اور بھارت یہ دعویٰ کرتا رہا کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے۔ مگر اس نام نہاد جموری ملک نے کشمیر کے ایک کروڑ سے زائد عوام کو اپنا غلام بنا رکھا ہے اور نہتے کشمیریوں کے خلاف ریاستی دہشت گردی کا ایسا مکروہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کی بھینٹ اب تک ایک لاکھ سے زائد کشمیری چڑھ چکے ہیں۔
تمام انصاف پسند کشمیری اور عالمی برادری ان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ اس موقع پر بھارت کو مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ کشمیریوں کے ساتھ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے اپنے کئے وعدے یاد دلائے اور اسے کشمیر میں برسوں سے جاری فوجی ایکشن بند کرنے اور وہاں کے عوام کو حق خود ارادیت دینے پر مجبور کرے۔یہ مسئلہ اس وقت دنیا کے چند بڑے بڑے سلگتے مسائل میں سے اےک ہے جسکی وجہ سے دو بڑی اہم اور متحارب ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔
امریکی صدر بخوبی جانتے ہیں کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان کنٹرول لائن پر محاذ گرم ہے۔ یہ اےک لحاظ سے میدان جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ جہاں آئے روز گولہ باری اور ہلاکتیں ہو رہی ہیں اب صدر اوبامہ کے دورہ امریکہ کے موقع پر بھارت کی بھرپور کوشش ہے کہ وہ سرحدوں پر ایسی صورتحال پیدا کرے جو خطرناک حالت جنگ کے قریب لے جائے اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے امریکی اور عالمی برادری کی تشویش کو پس پشت ڈال کر وہاں اپنی ریاستی دہشت گردی پر پردہ ڈالے رکھے۔
بھارت اگر جمہوری ملک ہونے کا دعویدارہے تو پھر کشمیریوں کے جمہوری حقوق کا بھی احترام کرے۔ ان کی آواز کو دبانے کی کوشش نہ کرے بلکہ کشمیریوں کی امنگوں کو سمجھے اور ان کی تکمیل کےلئے جمہوری رویہ اختیار کرے۔ بھارت جمہوریت کا دعویدار ہے تو پھر کشمیریوں کے جمہوری حقوق کیوں سلب کیے بیٹھا ہے؟

پاکستان ایک ایٹمی طاقت

یوں تو ازل سے حق و باطل کا معرکہ جاری ہے لیکن رسالت مآب صل اللہ علیہ وسلم کی آمد کے بعد باطل زیادہ متحرک ہوا ہے باطل قوتوں نے حق کا راستہ روکنے کے لئے ہر حربہ آزمایا لیکن حق اپنے راستے پہ چلتا رہا اور یہ سلسلہ ہمیشہ چلتا رہے گا حق و باطل کا معرکے میں مال و جان کی قربانیاں معمول ہے اس کی معراج خانوادہ نبوت کے چراغ عالمتاب حضرت امام حسین ؓ کا قرآن پڑھتا سر مبارک نیزے کی انی پر پرو دیا جانا تھا جن نفوس طاہرہ کو دیکھ کر سورج بھی حیا کرتا سر کی چادروں کے بغیر سر بازار لے جایا اور دربار یزید لعین میں پیش کیا گیا مسلمانوں کی تاریخ ایسے سانحات سے بھری پڑی ہے جہاں غیروں سے زیادہ اپنوں کی کاگزاریوں کا عمل دخل تھامثلا تیمور اگر سلطان یلدرم کی پیچھے سے حملہ کرکے پیٹھ میں چھرا نہ گھونپتا تو یورپ کی تاریخ مختلف ہوتی اسپین میں اسلامی حکومت کا خاتمہ کی وجہ بھی اپنوں ہی کی کارفرمائیاں تھیں جب بھی مسلمان آپس میں الجھے کوئی تیسری باطل طاقت فائدہ اٹھا گئی سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والی ملعون قوم یہودی تھے اس سازشی اور حجتی قوم نے نافرمانیاں کرکے اللہ کو ناراض کیا اور مدینہ منورہ میں ان ملعونوں نے فتنوں کی انتہا کر دی اسی لئے نبی رحمت صل اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو پورے جزیرہ نما عرب سے نکال دیا اس کے بعد ریاست مدینہ مکرمہ میں سکون ہوا یہودی بنیادی طور پر ہے ہی فتنہ پرور قوم آج دنیا میں جتنے بھی فتنے سر اٹھا رہے ہیں کہیں نہ کہیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر یہودی ہاتھ ہی کار فرما ہوگا مادی دولت کی چونکہ ان کے ہاں ہمیشہ فراوانی رہی ہے اسی دولت سے مزید دولت بٹورنے کے لئے یہودی سب کچھ کر سکتے ہیں بھروسہ اور خاص طور کسی اور پر یہودی اس کو جرم سمجھتے ہیں بچوں کی تربیت کے دوران اپنی چھوٹے سے بچے کو میز پر کھڑا کرکے اس کے سامنے اپنے بازو پھیلا کر کہتے ہیں آجاﺅ جیسے ہی بچہ ماں باپ طرف لپکتا ہے یہ ہاتھ پیچھے ہٹا لیتے ہیں اور بچہ زمین پر گر جاتا ہے اور چوٹ لگتی تو بچے کہتے ہیں کہ ہم تمھارے والدین ہیں ہم پر تم نے بھروسہ کیا اور ہم نے تم کو دھوکہ دیا اور تم نے گر کر چوٹ کھا لی تو کیا کسی اور پر بھروسہ کر سکتے ہو مقصد بچے کے دماغ میں یہ بات راسخ کرنا مقصود ہوتا ہے کہ بھروسہ کسی پر نہیں کرنا تو ایسی فریبی قوم تو اپنے مفاد کے لئے کس حد تک جا سکتی ہے اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ان کا اپنا ایک مخصوص ایجنڈہ ہے انہوں نی 1717 عیسوی میں فری میسن نام کی تنظیم کی بنیاد رکھی جو خفیہ ہوتی ہے شروع میں عام لوگوں کو مخلوط پارٹیوں میں بلایا جاتا ہے اس اجتماع میں سے اپنے ڈھب کے لوگ چھانٹے جاتے ہیں ان کی آہستہ آہستہ بریں واشنگ کی جاتی ہے اپنے وقت کے نامور لوگ اس خفیہ تنظیم کے ممبر رہے ہیں ان کے ہاں باقائدہ شیطان کی پرستش کی جاتی ہے یہودی چونکہ کتابوں کے محرف تھے انہوں نے تورات میں تحریف کر کے مشہور کردیا کہ حضرت سلیمان علیہ سلام جادوگر ہیں اس لئے فری میسن اپنے ممبران کو جادو بھی سکھاتے ہیں اور شیطان کی پوجا کرائی جاتی ہے اور شیطان سے اظہار ہمدردی کیا جاتا ہے کہ کیا ایسی بڑی بات ہو گئی تھی کہ آدم کو ابلیس نے سجدہ نہیں کیا معاذاللہ معاذاللہ اور اللہ رب العزت پر بہتان تراشی بھی ان کی تعلیمات کا حصہ ہے حکومت پاکستان نے 70 کی دہائی کے شروع میں ملک میں پھیلے ہوئے فری میسن لاجز ختم کر دئے تھے اب بھی یہ لوگ موجود ہیں لیکن انکی سرگرمیاں سب کچھ خفیہ ہوتا ہے ان یہودیوں کا ہیکل سلیمانی کی دوبارہ تعمیر کا خواب 2000 سال پرانا ہے جب بادشاہ desious یا دقیانوس ان کے ہیکل کو گرا کر چلا گیا ان کے عقیدے کے مطابق جب تک ہیکل سلیمانی دوبارہ نہیں بنے گا ان کا بادشاہ مسایا نہیں آئے گا (ہم اس سلسلے کی کچھ معلومات دجال کے باب میں پچھلے کالموں میں عرض کر چکے ہیں) مال و دولت کی فراوانی اور ابلیسی ذہنیت کے ساتھ دوہزار سال سے اپنا ایجنڈہ بڑھا رہے ہیں یہودیوں کے بزرگوں نے 1901 عیسوی میں پروٹول آف ایلڈرس کے نام کچھ بنیادی اصول طے کئے تھے جس میں اسرائیل کا قیام وہاں اپنا فوجی تسلط قائم کرنا اور فوجی طاقت بڑھانا اب سلطنت عثمانیہ کو یہ اپنے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے جو ماضی قریب میں مسلمانوں ایک بہت بڑی خلافت تھی جس کی سرحدیں پورا مشرق وسطی ترکی سے یورپ تک پھیلی ہوئی تھیں اور ترکی میں دارالخلافہ تھا جو اس وقت بہت بڑی فوجی طاقت تھی اب سلطنت عثمانیہ کو ختم کرنا ان کی پہلی ترجیح ٹھہری اس کے لئے یہودیوں نے 28جون 1914 کو سرائیوو میں پیس برگ تخت کے وارث شہزادہ فرانسس اور اس کی بیوی صوفیہ کو قتل کروادیا اور کرائے کا قاتل ایک روسی شہری تھا اس طرح کہ بادشاہ زار کے روس پر قتل کا شبہ ہوا جو جرمنی کے ساتھ معاہدے میں تھا اسی طرح اتحادی برطانیہ فرانس سربیا اور دیگر اتحادیوں کے مابین ایک معاہدہ تھا کی کسی ایک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوگا اب توپوں کا رخ روس اور جرمنی آسٹریا اور ہنگری کی جانب ہو گیا سلطنت عثمانیہ اس معاملے ذرا فاصلے پر تھی جاری ہے۔

مردہ نمازندوں کی دوڑ

انسان کیا سوچتا کیا کرتا اور کیا چاہتا ہے ۔ جس کی عکاسی اس کے افعال سے کنفرم ہوتی ہے کہ وہ کیا سوچتا اور کیا کرتا اور کیا چاہتا ہے ۔ ہمارے قائدین کی سوچ سے یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ وہ اپنا اور اپنوں کا من ہی راضی رکھنا چاہتے یہی کچھ کرتے اور یہی کچھ سوچتے ہیں ۔
ہمارے اکابر راہنما کیسے قوم کو ایک نقطے پر جمع کر سکتے ہیں جبکہ ہر لیڈر کا اپنا منشور ہے ۔ انہیں قرار داد مقاصد سے کوئی غرض نہیں کہ وہ کیا تھی اور پاکستان کس بنیاد پر اور کیوں بنایا گیا تھا ۔
حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مفاد پرست مذہبی راہنماﺅں نے اللہ کے گھر کو بھی ایک نہیں رہنے دیا ۔ اب سنی دیوبندی کی مسجد علیحدہ ہے ۔ میں دیکھتا ہوں کہ یہ دونوںعقیدوں کے حاملین اب کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنے مسلک کے امام کے پیچھے نماز پڑھیں ۔ اب نماز اللہ کیلئے نہیں مسلک کیلئے پڑھی جاتی ہے ۔ ابھی ابتداءہے اور انتہا یہ کہاں تک لے جائیں گے اللہ نہ کرے میرا گمان سچ ہو ۔ مسجد اللہ کا گھر ہے اس میں ہر خاص و عام کو ایک جیسا حق حاصل ہے ۔ مسجد میں اگر کوئی فقیر آ کر صدا بلند کر دے تو ہمارے لوگ یوں اس پر بولتے ہیں جیسے وہ ہی رازق ہیں ۔ اللہ کے بندو کیا تم نے کبھی سوچا کہ کہ تم بھی اللہ کے ہاں فقیر ہی ہو اور اگر اس کا کوئی بندہ تم تک حاجت رسائی کیلئے اپنی خودی اور انا کو مار کر آ تا ہے تو تم اس کی تکذیب کرتے ہو ۔ اگر تم اللہ کے در پر بیٹھ کر اس کے بندہ کو یوں دھتکارو گے تو کیا تم ڈر نہیں لگتا کہ کہیں تم اس مختار کل کے ہاں سے نہ دھتکار دیئے جاﺅ۔ عورت کو تو ہمارے معاشرہ میں نجس کی حیثت سے دیکھا جا تا ہے ۔ خواتین کی تحریم کا عنصر شاید ہمارے ہاں رہا ہی نہیں ۔ بیوی پاﺅں کی جوتی اور بیٹی کو ایسے رکھا جاتا ہے جیسے پالتو جانور جب مناسب مول لگا اگے کر دیں گے ۔ بہو غلام سمجھی جاتی ہے ۔ ان کے شریعت اور انسانیت پر لیکچر سنو تو انسان کے آنسو نکل آتے ہیں ۔
مذہبی طبقہ جو کہ کسی بھی معاشرہ کی بنیاد ہوتا جب وہی اس کی یکجہتی کو پارا پارا کرنے میں ہراول کا کردار ادا کرنا شروع کر دے تو اس معاشرہ کو کون یکجا کر سکتا ہے ۔ سیاسی قائدین جن کی اہم ترین ذمہ داری معاشرہ کی معاشی اور معاشرتی ضروریات کی دہلیز تک آسان فراہمی ہے ۔ ہمارے قائدین اس سیاسی کردار کی بجائے شخصیت پرستی کے پیامبر ہو چکے ہیں ۔ جو گذر گئے وہ تو اپنا کردار ادا کرگئے اب تو تمھاری باری ہے تم کیا صرف پدرم چہ سلطان بود ہی کو اپنا اثاثہ بنائے رکھو گے ۔ ہر ذی وقار کا فرزند اگر بابر غوری صلاح الدین ایوبی ہوتا تو آج ملت اسلامیہ اس طرح رسوا نہ ہو رہی ہوتی ۔ ہم نے وراثت میں شخصیت پرستی میں اس بری طرح گھر چکے ہیں کہ اب سیاست اور مذہب میں بھی کردار کی اہمیت نہیں رہی ۔ صوفیاءاکرام کی تصانیف میں لکھا ہے کہ ولایت کبھی بھی وراثت میں نہیں ملتی بلکہ یہ ہمیشہ باہر کی طرف اور اگے کی طرف منتقل کی جاتی ہے ۔ پھر بھی ہمارے ہاں پیر پرستی اور شخصیت پرستی شرک کی حد تک پہنچی ہوئی ہے ۔
سیاسی قائدین معاشرتی اسلوب سے انحراف کر کے اپنی شخصیت کے سحر سے معاشرہ میں مقام بنانے پر زور دئیے ہوئے ہیں۔ جتنی سرمایہ کاری وہ اپنی شخصیت کو ابھارنے پر کرتے ہیں اگر یہی سرمایہ وہ معاشرہ کی فلاح و بہبود کے کسی منصوبہ پر کرتے تو یقینا اس وقت پارلمینٹ کے اراکین کے تعداد کے برابر چھوٹے چھوٹے کتنے منصوبہ جات معاشرہ میں ان کے نام کو امر کررہے ہوتے ۔ چند پارلیمنٹیرین اگر مل کر کسی دیہی علاقہ میں ہسپتال سکول توانائی اور صنعت قائم کرنے پر توجہ دیتے تو آج بلوچستان اور تھر کے مظلوم لوگ یوں زندگی کیلئے نہ ترس رہے ہوتے ۔ سیاسی گھرانوں نے اقتدار اختیار پر اپنی گرفت مضبوط رکھنے کیلئے صرف قومی خزانہ کو ہی مرکز نگاہ بنا رکھا ہے ۔ عوام کے خون پسینے سے نچوڑا ہوا ٹیکسوں کی مد میں پیسہ انہی پر کسی بھی جگہ لگا کر اس پر اپنے نام کی تختی لگا نا عوام کی جوتی عوام کے سر پر مارنے کے عین مترادف ہے ۔ انہی ٹیکسوں کی رقوم سے سیاسی اکابرین پروٹوکول اور مراعات بھی لیتے ہیں پھر بھی قوم کے حاکم کہلاتے ہیں ۔ اگر سیاستدان قوم کے نمائیندے کہلاتے ہیں تو پھر وہ قومی خزانے سے جو تنخواہ لیتے ہیں اس کی تعریف کی رو سے تو وہ نمائیندے نہیں بلکہ نوکر ہیں ۔ قوم کے تنخواہ دار ملازم کی کیا اوقات کہ وہ قوم کی نمائیندگی کرے ۔ نمائیندگی حضرت قائد اعظم نے کی تھی اور وہ قوم کے نمائیندہ کہلانے کے مستحق بھی ہیں ۔اپنی جیب سے خرچ کیا اور قوم کی نمائیندگی میں اپنا خون جلاکر قوم کو منزل سے روشناس کرایا ۔
سیاسی پارٹیاںاربوں روپیہ الیکشن میں صرف کر دیتی ہیں ۔ آج تک کسی سیاسی جماعت نے پارٹی فنڈ سے کوئی بھی قومی ترقی کا منصوبہ بناکر قومی ترقی میں اپنا کردار نبھا کر نہیں دکھایا ۔ کروڑوں روپے پارٹی کی یوم تاسیس اور سیاسی اکابرین کی برتھ ڈے پارٹیوں اور ان کے یوم وفات پر لگا کر قوم کی کیا خدمت کی جا سکتی ہے ۔ یہی رقوم ملک میں صنعت و حرفت اور توانائی کے منصوبہ جات پر صرف کر کے قوم کو اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے میں مدد دینا کیا سیاسی اور معاشرتی ترقی کا زینہ نہیں ۔ کوئی زندہ کو مردہ تو کوئی مردہ کو زندہ کرنے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے ۔
اس سیاسی اسلوب سے کس طرح قوم کو یکجا اور ترقی کی منازل طے کرائی جا سکتی ہیں ۔ بھٹوزندہ ہے تو ایوب بھی تو اسی طرح زندہ ہے ۔ اگر یحیٰ مردہ ہے تو اس کے تقلید کار تو اب بھی ایوان حکمرانی کی غلام گردشوں میں ابھی نظر آ رہے ہیں ۔ ہمارے لیے اہم یہ ہے کہ جس نے جو کردار ادا کرکے تاریخ میں اپنا نام لکھوایا اس کی تقلید کر کے اس کے کام کو اگے بڑھائیں ۔ کشمیر ایشو کو اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے متروک مسلہ قرار دے کر ہٹانے کی کوشش عروج بلکہ آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے لیکن بھٹو کے ورثا کو اس کی پرواہ نہیں ۔ ایوب جس نے 65کی جنگ لڑی اس کے وارث امن کی آشا کی پناہ میں مراعات کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔ پھر کیسے کہتے ہیں کہ بھٹو زندہ اور ایوب کی یاد ہمارے دلوں میں آج بھی قائم ہے ۔ بلوچستان سندھ سرحد میں عوام کی زندگیاں اجیرن ہیں ۔ بلوچ سیاسی اکابر محرومیوں کا ذمہ دار ہے لیکن سیاسی پلیٹ فارم پر اس کے وارث ہی اس کے جرم کے سزا عام بلوچ کو دے رہے ہیں ۔ پھر بھی وہ معتبر قرار پاتے ہیں ۔ سندھ میں ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کی حکومت دہائیوں سے ہے لیکن محرومیوں کا سبب کوئی اور ہے ۔ سرحد میں سرخے اور سرخاب والوں کی حویلیاں آج بھی سیاست کا محور و مرکز ہیں لیکن محرومی کا ان سے کوئی تذکرہ نہیں۔ پنجاب ہو گلکت بلتستان یا پھر کشمیر ایک مخصوص لابی ہی اس پر دہائیوں سے اختیار و اقتدار کی جنگ میں عوام کو محروم رکھ کر اپنی مظلومیت اور بیچارگی کی سند عوام سے جمہوریت کے نام پر لیتی رہتی ہے ۔ انصاف مساوات انسانی حقوق کے نام پر سیاست شروع کر کے اس کی بنیادوں میں ہی بے انصافی کو شامل کر کے جمہوریت کی تکذیب سے کبھی بھی معاشرہ کو منزل تک نہیں لے جا یا جا سکتا ۔ یہ قوم اپنے ملک سے محبت کرتی کیونکہ دھرتی تو ماں ہے اور ماں سے محبت اولاد کا سرمایہ ہے ۔کیا اکابر اس دھرتی کے بیٹے نہیں جو اپنے چھوٹے بھائیوں کے ساتھ بھی دغا کرنے سے نہیں چوکتے ۔

سانحہ چارسدہ….بھارت افغا ن گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے . .

بدھ 20جنوری 2016ءکی صبح لگ بھگ9بجکر 15منٹ پرسانحہ آرمی پبلک اسکول کے ٹھیک ایک سال ایک ماہ اور چاردن بعد ایک بارپھر مُلک دُشمن عناصراور معصوم اِنسانوں کے خون کے پیاسے اِنسان نما سفاک دریندوں نے خیبرپختونخواہ کواپنی سفاکانہ کارروائی کے لئے چنااِس مرتبہ بھی دہشت گردوں نے اپنی پیاس نہتے طالبعلوں کے پاک خون سے بجھائی ، اِس بار فرق صرف یہ تھا کہ دہشت گردوں نے اسکول کے بچوں کو اپنی سفاکانہ کارروائی کا نشانہ بنانے کے بجائے خیبرپختونخواہ کے ضلع چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی پر حملہ کرکے معصوم اور نہتے18طلبہ ایک پروفیسر اور لیب اسسٹنٹ کو شہیدجبکہ 11افراد کوزخمی کرکے اِن نہتوں کے خون سے ہولی کھیلی، زخمیوں میں سے پانچ کی حالت تشویشناک بتائی جاتی تھی، اِس دفع بھی 16دسمبر2014 آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے طرز کا حملہ باچاخان یونیورسٹی پر کیا گیااور اَب تک کی صاف وشفاف تحقیقات اور شواہد سے بس ایک یہی لائین سامنے آرہی ہے کہ اِس حملے کے ڈانڈے بھی حیرت انگیز طور پر سرحد پارافغانستان سے جاملے ہیں۔
جبکہ پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم باجوہ نے سانحہ چارسدہ کے بارے میں میڈیاکو بریفنگ دیتے ہوئے کہاکہ باچاخان یونیورسٹی حملے میں20قیمتی لوگ شہیدہوئے جن میں 18طلبااور 2اسٹاف ممبرتھے نیورسٹی پر چاردہشت گردوں نے حملہ کیا اور یونیورسٹی میں موجود سیکورٹی اسٹاف نے مزاحمت کی فوج پہنچی تو چاروں دہشت گردزندہ تھے دہشت گردوں کو سیڑھیوں اور چھت پر ماراگیادہشت گردوں کے پاس گرنینڈبھی تھے اُنہوں نے کہاکہ45 منٹ کے اندرتمام فورسز ایکٹوتھیں اگر حملہ آوروں کو روکانہ جاتاتو زیادہ نقصان ہوسکتاتھا اِن کا کہناتھا دہشت گردوں کے قبضے سے دوموبائل فونزملے ہیں جن کا تجزیہ کیاگیا اور زیادہ ترموبائل کا ڈیٹا اکٹھا کیا جا چکا ہے، نادراملزمان کا مزید ڈیٹا چیک کررہی ہیں دہشت گردوں کے پاس افغانستان کی سمز تھیں اور ایک دہشت گرد کے مرنے کے بعدبھی اِ س کے فون پر افغان سم سے کالیں آرہی تھیں، دہشت گردوں سے 2موبائل برآمدہوئے جن نمبروں سے کالیں ہوئیں اِن کا زیادہ سے زیادہ ڈیٹا حاصل کیا جاچکاہے، عاصم باجو ہ کا مزید یہ کہناتھاکہ ” آپریشن کے دوران دہشگردوں کے آپس میں رابطہ ہوئے تھے“ اور اِسی کے ساتھ ہی اُن کا یہ بھی کہناتھاکہ”جب تک اِن کے سہولت کار اور ہمدردموجود ہیں دہشت گرد کہیں بھی حملہ کرسکتے ہیں،کیونکہ پاک افغان بارڈربہت لمباہے جِسے سیل نہیں کیاجاسکتاہے“۔
آج اِس سے تو انکار نہیں کہ ہماری سول اورعسکری قیادت مُلک سے دہشت گردوں اور دیگر جرائم میں ملوث مُلک دُشمن عناصر کا قلع قمع کرنے کے لئے ایک پیچ پر ہے اور دونوں کی یہی کو شش ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہوسکے مُلک میں جاری آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردوں اور مُلک دُشمن عناصر کا خاتمہ کرکے مُلک کو دہشت گردوں اور دہشت گردی سے پاک کردیاجائے،یقیناجس کے لئے ہماری سول اور عسکری قیادت متحرک ہے اورآج یہی وجہ ہے کہ جِسے ہی صاف وشفاف تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی کہ چارسدہ یونیورسٹی پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کا موبائل کے زریعے رابطہ افغانستان سے تھاتو آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے افغان قیادت سے فون پر رابطہ کرکے اپنے تحفظات کا اظہارکیا اور اِن سے دہشت گردوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے کو کہا۔
جبکہ آج اِس میں شک نہیں کہ سانحہ چارسدہ باچاخان یونیورسٹی پر ہونے والادہشت گردوں کا حملہ بھی ایک قومی سانحہ ہے، جس نے ایک بار پھر ساری پاکستانی قوم کو سوگوا رکردیاہے، جس کی صدر، وزیراعظم ،آرمی چیف اور پاکستانی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا،مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ںسمیت عوام اور زندگی کے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے علاوہ عالمی سُپر طاقتوں اور ہمارے دوست ممالک کے سربراہان نے بھی سانحہ چارسدہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور دہشت گردوں اور اِن کے سہولت کاروں کو بھی جلدازجلد کڑی سزادینے اوراِنہیں کیفرِ کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا ہے ۔
جبکہ ایسے میں ایک خاص سوچ رکھنے والے طبقے اور مخصوص سیاسی جماعتوں کے رہنماو¿ں اور کارکنان سمیت بہت سے اینکرپرسنز اور تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ کہنا کیا درست ہوگا..؟ کہ خفیہ اداروں اور فورسزکی جانب سے کئی بار جاری ہونے والی پیشگی اطلاع اور ہائی الرٹ کی وارننگ کے باجودبھی کے پی کے کے ضلع سانحہ چارسدہ باچاخان یونیورسٹی پر دہشت گردوں کا ہوجانے والا حملہ وفاقی اور خیبرپختونخواہ کی حکومتوں اورمقامی انتظامیہ کی نااہلی کا نتیجہ ہے…؟ اَب کیا وفاقی اور کے پی کے کی حکومتیں اور چارسدہ کی ضلعی انتظامیہ اِس کاکوئی تسلی بخش جواب دے پائیں گیں یا پھر اِدھر اُدھر بغلیں جھانک کر کنی کٹاکر دونوں اپنی اپنی ذمہ داریاں ایک دوسرے پر ڈال کر بھاگ نکلیں گیں؟؟ اور سانحہ چارسدہ کے شہداءکے لواحقین اور ورثاءاپنے پیاروں کے قاتلوں کو سزائیں دلوانے کے لئے دردرکی خاک چھانتے پھیریں گے اور بالآخر تھک ہارکر خاموش بیٹھ جائیںگے اور حکومتیں اپنے اپنے دوسرے اُمور میں لگ جائیں گیں۔بہرحال، آج جہاں اِس سوال نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور مقامی انتظامیہ کے عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کئے جانے والے انتظامات اور اقدامات پر سیکڑوں سوالیہ نشان لگادیئے ہیں تو کیا وہیں حکومتی اورعسکری قیادت کی جانب سے آپریشن ضربِ عضب کی کامیابیوں کے دعوو¿ںپر بھی ایک ہلکا پھلکا یہ سوال ضرورپیداکردیاہے کہ اگرآپریشن ضربِ عضب بغیر کسی مصلحت پسندی اور سیاسی دباو¿ اور تنقیدکے درست سمت میں جارہاہے تو پھر المناک سانحہ اے پی ایس کے ٹھیک ایک سال ایک ماہ اور چاردن بعد ہی افغانستان سے آئے سفاک دہشت گردوں نے سانحہ باچاخان یونیورسٹی کے نہتے طالبعلموں اور اساتذہ اور اسٹاف کو اپنی سفاکیت کا نشانہ کیسے اورکیوں بنایا..؟ یہ اور ایسے اور بہت سے سوالات ہیں جو مُلک کا ایک خاص سوچ رکھنے والا طبقہ عوام الناس میں پیداکررہاہے اور سول اور عسکری قیادت کی مشترکہ کاوشوں سے مُلک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے جاری آپریشن ضرب عضب کی کامیابیوں کو تنقیدکا نشانہ بناکر اِسے مشکوک بنانے کے لئے راہ ہموار کرنے میں تیزی سے سرگرمِ عمل دِکھائی دے رہاہے۔
جب بدھ 20جنوری کو سرحدپار افغانستان سے تعلق رکھنے والے دہشت گرد افغانستان سے موبائل فون پر ہدایات لے کر باچاخان یونیورسٹی کواپنی سفاکیت کا نشانہ بنارہے تھے اُس روزباچاخان کی برسی کے سلسلے میںمشاعرے کاانعقادکیا گیاتھا بہرکیف، باچاخان یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر فضل الرحیم کا کیا یہ کہنا بھی درست ہے کہ یونیورسٹی کو کبھی بھی دہشت گر د حملے کی پیشگی اطلاع نہیں ملی تھی “وائس چانسلر ڈاکٹرفضل الرحیم کا یہ جملہ بھی اپنے اندر خود ایک بڑی بحث کی راہیں کھول سکتاہے جیسا کہ اُن کے مطابق اُس وقت باچاخان یونیورسٹی میں 3ہزار طلباءاور600 مہمان موجودتھے ،اِن خیالات کا اظہاراُنہوں نے میڈیااور دریں اثناءایک پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ یونیورسٹی میں دولڑکوں اور ایک لڑکیوں کا ہاسٹل ہے ،جبکہ اُن کا یہ بھی کہناتھاکہ ”یونیورسٹی کو کبھی بھی کسی دہشت گرد حملے کی پیشگی اطلاع نہیں ملی تھی یونیورسٹی میں سیکورٹی کے مکمل انتظامات کئے گئے تھے“۔جبکہ ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام کے مطابق اطلاع یہ ہے کہ یونیورسٹی کو تین روز قبل ہی یہ اطلاع مل چکی تھی کہ دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ ہے اَب کیا اِس کا جواب خبیرپختونخواہ کی حکومت دے گی یایونیورسٹی کی انتظامیہ کہ کیاواقعی یونیورسٹی کو کبھی بھی کسی دہشت گرد حملے کی پیشگی اطلاع نہیں ملی تھی ۔
(باقی:سامنے والے صفحہ پر)
آج بھارت لاکھ پاکستان کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھائے مگر مجھے اِس پر کسی صورت یقین نہیںہوگاکہ وہ ہم سے بے لوث دوستی کا خواہاں ہے اِس کی دوستی کے پیچھے بھی دھوکہ اور مکاری کا ہی عنصر غالب رہے گا اَب اِس پر کوئی کچھ بھی کہے مگر میراقوی خیال یہ ہے کہ آپ بھی اِس سے ضرور متفق ہوں گے کہ گزشتہ سال 16دسمبر2014کے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعدایک بارپھر جس طرح بدھ 20جنوری 2016کو دہشت گردوں نے باچاخان یونیورسٹی کو اپنی ناپاک اور گھناو¿نی کارروائی کا نشانہ بناکرساری پاکستانی قوم کو پھر غم و غصے میں ڈبودیا اِس سانحہ کے پسِ پردہ بھی بھارتی سازش کارفرماہے اوراَب ہمیں ایسے میںیہاں یہ نقطہ بھی ضرورذہن نشین رکھناہوگاکہ جب تک بھارت کی افغانستان میں مداخلت جاری رہے گی اور بھارت اور افغانستان میں گٹھ جوڑ رہے گااُس وقت تک بھارت لالچی افغان شہریوں کو ڈالرز کے عوض خریدتارہے گااور زرخریدافغان دہشت گردوں کی مددسے پاکستان میں اس طرح کی کارروائیاں کرتارہے گا، کیونکہ آج نہ بھارت پاکستان کے امن اور ترقی کے خواب کو حقیقی رنگ میں پوراہوتادیکھناچاہتاہے اور نہ ہی افغانستان یہ چاہتاہے کہ پاکستان خطے میں ترقی کرے کیونکہ یہ دونوں وہی ممالک میں جنہوں نے کبھی بھی پاکستان کے وجود کو اول روز سے ہی تسلیم نہیں کیاہے تو اَب یہ کیوں چاہیں گے…؟؟ کہ پاکستان میں امن قائم ہواور پاکستان معاشی ، سیاسی اور اقتصادی لحاظ سے ترقی اور خوشحالی کی راہیں طے کرتاہوااُوجِ ثُریاکی بلندیوں سے بھی اُونچاہوجائے۔
یہاں میرا اپنی سول اور عسکری قیادت سے یہ بھی کہنا ہے کہ اَب اگر ہماری سرزمینِ مقدس پاکستان میں افغانستان سے آئے دہشت گردوں نے کوئی ایسی المناک اور ناپاک کارروائی کی تو پھر ہماری سول اور عسکری قیادت ایک لمحہ اور ایک سانس بھی سوچے بغیر افغانستان میں گھس کر دہشت گردوں کی کمین گاہوں پر حملہ کرے اور اپنی سرزمین میں دہشت گردی کرنے والے بھارتی شیطان کے چیلوںاور دہشت گردوں کو واصلِ جہنم کردے کیونکہ اَب مُلک کو دہشت گردی سے روکنے کا یہ ایک ہی طریقہ باقی رہ گیاہے جسے کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ ہم بھارتی زرخریدافغان دہشت گردوں کو لگام دے سکیں،اوراَب ایسے میں ہماری سول اور عسکری قیادت دوستی کا ہاتھ بڑھانے والی بھارتی عیاراور مکار چائے بیچنے والے بنیوں اور بھارتی قیادت کے رویوں پر بھی کڑی نگاہ رکھے کیونکہ” چورچوری سے جاتاہے ایراپھیری سے نہیںجاتاہے“۔

محمداعظم عظیم اعظم azamazimazam@gmail.com

اس ملک سے بھاگنے کو دل چاہتا ہے

اگر ہم مسلمانوں اور پاکستان کی حالت زار پر غور کریں تو 2ارب مسلمان دنیا کے تمام خطوں میں ذلالت اور رسوائی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔اور انکی رسوائی ، تباہی اور بر با دی میں مسلم اُمہ کی نا اہل اور نالائق قیادت اور حکمران شامل ہیں ۔اگر ہم پاکستان کی سماجی اقتصادی اشاروں کو دیکھیں تو وہ انتہائی نا گفتہ بہ ہیں ۔ عالمی اقتصادی فورم2015 کی رپو رٹ کے مطابق اس وقت پاکستان انسانی وسائل کی فہرست میں 124 ممالک کی فہرست میں 113نمبر پر ہے۔ جبکہ اسکے بر عکس جنوبی ایشیاءکے دوسرے ممالک نیپال (106 ویں نمبر) انڈیا (100 ویں نمبر) بنگلہ دیش (99 نمبر) ،بوٹان ( 87 نمبر) اور سری لنکا 60 ویں نمبر پر شامل ہے۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ دنیا کو چھوڑیں جنوبی ایشاءکی 7 ممالک کی فہرست میں پاکستان ہر لحا ظ سے سب سے نیچے ہے۔ کسی ملک کے بننے اور اسکو ترقی دینے میں میں لیڈران اور حکمرانوں کاانتہائی اہم کر دار ہوتا ہے ۔ وہ ملک اور قوم کے لئے ایسی پالیسیاں اور قانون سازی کرتے ہیں جس سے ملک دن دوگنی اور رات چگنی ترقی کرتا ہے۔ مگر پاکستان بننے کے 68 سال گزرنے کے با وجود بھی پاکستان کو کوئی ایسا لیڈر ، قیادت اور حکمران نہیں ملا جو پاکستان کو معاشی دھدل اور دوسرے مسائل سے نکال سکیں اور اسکو مزید دھدل میں نہ گرائیں۔ مگر یہ انتہائی افسوس اور دکھ کی بات ہے کہ ہمارے ہر دور کے سیاست دان ، لیڈر اور حکمران طبقہ، 19 کروڑ پاکستانیوں کے سروں پر آئی ایم ایف، عالمی بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک اور دوسرے بین الاقوامی مالیاتی ایجنسیوں سے پیسے لیتے ہیں اور وہ پاکستان اور پاکستانیوں پر خرچنے کے بجائے اُن لیڈروںاور حکمرانوں کے شاہ خرچیوں پر خرچ ہوتے اور یا یہ پیسے انکے باہر کے اکاﺅنٹس میں جمع ہوتے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اس وقت 25000ارب روپے قرض دار ہے۔ پاکستان نے 1963میں مغربی جر منی کو ترقیاتی کاموں کے لئے 20 سال کی مدت کے لئے 12 کروڑ قرضہ دیا تھا ۔ جرمنی کے علاوہ پاکستان نے ما ضی میں فرانس بیلجیم، پولینڈ، ملائشیائ، انڈونیشیاءاور اسکے علاوہ دیگر اور ممالک کو انکے ترقیاتی کا موں کے لئے قرضہ دیا تھا۔اس دوران جنوبی کو ریا نے پاکستان کی تیزی سے کرتی ہوئی ترقی سے استفادہ کرتے ہوئے پاکستان کا 5 سالہ منصوبہ اپنے ملک لے جاکر اسکو عملی جامہ پہنایا اور اسوقت جنوبی کو ریا ترقی کے سفر میں پاکستان سے سینکڑوں کو س آگے نکل چکا ہے۔اگر ہم پاکستان کی اقتصادی حالت کو دیکھیں ۔عالمی بینک کی رپو رٹ کے مطابق سال 2013ءمیں پاکستان کی فی کس آمدنی 1275 ڈالر،سری لنکا کی 4500 ڈالر، بھارت کی 1600ڈالر اور چین کی فی کس آمدنی 6500ڈالر ہے اور فی کس آمدنی کے حساب سے 2013ءمیں پاکستان ان ملکوں کی فہرست میںسب سے پیچھے ہے۔ ایک ماہر اقتصادیات کے مطابق اس وقت پاکستانی سیا ست دانوں، سول اور فوجی بیورو کریٹس کے تقریبا3500ارب ڈالر دنیا کے مختلف ممالک کے بینکوںمیں پڑے ہوئے ہیں۔اگر ہم وینز ویلا کی اقتصادی ترقی کو دیکھیں وینزویلا چین کے بعد واحد ملک ہے جنکی اقتصادی شر ح نمو 8فی صد ہے۔ ہو گو شا ویز کے 12 سالہ اقتدار میں وینز ویلا کی اقتصادی شرح 48 فی صد بڑھی اور اس ترقی میں انکے لیڈر ہوگو شاویز کا نہایت اہم کردار ہے۔ چین کی ترقی میں بھی انکے قائدین کی مر ہون محنت ہے۔ہم چین ، وینزویلا اور یورپی ممالک کی کیا بات کریں گے،زندگی کے دوڑ میں پاکستان تو اب بنگلہ دیش اور دوسرے ترقی پذیر ممالک سے پیچھے ہے۔ یہ کتنی بد قسمتی کی بات ہے کہ مسلمان روشن مستقبل کی خاطر کنٹینروں ، لانچوں اور گا ڑیوں کی ڈگیوں میںمُر غیوں اور دوسرے پالتو جا نوروں کی طرح چھپ کر یو رپ اور دوسرے مغربی ممالک میں جانے کی کو ششیں کرتے ہیں۔ کیونکہ یو رپی اور ترقی پذیر ممالک نے علم ، تعلیم اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پردنیا کے ممالک میں اہم مقام حا صل کیا ہے جو بد قسمتی سے مسلمان ممالک اور انکے لیڈران و حکمران حا صل نہ کر سکے۔ اہل مغرب اور یو رپی ممالک مسلمانوں سے ہر لحا ظ سے آگے ہیں ۔ جبکہ اسکے بر عکس دنیا کے دو ڈھائی ارب مسلمان جنکے پاس دنیا کے70 فی صد وسائل ہیں ذلالت اور کمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبو ر ہیں۔یورپ اور مغربی ممالک کے ویزے کو ہمارے جوان زندگی ہر چیز سے زیادہ تر جیح دیتے ہیں۔ ہر جوان لڑکے اور لڑکی کا یو رپ اور مغربی ممالک کا ویزہ ایک خواب ہوتا ہے۔ اور انکی کو شش ہوتی ہے کہ قانونی اور غیر قانونی طور پر ہت صورت میں یورپ اور مغربی ممالک چکے جائیں۔ اصل بات یہ ہے کہ وہاں کی لیڈر شپ کی مناسب اور موثر پلاننگ، ہیومن ریسورسس میں ترقی اور اس پر خرچنے ،سائنس اور ٹیکنالوجی ، تعلیم اور زندگی کے دوسرے شعبوں میںاتنا کام کیا ہوا ہے کہ وہاں پر کسی چیز کی کمی نہیں ہوتی ۔ میں عمران خان کے اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ کسی ملک کی ترقی میٹرو، اورنج ایکسپریس سے نہیں ہوتی بلکہ وہاں کے عوام پر خرچنے سے ہو تی ہے۔کسی ملک کی ترقی کا دار ومدار وہاں پر انسانی وسائل کی ترقی سے ہو تا ہے۔ مگر مسلمان ممالک کی بد قسمتی یہ ہے کہ اُنہوں نے نہ تو انسانوں کی ترقی پر اور نہ ملکی ڈھا نچے کی ترقی پر زور دیا ، بلکہ کا ہر شعبہ زوال پذیر اور انخطاط پزیر ہے۔ یہ سائنس ٹیکنالوجی ، تعلیم کا دور ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ مسلمان ہر لحا ظ اور ہر مد میں ترقی یافتہ ممالک میں سب سے پیچھے ہیں۔ اور اس میں مُسلم اُمہ کی لیڈروں اور حکمرانوںکی نا اہلی شامل ہے۔ مثلاً او آئی سی کے 57 اسلامی ممالک کامجموعی قومی پیداوار 7740 ارب ڈالر یعنی 7.7ٹریلین ہے جبکہ اسکے بر عکس صرف امریکہ کا مجمو عی قومی پیداوار 16000 ارب ڈالر یعنی 16 ٹریلین جبکہ جاپان کا 6000 ارب ڈالر یعنی 6 ٹریلین ڈالر ہے۔یہ سائنس اور ٹیکنالوجی تحقیق اور ترویج کا دور ہے 80 عالمی ممالک کی فہرست میں صرف 6 اسلامی ممالک یعنی سعودی عرب ، ترکی ، پاکستان، انڈونیشیائ، مصر، ایران اور سوڈان شامل ہیں جو اپنے اپنے ممالک میں سائنس کی تحقیق اور ترویج پر سالانہ 100 ملین ڈاکر تک خرچ کرتا ہے۔ حالانکہ دنیا میں 57 اسلامی ممالک ہیں اور ان میں صرف 6ممالک سائنس اور ٹیکنالوجی پر خرچ کرتے ہیں۔بد قسمتی سے مسلمان تعلیم پر بھی کچھ نہیں خرچ کرتے ۔او آئی سی کے 57 اسلامی ممالک میں تعلیم پر تقریباً 3 فی صد تک خرچ کیا جاتا ہے جبکہ اسکے بر عکس تیمور، ٹوباگو اور کیوبا تعلیم پر بالترتیب 17فی صد، 16فی صد اور 15 فی صد خرچ کرتے ہیں۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے سائنس اور ٹیکنالوجی اور عصری علوم کو مزید پروان چڑھا نا چاہئے اور اپنے ممالک کے لوگوں میں سماجی اور اقتصادی تبدیلیاں لانا چاہئے۔ یورپ اور غیر مذہب کدھر سے کدھر پہنچ گئے اور پاکستان اور مسلم دنیا ذلیل سے ذلیل تر ہو رہی ہے۔ جب پاکستان اور مسلم دنیا کے معا ملات پر سوچتا ہوں تو اسکا کوئی حل نظر نہیں آرہا ہے اور سوچتا ہوں کہ اس ملک سے کہیں دور چلا جائے۔

Google Analytics Alternative