کالم

پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی لمحہ فکرےہ

اقوام عالم نے 11جولائی کو سات ارب سے زائد انسانوں کے طور پر ےوم آبادی کا سال مناےا ۔ دنےا مےں آدم اور حوا دو انسان آئے ۔ دو انسانوں سے بڑھ کر ےہ آبادی سات ارب سے زائد انسانوں تک پہنچ چکی ہے ۔ اس آبادی کی افزائش مےں ہمار ے ملک نے خاطر خواہ حصہ ڈالا ہے اور ےہی وہ واحد شعبہ ہے جس مےں ہم تےزی سے خود کفالت کی منزلےں طے کر رہے ہےں ۔ قےام پاکستان کے وقت ملک کی آبادی سوا تےن کروڑ تھی جو اب 21کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ آبادی مےں اضافے کے اعتبار سے بھارت دنےا مےں سب سے آگے ہے اور ہر سال اس کی آبادی مےں اےک کروڑ ستر لاکھ کا اضافہ ہوتا ہے ۔ پاکستان اب آبادی کے اعتبار سے دنےا کا پانچواں بڑا ملک بن چکا ہے جبکہ انسانی وسائل کی ترقی کے حوالے سے 182ممالک مےں پاکستان کا نمبر 141ہے اسی وجہ سے 40ملےن لوگ غربت کی سطح سے نےچے زندگی بسر کر رہے ہےں ۔ معزز قارئےن وطن عزےز خدا داد پاکستان مےں آبادی مےں خطرناک اضافے کو پسند کر کے ہم نے اپنے کو پرےشانےوں کی لامحدود دلدل مےں دھکےل دےا ہے ۔ ےہ پرےشانےاں دن بدن خود رو بےل کی طرح اگ اور پھل پھول رہی ہےں ۔ کوئی بھوک کے ہاتھوں شکستہ و بے جان ہے تو کوئی مالی تنگی سے دلبرداشتہ ،کوئی چھت کی فکر مےں ہے تو کوئی مردم گزےدہ مصائب سے نجات کا آسان اور ارزاں راستہ موت کی پناہ مےں ڈھونڈ رہا ہے کےونکہ کٹھن حالات انسانوں سے قوت عمل چھےن لےتے ہےں اور ہر سو چھائے ماےوسی کے بادلوں مےں بدقسمت افراد موت کو گلے لگانے مےں ہی عافےت سمجھتے ہےں ۔ زندگی جےسی قےمتی متاع سے چھٹکارا حاصل کرنے کےلئے کوئی مےنار پاکستان کا انتخاب کرتا ہے تو کوئی نہر مےں چھلانگ لگا کر ،کوئی خود سوزی کر کے تو کوئی چھت سے جھول کر ۔ ذہنی کرب ،نفسےاتی ہےجان ،انتہا پسندی اور دہشت گردی جےسی بےمارےوں کا اےک بڑا سبب شرح آبادی مےں روز افزوں اور بے لگام اضافہ بھی ہے ۔ ےہ مجبورےاں ہی ہوتی ہےں جو انسان کو ناگفتنی حرکات و اعمال پر مجبور کرتی ہےں ۔ افراط زر کی شرح سے بھی کئی گنا آبادی کے تےزی سے بڑھنے کے باعث خوشحالی بھی بدقسمت انسانوں سے اسی تےز رفتاری کے ساتھ دور،دور اور بہت دور بھاگ رہی ہے ۔ آبادی مےں خطرناک شرح سے اضافہ غرےب ،محروم اور مظلوم انسانوں کی تعداد مےں بھی مسلسل اضافہ کا سبب ہے ۔ ےہی وہ سب سے بڑی وجہ ہے جس کے باعث اخلاقی ،معاشی اور سماجی بحرانوں کے اندھے طوفانوں نے ہمےں چارسو گھےر لےا ہے اور دنےا مسائل کا گھر اور انسانی زندگی مشکلات کا شکار ہو گئی ہے ۔ آج نادار افراد معصوم بچوں کی گردنوں مےں برائے فروخت کی تختےاں لگا کر سر بازار نظر آتے ہےں ۔ شاہ محمود غزنی نے اسی کو موضوع سخن بناےا ۔ ان کی نظم کا ےہ شعر کتنا کرب اور المناکی لئے ہوئے ہے ۔

بےچ دےا ہے بھوکی ماں نے اپنا بھولا بھالا بچہ

سارے گھر کی خوشےوں کی بنےا اسی بکنے پر ہے

ماضی مےں کثرت اولاد فوبےا کا اکثرےت شکار تھی لےکن آج کے دور مےں بچے امےر نہےں غرےب ہی پےدا کرتے ہےں ۔ امراء کو اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ بچے زےادہ پےدا ہوں گے تو ان کے اثاثے بندر بانٹ سے کم ہو جائےں گے جبکہ غرےب اپنے بچوں کو ہی اپنا اثاثہ سمجھتا ہے اور اس اثاثے مےں اضافہ سے اس کی آمدنی مےں اضافہ کی حکمت پنہاں ہوتی ہے ۔ اسی طرح آج دنےا کے امےر ترےن ملک تو آبادی پر کنٹرول کر رہے ہےں لےکن تےسری دنےا کے غرےب ممالک آبادی مےں تےز رفتاری سے اضافہ پر ہی کمربستہ ہےں ۔ غرےب والدےن کو خط غربت سے نےچے جانے والی اکانومی کو مستحکم کرنے کےلئے لےبر فورس کی ضرورت ہوتی ہے ۔ غرےب کا بال ابھی صحےح بال و پر بھی نہےں نکالتا کہ والدےن اسے کسی جگہ چھوٹے کی حےثےت سے بھرتی کروا دےتے ہےں ۔ والدےن کے معاشی حالات اےسے ہوتے ہےں کہ بچوں سے حاصل ہونےوالی پانچ سات سو روپے کی کشش انہےں اپنے ہی لخت جگروں کو مشکل کاموں مےں لگائے رکھنے پر اکساتی رہتی ہے ۔ معزز قارئےن ذرا غور کرےں وہ کےسے سنگےن حالات ہوں گے جن کے زےر اثر والدےن اپنے معصوم بچوں کو چند ہزار کے عوض دےنے پر مجبور ہوتے ہےں اور بعض گردش حالات کے ستم رسےدہ اپنے جسمانی اعضاء گردے تک فروخت کرنے پر رضا مند ہو جاتے ہےں ۔ ماضی مےں ےورپی ممالک کو لےبر فورس کی کمی پوری کرنے کےلئے تےسری دنےا کے غرےب ممالک پر ہی انحصار کرنا پڑتا تھا لےکن 9-11کے بعد حالات بدل گئے اب ےہ ممالک غےر اسلامی ممالک پر ہی بھروسہ کر رہے ہےں ۔ وطن عزےز کو اس وقت مختلف قسم کے سےلابی رےلوں کا سامنا ہے جن مےں مہنگائی کا سےلاب ،بھےک منگوں کا سےلاب ،غربت کا سےلاب ،بے روزگاری کا سےلاب ،الغرض کس کس کا ذکر کےا جائے فہرست طوےل ہے لےکن ان تمام سےلابوں کی وجہ آبادی کے سےلاب کی طغےانی ہی ہے ۔ ہم حکومت کو تو تمام معاشی بےمارےوں ،بے روزگاری ،مہنگائی ،گےس اور بجلی کی ناےابی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہےں لےکن کبھی اس پہلو پر غور کرنے کی کوشش ہی نہےں کرتے کہ ہم سب ان تمام بحرانوں کے کسی حد تک خود ذمہ دار ہےں ۔ ہم نے آبادی مےں ہوش ربا اضافہ مےں ہی ترقی کو اپنا مطمع نظر ٹھہرا لےا ہے ۔ ہم اپنی لغزشوں اور ذاتی حماقتوں کے ساتھ جب سنگےن مسائل کا شکار ہوتے ہےں تو پھر نا انصافی اور محرومی کا نام لےکر ماتم شروع کر دےتے ہےں ۔ ےہ اےک حقےقت ہے کہ آبادی کے بڑھنے سے معےشت پر منفی اثرات ہی مرتب ہوتے ہےں ۔ آبادی مےں اضافہ سے اشےاء و خوراک کی رسد پر برا اثر پڑتا ہے ۔ بچتےں ، زرمبادلہ اور انسانی ذراءع کی ترقی متاثر ہوتی ہے ۔ سرماےہ کاری مےں کمی اور ادائےگےوں کے توازن پر دباءو پڑتا ہے ۔ زر مبادلہ مےں قلت محسوس ہونے لگتی ہے ۔ وسائل کی کمی سے بدحالی ،بے روزگاری ، ناخواندگی ،ماحولےاتی آلودگی اور بےمارےاں ہی مقدر بنتی ہےں ۔ کوئی بھی ملک ترقی صرف اسی صورت کر سکتا ہے جب اس کے وسائل کے بڑھنے کی رفتار آبادی مےں اضافہ کی رفتار سے زےادہ ہو ۔ مسلم دنےا مےں خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے دو مختلف نقطہ نظر ہےں ۔ اےک طبقہ فکر کے مطابق بچوں کی پےدائش کے قدرتی عمل کو روکنا جرم ہے اور ےہ بہبود آبادی کو خدائی امور اور اس کے فےصلوں مےں مداخلت قرار دےتے ہےں اور مسائل غربت کو ا;203; تعالیٰ کی رضا کے کے ساتھ منسلک کر دےتے ہےں ۔ دوسرے مکتبہ فکر کا کہنا ہے بہبود آبادی جائز ہے عوام کی اکثرےت نے اسے تسلےم کر لےا ہے اور اس کے مختلف دلائل کو کوئی اہمےت نہےں دےتی اور چھوٹے کنبے کی افادےت سمجھتی ہے ۔ اےران ،ملائےشےاء اور بنگلہ دےش نے اورعوام نے عوامی طور پر اسی فکر کو قبول کر کے آبادی کی بڑھتی ہوئی شرح کو نہ صرف روک لےا ہے بلکہ اس مےں کمی بھی واقع ہوئی ہے ۔ دنےا مےں چےن اےسا ملک تھا جس کی آبادی دنےا مےں سب سے زےادہ تھی تاہم انہوں نے اس پر بڑی حد تک قابو پا لےا ہے جس کے باعث ان کی اقتصادےات کےلئے مستقبل مےں کوئی خطرہ نہےں رہا ۔ وطن عزےز مےں 66ملےن لوگوں کو پےنے کا صاف پانی مےسر نہےں ،88ملےن لوگوں کو صحت اور صفائی کی سہولت مےسر نہےں ،68ملےن لوگ اےک گھر کے کمرے مےں زندگی گزارنے پر مجبور ہےں ۔ ہمارے پاس دنےا کے 70فےصد قدرتی وسائل ہےں ان کے باوجود ہمارا ترقی نہ کر سکنا ہماری آبادی کا تےز رفتاری کے ساتھ بڑھنا ہی ہے ۔ وطن عزےز مےں خاندانی منصوبہ بندی کی افادےت اور تشہےر کا کام ساٹھ کی دہائی سے شروع ہوا تھا ۔ اس وقت ےونےسیف کے صحت کی ےونٹ کی جانب سے خواتےن اور بچوں کی صحت کےلئے خشک دودھ ،دلےہ،صابن ، گھی اور مقوی ادوےات مہےا کی جاتی تھےں ۔ بھٹو دور مےں ےہ سلسلہ چلتا رہا لےکن ضےاء الحق کے دور حکومت اور بعد کے ادوار مےں ےہ محکمہ بے توجہگی کا شکار رہا ۔ ہمارے ہاں فےملی پلاننگ کا محکمہ بھی صحےح نہج پر پلاننگ کرنے سے محروم اور اپنے اہداف حاصل کرنے مےں سخت ناکام رہا ۔ اگر ہم نے وطن عزےز مےں شرح آبادی مےں اضافہ پر قابو پانے کےلئے موثر پالےسےاں نافذ نہ کےں تو نہ صرف معاشی زندگی کی رفتار مزےد سست ہو جائے گی بلکہ معےار زندگی بھی مزےد انحطاط کا شکار ہو جائے گا ۔

70سالہ مُلکی سیاست پرچاچا اَچھن کی لچھے دارباتیں

معاف کیجئے گا،آج اپنے کالم کی ابتداء مُلکی سیاست پرچاچا اچھن کی لچھے دار اور گول مول باتوں سے کرناچاہوں گا ۔ پہلے تو بتاتا چلوں کہ چاچا اچھن مجھ سمیت ہر پاکستانی کے شعور کے کسی خانے میں رہتے ہیں ۔ جنہیں ہم لفٹ نہیں کراتے ہیں ۔ اِن کی باتوں پر دھیان نہیں دیتے ہیں ۔ حالاں کہ جو یہ کہتے ہیں سب سچ ہوتا ہے ۔ مگر بس اِن کا کہاہوا یہ سچ ذرا سا لچھے دارضرور ہوتاہے ۔ اِسی لئے آپ کی طرح مجھے بھی اِن کی بہت سی باتوں پر کبھی اتفاق اور اختلاف رہتا ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ چاچا اچھن کی لچھے دار باتیں ہوتی تو بڑی دلچسپ ہیں ۔ اِن کی باتیں پچھلے الیکشن کے بعد سے تو بہت زیادہ گول مول ہوگئیں ہیں یعنی کہ جب سے پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت اقتدار میں آئی ہے ۔ تب سے چاچا اچھن کا اکثر یہ کہنا ہے کہ مُلک کے موجودہ سیاسی حالات تقاضا کرتے ہیں کہ اَب قوم کے سامنے اپنی پسند کے لیڈروں اور سیاست دانوں کی جمہوریت کے لبادے میں لپڑی چپڑی اور لگی لپٹی باتیں عوام الناس میں پھیلانے کے بجائے ۔ ہ میں قوم کو خوشحالی اور مُلکی ترقی کے خواب دِکھا کر دھوکہ دے کر قوم کو لوٹ کھانے اور قرضوں اور بحرانوں اور مہنگائی و پریشانیوں کے دلدل میں دھکیلنے والے قومی لٹیروں کے سیاہ کارناموں کو قوم سے چھپانے اور پردہ ڈالانے کے بجائے ۔ ہر حا ل میں پاکستانی قوم کے سامنے سب کچھ سچ سچ بیان کردینا ہوگا ۔ ایسا کرنا یوں بھی ضروری ہوگیاہے کہ آج قوم میں سچ جاننے کی تڑپ پہلے سے بہت زیادہ بڑھتی جارہی ہے ۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم قوم کو سچ چھاپا کر اندھیرے میں رکھے رہیں ۔ اور اِس چکر میں ہمارا سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے ۔ یقینا کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ اچھے اور بُرے رہنماوں اور سیاستدانوں کی آپس کی لڑائی جھگڑوں اور کھینچاتی کی وجہ سے جمہوریت کی چڑیاکسی اور کے ہاتھوں قید کرلی جائے ۔ پھر سب کے ماتھے پر بارہ بج جائیں گے ۔ اور سِوائے کفِ افسوس کے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا ۔ بہر حال یہ ایک الگ بحث ہے ۔ جِسے پھر کسی وقت کےلئے چھوڑے دیتا ہوں ۔ ہاں توپچھلے دِنوں کراچی میں وزیراعظم عمران خان سے تاجروں اور صنعتکاروں نے ملاقات کی ۔ جِسے اپوزیشن اور ملاقاتی حلقے بے نتیجہ ظاہر کرکے اپنا احتجاج جاری رکھ کر اِس میں شدت لانا چاہتے ہیں ، جب کہ وزیراعظم عمران خان کا واضح موقف رہاکہ سابق حکمران مُلک اور قوم سے جھوٹ بول کر غداری کرتے رہے ۔ جنہوں نے اپنے دورِ اقتدار میں قوم سے کہا کچھ اور کیا کچھ ۔ اَب معیشت پرانے طریقے سے نہیں چلائی جاسکتی ہے ۔ کاروبار کے لئے آسانیاں پیدا کرناچاہتے ہیں ،اِسی دوران تاجروں ، صنعتکاروں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے 50ہزار سے بڑی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے دوٹوک انکارکرتے ہوئے اپنے عزم کو دہرایا کہ ہرحال میں تمام لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا،معیشت کی بحالی اور استحکام کےلئے تمام فریقین ہماراساتھ دیں ۔ مل بیٹھ کرمسائل کا حل نکالیں گے ۔ ‘‘بیشک آج محب وطن پاکستانیوں کو جمہوریت سے زیادہ ایماندار اور اپنے کئے ہوئے وعدوں اور دعووں پر عمل کرنے والے وزیراعظم عمران خان جیسے رہنما کی ضرورت ہے ۔ آج اِس سے اِنکار نہیں کہ ہماری تباہی اور بربادی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ستر سال سے ہر حکمران نے قوم کے ساتھ جھوٹ بولا ،مسندِ اقتدار کے مزے لئے ،قومی خزانہ سے لوٹاکھایاپیا اور کمر پر ہاتھ صاف کیا اور چلتا بنا ۔ مگر اَب ضرورت اِس امر کی ہے کہ قوم سے سچ اور صرف سچ بولاجائے اور ماضی کے جھوٹے بہروپیوں کا کیادھرا سب قوم کے سامنے کھول کھول کر بیان کیا جائے ۔ تاکہ پاکستانی قوم اور دنیا کو لگ پتہ جائے کہ نصف صدی سے زائد عرصے تک جس کسی نے بھی پاکستان پر حکمرا نی کی ہے ۔ اُ س نے قوم کو جھوٹ بول کر دھوکہ دیا اور قومی خزانے کو اپنے اللے تللے کےلئے ابا جی کی جاگیر سمجھ کر استعمال کیا اور قوم کو اربوں کے قرضوں کے بوجھ تلے زندہ درگو کرکے اپنی آف شور کمپنیاں بنوائیں ، اقامے لئے اور بیرون ممالک کے بینکوں میں اپنے اربوں ڈالرزجمع کروائے اورلندن ، دبئی اور امریکا سمیت دنیا کے دیگرترقی یافتہ ممالک میں اپنی بڑی بڑی بے شمار جائیدادیں بنائیں ۔ یوں وہ سینہ تان کر مُلک اور قوم کا ستیاناس کرگیا ۔ اَب کڑے احتساب میں ہے ۔ ہ میں یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان میں بدقسمتی سے کوئی شئے اپنی اصل حالت میں نہیں ہے،دودھ سے لے کر شہد اور اِنسانوں کی خصلت وفطرت سے لے کر انسانیت اور اِنسان کی سیاست سے لے کر جمہوریت تک سب ہی کچھ تو ملاوٹ سے بھرپور اور اصلیت سے دور ہیں ۔ سرزمین پاکستان میں سِوائے چند ایک کو چھوڑ کر کوئی بھی شعبہ مقدس نہیں ہے ،ہمارے یہاں صرف لیڈر ہی نہیں ووٹرتک دونمبر اور کرپٹ ہیں ۔ کیوں نہ ہوں دھوکہ اور مکروفریب تو جیسے ہم پاکستانیوں میں خون کی طرح رس بس گئے ہیں ۔ اَب ہم اِنہیں اور یہ ہ میں چھوڑنا بھی چاہیں ۔ تو یہ ممکن ہی نہیں بلکہ ناممکن لگتا ہے کوئی کچھ بھی کرلے ۔ اَب ہم اِسی ڈگر پر قیامت تک قائم رہیں گے ۔ اِس لئے کہ ہم دھوکہ مکروفریب اور کرپشن کے عادی ہوگئے ہیں ۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے دیس میں سیاست سے خدمت اور جمہوریت سے انصاف کا عنصر نکل چکا ہے ۔ جب کسی مُلک و معاشرے اور تہذیب وثقافت میں دونمبری کاموں کا رجحان پروان چڑھ جائے تو پھر اُس مُلک و معاشرے اور تہذیب وتمدن کی تباہی مقدر بن جاتی ہے ۔ مگر پھر بھی پاکستانی قوم کو موجودہ پی ٹی آئی اور وزیراعظم عمران خان کی حکومت سے اچھی اُمید رکھنی چاہئے کیوں کہ چشم فلک نے بھی دیکھ لیا کہ اللہ نے کس طرح گزشتہ سال جولائی میں پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات میں حکمرانی کی شکل میں مسندِ اقتدار پر قابض قومی لٹیروں سے اقتدار چھین کر عمران خان کو دیا ۔ جن سے اقتدار کی کنجی چھینی گئی ہے وہ وزیراعظم عمران خان کو اول روز سے ہی بلیک میل کررہے ہیں ۔ اِس میں کو ئی شک بھی نہیں ہے یہ تو دنیا کو بھی نظر آرہاہے ۔ اقتدار کے لالچی پی ایم ایل (ن) اور پی پی پی والے سارے بلیک میل مل کر کسی نہ کسی بہانے اپنے لئے این آر او مانگنے کے لئے مُلک میں انارکی پھیلانا چاہ رہے ہیں ۔ حالانکہ ایسا کچھ نہیں ہوگا ۔ جیسا کہ وزیراعظم عمران خان اور اِن کی حکومت سے این آر او کے شدت سے طالب چاہتے ہیں ۔ این آر او کے متلاشی اپنے بچاوَ کےلئے ہروہ حربہ آزمانا چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی بہانے عمران خان سے این آر او کی صورت میں ریلیف مل جائے ۔ تو اِن کی چاندی ہوجائے ۔ بھلے سے کوئی کہہ دے کہ یہ ساری لوٹی ہوئی قومی دولت واپس کردیں اور مُلک سے خاندانوں سمیت باہر چلے جائیں مگر قوم یہ بات اچھی طرح ذہن میں رکھے کہ وزیراعظم اِن قومی لٹیروں سے ساری لوٹی ہوئی قومی دولت واپس بھی لیں گے اور کسی قومی مجرم کو مُلک سے باہر بھی نہیں جانے دیں گے ۔

عمران خان حکومت اورپنجاب کا محکمہ تعلیم

لاہور سے ایک دوست نے ای میل کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ محکمہ تعلیم پنجاب کے ذمہ داروں نے پنجاب کی نویں جماعت کی پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کی کتاب سے’’ ختم نبوت‘‘ کا پیرا نکال دیا گیا ہے ۔ اس سے قبل سینیٹر اورامیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب نے اپنے ایک بیان میں انکشاف کیا کہ جب نواز شریف صاحب کے دور حکومت میں ختم نبوت کی دفعات کو چھیڑا گیا تھا تو میں نے سینیٹ میں اس کو ختم کرانے کے لیے پہلے تحریک انصاف کے سینیٹروں سے بات کی تھی کہ نواز شریف حکومت نے یہ غلط کام کیا ہے ۔ میں اس کے خلاف سینیٹ میں تحریک پیش کرنے والا ہوں آپ میری حمایت کریں ۔ مگر تحریک انصاف کے سینیٹروں نے صاف انکار کر دیا ۔ انہوں نے کہا کہ پھر میں نے نون لیگ کے سینیٹرراجہ ظفرالحق صاحب سے اور جمعیت علما اسلام کے سینیٹر مولانا حماد صاحب سے رابطہ قائم کیا ۔ انہوں نے اس کام میں تعاون کیا ۔ پھر ہم سب نے مل کر الیکشن کمیشن کے ووٹ کے حوالے سے ختم نبوت کی شکوں کو اپنی پرانی اصلی حالت میں برقرارکرنے میں کامیاب ہوئے ۔ کیا تحریک انصاف کی حکومت کو اس نازک معاملہ کا احساس نہیں ;238; یاعوام سمجھےں کہ تحریک انصاف کی حکومت میں کچھ قادیانیوں کے ایجنٹ گھسے ہوئے ہیں جو وزیر اعظم عمران خان صاحب کی مدینہ کی فلاحی ریاست کے ایجنڈے کو ناکام کرنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں ۔ یا عمران خان خود درپردہ قادیانیوں کی حمایت کرتے ہیں ;238;نہ جانے عمران خان کی حکومت کس سمت میں کام کر رہی ہے ۔ کیا اس کا عوام کودکھانے کاچہرہ الگ ہے اور اندر کا چہرہ الگ ہے;238; اس کی تحقیق کرنے کےلئے ہم پیپلز پارٹی کے سابق فعال کارکن اور بھٹو صاحب کے قریبی ساتھی ،ہارون آباد کے ڈاکٹر احسان باری صاحب جو حیی الفلاح سیاسی پارٹی کے سربراہ بھی ہیں کے ایک پرانے کالم کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ وہ اپنے ایک کالم میں تحریر کرتے ہیں ۔ جب مرحوم ذوالفقار علی بھٹو صاحب پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے جا رہے تھے تو انہوں نے قادیانی خلیفہ سے ملاقات کر کے مدد کی درخواست کی تھی ۔ قادیانیوں نے بھٹو کی درخواست منظور کرتے ہوئے بھر پور مدد کی تھی ۔ قادیانی کارکنوں نے اپنے پلے سے خرچ کر کے بھٹو کے جلسوں کو کامیاب کیا ۔ بھٹو کی اکثر کانفرنسیں قادیانیوں کے ہوٹل شیزان میں ہوا کرتی تھیں ۔ ڈاکٹر احسان باری کی بات کی تصدیق اُس ویڈیو سے بھی ہوتی ہے جو الیکشن کے دوران سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ۔ لندن میں تحریک انصاف کی مقامی لیڈر شپ کی ایک خاتون کارکن قادیانیوں کے ہیڈ کواٹر میں دوسرے لوگوں کے سامنے موجود ہ قادیانی خلیفہ سے ملاقات کر رہی ہے ۔ یہ خاتون تحریک انصاف کی الیکشن میں مدد اور حمایت کی درخواست کر رہی ہے ۔ قادیانی خلیفہ اس خاتون سے کہہ رہا ہے کہ اس سے قبل ہم نے بھٹو کی بھی مدد کی تھی ۔ مگر اقتدار میں آکر اس نے پارلیمنٹ کے ذریعے کافر قرار دے دیا ۔ اب ہم محتاط ہوگئے ہیں ۔ پہلے آپ الیکشن جیت کر آئیں ۔ ہمارے لیے کچھ کریں پھر ہم آپ کی مدد کرنے کا سوچیں گے ۔ کیا عمران خان نے الیکشن کرجیت ایک نامی گرامی قادیانی عاطف کو اقتصادی مشیر اسی لیے بنایا تھا;238;اڈاکٹر احسان باری نے یہ بھی لکھا کہ بھٹو جب اقتدار میں آنے کے بعد امریکا گئے تو انہیں کہا گیا کہ قادیانی ہمارے آدمی ہیں ان کا آپ کو خیال رکھنا ہو گا ۔ جب دوسری بار بھٹو امریکا گیا تو یہی ڈیمنڈ دھرائی گئی ۔ اس سے اس بات کی مزید کنفرمیشن ہو گئی کہ قادیانی فتنہ کو امریکا، برطانیہ اور اسرائیل کی ہمیشہ کی طرح داہمی حمایت حاصل ہے ۔ برطانیہ میں قادیانیوں کا تبلیغی ہیڈ کواٹر، اسرائیل میں اس کی شاخ اورامریکا کی بھٹو کو ہدایات روز روشن کی طرح عیاں ہیں ۔ مدینہ کی فلاحی ریاست کی گردان دوہرانے والے وزیر اعظم عمران خان صاحب کی حکومت کے کچھ کارنامے سامنے آئے ہیں ۔ لاہور میں شیطان کا مجسمہ نصب کیا ۔ اس سے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں ;238; شہدائے بالاکوٹ اور مسلمانوں کے ہیروں کے گلے کاٹنے والا، لاہور کی بادشاہی مسجد میں گھڑوں کا استبل بنانے والا،مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رکنے والا، رنجیت سنگھ کا اسٹیچو نصب کر کے کس ٹارگٹ تک پہنچنا چاہتے ہیں ;238; اقوام متحدہ میں کشمیر میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا پاکستان کا ازلی دشمن بھارت کو ووٹ دینے کو کیا سمجھنا چائے;238; ۔ پارلیمنٹ کے اندر آپ کے ٹکٹ پر جیتنے والی خاتون نے اسرائیل کو تسلیم کرنے کی بات کیوں کی;238; پارلیمنٹ میں آپ کے سابق وزیر اطلاعات نے شراب بندش بل کی مخالفت کیوں کی;238; نون لیگ حکومت کے دوران’’ ختم نبوت;248; ‘‘کے حوالے سے الیکشن کی شکوں کو تبدیل کرنے کے کوشش کو ختم کرنے کے لیے سینیٹر سراج الحق صاحب کے بل کی آپ کے سینیٹروں نے حمایت نہ کر کے کس کو پیغام پہنچایا;238; سینما کے لیے فنڈ مختص کرنا اور حج کی سبسڈی ختم کرنے میں کتنا ثواب ملا;238;الیکٹرونک میڈیا میں فحاشی زورں پر کیوں ہے;238;ارد گرد کرپٹ لوٹوں کو ہٹا کر تحریک انصاف کے ایمان دار لوگوں کو کب تعینات کیا جائے گا;238;ایوان صدر میں مشاعرے اور صدر کے سیروتفریح کے لیے فضول خرچی کا چرچا اخبارات میں آیا ہے ۔ اس کا غریب عوام کو کون جواب دے گا;238;آپ نے ملک کو ایم آئی ایف کے حوالے کر دیا ہے ۔ آپ کو یاد کراتے ہیں کہ ملیشیا کے سابق صدر نے کہا تھا کہ جس ملک کا ستیا ناس کرنا ہو اس ملک کو آئی ایم ایف کے حوالے کر دو ۔ ملک کا بجٹ آئی ایم ایف نے بنایا ۔ ڈالر کو اب اسٹیٹ بنک کنٹرول نہیں کر سکے گا ۔ سہ ماہی بجلی اور گیس کے بلوں میں اضافہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہے ۔ آپ کو مسیح سمجھ کر عوام نے ووٹ دیا ۔ آپ سے توقع تھی کہ عوام کو مہنگائی، بجلی گیس کے بلوں میں کمی اور روزگار ملے گا ۔ مگر اب تو عوام کی چیخیں نکل گئیں ہیں ۔ اور آئی ایم ایف نے جو پروگرام دیا ہے اس سے مزید مہنگائی بڑھے گی ۔ شاید لوگ بھوک اور ظلم سہ کر بھی آپ کی مدینہ کی فلاحی ریاست کی گردن پر بروسہ کر لیتے ۔ مگر لگتا ہے کہ آپ کے لوگوں نے تو ان کے ایمان پر بھی حملے کرنا شروع کر دیے ہیں ۔ عوام آپ سے توقع رکھتے تھے کہ گزشتہ حکومتوں نے جو اسلام کی دفعات محکمہ تعلیم سے نکالی تھیں وہ آپ واپس داخل کرائیں گے مگر آپ نے تو عوام کو دکھ پہنچاتے ہوئے رسول;248; پاک کے دشمنوں قادیانیوں کی حمایت کرتے ہوئے ہوئے پنجاب کے محکمہ تعلیم کی نویں جماعت کی ٹیکسٹ بک سے ختم نبوت;248; کے پیرے کو بھی نکال دیا ہے ۔ اگر واقعی محکمہ تعلیم نے ختم نبوت;248; کا پیرا نکال دیا ہے تو متعلقہ لوگوں سے آپ کی طرف سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے ۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ پنجاب کی نویں جماعت کی ٹیکسٹ بک میں ختم نبوت;248; کا پیرا پھر سے شامل کیا جائے ۔

خریدوفروخت کیلئے شناختی کارڈ کی شرط لازم قرار

ٹیکس ادا کرنا ہر شہری کا بنیادی فرض ہے اور اس بات کو حکومت متعدد بار ازبر کراچکی ہے، اب کاروباری طبقے کی جانب سے جو تحفظات سامنے آرہے ہیں اسی سلسلے میں وزیراعظم عمران خان نے شہر قائد کے مختلف تاجر وفود سے ملاقاتیں کیں ، ان کے تحفظات سنے پھر اور بھی دیگر ملاقاتیں ہوئیں اس کے بعد پریس کانفرنس میں انہوں نے دوٹوک انداز میں واضح بتا دیا کہ اب پرانی طرز سے کاروبار نہیں چلے گا ۔ ہم بھی وزیراعظم کی اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہم کس صدی میں رہ رہے ہیں اور کاروبار پرانے انداز سے کیوں ;238;، نئے انداز اپنانے ہوں گے ، نئے زمانے میں آنا ہوگا، ترقی کرنا ہوگی، معیشت مضبوط کرنا ہوگی، ملکی استحکام پیدا کرنا ہوگا ، بین الاقوامی سطح پر اپنی ساکھ پیدا کرنا ہوگی اس کیلئے ہ میں نئے مروجہ قواعد و ضوابط کو بھی اپنانا ہوگا ۔ اسی لئے وزیراعظم نے کہاکہ اب ہ میں کاروباری دنیا میں جدید خطوط پر استوار طریقے اپنانے ہوں گے ۔ انہوں نے 50ہزارسے بڑی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط ختم کرنے سے انکار کردیا،کراچی میں تاجروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہاہے کہ حکومت کاروبار کیلئے آسانیاں پیداکرنا چاہتی ہے معیشت پرانے طریقے سے نہیں چلائی جاسکتی تمام لوگوں کو ٹیکس دینا ہوگا،معیشت کی بحالی اور استحکام کےلئے تمام فریقین ہماراساتھ دیں ،مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالیں گے، تاجر صنعت کار شناختی کارڈ دینے سے کیوں گریز کررہے ہیں ٹیکس سب کو دینا ہے اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا ۔ عمران خا ن نے کہا کہ کرپٹ افراد کو این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہے ،پرویز مشرف کی طرح اگر میں نے نوازشریف اور آصف زرداری کو این آر او دے دیا تو قوم مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی پہلے دن سے یہ لوگ مجھے بلیک میل کررہے ہیں ، سابق حکمراں ملک سے غداری کرتے رہے ہیں یہ مجھ سے تین لفظ این آر او سنناچاہتے ہیں جو میں نہیں دوں گا اس لئے انہیں حکومت گرانے کی جلدی ہے ،کرپشن اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو سزادینا ضروری ہے ،کرپٹ عناصر کو کٹہرے میں نہیں لائیں گے تو کرپشن ختم نہیں ہوگی اور جس سطح کی ملک میں کرپشن ہے اس سے پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا،بزنس کمیونٹی سے مل کر ملک کو اوپر لے کر جائیں گے ،ایک سال میں جتنا ٹیکس اکٹھا ہوا، اس کا آدھا قرضوں کے سود پر ادا کیا، ملک میں 10سے 12ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہورہی ہے، ملکی معیشت اب پرانے طریقہ کار کے مطابق نہیں چلائی جاسکتی غیر ضروری درآمدات کم کر رہے ہیں ،برآمدات 30فیصد بڑھ گئی ہیں ماضی کی حکومتوں نے مارکیٹ کو اپنے ذاتی فائدے کیلئے استعمال کیا لیکن اب معیشت اور مارکیٹ میں استحکام آئے گا ۔ حکومتی اقدامات پر عوام عمل کرلیتی ہے تو یقینی طورپر اچھے دن آئیں گے، جب کاروبار اور صنعت مضبوط ہوگی تو خوشحالی کا دور دورہ ہوگا، روزگار کے مواقع میسر ہوں گے اور انہی پیرائے پر حکومت اس وقت گامزن ہے ۔ ساتھ ہی حکومت نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کیلئے ایڈوائزری جاری کی ہے جس کے تحت بیرون ملک دس ہزار ڈالر سے زائد کرنسی لے جانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ نیز3ہزار روپے سے زائد پاکستانی کرنسی بھی ساتھ نہیں لے جائی جاسکے گی ۔ ایڈوائزری کے مطابق زر مبادلہ لے جانے کی حد اور ممنوعہ اشیاء کی دیگر معلومات بھی شامل ہیں جس میں بھاری مقدار میں سونا، چاندی، ہیرے جوہرات، پلاٹینیم، نودارات، آثار قدیمہ سے متعلق اشیاء بھی ممنوع قرار دیدی گئی ہیں چونکہ ماضی میں یہ بات دیکھی گئی ہے کہ یہاں سے کروڑوں ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک منتقل کیے گئے اور ملکی خزانے کو خالی کیا گیا ۔ حکومت کا یہ والا اقدام انتہائی قابل تحسین ہے ۔ کیونکہ جتنا نقصان بیرون ملک پیسہ جانے سے ہوا اس سے زیادہ کسی بھی اقدام سے نہیں ہوا ۔ منی لانڈرنگ ایک ایسا ناسور ہے جو ملکی معیشت کو تباہی و برباد کی جانب لے جارہا ہے اس کو روکنا انتہائی ضروری ہے ۔

ٹرینوں کے آئے دن حادثات

ریلوے ٹرینوں کے حادثات روز مرہ کے معمول بن چکے ہیں ، بیرونی دنیا میں تو اس طرح ہوتا ہے کہ اگر کسی وزیر کی وزارت میں کوئی ایسا ناقابل برداشت وقوعہ یا سانحہ پیش آجائے تو وہ وزارت سے ہی مستعفی ہو جاتا ہے لیکن ہمارے ملک میں وزیر صر ف اتنا کہنے پر توقف کرتا ہے کہ تحقیقات ہوں گی اور ذمہ داران کو قرار واقعی سزا دی جائے گی ۔ لیکن حادثات اسی طرح جاری رہتے ہیں ۔ کوءٹہ جانے والی اکبر ایکسپریس ولہار ریلوے اسٹیشن پر کھڑی مال گاڑی سے ٹکرا گئی ۔ حادثے کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق اور 60 سے زائد زخمی ہوگئے، تصادم کے نتیجے میں اکبر ایکسپریس کی متعدد بوگیاں الٹ گئیں جبکہ حادثے میں اکبر ایکسپریس کے انجن کو شدید نقصان پہنچا ہے،ڈپٹی کمشنر رحیم یار خان جمیل احمد جمیل نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ قیمتی جانوں کے تحفظ کے لئے تمام انسانی وسائل بروئے کارلا رہی ہے، ڈی پی او رحیم یار خان عمر سلامت کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق ٹرینوں کے درمیان افسوسناک حادثہ سگنل بروقت تبدیل نہ کرنے کے باعث پیش ;200;یا، مسافر ٹرین کے لوپ لائن پر ;200;نے کی وجہ بظاہر نظر نہیں ;200;رہی، ضلعی پولیس محکمہ ریلوے کے ساتھ مل کر حادثہ کے محرکات جاننے کے لئے تفتیش کر رہی ہے، اس کے علاوہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بھی تشکیل دی جا رہی ہے، جلد حادثے کے محرکات بارے حقائق سے ;200;گاہ کیا جائے گا ۔ دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان اور وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے ٹرین حادثے اور قیمتی جانوں کی ہلاکتوں پراظہار افسوس کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حادثہ بظاہر انسانی غفلت کا نتیجہ لگتا ہے ۔ وزیر ریلوے نے حادثے کے متعلق اعلی ترین سطحی تحقیقات کا حکم دے دیاہے ۔

بلاول بھٹو نے خود کہا سنجرانی اچھے انسان ہیں

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ صادق سنجرانی کا فیصلہ کیوں کیا یہ بہت بڑا سوال ہے،بلاول بھٹو نے خود بھی کہاتھاصادق سنجرانی بہت اچھے انسان ہیں ، اگرہاتھ کھڑا کرنا ہوتو پھر تو کوئی بھی پارٹی کے خلاف نہیں جائے گا، ہارس ٹریڈنگ بالکل ہوسکتی ہے،لوگ صادق سنجرانی کو پسند کرتے ہیں مجھے نہیں لگتا کہ ان کے خلاف تحریک کامیاب ہو،اپوزیشن حکومت پر پریشر لانے کی کوشش کررہی ہے، وزیراعظم عمران خان خود ایمنسٹی میں دلچسپی لے رہے ہیں ، ایمنسٹی کے ثمرات ہ میں ایک سال بعد میں ملنا شروع ہونگے،ٹورازم بہت بڑی انڈسٹری ہے ،ہمارا اپنا ملک ہے ہ میں ٹیکس دینے میں کیا حرج ہے،ہر آدمی کو ٹیکس دینا چاہیے ، شناختی کارڈ دینے میں کیا حرج ہے،کراچی میں تو ویسے ہی حکومت کو زیادہ توجہ دینی چاہیے، کراچی کا برا حال گندگی کے ڈھیر ہیں ،18ترمیم نے سندھ کا بیڑا غرق کردیا ہے،کوئی تاجر کرپٹ نہیں ہوتا اسے محکمے کرپٹ بناتے ہیں ،ٹیکس ریٹس اتنے ہونے چاہیں جو لوگ برداشت کر سکیں ، کچھ نہ کچھ تاجروں کی بات ماننی ہوگی،ٹیکس اور بے نامی جائید اد میں عمران خان کوئی یوٹرن نہیں لیں گے ۔

مسئلہ کشمیر عالمی برادری کے سامنے اجاگر ہوا

13جولائی 1931ء کادن کشمیریوں کی تاریخ کا ایک ایساخون آشام دن ہے جب سری نگر میں 22بے گناہ مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے تحریکِ آزادی کشمیر کی بنیاد رکھی ۔ آج سے چھیاسی سال قبل برطانوی اور ڈوگرا سامراج کی باہمی مسلم دشمن نفرت انگیز ملی بھگت سے جموں و کشمیر میں ابھرنے والی ‘اولین تحریکِ آزادی’ کو دبایا اور کشمیر کے جانثاروں پراندھا دھند فائرنگ کرکے22 کشمیری نوجوانوں کو موقع پر ہی شہید کردیا گیا ۔ اس انقلاب کا پس منظر یہ تھا کہ کسی بدبخت ہندونے قرآن پاک کی توہین کرڈالی جس سے کشمیری مسلمانوں میں غم وغصے کی لہردوڑ گئی ۔ وہ اپنی جانوں پرظلم و جبرتوسہار سکتے تھے لیکن ان کے لئے مذہبی شعائرکی بے حرمتی برداشت کرناناممکن تھا ۔ یہیں سے کشمیریوں کو اپنی حالت و کیفیت کا احساس کرنے اور انہیں اپنے حق کے حصول کیلئے جاگنے اور جدوجہدکرنے کا خیال آیا ۔ سانحہ توہینِ قرآن پاک کیخلاف سری نگر میں ایک بہت بڑاجلسہ منعقد ہواجس میں کم وبیش پچاس ہزار مسلمان شریک ہوئے ۔ ان کا مطالبہ تھاکہ حکومت ملزم کو نہ صرف سزادے بلکہ ایساقانون تشکیل دے جس کی روسے آئندہ کسی کو مقدس کتابوں کی بے حرمتی کرنے کی جرآت نہ ہوسکے ۔ اس جلسہ میں بعض کشمیری لیڈران کے بغاوت کا مقدمہ درج کرکے معاملہ عدالت کے سپرد کردیا ۔ مقدمہ کے دوران سینکڑوں کشمیری روزانہ عدالت کے باہر جمع ہو جاتے ایک دن ظہرکی نماز کاوقت ہوگیا ۔ ایک شخص نے اذان دی ۔ بعد میں جب صفوں کی ترتیب کے لئے ہجوم ہچکولے کھانے لگا‘ تو پولیس مجسٹریٹ سمجھا جیل پر حملہ کرنے کے لئے صف بندی کی جارہی ہے، اس نے فائرنگ کا حکم دیا اور چشمِ زدن میں بائیس مسلمان خون میں نہاکر حیاتِ ابدی پاگئے ۔ پہلے صرف ایک واقعہ پر مسلمان مشتعل تھے، اب جو یہ سانحہ رونماہوا‘ تو وہ بپھرگئے ۔ 13جولائی 1931ء کے دن کشمیریوں نے 22قیمتی جانوں کا نذرانہ دے کر ایک عظیم انقلاب کی بنیاد رکھ دی ۔ اس سفاکانہ واقعہ نے کشمیریوں کے دلوں میں حریت پسندی کے جذبے کو جنم دے دیا ۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھارت نے کشمیر کے ایک بڑے حصے پر جبرا ًقبضہ کرکے معاہدوں اور دستاویزات کی دھجیاں اڑا دیں اور کشمیر کی عوام کو ظلم و ستم کے شعلوں میں دھکیل دیا ۔ اہل کشمیر ہر سال 13 جولائی کو اسی واقعہ کی یاد تازہ کرتے ہیں اور اسے یوم شہدا کے طور پر مناتے ہیں ۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین اور رابطہ عالم اسلامی کے رکن سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ کشمیری عوام نے آزادی کےلئے جو بے مثال اور عظیم قربانیاں پیش کی ہیں ان کے نتیجے میں کشمیر بھارتی تسلط سے ضرور آزاد ہوگا ۔ ریاست کے اطراف و کناف میں حراستی ہلاکتیں ، گرفتاری کے بعد نوجوانوں کو لا پتہ کرنے کی کاروائیاں اور بستیوں میں گھس کر خواتین کے ساتھ ناشائستہ سلوک کرنے کی کاروائیاں جاری ہیں ۔ بے مثال قربانیوں کے طفیل مسئلہ کشمیر عالمی برادری کے سامنے اجاگر ہو رہا ہے ۔ کشمیری عوام کی عظیم قربانیوں کے ساتھ کسی کو بھی کھلواڑ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ ہیومن راءٹس واچ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ’’بھارتی فوج غیر قانونی حراست، تشدد اور دوران تفتیش ہلاک میں ملوث ہے‘‘ جبکہ عدالتی مقدمے کے بغیر ہلاکتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مزید افسوسناک رپورٹ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو ہراساں کرنے کےلئے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خواتین کی عصمتیں لوٹی جا رہی ہیں ۔ قابض بھارتی فوج کشمیریوں کے ہنستے بستے گھروں کو دھماکہ خیز بارود سے اڑا کر قبرستان میں تبدیل کر رہی ہے ۔ یوں پورا کشمیر لہو لہان ہو چکا ہے ۔ کشمیریوں پر ان مظالم کے ساتھ ساتھ ان کے مال واسباب کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ یہ صرف اس لئے کہ شائد وہ ڈر کر اپنے حق خودارادی کے مطالبہ سے دستبردار ہو جائیں لیکن جان و مال کی تباہی بھی ابھی تک کشمیریوں کے پائے استقلال میں لغزش تک پیدا نہیں کر سکی ۔ بھارتی فوج کے ہاتھوں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجہ میں اب مقبوضہ کشمیر میں امن و امان عزت و آبرو سمیت کچھ نہیں بچا ۔ جہاں ہر وقت جنگ جاری ہو، ظلم و بربریت کی نئی داستانیں رقم ہو رہی ہوں وہاں امن و امان کیسے رہ سکتا ہے ۔ جو امن و امان کے دشمن ہوتے ہیں ۔ وہ عزت و آبرو کے بھی دشمن ہوتے ہیں ۔ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کرنا بدترین دہشت گردی ہے ۔ مگربھارت کے خلاف کارروائی کرنے والا کوئی نہیں ۔ وہاں صرف جنگ کا قانون نافذ ہے ۔ یہ بات تو تمام دنیا جانتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں زندگی کی تمام رعنائیاں ختم ہو چکی ہیں ۔ پہلے ڈوگرہ حکومت اور اب بھارتی جبریت کشمیریوں کو محکوم رکھنے اور ان کی آواز کو دبانے کی حتی الوسع کوشش کررہی ہے لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ آواز پہلے سے کہیں زیادہ بلند تر ہوجاتی ہے ۔ بھارت بوکھلاکر اب کشمیریوں کی نسل کشی کے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے کی مذموم حرکتوں کا مرتکب ہورہاہے لیکن ان سب کے باجود جموں سے لداخ تک ہر زبان پر آزادی کا نعرہ موجزن ہے ۔ ہرسال 13جولائی کو دنیابھر میں کشمیری ان 22شہداء کی یادمناتے ہیں اور اپنے اس عہدکو مزید مستحکم کرتے ہیں کہ کشمیر میں آخری مسلمان تک اور آخری مسلمان کے آخری قطرہ خون تک آزادی کی جنگ جاری رہے گی!!

گوئل اور اروند سے بھارت کی توقعات

پاکستان اور بھارت نے دو آزاد ممالک کی حیثیت سے برطانیہ سے آزادی حاصل کی لیکن ایک ہی آقا سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود ان دونوں کے تعلقات کبھی خوشگوار نہ رہ سکے اور اس کی سب سے بڑی وجہ ہندو لیڈرشپ کا اکھنڈ بھارت کا وہ خواب تھا جس کو اس نے آزادی کے بعد بھی نہیں توڑا اور اسی وجہ سے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم بھی نہیں کیا، حالانکہ کہنے کو تو مسلمان اور ہندو ہزار سال سے زائد عرصے سے برصغیر میں رہ رہے تھے لیکن دونوں مذاہب میں زمین آسمان کا فرق ہونے کی وجہ سے دونوں کبھی ایک رنگ میں نہ رنگ سکے ۔ ظاہری شکل و شباہت کے علاوہ کوئی چیز دونوں میں مشترک نہ تھی اور ایساپوری دنیا میں ہوتاہے کہ بنیادی طور پر مختلف نظریات کے حامل لوگ ایک الگ اکائی ہی بناتے ہیں اور ایسا ہی بر صغیر میں ہواکہ دو الگ الگ ریاستیں بنیں ہندو چونکہ اکثریت میں تھے لہٰذا ان کی ریاست بڑی تھی لیکن دوسری طرف بھی سب سے بڑی مسلمان ریاست تھی جسے ہندوذہنیت نے کبھی قبول نہیں کیا اور اس نے اس کے خلاف سازشیں شروع کر دیں اور جو جتنا بڑا سازشی تھا اُ سے اتنا ہی بڑا عہدہ اور مقام ملا ۔ انہی سازشوں کے لئے اس ملک نے باقاعدہ ادارے بنائے جن میں سب سے بڑا ادارہ ’’را‘‘ ہے کہنے کو تو یہ بھارت کی سرا غرساں ایجنسی ہے لیکن اس کی بنیادی ذمہ داری اور منشور ہی پاکستان اور چین کے خلاف کام کرنا ہے ۔ 1962 میں چین کے ہاتھوں بد ترین شکست اور 1965 میں پاکستان کے ہاتھوں ہزیمت کے رد عمل کے طور پر 1968 میں بھارت نے اپنی اس بد نام زمانہ ایجنسی کی بنیاد رکھی اور اسے جو خاص ترین مشن سونپا گیا وہ پاکستان میں مسائل پیدا کرنا تھا ۔ ’’ را ‘‘نے مشرقی پاکستان میں جو مکروہ کردار ادا کیا وہ بذات خود تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے ۔ اسی نے مکتی باہنی اور مجیب کو بنایا اور پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا اور آج بھی یہ پاکستان کے مختلف علاقوں خاص کر شمالی علاقوں میں براستہ افغانستان اور بلوچستان میں براستہ افغانستان اور ایران دونوں طرف سے ملوث ہے اور مسلسل سبوتاژ اور بد امنی کی کاروائیوں میں مصروف ہے جن میں اگرچہ اُسے پاکستانی اداروں کی چابکدستی کی وجہ سے وہ کامیابی حاصل نہیں ہو رہی جتنی وہ تگ و دو کر رہاہے اور نہ انشاء اللہ اُ س کی یہ خواہش پوری ہوگی ۔ دوسری طرف خود بھارت کے اندر ایک بڑے پاکستان کا خوف اسے بلا وجہ ستاتا رہتا ہے یعنی بیس کروڑ کی دنیا کی سب سے بڑی اقلیت کا خوف جو مسلمان ہے اور یہ مسلمان اسی لئے ہر وقت عوامی ہندو عتاب کا بھی نشانہ بنتے رہے ہیں اور ریاستی دہشت گردی کا بھی اور اس کے لئے اُس کا ایک اور ادارہ مسلسل بر سرپیکار رہتا ہے اور وہ ہے آئی بی یعنی انٹیلجنس بیورو جس کا کام ملک میں اندرونی سطح پر سازشوں بلکہ حکومت مخالفوں کا خاتمہ ہے لیکن یہ بھی زیادہ تر مذہبی یا علاقائی اقلیتوں کے خلاف ہی مصروف عمل ہوتا ہے ۔ یہی آئی بی بھارت سرکار کے اہم امور میں بھی دخیل ہے اور اس کی بدنامی بھی ’’را‘‘سے کچھ کم نہیں ۔ اب اگر ان اداروں کے کام کو ذہن میں رکھا جائے تو یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ان کے سر براہوں کے لئے کس قسم کے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہوگا اور اس سال بھی دو ایسے ہی اشخاص کی تعیناتی کی گئی ہے جو ان اداروں کی سربراہی میں اپنے پیشرووَں سے کسی طرح کم نہیں ۔ ان میں سے ایک اروند کمار ہے اور دوسرا سمنات گوئل ۔ اروند کمار کو آئی بی اور گوئل کو’’ را‘‘کا سربراہ بنایا گیا ہے یہ دونو ں انڈین سول سروس کے افسران ہیں ۔ ان میں گوئل جسے ’’را‘‘کے سربراہ کے طور پر تعینات کیا گیا ہے وہی شخص ہے جس نے اسی سال فروری میں پاکستان کے اندر بالاکوٹ پر ہوائی حملے کی منصوبہ سازی کی تھی یہ اور بات ہے کہ اُس کا حملہ اس بُری طرح ناکام ہوا کہ اس میں سوائے ایک کوئے کی جان کے کوئی اور جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا ہاں چند جلے ہوئے درخت ضرور نظر آئے جو بھارت کی ناکام منصوبہ بندی اور کاروائی کی کہانی سنا رہے تھے ۔ بہر حال گوئل پاکستان کے معاملات کا ماہر مانا جاتا ہے اور یہی اس تعیناتی کی وجہ ہے ویسے بالا کوٹ کی ناکامی کے بعد تو اُس کی نوکری کو ختم ہوجانا چاہئے تھا تاہم اُس کی حکومت شاید اُس کی مہارت کا مزید فائدہ اٹھانا چاہتی ہے یہ شخص 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں خالصتان کی تحریک کو بے رحمی سے کچلنے میں بھی شامل تھا تو ظاہر ہے اس کے رویے میں سکھوں کے لئے اب بھی وہی سختی ہوگی جو تھی اور یوں پنجاب کیڈر کے اس افسر کا رول پنجاب میں بھی اہم رہے گا اور یہ اہمیت زیادہ تر منفی ہی ہوگی ۔ دوسری ایسی ہی تعیناتی اروند کمار کی ہے جس نے پرانے آئی بی چیف راجیو جین کی جگہ لی ہے اروند کے خصے میں کشمیر میں جو مظالم اورقتل ہوں گے وہ تو ہیں ہی ساتھ ہی نکسل باڑی تحریک کو کچلنے کے لئے اس نے کیا کیا ہوگا وہ الگ کہانی ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ علیحدگی پسند تحریکوں کی کوئی بھی حکومت پذیرائی کرے لیکن جس بر بریت کا مظاہر ہ بھارت اور خاص کر کشمیر میں ہوتا ہے اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی ۔ اور یہی اروند جیسے لوگ ہیں جو ان مظالم کے پیچھے ہوتے ہیں ۔ اروند نے انہی مظالم کی داد اپنی حکومت سے تمغوں کی صورت بھی پائی ہے اور اب اس عہدے کی صورت میں بھی پا لی ہے ۔ بہرحال اب دیکھیں بھارت ناکام تجربے کرنے والے ان دونوں افسروں کی سربراہی میں مزید کتنے تجربے کرتا ہے ان کے ناکام تجربوں میں ایک تو حالیہ بالاکوٹ پر حملہ تھا اور دیگر کاموں میں بھی انہیں کو ئی خاص کامیابی یوں نہیں ملی کہ نہ تو نکسل تحریک ختم ہوسکی اور کشمیر میں تو ہر نئے دن کے ساتھ آزادی کی تحریک مزید زور پکڑتی جارہی ہے، خالصتان کی راکھ میں سے بھی کوئی نہ کوئی چنگاری اٹھتی رہتی ہے تاہم ان جیسے افسر اپنی د رندگی کی تسکین کےلئے مزید اور مزید منصوبے بناتے رہتے ہیں کامیابی اور ناکامی کی پرواہ کیے بغیر اور اب بھی گوئل اور اروند دونوں سے یہی تو قع ہے بہر حال دیکھئے یہ دونوں مل کر اپنی اس تعیناتی کے دوران کیا کچھ کرتے ہیں جس کے بارے میں کسی بہتری کی توقع ہر گز نہیں ۔

تنقید کے یہ گولے کب تک

پاکستانی عوام مہنگائی سے نیم جان اور نیم پاگل ہو رہی ہے ہر طرف زبانی کلامی نعروں اور دعوووَں کا دور دورہ ہے‘ دنیا آگے کی طرف جارہی ہے اور پاکستانی قوم کوکسی کام کی بجائے دھرنوں دھکوں پر مجبور کیا گیا ہے اور نظام کی لاچاری اس قدر ہے کہ منڈی کے نرخ بھی خود متعین نہیں کر سکتے ہیں اور اس کیلئے سات سمندر پار کے محتاج ہیں سامراج کا قانون نافذ ہے اور آئی ایم ایف کا ڈنڈا چل رہا ہے جس نے عوام کی کمر توڑدی ہے اور پورے پاکستان کو ایک ٹانگ پر کھڑا کر دیا ہے مہنگائی نے غریبوں کی پیٹھ پر ایسی ضرب لگائی ہے کہ غریب کی ہڈی پسلی ایک ہوگئی ہے ۔ جو عوام کے منتخب نمائندے ہیں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ سابقہ حکومت کی کارستانی ہے جو خزانہ کوکنگال کر کے گئی ہےدوسری طرف یہ خبریں آرہی ہیں کہ حکومت بجلی گیس تیل پٹرول اور اشیائے خوردنی میں ہر دوسرے دن اضافہ کرکے حکومت اس مد میں بھی روزانہ کھربوں روپے کمارہی ہے مگر یہ بتانا کوئی گوارا نہیں بتاتا کہ یہ اربوں ڈالر اور کھربوں روپیہ کون کھا رہا ہے اور یہ ڈالر کس کے پیٹ میں جا رہا ہے ۔ ملک میں شادیانے بجائے جا رہے ہیں کہ آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے چھ ارب ڈالر کی منظوری منت سماجت اور سخت ترین شرائط پر دے دی ہے اور ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط بھی جاری کرنے کی نوید ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت کومبارک ہو، ہر طرف سے دوست ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور چین نے بھی اربوں ڈالر کا قرضہ دیا اور اس کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ ہوا اور قطرکے شیخ نے بھی تین ارب ڈالردینے کا معاہدہ کیا لگتا ایسے ہے جیسے ڈالروں کی برسات ہو رہی ہے ۔ اربوں ڈالر کو روپوں میں گننا شروع کریں تو عمر حضر چائیے ۔ حکومت کا سر روپوں سے اور دھڑ ڈالروں میں دھنسا ہوا ہے لیکن کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ وزیراعظم‘ وزراء‘ گورنرز‘ وزرائے اعلیٰ اور ارکان اسمبلی یہی کہتے رہتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے ۔ انفرادی طور پر قوم کاہر فرد ملک کیلئے قربانی دیتا ہے اور ملک کی ترقی کیلئے نیک خواہشات کی تمنا رکھتا ہے لیکن کیا کیا جائے نظام کہ ہمیشہ وہ آڑے آجاتا ہے اور عوام کی خواہشات کو دباتا ہے اور ان کی آرزوءوں کا خون کرتا ہے اور ان کی تمناءوں کو مٹاتا ہے فاسد نظام نے ہر فرد کوآلودہ کردیا ہے بددیانتی اس کی خمیر میں شامل ہوگئی ہے بھوک سے قوم کا تعلق جڑ گیا ہے اور بد دیانتی ہمارا تعارف بن گیاہے حالانکہ اس ملک سچائی پھیلانے اور عدل اور انصاف پر مبنی نظام اور اعلیٰ اخلاق کو بلند کرنے کیلئے بنا تھا لیکن یہاں کرپشن نافذ کی گئی ہے چونکہ مسلطہ نظام سرمایہ پرستی، نفس پرستی، سفلیت پرستی اور جاہ پرستی کے جراثیموں سے آلودہ ہے اس لیئے ہمارا معاشرہ حیوانی گروہیت کا منظرپیش کر رہاہے ہماری سیاست، معیشت اور تجارت مفلوج ہیں مادہ پرستی ہر شخص کی خمیر میں شامل ہوگئی ہے دوسروں کو دہوکہ دیناہر شخص کا نصب العین بن گیا ہے اور جھوٹ بولنے کی رواےت عام ہوگئی ہے ہر طرف دہونس اور دہاندلی ہے اور اخلاقی بگاڑ کا عالم ہے اور جھوٹ کو فروغ مل رہاہے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق جھوٹ بولا جارہاہے بڑے لوگ جھوٹ بھی بڑے پیمانے پر بولتے ہیں ِاوراور جو چھوٹے حیثیت کے حامل ہیں ان کے جھوٹ کا پیمانہ بھی ذرا چھوٹا ہوتا ہے ۔ یہ امر لائق غور ہے کہ مذہبی کارڈ استعمال کرنے والے عناصر سرمایہ دارانہ نظام کو مذہب کا محافظ سمجھتے ہیں اور مقدس روایات اور مذہبی اقدار کو اپنے مذموم عزائم کیلئے استعمال کرتے ہیں اور فاسد نظام کا ایک ناکارہ پرزہ بن کر وہ جادووہ جو سر چڑھ کر بولے کے مصداق بنے ہوئے ہیں اور بڑی چابکدستی کے ساتھ عوام کو دھوکہ دینے پینترے بدلتے ہیں اور مکر اور فریب کا مظاہرہ کرتے ہیں ان کی وجہ سے اور اس قبیل کے دیگر سیاست دانوں کی وجہ سے ملک فرقہ واریت اور ہیروئن کلچر کے لپیٹ میں ہے دینی فلسفے کا پھلاءو رک گیا ہے اور خود غرض سیاست دانوں کی گمراہانہ ذہنیت نے پوری قوم کو جہنم کے گڑھے میں ڈالدیا ہے ۔ پاکستانی عوام سچے ہیں ، وہ محب وطن بھی ہیں ان ہمدردی بھی ہے اور وہ قربانی اور ایثار کے جزبہ سے سرشار ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ ہم پر مسلطہ نظام جھوٹا ہے جس نے ہم سب کو جھوٹا بنادیا ہے دیکھا جائے تو پورا معاشرہ شیطان کے جال میں پھنس چکا ہے کھا جاتا ہے کہ ہم نے بڑی ترقی کر لی ہے لیکن دیکھا جائے تو ترقی جھوٹ کی ہوئی ہے فاسد نظام کی وجہ سے فحاشی کو فروغ دیا جارہاہے تاکہ قوم کا ہر فرد فحاشی میں مبتلا ہوکر مغلوبیت کا شکار ہوجائے، ہر طرف گروہ بندی اور فرقہ واریت عام ہے چور بازاری ہے اور دو نمبر اشیائے صرف کی تیاری اور خرید وفروخت ہورہی ہے اور پرسان حال کوئی نہیں ہے غلط نظام نے حقیقی دین پر پردے ڈالدئے ہیں اور صرف رسم سامنے نظر آرہاہے آج ہ میں دین کی روح سے واقفیت نہیں ہے جو شخص اعلانیہ دو نمبر کی اشیاء فروخت کرتا ہو اور بے ایمانی اور دہوکہ اس کا شیوہ ہو ا اس کی نیکی کی کیا حیثیت ہوگی;238; ۔ میڈیا سب کو بے نقاب کر رہا ہے یہ عوام کے خیرخواہ ہر وقت لٹھ لیکر ایک دوسرے کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور تنقید کے گولے ایک دوسرے پر پھینکے بغیران کو چین نہیں آتاہے مگر مسائل کا حل کسی کے پاس نہیں ہے ۔ ‘‘ صرف تنقید کی گولہ باری ان کا مشغلہ ہے اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا اورایک دوسرے کو تضحیک کا نشانہ بنانا ان کا شیوہ ہے در اصل جھوٹ بولنے سے وہ اپنی ساکھ بنانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں فی الحقیقت اگر عوام کیلئے کچھ کرتے اور ڈالروں کی برسات میں عوام کو احتجاج‘ مظاہرے‘ ہڑتال‘ بیان اور دھرنوں کی ضرورت نہ پڑتی ۔ عوام بے چارے ٹیکس دیتے ہیں اورحالت ان کی دن بہ دن کمزور ہوتی جارہی ہے ، آخر ان ڈالروں اور کھربوں روپوں سے کون سا فلاحی‘ عوامی اور ترقیاتی کام کیا جا رہا ہے;238; یہ ساری دولت ان کاموں پر خرچ ہوتی بھی تو دکھائی کیوں نہیں دیتی;238;اور یہ خوشحالی کس بلا کا نام ہے اگر یہ موجود ہے تو اس کے کے آثار نظر کیوں نہیں آتے;238; اور لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ تنقید کے یہ گولے کب تک;238; ۔ ۔ ۔ ۔ کیامسائل کا کوئی حل بھی ہے

پاکستان کے وڈیرے اور 22 کروڑ محکوم عوام

اگر ہم غور کر لیں تو پاکستان کی نام نہاد جمہوریت اور 22 کروڑ عوام کو چند ہزار وڈیروں ، سرمایہ داروں ، کا رخانہ داروں سیاست دانوں نے یر غمال بنا یا ہے اور 70 سال سے عسکری اور سیاسی قیادت پاکستان کے 22 کروڑ عوام کی قسمت سے کھیل رہے ہیں ۔ ا فسوس کا مقام ہے کہ یہ لوگ اس اہل نہیں کہ پاکستان کو پستیوں ، مایو سیوں کی بھنور سے نکال سکیں اور عوام کی قسمت بدل سکیں ۔ پاکستان کو بے تحا شا قدرتی اور بشری وسائل کے با وجود بھی ان ناہل حکمرانوں نے پاکستان کے با شعور عوام کو پستیوں میں گرایا ہے ۔ اگر مزید تجزیہ کریں تو نا اہل قیادت کی بحران کی وجہ سے پاکستان اقتصادی، سفارتی بُحران کا سامنا کر رہے ہیں ۔ اگر ہم وطن عزیز میں اُن سیاسی خاندانوں کو جو عرصہ 77 سال سے پاکستان کے عوام کا خون چو س رہے ہیں ۔ تو یہ گنے چُنے لوگ تقریباً 7 ہزار مُنظم سرمایہ داروں ، کا رخانہ داروں ، جاگیر داروں ، نوابوں پر مشتمل ٹولہ ہے جو آبادی کا 0;46;0028 فیصد بھی نہیں اور22 کروڑ عوام کو یر غمال بنایا ہوا ہے ۔ پاکستان کے ساتھ اور بعد میں دنیا میں 120ریاستیں وجود میں آئیں مگر افسوس کی بات ہے کہ ان ریاستوں میں پاکستان صحت، زراعت، صنعت، روزگار ، افراط زر اور مہنگائی اقتصادیات اور دوسرے سماجی اقتصادی اشاروں کے لحاظ سے سب سے نیچے ہیں ۔ جس کی اصل وجہ پاکستان کے سیاست دانوں اور فوجی افسر شاہوں کی ناقص حکمرانی ہے ۔ کبھی ایک کی باری اور کبھی دوسری کی باری، یہ خاندان اور روایتی سیاست دان پاکستان کے عوام کو اقتدار کی نیٹ میں گھسنے نہیں دیتے ۔ ان خاندانوں میں بھٹو خاندان( سر شاہنواز بھٹو، پھر ذولفقار علی بھٹو، پھر بے نظیر بھٹو، غنوی بھٹو ، بلاول بھٹو زرداری اور فاطمہ بھٹو)، شریف خاندان ( نواز شریف تین دفعہ وزیر اعظم ، شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب، نواز شریف کی اہلیہ قومی اسمبلی ممبر، مریم نواز اور اُنکے شریک حیات کیپٹن صفدر قومی اسمبلی ممبر، حمزہ شریف ممبرصوبائی اسمبلی )با چا خان فیملی( خان عبدلغفار خان ، ڈاکٹر خان ، پھر اسکے بیٹے ولی خان ، بہونسیم ولی خان، فر زندولی خان اسفند یار ولی اور اب اسفندیار ولی کا بیٹا ایمل اور بھانجا امیر حیدر ہو تی)مولانا مُفتی محمود فیملی( مُفتی محمود صا حب وزیر اعلی سرحد، پھر مولانا فضل الرحمان ، بھائی عطاء الرحمان اور اب ان کا بیٹا اور داماد) شیر پاءو فیملی ( حیات محمد خان شیر پاءو، شہادت کے بعد بھائی آفتاب شیر پاءو، اور اب فر زند آفتاب احمدشیر پاءو سکندر شیرپاءو، سینئر وزیر )ارباب فیملی( ارباب نیار سابق وفاقی وزیر، ارباب جہانگیر سابق زیر اعلی ، بیٹا ارباب عا لم گیر سابق وفاقی وزیرمواصلات اور انکی اہلیہ عا صمہ عالم گیر)ہوتی فیملی(محمد علی خان سابق وزیر تعلیم، عبد الغفور ہوتی سابق ریلوے وزیر)چو دھری فیملی(چو دھری ظہور الٰہی ، چو دھری شجاعت حسین، چو دھری پر ویز الٰہی، چو دھری وجاہت حسین اور اب چو دھری مونس الہی)سیف اللہ فیملی( بیگم کلثوم سیف اللہ، ایم این اے، سلیم سیف اللہ، ایم این اے اور ایم پی اے، ہمایوں سیف اللہ ، انور سیف اللہ)،لغاری فیملی( فاروق احمد خان لغاری ، سابق صدر ، اویس لغاری وفاقی وزیر، ایم پی اے اور ایم این اے) مر وت فیملی( حبیب اللہ خان جسٹس مغربی پاکستان، شاہ نواز خان، سابق چیف جسٹس کے پی کے)مزاری فیملی (بلخ شیر مزاری وزیر اعظم، شیر باز خان مزار قائد حزب اختلاف، شوکت مزاری سابق ایم پی اے پنجاب اسمبلی سپیکر، شیریں مزاری ایم این اے)سومرو خاندان ( خان بہادر اللہ بخش سومرو ، دو دفعہ سندھ وزیر اعلیٰ،الٰہی بخش سومرو، سپیکر قومی اسمبلی وفاقی وزیر، رحیم بخش سومرو وزیر سندھ، محمد میاں سومرو وزیر اعظم ، صدرپاکستان،سینیٹر و گو رنر سندھ) زرداری فیملی( حاکم زرداری ، آصف زرداری، بلاول زرداری، فر یال تالپور، ازراء پلیجو)ترین فیملی( ایوب خان صدر پاکستان فیلڈ مارشل، گوہر ایواب، عمر ایوب ، یوسف ایوب)راءو فیملی ( راءو محمد ہاشم خان، راءو محمد اجمل خان، راءو سکندر اقبال، راءو قیصر علی خان، راءو محمد افضال) قاضی فیملی( قاضی عبدلمجید عابد، ۴ دفعہ وفاقی وزیر، فہمیدہ مرزا، سپیکر قومی اسمبلی، تین دفعہ ایم این اے، ذولفقار مر زا،صوبائی وزیر، پیر فیملی( پیر مظہر لحق ، کئی دفعہ وزیر، ما روی مظہر ، صوبائی وزیر سندھ، پیر زادہ فیملی( شریف لدین پیر زادہ فیملی، 1973آئین کے آر کیٹک، دفاقی وزیر قانون، عبد الحفیظ پیر زادہ، سابق وزیر تعلیم، نون فیملی( فیروزخان نون وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور وزیر اعلی پنجاب، انور خان نون ، سابق ایم این اے، امجد خان نون ، ضلع ناظم، وقارلنساء نون بھٹو خاندان کی قانونی مشیر، منہاس فیملی( اکبر خان، فو رسٹر جنرل، افتخار خان ، پہلے نامزد چیف آف آرمی سٹاف، عفت لیاقت علی وفاقی وزیر، ریاض احمد صوبائی وزیر پنجاب، میاں فیملی آف باغبانپو رہ( جسٹس میاں شاہ دین ، سر میاں محد شفیع، صدر آل انڈیا مسلم لیگ ، میاں شاہ نواز، میاں افتخار الدین سابق سیاست دان ، پاکستان ٹائمز اور روزنامہ امروز کا کا مالک،(گبول فیملی) اللہ بخش گبول ممبربمبئی اور سندھ قانون ساز اسمبلی ، دو دفعہ کراچی کا میر، نبیل گبول، سابق وفاقی وزیر جہاز رانی،( جدون فیملی) اقبال جدون وزیر اعلی سرحد، امان اللہ جدون ، وزیر پٹرولیم،( کھر فیملی ) مصطفی کھر، وزیر اعلیٰ پنجاب ، غلام ربانی کھر ایم این اے، حنا ربانی کھر ، سابق وزیر خارجہ ، (خٹک فیملی) حبیب اللہ خٹک، علی قلی خان ، فوجی جنرل، غلام فاروق خان ، قانون ساز، نصرللہ خٹک وزیر اعلیٰ سر حد، یوسف خٹک ، اجمل خٹک ، پر ویز خٹک ( وزیر اعلیٰ کے پی کے، کھو کر خاندان ، بگتی خاندان ، مگسی خاندان ، اچکزئی فیملی، پرنس اورنگ زیب فیملی، ترہ کئی خاندان، جتوئی خاندان اور اسکے علاوہ دیگر اور بھی خاندان ہیں جو پاکستان پر 70 سال سے حکومت کر رہے ہیں ۔ مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان میں ان خاندانوں کے علاوہ ۲۲ کروڑ عوام کوئی اور لیڈر نہیں جو الیکشن اور کسی پا رٹی قیادت کےلئے اہل ہو ۔

Google Analytics Alternative