کالم

نامقبول دھرنا ‘بھارتی ایٹمی راز ہیک اور وادی کا متنازعہ نقشہ

دنیا کے دیگر معاشروں کی طرح پاکستانی معاشرہ بجاطور پراب یہ تسلیم کرتا ہے کہ ;39;آزادی اظہار لامحدودنہیں ہونا چاہیئے;39;دوسری آزادیوں کی طرح آزاد میڈیا کے غلط استعمال سے بھی غلط پیغامات منفی رجحانات معاشرے کی سمت میں بگاڑ کاسبب بن جاتے ہیں غلط بیانی کاچلن عام ہوتا ہے بلیک میلنگ ہوتی ہے توہین اور کردار کشی کا ہمہ وقت احتمال رہتا ہے اگرمیڈیا واقعی اپنے آپ کوریاست کا چوتھا ستون سمجھتا ہے تواْسے اپنی یہ اہم ذمہ داری پوری دیانتداری کے ساتھ ادا کرنی ہوگی بحمداللہ پاکستان کے ایک حصہ کا میڈیا اپنا یہ رول بخوبی نبھا رہا ہے جولائی 2018 کے عام انتخابات کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کو سادہ اکثریت سے ملکی انتظام وانصرام چلانے کا ایک سنہری موقع ملا نجانے یہ احساس اچانک کیوں ابھرا کہ ملکی میڈیا کے بڑے حصہ نے پی ٹی آئی کی حکومت کے لئے اپنے دیدہ ودل فرش راہ نہیں کیئے جیسا ماضی کے دوسیاسی خاندانوں کے اقتدار کے دور میں دیکھا گیا یقینا اس کی چند وجوہات ہونگی میڈیا مالکان کے نزدیک کچھ تحفظات ہونگے لیکن میڈیا پرسنزجن میں صحافی بھی ہیں جنہیں اینکرپرسنز کہا جاتا ہے اْن کا اس معاشرے میں ایک کردار ہے وہ اپنی ذمہ داریوں کی حساسیت پر غورکیوں نہیں کرتے، مثلا ًپی ٹی آئی کی حکومت کے اقتدارکومکمل کئے ایک برس ہوچکا ہے یقینا حکومتی انتظامی امور کو نبھانے میں کہیں نہ کہیں غلطیاں ریکارڈ پر آئی ہونگی سوال پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت کاگراف اس قدر نیچے آگیا کہ اسے مولانافضل الرحمان اپنے مدارس کے طلبا کے گروہوں کے احتجاجی مارچ اور دھرنے کے ذریعے تہہ وبالا کردے میڈیا نے اس معاملے میں اپنا کیا مثبت کردارادا کیا;238; جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے موجودہ لانگ مارچ یا دھرنے کے پیچھے سوائے ;39;عمران خان;39;کی ذاتی ناپسند کے علاوہ اور کیا عوامل ہیں ;238;یہ کتنا کڑواکسیلا سچ ہے;238;میڈیا کی زبان پر آتاہی نہیں ملکی مین اسٹریم میڈیاعوام الناس کے طبقات میں یہ سوال اْٹھتا کیوں نہیں کہ یکم نومبر سے تادم تحریر سپریم کورٹ پر دستک کیوں نہیں دی گئی کہ قبائلی علاقوں سے اپنے انتخابی حلقوں سے لائے مدارس کے طلبا کے جلوس میں افغانی نوجوان کیوں شریک ہیں ;238; 18 برس سے کم عمر کے افغانیوں کی اس دھرنے میں شرکت پر میڈیا سوال کیوں نہیں اٹھاتا مولانا موصوف نے پہلے احتجاجی مارچ کا فیصلہ کیا تھا جس کی باقاعدہ اجازت لی گئی تھی اور اُس اجارت سے انحراف کیا گیا یوں یہ احتجاجی مارچ دھرنے میں تبدیل ہوگیا، اس اہم مسئلہ کو سپریم کورٹ میں اسلام آباد راولپنڈی کے شہریوں کے بنیادی حقوق کو پہنچنے والے نقصانات کے بنیادی اسباب کی روشنی میں اْٹھانے کی اشد ضرورت تھی اور اب تک یہ ضرورت موجود ہے ،آخر کب تک ہم یونہی احتجاجی دھرنوں میں اپنا بے حساب قومی نقصان اْٹھاتے رہیں گے;238; ذراقارئین اندازہ لگائیں اسلام آباد کے ایچ 9 اور کشمیر ہائی وے پرنام نہاد آزادی مارچ کے اس دھرنے کی وجہ سے راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان چلنے والی میٹرو بس سروس کو تاحال 3کروڑ 85 لاکھ روپے کا خسارہ ہوچکا ہے آج کے کالم کے عنوانات چونکہ مختلف خبروں سے اخذ کیئے گئے ہیں ایک جانب یہ انتہائی تشویش ناک صورتحال دوسری جانب بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں امڈنے والی بدترین فضائی آلودگی کی سنگین صورتحال کے مضراثرات نے بھارتی پڑوسی شہرلاہور سمیت پورے پنجاب کےلئے خطرے کے آلارم بجادئیے ہیں جس پر حکومت کو نہایت سنجیدہ ہوکر اہم فیصلے کرنے ہونگے پنجاب میں گرین ہاوسز کا فروغ وقت کی ضرورت بن چکاہے ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے قوانین کو مزید سخت بنا کر عملدرآمد کو یقینی بنایاجانا ازحد ضروری ہے تاکہ ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا جاسکے گزشتہ پنجاب بھر میں تاحد نگاہ بدترین دھند کے امڈتے طوفان نے اپنا ڈیرہ جمایا ہوا تھا شہریوں کےلئے سفر بہت مشکل ہوچکا تھا فضائی آلودگی سے بچنے کےلئے ;39;درخت اگاءومہم;39; ہنگامی بنیادوں پر شروع کی جائے یہاں بھی میڈیا ایک اہم قومی ضرورت کے طور پر ہمارے سامنے آجاتا ہے پی ٹی آئی کی حکومت پر تنقیدی انگشت نمائی اپنی جگہ مگر ماناپڑے گا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران ;39;خان کی حکومت;39; نے 14 کروڑ سکھ مت کے پیروکاروں کے دل ;39;کرتارپور راہداری کو کھول کر جس تیزی سے پاکستان کی جانب مبذول کرائے یہ قدم پاکستان کے لئے تاریخ میں ہمیشہ سنہری حرفوں سے لکھا جائےگا اس سلسلے میں بھارت کی جو سبکی ہوئی وہ اپنی جگہ مودی کےلئے باعث شرمندگی بنی ہے وہاں یہ خبر یقینا جنوبی ایشیا بلکہ ایشا سمیت پوری دنیا کے امن کے لئے ;39;بگ بین;39;سے کم نہیں ہوگی;34;بھارتی نیوکلیئر پلانٹ پرسائبرحملہ حساس معلومات اڑالی گئیں ،بھارت کے کونڈاکلم نیوکلئیر پاور پلانٹ پر سائبر حملہ کیا گیا ہے جس سے بھارتی جوہری تنصیبات کے کمپیوٹر سسٹم کو نقصان پہنچا ہے عالمی میڈیا کے توسط سے ملنے والی تفصیلی خبروں سے پتہ چلا ہے کہ ’’راٹ‘‘ نامی وائرس نے ;39;کوڈانکولم نیوکلیئرپاورپلانٹ کوڈی ٹریک بنایا اور حساس معلومات اڑا لے گئے یہی نہیں ہوا بلکہ سوشل میڈیا صارفین بھی سائبر سیکورٹی نظام کی ناکامی پر حواس باختہ دکھائی دئیے ہیں یہاں ہم یہ دہرائے دیتے ہیں کہ اس سے قبل بھی بھارتی جوہری تنصیبات کے حوالے سے کئی بار ایسے واقعات پیش آچکے ہیں ۔ کئی بھارتی ایٹمی سائنس دان اغوا اور قتل ہو چکے ہیں جبکہ کئی بار بھارت کا ایٹمی مواد چوری کیا جا چکا ہے اگر یہ سب ہورہا ہے تویہ کیوں نہ کہا جائے کہ بھارتی ایٹمی ہتھیار محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہیں انتہاپسندوں کو ایٹمی پلانٹس تک رسائی خود مودی سرکار نے دی ہے لہٰذا جنوبی ایشیائی ممالک کا مطالبہ ہے کہاقوام متحدہ او آئی سی اور عالمی برادری بھارتی جوہری ہتھیاروں کے غیر محفوظ ہونے کا فوری طورپر نوٹس لیں اپنے اپنے آپ میں بھارت بہت ہوشیار بنتا ہے جبکہ وہ ایک ذمہ دار ایٹمی ملک بھی نہیں ہے اور ہرصورت اور ہرحربہ آزما کر نئی دہلی کی مرکزی حکومت مقبوضہ وادی کی خصوصی حیثیت کو جس وحشیانہ طور مجروح کیا بلکہ اپنی جگ ہنسائی کا ایک اور سامان ;39;مقبوضہ وادی کا متنازعہ نقشہ;39;دنیا کے سامنے پیش کرکے کردیا بھارت کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کیے جانے والے نقشوں میں جموں و کشمیر سمیت گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھانے کی ناپاک کوشش کی گئی جس کی جتنی زیادہ کھل کر مذمت کی جائے کم سمجھیں بھارت کی احمقانہ بدنیتی پر مبنی ایسے اقدامات کشمیریوں کو انکے حق خودارادیت کے حق سے محروم تو نہیں کر سکتے اور بھارت اقوام متحدہ سے تسلیم شدہ کشمیر کے متنازعہ علاقے کی حیثیت تبدیل نہیں کرسکتا اور ہاں یادرہے کہ پاکستان کشمیریوں کے حق خود ارادیت کیلئے ان کی جائز جدوجہد کی حمایت جاری رکھے گا ۔

بابری مسجد بارے بھارتی عدالت کا متعصبانہ فیصلہ

بھارتی مسلمانوں نے ہندووَں کے ظلم و ستم سے تنگ آکر بھارتی سپریم کورٹ میں بابری مسجد کا کیس دائر کیا اور سپریم کورٹ نے اس ماہ فیصلہ سنانے کا وعدہ بھی کیا ۔ لیکن بھارتی سپریم کورٹ نے تعصب پر مبنی فیصلہ سناتے ہوئے تاریخی بابری مسجد کی متنازع زمین ہندوءوں کے حوالے کر دی جبکہ مسلمانوں کو مسجد تعمیر کرنے کے لیے متبادل کے طور پر علیحدہ زمین فراہم کرنے کا حکم دے دیا ۔ مسلمانوں کےلئے یہ فیصلہ کوئی انوکھا یا چونکا دینے والا نہیں تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ چاہے بھارت کی کوئی ماتحت عدالت ہو یا سپریم کورٹ،خاص طورپر مسلمانوں کے معاملے میں فیصلہ ہمیشہ ہندو کے حق میں ہی آئے گا ۔ بھارت عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5رکنی بنچ نے بابری مسجد کی زمین سے متعلق محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا یا 5رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل تھے ۔ فیصلے کے ابتدائی حصے میں عدالت عظمیٰ نے بابری مسجد کے مقام پر نرموہی اکھاڑے اور شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ مسترد کردیا ۔ چیف جسٹس رانجن گنگوئی نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ بابری مسجد کیس کا فیصلہ متفقہ ہے ۔ ہندو ایودھیا کو رام کی جنم بھومی جبکہ مسلمان اس جگہ کو بابری مسجد کہتے ہیں ۔ تاریخی شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بابری مسجد کی تعمیر خالی زمین پر نہیں کی گئی تھی ۔ مسلمان مسجد کے اندرونی مقام پر عبادت کرتے تھے جبکہ ہندو مسجد کے باہر کے مقام پر اپنی عبادت کرتے تھے ۔ 1949ء میں بابری مسجد گرانا بت رکھنا غیر قانونی ہے ۔ مسلمانوں کے بابری مسجد اندرونی حصوں میں نماز پڑھنے کے شواہد ملے ہیں ۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ہندووَں کی جانب سے یہ دعویٰ کہ دیوتا رام کا جنم بابری مسجد کے مقام پر ہوا تھا غیر متنازع ہے جبکہ مذکورہ زمین کی تقسیم قانونی بنیادوں پر ہونی چاہیے ۔ بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلے میں کہا کہ عدالت کےلئے مناسب نہیں کہ وہ مذہب پر بات کرے ۔ عبادت گاہوں کے مقام سے متعلق ایکٹ تمام مذہبی کمیونٹیز کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے ۔ بھارتی سرکار کو اس فیصلے کا علم تھا اسی لیے کسی بھی پرتشدداور ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کےلئے اتر پردیش میں تمام سکول، کالج اور تعلیمی ادارے 11 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا اور ایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ۔ سڑکوں پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعداد میں اضافہ اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنانے کےلئے اضافی انتظامات کیے گئے ۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تناظر میں ایودھیا سمیت پورے اترپردیش کو سیکیورٹی کے حصار میں قید کردیا گیا ہے جس کے تحت تمام دھرم شالے بند کردیے گئے جبکہ غیر مقامی افراد کو شہر سے نکلنے کا حکم دیا گیا ۔ کسی بھی ممنوعہ اجتماع سے بچنے کے لیے جموں و کشمیر، اتر پردیش اور گووا میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی جبکہ متعدد ریاستوں میں تمام تر تعلیمی ادارے بند ہیں ۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ آج ایک بار پھر عظیم قائد محمد علی جناح;231; کا ہندو شدت پسندی کے بارے میں نظریہ درست ثابت ہوگیا ۔ آج ہندوستان کی تمام اقلیتوں کو ایک بار پھر احساس ہو جانا چاہئے کہ ہندوتوا کے بارے میں ہمارے عظیم قائد محمد علی جناح;231; کا نظریہ بالکل ٹھیک تھا اور یقینی طور پر بھارت میں موجود اقلیتوں کو اب ہندستان کا حصہ بننے پر افسوس ہو رہا ہوگا ۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اور ہ میں اچھی طرح معلوم ہے کہ ہ میں کس طرح اپنا ملک چلانا ہے ۔ بھارت خود کو ایک سیکولر ملک کہتا ہے ،لیکن کیا وہ حقیقی طور پر ایک سیکولر ملک ہے;238; کیا وہاں کروڑوں مسلمان اور دیگر اقلیتیں محفوظ ہیں ;238; پاکستان نے تو سکھ مذہب کے ماننے والوں کے لیے کرتار پور راہداری بنادی ۔ بھارت نے کیا کیا ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل میں کہا کہ فیصلے سے ایک بار پھر انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوا ۔ بھارتی سپریم کورٹ بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ۔ فیصلے سے بھارت کے نام نہاد سیکولر ازم کا چہرہ بے نقاب ہوا ۔ فیصلے سے ظاہر ہوا ہے بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ۔ بھارت میں اقلیتوں کو اپنے عقائد اور عبادت گاہوں پر تشویش ہو گئی ۔ بھارت میں ہندوتوا نظریہ دیگر اداروں کو متاثر کر رہا ہے اور ہندو انتہا پسندانہ سوچ خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے ۔ بابری مسجد کو 1528 میں مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین بابر نے تعمیر کرایا تھا اور اسی نسبت سے اسے بابری مسجد کہا جاتا ہے تاہم 1949 میں ہندووَں نے بابری مسجد سے مورتیاں برآمد ہونے کا دعویٰ کرکے اسے رام کی جنم بھومی قرار دے دیا تھا جس کے بعد یہ معاملہ مختلف عدالتوں ، کمیٹیوں اور کمیشن سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ پہنچا تھا جس کے تین بنیادی فریق نرموہی اکھاڑا، رال للا اور سنی وقف بورڈ تھے ۔ ہندووَں کا الزام ہے کہ مسلمانوں نے ظہیر الدین بابر کی بادشاہت کے زمانے میں رام کی پیدائش کے مقام پر مندر کو تباہ کرکے مسجد بنادی تھی ۔ اس واقعے کے بعد ہندو ستان میں ایک تنازعہ اٹھا اورواقعے عدالتی تحقیق کا کام الہ آباد ہائی کورٹ کے سپرد کردیا گیا ۔ 30 ستمبر 2010 کو الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنا تاریخی فیصلہ سنایا جس کے مطابق بابری مسجد زمین کی ملکیت کے تنازع کے حوالے سے سنی سینٹرل وقف بورڈ کی درخواست خارج کرتے ہوئے قرار دیا کہ بابری مسجدکی اراضی وفاق کی ملکیت رہے گی اور اس تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو لیکر سنی وقف بورڈ نے سپریم کورٹ میں حصول حق کےلئے آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا جو اصولی بھی ہے اور جمہوری بھی ۔ لیکن اس قضیے میں امریکہ بدنام زمانہ جاسوس تنظیم سی آئی اے اور ایک امریکی کمپنی کا نام سامنے آنے کے بعد کہ جس کا انکشاف ایودھیا کے مہنت یوگل کشور شاستری نے بابری مسجد شہادت کیس کی سماعت کے دوران اسپیشل جج وریندر کمار کی عدالت میں کیا، کم از کم ایک بات عیاں ہوگئی ہے کہ امریکی سی آئی اے انتہا پسندوں کو اکسانے، نوازنے اور پروان چڑھانے میں پیش پیش رہی ہے اور ویشو ہندو پریشد والوں اور اس وقت کی کانگریس حکومت سے اسے کوئی دلچسپی ہو نہ ہو، مسلمانوں کے ساتھ اسکی دشمنی بابری مسجد کی مسماری کا باعث بنی تھی ۔ بھارتی عدلیہ کے فیصلے کے بعد بھارت میں آباد 26 کروڑ سے زائد مسلمان شدید مایوسی اور اضطراب کا شکار ہوئے جبکہ دوسری طرف انتہا پسند ہندو خوشی سے بھنگڑا ڈال رہے ہیں کیونکہ عدالت کے اس فیصلے نے مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کردی ہے ۔ مسلمانوں کا عدالت سے رجوع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ مسجد کی شہادت جو لوگ ملوث ہیں انہیں سزائیں دی جائیں اور مسجد کی ازسرنو تعمیر کی اجازت دی جائے ۔ بھارتی عدلیہ نے قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر فیصلہ کیا جوہندووَں کی قیاس آرائیوں پر مبنی ہے ۔ فیصلے میں قانون اور انصاف کے تقاضوں کو نظر انداز کرکے انتہا پسند ہندووَں کی خوشنودی حاصل کی گئی ہے جبکہ دوسری طرف مسجد کےلئے زمین دینے کی بات کر کے مسلمانوں کو خاموش کرنے کی ناکام کوشش کی گئی ہے ۔ بھارتی عدالت کا فیصلہ ایک سیاسی فیصلہ ہے جو قانون کے بجائے مذہبی بنیاد پر کیا گیا ہے ۔ عدالتوں کے فیصلے اگر سیاسی بنیاد پر ہونے لگیں تو پھر ان کا زوال شروع ہوجاتا ہے ۔

آزادی مارچ اور اگلا وزیراعظم

مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ جو 27اکتوبر 2019 کو سندھ سے شروع ہوا اور 31 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچ گیا اور اسلام آباد کے علاقے ایچ نائن میں رہائش پذیر ہے ۔ اس علاقے میں زیادہ تعلیمی ادارے ہیں اس میں میٹروبس کا مین اڈا بھی ہے عیسائیوں کا قبرستان بھی ہے ، پھولوں کی نرسریاں بھی ہیں ،، سستے بازار بھی اسی علاقے میں لگتے ہیں ، گاڑیوں کی رجسٹریشن اور سویٹ ہوم جیسے ادارے بھی اسی سیکٹر کا حصہ ہیں اس سیکٹر کے سامنے شاہراہ کشمیر ایکسپریس کی تعداد دیکھی جائے تو اندازہ لگانا بہت مشکل ہے ۔ انسانی سمجھ سے بالاتر ہے لیکن پھر بھی میں آپ کو ان کی تعداد بتانا چاہتا ہوں اور اندازہ آپ نے خود لگانا ہے اگر آپ موٹروے سے سفر کررہے ہیں اور جب موٹروے سے اسلام آباد میں داخل ہوتے ہیں تو پہلا سگنل ;71;-12 کا اور ;71;-11 کا آتا ہے اور پھر ;71;-10 اور ;71;-11کا سگنل یہاں سے شروع ہوتا ہے تو وہاں سے مولانا کے لوگوں کا جلوس شروع ہوتا ہے اور ;71;-9;47;4 میں آکر رکا ہے یعنی کہ 5 سے 6 کلو میٹر کا یہ جلوس ہے اور کم ازکم 1000 ایکڑ جگہ پر لوگوں نے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں تو تعداد کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں ، انتظامات کے حوالے سے مولانا کی ٹیم کو داد دینی چاہیے اور اس کے ساتھ ساتھ محمد حمزہ شفقات ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کو داد دینی چاہیے جس طرح وہ ہر جگہ خودجاکر انتظامات کا جائزہ لے رہے ہیں اور مولانا انتظامیہ کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں ، انتہائی محنتی، ایماندار، انتہائی لائق، اعلیٰ صلاحیتوں کا مالک، اعلیٰ انتظامی صلاحیتوں اور گفتگو کا ماہر، چیزوں کو مثبت طریقے سے ٹھیک کرنے والا ڈپٹی کمشنر نوجوان محمد حمزہ شفقات تیری جراَت اوربہادری کو سلام ۔ مولانا فضل الرحمن اور مولانا عطاء الرحمن سے ٹیلی فون اور ملاقات میں کافی باتیں ہوئی ۔ مولانافصل الرحمن سے کافی ملاقاتیں ہوئی ہیں لیکن آزادی مارچ میں جو اعتماد ان میں دیکھا ہے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا اور انہوں نے بڑی مدلل گفتگو سے اپنے مطالبات حکومت وقت کے سامنے رکھے جن میں وزیراعظم کا استعفیٰ ، نئے انتخابات اور قومی اداروں کا انتخابات سے دور رہنا جیسے مطالبات ہیں آج مولانا نے تمام سیاسی جماعتیں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرلیا ہے اور مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے ان کو مبارکباد دی ہے آزادی مارچ کے جلسے سے بلاول بھٹو زرداری ، محمد شہباز شریف، اسفندیارولی، آفتاب شیرپاءو اوردیگر قومی رہنماءوں نے خطاب کیا اورتمام رہنماءوں نے مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو سراہا اور مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم پیچھے مڑ کر نہیں جائیں گے ہمارا قافلہ آگے کی طرف رواں دواں ہوگا اور یہ لڑائی حق اورسچ کی ہے ہم جیت کر جائیں گے ۔ مولانا خطاب کرتے ہوئے جذباتی ہوگئے اور جذبات میں ان کے آنسو نکل آئے ۔ اگر مجمع کی بات کی جائے تو لاکھوں کی تعداد میں لوگ مولانا کے اشارے پر جان دینے کیلئے تیار ہیں اور اتنی تعداد میں لوگ آج تک اسلام آباد کی تاریخ میں جمع نہیں ہوئے ہیں اورمولانا فضل الرحمن نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اگر کسی قومی رہنما کے ساتھ لوگ کھڑے ہیں تو وہ صرف اورصرف مولانا فضل الرحمن ہے اور انہوں نے قومی اداروں کو تنبیہہ کی ہے پیچھے ہٹ جاءو اور اس حکومت کی مدد نہ کرو اور انہوں نے سول سپرمیسی کی بات کی ہے ۔ ووٹ کو عزت دو کی بات کی اداروں کی اصلاحات کی بات کی ہے ۔ ناموس رسالت;248; کی بات کی، اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے کی بات کی ہے ۔ دھرنے کے حوالے سے کافی لوگوں نے مضامین لکھے ہیں ۔ انہوں نے محنت زاویوں سے کالم لکھے ہیں جس میں واضح طورپرمولانا کو فاتح قرار دیا ہے ۔ آزادی مارچ کے کیا نتاءج نکلتے ہیں اس کا تو ابھی تک کسی کو پتہ نہیں ہے لیکن آزادی مارچ کا چرچہ امریکہ سے چین سے سعودی عرب سے ترکی سے پرائم منسٹر ہاءوس تک پہنچ چکا ہے اورمولانا کے آزادی مارچ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محمد شہباز شریف صدر پاکستان مسلم لیگ(ن) نے اپنی ;6786; پیش کردی ہے کہ اگر ان کو موقع دیا جائے تو و حالات کو اگلے چھ مہینے میں درست کرسکتے ہیں اور انہوں نے ماضی کی بہت سی مثالیں دی ہیں اور شہباز شریف جن کو مقتدر حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے وہ اس وقت بہت زیادہ اعتماد میں نظر آتے ہیں اور وہ یہ چاہ رہے ہیں کہ کسی طریقے سے ایوان زیریں سے تحریک عدم اعتماد پیش کرکے وزیراعظم عمران خان کی جگہ وہ وزیراعظم بن جائیں اور اس بات کے قوی امکان ہیں کہ یہ راستہ اختیار کیاجائے گا اور اگر یہ راستہ اختیار کیا جاتا ہے تو تمام سیاسی جماعتیں محمد شہباز شریف کی حمایت کریں گی جن میں پاکستان پیپلزپارٹی، اے این پی، ڈیمو کریٹ پارٹی، جمعیت علماء اسلام ،محمودخان اچکزئی پارٹی،متحدہ قومی موومنٹ اوربلوچستان عوامی پارٹی کے بھی چانسز ہیں کہ وہ محمد شہباز شریف کی حمایت کریں اورعمران خان کی اتحادی جماعتیں جن کا میں نے اوپر بتا دیا ہے وہ شہباز شریف کو سپورٹ کریں گی اور یہ فیصلہ ملک کے وسیع تر مفاد میں کیا جائے گا اس سے عمران خان بھی ناراض نہیں ہوں گے اور مقتدر حلقے بھی سامنے نہیں آئیں گے اور سانپ بھی مر جائے گا اور لا ٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی ۔ دوسری طرف تمام سیاسی جماعتیں مولانا فضل الرحمن کو مینڈیٹ دیں گی کہ آپ جس کو چاہیں وزیراعظم پاکستان نامزد کریں اور میرے خیال میں قرعہ مولانا اسعد محمود یا اکرم خان درانی کانکل سکتا ہے اگر اسعد محمود کی بات کی جائے تو انتہائی سلجھے ہوئے نوجوان ہیں اور سیاست کے اتار چڑھاءو اپنے والد سے سیکھے ہیں ۔ بڑی اچھی گفتگو کرتے ہیں ، اداروں کی بھی گڈبکس میں ہیں اور سب سے کم عمر ترین وزیراعظم ہوسکتے ہیں اورمولانا فضل الرحمن کی خواہش بھی وزیراعظم کی تواگربیٹا بن جاتا ہے تو وہ خود ہی وزیراعظم ہوں گے ۔ اگر اکرم خان درانی کی بات کی جاتی ہے تو وہ مولانا کے انتہائی قریبی ساتھی اور دوست ہیں سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وفاقی وزیر رہ چکے ہیں اور پیپلزپارٹی راجہ پرویز اشرف سابق وزیراعظم پاکستان کو اپنا امیدوار نامزد کرسکتی ہے ۔ وہ ان کے وفادار ساتھی ہیں لیکن حتمی فیصلہ مولانا فضل الرحمن اورہماری اسٹیبلشمنٹ نے کرنا ہے اور اگر دونوں طاقتوں نے مل کر فیصلہ کیا تو پھر وزیراعظم کا قرعہ یقیناً محمد شہباز شریف کے نام کا نکلے گا اور وہ اپنی محنت ، فراست سے تمام چیزوں کو ٹھیک کریں گے اور مولانا کو بھی کچھ نہ کچھ حصہ ملے گا جس میں بلوچستان کی حکومت اور خیبرپختونخوا میں گورنر شپ ملے گی اور یوں مولانابھی اقتدار کا حصہ بن جائیں گے اور آزادی مارچ سے ملک کی بہت سی چیزیں تبدیل ہو جائیں گی ۔ ادارے اپنی حدود وقیود میں رہ کر کام کریں گے معاشی حالات بہتر ہونا شروع ہوجائیں گے سیاست میں ٹھہراءو آجائے گا ۔ نیب اپنی حد میں رہ کر کام کرے گی اور آزادی مارچ سے آپ کو نیا وزیراعظم بھی مل جائے گا ۔ مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ مبارک ہو اور محمدشہباز شریف کو نئی وزارت عظمیٰ مبارک ہو اورعمران خان کو اپوزیشن لیڈری مبارک ہو اورتمام عوام اور اداروں کوملکی سلامتی مبارک ہو ۔

عظیم قوم بننے کیلئے ریاست مدینہ کے اصول اپنانے ہوں گے

ملک بھر میں عیدمیلادالنبیﷺ مذہبی عقیدت واحترام کے ساتھ منا ئی گئی،محافل نعت اورکانفرنسز منعقد ہوئیں ،مساجد میں اسلام اورمذہبی تعلیمات کے فروغ ، اتحاد،یکجہتی، ترقی اورامت مسلمہ کی فلاح وبہبود کےلئے خصوصی دعائیں مانگی گئیں ۔ شہروں میں متعددجلوس نکالے گئے ۔ گلیوں ،سڑکوں ، بازاروں ، شاپنگ سنٹرز اور سرکاری ونجی عمارتوں کو برقی قمقموں ، رنگارنگ جھنڈیوں اوربینرزسے سجایاگیا ۔ اسلام آباد میں انٹرنیشنل رحمت اللعالمین کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ میرٹ ختم ہونے پر کوئی معاشرہ اوپر نہیں جاسکتا، ہمارا کام جدوجہد کرنا ہے عزت اورکامیابی دینا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، میرا ایمان ہے پاکستان اٹھے گا ۔ ایمان کا سفر بہت بڑا ہے، یہ ایک سمندر کی طرح ہے، میں نے مدینہ کی ریاست کی باتیں الیکشن کے بعد کیں کیونکہ میں نہیں چاہتاتھا کہ لوگ بولیں کہ یہ ووٹ کےلئے بات کر رہا ہے ۔ پہلے میرے رول ماڈل کوئی اور لوگ تھے بعد میں آپ ﷺ میرے رول ماڈل قرار پائے، میرا ایمان ہے کوئی عظیم انسان بننا چاہتا ہے تو آپ ﷺ کو رول ماڈل بنائے ۔ جوبھی آپ ﷺ کے قریب لوگ تھے وہ سب عظیم انسان بن گئے، یہ معجزہ ہے کہ آپ ﷺ کے وصال کے 6سال بعد دونوں سپر پاورز نے اسلام کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔ ریاست مدینہ کی بات کرنامیری ذاتی زندگی کا تجربہ ہے،ریاست مدینہ کی بنیاد پر صدیوں تک مسلمان دنیا پر چھائے رہے، اگر قوم کو عظیم بننا ہے تو ریاست مدینہ کے اصول پر چلنا ہے ۔ پیسہ بنانا مشن نہیں ، پیسے سے انسانوں کی زندگی بہتر بنانا مشن ہے، آپﷺ آخر وقت تک مسجد نبوی میں اپنے حجرے میں رہے کوئی محل نہیں بنائے ۔ سچائی ہی مسلمان کی سب سے بڑی طاقت ہے، لوگ مجھے کہتے ہیں جنہوں نے پیسہ لوٹا انہیں معاف کردو، پیسہ میرا نہیں قوم کا ہے، ملک کو کنگال کرنے والوں کومعاف کرنے کا مجھے اختیار نہیں ہے ۔ رحم کمزور اور غریب طبقے کے لیے ہے، بڑے ڈاکوءوں پر رحم نہیں کیا جاتا، نبی کریم ﷺ نے بدعنوان عناصر کو عبرتناک سزائیں دیں ۔ این آر او دے کر ہم نے معاشرے کا بیڑا غرق کر دیا ہے، لوٹ مار کرنے والوں پر رحم اور این آر اوز سے معاشرے کا بیڑا غرق ہوتا ہے ۔ لوگ خیرات سب سے زیادہ دیتے ہیں لیکن ٹیکس نہیں دیتے، لوگ اگر ٹیکس نہیں دیں گے تو ملک کیسے چلے گا ۔ اسلام میں عالم کا بڑا درجہ ہے علماء فلاحی معاشرے کے قیام کے لئے رہنمائی کریں ۔ نوجوان حیات طیبہ ﷺ کو مشعل راہ بنائیں ،ہم اپنے نظام تعلیم میں آپ ﷺکی جدو جہد کا بتائیں گے، جو آپﷺ کے راستے پر چلتا ہے وہ بڑا انسان بن جاتا ہے ۔ رسول پاک ﷺکی تعلیمات کوعالمگیر حیثیت حاصل ہے، جدیدٹیکنالوجی کے دور میں بچوں کو اسلامی تعلیمات سے روشناس کرانا ضروری ہے،ہماری یونیورسٹیوں میں ریاست مدینہ پر تحقیق ہونی چاہیے ۔ رسول پاک ﷺ نے وراثت میں جائیدادیں نہیں چھوڑیں ، بلکہ مسلمانوں کےلئے اسوہ کامل چھوڑا ہے، سچائی ہی مسلمان کی سب سے بڑی طاقت ہے،سچ پر چلیں گے تو اللہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا، سیاست، بیوروکریسی سمیت ہر جگہ ہمارے سامنے مافیا بیٹھا ہے ۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ وزیراعظم نے سیاست اور بیورو کریسی کے حوالے سے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے وہ حقیقت پر مبنی ہیں ان کو دور کرنا ہوگا اور جب تک بیورو کریسی تعاون نہیں کرتی اس وقت تک قانونی اور آئینی درپیش مسائل کا حل ہونا بھی مشکل ہے ۔ لہذا ہم سب کو چاہیے کہ اس وطن کی خاطر اپنے فراءض سرانجام دیں ، ذاتی پسند و ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر ملک کی ترقی کیلئے ڈیوٹی سرانجام دینا ہوگی ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ جب وزیراعظم نے کہاکہ وہ پاکستان کو مدینہ جیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں تو اس کے اصول بھی اپنائے جائیں اور ریاست کا حکمران جو کہتا ہے اسلام کے اعتبار سے اس پر عمل پیرا ہونا بھی لازمی ہے ۔

بابری مسجد کا فیصلہ،

انصاف کا جنازہ

بابری مسجد کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ نے جو فیصلہ دیا وہ انصاف کے قتل کے مترادف ہے ۔ ایک جانب پاکستان کرتارپور راہداری کھول رہا ہے جبکہ وادی میں بھارت نے لگاتار کرفیو نافذ کررکھا ہے حتیٰ کہ حضرت درگاہ بل ;231; کے راستے بھی بند کررکھے ہیں ، مسجدوں کو تالے ڈالے ہوئے ہیں ، جمعۃ المبارک کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی ، ظلم یہ کہ مودی نے دہشت گردی کی انتہا کرتے ہوئے اور بنیادی حقوق کو سلب کرتے ہوئے وادی کے مسلمانوں عید میلادالنبیﷺ منانے کی بھی اجازت نہیں دی اور نہ ہی اس حوالے سے جلوس نکالنے دیا گیا، جگہ جگہ بھارتی دہشت گرد فوج پہرے لگا کر بیٹھی ہے اور آر ایس ایس کے دہشت گرد غنڈے غنڈہ گردی کرتے پھررہے تھے ۔ پاکستان نے کہاکہ مودی بھی ہ میں شکریہ کا موقع دے اور وادی سے کرفیو اٹھا دے ۔ بین الاقوامی برادری جان لے کہ پاکستان میں کس طرح مذہبی آزادی حاصل ہے، اپنے ملک کے اندر تو تمام فرضے آزاد ہیں ، اب سکھوں کیلئے کرتارپور میں بابا گورونانک کی سمادی بھی کھول دی ہے جس سے دنیا بھر کے 14 کروڑ سکھ پاکستان کے مشکور ہیں لیکن حیف ہے مودی پر جس نے بھارت میں اقلیتوں کو عرصہ حیات تنگ کررکھا ہے ۔ اسی تنگ نظری کے تحت بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوں کے حوالے کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو مندر تعمیر کرنے کا حکم دیدیا ، عدالت نے فیصلے میں کہا دونوں پارٹیوں کو ریلیف ملے گا، متنازع جگہ پر رام مندر تعمیر کیا جائے گا، مسلمانوں کو ایودھیا میں متبادل جگہ دی جائے،بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سنایا ، پانچ رکنی بنچ میں مسلمان جج ایس عبدالنذیر بھی شامل ہیں ۔ بھارتی سپریم کورٹ کے یکطرفہ فیصلے کے بعدبھارت کامکروہ چہرہ دنیاکے سامنے عیاں ہوچکاہے ۔ بھارت خود کو ایک سیکولر ملک کہتا ہے ،لیکن کیا وہ حقیقی طور پر ایک سیکولر ملک ہے، کیا وہاں کروڑوں مسلمان اور دیگر اقلیتیں محفوظ ہیں ، پاکستان نے تو سکھ مذہب کے ماننے والوں کےلئے کرتار پور راہداری بنادی اوربھارت نے کیا کیا;238; ۔ ترجمان دفتر خارجہ نے ردعمل میں کہا کہ فیصلے سے ایک بار پھر انصاف کا تقاضا پورا نہیں ہوا ۔ بھارتی سپریم کورٹ بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ۔ فیصلے سے بھارت کے نام نہاد سیکولر ازم کا چہرہ بے نقاب ہوا ۔ فیصلے سے ظاہر ہوا ہے بھارت میں اقلیتیں محفوظ نہیں ۔ بھارت میں اقلیتوں کو اپنے عقائد اور عبادت گاہوں پر تشویش ہو گئی ہے ۔ بھارت میں ہندوتوا نظریہ دیگر اداروں کو متاثر کر رہا ہے اور ہندو انتہا پسندانہ سوچ خطے میں امن کیلئے خطرہ ہے ۔

مہنگائی میں ہوشرباء

اضافہ،توجہ طلب مسئلہ

اس وقت ملک بھر میں مہنگائی عروج پر ہے ،اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ، انتظامیہ کی پرائس لسٹ پرکوئی کنٹرول نہیں ہے ، بازار میں اشیائے خوردنوش خریدنے جائیں تو روزانہ نئی قیمت ہوتی ہے ۔ آٹا، دال، گھی ،سبزی سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان تک پہنچ گئی ہیں ۔ دوسری جانب ملک بھر میں ٹماٹروں کی قیمت میں بے تحاشہ اضافہ ہوگیا ہے ،مارکیٹ میں ٹماٹرکی فی کلوقیمت تین سو روپے تک پہنچ گئی ہے جو غریب آدمی تودورکی بات ، عام آدمی بھی نہیں خرید سکتا ۔ پرائس کنٹرول کمیٹیاں سرکاری نرخ کا اطلاق کرانے میں بری طرح ناکام ہیں اور سبزی منڈی سمیت شہر بھر میں کہیں بھی سبزیوں کی سرکاری قیمتوں پر عملدرآمد نہیں ہورہا ۔ کراچی میں ٹماٹر کی قیمت ٹرپل سنچری کر چکی ہے جو کہ شہر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے ، شہری اس بڑھتے ہوئے اضافے سے بے حد پریشان دکھائی دے رہے ہیں ۔ ایسوسی ایشن کے مطابق موسم سرد ہے اور بارشوں نے فصل خراب کردی تھی جو دوبارہ لگائی گئی ہے ۔ کراچی میں ایران کا ٹماٹر آنا بند ہوگیا ہے، بلوچستان سے بھی لال ٹماٹر کی سپلائی کم ہوگئی ہے جبکہ سندھ میں ٹماٹر کی فصل تیار ہورہی ہے، 15 روز تک صورتحال واضح ہوگی ۔ حکومت کوچاہیے کہ مہنگائی کوکنٹرول کرے ۔

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

میں نوجوانوں کے دلوں میں دیکھ رہا ہوں کہ افکار تازہ کی کوئی کرن، چمک، دمک اور نمود دکھائی نہیں دیتی اور خیالات میں کہیں بھی بلندی و سربلندی نہیں ۔ ان کی زندگی مردہ دلی اور جمود سے عبارت ہو کر رہ گئی ہے یہ تعطل کی برف کب پگھلے گی ۔ اقبال شناسی تو دور کی بات ہے ہم خود شناسی کے قریب نہیں پہنچے اور غیروں کی نقالی اور مغر ب کی خیرہ نگاہی نے گمراہی کی شاہراہ پر ڈال دیا ہے ۔ اِن گھٹا ٹوپ ظلمتوں میں امیدو یقین کا آفتاب شاعر مشرق علامہ اقبال کی صورت میں جنوبی ایشیا کے آسمان پر طلوع ہوا اور اس نے پوری دنیا کے اندھیروں کو اپنے افکار و کردار سے منور کر دیا ۔ یومِ اقبال کے حوالے سے پیامِ اقبال پر پسرزادہ اقبال فضیلت مآب سینیٹر ولید اقبال نے اپنے صدارتی روشن کلمات میں اقبال شناسی کی لذت سے آشنا کیا ۔ سینیٹر ولید اقبال سے پہلے ہمارے ملک کے نامور سکالر پروفیسر ایم اے رفرف کا ساڑھے چار منٹ کا خطاب صدیوں کے واقعات پر محیط تھا ۔ پروفیسر ایم اے رفرف اس گئے گزرے دور میں اچھے وقتوں کی حسین و جمیل نشانی ہیں ۔ آپ سکوت و شگفتگی کا حسین امتزاج ہیں ۔ ہم نے انہیں اکثر کوہستانی وقار کی طرح خاموش دیکھا ہے لیکن جب وہ بولتے ہیں تو پھر شاخِ گفتار سے رنگا رنگ پھول توڑتے چلے جاتے ہیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ کوئی مہ جبیں خرامِ ناز سے گل کترتی جارہی ہو اس لئے

فقط اسی شوق میں پوچھی ہیں ہزاروں باتیں

میں تیرا حسن تیرے حسن بیاں تک دیکھوں

آپ نے فکر اقبال کو قرآن حکیم کی روشنی میں بیان کیا اور کہا کہ علامہ اقبال نے جس طرح قرآن حکیم کو غور و خوض سے پڑھا ہے اس نے مغر ب کی دانش پر ہلہ بول دیا ہے ۔ ایران، ترکی اور جرمنی میں اقبال کے افکار و نظریات نے انہیں زندہ اقوام عالم کی صفوں میں لا کھڑا کر دیا ۔ ترکی میں جو پذیرائی ڈاکٹر محمد اقبال شاعر مشرق کی ہوئی وہ مثالی ہے ۔ مولانا روم کے پہلو میں علامتی قبر بنا دی گئی ہے ۔ ڈاکٹر ایم اے رفرف نے اقبال شناسی کے حوالے سے کہا کہ اقبال خو د بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے ۔ اقبال کی نگاہ پوری مسلم امہ کے انحطاط اور نئی نسل کی بے ہمتی اور اُن کی اخلاقی پستی سے آگاہ ہے اور وہ اِن عوارض اور اخلاقی پستی کا ذمہ دار موجودہ نظام تعلیم کو قرار دیتے ہیں کہ آج کل کے نوجوانوں کے دل سوز دروں سے خالی اور اُن کی نظریں غیر عفیف ہیں ۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی زبان بہت تیز ہے لیکن ان کی آنکھوں میں اشک ندامت اور دل میں خوف و خشیت کی جھلک تک نہیں ہے ۔

جو آنکھ کہ ہے سرمہَ افرنگ سے روشن

پرکار و سخن ساز ہے نم ناک نہیں ہے

سینیٹر پسر زادہ اقبال ولید اقبال نے فلسفہَ خودی اور شاہینی اوصاف حمیدہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ درویش پرندہ شاہین کا ڈاکٹر اقبال نے کیوں انتخاب کیا ۔ اس کی خوبیوں میں اس کی بلند پروازی، تیز نگاہی ، بے نیازی، خود داری اور بے پناہی ہے ۔ ایسا بے غرض پرندہ شاہین کے سوا اور کون ہوسکتا ہے جو بے غرض ہے وہ بے پناہ ہے ۔ پہاڑوں کی چٹانوں میں اسے خلوت پسندی مرغوب ہے کیونکہ تخلیقی کارنامے تنہائی کا تقاضا کرتے ہیں اور بلند مقام پر خلوت میں جلوت کا اورہی مزہ ہوتا ہے ۔ اقبال جوانوں کو پیروں کا استاد دیکھنا چاہتے تھے اور نئی نسل کے نوجوانوں سے کیا توقعات اور اُن کے متعلق کیسے بلند خیالات رکھتے ہیں اس کا اندازہ اُن کے اشعار سے ہو سکتا ہے :

محبت مجھے ان جوانوں سے ہے

ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند

پسر زادہ اقبال ولید اقبال تو اقبال کے کلام کے حافظ معلوم ہوتے تھے آپ نے اقبال شناسی اور اقبا ل سے آگاہی سے ہم سب کو روشناس کراتے ہوئے علامہ اقبال کے اشعار اور افکار کی روشنی سے دلوں کو منور کر دیا:

جوانوں کو مری آہ سحر دے

پھر اِن شاہین بچوں کو بال و پر دے

خدایا آرزو میری یہی ہے

مرا نور بصیرت عام کر دے

علامہ اقبال کی امیدوں اور آرزوں کی جھلک ولید اقبال نے ہ میں دکھائی اور عشق کے درد مند کا پیغام ہمارے دلوں میں اترتا چلا گیا

جذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کا

ا س کا مقام اور ہے اس کا نظام اور ہے

وہ اپنی ایک نظم میں ایک نوجوان کے نام میں بڑے بلیغ اشاروں میں داستانوں کی داستانیں بیان کر جاتے ہیں ۔ ولید اقبال نے اِن اشعار پر بڑا زور دیا ہے ۔

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں

نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

نہ ہو نومید، نو میدی زوال علم و عرفان ہے

امید مرد مومن ہے، خدا کے رازدانوں میں

نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر

تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

جدید تعلیم کے مجرمانہ کردار کا اقبال نے بے باکی سے پردہ چاک کیا اور اس کی دکھتی رگوں پر ہاتھ رکھا ہے حد سے زائد فکر معاش، ناروا مصلحت بینی اور عافیت گزینی او رمصنوعی تہذیب ، نقلی زندگی اس تعلیم کی نمایاں پیدا وار ہیں ۔ اقبال نے اس کی نشاندہی کی ہے :

عصر حاضر ملک الموت ہے تیرا جس نے

قبض کی روح تری دے کے تجھ فکر معاش

اس جنوں سے تجھے تعلیم نے بیگانہ کیا

جو یہ کہتا تھا خرد سے کہ بہانے نہ تراش

فیضِ فطرت نے تجھے دیدہ شاہین بخشا

جس میں رکھ دی ہے غلامی نے نگاہِ خفاش

مدرسے نے تری آنکھوں سے چھپایا جن کو

خلوتِ کوہ و بیاباں میں وہ اسرار ہیں فاش

ضرب کلیم میں اقبال بڑی درد مندی اور جاں سوزی کے ساتھ پر خلوص انداز میں نئی نسل کے مربی سے درخواست کرتے ہیں وہ جب ایک شفیق استاذ اور مہربان و غمخوار مربی کی زبان سے یہ کہتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سارے جہاں کا درد اقبال کے جگر میں ہے اور پوری ملت کا غم اقبال کے وجود میں سمٹ آیا ہے

اے پیر حرم رسم و رہِ خانقہی چھوڑ

مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا

اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت

دے ان کو سبق خود شکنی خود نگری کا

تو ان کو سکھا خارہ شگافی کے طریقے

مغرب نے سکھایا انہیں فن شیشہ گری کا

دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی

دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا

کہہ جاتا ہوں میں زور جنوں میں ترے اسرار

مجھ کو بھی صلہ دے مری آشفتہ سری کا

بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر نسیم لیہ کی صاحبزادی ڈاکٹر آئینہ مثال جو اپنی مثال آپ تھیں جس کی افسانہ نگاری پر پاک و ہند کے ادیبوں اور شاعروں نے توصیفی کلمات سے نوازا ہے یہ اعزاز اور شرف بھی آئینہ مثال کے قرطاس اعزاز پر ثبت ہے کہ وہ ایک قومی اخبارکی مدیرہ بھی ہیں جن کو نقیبہَ محفل کے فراءض کی ادائیگی کے لیے بلایا گیا تھا وہ اقبال شناسی کی منتہا کو پہنچی ہوئی فکر کی روشنی میں ابھی اپنی بات مکمل بھی نہ کرسکی تھی اور اُس کی صلاحیتوں سے بھی ہم محروم رہے وہ صرف علامہ اقبال کا ایک شعر جس میں پورا فلسفہ حیات پایا جاتا ہے کیونکہ اقبال کی نگاہ میں اس ذہنی انحطاط کی ایک وجہ حد سے بڑھی ہوئی مادہ پرستی اور اسباب طلبی اور عہدوں ، ملازمتوں اور اونچی کرسیوں کو تعلیم کا مقصد سمجھنا بھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ بے مقصد افراد کے لئے علم دوائے نافع نہیں سمّ قاتل و قاطع ہے اور ایسے رزق سے موت بہتر ہے ۔ دختر نسیم لیہ ڈاکٹر آئینہ مثال کا یہی پیغام حاصل تقریب تھا :

اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی

جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی

مہمانانِ گرامی ملک شہباز اعوان، چوہدری ثناء اللہ جٹ، پروفیسر محترمہ شیریں لغاری امبر کراچی، چوہدری منیب الحق ;778065; اوکاڑہ ۔ اظہار خیال میں ڈاکٹر جواز جعفری صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر اور ادیب ، محترمہ صفیہ اسحاق سیکرٹری نظریہ پاکستان ٹرسٹ خواتین ونگ، سید سہیل بخاری چیئرمین ایشین کلچر ایسوسی ایشن آف پاکستان، پروفیسر ایم اے رفرف چیئرمین الفلاح قرآن و سنت اکیڈمی، شاعر و ادیب پروفیسرآغا علی مزمل، روزنامہ جنگ کے معروف کالم نگار ہمارے دلدار سراپا انکسار منتہائے خیال تک پرواز کر جانے والے شاعر ندیم اسلم کی موجودگی بھی ماحول کو آسودگی اور فضا کو پاکیزگی فراہم کر رہی تھی ۔ ندیم اسلم جیسے جوانوں کے بارے میں ہی تو اقبال نے کہا تھا کہ

جوانوں کو پیروں کا استاد کر

اور ندیم اسلم اس کی زندہ مثال ہیں جن کا آئینہ ادراک رنگ و نور سے منور ہے کیونکہ وہ ایک آزاد منش جوان ہے ۔ اس لئے اقبال کا شاہین ہے :

آزاد کا اندیشہ حقیقت سے منور

محکوم کا اندیشہ گرفتار خرافات

کشف درویش فاءونڈیشن کے زیر اہتمام پیامِ اقبال کی اس تقریب میں اُن شخصیات کی خدمات کا اعتراف علامہ اقبال گولڈ میڈل ایوارڈ سے نوازا گیا جنہوں نے زندگی کے مختلف شعبوں میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں ۔ تعلیم و تربیت کے میدان میں شاندار، کامیاب اور موَثر خدمات سر انجام دینے والے ہستی جن کو فاءونڈیشن کی انتظامیہ نے شیخوپورہ سے دو دفعہ فون کرکے اس تقریب میں عزت افزائی اور خدمات کے اعتراف میں پذیرائی کے لیے بلایا ہوا تھا انہیں مسلسل نظر انداز کیا جاتا رہا اور جس کا اعتراف بھی نقیب محفل نے کیا تھا ۔ میں صرف اُن کی خاطر اس تقریب میں پہنچا تھا اور میں اسی لئے نظر انداز کئے جانے والی شخصیت کی پذیرائی کےلئے اپنے کالم میں اُن کا نام سرفہرست لکھ رہا ہوں ۔ میری مرادممتاز ماہر تعلیم، کالم نگار، ادیب اور سماجی سائنسدان جناب محمد شہباز خان سے ہے ۔ محترمہ صفیہ اسحاق کو اُن کی فرزند اقبال پر لکھی جانے والی کتاب کے اعتراف میں علامہ اقبال گولڈ میڈل سے نوازا گیا ۔ پروفیسر محترمہ شیریں لغاری امبر کراچی سے تشریف لائی تھیں ۔ اعظم منیر چیئرمین کشف درویش فاءونڈیشن پاکستان کو سٹیج پر مہمانوں کے ساتھ بیٹھنا چاہئے تھا اور ڈاکٹر آئینہ مثال کو نقابت کی باگ ڈور پورے اعتماد اور حوصلے سے دے دینی چاہئے تھی آپ کے والد گرامی ہمارے ملک کی بہت بڑی علمی، ادبی اور سماجی شخصیت تھے آپ کا نام اتنا معروف تھا کہ اگرامریکہ سے کوئی صاحب آپ کو خط لکھتے اوراُن کا مکمل پتہ صرف نسیم لیہ پاکستان تو مل جاتاتھا ۔ اس سے مہمانوں کی عزت افزائی اور حفظ مراتب کا بھی خیال رکھا جاتا کیونکہ شیخ سعدی نے کہا ہے کہ

حفظ مراتب نہ کنی زندیقی

اس لئے آئندہ اپنی ان کمزوریوں کو دور فرمائیں ۔

بابری مسجد فیصلہ اور کرتار پور رہداری افتتاح

۹نومبر کے دن دو واقعے رونما ہوئے ۔ ایک بابری مسجد کے متعلق بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ اور دوسرا پاکستان میں کرتار پور رہداری کا افتتاح ۔ بابری مسجد جسے سلطنت مغلیہ کے بانی ظہیرالدین بابرنے ہندوستان ایودھیا میں تقریباًچھ سو برس قبل تعمیر کیا تھا جو ۶ دسمبر ۲۹۹۱ء تک قائم و داہم تھی ۔ جسے دہشت گردآر ایس ایس کے غنڈوں نے کانگریس کے سیکولر دور حکومت کے دوران بےدردی سے شہیدکیا تھا ۔ بابری مسجد کا مقدمہ بھارت کی سپریم کورٹ میں دائر تھا ۔ ہندوءوں کا دعویٰ تھا کہ بابر نے رام مندر کو مسمار کرکے یہ بابری مسجد بنائی تھی ۔ ہندواپنے دعویٰ کو سپریم کورٹ میں ثابت نہیں کر سکے ۔ صرف اتنا ہوا کہ زمین کی کھدائی کی گئی اور کہیں سے کوئی مورتی برآمد کر کے کہا کہ یہ ثبوت ہے ۔ اس کے مقابل مسلمانوں کے وکیلوں نے سپریم کورٹ عدالت میں بیان دیا کہ دنیا میں کہیں بھی کھدائی کی جائے اور کچھ نہ کچھ بر آمد ہو سکتا ہے جس کی بنیاد پر انصاف نہیں ہو سکتا ۔ سب سے بڑا ثبوت تو یہ ہے کہ بابری مسجد ایودھیا میں زمین پرچھ سو سالوں سے موجود ہے ۔ اس میں مسلمان نماز پڑھتے رہے ہیں ۔ یہ ثبوت بھاری کہ زمین کھود کر مورتی بر آمد ہونے کا ثبوت ۔ سپریم کورٹ نے بھی مانا کہ واقعی مسجد موجود تھی جسے مسمار کیا گیا ۔ یہ حقیقت تسلیم کرنے کے باوجود ہندو عقائد کی بنیاد پر فیصلہ سنایا گیا ۔ اس لیے کہ ججوں کے بھی یہی عقائد ہیں ۔ سپریم کورٹ نے ۹نومبر کو متعصبانہ فیصلہ سنا کرمسلمانوں کی ملکیت بابری مسجد کی ساری زمین کوہندوءوں کے حوالے کر دی ۔ ہندوءوں کو اجازت دیدی کہ وہاں رام مندر تعمیر کر لیں ۔ مسلمانوں نے اپنے مطالبات کم از کم کرتے ہوئے بابری مسجد کی زمین میں سے جو ان ہی کی زمین ہے، صرف ۵ ایکڑ مانگی تھی تاکہ شہید کی مسجد کی جگہ پھر سے مسجد تعمیر کر لیں ۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ بھارت میں ایک ہی جگہ ایک طرف مندر اور دوسری طرف مسجدہوتی اور کم از کم نام نہاد بھارتی سیکولر جمہورت کاچہرا روشن ہوتا ۔ مگر ہٹلر جیسی قوم کی برتی والے بھارت سے ایسی امید کہاں ہو سکتی ہے ۔ بھارت کے مسلمانوں نے اپنے تحفظات کے ساتھ سپریم کورٹ کے فیصلے کو مانا ۔ مسلم وقف بورڈ نے اس فیصلہ پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ۔ سیداسدلدین اویسی ایڈووکیٹ نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا خوب کہا ۔ گوکہ بھارت کے حکمرانوں نے مسلمانوں پر ترقی کے راستے بند کرکے بھارت کی غریب ترین اقلیت بنا دیا ہے ۔ مگر پھر بھی مسلمان گئے گزرے نہیں کہ آپ سے ایودھیا میں کسی دوسری جگہ ۵ایکڑ زمین کی بھیک مانگیں ۔ مسلمان خود زمین خرید کر مسجد بنا سکتے ہیں ۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ بھارت کی سپریم کورٹ نے حقائق کے بر عکس عقائد کی بنیاد پر فیصلہ دیا ہے ۔ مسلمانوں اور ان کے مسلم بورڈ نے اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا ۔ اس کیخلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا کہا ۔ اسدالدین اویسی ایڈوکیٹ نے کہا کہ سپریم کورٹ سپریم ضرور ہے مگر غلطی سے مبرا نہیں ۔ ہم اپنی نسلوں کو یہ ظلم کی داستان سناتے رہیں گے کہ بھارت میں ہمارے ساتھ یہ ظلم ہوا تھا ۔ بابری مسجد تو ایک طرف وہاں توبھارت کے متعصب ہندوءوں بابری مسجد کے علاوہ بھارت کی کئی مساجد پر دعویٰ کرتے ہیں کہ مندر کو توڑ کر بنائی گئیں ہیں ۔ بھارت میں مہم چلائی ہوئی ہے کہ مسلمان حکمران ڈاکو تھے ۔ اگر مسلمان حکمران ڈاکو تھے تو پھر آریہ جو وسط ایشیا سے آئے تھے وہ بھی تو ڈاکو تھے جو اب بھارت کے حکمران ہیں ۔ ہٹلر کی پالیسی پر چلنے والے ہندوءوں کے مطابق تو پھر ساری دنیا کے حکمران ڈاکو تھے جو دوسرے ملکوں پر قبضے کرتے رہے ۔ سب سے بڑا ڈاکو دہشت گرد نریندر مودی ہے ۔ کیونکہ اس نے مسلم ریاست کشمیر پر ڈاکہ ڈال کر اسے بھارت میں ضم کر لیا ۔ مسلمانوں میں سے طارق فتح نام کا ایک منافق ،متعصب ہندوءوں کو مل گیا ہے ۔ جو زی ٹی وی پر اس کا پرچار کرتا رہتا ہے ۔ بھارت کے علماء نے اسے اسلام سے خارج کر دیا ہے ۔ آ رایس ایس کے لیڈر نے بیان دیا ہے کہ بھارت کے مسلمان اور عیسائی کو۰۲۰۲ء تک ہند بنا لیا جائے گایا پھربھارت چھوڑ جائیں گے ۔ بھا رت میں ہندوءوں کے ہجوم کسی بے گناہ مسلمان کو پکڑ کر’’ جے رام‘‘ کے نعرے لگواتے ہیں ورنہ شہید کر دیتے ہیں ۔ گائے کا گوشت کھانے کے شک کی بنیاد پر دہلی کے قریب ایک مسلمان کو شہید کر دیا گیا ۔ جب تحقیق ہوئی تو پتہ چلا اس کے فریج میں بکرے کا گوشت رکھا تھا نہ کہ گائے کا ۔ بھارت میں مسلمانوں کی تاریخ کو مسخ کیا جا رہا ہے ۔ یہ وہی پالیسی ہے جس کے تحت آریوں نے ہندوستان فتح کرنے کے بعد ہندوستان کی قدیم قوم دراوڑوں پر ظلم اور تشدد کر کر کے انہیں شودر اور نیچ قو میں بنا دیا گیا ۔ یہ پالیسی اب مسلمانوں پر آزمائی جا رہی ہے ۔ اب یہ بھارت کے مسلمانوں پر ہے کہ وہ سیکولر کے جادو میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا اسلام کے جہاد کے اصول پر عمل کر کے بھارت میں عزت سے رہنا چاہتے ہیں یا شودر بن کر ۔ دوسری طرف اسی دن ۹ نومبر کو مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کے عمران خان نے گوردوارا کرتار پور کا افتتاح کیا ۔ مودی نے مبارکباد تودی مگر اے کاش اس کا بھی رویہ مسلمان اقلیتوں سے بہتر ہوتا ۔ بھارت سمیت ۲۱ ;241;ہزار کے قریب سکھ دنیا ۰۷ ملکوں سے کرتار پور گوردوارا کی یاترا کےلیء تشریف لائے ۔ گوردوارا کرتار پور سکھ مذہب کے بانی باباگرونانک کی جنم بھونی ہے ۔ گرونانک کی پیدائش ننکانا شریف میں ہوئی ۔ بابا گرو ناناک نے کرتار پور میں ۸۱سال گزارنے کے بعد وفات پائی تھی ۔ جہاں پرسکھ یاتریوں نے پاکستان میں آ کر سکھ چین محسوس کیا ۔ گیار ماہ کی قلیل مدت میں کرتار پو رراہداری مکمل کی ۔ کرتار پور کمپلیکس کو مکمل کیا ۔ ۲۷ سال سے سکھ بھارت کی سائیڈ سے دوربین سے کرتارپور کا نظارہ کیا کرتے تھے ۔ اب وہ پیدل چل کر یاسواری سے چار کلومیٹر کا سفر طے کرکے کرتارپور پہنچ سکتے ہیں ۔ کرتار پور گوردوارا پہلے چارایکڑ زمین پر تھا ۔ حکومت پاکستان نے بتالیس ایکڑ زمین اپنی طرف دے کر دنیا کا سب سے بڑا گرودوارا بنا دیا ۔ یہ ہے مسلمانوں کا اپنی اقلیت کے ساتھ رویہ ۔ پاکستان کے سارے گوردواروں کی مکمل دیکھ بھال کی جاتی ہے ۔ عمران خان نے پاکستان میں چار سو مندروں کی لسٹ بھی تیار کی ہے جن کی ضروری مرمت کی جائے گی تاکہ ہندو اقلیت بھی پاکستان میں اپنی مذہبی روسم آرام، سکھ چین سے ادا کر سکیں ۔ مودی صاحب آپ کا دماغ کب وسعت پذیر ہو گا ۔ حکومت پاکستان نے ۹;241; نومبر کے افتتاع کے دن اور باباگرونانک کی پائنچ سو پچاسویں سالگرہ کے موقع پر بیس ڈالر کے سروس چارجز بھی معاف کر دیے ہیں ۔ پاکستان نے پہلے بھی ۳۰۰۲ء میں کرتارپورگوردوارے کی مرمت کروائی تھی ۔ بھارت سے عمران خان کے دوست نجوت سنگ سدھو کریکٹر اور بھارتی پنجاب حکومت کے وزیر، سابق وزیر اعظم بھارت ڈاکٹرمن مو ہن سنگھ تشریف لائے ۔ مودی صاحب کشمیر میں تین ماہ سے زیادہ جاری کرفیو اور سری نگر کی جامع مسجد کو مسلمانوں کےلئے کھول کر رواداری کاثبوت پیش کرو ۔ عمران خان نے کہا کہ جب میں وزیر اعظم بنا تو بھارت کو امن و آشتی کا پیغام پہنچایا مگر مودی نے پاک بھارت جنگ کا سماں پیدا کیا ہوا ہے ۔ لڑائی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ۔ آئیے ملکر خطے سے غربت ختم کرنے پر اتفاق کریں ۔ یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ کشمیریوں کو ان کا حق خوداداریت دے کر اپنا وعدہ پورا کریں ۔ ایک طرف پاکستان اقلیتوں کے ساتھ اچھا روایہ اور دوسری طرف بھارت میں مسلمان اقلیت ظلم وستم کا شکار، فرق صاف ظاہر ہے ۔

کیا ہ میں اندورونی خطرات لا حق ہیں

آج کافی دنوں بعد باباکرمو سے ملنے ان کے گھر گیا ۔ گلے ملے بتایا کہ میں بھی ابھی گھرآیا ہوں ۔ پوچھا کہاں گئے تھے ۔ بتایا گھر بور ہو رہا تھا سوچا چلو دھرنا دیکھ آءوں ۔ لہٰذا میں اپنے ساتھ چنے ، ریوڑیاں ،موم پھلی لیکر گیا تھا ۔ دھرنے والوں کو یہ کھانے کی آفر کر تا رہا مگر وہ شکریہ کے ساتھ واپس کر دیتے جیسے کسی نے انہیں اجنبی بندے سے کھانے سے منع کر رکھا ہو ۔ اس دوران میں پھر خود ہی کھاتا رہا اور چلتا رہا ۔ جب تھکاوٹ محسوس کی تو واپس چلا آیا ۔ راقم نے پوچھا باباجی دھرنے میں آپ نے کیا دیکھا ۔ کہا ڈسپلن ۔ مولانا کے تابعدار ورکر ز دیکھے ۔ اگر انہیں لڑنا پڑا تو یہ لڑ جائیں گے ۔ مر جائیں گے مگرمولانا کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔ پوچھا عمران خان کے دھرنے اور مولانا کے دھرنے میں کیا فرق دیکھا ۔ کہا زمین آسمان کا ۔ عمران خان کے دھرنے میں پی ٹی آئی کے ورکروں کے ساتھ طاہرالقادری کے ورکر بھی تھے ۔ جبکہ یہاں مولاناکے ہی ورکر زان دونوں کے دھرنے سے زیادہ ہیں ۔ مولانا کے دھرنے میں اپوزیشن ساتھ ضرور ہے لیکن ان کے ورکر اس دھرنے میں شامل نہیں ہیں ۔ پوچھا مولانا کو لانگ مارچ اور دھرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ کہا حکمران اگر اپنی توجہ ملکی مسائل کے حل کرنے پر دیتے اور اپوزیشن سے ٹکڑ نہ لیتے ، مہنگائی پر کنٹرول رکھتے تو آج اپوزیشن مقابلے میں کھڑی دکھائی نہ دیتی ۔ کہا انہوں نے اپوزیشن میں مولانا فضل الرحمن کو ہی سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنائے رکھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مولانا فضل الرحمان لانگ مارچ اور دھرنے کے رستے پر چل پڑے ۔ جب اپوزیشن کی دوسری جماعتوں نے دیکھا کہ مولانا مقابلہ کرنے کےلئے سنجیدہ ہیں تو اس پر تمام اپوزیشن جماعتیں بھی ان کے ساتھ کھڑی ہو گئیں ۔ موجودہ حالات پر تبصرہ کرتے ہوئے بابا کرمو نے کہا لگتا ہے ملک کو بیرونی نہیں اندورونی خطرات کا سامنا ہے ۔ پھر ایک ماضی کا ایک واقعہ سنایا کہ ہمارے ایک سابق وزیراعظم جب سنگا پور کے دورے پر گئے تو انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ اس وزٹ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے لیڈر لی کو آن یو سے ملاجائے اور ان سے انکی ملکی ترقی کےلئے ٹپس لئے جائیں ۔ ہمارے پی ایم صاحب نے اس خواہش کا اظہار اس وقت کے سنگاپور کے وزیراعظم سے کیا ۔ سنگا پور کے وزیراعظم نے لی کوآن یو کے ساتھ پاکستان کے وزیراعظم کی ملاقات کرا دی ۔ اس ملا قات میں لی کیو آن یو نے بتایا کہ میں پاکستان مختلف حوالے سے آٹھ مرتبہ جا چکا ہوں ۔ لہٰذا میں پاکستان کے جغرافیہ ، رسم ورواج اور عوام سے پوری طرح واقف ہوں ۔ پی ایم صاحب نے پوچھا کیا آپ اپنے تجربے کی بنا پر سمجھتے ہیں کہ پاکستان کبھی سنگا پور بن سکتا ہے ۔ لی کوان یو یہ سن کر کچھ دیر خاموش رہے پھر سر ہلایا اورکہا سوری سر ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا ۔ اس کی آپ نے تین وجوہات بتائیں ۔ پہلی وجہ یہ بتائی کہ آئیڈیالوجی کی ہے ۔ آپ لوگوں اور ہم میں ایک بنیادی فرق ہے کہ آپ اس دنیا کو عارضی سمجھتے ہیں ، اصل زندگی مرنے کے بعد کی سمجھتے ہیں ۔ آپ سمجھتے ہیں کہ اس عارضی دنیا پر کیا توجہ دینی ۔ لہٰذا آپ سڑک ، عمارت سیوریج سسٹم ٹریفک قانون کی بالا دستی کو سنجیدگی سے نہیں لیتے جبکہ ہم لوگ سب کچھ اس دنیا کو ہی سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا اس دنیا کو ہی ہم خوبصورت بنانا اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں ۔ پھر کچھ دیر خاموش رہے اور کہا میں یہ سب کچھ بتاتے ہوئے شرمندہ ہوں مگر سچ بول کر میں خوش ہوں ۔ دوسری وجہ آپ لوگوں کی زندگی کے بارے میں اپروچ درست نہیں ۔ میں پیشہ کے لحاظ سے وکیل ہوں پاکستان بننے سے پہلے میرے موکل کراچی سے کلکتہ تک کے ہوتے تھے ۔ میں نے اس وقت ہندو اور مسلم کی نفسیات کو بڑے قریب سے دیکھا ۔ میرے پاس جب کوئی ہندو موکل آتا اور میں کیس کے جائزے کے بعد اسے بتاتا کہ تمہارے کیس میں جان نہیں ہے ۔ تم اگر عدالت گئے تو کیس ہار جاءو گے ۔ یہ سن کر وہ میرا شکریہ ادا کرتا اور عرض کرتا پھر دوسری پارٹی سے ہماری صلح کرا دی ۔ میں پھر ایسا ہی کرتا اور ان کے درمیان صلح کروا دیتا اور یوں مسئلہ ختم ہو جاتا ۔ اس کے مقابلے میں جب کوئی مسلم موکل میرے پاس آتا اور میں اسے دوسری پارٹی سے صلح کا مشورہ دیتا تو اس کا جواب بڑا دلچسپ ہوتا ۔ کہتا وکیل صاحب آپ کیس دائر کریں میں پوری زندگی مقدمہ لڑونگا ۔ میرے بعد میرے بچے بھی مقدمہ لڑیں گے ۔ اس کے بعد اس کے بچے بھی لڑیں گے ۔ آپ یہ کہہ کر کچھ دیر پھر رکے اور مسکرا کر بولے میرا تجربہ ہے جو قو میں اپنی نسلو ں کو ورثے میں مقدمے اور مسائل چھو ڑ جاتی ہوں وہ قومی کبھی ترقی نہیں کیا کرتیں ۔ پھر کہا تیسری آخری وجہ آپ کی وہ خلائی مخلوق ہے جو اپنی مرضی کے سیاستدانوں کو اقتدار میں لاتی ہے ۔ ایسا کرنے سے ہمیشہ آپ کے ہاں جمہوریت کمزور رہتی ہے ۔ مجھے دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں ملا جس نے اس خلائی مخلوق کے زیر اثر رہ کر ترقی کی ہو ۔ پھر روکے اور دوبارہ بولے اس خلائی مخلوق میں اور سیاستدان کی سوچ میں بڑا فرق ہے ۔ یہ خلائی مخلوق مسائل پیدا کرتی ہے جبکہ سیاستدان مسئلے حل کرتے ہیں ۔ اس مخلوق کی زندگی یا موت ہوتی ہے جبکہ سیاست دان جیو اور جینے دو کے فلسفے پر کار بند رہتے ہیں ۔ انہیں مر جاءو یا مار دو کی ٹریننگ دی جاتی ہے جبکہ سیاستدان کو صلح مذاکرات اور نرمی کی تربیت ہوتی ہے چنانچہ میرا تجربہ ہے جس ملک میں حکومت اور سیاست کرنے کا اختیار کسی اور کے پاس ہو وہ ملک کبھی ترقی نہیں کر سکتا ۔ لہٰذا میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا ملک سنگا پور بن سکتا ہے ۔ یہ واقعہ سنانے کے بعد بابا کرمو نے کہا ہمارے ہاں جب بھی الیکشن ہوتے ہیں اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں شور شرابا کرتے دکھائی دیتیں ہیں کہ الیکشن شفاف نہیں ہوئے ۔ کل تک ایسی ہی شکایت عمران خان بھی کیا کرتے تھے اور وہ بھی کھلے عام اس خلائی مخلوق کو ہی ذمہ دار ٹھہراتے تھے ۔ اب ایسی ہی صورتحال اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کی ہے ۔ موجودہ دھرنے میں بھی مولانا نے خلائی مخلوق کا کھل کر ذکر کیا ۔ جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ انتخابات اور آزادی مارچ میں ہمارا کوئی کردار نہیں ۔ حکومت نہیں بلائے گی تو ہم نہیں آئیں گے ۔ کہا ہم نہیں چاہتے کہ وہ کام ہم کریں جو دوسرے اداروں کے کرنے کے ہوتے ہیں ۔ اگر آپ نہیں چاہتے کہ الیکشن میں ہم موجود ہوں تو ہم اس پر عمل کرنے کو تیار ہیں ۔ یہ پیغام سب کےلئے ایک مثبت سائن ہے ۔ پاک فوج کے اس بیان کے بعد اب ہ میں ان پر تنقید کرنے کی ضرورت نہیں ۔ مولانا نے بھی اس پیغام کو پسند کیا اور ان کا شکریہ ادا کیا ۔ یہ ملک سب کا ہے ۔ ہم سب کو مل کر اس کے سسٹم میں موجود خرابیوں اور خامیوں کو دور کرنا ہے ۔ یہ یاد رکھا جائے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے باہر میں بیٹھے ہمارے سجن دشمن سبھی دیکھ رہے ہوتے ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ جس جس ادارے میں خامیاں خرابیاں ہوں انہیں وہ خود ہی خندہ پیشانی سے ٹھیک کر لیا کریں ۔ ملک کی اکنامی کی بری حالت ہے ۔ مہنگائی کے طوفان اور بےروز گاری کے سیلاب کو روکنے کی بھی اشد ضرورت ہے ۔ تین روز قبل سپریم کورٹ بار میں ظہیر الدین بابر اعوان سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ سابق سینٹرسابق لا منسٹر سے راقم کی ٹی ٹاک غیر سیاسی ہوئی ۔ اس موقع پر سابق صدر اسلام آباد بار ملک نوید ایڈووکیٹ اور سابق اے پی ایس چوہدری شبیر موجود تھے آپ نے بتایا کہ گندم ،گوشت ،مرغی انڈے ،دالیں اور سبزیاں یہ سب میرے اپنے گھر کی ہوتی ہیں ۔ میں مارکیٹ سے نہیں خریدتا ۔ بتایا کہ کاشت کرتے ہوئے ان کی دیکھ بھال میں خود کرتا ہوں ۔ جاپان کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ وہاں اکثر شہری گھروں میں چھوٹے چھوٹے گملوں میں کھڑکیوں کے باہر لٹکا کر سبزیاں اگاتے ہیں ۔ اس کے بعد آپ کیس کرنے اٹھے اور یوں ٹی ختم اور ٹاک کا سلسلہ منقطع ہو گیا ۔ ملاقات مختصر تھی لیکن پیغام اچھا ملا کہ ہ میں بھی آپ اور جاپانیوں کی طرح سبزیاں گھروں میں اگانے کا شوق پید اکریں ۔ ایسا کرنے سے گھر کے بجٹ میں ضرور فرق پڑے گا ۔ دیگرملکی مسائل جو ہ میں درپیش ہیں وہ حل ہو جائیں ۔ اس کےلئے دعاءوں کی سخت ضرورت ہے ۔

بے انصافی کا مندر ۔۔۔!!

بھارتی ٹی وی چینلوں میں عدالتوں کو بالعموم انصاف کا مندر قرار دیا جاتا ہے ہے مگر دو روز قبل بھارتی حکمرانوں او رعدلیہ نے جس طور انصاف کا خون کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ دہلی کے حکمرانوں نے اپنے ہر قول اور فعل سے اگرچہ بارہا یہ ثابت کیا ہے کہ وہ اول تا آخر متعصب ہندو نظریات کے حامل ہیں اور ان کے سیکولرازم اور انسانیت کے تمام تر دعوے محض لفاظی کے سوا کچھ نہیں مگر جس طور بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے کے ذریعے عدل کا ’’خون‘‘ کیا ہے اس کی مثال ڈھونڈنے سے بھی کم کم ہی ملتی ہے ۔ ایک جانب بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے پانچ رکنی بینچ کے سامنے اقرار کیا کہ ماضی میں یہاں کوئی رام مندر ہونے کا ٹھوس دستاویزی ثبوت تو نہیں مگر دوسری طرف مذکورہ بینچ نے محض بھارت کی ہندو اکثریت کے متعصب جذبات کی تسکین کیلئے اس کا فیصلے جنونی ہندوءوں کے حق میں کر دیا ۔ اگرچہ بھارتی عدل و انصاف کی ’’عظیم روایات‘‘ سے یہ غیر متوقع تو نہیں اور یہ فیصلہ بھی برہمنی انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہی کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی زمین ہندوؤں کے حوالے کی ہے اور دہلی سرکار کو وہاں بابری کے ڈھانچے کو بھی شہید کرتے ہوئے رام مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ بھارتی چیف جسٹس رنجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے یہ فیصلہ سنایا ۔ یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ جسٹس رنجن گگوئی نے یہ فیصلہ اپنی ریٹائرمنٹ سے محض ایک ہفتہ قبل سنایا ہے، 17 نومبر کو موصوف ریٹائر ہو رہے ہیں ، ویسے بھی یہ فیصلہ 16 یا 17 نومبر کو سنایا جانا تھا مگر جانے کن وجوہات کی بنا پر انتہائی عجلت میں یہ فیصلہ سنایا گیا ۔ رام مندر کی تعمیر کے فیصلے کے بعد بھارت بھر کے مسلمانوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور تقریباً پورے بھارت میں میں تمام سرکاری اور غیر سرکاری تعلیمی ادارے 11 نومبر تک بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے اور ایودھیا سمیت پورے بھارت میں سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے ۔ مبصرین کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ کے اس فیصلے میں عجلت کی وجہ یہ بھی تھی کہ کرتار پور کاریڈور کا افتتاح چونکہ 9 نومبر کو ہوا اور اس کی وجہ سے مودی سرکار انتہائی دباءو میں تھی اس لئے وہ عوامی توجہ ہٹانے کیلئے کچھ جنونی ہندو جذبات کی تسکین چاہتی تھی، جس کی وجہ سے یہ سب کچھ فوری طور پر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ سنجیدہ حلقوں کا کہنا ہے کہ چھ دسمبر کو بھارت کے تمام مسلمان گزشتہ ستائیس سالوں سے یومِ سیاہ کے طور پر مناتے آ رہے ہیں کیونکہ اس دن 1992 میں بھارتی صوبے یو پی میں جو سانحہ رونما ہوا اس نے پورے بر صغیر کے امن و امان کو تہہ و بالا کر کے رکھا دیا تھا ۔ اس روز ایودھیا میں بابری مسجد شہید کر دی گئی ، اس کے فوری نتاءج تو یہ برآمد ہوئے کہ ہندوستان بھر میں مسلم کش فسادات کے دوران چند ہی دنوں میں ہزاروں بے گناہ مسلمانوں کو تہہ تیغ کر دیا گیا اور افسوسناک بات یہ ہے کہ ستائیس سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس جرم عظیم کے مرتکب کسی بھی ایک فرد کو سزا نہیں دی گئی جس سے بھارت کی نام نہاد جمہوریت اور سیکولرازم کا اصل چہرہ بڑی حد تک دنیا کے سامنے پھر بے نقاب ہو چکا ۔ یہ الگ بحث ہے کہ مغربی دنیا نے اپنے سطحی مفادات کی خاطر اس جانب ہنوذ خاطر خواہ توجہ نہیں دی ۔ یاد رہے کہ بھارت نے اپنی آزادی کے بعد سے نہ صرف مغربی دنیا، بلکہ عالم ِ اسلام کے اکثر ممالک کو بھی طویل عرصے تک یہ تاثر دیے رکھا کہ ہندوستان میں جمہوریت قائم ہے اور اس ملک کے مسلمان باشندوں کو کسی امتیازی سلوک کا نشانہ نہیں بنایا جاتا اور اگر کہیں مسلم کشی کے واقعات پیش آتے بھی ہیں تو انھیں حکومتی سرپرستی حاصل نہیں ہوتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان کا یہ چہرہ پوری طرح مصنوعی تھا اور گزشتہ 72 برسوں کے دوران وہاں بر سر اقتدار آنے والی ہر حکومت کے دور میں مسلمانوں پر بے پناہ مظالم ڈھائے گئے اور انھیں اجتماعی اور انفرادی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔ توجہ طلب امر ہے کہ واجپائی نے بھی اس حقیقت کا اعتراف ایک سے زائد بار ان الفاظ میں کیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کا اصل مسئلہ ’’بابری‘‘ نہیں بلکہ ’’ برابری کا ہے‘‘ ۔ اس کی وضاحت کرتے موصوف نے یہ فلسفہ جھاڑا تھا کہ ’’بھارتی مسلمانوں کو بابری مسجد کی شہادت اور اس کی تعمیر نو کا مطالبہ کرنے کی بجائے اپنی ساری توانائی اس مطالبے کو منظور کرانے کی طرف مبذول کرنی چاہیے کہ انھیں ہندوستان میں زندگی کے ہر شعبے میں برابری کے حقوق میسر آنے چاہئیں ‘‘ ۔ واجپائی کے اس بیان میں جو اعترافِ گناہ پوشیدہ ہے وہ یقینا عذر گناہ بد تر از گناہ والی بات ہے مگر بظاہر اس سادہ سی بات میں جو تلخ حقائق چھپے ہیں ان پر پوری عالمی برادری کو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہی بات پاکستان بھی مسلسل 72 برسوں سے کہہ رہا ہے اور بھارتی مسلمان بھی مسلسل فریاد کرتے رہے ہیں کہ انھیں ہندوستان میں برابری کے شہری حقوق میسر نہیں اور یہ کسی بھی جمہوری معیار کے بنیادی تقاضوں کے منافی ہے ۔ یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مسلم دشمنی میں کانگریس بھی ;667480; سے کچھ زیادہ پیچھے نہیں اور وہ دراصل ’’ سافٹ ہندوتوا‘‘ کی پالیسی پر بتدریج عمل پیرا ہے ۔ ماہرین کے مطابق دہلی کے حکمران یوں تو انسان دوستی کے دعوے کرتے نہیں تھکتے مگر ان کا پول آئے دن کسی نہ کسی صورت میں کھلتا رہتا ہے ۔ گزشتہ روز مہاراشٹر میں شیو سینا کے سربراہ ادت ٹھاکرے نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آرایس ایس اور بی جے پی نے خود پر جو لبادہ اوڑھ رکھا ہے، اس منافقانہ روش کو ختم کر کے اپنی اصلیت دنیا پر واضح کرنی چاہیے ۔

Google Analytics Alternative