کالم

اقبال ،علامہ اسد،موددی ، قائد اعظم اور چوہدری نیاز علی

پروفیسرڈاکٹر محمدخالد مسعود سابق چیئر مین اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان اسلام آباد صاحب نے کہا کہ علامہ محمد اسد;231; کو پاکستان کے لوگ بھول گئے ہیں ۔ ان کی پاکستان کے لیے خدمات کویاد رکھنا ضروری ہے ۔ ان کی انگریزی کی کتاب سے اسلام کی خدمت میں ایک مثال کا اردو ترجمہ کی سلائیڈ پر دیکھایا ۔ جس میں انہوں نے کہ بازار میں پرانے آف ڈیٹڈ کپڑے پڑے ہوئے ہیں اور لوگ یہ دیکھتے ہوئے بھی اس زمانے میں یہ کپڑے کام نہیں آسکتے، مگر دھڑا دھڑا پرانے کپڑے خرید رہے ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ علامہ محمد اسد;231; پرجناب اکرام الحق صاحب کی لکھی ہوئی کتاب میں سے مفید معلومات حاصل ہو سکتی ہیں ۔

مہمان خصوصی راجہ ظفر الحق صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ سیکولر حضرات ہمیشہ قائد اعظم ;231; پر الزام تراشی کرتے ہیں کہ پاکستان معاشی ترقی کے لیے بنا تھا ۔ کہتے ہیں کہ میں مصر میں پاکستان کا سفیر تھا تو مصر کے لوگوں ،جن میں مشہور اخبار کے ا یڈیٹر بھی شامل ہیں ان کے ذہن بھی ایسے ہی خیالات تھے ۔ میں نے ان کو ایک کتاب سے پڑھ کر سنایا کہ بھائی پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الاللہ‘‘ کے نام سے بنا ہے ۔ اس میں معاشی ترقی کہاں سے آ گئی ۔ انہوں نے کہا کہ پھریہ کتاب میں نے ان کو تحفے کے طور پر پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں ۸۵۹۱ء لاء کالج کا طالب علم تھا ۔ اس وقت میری علامہ محمد اسد;231; سے ملاقات ہوئی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ علامہ محمد اسد;231; اور فلطین کے مفتی اعظم حیسنی;231;پر اس وقت کسی کو اعتراض نہیں تھا ۔ راجہ ظرالحق نے کہا کہ لیاقت علی خان نے کہا تھا کہ ہ میں امریکا یاروس کی طرف دیکھنے سے بہترہے کہ ہم اپنے پیغمبر;248; کی تعلیمات طرف دیکھیں ۔ راجہ صاحب

نے کہا کہ تیسری دنیا پر قبضہ کے لیے استعمار نے پہلی دوسری جنگ کی تھی ۔ ہمارے ملک میں سودی بنکاری چل رہی ہے جبکہ دنیا میں ۰۸ غیر سودی نظام پر کامیابی سے چل رہے ہیں ۔ اب دینا کا رجوع اسلام کی طرف ہو رہا ہے ۔

پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے اختتامی تقریر میں شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے کہا، ان شاء اللہ آئندہ میں بھی انسٹیٹویٹ آف پالیسیزاسٹڈی اسلام آباد کے اشتراق سے ہم پاکستان کے اسلامی تشخص اور تحریک پاکستان میں مد دکرنے والے معروف لوگوں کے متعلق پروگرام کرتے رہیں گے ۔ دوسری باتوں کے علاوہ انہوں اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ کتنا اچھاکہ اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد میں علامہ محمد اسد ;231; کے نام کی چیئر رکھی جائے ۔ بہر حال میں اپنے طور پر اسلام نظریاتی کونسل کی لائیبریری کو علامہ محمد اسد;231; کے نام کرنے کا اعلان کرتاہوں ۔ لائیبریری کی علامہ محمد اسد;231; کے نام سے وابستگی اور شناخت کے لیے ضروری اقدامات کئے جائیں گے ۔ اس اعلان کو حاضرین نے بہت پسند کیا اور تالیں بجا کر اس کی بھر پور تائید کی ۔ آج کا پروگرام اختتام کو پہنچا ۔ آخر میں مہمانوں کے لیے ایک پر تکلف ریفریش منٹ کا انتظام بھی کیا گیا تھا ۔

وادی کشمیر میں بدروحوں کا راج

ہندووں کے مذہبی اور سیاسی پیش امام چانکیہ کوٹلیہ اچاریہ کی بدروحیں ;200;جکل وادی کشمیر پر یلغار کئے ہوئے ہیں ،چانکیہ کی ۔ ۔ ارتھ شاستر ۔ ۔ پڑھیں تو کبھی کبھی تو اس کے خیالات اور فرمودات کی وجہ اس کی ذات سے ہی گھن ;200;نا شروع ہو جاتی ہے، مثلا;34; ایک باب میں وہ لکھتا ہے کہ دشمن ملک کو پریشان کرنے کیلئے اسکے علاقے کے کنوءوں میں غلاظت ڈلوا دو، کچھ لوگوں کے سر تن سے جدا جسموں کو درختوں پر لٹکوا دو وغیرہ وغیرہ، لیکن اسکے پورے لٹریچر کے مطالعہ کے بعد اسکی شخصیت اس صدی کے ذہین ترین لوگوں میں شمار کی جا سکتی ہے ۔ evil genious اسکا بہترین خطاب دیا جا سکتا ہے ۔ چانکیہ برہمن تھا اور چندر گپت موریہ کا اتالیق و وزیر با تدبیر تھا، عوام، حکام اور حکومت اور طریقہ ہائے راج،غرض زندگی کے ہر ایک نقطہ ہر ایک شعبے کے ہر سوال پر اسکی کتابوں میں اسکا جواب موجود ہے ۔ لیکن بغور جائزہ لیا جائے تو اسکی ہر چال ہر تدبیر صرف اور صرف ایک بادشاہ یا راجہ ہی کے گرد گھومتی ہے اور راجہ کو اپنی رعایا پر ہر حال میں فوقیت، عوام کو کچلنے اور راجہ ہی کی کامیابی کے مختلف اصولوں پر مختلف قسم کی مثالوں سے بھری ملتی ہے ۔ ہرچھوٹے بڑے سوال کا جواب بادشاہوں کی کامیابی سے ملایا گیا گویا چانکیاء فلسفہ راجہ کی کامیابی سے شروع ہو کر راجہ ہی کی کامرانیوں کا ایک نہایت ہی مکروہانہ، بلکہ ایک مربوط جاسوسانہ پیچیدہ جال کی طرح محسوس ہوتا ہے ۔ کہتے ہیں کہ ;200;ج تک ہندوستان کے جتنے بھی سربراہ ;200;ئے وہ سب اسکی ہر کتاب کا بغور مطالعہ کرنا اپنا قومی و مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں اسی لیے ہندو کو چالاک بنیا بھی مانا جاتا ہے، ;200;زادی کے بعد ;200;ج تک ہم نے اپنے ہمسائے ہندو ستان کی کون کون سی چالاکیاں نہیں دیکھیں ، کیا کیا دکھ اس نے ہ میں نہیں دئیے ۔ ;200;ج محاصرہ جموں کشمیر کو 22واں روز ہوا چاہتا ہے،جب کوٹلیہ کے پیروکاروں نے یکطرفہ ;200;ئینی ترمیم کر کے عملی طور پر پوری مقبوضہ وادی کو ایک جیل خانہ میں تبدیل کر دیا ہے ۔ ہر طرف ھو کا عالم ہے ۔ لاکھوں بچے بوڑھے عورتیں اپنے اپنے گھروں میں قید کر دئے گئے ہیں ، پانی بجلی ناپید اور خوراک ندارد ۔ مسلسل کرفیو نافذ ہے، کسی کو باہر ;200;نے کی جراَت ہی نہیں ۔ بلاشبہ صدی کا ;200;جکل سب سے بھیانک ظلم اسوقت مقبوضہ کشمیر میں بپا ہے ۔ یہ تو کرفیو ہٹنے کے بعد ہی پتہ چلے گا کہ کتنے بے گناہ پانی کو ترس کر اور کتنے بھوک اور ادویات کی عدم فراہمی سے اس دنیا سے چلے گئے ۔ یقینا;34; جو صورتحال چل رہی لگتا ہے چند دنوں بعد کچھ ایسے ایسے ہولناک انکشافات ہونے جا رہے ہیں جن کو سن کر شاید قدرت بھی رو پڑے ۔ ترس صرف نہیں ;200;رہا تو ظالم چانکیاء حکمرانوں ، بے حس، بے درد اقوام عالم اور خصوصا;34; چند مسلمان ممالک کو جو ظلم کی اس گھڑی میں بھی مظلوم کا ساتھ دینے کے صاف طور پر بے اعتناء برتتے ہوئے سیدھا ظالموں ہی کی خوشنودی کرتے اور قاتلوں کو ہی سینے سے لگاتے نظر ;200;تے ہیں ۔ عشق قاتل سے بھی اور مقتول سے بھی ہمدردی ہے لعنت انکی انسانیت، خودغرضی اور نام نہاد ہمدردی، انکے مال ودولت اور انکی مسلمانیت پر کہ جو بھائی ہو کر مظلوم بھائیوں کو مرہم لگانے کی بجائے الٹا انکے زخموں پر نمک چھڑکنے کا کام کر رہے ہیں ۔ کشمیر میں جاری ظلم پر ان خود غرض شیخوں کو صرف تجارتی مفادات کی خاطر کوئی عزت یا ایوارڈ دینے کے ;200;ج کے چانکیہ (مودی) کو جوتوں کا ہار پہنانا چاہئے تھا، لیکن افسوس ۔

اب محمد کہاں ،ابن قاسم وہ مسلمان کہاں ;238;

جس نے اک ;200;ہ پہ روندا تھا تراہندوستان;238238;

ارض اقدس سے جو نکلا تھا وہ ہمدرد کہاں

;200;ج توہم پہ مسلط ہیں یہ سب ننگ زماں ۔

ہندوستان میں ;200;جکل تقریبا;34; ہر ہندو نیتا چانکیہ اچاریہ کوٹلیہ بنا ہوا ہے، خصوصا;34; اسکی چالاکیاں اور ہوشیاریاں ;200;جکل ہر ۔ ۔ بی جے پی ۔ ۔ کا نیتا رات دن دکھلا رہا ہے ۔ حالیہ سانحہ مقبوضہ کشمیر کا اصل ۔ ۔ اسکرپٹ راءٹر ۔ ۔ ۔ اجیت دوول کی ایسی ہی ایک چتر چالاکی ، جبری قبضے کے پانچویں چھٹے روز جب کہ ہر طرف مکمل ہو کا عالم، لاک ڈاون، انٹرنیٹ اور تمام ذراءع مواصلات پر پابندی کے باوجود، وہ اچانک ایک ویڈیو ریلیز کرواتا ہے، جس میں کشمیر کے ایک بازار میں سات ;200;ٹھ لوگوں کے ساتھ فٹ پاتھ پر دوول کچھ کھاتا پیتا نظر;200;تا ہے،اور انڈین بکاءو چینلز اسکو اتنا بڑھا چڑھا کر دکھاتے ہیں جیسے پوری کشمیر ی قوم انکے ساتھ ہے، وہ انکا نجات دہندہ اور جیسے وہ بھارت کےساتھ انضمام پر دل و جان سے خوش ہیں ۔ ظاہر ہے چھ ۔ سات کشمیریوں کو اپنے ساتھ ملانا کونسی عجب کہانی ہے ۔ وہ موت کے خوف سے بھی ہاں میں ہاں ملاتے رہے ہوں گے، ایجنسیوں کے ;200;دمی بھی ہو سکتے ہیں ، لیکن ;200;ج چوتھاہفتہ جا رہا ہے ، قابض بھارتی فوج علاقے سے کرفیو نہیں ہٹا سکی، دوسرا جمعہ ادا نہیں ہو سکا مساجد پر بڑے بڑے تالے پڑے ہیں اور لوگ اس جبر پر مرنے مارنے پر تلے ہیں ، اور بھارتی جنونی حکمرانوں کی کم عقلی اور بےوقوفانہ حرکت پر ;200;ج پوری وادی کا ایک ہی مقبول ترین نعرہ گونج رہا ہے جسکی فلک شگاف ;200;وازیں یقینا;34; دلی کے ایوانوں کو روزانہ لرزارہی ہیں ;84;here is only one solution, gun solution ، gun solutionاور انڈین ;200;رمی کو پتہ ہے کہ اس بہت گہرے اور تاریک سکوت کے بعد ایک بہت ہی بڑے پیمانے پر تباہی بربادی دونوں طرف ہونے والی ہے ۔ لیکن چانکیہ تو یہ کہتا ہے کہ جتنے مرضی ہیں مارو، اپنے بھی بہت سارے مار دو لیکن راجہ کا راج ہر حال میں قائم رہناچاہئے ۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ اسوقت ہندوستان میں کٹر ہندوتواء قوتیں اقتدار میں ہیں ۔ اکھنڈ بھارت ان کا خواب ہی نہیں مذہبی فریضہ ہے ۔ یہ کسی کی نہیں سنتے، افسوس تو یہ ہے کہ یہ اپنے لاکھوں کروڑوں امن پسند ہندووں کی بھی نہیں سنتے، راہول گاندھی بھی ہندو ہے لیکن وہ موجودہ جنونی حکومت سے اس انتہائی اقدام پر سخت ناراض ہے ۔

کشیدہ صورتحال میں بھارتی میڈیا کی زرد صحافت

اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی میڈیا اس وقت مودی سرکار کے مکمل کنٹرول میں ہے اور وہ وہی کچھ شاءع اور نشر کر رہا ہے جو بھارتی حکومت چاہتی ہے اور تلخ حقیقت یہ ہے کہ مودی سرکار ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے نظریے کیساتھ تیزی سے اس منزل کی جانب گامزن ہے جو خطے کے امن کو تباہ و برباد کر دیگا،بحیثیت مسلمان مجھے اس بات پر یقین ہے کہ جنگ ہوئی تو بھارت کو سر چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملے گی اور وقت ثابت کریگا کہ شہید بننے کی تڑپ لیے جینے والی قوم پر جنگ مسلط کی جائے تو وہ کسی نقصان کو خاطر میں لائے بغیر ایسے لڑتی ہے جیسے بھوکا شیر اپنے شکار پر حملہ آور ہوتا ہے ۔ مودی سرکار اس وقت خطے کے حالات مسلسل خراب کرنے کے درپے ہے اور ہر وہ قدم اٹھا رہی ہے جو پاک بھارت جنگ کی طرف جا رہا ہے شاید بھارت اس غلط فہمی میں ہے کہ پاکستان کبھی بھی بھارت پر حملہ نہیں کریگامگر مسلمانوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب جب مسلمانوں پر ظلم ہوا تو مسلمان سپہ سلارہی دنیا کے دوسرے خطوں سے انکی مدد کو آئے اور انکو نہ صرف آزادی دلائی بلکہ اس خطے کی حکمرانی بھی دی ،بھارت کو 27فروری 2019ء کا دن یاد رکھنا چاہئے اس لیے اگر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کا قبضہ نہ چھوڑا اور اقوام متحدہ نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو صورتحال کشیدگی کی طرف بڑھے گی کیونکہ اقوام عالم کی مسلسل خاموشی بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں مزید ظلم کرنیکی شہ دیگی،اس وقت بھارت نے کشمیر میں 26دن سے کرفیو نافذ کر رکھا ہے،جس کشمیری کو چاہتا ہے جعلی آپریشن کے نام سے شہید کر دیتا ہے،کشمیریوں کو گھروں میں محصور کر رکھا ہے،کشمیریوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ باقی نہیں بچا،ادویات اور اشیائے خوردونوش کی شدید قلت ہے،بھارتی فوج کشمیری بچوں اور نوجوانوں کو اٹھا کر جیلوں میں ڈال رہی ہے اور کشمیری بہنوں کی عزتوں کیساتھ کھیل رہی ہے،مودی سرکار کی جانب سے پہلے سے جاری ظلم کی انتہا میں اگر مزید ظلم کا اضافہ ہوا اور پاکستان کیساتھ مذاکرات سے بھاگا گیا تو انجام جنگ ہو گی ۔ جب ظلم بڑھے گا اور مودی سرکار مذاکرات کے راستے بند کر نے کیساتھ کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول نہیں کریگی تو انجام جنگ ہی ہوا کرتی ہے اور اگر ایسا ہوا تو تاریخ میں بھارتی میڈیا کا کردار سیاہ حروف سے لکھا جائیگا ۔ بھارتی میڈیا کو آئینہ دکھانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ بھارتی میڈیا کی آنکھوں پر آر ایس ایس کے نظریے کی سیاہ پٹی بندھی ہے اور اگر اس سے باہر تھوڑا بہت کچھ نظر آرہا ہے تو مودی سرکار کے نوٹوں اور دھمکیوں کی چمک آنکھ کی روشنی کو چندیا رہی ہے اس لیے مودی سرکاراور میڈیا کو نہیں آر ایس ایس کو اپنے نظریات پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے یا پھر بھارتی عوام آر ایس ایس نظریات کو سمجھیں اور بی جے پی کے طرز حکومت کو مسترد کرتے ہوئے سڑکوں پر نکلیں اور اگر بھارتی عوام متحد نہ ہوئے تو انکو مدنظر رکھنا چاہئے کہ ڈرپوک مودی سرکار اپنے ہی گھر میں آگ لگا رہی ہے اور اگر اس آگ کو قابو نہ پایا گیا تو یہ پورے گھر کو اپنی لپیٹ میں لے لیگی اس لیے بھارتی عوام کی امید کی ایک کرن ہیں جو کہ اس جنگ کو روک سکتے ہیں کیونکہ محکوم بھارتی میڈیا سے امید رکھنا وقت کا ضیاع ہے ۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر)مرزا اسلم بیگ نے روز نیوز کے پروگرام سچی بات ایس کے نیازی کے ساتھ میں گفتگو کی جس میں انھوں نے مسئلہ کشمیر کے حل پر بات کی،جنرل مرزا اسلم بیگ نے بھارتی حکومت کی آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تھی کہ مقبوضہ کشمیر میں مظالم کے پہاڑ توڑنے سے خطے کا امن تباہ ہو جائیگا،انھوں نے بھارت کو باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ اگر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو آزاد نہ کیا تو مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی زور پکڑے گی جس کو کنٹرول کرنا کسی کے بس میں نہیں رہے گامگر آر ایس ایس نظریے پر دوڑتی بھارتی سرکار کو جنرل مرزا سلم بیگ کی یہ باتیں ایک آنکھ نہ بھائیں ،بھارتی حکومت نے اپنے میڈیا کو حسب روایت استعمال کرتے ہوئے پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ شروع کر دیا اور پاکستان کی امن کوششوں کو دہشتگردی کیساتھ جوڑتے ہوئے دنیا کی نظروں میں دھول جھونکنے کی بھونڈی کوشش کی ۔ مودی سرکار کے حکم پر بھارتی میڈیا کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کرے،جلد بازی میں بھارتی میڈیا نے مسئلے کے حل کی طرف جانے کے بجائے دونوں ملکوں کے درمیان فاصلے مزید بڑھانے میں بھرپور کردار ادا کیا اور حسب روایت حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے زرد صحافت کا علم سربلند رکھا،بھارتی میڈیا نے کشمیری تو ایک طرف بھارت کے اندر بسنے والے مسلمانوں پر ظلم کیخلاف آواز بلند کرنا چھوڑ دی ہے بلکہ ظلم کو نظریاتی اور لسانی رنگ دینا شروع کر دیا،اپنے اسٹوڈیوز سے لائیو پروگراموں میں مسلمانوں کو نکالنا شروع کر دیا،بھارتی ظلم کیخلاف آواز بلند کرنے والی سیاسی شخصیات کو غدار کہنا شروع کر دیا،انکی پریس کانفرنسز کا بائیکاٹ کرنا شروع کر دیا،انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں کو بھارتی میڈیا نے حراساں کرنا شروع کر دیا غرض بھارتی میڈیا نے مکمل طور پر پاک بھارت جنگ کا ماحول بنا رکھا ہے ۔ بھارتی میڈیا کا کردار ایک اسٹیک ہولڈر کی طرح کا بن کر رہ گیا ہے جس کی وجہ نوٹوں کی چمک اور ہندوتوا نظریے کا خوف ہے اسی لیے تو بھارتی فوج بھی اپنے میڈیا کے بارے میں اچھے تاثرات نہیں رکھتی ،بھارتی پائلٹ ابھی نندن نے باقاعدہ بیان دیا تھا کہ بھارتی میڈیا باتوں کو بہت بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے حالانکہ بھارتی میڈیا ابھی نندن کو ہیرو کی طرح پیش کرتا ہے اس کے باوجود ابھی نندن کے بھارتی میڈیا کے بارے میں ایسے تاثرات بھارتی میڈیا کے سیاہ چہرے کو بے نقاب کرنے کیلئے کافی ہیں ۔ بھارتی میڈیا اپنی حکومت کا بیانیہ بول کر پاکستان پر دہشتگردی کا الزام لگاتا ہے لیکن اسے اپنی ہی حکومت کے دہشتگردانہ اقدامات نظر نہیں آتے جوکہ بھارتی میڈیا کی جانب سے زرد صحافت کا منہ بولتا ثبوت ہے،بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو بھارت کے دہشتگرد ملک ہونے کا منہ بولتا ثبوت ہے،عالمی عدالت انصاف نے بھی اپنے فیصلے میں بھارت کو دہشتگرد ملک قرار دیا اس لیے بھارتی میڈیا سچ بیان نہیں کر سکتا اور حقائق پیش نہیں کرسکتا تو کم از کم جھوٹ کا پرچار تو نہ کرے اس سے اسکی کا چہرہ سیاہ سے سیاہ ترین ہوتا چلا جائیگا ۔ پاکستان کو بھی چاہئے کہ وہ جنگ کی تباہ کاریاں بتانا بند کر دے کیونکہ دشمن ہماری امن کی آواز کو کمزوری سمجھ رہا ہے تاہم جنگ اور بالخصوص ایٹمی جنگ کے اثرات بتانا میڈیا کا کام ہے اور میڈیا کو اپنا کردار نبھانے کی ضرورت ہے مگر دلیری کیساتھ کیونکہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کہ چکے ہیں کہ ہم کشمیر کیلئے آخری حد تک جائیں گے اور ہ میں اپنی فوج کی طاقت کا اچھی طرح علم ہے اسی لیے ہ میں اپنی مسلح افواج پر فخر ہے ۔ جس ملک کی مسلح افواج انتہائی پیشہ ور،جدید ترین اسلحے و ٹیکنالوجی سے لیس ہو اوراپنی قوم کی طرح جذبہ شہادت سے سرشار ہو تو کامیابیاں ہمیشہ اسکے قدم چومتی ہیں ۔

مسئلہ کشمیر، عالمی طاقتوں کیلئے ایک سنجیدہ سوال

adaria

مقبوضہ کشمیر میں حالات آئے دن سنگین سے سنگین ترین ہوتے جارہے ہیں ، بھارت کسی طرح بھی اپنی ہٹ دھرمی سے ہٹنے کیلئے تیار نہیں ۔ خصوصی طورپر گزشتہ دنوں بھارتی وزیر دفاع کی جانب سے ایٹمی جنگ کی دھمکی نے دنیا کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے، امریکی تھنک ٹینک نے بھی اپنی رپورٹ میں دنیا کو متنبہ کیا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی حالیہ صورتحال جنوبی ایشیاء میں ایٹمی ہتھیاروں کو چنگاری فراہم کرسکتی ہے ۔ جیو پولیٹیکل انٹیلی جنس پلیٹ فارم، اسٹریٹ فور کی جانب سے جاری ہونے والی رپورٹ میں کشمیر تنازع کو اندرونی امور یا باہمی مسئلے کے برعکس عالمی امن اور سلامتی کا مسئلہ قرار دیا گیا ہے،کئی دہائیوں قبل کشمیری عوام کی رائے جاننے کا وعدہ کیا گیا تھا جوکہ پورا نہیں کیا گیا، پاکستان اور بھارتی افواج کے پاس جوہری ہتھیار ہیں جوکہ تباہی کا باعث بن سکتے ہیں ۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ مودی نے پاکستان کی جانب سے خیرسگالی کے جذبے کا اعتراف کیا اور نہ ہی بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر پر بات چیت کیلئے تیار ہے، ۔ ادھر حریت رہنما علی گیلانی نے پاکستان اور مسلم امہ سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیریوں کی مدد کیلئے میدان میں آئیں ،بزرگ رہنما نے کہا ہماری جدوجہد بھارتی قبضے سے مکمل آزادی تک جاری رہے گی ۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی سازش کو بے نقاب کرتے ہوئے مودی کو آئینہ دکھا دیا، اخبار نے لکھا کہ مقبوضہ وادی کی سازش تین مرحلوں میں تیار کی گئی اس کا آغاز جون 2018ء میں اس وقت ہوا جب بی جے پی مقبوضہ کشمیر کی حکومت سے اچانک علیحدہ ہوگئی، سازش کے دوسرے حصے پر عملدرآمد اس وقت ہوا جب گورنر نے ریاستی اسمبلی تحلیل کردی ۔ امریکی اخبار کے مطابق مودی سرکار حیلے بہانوں سے الیکشن ملتوی کرتی رہی اور ایک گھناءونی سازش کا تیسرا مرحلہ 5 اگست کو آرٹیکل 370 ختم کرکے سامنے آیا ۔ اس طرح پوری وادی میں لاک ڈاءون اور ہزاروں کشمیریوں کی گرفتاریاں بھی اسی سازش کا حصہ ہیں ۔ وادی کے حالات انتہائی مخدوش ہوچکے ہیں اسی سلسلے میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کشمیر ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں انسانی المیہ رونما ہونے کو ہے اور او ;200;ئی سی سمیت اسلامی ممالک کو چاہیے کہ بیانات سے بڑھ کر اپنا کردار ادا کریں ، بھارتی جنتا پارٹی کی حکومت ہندو انتہا پسند تنظیم ;200;ر ایس ایس کے غنڈے کشمیر میں بھیجنے کی تیاریاں کر رہی جس سے حالات مزید بگڑ سکتے ہیں ،بھارت کشمیر کی صورتحال پر غلط بیانی سے کام لے رہا ہے وہاں انسانی حقوق کی صورتحال انتہائی نازک اور پریشان کن ہے ۔ مقبوضہ کشمیر سے آنے والی اطلاعات تشویشناک ہیں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو چاہیے کو دنیا کے سامنے بھارت کا چہرہ بے نقاب کریں ، اسلامی ممالک کی تنظیم او ;200;ئی سی نے اس پر بیان جاری کیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں اس سے بڑح کر کردار ادا کرنا چاہیے،ہم نے دنیا کو قائل کیا کہ بھارتی ;200;ئین میں تبدیلی اس کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی قرادادوں کی خلاف ورزی ہے ۔ ہماری کوششوں سے دنیا کا موقف کشمیر کے معاملے پر تبدیل ہو رہا ہے اور مجھے یقین ہے کہ اسلامی دنیا بھی اپنا کردار ادا کرے گی ۔ مودی کو ایوارڈ دینے کے سوال پر وزیرخارجہ نے کہا کہ یو اے ای کے بھارت کیساتھ اپنے تعلقات ہیں اور میں جلد عرب امارات کی حکومت کو اصل حقائق سے ;200;گاہ کروں گا، مجھے امید ہے وہ ہ میں مایوس نہیں کریں گی،امریکہ متعدد بار ثالثی کی پیشکش کر چکا ہے لیکن بھارت سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو معاملے کو حل کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں ، اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے جس میں انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ کو دعوت دی ہے کہ ;200;زاد کشمیر کا دورہ کریں اور ممکن ہوسکے تو مقبوضہ کشمیر جا کر خود صورتحال کا جائزہ لیں ۔ مودی سرکار کے اقدامات کے باوجود کرتار پوری راہداری کھولیں گے،دنیا کشمیر کے انسانی المیے سے لاتعلق رہی تو مجرمانہ غفلت ہوگی ۔ دوسری جانب پی ٹی آئی جنوبی پنجاب کے عہدے داروں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہاکہ 5اگست کے بعد پوری دنیا بھارت کے اقدام کے خلاف ہے، بھارت میں مودی سرکار کیخلاف دھڑے بندیاں ہو چکی ہیں ۔ کرفیو توڑ کر نکلنے والوں پر پیلٹ گن کا استعمال کیا گیا ، پھر بھی احتجاج نہ رکا، بھارت کے پاس کشمیر میں چھپانے کو کچھ نہیں تو وہ اپوزیشن جماعتوں کی قیادت کو وہاں کے لوگوں سے ملنے دیتے، دنیا نے دیکھا کہ مودی سرکار نے اپوزیشن کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے ۔ دنیا کشمیر کے انسانی المیے سے لاتعلق رہی تو مجرمانہ غفلت ہوگی، دنیا پر واضح کیا کہ بھارتی اقدام اس کے آئین اور اقوام متحدہ کی قرارداد کے منافی ہے، ایران کی قیادت نے کشمیر پر بڑا ٹھوس موقف اختیار کیا ہے، اسلامی ممالک کے عوام اور سربراہان کو مقبوضہ کشمیر کی طرف توجہ دینی چاہیے، او آئی سی کو بیانات کے بعد مزید کردار بھی ادا کرنا ہوگا ۔

مسلمانوں کو بدنام کرنے کےلئے اسلامو فوبیا


اسلامو فوبیا یعنی اسلام کا ڈر خوف، ایک جدید لفظ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے، ان کو اجڈ اور جنگجوظاہر کرنے اورانہیں تہذیب و تمدن سے عاری ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے ۔ یہیں سے دہشت گردی کا تعلق بھی اسلام اور مسلمانوں سے جوڑا جاتا ہے ۔

غیر مسلموں کے سامنے ایسے حالات و واقعات بیان کیے جاتے ہیں کہ اسلام اور مسلمان دہشت گردی کا منبع معلوم ہوں ۔ اس کےلئے اگرغیر مسلموں کو خود سے کوئی دہشت گردی کا بڑا واقعہ بھی رونما کرنا پڑے تو اس سے گریز نہیں کرتے ۔ اس کی بڑی مثال 9;47;11 ہے ۔ جس کو بہانہ بنا کر افغانستان پر ھلہ بولا گیا ۔ عراق، شام ، مصر اور دیگر عرب ممالک میں امریکی و اسرائیلی ساختہ داعش کا تعلق اسلامی بنیاد پرستوں سے جوڑ کر یورپ میں اسلامو فوبیا پیدا کیا گیا ۔ نتیجتاً ایک طرف تو ان مسلم ممالک کو تہس نہس کیا گیا تو دوسری طرف مسلمانوں کو ایک دہشت گرد، بنیاد پرست اور ظالم و جابر پورٹریٹ کیا گیا جس کی وجہ سے غیر مسلموں کے دلوں میں مسلمانوں کا ڈر، خوف اور نفرت پیدا کی گئی ۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ خود دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ کیا دنیا کو ہمارے ہاں بھارتی دہشت گردی نظر نہیں آتی ۔ کیا مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ بھارتی فوج کے انسانیت سوز مظالم زمانے کی آنکھ سے اوجھل ہیں ۔ کیا فلسطین کے مسلمان پنجہ یہود سے آزاد ہیں ۔ کیا میانمار کے بھوکے ننگے مسلمان برمی فوج اور بدھ بھکشووَں کے ہاتھوں محفوظ ہیں ۔ اور نہ جانے دنیا میں کتنی مثالیں ہیں کہ مسلمان غیر مسلموں کی دہشت گردی کا شکار ہیں ۔ مسلمانوں کے پورے کے پورے ملک، آبادیاں ، ریاستیں غیر مسلم دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہیں مگر مسلمانوں کے ہاتھوں ہونے والے ایک آدھ واقعہ کو اتنا ہوا بنا کر پیش کیا جاتا کہ لگتا ہے کہ مسلمان پیدا ہی صرف دہشت گردی کےلئے ہوا ہے ۔

اسلام اور مسلمانوں نے ہر محاذ پر اپنے خلاف پروپیگنڈے کا جواب دیا ۔ او آئی سی نے اپنے حالیہ اعلامیہ میں واضح طورپر کہا کہ اسلامو فوبیا پھیلانے والوں کو بھی دہشت گرد قرار دیا جائے ۔ او آئی سی کے اعلامیے میں بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کو محض اسلام کے ماننے والوں کی طرف منسوب کر دینا سراسر عصبیت اور مسلم دشمنی ہے ۔ مسلمانوں کے ذمہ دار رہنماءوں کی طرف سے ایک عرصہ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔ وزیراعظم عمران خان نے بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کا مقابلہ کرنے کے لئے پاکستان، ملائشیا اور ترکی کا سہ فریقی ’’سٹرٹیجک اتحاد‘‘ تشکیل دینے کی تجویز دی ۔ جبکہ ملائشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ہ میں دْنیا کے سامنے مسلمانوں کا تشخص اْجاگر کرنے کی ضرورت ہے ۔ اسلام سے نفرت کا جواب طاقت سے نہیں ،بلکہ محبت سے دینا چاہئے ۔ اسلامو فوبیا پر بھی ایسے بات ہونی چاہئے جیسے ہولو کاسٹ پر ہوئی ۔ مغرب کو چاہئے کہ سفید فام انتہا پسندوں کے خلاف اقدامات کرے ۔ اگر اس موقع پر او آئی سی کے اجلاس میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسنیڈا کو مسلم ممالک کے دورے کی دعوت دی جاتی اورکوئی ایسا پلیٹ فارم بنانے کا سوچا جاتا جس کے ذریعے دہشت گردی کی تعریف اور اس کو مسلمانوں سے جوڑنے اور آئندہ اس سے محفوظ رہنے کےلئے کوئی لاءحہ عمل مرتب کیا جاتا تو بہت اچھا ہوتا ۔

ہمارا ہمیشہ سے یہ واضع موَقف رہا ہے کہ اگر کسی جگہ کوئی مسلمان انفرادی طورپر دہشت گردی میں ملوث رہا ہے تو اس کا اسلام یا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ بلکہ یہاں بھی مسلمانوں کے جان و مال کا زیادہ نقصان ہوا ہے ۔ اس کی بہترین مثال داعش ہے جو اپنے ہی اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف قتل و غارت گری کر رہی ہے ۔ ہمارے ہاں بھی تحریک طالبان پاکستان اور دیگر دہشت گرد خود ساختہ مسلم تنظیموں نے تقریبا 15 برس پاکستان کو دہشت گردی کا گڑھ بنائے رکھا ۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہزاروں اہلکار، عوام ، بچے، خواتین اور بوڑھے ان خود ساختہ مسلمانوں کی دہشت گردی کا نشانہ بنے ۔ لیکن مغربی میڈیا اور اسلام سے خار رکھنے والے غیر مسلموں نے ہمیشہ ایسی وارداتوں کو اسلام مخالف رنگ دیا اور مسلمانوں کو دہشت گرد ثابت کرنے کے لئے ایڑھی چوٹی کا زور لگا یا ۔

اقبال ،علامہ اسد،موددی ، قائد اعظم اور چوہدری نیاز علی

ا

سلامی نظریاتی کونسل پاکستان اسلام آباد اور انسٹیٹویٹ آف پالیسیز اسٹڈیز اسلام آباد کے اشتراق سے ۳۲;241; مارچ اسلامی نظریاتی کونسل اسلام آباد کے حال میں ایک تقریب منعقد ہوئی ۔ نومسلم علامہ محمد اسد;231; صاحب کے اعزاز میں یہ پروگرام بعنوان ’’ پاکستان کی تعمیرو تشکیل اور علامہ محمد اسد;231;۰۰۹۱ ۔ ۲۹۹۱‘‘ رکھا گیا تھا ۔ ان پروگرام میں حضرات نے اپنی تقریرویں میں علامہ محمد اسد;231; کے ساتھ ساتھ علامہ اقبال;231;،موددی;231; اور قائد اعظم;231; ، دارلسلام جمال پور پٹھان کوٹ اور چوہدری نیاز علی;231;کا نام نامی بھی استعمال کیا ۔ اس لیے راقم نے اس پروگرام کی رپورٹینگ کرتے ہوئے ،اپنے کالم کا نام’’اقبال ;231;،علامہ اسد;231;،موددی ;231;، قائد اعظم ;231;‘‘ چوہدری نیاز علی;231; رکھا ۔ اس پروگرام کے مہمان خصوصی مسلم لیگ نون کے رہنما ،سینیٹر جناب راجہ ظفر الحق صاحب تھے ۔ صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز صاحب نے کی ۔ اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان اور انسٹیٹیوٹ آف پالیسیز اسٹڈیز کے اشتراق سے اس قسم کا یہ دوسرا پروگرام ہے ۔ حال کے باہر لان میں سبزہ زار پر اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان، انسٹیٹیوٹ آف پالیسیز اسٹڈیز اسلام آباد اور دیگر پبلیشرزنے اپنی اپنی کتابوں کے اسٹال بھی لگائے ،جن سے لوگوں نے اپنی اپنی پسند کی کتابیں خریدیں ۔ راقم کو اس بات پر خوشی ہوئی کہ مقریرین نے اس میں پاکستان کا خواب دیکھنے والے شاعرِ اسلام ،علامہ شیخ محمد اقبال;231;، پاکستان کی تعمیر اور تشکیل میں حصہ لینے والے نو مسلم علامہ محمد اسد;231;، پاکستان کے دوقومی نظریہ کو تحریک پاکستان کے دوران اپنے مضامین کے ذریعے آل انڈیا مسلم لیگ کو تقویت پہنچانے والے سید ابو اعلیٰ موددی ;231; اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح ;231; کا اکٹھا نام اور پاکستان کی تشکیل میں کنٹریبیوشن پر مقریرین نے جاندار تذکرہ کیا ۔

اپنے ارد گرد نظر رکھیئے

دنیا کے بھر ممالک خصوصا مسلم ممالک میں پاکستانیوں کی ایک اہم شناخت یہ بھی بن چکی ہے کہ اس ملک کے عوام اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا حاصل کرنے میں اپنے دلوں کو کھول کر مذہبی ایام مثلا رمضان المبارک کے مقدس مہینہ میں مسلمان اپنی سال بھر کی کمائی پر زاکوۃ نکالتے ہیں اپنی جھولیاں بھر بھر کر صدقہ اور خیرات دیتے ہیں مساجد، مدارس، یتیم خانوں بے آسروں کےلئے چھت فراہم کرنے والے اداروں ، ملک کے مختلف شہروں میں مفت علاج معالج کی سہولیات کے اداروں اور غربیوں مسکینوں کو تین وقت کا مفت کھانا فراہم کرنے والے اداروں پر اپنی مختص کی ہوئی رقومات دینے میں بہت آگے ہیں یقین جانئیے جب ہم اپنے ملک کے ان مخیراور سخی دل عوام کے بارے میں سنتے یا پڑھتے ہیں توبحیثیت پاکستانی ہمارے سر فخر سے بلند ہوجاتے ہیں ماہ مبارک رمضان کے ایام میں ہم اور آپ ہر برس نظارہ کرتے ہیں کہیں سینکڑوں ہزاروں غریبوں کو افطاریاں کرائی جا رہی ہیں ، دستر خوان لگائے جا رہے ہیں ، کہیں راشن کی تھیلیاں تقسیم کی جا رہی ہیں ، کہیں زکوٰۃ اور صدقے کی رقوم بانٹی جا رہی ہیں کہیں غریب بچیوں کی شادیاں کرائی جا رہی ہیں ، کہیں بے آسرا بچوں کے سکول کے اخراجات کی ذمہ داری لی جارہی ہے کہیں مفت ایمبولینس سروس اور دیوار مہربانی جیسے نوجوانوں کے اقدامات جن میں پرانے کپڑے، جوتے اور ضرورت کی اشیا غریبوں میں تقسیم کی جاتی ہیں ، کتنے ہی ایسے ادارے اور لوگ پاکستان میں آپ کو مل جائیں گے جو انسانیت کے احساس اور جذبہ خدمت سے لبریز ہیں کچھ جائزوں کے مطابق پاکستانی دنیا میں سب سے زیادہ صدقہ اور خیرات کرنے والے لوگوں میں شامل ہیں رحم دل مخیر حضرات ہمارے پاکستانی عوام اپنا مال اللہ تعالیٰ کے نام پرہرسال کے ہرماہ مبارک کے ایام میں دیتے ہیں ایک طرف اْن کے اس عمل خیر کا بے آسرا اور تنگ دست مفلس مسلمان عوام کو فائدہ پہنچتا ہے جس شخص یا جس بھی ادارے کو صاحب حیثیت مسلمان اپنا مال وزراللہ تعالیٰ کے نام پر عطیہ کررہے ہیں کیا واقعی وہ اس کا حق دار ہے یانہیں ;238;

قطرہ قطرہ پانی

اس سے قبل کے کالم اسی موضوع پر لکھ چکا ہوں ، سب سے زیادہ گھریلو استعمال کے پانی کی اذیت میں راولپنڈی جیسے ترقی یافتہ اور میگا سٹی میں رہتے ہوئے خود گزشتہ ایک دھائی سے برداشت کرتا چلا ;200; رہا ہوں شاید اب کی بار حکومت کو ہماری ;200;بادی پر ترس ;200; جائے لیکن افسوس کی بات ہے کہ پچیس سال کے بعد اپنا ذاتی گھر صرف پانی کی وجہ سے چند روز قبل چھوڑ نا پڑا ۔ کئی ملاقاتیں حکام سے بالا سے کر چکا ہوں ، ہر طرف سے کورا جواب، پچھلے دنوں اپنے ایم این اے صاحب کو بھی ملا، اتنا خشک اور کورا جواب کہ میں جل کر رہ گیا، اتنی بے مروتی کہ اس نے یہ تک نہ سوچا کہ میں پنڈی سے 40 میل سفر کر کے اس کے ڈیرے پر گیا، اور مانگا کیا ،اپنا بنیادی حق پانی، جو اس نے انتہائی حقارت سے رد کر دیا کہ مشکل ہے ، ہم ;200;پ کی اس کالونی جسکے تقریبا;34; برابر سے چوہدری نثار علی خان کی حالیہ جاری کی گئی واٹر سپلاء گزر رہی تھی،وہاں سے ایک چھوٹا کنکشن دینے یا اس بابت متعلقہ حکام سے بات کرنے سے ہی صاف انکار کر دیا ۔ حالانکہ یہ ;200;بادی کوٹھہ کلاں کا حصہ اور اسی یونین کونسل میں شامل ہے جسکے لئے یہ بڑی پاءپ لائن بچھائی گئی ۔ بجائے مجھے حوصلہ دینے ساتھ یہ بھی کہہ دیا کہ وہ کوڑے (جھوٹے)وعدے نہیں کرتا بلکہ اس کا انداز دھتکارنے جیسا تھا ۔ جا بابا معاف کر پانڑیں شانڑیں میرے پاس نہیں ہے ۔ مجھے وہ میرا ایم این اے کم اور ایک مخبوط الحواس شخص زیادہ لگا ۔ اتنا خشک رویہ شاید اس لیئے بھی ہو کہ اسے شک ہو جیسے ووٹ ہم نے کسی اور کی صندوقڑی میں ڈالا ہو اور اب پانی اس سے مانگنے ;200;ئے ہوں ۔ پانی میرے لیڈر نے مجھے نہیں دیا بلکہ کوئی ;200;س امید تک نہ دلائی اور یوں اس لازوال محبت کا جواب انشا اللہ ;200;ئندہ انتخابات میں دینا اب مجھ پر بھی واجب ہو چکا ہے ۔ پانی کی ہر طرف کمی گھروں کھیتوں کی خشکی اور زراعت کی زبوں حالی،کے ساتھ ساتھ گذشتہ کئی دھائیوں سے ہر حکومت کی بڑے ;200;بی ذخائر کی تعمیر پر مجرمانہ خاموشی اور غفلت اور خصوصاً بھارت کا لاکھوں کروڑوں ڈالر ہر سال اس بات پر پاکستان کے اندر موجود اپنے پالتو کتوں کو اس وجہ سے کھلاتے رہنا کہ وہ بغیر کوئی معقول دلیل کالا باغ ڈیم کی مخالفت کرتے رہیں ، جتنی اونچی بھونک اتنا بڑا نوالہ، ان سب باتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے اپنی ذاتی حیثیت میں ایک پیٹیشن ملک عبداللطیف کھوکھر ایڈووکیٹ بنام پاکستان دائر کی، یہ سال 2010 کی بات ہے، ایک دو دفعہ سپریم کورٹ کی کاز لسٹ پر نکلی، لیکن کوئی پیش رفت نہ ہوئی، ماروی نامی ایک نام نہاد خاتون سندھ سے ہیں ، انکی اور میری جھڑپ بھی سپریم کورٹ کے اندر ہوئی جس نے مجھے دھمکی دی کہ میں اپنی پیٹیشن واپس لے لوں ورنہ خون خرابہ ہو جائے گا، ایک سماعت پر تین رکنی بنچ کے ایک فاضل جج صاحب نے میری انتہائی دل شکنی کی یہ کہہ کر کہ ان جیسی درخواستوں کو سننے کی بجائے عدالت عظمیٰ کے پاس اور بہت سے اہم کیسسز زیر التوا پڑے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ تاہم جتنی دل ;200;زای ہوتی رہی، میں اتنا ہی ڈٹا رہا کہ سال 2018 میں اپریل کو اس جیسی دیگر تمام درخواستوں کو یکجا کر دیا گیا اور فریقین کو گھنٹوں سنا گیا، دیگر درخواست گزاروں کےساتھ ساتھ مجھے بھی تقریباًفل کورٹ میں اپنے دلائل کا پورا موقع دیا گیا اور یوں ملک کے اس اہم ترین کیس کا جناب چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پانچ ممبر بینچ سے حتمی فیصلہ ہو گیا اور یوں تمام کی تمام درخواستیں ایک سنگل ;200;رڈر کے ذریعے ڈسپوز;200;ف کر دی گئیں ۔

Google Analytics Alternative