کالم

پاکستان کیخلاف کام کرنیوالے کسی رعایت کے حقدار نہیں

دنیا میں ہونے والے بہت سے واقعات میں جب تک پاکستان کا نام نہ لیا جائے اور اسے ملوث نہ کیا جائے تو لگتا ہے تحقیقات مکمل نہیں ہوئی کہیں کوئی کڑی رہ گئی ہے جسے اگر نہ جوڑ ا گیا تو مجرم تک پہنچ نا ممکن ہو جائے گی چاہے بعد میں مجرم خود اپنے ہی ملک میں پکڑا جائے اور اپنے ہی ملک کا نکلے لیکن حیرت انگیز طور پر پاکستان کے خلاف کام کرنے والے کسی بھی ملک میں محفوظ رہتے ہیں بلکہ وہاں کے معزز شہری بن کر رہتے ہیں یہ پاکستان کے خلاف ہر قسم کی سازشوں میں بڑی آزادی سے مصروف رہتے ہیں، تنظیمیں بناتے ہیں، اجلاس کرتے ہیں ،خطاب کرتے ہیں ،پاکستان، اس کی سلامتی اور اداروں کے خلاف زہر اُگلتے ہیں، امن عامہ میں خلل کا باعث بنتے ہیں ،دہشت گردوں کی معاونت کرتے ہیں لیکن جن ملکوں میں وہ بیٹھے ہوتے ہیں وہ ان تمام معاملات سے صرف نظرکیے ہوئے رہتے ہیں ۔ الطاف حسین، براہمداغ بگٹی، حربیار مری اور کئی دوسرے ایسے نام ہیں جو پاکستان کے خلاف بولتے ہیں اور کھل کر بولتے ہیں لیکن ان کی کوئی پوچھ نہیں ہوتی پاکستان کے خلاف یوں کھلم کھلا بولنے والوں کے علاوہ کچھ ایسے بھی ہیں جو پاکستان کی جڑوں کو دوسری طرح سے کھو کھلا کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو یہاں ملک مخالف گروہوں اور لوگوں کی مکمل مدد کر رہے ہوتے ہیں یہاں صوبائیت کو ہوادے کر قومی یکجہتی کو نقصان پہنچایا جا رہا ہوتا ہے ایسے ہی کچھ لوگوں نے حال ہی میں اکٹھ کر کے ایک تنظیم بنائی ہے اور اس کا نام ہے ساتھ SAATH یعنی ساوتھ ایشین اگینسٹ ٹیررازم اینڈ ہیومن رائٹس ۔ اس تنظیم نے لندن میں اپنا اجلاس منعقد کیا ،اس میں مختلف مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی پاکستانی شامل ہیں جو خود کو کہتے پاکستانی ہیں لیکن دراصل وہ صرف اپنی شہرت اور مفادات کے لیے کام کر رہے ہوتے ہیں ان کے سرکردہ لوگوں میں حسین حقانی جیسے نام سرفہرست آتے ہیں۔اس کانفرنس میں سیاست دان، ڈپلومیٹس، اینکرز کالم نویس اور دوسرے کئی لوگ شامل تھے اور ہر ایک نے اپنے اپنے زریں خیالات کا اظہار کیا اور بغیریہ سوچے کیا کہ ان کے خیالات پر ان کی کوئی پکڑ ہوگی کیونکہ یہ ممالک دوسرے ملکوں کے خلاف جو بھی جرم کریں یا ان کے مجرموں کو پناہ دیں وہ اسے اپنا حق سمجھتے ہیں اس کا نفرنس میں پاکستان کے مختلف علاقوں کی مناسبت سے جس طرح ہمدردی کا اظہار کیا گیا گویا پاکستان میں ان کے ساتھ کوئی ناروارویہ رکھا جا رہا ہو اور یا ان کا حق مار کر دوسروں کو دیا جا رہا ہو۔ بلاشبہ ترقی کی دوڑ میں پورے ملک کو شامل ہوناچاہیے اور اس کے ثمرات دور دراز کے علاقوں تک یکساں پہنچنے چاہیے لیکن اس کو یوں کیش کرنا کہاں کا انصاف ہے اور وہ بھی اگر پاکستان سے باہر بیٹھ کر اپنے ملک کو یوں بدنام کرنا ہو تویہ قومی جرم کے زمرے میں ہی آتا ہے اس فورم پر بلوچستان کے مسئلے کو یوں اٹھایا گیا جیسے پاکستان اس کو اپنا مقبوضہ علاقہ سمجھتا ہو۔ پنجاب اور دوسرے صوبوں کے بیچ میں خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی گئی۔ حسین حقانی اور عائشہ صدیقہ جیسے لوگ جہاں بیٹھیں وہ فوج کے اوپر بلا وجہ تنقید نہ کریں یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ لہٰذا حسین حقانی نے یہاں بھی اپنا بغض نکالنے کی بھر پور کوشش کی اور کہا اگر پاکستان بین الاقوامی دباؤ کو خود سے ہٹانا چاہتا ہے تو اُسے اپنے اندر تبدیلی لانا ہوگی اندر کی تبدیلی تک تو بات درست ہے لیکن موصوف نے اس اندر کی تبدیلی کے لیے جس نکتہء نظر کو اپنا یا وہ یہ تھا کہ فوج کو اپنے موجودہ خیالات میں تبدیلی لانا ہوگی اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ موجود نکتہء نظر کے ساتھ فوج کسی کو شکست دینے کے اہل نہیں تو بات یہ ہے کہ یہی فوج ہے جس نے خود سے بہت بڑی فوج کو روک رکھا ہے بھارت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی فوج ہے اور اندرونی دشمنوں کے سامنے بھی سَدِّ راہ یہی ہے لیکن ظاہر ہے یہی باتیں اس کے خلاف بولنے والوں کو گوارہ نہیں ۔ اس کانفرنس کے شرکاء نے اپنے اپنے حصے کا فرض ادا کرتے ہوئے پاکستان کے مسائل کو منفی انداز میں گنوایا انہوں نے بھرپور کوشش کی کہ پاکستان کو دنیا کی نظروں میں مجرم بنا کر پیش کرے۔ اُنہیں بلوچستان کے حالات تو نظر آئے لیکن کشمیر میں بھارت کے مظالم پر ان کی زبان بند رہی اُنہیں یہ بالکل نظر نہ آیا کہ وہاں مودی اور اس کے انتہا پسند پالتو غنڈے انسانوں پر جانور والا اسلحہ استعمال کر رہے ہیں بلکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا کی توجہ کشمیر کے مسئلے سے ہٹانے کیلئے مودی سرکار نے بلوچستان کو جس طرح اُچھالا اُس میںSAATH نامی اس تنظیم اور کانفرنس نے اُن کی حتی المقدور مدد کی اور اسی لیے بھارتی میڈیا نے اِسے غیر معمولی اہمیت دی۔ اس کانفرنس کے شرکاء دراصل وہ لوگ ہیں جو پاکستان اور اس کے سلامتی کے اداروں کے بارے میں اپنے منفی رویے ہی کی وجہ سے مشہور ہیں۔عائشہ صدیقہ نے نیوی کی نوکری چھوڑ کرجب’’ ملٹری ان کا رپوریٹڈ‘‘ لکھی تو تب ہی ان کو شہرت ملی اور اس کتاب کے لکھنے کی وجہ بھی بظاہر یہی شہرت کی خواہش تھی اور اس کتاب کی تصنیف کے دوران بھی بھارت اور اس کے سفارت خانے تک ان کی آمدورفت بھی نوٹ کی گئی ،اسی طرح حسین حقانی کے کریڈٹ پر’’ میموگیٹ‘‘ کا واقعہ موجود ہے۔ اس تنظیم کے دیگر شرکا ء بھی اپنے اسی رویے کے لیے شہرت رکھتے ہیں، عاصمہ شیرازی اپنے ٹی وی پروگراموں کے ذریعے اپنا بغض نکالتی رہتی ہیں اور لگتا ہے وہ بھی پیسہ کمانے کے اس آسان طریقے پر مکمل عمل کر رہی ہیں ۔ اس تنظیم میں اکثر ممبران غیر ممالک میں خوشحال زندگی گزار رہے ہیں اور پاکستان سے ان کی دلچسپی صرف اتنی ہے کہ وہ اس ملک کے خلاف بولیں اور دشمن کا ایجنڈا پورا کرنے پر خوب نام اور دولت کمائیں، لیکن کیا انہیں یہ اجازت ہونی چاہیے اور کیا ہماری حکومتوں کو اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ اگرچہ اب تک تو ایسا نہیں ہوا لیکن صاحبان اختیار کو اس طرف توجہ دینا ہوگی تاکہ اس طرح کے منفی پروپیگنڈے سے ملک کو بچایا جا سکے اور دنیا کے سامنے یہ حقیقت بھی رکھنا ہوگی کہ پاکستان کے خلاف اس طرح کا زہر اُگلوانے کے لیے ہمارے دشمن باقاعدہ طور پر ان افراد اور تنظیموں کو معاوضہ اور مدد دیتے ہیں اور اپنا مدعا ان کے منہ سے بیان کر واتے ہیں ساتھ ہی جن ممالک میں یہ لوگ رہتے ہیں ان سے بھی مطالبہ کرنا چاہیے کہ وہ ان کے خلاف کاروائی کریں اور پاکستان میں رہنے والوں کی بھی پکڑ ضرور ہونی چاہیے ملکی سا لمیت اور نیک نامی کے خلاف کام کرنے والے یہ لوگ کسی قسم کی رعایت اور نرمی کے ہرگز حقدار نہیں۔

مگر مچھ کے امریکی آ نسو

افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جان نکلسن نے امریکی فوجی ہیڈ کوارٹر پینٹا گون میں غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کیلئے مقدس سرزمین ہے اور حقانی نیٹ ورک پاکستانی سرزمین پر مزے لوٹ رہے ہیں ۔ جنرل نکلسن نے بڑی چالاکی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے حقانی نیٹ ورک کو افغانستان میں اتحادی افواج کیلئے سب سے بڑا خطرہ قردیتے ہوئے دنیا کفر کو متحد کرکے پاکستان کے خلاف لڑنے کی ترغیب دی ہے ۔ روسی افواج بیس سال افغانوں کی قتل وغارت و تباہی کے بعدا ب امریکہ دنیا بھر کے کفاری لشکر تربیت دیکر افغانوں مسلمانوں اور پاکستانی قوم کے خلاف نبرد�آزما ہے ۔ روسی انخلاء کے بعد پرامن اور سلامتی کے بہانے کفاری لشکر امریکی کمانڈ میں پر امن افغانستان حکومت پر حملہ ہوگیا پاکستان کی دوست اور برادرحکومت کو افغانستان سے ختم کرکے امریکہ کے افغانوں کی اینٹ سے نہ صرف اینٹ بجائی بلکہ ہمارے نالائق اور غاصب حکمرانوں کو بھی اپنے ساتھ ملا کر پاکستان کو بھی اس جنگ میں گھسیٹ لیا ۔ افغانوں کا تو نقصان ہونا جانی مالی اخلاقی و قومی نقصان تو ہوا ہی تھا امریکی چالاک اور مسلم دشمن حکمرانوں نے پاکستان کو بھی تباہ وبرباد کیا اور آئے روز نیا مطالبہ کرکے نئی مصیبت و مشکل سے دوچار کرلیا اور ہمارے نالائقی کی انتہاء اور بزدلی کی انتہاء دیکھئے کہ ہم ہر نئے امریکی مطالبے کو پورا کرنے میں نئی مشکلات سے دو چار ہوئے جاتے ہیں ۔اور خاموشی سے ہر نئے مطالبے کو پورا کرتے ہیں ۔؟ یوں تو امریکہ افغانستان میں امن کو بہانہ بنا کر دنیائے اسلام کے واحد ایٹمی ملک پاکستان کے پرپر زے کاٹنے کے چکر میں ہے ۔ کیا دنیائے اسلام میں امن و سلامتی کیلئے امریکہ پریشان ہے ۔؟ کیا دنیائے اسلام کو امریکہ پر امن دیکھنا چاہتا ہے ۔ کیا دنیا کے مظلوم مسلمانوں کو امن و تحفظ دینے کے لئے امریکہ فکر مند ہے ۔ کا امریکہ انسانی دشمنوں کے ناطے مسلمانوں کو پر امن زندگی فراہم کرنے کا خواہش مند ہے ۔ یا امریکہ دنیائے اسلام میں افراتفری پھیلا کر اسے تباہ کرنا چاہتے ہیں کیا امریکہ عرب تیل پر قبضہ کرنے کے لئے چالاکیاں تو نیہں کررہا ۔ کیا امریکہ افغانستان کی اسلامی ممالک مین جنگ کا ماحول برپا کرکے اپنا اسلحہ فروکٹ کرنے اور انہیں کمزور کرنے اور ان میں انتشار پھیلانے کی سازشوں میں تو مصروف نہ ہے ۔ پاکستانی قوم اور مسلم امت کو امریکی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے لڑنا ہوگا۔ ورنہ دنیائے اسلام ایک طرف افراتفری خانہ جنگی اور امریکی شکنجوں میں جکڑی ہوگی ۔ دنیائے اسلام کے حکمرانوں لیڈروں کو غور کرنا ہوگا کہ امریکہ سے نجات کیلئے ہمیں کیا کرنا ہوگا جب امریکہ جمہوریت اور آزادی کا علمبردار ہے جب امریکہ ظلم و جبر اور ناانصافی کا مخالف ہے ۔ تو کشمیری فلسطینی مسلمانوں کی آزادی کیلئے ہندوستان اور اسرائیل کو مجبور کرے ان مظلوموں کی آزادی کیلئے طاقت کا استعمال کرے ۔ ان کی سلامتی اور تحفظ کیلئے اتحادی افواج کو کشمیر فلسطین میں اتا رکر ان کو آزادی سے ہمکنار کرے ۔ جہاں آئے روز ظلم و تشدد سے نوجوان شہید ہورہے ہیں ۔ اور حریت پسندوں کو جیلوں اور گولیون سے سزاوار کیاجارہا ہے ۔ جان نکلسن افغانستان جیسے تیسے ایک آزاد ملک ہے اس ملک کے حقیقی حکمرانوں کو آپ لوگوں نے معزول کرکے افغانستا ن میں جنگ و جدال کا ماحول پیدا کیا ۔ آپ کا چہرہ افغانستان اور فلسطین میں بے نقاب ہوچکا ہے ۔ آپ دنیا میں امن نہیں اپنا اقتدارو اختیار چاہتے ہیں ۔ آپ کو دنیا کے امن سے کوئی دلچسپی نہ ہے ۔ آپ کو دنیا میں آزادی جمہوریت کی فکر نہ ہے ۔ آپ ظلم و زیادتی کو ختم نہین بلکہ مسلمانوں پر ظلم و زیادتی بڑھانا چاہتے ہیں۔ آپ کی چالاکی و مکاری سے دنیا اسلام آگاہ ہوچکی ہے ۔ آپ دنیا اسلام کو جس جہنم میں گرانا چاہتے ہیں آپ نے وہ کام کردیا ہے اور اب اس جہنم کے ماحول کو برپا رہنا دیکھنا چاہتے ہیں ۔ اسلیے آپ افغانستان اور مشرقی وسطیٰ میں لاکھون فوجی اور آگ برسانے والے طیاروں کے ساتھ مورچہ زن ہیں جرنل نکلسن یقیناًحقانی نیٹ ورک آپ کے لئے بڑا خطرہ ہوسکتا ہے ۔ جو آپ کی دہشت گردی کے آگے حائل ہے ۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ دنیائے اسلام کیلئے بڑا خطرہ ہے جس نے پوری مشرق وسطی میں خانہ جنگی برپا کررکھی ہے ۔ جس نے افغانستان پر قبضہ کرکے پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردی کا ماحول پیدا کردیا ہے ۔ امریکہ کے مگر مچھ والے آنسو دنیائے اسلام کیلئے دھوکہ ہیں جنرل نکلسن آپ دھوکہ فراڈ کے ماہر ہیں ۔ رونا جمہوریت اور حریت کا روتے ہیں نعرہ انصاف امن ، کا لگاتے ہیں ۔ لیکن دنیا میں سب سے زیادہ خون بہانے والے اور معصوموں کی جانیں لینے والے امریکی ہیں ۔

جنیدجمشیداور ایبٹ آباد طیارہ حادثہ

آج یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ جب سالِ رواں 2016 کے آخری مہینے دسمبر کی 7تاریخ بروزبدھ کو ساری دنیا سمیت پاکستان میں بھی (PCAA)ُٓ کی 34ویں سالگرہ پر اِس کی کارکردگی کے حوالے سے اخبارات میں صدرممنون حُسین،محمدنوازشریف وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان ، سیکرٹیری ایوی ایشن اسکواڈرن لیڈر(ریٹائر)محمدعرفان الٰہی ، ڈائریکٹرجنرل پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی ایئر مارشل عاصم سلیمان ہلال امیتاز (ملٹری )ستارہ امتیاز (ملٹری) سارہ بسالت ، امتیازی سند(ریٹائرڈ) اور ایڈیشنل ڈائریکٹرجنرل پاکستان سول ایوی ایشن ایئر مارشل اُسید الرحمن عثمانی ستارہ (ملٹری)، تمغہ امتیاز (ملٹری ) کے سیراب نما دلکش اور دلنشین اسپیشل پیغامات کے ساتھ خصوصی ایڈیشنز شائع کرکے بین الاقوامی شہری ہوابازی (PCAA)ُٓپاکستان سِول ایوی ایشن اتھارٹی کا دن بنایاجارہاتھا ابھی بدقسمتی سے اِس دن کا سورج بھی غروب نہ ہونے پایاتھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے )کاسہ پہر3:50پر چترال سے اسلام آبادآنے والا اے ٹی آر42 مسافرطیارہ فلائٹ نمبر پی کے 661حویلیاں کے قریب گرکرتباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ممتاز نعت خواں اور مبلغ دین جنیدجمشید اہلیا نیہا جنیدڈی سی اُو چترال اسامہ وڑائج اور 31مردمسافر،9خواتین2بچے عملے کے 6ارکان اور2چینی ایک برطانوی باشندہ اور شاہی خاندان کا شہزادہ فرحت اور بیٹی سمیت 48قیمتی جانیں لقمہ اجل بن گئیں یوں سال 2016 جہاں شاہ تراب الحق قادری ، امجد صابری ،فاطمہ ثریا بجیا ، عبدالستار ایدھی ،جاوید خانانی، حنیف محمد ، خرم ذکی اور شہلائلا(قندیل بلوچی بیچاری جیسی بھی تھی مگرتھی تو مسلمان اور سوشل میڈیا پراپنی پہنچان آپ تھی بہرحال اُس ) سمیت بہت سی معروف شخصیات کو تو پہلے ہی نگل چکاتھامگر اَب یہ جاتے جاتے بھی اپنے ساتھ ہمار ے خوش الحان نعت خواں جنید جمشید کو بھی اپنے ساتھ لے جاکرپوری پاکستانی قوم کو غمزدہ کرگیاہے،ابھی جب یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں جہاز کے حادثے میں جان بحق ہونے والے افراد کی لاشیں محرومین کے وارثین کے حوالے کئے جانے کا سلسلہ جاری ہے آج یقینااِس سانحہ سے ساری پاکستانی قوم افسردہ اور غم سے نڈھال ہے اورجو اِس حادثے میں جان بحق ہونے والوں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے ۔آہ..!! پی آئی اے کے اے ٹی آر 42مسافر طیارہ پی کے 661کے42مسافروں (جن میں مردو خواتین اور بچے بھی شامل تھے) اورجہاز کے 6عملہ سمیت کسی کو بھی یہ پتہ نہیں تھا کہ بدھ کی روشن دوپہر 3:50پر چترال کے رن وے کی زمین کو چھوڑنے اورفضاء کو چیرتے ہوئے آسمان کی بلندیوں کو چھونے والے طیارے کے اِن مسافروں کا یہ آخری سفرثابت ہوگا ۔بیشک ، موت کا ذائقہ ہر ذی شعور کو چکھنا ہے اور یہ بھی بحیثیت مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ جب زندگی ہے تو موت بھی ہے اِس کے بغیر ہماراایمان مکمل نہیں ہوتا ہے ،اِس سے انکارنہیں ہے کہ ہماری تو 69سالہ مُلکی تاریخ المناک حوادث سے بھری پڑی ہے۔ آج بھی اگر ہم اپنی تاریخ میں جھانکتے ہیں توماضی میں پیش آئے بے شمار المناک اور ہولناک حادثات کو یاد کرکے جسم کانپ اُٹھتاہے اَب ہم اِسے اپنی کوتاہی کہیں یا قسمت کا لکھاسمجھ کر صبر کرلیں مگر یہ کہہ کر ہم منہ نہیں چراسکتے ہیںآج ہمیں یہ حقیقت ضرورتسلیم کرنی پڑے گی کہ پچھلے 69سالوں میں ہمارے یہاں جتنے بھی حوادث پیش آئے ہیں اِن کی بڑی وجہ ہمارے اداروں کے غیر ذمہ دارا افرادرہے ہیں اورہر حادثہ اداروں کے کرتادھرتاؤں کی نااہلی اوراِن کی کوتاہی کا ہی نتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔ آج بھی چترل سے اسلام آباد کے لئے پرواز بھرنے والے پی آئی اے کے اے ٹی آر 42مسافر طیارہ پی کے 661کوجو حاثہ پیش آیا ہے ابتدائی طور پر سیکرٹری ایوی ایشن کی جانب سے آنے والی اطلاعات کے مطابق پی آئی اے کا یہ طیارہ حادثے کی صبح اسلام آباد سے مسافروں کو لے کر چترال گیاتھا ریکارڈ کے مطابق تب بھی جہاز کا ایک انجن خراب ہونے کی اطلاع تھی جبکہ بدقسمت طیارے کو کیپٹن صالح جنجوعہ اُڑارہے تھے معاون احمد جنجوعہ اورفرسٹ آفیسر علی اکرم تھے جبکہ فضائی میزبانوں میں عاصمہ عادل اور صدف فاروق تھیں 4:40پرپائلٹ نے ’’ مے ڈے ‘‘ کال دی کہ انجن میں فنی خرابی پیداہوئی ہے اِن جملوں کے ساتھ ہی پائلٹ کا کنٹرول روم سے آخری رابطہ ہوا اورطیارہ حادثے کا شکارہوگیایوں مُلکی تاریخ میں 1965سے شروع ہونے والے فضائی حادثات میں ایک اور حادثے کا اضافہ ہوگیا۔ بدقسمتی سے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں عالمی شہر ت یافتہ خوش الحان نعت خواں و مبلغ دین جنید جمشید شہید اپنی اہلیہ نیہا جنیدشہید کے ہمراہ سیٹ نمبر 27Cپر سوارتھے یہی وہ جنیدجمشید ہیں جنہوں دنیا میں دل دل پاکستان جیسے شہر آفاق ملی نغمے سے شہرت کی آسمان کی بلندیو ں سے بھی آگے شہرت اور عظمت اور وقار کے ساتھ اپنی پہنچان آپ بنائی تھی مگر جب اِنہوں نے موسیقی کو خیرباد کیا اور تبلیغ دین کے لئے خود کو وقف کیا تو پھر اِنہوں نے اللہ کی راہ میں تبلیغ دین کے لئے نکل کر یہ بھی ثابت کردیاکہ ’’ ج ‘‘ سے جنت ہے تو ’’ ج ‘‘ سے جنید جمشیدبھی ہے، بیشک جنیدجمشیداللہ کی سونپی گئی ڈیوٹی اور فرائض کی ادائیگی کے لئے تبلیغی دورے سے چترال سے اسلام آباد واپس آرہے تھے کہ طیارے کو حادثہ پیش آگیااور اللہ کے کام کی تدوین و ترویج کے لئے نکلنے والے شہید جنید جمشیداپنی اہلیہ نیہا جنید کے ہمراہ دنیا سے کوچ ہوکر جنت کے راستے پر روانہ ہوگئے ہیں۔ بیشک جنید جمشید اللہ کا ایک ایسا سپاہی تھا جس نے اپنی ذات کو اپنے قول و فعل سے دین اسلام کی تبلیغ کے لئے دن رات وقف کررکھاتھا اِس سے بھی انکارنہیں کہ جنید جمشید شہید کا خلاء صدیوں پُر نہ ہوسکے گا اللہ جنید جمشید شہید سمیت جہاز میں سوار تمام مومن مسلمانوں مرد و خواتین کی مغفرت کرے اور حادثے کا شکار ہونے والے جہاز کے تمام مسلمان مسافروں کو جنت الفردوس میں بلند درجات عطافرمائے (آمین یارب العالمین) اوراِسی کے ساتھ ہی لگے ہاتھوں ہم اللہ سے اُس کے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے صدقے یہ بھی دُعا کرتے ہیں کہ ’’ اے ..!! ہمارے رب، اللہ رب العزت اَب تو ہمارے مُلک کے حکمرانوں سیاستدانوں اور PCAAجیسے قومی اداروں اور اس جیسے دیگر وفاقی اور صوبائی سرکاری اداروں کے اُونچے اُونچے عہدوں پر فائز کرتادھرتاؤں کا بھی کڑااحتساب اور پکڑکرنے میں دیر مت کی جیوجو قومی خزانے سے بھاری بھاری لاکھوں میں تنخواہیں اور مراعات تو بے شمار لیتے ہیں مگر پھر بھی یہ لومڑی سے بھی زیادہ عیاراور چالاک لوگ اپنی ذمہ داریوں سے کوتاہی برتنے ہیں تو ایسے المناک حادثات رونماہوتے ہیں جیسا کہ گزشتہ روز ایک حادثہ پی آئی اے کے جہاز پی کے 661 کو پیش آیا اور اِس سے پہلے انگنت حوادث پیش آئے ، اللہ رب کائنات…!! اَب تو ہمارے یہاں پیش آئے اگلے پچھلے تمام حادثات کے ذمہ داروں کو اِن کی گردنوں سے پکڑاور اِن کے منہ ایسی مضبوطی سے دبوچ لے اور پکڑ لے کہ اِن کی اداروں میں تعمیرو ترقی کے مدمیں ٹینڈراور جاب ورکس کو اپناجیب ورکس بناکرکمیشن کھاکر( ٹھیکیداروں اور کنٹریکٹروں سے ناقص مال میڑل لے کر جہازوں او رٹرینوں میں لگانے سے قومی اداروں کا بیڑاغرق کرنے والی) لمبی لمبی زبانیں باہر کو آجائیں کیونکہ اِن کی اِس عادت کی وجہ سے ہی ہمارے PCAAجیسے بہت سے قومی ادارے کسمپرسی اور زبوحالی کے شکار ہورہے ہیں جن کی وجہ سے اِن کی ترقی اور کارکردگی بری طرح سے متاثر ہورہی ہے۔ یقیناآج یہی وجہ ہے کہ اَب تک میرے دیس پاکستان میں کبھی جہاز تو کبھی

اعلانات نہیں عملی کام

کستان میں رشوت ایک عام سی چیز بن گئی ہے جو بھی کام کروانا ہو اگرچہ وہ کام قانونی ہو یا غیر قانونی اس کے جلد از جلد ہونے کے لئے رشوت دینا یا لینا ایک عام سی بات بن گئی ہے ۔ملک بھر میں اس طرح ہونے والی کرپشن روزانہ اربوں روپے میں ہے جس میں اوپر سے لیکر نیچے تک تمام طبقات نا صرف ملوث ہیں بلکہ وہ اس کو پروان چڑھانے میں بھی پیش پیش ہیں اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ اس رشوت دینے کے عمل میں وہ لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جو کسی بھی دوسرے فورم پر اس کی کھل کر مخالفت کرتے ہیں مگر جب ان کو خود ضرورت پڑتی ہے وہ بلا روک ٹوک اس کو دینے یا لینے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ایک عام سے کلاس فور ملازم سے لیکرگریڈ بیس تک کے ملازمین اس کام میں ملوث ہوتے رہے ہیں حال ہی میں کرپشن کے بارے میں اگاہی فراہم کرنے والے اور اس کی روک تھام کرنے والے اداروں کی جانب سے ایک بھر پور مہم چلائی گئی جو کافی حد تک کامیاب بھی رہی مگر ا س کا حقیقی فائدہ جب ہی ہو گا جب ہم اس کے محرکات کو ختم کریں گے مثال کے طور پر جب ہم کسی پولیس اسٹیشن میں جاتے ہیں تو ہم اپنی جائز شکایت کو درج کروانے کے لئے بھی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں کھبی وہ پولیس والا ہمیں سنتا ہی نہیں اور اگر سن ے تو آئیں بائیں شائیں کر دیتا ہے جس سے ہماری شکایت درج کرانے کا مقصد فوت ہو جاتاہے ہم یہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں وہ پولیس والا ہمارے ہی پیسوں سے سرکار سے تنخواہ لیتا ہے مگر ہم ا سکے خلاف کوئی کاروائی کرنے یا کرانے سے قاصر رہتے ہیں اس کی بڑی وجہ قانون کی عملداری نہ ہونا ہے جس کے وجہ سے ایسے لوگ بادشاہ بن جاتے ہیں اس کام میں ملوث چھوٹے لوگوں کے ساتھ ساتھ بڑے لوگوں پر ہاتھ ڈالنے کی ضرورت ہے کیونکہ برائی کو ختم کے لئے اس کے محرکات کو ختم کرنا ضروری ہوتا ہے اور اس کام میں اکثر بڑے لوگ بھی ملوث نظر آتے ہیں جیسا کہ حال ہی میں بلوچستان کے ایک سیکرٹری لیول کے آدمی سے اتنا پیسہ برامد ہوا کہ جس کے بارے میں ایک غریب سوچ بھی نہیں سکتا یہ وہ کہانیاں ہیں جو میڈیا کے ذریعے عوام تک پہنچتی ہیں مگر اس کے علاوہ کئی ہزاروں کہانیاں ہیں جو عوام تک نہیں پہنچ سکیں ہونگی اکثر ہمیں اپنی جائز کام کے لئے ان لوگوں کی مٹھی گرم کرنی پڑتی ہے اور اس مٹھی گرم کرنے میں ہم بھی ان کے اس جرم میں برابر کے شریک ہو جاتے ہیں کیونکہ حدیث شریف میں ہے رشوت لینے والا اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں دنیا بھر میں کرپشن پر قابو پانے کے لئے سر توڑ کوششیں ہو رہی ہیں اور دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں اس پر کافی حد تک قابو پایا جا چکا ہے مگر ترقی پذیر ممالک میں یہ ایک ایسی لعنت ہے جو ان غریب ملکوں کی عوام پر عذاب مسلسل ہے اس سے ایک طرف ملکی ترقی رک جاتی ہے تو دوسری طرف ملک پسماندگی کی طرف چلا جاتا ہے لوگوں کا دیا ہوا ٹیکس بجائے ترقی کے کاموں کے ان لوگوں کی جیبوں میں چلا جاتاہے جو کرپٹ کہلاتے ہیں ہم لاکھ کوشش کے باوجود اس لعنت کا شکار کیوں ہے اس کا جواب بڑا سادا سا ہے ہمیں ہر کام کے ہونے کی جلدی رہتی ہے اسی جلدی کی وجہ سے ہم یا رشوت لیتے ہیں یا پھر دیتے ہیں تاکہ ہمارا کام جلدی ہو جائے اسی کا کو اگر اس کے وقت پر چھوڑ دیں تو شاید ہمیں یہ گھنونا کام نہ کرنا پڑے دوسری وجہ وہ سرکاری اہلکار ہیں جو لیتے تو عوام کے پیسوں سے تنخواہ ہیں مگر کام ایسے کرتے ہیں جیسے عوام پر یا پاکستان پر احسان کر رہے ہوں ۔اس کا مشاہدہ آپ ان تمام اداروں میں کر کتے ہیں جن کا کام پبلک ڈیکنگ

وطن عزیز میں افغانستان کے ذریعے بھارتی دہشتگردی

بھارت افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشت گردی کے لئے استعمال کر رہا ہے۔ افغانستان میں حقانی نیٹ ورک‘ تحریک طالبان پاکستان‘ جماعت الاحرار‘ القاعدہ کے ٹھکانے موجود ہیں جو دہشت گردی کے لئے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کررہے ہیں۔ ’’را‘‘ افغانستان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کرا رہی ہے۔حالیہ دہشت گردی میں باہر کے لوگ ملوث ہیں جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ہماری خفیہ ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ ہمارے بعض علماء اور سیاسی شخصیات کی ٹارگٹ کلنگ میں بھارتی ملوث ہیں۔دہشت گرد پاکستانی ہیں نہ مسلمان ، بلکہ دشمنوں کے تیارکردہ ہیں جنہیں مسلمان اور پاکستان کا لبادہ اوڑھا کر استعمال کیا جاتا ہے۔ خود کش حملوں میں مدارس کے وہ بچے استعمال کئے جاتے ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں ہوتا۔ نام نہاد مولوی اپنے بیرونی عناصر کے نظریات کی بنا پر ان کی ٹریننگ کرتے ہیں اور انہیں خود کش حملوں کیلئے بھیج دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں افغانستان میں موجود بھارت کے قونصل خانے بہت سرگرم عمل ہیں۔ طالبان کے دور میں افغانستان میں بھارت کا ایک بھی قونصل خانہ موجود نہ تھا مگر نائن الیون کے بعد بھارت امریکہ کی شہ پر افغانستان میں قدم جما چکا ہے۔ بھارت نے افغانستان سے یتیم بچے اپنے ملک میں لا کر ان کو دہشت گردی کی ٹریننگ دی اور پھر ان کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے بھیج دیا۔ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ وطن عزیز میں فرقہ وارانہ فسادات کے پیچھے ’’را‘‘ کا ہاتھ ہے۔ پاکستان میں مختلف وارداتوں میں گرفتار ہونیوالے افراد یہ اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے بھارت میں را کے تربیتی کیمپوں سے دہشت گردی کی تربیت حاصل کی۔ بلوچستان بدستور غیرملکی سازشوں کا نشانہ بنا ہواہے۔ راکٹ فائرنگ اور بارودی سرنگیں پھٹنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی ہے بلکہ ان میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ایک اطلاع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے 1200 سے زائد ایجنٹ افغانستان میں اسی بات کے لئے تعینات کئے گئے ہیں کہ وہ بھارتی اسلحہ پاکستان میں اپنے ٹاؤٹوں اور ایجنٹوں کو فراہم کریں تاکہ وطن عزیز میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوتا رہے۔ہمارے بعض سیاسی عناصر خصوصاً بلوچ سردار دشمن قوتوں کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں اور ان قوتوں کے مذموم عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ان کے مدد گار ہیں جس کے عوض میں انہیں بھاری مالی امداد، جدید اسلحہ اور گاڑیاں فراہم کی جاتی ہیں۔ بھارت افغانستان میں پناہ گزین براہمداخ بگٹی کے علاوہ دیگر بلوچوں کو بلوچستان میں بدامنی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بلوچستان کے علیحدگی پسندبھارتی سرمائے سے یورپی ممالک برطانیہ، کینیڈا، دبئی، اومان کے ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ را کے زیر سرپرستی بلوچ علیحدگی پسندوں کو تخریبی کارروائیوں کیلئے افغانستان میں قائم مختلف تعلیمی اداروں میں ورغلا کرعظیم تر بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن تھیوریاں بتائی جا رہی ہیں جس میں انہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے متنفر کرنے کیلئے خصوصی سیمینار کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔بھارت سے دوستی ملک دشمنی کے مترادف ہے۔ بھارت نہ پہلے پاکستان کا خیر خواہ تھا اور نہ ہی اب ہے بلکہ اس کا ایجنڈہ پاکستان کو کمزور اور ایٹمی پر وگرام ختم کر نا ہے مگر ابھی تک اس کو کا میابی نہیں ہوئی۔پشاور، کوئٹہ اور کراچی میں ہونیوالی دہشت گردی سمیت ملک بھر میں ہونیوالی دہشت گردی کے اکثر واقعات کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے حکمران بھارت دوستی میں اندھے ہوچکے ہیں۔ دہشت گردی کے معاملے میں بھارت خود کفیل ہے جبکہ پاکستان کو بدنام کرنے کے لئے وہ ڈرامہ رچا رہا ہے۔ بھارت پورے خطے کا تھانیدار بننا چاہتا ہے۔

گفتگو۔۔۔ شوکت کاظمی
دشت در دشت سوالوں کا سفر جاری ہے
شہر در شہر خرابوں کا سفر جاری ہے
بنتے ہیں ٹوٹتے جاتے ہیں بکھر جاتے ہیں
موج در موج خبابوں کا سفر جاری
موت کے بعد بھی سنتے ہیں عذاب آئیں گے
زندگی میں بھی عقابوں کا سفر جاری ہے

مسافر طیارے کا المناک حادثہ

پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائن کا چترال سے اسلام آباد آنے والا مسافر طیارہ حویلیاں کے قریب گر کر تباہ ہوگیا اس المناک حادثہ میں 48 افراد لقمہ اجل بن گئے۔ انا للہ وانا رالیہ راجعون اے ٹی آر 42 طیارہ کی فلائٹ پی کے 661 سہ پہر 3:50 پر روانہ ہوئی ۔4:40 پر حویلیاں کے قریب ریڈار سے اس کا رابطہ منقطع ہوگیا ۔ اس المناک حادثے میں جاں بحق ہونے والو ں میں معروف مذہبی سکالرونعت خواں جنیدجمشیداوران کی اہلیہ،ڈپٹی کمشنرچترال اسامہ وڑائچ ،ان کی اہلیہ اوربیٹی اورایک چینی باشندہ بھی شامل ہے ،ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ انجن میں خرابی کے باعث پیش آیا ،پی آئی اے حکام نے حادثے کی تفصیلات جمع کرکے تحقیقات کے لیے بورڈ تشکیل دے دیا ، ادھرصدرممنون حسین،وزیراعظم نوازشریف ،وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان اوردیگرسیاسی رہنماؤں نے طیارہ حادثے پرگہرے دکھ وافسوس اور متاثرین سے ہمدردی کااظہارکیاہے ۔ شیڈول کے مطابق طیارے کو چار بجکر چالیس منٹ پر اسلام آباد پہنچنا تھا۔پی آئی اے کے ترجمان نے ابتدائی طورپرطیارے کے لاپتہ ہونے کابیان جاری کیا تاہم کچھ دیربعدطیارے کے حادثے کاشکارہونے کی تصدیق کردی گئی۔ حادثے کی اطلاع ملتے ہی پاک فوج کے دستے، ریسکیواورپولیس کی ٹیمیں جائے حادثہ کی طرف روانہ ہوگئیں اورامدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا آرمی ہیلی کاپٹرنے بھی امدادی کارروائی میں حصہ لیا ۔ پی آئی اے کی جانب سے جاری کی جانے والی مسافروں کی فہرست کے مطابق متاثرہ طیارے میں 31 مرد، 9 خواتین ،2 بچے اور عملے کے 5 افراد موجود تھے۔مسافروں میں عابد قیصر ،احسن ،احترام الحق ،عائشہ ، اکبر علی ، اختر محمود ، امیر شوکت، آمنہ احمد، ماہ رخ احمد، عاصم وقاص، عتیق احمد، فرح ناز، فرحت عزیز، گوہر علی، گل حوراں، حاجی نواز، ہان کیانگ، ہیرالڈ کاسلر، حسن علی،ہروگ ایچل بینگر، جنید جمشید،نیہا جمشید، محمود عاطف، مرزا گل، ریحان علی، محمد علی خان، محمد خالد مسعود، محمد خان، محمد خاور، محمد نعمان شفیق ، محمد تکبیر خان، نثار الدین ، اسامہ احمد وڑائچ ، مہرین رانی،سلمان زین العابدین ، سمیع ، ثمینہ گل ، شمشاد بیگم، طیبہ عزیز ، تیمور ارشد، عمارہ خان ، زاہدہ پروین شامل تھے جبکہ عملے کے ارکان میں طیارے کے پائلٹ صالح جنجوعہ ، معاون پائلٹ احمد جنجوعہ (جو آپس میں بھائی تھے) ،فرسٹ افسر علی اکرم ، دوایئرہوسٹس میں صدف فاروق، اسماء عادل شامل تھیں ۔جنیدجمشید اپنے اہل خانہ کے ہمراہ تبلیغی دورے پر چترال میں موجود تھے جنید جمشید سیٹ نمبر 27سی اور اہلیہ 27اے پر بیٹھی تھیں۔پی آئی اے کے ترجمان دانیال گیلانی نے بتایا کہ کنٹرول ٹاور کو خطرے کا سگنل بھیجا گیا تھا جس کے فوری بعد طیارے کے تباہ ہونے کی اطلاع آگئی۔انہوں نے بتایا کہ تباہ ہونے والا طیارہ اے ٹی آر 42 ایئرکرافٹ تھا اور تقریبا 10 برس پرانا اور اچھی حالت میں تھا۔ عینی شاہدین کے حوالے سے بتایاکہ طیارہ گرنے سے قبل ہی اس میں آگ لگی ہوئی تھی۔ ریسکیو اہلکار کے مطابق مجھے عینی شاہدین نے بتایا کہ طیارہ گرنے سے قبل دو تین بار ہچکولے کھایا اور طیارہ پہاڑ کے پیچھے نہر نما علاقے میں گرا۔ انہوں نے بتایا کہ اس علاقے میں ہیلی کاپٹر یا طیارہ لینڈنگ نہیں کرسکتا اور جس جگہ طیارہ گرا وہاں دونوں اطراف آبادی بھی ہے۔ بعض عینی شاہدین کے مطابق انہوں طیارے کو پہاڑ سے ٹکرانے کے بعد گرتے ہوئے دیکھا جس کے بعد آگ کے شعلے بلند ہوئے اور طیارہ مکمل طور پر جل کر راکھ ہوگیا۔ ایوی ایشن کا عالمی نگران ادارہ ایوی ایشن ہیرالڈ کا کہنا ہے کہ پی کے 661 ایبٹ آباد کے قریب انجن میں خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوا۔ سول ایوی ایشن حکام نے تصدیق کی ہے کہ پائلٹ نے کنٹرول روم کو انجن میں خرابی کی اطلاع دی تھی۔ زندگی کی اڑان بھرتا یہ بدقسمت طیارہ موت کی وادی میں اتر گیا جس نے کئی گھرانوں کے چراغ گل کردئیے ۔ شمالی علاقہ سے اسلام آباد آنے والا یہ دوسرا فضائی حادثہ ہے ۔ 20 اگست 1989ء کو گلگت سے آنے والے مسافر طیارے کا آج تک سراغ نہ مل سکا۔ پاکستان میں اب تک 35 فضائی حادثات ہوچکے ہیں جن میں 705 افراد جاں بحق ہوئے ۔2010ء میں مارگلہ پہاڑیوں میں فضائی سانحہ میں 152 افراد جاں بحق ہوئے تھے ۔ پی کے 661 حادثات کی تحقیقات کو منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے۔ پی آئی اے سیفٹی معیار کو بہتر بنایا جائے۔فضائی حادثے کا بڑھنا مسافروں کیلئے پریشان کن بنتا جارہا ہے فضائی سفر کو محفوظ بنانے کیلئے حادثات کی روک تھام پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہم اس المناک حادثے پر دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے حادثے کے شکار افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطافرمائے۔حکومت پسماندگان کیلئے مالی امداد کو یقینی بنائے۔
پانامہ کیس فریقین سے کمیشن کیلئے جواب طلب
سپریم کورٹ آف پاکستان نے پاناما لیکس کی تحقیقات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران فریقین سے کمیشن کے قیام کیلئے جواب طلب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کمیشن کو مکمل اختیار دینگے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا ہے کہ عدالت کے سامنے بھاری بھرکم معاملات ہیں ٗ ہم ٹھوس بنیادوں پرآگے بڑھنا چاہتے ہیں، کئی دستاویزات ہیں جن کی تصدیق کیلئے تحقیقات کی ضرورت ہے، فریقین کی طرف سے جمع کرائے گئے دستاویزی شواہد میں خلا ہے ۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں عدالت نے 5 رکنی بنچ نے پاناما لیکس کیس کی سماعت کی ۔سماعت شروع ہوئی تووزیراعظم نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ جاتی امرا میں مریم نواز کا پتہ لکھا ہے تاہم وہ قانونی طور پر اپنے شوہر کے زیر کفالت ہیں ٗکیا باپ کیساتھ رہنے سے بیٹی زیر کفالت ہو جاتی ہے ٗ جاتی امرا میں تو شریف خاندان کے دیگر افراد بھی رہائش پزیر ہیں جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ ہم نے مریم نواز کا ایڈریس دیکھ لیا ٗان کے اخراجات اور آمدن کہاں سے آتی ہے ؟وہ دیکھنا ہے جس پر سلمان بٹ نے کہا کہ مریم نواز کی زرعی آمدن ہے۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ یہ عام پریکٹس ہے اس میں کوئی غیر قانونی بات نہیں ٗٹیکس گوشوارے جمع کرانے کا معاملہ فنکشنل ہے، آپ کو اور مجھے بہتر علم ہے کہ ٹیکس گوشوارے کیسے جمع کرائے جاتے ہیں ٗانہوں نے سلمان بٹ سے استفسار کیا کہ کیا جاتی امرا کی زمین مریم نواز کے نام ہے ۔ سلمان بٹ نے کہا کہ مریم نواز جاتی امرا میں رہائش پذیر ہیں اور وہ ان کے گھر کا پتہ ہے جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ زیر کفالت ہونے کا معاملہ ابھی تک حل نہیں ہوا۔ جسٹس عظمت سعید نے استفسار کیا کہ وزیراعظم نے مریم نواز کیلئے زمین کب خریدی، جس کے جواب میں سلمان بٹ نے کہا کہ اراضی 19 اپریل 2011 کو خریدی گئی جسٹس عظمت سعید نے دوبارہ استفسار کیا کہ رقم والد نے بیٹی کو تحفے میں دی جو بیٹی نے والد کو واپس کردی تھی۔جسٹس شیخ عظمت سعید نے استفسار کیا کہ کیا آپ کوومبرکمپنی اورعمران خان کے وکیل کے جمع کردہ دستاویزات سے انکاری ہیں؟ جس پر سلمان بٹ نے جواب دیا کہ ان دستاویزات پر بعد میں بحث کروں گا۔ جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ہمیں تو پریکٹس میں بتایا گیا تھا کہ اگرجج سوال کرے تو اس کاجواب دیاجائے اور آپ یہ کہتے ہیں کہ بعد میں بحث کروں گا۔پانامہ کا کیس عدالت میں زیر سماعت ہے جس پر رائے زنی کی کوئی گنجائش نہیں۔ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ کیس کے فیصلے کا انتظار کریں یہ کیس پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین کیس ہے جس کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ اور اس کے سیاسی افق پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ قوم کی نگاہیں عدالت عظمیٰ پر لگی ہوئی ہیں اور قوم یہ توقع رکھتی ہے کہ عادلانہ اور منصفانہ فیصلہ سامنے آئے گا جو قوم کی امنگوں کا ترجمان قرار پائے گا۔

محسن انسانیت رحمت العالمین ﷺ

قرآن مجید میں آپ ﷺ کے با رے میں فر مایا گیا ہے کہ آپ کل عالمین کیلئے نور ہد ایت ہیں ، آپ ﷺ رب تعالیٰ کی دلیل ہے ، حضور انور ﷺ کا ادب رکن ایمان ہے آپ ﷺ کی گستا خی کفر ہے ، جس کو سرکار دو عالم ﷺ سے نسبت ہو جا ئے وہ عظمت والا ہے ، مسلمان نہا یت خوش نصیب اور خو ش قسمت ہیں جو آپ سرکار دو عالم ﷺ کی اُمت ہیں ۔ آقا ئے نامدار فخر مو جو دات سرورِ کو نین حضرت محمدﷺ کے اس دُنیا میں تشر یف لا نے کا ربیع الاوّل کا مبارک اور سعا دتوں والا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور دُنیاِ ئے اسلام کے کو نے کو نے میں جشنِ آمدِ رسول ﷺ ہمیشہ کی طر ح اس مر تبہ بھی تز ک و احتشام اور نہایت عقیدت و احترام اور کامل محبت کے جذ بوں سے سر شار منا یا جا رہا ہے ۔ ایسا کیوں نہ ہو آپ ﷺ ہی تو غایتِ کا ئنات اور روحِ کا ئنات ہیں اور اﷲ تعالیٰ کی طرف سے اورعالمین کیلئے نعمتِ عظیمہ ہیں ، حضرت ابن عباسؓ فرما تے ہیں کہ فضل سے مراد دین اسلام ہے اور رحمت سے مر اد قر آن مجید ہے اور ان ہر دو عظیم ربانی نعمتوں کا وسیلۂ جلیلہ اور نعمتِ عظمیٰ آپﷺ ہیں کیو نکہ آپ ﷺ کے قلبِ اطہر پر حق کی طر ف سے قر آن مجید اُتارا گیا اور سب سے بزر گ و بر تر فرشتے جبر یل امین آپﷺ پر اﷲ تعالیٰ کے حکم سے وحی لیکر آئے ۔ دین اسلام اپنے احکامات ، عبادات اور معاملات کا مجمو عہ ہوتے ہوئے پوری اکملّیت کے سا تھ آپ ﷺ کے ذ ریعے ہم تک پہنچا یا گیا جو تمام انسانیت کیلئے دعوت و ارشاد ، فکر و آگہی اور راہ عمل فراہم کر تا ہے ۔
میلا د مصطفی ﷺ ہر سال ربیع الاول میں حسب معمول جہا ں ان گنت اور بے پناہ روحانی خو شیاں اور سعادتیں لا تی ہیں وہاں تمام انسانیت کو با لعموم اور مسلمانانِ عالم کو با لخصو ص یہ یا د دہا نی برا بر اور متواتر کراتی ہیں کہ آپ ﷺ پر نا زل کیا گیا قر آن مجید اور رب تعالیٰ کی طرف سے ہما رے لئے پسند کیا گیا دینِ اسلام جو آپ ﷺ کی سنتِ مطہرہ جو شر ع مبین کی شکل میں مسلمانو ں کے درمیان ہر دور میں موجود رہی ہے اور بحمد اﷲ قیا مت تک پورا روحانی سکہ جما تے ہوئے تو حید کی دھوم دُنیا کے ہر کو نے میں پھیلاتی رہے گی، اس مقدس اور آفاقی مشن اور پیغام کو عام کر نے ، اس پردل و جان سے عمل پیرا ہو نے اور اپنی زند گیوں اور اپنے اعمال و افعال کو اس کے مطابق ڈھا لنے میں کتنا اور کیسا فریضہ ادا کیا ہے ہمارا ماضی اور حال اس پر گو اہ ہے ۔ اور اسی طر ح مستقبل کے چیلنجز جو اسلام کو بطور دین دُنیا میں عام کر نے سے متعلق در پیش ہیں کو عصر حاضر میں ہمار ے کر دار ، قو ل و فعل اور عام اخلاقیات سے لیکر روز مرہ کے معاملات اور خوشوع خضو ع سے ظاہر ی طور پر مزین لیکن در حقیقت صاحب کر دار اور صاحب یقین ہونے کے اعلیٰ عمل کو اُس قالب میں نہ ڈھال سکیں جیسا کہ اُن کا حق تھا اور ہے ، ہمارے قلوب اﷲ تعالیٰ اور آپ ﷺ کی محبت اور تا بعد اری سے کیسے سر شار ہو ں گے لہذا آپﷺ کا اسوہ مبارکہ اور آپﷺ کے اہل بیت اطہار اورصحابہ کرام رضوان اﷲ تعالیٰ اجمعین جو بیشک جا دہ حق کے پیرو کا ر تھے اور انہوں نے اپنی زند گیاں اُس میں وقف کر دی ہما رے لئے اُن کے متعین کیے ہوئے عمل پر چلنا ہنوز تشنہ کام ہے ۔ لہذا آج کے اس قحط الرّ جال اور ہر قسم کی انتہا پسند ی اور دہشت گر دی کے دور میں محبت اور ادب رسول ﷺ جہاں عام کر نے کی اشد ضرورت ہے جو ہمیں بمنزلہ عشق مصطفیﷺ نصیب ہو تو ہم صرف مسلمان معاشروں میں ہی نہیں بلکہ پوری عالم انسانیت میں امن و سلامتی ، انسا نی بھائی چارے با ہمی موَدت و احترام ، بر داشت و ہمد ردی اور اثیار کی اعلیٰ انسانی اقدار کو اپنا تے ہو ئے جو بیشک دین اسلام اور سرکار دو عالم ﷺ کا اسوہ حسنہ ہے ،اس اعلیٰ انسانی خیر خواہی کے جذ بے کو ہر سطح پر انسانی سماج میں اس کے علمبر دار بنتے ہو ئے اس کو قبول عام بنا سکتے ہیں جیسا کہ فرما یا گیا ہے کہ دین تو خیر خواہی کا نام ہے ۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ہے کہ رب تعالیٰ رب العالمین ہے یعنی تمام جہانو ں کا پالنے والا ہے جس میں ہر طبقے اور مذہب اور ملت کی اقوا م شامل ہیں اسی طرح سرکار دوعالم ﷺ رحمت العالمین ہیں یعنی تمام جہانوں کیلئے رحمت ہیں آپﷺ کی بعثت اور نبی آخر الزماں ہو نا اور اعلیٰ شان جس کے بارے میں قرآن مجید میں فرما یا گیا ہے کہ ہم نے تمہارا ذکر بلند کر دیا ہے اس شان و عظمت کا عام انسان کا عقل و دانش ادراک نہیں کر سکتی کیو نکہ جہاں اﷲ تعالیٰ کا ذکر ہے ، وہ اذان ہو ، نماز ہو ، درود شریف ہو ،کلمہ طیبہ ہو یا با قی کلمات شرفیہ ہو ں اﷲ تعالیٰ نے اپنے نامِ مبارک اور ذکر عظیم کے سا تھ ہی اپنے حبیب ﷺ کا ذکر سا تھ ہی جو ڑ رکھا ہے یہ کس شان اور کس مر تبے کا اعلان ہو رہا ہے کسی سے پنہاں نہیں ۔ اقبالؒ کے بقول پوری کا ئنات آپ ﷺ کے سامنے بینی جھکا ئے ہو ئے ہے اورآ گے فرماتے ہیں کہ بندے رب تعالیٰ کا انتظا رکر تے ہیں جبکہ آپ ﷺ کا انتظا ر کیا جا تا ہے پھر قر آن مجید میں فرمایا گیا ہے کہ، اے ایمان والو آپ ﷺ پر درود و سلا م بھیجو خو د رب تعالیٰ اور فر شتے بھی آپ ﷺ کے درجات کی بلندی کیلئے درود بھیجتے ہیں ۔ بقول اقبالؒ :
کی محمدﷺ سے وفا تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لو ح و قلم تیر ے ہیں
آج وقت کا اہم تر ین تقاضا ہے کہ اسلام اور اُمت مسلمہ کو جن دگر گو ں حالا ت سیا سی ، معاشی ، معاشرتی اورسب سے بڑ ھ کر با طنی اور روحانی مسائل اور آلام کا سامنا ہے و ہ صرف آپ ﷺ کے لا ئے ہو ئے دین حکیم اور آپ ﷺ کے اسوہ حسنہ اور قر آ ن مجید جو ما شاء اﷲ ہر مسلمان کے گھر میں موجو د ہے اس سے رسمی نہیں بلکہ پورے ایمان و یقین اور کلیتاً اس پر عمل پیرا ہو نے اور اس سے کامل وابستگی ہی اس کا تقاضا ہے اور اسی میں مسلمہ اُمہ کی تمام امراض کا واحد حل ہے بلکہ یہ کہنا زیا دہ بجا ہو گا کہ تمام انسانیت دین اسلام اور اسوہ رسول ﷺ کو اپنے لئے عظیم خیر خواہی کا پیغام سمجھے اور اس سے فیض یاب ہو تو عالم انسانیت امن و آشتی اور فلا ح معاشرہ کے اُصولوں کی عملی طور پرپا سداری ہو سکتی ہے ۔ بقول اقبالؒ :
گرتومی خواہی مسلماں زیستن
نیست ممکن جز بہ قر آں زیستن
دیکھا جائے تو مسیحی دُنیا میں کرسمس کے حوالے سے جا بجا خصو صی اہتمام کیے جا تے ہیں اور بھر پور جوش وخروش سے اس تہوار کو ایک مضبو ط مذ ہبی نشانی اور آثار کے طور پر زند ہ رکھا گیا ہے ، ہم مسلمان بھی بحیثیت ملت واحدہ اور اُمت کے آپ ﷺ سے کمال محبت و ادب یا با الفاظ دیگر عشق مصطفیﷺ ہم سے یہ تقاضا کر تا ہے کہ ہم اﷲ تعالیٰ اور رسول مقبول ﷺ کے بتا ئے ہو ئے راستے پر چلیں بیشک وہی صراط مستقیم ہے اور اسی میں ہی تمام انسانیت اور دارین کی فلاح ہے ورنہ بد اعما لیوں کی سزا ہم فی زمانہ روز مر ہ زند گیوں میں دیکھ رہے ہیں کہیں قتل و غارت گر ی ہو رہی ہے کہیں قحط و افلاس ، رزق کی فروانی کے آڑے آرہا ہے اور اعلیٰ انسانی اقدار روحانی ، معاشی اور معاشرتی گھٹن میں سسک رہی ہیں ۔ آئیے! دامن مصطفیﷺ میں پناہ لیں اور آپ ﷺ سے نظر کرم کی بھیک مانگیں اسی میں عافیتِ دُنیا و عقبیٰ ہے ۔
مضمون نگار: (پاکستان سو ل سروسز کے سابق بیورو کر یٹ ہیں )

ملاوٹ سے اٹا معاشرہ

موجودہ دور میں اپنے ملک کو خیر آباد کہ کر بیرونی ممالک کی جانب بغرض دال روٹی کی تلاش میں جانے والوں کو عام طور پر اب ان کے پیارے واپسی پر لیپ ٹاپ ،موبائل یادوسرے تحائف کی بجائے اکثر اوقات یہ کہتے سنے گئے ہیں کہ واپسی پر یا وہاں جاکر یہ میڈیسن بھیجنی ہے ،اور شائد یہی ان کیلئے اب سب سے اہم اور پیاری چیز رہ گئی ہے۔کیونکہ باہر کی ہر پاڈکٹ چاہے وہ میڈیسن ہو یا پھر اس کا شمار اشیائے خورد و نوش کے زمرے میں آتا ہو۔ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ اپنی اثر پذیری یا فعالیت کے لحاظ سے اتنی ہی ہمارے لئے اہم ہے جس کی ہمیں ضرورت ہے یا جو فوائد و اجزاء اس پر تحریر ہیں وہی اس سے نکلیں گے۔پاکستان میں خاص طور پر ادویات کے معیاری یا ایک نمبر ہو نے کی حالت یہ رہ گئی ہے کہ بڑے شہروں میں محض ایک دو سٹورز کے علاوہ ملاوٹ سے پاک یا ایک نمبر دوائی دستیاب تک نہیں ہے۔ورنہ تو میڈیکل سٹورز پر پڑی ان ادویات کو ایک دو تو نہیں البتہ تین سے لیکر دس نمبروں تک کیٹگرائز کیا جاتا ہے۔وجہ کیا بنی کہ ایک بیمار انسان جو انتہائی مجبوری کے عالم میں ڈاکٹری نسخے کے مطابق دوائی خریدنے اس امید پر جاتا ہے کہ اسے اس تکلیف سے نجات مل جائے گی،مگر اسے کیا پتا کہ وہ دوائی کی صورت اپنے لئے زہر خرید رہا ہے۔ملاوٹ شدہ اور ناقص اشیاء سے متعلق قانون سازی اور اس کی بیخ کنی کیلئے ادارے تو موجود ہیں مگر اس مکروہ اور انسانیت قاتل دھندے میں ملوث لوگوں کے اپنے ہاتھ اس قدر مضبوط ہیں کہ تمام تر قانون سازی اور اداروں کی موجودگی کے باوجود یہ لوگ بڑے آرام سے دامن بچا کر نکل جاتے ہیں اور پھر سے اسی کام میں جت جاتے ہیں ۔پاکستان میں گلی گلی کھلے ادویات ساز ادارے کیا عالمی معیارات ،عالمی ادارہ صحت کے وضع کردہ احتیاطی تدابیر اور فارمولوں کے مطابق ادویات تیار کر رہے ہیں ،صفائی کے کیا انتظامات ہیں یا ادویات کی تیاری میں استعمال کی جانے والی اشیاع یا مشینری کیا وضع کردہ معیارات پورا اترتی ہے کسی کو کسی نہ تو سرو کار ہے اور نہ ہی کوئی خوف کہ یہ سب کچھ نہ کر نے کی صورت میں انھیں کیا سزا مل سکتی ہے۔ہماری حکومتیں گزشتہ کئی دہائیوں سے محض سڑکوں ،پلوں اور انڈر پاسز،رنگ روڈز،اورنج ٹر ین اور میٹرو بس جیسے منصوبوں کی تکمیل کو تو، ترقی کا پہلا زینہ سمجھتے ہیں مگر ملک میں اشیائے خوردونوش اور ادویات میں ملاوٹ اس قدر بڑھ چکی ہے کہ ۔۔۔مرض بڑھتا گیا جوں جوں دواکی ۔۔۔کہ مصداق اب تو ہر طرف ہر پاکستانی کو سوائے ملاوٹ کے کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی۔انہی ملاوٹ شدہ اشیاء کے استعمال کا ہی اثر ہے کہ اب تو ہمارے رویوں میں بھی سوائے ملاوٹ اور ظاہری نمود نمائش کے کچھ بھی خالص نہیں ملتا۔ہمارے تعلقات، رشتے، ناطے، دوستیاں، رو یے، رجحانات سب کے سب اس قدر ملاوٹ زدہ ہیں کہ ہمارے اندر سے انسانیت اس قدر مر چکی ہے ضمیر اس قدر نحیف ہیں اور احساس ذمہ داری اس قدر گھٹیا ہے کہ اس ملک کے ڈاکٹرز محض چند سو روپے تنخواہ بڑھانے کے اپنے مطالبے منوانے کیلئے ہسپتالوں میں تڑپتے مریضوں کو چھوڑ کر سڑک بلاک کر کے بیٹھ جاتے ہیں،اور اساتذہ جو اس ملک کی آنے والی نسلوں کو تو تیار کر نے جیسے عظیم اور قابل قدر فریضے سے منسلک ہیں ہڑتال کر کے محض چند ہزار مراعات کی خاطر سکولوں کو تالے لگا کر سڑک پر بیٹھ جاتے ہیں ۔مصیبت تو یہ ہے کہ اب خود جرم کر نے والا دھڑلے سے ،بے

تذبذب۔۔۔۔۔شوق موسوی
اسے بنائیں کہ یا خود ہی فیصلہ کر دیں
جو اُن کے ہیں وہ کہاں اُن کے اختیار ہوئے
کمیشن آپ کو منظور ہے کہ یا نہیں ہے
یہ منصفان تذبذب کا کیوں شکار ہوئے

Google Analytics Alternative