کالم

مسئلہ کشمیر کا مستقل حل بے حد ضروری ہے

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف کی حمایت اور مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر تشویش کا اظہا رکرتے ہوئے کہا کہ ترکی سے جو کچھ ہوسکا کشمیریوں کی مدد کے لیے کرے گا۔ ترکی او آئی سی کے رابطہ گروپ کا سربراہ ہے اس حوالے سے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوشش کی جائے گی اور یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے گا۔ کشمیر کے حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کا مستقل حل بے حد ضروری ہے۔ اردگان نے پاکستان کے عوام حکومت اور پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے 15 جولائی کو ترکی میں ایک دہشت گرد تنظیم کی طرف سے فوجی بغاوت کی ناکام کوشش پر ترکی کے عوام اور حکومت کے ساتھ پاکستان کی پارلیمنٹ نے ترکی میں بغاوت اور جمہوریت کے خاتمے کی کوششوں کی مذمت کی اور ترک عوام کا ساتھ دیا۔ ہم پاکستان کی اس حمایت کو فراموش نہیں کر سکتے۔ ترک صدر نے کہا کہ جس دہشت گرد تنظیم نے ترکی میں جمہوری حکومت کے خلاف سازش کی اس کا سربراہ خود امریکہ کے شہر پینسلوانیا میں بیٹھا ہوا ہے اور دنیا کے 70 ملکوں میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ترک صدر نے پاکستان کی طرف سے اس تنظیم کی سرگرمیوں کے خاتمے کا خیر مقدم کیا۔ ترک صدر نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اسلام کے نام پر دہشت گردی قابل مذمت ہے لیکن القاعدہ‘ داعش اور دوسری تنظیمیں اسلام کے نام پر دہشت گردی کر رہی ہیں۔ اسلام میں کسی معصوم کو قتل کرنا یا اس کی جان لینے کی اجازت نہیں ہے۔ داعش جس اسلحہ سے مسلمانوں پر حملے کر رہی ہے وہ اسے مغرب نے فراہم کئے ہیں۔ یہ تنظیمیں شام‘ عراق‘ ترکی‘ پاکستان سمیت تمام ملکوں کے لئے خطرہ ہیں۔دہشت گرد تنظیمیں اسلامی ملکوں میں سرگرم عمل ہیں۔ یہ تنظیمیں ترکی میں دہشت گردی کر رہی ہیں اور پاکستان میں 2014ء میں انہوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ کر کے سکول کے بچوں کو وحشیانہ انداز میں قتل کیا۔ دہشت گردی کی اس واردات پر ترکی کے عوام کو انتہائی دکھ پہنچا۔ ترکی کے صدر نے پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے تعلقات برادرانہ سے بھی زیادہ ہیں۔ ترکی کی عثمانیہ سلطنت کو بچانے کے لئے اس خطے کے مسلمانوں نے ترک بھائیوں کی مدد کی جسے ترکی کے عوام کبھی فراموش نہیں کر سکتے۔ ترکی میں جب 1995ء میں ز لزلہ آیا تھا تو پاکستان کے عوام اور حکومت نے ترک بھائیوں کی بھرپور مدد کی۔ صدر اردوان اپنی حکومت کیخلاف ہونیوالی فوجی بغاوت میں ناکامی کے بعد پہلی بار پاکستان آئے ہیں اور پاکستان اور اہل پاکستان کیلئے وارفتگی کے جذبات کے اظہار میں کسی بخیلی سے کام نہیں لے رہے جبکہ وہ صرف کشمیر ایشو پر ہی پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت نہیں کررہے‘ بھارت کی جانب سے سی پیک کیخلاف جاری سازشیں ناکام بنانے اور کسی بیرونی جارحیت کے خدشہ کی صورت میں پاکستان کے دفاع کیلئے کردار ادا کرنے کا بھی عندیہ دے رہے ہیں۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان اور ترک عوام دوستی کے بے مثال بندھن میں بندھے ہوئے ہیں اور اسی ناطے سے ترکی آزمائش کے ہر مرحلہ میں ہمارے شانہ بشانہ کھڑا نظر آیا ہے۔ بالخصوص رجب طیب اردوان کے ادوار میں پاک ترک دوستی کی جڑیں مزید مضبوط ہوئی ہیں۔ کسی بھی ناگہانی آفت کی صورت میں اگر ترکی نے ہمارے ملک میں متاثرین کی بحالی کیلئے امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے تو ترکی کو بھی ایسے چیلنجوں کے دوران پاکستان کی جانب سے بے لوث تعاون ملتا رہا ہے جس کا اعتراف گزشتہ روز اردوان نے پارلیمنٹ سے اپنے خطاب کے دوران بھی کیا۔ مسلم امہ کو اس وقت یقیناً دہشت گردی کے خاتمہ کے بڑے چیلنج کا سامنا ہے جس کے حوالے سے اسلام دشمن قوتیں دین اسلام پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر اسے بدنام کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ اس تناظر میں ترک صدر نے جہاں دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کی بے بہا قربانیوں کو قابل ستائش قرار دیا وہیں دہشت گردوں کو دین اسلام کے دائرہ سے باہر نکالنے کیلئے مسلم ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا بھی تقاضا کیا اور اس معاملہ میں پاکستان کے قائدانہ کردارکو پیش نظر رکھا ہے۔ انہوں نے جن دوٹوک الفاظ میں مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے پاکستان کے موقف کی تائید کی اور اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کے رکن ممالک سے مسئلہ کشمیر کے یواین قراردادوں کے مطابق حل کیلئے اقوام متحدہ میں اپنا کردار بروئے کار لانے کا تقاضا کیا اسکے تناظر میں انکی یہ بات حقیقت کے قالب میں ڈھلی نظر آتی ہے کہ پاکستان اور ترکی محض لفظی نہیں بلکہ صحیح معنوں میں دو برادر ملک ہیں۔ اسی تناظر میں انہوں نے پاکستان اور افغانستان کے مابین بھی سازگار تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا اور ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا کہ اسلام دشمن مغربی دنیا کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے مابین انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے فلسطین اور شام کیلئے بھی مسلم امہ سے اٹھ کھڑے ہونے کا تقاضا کیا تو انکے جذبات مسلم امہ کی بہتری کی فکرمندی میں ڈوبے ہوئے نظر آئے۔ ترک صدر تو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے موقف اور کشمیری عوام کے جذبات کا کھل کر ساتھ دے رہے ہیں جس سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے بھارت پر عالمی دباؤ بڑھنے کی راہ ہموار ہوئی ہے جبکہ اسی موقع پر مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ بھی مودی سرکار کو باور کرا رہے ہیں کہ کشمیر بھارت کا کبھی اٹوٹ انگ تھا نہ ہے تو عمران خان کو ترک صدر کے خطاب اور انکے اعزاز میں دی گئی استقبالیہ تقریبات کا بائیکاٹ کرکے کم از کم کشمیری عوام کو تو

صارفین بجلی اور روشنی کی کر ن سپریم کورٹ

حکمرانوں کو آجکل حکومت کے لالے پڑے ہوئے ہیں اور وہ ہر ممکن طریقے سے یہ مشکل وقت ٹالنے کی کوشش میں ہیں لیکن انکی افرا تفری میں ہونے والی افراتفریوں اور شاہ سے زیادہ شاہ پرستوں کے قیمتی مشوروں سے معاملہ سلجھنے کی بجائے مزید الجھتا جا رہا ہے اور اب قطری شہزادے والے خط نے اسے مزید الجھا دیا ہے جبکہ دوسری طرف بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف دکھائی نہیں دیتی جس سے بنا بنایا کھیل خراب ہوتا نظر آ رہا ہے حکمرانوں کی ایک مشکل تو اسی ماہ ختم ہو جائے گی اور دوسری مشکلات میں شاید انہیں کچھ وقت مل جائے گا اگر ایسا ہوا تو بات ثبوت اور تابوت کی منزل سے عارضی طور پر بچ جائے گی معاملہ کچھ بھی ہو حکومتی افرا تفری کو دیکھتے ہوئے بعض سرکاری محکموں نے من مانیاں کرتے ہوئے عوام دشمنی کا کچھ ایسا بازار گرم کر رکھا ہے کہ جس سے عوام کے دلوں میں حکومت اور حکمرانوں کے بارے میں نفرت جس تیز رفتاری سے بڑھ رہی ہے اسی تیز رفتاری سے بلکہ اس سے کئی گنا زیادہ سرعت سے حکمرانوں کی شہرت اور مقبولیت بھی کم ہو رہی ہے جو آئندہ انتخابات میں کچھ اس طرح سے اثر دکھائے گی کہ کسی شہزاد ے کا کوئی خط بھی کسی کام نہیں آ سکے گا مثال کے طور پر میرے آبائی شہر وزیرآباد سے ملحق گاؤں ونجووالی سے لا تعداد صارفین بجلی جو کہ پہلے ہی غربت کی لکیر سے نیچے زندگیاں گزار نے پر مجبور ہیں پر محکمہ واپڈا جو آجکل کیپکو کہلاتا ہے کے بعض نا اہل ، بد دیانت اور عوام دشمن اہلکاروں اور افسروں نے یلغار کر رکھی ہے اور ان چار پانچ مرلے کے کچے پکے مکانوں میں رہنے والے صارفین بجلی کے اچھے بھلے چلتے بجلی میٹروں کو ڈفیکٹیولکھ کر ہر ماہ زائد بل وصول کرنے کی افسوس ناک بلکہ شرمناک ڈکیتی میں مصروف ہیں اور یہ مظلوم صارفین بجلی جب کیپکو کے بڑے افسروں کے پاس داد رسی کیلئے جاتے ہیں تو انہیں یا تو دفتروں سے دھکے دے کر نکال دیا جاتا ہے یا پھر انہیں یہ کہہ کر ٹال دیا جاتا ہے کہ بابا نئے میٹر آنے پر تمہارا مسئلہ حل ہو گا اور یوں یہ غریب صارفین بجلی نا کردہ گناہ کی پاداش میں بال بچوں کا پیٹ کاٹ کر ہر ماہ زائد بل بجلی جمع کروانے پر مجبور چلے آ رہے ہیں اور یہ واپڈا ڈکیتی صرف ونجووالی میں ہی نہیں ہو رہی بلکہ تحصیل وزیرآباد کے ہر چھوٹے بڑے گاؤں میں پھیل چکی ہے جس میں میٹر ریڈروں سے لیکر کیپکو گوجرانوالہ کے چیئر مین تک سب ملوث ہیں ۔ میں جب ان لٹنے والے صارفین بجلی کی شکایا ت سن رہا تھا تو مجھے معاملہ کی تہہ تک جانے کیلئے تھوڑی کوشش کرنا پڑی اور میں یہ جان کر حیران ہو گیا کہ بات صرف واپڈا سب ڈویژن وزیرآباد تک ہی محدود نہیں بلکہ خراب میٹروں کے نام پر صارفین بجلی کے ساتھ یہ ڈکیتیاں پورے صوبے تک پھیلی ہوئی ہیں جبکہ وزیربجلی و پانی اپنے زیر سایہ ہونے والی اس لوٹ مار سے آگاہ ہونے کے باوجود سینہ تان کر عوامی اجتماعات میں خود کو نواز شریف کا سپاہی او ر عوام کا بھائی ثابت کرنے قسمیں کھانے پر لگے ہوئے ہیں کوئی اور ملک ہوتا تو اول تو وہاں ایسی کسی محکمانہ ڈکیتی کا تصور بھی نہ ہوتا اور اگر ایسا کوئی واقعہ بد قسمتی سے سرزد ہو جاتا تو فوراً سے پہلے حکومت اور عدالت حرکت میں آتی اور متعلقہ وزیر اور محکمہ کا سربراہ نہ صرف یہ کہ قانون کے شکنجے میں ہوتا بلکہ لوٹی ہوئی رقم بمعہ جرمانہ صارف کی جیب میں ہوتی لیکن افسوس کہ وطن عزیز میں ہمارے جمہوریت پسند حکمران ایسی کسی مثال یا روایت کو داخل ہی نہیں ہونے دیتے اور جونہی کوئی عمران خان ایسی روایات لانے کیلئے احتجاج کرتا ہے تو اسے جمہوریت کیلئے خطرہ اور جمہوریت کا دشمن قرار دے کر منظر سیاست سے غائب کرنے کی کوشش شروع کر دی جاتی ہے اور ہمارے نظام میں جمود کا پلہ بھاری ہو جاتا ہے مہنگی بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے اس ماحول میں ان مظلوم صارفین کی باتیں سنتے سنتے میں نے جب اس بیماری کا سراغ لگانا شروع کیاتو مجھے پتا چلا کے خراب میٹروں کے نام پر یہ ڈکیتی صرف کیپکومیں ہی نہیں بلکہ میپکو ، ریپکو ، لیسکو اور دیگر ڈویژنوں میں بھی ڈنکے کی چوٹ پر چل رہی ہے اور لاہور سے ایک رپورٹ کے مطابق لیسکو نے ایک سال سے خراب ہونے والے ساڑھے چھ لاکھ میٹر جان بوجھ کر تبدیل نہیں کیے اور سردی کی آمد اور لوڈ شیڈنگ کے باجود خراب میٹروں کے نام پر اوسطاً بیس سے پچس ہزار روپے زائد بل وصول کیے جا رہے ہیں جس سے محکمہ ہر ماہ مجموعی طور پر لیسکو کے صارفین سے ماہانہ10سے 12ارب روپے وصول کر رہاہے اور اسی قدر رقم ہر ماہ دوسرے ڈیژنوں کے صارفین سے بھی وصول کی جا رہی ہیں جسے اگر اکھٹا کیا جائے تو یہ ایک کھرب روپے ماہوار کے قریب بنتی ہے رپورٹ میں سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ سامنے آئی کہ وفاقی وزیر بجلی و پانی کو اس بات کا بخوبی علم ہے اور اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ وزیر موصوف نے ابھی تک اپنے زیر سایہ ہونے والی اس واپڈا ڈکیتی کو نہ ہی تو بند کروایا ہے اور نہ ہی عوام کا خون چوسنے والی اس نئی بیماری کو ایجاد کرنے اور اس پر عمل کرنے والے افسروں کو کوئی سزاد ی ہے جس سے روز بروز یہ بیماری بڑھتی جا رہی ہے ایسے حالات میں روشنی کی ایک کرن سپریم کورٹ آف پاکستان ہی رہ جاتی ہے کہ وہ از خود نوٹس لیتے ہوئے وزیر بجلی و پانی سمیت تما م ڈکیت افسران واپڈا کو طلب کر کے صارفین سے لوٹی گئی فاضل رقم ریفنڈ کروانے کے علاوہ ان عوام دشمن افسروں کو گھر بھیجنے کا انتظام کرے گو کہ سپریم کورٹ آجکل پانامہ کیس میں بڑی مصروف ہے لیکن عوامی مفاد کا یہ مسئلہ بھی اربوں روپے کا ہے جس میں سپریم کورٹ کی فوری مداخلت

ترک صدر کا دورہ، دوررس نتائج کا حامل

وزیراعظم میاں نوازشریف نے ترک صدر رجب طیب اردوان کے ہمراہ ملاقا ت اور وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ترک صدر اور ان کے وفد کو پاکستان آمد پرخوش آمدید کہتے ہیں،ترکی پاکستان کاد وسرا گھر ہے،دونوں ملکوں کے تعلقا ت باہمی اعتماد اور محبت پر مبنی ہیں،ترکی میں بغاوت کی کوشش پر پاکستان کو دھچکا لگا،پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کی حمایت کرتی ہے،ترک عوام کے حوصلے اور جرت نے بغاوت کو ناکام بنایا،پاکستانی قوم ترکی کی منتخب حکومت کو ہٹانے کی کوششوں کی مذمت کرتی ہے،ترک قوم نے جمہوریت کی سربلندی کیلئے نئی تاریخ رقم کی۔ترک صدر طیب اردوان کی قیادت میں ترکی ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ترک صدر سے وسیع البنیاد امور پر بات چیت ہوئی ہے۔انہوں نے کہاکہ دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات میں سرمایہ کاری اور تجارت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں،پاکستان اور ترکی دونوں اہم ملک ہیں۔پاکستان کے ترکی کے مضبوط باہمی تعلقا ت خطے کیلئے نہایت اہم ہیں۔مذاکرات میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت کے بارے میں گفتگو کی گئی۔مذاکرات میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات پر بھی گفتگو کی گئی۔وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا کہ نیوکلیئر سپلائر گروپ میں پاکستان کی رکنیت کیلئے ترکی کی حمایت قابل تعریف ہے۔2017 دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات کے 70ویں سالگرہ کا سال ہے،پاکستان اور ترکی امن و سلامتی کیلئے مل کر کام کرتے رہیں گے۔دونوں ملکوں کے درمیان تجارت اورسرمایہ کاری میں اضافہ ہونا چاہیے،دونوں ممالک کے تعلقات باہمی ،اعتماد اور محبت کے ہیں۔اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ شاندار استقبال کرنے پر پاکستان کا شکرگزار ہوں،پاکستان کے ساتھ ترکی کے درینہ تعلقات ہیں،وزیراعظم محمد نوازشریف سے مفید مذاکرات ہوئے،ترک وزیراعظم کے دورے سے پاکستان سے تعلقا ت مزید بہتر ہوئے،معاشی ،اقتصادی،تجارتی اور عسکری شعبوں میں پاکستان سے تعاون کریں گے۔ملاقات میں علاقائی اور عالمی امور پر بات چیت ہوئی۔ملاقات میں کشمیر کی صورتحال پر خاص طور پر بات چیت ہوئی۔ ایل او سی کشیدگی پر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،دونوں ملکوں نے اتفاق کیا کہ مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر نظر انداز نہیں کیاجاسکتا،مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے فوری حل کرنا چاہیے۔ترک صدر نے کہاکہ او آئی سی کے فورم پر بھی پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھیں گے،پاکستان اور افغانستان دونوں برادر ملک ہیں۔پاکستان افغانستان اور ترکی سہ فریقی معاہدہ اہمیت کا حامل ہے،خطے میں امن کیلئے پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعاون ناگزیر ہے،پاکستان نے ہر مشکل وقت میں ترکی کا بھرپور ساتھ دیا۔بغاوت کی ناکام کوشش پر پاکستانی قوم نے ترک جمہوریت کی حمایت کی،ترک حکومت اور عوام کی جانب سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتا ہوں،ترک قوم نے فوجی بغاوت کی کوشش کو ناکام بنایا۔پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون میں وسعت کیلئے پرعزم ہیں،تعلیم کے شعبے میں بھی پاکستان سے تعاون جاری رکھیں گے۔پاکستان کے دیانتدارانہ موقف کو ترکی کبھی فراموش نہیں کرے گا،گولن تحریک نے عوامی خدمت کا سہارا لے کر ترکی کو کمزور کرنے کی کوشش کی،پاکستان کی طرح ترکی کو بھی دہشتگردی کا سامنا ہے،دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔دہشتگردی کے خلاف پاکستان کو اپنے تجربات سے آگاہ کریں گے۔ترک صدر نے کہاکہ لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کی صورتحال پر تشویش ہے،پاکستان اور بھارت مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرسکتے ہیں،مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے فوری حل کرنے کی حمایت کرتے ہیں۔مسئلہ کشمیر کا فوری اور بامعنی حل چاہتے ہیں،مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنا ہوگا۔ ترک صدر کا دورہ پاکستان دوررس نتائج کا حامل قرارپایا جہاں دونوں ملکوں کے تعلقات میں مزید وسعت پیدا ہوئی وہاں کئی معاہدوں پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں ملک ایک دوسرے کے زیادہ قریب آئیں گے اور ان کی دوستی مستحکم ہوگی۔
پانامہ کیس، عدالت کے فیصلے کا انتظار کیا جائے
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل حامد خان نے پاناما لیکس سے متعلق وزیر اعظم کا قوم سے خطاب کا متن پڑھ کر سنایا۔ حامد خان نے کہا کہ وزیر اعظم نے 27 اپریل کو پہلا جب کہ اس کے 17 دن بعد دوسرا خطاب کیا، نواز شریف نے اپنی تقریر میں کہا کہ ان پر جو الزامات لگائے جارہے ہیں وہ 22 سال پرانے ہیں،وزیر اعظم نے قوم سے وعدہ کیا کہ اگر کمیشن نے قصور وار ٹھرایا تو گھر چلا جاؤں گا۔جسٹس عظمت سعید نے حامد خان سے استفسار کیا کہ آپ تقریر پڑھ رہے ہیں اس کا کیا فائدہ، اگر ان تقریروں سے تسلی ہوتی تو آپ یہاں نہ ہوتے، جسٹس اعجازالحسن نے استفسار کیاکہ وزیراعظم کے بیان کے مطابق ان کے دوبچے بیرون ملک ہیں، جس پر حامد خان نے کہا کہ یہ بات بالکل درست ہے لیکن بچوں کے کاروبار کی تفصیلات نہیں بتائی گئیں۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ تقریر کے مطابق وزیر اعظم نے جدہ اسٹیل مل فروخت کرکے بچوں کو کاروبار کروایا، نوازشریف کی تقریر میں ہے کہ ان کے والد نے مکہ میں کارخانہ لگایا، کارخانے کے لیے سعودی بینکوں سے قرضہ لیا، اس خطاب میں لندن کے فلیٹس کا ذکر نہیں، لگتا ہے وزیر اعظم نے مستعفی ہونے کا عہد خود سے کیا
ہے، قوم سے نہیں۔ نوازشریف واضع کہہ چکے ہیں کہ عدالتوں نے ان پر لگائے گئے الزامات مسترد کیے، پاناما لیکس میں جوالزمات لگائے گئے وہ 22سال پرانے ہیں، کیا ملک کے کسی ادارے نے تحقیقات کیں،کیا ماضی میں وزیر اعظم پر لگائے گئے الزمات کی تحقیقات اور نتائج سامنے آئے۔ کیاان مقدمات کے حوالے سے کوئی دستاویزات موجود ہیں۔جسٹس امیر ہانی مسلم نے استفسار کیا کہ کیا لندن کے فلیٹس ان مقدمات میں شامل تھے،جس پر حامد خان نے کہا کہ یہ جائیداد ان مقدمات میں شامل نہیں جن پر عدالت نے فیصلہ سنایا۔ جسٹس عظمت سعید کی جانب سے ریمارکس دیئے گئے کہ یہ ایک سیاسی بیان ہے، ایک بھی الزام پر دوبارہ تحقیق ہوئی تو پھر یہ دوہرا ٹرائل ہوگا۔ حامد خان آپ وکالت نہیں سیاست کررہے ہیں،1981 میں وزیر اعظم نے 300 روپے ٹیکس دیا یا250، یہ ہمارا مقدمہ نہیں، ایسالگ رہاہے مقدمہ جس سمت میں جارہا ہے کبھی ختم نہیں ہوگا۔حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ نواز شریف نے کہا ہے کہ دو بیٹے بیرون ملک ہیں جہاں وہ کاروبار کرتے ہیں، 1976 میں پیدا ہونے والا حسن نواز 1984 میں لندن پہنچا، وزیر اعظم کی تقریروں میں کوئی ٹائم فریم نہیں بتایا کہ دبئی اسٹیل مل 80 کی دہائی میں بیچی اور جدہ اسٹیل مل 2001 میں لگائی، دبئی پراپرٹی کی فروخت اور جدہ فیکٹری کی خریداری میں 21 سال کا وقفہ ہے، دستاویز میں جون 2005 میں اسٹیل مل بیچنے کی تاریخ تو ہے لیکن خریدنے کی تاریخ نہیں۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیئے کہ وزیراعظم کے بچے کہتے ہیں دبئی کی اسٹیل مل قرضہ لے کر قائم کی ، اگر وزیراعظم کے بچوں نے دستاویزات سے خریداری ثابت کردی تو آپ کا کیس فارغ ہوگا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا وزیراعظم کے بیان پر ہم قرار دیں کہ لندن کے فلیٹس کالے دھن سے خریدے گئے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ہم وزیر اعظم کی پوری زندگی کی اسکروٹنی نہیں کریں گے، آپ نے خامیاں بتا دیں، اب دستاویزی ثبوت پیش کریں۔پانامہ لیکس زیر

بہت ہوچکا، اب بھی سنبھل جاؤ

ہر طرف سسٹم کی خرابی کا شور ہے، ہر سیاستدان سسٹم کو ٹھیک کرنے کا دعویدار ہے مگر ان کی حرکتوں سے لگتا ہے یہ سسٹم ٹھیک نہیں کرنا چاہتے بلکہ اسے لپیٹ ہی دینا چاہتے ہیں۔ کوئی انہیں سمجھائے کہ سسٹم کو ختم کرکے اسے بہتر نہیں کیا جا سکتا۔ غوطے کھانے کے ڈر سے تالاب خالی کرکے پیراکی سیکھنے کی خواہش پاگل پن کے سوا کیا ہوسکتی ہے؟ اگر کسی کو پیراکی سیکھنی ہے تو اسے لامحالہ پانی میں اترنا ہوگا، ڈبکیاں کھانی ہوں گی۔ ایسے ہی اس نظام کو بقیدِ حیات رکھتے ہوئے ہی اس کی بہتری ممکن ہے مگر ان عاقبت نااندیشوں کو کون سمجھائے۔تاریخ گواہ ہے کہ بار بار سیاستدانوں نے ہوسِ اقتدار میں ایک دوسرے کو اتنا زچ کردیا کہ تیسری قوت کو آتے ہی بنی۔ ان سیاستدانوں کی ڈرامہ بازیوں نے عوام کو جمہوریت سے اس قدر بدظن کیا کہ ہر بار تیسری قوت کے آنے پر وہ کبھی حلوے اور کبھی مٹھائیاں لے کر سڑکوں پر نکل آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کا دور جس نے دیکھا ہے اسے یاد ہو گا کہ سیاستدانوں نے کیا دھماچوکڑی مچائی تھی۔ پھر جب جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کیا، سسٹم لپیٹ کر ان سب ہوسِ اقتدار کے پروردوں کو گھر کی راہ دکھائی، اس وقت عوام ان سے اتنے تنگ آ چکے تھے کہ ملک میں حلوہ بٹنا شروع ہوا اور اس قدر حلوہ بٹا کہ ملک میں میدے اور سوجی کا بحران پیدا ہو گیا۔ ڈھونڈے سے یہ چیزیں نہیں ملتی تھیں۔ اسی طرح جب جنرل پرویز مشرف آئے تو کروڑوں کی مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ جواب اس کا بہت سیدھا ہے۔ ایک سیاستدان اقتدار میں آتا ہے، وہ اہل ہو یا نااہل، وہ عوام کے لیے کچھ کرنا چاہتا ہو یا اپنا پیٹ بھرنا چاہتا ہو، ان تمام باتوں سے قطع نظر الیکشن میں ہار جانے والے سیاستدان اقتدار پر فوری قبضے یا اگلے الیکشن کی تیاری کے سلسلے میں حکومت کو ’’گندہ‘‘کرنے کی گندی سوچ پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں اور اس سلسلے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جاتی۔ ایسے میں اگر حکومت میں آنے والی پارٹی عوام کے لیے کچھ کرنا بھی چاہتی ہو تو وہ کچھ نہیں کر پاتی۔یہ ہمارے سیاستدانوں کی ناکامی ہے کہ وہ آج تک عوام کو ملکی آئین کے تقدس پر ہی قائل نہیں کر سکے۔ جب سیاستدان اس آئین کو اپنے گھر کی باندی بنا کر رکھیں گے اور صرف اپنے مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے ملکی معاملات چلائیں گے جن میں عوام کہیں نظر نہ آتے ہوں تو ایسے آئین کا تقدس عوام کے سامنے کیاہو گا۔جس روز عوام کو آئین کے تقدس کا احساس ہو گیا اس روز کسی تیسری قوت کو اقتدار میں آنے کا خیال ذہن میں لانے کی جرأت بھی نہیں ہو گی مگر اس کے لیے سیاستدانوں کو انسان بننا ہو گا جو قطعی ناممکن ہے۔ جس ملک میں سیاستدانوں کی سیاست کا محورومرکز محض اقتدار کی دیوی سے بغلگیر ہونا ہو، وہاں بہتری کی امیدچہ معنی دارد؟اب ایک بار پھر سیاستدان ایک دوسرے کو زچ کرنے کی غلیظ مہم انتہاء کو پہنچائے ہوئے ہیں۔ میں یہاں یہ بحث نہیں کرنا چاہتا کہ غلط کون ہے اور صحیح کون۔ میں یہاں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دونوں اطراف سے ہی حد سے تجاوز کیا جا رہا ہے۔ حکومت خود کو آئین و قانون سے بالاتر قرار دے چکی ہے اور کسی طرح کرپشن کی تحقیقات کے لیے خود کو پیش نہیں کرنا چاہتی اور اپوزیشن ملک کے کسی ایک ادارے پر بھی اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ اس کے لیے سڑکیں ہی سب کچھ قرار پا چکی ہیں۔ سپریم کورٹ، الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ وغیرہ وغیرہ سب اس کے نزدیک کرپشن کے گڑھ ہیں اور یہاں جتنے بھی لوگ بیٹھے ہیں کرپشن کے پروردہ ہیں۔ کیا اپوزیشن کی یہ سوچ کسی طوربھی درست قراردی جا سکتی ہے کہ پورے ملک میں، باقی تمام سیاسی جماعتوں میں، تمام ملکی اداروں میں سب کے سب کرپٹ اور چور بیٹھے ہیں، صرف یہ اپوزیشن جماعت ہی ستی ساوتری اور دودھ کی دھلی ہے، حتیٰ کہ ان کرپٹ اور چور جماعتوں سے بھی جو کوئی ان

سفر۔۔۔ شوکت کاظمی
قدم قدم پہ مرا امتحان سخت ہوا
کوئی نہ ایسا زمانے میں تیرہ بخت ہوا
سفر پہ چل جو پڑا ہوں تو حوصلہ دیکھیں
نہ زادہِ رہ نہ شانوں پہ کوئی رخت ہوا

ہم لوگ کہاں جائیں؟

ہم کہاں جائیں طیب اردوان کی حمایت کریں تو رجعت پسند کہلائے جاتے ہیں اور ان کے گولن موومنٹ کے خلاف اقدامات پر نقد کریں تو یہودی ایجنٹ کہلائے جانے کا ڈر دامن گیر رہتا ہے ۔کیونکہ ہمارے لوگوں کا مزاج وہی ہے کہ
’’مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں
جو کوئے یار سے نکلے تو سائے دار چلے‘‘
طیب ادوان آئے تو میں ٹریفک میں پھنسا رہا۔میں نے فیس بک پر لکھا کہ طیب اردوان آئے ہوئے ہیں ان کی وجہ سے روٹ لگا ہے ۔آدھے گھنٹے سے اس میں پھنسا ہوں لیکن حیرت یہ ہے کہ اس دفعہ ٹریفک جام میں پھنسے رہنا ذرا بھی برا نہیں لگ رہا۔لوگوں نے طعنہ دیا کہ تم اپنے سلطان کے ساتھ جذباتی وابستگی دکھا رہے ہو ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ٹریفک میں پھنسا آدمی کہے کہ اسے یہ سب برا نہیں لگ رہا۔
پھر ترک اساتذہ کا معاملہ چل نکلا تو کل میں نے فیس بک پر لکھا کہ’’ طیب اردوان انتہائی محترم ہیں. لیکن اس احترام کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ترک اساتذہ کو اس افسوسناک طریقے سے ملک چھوڑنے کا حکم جاری کر دیتے. یہ ہمارے بچوں کے استاد تھے. بچوں کے اساتذہ کے ساتھ کیا ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے؟ کیا ہمیں صرف دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے؟ ہم دوست ممالک کی خواہشات پر جانے کب تک دستور و اخلاقیات قربان کرتے رہیں گے. ہمیں جب جب تولا جاتا ہے ہم ہلکے نکلتے ہیں. ہر بار ہمارا رویہ احترام باہمی کے وقار کے بجائے باجگزار قسم کی اطاعت میں لپٹا ہوتا ہے. اور پھر اس قوم کو رابرٹ ہوران جیسوں کے یاوہ گوئی اور گالیاں سننا پڑتی ہیں. ان اساتذہ کا کیا جرم ہے؟ انہیں یا ان کے پاکستانی شاگردوں کو یہ سوال ضرور اٹھانا چاہیے تاکہ سب کرم فرماؤں کو یہ معلوم. ہو سکے کہ پاکستان ایک جمہوری ملک ہے جہاں آئین مقدم ہے. یہاں فرمان شاہی سے کسی کے جائز حقوق نہیں چھینے جا سکتے. یہ سلسلہ یہیں رک جانا چاہیے. ورنہ معزز مہمان تو تشریف لاتے رہیں گے اور ان کے ہمراہ مطالبات کے دیوان ہوا کریں گے. صالحین پر بھی افسوس ہے. اس ظلم کے حق میں ایسے غیر صالح قسم. کے دلائل لا رہے ہیں کہ افسوس ہوتا ہے. وہی بات کہ ہمارے اپنے اپنے ظالم اور اپنے اپنے مظلوم. ہم صرف اس ظالم کے. مذمت کرتے ہیں جو ہماری صفوں میں سے نہ ہو اور ہم صرف اس کو مظلوم سمجھتے ہیں جو ہمارے گروہ سے تعلق رکھتا ہو‘‘
اس پر لوگوں نے عجب عجب تبصرے فرمائے ۔اب کے مجھے سیکولر قرار دے دیا گیا۔
دیکھا جائے تو یہی رویے ہمارا اصل مسئلہ ہیں۔ہم تقسیم در تقسیم ہو چکے ہیں ۔اب ہمارے لیے یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ جو ہمیں اچھا لگتا ہو ہم اس کی کسی غلطی کو غلطی کہہ سکیں۔اب طیب اردوان صاحب بلاشبہ مسلم دنیا کے ایک بہت بڑے رہنما ہیں۔ان سے بہت ساری امیدین وابستہ ہیں۔پاکستانیوں کے تو انہوں نے اس وقت دل ہی جیت لیے جب بنگلہ دیش حکومت کی سفاک پالیسیوں کے خلاف انہوں نے وہاں سے سفیر کو واپس بلالیا ۔لیکن اب اگر وہ غلطی کریں تو کیا اس غلطی کو غلطی نہ کیا جائے۔میں تو کہتا ہوں کہ خیر خواہی کا تقاضا یہی ہے کہ ایسا ضرور کہا جائے۔
یہی ہمارا المیہ ہے کہ یہاں کوئی بھی عصبیت سے بلند ہو کر ظلم کو ظلم نہیں کہتا. سب کے اپنے اپنے ظالم ہیں اور اپنے اپنے مظلوم ۔ظلم کی مذمت کرنے سے پہلے اب یہ دیکھنا ضروری ہو چکا ہے کہ مظلوم اور ظالم کا تعلق کس گروہ ہے. اگر ظالم امریکہ ہو اور مظلوم کا نام عافیہ صدیقی ہو تو ہمارا روشن خیال طبقہ گونگا شیطان بن جاتا ہے اور اگر انصاف کا دامن قبلہ اردوان چھوڑ کر انتقام کی راہ پر چل نکلیں تو ہماری نیک روحیں ترک اساتذہ کے انسانی حقوق سے یکسر بے نیاز ہی نہیں ہو جاتیں انہیں یہ الہام بھی ہو جاتا ہے کہ یہ اساتذہ یہودی ایجنٹ بھی ہیں۔

مودی کی جنونیت اور امریکی بے رخی کا جواب

مودی کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا تسلسل ٹوٹتا نظر نہیں آتا۔ ہر نیا دن ایک نئی مہم جوئی سے شروع ہوتا ہے۔ لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی فوج بارود کی مسلسل بارش کررہی ہے۔ گزشتہ روز بھمبر سیکٹر میں پاک فوج کے سات جوان شہید ہوگئے۔ پاک فوج بھی بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے رہی ہے۔سرحدوں پر کشیدگی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی محاذ بھی گرم ہے۔ بھارت نے یہاں بھی پہل کرتے ہوئے پاکستان کے ایک سفارت کار پر جاسوسی کاالزام لگا کر اسے پاکستان واپس جانے کو کہا تھا۔ پاکستان نے بھی بھارتی سفارتکاروں کے خلاف جاسوسی اور منفی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی بناء پر انہیں دیس نکالا دے دیا ہے۔ اس طرح جنوبی ایشیاء میں مودی کی جنونی سوچ کی بناء پر جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں ۔ مودی کے اس جارحانہ رویے کی تان کہاں ٹوٹے گی،خود بھارتی خواص و عام بھی اس سے ناواقف ہیں۔ بھارتی تجزیہ نگار گو کہ اپنی سرکارکی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں، مگر اب وہ بھی مودی کی شدت پسندی پر نقطہ چینی کرنے لگے ہیں۔ بھارتی فوجی قیادت بھی تذبذب اور دباؤ کا شکار ہے۔ مودی کی گیڈر بھبکیوں کو پاکستان تو خاطر میں نہ لایا تاہم بھارتی فوج کی ٹانگیں ضرور کانپنا شروع ہوگئیں۔ وہ پہلے ہی افواج پاکستان کے مقابلے میں استعداد ، صلاحیت اور تیاری کے حوالے سے احساس کمتری کا شکار ہیں۔ مودی کی جانب سے جنگ کے آپشن پر جب اس کی کمزوریاں اور نااہلیاں ابھر کر سامنے آئیں تو خود بھارتی عوام اور میڈیا اس سفید ہاتھی پر انگلیاں اٹھانے لگے۔ بھارتی فوج لمبے عرصے سے مظلوم کشمیریوں کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے ظلم وستم کا ہر حربہ استعمال کررہی ہے تاہم اس دفعہ تونہتے کشمیریوں نے بھی ان کے ظلم و جبر کوقبول کرنے سے انکار کرکے تحریک آزادی کو نئے جوش و ولولہ عطا کیا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی اسی صورتحال نے مودی سرکارکو پاکستان پر حملے کی دھمکیوں، کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری کی خلاف ورزیوں، سفارتی آداب کے منافی حرکتوں پر مجبور کیا ہے تاکہ دنیا کی توجہ اس معاملے سے ہٹ جائے۔حیرانی کی بات یہ کہ دنیا دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار تو کرتی ہے تاہم اس کی بنیادی وجہ یعنی مسئلہ کشمیر کو مسلسل نظر انداز کرتی چلی آرہی ہے۔ اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ٹھیکیدار اس حوالے سے اپنا منہ کھولنے سے گریزاں ہیں۔ وہ اُڑی حملے کی مذمت تو ضرور کرتے ہیں تاہم پاکستان میں ہونے والی بھارتی دہشت گردی پرچپ سادھے ہوئے ہیں۔بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ خضدار میں شاہ نورانی دربار پر ہونے والا خود کش حملہ’’ اجیت دوول پالیسی‘‘ کا شاخسانہ ہے۔مگر دنیانے ایسے گھناؤنے واقعات کا کوئی خاطر خواہ نوٹس لیا ہے نہ بھارت پر کسی قسم کا دباؤ ڈالا ہے۔عجب اتفاق ہے کہ اس حملے کے دوران ہی اسرائیلی صدر یووین ریولین نئی دہلی وارد ہوئے ۔ مودی اور اسرائیلی صدر نے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی بجائے پاکستان پر دہشت گردی پھیلانے کا الزام تھوپ دیا۔دنیا میں دہشت گردی کا موجب بننے والی دونوں ریاستوں کا یہ مضحکہ خیزالزام ایک طرف ان کی ڈھٹائی کو ظاہر کررہا ہے تو دوسری طرف اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی بے حسی اور بے رخی کی عکاسی کررہا ہے۔دونوں ممالک نے عرصہ دراز سے کشمیر اور فلسطین پر خونیں پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ دونوں کا دہشت گردی کے محرکات پر رونا، مگر مچھ کے آنسو بہانے کے مترادف ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کشمیری اور فلسطین مسئلہ حل ہو جائے تو دنیا میں بڑی حد تک امن قائم ہو جائے۔ مگرافسوس تمام حقائق کے باوجود دنیا دورخی کا شکار ہوچکی ہے۔ اس تناظر میں کسی سے کوئی بھی توقع رکھنا بیکار ہے۔ امریکہ سمیت بہت سے طاقتور ممالک دہشت گردی کی آڑ میں مسلمان ممالک کے وسائل لوٹ رہے ہیں۔ بھارت اور اسرائیل اسی آڑ میں ایک طرف کشمیر اور فلسطین پر قبضہ جمائے بیٹھے ہیں تو دوسری طرف پاکستان سمیت بہت سے ممالک کو دہشت گردی کے چکر میں الجھا کر کمزور کررہے ہیں۔عالمی طاقتوں اور اداروں کی اس خودغرضی اور بے حسی کے پیش نظر پاکستان کو خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔

پشتون اور غیر پشتون افغان کا مسئلہ

دہشت گردی کی لہر نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھا ہوا ہے ہر روز کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی ملک میں کبھی دھماکہ کبھی حملہ، کچھ نہ کچھ ہوتا ہے لیکن پاکستان نے جتنا نقصان اس جنگ میں اٹھا یا ہے شاید ہی کسی اور نے اٹھا یا ہوگا ۔ پاکستان کا المیہ یہ بھی ہے کہ یہ دوسرے کی جنگ میں گھسیٹا جا رہا ہے اور مارا جا رہا ہے۔ اس کے عوام غیروں کی خواہشات کی بھینٹ چڑھ رہے ہیں یہاں اگر طالبان بنے تو سب جا نتے ہیں کہ یہ طالبان کون ہیں یہ اُنہی مجا ہدین کے بچے اور اولاد ہیں جو افغان روس جنگ کے وقت پوری دنیا سے لاکر یہاں بسائے گئے، روس افغانستان سے چلا گیا لیکن یہ لوگ نہ گئے بلکہ ادھر ہی رہ گئے اور اپنا نکتۂ نظر پھیلاتے رہے بات یہاں تک بھی قابل قبول تھی لیکن ہوا یہ کہ دوسرے کے مسلک کو کفر قرار دینا وطیرہ بنتا گیا اور آج نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان میں نہ مارکیٹ ، نہ بازار ، نہ ہسپتال نہ مسجد نہ جنازے ،کوئی بھی محفوظ نہیں ۔ابھی حال ہی درگاہ شاہ نورانی خضدار پر ہونے والے حملے کی بھی ذمہ داری داعش نے قبول کرلی ہے یہ دہشت گردی کہیں لسانی روپ میں ہیں کہیں سیاسی انداز میں اور سب سے خوفناک صورت فرقہ پرستی ہے پاکستان میں فرقہ پرستی کی دہشت گردی کو اس دوران جتنا فروغ ملا اتنا پہلا کبھی نہیں ملاتھا ۔ دہشت گردوں نے حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوسرے مسالک کے ماننے والوں کا بھی قتل عام کیا ایسا کسی ایک فرقے کی طرف سے نہیں ہوا بلکہ کسی طرف اور کسی فرقے میں ایسے شرپسندوں کی کمی نہیں ان لوگوں کو دشمنوں نے خوب استعمال کیا ۔پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں اگر سو فیصد نہیں تو ستراسی فیصد حصہ تو بھارت اور را کی طرف سے ہی ہے۔ ان دشمنوں نے پہلے تحریک طالبان پاکستان بنائی جب آپریشن ضرب عضب میں اس تنظیم کی کمر ٹوٹی تو اُس نے افغانستان کے محفوظ ٹھکانوں کواستعمال کر کے اس خطے میں داعش اور آئی ایس آئی ایس کے قدم جمانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے اور آج کل کے رواج مطابق تمام دھماکوں اور حملوں کی ذمہ داری داعش یا آئی ایس آئی ایس قبول کر لیتے ہیں۔ اگر تو یہ سازش ہے کہ پاکستان کو بد نام کیا جائے کہ یہاں یہ تنظیمیں موجود ہیں تو یہ بھی یاد رکھا جائے کہ سب سے زیادہ متاثر بھی پاکستان ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ کاروائیاں یہ تنظیمیں کروا رہی ہیں تو پھر ان سے پوچھا جائے کہ یہ سب اُن سے کروا کون رہا ہے اور کیا ایسا اُن سے مفت میں کروایا جا رہا ہے ،یقیناًنہیں بلکہ اسکے لیے بہت بڑی رقم خرچ کی جا رہی ہے ۔ دوسری طرف افغانستان میں ایک اور کھیل بھی کھیلا جا رہا ہے اور وہ ہے پشتونوں اور غیر پشتونوں کی تفریق۔ عبدالرشید دوستم اس وقت سخت شاکی ہیں کہ افغان اتحاد ی حکومت میں صرف پشتونوں کو نمائندگی دی جا رہی ہے اور ازبک اور تاجک اقتدار میں حصہ نہیں پا رہے یعنی بات یہ ہے کہ افغانستان میں وہاں کے لوگوں سے اپنا ملک نہیں سنبھل رہا لیکن بھارت کی ایماء پر پاکستان کے معاملات میں مداخلت کی جا رہی ہے اور اس کے لیے باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ہے، بے شمار افغان طلباء کو بھارتی یونیورسٹیوں میں بے تحاشا داخلے دئیے جا رہے ہیں اور یوں اپنی ایک طفیلی ریاست تیار کرنے کی مکمل کوشش ہو رہی ہے اور مکمل منصوبہ بندی کے تحت ہورہی ہے۔ افغانستان میں بھارت کا ہاتھ حامد کرزئی کے زمانے سے ہی بہت مضبوط ہے اس نے بھارت کی یونیورسٹی سے پڑھنے کا حق نمک خوب ادا کیا اور نہ صرف بھارت کو افغانستان میں خوب دخیل کیا بلکہ اسی کے مقاصد کے حصول کے لیے اُس نے اس کا بھر پور ساتھ دیا اور پاکستان میں اُس کے تخریب کاری اور دہشت گردی کے مشن کو پورا کرنے میں اس کی ہر طرح مدد کی۔ اشرف غنی کے عہدہ سنبھالنے کے بعد لگتا تھا کہ اب حالات میں بہتری آئے گی اور ایسا ہوا بھی لیکن را پھر اپنا کام کر گئی اور نئی حکومت نے بھی پراناوطیرہ اپناکر اپنے کئی مسائل کے لیے پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کر دیا لیکن را نے چھوڑا افغانستان کو بھی نہیں اور وہاں پشتون اور غیر پشتون کے مسئلے کو ہوا دینا شروع کی۔ بھارت نو ے کی دہائی ہی سے شمالی اتحاد کی حمایت کرتا رہا ہے اور اب بھی وہ یہی کر رہا ہے اُس نے جب افغان طلباء کو بھارت بھیجنا شروع کیاتو ایک بار پھر غیر پشتون قبائل کا ہی اکثریت سے انتخاب کیا گیا اور صرف آٹھ فیصد پشتون طلباء کو شامل کیا گیا۔ افغانستان میں بھی پشتون آبادی مسلسل حملوں اور مسائل کی زد میں ہے پشتون افغانستان کی آبادی کا تقریباََ ساٹھ فیصد ہیں لیکن انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے پاکستان سے واپس جانے والے پشتون افغان جب اپنی زمینوں پر واپس پہنچتے ہیں اور ان پر کام شروع کرتے ہیں تو اصل کاغذات نہ ہونے کو وجہ بنا کر انہیں وہاں سے بے دخل کر دیا جاتا ہے اس وقت افغانستان میں بیس لاکھ سے زائد آئی ڈی پیز موجود ہیں جن میں اکثریت پشتونوں کی ہے جن میں یہی کسان افغان بھی شامل ہیں، افغانستان میں اس بات پر شدید ناراضگی اور غصہ پایا جا رہا ہے اور انہی حالات میں مزید خرابی اور دباؤ تب پیدا ہوا جب صرف 2016 میں 16000 افغان سپاہی اور افسر مارے گئے، 2600 طالبان داعش کے ساتھ جا شامل ہوئے، فوج میں اندرونی خلفشار کے نتیجے میں 300 سپاہی اور افسر ہلاک ہوئے اور 200 سے زائد زخمی ہوئے اگر چہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف بھارت کا ساتھ بڑے زورو شور سے دیا گیا ہے اوردیا جا رہا ہے لیکن اُس کی حکومت کو یہ بھی ضرور سوچ لینا چاہیے کہ اپنے ملک میں بھارت کو ا س قدر با اختیار بنا لینے سے وہ اپنے لیے بھی مصیبت مول لے رہے ہیں ۔بھارت مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے اور وہ اپنی خصلت سے مجبور بھی ہے کہ نہ صرف اپنے پڑوسیوں کو دبائے گا بلکہ وہ جو اُن کے مددگار ہیں ان کو بھی موقع ملتے ہی تباہی کے دہانے تک پہنچائے گا لہٰذا افغانستان کو سوچ سمجھ کر بھارت سے تعلقات رکھنے چاہیے اُسے پاکستان اور بھارت میں فرق کو سمجھ لینا چاہیے اور یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ پاکستان وہ ملک ہے جس نے انہیں دہائیوں تک مہمان بنائے رکھا اور بھارت وہ ملک ہے جو اُس کے لوگوں کو اپنے ہی ملک میں ایک دوسرے کا دشمن بنا رہا ہے فیصلہ ترا تیرے

گوادر پورٹ، پاک چین تاریخی دوستی کا عظیم سفر

وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور(سی پیک) کے تحت گوادر بندرگاہ سے پہلے تجارتی قافلے کی روانگی کے تاریخی موقع پر پاکستانی قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا دن پاک چین دوستی کے حوالے سے ایک عظیم دن ہے۔گوادر بندرگاہ سے پہلے تجارتی قافلے کی روانگی سے پاکستان اور چین کی تاریخی دوستی کے عظیم سفر کا ایک اور سنگ میل عبور کیا گیا ہے اور آج گیم چینجر پاک چین اقتصادی راہداری کا خواب حقیقت بن گیا ہے۔ آج ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے جس کا خواب 20کروڑ پاکستانی عوام نے دیکھا تھا۔
وزیراعلیٰ نے چین کے صدر شی جن پنگ، وزیراعظم لی کی چیانگ، کیمونسٹ پارٹی آف چائنہ کی قیادت اور چینی عوام کو بھی تاریخی دن کے موقع پر مبارکباد دیتے ہوئے کہاکہ گوادر بندرگاہ سے تجارتی بحری جہازوں کی روانگی پاک چین دوستی کی ایک اور زندہ و تابندہ مثال ہے اور پاکستانی قوم اس ضمن میں چین کے بے پایاں تعاون کی شکرگزار ہے۔ پاکستان کے 20کروڑ عوام چین کے صدر کی جانب سے چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے عظیم الشان سرمایہ کاری پیکیج کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے۔
سی پیک کے تحت پنجاب سمیت پاکستان بھر میں منصوبوں پر تیز رفتاری سے کام جاری ہے اور چین کا یہ تاریخ ساز سرمایہ کاری پیکیج پاک چین معاشی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورکے منصوبوں سے پاکستان ہی نہیں بلکہ خطے کے دیگر ممالک بھی استفادہ کریں گے اورخطے میں معاشی و تجارتی سرگرمیاں فروغ پائیں گی۔ پاکستان اور چین انمٹ رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں۔ پاکستان اور چین کی دوستی شہد سے میٹھی، ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری اور فولاد سے زیادہ مضبوط ہے اور آج گوادربندرگاہ سے تجارتی قافلوں کی روانگی سے اس بات پر ایک بار پھر مہر تصدیق ثبت ہوئی ہے۔ چین نے پاکستان کی تقدیر بدلنے کیلئے تاریخ ساز اقتصادی پیکیج دیا ہے، جس پر پوری پاکستانی قوم چینی قیادت اور عوام کی ممنون ہے۔ ہماری آئندہ نسلیں بھی چین کی اس فراخدلی، مشکل وقت میں ہاتھ تھامنے اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کو کبھی فراموش نہیں کرپائیں گی۔ چین پاکستان کا ایک ایسا مخلص اور بااعتماد دوست ہے جومصیبت کی ہر گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا۔
سی پیک کے عظیم اور تاریخی منصوبے سے ہمارے دوست بے پناہ خوش ہیں جبکہ دشمن کو ترقی و خوشحالی کے اس عظیم پیکیج پربہت تکلیف ہے لیکن پاکستانی قوم اتحاد اور اتفاق کی قوت سے سی پیک کیخلاف دشمن کی سازش کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور کے سفر کی یہ عظیم شروعات ہے اور ترقی اور خوشحالی کے طویل سفر کا یہ نقطہ آغاز ہے۔ سی پیک سے پاکستان سمیت پورے خطے کی قسمت بدل جائے گی۔ یہ منصوبہ پاکستان کو معاشی لحاظ سے مضبوط بنانے میں کلیدی کردار اداکرے گا۔
سی پیک ایک خطہ، ایک سڑک اور ویژن کا عکاس ہے۔ یہ علاقے میں امن و سلامتی لائے گا۔ نئے مواقع اور راہیں نکلیں گی جو پاکستان کو ترقی کی جانب لے کر جائیں گی۔ گوادر اقتصادی راہداری منصوبے کے سر کا تاج ہے۔ سی پیک کے تمام منصوبوں پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ گوادر اقتصادی حب بننے جا رہا ہے اور سی پیک سے پاکستان کے علاوہ پورا خطہ مستفید ہو گا۔ گوادر میں ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اور یونیورسٹی بنے گی۔
راہداری سے اقتصادی و سماجی ترقی کا نیا دور شروع ہوگا اس راہداری سے پاکستان تجارتی معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گا۔ صرف پاکستان اور چین ہی نہیں پورے خطے میں تجارت کے راستہ کھل جائیں گے۔ بلوچستان میں 74 ارب

Google Analytics Alternative