کالم

جنگ ستمبر65ئ،قربانی کی لازوال داستان

آزادی بہت بڑی نعمت ہے اور نعمت قربانی مانگتی ہے۔ جتنی بڑی نعمت ہو اتنی بڑی قربانی ہوتی ہے۔ ہمارے اسلاف نے قربانیاں دیں جس کے نتیجے میں ہم آج آزاد فضا میں جی رہے ہیں۔ دنیا کے نقشے پر ایک آزاد وطن اور آزاد قوم کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔قوموں اورملکوں کی تاریخ میں کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جو عام ایام کے برعکس بڑی قربانی مانگتے ہیں۔یہ دن فرزندان وطن سے حفاظت وطن کے لئے تن من دھن کی قربانی کا تقاضا کرتے ہیں۔قربانی کی لازوال داستانیں رقم ہوتی ہیں، سروں پر کفن باندھ کر سرفروشان وطن آزادی کو اپنی جان و مال پر ترجیح دے کر دیوانہ وار لڑتے ہیں۔ کچھ جام شہادت نوش کر کے امر ہو جاتے ہیں اور کچھ غازی بن کر سرخرو ہوتے ہیں۔ تب جا کر کہیں وطن اپنی آزادی، وقار اور علیحدہ تشخص برقرار رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ایسا ہی ایک دن وطن عزیز پاکستان پر بھی آیا جب بھارت نے اپنے خبث باطن سے مجبور ہو کر6 ستمبر 1965ءکو پاکستان پر شب خون مارا۔ بھارت کا خیال تھا کہ راتوں رات پاکستان کے اہم علاقوں پر قبضہ کر لیں گے اور ناشتے میں لاہور کے پائے کھائیں گے لیکن انہیں اندازہ نہیں کہ انہیں کس قوم سے پالا پڑا ہے۔ افواج پاکستان اور عوام پاکستان نے مل کر دیوانہ وار دشمن کا مقابلہ کیا۔ سروں پر کفن باندھ کر دشمن سے بھڑ گئے، جسموں سے بارود باندھ کر ٹینکوں کے آگے لیٹ گئے، عوام نے اپنا سب کچھ دفاع وطن کے لئے قربان کر دیا اور ہندو بنیے کے ناپاک عزائم کو رزق خاک بنا دیا۔طاقت کے نشے سے چور بھارت پاکستان کو دنیا کے نقشے سے مٹانے کے لئے آیا تھا لیکن ہمشہ کے لئے ناکامی کا بد نما داغ اپنے سینے پر سجا کر واپس گیا۔ یہ صورتحال دشمن جرنیلوں کے لئے سخت ہزیمت کا باعث بن گئی انہوں نے لاہور سیکٹر پر ناکامی سے دوچار ہونے کے بعد سیالکوٹ سیکٹر میں بھی جنگ چھیڑ دی۔ وہاں بھی دشمن کی فوج اپنے مذموم عزائم کی تکمیل نہ کرسکی اور پاکستانی جوانمردوں نے بھارتی ٹڈی دل فوجیوں کو بھاگنے پر مجبور کردیا۔ چونڈہ کے محاذ پر وطن کے بہادر سپوتوں نے ٹینکوں کی سب سے بڑی عالمی جنگ میں چونڈہ کا میدان دشمن کے ٹینکوں کا قبرستان بنادیا۔ پاک فوج کے نڈر جوانوں نے چھمب سیکٹر میں پہاڑوں پر موجود دشمن کے فوجیوں کی گولہ باری کے باوجود کھلے میدان میں اپنی پیش قدمی سے انہیں مورچوں سے بھاگنے پر مجبور کردیا، پاک فوج کے جیالے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے اس حد تک آگے چلے گئے کہ بزدل بھارتی اپنے آہنی مورچے چھوڑ کر دم دبا کر ایسے بھاگے کہ ان کی جوتیاں اور نیکریں دریائے توی کے کنارے (چھمب) کے میدان میں بکھری ہوئی دیکھی گئیں۔ راجہ عزیز بھٹی شہید، محفوظ شہید، شبیر شریف شہید، محمد اکرم شہید اور سوار محمد حسین شہید جیسے جوانمردوں نے شجاعت اور بہادری کی ایسی داستانیں رقم کیں کہ دشمن بھی داد دئیے بغیر نہ رہ سکا۔ زمینی افواج کے ساتھ ساتھ بحری اور فضائی افواج نے بھی دشمن کی برتری کے خواب سمندروں اور فضاو ¿ں میں بکھیر کر رکھ دیئے۔ پاک بحریہ نے محدود وسائل کے باجود دشمن کے ٹھکانوں پر کاری ضربیں لگا کر ثابت کیا کہ وہ اپنی سمندری حدود کی نگہبانی کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ فضائیہ کے پائلٹوں نے نہ صرف حملہ آور بھارتی طیاروں کے پائلٹوں کو دن میں تارے دکھا دئیے بلکہ دشمن کی حدود میں جاکر ایسے کارنامے دکھائے کہ دنیا مدتوں بھلا نہیں سکے گی اور دشمن پر ایسی ہیبت بٹھا دی کہ اب بھی یاد کرکے بھارتی سورماو ¿ں کی روح کانپ اٹھتی ہوگی۔ بھارتی حکمرانوں کو ستمبر کی جنگ کے 17 دنوں میں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ انہیں یہ بھی احساس ہوا ہوگا پاکستانی قوم نے قیام وطن کے بعد سے 18 سالوں میں سو کر وقت نہیں گزارا بلکہ اس کی حفاظت کے لئے لمحہ بہ لمحہ آنکھیں کھلی رکھی ہوئی ہیں۔ شاید وہ اس بات سے بھی واقف نہیں کہ جو زمین شہداءکے لہو سے سیراب ہوتی ہے وہ بڑی زرخیز اورشاداب ہوتی ہے۔ اس کے سپوت اپنی دھرتی کی طرف اٹھنے والی ہر انگلی کو توڑنے اور اس کی طرف دیکھنے والی ہر میلی آنکھ کو پھوڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جان وار دیتے ہیں لیکن وطن پر آنچ نہیں آنے دیتے۔ انتہائی بے سرو سامانی کے عالم میں بھی جرات و بہادری کی وہ درخشاں مثالیں قائم کی گئیں کہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جائیں گی۔یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ جنگ ستمبر کے 17 دنوں میں پوری قوم نے اپنے مادر وطن کے محافظوں کے ساتھ پورے عزم اور یقین کے ساتھ جاگ کر وقت گزارا۔ ان 17 دنوں نے پوری قوم میں اتحاد و یک جہتی کی نئی روح پھونک دی جس نے پوری قوم کو یک جان کردیا۔ ہر پاکستانی جذبہ جہاد سے سرشار تھا اور جنگ ستمبر کو حق و باطل کا معرکہ سمجھتا تھا۔ ہر شخص جذبہ حب الوطنی سے سرشار تھا، ذاتی مفاد کو پس پشت ڈال کر کدورتیں ختم کردیں۔ نہ تو اشیا ضروریہ کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی اور نہ ہی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ بلیک آو ¿ٹ ہوئے لیکن نہ تو چوری چکاری ہوئی اور نہ ہی کوئی ڈاکہ پڑا، حتیٰ کہ لڑائی جھگڑے کا ایک مقدمہ بھی درج نہ ہوا۔ ہر شخص قربانی کا پیکر بن گیا۔ چھوٹے چھوٹے بچوں نے ”ٹیڈی پیسہ ٹینک سکیم“ میں لاکھوں روپے جمع کرائے۔ جس طرح فوجی جوانوں نے دن رات جاگ کر وطن کی حفاظت کی ذمہ داری ادا کی اسی طرح پوری قوم شانہ بشانہ ان کے ساتھ رہی کھانے پینے اور ضرورت کی دیگر اشیا محاظ جنگ پر اور ان کے مورچوں تک پہنچائیں۔ یہی وہ جذبہ تھا کہ ہندو دشمن کے دل میں بھارت کی تقسیم پر جو انتقام کی آگ تھی وہ ٹھنڈی نہ ہوسکی اور وہ ناکامی کی صورت میں اس انتقام کی آگ کے شعلوں میں خود ہی جل کر بھسم ہوا۔ آج ہمیں ایک نہیں بلکہ پاک سرزمین پر بہت سے محاذوں پر کئی دشمنوں کا سامنا ہے، ہمیں جہالت کے خلاف جنگ کرنی ہے، غربت کا خاتمہ کرنا ہے، خوشحالی کے لئے جان لڑانی ہے، معاشرتی برائیوں کا قلع قمع کرنا ہے، مذہبی فرقہ واریت کے خلاف ہتھیار اٹھانے ہیں۔ آیئے ملک دشمن عناصر کی گھٹیا سازشوں کو بے نقاب کرنے کے لئے ایک ہوجائیں اور ارض پاک کی سلامتی کے لئے تجدید عہد کریں۔آئیے مل کر عہد کریں کہ وطن عزیز پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ اپنے اپنے دائرہ کار میں رہ کر وطن عزیز کی فلاح اور دفاع کے لئے کردار ادا کریں گے۔ اور اپنے قول و فعل سے کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے وطن عزیز کی عزت پر حرف آ سکے۔
خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

بر طا نو ی ممبر اسمبلی

حکومت بر طا نیہ بتائے کہ الطا ف حسین کے خلا ف کا روائی کیو ں نہیں کر رہی ؟ممبربرطا نو ی ممبر اسمبلی محتر مہ یا سمین قر یشی نے بر طا نو ی وزیر داخلہ کو خط لکھا ہے ۔ کہ بر طا نو ی آ ئین کی خلا ف ورزیو ں کے با و جو د و سکا ٹ لینڈ یا ر ڈ پو لیس الطا ف حسین کے خلا ف کا روا ئی کیو ں نہیں کر رہی ؟ انہو ںنے الز ام لگا یا ہے کہ 22اگست 2016ءاور قبل ازیں بھی سا ت مر تبہ تشدد پر اکسا نے والو ں نے مختلف اعلیٰ عہد و ں پر تعینا ت افراد کو دھمکی والی تقا ر یر کیں ۔ مگر حکومت بر طا نیہ نے الطا ف حسین کے خلا ف کیو ں کا روائی نہ کی ؟ کس کے اشا رے اور ایما ءپر اس شخص کے خلا ف کا روا ئی نہ ہو ئی ؟ یا سمین قر یشی ممبر اسمبلی کا سوال نہ صر ف درست ہے بلکہ اس سوال سے کئی اور سوالات بھی پید ا ہو تے ہیں کہ بر طا نیہ میں ایک پا کستا نی جو بر طا نو ی شہر یت کا حا مل ہو چکا وہ بر طا نیہ میں بیٹھ کر پا کستا ن میں ایک سیا سی جما عت کوکس طر ح کنڑ و ل کر رہا ہے ! پا کستا ن میں جب چا ہے ہنگا مہ کر ا دے !ہڑ تا ل کر ا دے !فسا د بر پا کر ادے !کسی ممبر اسمبلی سے استعفیٰ لے لے ! کسی کی جا ن کے خا تمے کا حکم جا ری کر ا دے !کسی کی جا ئیداد پر قبضہ کا حکم جا ری کر دے ! وہ جو حکم جا ری کر ے اس پر پا بند ی نہ ہے ! یا سمین قر یشی صا حبہ ! آ پ بر طا نیہ میں رہتی ہیں اور آ پ کو معلو م ہے کہ ایک شخص جس کا نا م الطا ف حسین ہے اور وہ بر طا نیہ میںرہ کر پا کستا ن اور پا کستا نیو ں کے خلا ف زہر اگلتا رہتا ہے اور پا کستان میں فسا دا ت و ہنگا مے کر اتا رہتا ہے ۔ ٹا ر گٹ کلنگ کی ہدا یا ت دیتا رہتا ہے ۔ مگر ایم کیو ایم کے نئے قا ئد ڈاکٹر فا رو ق ستا ر جس نے ایم کیو ایم کے با نی ۔ قا ئد الطا ف حسین کے خلاف پا کستا ن کے مخا لف نعر وں اور تقا ریر پر بغا وت تو کر لی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ الطا ف حسین کو وزیر اعظم پا کستا ن نے کبھی بھی غدار نہیں کہا ۔ یا سمین قر یشی صا حبہ الطا ف حسین آ پ کے ملک میں مقیم ہے ۔ اب آ پ کے ملک کا شہر ی ہے ا ب وہ بر طا نو ی ہے ۔ فا رو ق ستا ر آ ج بھی اسکی صفا ئی پیش کر رہا ہے ! کہ ایک ملک کے عا م شہر ی الطاف حسین کو غدار کہتے ہیں ملک کا سر برا ہ وزیر اعظم پا کستا ن الطا ف حسین کو غدار نہیں کہتے ! فاروق ستار صا حب جس کو سا را پا کستا ن ملک کا غدار ، وطن کا دشمن اور ما فیا کا ایجنٹ قرار دے رہا ہے۔ اور میا ں نواز شر یف خا مو ش ہے۔ کیاالطا ف حسین معصو م بن جا ئے گا؟نہیں! نہیں !ا لطا ف حسین کو وزیر اعظم پا کستا ن محب وطن کا سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دے تو الطا ف حسین کے اپنے قول مو جو د ہیں جو الطا ف حسین کو ملک دشمن ثا بت کر تے ہیں ۔ الطا ف حسین کی طر ح جو بھی برابھلاکہے ملک دشمن نعر ے لگا ئے گا خواہ وہ ممبر اسمبلی ہو کہ کسی جما عت کا سر بر اہ ! اسے پو ری قوم ملک دشمن اور دشمن کا ایجنٹ قر ار دے گی! پا کستا ن میں بسنے والے لو گ ایک خا ندا ن ، ایک قبیلہ یا ایک نسل کے نہیں بلکہ پا کستا نیو ں میں بنگا لی ، ہند و ستا نی ، عر بی ، افغا نی، افر یقی ، عیسا ئی ، ہند ﺅ ، سکھ ، کیلا شی ! آ غا فائی شا مل ہیں ۔ ہند ﺅ ۔ سکھ ،عر بی ، ہند وستا نی ، جب پا کستانی شہر یت رکھنے والے ہو نگے تو و ہ پا کستا نی کہلا ئیںگے ! میر ے دیس میں افغا نی ، سند ھی ، بلوچی ، کہلا نے والے پہلے پا کستا نی ہیں بعدمیں ان کی کو ئی اور شنا خت ہو گی !اور جو پا کستا نی اپنے آپ کو کسی اور شنا خت سے پہچا ن کر اتا ہے یا پا کستان کے خلا ف با ت کر تا ہے ، وہ کچھ بھی ہو سکتا ہے پا کستا نی نہیںہو سکتا ! بر طا نیہ ممبر اسمبلی یا سمین قر یشی نے الطا ف حسین کے خلا ف سکاٹ لینڈ یا ر ڈ پو لیس اور بر طا نیہ وزیر داخلہ کو شکا یت لگا ئی ہے ! مگر ایک طر ف MQMفا رو ق ستا ر الطا ف حسین کے مکر و فعل کی مذ مت کر تی ہے تو دو سر ی طر ف فا روق ستا ر بہا نے سے خبر دیتے ہیں کہ پا کستا نی وزیر اعظم میا ں محمد نو از شر یف MQMکے قا ئد کو غدار نہیں کہتے !یعنی یہ وہ با غی ہیں ! جو الطا ف حسین سے بغاوت کر کے اسے بچا نے کے چکر میں ہیں ، عموماًچو رو ں کے گر وہ چو ری با زار وغیر ہ سے کر تے ہیں اور ان میں سے جو مو قع پر پکڑا جا ئے تو گر وہ کے دو سر ے ممبر ان اس چو ر کو تھپڑ بھی ما رتے ہیں اور بھا گ جا نے میں معا و نت کر تے ہیں تا کہ پو لیس کی گر فت میں نہ آ ئے ورنہ تمام گر وہ کا نہ صر ف پتہ چل جا ئے گا ! بلکہ وہ بھی ملز م بن کر گر فتا ر ہو ں گے ! اسی طر ح ڈاکٹر فا رو ق ستا ر وزیر اعظم میا ں نواز شر یف کا حوالہ دیکر الطا ف حسین کو اسلئے بے گنا ہ قر ار دینے میں لگے ہو ئے ہیں کہ اگر لطا ف حسین کے خلا ف غدار ی وغیرہ کا کو ئی مقد مہ بنتا ہے تو لطا ف حسین کے سا تھ فا رو ق ستا ر کو بھی ملز م بن کر سزاوار ہو نا پڑ ے گا! الطا ف حسین لند ن ایم کیو ایم کا سر برا ہ ہے تو فا رو ق ستا ر ایم کیو ایم پا کستا ن کا قا ئد ہے ۔ یہ ایک ہی کڑ ی کے دو حصے ہیں محتر مہ یا سمین قر یشی صا حبہ ا ٓپ لند ن پو لیس اور بر طا نو ی وزیر داخلہ کو لند ن میں بیٹھے پا کستا ن کے خلا ف بغا وت کر انے والے شخص اور اس کے حواریو ں کے خلا ف کا روائی کرا ئیں ورنہ لند ن عا لمی سا زشیو ں کے حو الے ہو جا ئے گا!یعنی ہند وستا ن اور امر یکہ لند ن میں بیٹھے دہشت گردوں کے محا فظ بن کر ا ن کا تحفظ کر یں گے !

جنگ ستمبر…. قوت ایمانی کی آئینہ دار

معزز قارئین آج 6ستمبر ہے میں اس جگہ کھڑا ہوں جہاں ہماری فوج کے جانبازوں نے چونڈہ کے محاذ پر ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ لڑی اور دشمن کے چھ سو ٹینک کے حملے کو نہ صرف روکا بلکہ پسپا کردیا ۔ سیالکوٹ کے قصبے چونڈہ میں ہی ستمبر 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں شہید ہونے والے فوجیوں کی یادگاریں تعمیر کی گئی ہیں اور ساتھ ہی قبرستان ہے جس میں شہداءستمبر کی قبریں ہیں ان قبروں پر فاتحہ پڑھتے ہوئے ذہن ستمبر 1965ءکی پاک بھارت جنگ کے تخیل میں کھوگیا۔ وہ دن میرے بچپن کے دن تھے ۔ رات کی تاریکی میں دشمن نے چوروں کی طرح ارض پاک پر حملہ کرکے جنگ مسلط کی ۔ جنگ تو ہمیشہ جاری رہتی ہے نیکی اور بدی کی جنگ محبت اور نفرت کی جنگ ، عظمت اور پستی کی جنگ ، بھوک اور خوشحالی کی جنگ ، ہر انسان کسی نہ کسی جنگ میں حصہ لیتا ہے اور غازی یا شہید کا درجہ حاصل کرتا ہے ۔ جنگ اس لئے لڑی جاتی ہے کہ باطل قوتوں کو شکست ہو، حق کا بول بالا ہو، گمنام شہید اور گمنام سپاہی ہمیشہ سے قوم کی عظمت اور رفعت کے نقیب رہے ہیں اور ان کی قبریں بہادری ، الوالعزمی اور حب الوطنی کا درس دیتی رہتی ہیں ۔ یہ مجاہد شہادت اور عظمت کی داستانیں چھوڑ کر جاتے ہیں ان جیالوں نے دشمن کے سامنے سینے تان دئیے ۔ جہاں ان کام خون گرا وہ خون جس کی تابندگی کبھی ماند نہیں ہوگی جس خون سے سارا گلشن رنگ حاصل کرتا ہے جس خون سے بہاریں خوشبوئیں حاصل کرتی ہیں ۔ یہ وہی مقام ہے جہاں ہمارے فوجی جوان آہنی دیوار کی صورت میں دشمن کے سامنے کھڑے ہوگئے ۔ ٹینکوں کی یلغار کے آگے جسموں سے بم باندھ کر لیٹ گئے اور دشمن کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک دیا ، ان یادگاروں پر فخر کرتے ہیں اور آنے والی ہر نسل کا فرد ان یادگاروں کو دیکھ کر اپنا سراونچا کرسکے گا جنہوں نے عظمت اور بہادری کی تاریخ کا ایک نیا باب کھولا اور ہر فرد اور ہر نسل کیلئے بہادری ،شجاعت اور مرمٹنے کا فیض اور حوصلہ بخشا، ذہن سوچ کی گہرائیوں میں گم ہے کہ ستمبر 1965ءکا وہ کیا جذبہ تھا ۔ اس جذبہ دفاع کا ہر ایک عنصر متحرک تھا ۔ یہی سبب تھا کہ پورے سماج کے ایسے فقید المثال رویوں سے ایسا منظر پیدا ہوگیا کہ دنیا میں دفاع وطن کے جذبہ کو جذبہ ستمبر کا درجہ ملا ہمارے جانبازوں نے دشمن کے ٹینکوں کی دیواروں اور توپ خانہ کی یلغاروں کو اپنے سینوں پر روکا تھا ۔ ہمارے شاہبازوں نے دشمن کی فضاﺅں میں ہی ان کے کرگس شکار کیے ۔ ہماری بحریہ نے بیک وقت خشکی ، سطح آب اور فضا میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ 6ستمبر 1965ءکی پاک بھارت جنگ سے ہمیں یہ ناقابل فراموش و تجربہ بھی ہوا کہ مادیت کے رنگا رنگ فلسفے جن کی چمک دمک سے ہمارے ذہن مرعوب تھے جنگ شروع ہوتے ہی اس طرح غائب ہو ئے جیسے طلوع سحر سے پہلے افق پر جمع ہنوے والی گھٹائیں غائب ہو جاتی ہیں ۔ دکانداروں نے ملاوٹ اور ڈاکوﺅں نے ڈاکوں سے کنارہ کشی اختیار کرلی ۔ زخمیوں کو خون دینے کیلئے پوری قوم نے بلڈ بنک بھر دئیے ۔ الغرض بھارت کی مسلح افواج کے حملے کا جواب دینے کیلئے پوری قوم اپنے سرفروش مجاہدوں کی پشت پر سیسہ پلاءیہوئی دیوار کی مانند کھڑی ہوگئی ۔ قوم کا ہر فرد اپنے اپنے محاذ پر سرفروش مجاہد بن گیا ۔ یہ جنگ ایسی تھی جو جسموں کے ساتھ نہیں، دلوں ، دماغوں اور ایمانوں کے ساتھ لڑی گئی ۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ چشم زون میں پاکستان کو ہڑپ کر جائے گا لیکن جس قوم کے ارادے پختہ ہوں اور یقین کامل خدا پر ہو وہ سنگلاخ چٹانوں سے بھی ٹکرا کر پاش پاش کرسکتی ہیں ۔ وطن عزیز پاکستان جس سے ان دیکھے محبت کی گئی ، ہجرت عظیم کے شہداءنے جسے اپنے لہو سے چراغ جلا کر روشن کیا جسے اپنا بنانے کیلئے عصمتیں قربان ہوئیں اس کے معرض وجود میں آنے سے قبل وطن عزیز کی تاریخ کے ورق ورق پر ایثار کی داستانیں رقم کرکے اسے پاک شہیدوں کی ایک ضخیم کتاب بنا دیا گیا ۔ اس کی تحریک تاریخ میں بدلی تو اسے انسانی لہو رنگین کرگیا ۔ شہداءنے آغاز ہی میں اسے اپنے لہو سے سجایا اور پھر 1965ءمیں اپنے سے پانچ گنا بڑی فوج قوت کا مقابل پر شہید وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت میں نثار ہوگیا ۔ اس کا حاصل بھی قربانیوں کا مرہون منت ہے اور اس کا استحکام بھی اس کے محافظوں کی حمیت کا مظہر ہے۔ 6ستمبر 1965ءکو ایک ایسا جذبہ ابھر کر سامنے آیا جو دنیا بھر کی عسکری قوتوں کیلئے ایک مثال قائم کرگیا ۔ ساری دنیا کو ہم نے یہ دکھلا دیا کہ ہم میں ہمت اور شجاعت بھی ہے اور حق پر جان دینے کی جرا ¿ت بھی ۔6ستمبر کا معرکہ دراصل حق و باطل کا ایک ناقابل فراموش معرکہ ہے حق و باطل کے اس عظیم الشاان معرکہ میں پاکستان کی کامیابی کاراز کیا تھا۔ پاکستانی افواج کا مقصد حیات مال غنیمت اور کشور کشائی نہیں بلکہ وطن عزیز کی سرحدوں کی نگرانی ور حفاظت تھی ۔ افواج پاکستان نے اسلام اور پاکستان کی سربلندی ، ملک و قوم کی بقا و ترقی اور سالمیت و استحکام پر آنچ نہ آنے دی۔
٭٭٭٭٭
6ستمبر 1965ءسے 17 ستمبر تک بھارتی سورماﺅں نے طے کیا کہ کھلی جنگ ، واضح حملوں اورعوامی جذبوں کا مقابلہ کرنے کی بجائے سازشوں کے ذریعے معرکہ آرائی کی جائے ۔ گویا 6ستمبر کے جذبہ دفاع نے دشمنان پاکستان کو جنگ کی ٹیکنیک تبدیل کرنے پر مجبور کردیا ۔ اگر تاریخی تناظر میں 1965ءپاک بھارت جنگ کی وجوہات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ پاکستان نے 1965ءمیں آپریشن جبرالٹر کے نام سے ایک کمانڈو آپریشن کے ذریعے اہل کشمیر کو آزادی سے ہمکنار کرنے کی کوشش کی ۔ آپریشن مکمل تیاری اور ہوم ورک کے بغیر کیا گیا تھا اس لئے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکا اور بھارت نے اس کے ردعمل میں 6ستمبر کو راتوں رات پاکستان پرحملہ کردیا ۔ معرکہ ستمبر کا بنیادی محرک مسئلہ کشمیر ہی تھا ۔ اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں ان کے پیچھے تنازع کی اصل وجہ کشمیر ہی رہا۔ 1971ءکی جنگ میں ہمیں اپنے مشرقی بازو سے بھی محرومی اختیار کرنا پڑی ۔ پاکستان ور بھارت کے درمیان جاری کشیدگی اور محاذ آرائی سے قطع نظر اہل کشمیر بھی گزشتہ پینتیس برس سے بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف برسرپیکار ہیں اور ایک لاکھ سے زائد حریت پسند کشمیر کی آزادی کیلئے اپنی جانیں نچھاور کرچکے ہیں ۔ یہ بجا ہے کہ جنگ تباہی و ہلاکت ہے۔ کوئی صاحب ہوش جنگ کی حمایت نہیں کرسکتا ۔ ہر شخص اور ہر ملک امن کا خواہاں ہے۔ آج اگر بھارت سے ہمارے تجارتی و سفارتی تعلقات بحال ہوئے ہیں اور بھارت بظاہر مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ امور پر کبھی کبھی منافقانہ آمادگی بھی ظاہر کرتا ہے لیکن دوسری طرف کشمیریوں کا قتل عام شروع ہے۔ اپنے دفاعی بجٹ میں بھارت ہر سال اربوں کا اضافہ کررہا ہے اور علاقائی بالا دستی سے ہم آج بھی اپنے خارجی خطرات سے چشم پوشی نہیں کرسکتے ۔ مستقبل کے چیلنج ہم سے اتحاد و یکجہتی کا تقاضا کرتے ہیں ۔ 6ستمبر اس عہد کا دن بھی ہے کہ زندہ قومیں اپنے اسلاف کے کارناموں پر نہ صرف فخر کرتی ہیں بلکہ ان پر کاربند رہنے کا عزم بھی کرتی ہیں ۔ اس وقت تک ہم اپنی جغرافیائی اور نظریاتی سرحدوں کی حفاظت نہیں کرسکتے جب تک ہم اپنے نصب العین کو اپنے ذاتی مفاد پر ترجیح دینا نہیں سیکھ جاتے ۔ گزشتہ چند دہائیوں سے وطن عزیز پاکستان بری طرح دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے۔ اس دوران ہزاروں قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں ۔ معیشت تباہ اور قیمتی اثاثے برباد ہوچکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا بے انتہا احسان ہے کہ پاکستانی افواج اپنے نڈر اور جری سپہ سالار جنرل راحیل شریف کی قیادت میں دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ رہی ہے اور ضرب عضب کی مہم نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کررکھ دی ہے ہم اس حوالے سے پاک فوج کے شہداءاور غازیوں کو 6ستمبر کے دن سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔

توانائی منصوبوں کو بروقت مکمل کرنے کی ضرورت

وزیراعظم محمد نواز شریف نے کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی تاریخ میں پہلے کبھی توانائی کے شعبہ میں اس قدر بھاری سرمایہ کاری نہیں ہوئی حکومت صرف توانائی کی قلت کو پورا کرنے پر ہی توجہ نہیں دے رہی بلکہ مستقبل میں بجلی کی طلب کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے ۔ بجلی کی پیداوار میں اضافے سے اقتصادی ترقی اور روزگار کے مواقع کی فراہمی ، صنعتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے مواقع کو بھی فروغ حاصل ہوگا ۔وزیراعظم نے کہا کہ ملک میں تمام جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل کیلئے خود نگرانی کریں گے اور موقع پرجاکر ان منصوبوں کا معائینہ بھی کریں گے ۔ مارچ 2018 تک مجموعی طورپر 11 ہزار 131 میگاواٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی جائے گی اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ تمام جاری منصوبوں کے مطابق ٹرانسمیشن لائن کے منصوبے آن ٹریک ہیں ان منصوبوں پر بھاری سرمایہ کاری کی گئی ہے ۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا ہے جب توانائی منصوبے پایہ تکمیل کو پہنچ گئے تو ملک میں ترقی اور روزگار کے دروازے کھلیں گے لیکن اس وقت توانائی بحران کا یہ عالم ہے کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہے اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ صارفین کا مقدر بن چکا ہے جس سے کاروبار زندگی بری طرح متاثر ہورہا ہے دن رات کئی کئی گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ عوام الناس کیلئے کسی عذاب سے کم نہیں حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی جو نوید سناتی چلی آرہی ہے وہ اپنی جگہ درست ہوگی لیکن اس وقت صورتحال گھمبیر رخ اختیار کیے ہوئے ہے ریاست کی یہ ذمہ داری قرار پاتی ہے کہ وہ لوگوں کو مسائل و مصائب کے گرداب سے نکالے ان کا معیار زندگی کو بلند کرے اور ملک سے بیروزگاری اور مہنگائی کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے ۔ عوام کے جان و مال کی حفاظت بھی ریاستی ذمہ داری ہے لیکن حکومتی دعوﺅں کے باوجود ملک میں اقتصادی بدحالی کارونا روایا جارہا ہے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں اٹھائے دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھر رہے ہیں ۔ غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور مہنگائی ہے کہ مسلسل بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ معاشی ترقی کا خواب اس وقت پورا ہوسکتا ہے جب ملک سے بدعنوانی ختم ہوگی اور کرپشن کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے گا اب تو حال یہ ہے کہ ہر طرف کرپشن کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں اور سیاسی جماعتیں حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں جب اس طرح کی صورتحال ہوتو ملک میں سیاسی استحکام کس طرح پیدا ہوسکتا ہے ۔ حکومت اور سیاسی جماعتوں کے درمیان واضح خلیج مسائل کے ادراک میں رکاوٹ ہے ۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور ان کے تحفظات کو دور کرے لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ برداشت کے جمہوری کلچر کو نہیں اپنایا جارہا جس سے سیاسی کھینچا تانی بڑھ رہی ہے اور ہماری طرز حکمرانی کا یہ طرہ امتیاز ہے کہ اس میں سیاسی سدھ بدھ اور بصیرت کے علاوہ برداشت کے جمہوری کلچر کا فقدان ہے جس سے محاذ آرائی دیکھنے میں آرہی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ سب سے پہلے سیاسی عدم استحکام کا مسئلہ حل کرے اس کے بغیر ملک میں ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا جہاں تک جاری منصوبوں کا تعلق ہے ان کو بروقت پایہ تکمیل پہنچانا اور ان منصوبوں میں شفافیت برقرار کھنا حکومتی ذمہ داری ہے۔ بلا شبہ جب توانائی کے جاری منصوبے مکمل ہونگے تو بجلی کا مسئلہ بھی حل ہوگا اور ترقی بھی ہوگی ضرورت اس امر کی ہے کہ ان منصوبوں کے ثمرات کیلئے ان کی نگرانی کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملک توانائی کے بحران سے نکل سکے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
الطاف حسین کے خلاف ریفرنس
 پاکستا ن نے الطاف حسین کے خلاف باقاعدہ ریفرنس برطانوی حکومت کو بھیج دیا ۔ قائد ایم کیو ایم کی تقریر اور عوام الناس کوتشدد کیلئے اکسانے اور بدامنی پھیلانے کے شواہد بھی برطانیہ کو مہیا کردئیے گئے ہیں ریفرنس کے متن میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین نہ صرف برطانوی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں لہذا ان کے خلاف برطانوی قوانین کے تحت کارروائی کی جائے۔پیپلز پارٹی کی طرف سے قومی اسمبلی میں بھی مذمتی قرار داد جمع کروائی گئی ہے 22 اگست کو الطاف حسین کی زہر آلود تقریر نے جو آگ لگائی اس کے شعلے آج بھی محسوس ہورہے ہیں متحدہ کے قائد کی ہرزہ سرائی اور یاوہ گوئی نے ایم کیو ایم کے عزائم کو آشکار کردیا اور اس کی حب الوطنی پر ایک سوالیہ نشان لگا دیا ۔ الطاف حسین کی تقریر کا ردعمل اتنا شدید ٹھہرا کہ ایم کیو ایم کے غیر قانونی دفاتر سیل اور مسمار کردئیے گئے اور سیاسی افق پر جو طوفان اٹھا اس کے نتیجہ میں حکومت نے برطانوی حکومت کو الطاف حسین کے خلاف کارروائی کا ریفرنس بھیجا ہے اس ریفرنس کے کیا نتائج سامنے آتے ہیں اس بارے کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا اب برطانوی حکومت اس ریفرنس کا جائزہ لے کر ہی کارروائی کرے گی ادھر پاکستان کی سیاسی رہنماﺅں کا شدید ردعمل ہے اور حکومت کو بھی متحدہ کے قائد کے خلاف کارروائی کرنے میں کسی مصلحت پسندی کا شکار نہیں ہونا چاہیے ۔ الطاف حسین نے پاکستان مخالف نعرہ لگا کر یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ جذبہ حب الوطنی سے بے نیاز ہے ایسے غداروں کیخلاف سخت ترین کارروائی ضروری ہے تاکہ آئندہ کوئی شخص پاکستان مخالف ہرزہ سرائی کی جرا ¿ت نہ کرسکے۔
حکومت اور اپوزیشن جماعتوں میں تناﺅ
کسی بھی جمہوریت میں اپوزیشن کے کردارسے انکارنہیں کیا جاسکتا۔ کیونکہ اپوزیشن ہی برسراقتدار حکمرانوں کو ان کی خامیوں پر بذریعہ تنقید راہ راست پر لانے کا کردار ادا کرتی ہے اور ان کی خامیوں کی نشاندہی کر کے انہیں مثبت طریقے سے عوامی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کے لئے راست اقدامات کی طرف لاتی ہے۔ ہمارا ملک دنیا میں اقتصادی اور معاشی طورپر نمایاں مقام رکھنے والے دوست چین کے ساتھ ملکی ترقی کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے اور اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں امن و امان اور یکجہتی کا مظاہرہ کر کے دنیا کو یہ تاثر دیا جائے کہ ہمارے ملک کے عوام ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جبکہ ہمارے سیاستدان خواہ وہ حکمران طبقے سے تعلق رکھتے ہیں یا پھر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے ہیں وہ ایک دوسرے کی ذاتیات پر تنقید کر رہے ہیں ¾ دھرنے ¾ مارچوں اور مظاہروں کے ذریعے عوام کو سڑکوں پر لاکر دنیا کو منفی پیغام دے رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے ساتھ ساتھ ہمارا ملک دنیا بھر میں اپنی ساکھ کی بقا کے لئے کامیاب جنگ لڑ رہا ہے۔خدارا ایسے نازک حالات میں اپنی ذاتی انا کی تسکین کی خاطر ایک دوسرے پر کیچڑ اچھالنے کی بجائے ملک کی ترقی اور سلامتی اور امن و امان کے لئے مل کر کام کریں اور دنیا کو یہ تاثر دیں کہ ہم ایک قوم ہیں اور ملک کی سلامتی کے لئے اپنے ذاتی مفادات کو بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرینگے۔

سیاسی پا رٹیوں کے بارے میں ایک سروے

چونکہ میرا تعلق میڈیا ہے لہٰذاءکسی نہ کسی صورت مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قومی راہنماءکے ساتھ رابطو ںکا سلسلہ جا ری رہتا ہے۔ میرے پاس مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین، جس میں پاکستان مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف ، اے این پی، جماعت اسلامی، جمیعت لعلمائے اسلام، پاکستان پیپلز پا رٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ق)، کچھ آزاد اراکین کے موبائیل نمبر ہیں اور اکثر و بیشتر مختلف سیاسی پا رٹیوں کے راہنماﺅں کے ساتھ رابطہ ہوتا رہتا ہے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ وہ سیاسی قائدین جو ریڈیو، ٹی وی اور مختلف اخبارات میں ٹاک شوز اور انٹر ویو میں اللہ رسول کانام لیتے ہیں اور پاکستان کے عوام کے مسائل کی وجہ سے انکو نیند نہیں آتی ان سیاست دانوں اور مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین سے جب آپ رابطہ کریں گے تو یہ کبھی بھی آپکو جواب نہیں دیں گے۔ اور جب الیکشن کے دوران ووٹ لینے آتے ہیں تو پیروں پر پڑیں گے اور کسی کے 50 سال پہلے مرحوم والدین، بہن بھائی اور عزیز و آقارب کے لئے فا تحہ پڑھتے آتے ہونگے۔ جب یہ لوگ ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز بن جاتے ہیں تو پھر کبھی آپکو پکڑائی نہیں دیں گے۔ گزشتہ دنوں میرے دل میں خیال آیا کہ مختلف سیاسی پا رٹی کے لیڈران اور قائدین کے سیل نمبر معلوم کرکے ان سے رابطہ کیا جائے اور تجزیہ کیا جائے کہ ان میں کونسے ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز جواب یاResponce دیتے ہیں ۔ میں ہر سیاسی پا رٹی کے چالیس ایم پی اے، ایم این اے اور سینیٹرز کے نمبر معلوم کرکے اس سے کسی اہم ایشو پررابطہ کر نے کی کو شش کی اور میرے اس سروے یہ بات ثابت ہوئی کہ عوامی اور سماجی رابطوں کے لحا ظ سے جماعت اسلامی سب آگے یعنی پہلے نمبر پر جنکے 40 ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹرز اور پا رٹی کے اہم عہدیداروں میں 35 نے کسی ایشو پر ریسپانس دیا، پیپلزپارٹی کے اہم شخصیات میں 40 میں 25، مسلم لیگ نواز کے 40 اعلی عہدیداروں میں صرف مہتاب عباسی اور پشاور سے ایک ایم این اے ، تحریک انصاف کے چالیس میں۰۱ عہدیداروں یعنی ساجد نواز ، عثمان ترہ کئی،عاقب اللہ ،علی محمد خان وغیرہ نے جواب دیا اور تحریک انصاف کے ان سب کے سب کا تعلق کے پی کے سے تھا ۔ کے پی کے کے علاوہ کسی اور صوبے کے تحریک انصاف کے کسی عہدیدار نے کوئی جواب یا ریسپانس نہیں دیا۔ ایم کیو ایم کے تقریبا 40 میں ۵ اور اے این پی کے کسی عہدیدار نے جواب نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کے پا رٹی کے کسی ایم این اے ایم پی ایز نے جواب نہیں دیا۔ ان میں جو سب سے زیادہ ایکٹیو سینیٹر جو ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں وہ جماعت اسلامی کے سراج الحق، پاکستان پیپلز پا رٹی کے سید خور شید شاہ ، پاکستان عوامی لیگ کے شیخ رشید احمدجماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، ایم کیو ایم بیرسٹر سیف اور صوابی سے قومی محا ذ کے بابر سلیم ، تحریک انصاف کے ساجد نواز ، عثمان ترہ کئی،عاقب اللہ ،علی محمد خان سر فہرست ہیں۔ ہم ان لوگوں کو قومی ، صوبائی اسمبلیوں ، سینیٹ میں بھیج دیتے ہیں مگر بڑی افسوس کی بات ہے کہ پھر ایم این اے،سینیٹر بن کر وہ کسی اور دنیا کی مخلوق بن جاتے ہیں۔ مُجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُن سیاسی پا رٹیوں کے لیڈران جو ٹی وی کے ہر چینلز پر بیٹھ کر ہمیں محبت ،خوت کا درس دیتے ہیں وہی ایم این اے ، ایم پی اے اور سینیٹرز ، صوبائی اسمبلی کے ممبران کسی اہم ایشو پر سُننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر ہم دیکھیں تو تحریک انصاف کے پنجاب اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز ہیں وہ متو سط طبقے کے ہیں مگر یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ وہ عوام سے گھبراتے ہیں۔اے این پی کے اہم لیڈر کی توجہ میں نے ایک اہم قومی مسئلے کی طرف مفضول کرائی تو ایم این اے صا حب نے جواب دیا کہ آپ نے تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دیا ۔ میں نے اُسے کہا آپ ایک بُہت بڑے لیڈر ہیں اور میں آپ سے اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی۔ہمارے یہ عوامی نمائندے پاکستان کے مسائل سے بے خبر ہیں۔ پچھلے دنوں پشاور کے مسلم سٹی کالونی گیا ۔ یہ وہ علاقہ جو نو شہرہ اور پشاور کے سنگم پر واقع ہے اور یہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی پر ویز خٹک اور خیبر پختون خوا کے گورنرافتخار جھگڑا کا انتخابی حلقہ ہے اور بد قسمتی سے جہاں پر ۸۱ گھنٹے سے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں جب میں کے پی کے کے گو رنر اور وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک سے سے اُنکے موبائیل نمبر پر رابطہ کرنے کی کو شش کی تو ان دونوں حضرات نے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق خان نے پیسکو کے صوبائی چیف سے اس سلسلے میں بات کی اور پشاور سے ایک ایم این اے مسز بخاری نے کہا کہ وہاں پر بجلی چو ری زیادہ ہوگی اس وجہ سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ میںنے اسے کہا میڈم آپ مُجھے بتائیں کہ بجلی چوری روکنا کس کی ذمہ داری ہے۔در اصل سیا سی پا رٹیوں کی جو راہنماءعوام سے فا صلہ رکھتے ہیں وہ اچھے لیڈر نہیں ہوتے ۔اس میں بھی کوئی شک اور شُبہ نہیں کہ پاکستان کے عوام کو کوئی پتہ نہیں چلتا کہ ہم کس کو مُنتخب کرکے ووٹ دیتے ہیں مگر مُجھے اُمید ہے کہ وہ دن جلد آنے والا ہے کہ پاکستانی عوام اچھے اور بُرے میں تمیز کر سکیں گے اور پھر اُنکو ووٹ دیں گے جو انکی زخموں پر مرہم لگائیں ۔ وہ دوربہت جلد آنے والا ہے کہ پاکستانی عوام اس قسم کے خود غرض عناصر کو رد کریں۔

چھمب ، جوڑیاں کا معرکہ !

بھارتی حکمرانوں نے پاکستان کو فتح کرنے کے لئے پہلا حملہ آزاد کشمیر پر کیا ۔ انہوں نے 1962 میں چین سے شکست کھانے کے بعد امریکہ برطانیہ اور روس کو چین کا ہوّا دکھا کر جو پہاڑی ڈویژن تیار کرائے تھے ، وہ در حقیقت ہمالیہ کے پہاڑوں میں نہیں بلکہ کشمیر کی پہاڑیوں میں لڑائی کے لئے تیار کیے تھے ۔ پچیس اگست 1965 کی رات بھارتی توپ خانے نے آزاد کشمیر کے علاقے ” بھرت گلی “ اور ” درہ حاجی پیر “ ، ( ٹیٹوال سیکٹر ) پر شدید گولہ باری کی ۔ یوں تو یہ گولہ باری ایک ہفتے سے ہو رہی تھی لیکن پچیس اگست کے آخری بارہ گھنٹوں میں اس قدر شدید تھی کہ آزاد کشمیر فوج کے اندازے کے مطابق صرف بارہ گھنٹوں میں بیس ہزار گولے فائر کیے گئے ۔ چھبیس اگست کو انڈین آرمی کے پورے برگیڈ نے آزاد کشمیر کی چوکیوں پر حملہ کر دیا ۔ مقابلے میں ایک سو نفری پر مشتمل آزاد کشمیر کے جوان تھے ۔ ان ایک سو جوانوں نے شروع میں ایک بھی گولی فائر نہ کی ۔ جب دشمن پچاس گز تک آ گیا تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی ۔ مجاہدوں نے ان پر گولیوں اور دستی بموں کا مینہ برسا دیا ۔ ستائیس اگست کو بھارتیوں نے سکیم بدل کر رات کے ایک بجے حملہ کیا ۔ معرکہ خوں ریز تھا ۔ ادھر پورا برگیڈ جسے ڈویژن کے توپ خانے کی امدادی گولہ باری حاصل تھی ۔ اِدھر صرف ایک سو جوان جن میں سے دو گذشتہ روز کے حملے میں شہید اور پانچ شدید زخمی ہو چکے تھے ۔ وہ پھر بھی لڑے مگر برگیڈ کے سامنے جم نہ سکے ۔ ان کے چھتیس جوان شہید ہو گئے ۔ درہ حاجی پیر اور بیڈوری کی چوکیوں پر انڈین آرمی نے قبضہ کر لیا ۔ بھارتیوں نے یہ تو نہ سوچا کہ انہوں نے کتنی زیادہ قوت سے کتنی تھوڑی سی نفری کو شکست دی ہے اور یہ محض حرفِ آغاز ہے مگر انہوں نے اسے حرفِ آخر سمجھ لیا اور اس ” عظیم فتح “ کے نشے سے سرشار پاک سرحد کے اندر گولہ باری شروع کر دیا جس کا نشانہ سرحدی گاﺅں اعوان شریف ضلع گجرات کے بے ضرر دیہاتی بنے ۔ اگر یہ بھارتی کاروائیاں عام سی قسم کی سرحدی جھڑپیں ہوتیں تو شاید مفاہمت کی بات کی جا سکتی تھی لیکن یہ بھرپور حملہ پاکستان کی غیرت کے لئے چیلنج تھا ۔ لہذا پاک فوج میدان میں آ گئی ۔ میجر جنرل اختر حسین ملک نے دشمن کو اور آگے بڑھنے سے روکنے کے لئے بلوچ اور پنجاب رجمنٹیں بھیج دیں جنہیں دیکھ کر انڈین آرمی کی کمک میں بھی بے تحاشا اضافہ ہو گیا ۔ غالباً یہی وہ محاذ تھا جسے بھارتی وزیر اعظم ” شاستری “ نے اپنی مرضی کا محاذ کہا تھا اور اپنے فوجی مشیروں کے کہنے کے مطابق اس نے انڈین آرمی کے ماﺅنٹین ڈویژن کے لئے بہترین علاقہ سمجھا تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان آرمی کے پاس کوئی پہاڑی ڈویژن نہیں ہے ۔تیس اگست کو بھارتیوں نے ” پونچھ “ کی شمالی پہاڑیوں میں گولہ باری شروع کر دی ۔ لیکن ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس رات ان پر کون سی قیامت ٹوٹنے والی ہے اور پاک فوج انہیں ان کی مرضی کے محاذ پر نہیں بلکہ اپنی مرضی کے میدان میں لڑائے گی ۔ بھارتی یہ خواب دیکھ رہے تھے کہ وہ پونچھ کے شمالی علاقے پر قابض ہو کر ” باغ “کی وادی پر قبضہ کریں گے جہاں سے وہ آزادکشمیر کو آسانی سے لے لیں گے ۔ تیس اور اکتیس اگست کی درمیانی رات پاک فوج کے برگیڈیئر عظمت حیات اور برگیڈیئر ظفر علی خان کے بریگیڈ گجرات سے آگے نکل گئے تھے ۔ ان کے ساتھ آزاد کشمیر کا بریگیڈ تھا ۔ برگیڈیئر امجد علی چوہدری کے توپ خانے نے رات کو ہی سرحد پر گولہ باری شروع کر دی تھی جس نے ” چھمب “ کے سیمنٹ اور لوہے کے مضبوط بنکروں اور دفاعی لائن کی مضبوطی کو ہلا ڈالا تھا ۔ سحر کی تاریکی میں ہمارے تینوں بریگیڈ برق رفتار پیش قدمی کر گئے ۔ یکم ستمبر کی صبح کو تاریخ پاکستان کے ایک روشن باب کی سرخی لکھ دی گئی ۔ ” چھمب “ کا سورج ابھر رہا تھا مگر انڈین آرمی کے غرور اور بھارتی حکمرانوں کی نخوت اور رعونت کا سورج پاکستانی گولہ باری کی سیاہ گھٹاﺅں اور ٹینکوں اور پیادہ جوانوں کی یلغار کی گرد میں غروب ہو رہا تھا ۔ دن کے ساڑھے دس بجے تک بھارت کی قلعہ بندیوں ،ملگوئیاں ، چک پنڈت ، مناور ، جھنڈا ، پھورا اور برسالہ ، غازیوں کے قدموں تلے روندی جا چکی تھیں ۔” بورے جال “ جو بھارتیوں کا مضبوط قلعہ تھا ، خالی ہو رہا تھا کیونکہ بھارت کے دفاعی دستوں کو گھیرے میں آنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا ۔ فرانس کے بنے بھارتی ا”لیکس“ ٹینک پاک دستوں کو روکنے کی سرتوڑ کوشش کرتے رہے مگر پاکستانیوں نے رخ بدل کر ” دیوا “ پر حملہ کر دیا اور دیوا بھی ہاتھ میں آ گیا ۔ انڈین آرمی کے شکست خوردہ کمانڈر نے اپنی مدد کے لئے انڈین ایئر فورس کو پکارا۔ وہ وائرلیس پر کوڈ ورڈ میں کہہ رہا تھا ” وھسکی بھیجو ، وھسکی بھیجو “ ۔ شام کے ساڑھے چار بج رہے تھے اور وہسکی آ گئی ۔ جو بوتلوں کی شکل میں نہیں بلکہ چار ویمپائر لڑاکا بمبار طیارے تھے جو اپنی بھاگتی ہوئی فوج کے قدم جمانے کے لئے بھیجے گئے تھے ۔ چشم تصور سے ذرا اس فوج کو دیکھیں جو تین برگیڈوں کے آگے ٹینک ، توپیں ، مارٹر اور مشین گنیں ، پٹرول اور ہر طرح کے اسلحے کے بکسوں اور لاشوں کے ڈھیر پھینکی بھاگتی چلی جا رہی تھی ۔ انڈین آرمی کا نمبر 10 ماﺅنٹین ڈویژن ، 191 انڈین برگیڈ اور 93 انڈین انفنٹری برگیڈ بھی تھا ۔ آسمان میں بھارت کے چار ویمپائیروں کی حکمرانی تھی جنہوں نے نہایت اطمینان سے پاک دستوں پر آگ اگلنی شروع کر دی ۔ تبھی پاک فضائیہ کے دو شہباز ،سکوارڈن لیڈر ” سرفراز احمد رفیقی “ اور فلائیٹ لیفٹیننٹ ” امتیاز بھٹی“ گجرات پر اڑ رہے تھے ، انہیں پیغام ملا کہ دشمن ہمارے مورچوں پر فائر کر رہا ہے ، مقابلہ کرو ۔ دونوں شاہین تاریخ پاکستان کا پہلا فضائی معرکہ لڑنے کے لئے چھمب کے آسمان پر پہنچ گئے جہاں اب چار ویمپائر ہی نہیں بلکہ دو بھارتی کینبرا بھی اڑ رہے تھے ۔ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا کہ دو سیبر طیارے چار ویمپائروں اور دو کینبرا جیسے برتر طیاروں کا مقابلہ کر سکیں گے ۔ مگر شاہینوں نے جان کی بازی لگا دی ۔ آسمان میں مشین گنوں کے دھماکے سنائی دینے لگے ۔ چاروں ویمپائروں کے پرخچے یکے بعد دیگرے چھمب کی فضا میں بکھر کر زمین میں دور دور تک جا گرے ۔ کینبرا اپنے چار ساتھیوں کا حشردیکھ کر کھسک گئے ۔ وھسکی کی بوتل چکنا چور ہو گئی ۔ بھارتی فضائی قوت کا غرور بھی مٹی میں مل گیا ۔ ( جاری ہے )

کیا مودی پاکستان پر حملہ کر سکتا ہے؟

 بہوجن سماج پارٹی کی سربراہ مایاوتی نے وزیراعظم نریندر مودی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی سرکار اپنی ناکامیاں چھپانے کیلئے کشمیر میں تشدد کو پروان چڑھا رہی ہے ۔ مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان کے ساتھ جنگ بھی چھیڑ سکتی ہے۔ مودی نے آج تک اپنا ایک بھی وعدہ پورا نہیں کیا ۔ بی جے پی کے غنڈوں کا حوصلہ مزید بڑھ چکا ہے اور اترپردیش میں ہندو مسلم فسادات کرائے جا سکتے ہیں۔ ریاست کے انتخابات میں کامیابی کیلئے بی جے پی کسی حد تک بھی جا سکتی ہے۔ مرکز میں جب سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے تب سے ملک میں مسلم سمیت دیگر اقلیتوں کے ساتھ غلط رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں مضبوط ہوگئیں۔گاﺅں رکھشا اور تبدیلی مذہب کی آڑ میں اقلیتوں کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ نئی دہلی کے لاءاینڈ آرڈر کو بھی جب یہ بی جے پی کی حکومت نہیں سنبھال سکتی تو اتر پردیش کو کس طرح سنبھالے گی ؟ موجودہ حکمراں پارٹی جو اپنے جرم کیلئے ہمیشہ سے جانی جاتی رہی ہے ، لیکن اس مرتبہ تو غنڈوں کا حوصلہ مزید بلند ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ریاست میں لوٹ مار، جرائم، عصمت دری اور فرقہ وارانہ فسادات جیسے واقعات خوب ہورہے ہیں۔ حکومت اپنی ناکامی چھپانے کیلئے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔ جب سے مودی اقتدار میں آیا وہ پاکستان کے اندر اور بارڈر پر جنگ کر رہا ہے۔ حکومت پاکستان، افواج پاکستان اور عوام کو سنجیدگی سے غور کرکے دفاعی حکمت عملی مرتب کرنی چاہئے۔بھارت کے ساتھ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے۔برسرِ اقتدار آنے کے بعد بھارت کی مودی سرکار پاکستان کے خلاف اعلانیہ اور غیر اعلانیہ محاذ کھولے ہوئے ہے۔ نریندر مودی نے اقتدار سنبھالتے ہی پاکستان کے خلاف زہر اگلنا شروع کر دیا تھا۔ مودی نے کہاکہ جب پاکستان پر ہزاروں گولے برسیں گے تو اس کی چیخیں نکل جائیں گی۔ اس ہرزہ سرائی کے فوری بعد بھارت کی طرف سے ورکنگ باو ¿نڈری اور لائن آف کنٹرول پر شدید گولہ باری کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا اور بھارتی فورسز کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہزاروں مارٹر گولے پاکستانی سرزمین پر برسائے گئے۔ گجرات میں 2000 مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے نریندر مودی کی پاکستان اور اسلام دشمنی کوئی نئی بات نہیں،لیکن مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کے دیگر ارکانِ پارلیمنٹ اور ہندو انتہا پسند تنظیمیں بھی اپنی اوقات دکھانے لگی ہیں۔ نریندر مودی سن لے اگر پاکستان سے جنگ کی تو اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ حکمران بھارت سے مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے تاریخ لیں اگر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق وہ مسئلہ کشمیر حل نہیں کرتا تو اعلان کیا جائے کہ اب بھارت سے کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔ بھارت نے پاکستان کے ہر شہر میں جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ دفاعی پالیسی مضبوط بنانا ہو گی۔ بھارت کی جارحیت کو روکنا ہے تو پھربھرپور فیصلے کرنا ہوں گے۔ بھارت کی پالیسی صرف اور صرف یہ ہے کہ کسی طرح پاکستان مضبوط و مستحکم نہ ہو۔ اس کے لئے وہ اتنے اسلحہ کے انبار جمع کر رہا ہے۔ ان سنگین حالات میں اب ہمیں ضرور سوچنا چاہئے کہ بھارت کے ان خوفناک اور خطرناک عزائم پر کیسے قابو پانا اور مقابلہ کرنا ہے۔ بھارت کی ساری تیاری کا مرکز و محور صرف اور صرف پاکستان ہے۔ ہم جنگ کے طالب ہیں نہ رسیا لیکن اپنی خودداری کسی صورت قربان نہیں کر سکتے ۔اگر بھارت اپنے سارے ملک کی پروا نہ کرتے ہوئے صرف اور صرف پاکستان کے خلاف جنگی تیاریوں میں مصروف ہے تو ہمیں بھی سوچنا چاہئے کہ ہم نے کب تک یوں بھارت کے سامنے جھک کر اور بزدلانہ پالیسی اختیار کر کے جینا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ہوئی تو یہ لامحالہ ایٹمی جنگ میں بدل سکتی ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ملک ہے جو بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری اور باعزت طریقے سے تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے۔ ہم ایٹمی ملک ہونے کے ناطے بھارت سمیت تمام ہمسائیہ ممالک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں جبکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان آنے والے وقت میں اگر جنگ ہوئی تو وہ محدود نہیں ہو گی۔بھارت اور پاکستان کئی مرتبہ ایٹمی جنگ کے قریب آچکے ہیں اوران کے درمیان یہ خطرہ تاحال موجود ہے۔

ایم کیو ایم کی حقیقت اور کڑوا سچ

 صحافت کی خارزار وادی میں25 سالہ دشت نوردی سے یہ سبق حاصل ہوا کہ ہمارا معاشرہ نہ تو سچ سنتا ہے اور نہ ہی سچ کو قبول کرتا ہے اور یہ کہ دنیا میں سب سے مشکل ترین کام سچ کا بولنا ہے ۔ ہمارا معاشرہ سچ کو جھوٹ کے خوشنما لبادوں میں لپیٹ کر سننے کا روادار ہے ۔ کھرا سچ اسے ہرگز قبول نہیں یہ الفاظ لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ الطاف حسین نے جب پاکستان مخالف نعرے لگانے شروع کیے تو اچانک ہماری حکومت کی مشینری حرکت میں آکر اس پر ہلہ بولتی ہے اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرکے 8گھنٹے اپنے پاس رکھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے اور برسوں سے اس کے رفیق کار رہنے والے یہ کہہ کر اپنے جان چھڑا گئے کہ ہمیں تو اس بات کا علم نہیں کہ الطاف بھارت کیلئے کام کرتا ہے اور ہم تو پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگاتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کی پیدائش ہی پاکستان مخالف نعرے پر ہوئی ۔ 1979ءمیں جب الطاف حسین نے جو اس وقت آل پاکستان مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے کرتا دھرتا تھے نے مزار قائد پر پاکستان کا سبز ہلالی پرچم نذر آتش کیا تو اس کو غدار ڈکلیئر کیوں نہیں کیا گیا محض ایک سال قید اور چند کوڑے اور پھر اس کے بعد کھلی چھٹی کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ایم کیو ایم کی ساری پرورش اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے ہوئی محض اس لئے کہ سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کا صفایا کیا جاسکے ایک امر نے اپنی اس خواہش کو پورا کرنے کیلئے ملک دشمن افراد کے ٹولے کو قومی دھارے کی سیاست میں لے آیا۔ میں نے عرض کیا کہ سچ بولنا بہت مشکل ہے مگر کیا یہ سچ نہیں کہ پاکستان آرمی کے ایک باوردی میجر کلیم کو ایم کیو ایم کے غنڈے اغواءکرکے نائن زیرو پر لے گئے اور اس کے جسم میں جیتے جاگتے ہوئے ڈرلوں سے سوراخ کیے گئے اسے تڑپا تڑپا کر شہید کردیا گیا کیا یہ سچ نہیں کہ وہ پاکستان مخالف عناصر کے تعاقب میں ان غنڈوں کے ہتھے چڑھ گیا ، کیا یہ سچ نہیں کہ اس کے لہو کا قرض آج تک نہیں چکایا گیا۔ ایم کیو ایم نے کشمیر ایشوز پر ہمیشہ پاکستان کی مخالفت کی اور بھارت کی حمایت کی ، کیا یہ سچ نہیں کہ الطاف حسین نے بھارت کا دورہ کیا اور اس دورے کے دوران اسے جو مثالی پروٹوکول دیا گیا وہ ایک سربراہ مملکت کا تھا اور پھر وہاں پر اس نے جو پاکستان کیخلاف زبان استعمال کی اس پر اس کے خلاف کیا ایکشن لیا گیا؟۔ الطاف حسین جیتا جاگتا پاکستان دشمنی کا ایک ثبوت ہے مگر ہماری اسٹیبلشمنٹ اس سچ سے آنکھیں چراتی چلی آئی ۔ بات کہنی ذرا مشکل ہے مگر سچ کو آنچ نہیں جب پیپلز پارٹی کے دورحکومت میں سندھ کے وزیرداخلہ ذوالفقار مرزا نے سر پرقرآن مجید رکھ کر ایم کیو ایم کے راز کھولے اور الطاف حسین کو بھارتی ایجنٹ کہا تو اس وقت کے صدر مملکت نہ صرف اس سے ناراض ہوگئے اسے پارٹی سے نکال دیا گیا اس کیخلاف مقدمات درج کرائے گئے اور آج اپنے آپ کو محب وطن کا دعویٰ کرنے والے فاروق بھائی صبح و شام اس کے خلاف بیان بازی کرتے رہے اور الطاف حسین کو محب وطن قرار دینے میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے رہے ۔ ابھی چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ جب ایم کیو ایم کے ہی ایک منحرف مصطفی کمال نے پاک سرزمین پارٹی بنانے کا اعلان کیا تو ہمارے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلانیہ کہا کہ میں کسی کی پریس کانفرنس پر ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا اور اسے غدار قرار نہیں دے سکتا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ وزارت داخلہ کی الماریوں میں ان ملک دشمن عناصر کے خلاف واضح ثبوت موجود ہیں ؟۔ سابق وزیرداخلہ میجر جنرل نصیر اللہ خان بابر کے دور میں ایم کیو ایم کے خلاف کیے جانے والے آپریشن اور تمام ثبوت کیا آج سرکار کے پاس نہیں ؟ اگر نہیں تو اس کا ذمہ دار کون؟۔ سوال صرف حب الوطنی کا ہے ، سوال صرف سچ کے بولنے کا ہے ، حکومت بھی سچ نہیں بول رہی اور ایم کیو ایم والے بھی سچ نہیں بول رہے صرف اپنی چمڑی کو ادھیڑے جانے کے خوف سے انہوں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگایا مگر دل آج بھی ان کے غدار ،ملک دشمن الطاف کے ساتھ دھڑک رہے ہیں ۔ پاکستان کے 20کروڑ عوام نے فاروق ستار کی رینجر کے پاس آٹھ گھنٹے مہمان رہنے کے بعد کی جانے والی پریس کانفرنس کو غور سے دیکھا اس میں کہیں بھی الطاف حسین کی مذمت نہیں کی گئی بلکہ لفظوں کا ہیر پھیر کیا گیا اور کہیں بھی پاکستان کے ساتھ ہمدردی ، وفاداری کا اظہار نہیں کیا گیا۔ کیا یہ سچ نہیں کہ نائن زیرو الطاف حسین کی ملکیتی مکان ہے جسے وزیراعلیٰ سندھ کے حکم پر سربمہر کردیا گیا اب جب فاروق ستار کا الطاف حسین کے ساتھ رابطہ ہی نہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ بار بار اسے کھلوانے پر زوردے رہے ہیں؟۔ کیا ریاستی اداروں کو اس بات کی سمجھ نہیں آرہی کہ فاروق ستار اس قوم کو بیوقوف بنا رہا ہے ۔ ایک واضح پالیسی اپنانی چاہیے کہ اگر یہ لوگ سیاست کرنا چاہتے ہیں تو ایک نئی سیاسی جماعت رجسٹرڈ کرواکر میدان عمل میں اتریں اور اس ملک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کریں ۔ کتنے افسوس کی بات ہے جو ملک ہم نے لاکھوں جانوں کی قربانیوں دے کر حاصل کیا تھا جس کے حصول کیلئے ہزاروں عصمتوں کو ہندو درندوں نے پامال کیا کوئی کتا اٹھ کہ اس کے خلاف بھونکنا شروع کردیتا ہے اور اس کیخلاف نعرے لگانا شروع کردیتا ہے محض اس لئے کہ کوئی ملک دشمن قوت اسے ہڈی ڈال دیتی ہے اور وہ حق ادا کرنے کیلئے پاک سرزمین کیخلاف بھونکنا شروع کردیتا ہے ۔ سیاسی عمل اور دہشت گردی دو الگ چیزیں ہیں میں ایم کیو ایم پر پابندی کے حق میں نہیں تاہم اسے اس مٹی کے ساتھ وفاداری کو ثابت کرنا ہوگا۔ لیکن اگر کسی بھی سیاسی جماعت کے اندر اس کی صفوں میں کوئی دہشت گرد وطن دشمن عناصر موجود ہیں تو اسے پھر ان سے نہ صرف لاتعلقی بلکہ اسے قانون کے حوالے کرنے میں مدد بھی فراہم کرنا ہوگی بصورت دیگر وہ بھی ملک دشمن تصور ہوگی اور آخر میں کیا یہ سچ نہیں ہے کہ پوری قوم بے حس ہوچکی ہے جب ایک لندن میں بیٹھا ہوا شخص اس دھرتی کے خلاف بکواس کررہا تھا تو اس وقت پوری قوم کو چاہیے تھا کہ سڑکوں پر قومی پرچم لے کر نکل آتی اور پاکستان زندہ باد کے نعروں سے خیبر سے کراچی تک گونج اٹھتا اس وقت پوری دنیا کو یہ علم ہوجاتا کہ بقول شاعر
ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں
ہم سب کی یہ پہچان پاکستا پاکستان
٭٭٭٭٭
Google Analytics Alternative