کالم

غنی حکومت امن کے دشمن اپنے ارد گرد تلاش کرے.

چند روز قبل امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس نے ایک خبر شائع کی جس میں کہا گیاکہ امریکی خفیہ ایجنسی کو ایسے شواہد ملے تھے کہ قندوز میں غیر ملکی امدادی ادارے کا ہسپتال پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ’آپریٹیو‘ کے زیر استعمال تھا اور آئی ایس آئی اس ہسپتال کو طالبان سے رابطے کےلئے استعمال کرتی تھی۔اس الزام کو پاکستان نے یکسرمسترد کردیا ،یقیناپاکستان کو ایسا ہی کرنا چاہیے تھا کہ اسمیں اصل مجرم امریکہ کو بچانے کی کوشش کی گئی ہے، جس نے انسانیت سوز حرکت کی اور ہسپتال کو نشانہ بنا ڈالا۔ دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے قندوز کے ہسپتال کے پاکستانی خفیہ ایجنسی کے زیر استعمال ہونے سے متعلق غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ الزامات بے بنیاد ہیں اور پاکستان ایسے الزامات کی تردید کئی مرتبہ پہلے بھی کر چکا ہے۔پاکستان نے کئی مرتبہ کہا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو افغانستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا۔ قندوز پر طالبان کا قبضہ وہ ایشو ہے جسے ایک منصوبہ بندی کے ساتھ ہوا دی جا رہی ہے۔پاکستان کی مسلسل تردیدوں کے باوجود اس چنگاری کو شعلہ بنانے والوں میں بھارت نواز افغان لیڈر آگے آگے ہیں،جن کی قیادت سابق افغان صدر حامد کرزئی کررہے ہیں۔سابق افغان صدر حامد کرزئی کو نجانے پاکستان سے کیا خوف ہے کہ وہ اٹھتے بیٹھتے پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں ۔جب سے موصوف تخت کابل سے محروم ہوئے ہیں، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محرومی کے بعدکچھ زیادہ ہی ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہیں۔در اصل حامدکرزئی کابل سے سیاسی بے دخلی کے بعد بھی اپنا اثرورسوخ قائم رکھنا چاہتے تھے ۔اس کام کے لئے پہلے انہوں نے اپنے بھائی قیوم کرزئی کو میدان میں اتارا ،جب دال گلتی نظر نہ آئی تو زلمے رسول کے حق میں بٹھوا دیا ،مگر قسمت نے ڈاکٹر اشرف غنی کی ےاوری کی اور وہ اگلے صدر منتخب ہو گئے۔اقتدارسے محرومی ہی شاید اسے بے چین کئے رکھتی ہے کہ وہ اپنے محسن ملک پاکستان کے خلاف زہر اگلنے لگتے ہیں۔پاکستان ہی کی مہربانیوں سے انہیں پہلی بار اقتدار ملا تھا۔قندھار کے کرز نامی ایک گاو¿ں سے تعلق رکھنے والے حامد کرزئی کا تعلق پشتون قبیلے پوپلزئی سے ہے۔ ان کا خاندان 1982 میں افغانستان میں حالات کی خرابی کے باعث کوئٹہ منتقل ہوگیا۔ ابتدائی تعلیم کابل کے ایک اسکول میں مکمل کی اور اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کےلئے بھارت چلے گئے۔ان کی تعلیم ہندوستان کی شمالی ریاست ہماچل پردیش میں ہوئی شاید یہ اسی تعلیم کا اثر ہے وہ آج بھی بھارت کے گن گاتے ہیں۔ 1982 میںافغانستان لبریشن فرنٹ کے ڈائریکٹر آپریشنز کی حیثیت سے افغان جہاد میں حصہ لیا۔ انہیں پہلا سرکاری عہدہ پروفیسر صبغت اللہ مجددی کی سربراہی میں بننے والی عبوری حکومت میں بطور ڈائریکٹر جنرل تعلقات خارجہ ملا۔پھر جب طاللبان کو اقتدار ملا تو موصوف ان میں گھس بیٹھے،اور 1992 سے 1994 تک افغانستان کے نائب وزیر خارجہ رہے۔امریکہ نے جب افغانستان میں فوجی کارروائی شروع کی تو اس وقت پاکستان میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ کابل پر امریکی قبضے کے بعد انہیں حکومت کا سربراہ مقرر کیا گیا۔ پھر اکتوبر 2004 میں ہونے والے انتخابات میں اپنے حریف یونس قانونی کے مقابلے میں کامیابی حاصل کی اور افغانستان کے پہلے باقاعدہ منتخب صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا۔ موصوف جتنا عرصہ اقتدار میں رہے پاکستان کے ساتھ انکے تعلقات ہمیشہ کشیدہ رہے۔انکے خیال میں پاکستان ہی طالبان کی پشت پناہی کر تا ہے ۔ ابھی حالیہ دنوں میں قندوز پر حملہ ہوا تو انہو ں نے عبداللہ عبداللہ کے ساتھ ہم آواز ہو کراس کا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا جبکہ یہ حقیقت آن ریکار ڈ ہے اس کارروائی میں خود موصوف ملوث ہیں کیونکہ جنہوں نے طالبان کا کام آسان کیا چند برس قبل وہ دو طالبان لیڈر پاکستان نے گرفتار کررکھے تھے لیکن حامد کرزئی نے اپنے دور میں انہوں نے انہیں رہائی دلوائی۔تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موصوف اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے ڈاکٹر غنی سے جلے بھنے بیٹھے ہیں۔اب موصوف بھارت اورعبداللہ عبداللہ سے مل کر اشرف غنی کی حکومت کا تختہ الٹنے ےا انہیں ناکام صدر ثابت کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔سابق صدر کی سابق انتظامیہ بھی اس کام میں ان کی مدد کررہی ہے ۔ پاکستان کے سابق وزیرخارجہ خورشید محمودقصوری نے اپنی تازہ کتاب” نار اے ہاک نار اے ڈو“ میں سابق صدرافغانستان حامد کرزئی کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ لکھا ہے کہ کس طرح اس وقت موصوف کی بولتی بند ہوگئی تھی جب اسے آئینہ دکھایا گیا۔وہ لکھتے ہیں کہ صدر حامد کرزئی کے ساتھ میری ون آن ون ملاقات جاری تھی کہ اچانک انہوں نے مجھ سے انتہائی ناراض لہجے میں پوچھا: تم سب پاکستانی افغانوں کو حقارت کی نظر سے کیوں دیکھتے ہو؟ لیکن بعدازاں جب پاکستان کے دورے پر اسلام آباد آئے تو صدرمشرف سے ان کی ملاقات میں انہیں ٹھوس ثبوت دکھائے گئے توان کے چہرے کی ہوائیاں اڑ گئیں۔ اس ملاقات میں افغان خفیہ ادارے کے چیف امراللہ صالح، لیفٹیننٹ جنرل حامد جاوید اور اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل کیانی بھی موجود تھے۔ جب امراللہ صالح اپنے فرسودہ الزامات دوہرا چکے تو اپنی باری پر ہم لوگوں نے ان کو آئینہ دکھایا تو وہ کھسیانی بلی بن گئے۔ ہمارے شواہد میں فون ٹیپنگ، اصل فوٹو اور پاکستان دشمنوں کو افغان حکومت کے جاری کردہ اوریجنل ڈاکومنٹس تھے۔ حامد کرزئی نے جب افغان وزارت دفاع کی وہ حساس دستاویزات دیکھیں تو پسینہ پسینہ ہوگئے۔ ان دستاویزات میں قبائلی علاقوں سے جڑے افغان علاقوں کے حکام کو حکم دیا گیا تھا کہ” بھارتی دوست آرہے ہیں انہیں تمام ضروری اورمطلوبہ سہولتیں فراہم کی جائیں“۔ قصوری صاحب لکھتے ہیں پاکستان کے ہاتھ اصل افغان دستاویزات دیکھ کر افغان صدرشرمندگی کی تصویر بن گئے۔ صدر پرویزمشرف نے جب حامد کرزئی سے سوال کیا کہ افغان علاقوں میں”را“ کے یہ کارندے کیا کررہے ہیں تو ان کے پاس آئیں بائیں شائیں کرنے کے علاوہ کوئی جواب نہ تھا۔ اسی طرح بلوچ عناصر کی افغانستان میں سرگرمیاں اور انہیں افغان حکام کی خصوصی پشت پناہی میں بھارت بھجوانے کے شواہد اور تصاویر دکھائی گئیں توموصوف نے چپ سادھ لی۔یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کے خلاف جاری سازشیں تب سے اب تک جاری ہیں۔حالیہ دنوں میں لوگر ضلع کے پولیس چیف داود احمدی نے جس طرز کا الزام عائد کیا ہے اس سے واضع ہوتا کہ ان سب کی ڈوریاں کوئی ایک ہی طاقت ہلا رہی ہے۔قندوز واقعہ میں پاکستان کو ملوث کرنا اس منصوبہ بندی کا حصہ جس میں ڈاکٹر غنی اور پاکستان کو بدنام کرنا ہے۔یہ الزام لگانا کہ افغان طالبان کے پیچھے پاکستان ہے،ایک لغو اور من گھڑت موقف ہے۔افغان طالبان افغانستان کے اندر کارروائیوں میں خود کفیل ہیں، اسلحہ اور افرادی قوت کی انکے ہاں کمی نہیں ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ افغان انتظامیہ کا اثرو رسوخ کابل اور چند دوسرے شہروں تک محدود ہے۔ دورد راز کے علاقے طالبان کا گڑھ ہیں، ا±نہیں جب بھی موقعہ ملتا ہے وہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کر دیتے ہیں، قندوز میں بھی انہوں نے ایسا ہی کیا۔افغان طالبان اور پاکستانی طالبان کے تال میل کے باعث خود پاکستان کو شدید مشکلات کا سامنا رہتاہے۔پاکستان نے ان نجات کے لئے آپریشن ضربِ عضب شروع کررکھا ہے،دنیا بھر میں اس کارروائی کو سراہا گیا ہے، مریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان کیمبل نے گزشتہ دنوںاعتراف کیاکہ پاک فوج اچھے اور ب±رے طالبان میں کوئی فرق نہیں کر رہی۔جنرل جان کیمبل نے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کو بتایا کہ پاکستان اپنے وعدوں کے مطابق بامقصد کارروائیاں کر رہا ہے ،انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لئے پاکستان کا کردار اہم ہے۔ویسے بھی سوچنے کی بات یہ ہے کہ جو م±لک خود دہشت گردی کا شکار ہو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ کوئی دوسرا ملک ایسی مشکل صورتِ حال سے دوچار ہو۔پھر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ افغانستان میں اگر کسی بھی وجہ سے حالات خراب ہوتے ہیں تو اس کا اثر براہِ راست پاکستان پر پڑتا ہے۔ پاکستان کی خواہش و کوشش یہ رہی ہے کہ وہاں جلد از جلدامن قائم ہو تاکہ پاکستان کا امن بھی لَوٹ آئے لیکن جو افغان رہنما بھارت کے زیر اثر ہیں وہ ماحول مکدر بنائے رکھتے ہیں۔بلاشبہ ڈاکٹر اشرف غنی پاکستان کے خلاف ایسی سوچ نہیںرکھتے ہیں،لیکن بھارت نواز سابق لابی نے انہیں گھیر رکھا ہے لہٰذاڈاکٹر غنی حکومت افغانستان کے امن کے دشمن اپنے ارد گرد تلاش کرے۔

بھارتی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ.

نریندر مودی وزیر اعظم منتخب ہونے سے پہلے بھی مسلمانوں پر تشدد اور قتل و غارت کے بہت بڑے حامی تھے تاہم مودی سرکار آتے ہی مسلمانوں پر ظلم و جبر انتہا کو پہنچ گیا۔ سیکولرازم کا نقاب اوڑھے بھارت کا اصل چہرہ بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہے۔ جہاں دادری کے علاقے میں ایک مسلمان نوجوان کو مندر سے پھیلنے والے اس افواہ کی پاداش میں قتل کردیا گیا کہ اس نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ جبکہ بھارتی وزیراعظم تمام تر صورتحال میں خاموشی سے اس تشدد سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ انڈین ایکسپریس نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈسٹرکٹ دادری کے گاو¿ں بسارا میں یہ افواہیں پھیل گئیں کہ محمد اخلاق نے اپنے گھر میں نہ صرف گائے کا گوشت ذخیرہ کررکھا ہے بلکہ ان کا خاندان گوشت کو استعمال بھی کررہا ہے۔ مقامی مندر میں اس اعلان کے بعد کہ محمد اخلاق کے خاندان نے گائے کا گوشت کھایا ہے۔ ان کے گھر پر ایک ہجوم نے حملہ کردیا اور تشدد کرکے خاندان کے سربراہ 50 سالہ محمد اخلاق کو ہلاک جبکہ ان کے بیٹے دانش کو شدید زخمی کردیا۔ہماچل پردیش میں بھی ایک مسلم نوجوان کو ہجوم نے ایک ٹرک میں گائے لے جانےکی پاداش میں مار مار کر ہلاک کردیا۔ گائے اور بھینس ایک جگہ سے دوسری جگہ خرید وفرخت کے لیے ٹرکوں سی ہی بھیجی جاتی ہیں۔ لیکن بی جے پی کی حکومت آنے کے بعد مویشیوں کی نقل و حمل ایک انتہائی پر خطر مہم میں تبدیل ہو چکا ہے۔دادری کے واقعے سے پہلے ملک کے مختلف علاقوں میں مویشیوں کے ٹرک لے جانے والوں پر حملے اور مویشیوں کو لوٹنے کے درجنوں بڑے واقعات ہو چکے ہیں۔ تعصب اور انتہا پسندی میں ڈوبے ہندو موجودہ بھارتی حکومت کے دور میں کھل کے سامنے آنے لگے ہیں۔مودی سرکار کی جانب سے اس اندوہناک معاملے پر مکمل خاموشی اختیار کیے جانے پر اترپردیش کے وزیر برائے اقلیتی بہبود اور سماج وادی پارٹی کے سینئر رہنما محمد اعظم خان نے میدان میں آنے کی ٹھانی، جنہوں نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کو خط لکھ کر بھارت میں اقلیتوں کی حالت زار کا معاملہ اٹھایا ۔اعظم خان نے داری میں مسلمان نوجوان کے قتل کے واقعے کو بابری مسجد کے بعد بڑی سازش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس ملک کو ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے۔ پانچ صفحات پر مشتمل اپنے خط میں انھوں نے بھارت میں مسلمانوں پر ہندوو¿ں کے مظالم کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔دوسری جانب اعظم خان کے اس جرات مندانہ اقدام سے اکھنڈ بھارت کے خواب دیکھنے والے ہندو انتہاپسندوں کو آگ لگ گئی اور انھوں نے پارٹی کی قیادت سے اعظم خان کی فوری برطرفی کا مطالبہ کردیا ۔ گزشتہ دنوں ہندوستان کی ریاست گجرات، راجستان، چھتیس گڑھ ، مہاراشٹر اور ہریانہ میں جین میلے کے موقع پر عوامی جذ بات کے مجروح ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے مویشیوں کے ذبح اور گوشت کی فروخت پر پابندی لگائی گئی تھی، جبکہ ایسی ہی پابندی ممبئی میں بھی لگائی گئی جس کے باعث ایک بڑا تنازع شروع ہوگیا۔رواں سال مارچ میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی حکومت نے مہاراشٹر میں جانوروں کی حفاظت کا ترمیمی ایکٹ پاس کیا تھا جس کے تحت گائے کے ذبح، گوشت کی فروخت پر پابندی لگا گئی تاہم اس پابندی کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا تھا۔بھارتی ریاست ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر نے مسلمانوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہندو¿وں کے جذبات کے احترام میں گائے کا گوشت کھانا ترک کر دیں۔کھٹر کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے، جب بھارت میں یہ معاملہ سنگینی اختیار کرتا جا رہا ہے۔ جمعے کے دن ہی ہندوو¿ں نے ہماچل پردیش میں گائے اور بیلوں کی چوری کا الزام عائد کرتے ہوئے ایک اور مسلمان کو ہلاک کر دیا۔ اس سے قبل بھی ایک مسلمان کی ہلاکت کی تقریباایسی ہی ایک واردات عمل میں آ چکی ہے۔ بھارت میں مسلمانوں کے علاوہ مسیحی برادری بھی گائے کا گوشت کھاتی ہے۔اگرچہ بھارت میں ہندو گائے کو مقدس قرار دیتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ اس ملک میں گائے کو ذبح نہ کیا جائے تاہم دوسری طرف بھارت گائے کا گوشت برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ بھارتی پولیس بھی مسلمانوں پر مظالم ڈھانے میں انتہا پسند ہندوو¿ں سے پیچھے نہیں۔ ممبئی میں پولیس نے دو مسلمان نوجوانوں آصف شیخ اور دانش شیخ کو پکڑ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ دونوں نوجوانوں کو پولیس اہلکاروں نے الٹی میٹم دیتے ہوئے بھارت چھوڑنے اور پاکستان جانے کا کہا۔ تشدد کے نتیجے میں زخموں سے چ±ور دونوں نوجوانوں کو ہسپتال بھی جانے نہیں دیا گیا۔اس واقعے کے خلاف شہریوں نے پولیس سٹیشن کے باہر احتجاج کیا تو یہ خبر میڈیا پر آگئی جس پر پولیس کے اعلیٰ حکام فوری ایکشن میں آئے اور واقعے کی انکوائری شروع کردی- بھار ت کا مکرو چہرہ کھل کر سامنے آگیا اورپاکستانی ہونا گناہ بن گیا۔ بھارتی انتہا پسندوں نے مقدس مقامات کی زیارت کیلئے بھارت جانے والے مسلمان پاکستانی خاندان کو ممبئی کے ہوٹلوں میں ٹھہرانے سے انکار کردیا۔ کراچی سے تعلق رکھنے والا خاندان حاجی علی درگاہ کی زیارت کرنے کی غرض سے بھارت پہنچا تھا جس نے جودھپور میں اپنے رشتہ داروں کے ہاں رہائش اختیار کی۔بعد ازاں پاکستانی خاندان جس میں تین خواتین اور ایک لڑکا شامل تھاکے افراد درگاہ کی زیارت کرنے ممبئی آگئے جہاں سے واپسی پر جب انھوں نے ممبئی شہر کے ہوٹل میں رات گزارنا چاہی تو کسی بھی ہوٹل نے انھیں پاکستانی شناخت کرکے ٹھہرانے کی جگہ نہیں دی جس پر سخت سردی میں پاکستانی فیملی کو رات فٹ پاتھ کر گزرنا پڑی۔حقیقت یہ ہے کہ انتہا پسند بھارت میں مسلمانوں اور پاکستانیوں کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جارہا ہے۔چند روز قبل ہندو انتہا پسند تنظیم شیو سینا نے پاکستانی گلوکار غلام علی کو ممبئی میں شو کرنے سے روک دیا تھا اور سابق پاکستانی وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی کتاب کے منتظم کو تشد د کا نشانہ بنایا اور انکے چہرے پر سیاہی پھینک دی۔وزیر اعظم مودی نے بذات خود گائے ذبح تنازعے کے نتیجے میں مشتعل ہندوو¿ں کی طرف سے ایک مسلمان کی ہلاکت کو افسوناک قرار دیا تھا کہ اب ایک اور مسلمان اسی طرح ہلاک کر دیا گیا ہے۔ کئی ہفتوں کی خاموشی کے بعد رواں ہفتے ہی مودی نے اس پہلے قتل کو ایک ناخوشگوار واقعہ قرار دیا تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ بھارت میں گائے کے گوشت پر پابندی لگانے کے نعروں کی وجہ سے اس ہندو اکثریتی ملک میں بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے ووٹ بینک کو مضبوط بنا سکتی ہے۔

ثقافتی اتھل پتھل کاشاخشانہ

بھارت میں آر ایس ایس جیسی قدیم متشدد جنونی تنظیم کے تانے بانے کہاں تک نہیں پھیلے ہوئے دیش کا کوئی ایسا کونہ باقی رہ گیا ہے جہاں فکری و نظری پاگل پن جنونیت کی عفریت نما حیوانیت جس کا تہذیب وتمدن اور رواداری سے دور قریب کا کوئی واسطہ نہ ہو جو وحشت وبربریت کی انتہا پسندی کے زہریلے نفرت کے لیبل اپنے چہروں پر چسپاں کیئے پورے بھارت کو تقریباً آجکل اپنا یرغمال بنا چکے ہیں دنیا بھر کے متمدن میڈیا والے اپنے نظریں بھارت کے اندر لگائے ایک انوکھا ‘انہونا کھیل دیکھ رہے ہیں اب ہماری سمجھ میں یہ بات آگئی اِس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ’بی جے پی نے جس شاونت ازم اور انتہاپسندی کی جنونیت کو عروج پر پہنچا نے میں پہل کی تھی ذرا تھم کر غور کیجئے اِس کا آغاز اصل میں کانگریس نے کیا تھا لگ بھگ 40 برس کانگریس نے نئی دہلی پر ڈھیلی ڈھالی اور آفت کی پرکالی اپنی نام نہاد سیکولر ازم کی جیسی حکومت کی اُس کا ایک نہ ایک روز یہ ہی بُرا نتیجہ بھارت کے ساتھ دنیا کو دیکھنا تھا، سو یہ دنیا نے دیکھ لیا، بھارتی اقلیتوں جن میں ایک بہت بڑی واضح اکثریت مسلمانوں کی ہے، وہ تو ’ہندو ‘ نہ ہونے کی وجہ سے اِن جنونی اور ا نتہا پسند غنڈوں کے ظلم وستم اور جبرو سفاکیت کا نشانہ تو اپنی جگہ بن رہے ہیں، لیکن، کروڑوں کی تعداد میں چھوٹی ذات کے ’ہندو دلتوں ‘پر بھارتی براہمنوں اور دیگر بڑی ذات کے پنڈتوں کے یہ ’دلال ‘ قصاب نما جنونی انتہا پسند کیسے کیسے ظلم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں، اُس کی کھلی داستاتیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ‘ اچانک اور یکایک یہ کیا ہوا ہے کیوں بھارت تباہی کے اِس ڈگر پر چل نکلا پل بھر کو نریندرا مودی پر خاموشی کا ایسا فالج گرا اُس کی زبان ہی بند ہوگئی جب بھارت میں صرف اِس شک کی بناءپر کہ ایک مسلمان محمد اخلاق نے گائے کا گوشت کھایا ہے اُسے جنونی ہندوو¿ں کی تنظیم بجرنگ دَل کے غنڈوں نے قتل کردیا بھارت بھر میں زور وشور سے احتجاج ہورہا تھا جبکہ وزیر اعظم مودی خلاو¿ں میں پلکیں جھپکائے بغیر منہ کھولے یوں لگا جیسے اُسے فالج ہوگیا ہو؟ عدم رواداری‘ عدم برداشت اور صبرو استقامت جیسی لافانی انسانی احساسات کو بالائے طاق رکھ کر نہ کسی قوم کی قیادت کی جاسکتی ہے نہ کسی ملک کی انتظامیہ کو چلایا جاسکتا ہے، بھارت کی جہاں تک بات ہے وہاں پر یقینا ایک قوم نہیں بلکہ یہ ملک بھارت کئی قوموں کی جدا جدا اور علیحدہ علیحدہ سماجی ومعاشرتی رہن سہن کی صدیوں پر محیط آبائی سرزمین ہے ، انگریزوں نے برصغیر کو چھوڑتے وقت جنوبی ایشیا کے اِس بڑے خطہ میں ہندوو¿ں پر ’خصوصی مہربانیوں ‘ کا جوہاتھ رکھا اور جاتے ہوئے مسلمانوں کو ہمہ وقت اپنے سازشی حربوں کے تیر ِ ہدف کا نشانہ بنائے رکھنے کا جو وعدہ لیا تھا چاہے وہ کانگریس کے ہندو رہنما ہوں یا بی جے پی جیسی متشدد سیاسی جماعت کے مسلمان دشمن قائدین ہوں اصل میں یہی وعدہ نبھا یا جارہا ہے بر طانیہ کی اِس وقت خاموشی اپنی جگہ ،اُس کی ایک تلخ تاریخی حقیقت ہے مگر، مغرب اور امریکا کی طرف سے بھارت کو وقتاً فوقتاًاب زیادہ شدومد سے ”شٹ اَپ“ کالیں ملنا شروع ہو گئی ہیں چونکہ بھارت کی موثر سول سوسائٹی اب متحرک ہوگئی ہے بھارت بھر میں عدم برداشت اور عدم رواداری کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خلاف عالمی شہر ت ِ یافتہ بھارتی ادیبوں کی آوازیںدنیا نے بڑی حیرت سے سنیں بھارتی مصنفوں ‘ شاعروں ‘ ادیبوں ‘ فنکاروں اور آرٹ کی دنیا سے وابستہ نامور شخصیات نے صرف احتجاج ہی نہیں کیا بلکہ یہ واضح کھلا اعلان کیا ہے کہ ’ گوتم بدھ اور گورونانک کی سرزمین پر سکھوں اور مسلمانوں کے خلاف آئے روز کی سفاکانہ زیادتیاں انتہائی شرمناک ہیں‘یہ ہی نہیں بہت سی بڑی بھارتی شخصیات نے احتجاجاً اپنے سرکاری اعزازات حکومت کو واپس لوٹا دئیے، سرکاری اعزازارت واپس کرنے والے سرکردہ ادیبوں کی فہرست میں اب مصنفہ’ دلیپ کور توانا‘ کا نام بھی شامل ہوگیا جو پنجابی زبان میں لکھتی ہیں ‘ انھوں نے یہ کہتے ہوئے ملک کا چوتھا سب سے بڑا شہری اعزاز ’پدم شری‘ واپس کرنے کا اعلان کیا ہے ’افسوس! ہم نے سوچا بھی نہ تھا کہ ہمیں دیش میں یہ دن دیکھنا بھی پڑیں گے جب دیش کی اعلیٰ قیادت ایسوں کی سرپرستی کھلے عام کرنا شروع کرد ے گی جن کے ہاتھ بے گناہوں اور معصوم انسانوں کے خون سے رنگے ہونگے ‘ ایک کے بعد ایک بھارتی نامور لکھاری مجسم احتجاج کی صورت بنا اپنے آپ کو معصوم انسانیت کے سامنے جوابدہ سمجھنے لگاہے کچھ نہ کچھ تو ازالہ ہونا ہی تھا جو اِس انداز میں دنیا نے دیکھا کہ بھارت میں آئے روز کی اس بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کے خلاف اب تک کم از کم 41سے زائد ایسے ادیب شامل ہوگئے ہیں اس کی ابتدا ادے پرکاش اور نین تارا سہگل نے کی تھی اور اس کے بعد یہ کارواں بڑھتا چلا گیا’ ادے پرکاش ‘کا کہنا ہے ’ستمبر میں جب میں نے اپنا” ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ“ واپس کرنے کا فیصلہ کیا تو چاروں طرف خاموشی تھی، اُس وقت لگا کہ شائد کچھ غلط ہو گیا؟لیکن اب مجھ سے بھی بہت بڑے بڑے ادیب و دانشور بھارتی متشدد تنظیموں کی انسانیت کش سرگرمیوں کے خلاف اس تحریک میں شامل ہوگئے ہیں، اب لگتا ہے کہ سب کے دل میں یہ بات تھی جو دیش میں ہو رہا ہے وہ ٹھیک نہیں ہو رہا ‘ غیر ملکی اور کسی حد تک غیر جانبدار میڈیا کے مطابق، بھارت میں گذشتہ چند مہینوں میں کئی مفکروں اور ادیبوں کو بھی نشانہ بنایا گیا کچھ کو صرف ڈرا دھمکا کر خاموش کر دیا گیا لیکن” نریندر دابھولکر اور گووند پنسارے“ کو اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑ ے ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ ’ جنونیت کی انتہا پسندی اور توہم پرستی‘ کے خلاف ٹھوک بجاکر موثر آواز یں اٹھا رہے تھے جن بھارتی مصنفین نے اپنے اعزازات واپس کیئے ہیں، وہ اس بات پر ناراض ہیں کہ دیش کے سب سے بڑے ادبی ادارے” ساہتیہ اکیڈمی “نے جنونی انتہا پسند کارکنوں کے ہاتھوں قتل ہوجانے والے دانشوروں کی حمایت میں ایک بیان تک جاری نہیں کیا کسی قسم کی مذمت بھی نہیں کی ادے پرکاش کا یہ بھی کہنا تھا ’ شیوسینا کے کار سیوک غلام علی کو روکتے ہیں، وہ غزل کو روک رہے ہیں، قوالی کو روک رہے ہیں نظم کو روک رہے ہیں کیا وہ دیش میں صدیوں سے قائم اسلامی کلچر کے امتزاج سے یہاں تک نفرت کریں گے جو دنیا بھر میں دیش کے ثقافتی ورثے کا درجہ حاصل کرچکی ہیںکیا یہ شیو سینا کے مورکھ اب تاج محل کو بھی توڑ دیں گے؟ پھر بات کہاں جا کر رکے گی؟ یقینا نریندرا مودی نے بھارت کو ایک ایسے کٹھن موڑ پر لا کھڑا کیا ہے، جہاں یہ کہنا قرین ِ قیاس ہوگا کہ اُن کے متعصبانہ اقدامات نے سنگھ پریوار‘ کی جنونیت کی انتہا کی اُس عروج پر پہنچا کر فرقہ واریت کے مسئلہ کو بہت زیادہ پیچیدہ کردیا ،جو بھارتی روشن خیال اعتدال پسند ادیبوں اور لکھاریوں کے نزدیک اتنا ناقابل ِ قبول ہوچکا ہے یعنی اب یہ کہا جائے کہ یہ بھارتی متشدد تنظیمیں اپنی جنونیت کے پاگل پن میں اِتنی آگے بڑھ چکی ہیں کہ وہ دیش کے کروڑوں عوام کی زندگیوں کو ہمہ وقت خوف ودہشت زدگی کے ماحول کا عادی بناکر اُنہیں مسلسل مایوسی ‘ بے سکونی اور محرومی کے شدید کرب کے دباو¿ میں کسنے کا خواب دیکھنے لگی ہیں اب یقین کرلیجئے کہ بھارت کے اندر ’نئی روشنی ‘ اور ’پرانی روشنی کے ایک نئے سماجی ومعاشرتی اور ثقافتی تنازعہ نے سر اُٹھا نا شروع کردیا ہے ۔

بھارت خانہ جنگی کی راہ پر ۔۔۔؟

انیس اکتوبر کو ممبئی میں شیو سینا کے غنڈوں نے جس طرح بھارتی کرکٹ بورڈ کے دفتر پر حملہ کر کے شہر یار خان اور ” منوہر ششانک “ کی ملاقات روکوائی ۔ اسی کے ساتھ ایمپائر ” علیم ڈار “ کو بائیس اور پچیس اکتوبر کو ہونے والے بھارت ساﺅتھ افریقہ میچوں سے ہٹوایا اور اس کے چند گھنٹوں بعد دہلی پریس کلب میں مقبوضہ کشمیر کٹھ پتلی اسمبلی کے رکن ” انجینئر رشید“ کے منہ پر سیاہی پھینکی اور کشمیر کے نو جوان ٹرک ڈرائیور ” زاہد رسول “ کو مار مار کر شہید کیا گیا ۔ اس کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ اس سے پہلے بارہ اکتوبر کو بھارتی صوبے مہا راشٹر کے دارالحکومت مممبئی میں شیو سینا کے رہنماﺅں نے جو اشتعال انگیز حرکت کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی ہندو جنون تھمنے میں نہیں آ رہا اور آگے چل کر جانے یہ کیا گل کھلائے گا ۔ سبھی جانتے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ ” خورشید محمود قصوری “ کی تصنیف ” Neither Hawk Nor Dove “ کی ممبئی میں ایک بھارتی NGO ” Observer Research Foundation “ کے زیر اہتمام ہونا طے پائی تھی ۔ اس ادارے کے منتظم ” سدھ ویندر کلکرنی “ کے چہرے پر سیاہی مل کر شیو سینا نے مسلم اور پاکستان دشمنی میں ایک بار پھر ہراول دستے کا کردار ادا کیا ۔ یہ عمل خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ شیو سینا محض سنگھ پریوار کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی مرکزی اور مہاراشٹر کی صوبائی حکومت کا اہم حصہ ہے ۔ مودی کابینہ میں اس کے تین وزیر اور مہا راشٹر کے وزیر اعلیٰ ” دویندر فرنویس “ کی صوبائی حکومت میں اس کے بارہ وزیر شامل ہیں ۔ یوں کلکرنی پر ہونے والا یہ حملہ دراصل بھارتی سرکار کا کارنامہ ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔
اسی کے ساتھ ساتھ گﺅ رکھشا کے نام پر بھارت کے طول و عرض میں مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں پرعرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے ۔ 28 ستمبر کے سانحہ دادری کے بعد 16 اکتوبر کو ہماچل پردیش کے ضلع ” سر مور “ میں گائے کے مسلمان بیو پاریوں کو اتنا مارا گیا کہ سہارن پور ( یو پی ) سے تعلق رکھنے والا بیس سالہ نعمان موقع پر جاں بحق ہو گیا جبکہ اس کے چار ساتھی جان کنی کے عالم میں ہسپتال میں داخل ہیں ۔
ان نہتے مسلمانوں پر یہ الزام لگایاجا رہا ہے کہ وہ بھارتی پنجاب سے گائے خرید کر سمگلنگ کی غرض سے ہماچل پردیش لے جا رہے تھے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ ” منوہر لعل کھٹر “ نے پندرہ اکتوبر کو صاف الفاظ میں دھمکی دی کہ اگر مسلمانوں نے بھارت میں رہنا ہے تو ان کو بیف کھانا چھوڑنا ہو گا ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بھی بے جا نہ ہو گا کہ بھارت کے تمام فائیو سٹار ہوٹلوں میں اعلانیہ طور پر گاہکوں کو بیف فراہم کیا جاتا ہے مگر گائے کے نام پر بھارتی مسلمانوں کا جینا حرام کر دیا گیا ہے ۔ کچھ عرصہ پہلے بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ” لوہانی “ نے اپنے فیصلے میں تحریری طور پر فرمایا تھا کہ ” بھارت کے لئے گائے کا گوبر کوہ نور ہیرے سے زیادہ قیمت ہے “ ۔
بھارت میں ہندو انتہا پسندی کے سر پرستِ اعلیٰ ” RSS “ کے ترجمان ہندی جریدے ” پنج جنیو “ نے اپنے تازہ ترین شمارے ( 18 اکتوبر ( میں لکھا ہے کہ” دادری میں گائے کی ہتیا کرنے والے محمد اخلاق کو مارنا نہ صرف جائز بلکہ ضروری تھا کیونکہ ہندو دھرم کے مذہبی صحیفوں میں واضح طور پر لکھا ہے کہ گائے کو مارنے والے کو بطور سزا قتل کر دیا جائے “ ۔ یہ تحریر بعنوان ” اس اٹھا پٹھک کے اس پار “ شائع ہوئی ۔ اس کا مصنف ” طفیل چترویدی “ ہے ۔ اس کا اصل نام ” وِنے کرشنا چتر ویدی “ ہے جو طفیل چتر ویدی کے نام سے ” پنج جنیو “ کا مستقل لکھنے والا ہے ۔ اس نے اپنی تحریر کے حق میں بطور دلیل ہندوﺅں کی مذہبی کتاب ” یجر وید “ کے اشلوک نمبر30-18 کا حوالہ بھی دیا ہے۔
بھارت میں جاری ہندو جنون کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ ہندوستان میں تقریباً ایک ہزار سال مسلمانوں نے حکومت کی ۔ اگر وہ بھی اسی طرح کی اقلیت کش پالیسی اپناتے تو آج بھارت میں ہندو قوم اکثریت میں نہ ہوتی ۔ مگر بظاہر لگتا ہے کہ دہلی کے بالا دست طبقات اور جنونی حکمران تاریخ سے کوئی سبق سیکھنے کو تیار نہیں ۔ یوں آنے والے دنوں میں بھارت بدترین قسم کی خانہ جنگی کا شکار ہو کر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کو بڑے خطرے سے دو چار کر سکتا ہے ۔
٭٭٭٭

مودی کے منہ پر کالک

بھارت میں اس وقت عملی طور پر شیوسینا حکومت ہے ۔دراصل وہ سیاہی پھینک کر مسلمانوں کا منہ کالا نہیں کررہے بلکہ یہ تمام تر کالک مودی کے منہ پر ملی جارہی ہے ۔پوری دنیا اس وقت اس نام نہاد بڑھی جمہوریت والے ملک کا مکروہ چہرہ دیکھ چکی ہے کہ اس وقت وہاں پر صرف مسلمان ہی نہیں ہر اقلیت عتاب کے زیر اثر ہے ۔کھیل ہویا کوئی کلچرل پروگرام یا پھر ادبی پروگرام ہر میدان میں شیوسینا ہی شیوسینا نظر آرہی ہے ۔مودی کی آشیرباد کی وجہ سے یہ تعصب پسند ہندو بالکل ہی پاگل ہوچکے ہیں ۔بھارت کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف جارحیت واضح ہوکر سامنے آ رہی ہے ۔گذشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے مسلمان رکن اسمبلی انجینئر رشید پریس کانفرنس کے بعد ہال سے باہر آ رہے تھے کہ گیٹ پر انتہا پسندوں نے حملہ کر دیا۔انتہا پسندوں نے انجینئر رشید پر سیاہی پھینک دی اور تشدد کا نشانہ بھی بنایا ، اس موقع پر پولیس خاموش تماشائی بنی رہی جب انتہا پسند حملے کے لیے آگے بڑھے تو ان کو نہ روکا گیا۔صحافیوں نے آگے بڑھ کر انجینئر رشید کو بچایا اور ہال کے اندر لے گئے جبکہ پولیس صرف خاموشی سے سارا تماشا دیکھتی رہی۔واضح رہے کہ انجینئر رشید کو اس سے قبل بھی بی جے پی کے انتہا پسندوں نے اسمبلی میں تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔بات صرف یہاں تک ہی نہیں ٹھہری انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھارتی شدت پسند تنظیم شیو سینا کی دھمکیوں کے بعد علیم ڈار کو امپائرنگ سے ہٹا دیا ہے۔آئی سی سی نے پاکستانی امپائر علیم ڈار کو جنوبی افریقا اور بھارت کے درمیان جاری سیریز کیلئے منتخب کیا تھا۔ علیم ڈار اب اس سیریز میں امپائرنگ نہیں کر سکیں گے کیونکہ آئی سی سی نے خود ہی انھیں شیو سینا کی دھمکیوں کے بعد سیریز سے ہٹا دیا ہے۔ واضع رہے کہ بھارت کی انتہا پسندءہندو تنظیم شیو سینا نے دھمکی دی تھی کہ علیم ڈار کو بھارت اور جنوبی افریقا کے درمیان آخری ون ڈے میں امپائرنگ نہیں کرنے دی جائے گی۔ بھارت اور جنوبی افریقا کا پانچواں ون ڈے پچیس اکتوبر کو ممبئی میں شیڈول ہے۔ علیم ڈار بھارت میں 2011ء کا ورلڈ کپ بھی سپروائز کر چکے ہیں۔ بی سی سی آئی نے آئی پی ایل میں بھی تجربہ کار امپائر کی خدمات سے استفادہ کیا تھا۔اس پر مزید سونے پر سہاگہ یہ کہ بھارت نے خود چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور نجم سیٹھی کو دعوت دیکر بھارت بلایا کہ پاکستان اوربھارت کے درمیان کرکٹ میچز کے حوالے سے بات کی جاسکے لیکن یہ دونوں جب وہاں پر پہنچے تو ایسے لگا کہ شیوسینا کے کارندے پہلے سے ہی تیار کھڑے تھے وہاں پر انہوں نے ہلڑ بازی مچائی ۔پاکستان کیخلاف نعرے لگائے اوریہ ملاقات بھی منسوخ کرا دی ۔یہ بات تو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے کہ بھارت نے پہلے دن سے ہی پاکستان کو دل سے قبول نہیں کیا اور شروع ہی سے پاکستان اس کی آنکھوں کھٹکتا رہتا ہے مگردیگر ممالک کے کرکٹ میچز کے دوران بھی ان انتہاپسند ہندوﺅں نے ساﺅتھ افریقہ کے کھلاڑیوں پر بوتلیں پھینکیں ان کامیچ خراب کیا ۔سکھوں کی مذہبی کتاب کی بے حرمتی کی ۔مگر نامعلوم کیوں ابھی تک دنیا کی آنکھیں بند ہیں ۔انسانی حقوق کی تنظیمیں کہاں سوئی ہوئی ہیں ۔انہیں کچھ بھی نہیں نظر آرہاکہ بھارت میں کس طرح سرعام انسانی حقوق کو پامال کیاجارہا ہے ۔مگر کوئی بھی آواز اٹھانے والا نہیں جس دن سے نریندر مودی نے اقتدارسنبھالا ہے ۔اسی دن سے وہاں پر ہندو انتہاپسندوں نے اندھیرنگری مچا رکھی ہے ۔گاﺅ ماتا کے سلسلے میں تو وہ بالکل ہی حدیں کراس کرچکے ہیں۔گائے کا گوشت کھانا تو درکناراگرکوئی مسلمان گائے لیکر بھی جارہا ہو تواس پربھی تشدد کیا جاتا ہے ۔اب تو آن لائن گائے کا گوبر بھی بھارت میں فروخت کیاجارہا ہے اوراس کے صارفین میں دن بدن میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔بھارت کے ماہرین نے حکومت کو یہ مشورہ دیا ہے کہ اگر گائے کا گوبر اسی تیزی سے فروخت ہوتا رہا تو بیرونی دنیا سے مزید گائےں منگوانا پڑیں گی ۔ایک اورواقعہ درپیش آیا کہ جب کچھ پاکستانی وہاں پر اپنے خاندان کے ہمراہ گئے تو کسی بھی ہوٹل میں انہیں جگہ نہ ملی اورانہوں نے معصوم بچوں کے ہمراہ ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر رات گزاری ۔آخر بھارت کیا دکھاناچاہتا ہے ۔وہ دنیا کو کیاباورکرانا چاہتا ہے ۔پاکستان اس کے اعصاب پر سوار ہے ،مودی ہر روز اپنا ہی منہ کالک سے کالا کررہا ہے ۔دراصل اس کو پتہ چل چکا ہے کہ اب بھارت کی شکست وریخت کا وقت آن پہنچا ہے ۔وقت نے یہ فیصلہ کرلیا ہے کہ بھارت ٹوٹے گا وہاں پر خالصتان بھی بنے گا اور دیگر اقلیتیں بھی ابھر کر اس بھارت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیں گی ۔اس میںاہم کردار مودی ادا کررہا ہے ۔جس نے آگے شیوسینا کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے ۔کیا یہ دہشتگردی نہیں تو کیا ہے ۔مسلمان بھارت میں سب سے بڑی اقلیت ہے اور اس کے باقاعدہ حقوق ہیں جن کو غصب کیا جارہا ہے مگر بین الاقوامی سطح پر کوئی آواز اٹھانے والا نہیں ہر صرف سے بھارت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔مقبوضہ کشمیر جہاں اس نے ظلم وبربریت کے پہاڑ توڑ ڈالے ہیں وہاں پر بھی آئے دن جو بھی مظاہرے ہورہے ہیں ان میں سبزہلالی پرچم لہرایا جاتا ہے جو کہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیریوں کے دل پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور کشمیر پاکستان کااٹوٹ انگ ہے اوراس شہ رگ کو کسی صورت بھی پاکستان سے الگ نہیں کیا جاسکتا ۔آخر کار بھارت طاقت کے بل بوتے پر کب تک ظلم ڈھاتا رہے گا ۔مودی کے اقدام سے بھارت کا مکروہ چہرہ قطعی طور پر واشگاف ہوچکا ہے ۔

سیلفی ماسٹر

اس وقت ملک کے سیاسی حالات آئے دن ایک نئی کروٹ لے رہے ہیں ۔کبھی دھمکیاں ،کبھی درخواستیں ،کبھی ضمنی انتخابات ،کبھی الزامات،کبھی تسلیمات،عجیب چوں چوںکا مربہ بنا ہوا ہے ۔نہ جانے اس زمین پربسنے والے نا خدا کیا چاہتے ہیں ۔عوام تو بے چاری تباہ حال ہے ۔مہنگائی کی چکی میں اس بری طرح پِس رہی ہے کہ اسے دو وقت کی روٹی کا بھی نصیب ہونا بڑا مشکل نظر آرہا ہے ۔مگر وقت صدا ایک سا نہیں رہتا ۔ماضی میں جھانکا جائے تو اوپربیان کیے گئے حالات بالکل آئینہ دار ہیں ۔جب سے وزیراعظم نے عنان اقتدار سنبھالا پھر عوام سے جو وعدے وعید کیے ان میں خاصی حد تک عمل نظر آرہا ہے ۔چونکہ اس دور حکومت میں حکومت کی سب سے بڑا حاصل اقتصادی راہداری ہے جس نے دشمنوں کی نیندوں کو حرام کردیا ہے اورخاص کر پڑوس میں بسنے والا ”سیلفی ماسٹر“جو کبھی پیلے رنگ کے کرتے میں ہوتا ہے ،کبھی نیلے میں ہوتا ہے ،کبھی عینک لگاتا ہے ،کبھی ایسا لباس پہنتا ہے جس پر مودی مودی مودی ہی تحریر ہوتا ہے ۔ایک غریب تخریب کار بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ دہشتگرد ہے تو غلط نہ ہوگا ۔اس کو اقتدار کیا ملا ایسے محسوس ہوا کہ جیسے بندر کے ہاتھ ادرک چڑھ گئی ۔اس کا اس نے خوب ستیاناس مارنا شروع کیا ۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ بھارت کے اقتدار کامودی نے سوا ستیاناس کردیا ہے ۔انتہا پسندی اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ اگر کوئی پاکستان کا فنکار بھی وہاںچلا جائے تو اس کیخلاف وسیع پیمانے پر ہنگامے شروع ہوجاتے ہیں اورپھر مودی بعد میں آکر دکھاوا شروع کردیتا ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔بات صرف یہاں تک نہیں گائے کا معاملہ اس وقت اتنی اہمیت حاصل کرچکا ہے کہ اس کو بہانہ بنا کر ہندو انتہا پسندوں نے مسلمانوںکاقتل عام شروع کررکھا ہے ۔مودی نے پورے بھارت کو گجرات بنا لیا ہے ۔وہاں پر مسلمانوں پر ظلم کی انتہا ہوچکی ہے مگر پوری دنیا کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔کوئی آواز نہیں اٹھا رہا،مقبوضہ کشمیر میں تو نہتے کشمیریوں پر قیامت ڈھائی جارہی ہے اب تو وہاں کی عدالت نے بھی فیصلہ صادر فرما دیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں اور اس کی خود مختاری کو تبدیل نہیںکیا جاسکتا ۔مگر سیلفی ماسٹر کو کون سمجھائے ۔اس کے دماغ میں صرف پاکستان کی دشمنی اٹکی ہوئی ہے اور وہ اس کو ہر قیمت پر نبھانا چاہتا ہے ۔حالانکہ وزیراعظم نوازشریف کی بھارت کے حوالے سے پالیسی نے اس کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا ہے ۔اب بیرونی دنیا سے بھی کچھ ایسی آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی ہیں جس پر مودی کو سبکی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔وہاں پر کوئی بھی اقلیت کسی طرح محفوظ نہیں ۔گذشتہ دنوں ہندوﺅں نے سکھوں کی مذہبی کتاب کی بیحرمتی کی جس پر پورا پنجاب مظاہروں کی لپیٹ میں آگیا اوراب سکھوں نے دنیا بھر میں کال دی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے سامنے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کرنے کیلئے مظاہروں میں شریک ہوں تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ اس کا اصل کردار کیا ہے ۔خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلانے والا بھارت اقلیتوں کا قتل عام کررہا ہے ۔اس کی ان تمام حرکات وسکنات کے پیچھے مغربی قوتیں موجود ہیں اورخاص طور پر جہاں مسلمانوں کے مسائل درپیش آتے ہیں وہاں پر تو کفار متحد ہوجاتے ہیں ۔گائے کا گوشت کھانے کی بات تو دور کی ہے ،گائے لے جانے والوں پربھی زندگی تنگ کردی گئی ہے ۔اب ہندوﺅں نے سکھوں کی کتاب کی بے حرمتی کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے ۔وہ دن دور نہیں کہ جب جلد ہی بھارت میں ایک خالصتان بنے گا اوریقینی طور پر اس وقت بھارت کو سمجھ آئیگا کہ اس نے مودی کے دور میں کیا کیا غلطیاں کی ہیں ۔پاکستان کے سرحدی حالات کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے ۔آئے دن کی فائرنگ ان کا وطیرہ بن چکا ہے ۔نوازشریف حکومت نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن اس ایجنڈے میں کشمیر کا شامل ہونا بہت ضروری ہے ۔گذشتہ روز بھی مقبوضہ کشمیر میں سبز ہلالی پرچم کے ہمراہ احتجاج کیا گیا مگر شاید رنگ برنگی شخصیت کے مالک مودی اپنے ہی حصار میں کھویا ہوا ہے اور اس کو یہ واضح پیغام سمجھ نہیں آرہا کہ وہاں کے عوام کس کے ساتھ ہیں ۔انہیں حق خود ارادیت دلوانا اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے اور اس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ ترجیحی بنیادوں پر مسئلہ کشمیر کے حل کرائے ۔اقوام متحدہ سے خطاب کے دوران بھی وزیراعظم نے واضح سنگنل دیدئیے تھے کہ اس مسئلے کو حل کرانے میں کس کی زیادہ ذمہ داری ہے ۔بین الاقوامی قوتوں نے آنکھیں بند کررکھی ہیں مگر وہاں جو آزادی کا الاﺅ جل رہا ہے اس کو بجھانا ناممکن بات ہے ۔کشمیری بھارتی ظلم وستم سے آزادی لیکر رہیں گے ۔بھارت تقسیم ہوکر رہے گا اور بھارت کو شکست وریخت کرنے میں مودی اہم کردار ادا کرے گا ۔کیونکہ اس کے آنے کے بعد پورے خطے کا امن خطرے کا شکار ہوچکا ہے ۔یہاں پر ذرا سی بھی چنگاری کوئی بہت بڑا واقعہ رونما کرسکتی ہے ۔وزیراعظم نوازشریف کی کشمیر کے حوالے سے بہترین پالیسی کی وجہ سے بھارت کو دنیا بھر میں شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔۔

افغانستان کا استحکام ہی پاکستان کا استحکام

پاکستان اور افغانستان اےک اےسے مضبوط رشتے مےں بندھے ہوئے جسے دنےا بھائےوں کے رشتے سے تعبےر کرتی ہے ماضی مےں بھی اور آج بھی پاکستانی افغانوں کو اپنا بھائی سمجھتے ہےں لےکن ہمارے افغانی بھائی غےروںکی سازشوں کا شکار ہو کر آج پاکستان کو ناصرف بدنام کر رہے ہےں بلکہ وہ غےروں کا آلہ کار بن کر ہمےں کمزور کرنے کی سازش مےں پےش پےش ہےں۔ دونوں ملک اس حد تک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں کہ ان کے داخلی معاملات بھی ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہی ےہی وجہ ہے کہ پاکستان 35 سال سے افغانستان کے لئے قربانیاں دے رہا ہے۔تارےخ گواہ ہے کہ جب بھی افغانستان پر کڑا وقت آےا پاکستان نے اس کی بھر پور مدد کی پاکستان آ ج بھی لاکھوں افغانےوں کی محفوظ پناہ گاہ ہے جنھےں اس وقت پاکستان نے پناہ دی جب پوری دنےا ان سے نظرےں پھےرے ہوئے تھی ۔افغانستان اب اگر ترقی کی راہ پر گامزن ہے تو بلا شبہ اس کی ترقی مےں پاکستان اےک معاون کا کردار ادا کر رہاہے خطے کے دےگر ممالک کی نسبت پاکستان افغانستان کے لئے لازم و ملزوم ہے کےونکہ افغانستا ن کی جغرافےائی حالت اےسی ہے کہ اسے ہر جگہ پاکستان کی ضرورت پڑتی ہے ان تمام باتوں کے باوجود افغانستان پاکستان کی طرف سے اپنا ذہن صاف نہےں کر سکا اس کی دو وجوہات ہےں اےک تو ہمارا پڑوسی بھارت جس کے وہاں پر اپنے مفادات ہےں جو ےہ کھبی بھی نہےں چاہتا کہ افغانستا ن اور پاکستان ماضی کی طرح اسی محبت اور بھائی چارے کے رشتے مےں بندھ جائےں دوسرا وہ افغانستان مےں بےٹھ کر پاکستان کو کنٹرول کرنے کے خواب دےکھ رہا ہے انھےں حالات کو سامنے رکھتے ہوئے بھارت وہاں بڑے بڑے پروجےکٹس مےں سرماےہ کاری کر رہا ہے تاکہ افغانوں کے دلوں مےں اپنے لئے دوستی اور محبت کا رشتہ پروان چڑھا کر وہ اپنے مذموم مقاصد کی تکمےل کر سکے اس مےں افغانی مےڈےا اس کا آلہ کار بنا ہوا ہے ا فغان میڈیا کی جانب سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ مہم زوروں پر ہے کوئی بھی واقعہ ہوجائے بھارت کی طرح افغان مےڈےا بھی کہےں کہ کہےں سے اسے پاکستان سے جوڑ ہی لےتا ہے اےسی خبرےں دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد کی فضا کو بری طرح متاثر کرتی ہیں اور مفاہمت کی کوششوں پر منفی انداز سے اثر ڈالتی ہیں پاکستان کے خلاف وال چاکنگ ، مےڈےا پروپگنڈا سمیت نفرت پھیلانے کی جو مذموم کارروائیاں ایک منظم مہم کے انداز میں چلائی جارہی ہیں ےہ سب اسی ہندو کی سازش ہے بھارت ےہ نہےں جانتا کہ آخر کار افغانستان کو ہی اپنی ترجیحات اور آئندہ کے راستے کا تعین کرنا ہے جس کے لئے اسے ہر حال مےں پاکستان کی ضرورت ہے۔ افغانستان مےں چونکہ طالبان کا اےک لمبے عرصے تک اثر رسوخ رہا ہے اور اب بھی بعض علاقے ان کی عملداری مےں ہےں اےسے مےں اگر افغان طالبان کی طرف سے افغان حکومت کے خلاف کوئی زمےنی کاروائی کی جاتی ہے جس مےں کچھ علاقوں پر قبضہ کر لےا جاتا ہے تو افغانستان خواہ مخوہ کسی کہ کہنے پر اس مےں پاکستان کو گھسےٹ کر لے آتا ہے حالانکہ دنےا جاتی ہے کہ ےہ مسائل طالبان اور افغان حکومت کا اندرونی معاملہ ہےں اےسے مےں اگر افغان حکومت اےسے سوچتی ہے تو ا س سے باہمی برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے واقع قندوز جو کہ افغان سےکےورٹی کا لےپس کہا جائے ےا سےکےورٹی فورسسز کی ناکامی واقعے کے چند دن بعد اس کو پاکستان سے جوڑنا کسی بھی طور پر درست نہےں ہے اےسے مےں جب پاکستان مےں آپرےشن ضرب عضب اپنی پوری شدو مد سے جاری ہے اور قوی امےد ہے کہ اس سے ناصرف پاکستان بلکہ افغانستان مےں دہشت گردی ختم کرنے مےں بھر پور مدد ملے گی افغانستان کی طرف سے اےسے بے ڈھنگے الزامات سے ان اقدامات کو نقصان پہنچ سکتاہے جن کی وجہ سے آج خطہ دہشت گردی سے پاک ہو نے جا رہا ہے پاکستان اور افغانستان مےں ماضی مےں بھی کئی بار ےہ طے ہوا ہے کہ اےسی کوئی غلط فہمی ہوئی تو براہ راست رابطوں کے ذریعے اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے گی مگر اس کے برعکس اےسے معاملات کو میڈیا کے ذریعے اچھالا جاتا ہے اور بات کا بتنگڑ بناےا جاتاہے میڈیا کے ذریعے شکایات اور الزامات کا طریقہ کار ہرگز دوستوں کے درمیان نہیں ہوتا یہ طریقہ کار وہاں اختیار کیا جاتا ہے جہاں رنجش ہوتی ہے اور معاملات کو اچھالنا اور کشیدگی پیدا کرنا مقصود ہوتا ہے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی تعلقات میں ہرگز رنجش نہےں ہے کہ میڈیا کا سہارا لیا جائے اور معاملات کو بگاڑ کی طرف لے جاےا جائے ۔ےہ بات دونوں ملکوں کو ےاد رکھنی چاہےے کہ کچھ دوست نماءدشمن ہےں جوافغان دوستی کا دم بھرتے ہےں لےکن در پردہ افغانستان اور پاکستان مےں دراڑ ڈالنے کی کوشش مےں ہےں بہرحال یہ امر خوش آئند ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات کی ضرورت کا احساس کیا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کسی بھی واقعہ کی صورت میں ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور بیان بازی سے گریز کیا جائے گا اور براہ راست ملاقاتوں اور رابطوں کے ذریعے کسی قسم کی غلط فہمی اور ابہام کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی جہاں تک افغانستان کی بہتری کا تعلق ہے پاکستان اس کے لئے بھرپور کوششیں کرنے کا عزم رکھتا ہے افغان عوام کی طرح پاکستانی عوام کی بھی یہی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام ہو کیونکہ افغانستان کا استحکام ہی دراصل پاکستان کا استحکام ہے۔

افغان بھارت گٹھ جوڑ پاکستان کے لئے خطرناک

ترجمان دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان نے بلوچستان و فاٹا میں بھارت کی مداخلت اور تحریک طالبان پاکستان کی مدد کے بارے میں تین ڈوزیئر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے حوالے کئے ہیں۔ اب یہ ثبوت امریکہ کو دیئے جائیں گے۔ بھارت کی طرف سے پاکستان پر دہشت گردی کے الزامات ہمیشہ جھوٹے نکلے۔ عالمی برادری جانتی ہے کہ بھارت کے ریاستی ادارے ہمسایہ ممالک اور پاکستان میں عدم استحکام کا شکار کرنے اور دہشتگردی پھیلانے میں ملوث ہیں۔
تازہ صورتحال یہ ہے کہ نئی دہلی میں رہنے والا افغان شہری آزاد بلوچستان کے لئے رائے عامہ ہموار کر رہا ہے جو کہ بھارتی حکومت کی پشت پناہی کے بغیر ممکن نہیں۔ پارولی نامی افغان شہری کا معاملہ افغانستان کی حکومت سے اٹھایا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ بھارت میں بسنے والا اس کا شہری پاکستان میں دہشت گردی کو ہوا نہ دے سکے۔بھارت اپنی سرزمین پر دہشت گردی کے واقعات کا ڈرامہ رچا کر پاکستان کو بدنام کرتا ہے۔ بھارت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنی چاہیے۔پاکستان پر عسکریت پسندوں کی حمایت کا افغان الزام بے بنیاد ہے۔ اپنی سرزمین افغانستان سمیت کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کیلئے پرعزم ہیں۔ پارولی نامی شخص افغان باشندہ ہے۔ افغان حکومت سے توقع ہے کہ وہ یہ معاملہ بھارت کے سامنے اٹھائے گی۔
وزیراعظم نوازشریف نے چند روز قبل کہا ہے کہ پاکستان افغانستان میں مذاکرات کیلئے کوششیں کر رہا ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن و سلامتی کی حمایت کرتا ہے اور پاکستان نے مذاکرات کے پہلے دور میں سہولت دی اور اگر افغانستان کی خواہش ہو تو دوسرے دور میں مدد کیلئے تیار ہے۔ افغانوں کے درمیان مذاکرات افغانستان میں پائیدار امن کیلئے آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔افغانستان کے یہ الزامات بے بنیاد ہیںکہ پاکستان افغان طالبان کی مدد کر رہا ہے۔ کابل کے امور میں عدم مداخلت پاکستانی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔
بھارت پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کیلئے ہر حربہ آزماتا ہے۔ افغانستان کے ذریعے بلوچ علیحدگی پسندوں کی مالی اور اسلحی مدد کی جاتی ہے۔ افغانستان میں بھارت کے قونصل خانے دہشتگردوں کی تربیت کا کام کرتے ہیں۔ کراچی میں بھارت کی مداخلت ثابت ہو چکی ہے پاکستان نے بھارت کی پاکستان میں دہشتگردوں کی پشت پناہی کے ثبوت اقوام متحدہ کو پیش کر دیئے ہیں۔ بھارت کالاباغ ڈیم کی مخالفت کیلئے ہر سال فنڈز مختص کرتا ہے۔ پاک چین راہداری کیخلاف ”را“ بھی متحرک ہو چکی ہے۔ بھارت پاکستان کیخلاف وسیع نیٹ ورک کے ساتھ مصروف عمل ہے۔بھارت بے شک کراس بارڈر دہشت گردی کا پروپگنڈا کرتا رہے مگر شواہد اس کے برعکس ہیں۔ بھارت و پاکستان کی ہی نہیں بلکہ دنیا اور خطے کی بھی یہ کم نصیبی ہے کہ بھارت کا وزیراعظم ایک ایسا شخص ہے، جو دنیا کا تسلیم شدہ انتہا پسند اور دہشت گرد ہے۔ ایسے آدمی سے خیر کی توقع کیا ہے؟
بھارتی و افغان خفیہ ایجنسیاں مل کر پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا رہی ہیں۔ شاطر بھارت نے افغانستان کے ساتھ مل کر پاک افغان سرحد کے قریب فرقہ وارانہ دہشت گردی کے لئے ٹریننگ کیمپ بنائے۔ شدت پسند مذہبی گروہوں کے جنگجو دہشت گردوں کو نہ صرف دہشت گردی کی ٹریننگ دی بلکہ انھیں ٹارگٹ بھی دیئے گئے۔ہم نے سوات میں ملا صوفی محمد اور مولوی فضل اللہ جیسے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا۔ مگر افغان حکومت نے انہیں پناہ دی۔
سانحہ پشاور کے بعد افغان صدر کو بتایا گیا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی نہ صرف افغانستان میں ہوئی بلکہ ہمارے مجرم بھی افغانستان میں پناہ گزین ہیں، انھیں فوراً ہمارے حوالے کیا جائے۔ افغان صدر نے وہی سفارتی جوابات دیا کہ ہم اپنی سرزمین کسی بھی ملک اور بالخصوص برادر اسلامی ملک پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ یہ مگر سفید جھوٹ ہے۔پاکستان کے اندر فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے لئے جو آگ برساتی ہوائیں آئیں، وہ افغانستان سے ہی آئی ہیں۔ پاکستانی ریاست کے مخالف عناصر دھائیوں سے افغانستان میں نہ صرف پناہ گزین ہیں بلکہ وہاں انھیں باقاعدہ دہشت گردی کی ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ افغان صدر ایک طرف کہتے ہیں کہ ہم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے تو دوسری طرف ملا فضل اللہ کو پناہ دینے سے لے کر سپاہِ صحابہ، لشکر جھنگوی اور بلوچ علیحدگی پسند تنظیموں کی محفوظ پناہ گاہ افغانستان ہی رہی، اب بھی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ سانحہ بڈھ بیر حملے میں ملوث دہشت گرد ماسٹر مائنڈ کا تعلق افغانستان سے ہے۔جس کا سراغ لگا لیا گیا وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ افغان حکام کو یہ شواہد دیں گے کہ سرغنہ افغانستان میں تھا، ہم نے اپنی طرف کو کنٹرول کیا ہے، جنگجو دوسری طرف ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ آج کل افغان صدر اشرف غنی کے منہ میں موددی کی زبان ہے؟ افغانستان یا بھارت میں پٹاخہ بھی پھٹ جائے تو بلا جھجک دونوں ممالک الزام پاکستان پر لگا دیتے ہیں، مگر افغانستان یہ بھول جاتا ہے کہ لاکھوں افغانیوں کو پاکستان نے اپنے ہی شہریوں کی طرح کی سہولیات دے رکھی ہیں؟ پاکستان کے شہر کراچی سے لے کر کوئٹہ تک اور کوئٹہ سے لے لاہور و پشاور سمیت ہر بڑے شہر میں ہونے والی دہشت گردی کی واردات کے تانے بانے ”را اور افغان خفیہ ایجنسی“ سے جا کر ملتے ہیں۔ طے شدہ بات تو یہی ہے کہ کئی ایک خطرناک دہشت گردوں نے پاکستان میں دہشت گردی کے لئے دہشت گردوں کو افغانستان میں ٹریننگ دی، جبکہ را نے مالی و تکنیکی معاونت کی۔بے شک پاک افغان بارڈر طویل ہے، مگر پاکستان اب ڈرون بنا چکا ہے، اسے مزید بہتر کرکے پاک افغان سرحدی نقل و حرکت کو بہتر کیا جاسکتا ہے۔ ہماری پہلی ترجیح بھارت اور افغانستان کا پاک مخالف مکروہ گٹھ جوڑ توڑنا ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہے، جب دیگر اقدامات کے ساتھ ساتھ شہروں میں چھپے دہشت گردوں کے وائٹ کالر ہمدردوں پر بھی ہاتھ ڈالا جائے۔ پوری قوم پاک فوج کے ساتھ ہے اور ملک میں امن چاہتی ہے۔ پاک فوج پاکستانی عوام کی مدد اور حمایت سے مٹھی بھر دہشت گردوں اور ان کے وائٹ کالر ہمدردوں کو ناکوں چنے چبھوا دے گی۔

Google Analytics Alternative