کالم

عمران کے بعد؟

عمران کی مقبولیت میں کلام نہیں۔وہ ایک امید،ایک آرزو اور ایک خواب بن کر لوگوں کے دلوںمیں یوں گھر کر چکے ہیں سورج کی کرن جیسے سیپ کے دل میں اتر جایا کرتی ہے۔یہ دور عمران خان کا دور ہے اور وقت ان کی مٹھی میںہے۔دیگر سیاسی جماعتوں کا حال اس وقت وہی ہے جو فاتح لشکر کے گذر جانے کے بعد پامال بستیوں کا ہوا کرتا ہے۔آگ،دھواں،نوحے۔مگرسوال ایک اور ہے۔اس نظام کو تو عمران نے بے وقعت کر دیا۔غلامی پر رضامند لوگ برف اوڑھے جی رہے تھے، عمران نے ان کے من میں خوابوں کی حدت بھر کر انہیں انگارہ بنا دیا۔اب کل کو خود عمران بھی ناکام ہو گئے تو کیا ہو گا؟عمران کے ٹائیگروں پر جب شاہ محمود قریشی،علیم خان،خان سرور خان،اسد عمر اور جہانگیر ترین کھلیں گے تو یہ ٹائیگر کہاں جائیں گے؟اسی پرانے فرسودہ نظام کی آغوش میں پناہ لیں گے یا ان انگاروں سے ایک ایسی داعش وجود میں آ جائے گی جس کی حدت سے نہ کوئی بلاول ہاﺅس اور رائے ونڈ بچے گا نہ ہی کوئی بنی گالہ؟
’نومولود سول سوسائٹی‘، جو صرف بیوٹی پارلر اور ٹی وی سٹوڈیوز میں پائی جاتی ہے،اپنے ہم نوا سینیئر تجزیہ کاروںسمیت پریشاں ہے کہ نیلسن منڈیلا بقلم خود ملتان سے الیکشن کیسے ہار گیا۔لوئر مڈل کلاس سے آسودگی کی دنیا میں داخل ہونے والی یہ لیپ ٹاپ صحافت اگر جان کی امان دے تو عرض کروں آپ باغی کو روتے ہیں اس وقت آپ کے وہ’ قائدین انقلاب‘بھی آجائیں، جن کے دستر خوانوں پر آپ کے معدے کسی ناجائز تجاوزات کی طرح برسوں سے پڑے ہیں ،توعمران کے سونامی میں خس کی طرح بہہ جائیں۔لوگ آج عمران کی محبت میں پگھل رہے ہیں تو اس کی وجہ نہ جنرل پاشا ہیں نہ اسٹیبلشمنٹ۔نظام سے نفرت ہے اور اوپر سے اللہ نے اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ڈالنا شروع کر دی ہے۔جاوید ہاشمی اور سعد رفیق مل کر پریس کانفرنس تو کر سکتے ہیں ،لوگوں کے دلوں سے اب عمران کی محبت نہیں نکال سکتے۔کتنے گھرانوں کو میں جانتا ہوں والد کسی اور جماعت میں لیکن بیوی اور بچے پی ٹی آئی میں۔نصف درجن اینکروں کو جانتا ہوں ٹاک شو میں عمران خان پر تنقید کریں تو بیٹیوں اور بیٹوں کے ایس ایم ایس انہیں وہیں سیٹ پر موصول ہونا شروع ہو جاتے ہیں:”بابا عمران کے خلاف نہیں۔۔۔“۔نئی نسل کے نئے خواب ہیں۔بوسکی کی پوشاکوں ،کاٹن کے اکڑے ہوئے مردود ملبوسات اور کنگروں والی مونچھوں کا اب زمانہ نہیں رہا۔رعونت بھرے لہجے اور واسکٹوں سے جھانکتی توندیں نفرت کی علامت بن چکی ہیں۔عمران کے جلسوں پر کوئی جتنی مرضی تنقید کر لے یہ حقیقت ہے کہ وہاں فیملیاں جاتی ہیں۔بیٹے اور بیٹیاں جاتی ہیں ، بھائی اور بہنیں جاتے ہیں،مائیں جاتی ہیں۔یہ ماحول اور کہیں نہیں ہے۔کیا یہ ماحول جنرل پاشا نے بنایا ہے؟ابھی کل کی بات ہے میری تین سال کی بیٹی عائشہ گنگنا رہی تھی:’ چلو چلو عملان کے ساتھ‘، اب کیا جنرل پاشا نے اسے کہا تھا کہ بیٹا ایسے کہو گی تو میں آئی ایس آئی کے خفیہ فنڈ سے تمہیں چاکلیٹ لے کر دوں گا۔
غیر معمولی محبتیں ہیں جو قدرت نے عمران کی جھولی میں ڈال دی ہیں۔ان محبتوں کے ساتھ ساتھ اب ذمہ داریوں کا غیر معمولی بوجھ بھی عمران خان کے کندھوں پر ہے۔یہ جو لوگ آج عمران کے ساتھ کھڑے ہیں ان میں اکثریت ان کی ہے جو اس نظام سے تنگ آ چکے ہیں اور نفرت اور رد عمل میں ان کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں تھاکہ عمران خان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔رفاقت پھر محبت کو جنم دے دیتی ہے اور محبتیں اس وقت عمران کا گھر دیکھ چکی ہیں۔اس وقت دور دور تک ان کا کوئی مد مقابل نہیں۔اس وقت عمران سے خیر خواہی کا تقاضا یہ ہے کہ پوری شدت سے ان پر تنقید کی جائے۔جمہوری نظام کے اندر رہ کر تبدیلی کی وہ آخری امید ہیں ۔یہ امید ٹوٹنی نہیں چاہیے۔یہ امید ٹوٹ گئی تو پھر گلی کوچوں میں داعش بنے گی۔پھر ڈی چوک پر ترانے نہیں بجیں گے مقتل آباد ہوں گے،پھر رقص نہیں ہو گا گردنیں کٹیں گی۔
عمران خان نے اس نظام کے خلاف نفرت کو اس حد تک پہنچا دیا ہے جہاں سے اب واپسی کا کوئی امکان موجود نہیں۔اب وقت کا پہیہ پیچھے کو نہیں مڑ سکتا۔نظام کے خلاف اس نفرت کے ساتھ ساتھ اگر عمران خان نے کے پی کے کے تجربے کو کامیاب کرنے پر بھی غیر معمولی توجہ دی ہوتی تولوگوں کے سامنے متبادل ایک عملی شکل میں بھی موجود ہوتا۔سچ یہ ہے کہ کے پی کے میں تحریک انصاف ابھی تک کوئی کارنامہ انجام نہیں دے سکی اور اس کی ساری مقبولیت عمران خان کے شخصی سحر کی مرہونِ منت ہے۔کے پی کے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہو سکا جس کی بنیاد پر تحریک انصاف کامیاب متبادل کا دعوی کرے۔ایسے میں عمران خان کامیاب ہوتے ہیں ، جس کا واضح امکان ہے، تو تھوڑے ہی عرصے میں ان کے چاہنے والے ان پوچھنا شروع کر دیں گے کہ آپ کی کارکردگی کیا ہے؟ کیا عمران خان کی ٹیم اس سوال کا جواب دے پائے گی؟میں معافی چاہتا ہوں لیکن میرے نزدیک اس سوال کا جواب نفی میں ہے۔عمران خان کو اس پہلو پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔اپنے وابستگان کی اخلاقی تربیت پر بھی عمران خان کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ہیجان اور دشنام سے قوموں کی تعمیر نہیں ہوتی اس کے لیے کردار سازی کرنا پڑتی ہے۔عمران نے دھرتی میں جو خواب بو دیے ہیں ان کی تعبیر ایک نہایت ہی مشکل کام ہے۔ان کے ساتھ جو ٹیم اس وقت کھڑی ہے ، الا ماشاءاللہ، ان سب کی جان اس نظام کی خرابیوں میں ہے اور یہ اس نظام کو گالی دے کر اصل میں اس نظام میں سے اپنا حصہ وصول کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے صرف طریقہ واردات بدل لیا ہے۔اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شیخ رشید، شاہ محمود قریشی، جہانگیر ترین، اسد عمر، علیم خان اور خان سرور جیسوں کے ساتھ عمران خان ایک انقلابی نظام متعارف کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے تو اسے جان لینا چاہیے اس کا خواب بہت جلد چکنا چور ہونے کو ہے۔عمران خان نے اس پہلو پر سارے درد دل کے ساتھ توجہ نہ دی تو ان کی حکومت ن لیگ اور پی پی پی کی حکومتوں سے اتنی ہی اچھی اور مختلف ہو گی جتنے عامر ڈوگر جاوید ہاشمی سے، سرور خان چودھری نثار سے،علیم خان سعدرفیق سے اور شاہ محمود قریشی خواجہ آصف سے اچھے اور مختلف ہیں۔یہ فرق عمران کے وابستگان کو متاثر نہیں کر سکے گا۔موجودہ نظام اور موجودہ حکمران اپنا بھرم تیزی سے کھوتے جا رہے ہیں۔اس نظام کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی کی واحد امید لوگوں کو عمران کی صورت میں نظر آ رہی ہے۔جس روز عمران ناکام ہو گئے اس روز مجھے ڈر ہے کہ رد عمل میں ہر گلی کوچے میں داعش وجود میں آئے گی۔وہ سونامی اٹھے گا کہ سب کچھ بہا لے جائے گا، بنی گالہ بھی۔اور وہ سونامی ہمارے ٹاک شوز میں آ کر ہمیں یہ بھی بتانا پسند نہیں کرے گا کہ اس کی لہریں تہتر کے آئین کے تناظر میں کس حد تک جائز ہیں۔اس سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے: عمران خان لوگوں کی امیدوں کو ٹوٹنے سے بچانے کے لیے اپنی جماعت کی کردار سازی اور اس کے اخلاقی وجود پر توجہ دیں۔لیکن کیا عمران خان یہ کر پائیں گے؟۔۔۔۔اس سوال کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور اقوام متحدہ کا دوغلہ پن

کشمیر تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈا ہے ۔برصغیر کی تقسیم محض ایک اتفاق نہیں تھا بلکہ جان بوجھ کر پاک بھارت کے درمیان محاز آرائی کی وجہ چھوڑی گئی جو کہ تاج برطانیہ کے منہ پر تمانچہ ہے۔آج مقبوضہ کشمیر کے لوگوں پر جو ظلم ہو رہا ہے اس کا ذمہ دار برطانیہ ہے۔اگر 1947ءکوبرطانیہ برصغیر کی تقسیم منصفانہ کر دیتا تو ظالم بھارتی فوج کے ہاتھوںایک لاکھ معصوم کشمیریوں کا خون نہ بہا ہوتا،آئے روز توہین زدہ نوجوان خواتین کے وجود دریائے جہلم کی لہروں کیساتھ بہتے پاکستانی علاقوں میں نہ آتے،بھارتی ظالم فوج کے ہاتھوں80ہزارسے زائد خوتین بیوہ ہونے سے بچ جاتیں،10ہزار سے زائد خواتین بھارتی درندوں کے ہاتھوںعصمت دری کا شکار نہ ہوتیں،10ہزار سے زائد کشمیریوں کو بھارتی درندہ صفت فوج ظالم پولیس کے ساتھ ملکر لاپتہ نہ کرتی،اگر برطانیہ میں تھوڑی بھی غیرت ہوتی تو وہ چُلو بھر پانی میں ڈوب مرتا ۔مقبوضہ کشمیر میں جتنا ظلم ہو رہا ہے اس کی وجہ سے تو برطانیہ کو راتوں کو نیند نہیں آنی چاہئے تھی لیکن الٹا عالمی برادری کیساتھ ملکر کشمیر کے معاملے پر بھارت کی مدد کرناانگریزوں کی سوچ کا عکاس ہے ،ریڈ کلف ایوارڈ کی بدنیتی تھی ےا تاج برطانیہ کی سوچی سمجھی سازش تھی لیکن کشمیریوں کی زندگی کو بھارتی بربریت کے سپرد کر دیاگیا۔جہاں تک بات ہے اقوام متحدہ کی تو وہ جس کا کھائے گا اسی کے گن گائے گا،اقوام متحدہ کے 50فیصد فنڈز کہاں سے آتے ہیں جب ہمیں یہ معلوم ہو جائے گا تو سارے کا سارا کھیل ظاہر ہو جائے گا۔سوڈان میں تو راتوں رات ریفرنڈم کے ذریعے اقلیوں کو حقوق دے دئیے جاتے ہیں لیکن ظلم کی تاریخ رقم ہونے والی جگہ مقبوضہ کشمیر آج بھی اقوام متحدہ کے اسی کی قراردادوں کے مطابق حل کا منتظر ہے۔لیکن اقوام متحدہ کشمیریوں کو انصاف دلاتا نظر نہیں آتاحالانکہ اقوام متحدہ کو سمجھنا چاہئے کہ اس سے پہلے بھی دنیا کا نظام چل رہا تھا۔دنیا کے مسائل اقوام متحدہ کے بغیر بھی حل ہو رہے تھے اور شائد اچھے حل ہو رہے تھے۔کیونکہ جس اقوام متحدہ کی موجودگی میں بوسنیا کے مسلمان غیر محفوظ ہوں،فلسطینیوں پر اسرائیل بربریت کی انتہا کر رہا ہو،کشمیر میں خون کی ندیاں بہائی جا رہی ہوں،افغانستان کو جنگی ماحول میں دھکیل دیا ہو،عراق جیسے پرامن ملک میںدہشتگردی کا راج ہو،لیبیا اور شام کو مسلسل جاری جنگ کی نذر کر دیا گیا ہو،طالبان،القائدہ اور داعش جیسی تنظیموں نے جنم لیا ہو اور ان تمام سازشوں کا شکار ہونے والے کوئی اور نہیں بلکہ صر ف اور صرف مسلمان ہوںتو پھر ایسے ادارے کی ساکھ کو متاثر ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔معاشرہ میں ظلم ہو تو وہ قائم رہ سکتا ہے لیکن جس معاشرے میں ناانصافی ہو اس معاشرے کا وجود ختم ہونا طے ہو جاتا ہے۔اقوام متحدہ بھی ناانصافی سے بھرپور معاشرے کی مانند ہو چکا ہے۔آج فلپائن نے اقوام متحدہ سے نکلنے کی دھمکی دی ہے اگر اس روش نے زور پکڑا اور ایشاءنے اپنا ادارہ بنا لیا تو یورپ اور امریکہ سے انتقام لینے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ وہ خود ہی خوراک کی قلت سے صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے اس لئے اقوام متحدہ اور عالمی برادری ہوش کے ناخن لے اور مسلمانوں پر ظلم بند کر کے انھیں حقیقی آزادی دلانے میں کردار ادا کرے ورنہ بوسنیا، فلسطین، افغانستان، عراق، شام اور کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی تو انکا مقدر ہے ہی لیکن اس کے بعد عالمی برادری کہاں کھڑی ہو گی اس بارے بھی سوچنا چاہئے۔کیا عالمی برادری اور اقوام متحدہ کو نظر نہیں آرہا کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 45روز سے بھارتی فوج نے کرفیو لگا رکھا ہے جس کی وجہ سے وہاں پر خوراک کی قلت کے باعث بچے بھوک سے بلک رہے ہیں۔گھر میںبھوک اور کھانے کیلئے بھارتی فوج کی گولیاںہیں،مگر آفرین ہے بہادر کشمیریوں کی ہمت پر جو ظلم کی انتہا کے باوجود بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوا رہے ہیں۔سخت کرفیوکے باوجود مقبوضہ کشمیر کی سڑکیں احتجاجی مظاہرین سے بھری پڑی ہیں جنہوں نے پاکستانی پرچم اٹھا کر بھارت کو اپنا فیصلہ سنا دیاہے۔پاکستان نے جب بھی مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی آواز کو بلند کیا ہے تو بھارت اس کیخلاف سرگرم ہو جاتا ہے اور کراچی اور بلوچستان کے زریعے پاکستان میں دہشتگردی شروع کروا دیتا ہے۔بغل میں چھری اور منہ میں رام رام کا راگ الاپنے والا دنیا کا منافق ترین ملک بھارت ایک طرف تو کشمیر میں اپنے ظلم کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے اور دہشتگردی کیخلاف مذاکرات پر زور دیتا ہے تو دوسری طرف افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشتگردی کیلئے اپنی جڑیں مضبوط سے مضبوط کر رہا ہے۔تازہ صورتحال کے مطابق پتا چلا ہے کہ بھارت دنیا بھر میں مقیم بلوچوں کوفنڈنگ کر کے بلوچ آپریشن کے نام سے ایک خفیہ منصوبہ بنا رہا ہے جس کی ماسٹر مائینڈ بدنام زمانہ کلبھوشن یادیو جیسے لوگوں سے اٹی بھارتی خفیہ ایجنسی راءہے اور اس مقصد کیلئے کینیڈا میں مقیم 25سالہ بلوچ نوجوان مجدک دلشاد کو استعمال کیا جا رہا ہے جو کہ اپنی بیوی کے ہمراہ گزشتہ کئی دنوں سے بھارت میں مقیم ہے۔خیر پاکستان اس سازش کا بھی اچھی طرح نپٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور نپٹ بھی لے گا۔ایک طرف تو بھارت پاکستان کیخلاف دہشتگردی میں ملوث ہے تو دوسری طرف بلوچوں کی فنڈنگ میں بھی ملوث ہے تاکہ بلوچستان کو کسی طرح الگ کیا جائے اور پھر جب پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی آواز بلند کرتا ہے تو بھارتی فوج کے ہاتھوں کئے جانے والے خراب حالات کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہرا دیتا ہے۔اب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کوئی پوچھے اگر کشمیر میں پاکستان کی وجہ سے حالات خراب ہیں تو شمال مشرقی ہند میں واقع آسام میں یونائیٹڈ لبریشن فرنٹ کیا کر رہا ہے اور وہاں تحریک آزادی کیوں عروج پر ہے،بھارتی ریاستوںتریپورہ، میگلیا، مزورام، ناگالینڈ، بوڈولینڈ، ڈریویڈ اناڈو ، ناگالم،اروناچل پردیش میں قائم تریپورہ ٹائیگر فورس،نیشنل لبریشن فرنٹ آف تری پورہ،ہنی ویترپ نیشنل لبریشن کونسل،آرنچل ڈریگن فورس،میزونیشنل فرنٹ ،آل بوڈو سٹوڈنٹس یونین،نیشنل سوشلسٹ کونسل آف ناگالینڈ سمیت مختلف مسلح تنظیموں کو کس کی مدد حاصل ہے،خالصتان تحریک کیوں دوبارہ زور پکڑ رہی ہے،مودی صاحب اپنے گھر کو ٹھیک کریں اور دوسروں پر الزام نہ دیں ایسا نہ ہو کہ چند سال بعد بھارتی فوج کے ظلم کے باعث بھارت کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہو جائے۔ کو ئی برہمن ، سیکولزازم ، سوشلزم، کیمونزم اور نیشنل ازم انسانیت کو بام عروج تک پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا یہ صلاحیت صرف دین کامل اسلام ہی کے پاس ہے جو کل انسانیت کو آگ کے گڑھے سے نکال کر پرامن راہوں پر ڈال دے۔

قائد اعظم اور افواج پاکستان

افواج پاکستان ہماری آزادی اور بقاء کی ضامن کے ساتھ ساتھ ہمارے قومی وقار کی علامت ہیں۔ افواج پاکستان کی اہمیت اور ضرورت کوجبار مرزا نے اپنے الفاظ میں انتہائی موثر اور مدلل انداز میں پیش کیا ہے۔ جی ہاں میں بات کر رہا ہوں صحافی و ادیب جبار مرزا کی نئی تصنیف ”قائد اعظم اور افواج پاکستان“ کی جس میں قائد اور افواج پاکستان کے درمیان رشتے کو اجاگر کیا گیا ہے۔ کتاب میں افواج پاکستان کی مختلف مواقع پر کھینچی گئی نایاب تصاویر بھی ہیں۔ جبار مرزا نے کتاب کا انتساب آرمی پبلک سکول پشاور کے بچوں کے نام کیا ہے ۔ عرض مصنف میں جبار مرزا نے لکھا ہے کہ قائد اعظمؒ فوج کو بہت عزیز رکھتے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ وہ ایسا پاکستان چاہتے تھے جس کی افواج بہترین اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں سے مزین ہوں۔ قیام پاکستان کے وقت انگریز اپنی فوج کی تقسیم نہیں چاہتے تھے اور نہ ہی نہرو مگر قائد کی ہمت، آہنی عزم اور حوصلے کے سامنے انگریز و ہندو سازش ناکام ہوئی اور انڈین فوج تقسیم ہوئی۔ کتاب کے ہر باب میں جبار مرزا نے نئی نسل کو قائداعظم ؒکی تعلیمات اور اصولوں پر عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔ آج کل ہمارے ہمسائے ہماری آزادی اور بقاءکے درپے ہیں۔ اس وقت ہماری فوج کی قربانیوں کو قوم کے سامنے پیش کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔ ہماری مسلح افواج نے قیام پاکستان کے وقت نامساعد حالات میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے قائد اعظمؒ کے اصولوں کو ہمہ وقت تھامے رکھا اورآج الحمداللہ، ان کا شمار دنیا کی بہترین افواج میں ہوتا ہے۔ وہ اپنی بہادری اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے اعتبار سے ایک منفردا ور ممتاز حیثیت رکھتی ہیں بلکہ جدت اور ماڈرن ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی منزل حاصل کرچکی ہیں۔ پاکستان کے پاس کیا نہیں ہے۔ وہ ایک ایٹمی قوت ہے۔بہترین میزائل سسٹم، اپنے ہاں تیار کردہ جدید ترین ٹینک، کارکردگی میں ایف 16 کا مقابلہ کرتے جے ایف تھنڈر طیارے اور آگسٹا آبدوزیں جس سے ہمارے دشمنوں کے دل دہل جاتے ہیں اور خاص طور پر مسلح افواج جو اپنی اعلیٰ تریبت کی وجہ سے ان ہتھیاروں کو استعمال کر رہی ہے۔ یہ قائد ؒ کے رہنما اصولوں اور ان کے افواج کے ساتھ پیار محبت کا نتیجہ ہی ہے۔ قائد اعظمؒ نے 23 جنوری 1948 کو کراچی میں بحریہ کے جہاز دلاور کے افتتاح کے موقع پر اپنے خطاب میں قائد اعظم نے فرمایا تھا، ”آپ اپنی کم تعداد ہونے پر فکر نہ کریں اس کمی کو آپ کو ہمّت، استقلال اور بے لوث فرض شناسی سے پورا کرنا پڑے گا کیونکہ اصل چیز زندگی نہیں ہے بلکہ ہمّت، صبروتحمل اور عزم صمیم ہیں جو زندگی کو زندگی بنا دیتے ہیں“۔ قائد اعظم نے 8 نومبر 1947 کو افواج پاکستان سے خطاب میں فرمایا تھا۔ ”مجھے یقین ہے کہ ہم ان مشکلات اور خطروں سے کامیابی سے گزر جائینگے۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ سب لوگ مکمل اتحاد، باہمی تعاون سے کام کریں اور ان خطروں کا مقابلہ کریں جو آج ہمیں درپیش ہیں“۔ آپ نے 21 فروری 1948 کو کراچی میں افواج پاکستان سے خطاب میں فرمایا۔ ”اب آپ کو اپنی پاک سرزمین میں اسلامی جمہوریت، اسلامی معاشرتی انصاف اور انسانی مساوات کے اصولوں کے احیاءاور فروغ کی پاسبانی کرنی ہے۔ اس اہم کام کیلئے آپ کو ہمہ وقت ہمہ تن تیار اور ہوشیار رہنا پڑے گا۔ آرام کرنے کا موقع ابھی نہیں آیا ہے، ایمان، تنظیم اور فرض شناسی کے زرّیں اصولوں پر کاربند رہیں تو کوئی شے ایسی نہیں جس کو آپ حاصل نہ کرسکیں“۔ 14جون 1948 ءکو کوئٹہ میں اسٹاف کالج کے افسروں سے خطاب میں افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔ ”پاکستان کی دیگر ملازمتوں کے مقا بلے میں دفاعی افواج کی بہت اہمیت ہے اور اسی نسبت سے آپ کی ذمہ داریاں بھی زیادہ ہیں۔ میں نے جو کچھ دیکھا اور معلوم کیا ہے اس کی بنا پر بلا شبہ کہہ سکتا ہوں کہ ہماری افواج کے حوصلے قابل فخر ہیں۔ ان کی ہمتیں بلند ہیں اور سب سے اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ہر افسر اور سپاہی خواہ کسی فرقہ یا نسل کا ہو سچے پاکستانی کی طرح کام کررہا ہے۔ اگر آپ اسی جذبہ سے سچے رفیقوں اور سچے پاکستانیوں کی طرح بے غرضی سے کام کرتے رہیںتو پھر پاکستان کو کسی بات کا ڈر نہیں“۔ جبار مرزا کی یہ کاوش نہایت قابل تحسین ہے۔نہ صرف تمام کیڈٹ کالجوں کے طلباءبلکہ تمام سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے طلباءکیلئے ضروری ہے کہ وہ اس کا بغور مطالعہ کریں اور اس سے استفادہ کریں۔

اقربا پروری اور کرپشن کی زندہ مثالیں

پاکستان ان دنوں جس طرح کے معاشی مسائل سے دوچار ہے اس کی بنیادی وجہ اقربا پروری اور کرپشن ہے۔اقربا پروری میرٹ اور انصاف کی پامالی کرتی ہے تو کرپشن ہر شعبہ حیات کو دیمک کی طرح چاٹ جاتی ہے۔پاکستان بنے ستر برس ہونے کو ہیں مگر پاکستان آج تک اقتصادی خود انحصاری کی منزل حاصل تو کیا قریب بھی نہیں ہوسکے ہےں۔آج ہماری برآمدات درآمدات کا عشر عشیر بھی نہیں ہےں جس سے ترسیلات زراس فرق کو مٹانے کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں۔بیرونی سرمایہ کاری کا حجم بھی شرمناک حد تک گر گیا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جن کے ہاتھ میں زمامِ اقتدار ہے انکا اپنا سرمایہ بیرون ملک ہے۔ پانامہ لیکس نے ایسے ایسے چہرے بے نقاب کئے جو روز ملک کو ایشیائی ٹائیگر بنانے کے بھاشن سناتے نہیں تھکتے۔ بے شرمی اور ڈھٹائی کی حد تو یہ ہے کہ وہ آج بھی ایسے دعوے کرنے سے نہیں چوکتے۔ہمارے وزیرخزانہ وہ ہیں جنکے بچوں نے اربوں روپے کی سرمایہ کاری دوبئی میں کررکھی ہے جبکہ وزیراعظم اور ان کے خاندان کا ذکر ہی کیا کرنا۔انکا سب کچھ بیرون ملک ہے جو کچھ یہاں ہے اس کی دیکھ بھال سرکاری خزانے سے ہورہی ہے۔ رائے ونڈ محل وزاعظم کا کیمپ آفس ہے اور جو کیمپ آفس ہو اس پر قومی خزانہ واری واری جاتا ہے۔ملک کی بدقسمتی کا ایک اور در میثاق جمہوریت کی آڑ میں یہ کھلا ہوا ہے کہ اپوزیشن نے بھی ذاتی اور سیاسی مفادت کےلئے ایسا مک مکا کررکھا ہے کہ وہ موجودہ نااہل حکومت کو گرنے نہیں دیتی۔
عمران قادری دھرنوں سے لے کر پانامہ ہنگامہ تک پی پی پی اپوزیشن نے جس طرح حکومت کی کھال بچائی ، ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔یہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی بدترین دور سے گزر رہی ہے۔ چاروں صوبوں کی زنجیر کادعویٰ کرنے والی پیپلزپارٹی کی گرفت اب محض سندھ تک رہ گئی ہے جبکہ کراچی اور حیدر آباد جیسے بڑے شہر بھی اس کی گرفت سے باہر ہیں۔اپنی ڈوبتی ہوئی سیاسی کشتی کو بچانے کے لئے اب اسکے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے۔اس کی قیادت سیاسی چالاکیوں کی وجہ سے خودساختہ جلاوطنی میں ہے جبکہ انکے یار بیلیوں کے کارنامے پارٹی کی تباہی کےلئے کافی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی مک مکا کی سیاست کی وجہ سے سندھ میں گزشتہ آٹھ سال سے برسر اقتدار ہے،یہ کوئی کم عرصہ نہیں ہے۔اگر اس کی قیادت کو پارٹی کے مستقبل کا خیال ہوتا تو سندھ میں گڈ گورننس کے ذریعے پارٹی کی ساکھ کو بحال کرسکتی تھی مگر پارٹی کی بدقسمتی کہ اقربا پروری اور کرپشن اس کی رگ و پے میں اتار دی گئی۔شرجیل میمنوں اسد کھرلوں ڈاکٹر عاصموں اور نثارمورائیوں نے قومی خزانے پر جس طرح ہاتھ صاف کیے اس سے بچہ بچہ آگاہ ہے،یہی وہ دست راست تھے جو سندھ کے سیاہ سفید کے مالک بنے رہے۔آج جب پارٹی کے ٹاپ لیڈروں سے ان کے بارے پوچھا جائے تو وہ لاعلم بن بیٹھتے ہیں جیست وہ ان کو جانتے نہیں پہچانتے نہیں اور نہ ہی ڈاکٹر عاصم کے گناہ کو کوئی قبول کرنے کو تیارہیںمگر ان پر سابقہ دور حکومت میں ہر طرح کی نوازشات کے در کھلے تھے۔کیا ٹیکس چوری ،کیا زمینوں کی بندر بانٹ، کیا بڑے بڑے منصوبوں میں بلا خوف و جھجک لوٹ مار،الغرض ان کی پانچوں گھی میں اور سر کڑھائی میں تھا۔ان پر کیا کیا نہیں لٹایا گیا ،اس کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ سندھ حکومت نے ڈاکٹر عاصم کی ہسپتالوں کو بھی ٹیکس سے خصوصی چھوٹ دے رکھی تھی۔ڈاکٹر ضیاالدین ہسپتال نارتھ ناظم آباد اور کلفٹن ہسپتال ضرور ہیں لیکن ٹرسٹ نہیں ہیںمگر حکومت نے ان سے کبھی ایک پائی نہ وصول کی۔یہ دونوں ہسپتال ڈاکٹر عاصم کی ملکیت ہیں۔پتہ نہیں سندھ حکومت نے کس حیثیت انہیں خصوصی چھوٹ دی۔ٹیکس ماہرین کا کہنا ہے کہ کلفٹن والی ہسپتال سے سالانہ 4 لاکھ 72 ہزار جبکہ نارتھ ناظم آباد والی ہسپتال سے 2 لاکھ 75 ہزار روپے سالانہ چھوٹ دی گئی۔اس کی نوازشات کے کئی اور قصے بھی ہیں۔
جس ملک میں اقربا پروری کا یہ عالم ہو وہاں معیشت کیا خاک اپنے پاوں پر کھڑی ہو سکے گی۔ نجانے اس ملک کے ساتھ ایسے کتنے کھلواڑ روز بااثر حلقوں میں ہوتے ہیں۔ڈاکٹر عاصم پکڑے تو گئے ہیں لیکن اس کو بچانے والوں کا ایسا ایکا ہے کہ موصوف کو کوئی سزا نہیں پا رہی۔سوال یہ ہے کہ ایسا ہو تو کیوں کر اور کیسے،جب ایان علی کا بال بھیکا نہیں ہوپارہا جسے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا تو ڈاکٹرعاصموں،شرجیل میمنوں یا مورائیوں کوسزا دلانا تو جُوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔یہ حال صرف سندھ کا نہیں ہے پنجاب بلوچستان اور دیگر صوبوں میں بھی ملتی جلتی صورتحال ہے۔آج ملک پچیس ہزار ارب کا مقروض ہے،جبکہ قومی بجٹ تیس ہزار ارب ہوتا ہے، جس ملک کا قرض اور قومی بجٹ برابر ہوجائے تو پھر اس کا دیوالیہ پن ڈیکلئیر ہوجاتا ہے۔ غضب خدا کا دیکھئے کہ ملک دیوالیہ پن کی دیلیز پر کھڑا ہے اور حکمران اپنی عیاشیوں سے رک رہے ہیں اور نہ ملکی معیشت کی بحالی کی کوئی ٹھوس تدبیریںہورہی ہیں۔کرپٹ باثر افراد اتنے بااثر ہوتے ہیں کہ وہ فیصلہ سازی پر براہ راست اثرانداز ہوتے ہیں۔

دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے جامع پالیسی

وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا اس میں جہاں وزیراعظم نے دہشت گردی سے متاثرہ افراد کی امداد کیلئے جامع پالیسی وضع کرنے کی ہدایت کی جو جاں بحق ہونے والے افراد کے خاندانوں کیلئے آمدن تعلیم اور روزگار کے پیکیج کی حامل ہوگی ۔ وزیراعظم نے دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے خاندانوں کی فلاح و بہبود کیلئے جو پالیسی مرتب کرنے کی ہدایت کی ہے وہ اس امر کی آئینہ دار ہے کہ حکومت شہداءکے بچوں اور لواحقین کی امداد کی ہرممکن اقدامات کررہی ہے۔ حکومت کا اقتصادی راہداری منصوبہ ملک کی ترقی و خوشحالی کا باعث بنے گا اور ترقی پذیر معیشت جب ترقی یافتہ معیشت کی طرف گامزن ہوگی تو معاشی ترقی ہوگی ۔ راہداری کا منصوبہ ہماری معاشی ترقی کا ذریعہ بن پائے گا ۔ حکومت کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی کا ناسور ہے تو دوسری طرف مکار دشمن کی سازش اس کیلئے درد سر بنی ہوئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی چیرہ دستی اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی بھی پاکستان کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے ۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان اس وقت جو جنگ لڑ رہا ہے اس میں اس کو کافی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے لیکن سیاسی و عسکری قیادت دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے۔ حکومت کی پالیسیاں عوام کی امنگوں کی ترجمان ہونی چاہئیں اس وقت ملک میں بیروزگاری ، مہنگائی اور بدامنی نے ملک کو عدم استحکام سے دوچار کررکھا ہے ۔ پاک فوج ملک کے امن کی بحالی کیلئے دن رات اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہی ہے یہ پاک فوج کا طرہ امتیاز ہے کہ ملک میں اس وقت امن کا سورج طلوع ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کے بچوں اور لواحقین کی فلاح و بہبود کیلئے ایسی پالیسی ہونی چاہیے جو متاثرہ افراد کی فلاح وبہبود کیلئے موثر ثابت ہو۔ وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے شہداءکی فلاح وبہبود کیلئے جس پالیسی کی ہدایت کی ہے وہ دوررس نتائج کی حامل قرار پائے گی۔ اس پالیسی کو جلد ازجلد منظوری کیلئے وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے ۔ پالیسی وہی کارآمد ہوا کرتی ہے جس کے مقاصد کماحقہ پورے ہوں ۔ وفاقی کابینہ نے شہداءکے لواحقین کیلئے نیشنل انڈوومنٹ فنڈ قائم کرنے کی جو منظوری دی ہے لائق تحسین ہے۔شہداءکی قربانیوں کے نتیجہ میں ملک میں امن قائم ہورہا ہے ان کے لواحقین کی فلاح وبہبود حکومتی فرض قرارپاتا ہے۔
بلوچستان میں مودی کے خلاف مظاہرے
بلوچستان میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کے خلاف مظاہرے کیے گئے پرچم، پتلے نذر آتش ہوئے، نیٹو سپلائی معطل ، مودی کا یار ہے غدار ہے ۔ بھارتی مداخلت نامنظور کے نعروں سے بلوچستان کے درودیوار گونج اٹھے ۔ وزیراعلیٰ نواب ثناءاللہ زہری نے کہا ہے کہ مودی کے بیان پر احتجاج کیلئے بلوچستان بھر میں لوگ باہر نکلے چند ٹکوں کیلئے بھارت کو سلام کرنے و الے غدار ہیں ۔ بھارت بلوچستان کے حالات خراب کررہا ہے ۔ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کی مداخلت کا کھلا ثبوت ہے۔ نریندر مودی نے بلوچستان میں مداخلت کا اعتراف کیا ہے۔ بھارت نے جو جنگ شروع کی اس میں فتح ہماری ہوگی ۔ مقررین نے کہاکہ مودی کے حواریوں کو چن چن کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ مودی کی بلوچستان بارے ہرزہ سرائی کے خلاف مقررین نے جن خیالات اور ردعمل کا اظہار کیا وہ حب الوطنی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔مودی بھان متی کا کردار ادا کررہے ہیں بھارت خود ایک دہشت گرد ملک ہے اور”را“ کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی اس کا واضح ثبوت ہے۔ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذریعہ عدم استحکام پیدا کرنا چاہتا ہے لیکن اس کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کی ہماری پاک فوج بھرپور صلاحیت رکھتی ہے ۔ بھارت ایک طرف سرحدی قوانین کی خلاف ورزی کررہا ہے تو دوسری طرف دہشت گردی کے ذریعے خطے کا امن تباہ کرنے کی سازش کررہا ہے مودی کا اصل چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے اور وہ اس طرح کی سرگرمیوں سے اپنے عزائم کی تکمیل کبھی بھی نہ کر پائے گا۔ پاکستان مکار دشمن کی چالوں سے بخوبی واقف ہے۔ بھارت کشمیری عوام پر ظلم ڈھارہا ہے اور اس کی سفاکی کے نتیجہ میں سینکڑوں افراد شہید ہوچکے ہیں بھارت کشمیر پر غاصبانہ قابض ہے اور کشمیریوں کو حق خودارادیت بھی نہیں دے رہا اور مسئلہ کشمیر کو جان بوجھ کر سرد خانہ میں ڈالے ہوئے ہے جو عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ بھارت دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کیلئے پروپیگنڈا کررہا ہے جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور کشمیریوں کی سیاسی ، اخلاقی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک مسئلہ کشمیر کا حل نہیں نکلتا اور کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دیا جاتا۔
عدالت عظمیٰ کا مستحسن فیصلہ
عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم کے کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار کالعدم قرار دے دیا ۔ جسٹس ثاقب نثار نے کابینہ کو بائی پاس کرنے کا اختیار رولز 16 کی شق 2 کو کالعدم قرار دے دیا ۔ جسٹس ثاقب نے لیوی ٹیکس میں اضافے کے نوٹیفکیشن کے خلاف اپیلوں پر 80 صفحات پر مشتمل محفوظ تفصیلی فیصلہ سنایا ۔ لیوی ٹیکس کو نجی کمپنیوں کی جانب سے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا ۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ٹیکس میں اضافہ یا کمی کا اختیار وفاقی حکومت کا ہے جو وزیراعظم اور وزراءپر مشتمل ہوتی ہے صرف وزیراعظم کی منظوری سے اس طرح کا نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوسکتا۔ وفاقی حکومت کے رولز میں ضابطہ کی شق 2کے تحت اختیار غیر قانونی ہے کابینہ کی منظوری کے بغیر کسی بھی آرڈیننس کا اجراءغیر قانونی ہے کوئی بھی قانون یا بل کابینہ کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا جاسکتا ۔ وزیراعظم، وزیر ،سیکرٹری ، وفاقی حکومت کا اختیار استعمال نہیں کرسکتا ۔ عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ وزیراعظم کابینہ کے فیصلے کے پابند ہیں ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی قرا ردیا کہ حکومت آئین میں دئیے رولز آف بزنس کی پاسداری کرے ۔ ڈپٹی سیکرٹری کی طرف سے جاری لیوی ٹیکس نوٹیفکیشن کی پیشگی منظوری نہیں لی گیءتھی ۔ سپریم کورٹ نے اختیارات سے متعلق طریقہ وضع کردیا کوئی بیورو کریٹ وزیر کے حکم پر نوٹیفکیشن جاری نہیں کرسکے گا ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا فیصلہ دوررس نتائج کا حامل قرار پائے گا ۔ عدالت نے اختیارات کا طریقہ کار وضع کردیا ہے ۔ عدالتی فیصلے کے تناظر میں حکومت اپنے امور چلائے جو دائرہ اختیار ہے اس کے اندر رہتے ہوئے کام کرے تاکہ کسی قسم کا الجھاﺅ پیدا نہ ہو لیوی ٹیکس سے دیا جانے والا عدالت عظمیٰ کا فیصلہ قابل ستائش ہے۔ وزیراعظم کابینہ کو بائی پاس نہیں کرسکتے اور نہ ہی کوئی قانون یا بل کابینہ کی منظوری کے بغیر پارلیمنٹ میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ ہمارا المیہ یہ ہے کہ حکومت اپنے اختیارات سے تجاوز کرجاتی ہے جس سے قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ حکومت انتظامیہ اختیارات کا استعمال کرتے وقت اس بات کا خیال رکھے کہ کہیں قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی جارہی قانون کا احترام اور اس کی پاسداری ادنیٰ و اعلیٰ کو کرنی چاہیے۔ یہ عدالتی فیصلہ بڑی اہمیت رکھتا ہے اس میں بتا دیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کا اختیار صرف کابینہ استعمال کرسکتی ہے اور وزیراعظم کو اختیارات کابینہ کی منظوری سے استعمال کرنا ہوں گے ۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کا یہ مستحسن فیصلہ ہے اس پر عملدرآمد کرنا حکومت کا فرض ہے۔

کچھ فرق نہیں ان ساروں میں

ہمارے لیے فی الوقت کوئی راہ نجات نہیں۔جمہوریت کے تسلسل میں بھی کوئی خیر نہیں اور اس کے ڈی ریل ہونے میں بھی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔اچھی لگے یا بری حقیقت مگر یہی ہے۔
جناب نواز شریف،محترم عمران خان اور قبلہ طاہر القادری صاحب۔۔۔۔تینوں میں سے کوئی ایسا نہیں جسے دوسروں سے بہت زیادہ مختلف قرار دیا جا سکے،طریقہ واردات کے تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تینوں ہی ایک جیسا مزاج رکھتے ہیں ۔مسیحا اور انقلابی ان میں سے کوئی بھی نہیں۔گویا اب ہمارے پاس دو راستے ہیں۔ اول :ہم جمہوریت کے تسلسل سے اپنا ستیا ناس کروا لیں۔دوم:ہم جمہوریت ڈی ریل کروا کے اپنا سوا ستیا ناس کروا لیں۔
ذرا قائدین انقلاب تو دیکھیے، عمران خان اور طاہر القادری۔ذرا ان کے مربی تو دیکھیے، شیخ رشید اور چودھری شجاعت ۔ذرا ان کے رفقائے کار تو دیکھیے: جہانگیر ترین، اسد عمر، شاہ محمود قریشی۔۔۔دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کیا ایسے لوگ انقلاب لایا کرتے ہیں۔عمران خان کی حالت یہ ہے جب بھی کلام کرتے ہیں زبان حال سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ رہنما جب مطالعے کی عادت سے محروم ہو اورکتاب اس کی تہذیب نہ کر سکے تو پھر باقی صرف عمران خان رہ جاتا ہے۔ستم ظریفی دیکھیے وہ شیخ رشیدسے متاثر پائے جاتے ہیں۔اب تو ان کی گفتگو سے پتا چلتا ہے وہ آداب گفتگو کے بعض حوالوں میں ان سے متاثر بھی ہیں۔عینی شاہد ہوں اور سارے دکھ کے ساتھ بتا رہا ہوں بھری محفل میں سیاسی مخالفین کا ذکر وہ ان کے جسمانی عیب گنوا کر کرتے ہیں۔مخالفین پر تنقید میں وہی عامیانہ انداز وہ اپنا چکے ہیں جو شیخ رشید جیسوں کا طرہ امتیاز ہے اور عمران خان کو زیب نہیں دیتا۔نواز شریف عمرہ پر گئے تو ان پر تنقید شروع کر دی یہ یاد نہ رہا کہ نواز شریف کا عمرہ پر جانا زیادہ معیوب تھا یا برطانیہ کے گراﺅنڈ میں ذاتی جہاز والے نومولود انقلابی کے ساتھ بیٹھ کر میچ دیکھنا جسے اتنا حیا بھی نہیں کہ رمضان المبارک میں سر عام کھا رہا تھا اور قائد انقلاب کے پہلو میںبیٹھ کر کھا رہا تھا۔نہ کھانے والے کو حیا آئی کہ ہوٹل سے کھا کر آ جاتا نہ قائد انقلاب کو خیال آیا اسے سمجھا ہی دے۔شاید خیال آیا ہو لیکن رئیس آدمی کی تجوری کے سائز کے خیال نے کچھ کہنے سے روک دیا ہو۔جو لوگ ہماری مذہبی اور تہذیبی قدروں سے اس حد تک بے نیاز ہوں وہ یہاں انقلاب لائیں گے؟ملک میں جمہوریت کیا بات کرتے ہیں اپنی جماعت میں آج تک جمہوریت نہیں لا سکے۔پارٹی میں انتخابات کرانے کا کریڈٹ ہر وقت لینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن سیکرٹری جنرل کے منصب پر اسی جہانگیر ترین کو بغیر انتخابات کے لا کر بٹھا دیا۔کے پی کے میں زبان زد عام ہے کہ حکومت بنی گالہ سے چل رہی ہے۔پارٹی کے قائدین خوود مجھے بتا چکے ہیں کہ انہوں نے کس طرح پارٹی انتخابات میں کامیابی کو یقینی بنایا۔عمران خان کو بھی بتایا جا چکا ہے لیکن ایسوں کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔پرانے رفقاءمسلسل کوڑے کی ٹوکری میں پھینک جا رہے ہیں اور وہ نومولود انقلابی جن کی تجوریوں کے سائز بڑے ہیں راتوں رات معتبر ہوتے جا رہے ہیں۔آدمی حیرت سے سر پکڑ لیتا ہے جب جاوید ہاشمی جیسوں کو نظر انداز کر کے عمران خان اسد عمر کی شان میں پوری غزل کہہ ڈالتے ہیں اور اس کا مطلع بھی یہ ہوتا ہے کہ اسد عمر اتنا امیر آدمی ہے اورمقطع بھی یہ ہوتا ہے کہ اسد عمر کی تجوری بہت بڑی ہے وہ اتنا کما رہا تھا۔کیا انقلابیوں کے رویے ایسے ہوتے ہیں۔ایک سفید پوش بتائیے جسے عمران کی قربت نصیب ہو سکی ہو۔نہ خان اعظم خود کبھی اپنے حلقے کے عوام سے ملے ہیں نہ ہی اسد عمر کا دامن اس برائی سے آلودہ ہے۔اسد عمر تا باقاعدہ حلقے کے لوگوں کی تضحیک کرتے ہیں۔حادثاتی طور پر ایک نشست جیت گئے ہیں اور اب لہجہ احسن اقبال جیسا ہو گیا ہے۔انقلابیوں کو خوب علم ہے تجوری سلامت رہے عوامی ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔قائد انقلاب کراچی سے بلا کر کسی بھی حلقے سے ٹکٹ دے دیں گے۔
نہ عمران خان کے پاس ڈھنگ کا کوئی پروگرام ہے نہ شیخ الاسلام بقلم خود کے پاس۔ہاں انا کے بت دونوں کی آستینوں میں موجود ہیں اور بہت بڑے ہیں۔شیخ رشید اور چودھری برادران اس ملک میں اقتدار کے ایوانوں میں بڑے کروفر کے ساتھ رہ چکے ہیں۔وہ تب کوئی توپ نہیں چلا سکے تو اب کون سی توپ چلا لیں گے۔عمران اور شیخ رشید مل کر جب قوم کو نوید انقلاب دیتے ہیں تو ایک نجی چینل پر چلنے والا ڈرامہ ’ بلبلے‘ یاد آ جاتا ہے۔اس میں ’ مومو‘ کہتی ہے: چلو کمرے میں چل کر آرام کرتے ہیں تو محمود صاحب کہتے ہیں وہ جو ہم کمرے میں چل کر کریں گے وہ آرام ہو گا۔لوگ اب حیرت سے انگلیاں منہ میں دبا کر کھڑے ہیں کہ چودہ اگست کے بعد عمران خان اور شیخ رشید مل کر جو کریں گے وہ انقلاب ہو گا۔
شیخ الاسلام صرف ایک مذہبی طبقے کی نمائندگی کرتے ہیں۔اس طبقے کی بھی ایک مختصر سی پاکٹ ان کی بات سنتی ہے۔ان سے کیا خاک انقلاب آئے گا۔عمران کو سوچنا ہو گا آج وہ اپنے وابستگان یا شیخ الاسلام بقلم خود کے مریدان با صفا سے مل کر نواز حکومت کا آملیٹ بناتے ہیں تو کل کلاں اگر عمران کی حکومت بن بھی گئی تو کیا یہی کام ن لیگ کے کارکن بھی نہیں کر سکتے۔کیا جنون صرف تحریک انصاف کے پاس ہے اور باقیوں نے چوڑیاں پہن رکھی ہیں۔۔۔۔۔۔لیکن یہ بہت آگے کی بات ہے۔مشرف کے معاملے پر شریف سیاست روایتی مک مکا کر لیتی ہے جس کا بڑا امکان ہے تو پھر خان صاحب کی تحریک احتساب کا کیا بنے گا۔جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں یہ سارا کھیل کسی اور کے اشارے پر کسی اور مقصد کے لیے رچایا جا رہا ہے جو اگر کامیاب بھی ہو گا تو اس سے فائدہ حاصل کرنے والے کم از کم عمران خان نہیں ہوں گے۔کوئی اور ہی ہو گا۔
لیکن اگر جمہوریت کا تسلسل رہتا ہے اور عمران خان کچھ کر گزرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں تو کیا اس سے کوئی خیر برآمد ہو نے کی توقع ہے؟موجودہ حکومت کی بدترین پالیسیوں کے ہنگام اس کا جواب بھی نفی میں ہے۔بٹ اور کشمیریوں کی چاندی ہے باقی کی قوم دہی کے ساتھ کلچہ کھا رہی ہے یا ان کی آنیاں جانیاں دیکھ رہی ہے۔جن لوگوں کے جن اداروں کے ساتھ کاروباری مفادات وابستہ ہیں وہ ان اداروں کے مالک و مختار بنا دیے گئے ہیں۔ایسے میں بجلی کہاں سے آئے؟خواجہ آصف ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ بارش کی دعا کرو میں کچھ نہیں کروں گا۔خواجہ صاحب ان کمپنیوں کے مفادات کو سوچیں جن میں وہ شیئر ہولڈر ہیں یا عوام کا سوچیں۔
ہمارے لیے فی الوقت کوئی راہ جنات نہیں۔جمہوریت کے تسلسل میں بھی کوئی خیر نہیں اور اس کے ڈی ریل ہونے میں بھی تباہی کے سوا کچھ نہیں۔اچھی لگے یا بری حقیقت مگر یہی ہے۔

کرپشن کاخاتمہ ضروری

پا کستان صرف طالبان کی دہشت گردی کا شکار نہیں بلکہ یہاں دیگر کئی اقسام کی دہشت گردی ہو رہی ہے اور ان میں سب سے بڑی دہشت گردی بلکہ عفریت کرپشن یعنی بدعنوانی ہے جس نے ملک کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ یہ بدعنوانی کسی ایک سطح پر نہیں نیچے سے اوپر تک ہے مزدور سے کارخانہ دار تک اور اہلکار سے سرکار تک سب اس حمام میں ننگے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان ترقی کی وہ منازل طے نہیں کر سکا جو اسے ستر سال میں کر لینی چاہیے تھیں۔ ہم آج بھی زندگی کی بنیادی ضرورتیں ہی حاصل کرنے کی تگ و دو میں لگے ہوئے ہیں اور اکثر اس میں بھی ناکام رہتے ہیںاور اس ناکامی کی وجہ وہ کرپشن ہے جس میں ہر ایک ملک سے زیادہ ذات کی ترقی کی کوشش میں مصروف رہتا ہے اور خود کے لیے تو اونچے محلات تعمیر ہو جاتے ہیں لیکن ملک کے لیے بنایا گیا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہیں پہنچتا اور پہنچ بھی جائے تو اُس میں اتنا روپیہ اور وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے کہ عرصہ دراز تک اپنی قیمت پوری نہیں کر پاتا منافع کیا دے گا۔ پانی اور پانی کے ذخائر پاکستان کے لیے انتہائی اہم ہیں ہمیں بار بارمتنبہ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان پانی کی شدید کمی کے خطرے سے دوچار ممالک میں شامل ہے لیکن ہم پانی کے ذخائرنہیں بناتے، ہم اکثر اوقات بلکہ تقریباََ ہر سال سیلاب کی تباہ کاریوں کا شکار ہوتے ہیں لیکن ڈیم نہیں بناتے، توانائی کے شدید ترین بحران نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کی ہوئی ہے ہماری صنعت اور کارخانے بھی بری طرح اس سے متاثر ہیں اور یوں ہماری معیشت بھی اسی کے ہاتھوں تباہ حال ہے لیکن ہم اب بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں ۔ پچھلے دو سال سے چترال شدید ترین سیلاب کا سامنا کر رہا ہے املاک اور انسانی جانیں ضائع ہو رہی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اس علاقے کو پانی کی جو نعمت عطا کی ہے اگر اسے اس علاقے کے عوام کی بھلائی کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے ان کی زندگی میں بہت بہتری لائی جا سکتی ہے ۔ ہماری ایک خوش قسمتی یہ ہے کہ ہمارے ہاں منصوبہ ساز بہت اچھے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان منصوبوں پر عمل کرنے کے لیے درکار خلوص ناپید ہے ایسا ہی ایک اچھا منصوبہ چترال میں گولن گول پن بجلی کا منصوبہ ہے جو دریائے مستوج کے معاون گولن گول دریا کے بہاﺅ پربنایا گیا ہے جو 108 میگا واٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے ۔2011 میں شروع ہونے والے اس منصوبے نے جنوری 2015 میں مکمل ہونا تھا لیکن تا حال اس کی تکمیل کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے بلکہ ابھی تو پچاس فیصد کام بھی نہیں ہو سکا ہے۔ یہ منصوبہ کم لاگت منصوبے کے طور پر تیار کیا گیا تھا اور اس پر لاگت کا تخمینہ 7.035 بلین روپیہ لگایا گیا تھا اس کے لیے سعودی عرب اور کویت کا تعاون حاصل کیا گیا تھا ۔اس منصوبے کی تکمیل واپڈا کی ذمہ داری ہے لیکن یہاں بھی ہماری روایتی بد دیانتی اور بد عنوانی آڑے آئی اور اس کی تکمیل کی مدت اور تخمینہ کئی گنا بڑ ھ گئے اور اب یہ پراجیکٹ 2018 میں 28 بلین روپیہ میں مکمل ہوگا اس پر کام کی رفتار اس قدر سست رکھی گئی کہ بہت سارا وقت ضائع ہو چکا ہے ۔ اس منصوبے پر کام کرنے والی کمپنی اور اس کے مینجر کے بارے میں باور کیا جا رہا ہے کہ وہ وہ مہارت رکھتے ہی نہیں کہ وہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا سکیں نہ ہی اس کی شریک ِ کارپاکستانی کمپنی اور اس کا مالک جو خود واپڈاکا ہی ایک ریٹائرڈ ملازم ہے یہ قا بلیت رکھتا ہے اس منصوبے کا ڈیزائن بھی معیاری اور درست نہیں اور یہ بھی ایک وجہ ہے کہ اب تک اسے مکمل نہیں کیا جا سکا ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اب تک کام کا جائزہ اس نظریے سے نہیں لیا گیا کہ تاخیر کی وجہ معلوم ہو سکے اور اگر لیا گیا تو واپڈا نے اپنے پرانے افسر کو ناراض کرنے کی بجائے قومی نقصان کو بڑے تحمل سے برداشت کیا اور اب بھی کر رہا ہے ۔تکمیل کی متوقع تاریخ گزرنے کے ڈیڑھ سال بعد واپڈا کے چیرمین کو موقع میسر آیا اور انہوں نے منصوبے کا معائنہ کیا اور کام تیز کرنے پر زور دیا وزیراعظم نے بھی منصوبے پر کام تیزی سے مکمل کرنے کی ہدایات دیں یعنی حسب معمول قومی خزانے کو غیر معمولی نقصان پہنچانے کے بعد حکام کو خیال آیا۔ سوال یہ ہے کہ اب جب کہا جا رہا ہے کہ پراجیکٹ نا اہل لوگوں کو دیا گیا تو اس وقت کیوں یہ نہیں سوچا گیا آخر اس سے کس مفادات وابستہ تھے اور کن لوگوں نے منصوبے کی تکمیل کی تاخیر میں اہم کردار ادا کیا ۔غیر ملکی پراجیکٹ منیجر مسٹر جارج جو پچاس لاکھ سے بھی زائد تنخواہ وصول کر رہے ہیں وہ اتنے منظور نظر کیوں ہیں جب کہ ان اہلیت اور کوالیفیکشن دونوں پر اعتراض کیا جا سکتا ہے ان کے علاوہ پاکستانی ذمہ داروں کو بھی پوچھا جانا چاہیے اب یہ لوگ مزید سرمایے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ انہیں تو جرمانہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے اور اس منصوبے کی قیمت میں 38 فیصد کا غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔ گولن گول کوئی ایک منصوبہ نہیں جس میں بد عنوانی ، تاخیر یا قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا ہو پاکستان میں ماضی اور حال میں ایسے کئی منصوبے یا تو ختم ہو گئے یا خرائی بسیار کے بعد مکمل ہوئے اور اپنی افادیت کھو بیٹھے ۔ گولن گول اب بھی تکمیل سے بہت دور نظر آرہا ہے اس سے جو ٹرانسمشن لائن چترال اور دیر کے اضلاع تک بچھائی جانی ہے اس میں اب تک 15% کام بھی نہیں ہوا ہے۔ اب تک تو جتنی خرابی اور تاخیر ہونی تھی ہو چکی لیکن اب تمام ذمہ داران کی سختی سے پوچھ گچھ ہونی چاہیے اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لیے انہیں مجبور کیا جانا چاہیے۔ لاہور، کراچی، پنڈی یا پشاور میں بننے والے منصوبوں میں تیزی دکھا کر اور تشہیر کرکے شہرت اور ووٹ لینا تو آسان ہے ملک کے ان دور دراز علاقوں کو توجہ دینا ہی دراصل ملکی ترقی ہے۔ چترال جہاں قدرت نے زندگی کو انتہائی مشکل رکھا ہوا ہے لیکن اسے آسان بنانے کے سامان خود اس علاقے میں بنائے ہیں ان پر توجہ دینا اور فائدہ حاصل کرنا ضروری ہے اور ان ذرائع اور قومی دولت کو ضائع کرنے والوں کا محاسبہ بھی ضرور ہونا چاہیے ۔ گولن گول ہو یا کوئی اور منصوبہ، چترال ہو یا کوئی اور شہر اور علاقہ اس کو اتنی ہی اہمیت ملنی چاہیے جتنی ملک کے بڑے شہروں کو دی جاتی ہے۔ بدعنوانی، کرپشن اور قومی دولت اور خزانے کو نقصان پہنچانے والے کسی شخص یا ادارے کو قانون سے مستثنیٰ نہیں ہونا چاہیے اگر حکومت چند ایسے لوگوں کو سزا دے اور نشان عبرت بنا دے تو شاید کئی دوسرے سدھر جائیں اور اپنے منفی کردار سے ملک کو نقصان پہنچانے سے باز رہیں۔

پو لیس اور سیا ستد ان

انسپکٹر جنر ل پو لیس پنجاب کو اند ھیر ے میں رکھا جا رہا ہے ۔ جو پو لیس عوام پسند کر تی ہے ۔ خوا ص انہیں پسند نہیں کرتے اور جنہیںخواص پسند کر تے عوام ان سے نفر ت کر تی ہے ۔ میانوالی کی پسما ند ہ اور پنجا ب کی پسما ند ہ تحصیل عیسیٰ خیل کے گا ﺅ ں کمر مشا نی کے چیئر مین ثنا ءاللہ خان تا نی خیل نے شکو ہ کر تے ہو ئے پو لیس کے چیف مشتا ق سکھیرا سے کہا کہ پو لیس حفا ظت اور امن دینے والا محکمہ ہے ! مگر پو لیس کے غیر معیا ری کر دار کی وجہ سے پو لیس عوام کی نظر و ں سے گر چکی ہے ۔ اور خواص پو لیس کو پسند کر نے لگے ہیں ۔ کیو نکہ عوام کےلئے پو لیس مصیبت اور دشمن اور مخا لف کا کر دار ادا کر تی ہے! اور خواص کا ایجنٹ بن کر تمام طا قت خو اص کےلئے اور خواص کے مخا لفین کے خلا ف استعما ل کر تی ہے ۔ یقینا جب پو لیس کا کر دار ایسا ہو گا ! ظلم بڑ ھے گا ! زیا دتی اور نا انصا فی عا م ہو گی ! طا قتو ر ظا لم اور کمز ور مظلو م ہو گا! ایسے ما حو ل اور معاشر ے میں پو لیس سے محبت نہیں نفر ت بڑ ھے گی ! میانوالی کاا یک تھا نہ مکڑ وال ہے !مکڑ وال پہا ڑی علا قہ ہے ! یہ پہا ڑ قد رتی معد نیا ت سے بھر ے پڑ ے ہیں ! کو ئلہ ان پہا ڑ و ں کا خزا نہ ہے !جو مقا می ممبر اسمبلی نے بےنظیر بھٹو کی وزارت عظمیٰ کے دور میں اونے پو نے خر ید لی تھی ۔اور آج اس خزا نے کو خر ید نے والے کو ئلہ کے کا رو با ر سے روزانہ لا کھو ں روپے کما رہے ہیں ! کو ئلہ کی کا نو ں میں کا م کر نے والے مزدور اپنا خون پسینہ بہا کر کیا کچھ کما تے ہو ں گے ! کیو نکہ کو ئلہ کی دلا لی میں منہ کا لا ہو تا ہے! تو کو ئلہ کے نکا لنے کےلئے کا م کر نے والو ں کو کس مصیبت سے گزر نا پڑ تا ہو گا ! یہ الگ داستان ہے! کہتے ہیں کہ جس نے حکو مت کی حما یت کر کے ذخا ئر اپنے نام کرائے وہ Black Goldکے ما لک بنے اور جنہو ں نے کو ئلہ کو زمین کی تہہ سے نکا ل کر جا ن کی با زی لگا ئی وہ اسی جنگ میں زند گی ہا ر گئے ! اب یہ Black Goldکے ما لک پو لیس کے ما لک بننا چا ہتے ہیں ! بلکہ اس ملک کا کو ئی White Goldیعنی چینی کے کا ر خا نو ں کا ما لک ہے ۔ تو کوئی جا گیر و ں اور کا ر خا نو ں ! ملو ں ! فیکٹر یو ں کے ما لک ہیں یہ سب چا ہتے ہیں کہ ملک کے تما م وسا ئل کے ما لک ہو جا ئیں ! ملک کی تمام دو لت ان کے قبضے میں آ جائے ! ملک کا ہر مزدور ان کا ملازم ہو ! ملک کے تمام وسا ئل ان کے حصے میں آ ئیں اور پھر وہ ان سب کچھ کی ملکیت پر راضی نہیں ہو تے ! و ہ چا ہتے ہیں ملک کے تما م شہر ی اور تمام دیہا تی ان کے خادم یا ان کے ملا زم بن جا ئیں اور جو غلا می و ملازمت پر راضی نہ ہوں ! وہ پولیس کی معا و نت سے جیلو ں میں بند کر دئیے جا ئیں ! ثنا ءاللہ خان نے اخبا ری بیا ن میں جو الزام لگایا ہے ۔ اس کے مطا بق یہ وڈیر ے ! یہ سر دار ! یہ با اختیا ر لوگ تھا نو ں میںایسے لو گو ںکی تعینا تی کر انا چا ہتے ہیں ! جو تھا نو ں میں مقد ما ت کا اند راج ان کی مر ضی سے کر یں ! او ر اگر پو لیس کچھ مقد ما ت اپنی مر ضی یا حقا ئق پر مبنی واقعا ت کے مطا بق در ج کر یں تو اسیے مقد ما ت کو پو لیس خا رج کر ے ! کوئی منشیا ت ! جوا ء! چو ری کا ملزم بنے تو ان سرداروں کے اشا رے پر پو لیس ایسے ملزما ن بے گنا ہ تحر یر کر کے ان کی راہ ہمو ار کر ے ! یا پو لیس ایسے افراد کو چو ری ۔ قتل ، اور منشیا ت کے نا معلو م ملز ما ن کے واقعا ت میں ملو ث کر کے چا لا ن کر ے جو ان نا م نہاد سر داروں کے تا بع فر ما ن نہ ہو ں ۔ ثنا ءاللہ خا ن کا گلہ یہ بھی ہے کہ اکثر ایسے پو لیس افسران کو نہ توکسی ایسے افسر کو صو بہ میں اور آ ئی جی ! انسپکٹر جنر ل کے عہد ے پر ٹکنے دیا جا تا ہے ۔ اگر چہ ایسے افراد کی تعداد انگلیوں پر شما ر کی جا سکتی ہے ! پولیس میں اچھے بر ے دونوں قسم کے لو گ مو جو د ہیں جب دیا نتدار افسر تھا نے تعینا ت ہو تا ہے اور وہ میر ٹ اور انصا ف پر مبنی فیصلے کر تا ہے تو ایسے افسران سے عوام بڑ ے خوش ہو تے ہیں ۔ اور ان افسر ان کو عو ام آ نکھوںپر بٹھا تے ہیں ۔ جر ائم میں کمی آ جا تی ہے اور عوام پولیس پر اعتما د کر نا شر وع کر دیتے ہیں۔ معا شر ہ میں امن و امان کی صو رت بہتر ہو جا تی ہے ۔ ایسے پو لیس افسران اور ایسے حا لا ت جا گیردار، سردار، وڈیر ے کو سخت نا پسند ہو تے ہیں ۔ اور پھر وہ ان افسران کے پیچھے پڑ جا تے ہیںاور ان کوتھانے یاضلع سے باہر نکال کر دم لیتے ہیں !کیونکہ جب تک معاشرے میںبرائی اور مسائل اور پریشانیاں اور عوام مشکل میں نہ ہو ں ۔ ان بڑ و ں کا کا م نہیںچلتا ۔ سکھیرا صاحب ! یہ آ پ جیسے بڑو ں کا کام ہے !فیصلے آ پ کے اختیا ر میں ہیں! تھا نو ں میں با کردار لو گو ں کو لگا ئیں یا اضلا ع میں سفا رشی D.P.Oلگا ئیں ؟ آ پ جیسا کر یں گے نتا ئج ایسے ہی نکلیں گے ؟ پو لیس کو مکمل باا ختیا ر بھی بنائیں ! وڈیر وں ،ممبران اسمبلی اور زرداروں سے آزاد کر یں !ا ورنہ یہ پو لیس دیس میں بر ائیوں ، زیا د تیو ں اور خر ابیو ں کی بنیا د بن کر عوام کے استحصال میں بنیا دی کر دار ادا کر ے گی اور آ پ سب بے وقا ر ہو جا ئیں گے!

Google Analytics Alternative