کالم

کسان پیکج، پنجاب میں زرعی انقلاب کی مضبوط و ٹھوس بنیاد

وزیراعلیٰ  شہبازشریف نے زراعت کی ترقی، فی ایکڑ پیداوار میں اضافے، کسانوں کی فلاح و بہبود اور خوشحالی کیلئے 100 ارب روپے کے پیکیج اور پنجاب کسان کمیشن کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ 100 ارب روپے کے فنڈ آئندہ 2 برس کے دوران خالصتاً زراعت کے فروغ اور کسانوں کی خوشحالی پر ہی صرف ہوں گے۔ پنجاب زرعی کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ زراعت صحیح معنوں میں قومی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ زراعت کا فروغ، کسانوں کی خوشحالی اور فی ایکڑ زرعی پیداوار میں اضافہ ہمارا مشن ہے۔ کانفرنس کی سفارشات کی روشنی میں ٹھوس زرعی پالیسی مرتب کی جائے گی۔ صوبے کو خطے کا زراعت اور غلے کا گھر بنانا اور کسانوں کو بااختیار بنانے کے حوالے سے ہمیں مل کر آگے بڑھنا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ہم آج بھی زراعت کے شعبے میں پیچھے ہیں اور اسے ہم صحیح معنوں میں ترقی دینے میں ناکام ہیں۔ کسان پیکج کے تحت کسانوں کو بلاسود قرضوں کی فراہمی کیلئے 13 ارب روپے کا پروگرام جس سے صوبہ کے 4لاکھ 50ہزار کاشتکار فائدہ اٹھائیں گے جن کو ربیع اور خریف میں بالترتیب 25ہزار روپے اور40ہزارروپے فی ایکڑ قرضہ جاری کیا جائے گا۔ کسانوں کو سمارٹ فونز کی فراہمی تاکہ وہ موسمیاتی تبدیلیوں اور جدید زرعی معلومات سے ہمہ وقت باخبر رہ سکیں، ڈی اے پی اور یوریا کھادوں پر 9.49 ارب روپے کی سبسڈی جس کی وجہ سے بالترتیب 300 اور 400 روپے فی بوری قیمت میں کمی، کپاس کے تصدیق شدہ بیج کو پیدا کرنے اور کاشتکاروں کو فراہمی کیلئے سسٹم کی تبدیلی 3 ارب روپے جس سے 10لاکھ کاشتکار مستفید ہوں گے، ہر ضلع میں جدید زرعی مشینری کی فراہمی کیلئے مراکز 1.20 ارب روپے سالانہ، موسمیاتی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جدید زرعی ٹیکنالوجی کی فراہمی، جس میں ڈرپ اریگیشن، ٹنل فارمنگ اور شمسی توانائی پر مشتمل ٹیوب ویلوں کی فراہمی 2.05 ارب روپے، زرعی پیداوار کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے ویئر ہاؤس بنانے کیلئے 2.5 ارب روپے کا پروگرام ، زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے فی یونٹ بجلی کی قیمت 5.35 روپے، زرعی ادویات پر جنرل سیلز ٹیکس کا مکمل خاتمہ، کسانوں کی باہمی انجمنوں کے قیام کیلئے 0.5 ارب روپے سالانہ کی فراہمی سمیت ایگریکلچر کمیشن کا قیام بھی عمل میں لایا جارہا ہے۔ فصلوں کی بہتر آبپاشی کیلئے 36 ارب روپے پر مشتمل اصلاح آبپاشی کا 5سالہ پروگرام جس میں پختہ کھال، لیزر لینڈ لیولر کی فراہمی، قطرہ قطرہ آبپاشی، گندم کے تصدیق شدہ بیج کی فراہمی کیلئے 30کروڑ روپے سالانہ، خطہ پوٹھوار کو وادی زیتون میں تبدیل کرنے کیلئے 5 سال میں 1.8 ارب روپے کا پروگرام، محکمہ زراعت کو جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی مرکز میں تبدیل کرنے کا 4.5 ارب روپے کا منصوبہ تاکہ کاشتکاروں کو جدید طریقہ ہائے زراعت سے بہتر طورپر آگاہ رکھا جاسکے، مشینی کاشت کے ذریعے جدید زراعت کو فروغ دینے کیلئے 1.11 ارب روپے کی لاگت سے منصوبہ شامل ہے۔ کبھی کپاس کی پیداوار میں پاکستان بھارت سے آگے تھا، باسمتی چاول کی مارکیٹ پر صرف پاکستان کی اجارہ داری تھی، پاکستان دنیا کا چوتھا دودھ پیدا کرنے والا ملک ہے، لائیوسٹاک کے حوالے سے شاید پاکستان دسواں بڑا ملک ہے لیکن آج ہم پیچھے جا چکے ہیں۔ پوری دنیا میں درخت لگانے کی صنعت بن چکی ہے جبکہ ہمارے ہاں جنگل ختم ہو رہے ہیں۔ ہمیں اس اہم کانفرنس کے ذریعے ان سوالات کا جواب تلاش کرنا ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 1998ء میں میری حکومت نے جعلی زرعی ادویات کا مکمل خاتمہ کیا لیکن جب 2008ء میں دوبارہ اقتدار سنبھالا تو یہ مکروہ دھندہ پھر جاری تھا۔ میں یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ پچھلے ساڑھے سات برس میں لائیوسٹاک کے فروغ پر بھرپور توجہ دی گئی لیکن مطلوبہ نتائج نہیں مل سکے۔ کاشتکار تو دن رات محنت کر رہا ہے لیکن فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ نہیں ہوا۔ زرعی ایکسٹینشن سروس دم توڑ چکی ہے اور ریسرچ ادارے اپنا مطلوبہ کام نہیں کر رہے جس کے باعث کاشتکاروں کو مشورے دینے کا سلسلہ بھی بند ہو چکا ہے۔ ہم نے گنے کے کاشتکاروں کے مفاد کا تحفظ کیا اور انہیں 180 روپے فی من کے حساب سے ادائیگی یقینی بنائی جبکہ ایک صوبے نے سیاست کھیلتے ہوئے گنے کی قیمت 160 روپے کی لیکن میں نے سٹینڈ لیا اور ایک پائی بھی کم نہ کی جس کی بنیادی وجہ کاشتکاروں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ خادم اعلیٰ نے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ 100 ارب روپے کے تاریخی پیکیج کے مثبت نتائج سامنے آنے چاہئیں۔ میں اس پیکیج کی ایک ایک پائی کی ادائیگی یقینی بناؤں گا اور اس کا مکمل حساب بھی لوں گا۔ اس پیکج کے علاوہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف زراعت کی ترقی کیلئے انتھک محنت کر رہے ہیں۔ محکمہ زراعت پنجاب نے مشینی کاشت کے فروغ کے لئے زرعی آلات ‘ مشینری کی فراہمی کے پروگرام کا آغاز کر دیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت50 فیصد سبسڈی پر اندرون ملک تیار شدہ زرعی آلات ‘ مشینری فراہم کی جائے گی۔ جس سے مشینی کاشت کا فروغ اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو گا۔ زرعی مشینری میں ڈسک ہیرو، روٹا ویٹر، ربیع ڈرل، چیزل ہل اور شوگر کین رجر یونین کونسل کی سطح پر جبکہ شوگر کین ٹوکہ اور ہالوکون نوزلز گاؤں کی سطح پر دیئے جائیں گے۔ ڈسک ہیرو، روٹا ویٹر، ربیع ڈرل اور چیزل ہل کا سیٹ پنجاب کی ہر یونین کونسل میں جبکہ شوگر کین رجر کماد کی کاشت کے اضلاع کی ہر منتخب یونین کونسل میں قرعہ اندازی کے ذریعے ایک منتخب کاشتکار کو دیا جائے گا۔ شوگر کین ٹوکہ کماد کی کاشت کے اضلاع کے ہر گاؤں میں دو عدد 50 فیصد رعایتی قیمت پر بذریعہ قرعہ اندازی مہیا کیے جائیں گے جبکہ ہالوکون نوزل کپاس کی کاشت کے اضلاع کے ہر گاؤں میں تین عدد اجتماع کاشتکاروں میں مفت تقسیم کی جائیں گی۔ اس کے لئے کاشتکاروں کو درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔ اقوام متحدہ نے بین الاقوامی سطح پر 2016ء کو دالوں کا سال قرار دیاہے جس کامقصد دالوں کی غذائی اہمیت کو اجاگر کرنا اور ان کی پیداوار میں اضافہ سے فوڈ سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ دالیں غذائیت کے اعتبار سے گوشت کا نعم البدل ہونے کے ساتھ پروٹین کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہیں۔دالیں پھلی دار فصل ہونے کے باعث زمین کی ذرخیزی برقرار رکھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ پاکستان میں دالوں کی کل پیداوار کا 80فیصد پنجاب پیدا کرتا ہے۔ پنجاب میں 2.491ملین ایکڑ رقبہ دالوں کے زیر کاشت لایا جاتا ہے جس سے 0.42ملین ٹن پیداوار حاصل ہوتی ہے لیکن بڑھتی ہوئی آبادی کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دالوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔ ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی کی دالوں کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہر سال دالوں کی درآمد پر کثیر زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔محکمہ زراعت پنجاب صوبہ میں دالوں کی پیداوار میں اضافہ اور مناسب قیمت پر دستیابی کے لیے کوشاں ہے۔اس سلسلہ میں حکومت پنجاب 2014۔15ء سے دالوں کی پیداوار میں اضافہ اور درآمدی اخراجات میں کمی کے لیے 127ملین روپے کی خطیر رقم سے دو سالہ منصوبہ کا آغاز کر چکی ہے۔ اس منصوبہ کے تحت پنجاب سیڈ کارپوریشن کے ذریعے کاشتکاروں کو دالوں کی ترقی دادہ اقسام کے تصدیق شدہ بیجوں کی فراہمی کے علاوہ لائنوں میں کاشت کے لیے 136 ملٹی کراپ ڈرل کی نصف قیمت پر تقسیم کی جارہی ہیں۔ کاشتکاروں کو دالوں کی مخلوط کاشت اورجڑی بوٹی مار ادویات کے استعمال سے متعلق جدید پیداوار ی ٹیکنالوجی کی منتقلی اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے لیے ماہرین کے زیر نگرانی 546مقامات پرنمائشی پلاٹس بھی لگائے جارہے ہیں۔ان کاوشوں کے نتیجہ میں دالوں کی کاشت کو فروغ حاصل ہو گا اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ کے ساتھ کاشتکاروں کی آمدنی میں بھی اضافہ ہو گا۔پاکستان دالوں کی پیداوار میں نہ صرف خود کفیل ہو گا بلکہ درآمد ی اخراجات

جھوٹ۔۔۔ شوق موسوی
تو نے سرحد پار کی یہ بھی سراسر جھوٹ تھا
ایک کشتی چھین لی یہ بھی برابر جھوٹ تھا
جھوٹی باتوں سے تسلی دے رہے ہو قوم کو
تو نے جو دعویٰ کیا مودی بہادر جھوٹ کا

سعودی عرب کیخلاف جسٹا قانون کے تحت مقدمہ اور آنیوالے حالات

بالآخر وہی ہوا جس کے خدشات پچھلے کچھ ماہ سے پائے جارہے تھے کہ امریکہ ، جو سعودی عرب کا قریب ترین دوست ملک ہے نے سعودی عرب کے خلاف نائن الیون کے واقعہ میں ملوث ہونے کے حوالے سے مقدمہ درج کرلیا ہے ، یہ مقدمہ ایک فوجی افسر کی بیوہ کی طرف سے واشنگٹن کی ایک عدالت میں دائر کیا گیا ہے ۔ اس سے قبل جب سعودی عرب کیخلاف امریکہ کے کچھ حلقوں میں آوازیں بلند ہونا شروع ہوئیں تو ان آوازوں کا حکومتی سطح پر برا منایا گیا توجیح یہ دی گئی کہ اس سے ایک نہایت قابل اعتماد دوست کی ناراضگی مول لینا پڑے گی ۔ امریکی قوانین کے مطابق کانگریس میں ایک بل لایا گیا جسے صدر اوبامہ نے اپنا حق استعمال کرتے ہوئے ویٹو کردیا کہ ہم اپنے ایک قابل اعتماد دوست کو نہیں کھو سکتے مگر امریکی کانگریس نے صدر امریکہ کے اس حق کو استعمال کرنے کے اقدام کو ویٹو کرتے ہوئے سعودی عرب کے خلاف مقدمے کے اندراج کی اجازت دے دی ہے ، حیرت ایس بات پر ہے کہ اس سے قبل صدر امریکہ نے 11بار ویٹو کا حق استعمال کیا مگر اس کے خلاف کانگریس نے کوئی اقدام نہیں کیا مگر جب بات سعودی عرب کی آئی تو ان کے اس اقدام کو ویٹو کردیا گیا۔ امریکی کانگریس نے جاسٹا قانون کی منظوری دی ہے جس کے مطابق کسی بھی ملک کے خلاف کارروائی کا حق امریکہ کوحاصل ہوگا۔ سعودی عرب اور امریکہ کی دوستی کی داستان چھ ، سات دہائیوں پر مشتمل ہے اس دوستی کا آغاز شاہ عبدالعزیز کے دور میں ہوا وہ ایک دور اندیش اور عالمی حالات حاضرہ سے آگاہی رکھنے والے شخصیت تھے انہوں نے اپنے آپ کو سوویت یونین کا حلیف بنانے کی بجائے امریکہ کا دوست بن کر آزاد دنیا کا حصہ بننا پسند کیا کیونکہ ان دنوں سوویت یونین کو جو سوشلسٹ ممالک کی فیڈریشن تھی کو ایک فولادی دیوار کے اندر دنیا گنا جاتا تھا چنانچہ اس وقت شاہ عبدالعزیز فیصلہ کیا وہ درست تھا مگر حقیقت یہ ہے کہ آج تک جس میں ملک نے بھی امریکہ کے ساتھ دوستی کی ماسوائے اسرائیل کے اس کو یہ دوستی راس نہیں آئی اور اسرائیل کے ساتھ بھی دوستانہ مراسم اس لئے ہیں کہ امریکہ کے اندر یہودی لابی بے حد مضبوط ہے ۔ مسلم ممالک کے ساتھ امریکی دوستی محض اس کے اپنے مفادات تک ہوا کرتی ہے اور اب یہ واضح ہوگیا ہے کہ امریکی مسلم دنیا کے تمام طاقت ورممالک کو ایک ایک کرکے کچلنا چاہتے ہیں ۔ لیبیاکے کرنل محمد قذافی امریکیوں کو پسند نہیں تھے ۔ لاکروبی کے حادثے میں مرنے والے دو امریکی شہریوں کے نام پر کئی سالوں تک لیبیا پر اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد کرائے رکھیں جب لیبیا کے حکمران امریکہ کے ساتھ بات چیت کی میز پر آئے تو مطالبہ یہ رکھا کہ اپنا ا یٹمی پلانٹ اکھاڑ کر ہمیں دے دو چنانچہ ایک پیج تک نہیں چھوڑا گیا اور سب کچھ اکھاڑ کر امریکہ اپنے پاس لے گیا پھر اقوام متحدہ کے انسپکٹروں سے انسپکشن کرائی گئی ۔ عراق کے ساتھ کیا کیا گیا کہ پہلے اسے کویت پر حملہ کرنے کا مشورہ دیا گیا پھر اتحادی فوجوں کے ساتھ اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی اس کے بدلے میں کویت اور سعودی عرب سے اربوں ڈالر معاوضے کے وصول کیے گئے ۔ افغانستان کا حال دنیا کے سامنے ہے کہ اسے کس طرح برباد کیا گیا۔ افغانوں کے ہاتھوں افغانوں کا لہو بہایا گیا اور ابھی تک امریکہ وہاں موجود ہے ۔ شام کے اندر ہونے والی خانہ جنگی،یمن کے اندر ہونے والے حالات ان سب کے پیچھے امریکہ نظر آتا ہے ۔ حیرت اس بات پر ہے کہ اسلامی ناموں سے تشکیل پانے والی دہشت گرد تنظیموں کے پاس دنیا کا جدید ترین اسلحہ کیسے آجاتا ہے ۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے پرامن ملک ہے مگر اب اس کے اندر بھی نہ صرف بم دھماکے بلکہ خودکش دھماکوں کا ہونا اپنی جگہ خود ایک لمحہ فکریہ ہے کہ ان دھماکوں کے پیچھے کس کا ہاتھ ہوسکتا ہے اور ان دھماکوں کے کروائے جانے کا مقصد کیا ہے ظاہر ہے دشمن داخلی انتشار برپا کرکے سعودی معیشت کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے ۔ پاکستان اور ایران بھی اس لسٹ میں شامل ہیں ظاہر ہے کہ پاکستان کے ایٹمی طاقت امریکہ سمیت کسی غیر مسلم طاقت کو کیوں اچھی لگے گی بظاہر ایران کی باری ٹل گئی ہے اور ان دنوں امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات نارمل ہوگئے ہیں مگر میرا خیال ہے کہ یہ بھی وقتی اور عارضی ہے اور باری آنے پر اس کے ساتھ بھی نمٹا جائے گا۔ پاکستان کے دور اندیش طاقتور حلقوں نے اپنا وزن روس کے پلڑے میں ڈالنا شروع کردیا ہے جس کے نتیجے میں تاریخ میں پہلی بار روس کی مسلح افواج نے پاکستان کے ساتھ دفاعی مشقیں بھی کرلیں۔ میں ایک نیا بلاک بنتا دیکھ رہا ہوں جو پاکستان ،ترکی ، روس اورچین جیسے ممالک پر مشتمل ہوگا جو آنے والے دنوں میں امریکہ کے مقابلے میں سامنے آسکتا ہے ۔ گلوبل صورتحال انتہائی تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے ۔ سعودی عرب کے موجودہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز عالمی امور پر گہری گرفت رکھنے کے ساتھ ساتھ علاقائی اور گردوپیش کے حالات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں ان کی کابینہ کے متحرک ترین وزیر دفاع اور ان کے صاحبزادے محمد بن سلمان بھی آنے والے حالات کا ادراک رکھتے ہیں اور شاہ سلمان بھرپور کوشش ہے کہ عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے مشترکہ دفاع کی حکمت عملی اپنا کر تیسری دنیا کا خواب سچ کرکے دکھایا جائے ۔ چنانچہ امت مسلمہ کو بھی اس کا بھرپور طریقے سے جائزہ لینا چاہیے اس کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کے دفتر خارجہ کو چاہیے کہ وہ تمام ممالک جن کے ساتھ اس کے کسی نہ کسی حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں انکو ختم کرکے ایک نئی صبح کا آغاز کیا جائے تاکہ دیدہ و نادیدہ دشمنوں کے ساتھ جرأت، بہادری اور دلیری کے ساتھ نمٹا جاسکے ۔ پاکستان کا بچہ بچہ حرمین شریفین اور سعودی سرزمین کے دفاع کیلئے کٹ مرنے کیلئے جس طرح ماضی میں تیار تھا انشاء اللہ آنے والے دنوں میں بھی تیار رہے گا۔

افغانستان، بنگلہ دیش اور بھوٹان بھارتی تھالی کے چٹّابّٹانکلے

آج خطے میں جنگی جنون کی وجہ سے دیواروں سے اِدھر اُدھر اپناسرٹکراتے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے پہلے تو پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کی دھمکی دی جب اِس سے بھی کام نہ بناتوپھربھارتی میڈیا کے دوٹوک دعویٰ کے مطابق اَب جنونی اورحد سے کہیں زیادہ پاگل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے نومبر میں پاکستان میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت سے ہی انکار کردیاہے نہ صرف یہ بلکہ بھارتی سرکاراور اِس کے چیلوں نے اپنا سینہ ٹھونک کر یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کے ساتھ ساتھ افغانستان، بنگلہ دیش اور بھوٹان بھی شریک نہیں ہوں گے مودی کا سارک کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کے دعویدار بھارتی میڈیا اور دفترخارجہ کا یہ کہناہے کہ حالات ساز گار نہیں ، بھارتی وزیراعظم نریندرمودی اسلام آباد نہیں جائیں گے،ایک ملک نے بھارت میں دہشت گردی پھیلائی،دراندازیاں کیں توبھلا ایسے میں بھارتی وزیراعظم اُس مُلک کا سفر کیوں ؟؟اور کیسے کریں گے مودی وہاں نہیں جائیں گے نیپال کو بھی آگاہ کردیاہے ‘‘ بھارتی مودی سرکارو دفترخارجہ اور چھینالوں کی خصلت کے حامل بھارتی میڈیانے پاکستان پر بھارتی دباؤبڑھاتے ہوئے اپنی تمام توپوں کارُخ پاکستان کی جانب کرتے ہوئے یہ بھی داغ دیاہے کہ ’’پاکستان سے پسندیدہ مُلک کا درجہ واپس لینے سے متعلق مودی کی صدارت میں اہم اجلاس بھی ایک دوروز میں منعقد کیاجارہاہے‘‘ اور ایسے بہت سے اپنے دعوؤں کے ساتھ مودی سرکارو دفترخارجہ اور بھارتی میڈیاپاکستان مخالف اقدامات کرنے میں دن رات سرگرمِ عمل ہے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ اِن بھارتی حربوں سے پاکستان کا کچھ بھی نہیں بگڑسکتاہے اُلٹابھارت کو ہی اپنے منہ کی کھانی پڑے گی جیساکہ یہ ماضی میں بھی کھاتاچلاآیاہے جبکہ پاکستان نے مودی کے سارک کانفرنس میں شرکت کے انکار پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے خطے میں قیام امن و ترقی اور خوشحالی کی دوڑسے بھارتی انکارپر کہاہے کہ باضابطہ طور پر بھارت نے ابھی تک آگاہ تو نہیں کیا ہے اور اگر ایسا ہی ہے جیساکہ اطلاعات آرہی ہیں تویہ بھارتی فیصلہ افسوسناک ہے۔چلیں اِس پر کچھ دیر کو مان بھی لیتے ہیں کہ آج بھارت کشمیر سمیت دیگر مسائل پر اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے پاکستان پر خودساختہ دباؤ بڑھانے کی وجہ سے سارک کانفرنس میں شرکت سے فی الحال انکارکررہاہے یہ تو ہمیشہ سے ہی بھارتی حکمرانوں سیاستدانوں اوربھارتی میڈیاکی عادت رہی ہے کہ یہ اپنی غلطی اور اپنی گندپاکستان پر ڈالنے میں دیر نہیں کرتے ہیں یوں بھارتی اپنے اِسے حربے کے سہارے ابھی تک زندہ بھی ہیں اگر بھارتی ایسا نہ کرتے تو یہ کب کے خود ہی مرچکے ہوتے اِن کی اِس عادت سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کے دوسرے ممالک سمیت ساری دنیا بھی واقف ہے کہ بھارتی اپناتھوکاہواخود ہی چاٹ لیتے ہیں یقینااِس مرتبہ بھی ایساہی ہوگا بس وقت کا انتظارکیجئے۔ مگر آج ہمیں اِستعجاب تو اِس بات کا ہے کہ افغانستان بنگلہ دیش اور بھوٹان تینوں بھی بھارتی تھالی کے چٹاّ بٹاّ نکلے ہیں،یقینایہ ہمارے لئے جہاں باعثِ افسوس ہے تو وہیں ہمیں اِس تشویش میں بھی مبتلاہوناچاہئے کہ اَب تک جنہیں(افغانستانیوں کو) ہم اپنا دوست سمجھتے رہے ہیں آج وہی بھارت کی گود میں بیٹھے لولی پاپ چوس رہے ہیں قطع نظر اِس کے کہ وہ ہمارے ماضی و حال اور مستقبل میں کئے جانے والے سارے خلوص و محبت اور بھائی چارگی کے رویوں اور احسانات اورتمام دعوؤں کو بھول گئے ہیں،افغانستان جو خود ایک عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہوکراپنی معیشت کو تباہ کرچکاہے اوراپنی تعمیروترقی اور اپنے عوام کی خوشحالی کو ترس رہاہے کم ازکم اُسے تو سارک کانفرنس میں شریک ہوکرخطے میں قیام امن اور اپنے لئے ترقی و خوشحالی کے منصوبوں کی منظوری کے خاطرضرور شریک ہونے کااعلان کردیناچاہئے نہ کہ وہ خطے سے وابستہ بھارتی مفادات اورعزائم کے خاطربھارت کی گود میں بیٹھ کر بھارت کا ساتھ دے ابھی نومبر کو آنے میں وقت ہے اُمید رکھنی چاہئے کہ بھارت کو سارک کانفرنس میں شرکت سے انکارسمیت پاکستانی پانی روکے جانے والی دھمکی پر عالمی سطح پر یقیناشرمندگی اُٹھانی پڑے گی اور وہ اپناسرنیچے کئے اپنی تھالی کے تینوں بیگنوں افغانستان ، بنگلہ دیش اور بھوٹان کے ساتھ ضرور شریک ہوگا۔تاہم خطے میں بے لگام ہوتے جنگی جنون میں مبتلاہونے اورعلاقے میں زبردستی کی اپنی چوہدراہٹ قائم کرنے کے نشے میں دہت بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے پاگل پن کی وجہ سے پاکستانی دریاؤں کا پانی روکنے کی کھلی دھمکی دے دی یقینی طور پر بھارت پاکستانی دریاؤں کاپانی روکنے کی اپنی اِس دھمکی اور سارک کانفرنس میں شرکت سے انکاری کی وجہ سے عالمی سطح پرخود ہی تنہاہوجائے گا مگرپھربھی اَب ہمیں یہ اندازہ ضرور ہوجاناچاہئے کہ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے پاکستان بارے کیسے گھناؤنے عزائم ہیں ؟کیوں کہ اَب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ مودی نے اپنے دہشت گردوں اوراپنی ایجنسیوں کے کل بھوشن یادیو جیسے ایجنٹوں کی دہشت گردی کے بعد اَب پاکستان کو آبی دہشت گردی سے بھی تنگ و پریشان کرنے کا ایک اور گھناؤنا منصوبہ بنالیاہے جِسے پاکستان نے اعلان جنگ تصورکیا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اگر بھارت نے ایساکچھ کیاجس کے وہ کھلم کھلا دعوے کررہاہے تویقینااَب اِسے بھاری نقصان ضرور اُٹھاناپڑے گا۔جبکہ اُدھرپچھلے دِنوں بھارتی میڈیاکے مطابق نریندرمودی نے سندھ طاس معاہدے پرنظرثانی کے لئے ہنگامی طور پر بلائے گئے اپنی نوعیت کے ایک انتہائی اہم ترین اجلاس کی صدارت کی جس میں اڑی حملے کے بعد بغیرتحقیقات کے پاکستان پر مسلسل الزام تراشیوں کی تیرے چلانے اور پاکستان کو دنیا میں تنہا دیکھنے والے بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے خطے میں اپنے جنگی جنون کو تقویت دیتے ہوئے اپنے تئیں پاکستانی دریاؤں کا فوری پانی روکنے کے حوالے سے سندھ طاس معاہدہ تُرنت ختم کرنے سے متعلق تبادلہ خیال کیا اِس حوالے سے بھارتی میڈیا نے وثوق کے ساتھ دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یقینی طور پر خطے میں احساسِ برتری کے ساتھ جنگی جنون میں مبتلامودی نے دورانِ اجلاس اپنے غروراور گھمنڈ والے لب ولہجے کاسہارالیتے ہوئے کہاکہ ’’ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے ہیں‘‘ گویا کہ جیسے مودی نے یہ کہہ کر پاکستان سے متعلق اپنی آئندہ کی آبی دہشت گردی کا عندیہ دے کرایک بارپھر خطے میں کسی طبلِ جنگ بجانے کی کوئی کسر نہیں رکھ چھوڑی ہے بالفرض بھارتی مودی سرکار اپنی دہٹ دھرمی اور جنگی جنون میں مبتلاہونے کے باعثسندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی دریاؤں کا پانی روک لیتی ہے ،جو کہ اَب ممکن نہیں ہے کیوں کہ چین کی جانب سے آنے والے اِس بیان کے بعد کہ ’’ اگر بھارت نے پاکستان کاپانی روکا اور اپنے یہاں پانی کا استعمال بڑھایاتو چین بھی بھارت کا پانی روک دے گا ‘‘جس کے بعد بھارتی وزیراعظم مودی اپنی پیشانی پر آئے پسینے صاف کرتا اور اپنی خشک زبان کو اپنے ہونٹوں پر پھیرتا اور اپنی پریشانی اور اپنے اضطراب پن کو اپنی بغل میں چھپاتا دکھائی دیایقینااپنے برادر پڑوسی دوست ملک چین کی بروقت مداخلت اور پاکستان کا اپنی دفاع کے لئے کڑاجواب آنے سے مودی کھسیانی بلی کی طرح کھمبا نوچتانظرآرہاہے اِس پر آج اگر پھر بھی اپنی سُبکی مٹاتے ہوئے مودی پاکستان پر آبی دہشت گردی کرلیتا ہے توکیا مودی سرکار کایہ گھناؤنا عمل دورِ جدید کی یزیدیت کے مترادف نہیں ہوگا؟؟اور پاکستانی اپنے حق کے حصول کے خاطر حق پر ڈٹ جائیں گے اور ایک بار پھرخطے برصغیر میں حق و باطل کا ایک ایسا معرکہ چھڑجائے گا جس میں ہمیشہ کی طرح حق(پاکستان) کو ظاہر و باطن اور اخلاقی طورپر ایک عظیم فتح حاصل ہوگی اور باطل(بھارت) شکست سے دوچار ہوکرخاک چاٹتاپھرے گا۔ بھارتی چھلیامودی سرکارکی کشمیر میں جاری ہٹ دھرمی اور خطے میں روزبروز بڑھتے جنگی جنون کے ساتھ ساتھ پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرتی سازش پاکستان کی برداشت کی حدسے تجاوز کرتی جارہی ہے یہ تو ہماراہی ظرفِ عظیم ہے کہ ہم اتناکچھ دیکھ کر سُن کر اور پڑھ کر بھارتی موڈی مودی سرکار کے بک بک کو برداشت کئے ہوئے ہیں ورنہ مودی جیسے بیوقوف کو کوئی برداشت نہیں کرتاسکتاہے قبل اِ س کے کہ ہماری برداشت جواب دے جائے اور ہم اپنی طاقت کامظاہر ہ کریں اور خارش زدہ کُتے کی زبان کاٹ ڈالیں اگر ابھی مودی نے اپنی خارش کا علاج نہ کیایا کروایا یاخود کو ٹھیک نہ کیا تو پھر لامحالہ ہمیں اِسے خاموش کرنے کیلئے کچھ کرناپڑے گااور اَب اُس کی حرکتوں کو دیکھ کر لگتاتویہی ہے کہ جیسے وہ دن کوئی زیادہ دور نہیں کہ ہماری بھی برداشت کی حد ختم ہوجائے اورپاکستان بھارتی مودی سرکار کا

بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کا سیاسی و عسکری اتفاق

وزیراعظم محمد نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس بڑی اہمیت کا حامل قرار پایا اس اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ اجلاس میں داخلہ ، خزانہ کے وفاقی وزراء بری فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف ، قومی سلامتی اور خارجہ امور کے مشیروں ، ڈی جی ایم او اور دوسرے اعلیٰ ، سول اور فوجی حکام نے شرکت کی ۔ اجلاس میں بھارتی سیکورٹی فورسز کی طرف سے طاقت کے بہیمانہ استعمال کی مذمت کی گئی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ دنیا گواہ ہے کہ پاکستان نے عالمی امن کیلئے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ پاکستان نے شدید اشتعال انگیزی کے باوجود غیر معمولی صبروتحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ پاکستان پرامن جنوبی ایشیاء کیلئے اپنی مساعی جاری رکھے گا تاکہ خطے کے لوگ 21 ویں صدی کے خوشحالی اور ترقی کے شعبوں کے قابل بن جائیں ۔ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ ملک کسی اندرونی و بیرونی سیکورٹی کے خطرے سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے اور اس سلسلہ میں پاکستاان کے عوام اور بہادر افواج پوری طرح پر عزم ہیں۔وزیراعظم نے بجا فرمایا ہے کہ کشمیری عوام پر ان کے حق خودارادیت کے حصول جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کیا گیا ہے کی پاداش میں تشدد کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔ ظلم کے شکار کشمیری عوام نہ صرف پاکستان بلکہ ساری دنیا کی حمایت کے حقدار ہیں ۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت کرتا رہے گا ۔ بھارت سندھ طاس معاہدہ ختم نہیں کرسکتا ۔ 1960 میں ہونے والے معاہدے کی بھارتی خلاف ورزی پاکستان کیلئے ناقابل قبول ہوگی ۔ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور خطے کی سلامتی کیلئے اس کی کاوشیں دنیا کے سامنے ہیں بھارت کبھی جنگ اور کبھی پانی بند کرنے کی دھمکیوں سے پاکستاان کو مرعوب نہیں کرسکتا۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور چاہتا ہے کہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل پرامن طریقے سے نکالا جائے لیکن صد افسوس کہ بھارت اس کو پاکستان کی کمزوری گردان رہا ہے ۔ پاکستان کی بہادر افواج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بھارت کسی خیام خیالی اور خوش فہمی میں نہ رہے ۔ بھارت دنیا کے سامنے معصوم بننے کی ناکام کوشش کررہا ہے لیکن عالمی برادری اس کے عزائم کو جان چکی ہے پاکستان کا صبر دیدنی ہے ورنہ بھارت کی مکاری نکل چکی ہوتی ۔ بھارت خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہا ہے جو خطرناک کھیل ہے اس سے خطے کا امن تباہ ہوگا اور ترقی و خوشحالی کی راہیں مفلوج ہوکر رہ جائیں گی ۔ بھارت ہٹ دھرمی کو چھوڑے اور مسئلہ کشمیر کو سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حل کرے ۔ پاکستان مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے ۔ جنگ سے اجتناب دونوں ملکوں کیلئے بہتر ہے ورنہ بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا ۔ پاک فوج جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہے اور وطن کیلئے جانوں کے نذرانے دینا اس کیلئے قابل فخر ہے۔ شہادت کیلئے اس کی تڑپ ہمہ وقت رہتی ہے وطن کے دفاع کیلئے جان کی قربانی دینے کیلئے افواج پاکستان تیار ہے ۔ عسکری قیادت اور عوام بھی پرعزم ہیں بہتر ہے بھارت چھیڑ چھاڑ سے باز رہے اس نے جارحیت کا مظاہرہ کیا تو پھر اس کو منہ کی کھانا پڑے گی دشمن کے ناکوں چنے چبوانا اور دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی صلاحیت پاک فوج میں بدرجہ اُتم موجود ہے۔ بھارت کی دوعملی اورمکاری سے دنیابخوبی آگاہ ہے مگرمچھ کے آنسوبہانے بے سود جائیں گے۔
سارک کانفرنس ملتوی
اسلام آباد میں منعقدہ ہونے والی سارک کانفرنس بھارتی ہٹ دھرمی کے باعث ملتوی کردی گئی ۔ بھارت بنگلہ دیش ، بھوٹان اور افغانستان نے نہ آنے کی اطلاع دی تنظیم کے موجود چیئرمین نیپال نے پاکستان کو اس ضمن میں آگاہ کیا ۔ دفتر خارجہ قوانین کے تناظر میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ایک رکن بھی شرکت سے انکار کرے تو کانفرنس نہیں ہوتی ۔ بنگلہ دیش نے داخلی معاملات میں بڑھتی مداخلت وجہ بتائی ۔ سارک سیکرٹریٹ نے سرکاری طورپر آگاہ نہیں کیا ۔بھارت پہلے بھی چار با رکانفرنس میں شرکت سے انکار کرچکا ہے ۔نریندر مودی نے افغانستان ، بنگلہ دیش اور بھوٹان کو دبا لیا ۔بھارت کا یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ وہ اپنے مظالم چھپانے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے۔ بھارت اڑی حملہ پانی بند کرنے کی دھمکیاں اور دیگر تمام اقدامات کا بھارتی مقصد دنیا کی توجہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹاتا ہے ۔ بھارتی انتہا پسند وزیراعظم خطے کے امن کو تباہ کرنے پر تلا ہوا ہے ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں بربریت کررہا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا کر اس کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ بھارت ایک جارح ملک ہے اور الزام پاکستان پر لگا رہا ہے۔ بھارت کا معاملہ چور مچائے شور اور الٹا چوکوتوال کو ڈانٹنے والا ہے ۔ بھارت کی یہ خوش فہمی ہے کہ وہ اس طرح کا پریشر ڈال کر پاکستان پر اپنی دھاک بٹھا لے گا یہ اس کی بھول ہے پاکستان ہر مسئلے کا پرامن حل چاہتا ہے ۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت کا اصل چہرہ کیا ہے اب تو وہ بے نقاب ہوچکا ہے تحریک آزادی کو دبانے کیلئے بھارتی ریاستی تشدد اور مظالم کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ بھارت اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کو دیدہ دانستہ نظر انداز کرتا چلا آرہا ہے اور اس کی ہٹ دھرمی سے کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں مل رہا پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی سفارتی اور سیاسی حمایت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے اور وہ اس فریضہ سے کبھی بھی دستبردار نہیں ہوگا ۔ بھارت سفاکی کے خلاف جاری تحریک آزادی تقویت پکڑتی جارہی ہے ۔ بھارت جتنے چاہیے ظلم کرے جتنی چاہیے بربریت کرے اور جتنی چاہیے سفاکی کرے تحریک آزادی کے متوالے اپنے حقوق سے کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے سارک کانفرنس کی ملتوی کسی بھی لحاظ سے دوست نہیں لیکن بھارتی سازش کا یہ نتیجہ ہے کہ اس کانفرنس کو ملتوی ہونا پڑا۔ بھارت اپنی روایت کو برقرار رکھنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا۔
کسانوں کا دھرنا ختم
پاکستان کسان اتحاد نے اپنے مطالبات کے حق میں دوسرے روز بھی مال روڈ لاہورپر اپنا احتجاجی دھرنا جاری رکھا۔ رات گئے حکومت سے کامیاب مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کردیا ۔ کسان اتحاد کے چیئرمین ملک خالد کھوکھر نے کہا کہ حکومت کی طرف سے بجلی کے یونٹ کی قیمت میں کمی کرنے کی یقین دہانی پر احتجاج ختم کیا گیا ۔ بجلی کا یونٹ پانچ روپے پینتیس پیسے کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی،گرفتار کسان رہا دھرنے میں پی پی پی جبکہ عوامی تحریک کے قائدین نے شرکت کی ۔ حکومت کا فرض قرار پاتا ہے کہ وہ کسانوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے کسانوں کا احتجاج کا محرک جو عوامل تھے ان کو حل کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جہاں تک احتجاج اور مظاہروں کا تعلق ہے تو جمہوری دور حکومت میں ہوا

آل پارٹیز کانفرنس۔ نہتّے کشمیریوں پر بھاتی مظالم کی مذمّت

رابطہ فورم انٹرنیشنل کے زیر اہتمام آل پارٹیز کانفرنس۔۔۔ نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی مذمّت کیلئے زیر صدارت ،نصرت مرزا صاحب مشہور اینکر پرسن، دانشور، کالم نگار ، تجزیہ نگار اور مسلم اتحاد کے داعی کی صدارت میں کراچی کے ایک مقامی ہوٹل میں مورخہ ۲۷؍ ستمبر۲۰۱۶ء حسب پروگرام منعقد ہوئی۔ اس آل پارٹیز کانفرنس میں جماعت اسلامی سندھ کے امیر معراج الہدیٰ صدیقی صاحب، مسلم لیگ نون کے سیکرٹری جنرل کراچی ڈویژن خواجہ طارق نذیر صاحب، پیپلز پارٹی کے حبیب الدین جنیدی، تحریک انصاف آزاد جموں و کشمیر سندھ زون کے صدر سردار مقصودزمان، مسلم کانفرنس کے عبدالرشید ڈار، جمیعت علمائے پاکستان قاضی احمد نورانی، عوامی نیشنل پارٹی،میر نواز خان مروت ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان سمیت دیگر سیاسی ،مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں، دانشوروں،، صحافیوں اور سول سوساٹی کے حضرات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔سب سے پہلے نصرت مرزا صاحب نے کشمیر کی موجودہ تحریک آزادی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ جد وجہد مقامی ہے اس میں پاکستان کی مداخلت کا بھارتی واویلا با لکل غلط ہے۔انہوں نے بیرونی دنیا کے کچھ حضرات کے کشمیر پر بیانات کو کانفرنس کے شرکاء کے سامنے رکھا اور ثابت کیا اب بھارت کشمیر پر تازہ مظالم کی وجہ سے تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ جب کشمیر میں مظالم کی انتہا کر دی جائے تو اُڑی جیسے واقعات ہونا کوئی نئی بات نہیں۔ بھارت میں ۲۶ ؍ سے زائدعلیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔اب تو سکھ بھی بھارت سے آزادی ے لیے پاکستان سے مدد مانگ رہے ہیں۔ معراج الہدیٰ صدیقی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ حکومت کو کشمیر میں بھارتی ظلم ستم اور موجودہ پوزیشن کو اجاگر کرنے اور وکالت کرنے کے بین ا لا قوامی فورم پر پہنچنے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں نے ایک مرتبہ پھر اپنی انگنت قربانیوں کی وجہ سے کشمیر کے مسئلہ کو زندہ کیا ہے۔آج تک کسی بھی حکومت نے ملک کے مفاد کے لیے اپنی خارجہ پالیسی نہیں بنائی۔بھارت جب پاکستان کو پانی بند کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو جواب اسلام آباد سے چاہیے تھا لیکن ہما لیہ سے اونچی سمندروں سے گہری دوستی والے چین ،بھارت کو منہ توڑ جواب دے رہا ہے۔کشمیری اپنے بچوں کے لاشیں اپنے کندھوں پر اُٹھانے کے لیے تیار ہیں لیکن اپنے حق سے ایک اینچ بھی ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ان کی اس جدوجہد کو سلام پیش کرتا ہوں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سے بیرون دنیاجانے والے ۲۲ رکنی وفد میں ایسے لوگ بھی شامل کیاجائے جو کشمیر کے بارے میں جانتے ہوں۔ کشمیر مسئلہ پر سیر سپاٹا کرنے کے بجائے حکومت کو ڈٹ کر کشمیر پر مو قف اختیار کرنا چاہیے۔ہم تحریک آزادی کشمیر کی کھل کر حمایت کرتے ہیں ان کی جد وجہد اقوام متحدہ کے آزادی کے چارٹر کے عین مطابق ہے۔بھارت کشمیر سے اپنی مسلح افواج واپس بلائے۔برہان مظفر وانی کی شہادت اور کشمیریوں کے ۸۰؍ روز سے زیادہ رد عمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کشمیریوں نے پاکستان میں شمولیت کیلئے اپنی رائے دے دی ہے۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر اب پاکستان کا حصہ ہے۔ مسلم لیگ نون کے خواجہ طارق نذیر صاحب نے کہا کہ پاکستان کے وزیر اعظم جناب نواز شریف نے اقوام متحدہ میں کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کیا ایسے اس سے قبل کسی نے نہیں کیا۔ جے یو آئی کے رہنما قاضی احمد نوارانی کا کہا تھا کہ حکومت اور انسان دوست تنظیمیں کشمیر کے مظالم کی حمایت میں آواز بلند کریں اور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈال کر نہتے کشمیریوں پر ظلم ستم رکوائیں۔ نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما نے کہا کہ موجودہ آزاد کشمیر کو آزاد کرانے میں قبائیلیوں نے کشمیریوں کا ساتھ دیا تھا۔ اب بھی ہم کشمیر کی آزادی کی مہم میں برابر کے شریک ہیں۔ میر نواز مروت صاحب نے تاریخی خوالہ جات دے کر ثابت کیا کہ کشمیر کسی بھی دور میں ہندوستان کا حصہ نہیں رہی ہے۔ مقررین نے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بھارت جیسے غیر ذمے دار ملک کو ایٹمی سپلائر ز گروپ کی ممبر شپ نہ دی جائے نہ ہی ایٹمی ملک تسلیم کیا جائے۔بھارت فوراً حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو رہا کرے۔کشمیر سے کرفیو ہٹایا جائے۔امدادی سامان پہنچانے کے لیے دنیا کی تمام انسان دوست تنظیموں کے ساتھ مل کر اجلاس بلایا جائے۔ کانفرنس میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ بھارت دنیا کے تمام ملکوں کے صحافیوں کو کشمیر جانے کی اجازت دے اور وہاں سے خبریں ارسال کرنے کی اجازت دے۔ بھارت کی آبی جارحیت کی کوشش نہ کرے جس سے سنگین نتائج بر آمند ہو گے۔ آخر میں نصرت مرزا صاحب تمام شرکاء کانفرنس کی اجازت سے ایک قرادا منظور ی کے لیے کانفرنس میں پیش کی جس کو سب نے ہاتھ اُٹھا کر منظور کیا۔اس قرارادا میں کہا گیا کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں،دانشوروں، اور صحافیوں کا یہ آل پارٹی کافرنس کا اجلاس بھارتی مقبوضہ کشمیر کی جد وجہد آزادی کی تحریک کی مکمل حمایت کرتا ہے کیونکہ وہ جائز اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے عین مطابق ہے۔ یہ اجلاس بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے نہتے کشمیریوں پر ظلم وستم کی شدید مذمت کرتا ہے۔یہ اجلاس بھارتی جنگی جنون کی بھی مذہمت کرتا ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان کی حفاظت کے لیے سب پاکستان کے ساتھ ہیں۔یہ اجلاس بھارت پر واضح کرنا چاہتا کہ پاکستان بھر پور ایٹمی صلاحیت کا حامل ملک ہے اس لیے وہ برصغیر پاک وہندد کو یٹمی جنگ کا میدا ن بنانے کی کو کوشش نہ کرے۔ یہ اجلاس یہ بھی مطالبہ کرتا کہ اُڑی حملہ پر پاکستان پر الزامات لگانا بند کرے اور اس واقعہ کی تحقیقات کرانے کیلئے غیر جانبدار عالمی کمیشن بنایا جائے۔یہ اجلاس مطابہ کرتا ہے کہ بھارت جیسے غیر ذمہ دار مک کوا یٹمی سپلائرز گروپ کی ممبر شپ نہ دی جائے اور نہ ہی اُسے ایٹمی ملک تسلیم کیا جائے۔ یہ اجلاس انسانیت کے ناتے کرہ ارض کے تمام انسانوں، حکومت اور ا نسان دوست تنظیموں سے اپیل کرتا ہے کہ کشمیر کے مظلوم عوام کی حمایت میں آوازبلند کریں اور بھارتی حکومت پر دباؤ ڈال کر نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم رکوائیں۔یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر سے اپنی مسلح افواج واپس بلائے۔برہان مظفر وانی کی شہادت اور کشمیریوں کے ۸۰ ؍روزہ رد عمل ے یہ ثابت کر دیا کیہ کشمیریوں نے پاکستان میں شمولیت کے لیے اپنی رائے دی دی ہے کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر اب پاکستان کا حصہ ہے۔یہ اجلاس حریت کانفرنس کے رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کرتا ہے۔ کشمیر سے کرفیو فوراً ہٹایا جائے۔امدادی سامان کشمیریوں تک پہنچانے کے لیے دنیا کی انسان دوست تنظیموں کو اجازت دی جائے۔ پیلٹ گن سے سیکڑوں کشمیریوں کواندھا کر دیا گیا ہے ان تک ڈاکٹروں کو رسائی دی جائے۔ صحافیوں کو بھارتی مقبوضہ کشمیر جانے اور خبریں ارسال کرنے کی اجازت دی جائے۔یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ بھارت آبی جارحیت کی کوشش نہ کرے اس کے سنگین نتائج بر آمد ہوں گے اور جنگ چھڑجائے گی۔ اس قرارداد کے منظور ہونے کے بعد اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔

دوست نما دشمن۔۔۔ شوق موسوی
کئی عشروں سے ان افغانیوں کو گھر میں رکھا ہے
مراعتیں ہمیشہ وہ اضافی مانگ لیتے ہیں
کبھی وہ آ کے پرچم پھاڑتے ، چوکی گراتے ہیں
ذرا ہم راستہ روکیں معافی مانگ لیتے ہیں

بھارتی ڈھٹائی سے سارک سربراہ کانفرنس کا التواء

بھارت کی زیر سرکردگی 4ملکوں کی طرف سے سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کے بعد تنظیم کے قواعد کے مطابق کورم پورا نہ ہونے کے باعث اسلام آباد میں منعقد ہونے والی 19ویں سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کر دی گئی۔بھارت اور بنگلہ دیش نے تنظیم کے موجودہ چیئرمین نیپال کو اپنی عدم شرکت سے آگاہ کر دیا۔ اطلاعات یہ ہیں کہ بھوٹان اور افغانستان بھی اس کانفرنس میں شرکت نہیں کر رہے۔ سارک کے چارٹر کے تحت اگر کوئی رکن ملک اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتا ہے تو اس صورت میں اجلاس کا انعقاد نہیں ہو سکتا۔
مشیر امور خارجہ سرتاج عزیز نے سارک سربراہ کانفرنس ملتوی کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے افسوسناک قرار دیا اور کہا ہے کہ آئندہ سارک سربراہ کانفرنس جب بھی ہو گی پاکستان میں ہی ہوگی۔یہ سربراہ کانفرنس 9 اور 10 نومبر کو اسلام آباد میں منعقد ہونی تھی۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے دہشت گردی کے روایتی نام نہاد الزام کی آڑ لیتے ہوئے کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ سارک سیکرٹریٹ کی طرف سے سربراہ کانفرنس کے التواء کے بارے میں ابھی تک پاکستان کو آگاہ نہیں کیا گیا۔ بھارت کی پیروی میں بنگلہ دیش نے بھی سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ہے کہ سارک میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ، خالصتا اس کا اپنا ہے۔ سفارتی حلقوں کی پختہ رائے ہے کہ سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت نہ کرنا، بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف سفارتی جارحیت کا ایک اقدام ہے۔ نیپالی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان نے اجلاس کیلئے ماحول ناسازگار قرار دیا ہے۔ چاروں ممالک کے اعتراض کو سنجیدگی سے لیا گیا۔ بطور چیئرمین سارک کہتے ہیں کہ سربراہ اجلاس کیلئے ماحول سازگار بنایا جائے۔کانفرنس ملتوی کرنے کا فیصلہ بھارتی ڈھٹائی کے باعث کیا گیا۔ بنگلہ دیش کے جونیئر وزیرِ خارجہ شہریار عالم نے تصدیق کی کہ ان کا ملک اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گا۔ بنگلہ دیش کی جانب سے نیپال کو بھیجے گئے پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’ بنگلہ دیش کے داخلی معاملات میں ایک ملک کی بڑھتی ہوئی مداخلت کی وجہ سے ایسا ماحول پیدا ہو چکا ہے جو نومبر میں اسلام آباد میں 19ویں سارک سربراہ اجلاس کے کامیاب انعقاد کے لیے مناسب نہیں۔ اسی وجہ سے بنگلہ دیش سربراہ اجلاس میں شرکت سے قاصر ہے۔یہ پہلی بار نہیں کہ بھارت نے سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کیا ہو۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا۔ بھارت کم از کم 4 مرتبہ سارک کانفرنس میں شرکت سے انکار کر چکا ہے۔ سارک کانفرنس کے پلیٹ فارم کو متاثر کرنے کا بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہے۔ بھارت ہمیشہ ہی سے سارک کانفرنس کی راہ میں روڑے اٹکاتا رہا ہے۔ سارک کانفرنس کے پلیٹ فارم کا بنیادی مقصد خطے کے عوام کی معاشی حالت بہتر بنانا ہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث خطے کے پسے ہوئے عوام مزید پسماندگی کا شکار ہوں گے۔ بھارت کے منفی روینے کا مقصد دنیا کی توجہ کشمیر کی صورتحال سے ہٹانا ہے۔ بھارتی سرکار ڈھائی ماہ میں سو سے زائد کشمیریوں کو شہید کر چکی ہے۔ مقبوضہ کشمیر بھیجے گئے فیکٹ فائنڈنگ مشنز بھارت کے چہرے سے نقاب اتاریں گے۔
اس خطے کے سات ممالک نے دو طرفہ باہمی تعلقات بہتر بنانے، ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی تجارتی تعاون کو فروغ دینے اور روزمرہ کے باہمی تنازعات طے کرنے کیلئے 30 سال قبل سارک تنظیم قائم کی تھی جس کے بنیادی ارکان میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، سری لنکا، مالدیب، نیپال اور بھوٹان شامل ہیں۔ گزشتہ سال افغانستان کو بھی اس تنظیم کی رکنیت دی گئی۔ اپنے منشور، ایجنڈے اور پروگرام کے ناطے یہ تنظیم اس خطے کی موثر نمائندہ تنظیم بن سکتی ہے اور تنظیم کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ علاقے کی بہتری اور اقتصادی ترقی و استحکام کیلئے بھی نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے مگر بھارت نے علاقے کی تھانیداری کی حرص اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت شروع دن سے ہی سارک سربراہ تنظیم کو یرغمال بنانے اور اسے اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بدنیتی کا اظہار شروع کر دیا اور پاکستان اور بھارت کے دیرینہ تنازعہ کشمیر کو سارک سربراہ کانفرنس کے ایجنڈے کا حصہ نہ بننے دیا۔ اس طرح بھارت نے علاقائی تعاون کی اس تنظیم کی افادیت ختم کرنے اور اسے اپنی خواہشات کا اسیر بنائے رکھنے کی کوشش کی جس کا سارک کے رکن خطے کے دوسرے ممالک میں ردعمل پیدا ہونا فطری امر تھا۔ بے شک سارک کے دوسرے رکن ممالک بھارت جتنی آبادی، رقبہ اور وسائل نہیں رکھتے مگر آزاد اور خودمختار ہونے کے ناطے انہیں بھارت کے مساوی حیثیت ہی حاصل ہے جو یو این چارٹر میں تسلیم شدہ ہے۔اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے تحت بھارت چونکہ پاکستان کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کی خودمختاری میں بھی مداخلت کی سازشیں بروئے کار لاتا رہتا ہے اور سارک کے سربراہ موجودہ چیئرمین نیپال کے خلاف تو اس نے گزشتہ سال سے گھناؤنی سازشوں کے جال پھیلانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ جس نے اپنے آئین میں بھارت کی بھجوائی گئی ترامیم شامل کرنے سے انکار کیا اور اسے اپنی خودمختاری بھارت کی جانب سے چیلنج کئے جانے کے مترادف قرار دیا۔ بھارت نے اس پر گزشتہ سال سے ہی نپیال کا اقتصادی طور پر ناطقہ تنگ کرنے کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانا شروع کر رکھا ہے اس کے باوجود نیپال نے بھارت کے توسیع پسندانہ عزائم کے آگے سر تسلیم خم نہیں کیا اور اپنی خودمختاری مضبوط بنانے والے اپنے آئین کو ہی نافذ کیا ہے۔ اسی طرح بھارت سری لنکا، بھوٹان اور بنگلہ دیش کو بھی سکون سے نہیں بیٹھنے دیتا اور انہیں اپنی پالیسیاں ڈکٹیٹ کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ تو اس کی شروع دن سے مخاصمت ہے جس کو اس نے آج تک ایک آزاد اور خودمختار مملکت کی حیثیت سے تسلیم نہیں کیا اور آج وہ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی سازشوں کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔ چنانچہ سارک تنظیم میں صرف افغانستان ہی وہ ملک ہے جو بھارتی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہا ہے اور وہ پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کی بھارتی سازشوں میں بھی شریک رہتا ہے۔ بھارتی توسیع پسندانہ عزائم سے عاجز آئے سارک تنظیم کے دوسرے رکن ممالک کو اب سارک تنظیم کے پلیٹ فارم پر متحد ہو کر بھارتی عزائم کا توڑ کرنا ہو گا۔ اگر بھارت اپنی برتری کے زعم میں اور پاکستان کے ساتھ تنازعہ کشمیر پر جاری اپنی کشیدگی کو مزید بڑھانے کی خاطر سارک سربراہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کرتا ہے تو سارک کے دوسرے رکن ممالک اس بھارتی بدنیتی کو سارک تنظیم کی کمزوری نہ بننے دیں اور شیڈول کے مطابق سارک سربراہ کانفرنس کا انعقاد کرکے اپنی آزاد و

مسلما ن قیا دت ومغر ب کا دو ہر ا معیا ر

شام میں امدا دی قا فلہ پر بمبا ری سے 20امدادی لو گ ما رے گئے جو تقر یباً 78ہزار افرا د کیلئے دو ائیا ں خوراک اور موسم سر ما کیلئے کپڑو ں پر مشتمل جو 31ٹرکو ں پر شا می شہر حلب جا رہا تھا ۔ نا معلو حملہ آورو ں نے حملہ کر کے دو در جن کے قر یب بے گناہ افراد ہلا ک او کر و ڑوں ڈا لرکا قیمتی سا ما ن بر با د کردیا ۔ جس کے بعد اقوا م متحدہ نے شا م میں اپنا مشن معطل کردیا۔ معلو مات کے مطابق امدادی قا فلے کی اطلا عا ت رو س، شام اور امریکہ تمام گر وپو ں کوتھیں ! امریکہ اور اقو ام متحد ہ کے خیا ل کے مطابق حملہ شام یا روس نے کیا ہے۔ حا لانکہ دونو ں مما لک نے اس حملہ سے لا علمی کا اظہا ر کیا ہے۔ افغا نستان میں امر یکہ طیا رو ں نے طالبا ن پر حملہ کیاجو افغا ن فو ج کے خلاف صو بہ اردگا ن میں لڑ رہے تھے ۔ امر یکی طیا رو ں کے طالبا ن پر حملے مرنے والے8پولیس اہلکار افغا ن حکومت کے حا می تھے ! نیٹو کی ا طلا عا ت کے مطا بق امر یکی فضا ئیہ کا حملہ افغا ن فوجیو ں کو کمک پہنچا نے اور طالبا ن کی کمر تو ڑ نے کیلئے تھا !پو لیس کما نڈ ر رحیم اللہ نے بے گنا ہ پو لیس اہلکا رو ں کی مو ت کی تصد ق کی ہے ۔ امریکی فو ج کے تر جمان نے بھی حملے کی تصد یق کی ہے۔ مگر ان کامقصد طا لبا ن کو نقصان پہنچا ناتھا ۔ امر یکہ کے کئی فضا ئی وڈرون حملوں میں ہزا رو ں افغا نی و پا کستا نی ہلا ک کئے گئے ہیں ۔ ان میں خوا تین بھی تھے ۔ بچوں کے علاوہ طلبہ بھی مارے گئے ۔بز رگ اور جو ان بھی امر یکی حملوں میں ما رے گئے۔ ان حملو ں میں واقعی دہشت گر د بھی ہلاک ہو ئے ہونگے۔ مگر ان حملو ں میں بے گنا ہ مر نے والو ں کی تعدا دگنا ہگا رو ں سے کہیں زیا دہ بتا ئی جا تی ہے ۔امر یکی و روسی افواج نے افغا نستا ن پر با ری با ری چڑہا ئی کی ! دو نو ں فوجوں نے افغا نو ں اور پا کستا نیو ں کو جانی ما لی ،فوجی ،مذہبی ، اخلاقی نقصا ن پہنچایا ! بلکہ امریکی و روسی حملو ں نے صر ف افغا نوں اور پا کستا نیو ں کو نقصا ن نہ پہنچایا ،دنیا بھر کے اسلا می مما لک میں اپنے اپنے مفا د ات کیلئے رو س اور امریکہ نے تبا ہی و بر با دی میں حصہ لیا ۔ افغا نستان ہوکہ ! شام،مصر ہو کہ ! عراق ،لیبا ہو کہ ! یمن ، دنیا اسلا م اس وقت سخت مشکل ،مصیبت میں ہے ۔ پا کستا ن میں دھماکے ،خو دکش حملے،اور ٹا ر گٹ کلنگ سے نہ صر ف ہز ارو ں افرادکی جانیں لے چکے ہیں ۔اربو ں روپے کامالی نقصا ن ہو چکا ۔لیکن اسکے با و جو د امریکہ ہم پرنا را ض ہے اور آئے رو ز Do Moreکے مطا لبے کر تاہے ۔ حا لانکہ اس جنگ میں ہماری فورسز کا بے پنا ہ جانی نقصان ہو چکا ! امر یکہ ہز ارو ں سول اورہز ارو ں فو جیو ں کی جانو ں کی قر با نی کے با وجو د ہم سے نا خوش ہے ۔بلکہ ہمارے دشمن ہند وستا ن سے مراسم بہتر کرنے میں مصروف ہے۔افغا نستان جو تقر یباً نصف صدی سے حالت جنگ میں جس کے لا کھو ں لوگ جنگ میں مارے جا چکے! یا معذورہوچکے! لا کھو ں کی تعداد میں لوگ دنیا بھر میں مہا جر ین رہ رہے ہیں ۔ افغا نستان کا کتنا مالی نقصان ہوا ؟اس کااندازہ ناممکن ہے۔ ترکی تر قی کی شاہر اہ پر دو ڑ نے لگا ہے ۔مگر مغر ب کو خوش کرنے کیلئے شام پر حملہ آورہے۔جبکہ مغر ب ترکی میں موجودہ حکومت کے خلا ف باغیو ں کی امدا د کر رہا ہے۔ترکی نہ صر ف شام جنگ میں شامل ہے بلکہ شامیوں کی اینٹ سے اینٹ بجا ئی جارہی ہے۔لاکھو ں شامی وطن چھو ڑ چکے ہیں شامیو ں کو مارنے والو ں میں روسی ،امریکی ،بر طانوی،اورمسلم ممالک شامل ہیں ۔ عراق کی اینٹ سے اینٹ بج چکی ،مصرمیں جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ہز ارو ں افراد کو قید اورسکیڑ و ں عوامی نمائند وں کومو ت کی سزا ئیں سنا ئی جا رہی ہیں۔جمہوریت کے علمبر دار جمہو ری حکو مت کے تختہ الٹنے اور جمہو ری نما ئند وں کو سز ائے مو ت دینے پر خو ش ہیں۔ یہ ہے کہ مغر ب کا دو ہرا معیا ر ! بات کہیں سے کہیں چلی گئی !دنیا بھر میں مسلمانو ں کومارااو ر ختم کیا جارہاہے۔مگر مسلم حکمران اپنے اپنے اقتدارکو بچانے کیلئے مغر ب وامریکہ کوخو ش کرنے کیلئے ہرحکم بجا لانے پر راضی ہیں۔بمبا ری عرا ق میں ہوکرافغا نستان میں ، ڈاروں حملہ شام میں ہو کہ!یمن میں ،خودکش ،پا کستان میں دھماکہ کریں ! لیبیامیں مرنے والے سب مسلمان ہیں ۔مگر مسلم اقوام متحدہ کاشیرازہ بکھر چکا ! تمام مسلما ن حکمران مغر ب ویو رپ کے ایجنٹ بن کر نہ صرف ملک وملت کا خون چوس رہے ہیں اور دشمن کی ہر فرمائش پوری کرنے کوتیا رہیں ،نہ جانے رو س اور امریکہ کتنے بے گناہ مسلمانوں کاخو ن کر چکے! مگر آج تک کوئی مسلمان لیڈ ر اقوام متحدہ میں ان مسلمانو ں کی مظلومیت کا کیس نہ پیش کرسکا۔ مسئلہ کشمیر یقیناًکشمیریوں کاسب سے بڑ امسئلہ ہے جو پچاس بر س گزرجانے کے با و جو د صر ف قرا دادو ں کی زینت بنا ہو ا ہے۔ جبکہ دنیابھرمیں لا کھو ں بے گنا ہ مسلمانو ں کی قتل وغا رت کاکیس نہ سعودی عرب نہ تر کی اورنہ ہی پا کستا ن پیش کرسکا! دنیا بھر کے مسلم ممالک امریکہ کی قیادت میں مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف اقوام متحدہ میں قر ار داد پیش کرکے مسلما نو ں کوتحفظ کی کو شش کر یں ا ورنہ جلدلیبیا،عراق ، افغانستان، شام، یمن،جیسے حا لات پاکستان، ترکی اورسعودی عرب کے ہو ں گے۔اور تب امر یکہ آ پ کو ما رنے والا ہو گا ۔

سیاست ، تہذیب اور عمران خانیت

ابوالکلام آزاد نے کہا تھا : سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ، میں عمران خان اور کے رفقائے کرام کا طرف گفتگو سن رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کیا اب سیاست کی آنکھ سے حیا بھی رخصت ہو چکی؟
چند ہی سوالات ہیں جو موجودہ صورت حال میں بہت اہم ہیں۔
شیخ رشید اور عابد شیر علی میں کتنا فرق ہے؟
علیم خان سعد رفیق سے کتنے بہتر ہیں؟
جازی خان حنیف عباسی سے کتنے درجے زیادہ متقی ہیں؟
خان سرور خان چودھری نثار علی خان سے کتنے بہتر ہیں؟
شاہ محمود قریشی امین الحسنات شاہ سے کتنے درجے زیادہ صوفی منش اور درویش ہیں؟
جہانگیر تریں شاہد خان عباسی سے کتنا مختلف ہیں؟
اب خدا لگتی کہیے ان نابغوں میں سٹیٹس کو کا مخالف کون ہے؟
بلکہ اب ایک سوال کا اضافہ کر لیں. مالی اخلاقی اور فکری اعتبار سے عمران. خان نواز شریف سے کتنے درجے بہتر ہیں؟
ان چند سوالات کے جواب میں گالیوں اور مغلظات کا ایک طوفان تھا جو بتا رہا تھا کہ خان صاحب کی اصطلاح ٹائیگر مئیں کتنا جہان معنی پوشیدہ ہے۔
لیکن اب دشنام کے اس کھیل میں خود عمران خان شریک ہو گئے ہیں۔پڑھیے اور سر پیٹ لیجیے۔
نرگسیت کے گھونسلے سے سر نکال کرصاحب نے فرمایا:’’ ناراضی کس بات کی، مارچ کی دعوت دینے جا رہا ہوں رشتہ لینے تو نہیں جا رہا‘‘۔گویااخلاقیات کے علمبرداروں نے اپنے کزن طاہر القادری کو بھی نہیں بخشا، حالانکہ کزنز کا ’دادا‘ ایک ہوتا ہے۔
اختلاف ایک چیز ہے ،جسے گوارا کیا جانا چاہیے کہ یہ زندگی کا حسن ہے اور سماج میں شعوری بیداری کی علامت۔لیکن اخلاقیات سے گری ہوئی گفتگو پست ذہنیت کی علامت ہے۔شیخ رشید جیسوں کی صحبت صالح نے اب معلوم نہیں عمران خان کو بدل دیا ہے یا صرف بے نقاب کیا ہے۔تاہم وہ جو زبان استعمال کر ہے ہیں وہ ان کے فکری افلاس اور اخلاقی بحران کا اعلان عام کر رہی ہے۔
تحریک انصاف نے اور کچھ کیا یا نہیں بد تمیزی اور گالیوں کو ایک کلچر بنا دیا۔ہماری صدیوں کی تہذیب و روایت ہے کہ مائیں،بیٹیاں سانجھی ہوتی ہیں ۔اختلاف بھلے دشمنی تک بھی پہنچ جائے ماؤں بیٹیوں کا احترام کیا جاتا ہے۔عمران خان نے اس تصور کو بیچ بازار پامال کر دیا ہے ۔
جب قائد محترم ہی تہذیب نفس سے محروم ہوں تو ٹائیگرز کا تو کیا ہی کہنا۔بعض تو اسم بامسمی ہیں۔دکھ ہوتا ہے کہ ان سے ہم نے کیا توقعات وابستہ کر لیں لیکن یہ کتنے چھوٹے اور کتنے بودے نکلے۔
مریم نواز کے بارے میں تحریک انصاف کے عام کارکنان نے نہیں ، مرکزی عہدیداروں نے جس زبان میں گفتگو فرمائی اور جس طرح کے ٹویٹ کیے وہ بتا رہے کہ تحریک انصاف کا اخلاقی بحران کتنا شدید ہو چکا ہے۔
جواب آں غزل کے طور پرٹیرن خان کے بارے میں بھی بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی ویسی ہی بد تہذیبی اور بد اخلاقی کہلائے گی جس کا مظاہرہ تحریک انصاف کر رہی ہے۔
عمران کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی عمر صالح کا غالب ترین حصہ ’ چھڑے‘ کے طور پر گذرا ہے۔گھر ، آنگن،چاردیواری میں پنپنے والے رشتوں کی لطافت سے وہ محروم ہی رہے۔انہیں اس لطیف احساس کی بھی کوئی خبر نہیں کہ بیٹی کیا ہوتی ہے۔ان کے گھر کا آنگن بیٹی کے قہقہوں اور اور اس کی شرارتوں سے محروم ہی رہا۔انہیں خبر ہی نہیں باپ اور بیٹی کا رشتہ کیسا ہوتا ہے۔وہ نہیں جانتے کہ رات گئے جب بیٹی ضد کرے ’’ بابا پیپسی کی بھوک لگی ہے‘‘ تو اس ضد کو پورا کرنے کے لیے گھر سے گاڑی نکالنا کتنا پیارا تجربہ ہوتا ہے۔بیٹی کی مسکراہٹ اور قلقاریوں میں کیسا امرت ہوتا ہے انہیں معلوم نہیں۔وہ اس بات سے بھی بے خبر ہیں کہ بیٹی کی آنکھ پر نم ہو جائے تو من کی دنیا کیسے اتھل پتھل ہو جاتی ہے۔انہیں قدرت نے ایک باپ کی ذمہ داریاں نبھانے کا موقع بھی نہیں دیا۔عالی ظرف جمائما بھابھی ہی بچوں کا باپ بھی بن گئیں ۔مقبول ترین آدمی کی زندگی کا یہ پہلو آدمی کو اداس کر دیتا ہے۔وہ اس حوالے سے

Google Analytics Alternative