کالم

4 تصادم سے گریز میں ہی جمہوریت کی بقاء ہے

احتجاج  جمہوریت کا حسن ہے اور پرامن احتجاج روکنے کیلئے ڈنڈے ، گنڈاسے اٹھا کر سیاسی ماحول کو مدر کرنا دانشمندی نہیں کون کہتا ہے کہ حکمرانوں کو کچھ نہ کہو، ان کی کوتاہی کی نشاندہی نہ کی جائے لیکن مثبت تنقید سے اپنی بھی اصلاح کریں حکومتی کارکردگی کے حوالے سے ’’وائٹ پیپر کی یہ ریت سابقہ حکومتوں کے دور میں ڈالی گئی اور اس کا مقصد جائز طورپر حکومت کے غلط کام کی نشاندہی کرکے صحیح سمت متعین کرنا نہیں بلکہ آپس کی محاذ آرائی کو اور بڑھانا اور کردار کشی تھا۔ ماضی کے ادوار پر نظر ڈالی جائے تو وہاں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان انتقام و نفرت کی سیاست کے سوا کچھ نہیں ملتا یہاں تک کہ ایک دوسرے کو سیکورٹی رسک اور غدار بھی کہا گیا ۔ ایک دوسرے کی پارٹیوں کے عہدیداروں کے خلاف مقدمات درج ہوتے رہے اورگرفتاریاں ہوتی رہیں۔ کوچہ سیاست میں آج بھی لہوگرمانے اور گرانے کامرحلہ درپیش ہے۔ اقتدار کے کراؤن تک رسائی ہی شاید مطمع نظر ٹھہرا لیا گیا ہے ضد اور انا ہے کہ دونوں طرف پھنکار رہی ہے ۔ چیئرمین تحریک انصاف ہر حال میں 30 ستمبر کو رائیونڈ مارچ کیلئے کمربستہ ہیں ۔ ان کے بقول ملک کا آئین انہیں احتجاج کا حق دیتا ہے۔ حکمران جماعت کے بعض لوگ اس انتہا پسندی کو شہ دے رہے ہیں اور کارکنوں کو امادہ فساد کررہے ہیں ۔ سیاسی درجہ حرارت اس قدر آگے تک لے جانا اور کارکنوں کو تشدد پر اکسا کر ڈنڈا بازی کی تربیت دینا کسی سیاسی جماعت میں تشدد اور انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کی عکاسی قرار دیا جاسکتا ہے۔ پرامن احتجاج سب کا حق ہے لیکن مار دھاڑ ، گھیراؤ جلاؤ کی نہ تو آئین میں کوئی گنجائش ہے نہ قانون اس کی اجازت دیتا ہے۔ دنیا میں کوئی لیڈر جو انسانی جان کی حرمت سے واقف ہو اور ریاست کے ساتھ تصادم کی سوجھ بوجھ رکھتا ہو جسے عوام سے ہمدردی ہو وہ کبھی ایسا راستہ اختیار نہیں کرتا ۔ جدوجہد ہمیشہ آئین و دستور کے مطابق جمہوری اور مسلمہ اخلاقی روایات کے مطابق ہونی چاہیے معاشرہ کسی تخریب ، اشتعال اور تصادم سے گزرے بغیر تبدیلی سے دوچار ہو۔ ہمارے ہاں سیاست کی یہ ایک تلخ حقیقت رہی ہے کہ عوامی بیانات محض پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ اور الفاظ سے سیاست چمکانے کا ایک عمل ہے، عوام کا کبھی جمہوریت ، کبھی آمریت ، کبھی انصاف اور کبھی مذہب کے نام پر استحصال کیا جاتا رہا ہے۔ دھونس ، ہر کام کیلئے ناجائز دباؤ ڈالنا اور ڈلوانا اور شارٹ کٹ کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوشش کرنا یہی وہ سماجی رویے ہیں جن کی قبولیت اور عدم قبولیت ہی اس بات کا تعین کرتی ہے کہ کوئی رہنما کتنا عالیٰ ظرف ہے یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ سیاسی شخصیتوں کے تصادم میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوتا ہے ۔ اگر اختلافات کو تصادم کا رنگ دے دیا جائے تو تعمیری سوچ ختم ہو جاتی ہے ۔ پاکستان میں یہی کہانی دہرائی جارہی ہے۔جب ہم ہاتھوں میں ڈنڈے اور جیبوں میں پتھر بھر کر اسلحے کے سہارے سڑک پر آتے ہیں تو ساری دنیا ہماری وطن پرستی پر عش عش کر اٹھتی ہے۔ قوم دھرنوں، گھیراؤ جلاؤ اور ایجی ٹیشن کے ہولناک نتائج پہلے ہی بھگت چکی ، سیاسی مسائل کا حل سیاسی انداز میں تلاش کرنا چاہیے ملک جو پہلے ہی حالت جنگ میں ہے اور ہماری فورسز نے دہشت گردی کے خاتمے تک اس جنگ کو لڑنے کے عزم کا اظہار کیا ہے ان کی قربانیوں کو ایسے متوقع پرتشدد احتجاج کی نذر کرنا کوئی دانشمندی نہیں ہے۔
تحریک انصاف کی قیادت کو بھی چہے کہ وہ اپنا پلان واضح کرے اور ہرقسم کے ابہام کو دور کرے اور ہر قسم کے اختلافات اور معاملات کو جمہوری طریقوں سے حل کرے ۔ ایک بڑے مارچ کو روکنا ممکن نہیں جب ریاستی ادارے اسے نہیں روک سکتے تو سیاسی کارکن کیسے روکیں گے ۔ بہترین حل یہی ہے کہ حکومت اس احتجاج کی اجازت دے دے اور پولیس اور انتظامیہ کو یہ ذمہ داری سونپے کہ وہ تحریک انصاف کی انتظامیہ کے ساتھ مل کر اس مارچ کا روٹ اور حدود طے کرے ۔ بعض عناصر پرتشدد سیاست کو فروغ دے کر جمہوریت اور نظام کو خطرات سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔ سیاسی اختلافات کو مذاکرات کی میز پر حل کریں اور اپوزیشن اپنا موقف اس ایوان میں ارکان کے سامنے رکھے جو بہترین پلیٹ فارم ہے۔ اعلیٰ عدلیہ سے رجوع کیا جائے تاکہ انصاف مل سکے ۔ صرف عوام کو سڑکوں پر لاکر اور تلخی بڑھا کر مقاصد حاصل نہیں کیے جاسکتے فی الحال معاملہ کچھ یوں ہے ۔ رائیونڈ کا رخ کرنے پر تحریک انصاف سیاسی تنہائی کا شکار ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری بھی لندن روانہ ہوچکے ہیں۔ پانامہ لیکس پر ساتھ کھڑی جماعتیں بھی رائیونڈ جانے سے متفق نہیں۔ پیپلز پارٹی صاف انکار کرچکی ہے۔ جماعت اسلامی بھی رضا مند نہیں۔ تحریک انصاف کو اصل دھچکا اس وقت لگا جب طاہر القادری نے رائیونڈ جانے سے انکار کیا۔ طاہر القادری جتنی تیزی سے منظر پر ظاہر ہوتے ہیں اس سے کہیں زیادہ تیزی کے ساتھ اوجھل بھی ہو جاتے ہیں ۔ بلا شبہ وہ ایک شعلہ بیان مقرر اور پرجوش سیاسی قائد ہیں مگر یہ کسی کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کب کیا کریں ۔خان صاحب کو یہ بات جان لینی چاہیے کہ جو لوگ شیشے کے گھروں میں رہتے ہیں وہ ایک دوسرے پر پتھر نہیں پھینکتے ۔ اگر میاں صاحب کا احتساب ہوتا ہے تو آصف علی زرداری کیسے بچ سکتے ہیں ۔ حکومت گرنے کی صورت میں عمران کا راستہ صاف ہوگا یہ پیپلز پارٹی کو کسی صورت قبول نہیں۔ اسفند یار ولی اور مولانا فضل الرحمن عمران خان کے منطقی حریف ہیں ۔ خان نے ایک کو اقتدار سے محروم کیا ہے تو دوسرے کا راستہ روکا ہے ۔ ان کی دلی خواہش ہوگی کہ وہ غلطی پر غلطی کریں اور ان کی مقبولیت میں کمی ہو جائے ۔ پی ٹی آئی میں خلفشار روز بروز بڑھ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کے سابق ایڈیشنل سیکرٹری سیف اللہ نیازی کا احتجاجاً استعفیٰ اور یوتھ ونگ کا جہانگیر ترین کے خلاف اعلان بغاوت خان صاحب کیلئے تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔ عمران خان کو جاتی امراء مارچ کرنے کی بجائے پارٹی کے تنظیمی امور پر توجہ دینی چاہیے۔ 2018ء کا الیکشن بھی اب زیادہ فاصلے پر نہیں ۔ ایم کیو ایم شکست و ریحت کا شکار ہے لہذا ایم کیو ایم سے کسی قسم کی امید یا توقع کی وابستگی عبت ہے۔ جماعت اسلامی بدقسمتی سے نہ تیرہ میں ہے نہ تین میں خیبرپختونخواہ میں تحریک انصاف کی کارکردگی بھی اتنی قابل رشک نہیں کہ عوام اسے بہتر حکمران تصور کریں ۔ عمران خان نے سیاست کے عملی میدان میں پختگی ، بصیرت اور بہتر سمجھ بوجھ کا ثبوت نہیں دیا۔ تجزیوں کے مطابق 2018ء میں مسلم لیگ(ن) کے سویپ کرنے کے امکان ہیں۔ اس کی وجہ تمام تر تنقید کے ب اوجود مسلم لیگ(ن) کی ضمنی انتخابات میں بہتر کامیابی معاشی راہداری ، سی پیک کی تکمیل ، گوادر کی اہم بندرگاہ کی تعمیر سے پسماندہ علاقوں میں خوشحالی آنے اور عالمی سطح پر پاکستان کی اہمیت میں اضافہ

دھوکے باز پڑوسی اور ہم

قرآن مجید سورہ الاسرا کی 80 ویں آیت میں حق و باطل کے معرکے کی خبر دیتا ہے جب سے دین حق آیا ہے باطل قوتیں متحرک ہو گئیں آج بھی یہ کسی نہ کسی صورت میں متحرک ہے بر صغیر کی تقسیم کے وقت ریڈ کلف ایوارڈ کے ذریعے بہت بڑی ڈندی ماری جس کے پیچھے مانٹ بیٹن اور نہرو کا گٹھ جوڑ تھاجس میں مسلم اکثریتی تحصیل گرداسپور راتوں رات انڈیا کو دے دی گئی جہاں سے گزر کر ہی کشمیر جانے کا واحد راستہ تھا جو پٹھان کوٹ سے ہو کر کشمیر میں داخل ہوتا تھا اور پاکستان آنے والے تمام دریا کشمیر سے آتے ہیں ان کے ہیڈورکس بھی انڈیا کے حوالے کردیے گئے اور نتیجا اپریل 1948 میں پاکستان جانے والا پانی مکمل طور پر بند کر دیا گیا یوں کشمیر کے ساتھ ساتھ پاکستان لائف لائن پانی انڈیا کے کنٹرول میں دے دی گئی اب ہمارے پانی انڈیا کے کنٹرول میں چلے گئے نوبت یہاں جا پہنچی کہ پاکستان کو پانی انڈیا سے خریدنا پڑ گیا ہندوستانی سیاسی قیادت کو انگریزوں کی آشیرباد حاصل تھی اسلئے انڈیا ہمیشہ پاکستان سے نخوت اور تکبر کا مظاہرہ کرتا رہا اور کسی بین الاقوامی قانون کوخاطر میں لانے کو تیار نہیں تھا پاکستان نے معاملے کو ہیگ کی عالمی عدالت میں کے جانے کا اعلان کیا لیکن ہندوستان کو معلوم تھا کہ اگر معاملہ عالمی عدالت میں چلا گیا تو فیصلہ پاکستان کے حق میں آنے کا قوی امکانات ہیں لہذا وہ عالمی عدالت میں جانے سے پس وپیش کرتا رہا اس دوران امریکی ایٹمی توانائی کمیشن کے سابق سربراہ ڈیوڈ ایتھال نے علاقے کا دورہ کیا اور تجویز دی کہ انڈیا پاکستان عالمی بنک کی معاونت سے ایسا نہری نظام اور ڈیم بنائیں جس سے دونوں ملکوں کو مناسب پانی حاصل ہو سکے اس تجویز کی روشنی میں مذاکرات شروع ہوئے تو ہندوستانی اعتراضات اس قدر تھے کہ پاکستانی وزیراعظم سہروردی کے دور میں جنگ کی دھمکیوں تک بات چلی گئی بالآخر عالمی بنک نے خود ایک پلان بنایا اور فریقین کواس پر رضامند کیا اور 1960 میں سندھ طاس معاہدہ ہوا اورکراچی میں اسپر دستخط ہوئے جس کے مطابق تین مشرقی دریاؤں ستلج بیاس اور راوی ہندوستان کے حصے میں آئے اور مغربی دریاؤں سندھ جہلم اور چناب پر پاکستان کا حق تسلیم کرلیا گیا لیکن ڈنڈی یہ ماری گئی کہ جب تک کشمیر پر انڈیا کا کنٹرول ہے وہ ان دریاؤں میں سے گھریلو استعمال زراعت اور ہائیڈروجنریشن (پانی سے بجلی پیدا کرنا)کے لئے استعمال کرنے کی اجازت ہوگی جسے ہمارے کمزور مرعوب اور لالچی وفد نے تسلیم کرلیا یہ سوچے سمجھے بغیر کہ انڈیا اس کی تشریح کس طرح کرے گا اور وہ من مانی تشریح کر کے دھوکہ دے رہا ہے پاکستان ورلڈ بنک کی مدد سے انڈین بیسن ڈویلپمنٹ فنڈ قائم کیا گیا جس میں کئی ملکوں نے فنڈ فراہم کئے پاکستان نے دو بڑے ڈیم بنا لئے اور نئی نہریں بنا کر مغربی دریاؤں کا پانی بند شدہ مشرقی دریاؤں میں ڈالا معاہدے میں ہر بات کی مکمل تفصیل موجود ہے جس کی رو سے انڈیا پاکستان کا پانی روکنے یا کمی کرنے کا مجاز نہیں اگر روکا تو وہ پانی چند روز کے اندر پاکستان کو واپس کرنے کا پابند ہوگا انڈیا میں اس وقت 6 ڈیم موجود تھے اور انڈیا مزید 8 بنانا چاہتا تھا معاہدے کے مطابق جو نئے ڈیم انڈیا بنائے گا اس کی اطلاع اور اس کا تفصیلی ڈیزائن پاکستان کو دیا جائے گا اگر پاکستان کو کوئی اعتراض نہ ہو تو ڈیم پر کام شروع کیا جاسکتا ہے لیکں منظور شدہ ڈیزائن میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی اور دونوں طرف کے واٹر کمشنر تعمیرات کی نگرانی کریں گے 30 سال تک تو یہ معاہدہ چلتا رہا بنئے نے پاورجنریش کی شق کا فائدہ اٹھانے کی سوجھی اور وولر بیراج سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم بنانے شروع کئے اور اس میں ڈنڈی مارنی شروع کی بگلیہار مقبوضہ کشمیر میں ڈوڈہ کے مقام پر بنایا گیا مء 1992 میں انڈیا نے تفصیلات فراہم کیں پاکستان نے مئی میں اعتراض لگا کر واپس کردیا کہ اس ڈیزائن میں ایک تو پانی میں کمی واقع ہوگی دوسرے انڈیا کو کنٹرول حاصل ہوگا بہرحال 1999 میں کام شروع ہوا اور 2004 تک انڈیا پاکستان کو بات چیت میں الجھا کر تعمیرات کرتا رہا جب ڈیم کی تعمیر تقریبا مکمل ہوگئی تو ہمارے لوگ جا گے اور گونگلوؤں پر سے مٹی جھاڑنے جیسا اعتراض کردیا انڈیا نے دو کام کئے کہ کسی کو دبی میں فلیٹ لے کردئے کسی کو برطانیہ میں جائیداد دلوائی اور کسی کو کینیڈا میں معاملات ٹھیک کر کے دئے اور ڈیم کے ڈیزائن کی خلاف ورزی ہوتی رہی اور متعلقہ پاکستانی کارپردازان خاموش رہے یا انڈیا نے ان کو مذاکرات میں الجھائیبرکھا تاوقتیکہ تعمیر انڈیا کے مفاد میں مکمل ہو گئی تو معاہدے کے مطابق غیر جانب دار ماہر سے تب رجوع کیا جب تعمیر مکمل ہو گئی حالانکہ پاکستاں اعتراض کرکے تعمیر رکوا سکتا تھاتو اب ماہر تعمیر گرانے کا حکم تو نہیں دے سکتا تھا ماہر نے معمولی سی ردوبدل کے ساتھ اپنی رائے دے دی انڈیا نے اس پر جشن منایا ہم نے بغلیں جھانکیں اور کہا کہ ہماری فتح ہوئی ہے آج بھی کشن گنگا دریا جو پاکستان میں داخل ہو کر دریائے نیلم ہو جاتا ہے اس پر تعمیرات جاری ہیں ہندوستان کی جانب سے سرنگیں ڈال کر اس کا پانی وولر جھیل کی جانب لے جانا تھا جہاں ہائیدرو الیکٹرک پاور پلانٹ لگانا مقصود تھا اس سے پاکستان کے پانی میں کمی ہوگی اور پاکستان دریائے نیلم پر 969 میگاواٹ پاور پروجیکٹ کا منصوبہ رکھتا ہے جو اس سے یقیناًمتاثر ہوگا انڈیا اب بھی مزید کئی ڈیم بنانا چاہ رہا ہے اور بنیا ڈنڈی مارے گا آج انڈیا ہمیں سخت نقصان پہنچانے کے درپے ہے ہمیں آنکھیں کھول کر رکھنی ہوں گی کہ دشمن بہت عیار اور مکار ہے متعلقہ اداروں سے گزارش ہے کہ خواب خرگوش سے جاگیں جو آپ کا فرض اور ذمہ داری ہے اللہ پاکستان کا

کشمیربھارت کا اٹوٹ انگ ہے تو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کیوں ؟

بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج نے روایتی ہٹ دھرمی سے کام لے کر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کشمیر کے بارے میں اقوام متحدہ کی قرارداد کی دھجیاں اڑا دیں اور جنرل اسمبلی میں بھی اٹوٹ انگ کا راگ الاپ دیا۔ سشما سوراج نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کا حصہ ہے اور رہے گا۔ پاکستان کشمیر کا خواب دیکھنا چھوڑ دے اور بلوچستان کی جانب دیکھے۔کوئی بھارت سے کشمیر کو علیحدہ نہیں کر سکتا۔ پاکستان کو بلوچستان کی طرف دیکھنا چاہیے۔ اگر پاکستان سمجھتا ہے کہ وہ اس طرح کے اشتعال انگیز بیانات دے کر کشمیر کو بھارت سے الگ کر سکتا ہے تو ایسا کبھی نہیں ہو گا۔ دہشت گردی بونے، اگانے والے ملک کی پہچان کرکے جواب لیا جائے۔
سشما سوراج نے وزیراعظم نوازشریف کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے مذاکرات کی کوئی شرط نہیں لگائی۔ ان قوموں کو تنہا کیا جائے جو دہشت گردی نہیں چھوڑ رہے۔ ہم اوڑی کے لوگوں کے دکھ کو سمجھتے ہیں اسی طرح کا حملہ ہم پر پہلے ہوچکا ہے۔ ہم نے دوستی کی پیش کش کی لیکن ہمیں دہشت گردی ملی ہم نے دوستی کی ہمیں پٹھان کوٹ پر حملہ ملا۔ پاکستان بھارت واٹرکمشن کا اجلاس نہیں ہوگا، یہ اسی وقت ہوگا جب دہشت گردی رکے گی۔ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کو کون تحفظ دے رہا ہے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کیلئے ہمارے ساتھ ہاتھ ملائیں اوڑی حملہ آوروں کے خلاف کارروائی نہ کی تو معاف نہیں کریں گے۔ دفتر خارجہ نے بھارتی وزیرخارجہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر بھارت کا حصہ نہیں بلکہ عالمی طور پر تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے۔ بلوچستان پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے جس پر بات کر کے سشما سوراج نے اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایک سال پہلے مذاکرات بھارت نے معطل کئے اور 21ستمبر کو وزیراعظم نوازشریف کی مذاکرات کی پیشکش کا بھی کوئی جواب نہیں دیا ۔ تمام باتیں دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کے لئے کی گئیں۔ بھارت کا سلامتی کونسل کی قرار دادوں سے لاتعلقی کا اظہار حیران کن ہے۔ کشمیر بھارت کا لازمی حصہ ہے تو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر کیوں ہے؟
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کا خطاب جھوٹ کا پلندہ ہے۔ دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے مذاکرات کا عمل منسوخ کیا۔ سشما سوراج نے پہلا جھوٹ یہ بولا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے جبکہ اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں کہ یہ متنازعہ علاقہ ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ریکارڈ پر ہیں۔ سشما سوراج نے یہ بھی سب سے بڑا جھوٹ بولا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہورہی۔ انہوں نے یہ بھی جھوٹ بولا کہ ہم نے مذاکرات پر کوئی شرط نہیں لگائی۔ بھارت نے مذاکرات منسوخ کئے ساری دنیا جانتی ہے۔
سشما سوراج نے بلوچستان پر پاکستان کو بدنام کرنے کا خواب دیکھا، کشمیر میں ہونے والے مظالم پر بھارت نے جھوٹ بولا، بھارت نے بے بنیاد الزامات لگائے، پاکستان جواب دے گا۔ یہ پاکستان کا حق ہے کہ وہ بھارتی الزامات کے جواب دے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے بیانات پاکستان سے بغض کو ظاہر کرتے ہیں۔ بھارت کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرنا چاہتا۔ دنیا کو پتہ چل گیا پاکستان مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتا ہے۔ بھارت نے کشمیر کے مظالم پر جھوٹ بولا، الزامات بھارتی فوج کے کشمیریوں پر مظالم چھپانے کیلئے لگائے گئے۔ 50 سال سے بھارت ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کی معاونت کرتا رہا ہے۔ ڈھائی ماہ میں 100 سے زائد کشمیری شہید، سینکڑوں بینائی سے محروم ہوگئے۔ مقبوضہ کشمیر میں قتل عام ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے۔ یہ ریاستی دہشت گردی اور جنگی جرائم کی بدترین مثال ہے۔ مقبوضہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا حصہ نہیں تھا اور نہ ہوگا۔ پاکستان اقوام متحدہ کی نگرانی میں کشمیر میں شفاف تحقیقات کا مطالبہ کرتا ہے۔
پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کا حامی ہے۔ مذاکرات خطے کی سلامتی اور امن کے لئے ضروری ہیں۔ یو این جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیراعظم نے بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی تھی۔ بھارتی الزامات کا مقصد کشمیری خواتین اور بچوں پر ظلم سے توجہ ہٹانا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب تہمینہ جنجوعہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارتی مظالم کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو دبانے کی کڑی ہے۔ حالیہ بھارتی مظالم کے باعث کشمیری مائیں 100 سے زیادہ بیٹے، بیٹیاں دفنا چکی ہیں۔ سینکڑوں کشمیریوں کو بینائی سے محروم کردیا گیا، کرفیو کی وجہ سے لاکھوں کشمیری بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔ کشمیری مذہب، تقریر اور تحریر کی آزادی سے محروم کردیئے گئے ہیں۔ کشمیر کے مسئلے کا واحد حل آزاد اور منصفانہ رائے شماری ہے۔ بھارت کے ایک نجی ٹی وی نے کشمیریوں کی آزادی کے معاملے پر سروے میں سوال کیا کہ کیا آپ بھارت سے آزادی چاہتے ہیں؟ جس کے جواب میں 70 فیصد کشمیریوں نے کہا کہ ہاں ہم بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ 30 فیصد نے جواب دیا کہ بھارت کے ساتھ ہی رہنا چاہتے ہیں۔ ایک اور بھارتی چینل پر سینئر بھارتی صحافیوں نے بتایا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے حالات جاننے کیلئے وفد لے کر گئے۔ جہاں انہوں نے سینئر سیاسی ورکروں اور عام لوگوں سے بات کی سب کا کہنا تھا کہ ہم بھارت سے آزادی چاہتے ہیں۔ جہاں تک کشمیری پنڈتوں کو بھگانے کا الزام ہے انہیں پنڈتوں کو بھگانے میں کوئی دلچسپی نہیں اگر ایسا ہی ہے تو انہوں نے وہاں سے سکھوں کو کیوں نہیں بھگایا۔ وہاں 6 سال کے بچے سے لے کر بڑوں تک کشمیر کی آزادی کیلئے لڑنے کا کہہ رہے ہیں

مادروطن کے چپے چپے کادفاع کرنے کاعسکری عزم

آرمی  چیف جنرل راحیل شریف نے کہاہے کہ وطن عزیز کے چپے چپے کادفاع کریں گے اورانشاء اللہ کسی بھی خطرے کامنہ توڑ جواب دینے کیلئے تیار ہیں مادر وطن کے دفاع کیلئے ہرقیمت ادا کریں گے کسی کو ہماری بہادر افواج اور اس کی صلاحیتوں پرشک نہیں ہونا چاہیے۔ ہماری افواج کسی بھی خطرے سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے عوام اور افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں پاکستان گزشتہ ایک دہائی سے دہشت گردی کاشکار ہے تاہم سیکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ مہارت سے دہشت گردی کارخ موڑ دیاگیا ہے۔عسکری قیادت نے بجافرمایا پاک فوج ملک کے دفاع سے غافل نہیں ہے اور وہ بھارتی جنگی جنون کو خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاکستان کی بہادر فوج جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہے اور وہ ایمانی جذبے سے دشمن کے غرور کاملیامیٹ کرسکتی ہے۔ بھارت کی غیر معمولی حرکت سے پاکستانی فوج بھی چوکس ہے اور وہ کسی بھی بیرونی خطرے سے نہ صرف نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ دشمن کے دانت کھٹے کرنے کیلئے تیار ہے۔ جنرل راحیل شریف کی بے باک اورقائدانہ صلاحیتوں کاعالمی سطح پر اعتراف کیاجارہا ہے ۔ بھارت پاکستان کے قیا م سے ہی چیرہ دستیاں کرتا چلا آرہا ہے کبھی پانی کے مسئلہ پر اور کبھی کشمیر کے مسئلہ کو سردخانے میں ڈال کر اپنی من مانیوں کی دھاک بٹھانے کی ناکام کوشش کرتا چلا آرہاہے۔بھارت نے1857 ء کی جنگ آزادی میں ہندوؤں نے انگریزوں سے مل کر مسلمانوں سے خوب انتقام لیاان کی جائیدادیں چھین لیں اورمسلمانوں کو سرکاری ملازمتوں سے نکال دیا گیا اور طرح طرح کے مصائب ڈھائے اور ان کو مشق ستم بنایا گیا لیکن پاکستان اپنی ثابت قدمی اور وضع داری کے باعث آج خداوند کریم کے فضل وکرم سے اپنے وطن کادفاع کرسکتا ہے اور اس کی بہادر افواج کسی بھی جارحیت کاجواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ جنرل راحیل شریف نے بھارت کے انتہاپسند وزیراعظم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس کو خبردار کردیا ہے کہ وہ ہوش کے ناخن لے پاکستان پرجنگ مسلط کی گئی تو دشمن کو 1965ء کی جنگ سے بھی زیادہ ذلت آمیز شکست کھانا پڑے گی۔ عسکری قیادت دہشت گردی کیخلاف پرعزم ہے ایک طرف وہ دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے تو دوسری طرف اس کی نظریں ملکی سرحدوں پرمرکوز ہیں اوروہ اندرونی وبیرونی سازش سے بے نیاز نہیں ہے۔ بھارت پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا کر عدم استحکام پیدا کررہا ہے اور اس کی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ کی سرگرمیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں پربربریت اورظلم وستم روا رکھے ہوئے ہے اور ان کو حق خود ارادیت نہیں دے رہا اور نہ ہی مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے اس کی ہٹ دھرمی اور جارحیت سے خطے کاامن تباہی کی طرف جارہا ہے۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کا ادراک کروائیں ۔بھارت کا جنگی جنون اس کیلئے موت ثابت ہوگا پاک فوج اس مکار دشمن کے ناکوں چنے چبانے اوردانت کھٹے کرنے کی عسکری صلاحیت رکھتی ہے۔مودی سرکار کی انتہاپسندی اس کو مہنگی پڑے گی ۔ پاکستان پرامن ملک ہے اور خطے میں امن کاخواہاں ہے اور بھارتی دہشت گردانہ کارروائیوں پر اس نے بہت صبروتحمل کامظاہرہ کیا ہے لیکن اب دشمن کاہر وار اور ہرحربہ بے کار جائے گا اور اس کو ایسا جواب ملے گا کہ یہ صدیوں یاد رکھے گا۔ جنگ مسائل کاحل نہیں لیکن پاکستان کے صبر کاامتحان نہ لیاجائے امن ہی خطے کیلئے نیک شگون ہے بھارت انتہاپسندانہ سوچ سے نکلے اور پاکستان کی امن کاوشوں کو سبوتاژ نہ کرے اورمسئلہ کشمیر کو حل کرے یہی وہ راستہ ہے جو امن کی طرف جاتا ہے اورخطے میں پائیدارامن قائم ہو سکتا ہے اوردونوں ملکوں کے درمیان نفرت محبت میں بدل سکتی ہے۔
پاک روس فوجی مشقیں
دنیا کی دوسری بڑی طاقت ور روس اور عالم اسلام کی واحد ایٹمی قوت پاکستان کے درمیان تقریباً پون صدی خوشگوار تعلقات کاآغاز ہوا ہے جس میں قابل بھروسہ دوست پڑوسی چین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کوششوں کے نتیجہ میں ماضی کے دو متحارب ملکوں پاکستان اور روس نے مشترکہ مشقیں شروع کرکے نئی تاریخ رقم کی ہے ۔یہ مشقیں 10اکتوبر تک جاری رہیں گی روس کے پہاڑی شہرکوہ قاف پاکستانیوں کیلئے حسن وخوبصورتی کااستعارہ اورخوابوں کی سرزمین رہی ہے ۔پاک روس مشترکہ مشقوں سے جہاں امریکہ شوریدہ دکھائی دیتا ہے وہاں بھارت کی گھبراہٹ بھی دیدنی ہے۔ دوستی مشقیں دونوں ملکوں کو ایک دوسری کے قریب لانے کاباعث قرارپائیں گی۔ پاک روس فوجی مشقیں عسکری مہارتوں میں ا ضافے اورپہاڑی جنگ کیلئے ممدومعاونت ثابت ہونگی روس کی عسکری مہارت خاص کرپہاڑی جنگ بڑھے گی ان مشترکہ مشقوں پر امریکی اوربھارتی تشویش درست نہیں پاکستان امن پسند ملک ہے اور اس کی امن کاوشوں کی دنیامعترف ہے۔ ان مشقوں میں چین کا تعاون لائق تحسین قرار پایاہے جس سے دونوں ملکوں کی د وریاں ختم ہوئیں اورایک نئے عزم اوررجحان نے جنم لیا۔
شیخ رشید کی وزیراعظم کیخلاف نااہلی رٹ
عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے پانامہ لیکس اوراثاثے چھپانے کے الزام میں وزیراعظم محمدنوازشریف کی نااہلی کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ۔ واضح رہے کہ شیخ رشید نے موقف اختیار کیا کہ وزیراعظم صادق اور امین نہیں رہے عدالت لوٹی گئی رقم واپس لانے کے احکامات جاری کرے رٹ میں یہ بھی موقف اختیار کیا گیا ہے کہ آرٹیکل 62 اور63 پروزیراعظم پورا نہیں اترتے اس لئے ان کو نااہل قرار دیاجائے۔ عین اس وقت جب رائے ونڈ مارچ کااعلان کیا جاچکا ہے اور شیخ رشید نے عمران خان کابھرپورساتھ دینے کاعزم کیا ہے اورنااہلی رٹ بھی دائر کردی گئی اب عدالت اس رٹ پر کیا فیصلہ دیتی ہے یہ تو آنیوالا وقت ہی بتائے گا تاہم پانامہ کاہنگامہ ہرطرف پھیل چکا ہے۔و زیراعظم کے احتساب کاشور ہے اور سیاسی جماعتیں حکومت کیخلاف صف آراء ہیں احتجاج کیا جارہا ہے اور عدالت عظمیٰ سے بھی رجوع کیاجارہا ہے ۔ سیاسی افق پر طوفانی بادل گہرے ہوتے جارہے ہیں حکومت ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہورہی جس سے محاذ آرائی کی راہ ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے ۔بہترہوتا اگر حکومت سیاسی جماعتوں کے تحفظات دور کرتی

مسئلہ کشمیر ۔۔۔۔۔ امت کہاں ہے؟

کشمیر میں  آگ لگی ہے ۔ وزیر اعظم پاکستان کا خطاب تھا تو بہت اچھا ۔لیکن وہ جس ہال میں خطاب فرما رہے تھے وہ قریب قریب خالی تھا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت دنیا میں ہماری اور ہمارے موقف کی اہمیت کتنی ہے۔اس صورت حال کو سمجھتے ہوئے ہمیں ایک پالیسی بنانا ہو گی تا کہ عالمی رائے عامہ کو ہمنوا بنایا جا سکے۔
یہاں جب عالمی رائے عامہ کی بات کرتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے اورسوال یہ ہے: امت مسلمہ کہاں ہے ؟اور جواب یہ ہے : واعظ کے وعظ میں اور سرکاری تعلیمی اداروں کے نصاب کی کتابوں میں۔ان دو جگہوں کے علاوہ آپ پوری دنیا چھان ماریں آپ کو امت نام کی کوئی چیز نہیں ملے گی۔احباب بد مزہ نہ ہوں تو عرض کروں، امت کا یہ تصور تو بہت دور کی بات ہے مسلم معاشرے تو بنیادی انسانی قدروں سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ہم نے تو تصور امت کی خاطر اپنی حیثیت سے بڑھ کر کام کیا۔ اب ہمارے مسئلہ کشمیر کے لیے امت کہاں ہے؟
دو ممالک میں مسلمان حکومتیں اپنے ہی شہریوں کا قتل عام کر رہی ہیں۔شام میں ایک سفاک حکومت کیمیائی ہتھیاروں سے لوگوں پر قیامتیں ڈھا رہی ہے ۔سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پڑی ہے جسے دیکھیں تو دل لہو سے بھر جاتا ہے۔ایک معصوم بچہ اکھڑتی سانسیں اور پھر موت کا سناٹا۔ایسے تو کوئی کسی جانور کو بھی مارے۔لیکن دنیائے اسلام کا ایک اہم ملک ایران اس سفاک حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔۔۔۔سوال وہی ہے: امت مسلمہ کہاں ہے؟
ادھر مصر ہے۔ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر وہاں کے جرنیل سماج کو لہو میں نہلا دیتے ہیں۔نہتے اور بے گناہ لوگ ہاتھوں میں قرآن لیے جلا کر راکھ کر دیے جاتے ہیں لیکن مسلمانوں کی محبتوں کے مرکز سعودی عرب سے ارشاد ہوتا ہے: دہشت گردوں کو کچلنے کی اس کارروائی میں ہم مصر کی حکومت کے ساتھ ہیں۔۔۔۔۔وہی سوال پھر اٹھتا ہے: امت مسلمہ کہاں ہے؟
امت کے تصور موہوم کے تعاقب میں بھٹکتے ہم سادہ لوحوں کو شام اور مصر کے حالات پر ایران اور سعودی عرب کے ردعمل کا ٹھنڈے دل سے اور ساری سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لینا چاہیے۔اردنمیں فلسطینیوں کا جی بھر کر قتل عام کرنے والے ہمارے خود ساختہ امیر المومنین جناب ضیاء الحق نے جب اقتدار کو طول دینے کے لئے مذہب کا نام استعمال کیا تب سے تصور امت ہماری نفسیاتی گرہ بن کر رہ گیا ہے۔یہ نفسیاتی گرہ اتنی مضبوط ہے کہ امت کے نام پر ہم دوستوں کی جنگ کا میدان بن گئے لیکن ہم پر وجد کی ایسی کیفیات طاری ہیں کہ ہم ان دوستوں سے اتنی سی گذارش بھی نہیں کر سکتے کہ جناب اپنے گندے کپڑے ہمارے صحن میں آ کر مت دھوئیے۔امت کی نفی ممکن نہیں کہ یہ رشتہ سب رشتوں سے افضل ہے لیکن اس تصور کی سیاسی تعبیر کی تلاش میں ہم نے اپنا جتنا نقصان کروا لیا ہے اس کے بعد اعتدال اور تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔معاملات دنیا ہمارے سپنوں سے نہیں حقائق سے نمو پاتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اسلامی دنیا میں جس جس نے امت کی بات کی صرف اپنے قومی مفادات کی خاطر کی۔امت جہاں تک ان کے مفادات سے ہم آ ہنگ ہوتی ہے یہ امت امت کرتے رہتے ہیں۔جہاں امت کے مفادات ان کے ذاتی ، گروہی اور قومی مفادات سے متصادم ہو جائیں وہاں یہ امت نہیں رہتے معروف معنوں میں جدیدسیکولر قومی ریاست بن جاتے ہیں جسے صرف اپنے مفادات سے غرض ہوتی ہے۔ شام اور مصر کے حالات پر ایران اور سعودی عرب کا موقف اسی تلخ حقیقت کا اظہار ہی تو ہے۔
عدم بلوغت کا شکار ہمارا سماج جب سوال اٹھاتا ہے کہ امت کہاں ہے تو اس تصور سے فیض پانے والے طبقات کی جانب اسے جواب دیا جاتا ہے کہ یہ تو صرف مسلم دنیا کے حکمرانوں کا قصور ہے ، وہ امریکی پٹھو بن چکے ہیں ورنہ مسلم دنیا کے عوام الناس میں تو محبت کا زمزم بہہ رہا ہے۔میں جب جب یہ جواب سنتا ہوں ،زمانہ کالب علمی میں لوٹ جاتا ہوں۔میری آنکھوں کے سامنے وہ مناظر آ جاتے ہیں کہ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی میں امت مسلمہ ہم پاکستانیوں سے کیا سلوک کرتی تھی۔ہم امت امت کرتے پھرتے تھے اور امت ہمیں جوتے کی نوک پر بھی رکھتی تھی۔پھر ایک وقت آ یا انتظامیہ نے پاکستانی طلباء کے ہاسٹلز الگ کر دیے اور باقی امت کے ہاسٹلز الگ۔اس روز میں بالکونی میں بیٹھ کر کتنی ہی دیر سوچتا رہا تھ: امت مسلمہ کہاں ہے؟تلاشِ روز گار میں امت مسلمہ کے ہاں نوکری کرنے والے جس پاکستانی سے ملیں اس کی بے رونق آنکھوں میں ایک ہی سوال ہوتا ہے: امت مسلمہ کہاں ہے؟اسلامی جمعیت طلباء کے لڑکوں نے جس رات انجمن طلباء اسلام کے لڑکے کو ہاسٹل سے اٹھایا ،اس کے نازک حصوں میں ڈنڈے ڈالے، صبح ہم اٹھے تو ہم نے ہاسٹل کے سبزہ زار میں خون کی ایک لکیر دیکھی،جھگڑا یہ تھا کہ انجمن والوں نے افطار پارٹی کا انتظام کیوں کیا تھا جب کہ جمعیت کی طرف سے حکم تھا کہ وہ ایسی کوئی اجتماعی سرگرمی نہیں کر سکتی۔اس روز بھی میں یہی سوچتا رہا کہ امت مسلمہ کہاں ہے۔احتجاج کیا تو جواب آیا بہاولپور میں انجمن والوں نے بھی ہم پر ایسی ہی پابندیاں لگا رکھی ہیں۔تھوڑی دیر سکوت رہا۔میں نے عرض کی اس تصادم کے اختتام کی کوئی صورت؟ جواب آ یا: آصف بھائی امت مسلمہ کے اتحاد ہی میں سارے مسائل کا حل ہے۔۔۔۔۔اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا۔
کہا جاتا ہے امت کے بارے میں سب سے زیادہ حساسیت ہمارے پاکستان میں ہے۔اب ذرا پاکستان کا حال بھی دیکھ لیجئے۔افغانوں کے ساتھ ہمارے سماج میں جو سلوک ہو رہا ہے وہ محتاجِ بیاں نہیں۔کیا یہ افغانی امت مسلمہ کا حصہ نہیں جن کے نام پر ہم ڈالر کھا کھا کر پھول چکے ہیں ؟ذرا جائیے اور دیکھیے یہ مہاجرین کس حال میں رہ رہے ہیں۔ان کے نام پر ہم نے جتنے ڈالر کھائے ان کی صرف زکواۃ ہی لگا دی جاتی تو ان کے لئے اچھی رہائش اور مناسب تعلم کا بندوبست ہو سکتا تھا۔امت کے نام پر ہم افغانستان میں ’ تزویراتی گہرائی‘ ڈھونڈنے گئے لیکن اس پر برا وقت آیا تو ہم نے کہا : سب سے پہلے پاکستان۔
ہمارا ہر دوسرا آدمی امت کا سپاہی ہے لیکن حال یہ ہے کہ شیعہ قتل ہو جائے تو صرف شیعہ احتجاج کرتا ہے، دیوبندی مارا جائے تو صرف دیو بندی احباب احتجاج کرتے ہیں اورکسی بریلوی کے ساتھ حادثہ ہو جائے تو صرف بریلوی سڑکوں پر آتا ہے۔ایران کے لئے ہمارے شیعہ پریشان ہیں، گلبدین کے لئے جماعت اسلامی پریشان ہے، جے یو آئی کی امت مسلمہ میں حزب اسلامی کہیں نہیں صرف طالبان ہیں۔اور جماعت اسلامی صرف اس امت کے لئے پریشان ہوتی ہے جس کا فکری تعلق جما عت سے ہو۔
ہمارے اپنے اپنے ظالم ہیں اور اپنے اپنے مظلوم۔ہم ظلم کو ظلم کی نسبت سے نہیں ظالم اور مظلوم کی نسبت سے دیکھتے ہیں۔ہم کسی ظلم کی مذمت کرنے سے پہلے دیکھتے ہیں ظالم کون ہے۔چنانچہ مصر کے قتل عام پر سیکولر احباب یہ سوچ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ ڈالر آنا بند ہو جائیں

کراچی شہرکی رونقیں بحال ہوگئیں

پنجابی کی یہ ایک پرانی مثل ہے۔ بڑے بوڑھے جب بستی میں کسی نوجوان کو کسی غلط راستے پر چلتا دیکھتے تھے تو اُسے ایک طرف بیٹھا کر سمجھاتے تھے کہ دیکھوبیٹا آپ ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتے ہو۔ آج تک تمھارے باپ دادا نے کسی بُرے آدمی سے رابطہ رکھا ہے نہ کسی بُری سوسائٹی میں شرکت کی ہے ۔ بستی، اور نہ ہی ہم نے ان میں کوئی بھی بُری بات دیکھی ہے۔تم جس غلط راستے پر چل پڑے ہو وہ تمھارے خاندان سے لگا نہیں کھاتا ۔ اس لیے اب جو ہو چکا سو ہو چکا ، اس غلط راستے کو چھوڑ دو اور واپس صحیح راستے پر آجاؤ۔ اسی میں تمھاری اور تمھارے خاندان کی بھلائی ہے۔دیکھو! تم اس مثل کے مطابق دودھ گھی کے برتن ہو اس میں دودھ گھی ہی ڈلنا چاہیے۔ یہ کس ظالم نے اس برتن میں گوبر ڈال دیا ہے۔پرانے زمانے میں اگر کوئی کسی غلط فعل میں پڑھ جاتا تھاتو بڑے بوڑھوں کی ایسی دردمندانہ نصیحت سے توبہ کر لیتا تھا اوربُری سوسائٹی سے کنارہ کش ہو جاتاتھا۔ اگر ہم اس مثل کو پاکستان کے لوگوں کو پرکھ کر دیکھیں تو ہم بغیر کسی تعصب کے نشان دہی کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں یہ دودھ گھی کے برتن کو ن تھے ۔یہ وہ لوگ تھے جوقائد اعظم ؒ کی پکار ’’پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الاللہ‘‘ کا محبتوں بھرا نعرہ ،جس میں مثل مدینے کی اسلامی ریاست ،جو مسلمانوں کے دلوں میں راج کرتی تھی نظر آتی تھی کو، سن کر سمجھ کر ایسے علاقوں سے ہجرت کر کے آئے تھے کہ جن علاقوں میں پاکستان نہیں بننا تھایعنی سی پی ، یو پی،پٹنہ ،بہار، مشرقی پنجاب اور دوسرے ہندوؤں کی کثیر آبادی والے علاقے۔یہ برصغیر کے باغ کے پھولوں کا خوشبووؤں کا گلدستہ تھا۔جو اپنی خشبوؤں اور خوبصورتی کے ساتھ مہکتا ہوا پاکستان کے پہلے سے موجود صوبوں پنجاب، سرحد،بلوچستان ، بنگال اور سندھ کے علاقوں میں اپنا سب کچھ لٹا کر آئے تھے۔کیوں نہ ہو ہمارے پیارے قائداعظم ؒ نے خود کیا تھا کہ پاکستان جسے ہم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔وہ مثل مدینہ ریاست ہو گی جس میں اسلامی اخوت، یعنی بھائی چارہ ہو گا ویسا،جیسا جو آج سے چودہ سا ل پہلے ہمارے پیارے پیغمبر حضرت محمدصلی علیہ و سلم نے قائم کی تھی۔ اس کی تشریح کرتے ہوئے ایک کتاب’’ ملت کا پاسبان‘‘ کے صفحہ۳۲۸ پر آپ نے فرمایا’’اسلامی اصولوں کا کوئی جواب نہیں،آج تک یہ اصول زندگی میں اسی طرح قابل عمل ہیں جس طرح چودہ سو سال پہلے تھے‘‘سچی بات یہ ہے کہ پاکستان کی پرانی آبادی نے اس گلدستہ سے بہت کچھ سیکھا۔ سب سے پہلے اردو زبان جو سادہ اور اخلاق سے بھری پڑی ہے۔ جو اب پورے پاکستا ن میں بولی جاتی ہے اور ہماری قومی زبان بھی ہے۔ راقم نے ایم کیو ایم لندن مقیم عزیز آبادی کے ایک قومیت اورلسانیت سے بھرے مضمون، جو نوائے وقت میں چھپا تھا، کے جواب میں ایک مضمون’’ قومیت‘‘ تحریر کیا تھا جو نوائے وقت اور مقامی اخبار میں شائع ہوا تھا۔میں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ میں پنجاب کے ایک قصبے کا رہنے والا ہوں اور مجھے کوئی گھر سے بلانے آتا تو باہر سے آواز لگاتا ہے کہتا ہے اوے’’ میرافسریا‘‘ باہر آؤ۔ مگر کراچی میں یہ گلدستے والا کوئی مجھے بلانے آتا تو کہتا ہے’’ میر افسر امان صاحب ‘‘گھر میں ہیں۔ان بہتر تہذہب والوں نے مجھے’’ میرافسریا‘‘ سے’’ میر افسر امان صاحب‘‘ بنادیا۔ میرے بیٹے کو’’اوے حبیبیا‘‘ کی بجائے ’’حبیب اللہ بھائی صاحب‘‘ بنا دیا۔ پھر اچھے اچھے کھانے،جیسے بریانی، قوفتے، پسندے، بگارے بیگن اور دہلی والوں کے مسالے دارکھانوں کا کیا کہنا۔ میں اپنی مرحومہ بیوی سے کہا کرتا تھا کہ تین بیٹوں کی شادی ہو گئی ہے اب میں چوتھے بیٹے کی دلہن اردو بولنے والی لاؤں گا تو وہ کہتی تھی تم کراچی آکر چٹورے ہو گئے ہو۔ خیر چھوٹے بیٹے کی شادی بھی رشتہ داروں میں ہی ہوئی۔ اور بھی لاتعداد خوبیاں ہیں۔طوالت سے بچنے کی وجہ سے صرف دو بیان کی گئی ہیں۔ پھرخوشبودار گلدستے کو ایک شخص الطاف حسین نے قومیت اور لسانیت اور نام نہاد حقوق کا زہر پلا کر ان سے تہذیب و تمدن چھین لی۔ ان کی پہچان کن کٹا، لنگڑا، لولا، چریا اور نہ جانے کون کون سے بے ڈنگے ناموں سے پکارہ جانے لگا۔ تہذیب اور دلیل سے بات کرنے والے کے ہاتھوں میں قلم کے بجائے پستول دے دیا گیا۔وہ اس لیے ہوا کہ ان کی تہذیب اور شرافت لوٹنے والا ان کا لیڈر اور محافظ بن کر سامنے آیا۔ اس نے کہا، وی سی آر اورٹی وی بیچو اور اسلحہ خریدو۔ حقوق یا موت۔ جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے۔منزل نہیں رہنما چاہیے۔ مہاجر سندھی بھائی بھائی۔ نسوار اور دھوتی کہاں سے آئی ۔پھر اس نعروں نے کراچی کی مہاجر، پنجابی، پٹھان آبادیوں میں وہ رنگ دکھایاجو اسلامی تاریخ کے اندر کسی نے نہ یہ دیکھا نہ پڑھا ہوگا ۔ مسجدوں سے اعلان ہوا کہ پنجابیوں نے حملہ کردیا مہاجروں نے حملہ کر دیا ہے۔پھرپاکستان کے نامی گرامی دشمن شخص جی ایم سید نے خوش ہو کر کہا تھا کہ جو کام میں چالیس سال نہ کر سکا وہ کام الطاف حسین نے چالیس د ن میں کر دیا۔کراچی شہر میںآگ اور خون کی ہولی کھیلی گئی۔ایک ممبر صوبائی اسمبلی کے قتل کے بدلے جو شاید فسادپھیلانے کے لیے خود ہی کیا۔سو(۱۰۰) بے گناہ پٹھانوں کو قتل کر دیا گیا۔ کراچی شہر، ایک فون پر بند ہو جاتا ایک فون پر کھل جاتا۔ہڑتال کا ل پر الطاف حسین کے ۳۵۰۰۰؍ مسلح دہشت گردوں میں کچھ رات میں سڑکوں پر نمودار ہوتے، بسیں جلاتے، فائرنگ سے خوف و ہراس پھیلا دیتے۔ لو گ دب کر گھروں میں بیٹھ جاتے۔ کاروبار ۔تعلیمی ادارے اور ٹرانسپورٹ بند ہو جاتی۔ بوری بند لاشیں ملنا شروع ہوئیں۔اغوا برائے تاوان کے واقعات ہونے لگے۔ جیے سندھ کے دہشت گردوں نے حیدر آباد میں دس مختلف جگہ پر فائرنگ کر کے تین سو بے گناہ مہاجروں کوشہید کر دیا ۔ دوسرے دن الطاف حسین کے دہشت گردوں نے پچاس سندھی مچھیروں کو بسوں سے اُتار کر شہید کر دیا۔ الیکشن میں جعلی مینڈیٹ،جیسے مصر کے حسنی مبارک،شام کے بشارلاسد اور لیبیا کے معمر قذافی تیس تیس سال بغیر شرکتِ غیر کسی رکارٹ کے کامیاب ہوتے رہے۔ وہی فارمولہ کراچی اور سندھ کے مختلف شہروں میں استعمال کیا گیا۔ شہریوں پر دھونس دھاندلی ،خوف و ہراس اور اسلحہ کے زور پر جعلی مینڈیٹ حاصل کیا جا تا رہا۔کراچی کو نہ پانی ملا، نہ سڑکیں ، نہ تعلیم ملی، نہ ٹرانسپورٹ ملی نہ ہی حقوق ملے۔ صرف مایوسی، پاکستان سے نفرت،را سے ٹرنینگ، را سے فنڈنگ۔پاکستان کی مسلح افواج کو گالیاں اور پاکستان مردہ باد کے نعرے ملے۔ سیاسی حکومتوں نے آنکھیں بند کیے رکھیں اور کراچی جلتا رہا۔ صاحبو! پھر اللہ کی لاٹھی چلی جس میں دیر تھی اندھیر نہیں اور شہر میں رینجرز نے ٹارگیٹڈ آپریش شروع کیا۔ مجرم ،ٹارگٹ کلر، بھتہ خور،بوری بند لاشوں والے اور را سے فنڈ اور ٹرنینگ لینے والے پکڑے جانے لگے۔ آہستہ آہستہ روشنی کے شہر میں امن قائم ہونے لگا۔ تاجر اور شہر کے سارے طبقوں نے سکھ کا سانس لیا۔ کاروبار ہونے لگا۔ بازار کھلے رہنے لگے۔شہر کی رونقیں بحال ہو گئیں۔ وہ الطاف حسین جو تیس سال سے پاکستان اور پاکستان کی فوج کو گالیاں دیتا رہا تھا نہ اس کی کال پر شہر بند ہوتا نہ امن و امان خراب ہوتا۔ عدالت نے الطاف حسین کی تقریر تصویر میڈیا میں دکھانے پر پابندی لگا دی۔ الطاف حسین کی ۲۲؍ اگست والی تقریر میں پاکستان کے خلاف زہر اُگلا گیا۔ کارکنوں کو نجی ٹی وی پر حملے کے لیے اُکسایا گیا۔کارکنوں نے نجی ٹی وی کے دفتروں میں توڑ پھوڑ کی۔ فائرنگ سے ایک شہری شہید ہوا۔ کئی زخمی ہوئے۔ اس دہشت گردانہ اور ناجائز حرکت پر قانون نے ایکشن لیا۔دہشت گرد گرفتار ہوئے۔جو ایک دن پہلے پاکستان مردہ باد کے نعرے لگا رہے تھے وہ ربوٹ کی طرح دوسرے دن پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے لگے۔ فاروق ستار نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کا شیرازہ بکھر گیا۔ ۹۰؍ اور دوسرے دفتروں کو سیل کر دیا گیا۔ غیر قانونی جگہوں پر بنائے گئے ایم کیو ایم کے دفتروں کو مسمار کر دینے کا عمل جاری ہے۔ان حالات میں جماعت اسلامی کراچی کے امیر انجینئر نعیم الرحمان نے پریس کانفرنس کر کے ایم کیو ایم کے پریشان حال کارکنوں ، حمایتیوں اور ووٹروں کو دعوت دی کہ اپنے اپنے مقدمات کا سامنا کریں اور عدالتوں سے صاف ستھرے ہو کر جماعت اسلامی میں شرکت کریں اور شہر کی ترقی اور امن و آمان کے لیے مل جل کر کام کرنے کا آغاز کریں۔صاحبو!ہمارے نزدیک یہ دودھ گھی کے برتن ہیں اس میں دودھ گھی ہی ڈلنا چاہیے نہ کہ گوبر۔ یہ الطاف حسین کے بہکانے میں بہک گئے تھے۔ ان کوچاہیے کہ اب یہ ایک دینی ، اصلاحی ،اخلاقی،نظریہ پاکستان کی محافظ، پاکستان کو ان کے آباؤ اجداد کی خواہش کے مطابق، دو قومی نظریہ کے مطابق ایک مثل مدینہ فلاحی ریاست بنانے والی جماعت اسلامی میں شامل ہو جانا چاہیے۔یہی ان کی اصل منزل ہے۔ اسی لیے برصغیر کے بیس لاکھ مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

ملک کے دشمنوں کی چال۔۔۔!

سند ھ ہا ئی کور ٹ کے آہنی جنگلہ پر لگے بینر پرلکھا تھا جو قا ئد کا غدار ہے وہ مو ت کا حقدا ر ہے ۔ اس بینر کو ایک قو می رو ز نا مہ نے خبر بنا تے ہو ئے دیکھا یا ہے ۔ کہ آ ج ملک کے خلا ف بولنے والو ں کے ایجنٹ ہم میں مو جو د ہیں اس بینر کے انتہا ئی اہم عما ر ت پر آو یز اں ہو نے سے بہت سی خبر یں جنم لیتی ہیں حالا ت وواقعا ت سے آگا ہ لو گ جا نتے ہیں کہ کر اچی میں سند ھ ہا ئی کو ر ٹ کی بلڈنگ کسی دو ر دراز اور کم اہم علا قہ میں واقع نہ ہے بلکہ کر اچی کے سب سے اہم اور مر کز ی حصے میں یہ اہم تر ین عمارت ہے پھر اس بینر کو کس نے لگا یا ؟اس شخص یا گر وہ کے پیچھے کو نسی طا قت ہے ؟ اس گر وہ کا سر غنہ کرا چی میں کو ن ہے ؟ اس گر وہ میں کتنے افراد شا مل ہیں ؟ اس کی ما لی و اخلا قی ٹیکنیکی امداد کون کر رہا ہے؟ یہ وہ سو الا ت ہیں جن کے جوا با ت حکو مت پا کستا ن ، حکومت سند ھ اور کر اچی میں امن کیلئے بر سر پیکا ر افوا ج پا کستا ن کی کا میا بی کیلئے ضر ور ی ہیں۔ کہا جا تا ہے کہ کرا چی میں ایم کیو ایم الطا ف کے پا س ہزارو ں مسلح جوا ن تھے !جو ایم کیو ایم کا عسکر ی ونگ کہلا تا تھا !اور یہی لو گ کرا چی کو اسلحہ کی نو ک پر کنٹر ول کر تے تھے جس کو چا ہتے راستے سے ہٹا دیتے تھے ! بھتہ خو ری ہو کہ قتل و غا رت ! مکا ن پلا ٹ پر قبضہ ہو کہ! کو ئی سی دہشت گر دی کی کا رو ائی! یہی لو گ یہ سا رے دھند ے کر تے تھے! اب یہ ما ن لیا جا ئے کہ ڈا کٹر فا رو ق ستا ر اور ان کے سا تھی ممبران اسمبلی نے حا لا ت کے پیش نظر ایم کیو ایم ا لطا ف سے بغا وت کر لی ہے ۔ تو عسکر ی ونگ کے لو گ کہا ں گئے ؟ عسکر ی ونگ کے پا س جو اسلحہ تھا وہ کہا ں گیا ؟ عسکر ی فو رس کہا ں گئی ؟ ڈاکٹر فا رو ق ستا ر کو اپنے آ پ اور تنظیم کو پا ک صا ف کر نے کیلئے عسکر ی ونگ کی نفر ی کی حقیقت حکو مت کے حو الے کر دینی چا ہیے اور ان لو گو ں سے بیان حلفی لے کر ان کا ریکا ر ڈ تیا ر کر کے ان کو صا ف کر دینا چا ہیے مگر جس طر ح فو رتھ شیڈ و ل کے لو گو ں پر نظر رکھی جا تی ہے ان کی کڑ ی نگر انی کر نی چا ہیے تا کہ جو منحر ف ہو کر ملک و ملت کی دو با رہ غدا ری کر ے تو قا نو ن نا فد کر نے والے اسے حو الے قا نو ن کریں ! با ت سند ھ ہا ئی کو ر ٹ کے احا طہ میں آویز ان ان بینر ز کی ہو رہی تھی! جس پر قا ئد کے غدارو ں کیلئے مو ت کی سزا کا اعلا ن در ج تھا ! کیا یہ ملک کے اند ر غدارو ں کی کھلے عا م اپنی طا قت کے مظا ہر ہ کی کو شش نہ ہے ؟ کیا یہ ایم کیوایم کے منحر فین کیلئے پیغا م ہے ؟ کیا یہ محب وطن تما م لو گو ں کیلئے دھمکی تو نہ ہے ؟ کیا یہ ملک کے دشمنو ں کی چا ل تو نہ ہے ؟جو کرا چی میں فسا دات کی راہ ہموار کر رہے ہیں ؟ ان بینر ز کے پیچھے جو بھی ہے ؟ڈاکٹر فا روق ستا ر ، حکو مت سند ھ ،وفا قی حکو مت اور فو رسز کو ان بینر ز کے معا و نین کی ٹھیک ٹھیک نشا ند ہی کر کے ان افراد کیلئے مو ت کی سزا کا بند وبست ملک اور قو م کے مفا د میں ہو گی ! ملک اور قوم کے غدا رو ں کیلئے مو ت کی سزا ئیں عا لمی قا نو ن ہے ۔ مگر غدا رو ں کے مخا لفین اور منحر فین کیلئے مو ت کی سزا و ؤ ں کے اعلا ن کر اچی میں ہو رہے ہیں ! کرا چی کی انتظا میہ کو ان بینر ز کی تحقیقا ت کیلئے پو ری غیر جا نبد اری سے کا م کر نا چا ہیے ! عمو ماً سر کا ری کا م اور منصو بے، نا کا م، مہنگے اور غیر معیا ری ہوتے ہیں ۔کیو نکہ سر کا ر ی کا م کو عمو ماً بو جھ اور لو ٹی کا ما ل سجھ کر کیا جا تا ہے ! سر کا ر عمرا ن خان کی ہو کہ! میاں بردارن کی عمو ماً ہر سر کا ر کے سا تھی Yes man ہو تے ہیں مثلاً ہر ضلع میں مختلف کمیٹیا ں ضلعی انتظا میہ بنا تی ہے جیسے امن کمیٹی ، تعلیمی کمیٹی ،صحت کمیٹی ، پر ائیس کنٹرو ل کمیٹی ، تر قیا تی کمیٹی یہ سب ضلعی انتظا میہ اپنی مر ضی کے افر اد کو ڈ ھو نڈ کر بنا تی ہے ۔ تو پھر امن کمیٹی کے ممبرا ن ہر حا لت میں ضلعی افسران کی کا ر کر دگی کو سیرآ تی ہے ۔ خوا ہ ضلع میں منشیا ت اور جو اء عا م ہو ں ،ڈکیتی چو ری معمو ل کی با تیں ہو ں ۔ مہنگا ئی کنٹر و ل سے با ہر ہو! ہر طر ف دکا ند ار لو ٹ ما ر کا با زار گر م کئے ہو ئے ہو ں یا سر کا ری ہسپتا لو ں میں مر یضو ں سے بر ا سلو ک ہو رہا ہو ۔ ڈاکٹر وں نے پرا ئیو ٹ ہسپتا لیں بنا رکھی ہو ں ادو یا ت اور صفا ئی کا کو ئی نظام نہ ہو تو ضلعی انتظا میہ کی بنی کمیٹیا ں اخبا را ت میں روز بیا نا ت جا ری کر یں گی کہ امن عا مہ مثا لی ہے ۔ انتظا میہ نے مہنگا ئی کو کنٹر و ل کر رکھا ہے سرکا ری ہسپتا ل صحتیں با نٹنے لگے ! تعلیمی نظام نے انقلا ب بر پا کر دیا ہے ۔ جو قا ئد کا غدار ہے مو ت کا حقدار ہے والے بینر ز کے معا و نین اور منتظمین کیلئے سر کا ری طر ز کی کمیٹیو ں کی بجائے ، صحا فی ، سیا سی ، سما جی ، لو گو ں پر مشتمل کمیٹی بنا ئی جائے ۔ جس کی نگر انی کو ئی فو جی ایجنسی کر ے اور اخبا را ت ذر یعے اشتہا ر شا ئع ہو ں جو ان بینر ز کے منتظمین سے متعلق علم رکھتا ہو وہ فلا ں نمبر ز پر اطلا ع کر یں۔اور ہر کمیٹی پو ری معلو ما ت اکٹھی کر کے ان بینر ز کے منتظمین کا تعین کر کے ان کے خلا ف قا نو نی کو متحر ک کر ے ! ورنہ سر کا ری کمیٹیا ں تو نہ صر ف فضو ل ، غیر معیا ری اور نا منا سب ہو نے کی وجہ سے ہمیشہ بے ثمر ہو تی ہیں ۔ اگر ان غیر ملکی ایجنٹو ں کو لگا م نہ ڈالی گئی تو کرا چی شہرایک بار پھر دہشت گر دو ں کے نر غے میں آ جائے گا جواسے الگ ریا ست بنا کر پا کستا ن کے ٹکڑے

ہم بھارتی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں

اوڑی سیکٹر میں ہونے والے حملہ کے بعد کنٹرول لائن پر فضا کشیدہ ہے۔ ایک طرف بھارتی فوجوں کے حملے کیلئے تیار ہونے کی خبریں آ رہی ہیں تو دوسری جانب پاکستانی فوج بھی سرحدوں پر چوکنا ہے۔ اس ساری صورتحال میں لائن آف کنٹرول پر بسنے والے لوگ غیریقینی کا شکار ہیں۔ چکوٹھی اور اس کے نواحی علاقے اوڑی سے کافی قریب ہیں۔ چکوٹھی کا بازار، ہسپتال، کالجز اور سکولز ایسے مقام پر ہیں جو بھارتی فائرنگ کی براہ راست زد میں ہیں۔ بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیم شیوسینا نے پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری دنیا جانتی ہے کہ دہشتگردی پاکستان کی سرزمین سے پھیل رہی ہے، پاکستان صورتحال کا فائدہ اٹھا رہا ہے۔
بھارت نے پاگل پن کا مظاہرہ کر کے پاکستان کو پانی بند کرنے کی دھمکی دیدی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق ترجمان بھارتی وزارت خارجہ وکاس سوارپ نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے اپنی سرزمین سے دہشتگردی ختم نہ کی تو سندھ طاس معاہدہ ختم کیا جا سکتا ہے۔ ادھر بھارتی ریاست مہاراشٹرا کی انتہا پسند جماعت مہاراشٹرا نونرمن سنہا (ایم این ایس) نے پاکستان کے فنکاروں کو 48 گھنٹوں میں بھارت چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانی اداکاروں اور آرٹسٹوں کو بھارت چھوڑنے کے لیے 48 گھنٹوں کا وقت دیتے ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ایم این ایس خود انہیں باہر نکال دے گی۔ اس وقت مختلف پاکستانی فنکار بھارت میں مختلف پراجیکٹس پر کام کررہے ہیں جن میں فواد خان، علی ظفر، ماورا حسین، عمران عباس، مائرہ خان، گلوکار راحت فتح علی خان اور عاطف اسلم شامل ہیں۔ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشن کی سکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے کہا ہے کہ اسلام آباد نے اپنے عملے کو محتاط رہنے کی ہدایت کر دی ہے۔ بھارت کے شدت پسند طرز عمل پر بعض بھارتی دانشور بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کشمیری قیادت سے رابطوں پر سخت پابندی ہے۔ کشمیری قیادت پابند سلاسل ہے اور ٹیلی فون کی سہولت بھی نہیں ہے۔بھارتی کرکٹ بورڈ نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کرکٹ سیریز کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان کے ساتھ کرکٹ نہیں ہو گی۔
وزیراعظم نوازشریف اور انکی ٹیم کی طرف سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں مسئلہ کشمیر‘ کشمیریوں کی خواہشات اور قوم کی امنگوں کے مطابق اٹھایا گیا۔ مسئلہ کشمیر اٹھانے کی کامیابی کا اندازہ بھارت کے واویلے سے بخوبی ہو جاتا ہے۔ جھوٹ اسکی فطرت ہے‘ کبھی جھوٹ پر ڈٹا رہتا ہے اور کبھی ثبوت سامنے آنے پر مکر جاتا ہے۔ اوڑی واقعہ میں بھارتی ڈی جی‘ ایم او جنرل رنبیر نے کہا تھا کہ حملہ آوروں سے برآمد ہونیوالے اسلحہ پر پاکستانی مارکنگ تھی‘ اب انکی طرف سے اپنے بیان کی تردید کردی گئی اور ملبہ میڈیا پر ڈال کر سنسر شپ عائد کردی ہے۔ اب بھارتی میڈیا کو ہر دفاعی حوالے سے خبر حکومت سے کلیئر کرانا ہوگی۔ بھارتی میڈیا پاکستان دشمنی میں اپنی حدود اور اخلاقی قیود عبور کرتا رہا ہے۔ اپنی حکومت کی طرح بلاتحقیق الزام تراشی اس کا وطیرہ ہے۔ جھوٹ اور لغویات میں بھارتی حکومت اور میڈیا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کیلئے ہمیشہ کوشاں دکھائی دیئے ہیں۔
اوڑی حملے کے پاکستان پر بے بنیاد الزامات کوئی نئی بات نہیں۔ ممبئی اور پٹھانکوٹ حملوں کے الزامات بھی پاکستان پر لگائے گئے‘ انکے بھی بھارت پاکستان کو ٹھوس ثبوت فراہم نہیں کر سکا۔ دونوں حملوں کی تحقیقات کیلئے پاکستانی ٹیمیں بھارت گئیں جن سے بھارتی حکام نے تعاون نہیں کیا۔ اجمل قصاب تک رسائی نہ دی گئی جسے عجلت میں پھانسی دیدی گئی۔ سمجھوتہ ایکسپریس حملے میں انڈین فوجی مجرم نکلے۔ پاکستان نے ہر حملے کے بعد عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے پر زور دیا اس پر بھارت کبھی تیار نہ ہوا۔ پاکستان نے اوڑی حملے کی تحقیقات بھی عالمی عدالت سے کرانے کی پیشکش کی ہے اگر بھارت کے موقف میں ذرّہ بھر بھی صداقت ہو تو وہ پاکستان کی پیشکش قبول کرے۔ مگر وہ حقائق‘ اپنی سازش اور ڈرامہ بازی سامنے آنے کے خطرے کے باعث ایسا کرنے پر آمادہ ہے اور نہ کبھی ہوگا۔ وزیراعظم نوازشریف کے خطاب کے بعدبھارت زیادہ مکاری سے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کررہا ہے۔ مظفروانی کو شہید قرار دینے پر وزیراعظم کیخلاف پراپیگنڈا کیا جارہا ہے۔ پاکستان کو دہشت گردوں کا سپورٹر قرار دینے کا شور اٹھا دیا ہے۔ بھارتی انتہاء پسند تنظیم کرانتی دل کی جانب سے نواز شریف کا سر لانے والے کو ایک کروڑ دینے کا اعلان کیا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بھارت سفارتی آداب اور تہذیب سے عاری ہو چکے ہیں اور ان کے رہنماؤں اور میڈیا سے متعلق افراد کی جانب سے گھٹیا بیان بازی بھی عروج پر ہے۔ بھارتی میڈیا انتہاء پسند تنظیموں کی دہشت گردی پر اکسانے والی بیان بازی کو مسلسل نشر کر رہا ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا تو مودی سرکار اور بھارتی انتہا پسندوں کو آگ لگ گئی۔ سفارتی میدان میں پٹنے کے بعد بھارت میں جنگی جنون عروج پر پہنچ گیا۔
لائن آف کنٹرول پر اسلحہ اور فوج کی حقیقت گیدڑ بھبکیوں سے زیادہ نہیں۔ وہ دنیا پر اوڑی حملے کی آڑ میں اپنا جعلی اشتعال باور کرانا چاہتا ہے۔ دشمن کو بہرحال آسان نہیں لینا چاہیے۔ آج 65ء والی صورتحال نہیں‘ جب بھارت نے اچانک حملہ کردیا تھا‘ اس کو بھی پاک فوج اور قوم نے مل کر ناکام بنایا اور اسے شکست فاش سے دوچار کیا۔ اس کا بدلہ اس نے سازشوں اور جارحیت کے ذریعے بنگلہ دیش کو الگ کرکے لے لیا۔ آج حالات وہ نہیں۔ اسکی سازشیں ضرب عضب اور کراچی میں اپریشن سے ناکام بنائی جارہی ہیں۔ ممکنہ جارحیت سے نمٹنے کیلئے تیاریاں مکمل ہیں۔ بری اورفضائی افواج پہلے ہی حالت جنگ میں ہیں۔
اس اہم موقع پر چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے کہا ہے کہ کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے کہ ہماری بہادر مسلح افواج کسی بھی طرح کے خطرے کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پوری قوم کی حمایت سے ملک کے چپے چپے کا دفاع کرینگے خواہ اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے۔ پاکستان ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دہشت گردی کا شکار ہے لیکن پوری قوم کے حوصلے اور سکیورٹی فورسز کی پیشہ وارانہ صلاحیت کی

Google Analytics Alternative