کالم

جب سماج زوال پذیر ہوتا ہے !

انسانیت پر  جب وحشت کا غلبہ ہوجاتا ہے تو انسانی سماج کے ترقی کے درووازے بند ہوجاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں انسان سماجی حیوان قرار پاتا ہے اور سماج کی تشکیل پھر نظریہ حیوانی کی اصول پر ہوتی ہے اور ایک ایسا معاشرہ وجود میںآتا ہے جسمیں انسان اور حیوان کی تمیز ختم ہوجاتی ہے انسانی اصول پامال ہوجاتے ہیں بے شعور لوگوں کے بھیڑجمع کرنے کو مقدس عنوان دیا جاتا ہے افرا تفری کے عالم میں قوم کی وحدت ختم ہوجاتی ہے اور اسکی سزا پوری قوم کو بھگتنا ہوتی ہے ۔ انسانی سماج انسانوں کے آپس میں تعلقات اور معاہدات اور آپس میں ملنے جلنے کا نام ہے انسانیت کی بنیاد پر سماج کی تشکیل ہوتی ہے ایک ایسا سماج جسمیں انسانیت کو پہلا درجہ حاصل ہوتا ہے اور انسان کی نسل،علاقے اور زبان کو فوقیت نہیں دی جاتی اور انسانوں کے معاشرتی حقوق یکساں متعین ہوتے ہیں اور دوسرا درجہ انسان کی آزادی کا ہے یعنی صالح سماج وہ ہوتا ہے جوہر انسان کو مکمل آزادی دیتا ہو اور انسان کی غلامی سے وہ آزاد ہو اور پھر اس سے اور اس سماج میں ایک ایسے معاشی نظام کا ڈھانچہ قائم ہو جسمیں انصاف کا بول بالا ہو اورمعاشرے کے تمام افراد کے ضروریات پوری ہوتی ہواور یہ نظام اجتماعیت کے اصول پر قائم ہو جسمیں طبقاتیت اور انفرادیت پسندی کو کوئی عمل دخل نہ ہو اور اس نظام سے ہر انسان کو مستفید ہونے کے مواقع حاصل ہو۔دیکھا جائے تو اس وقت ہر فرد انفرادیت کے نشے میں مبتلا ہے نوجوان نسل مایوسی کا شکار ہے انہیں کوئی رہنما نہیں مل رہا ہے فرقہ واریت کو فروغ حاصل ہے اور مسلمان مسلمان کو کافر بنانے پر تلا ہوا ہے نظریہ انسانیت کو چھوڑکر عوام کو فرقہ واریت کی اندھیر نگری میں دکھیلا جارہاہے ، چند شہزادوں اور بیبیوں جو جاگیرداراور سرمایہ اور مراعات یافتہ طبقہ کہلاتے ہیں امت مسلمہ کو انہوں نے اپنے قبضے میں جکڑا ہواہے عوام بیچارے خوف اور افلاس کی بیماری میں مبتلا ہیں اور ان پر جہالت اور بھوک مسلط ہے ۔نوجوان نسل جس پر قووموں کی ترقی کا انحصار ہوتا ہے وہ مایوسی کا شکار ہے ۔نوجوانوں کو جو تاریخُ پڑھائی جاتی ہے ا س سے مایوسی پھیلتی ہے اور تاریخ کاہرباب خون سے رنگین ہوتاہے اور اس کا سارا مواد قتل اور غارت گیری سے بھرپورہوتاہے اس طرح ان میں نفرت کے جراثیم نشوونماں پاتے ہیں اورقنوطی ذہنیت کو فروغ ملتا ہے ، اس محدود نظریہ نے عوام نفرت ،انفرادیت پسندی اور مفاد پرستی کاسبق دیا ھے قومی سوچ ختم ھوگئی ہے اور قومی جذبہ کا فقدان ہے حالانکہ اصل طاقت قومی جذبہ ہے جس سے دشمن کو مرعوب کیا جاسکتا ہے ۔ چائنا ہم سے دو سال بعد آزاد ہوا ور آج وہ ہم سے سائنس اور ٹیکنالوجی میں ایک سو سال آگے ہے چونکہ وہاں قومی سوچ کو فروغ دیاگیا ہے اور وہاں کود غرضی، فرقہ پرست اورانفرادیت پسندی جیسے برے اخلاق نہیں پھیلے ہیں۔ اس لئے آج کے دور کا طاقت ور ترین سامراج اس سے ڈرتا ہے اور اعلانیہ اس کا سامنا کرنے سے کتراتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ طبقاتی نظام اور اور مذہبی فرقہ وریت سے مایوس نوجوانوں کے شعور کوجگایا جائے اور ان کے سامنے سچے اور حریت پسند اسلاف کا تعارف پیش کیا جائے آج کے نوجوان کو سچائی کی تلاش ہے اور وہ سچ کا پیاسا ہے ، انہیں کوئی رہنما نہیں مل رہا ہے اور انہیں اس فلسفہ سے روشناس کرانا بھی ہے جس کے ذریعے مسلمانوں نے گیارہ سو سال تک دنیا کی قیادت کا فریضہ ادا کیا ،دین کا وہ اعلا فلسفہ جو انسانیت دوستی اور جزبہ حریت پر مبنی اب مفقود ہے اور جو رہنمائے قوم ہیں وہ انسانی حقوق، سماجیاتاور معاشیات کے بنیادی اصولوں سے نابلد اور کورے ہیں ، ہر طرف فرقہ واریت کی آگ جل رہی ہے اور اسے بجھانے والا کوئی نہیں ہے۔اسلام تو ظلم توڑنے اور مظلوم کی حمایت کا درس دیتا ہے اور یہ تعلیم دیتا ہے ظلم کرنے والا ظالم ہے خواہ اسکا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو ،یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ظالم کو ظالم نہ کہنا جرم ہے اور پیغمبر اسلام ﷺنے جو خطوط اس وقت کے دو سامراجی طاقتوں روم اور فارس کے سربراہوں کے نام روانہ کیئے تھے ان میں بھی مظلوم مجوسی اور مظلوم کاشتکار کی حمایت کی بات کی تھی اور آپﷺنے جو جماعت صحابہؓ تیار کی تھی وہ ایک انسان دوست جماعت تھی اور سچائی اس جماعت کا امتیازی نشان تھا جسمیں خاندانی، نسلی،قومی یامذہبی تعصب نہیں تھا ۔وہ ظلم کے مٹانے کے جذبے سے سرشار تھے اور ان کی قربانیوں کی بدولت دنیا سے ظلم کا خاتمہ ہوا اور اسلام کو گیارہ سو سال تک مسلمانوں کے اقلیت ہونے کے باوجود غلبہ حاصل رہا اور مسلمان صدیوں تک ظالموں کو کیفر کردار تک پہنچاتے رہے اورمظلوم کی حمایت کے باعث عوام خوشحال تھے اور امن قائم رہا۔آج المیہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی تعداد ڈیڑھ ارب سے متجاوز ہے اور ان کی ساٹھ اسلامی حکومتیں بھی ہیں مگر ان کی طاقت سامراج کی حمایت میں استعمال ہوتی ہے اور وہ ایک دوسرے کے خلاف سامراج کو اڈے فراہم کر نے میں اپنی عزت سمجھتے ہیں اور وہ بطور آلہ کارسامراج کے حق میں اپنا سب کچھ قربان کرتے ہیں اور جو لیڈر ہیں یا تو ان پر روشن خیالی کا غلبہ ہے اور یا وہ قنوطی ذہنیت کے پیداوار ہیں اور رجعت پسندی ان کے خمیر میں شامل ہے ، یہی وجہ ہے کہ جب ایک بڑے مذہبی رہنماجو ایک ڈاکٹر بھی ہیں ان سے کسی نے پوچھا کہ اگر آپ کی اسلامی حکومت آگئی تو اسمیں کافروں کی کیا حیثیت ہوگی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ دوسرے درجے کے شہری ہونگے ، اس ذہنیت سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انسانیت کے حوالے سے ہمارے لیڈر کس قدر وسیع نظرواقع ہوئے ہیں اور ان کے خیالات کتنے اعلیٰ ہیں اور ان کی سوچ کتنی اونچی ہے؟۔

بھارتی جنگی جنون، پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی مقامات پر بوفرز توپیں سمیت بھاری اور درمیانے ہتھیار پہنچانے شروع کردئیے ہیں اور انتہا پسند بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا پورا دن ملٹری آپریشن میں گزارنا جہاں جنگی جنون کا آئینہ دار ہے وہاں بھارت کے مذموم عزائم کی بھی عکاسی کرتا ہے ۔ اوڑی حملے کے بعد بھارتی فوج کی غیر معمولی سرگرمیاں اور پاکستان پر بے سروپا اور من گھڑت الزمات اس کے مخاصمانہ رویے کا ثبوت ہیں۔بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں فوجی نقل و حرکت تیزکردی ہے اور دوسری طرف پاکستان کی فضائیہ نے ملک کے شمالی حصے کی فضائی حدود اور موٹر ویزے کو بند کر کے جنگی مشقیں مکمل کر لی ہیں۔لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے بھاری اور درمیانے توپے خانے کی نقل و حرکت کی بھارت کے اعلی دفاعی اہلکاروں نے بات چیت میں تصدیق بھی کی۔ بوفرز توپوں اور 105 درمیانی رینج کی دوسری توپوں کو اوڑی کے چڑی میدان، موہرا اور بونیار میں نصب کیا جا رہا ہے۔ سونہ مرگ میں بھی بڑے ہتھیاروں کی تنصیب ہو رہی ہے۔ ان مقامات سے آزاد کشمیر مِیں پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے موسم سرما شروع ہونے اور برف پڑنے سے پہلے اس کی ہر سال کی معمول کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ لیکن اس بار کی تیاری میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کنٹرول لائن پر بوفرز توپوں، اور دیگر طرح کا جنگی ساز و سامان سرحد پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ خفیہ بیورو سے موصول ہونے والی معلومات کی بنیاد پر فوج یہ تیاری کر رہی ہے۔ گزشتہ روز سرینگر ہوائی اڈے پر مگ 21 ساخت کا ایک جنگی طیارہ حادثہ کا شکار ہوگیا تھا، تاہم پائلٹ بچ نکلنے میں کامیاب ہوگیا۔فوجی حکام نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا مگ طیارے کی پرواز کسی جنگی تیاری کا حصہ تھی۔ ہماری تنصیبات اور پاکستانی اہداف کے تازہ سروے کے بعد اسلحہ اور جنگی سازوسامان کی نقل و حرکت ہو رہی ہے۔ میں بھارتی فوج کے دعوے کے حوالے سے کہاگیاکہ فوج کو اطلاع ملی ہے کہ شدت پسند مبینہ طور پر سرحد پار سے دراندازی کی تیاری میں ہیں۔شمالی کشمیر کے مختلف حصوں میں اگلے مورچوں پر تعینات مسلح افواج کے دستوں کو متحرک اور ضروری جنگی مواد پہنچانا شروع کر دیا گیا تھا۔ بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیرمیں شدت پسندوں کے خلاف کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ کنٹرول لائن کے ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں بھارت اور پاکستان کی حقیقی سرحد پر دو جگہوں پر فوجی کارروائیاں جاری ہیں۔ اڑی حملے کے بعد بھارت میں پاکستان کے خلاف فوجی کاروائی کے شدید مطالبوں کے پس منظر میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب جنگی طرز کی فوجی نقل و حرکت سے سرحدی علاقوں میں خوف و ہراس کی لہر پھیل گئی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ محمد نفیس زکریا نے کہاہے کہ پاکستان کی مسلح افواج ملک کے ہرصورت میں دفاع کے لیے تیا ر ہیں ،پاکستانی فوج اور قوم ملکی سا لمیت پر کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں،اڑی حملے کے بعد بھارت نے بغیر ثبوت کے پاکستان پر الزام لگایا ، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والی صورتحال خطرناک شکل اختیار کر چکی ہے،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ دنیا کی توجہ حاصل کر چکا ہے، ا قوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب میں وزیر اعظم نے کشمیر کا مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کیا،مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ثبوت اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو دئیے ، فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ کشمیر بھیجنے کا مطالبہ کیا،اقوام متحدہ اور او آئی سی کے سیکریٹری سمیت دنیا کے دیگر ممالک نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے مظالم کی مزمت کی ،براہمداغ بگٹی کو بھارتی شہریت دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ بھارت بلوچستان میں مداخلت اور پاکستان میں دہشت گردی کو فنڈنگ کررہا ہے۔ بھارت خوش فہمی میں نہ رہے ۔ پاکستان کسی بھی حملے کا جواب دینے کیلئے تیار ہے اور پاک فوج وطن کے دفاع سے غافل نہیں ہے اور بھارت کا جنگی جنون کو ہوش میں لانے کیلئے پاک فوج کے بہادر سپاہی تیار ہیں ۔ مکار دشمن خطے کے امن کو تباہ کرنے اور بھارتی مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر جنگ مسلط کرنا چاہتا ہے لیکن پاکستان اس کیلئے تیار ہے۔
دہشت گردوں کی سزائے موت کی توثیق
آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے مسلح افواج قانون نافذ کرنے والے اداروں، معصوم شہریوں پرحملوں، دہشت گردی اور فرقہ وارانہ وارداتوں سمیت سنگین جرائم میں ملوث مزید 7 دہشت گردوں کی سزائے موت کے فیصلوں کی توثیق کردی ہے ۔ فوجی عدالتوں نے جرم ثابت ہونے پر ان دہشت گردوں کو موت کی سزا سنائی تھی جن دہشت گردوں کی سزائے موت میں توثیق کی گئی ان میں محمد قاسم ، عابد علی ، محمد دانش ، جہانگیر حیدر، معتبر خان، رحمان الدین شالم ہیں۔ فوجی عدالتیں فوری انصاف کی فراہمی میں جو کردار ادا کرتی چلی آرہی ہیں وہ قابل صد تعریف اور داد بیداد ہے۔ فوجی عدالتوں کے ذریعے دہشت گرد عبرت کا نشان بن رہے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جہاں ایک طرف آپریشن ضرب عضب جاری ہے جو اپنے مطلوبہ اہداف پورے کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ آپریشن کی کامیابی کا اندازہ اس امر سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک سینکڑوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے اور ان کے نیٹ ورک کو توڑنے کے ساتھ ساتھ ان کے ٹھکانے تباہ کردئیے گئے ہیں اور پاک فوج کے بہادر سپاہیوں اور افسروں نے کئی علاقے دہشت گردوں کے تسلط سے واگزار کروالئے ہیں۔ دہشت گردوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا جو انتہائی موثر انداز میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کررہی ہیں اور ان کی کارکردگی لائق تحسین ہے۔ دہشت گردی کے ناسور نے ملک میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کررکھا ہے اورلوگ عدم تحفظ کا شکار چلے آرہے تھے اور ہر طرف دھماکوں اور خودکش حملوں نے خوف و ہراس پھیلانا شروع کیا تو آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا اور بعدازاں فوجی عدالتی قائم کی گئیں جن کے مثبت نتائج برآمد ہورہے ہیں ۔ دہشت گردی میں بھارت کا عمل دخل اس قدر بڑھ گیا کہ وہ اپنی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردانہ کارروائیوں پر اتر آیا جس کے خلاف موثر حکمت عملی کارگر ثابت ہورہی ہے ۔ دہشت گردی کا خاتمہ ہی ملک میں امن کی بحالی اور خوشحالی کا ذریعہ قرار پاسکتا ہے۔
انسانی حقوق کمیشن کی پاکستانی موقف کی حمایت
وزیر اعظم نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال انتہائی خراب ہے۔ بھارتی فورسز کے تشدد اور جارحیت سے اب تک 107 سے زائد کشمیریووں کو شہید کیا جا چکا ہے۔ جس کی وجہ سے اب وہاں کے لوگ بہت زیادہ غصے میں ہیں۔ پاکستان پر الزامات لگانا بھارت کی عادت بن چکا ہے بلاجواز الزامات لگانا غلط ہے اب اس نے سوپور واقعہ کی ذمہ داری بھی پاکستان پر ڈال دی ہے۔ پاکستان دہشتگردی کی بھاری قیمت چکا رہا ہے دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو منطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔پاکستان امن کا داعی ہے ۔ اب تک ہونے والی تمام ملاقاتوں میں مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کیا گیا، وزیراعظم کے دورے کا مقصدصرف مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا تھا ، امریکہ اور اقوام متحدہ کو کشمیر میں ہونے والے بھارتی مظالم کے ثبوت دئیے گئے، یہ مسئلہ صرف دو ملکوں کا نہیں بلکہ اقوام متحدہ کا بھی ہے

مسئلہ کشمیر سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش

کشمیر میں بھارت کا ظلم و ستم جاری ہے جس میں ابتک سینکڑوں معصوم نوجوان اور بچے ہلاک ہو چکے ہیں ایسے میں عالمی سطح پر بھارت پر وہ دباؤ نہیں ڈالا جا رہا جو کہ کسی بھی دیگر ملک کی طرف سے ایسے ظلم پر ڈالا جاتاہے اس کی وجوہات بہت واضح ہیں کہ بھارت عالمی برادری تک وہ حقائق پہنچنے سے روکنے کی پوری کوشش کر رہا ہے کہ کسی بھی طرح یہ حقائق عالمی برادری تک نہ پہنچے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس نے خود عالمی برادری کے سامنے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے کا وعدہ کیا ہوا ہے مگر یہ بات تمام مسلمان جانتے ہیں کہ ہندو کی فطرت میں مکاری اور عیاری ازل سے شامل ہیں اس لئے پاکستان اور تمام اسلامی ملک بھارت کی اس ہٹ دھرمی کو بڑی واضح صورت میں دیکھتے ہیں کشمیری حریت مجاہد کی شہادت کے بعد پیدا ہوانے والی صورت حال نے ایک بار پھر کشمیر کو پورے جنوبی ایشاء کا فلش پوائینٹ بنا دیا ہے کیونکہ دونوں ملک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں ایسے میں اگر کسی بھی طرف سے کوئی کاروائی ہوتی ہے تو اس کے کیا اثرات مرتب ہونگے یہ تمام ممالک بخوبی جانتے ہیں بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ پاکستان ہے وہ کسی بھی صورت میں پاکستان کو نیچا دیکھنا چاہتا ہے اس میں ہونے والے کسی بھی تخریبی واقعے کا تعلق وہ پاکستان سے جوڑنے سے باز نہیں آتا حالانکہ اسکو بعد ازاں پتا چل جاتا ہے کہ وہ جس کو پاکستان کے سر تھوپ رہا ہے وہ تو خود اس کے اندر کے لوگوں کا کام ہے بھارتی پاکستان دشمنی کے نام پر اپنی سیاست کو چمکانے میں مصروف ہیں بلا شبہ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے پاکستان کسی بھی صورت میں اس مسئلے کو پس پشت ڈال کر دیگر کئی معاملات پر بھارت سے کسی طور مذاکرات نہیں کرنا چاہتا اور بھارت اس مسئلے کے علاوہ اور دیگر تمام مسائل پر بات چیت کرنے کو ترجیح دیتا ہے ایسی صورت میں عالمی برادری کا یہ حق بنتا ہے کہ وہ دونوں ممالک میں ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے خطے کو اس مشکل صورت حال سے بچانے میں کردار ادا کریں ان دونوں ممالک میں کشیدگی سے خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ ہر وقت موجود ہے کشمیر کے بارے میں پاکستان کا موقف بڑا واضح ہے پاکستان ہمیشہ کشمیریوں کی سفارتی’ سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے کیونکہ ایک دن ضرور آئے گا جب کشمیریوں کو ان کا حق خودارادیت ضرور ملے گا کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع ہو کر رہے گا۔ یہی سوچ پاکستان کے ہر آدمی کی ہے بلاشبہ پاکستان کے ہر آدمی نے مسئلہ کشمیر کی بات کی ہے اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط کی مخالفت کی ہے یہ بھی حقیقت ہے کہ مختلف ادوار میں وقفہ وقفہ سے کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی شدت اختیار کرتی رہی ہے اس کی شدت کے ساتھ ہی بھارتی مظالم میں بھی شدت پیدا ہوتی رہی یہ سلسلہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری ہے بھارت کی سات لاکھ کے لگ بھگ فوج مسلسل مقبوضہ کشمیر میں تعینات ہے تاہم ایک دانشور سے لے کر ایک عام شہری تک کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا طاقت کے استعمال سے یہ مسئلہ حل نہ ہوا دونوں ملکوں نے کشمیر کے تنازعہ کے باعث کئی جنگیں لڑیں اب جبکہ دونوں ملک ایٹمی طاقتیں بن چکے ہیں وہ کسی تصادم کے متحمل نہیں ہوسکتے انہیں بہرصورت مذاکرات کے ذریعے ہی یہ مسئلہ حل کرنا پڑے گا لیکن بدقسمتی سے بھارت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے تیار نہیں ہے ۔یہ ایک المیہ ہے کہ بھارت مذاکرات کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے اس کی ڈھٹائی کا یہ عالم ہے کہ اس کی طرف سے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے کمشنر کو بھی مقبوضہ کشمیر کے دورے کی اجازت نہیں دی جارہی گویا وہ اقوام متحدہ کے حکام کوبھی خاطر میں نہیں لا رہا نئے عالمی منظر نامے میں کشمیریوں کے لئے حالات مزید ناسازگار ہوتے جارہے ہیں مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں گزشتہ دو ماہ سے شدت پیدا ہوئی ہے مگر امریکہ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے نہ اس کی مذمت کی ہے’ ان امریکی رویوں سے بھارت کو مزید شہہ ملی ہے اور انھوں نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مترادف پاکستان کو دہشت گردوں کا سرپرست کہنا شروع کر دیا عالمی برادری بھی بھارت میں اپنے مفادات کی خاطر بھارت کی ہاں میں ہاں ملاتی نظر آتی ہے یہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کا کمزور پہلو ہے کہ امریکی اسمبلیوں میں پاکستان مخالف بل پیش کیے جا رہے ہیں جس کا مطلب ہے کہ وہاں بھارتی لابی اپنا کام دکھا رہی ہے ایسی صورت میں پاکستان کو اپنے سفارتی عملے کو یہ مشن دینا چاہیے کہ وہ ہر ملک میں بھارت کی دہشت گردی کو پیش کریں اور ان مظالم کو عالمی دنیا کو دیکھائیں جن کی وجہ سے سینکڑوں کشمیری شہید ہو چکے ہیں ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتیوں کو ان ہی کی زبان میں جواب دیا جائے اس کا پاکستان پر یہ وار صرف اس لئے ہے کہ مسئلہ کشمیر اس وقت عالمی سطح پر اپنے عروج پر ہے اور ایسے میں بھارت مسئلہ کشمیر سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہیں اس پر عالمی برادری نے نوٹس لے لیا تو اسے کئی سال پہلے کیا گیا وعدہ پورا نہ کرنا

بھارتی دھمکی اورقومی مفاہمت کی ضرورت

بھارت کی فوج نے حکومت کو کہا ہے کہ پاکستان کو سبق سکھانے کی اجازت دی جائے۔ بھارت کے سابق فوجیوں نے بھی پاکستان پر حملہ کرنے کی بات کی ہے۔ خود بھارت کے سیاسی لیڈر بھی آئے روز بھارتی حکومت کو کہتے رہتے ہیں کہ پاکستان پر حملہ کر کے اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہیے جیسے مشرقی پاکستان کو بھارتی فوجوں نے حملہ کر کے مغربی پاکستان سے علیحدہ کیا تھا ۔پوری دنیا جانتی ہے کہ بھارت نے شروع دن سے پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا ۔ اسے توڑ کر واپس بھارت میں شامل کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہے ۔اکھنڈ بھارت کے خواب میں مبتلا بھارت اب جنونی ہو گیا ہے ۔ اس میں صلیبی انگریز کی حکومت بھی شامل ہے جس نے ایک سازش کے تحت بھارت کو کشمیر جانے کے لیے گرداس پور کا علاقہ زمینی راستہ مہیا کیا تھا جو مسلم اکثریتی آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا حصہ تھا۔ اب غدار پاکستان لندن میں بیٹھ ر کر پاکستان توڑنے کے لیے بھارت، اسرائیل ایران اور دوسرے ملکوں سے مداخلت کا کہہ رہا ہے۔ پہلے بھارت کے خفیہ ایجنسی کے چیف نے الطاف حسین کو ایم آئی سیکس کا مہمان قرار دیا تھا اور اب کل ہی لندن کے ایک صحافی نے الطاف حسین کو برطانیہ اور امریکا کاا ثاثہ قرار دیا ہے۔ صاحبو! بانی پاکستا ن قائد اعظم ؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ کیا کوئی جسم شہ رگ کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے؟ نہیں ہر گز نہیں! قائد اعظم ؒ کو معلوم تھا کہ سارے دریا کشمیر سے پاکستان ک طرف بہتے ہیں۔ ان کا پانی پاکستان کی زندگی ہے۔ آج بھارت نے پاکستان کے ناعاقبت اندیش سیاستدانوں کی وجہ سے ایک ایک کر کے کشمیر کے دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بنا کر پاکستان کے پانیوں کو روک دیا ہے۔ یہی پانی بھارت کے مختلف علاقوں میں پہنچانے کے لیے انتظامات کر لیے ہیں۔کشمیر جسے ہر حالت میں پاکستان میں شامل ہونا تھا بھارت نے اپنے آٹھ لاکھ فوج کے ذریعے غلام بنایا ہوا ہے۔کشمیریوں نے برہان وانی شہید کی شہادت کے بعد ایک نئے سرے سے آزادی کی تحریک بر پا کی ہوئی ہے ۱۰۷ ؍سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں ۱۰۰؍ سے زائد کو بلیٹ گن(چھروں والی گن) کے استعمال ذریعے بینائی سے محروم کر دیا گیا ہے ۱۰؍ ہزار زائدزخمی ہو چکے ہیں۔ دو ماہ سے کرفیو لگا ہوا۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ٹیم کو کشمیر جانے سے روک دیا ہے۔ اب تو وکی لیکس نے بھی بھارت کے مظالم کی تفصیل جاری کر دی ہے۔ دہشت گرد مودی نے پہلے کہا کہ کشمیر کو بھول جاؤ کراچی کی فکر کرو۔ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پربلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مداخلت کی باتیں کی ہیں۔ جس کا ثبوت بلوچستان میں نیوی کے حاضر سروس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور کراچی میں آئے دن پکڑے جانے والے متحدہ قومی موومنٹ، را کے مقامی ایجنٹ، جو را سے ٹرنینگ کا اعتراف کرتے ہیں۔ لندن میں ایم کیو ایم کے رہنماؤں کے اسکاٹ لینڈ یارڈ کے سامنے را سے فنڈ لینے کے اعترافی بیانات بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔ نواز شریف صاحب نے کشمیر کے مسئلہ پر پہلے بھی اور اب بھی سیکورٹی کونسل کے مستقل پانچ ممبروں کو بھارت کے پاکستان میں مداخلت کے ثبوتوں کے ساتھ خط لکھے ہیں۔ برطانیہ، جاپان اور ترکی کے وزیر اعظم صاحبان کو بھی ثبوت پیش ہیں ۔ان میں امریکا کے وزیر خارجہ جان کیری کو بھی ثبوت پیش کیے ہیں۔ جنہوں نے بھارت سے بات کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی ہے۔ اقوام متحدہ میں کشمیر پر بھارتی ظالم کے بارے میں زور دار تقریر بھی کریں گے۔ بھارت نے حسب عادت ایک تازہ سازش کی ہے۔خود اوڑی سیکٹر میں اپنی ایک فوجی چوکی پر حملہ کرا کے جس میں بیس فوجی ہلاک اور کچھ زخمی ہوئے ہیں۔تاکہ اقوام متحدہ کے سالانہ اجلاس میں کشمیر کے مسئلہ کو پاکستان کی دہشت گردی سے جوڑ کر دبا دیا دے۔۹؍۱۱ کے بعد صلیبیوں نے صلیبی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اسلام کو پوری دنیا میں دہشت گرد بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ گریٹ گیم کے تحت ایٹمی پاکستان کو نشانہ بنا یا ہوا ہے۔ امریکا، بھارت اسرائیل کے اتحادِ خبیثہ کی وجہ سے مقامی ایجنٹوں کو ملا کرپاکستان میں دہشت گردی کے اتنے واقعات کرائے گئے ہیں کہ کوئی اور ملک ہوتا تو کبھی کا ختم ہو گیا ہوتا۔ کیا پاکستانی فوج کے ہیڈ کواٹر، ایر فورس،نیوی،انٹیلی ایجنسیوں، پولیس، سیکورٹی اداروں، حتہ کہ پاکستان کے بازاروں، مسجدوں، امام بارگاہوں، چرچوں، بزرگوں کے مزاروں، اسکولوں اور عدلیہ کے وکیلوں، کون سی جگہ چھوڑی گئی ہے جس پر حملہ نہ کیا گیا ہو۔ ان حالات میں ہماری بہادر فوج نے ضر ب عضب شروع کیا ہوا ہے۔ جس کے ذریعے چن چن کر ایک ایک مقامی ایجنٹوں کو کیف کردار تک پہنچایا جا رہا ہے۔ کراچی میں ٹارگیٹڈ آپریشن کے ذریعے را کے مقامی ایجنٹوں، بھتہ خوری، ٹھپہ اور لینڈ مافیا ،بوری بند لاشوں اور پاکستان مردہ باد کے نعرے لگانے والوں کوقانون کے حواے کیا جارہا ہے۔ رینجرز نے کاروائی کر کے ان کے غیرقانونی دفتروں جن میں بیٹھ کرپاکستان کے خلاف سوچ بچار کرتے تھے مسمار کیا جا رہا ہے۔ رینجرز نے کراچی کی رونقیں بحال کردی گئی۔ فوجی ذرائع کے مطابق ضرب عضب سے دہشت گرووں کا نوے فی صد خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ پاکستان نے دہشت گردی کی اس لہر میں دنیا کے سب قوموں سے زیادہ نقصان برداشت کیا ہے۔ پوری دنیا نے ان اقدام کی تعریف کی ہے۔ مگربھارت نے حسب عادت ان علاقوں کے لوگوں کو اُکسانے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ مقامی قوم پرستوں کے بیانات سے بھارت کی مدد ہو رہی ہے۔ کبھی کوئی قوم پرست فوج کی ایجنسیوں کے خلاف بیان دیتا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ خیبرپختونخواہ افغانستان کا حصہ تھا۔،کبھی کہتا ہے میں افغانی تھا ہوں اور رہوں گا ۔ دوسرا قوم پرست کہتا ہے میں بھی افغانی تھا ہوں اور رہوں گا یہ بے وقت کی راگنی کیوں شروع کی گئی ہے؟ قائد اعظم نے ایک کے برزگ بلوچی گاندھی اور دوسرے کے سرحدی گاندھی کو تحریک پاکستان کے دروران شکست دی تھی۔ضرورت تو اس امر کی تھی کہ یہ لوگ پاکستان کے گیت گاتے۔یہ لوگ پاکستان بننے کے بعد پاکستان کا کھا رہے ہیں اور گیت کہیں اور کے گاتے ہیں۔اس طرح یہ دشمن کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں جس پر فوج کے سپہ سالار نے بھی سیاسی حکومت کو خبردار کیا تھا۔ بین ا لاقوامی اور اور پاکستان کے اندرونی حالت سے فاہدہ اُٹھاتے ہوئے بھارت پاکستان پر حملے کی سوچ رہا ہے۔ اشد ضرورت ہے کہ اس وقت پاکستان کے محب وطن سیاستدانوں کو اپنی اپنی حکومت خلاف تحریکوں کو وقتی طور پر روک کر ایک نکتے یعنی پاکستان بچانے کے نکتے پر جمع ہو جانا چاہیے۔ جیسے پشاور آرمی پبلک اسکول کے واقعہ پر سب قوم اکٹھی ہو گئی تھی۔پاکستان ہے تو ہمارے آپس کے اختلافات ہیں۔ پاکستان کی پارلیمنٹ اور سینیٹ کامشترکہ اجلاس بلایا جائے۔ ٹی ای او آر کے لیے پارلیمنٹ کی ایک مشترکہ کمیٹی بنا کر وقتی طور اُس کے حوالے کر دیا جائے۔ آ ل پارٹی یعنی تمام سیاسی مذہبی پارٹیوں اور فوج کے نمائندوں کا اجلاس منعقد کیا جائے۔ اس میں بیٹھ کر بھارت کے اعلان جنگ کے توڑ کے لیے لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ بھارتی دھمکی اورقومی مفاہمت کی ضرورت جتنی آج ہے کبھی نہیں تھی۔ اللہ پاکستان کی حافظت فرمائے

ڈنڈا برداریا بلا بردار، قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں

زیراعلی پنجاب محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ میرٹ، انصاف اور قانون کی عملداری کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کر سکتا۔ دنیا میں وہی قومیں ترقی کرتی ہیں جو ان اصولوں کو اپناتی ہیں۔ پنجاب حکومت نے پولیس سمیت دیگر تمام محکموں میں میرٹ کی پالیسی کو اپنایا ہے کیونکہ میرٹ کے بغیر ترقی کی منزل حاصل نہیں کی جا سکتی۔ کسی بھی معاشرے کی بقا کیلئے انصاف اہم ستون ہے۔ جن معاشروں میں انصاف کا بول بالا نہیں ہوتا وہ تباہ و برباد ہو جاتے ہیں۔ تھانوں کو مظلوم اور بے سہارا افراد کی داد رسی اور انصاف کی فراہمی کا ذریعہ بننا ہو گا۔
شہباز شریف نے ایلیٹ پولیس ٹریننگ سکول بیدیاں لاہور میں پولیس دربار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھانوں میں چور کو چوہدری، ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا کر پیش کرنے کے کلچر کا خاتمہ کرنا ہے۔ دیگر شعبوں کی طرح انصاف کی فراہمی کا شعبہ بھی انحطاط کا شکار رہا ہے اور ہمیں اسے بدلنا ہے۔ جن کے پاس سفارش یا پیسہ نہ ہو وہ انصاف کے حصول کے لئے رل جائیں اور جو پیسے سے تھانوں اور کچہریوں میں انصاف خرید لیں اس سے بڑا ظلم اور ہو نہیں سکتا۔ وقت آگیا ہے کہ اب ہمیں اس کلچر کو ختم کرنا ہے۔ میری سینئر پولیس افسروں اور پولیس فورس سے اپیل ہے کہ انصاف، انصاف اور انصاف کے سوا صوبے میں دوسری کوئی اور بات نہیں ہونی چاہئے۔
وزیراعلی نے کانسٹیبل کا گریڈ 5 سے بڑھا کر 7، ہیڈ کانسٹیبل 7 سے بڑھا کر 9اور اے ایس آئی کا گریڈ 9 سے بڑھا کر 11 کرنے اور سوا لاکھ سپاہ کو مراعات دینے کیلئے ہیڈ کانسٹیبل رینک میں 13 ہزار نئی اضافی آسامیوں کا اعلان کیا۔ پنجاب پولیس کے سپاہ میں جو جوان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کریں گے ان کے ورثا کو دی جانے والی مالی امداد کو 50 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح افسر جو دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کریں گے ان کی مالی امداد میں بھی 50 لاکھ روپے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلی نے پولیس کے شہدا کی لازوال قربانیوں کی یاد میں ایک بڑے پارک میں یادگار شہدا بنانے کا بھی اعلان کیا۔
وزیر اعلی نے کہا کہ چند سال قبل یہ تاثر موجود تھا کہ پولیس دہشت گردی کے چیلنج سے نبردآزما ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ اللہ کا شکر ہے کہ پنجاب میں آج ایسی کوئی صورتحال نہیں۔ ہمیں دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔ یہ ایک بڑ ا چیلنج ہے جس کو قبول کرتے ہوئے عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہے۔ سفر طویل ہے لیکن عزم، جذبہ، ہمت اور حوصلہ موجود ہوتو کوئی پہاڑ اورسمندر راستے میں حائل نہیں ہو سکتا۔ سی پیک پاکستان کے لئے گیم چینجر کی حیثیت رکھتا ہے اور اگر خدا نخواستہ سی پیک خراب ہوا تو پاکستان کی قسمت خراب ہو جائے گی۔ سی پیک کے منصوبوں میں تاخیر پیدا کرنے والے ہوش کے ناخن لیں۔ ملک احتجاج اور انتشار کی سیاست کا کسی طور پر بھی متحمل نہیں ہو سکتا۔ 800 سب انسپکٹرز مزید بھرتی کئے جائیں گے جبکہ سی پیک کے منصوبوں اور چینی انجینئرزکی حفاظت کیلئے خصوصی یونٹ بنایا گیا ہے جو 5000 اہلکاروں پر مشتمل ہے تا ہم ان کی تعداد جلد 10ہزار تک پہنچ جائے گی۔ سی پیک ہماری آئندہ نسلوں کی خوشحالی کا منصوبہ ہے اور اسے ہمیں ہر حال میں مکمل کرنا ہے۔
وزیر اعلی نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں کسی کو ملک کی ترقی میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔ ڈنڈا بردار ہو یا بلا بردارہو کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ پولیس سی پیک کے تحفظ کیلئے جان لڑا دے۔ جن لوگوں نے 2014ء میں چینی صدر کا دورہ ملتوی کرایا اب وہ پھر باہر آگئے ہیں اور ترقی وخوشحالی کی خوشبو کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔
پولیس سسٹم میں اصلا حا ت سے بہتر ی آ رہی ہے اور شہریو ں کے جا ن و مال کے تحفظ کو یقینی بنا یا جارہا ہے۔حکومت پنجاب کی پولیس نظام میں انقلا بی تبدیلیو ں کے باعث تھا نو ں کے ما حو ل میں بہترآئی ہے اور عا م آ د می کا اعتماد بحا ل ہو رہا ہے۔معاشر ے میں قیا م امن اور عدل وانصاف کی فرا ہمی کیلئے تما م وسائل بروئے کا ر لائے جائیں گے۔ ہما را مقصد عا م شخص کو ریلیف فرا ہم کر نا اور اس کی مشکلات اور مسائل کو حل کر نا ہے۔دعا ہے کہ ہما ر ی پولیس جذ بے کے تحت لوگو ں کے جا ن و ما ل کا تحفظ موثر طر یقے سے کر یں۔
وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے تھانوں میں شکایات کے اندراج کے لئے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ مینجمنٹ سسٹم کوانتہائی ضروری قرار دیدیا۔ شہباز شریف کہتے ہیں کہ عام آدمی کو انصاف کی فوری فراہمی کیلئے پولیس کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی۔ جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے عام آدمی کو تھانوں میں فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔ مانیٹرنگ کا موثر نظام وضع کر کے پولیس کی کارکردگی میں بہتری لانے کیلئے مزید اقدامات اٹھائے جائیں۔

کمزوری کو طاقت بنائیں!

دروازے پرکھڑے چوکیدار نے روکنے کی کوشش کی مگر کامیاب نہ ہوا، نوجوان نے زبردستی دروازہ کھولااوراندر داخل ہوگیا۔اندر داخل ہوتے ہی اس نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی فائل لہرائی اور چیخنے لگا’’سر! ہم غریب لوگ ہیں ،ہمیں کون خاطرمیں لاتا ہے ؟ پورا نظام ہی خراب ہو چکا ہے ،اس ملک میں وہی کامیاب ہے جس کے پاس دولت ہے ، انسان جتنا بھی قابل کیوں نہ ہو اگر اس کے پاس دولت اور وسائل نہیں ہیں تو وہ کامیاب نہیں ہو سکتا ‘‘۔ نوجوان بہت غصے میں نظر آرہا تھا۔یہ منظر ایک آفس کا تھا جو کنٹونمنٹ میں واقع تھا۔ نوجوان نے ہاتھ میں دبی ہوئی فائل کو میز پررکھا اور جانے کے لیے پر تولنے لگا۔میز کے اس پار کرسی پر ایک نوجوان آفیسر براجمان تھا ۔ اس نے لبوں پر ایک دلآیز مسکراہٹ سجائی ، نوجوان کو بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میز پر رکھی ہوئی بیل بجادی ۔ ملازم اندر داخل ہو ااور صاحب کا اشارہ پاکر باہر نکل گیا۔ جب دوبارہ اندر آیاتو اس کے ہاتھ میں ایک ٹرے تھی ،جس میں ایک جگ اور چند گلاس تھے ۔ اُس نے سب کو سلیقے سے پانی پیش کیااور دوبارہ باہر نکل گیا ۔آفیسر نے ایک نظر ہم سب کو دیکھااور مسکرا کر کہنے لگا’’ مانا کہ نظام خراب ہے مگر مکمل ڈیڈ بھی تو نہیں ہوا ، اور انگلیاں تو ایک ہاتھ کی بھی آپس میں برابر نہیں ہوتیں۔مثلاً آپ اس کہانی کو دیکھ لیں ۔ ’’سر! کہانی نہیں حقیقت ، ہمیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا کہ دولت نہیں ہے توآپ اندھے بھی ہیں ، نالائق بھی اور جاہل بھی۔یہ سن کر آفیسربولا ’’کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ اس نظام میں مدرسے کا طالب علم CSS کا امتحان پاس کرے اور وہ پہلی ٹرائی میں ؟‘‘۔ نوجوان نے زور سے سرہلایااور بولا ’ ’ایسا ہو ہی نہیں سکتا ‘‘ ۔ ’’مگر ایسا ہوا ہے اور دوسال پہلے ہوا ہے ‘‘ آفیسر نے جواب دیا ۔ ’’وہ کیسے سر؟‘‘اب نوجوان کہانی میں دلچسپی لینے لگا تھا۔ آفیسر ایک مرتبہ پھر مسکرایااور کہنے لگاوہ اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا، اس کا تعلق ضلع کوہاٹ کے ایک پسماندہ علاقے سے تھا ، والد صاحب آرمی سے ریٹائرڈتھے ،بڑی مشکل سے گزراوقات ہوپاتی تھی، علاقے کا واحد سکول پرائمری تک تھا،اس نے بھی پرائمری تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی ،مزیدتعلیم کے لیے شہر ناجا پڑتا تھا اوروالد کے پاس وسائل نہ تھے ۔ والد نے اسے ایک مدرسے میں ڈال دیا کہ قرآن مجید حفظ کر کے کوئی مسجد سنبھال لے گا اور یوں زندگی بسرہوجائے گی ۔اس کی خوش قسمتی تھی کہ مدرسے میں حفظ کے ساتھ ساتھ سکول کی تعلیم بھی دی جاتی تھی ۔ جب اس نے قرآن حفظ کیا تو ساتھ ہی میں آٹھویں کلاس بھی پاس کرچکا تھا ۔ قاری صاحب نے اس کی جستجو دیکھتے ہوئے اسے ایک ایسے مدرسے میں داخل کرادیا جہاں جدید تعلیم کا انتظام بھی تھا ۔وہ درس نظامی کے ساتھ ساتھ جدیدتعلیم حاصل کرتارہا، اس کی محنت تھی کہ جب میٹرک کا رزلٹ آیا تو پنڈی بورڈ میں اس کی دوسری پوزیشن تھی ۔یہاں کچھ NGOs نے اس کی مدد کی اور یوں اس کاروزانہ کا جیب خرچ پورا ہونے لگا۔اس نے اسی پر اکتفانہ کیا بلکہ کامیابیوں کے اس تسلسل کوجاری رکھا۔F.A کے امتحان میں گولڈ میڈل حاصل کیااور M.A کے امتحان میں بھی دوسری پوزیشن لے اڑا ۔اسے ایک موضوع پر تحقیق کرنی تھی اور کتابیں خریدنے کے لیے اس کے پاس کچھ نہ تھا، اس نے ہمت نہ ہاری اور لاہور میں ایک ناشر کے پاس آیااور اسے اپنا مسئلہ بتایا،ناشر نے اس کی دلچسپی کو دیکھتے ہوئے اسے اپنے مکتبے سے استفادہ کرنے کی اجازت دے دی ،یہاں قسمت نے ایک ٹرن لیا جس کے نتیجے میں وہ CSSآفیسر بن گیا۔آفیسر نے یہ کہ کر ہماری طرف دیکھا، پانی کا ایک گلاس خالی کیااور سلسلہ گفتگوکو دوبارہ جوڑااورکہا، اشاعت خانے کے مالک نے جب اس کا انہماک دیکھا، اس کا تعلیمی ریکارڈ چیک کیاتو اپنے خرچے پر اسے ایک ایسی اکیڈمی میں داخلہ لے دیا جہاں CSS کی تیاری کرائی جاتی تھی ۔اس نے موقعے کو ضائع نہ کیا، کامیابی کے کے لیے دن رات ایک کیا اورپہلی بار ہی مقابلے کے اس امتحان میں پاس بھی ہو گیا ۔’’ سر! آپ کی اس کہانی سے کیا ثابت ہوا‘‘ نوجوان نے ترش لہجے میں کہا ’’ اگروہ ناشر اسے سپورٹ نہ کرتا توکیا وہ اس مقام تک پہنچ پاتا؟ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ دولت نے ہی اسے اس مقام تک پہنچایا ‘‘۔ افسر نے تحمل سے یہ بات سنی اور کہا ’’اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ اگروہ اپنی دھن کا پکااور محنتی نہ ہوتااور اس کا تعلیمی ریکارڈ شاندار نہ ہوتا تو کیا وہ بندہ اس نوجوان کو سپورٹ کرتا؟ نوجوان سر جھکافرش کوگھورنے لگا۔ نوجوان آفیسر نے بات آگے بڑھائی اور کہا کہ انسان کی ناکامی کاسبب صرف ایک ہی ہوتا ہے اور وہ ہے معذوری ۔ اگر انسان کو کوئی معذوری بھی لاحق نہ ہو اور پھر بھی وہ ناکام ہوتو پھر اس کی ناکامی کی ایک ہی وجہ سکتی ہے۔ ’’ وہ کیا بیٹے ؟ ‘‘ ٹیبل کے قریب بیٹھے ایک بزرگ نے سوال کیا ۔ ’’ سُستی ‘‘ آفیسر نے جذبات سے عاری لہجے میں جواب دیا ’’ اگر وسائل بھی دستیابہوں اوربندہ جسمانی طورپرمعذور بھی نہ ہو تو پھر اس کی ناکامی کی واحد وجہ صرف اور صرف سستی ہی ہے ‘‘۔ نوجوان آفیسر نے کنکھیوں سے ایک بارپھر نوجوان کو دیکھااور کہا ’’آپ جوان آدمی ہیں ، اس عمر میں جذبات کا صحیح استعمال ہی انسان کوکامیاب بناتا ہے ۔اگر آپ غریب ہیں تواپنی غربت کو اپنی کمزوری نہ بنائیں بلکہ اس کمزوری کو اپنی سواری بنائیں اور اس پر سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف رواں ہو جائیں ‘‘۔ آفیسر نے اپنے سامنے کھلی ہوئی فائل کو بندکیااور کہا’’اس نے بھی ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی تھی ،وہ بھی بہت سی چیزوں کوخریدنے کی بجائے صرف تمنا کرسکتا تھا ،آپ کی طرح اس کے پاس دل بھی تھا اور جذبات بھی مگر اس نے انہی چیزوں کو اپنی طاقت بنایا،انہیں تعمیری سوچ مہیا کی اور لمحہ بہ لمحہ کامیابی کی طرف بڑھتا رہا‘‘۔’’بیٹے ! میں اس نوجوان سے کب اورکہاں مل سکتا ہوں؟ ‘‘دائیں طرف بیٹھا ہوا ایک بوڑھا ،آفیسرکو بڑے غورسے دیکھتے ہوئے بولا ۔آفیسر اپنی جگہ کھڑا ہوا، اپنی باہیں کھولیں اور بولا’’ ابھی اور اسی جگہ‘‘ نوجوان آفیسر کی آنکھوں میں آنسو تھے۔’’ سر! آپ ؟‘‘ ۔ یہ کہتے ہوئے نوجوان کی آنکھیں بھی اشکبار ہوگئیں۔یوں لگ رہا تھا جیسے دور کہیں اندھیرے میں بھٹکتے ہوئے اسے کہیں روشنی دِکھ گئی ہو ۔

جنرل اسمبلی سے وزیراعظم نواز شریف کا خطاب

 وزیراعظم محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن ممکن نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی تحقیقات اقوام متحدہ فیکٹ فائنڈنگ کے ذریعے کرائی جائیں مسائل کے حل کیلئے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی بھارت نے ناقابل قبول پیشگی شرائط عائد کیں ۔ کشمیری 70 سال سے حق خودارادیت کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں ۔ اقوام متحدہ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے اور مصالحتی کونسل اپنے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے ۔ وزیراعظم نے بھارت کو پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے انصاف کی عدم موجودگی میں عالمی سطح پر امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ آپریشن ضرب عضب دہشت گردوں کے خلاف دنیا کا کامیاب ترین آپریشن ہے۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا مسئلہ کشمیر کے ادراک کے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ بھارتی مظالم اور سفاکی آئے دن بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ اور عالمی اداروں کی بے اعتنائی اور طوطا چشمی سے مسئلہ کشمیر برسوں سے حل طلب پڑا ہے۔ بھارت ایک طرف سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کو دیدہ دانستہ سرد خانے میں ڈالے ہوئے ہے اور مقبوضہ کشمیر پر اس کی فوج نہتے شہریوں کو چھلنی کررہی ہے اور بھارت ریاستی دہشت گردوں کے ذریعے تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کررہا ہے لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی سرخرو نہیں ہوسکے گا ۔ بھارت کی چیرہ دستیاں ایک نہ ایک دن تحریک آزادی کے آگے دم توڑ جائیں گی اور ظلم کی سیاہ رات ختم ہو جائے گی ظلم نے ایک نہ ایک دن مٹ کر رہنا ہے ۔ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان عالمی سطح پر صدائے احتجاج بلند کررہا ہے اس میں حقیقت ہے اقوام متحد ہ کو اب پاکستان کے مطالبے کو حقیقت پسندانہ نظروںسے دیکھنا ہوگا اور بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنے دباﺅ کو بڑھانا چاہیے۔ پاکستان ایک ذمہ دار اور پرامن ملک ہے وہ تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے لیکن بھارتی مخاصمانہ رویہ فاصلے بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان ایٹمی نیو کلیئر سپلائرز گروپ کی ممبر شپ کا حق دار ہے اور بھارت کے ساتھ امن اور کشمیر سمیت ہر مسئلے کے حل کیلئے غیر مشروط مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی امن کوششوں کو سبوتاژ کررہی ہے۔ اقوام متحدہ کو اب مصلحت پسندی سے کام لینے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ نبھانا چاہیے اور یہ درست ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن قائم نہیں ہوسکے گا۔ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور اس وقت تک بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرواتا رہے گا جب تک مقبوضہ کشمیر کے عوام کو انصاف نہیں ملتا ۔ انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی اداروں کی بے حسی اور چشم پوشی کو اب ختم ہوجانا چاہیے ۔ وزیراعظم کا خطاب دوررس نتائج کا حامل قرار پایا ۔ وزیراعظم نے جس بے باک انداز میں کشمیری مظالم کو بے نقاب کیا داد بیداد اور لائق تحسین ہے اور عوام کی امنگوں کا ترجمان ہے اور یہ سیاسی بصیرت اور تدبر کا آئینہ دار بھی ہے ۔ دنیا کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں تاکہ ان کا کردار سوالیہ نشان نہ بنا رہے یہی وقت کی آواز اور تقاضا ہے۔ بھارتی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں کو فوری روکا جائے اور یو این مشن کے ذریعے بھارتی مظالم اور بربریت کی تحقیقات کی جائے ۔ عالمی برادری کا بھرپور کردار ہی مسئلہ کشمیر کے حل میں ممدومعاون ثابت ہوگا ۔ بھارت خطے کے امن کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے جس پر پاکستان کو سخت تشویش ہے ۔ بھارت کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اس کی امن پسندی کو کمزوری نہ گردانا جائے۔
مردم شماری کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس
 عدالت عظمیٰ نے مردم شماری میں تاخیر کے بارے میں وفاقی حکومت کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکام ہوئی ہے اس لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے ورنہ عدالت فیصلہ کرے گی تو نتائج بھی بھگتنے پڑیں گے ۔ مردم شماری بارے ازخود نوٹس کی سماعت میں چیف جسٹس کے دئیے جانے والے ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ۔ حکومت مردم شماری کے سلسلہ میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرے کیونکہ یہ ایک اہم آئینی معاملہ ہے ۔ عدالت کی آبزرویشن پر حکومت عمل کرے اور اس کو سنجیدہ لے ۔ آخر کب تک مردم شماری سے رائے فرار اختیار کی جاتی رہے گی۔ وفاقی حکومت کی رپورٹ مسترد ہونا حکومت کی فرض کی ادائیگی کو سوالیہ نشان بنا دی ہے ۔ مردم شماری نہ کرانے میں کسی مصلحت پسندی سے کام لینا حکومت کیلئے سود مند قرار نہیں پاسکتا۔ عدالت نے بجا فرمایا کاغذی رپورٹیں جمع کروانے سے معاملہ حل نہیں ہوگا ۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر فوراً عمل درآمد کرتے ہوئے مردم شماری کرائے تاکہ حکومتی ساکھ پر کارضی ضرب بھی نہ لگے اور معاملہ بھی حل ہوجائے ہوگا ۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں جو لیت لعل ہوگی وہ تو ہوگئی اب وقت کی نزاکت کو محسوس کرے اور مردم شماری کے حوالے سے اپنی کارکردگی کو واضح کرے یہی اس کیلئے سود مند راستہ ہے اس سے پہلو تہی درست نہیں ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کی پاسداری سے ہی عدل و انصاف کی فراوانی ممکن ہے۔
 نیو کلیئر پروگرام پر یکطرفہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی
 سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ خطے میں نیو کلیئر پروگرام پر یکطرفہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے لہذا امریکہ بھارت سے بھی وہی تقاضا کرے جو پاکستان سے کیا جاتا ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ پہلے بھارت کی جوہری سرگرمیوں کو روکے پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور اس کا جوہری نیو کلیئر پروگرام دفاعی ضروریات کیلئے ہے۔ امریکہ ایک طرف بھارت جیسے جارح ملک سے جھکاﺅ کیے دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے بارے اس کا رویہ امتیازی ہے ۔ خطے میں نیو کلیئر پروگرام پر یکطرفہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔ پاکستان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے۔ امریکہ دوغلی پالیسی کو ترک کرے اور بھارت اور پاکستان کے ساتھ مساویانہ رویہ اپنائے ۔ ایک ملک کی طرفداری اور دوسرے سے مخاصمانہ رویہ قرین انصاف نہیں۔ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے اور تمام مسائل اور خطے میں امن کیلئے اس کی کاوشیں لائق تحسین ہیں لیکن دنیا کی طرفداری پر ہکا بکا رہنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں خطے میں امن کیلئے پاکستان کا کردار قابل صد تعریف اور قابل تقلید بھی اور نیو کلیئر پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے۔

براہمداغ بگٹی، غدار وطن

بھارت کی جانب سے پیش کش کے بعد خود ساختہ جلا وطنی اختیارکرنے والے براہمداغ بگٹی نے سیاسی پناہ کے لئے درخواست بھارتی حکام کے حوالے کردی ہے جس کے بعد بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا ایک اور ثبوت سامنے آگیا ہے۔بھارتی حکومت نے کالعدم بلوچ ری پبلکن پارٹی کے خود ساختہ جلاوطن رہنما براہمداغ بگٹی کو نئی دہلی میں سیاسی پناہ کی پیشکش کی تھی جسے فوری طور پر قبول کرتے ہوئے براہمداغ بگٹی نے نئی دہلی میں سیاسی پناہ کے لیے درخواست جمع کرادی ہے۔ اس حوالے سے مودی کی حکومت نے بھی تیاری مکمل کر لی ہے اوراصولی طور پر براہمداغ بگٹی اوران کے قریبی ساتھیوں کو بھارتی شہریت دینے کافیصلہ کر لیا ہے تاکہ وہ دنیا بھر میں آزادانہ طورپر سفر کرسکیں۔ براہمداغ بگٹی 2006ءمیں اپنے دادا نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد پاکستان سے افغانستان منتقل ہو گئے تھے اور کچھ عرصے کے طور ریاستی مہمان قیام کرنے کے بعد 2010ءمیں سوئٹزرلینڈ چلے گئے اورتب سے اپنی فیملی کے ساتھ وہیں پر سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔
 براہمداغ بگٹی نے بلوچستان کامعاملہ دنیا کا سامنے پیش کرنے پر بھارتی وزیر اعظم کی کوششوں کو بھی سراہا۔اس نے استفسار کیا کہ نریندر مودی کا شکریہ ادا کرنا کوئی جرم ہے ؟۔اس کاکہنا تھا کہ بلوچستان کے معاملے پر نریندر مودی کے بیان کی تعریف کرنے پر ہمارے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ بلوچستان کے معاملے پر 15اگست کو نریندر مودی کی جانب سے بیان ہمارے لیے روشنی کی ایک کرن کے مترادف ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناءاللہ خان زہری نے بلوچستان کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بیان پر بلوچستان کے عوام سراپا احتجاج ہیں۔ گوادر تا ژوب ، چمن تا نصیر آباد ،غرض کہ بلوچستان کے چپے چپے اور گلی گلی میں ہونے والا عوامی احتجاج ،بلوچستان کی نام و نہاد آزادی کی تحریک اور بلوچستان کی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے باہر بیٹھے لوگوں کے خلاف ریفرنڈم کی حیثیت رکھتاہے۔ براہمداغ بگٹی کی جانب سے وزیراعظم مودی کے بیان پر شکریہ ادا کرنا انتہائی قابل مذمت ہے۔ نام ونہاد قوم پرست بلوچستان کو آزاد کراکر ہندوستان کی غلامی میں لے جانا چاہتے ہیں لیکن بلوچستان کے غیور اور محب وطن عوام کبھی بھی ایسا نہیں ہونے دیں گے کیونکہ وہ ان مزموم عزائم سے بخوبی آگاہ ہیں۔
 بلوچستان پر بھارتی وزیراعظم کے بیان اور براہمداغ بگٹی کی جانب سے اس بیان کی تائید نے ثابت کردیا ہے کہ بھارت بلوچستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں کے لیے چند ٹکوں پر بکنے والے عناصر کو استعمال کر رہا ہے۔ بلوچستان میں دودھ اور شہد کی نہریں بہانے کے دعویدار خون کی ندیاں بہا رہے ہیں۔پاکستان کی طرف سے بلوچستان کے باغی رہنما براہمداغ بگٹی کی گرفتاری کے لئے انٹر پول سے ریڈ وارنٹ جاری کرانے کی کوششیں تیز ہونے پر ہندوستان نے اسے اپنا سٹریٹجک اثاثہ قرار دے کر پاکستان کی تحویل میں جانے سے روکنے کےلئے اسے بھارت میں پناہ دینے اور بھارتی پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی میڈیا نے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا پول کھولتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستانی صوبے میں بھارت کے وسیع سٹریٹجک مفادات ہیں اسلئے براہمداغ بگٹی سمیت بعض دیگر بلوچ باغیوں کو سیاسی پناہ دینے اور پاسپورٹ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا مقصد صرف پاکستان پر ہی نہیں چین پر بھی دباﺅ بڑھانا ہے جو گوادر بندرگاہ اور اقتصادی راہداری منصوبے پر پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ بھارت براہمداغ بگٹی کو چینی تبتی رہنما دلاتی لامہ کی طرح انڈیا میں سہولتیں فراہم کرے گا۔ ہندوستان آنے والے چند روز میں بلوچستان کی تحریک آزادی کو اعلانیہ اپنا لے گا جبکہ اس سے قبل وہ پوشیدہ طور پر مدد کر رہا تھا۔ براہمداغ بگٹی کے معاملے میں بھارتی سرپرستی کسی انکشاف کے زمرے میں نہیں آتی بلوچستان سے فرار ہونے کے بعد براہمداغ بگٹی نے بھارتی سرمائے اور اسلحہ کے زور پر ہی اپنی فورس قائم کی جس نے صوبے میں تخریب کاری کا سلسلہ شروع کیا اور پاکستان کے خلاف پوسٹر لگائے اور بعض علاقوں کے سکولوںکو دھمکایا کہ اگر انہوں نے قومی ترانہ پڑھا تو سکول کو اڑا دیا جائے گا تاہم وفاقی فورسز اور ایجنسیوں کی موثر کارکردگی کے نتیجے میں یہ فورس دم توڑ گئی اس کے کچھ لوگ مارے گئے کچھ گرفتار کئے گئے اور کچھ فرار ہوگئے۔ سی پیک سے بہت پہلے بھارت نے بلوچستان میں علیحدگی پسند عناصر کی پیٹھ ٹھونکنا شروع کر دی تھی۔ تاہم اس کی طرف سے سی پیک کی مخالفت کے بعد صورتحال تبدیل ہوگئی اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو جس شدت سے عالمی سطح پر پاکستان اٹھا رہا ہے اس نے تو بھارت کو حواس باختہ کر دیا ہے۔
Google Analytics Alternative