کالم

سب سے پہلے چین؟

صحافت اور پھر اردو صحافت،اب میر انیس ہی آئیں تو کوئی مرثیہ ہو۔جذباتیت اور سطحیت کا آسیب اوڑھے بقلم خود قسم کے علاموں نے امورِ خارجہ کو بھی کارِ طفلاں بنا دیا۔اب اگر سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند دوستی کے ذکر پر فرطِ جذبات سے لوگوں کی پلکیں نم ہو جائیں اور دلوں میں اٹھتی جوانیوں کی پہلی پہلی محبتوں کی کسک اٹھنے لگے توحیرت کیسی؟ہماری نسل کو تو نیم خواندہ علاموں اور انڈر میٹرک تجزیہ نگاروں نے بتایا ہی یہی ہے کہ ہیر رانجھا ، سسی پنوں ، لیلی مجنوں اورشیریں فرہاد جیسی لوک داستانوں میں نیا اضافہ پاک چین دوستی ہے۔جب فکر کی پختگی کا عالم یہ ہو تو پھر اس بات پر بھی کوئی حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ آپ سے کسی نجی چینل کا معروف اینکر سوال کرے:یہ کیسی دوستی ہے کہ چین بھارت سے این ایس جی پر بات چیت کے امکانات کھلے رکھے ہوئے ہے۔۔۔ کل شام ایک ٹاک شو میں جب مجھ سے یہی سوال ہوا تو کم از کم مجھے کوئی حیرت نہیں ہوئی۔پاک چین دوستی کو ہمارے ہاں اولین محبتوں کے مبالغے سے بیان کیا جاتا ہے۔اس مبالغے کے زیر اثر اچھے خاصے معقول آدمی بھی یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر کبھی برا وقت آیا تو چین ہم پر فدا ہو جائے گا،برسوں سے یکطرفہ ممنونیت کا ایک اثر یہ بھی ہے کہ ہماری گردنیں ہر وقت چین کے احسانات تلے دبی ہیں۔ہر علامہ دیوان لکھتا ہے کہ چین نے ہمارے لیے یہ یہ کیا اور پھر اس لوک داستان میں رنگ بھرنے کے لئے اردو صحافت کے یہ افلاطون پاکستان کی بے وفائیوں اور کم ہمتی کا مرثیہ بھی پڑھ دیتے ہیں اور پھر گلو گیر لہجے میں کہتے ہیں: دیکھیں اس سب کے باوجود چین نے ہمارے لئے اتنا کچھ کیا۔ان مہ و سال میں بہت سے موہوم تصورات مرحوم ہو چکے ہیں۔جوں جوں تعلیم اور شعور آئے گا ان بقلم خود علاموں کی پھیلائی فکری آ لودگی بتدریج ختم ہوتی چلی جائے گی اور نفسیاتی گرہیں کھلتی چلی جائیں گی۔پاک چین دوستی بھی ایک ایسا موضوع ہے جسے محبت کی لوک داستان کی بجائے امور خارجہ کا ایک پہلو تصور کر کے سمجھنا چاہیے۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ قوموں کے درمیان پیار ، محبت اور وفا نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔قوموں کے درمیان صرف مفادات ہوتے ہیں۔دو ممالک کا تعلق گاؤں کی پگڈنڈی یا کالج کی سیڑھیوں پر پروان چڑھنے والی دوستی یا محبت نہیں ہوتی ،یہ ایک خالصتا مفادات کے لئے استوار رشتہ ہوتا ہے جو مفادات کے ساتھ بدل جاتا ہے۔
چین سے پاکستان کے بلاشبہ بہت اچھے اور مثا لی ہیں مگر یہ کسی لوک داستان کا نام نہیں۔ اپنی نفسیاتی گرہیں کھول کر ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
پہلی بات یہ ذہن نشین کرنے کی ہے کہ چین کی ترجیح معیشت ہے۔یہ ایک تاجر قوم ہے۔اب تجارت کی اپنی نفسیات ہے۔تجارت میں حساب ود و زیاں بڑا معنی رکھتا ہے۔تاجر اگر سگا بھائی بھی ہو تب بھی وہ حساب سودوزیاں سے بے نیاز نہیں ہوتا،ایک قوم کیسے اس سے بے نیاز ہو سکتی ہے؟اس دوستی کی بنیاد یہی حساب سودوزیاں رہے گا۔یہ لیلی مجنوں کی لوک داستان نہیں بن سکتی۔
دوسری بات یہ سمجھنے کی ہے کہ پاک چین دوستی میں زیادہ توجہ اس نقطے پر دی گئی ہے کہ چین نے ہمیں کیا دیا۔گاہے یوں لگتا ہے کہ ہم ایک بے وفا محبوب ہیں جس کی بار بار کی بے وفائیوں کے باوجود چین ایک سچے عاشق کی طرح اس پر فدا ہے۔حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔چین نے ہمارے لئے بہت کچھ کیا ہوگا تو جواب میں ہم نے بھی بہت کچھ کیا ہوگا۔تبھی تو یہ دوستی قائم ہے۔ہم جوابی امکانات کی دنیا جب تک آباد رکھیں گے یہ دوستی قائم رہے گی۔قوموں کے تعلقات میں یک طرفہ ٹریفک نہیں چلا کرتی۔احترام بجا لیکن ضرورت سے زیادہ یکطرفہ ممنونیت جو احساس کمتری میں مبتلا کر دے، اس کی کوئی ضرورت نہیں۔چین نے ان حالات میں پاکستان میں ڈیویلپمنٹ کا کام کیا تو کیایہ صرف اس نے دوستی کی لاج رکھی۔ایسا نہیں۔یہ محض دوستی نہیں یہ چین برازیل اور میکسیکو کی معاشی پالیسی کا ایک بنیادی نقطہ بھی ہے کہ جنگی اثرات سے متاثر ممالک میں سرمایہ کاری کی جائے۔اس کے اپنے فوائد ہیں جن کے بیان کے لئے ایک الگ نشست چاہیے۔
تیسری بات یہ کہ سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند دوستی ابھی تک سرکاری سطح پر ہے۔عوام الناس میں روابط نہ ہونے کے برابر ہیں۔ہمیں چین کے صدر، وزیر اعظم ، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر تعلیم، چیف جسٹس میں سے شائد ہی کسی کا نام آتا ہو۔ہم سے کتنے ہیں جو چین کے آٹھ شہروں کا نام گنوا سکتے ہیں۔کتنے ثقافتی وفود آتے جاتے ہیں۔سول سوسائٹی کے روابط کا عالم کیا ہے؟افغانستان سے ہمارے کتنے رشتے تھے، مذہب کا رشتہ تھا، ہماری ایک صوبے کی ثقافت ملتی تھی، سرحد کے آر پار رشتہ داریاں تھیں،لیکن جب ان پر برا وقت آیا تو ہم یہ کہہ کر ایک طرف کھڑے ہو گئے کہ: سب سے پہلے پاکستان۔خدانخواستہ کبھی ہم پر برا وقت آیا تو چین بھی کہہ سکتا ہے: سب سے پہلے چین۔اپنی تعمیر بھی خود کرنا پڑتی ہے اور اپنی جنگ بھی خود لڑنا پڑتی ہے۔کوئی کسی کی آگ میں نہیں جلتا۔چوتھی بات یہ ہے کہ ہم کسی دوست کو بھلے وہ سمندروں سے گہرا اور ہمالہ سے اونچا ہی کیوں نہ ہو یہ نہیں کہہ سکتے تھے کہ ہم سے دوستی رکھنی ہے تو بھارت کو چھوڑ دو۔بھارت کی کنزیومر مارکیٹ کو نہ چین نظر انداز کر سکتا ہے اور نہ ہی ہمارا کوئی اور دوست ملک۔ہر ملک اپنے مفادات کو دیکھے گا۔یہ گاؤں کی دوستی نہیں ہوتی جہاں ایک کی محبت میں لوگ دوسرے سے تعلقات خراب کر لیتے ہیں۔ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایک طویل عرصہ ہندی چینی بھائی بھائی کے نعرے دونوں ملکوں میں گونجتے تھے اور تارا پور کے بھارتی ایٹمی ری ایکٹر کو ایندھن ایک عرصے سے چین فراہم کر رہا ہے۔بے شک ان کے میزائلوں کا تعارف یہ ہو کہ یہ بیجنگ اور دلی تک مار کرتے ہیں ان کی تجارت کا حجم کئی گنا بڑھ چکا ہے۔پانچویں بات یہ کہ امریکہ سے ہماری بے زاری اپنی جگہ لیکن عسکری اعتبار سے چین ہمارے لئے اس کا متبادل نہیں بن سکتا۔یاد رہے کہ امریکہ کے صرف پینٹاگون کا بجٹ چین کے کل دفاعی بجٹ سے تین گنا زیادہ ہے۔چھٹا اور آخری نقطہ یہ کہ اگر کبھی چین دنیا کی واحد سپر پاور بن گیا جیسے آج امریکہ ہے تو اس کا رویہ کیسا ہو گا۔یاد رہے کہ چین اس خطے میں سب سے پہلا ملک تھا جس نے اسلامی دہشت گردی کے خلاف ’ شنگھائی فائیو‘ بنائی۔اس کے مقاصد میں لکھا ہے کہ اسلامی دہشت گردی کا خاتمہ۔ (اصطلاح قابلِ توجہ ہے)۔
ان نقاط کے اٹھانے کا مطلب چین کی دوستی پر انگلی اٹھاناہر گزنہیں ہے۔بلاشبہ چین ایک بہترین دوست ہے اور اس سے دوستی میں

صحت کا شعبہ اور وزیراعظم کے آنسو

اخبار میں شائع ہونے والی خبر ہی کچھ ایسی تھی کہ اسے پڑھ کر میں بھی آبدیدہ ہوگیا اور آبدیدہ کیوں نہ ہوتا کہ خبر فائل کرنے والے رپورٹر نے اپنے سارے جذبات اس خبر کے اندر شامل کردئیے تھے حالانکہ رپورٹرز، ججز اورڈاکٹرز کو خصوصی تربیت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے احساسات ، جذبات کو اپنے پیشہ وارانہ امور پر حاوی نہ ہونے دیں مگر جس خبر کو دیکھ کر میں آبدیدہ ہوگیا اسے فائل کرتے وقت رپورٹر نے شاید اس اصول کو مدنظر نہیں رکھا۔ پہلے خبر کا متن پڑھ لیں پھر بات آگے بڑھائیں گے ۔ خبر یوں تھی کہ رحیم یار خان میں وزیراعظم پاکستان جب غریب لوگوں میں ہیلتھ کارڈ تقسیم کرنے گئے تو ملک کے غریب اور بے بس شہریوں کی صحت کے حوالے سے حالت زار کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے یقیناً وزیراعظم کو اس ملک کے غریب عوام سے پیار ہوگا اور وہ غریبوں کی صحت کے بارے میں سوچ کر اکثر آبدیدہ ہو جاتے ہونگے مگر ایک رپورٹر ہونے کے ناطے خبر پڑھ کر اس لئے آبدیدہ ہوا کہ وزیراعظم پاکستان کو اتنا بھی علم نہیں کہ اس ملک میں ہیلتھ سیکٹر میں غریب عوام کے ساتھ کس قدر سنگین سلوک روا رکھا جارہا ہے ، ہسپتالوں میں کم آمدنی والے اور غریب مریض ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرجاتے ہیں مگر انہیں پینا ڈول کی گولی بھی میسر نہیں آتی اس وقت ملک میں ایک درجن سے زائد ایجنسیاں کام کررہی ہیں جو ایک ایک لمحے کی رپورٹ وزیراعظم تک پہنچاتی ہیں ۔ رات دس بجے وزیراعظم کو جو سمری پیش کی جاتی ہے اس میں ایک ایک چیز کا حال درج ہوتا ہے مگر افسوس اس بات کا ہے کہ آج تک کسی ایجنسی نے وزیراعظم کو یہ نہیں بتایا کہ ہسپتالوں کی ادویات باہر مارکیٹ میں فروخت ہورہی ہیں کیا وزیراعظم کو کسی نے نہیں بتایا کہ ہر ہسپتال کے سامنے ایک میڈیکل مارکیٹ موجود ہے اور ان کیمسٹ صاحبان کا ڈاکٹروں کے ساتھ باضابطہ کمیشن طے ہوتا ہے ۔ڈاکٹر کا کام صرف دوائی لکھنا ہوتا ہے جو مریض کے ہاتھ میں پکڑا دی جاتی ہے مریض اسے ہاتھ میں پکڑے میڈیکل سٹوروں کے دھکے کھاتا پھرتا ہے ۔ وزیراعظم اگر کبھی اچانک اسلام آباد کے پمز ہسپتال پولی کلینک ہسپتال،راولپنڈی کے بینظیر بھٹو ہسپتال ، ہولی فیملی ہسپتال ، کنٹونمنٹ ہسپتال یا لاہور کے میو یا جنرل ہسپتال کا سرپرائز وزٹ کرتے تو انہیں علم ہوتا کہ غریب شہریوں کے ساتھ صحت کے معاملے میں کس قدر سنگین مذاق کیا جارہا ہے ۔ وزیراعظم ان حالات کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ تو ہوئے لیکن کیا انہیں آج تک کسی ایجنسی نے یہ رپورٹ نہیں کیا کہ ہسپتالوں کے اندر سرکاری ایکسرے ، ای سی جی ، ایکو، ای ٹی ٹی ، سی ٹی سکین مشینیں خراب کیوں ہو جاتی ہیں اور ہسپتال کے ڈاکٹر صاحبان آنے والے مریضوں کو یہ مشورہ کیوں دیتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ باہر سے کروالیں کیونکہ سرکاری مشین کے ٹیسٹ کا بھروسہ نہیں۔ جناب وزیراعظم کو کسی نے نہیں بتایا کہ میڈیکل کے شعبے سے وابستہ افراد دنوں میں کروڑوں پتی کیسے بن جاتے ہیں کیا وزیراعظم کو اس بات کا علم نہیں کہ ایم ایس صاحبان کی ملی بھگت سے جعلی ادویات ہسپتالوں کو فراہم کی جاتی ہیں اور پھر وہ ادویات بھی میڈیکل سٹوروں پر بکتی دکھائی دیتی ہیں کیا وزیراعظم اس بات سے بھی لاعلم ہیں کہ غریبوں کیلئے بنائے جانے والے بیت المال کے فنڈ سے ملک کے امراء اور صاحب حیثیت افراد علاج کرواتے ہیں جبکہ غریب ہاتھوں میں بیت المال کا فارم لئے کبھی ایک دفتر میں اور کبھی دوسرے دفتر میں دھکے کھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ میں ایک مقامی اخبار میں رپورٹر کے فرائض سرانجام دے رہا تھا اور اس وقت ملک کے اقتدار پر محترمہ بینظیر بھٹو براجمان تھیں اس وقت مجھے پارلیمنٹ ہاؤس کی ڈسپنسری سے پتہ چلا کہ ایک حکومتی ایم این اے ( اللہ ان کی مغفرت کرے) کینسر کے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں اور اس مد میں وہ اب تک چالیس لاکھ روپے کی ادویات وصول کرچکے ہیں یہ ایک بہت بڑی خبر تھی جسے میں نے اپنے چیف ایڈیٹر سے ڈسکس کرنے کے بعد صفحہ اول پر شائع کیا۔ خبر کہ شائع ہونے کی دیر تھی کہ حکومتی حلقوں سے فون آنا شروع ہوگئے ۔مجھے آفس سے فون آیا کہ سہ پہر تین بجے متعلقہ ایم این اے دفتر تشریف لائیں گے اس لئے مجھے بمعہ ثبوت وہاں حاضر ہونا چاہیے چنانچہ وقت مقررہ پر وہ صاحب تشریف لائے اور انہوں نے گلہ کیا کہ میری شائع ہونے والی خبر سے ان کی ذاتی شہرت کو نقصان پہنچا ہے اور وہ اس لئے بھی دفتر آئے ہیں تاکہ متعلقہ رپورٹر اپنی آنکھ سے دیکھ سکے کہ میں بھلا چنگا اور صحت مند ہوں۔ میں نے کہاکہ آپ

درانداز کون؟

جہادِ کشمیر تو تھا ہی، اس پر جہادِ افغانستان کا مرحلہ جب آیا، پاکستان میں جہادی تنظیموں کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا۔ اس وقت یہ جہادی تنظیمیں امریکہ و مغربی دنیا کی اشد ضرورت تھیں لہٰذا یہ نہ صرف بالکل جائز تھیں بلکہ اس کے کارکن ’’عظیم مجاہد‘‘ قرار پائے تھے۔ مگر جب اہل مغرب کا مطلب نکل گیا، روس کے ٹکڑے ہو گئے ، امریکہ نے ان تنظیموں کی طرف تو کیا، پاکستان کی طرف بھی مڑ کر نہیں دیکھا۔ اس کے بعد نائن الیون کا واقعہ رونما ہوا تو وہی تنظیمیں جو کل تک امریکہ کی نظرمیں جہادی تھیں یک لخت دہشت گرد قرار پانے لگیں اور ان کے عظیم مجاہد معتوب ٹھہرنے لگے۔ آج صورتحال یہاں تک آ چکی ہے کہ پاکستان پرسب سے زیادہ بیرونی دباؤ انہی تنظیموں کے خلاف کارروائی کے لیے ڈالا جا رہا ہے۔ امریکہ سمیت کوئی ملک یہ سوچنے کو تیار نہیں کہ یہ طوق پاکستان کے گلے میں خود انہوں نے ہی ڈالا ہے جسے اتارنا اب پاکستان کے لیے اتنا بھی آسان نہیں۔ ان میں سے بہت سی تنظیمیں اب ایسی ہیں جو جہادی سرگرمیاں ترک کرکے فلاحی کاموں میں مصروف ہو چکی ہیں اور کئی ایسی ہیں جو سیاست میں دلچسپی لیتی نظرآتی ہیں۔ چندایسی ہوں گی جو ہنوز جہاد کے نعرے سے جڑی ہوئی ہوں اور وہ بھی مقبوضہ کشمیر کی حد تک۔ اور پاکستان اور پاکستانی قوم کی نظرسے دیکھا جائے تو یہ کچھ غلط بھی نہیں ہے۔ کشمیر کسی دوسرے ملک کا حصہ نہیں ہے۔ بھارت نے وہاں قبضہ جما رکھا ہے اور اقوام متحدہ جیسے دنیا کے سب سے بڑے پلیٹ فارم پر اپنے اس قبضے کو غیرقانونی اور اس خطۂ کشمیر کو متنازعہ تسلیم کر چکا ہے۔ اگر اس کا کشمیر پر قبضہ قانونی ہوتا تو وہ مقبوضہ کشمیر کو متنازعہ تسلیم ہی کیوں کرتا۔ اب اگر بھارت اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کرتا ہے اور کشمیریوں کو حقِ خودارادیت دینے کی بجائے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دیتا ہے تو پھر پاکستان یا ان جہادی تنظیموں کی طرف سے کسی کارروائی کو شدت پسندی سے تعبیر کیونکر کیا جا سکتا ہے۔ جب پانچ سال کے بچوں سے لے کر جوانوں اور بوڑھوں تک، درجنوں افراد کو اندھا کیا جا رہا ہو، سینکڑوں کو شہید کیا جا رہا ہو، سینکڑوں خواتین کے دوپٹے تار تار کیے جا رہے ہوں اور اقوام متحدہ جیسے ادارے اور امریکہ سمیت دنیا کے تمام بڑے ملک کشمیریوں پر ہونے والے اس ظلم پر اپنے مفادات کو ترجیح دیتے ہوئے منہ میں گھنگھنیاں ڈالے ہوئے ہوں تو ایسے میں پاکستان یا پاکستانیوں کو کیا کرنا چاہیے؟پاکستان کے اندر سے بھی بہت سے لوگ کہہ ہیں کہ ہیں کہ ان تنظیموں کے خلاف آپریشنز کیے جائیں۔ حضور! ان تنظیموں سے لاکھوں لوگ وابستہ ہیں، کیا ان سب کو گولی مار دو گے۔ ہمیں بہرحال ان کے خلاف آپریشنز کی بجائے ان کی سرگرمیوں کا رخ موڑنے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کی کوشش ہی کرنی ہو گی۔ اس کے سوا چارہ نہیں۔ اس بات میں کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستانی ریاست اور ریاستی اداروں کی طرف سے عرصہ ہوا، کشمیر میں بھی مداخلت بند کی جا چکی ہے اور حتیٰ الامکان ذاتی حیثیت میں کسی فرد یا تنظیم کی طرف سے ایسی کوششوں کی بھی حوصلہ شکنی کی جا رہی ہے لیکن اگرایک لمحے کے لیے بھارت کا موقف درست مان لیا جائے، مان لیا جائے کہ پاکستان کشمیر میں داراندازی کا مرتکب ہو رہا ہے تو بھارت کون سی گنگاکا نہایا ہوا ہے؟ پاکستان کی یہ دراندازی بھارت کی 1971ء کی دراندازی سے بڑی تو نہیں؟ جس کا بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے ڈھاکہ میں کھڑے ہو کر، سینے پر ہاتھ مار کر اعتراف کیا اور کہا کہ بنگلہ دیش کی بنیاد میں ہمارا بھی خون شامل ہے۔ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد نریندر مودی نے دلی کے لال قلعے میں کھڑے ہو کر بلوچستان، کراچی اور گلگت بلتستان میں مداخلت کا ببانگِ دہل اعتراف کیا۔ پاکستان کے یہ علاقے کشمیر کی طرح متنازعہ نہیں ہیں۔ اگر بھارت ان علاقوں میں دراندازی کرتا ہے اور کھلے بندوں اس کا اعتراف بھی کرتا ہے تو پھر کشمیر، جو متنازعہ علاقہ ہے، میں پاکستان کی مبینہ دراندازی کیا معنی رکھتی ہے۔ دوہرے معیار کی کوئی حد ہوتی ہے۔ ہم نے کلبھوشن یادو کی شکل میں بھارتی مداخلت کا زندہ ثبوت پکڑا۔ خود بھارتی وزیراعظم بارہا دراندازی کا اعتراف کر چکے مگر پاکستان کی طرف سے کوئی شور پبا نہیں ہوا، جو ہماری حکومت کی مجرمانہ غفلت ہے۔ لیکن مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم کے ردعمل میں اگر اوڑی میں حملہ ہو گیا تو بھارت سے ایسا ردعمل آیا کہ ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے پاکستان نے نئی دہلی پر ایٹم بم گرا دیا ہو۔ پاکستان کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے کہ سفارتی جنگ کی کامیابی اسی طرح کی شدومد کی مرہون منت ہوتی ہے۔ موجود دورمیں ہمارے حکمرانوں میں بھارت سے دوستی کی خواہش اتنی عمیق ہے کہ ملکی سلامتی اور خودمختاری جیسے معاملات بھی اس کے سامنے ہیچ نظر آرہے ہیں۔حکمرانوں کی بھارتی بزنس مینوں سے کاروباری شراکت اس کی وجہ بتائی جاتی ہے۔ واللہ علم۔مگر کچھ تو ہے جوہمارے حکمرانوں کو بھارتی مظالم پر حتیٰ الامکان خاموش رہنے پر مجبور کیے ہوئے ہیں۔ میاں نواز شریف نے اقوام متحدہ میں اور پھر ایک دو مواقع پر کشمیر کا بھرپور موقف بیان کیا جو لائق تحسین ہے مگر کلبھوشن یادو کا نام نجانے کیوں ان کی زبان پر نہیں آ رہا۔ انہیں ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستانی قوم ان کی کرپشن اور اقرباء پروریاں بھول جائے گی مگر ملکی سلامتی پر ایسے خطرناک سمجھوتے کبھی نہیں بھلائے جائیں گے۔ پاکستانی قوم امن چاہتی ہے مگر عزتِ نفس کی قیمت پر ہرگز نہیں۔ یہی وہ نقطہ ہے جس پر حکومت اورپاک فوج میں اختلاف ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم کو اگر اپنا کاروبار عزیز ہے تو انہیں ملکی مفاد کے فیصلوں سے خود کو الگ کرلینا چاہیے اور اگر ملک سے چمٹے رہنا ہے تو اپنے کاروبار سے دوری

یومِ سیاہ ، بھارتی دہشتگردی اور ۔ ۔ !

گزشتہ  روز بھارت کی سفاکیت اور جنون کے نتیجے میں جاوید احمد میر نامی بائیس سالہ کشمیری نوجوان شہید ہو گیا ۔ یوں وانی کی شہادت کے بعد حالیہ لہر میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہادتوں کی تعداد 137 جبکہ دیگر ذرائع کے مطابق یہ تعداد 158 سے تجاوز کر گئی ہے ۔ علاوہ ازیں سید علی گیلانی اورمیر واعظ عمر فاروق کے ساتھ سید علی گیلانی کے بیٹے نعیم گیلانی کو بھی ایک بار پھر گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ یاسین ملک کی شدید علالت کے باوجود انھیں ہنوذ سینٹرل جیل سری نگر میں قید رکھا گیا ہے ۔ بھارتی سفاکیت اور بربریت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہو گی ۔ اسی پس منظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ بھارتی حکمرانوں کا روزِاول سے یہ وطیرہ رہا ہے کہ وہ اکھنڈ بھارت اور رام راجیہ کے قیام کا خواب دیکھتے چلے آ رہے ہیں ۔اپنی اس مذموم روش کے زیرِاثر انہوں نے حیدر آباد دکن،جونا گڑھ اور مناور کو ہڑپ کیا ، گوا اور سکم پر قبضہ کیا اور ان سب سے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر پر اپنا نا جائز تسلط جمایا اور اسے قائم رکھنے کے لئے دہلی سرکار بد ترین قسم کی ریاستی دہشتگردی جاری رکھے ہوئے ہیں اور اب تک ایک لاکھ کے لگ بھگ معصوم کشمیریوں کو تہہ تیغ کیا جا چکا ہے۔مگر مقبوضہ کشمیر ریاست کے نہتے مگر جری عوام اپنی لازوال جدوجہد آزادی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسی پس منظر میں پوری کشمیری قوم 27 اکتوبر کا دن ’’یومِ سیاہ ‘‘ کے طور پہ منا رہی ہے۔اکثر با ضمیر حلقے اس دن کو ’’یومِ جارحیت بھارت‘‘ کا نام بھی دیتے ہیں۔کیونکہ 27 اکتوبر1947 کوتمام اخلاقی بین الاقوامی ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انڈین آرمی نے ریاست جموں کشمیر پر ناجائز قبضہ کر لیا اور بھارت کا یہ غاصبانہ تسلط 69برس گزر جانے کے بعد بھی ہنوز جاری ہے۔حالانکہ اس نا جا ئز قبضے کے بعد کئی برسوں تک بھارت یہ وعدہ کرتا رہا کہ کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنے کی غرض سے حق خودرادیت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔بلکہ اسی ضمن میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اگست 1948ء اور 5 جنوری 1949ء کو باقاعدہ قراردادوں کے ذریعے اس امر کا اظہار کیا کہ کشمیری عوام کو استصواب رائے کا حق دیا جائے تا کہ وہ فیصلہ کر سکیں کہ وہ بھارت کی غلامی میں رہنا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ اپنا مستقبل وابستہ کرنا چا ہتے ہیں جس کے ساتھ ان کا مذہبی،ثقافتی رشتہ صدیوں سے برقرار ہے۔ہندوستانی حکمرانوں کی وعدہ شکنی کا یہ عالم ہے کہ ابتدائی برسوں میں اس وقت کے بھارتی وزیرِ اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ایک سے زائد مرتبہ واضح طور پر اعتراف بھی کیا اور کھلے لفظوں میں اعلان بھی کہ کشمیریوں کو ہر حال میں رائے شماری کا حق دیا جائے گا ،مگر بھارتی حکمرانوں کی کہہ مکرنیوں کی اس سے بڑی اور بدترین مثال کیا ہو گی کہ وقت گزرنے کے ساتھ پنڈت نہرو نے مقبوضہ ریاست کی بابت ’’اٹوٹ انگ‘‘ کا راگ الاپنا شر وع کر دیا اور یہ بے بنیاد دعویٰ ان دنوں بھی مودی سمیت اکثربھارتی وزیر کر رہے ہیں کیونکہ ان کو یہ بات بہت گراں گزری کہ چند ہفتے قبل وزیرِ اعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی میں میں جموں کشمیر کے مسئلے کو منصفانہ بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور عالمی برادری سے کہا کہ وہ کشمیری قوم کو استصواب رائے دینے کے حق کی بابت اپنا کردار ادا کرے ۔اسی لئے بھارت نے ورکنگ باؤنڈری اور LOC پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کر رکھی ہے ۔مبصرین نے بھارتی حکومت کی اس مذموم روش پرتبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ کہتے وقت دہلی کے حکمران یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ آج بھی بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ ریاست کو خصوصی حیثیت حاصل ہے اور کوئی بھارتی شہری اس علاقے میں کوئی جائیداد نہیں خرید سکتا بلکہ اگر جموں کشمیر کی کوئی خاتون بھی کسی بھارتی شہری سے شادی کر لے تو وہ ریاست میں اپنی تمام منقولہ و غیر منقولہ جائیداد سے محروم ہو جاتی ہے۔اس کے باوجود بھارت اگر اپنی راگنی الاپتا رہے تو اس سے زمینی حقائق بہر طور تبدیل نہیں ہو سکتے۔حالیہ دنوں میں کئی غیر ملکی سر براہوں نے بھی مختلف مواقع پر پاکستان کی ان کاوشوں کی تعریف کی ہے جو وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے کر رہا ہے ،اس ضمن میں بھارت پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر معقولیت کی راہ اپنائے اور اس مسئلے کو کشمیری عوام کی خواہشات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے پر رضا مند ہو جائے وگرنہ یہ تو طے ہے کہ کسی قوم کو محض دہشت گردی کے ذریعے ہمیشہ کے لئے غلام بنا کر نہیں رکھا جا سکتا خصوصاً جب وہ قوم اپنے ایک لاکھ سے زائد فرزند شہید کروا چکی ہو اس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ غیروں کی غلامی کو قبول کر لے گی ؟ ۔ایسے فضول خواب صرف دہلی کے حکمران ہی دیکھ سکتے ہیں۔پچھے ایک سو نو روز سے مقبوضہ ریاست میں بھارت نے ریاستی دہشتگردی کا جو تازہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس پس منظر میں وطن عزیز کے وہ معدودِ چند حلقے جو بھارت کی مدح سرائی میں مصروف رہتے ہیں ، وہ بھی عبرت حاصل کرتے ہوئے اپنے رویے پر نظر

تصادم نہیں قانونی راستے پر چلنے کی ضرورت

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ احتجاج کرنا ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے۔ 2 نومبر کو پاکستان کے مستقبل کی جنگ ہے اسلام آباد میں انسانوں کا سمندر ہوگا میں پورا پاکستان اسلام آباد کی طرف آتا دیکھ رہاہوں اگر ہمیں روکنے کی کوشش کی گئی تو ردعمل برا آئے گا ۔ 2014ء کے دھرنے میں ہم تیار نہیں تھے اب ہم تیار ہیں کارکن رکاوٹیں ہٹا کر پہنچیں گے ۔ وزیراعظم کو پانامہ لیکس پر جواب دینا ہوگا۔ جمہوری مطالبہ ہے کہ نواز شریف اپنے آپ کو احتساب کیلئے پیش کریں یا استعفیٰ دیں ۔ وزیراعظم اگر کرپشن کرتا ہے تو تمام اداروں کو خراب کردیتا ہے وکلاء کے ساتھ مل کر میں نے چیف جسٹس کیلئے جدوجہد کی تھی اب وکلاء جمہوریت کو بچانے کیلئے میرا ساتھ دیں ۔ دوسری طرف وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہاہے کہ حکومت نے اسلام آباد بند کرنے والوں سے نمٹنے اور شہر کو رواں رکھنے کے لئے منصوبہ بندی کرلی ہے اور دھرنے اور قانون شکنی کرنے والوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں سختی سے نمٹا جائیگا ۔حکومت نے اسلام آباد کو رواں دواں رکھنے کی منصوبہ بندی کرلی ہے، ،اسلام آباد سیکرٹریٹ اور شاہراہوں کو بند کرنے والوں کے خلاف قانون اپنا راستہ بنائے گا، عمران خان یلغار اورلشکر کشی سے پاکستان کی سیاست میں فساد برپا کرنا چاہتے ہیں، وہ مایوسی کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں، عمران خان کے مطالبات سے بھاگے نہیں، وزیر اعظم محمد نوازشریف سپریم کورٹ اور قومی اداروں میں اپنی پوزیشن واضح کریں گے، موجودہ حکومت اپنے پانچ سال کی آئینی مدت پوری کرے گی۔ عمران خان کے جو مطالبات ہیں ان کو حل کرنے کے پلیٹ فارم موجود ہیں، عمران خان کے مطالبات سے بھاگے نہیں۔ایسی اطلاعات ہیں کہ انہوں نے پاکستان میں غیر جمہوری سوچ رکھنے اور فتنہ و فساد برپا کرنے کی طاقت رکھنے والی تنظیموں کے کارکنوں تک رسائی حاصل کی ہے حالانکہ ان کارکنوں کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں لیکن وہ انہیں اپنی پارٹی کے پرچم تھما کر اسلام آباد لے جا کر شر پھیلانا چاہتے ہیں۔ عمران خان نے قتل و غارت کی جوباتیں کی ہیں یہ اسی تناظر میں ہیں، وہ یلغاراورلشکر کشی سے سیاسی درجہ حرارت گرم ہوتا جارہا ہے اور اب تو اس کی تپش نے سیاسی ماحول پر اثرات مرتب کرنے شروع کردئیے ہیں ۔ عمران خان کارکنوں کو اسلام آباد رکاوٹیں ہٹا کر پہنچنے کی ہدایت کررہے ہیں جبکہ حکومت بھی منصوبہ بندی کررہی ہے اور اسلام آباد بند کرنے والوں سے سختی سے نمٹنے کی باتیں کررہی ہے ان حالات میں دیکھا جائے تو حالات کشیدگی کی طرف جارہے ہیں پانامہ پیپرز پر اٹھنے والے اختلافات اب اتنے بڑھ چکے ہیں کہ بات اسلام آباد بند کرنے کی نوبت تک آپہنچی ہے ۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے ان کے تحفظات کو دور کرتی ہے اورعوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتی ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارے ہاں الٹی گنگا بہنے والی بات ہے اور چور مچائے شور والی ضرب المثل موجودہ حالات پر صادق آتے دکھائی دے رہی ہے ۔ عمران خان وزیراعظم کے احتساب کیلئے شور شرابا کررہے ہیں اور ان کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ حکومت ٹس سے مس نہیں ہورہی ۔ جمہوریت میں جلسے ،جلوس ہوا کرتے ہیں لیکن ان کو پرامن ہونا چاہیے پرامن احتجاج سیاسی جماعتوں کا حق ہے لیکن توڑ پھوڑ اورہنگامہ آرائی سے گریز کیا جائے ۔ ایسے حالات پیدا نہ کیے جائیں جو جمہوریت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوں ۔ سیاست میں رواداری کو اپنانے کی ضرورت ہے ایک دوسرے کو برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔ سیاسی استحکام ہی ملک کو ترقی کی طرف گامزن کرسکتا محاذ آرائی نہیں۔ سیاسی ہم آہنگی کا فقدان ہے جس سے حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کے خلاف صف بندی کررہی ہیں جہاں تک احتساب کا تعلق ہے تو بلا امتیاز ہونا چاہیے جب تک ملک میں کڑا احتساب نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملک سے کرپشن کا خاتمہ ممکن نہیں۔ عمران خان کے مطالبے پر حکومت سیخ پا ہونے کی بجائے اس پر سنجیدہ غور کرے اور خود کو احتساب کیلئے پیش کرے
مجرموں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سانحہ 12مئی میں ملوث مجرموں کا تعلق جب جماعت سے بھی ہو اسے چوراہے پر لٹکائیں گے ۔ عزیز آباد سے ملنے والا اسلحہ فوج سے لڑنے کیلئے خریداگیا تھا اسلحہ خریداری میں کراچی کی ایک سیاسی جماعت کی تنظیمی کمیٹی کے نام سامنے آیا ہے ۔ کراچی کا امن خراب کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی شک میں نہ رہے کہ جرائم پیشہ بچے گا ۔ بلدیہ فیکٹری میں 300 آدمی جلانے والوں کو بھی حساب دینا ہوگا۔ گورنر سندھ نے درست فرمایا جب تک جرائم پیشہ عناصر کو ان کے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا جاتا اس وقت تک کراچی کا امن بحال نہیں ہوسکتا۔ جہاں تک رینجرز آپریشن کا تعلق ہے یہ کامیابی سے چل رہا ہے ۔ اس کے باعث ہی ٹارگٹ کلرز ب، بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئی ہے ۔ رینجرز کی کارکردگی لائق تحسین ہے ۔ مجرم کوئی بھی ہو کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کرنے کی ضرورت ہے۔ آپریشن پر بعض سیاسی جماعتیں اپنے تحفظات کا اظہار کررہی ہیں یلکن سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگز کا خاتمہ ہی امن کا ضمن قرار دیا جاسکتا ہے۔ شہر قائد کا امن خراب کرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جاسکتی رینجرز اپنے فرائض کی جس طرح ادائیگی کررہی ہے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بہت جلد کراچی کو جرائم پیشہ عناصر سے پاک کردیا جائے گا۔ اس وقت ملک کوکئی مسائل کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی درد سر بنی ہوئی دکھائی دیتی ہے تو دوسری طرف مکار دشمن بھارت کی سازشیں زور پکڑتی جارہی ہیں جو دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول کی بھی مسلسل خلاف ورزی کرتا چلا آرہا ہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ریاستی تشدد کا بازار گرم کررکھا ہے ان عوام کے باوجود پاکستان انتہائی صبروتحمل کے ساتھ ح الات کی سنگینی کو بھاپ رہا ہے پاکستان امن پسند ملک ہے اور اس کی خواہش ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات سے نکالا جائے لیکن بھارتی ہٹ دھرمی رکاوٹ بنی ہوئی ہے جس پر پاکستان کی تشویش بڑھتی چلی جارہی ہے ۔ پاکستان کے اندر’’را‘‘ کے ذریعے دہشت گردی نے بھارت کے اصلی چہرے کو بے نقاب کردیا ہے اور دنیا بھارت کی مکاری کو بھانپ چکی ہے ۔ بھارت پر چور مچائے شور والی ضرب المثل صادق آتی ہے جو خواہ مخواہ واویلا کررہا ہے اور الزام پاکستان کے سر تھونپ رہا ہے۔ پاکستان کے اندر بدامنی میں بھارت کا عمل دخل ہے۔ شہر قائد میں ’’را‘‘ کی سرگرمیوں کوروکنے کی ضرورت ہے اور ایسی انتہا پسند سوچ کو لگام دینے کی ضرورت ہے جو انتشار کا باعث قرار پارہی ہے ۔ کراچی سے اسلحہ کی برآمدگی اور فوج کے خلاف استعمال کے معاملے کے مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچانے کی ضرورت ہے اور ان کے تانے بانے جہاں ملتے ہیں ان تک رسائی کرکے ان کو بھی قانون کی گرفت میں لانے کی ضرورت ہے۔

بھارتی مواد پرپابندی،احسن فیصلہ،عملدرآمد یقینی بنایا جائے

وفاقی حکومت کی اجازت کے بعد پیمرا کو پاکستانی چینلز اورایف ایم ریڈیو پر بھارتی فلموں ڈراموں اور گانوں پرمکمل پابندی کا اختیار مل گیا ہے۔یہ ایک اچھا فیصلہ ہے تاہم ضروری ہے کہ اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔پیمرا نے اعلان تو کیا ہے کہ جو بھی چینل خلاف ورزی کرے گا 21اکتوبر کے بعد نوٹس دیے بغیر اس کا لائسنس منسوخ کردیا جائے گا۔ممکن ہے بعض فلمی حلقوں میں اسے مناسب نہ سمجھا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ اس کام کی ابتدا بھارت ہی کی طرف سے ہوئی ہے۔حالیہ کشیدگی کے باعث انڈین فلم ایسوسی ایشن نے پاکستانی فنکاروں پر ہندوستان میں کام کرنے پر نہ صرف پابندی عائد کردی بلکہ پاکستانی فنکاروں کو دھمکیاں بھی دی گئیں۔اسکے علاوہ ہندوستانی چینل زی زندگی نے بھی پاکستان کے ڈرامے نہ دکھانے کا اعلان کردیا۔بھارت کی طرف سے اس فیصلے کا ردعمل آنا تھا۔ردعمل میں پاکستانی سینما گھروں کی انتظامیہ نے بھی اپنے طور پر بولی وڈ فلموں پر پابندی لگادی۔سینما گھروں کے اس فیصلے کو سراہا گیااورعوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ پاکستانی چینلز اور ایف ایم ریڈیوز پر بھارتی مواد کی اشاعت پر مکمل پابندی عائد کردی جائے۔علاوہ ازیں غیرقانونی ڈی ٹی ایچ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی ایک عرصہ سے ہورہا تھا۔پیمرا نے گزشتہ ماہ اس حوالے سے پندرہ اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی تھی چنانچہ اب ان ڈی ٹی ایچ کے خلاف آپریشن بھی شروع ہوگیا ہے۔ وہ حلقہ جو اس اقدام کیخلاف ہے انہیں یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ بھارتی حکومت نے پاکستان کے خلاف جو ماحول بنا دیا ہے ،جس طرح پاکستانی گلوکاروں اور فلم سٹاروں کے ساتھ دھمکی آمیز رویہ اختیار کررکھا ہے وہ قابل مذمت ہے۔لیکن کیا ہمارے فنکار اتنے لاوارث ہیں کہ انکے ساتھ جو کچھ ہوتارہے ہماری حکومت اور عوام تماشہ دیکھتی رہے۔بھارت تو اس معاملے میں انتہا پسندی کی تمام حدود پھلانگ چکا ہے ۔ابھی دوروز قبل ہی بھارتی فلم فیسٹیول میں ایک پاکستانی کلاسیکل فلم جاگو ہوا سویرا کی نمائش کو مظاہرین کی دھمکیوں کے بعدمیلے میں دکھائی جانے والی فلموں کی فہرست سے خارج کر دیاگیا۔انتہا پسند تنظیم کے مظاہرین نے فلم فیسٹیول کی انتظامیہ کو دھمکی دی تھی کہ اگر پاکستانی فلم کی نمائش نہ روکی گئی تو فلمی میلے کو چلنے نہیں دیا جائے گا۔ان دھمکیوں کے مامی ممبئی فیسٹیول کے منتظمین نے پاکستانی فلم کو نکال دیا۔یہ فلم انیس سو انسٹھ میں ریلیز ہوئی تھی۔،منتظمین کے مطابق یہ فیصلہ سنگھرش نامی ایک بھارتی این جی او کی شکایت کے بعد کیا گیا ہے۔ قبل ازیں اْڑی فوجی چھاؤنی پرحملے کے بعد ایک انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا( ایم این ایس) نے پاکستانی فنکاروں کو اڑتالیس گھنٹے کے اندر بھارت چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا تھا۔ایم این ایس نے ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بھی کہا تھا کہ وہ فلم ہدایتکار کرن جوہر کی پروڈیوس کی جانے والی فلم ’اے دل ہے مشکل ‘ اور ایک دوسری فلم ’رئیس‘ کو بھی ریلیز نہیں ہونے دیں گے کیونکہ ان فلموں میں پاکستانی اداکار فواد خان اور اداکارہ ماہرہ خان کو کاسٹ کیا گیا ہے۔اسی طرح بالی وڈ اداکار نواز الدین صدیقی کو سٹیج ڈرامے ’رام لیلا‘ میں ایک کردار ادا کرنا تھا لیکن ہندو تنظیموں کے اعتراض کے بعد انھیں رام لیلا میں حصہ لینے سے منع کر دیا گیا ہے۔ شیو سینا کا کہنا ہے کہ رام لیلا میں کوئی بھی مسلمان کردار ادا نہ کرے جس کے بعد اسکا اہتمام کرنے والوں نے نواز الدین کو جواب دے دیا ہے۔رام لیلا ہندوؤں کی مقدس کتاب رامائن کی کہانی پر مشتمل ڈرامہ ہے جو ہر برس دسہرا کے موقع پر تقریباً سبھی شہروں میں سٹیج پر کھیلا جاتا ہے۔اس میں رام، سیتا اور راون جیسے مختلف کردار ہوتے جسے دیکھنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے۔اداکار نوازالدین صدیقی کو رام لیلا سے صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے باہر ہونا پڑا ہے۔بھارت میں پاکستانی فلم آرٹسٹوں کے خلاف حالیہ انتقامی کارروائی کو پہلی دفعہ نہیں ہورہی ہے۔اس سے قبل بھی درجنوں بار پاکستانی فنکاروں اور گلوکاروں کو دھمکیاں دی گئیں۔غلام علی جیسے غزل کے عظیم گلوکار کے طے شدہ پروگرام منسوخ کرائے گئے ۔ پاکستانی کرکٹ کے وفد کے ساتھ کیا ہوا وہ بھی کوئی ماضی بعید کا قصہ نہیں ہے۔بنیادی طور پر بھارت کا خمیر انتہا پسندی اور دہشت گردی سے اٹھا ہے۔اسی بنا پر بانی پاکستان نے الگ وطن کا مطالبہ کیا تھا۔بانی پاکستان کی دور بیں نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ مسلمان متشدد ہندو ذہنیت کیساتھ نہیں رہ سکتے۔قائد کے یہ خدشات تب بھی درست تھے تو آج بھی درست ثابت ہورہے ہیں۔آج بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔ مسلمان ہی نہیں ہر اقلیت کا جینا حرام ہوچکا ہے۔کیا مسلمان، کیا عیسائی، دلت، سکھ سب ہندو ذہنیت کا شکار ہیں۔اقلیتوں میں سب سے زیادہ ذلت آمیز رویہ دلت برداشت کر رہے ہیں۔اگلے روزایک دلت طالب علم کی درد بھری کہانی سامنے آئی کہ کس طرح اچھے نمبر لینے پر اس کی پٹائی کی گئی۔خبر رساں ادارے اے ایف پی

پاکستانی فنکار ، بھارت اور ۔ ۔ ۔ !

بھارتی میڈیا نے پاکستان کے خلاف اپنی دیرینہ شر انگیزی کی تازہ کڑی کے طور پر نئی پراپیگنڈہ مہم شروع کر رکھی ہے ۔ اسی پس منظر میں بی جے پی کے ممبر لوک سبھا ’’ ساکشی مہاراج ‘‘ نے کہا ہے کہ پاکستانی فنکاروں کو کسی بھی طور بھارتی فلموں میں کام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ کوئی ایسی فلم نمائش کے لئے پیش کی جائے گی جس میں کوئی پاکستانی اداکار یا اداکارہ ہو ۔
اسی تناظر میں مبصرین نے کہا ہے کہ بھارت کے مشہور فلمساز ’’ کرن جوہر ‘‘ نے اپنی فلم میں پاکستانی اداکار ’’ فواد خان ‘‘ کو کچھ عرصہ قبل کاسٹ کیا تھا اور یہ فلم ہر لحاظ سے مکمل بھی ہو چکی ہے مگر ایک جانب اس کی نمائش کی اجازت دینے سے منع کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب ایک دوسرے ہندو اداکار ’’ اوم پوری ‘‘ کے خلاف بھی صرف اس وجہ سے ایک طوفان کھڑا کیا گیا ہے اور ان کے خلاف بھارت کے تقریباً تمام ٹیلی ویژن چینلوں پر ایسی زبان استعمال کی جا رہی ہے جو اس قابل نہیں کہ اسے احاطہ تحریر میں لایا جا سکے ۔
اسی کے ساتھ ساتھ بھارت نے نام نہاد سرجیکل سٹرائیک کا جو دعویٰ کیا تھا وہ پوری طرح سے بے نقاب ہو چکا ہے اور اب اس حوالے سے کسی حد تک بھارت کے ہندی اور انگریزی میڈیا کو دفاعی پوزیشنز اختیار کرنے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے کیونکہ ان کا جھوٹ ہر آنے والے دن کے ساتھ مزید بے نقاب ہوتا جا رہا ہے اور اس کی دھجیاں اڑتی جا رہی ہیں ۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران خود بھارت کے بعض مبصرین بھی اس تلخ حقیقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ دہلی سرکار کے کھیل کی قلعی پوری طرح سے کھل گئی ہے جس کا سب سے بڑا مظہر ہے کہ ایک طرف تو راجیو گاندی نے مودی کو ’’ سب سے بڑے جھوٹے ‘‘ کے خطاب سے نوازتے ہوئے انہیں ’’ خون کا سوداگر ‘‘ قرار دیا اور کہا کہ مودی دعوے تو بڑے کرتے ہیں مگر زمینی حقیقت تو یہ ہے کہ انھوں نے سارے وسائل ہتھیار جمع کرنے پر صرف کر دیئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے بھارتی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو چکا ہے ۔ یاد رہے کہ کانگرس کے ترجمان ’’ ترپاٹھی ‘‘ اور ’’ سورج والا ‘‘ نے مودی کو جن خطابات سے نوازا ہے انھیں جان کر تو شاید وقتی طور پر خود بھارتی وزیر اعظم اور ان کے ہمنواؤں کو بھی تھوڑی دیر کے لئے خفت محسوس ہوئی ہو گی ۔
اسی صورتحال کا جائزہ لیتے قدرے اعتدال پسند بھارتی مبصرین نے اس بات کو بھی انتہائی سنجیدہ اور اہمیت کا حامل قرار دیا ہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں یو پی کی سابق وزیر اعلیٰ اور بی ایس پی پارٹی کی سربراہ ’’ مایا وتی ‘‘نے بھی انتہائی تلخ لہجے میں بھارت کے موجودہ حکمرانوں کو کھری کھوٹی سنائی ہیں ۔ علاوہ ازیں اتر پردیش کے موجودہ وزیر اعلیٰ ’’ اخلیش یادو ‘‘ نے کہا ہے کہ ’’ مودی جی نے جتنی توانائیاں دلتوں اور بھارتی مسلمانوں کے خلاف صرف کی ہیں اگر اس کا دسواں حصہ بھی بھارت کے حقیقی مسائل کے حل کی جانب صرف کرتے تو آج صورتحال قدرے مختلف ہوتی ۔
اسی تناظر میں انسان دوست حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ بھارت ایک جانب اسلحہ اور گولہ بارود کے بے پناہ ذخائر جمع کر رہا ہے تو دوسری طرف نہتے کشمیریوں کے خلاف جس بربریت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔ بہر کیف اگر دہلی کے حکمران گروہ نے اپنی روش نہ بدلی تو اس صورتحال کے منطقی نتائج بھگتنے کے لئے انھیں تیار رہنا چاہیے ۔ علاوہ ازیں غیر جانبدار ماہرین نے یہ بھی کہا ہے کہ اس صورتحال میں خود پاکستانی فنکاروں کے لئے بھی سامانِِ عبرت یہ ہے کہ صرف دھن دولت سب کچھ نہیں ہوتا بلکہ قومی غیرت و حمیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور وطن عزیز سے تعلق رکھنے والے فنکار ٹولے کو بھی اپنی روش کی اصلاح کی جانب

ذکردراندازی کا۔۔۔ شوق موسوی
مودی! ہواؤں سے تم اُٹھ اُٹھ لڑ رہے ہو
کہتے ہو سرحدوں پر آگے بھی بڑھ رہے ہو
میدان میں تو تم سے کچھ بھی نہ ہو سکے گا
اپنی بہادری کے خود قصے گھڑ رہے ہو

’را‘اور افغانستان سی پیک کو ناکام بنانے کے درپے

ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کابینہ سیکرٹریٹ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کو ناکام کرنے کیلئے را، این ڈی ایس، لشکر جھنگوی، تحریک طالبان پاکستان سرگرم عمل ہیں جن کو کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ گزشتہ 3سال میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر 5 ہزار 2 بیسڈ آپریشن کیے،865 دہشت گرد گرفتار اور 171 مارے گئے۔ ائرپورٹس کی سیکورٹی میں نقائص کی نشاندہی کر رہے ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تکنیکی معاونت بھی کی ہے۔
ڈائریکٹر آئی بی کے بیان کے بعد اندازہ ہورہا ہے کہ سی پیک کے خلاف سازشوں کا جال کتنا مضبوط ہے اور اس کے ڈانڈے کہاں کہاں ملتے ہیں۔ بعض کالعدم تنظیمیں بھی اِس راہداری کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے سرگرم ہیں۔ یقیناً اْن کے رابطے ’’را‘‘ سے بھی ہوں گے، کیونکہ ’’را‘‘ کے پیشِ نظر بھی سی پیک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کا مذموم مقصد ہے۔ بلوچستان سے ’’را‘‘ کا جو افسر(کلبھوشن) گرفتار ہوا ہے وہ بھی اعتراف کر چکا ہے کہ وہ سی پیک کے منصوبے کے راستے میں روڑے اٹکانے کے لئے سرگرم عمل تھا اور اْس نے بلوچستان میں جاسوسی کی سرگرمیوں کا نیٹ ورک قائم کر رکھا تھا۔ اِسی طرح افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے کہ وہ بھی سی پیک کے منصوبے کو ناکام بنانے کی سازشوں میں مصروف ہے۔ گزشتہ دِنوں ایک افغان افسر بھی گرفتار ہو چکا ہے جس نے تفتیش میں تسلیم کیا تھا کہ وہ ’’را‘‘ کے ساتھ مل کر سی پیک کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔
آفتاب سلطان نے جن دو کالعدم تنظیموں کے نام لئے ہیں وہ پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں اور عین ممکن ہے کہ اْنہیں اپنی سرگرمیوں کے لئے درکار سرمائے کے لئے بھارتی ادارے کی معاونت حاصل ہو۔ کراچی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں یہ بات کھل کر سامنے آ چکی ہے کہ کرپشن سے حاصل کی ہوئی دولت دہشت گردی کے مقاصد میں استعمال ہوتی رہی ہے اِس لئے جو لوگ پاکستان کے اندر کسی نہ کسی انداز میں سی پیک کی براہِ راست یا بالواسطہ مخالفت کر رہے ہیں اْن کے غیر ملکی روابط کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغان حکومت اِس منصوبے کی حمایت کر رہی ہے مگر بھارت کے ساتھ مل کر وہ سی پیک کو سبوتاژ کرنے کے لئے کوشاں ہے۔
گزشتہ دِنوں بلوچستان کے وزیراعلیٰ نواب ثنا اللہ زہری نے بھی ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ بھارت سی پیک کو ناکام بنانے کے لئے بلوچستان میں دہشت گردی کرا رہا ہے۔ اْن کے پاس شواہد موجود ہیں اور وہ اِس سلسلے میں وزیراعظم سے بات بھی کریں گے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقیات احسن اقبال نے کہا ہے کہ چائنا پاکستان اقتصادی راہداری خطہ کا اہم ترین منصوبہ ہے اس کے نتیجے میں پاکستان میں لاکھوں نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا ہونے میں مدد ملے گا۔ سی پیک منصوبوں میں گوادر کو اولیت دی جارہی ہے گوادر کو پہلی ترجیح دی جا رہی ہے۔ گوادر پورٹ سرمایہ کاری کے لحاظ سے پرکشش ہے۔ یہاں پر سرمایہ کاری کرنے والے کمپنیوں کو ہر ممکن تحفظ فراہم کی جائے گی۔ وزیراعظم پاکستان گوادر پر خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ گوادر 2013 میں کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا تھا اب 2016 میں گوادر کی تقدیر ہماری حکومت نے بدل کر رکھ دی۔ گوادر میں بہت سے ترقیاتی کام ہوئے ہیں۔ کچھ منصوبے زیر تعمیر ہیں گوادر انٹرنیشنل ائیرپورٹ اور ایکسپریس وے کے منصوبوں پر پاکستان کی جانب سے تمام کاروائیاں مکمل ہو چکی ہیں لیکن چین کی طرف سے منظوری لینے ہیں۔ چین کی تعاون سے تین سو میگا واٹ بجلی کا منصوبہ بہت جلد شروع کیا جائے گا۔ چین کی تعاون سے گوادر میں تین سو میگاواٹ بجلی کا منصوبہ بہت جلد شروع کیا جائے گا۔ پہلے مرحلے میں ایک سو میگاواٹ بجلی گوادر کی ضرورت کے مطابق پیدا کیا جائے گا جو کہ گیس سے چلے گا۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی سینیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اس منصوبے کو ناکام کرنے والی تنظیموں کے خلاف انٹیلی جنس ایجنسیاں سخت اقدامات کریں اور مخالف دشمن دہشت گردوں کی میڈیا پر عام تشہیر کر کے دنیا کو اصل حقائق سے آگاہ کریں اور پاکستان

Google Analytics Alternative