کالم

جناب مجید نظامی کو سلام وداع

Aslam

پاکستان کا عاشق زار چلا گیا، ایک عہد تمام ہوا، صحافت کا بانکپن رخصت ہوا۔ جناب مجید نظامی شاندار اننگز کھیل کر اُفق کے اس پار چلے گئے۔ اک سائبان تھا کہ نہ رہا، وہ اس کالم نگار کے محسن اور مربی تھے میری تمام تر کوتاہیوں اور جسارتوں کے باوجود، شجر سایہ دار کی طرح کڑی دھوپ میں چھاﺅں کئے رہے۔ نظامی صاحب تو چلے گئے ان کی یادوں کا لامتناہی سلسلہ ختم ہونے میں نہیں آتا۔ یہ کالم نگار گذشتہ دو دنوں سے چوتھائی صدی پر محیط یادوں کی بھول بھلیوں سے نکل نہیں پا رہا ان کی محبت اور شفقتوں کا تو کوئی شمار قطار نہیں ان کی بزرگانہ ناراضگی کی کہانیاں بھی تعاقب میں ہیں۔80ءکی دہائی کے آخری سالوں میں صحافت کے مرکزی دھارے میں شمولیت کیلئے ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے سر سے پاﺅں تک جائزہ لینے کے بعد فرمایا گنجائش نہیں ہے، اس خاکسار نے جسارت کرتے ہوئے عرض کی کہتے ہیں کہ اچھے کارکنوں کی اخبار کو ہر وقت ضرورت ہوتی ہے یہ سُن کر وہ بدمزہ ہونے کی بجائے مسکرائے اور اس وقت کے چیف نیوز ایڈیٹر وحید قیصر سے ٹیسٹ لینے کوکہا۔

وحید قیصر صاحب کے ٹیسٹ سے بچ نکلنا پُل صراط عبور کرنے کے مترادف تھا۔ ہمارے سینئر ایڈیٹر برادرم ایاز خان اُس وقت نوائے وقت میں خاصی سینئر پوزیشن پر پہنچ چکے تھے ان کی مدد سے ٹیسٹ کا کٹھن مرحلہ عبور کر کے زیر تربیت سب ایڈیٹر قرار پائے جو کسی بھی نوارد کیلئے بہت بڑے اعزاز کی بات تھی کیونکہ اس وقت رات کی شفٹ میں کئی حضرات اس ٹیسٹ کے مرحلے تک پہنچنے کیلئے کئی کئی ماہ سے بیگار کاٹ رہے تھے۔ اس کالم نگار کی آمد اور فوری تقرر نے نیوز روم کی محدود دنیا میں اضطراب کی لہریں دوڑا دیں لیکن برادرم ایاز خان اور اقبال زبیری مرحوم کی رہنمائی میں سسٹم کا حصہ بن گیا۔ جناب مجید نظامی سے پہلا ٹاکرا چند ماہ بعد اس وقت ہوا جب خاکسار افغانستان کے ذاتی دورے سے واپس لوٹا اور اس وقت کے افغان وزیراعظم انجینئر گلبدین حکمت یار سے ملاقات کی روداد ڈیسک پر بیٹھ کر مزے لے لے کر سنائی تو سید والا تبار، میرے پیارے شاہ جی، عباس اطہرمرحوم نے یہ تمام روداد لکھنے کا حکم دیا کہ ایک معاصر روزنامے نے حکمت یار کا باضابطہ انٹرویو کیا تھا۔ جناب مجید نظامی نے یہ رپوتاژ لیڈ سٹوری کے طور پر شائع کرنے کاحکم دیا جس پر رپورٹنگ کی اجارہ داری میں یہ ”مداخلت بے جا“ کچھ بزرگوں کو ناگوار گزری اور جناب مجید نظامی کو بتایا گیا کہ عباس اطہر جماعت اسلامی کے حامیوں کا نوائے وقت پر قبضہ کرانا چاہتے ہیں۔

اگلے روز میری طلبی ہو گئی، جناب مجید نظامی نے خاکسار کو دیکھتے ہی سوال کیا ”معاف کرنا تہاڈا جماعت اسلامی نال کی تعلق اے۔“ اندرون خانہ جاری سازش سے بے خبر یہ کالم نگار اس سوال کیلئے تیار نہیں تھا۔ نوائے وقت میں تعیناتی سے چند ماہ پہلے جناب مسعود اشعر، پرویز حمید، ہارون رشید، مقبول الرحیم مفتی اور عبدالکریم عابد کے ہمراہ ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم کا طویل انٹرویو کرنے والے سینئر بزرگوں کے ساتھ یہ مبتدی بھی شامل تھا جن کا تعارف انٹرویوکے آغاز پر دیا گیا تھا۔ نوائے وقت کے ادارتی صفحے پر یہ انٹرویو جوں کا توں تعارف سمیت شائع کیا گیا جس میں اس خاکسار کا نام بھی شامل تھا، میں نے بصد احترام عرض کیا ”میرے جماعت اسلامی سے تعلق کے بارے میں نوائے وقت کے ادارتی صفحے پر تفصیل شائع ہو چکی ہے۔“ زیر تربیت جونیئر سب ایڈیٹر کی اس جرا¿ت رندانہ پر قبلہ نظامی صاحب ششدر رہ گئے فرمایا ”معاف کرنا تہاڈا دماغ ٹھیک اے“ تفصیلات کا علم ہونے پر چائے بسکٹوں سے تواضع کی جو غیرمعمولی پذیرائی تھی جس کے بعد توجہ اور محنت سے کام کرنے کی ہدایت کر کے بڑے پیار و محبت سے رخصت کیا۔ اس واقعہ نے نوائے وقت کے گھٹے گھٹے ماحول پر چڑھے سارے خول توڑ دئےے اور نوجوانوں کے دور کا آغاز ہوا۔ پھر تین سال تک نوائے وقت کا نیوز روم ہماری چراہ گاہ بنا رہا، رپورٹنگ کی روایتی اجارہ داری کی بجائے نیوز روم اورنیوز ایڈیٹر کی بالادستی کا آغاز ہوا، یہ خاکسار کی زندگی کا سنہرا دور تھا۔

جوانی دیوانی کے والہانہ پن نے پیشہ وارانہ ماحول سے ہم آہنگ ہوکر ایسا کرشمہ دکھایا کہ دفتر سے باہر دل نہیں لگتا تھا، راتیں جاگتی تھیں اور دن سوتے تھے۔ احمد کمال نظامی سے ایک تنازع میں نظامی صاحب نے حقائق سے آگاہ ہونے کے بعد اس خاکسار کوشاباش دی جس کے بعد یہ کالم نگار از خود ان کا مشیر خصوصی بن بیٹھا وہ آخری ملاقات تک بڑی رغبت اور محبت سے گپ شپ کرتے، دنیا جہان کے قصے سنتے اور مسکراتے، جلد ملنے پر اصرار کرتے۔مصلحت، ڈر یا خوف ان کے قریب نہیں گزرا تھا۔ جناب نواز شریف غلام اسحاق خاں کے ساتھ الجھے ہوئے تھے اس وقت کے سپہ سالار جنرل وحید کاکڑ صدر اور وزیراعظم میں بیچ بچاﺅکی کوششیں کر رہے تھے کہ معاملہ صدر اور وزیراعظم کے بیک وقت مستعفی ہونے تک پہنچ گیا نواز شریف نے جناب نظامی سے رہنمائی کی درخواست کی تو نظامی صاحب نے کہا کہ جنرل کاکڑ کو آپ سے استعفیٰ طلب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے آپ انہیں برطرف کردیں بعدازاں معاہدے کے تحت مرحوم غلام اسحاق خاں اور نواز شریف مستعفی ہوگئے سیاسی بحران ختم ہو گیا۔ سپہ سالار سے مدیران کی انہی دنوں ہونے والی ملاقات کے آغاز پر جنرل کاکڑ نے اچانک استفسار کیا کہ آپ میں سے کس دلیر ایڈیٹر نے نواز شریف کو مجھے برطرف کرنے کا مشورہ دیا تھا جناب نظامی صاحب مزے لے لے کر بتایا کرتے تھے میں فوراً کھڑا ہو گیا ”جنرل صاحب میں نواز شریف نوں ایہہ مشورہ دتا سی‘ شاید جنرل وحید کاکڑکوایسی جرا¿ت انداز کی توقع نہیں تھی اس لےے پہلو بچا کر نکل گئے۔ آصف زرداری کے حکم پر اس کالم نگار کو سنگین نوعیت کے مقدمات میں اُلجھایا گیا ریاستی جبر سے بچنے کے لےے برادرم فاروق فیصل خان سمیت چھ ماہ زیرزمین رہنا پڑا ہم انصاف کے حصول کے لےے مختلف عدالتوں سے ضمانتیں مسترد کراتے لاہور ہائی کورٹ تک پہنچ چکے تھے

مرحوم اظہر سہیل ، آصف زرداری کی مدد سے ہمارے تعاقب میں تھے نااُمیدی کے اندھیروں میں کچھ سجائی نہیں دیتا تھا کہ جناب مجید نظامی امید اور روشنی بن کر نمودار ہوئے برادرم جوادنظیر اور قبلہ شاہ صاحب والا تبار نے انہیں حالات واقعات سے آگاہ کیا تو جناب نظامی صاحب نے جسٹس راشد عزیز خاں سے رابطے میں ذرا بھر توقف نہیں کیا۔ ضمانتوں کوتوثیق کے بعد حاضرہوا تو فرمایا’معاف کرنا ہن تسیں بچے نیں ذرا دھیان کریاکرو‘واضح رہے کہ نوائے وقت سے دودرجن اجتماعی استعفوں کی وجہ سے بزرگوارم اس خاکسار پر شدید ناراض تھے لیکن مشکل میں شجرسایہ دار بن کر ہمیں کڑی دھوپ سے بچالیا۔

جناب نواز شریف انہیں صدرتارڑ کی جگہ صدر پاکستان بنانا چاہتے تھے لیکن جناب نظامی نے عجب شان استغناکامظاہرہ کرتے ہوئے معذرت کرلی ورنہ صاحبان ِ حرف وقلم نے اقتدار کے ایوانوں میں رسائی کے لیے کیاکیا جتن نہیں کیے۔ بہت دنوں بعد جناب نظامی نے اس کالم نگار کوبتایاکہ کس طرح انہوں نے منصب صدارت ٹھکرا کرایسے فتنے کا دروازہ بند کیا جس نے جنوبی ایشیا میں وسیع تر کنفیڈریشن کاخواب دیکھنے والوں کی سازشوں کے تانے بانے اُدھیڑ کررکھ دئیے تھے کہ نظامی صاحب کے منصب صدارت قبول کرنے کی صورت میں ایک میڈیاگروپ کے مالک کی راہ ہموار ہوجاتی جو بھارت کے ساتھ امن کی آشاﺅں کی تکمیل کے لیے سازشوںکے جال بن رہے تھے یہ نظامی صاحب کی نگاہ دور بین تھی جس نے دودہائیوں کے فاصلے اور سات پردوں میں ملفوف سازش کو بھانپ لیا تھا۔

ہشت پہلو زاویوں کا مرکب سازشی ٹولہ برادرم سردار خان نیازی کی ناک رگڑنے کے لیے سازشوں کا جال پھیلائے ہوئے تھاان کے حریفان چابک دست وترزبان نے سارے رستے مسدودکردئیے تھے۔خاکسار انہیں لے کر جناب مجید نظامی کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے چند لمحوں میں معاملہ نمٹادیا اس خاکسار کو ہر پنگے میں اُلجھنے سے بچنے کی مربیانہ سرزنش کی۔

اسی طرح بریگیڈئیرصدیق سالک کا صاحبزادہ سرمد اپنی زودرنجی کی وجہ سے گھر سے اُٹھا لیا گیا۔ جنرل پرویز مشرف کی ایمرجنسی پلس جنرل عزیز خان کے نام پر شہرت پانے والے میجر جنرل عزیز آئی ایس آئی میں اہم منصب پر موجود تھے وہ ’بھتیجے‘کو اپنے ماتحتوں کے چنگل سے چھڑانے میں ناکام ہوگئے تو اس کالم نگار نے جناب مجید نظامی کی بارگاہ میں حاضری دی انہوں نے میری موجودگی میں کسی اہم شخصیت کو فون پر کہا کہ بریگیڈئیر صدیق سالک ورگا پُترماں نے نئیں جمنا تسیں ایدھا پُترچک لیا اے‘اور شام تک سرمد واپس اپنے گھر پہنچ گیا۔ جناب نظامی نے سادہ زندگی گذاری البتہ ہمیشہ سوٹڈبوٹڈ اور ٹائی لگا کر دفتر آتے، دربار جماتے جہاں صرف ان کے معدود ے چند مصاحبین کو رسائی حاصل تھی جن میں یہ کالم نگار بھی شامل تھا جس پر خاکسار کو تادم آخرفخررہے گا۔

شاہ جی کے جنازے پر مجھے تلاش کرکے ملے اور اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہنے لگے’ اسلم فکر نہ کریں‘ شاہ جی چلے گئے میں موجود آں‘میں عباس (اطہر) دی تعزیت تیرے نال کرنا چاہنداساں ان کااندازدل ربائی میرے لیے بہت بڑا اعزاز تھا۔

چند ماہ پہلے ہونے والی آخری ملاقات میں اسلام آباد کے حالات کرید کرید کر پوچھتے رہے خاکسار نے بتایا کہ بھارت کو پسندیدہ قوم اورکابل تک راہداری کی سہولت دینے پر فوج اور سیاسی حکومت میں پیداہونے والی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی جارہی ہے جناب نوا زشریف ایسے لوگوں کے گھیرے میں پھنس چکے ہیں جو امن کی آشیا کی آڑمیں پاکستان کانظریاتی تشخص تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔خداگواہ ہے کہ نظامی صاحب بالکل خاموش رہے، سرہلاتے رہے ایک لفظ نہ بولے مجھے نجانے کیسے خیال آیا کہ یہ شاید الوادعی ملاقات ہے عرض کی حضور اجازت دیں اور میراسلام الوداع قبول کریں اس پر مسکراتے ہوئے کہا ، ’دعالئی تے آئیں گا نا‘ ہمیںیک و تنہا اور لاوارث کرکے اُفق کے اس پار چلے گئے آج دوراہے پر کھڑا پاکستان نظریاتی تشخص کے بحران کا شکار ہے۔دوقومی نظریے کا محافظ ،اُمت کی اُمنگوں اورخواہشات کاترجمان چلاگیالیکن اُن کے افکارو نظریات زندہ رہیں گے۔

تحریک نظام مصطفی ﷺ ۔۔۔ چند سوالات

مذہبی قیادت نے وطن عزیز میں تحریک نظام مصطفی ﷺکا اعلان کر دیا ہے۔جس اہتمام سے ملک کی نظریاتی شناخت تبدیل کرکے اسے سیکولر بنانے کی کوششیں جاری ہیں ، یہ اعلان ایک مژدہ جانفزا ہونا چاہیے تھا لیکن ہمارے دکھوں کا اندازہ کیجیے ، چند سوالات دامن گیر ہو گئے ہیں ۔اہل مذہب کو ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے یہ مبارک اعلان کرتے سنا تو اقبال ؒ نے دریچہ دل پر دستک دے دی:
” میں نے اے میر سپہ! تیری سپہ دیکھی ہے
’قل ہواللہ‘ کی شمشیر سے خالی ہیں نیام
آہ ! اس راز سے واقف ہے نہ ملا، نہ فقیہ
وحدت افکار کی بے وحدت کردار ہے خام“
نعرہ تو بہت مبارک ہے ، کہ سیکولر انتہا پسندی کے لشکری لمحہ لمحہ بے باک ہوتے جا رہے ہیں ، لیکن سوالات بھی بہت اہم ہیں۔خیال خاطر احبا ب کے پیش نظر ، فی الوقت ، محض چند سوالات پر اکتفا کرتے ہیں۔
1۔تحریک نظام مصطفی کے عنوان سے چلنے والی یہ پہلی تحریک نہیں ہو گی۔اسی عنوان سے اس سے پہلے بھی ایک تحریک چل چکی ہے۔اس کا حساب کون دے گا۔کس عالی مارتبت بارگاہ سے رجوع کیا جائے کہ اس تحریک کا حاصل معلوم ہو سکے جو اسی مقدس عنوان کے تحت چلائی گئی، حق کی خاطر لوگ باہر نکلے اور اس شان سے نکلے کہ جان پہ کھیل گئے لیکن انجام کیا ہوا؟ ان کی جھولی میں حق کی بجائے ’ضیاءالحق ‘ ڈال کر اہل جبہ و دستار اپنے اپنے حجروں کو مراجعت فرما گئے، اور وہاں سے نکلے تو ’ مقام فیض کوئی راہ میں جچا ہی نہیں‘ سیدھے’
امیر المومنین ‘کی مجلس شوری میں جلوہ افروز ہوئے۔دستر خوان کی بے پایاں وسعتوں میں لب شیریں سے تازہ چشمے پھوٹ پڑے : مرد مومن مرد حق۔۔۔ ضیاءالحق ضیاءالحق۔ آج سب جانتے ہیں کہ وہ تحریک اصل میں انتخابی دھاندلی کے خلاف اٹھی اور حبیب جالب اپنے شعروں سے اسے تمازت بخشتے رہے تو تحریک استقلال جیسی سیکولر جماعت ہراول میں کھڑی رہی ۔مقصود کچھ اور تھا ، عنوان کچھ اور۔اسی عنوان سے نئی تحریک بپا کرنے والے حضرات اب کیا فرماتے ہیں بیچ اس مسئلہ کے کہ پہلی تحریک کا انجام کیا ہوا اور اس کے نتیجے میں کتنا اسلام نافذ ہوا؟ ان حضرات کو کوئی تو یہ بتائے کہ وقت کے موسم بدل چکے ہیں اور اب ان کی مخاطب وہ نسل ہے جو گاہے سوال اٹھاتی ہے ۔
2۔ تحریک کا عنوان نظام مصطفی ﷺ ہے ، کیا یہ حضرات وضاحت فرمائیں گے کہ نظام مصطفی سے ان کی مراد کیا ہے؟اگر تو اس کا تعلق قوانین کے تعین سے ہے تو یہ مرحلہ تو دستور میں طے ہو چکا۔اب یہ ایک متعین شدہ اصول ہے کہ ریاست کا مذہب اسلام ہے اور قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بن سکتا۔لیکن اگر اس کا تعلق آئین کی اسلامی روح کا کامل نفاذ ہے اور یہ حضرات سمجھتے ہیں کہ حکومت اس ضمن میں مجرمانہ غفلت کا مطاہرہ کر رہی ہے اور مغربی ایجنڈے پر عمل پیرا ہے تو اس حوالے سے تحریک چلانے سے پہلے ان حضرات نے قبلہ حضرت مولانا فضل الرحمن سے اتنا تو پوچھ لیا ہوتا کہ وہ کس جواز کے تحت حکومت کا حصہ ہیں اور نہ صرف وزارتوں بلکہ دیگر اہم مناصب سے بھی لطف اندوز ہو رہے ہیں۔تحریک چلا رہے ہیں تو صف بندی تو درست کیجیے۔مولانا سے یہ تو پوچھ لیجیے وہ کس صف میں ہیں۔اور اگر نظام
مصطفی ﷺ سے مراد رویوں کی تطہیر ہے اور تزکیہ ہے تو اس کے لیے سیاسی تحریک کی نہیں سماجی تحریک کی ضرورت ہے۔اسلام آباد میں دیے گئے دھرنے میں جو زبان استعمال ہوئی وہ بتا رہی ہے کہ خود اہل مذہب کے ہاں اخلا قی بحران کتنا شدید ہے۔اس بحران کا حل کسی سیاسی تحریک میں نہیں سماجی تحریک میں ہے جو معاشرے کی تہذیب کرے۔اور اگر یہ حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ نظام مصطفی ﷺ سے مراد یہ ہے کہ ریاست کی زمام کار اہل مذہب کے حوالے کر دی جائے اور پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیا جائے تو کیایہ قرارداد مقاصد میں طے کیے گئے اصولوں کی واضح خلاف ورزی نہیں ہو گی؟یاد رہے کہ قرارداد مقاصد ریاست کی اسلامی شناخت کا نقش اول ہے ۔ اس میں ملائیت کی نفی کی گئی ہے اور قرآن و سنت کی بات کی گئی ہے اور طے کر دیا گیا ہے کہ عوام الناس کے منتخب نمائندے اقتداراور اختیارات کو کو اللہ کی طرف سے عطا کردہ ایک مقدس امانت سمجھ کر قرآن و سنت کے مطابق استعمال کریں گے۔
3 ۔ تحریک برپا کرنے سے پہلے کیا یہ جماعتیں اس فکری ابہام کی وضاحت کریں گی جو نفاذ اسلام کے باب میں ان کے ہاں پایا جاتا ہے؟کالم کی تنگنائے تفصیل کی متحمل نہیں ہو سکتی، ایک ہی مثال کفایت کرے گی۔جمعیت علمائے پاکستان جب تقسیم نہیں ہوئی تھی اس کا منشور پیش کیا گیا جس کا پیش لفظ مرحوم مولانا عبد الستار خان نیازی ؒ نے لکھا تھا۔ اسمیں جمعیت علماءپاکستان کا تعارف یوں کرایا گیا: ” سواد اعظم اہل سنت والجماعت ملک کی غالب اکثریت پر مشتمل ایسی تنظیم ہے جو سیاست میں خلافت علی منہاج النبوت، معیشت میں مساوات محمدی اور اعتقادی لحاظ سے مقام مصطفی ﷺ کے تحفظ اور نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی علمبردار ہے اور کتاب ، سنت رسول ﷺ ، سنت صدیقین ، سنت خلفائے راشدین ، سنت تبع تابعین ، سنت شہدائ، سنت صالحین و ائمہ اہل بیت، ائمہ فقہ ، ائمہ علم الکلام، ائمہ حدیث ، ائمہ تصوف اور اجماع امت تمام کو آئینی، قانونی، دینی، تہذیبی، تمدنی ، معاشرتی ، معاشی اور بین الاقوامی معاملات اور مسائل میں اپنے لیے واجب الاتباع تصور کرتی ہے “ ۔۔۔۔۔ذرا غور فرمائیے کتنوں کو واجب الاتباع قرار دے دیا گیا۔مولانا مرحوم کا بہت احترام ہے ، خدا انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے ، انہوں نے ہمیشہ مجھے پیار دیا لیکن یہ سوال تو موجود ہے کہ تمام ائمہ فقہ کو واجب الاتباع قرار دے دیا گیا۔اب چاروں امام اگر مختلف مسائل پر مختلف رائے دیں تو ایک ہی وقت میں سب کی اطاعت کس طرح کی جائے؟یہ فکری ابہام اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب اسی تحریر میں آ گے جا کر ہم پڑھتے ہیں : ” قرآن مجید یا اسلام کی ایسی کوئی تعبیر قابل قبول نہیں ہو گی جو خاتم النبیین ﷺ اور فقہ حنفی سے انحراف کر کے پیش کی جائے “ ۔
4۔تحریک کا اعلان کرنے والی جماعتوں کے داخلی تضادات اور مسلکی جماعتوں کے تضادات ایک عالم پر آشکار ہیں۔یہ تضادات اتنے گہرے ہیں کہ جب تک ان سے بالاتر نہ ہوا جائے تحریک کے ثمرات حاصل کرنا ناممکن ہے۔کیا یہ ان تضادات سے بلند ہو سکیں گی؟ان کے ایک دوسرے کے بارے میں خیالات میں جو شدت ہے جب تک ان سے اعلانیہ رجوع نہیں کیا جاتا ان کا اتحاد ایک سوالیہ نشان ہی رہے گا۔محض ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر فوٹو بنوا لینے سے عوام الناس کے دلوں میں ابھرتے خدشات کو جواب کیسے دیا جا سکتا ہے؟مقصد سے واقعی اخلاص ہے تو اسے ثابت کرنا ہو گا۔کیا یہ جماعتیں اس بھاری پتھر کو اٹھا پائیں گی؟
5۔قائدین کرام کی حیران کر دینے والی صلاحیت بھی عروج پر ہے۔فرمایا ” حقوق نسواں بل کو قرآن و سنت سے متصادم ثابت کر دیں گے “۔اس ارشاد کی شرح کیا ہے؟کیا یہ سمجھا جائے کہ ابھی تک اسے قرآن و سنت سے متصادم ثابت نہیں کیا جا سکا؟تحریک پہلے چلائی جا رہی ہے ثبوت بعد میں دیے جائیں گے۔اتنی بے تابی کیا ہے۔؟پہلے یہ ثابت کر لیتے پھر تحریک چلا لی جاتی تو کیا مضائقہ تھا؟اگر دلیل کی قوت کی یہی مظاہر ہم نے دیکھنا ہے تو زیادہ بہتر نہ ہوتاجناب سراج الحق ا پنے شعبہ اطلاعات سے کہہ دیتے کہ ہم نے تحریک چلانے کا فیصلہ کر لیا ہے آ پ فوری طور پر اس تحریک کے چلائے جانے کے سترہ اسباب بیان کریں۔
سارے درد دل کے ساتھ گذارش ہے کہ ان سوالات پر ٹھنڈے دل سے غور فرما لیا جائے۔ورنہ ملک میں جاری فکری کشمکش کے ہنگام سیکولر احباب طعنے کے طور پر اقبال ؒ کا وہ شعر بھی کہہ دیں گے جسے کالم کے شروع میں نے دانستہ نظر انداز کر دیا تھا
”قوم کیا چیز ہے ، قوموں کی امامت کیا ہے!
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام“

اب کون محفوظ؟

جتنے بھی اسلام دشمن عناصر ہیں انہوں نے دہشتگردی کے معاملے میں ہمیشہ امت مسلمہ کو مورد الزام ٹھہرایا اور یہ کفار کبھی بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس میں وہ مسلمانوں کو کسی نہ کسی طریقے سے دہشتگردی کے واقعات میں ذمہ دار قرار نہ دیں ۔افغانستان ،کشمیر ،بوسنیا،فلسطین،چیچنیا،عراق سمیت جن بھی ممالک میں حالات خراب ہیں وہ تمام کے تمام مسلمان ہیں ۔امریکہ کی یہ حالت ہے کہ وہ اپنے کئی دہائیوں پر مشتمل جن ممالک سے تعلقات نہیں تھے ان سے بھی ہاتھ ملانے کیلئے جارہا ہے جس کی واضح مثال اوبامہ کا کیوبا کا دورہ ہے ۔مگر جہاں مسلمان ممالک ہیں اور اگر وہاں کسی نہ کسی صورت امن وامان قائم ہونے کی کوئی صورت نکلتی ہے تو امریکہ یا اس کے حواری کوئی نہ کوئی ایسا حربہ استعمال کرتے ہیں جس سے تمام معاملات نیست ونابود ہوکر رہ جاتے ہیں ۔زیادہ دورجانے کی ضرورت نہیں افغانستان کی صورتحال دیکھ لی جائے کہ وہاں پر آج تک کسی بھی فریق کے مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکے ۔عراق میں آج تک امن وامان قائم نہ ہوسکا ،لیبیا کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا گیا ،فلسطین میں آئے دن قتل وغارت گری جاری رہتی ہے جس کے ذمے دار یہودی ہیں اوراب اس وقت امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ یہودیوں کا انتہائی چہیتا ہے اور یہی وہی یہودوہنود ہیں جہاں سب سے زیادہ انبیاءکرام کا نزول ہوا ۔لیکن یہ قوم راندِ درگاہ تھی اورراندِ درگاہ رہے گی پھر پوری دنیا کے مسلمانوں کو سوچ لینا چاہیے کہ اگر ٹرمپ جیت جاتا ہے تو پھر کیا حالات پیدا ہوں گے ۔گذشتہ روز دنیا کا محفوظ ترین شہر جہاں پر نیٹو کاہیڈ کوارٹر بھی موجود ہے ،پھر پہلے سے ہی الرٹ بھی تھا اور یہ الرٹ جنگ عظیم دوئم کے بعد غالباً تیسری مرتبہ جاری کیا گیا ہے اس کو الرٹ فور یا فائیو کہا جاتا ہے مگر وہاں پر جب دہشتگرد کارروائیاں ہوئیں تو بیلجیئم کے دارالخلافے برسلز میں کوئی ان دھماکوں کو روک نہ سکا ۔برسلز کا ائیرپورٹ جہاں سے گذشتہ روز تقریباً دوسے اڑھائی کروڑ مسافروں نے سفر کیا وہاں پر پہلے ایک خود کش حملہ ہوا جس نے تباہی مچائی پھر اور دھماکا ہوا اس کے بعد چونکہ پہلے سے ہی ہائی الرٹ تھا ۔رن وے کو بند کردیا گیا ۔رن وے سے دو بم برآمد کیے گئے ،ابھی یہاں پر ہی امدادی کارروائیاں جاری تھیں کہ سب وے میٹرو سٹیشن پردھماکے ہوگئے ،پولیس اس جانب دوڑی تو برسلز میں قائم صدارتی محل کے قریب دھماکا ہوگیا ،اب ان نیٹو سرکار سے کوئی یہ سوال کرنے والا ہے کہ ان یہودوہنود نے پوری دنیا میں دہشتگردی پھیلا رکھی ہے ،آج ان کے اپنے ملک میں اوپر تلے سات دھماکے ہوئے جس کو وہ لوگ چھپا کر صرف تین دھماکوں کا واویلا کررہے ہیں باقی چار دھماکے اس لیے پوشیدہ رکھے جارہے ہیں کہ بیلجیئم میں بہت زیادہ خوف وہراس پیدا نہ ہو ۔مگر چونکہ اس وقت ایک گلوبل دنیا ہے اور ہر ایک کو ہر خبر کا بروقت علم ہوجاتا ہے ۔صبح 8 بجے پہلا دھماکا ہوا اور پھر فوراً ہی دوسرا دھماکا ہوگیا، دونوں دھماکوں میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔دھماکے کے بعد ائیر پورٹ پر موجود مسافراوردیگرافراد خوف زدہ ہوکر سرپٹ دوڑ پڑے۔دھماکے برسلز ایئرپورٹ ڈیپارچرہال میں امریکن ائیرلائنزڈیسک کے قریب ہوئے۔ دھماکوں سے قبل فائرنگ بھی کی گئی۔ برسلز ایئرپورٹ سے مزید کئی بم اور تین خود کش بیلٹ بھی برآمد ہوئے۔ابھی ایک گھنٹہ بھی نہ گزرا تھا کہ برسلز کا میٹرو اسٹیشن یکے بعد دیگرے 4 دھماکوں سے گونج اٹھا۔ ایئر پورٹ اور میٹر و اسٹیشنز پر 6 دھماکوں کے بعد صدارتی محل کے قریب ایک اور دھماکا ہوا۔ ایئرپورٹ پر بھگڈر مچ گئی ، ایئرپورٹ کو خالی کرا کر پروازیں معطل کردی گئیں۔دھماکوں کے بعد ایئرپورٹ کی عمارت سے دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا۔میٹرو اسٹیشن پر ہونے والے دھماکوں کے مقام کے قریب یورپی یونین کے مختلف اداروں کے دفاتر واقع ہیں۔بیلجئیم کے وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ ملک بھرمیں سیکورٹی الرٹ انتہائی حد تک بڑھادیاگیا ہے مزید حملوں کا بھی خدشہ ہے ۔دھماکوں کا یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب 19 مارچ کو بیلجیئم پولیس نے پیرس حملوں کے ماسٹر مائنڈ اور اہم ترین سہولت کار صالح عبدالسلام سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کیا۔حکومت نے عوام کے لئے ہدایت جاری کی ہیں کہ اگر وہ گھروں پر موجود ہیں تو وہیں رہیں اور اگر دفاتر میں ہیں تو بھگدڑ کے بجائے اپنے دفاتر میں ہی رہیں۔ بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں ہونے والے دھماکوں کے بعد برطانیہ ، جرمنی اور پیرس سمیت دنیا بھر میں سیکورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے ۔ بین الاقوامی ائیر پورٹس سمیت ریلوے اسٹیشنز کی سیکورٹی بڑھا دی گئی۔برسلز میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے بعد امریکہ ،برطانیہ ، جرمنی ، پیرس نیدر لینڈ اور بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔پیرس کے چارلز ڈی گال ائیر پورٹ پر سیکورٹی انتہائی سخت جبکہ بیلجیئم کی سرحدوں پر بھی نگرانی بڑھا دی گئی ہے۔جرمنی کے فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر سیکورٹی سخت اور ریلوے اسٹیشنز پر کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔ لندن کے گیٹ وک ائیرپورٹ پر حفاظتی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں ، عوامی مقامات پر کسی بھی ناگہانی حملے سے بچنے کے لیے سیکورٹی اہلکاروں کی بھاری نفری تعینا ت کر دی گئی ہے۔ ملک میں 3روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔یہ جو تمام تر دہشتگردی کے واقعات رونما ہوئے ہیں اس کو اگر یورپ کی ناکامی نہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔جو دنیا بھر میں دہشتگردی کو ختم کرنے کا بیڑہ اٹھانے کا دعویٰ کررہے ہیں ان کے اپنے ہی ممالک غیر محفوظ ہیں اور پھر نیٹو ہیڈ کوارٹر کے قریب یکے بعد دیگر ے سات دھماکے ہونا اپنے اندر بہت بڑی کہانی رکھتے ہیں ۔اگر بین السطور معاملات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تمام تر خرابی ،امریکہ ،یورپ اور اس کے حواریوں میں ہے ۔اسلام ایک پرامن مذہب ہے اور مسلمان محبت کرنے والی امت ہے ،ان کفار نے بلا وجہ امت مسلمہ کو بدنام کررکھا ہے ۔اپنے گھر کو سنبھالیں بجائے کہ دوسرے کے گھر میں آگ کے حیلے بہانے تراشتے رہتے ہیں ۔

سب دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔۔۔اوروہ گیا!

کسی نے کہا غدار ہے ، کسی نے کہا ڈکٹیٹر ہے ، کسی نے کہا آرٹیکل 6کے زمرے میں آتا ہے ، کسی نے کہا بیرون ملک نہیں جانے دینا ، کسی نے کہا کہ بلا خود ہی پنجر ے میں آگیا ہے اب اس کو فرار نہ ہونے دیا جا ئے ، کسی نے کہا عرصہ دراز کے بعد ایسا موقع آیا ہے کہ اس پر آرٹیکل 6لاگو کر دیا جائے تو کسی کو مارشل لاءلگانے کی ہمت نہیں ہو گی ، کسی نے کہا کہ اگر یہ شخص باہر چلا گیا تو کم از کم میں تو حکومت کا حصہ نہیں رہوں گا ، وزارت سے مستعفی ہو جاﺅں گا اورہمیشہ کیلئے سیاست کو خیر آباد کہہ دوں گا مگر و ہ بھی کمال اوصاف کا آدمی تھا اس کی شخصیت بھی ایسی جب باہر سے آیا تو سیاست پر چھانے کیلئے مقدمہ نے آن گھیرا کبھی عدالتوں میں پیش ہو ا تو کبھی حاضری سے استثنیٰ حاصل کرتے ہوئے مستثنیٰ قرار دیا گیا ،سب تجزیے کرتے رہے سیاست چمکاتے رہے اوپر سے لیکر نیچے تک ہر ایک خواہش تھی اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جائے مگر وہ بھی کمال فن سے سب کو غچہ دے کر نکل گیا اب ہر کوئی بیان داغ رہا ہے گونگلووں سے مٹی چھاڑ رہا ہے خفت مٹا رہا ہے کوئی کہہ رہا ہے ہمیں ظالم قراردیا جاتا اگر اس کو روک لیتے کوئی کہہ رہا ہے کہ وہ وعدہ کر کے گیا ہے کہ وہ علاج کے بعد واپس آجائے گا کوئی کسی کی چھتری تلاش کر رہا ہے کوئی کہہ رہا ہے کہ جو حکم ملا وہ کر دیا ،غرض کہ ہر ایک بھانت بھانت کی بولی بول رہا ہے اصل بات تو یہ ہے کہ بس اس حمام میں سب ہی ننگے ہیں ،جو مرضی کوئی کچھ کہے جو ہونا تھا وہ ہو چکا سانپ کے گزرنے کے بعد لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ اب بڑا پن یہ ہے کہ بس یاتو خاموشی اختیار کر لی جائے یا پھر تسلیم کر لیا جائے کہ بابا معاملات ہمارے کنٹرول سے باہر تھے ،وہ شخص یہاں رہا بھی تو انتہائی حفاظتی حصار میں جب گیا تو بھی حفاظتی حصار میں کوئی اس کا بال بیکا نہ کر سکا اب مشترکہ اجلاس آرہا ہے پی آئی اے کو پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی قرار دینے کیلئے بہتر ہے کہ اس اجلاس میں آرٹیکل 6کو بھی آئین سے متفقہ طور پر باہر کر دیا جائے تاکہ چلیں کوئی تو خفت مٹانے کا بہانا ملے جی ہاں یہ شخص سابق صدر پرویز مشرف ہی ہے جو ناکہ کبھی پریشر میں آیا اور نہ ہی کوئی اسے پریشر دے سکا بہر حال کہا جا رہا ہے کہ مشرف علاج کرانے کیلئے باہر گئے ہیں اور پھر وہ واپس آجائیں گے ، بہتر تو رائے یہی ہے کہ فی الحال باہر بیٹھ کر ہی حالات کا جائزہ لیں وقت کا انتظار کریں پھر اس کے بعد کوئی فیصلہ کریں ابھی تو حکمرانوں کو عوام کے سامنے جواب دینا ہے یہ زرا کرکٹ کا بخار ختم ہو جائے پھر دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے

بحرانی کیفیت کب تک؟

ملک بھر میں افرا تفری اور انارکی کا عالم ہے ۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا کوئی شیڈول کوئی ٹائم نہیں، بجلی کب آتی ہے اور کب جاتی ہے کوئی ٹائم ٹیبل نہیں، البتہ جب بجلی جاتی ہے تو لوگ برابھلا ضرور دیتے ہیں جس کے باعث لوگوں کے اخلاق پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے باعث ہماری صنعت اور معیشت پر ناقابل تلافی مضر اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ فیکٹریاں، ملیں اور کارخانے بند ہوتے جا رہے ہیں جس کا نتیجہ بیروزگاری کی صورت میں ظاہر ہو رہا ہے۔ بیروزگاری سے غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور غریب کے خودکشیوں اور بچوں کو موت کے حوالے کرنے کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دیکھا جائے تو اس وقت ملک و قوم کو دو شدید اور گھمبیر مسائل کا سامنا ہے، ان میں سرفہرست دہشتگردی ہے، جس پر قابو پانے کیلئے فوجی اور سیاسی قیادت ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو چکی ہے اور قوم کی دعائیں شامل حال ہیں انشاءاللہ اس کے اچھے نتائج بر آمد ہوںگے۔ دوسرا اہم ترین مسئلہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا ہے جس نے ملک کی معیشت کو ٹھپ کر دیا ہے۔ مسلم لیگ کی موجودہ حکومت نے انتخابات میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمے کے وعید اور بلندو بانگ دعوے بھی کئے گئے لیکن مقام افسوس ہے کہ حکومت نے اس بحران کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی تین سال حکومت کرنے کے بعد حکومت بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنا تو دور کی بات ہے اس بحران میں اضافہ ہی ہوا ہے ۔ ورنہ یہ کوئی ایسا بحران نہیں جس پر قابو نہ پایا جاسکے۔
اس کے علاو ہ پاکستان میں خالص مصنوعات کا تصور اب ایک خواب بنتا جا رہا ہے، دودھ ، مشروبات، تیل، گھی، مصالہ جات، آٹے سمیت دیگر کھانے پینے کی اشیاءمیں ملاوٹ کل وقتی کاروبار بن چکا ہے اوراس کاروبار سے وابستہ افراد ناقص اشیاءکے استعمال کے نتیجے میں صارفین کی صحت کو لاحق شدید خطرات کی قطعاًپرواہ نہیںکرتے ملک بھر بالخصوص بڑے شہروں میں کھلے عام فروخت کی جارہی ہیں اور شہریوں کی بڑی تعداد لاعلمی میں اپنے لیے بیماریاں خرید رہی ہیں ۔ کھانے کی اشیاءمیں ملاوٹ کے علاوہ دیگر غیر معیاری مصنوعات بھی مارکیٹ میں فروخت کی جارہی ہیں محکمہ خوراک کے مطابق ملاوٹ شدہ مصالہ جات، مٹھائیاں، شہد اور بیکری کی مصنوعات کی تیاری اور فروخت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہیں۔پاکستان اسٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول کے ادارے میں کرپشن کی وجہ سے موجود قوانین پر عمل نہیں کیا جارہا ہے اور سب سے بڑی بات یہ کہ متعلقہ حکام کی اس خطرے سے نمٹنے میں نہایت کم دلچسپی ہے۔
ہمیں اپنے کردار پر نظر ثانی کرنا پڑے گی۔ ہم عملی طور پر اور اخلاقی طور پر بہت گرے ہوئے لوگ ہیں۔ صرف اپنے آپ کو مسلمان کہنے سے کچھ نہیں ہوگا، مسلمان بن کر دکھانا ہوگا۔ اور اس کا تعلق عمل سے ہے، قول سے نہیں، رسول ﷺنے بڑے واضح الفاظ میں فرما دیا ہے کہ ”رشوت لینے والا اور رشوت دینے والا دونوں جہنمی ہیں۔ دوسری جگہ آپﷺ نے فرمایا: ملاوٹ کرنیوالا ہم میں سے نہیں“۔ گویا ان دو باتوں کا تو فیصلہ ہو گیا کہ رشوت لینے والا، رشوت دینے والا اور ملاوٹ کرنیوالا، یہ تینوں مسلمان ہی نہیں، لہٰذا یہ لاکھ کلمہ پڑھتے رہیں۔ نمازیں پڑھتے رہیں، روزے رکھتے رہیں یا حج کرتے رہیں، یہ لوگ رسول پاکﷺ کی امت میں شامل ہی نہیں۔ ان کا ٹھکانہ صرف اور صرف جہنم ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ادارے اپنے فرائض پورا کریں اورملاوٹ کرنے والے دھشت گردوں کے خلاف بھی مﺅثر اپریشن شروع کریں تا کہ ان جرائم کا قلع قمع ہو سکے اور اور عوام کو ان کے حقوق مل سکیں!۔

اس جنون کا کیا حل ہے

اربوں ڈالر اسلحہ کی خریداری کرنے والے بھارت نے اگلے روزاگنی ون میزائل کا تجربہ کیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق ایٹمی صلاحیت کے حامل درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اگنی ون کا تجربہ کامیاب رہا ہے، یہ تجربہ اڑیسہ کے مقام پر کیا گیا ہے۔اگنی ون میزائل نو منٹ چھتیس سیکنڈ میں 700 کلو میٹر فاصلے تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس سے پہلے بھارت نے ستائیس نومبر دو ہزار پندرہ کو اسی اگنی ون میزائل کا تجربہ کیا تھا۔بھارتی جنون سے جنوبی ایشیا کے تمام میں بے چینی پائی جاتی ہے۔بھارتی اسلحہ کے بارے میں حال ہی میں سٹاک ہوم انٹر نیشنل پیس ریسرچ کی رپورٹ نے اس جنون کو بے نقاب کیا ہے۔بھارت اسلحے یہ انبار ایک ایسے وقت میں کر رہا ہے جب دنیا بھر کے مختلف ممالک مہلک اور روایتی ہتھیاروں میں کمی پر زور دے رہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے جب پاکستان کو ایف 16 طیاروں کی فروخت کی منظوری ہوئی تو بھارت چیخ اٹھا اورامریکی سفیرکوبلاکرباقاعدہ احتجاج بھی کیا تھا۔ ادھر بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں مزید 4.8 فیصد اضافہ کرکے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ گزشتہ سال دفاعی بجٹ 24 کھرب 60 ارب تھا رواں مالی سال 30ارب روپے اضافے کے ساتھ 24 کھرب 90 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔اتنے دفاعی اخرجات کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ،ماہرین کے نزدیک پاکستان کے سوا اسکی کسی اورملک سے ایسی دشمنی نہیں ہے کہ وہ اسکے وجود کا دشمن ہو،لہذااسلحہ کے ذخائر بڑھانے کا خبط صرف اور پاکستان کے خلاف ہے۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 08-2004ءکے درمیان بھارت دوسرے نمبر پر تھا جبکہ پہلے نمبر پر چین تھا۔تاہم 13-2009ءکے درمیان بھارت ہتھیاروں کی درآمد میں پہلے نمبر پر چلا گیا ۔ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق 13-2009ءکے دوران بھارت نے 75 فیصد ہتھیار روس، سات فیصد امریکہ اور چھ فیصد ہتھیار اسرائیل سے خریدے۔ہتھیاروں کی خرید میں 08-2004 ءمیں پاکستان کا حصہ محض دو فیصد تھا، 13-2009 ءمیں پانچ فیصد تھا ۔سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے مطابق 08-2004 ءاور 13-2009ءکے درمیان بھارت کی جانب سے ہتھیاروں کی درآمد میں 111 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بھارت نے روس سے 222 میں سے 90 Su30MKI لڑاکا طیارے حاصل کیے۔ بھارت نے 45 میں سے 27 MiG29K لڑاکا طیارے بھی حاصل کیے جو کہ اس نے ائیر کرافٹ کیریئر کے لیے خریدے ہیں۔بھارت نے اس دوران 144 روسی T50 اور 126 فرانسیسی رافیل جنگی طیارے بھی منتخب کیے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بھارت نے 2015 میں 3 ہزار 78 ملین ڈالر کا اسلحہ درآمد کیا ۔ ہندوستان کو سب سے زیادہ روس نے ایک ہزار 964 ملین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا جس کے بعد اسرائیل اور امریکا نے بالترتیب 316 اور 302 ملین ڈالر کا اسلحہ برآمد کیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اگر ایک طرف اسلحے کی دوڑ مزید بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب عالمی امن بھی خطرات سے دوچار ہے۔ ایک اوررپورٹ کے مطابق گزشتہ عشرے کے دوران اسلحے سازی کی 100 بڑی عالمی کمپنیوں کی پیداوار میں 1215فیصد اضافہ ہوا ہے،اسلحہ کی فروخت میں مغربی اور خریداری میں ایشیائی ممالک پیش پیش ہیں،روس اور اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار بھارت ہے۔ اسلحے کی بھرمار سے ناصرف دنیا کے بیشتر خطوں کی سلامتی خطرے میں پڑ چکی ہے بلکہ بڑی طاقتوں نے دنیا میں اپنی مکمل اجارہ داری قائم رکھنے کیلئے اسلحہ کا سہارا لے رکھا ہے۔ بھارت جو اسلحہ کی خریداری کے حوالے سے بدستور پہلے نمبر پر ہے نے جنوبی ایشیائی خطے میں ناصرف امن کی دھجیاں اڑا دیں بلکہ اپنے انتہا پسند رویے سے خطے کی سلامتی کو بھی شدید متاثر کر رہا ہے۔ ہندوستان نے اندرا گاندھی کے دور میں ایٹمی دھماکا کرخطے میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کو للکارا جس کے جواب میں پاکستان کو فوراً ایٹمی دھماکے کرنا پڑے۔جنوبی ایشیا میں بھارتی چودھراہٹ کا مقابلہ کرنے،اپنی سرحدوں اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستان نے اسلحہ خریدنا پڑتا ہے ۔ اگر بھارت اپنا جنگی جنون ختم کرکے اسلحہ درآمد کرنا بند کر دے تو پاکستان اسلحہ کی خریداری میں مزید تخفیف کر سکتا جو نہ صرف خطے میں قیام امن کے لیے سود مند ثابت ہو گا۔

بنگلہ دیش میں پاکستان دشمنی عروج پر

بنگلہ دیش میں 2010ءسے دو مختلف ٹریبونل جنگی جرائم کے مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ان عدالتوں کی تشکیل وزیرِ اعظم شیخ حسینہ واجد کے احکامات پر کی گئی تھی اور ان کا کام جنگِ آزادی کے دوران کیے جانے والے جرائم کا جائزہ لینا ہے۔2010ءسے اب تک ان عدالتوں نے 13 افراد کو مجرم ٹھہرایا ہے جن میں سے زیادہ تر کا تعلق حزبِ اختلاف کی پارٹی جماعتِ اسلامی ہے۔بنگلہ دیش میں عوامی سطح پر جنگی جرائم میں ملوث افراد کو سزائیں دینے کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں،جبکہ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ یہ تمام مقدمات سیاسی بنیادوں پر قائم کیے گئے ہیں۔ حکومت جنگی جرائم کے ٹریبونل کو اپنے سیاسی مخالفین کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔اس کے علاوہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ہیومن رائٹس واچ‘ بھی کہہ چکی ہے کہ اس عدالت کا طریق کار بین الاقوامی معیار کے مطابق نہیں ہے۔اقوامِ متحدہ اس ٹربیونل کو تسلیم نہیں کرتی ہے۔بھارت اور اس کے زیرسایہ عوامی لیگ کی حکومت، بنگلہ دیش کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ وزیراعظم حسینہ واجد کا12 دسمبر کو دیا جانے والا یہ بیان بڑی اہمیت کا حامل ہے : ”فوج، انتظامیہ اور عوام سے مَیں یہ کہتی ہوں کہ جو لوگ ’جنگی جرائم‘ کے ٹربیونل کو ناکام بنانا چاہتے ہیں، آپ آگے بڑھ کر انھیں عبرت کی مثال بنا دیں“۔ کیا کوئی جمہوری حکومت فوج , انتظامیہ اور عوام کو اس اشتعال انگیز انداز سے ابھارکر، اپنے ہی شہریوں پر حملہ آور ہونے کی دعوت دے سکتی ہے؟ لیکن سیکولر، جمہوری، ترقی پسند اور بھارت کے زیرسایہ قوت حاصل کرنے کی خواہش مند عوامی لیگ کی حکومت اسی راستے پر چل رہی ہے۔ انتقام کی آگ میں وہ اس سے بھی عبرت حاصل نہیں کر رہی کہ ایسی ہی غیرجمہوری، آمرانہ اور بھارت کی تابع مہمل ریاست بنانے کی خواہش میں ان کے والد شیخ مجیب الرحمن، ہم وطنوں کے ہاتھوں عبرت کا نشان بنے تھے۔بنگلہ دیش کی پاکستان سے علیحدگی کے وقت لاکھوں انسانی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔ بنگلہ دیش میں اس وقت شیخ حسینہ کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم حسینہ کا کہنا ہے، ” جنگ میں تین ملین کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بہت سے قتل قابض پاکستانی افواج کے بنگلہ دیشی اتحادیوں نے کیے تھے۔“حسینہ واجد کو یہ نہیں یاد کہ ان کے والد نے بھارت سے مکتی باہنی سے الحاق کر لیا تھا اور بھارتی دہشت گردوں نے نہتے اور غریب بنگالیوں کو چن چن کر مارا اور الزام پاک فوج پر لگا دیا۔ پہلے شیخ مجیب الرحمن بھارت کے ہاتھوں میں کھیلتے تھے اب حسینہ واجد بھارتی گود میں بیٹھ کر محب وطن اور خصوصاً اپوزیشن جماعت اسلامی کے بزرگ رہنماو¿ں کو خود ساختہ جنگی ٹربیونل کے ذریعے ختم کر رہی ہیں۔ کیا وہ سمجھتی ہیں کہ ایسا کرنے سے بھارت خوش ہو کر انہیں مزید اقتدار دلوادے گا۔؟ میر جعفر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے غدار مجیب الرحمان کی بیٹی حسینہ واجد اپنے باپ سے زیادہ بھارت کی وفادار ہے اور پاکستان سے اپنی نفرت کو کھلے عام ظاہر کرتی ہے۔ حسینہ واجد جو بھارت کی وفاداری میں میرجعفر کا روپ دھار کراپنے ہی لوگوں کو پھانسی چڑھارہی ہے اور پاکستان سے اپنی نفرت کا اظہار کرنے کا کوئی موقعہ نہیں چھوڑتی چاہے وہ کرکٹ کا میچ ہی کیوں نہ ہو، اقتدارمیں آنے کے بعد سے حسینہ واجد پاکستان دشمنی میں پیش پیش ہے۔پاکستان کی وزارت اطلاعات نے 1971ء میں ایک کتاب “ٹیررز ان ایسٹ پاکستان” چھاپی۔ اس کتاب میں وہ تصاویر موجودتھیں جو انسانیت کو شرمارہی تھیں۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کیے جارہے تھے، بچوں کے پیٹوں میں بندوقوں کی سنگین ڈال کر ا±نکو مردہ حالت میں اٹھاکر ناچا جارہا تھا۔اور یہ سب کچھ وہی مکتی باہنی کررہی تھی جسکا ذکر بنگلہ دیش کے حالیہ دورے کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے کیا اور اپنی دہشتگردی کا برملااظہار کرتے ہوئے کہا کہ “بنگلہ دیش کا قیام ہر بھارتی کی خواہش تھی اوربھارتی فوج مکتی باہنی کے ساتھ ملکرلڑی تب ہی بنگلہ دیش کو آزادی نصیب ہوئی”۔ بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے برملا اور سینہ ٹھونک کر اِس کا بھی اعتراف کیا کہ وہ 1971ءمیں مکتی باہنی کی حمایت میں ستیہ گرہ تحریک میں بطور نوجوان رضاکارشرکت کے لئے دہلی آئے تھے۔ نریندر مودی کی طرف سے 1971ءکے سقوط ڈھاکہ میں بھارت کے ملوث ہونے کے اعتراف نے ا±سکی پاکستان دشمنی کو پورئے طریقے سے ننگا کردیا ہے۔ دہشتگرد نریندر مودی نے ڈھاکہ یونیورسٹی میں اپنے خطاب کے دوران چار مرتبہ پاکستان کا نام لیا اور دہشتگردی کے حوالہ سے بے بنیاد الزام تراشیاں کیں۔ بھارتی وزیر اعظم نریندرمودی جب بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ میں اپنی بہن بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد سے سے ملنے پہنچا تو وہ بہت جذباتی تھا، دونوں بہن بھائی میں ایک قدر جو مشترک ہے وہ ہے پاکستانی دشمنی۔اس مشترکہ دشمنی کا اظہار کرنے کےلیے حسینہ واجد نے نریندر مودی کے دورہ بنگلہ دیش کے دوران ایک تقریب میں سابق بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو انتہائی قابل احترام سیاستدان قرار دیا اور نہ صرف بنگلہ دیش کی جنگ میں ا±نکے “فعال کردار” کا ذکر کیابلکہ پاکستان توڑنے اور غیرمستحکم کرنے کے اعتراف میں واجپائی کو “فرینڈز آف بنگلہ دیش لبریشن وار ایوارڈ” دیا گیا جو نریندر مودی نے وصول کیا۔ اس سے قبل حسینہ واجد 2012ء میں اندرا گاندھی کو بھی اسی ایوارڈ سے نواز چکی ہے جسے کانگریس پارٹی کی سربراہ سونیا گاندھی نے وصول کیا تھا۔ اب حسینہ واجد 26 مارچ کو ایک اور تقریب سجانے جا رہی ہیں جس میں ان پاکستانی فوجیوں پر جھوٹے مقدمات چلائے جائیں گے اور ان کو سزائیں دی جائیں گی جنہوں نے ان کے خیال میں بنگلہ دیش کی آزادی کی جنگ میں پاکستان کا ساتھ دیا یا بنگالی عوام کی قتل و غارت میں حصہ لیا۔ حالانکہ یہ سب کچھ بھارتی فوج نے کیا تھا۔ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد کے دلوں میں موجود پاکستان مخالفت کی نفرتوں کو دوبارہ عروج پہ پہنچانے میں کسی اور نہیں بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ نے یقینا اپنی مذموم مہم جوئی کی جس کا نتیجہ ہم گزشتہ ایک دو برسوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جب سے حسینہ واجد نے بھارت نوازی کا ’چولا ‘ پہنا اور عوامی لیگ کی سینٹرل سطح کے فیصلے کرنے والی کرسیوں پر’را‘ کے ایجنٹوں کو بیٹھایا وہ دن ہے اور آج کے یہ افسوس ناک اور شرم ناک لمحات ‘ بنگلہ دیش اور پاکستانی قوم کے درمیان فاصلے اور دوریاں بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ بدقسمتی سے نواز شریف کے سامنے ا±ن کی اپنی پارٹی یا ملک میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ہے جسکو وزیر خارجہ بنایا جاسکے۔ وزارت خارجہ کا جو حال نواز شریف حکومت میں ہوا ہے اتنا برا حال کبھی بھی نہیں ہوا۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری وزارت خارجہ پاکستان کے مشترکہ دشمنوں بنگلہ دیش اور بھارت کا اصل چہرہ دکھانے سے سے قاصر رہی ۔جسطرح کا جواب بنگلہ دیش اور بھارت کو جانا چاہیے تھا اسطرح کا جواب نہیں گیا۔ پاکستان کو چاہیے کہ بنگلہ دیش کے بارئے میں اپنی خارجہ پالیسی کو بدلے۔ کیا وزارت خارجہ بنگلہ دیش کی حکومت اور خاصکر حسینہ واجد کی پاکستان دشمنی سے ناواقف ہے۔ حسینہ واجدکہتی ہیں کہ مودی صاحب بنگلہ دیش کو اپنا دوسرا گھر سمجھیں۔پاکستا ن کے کچھ لوگوںنے حسینہ واجد سے تمغے لئے ہیں ، وہ بیگم صاحبہ کا یہ اعتراف پڑھیں کہ بھارت نے اکہتر کی تحریک آزادی میں بنگلہ دیش کی تاریخی مدد کی تھی گویا پاکستان کے تمغے لینے والے بھارت کی صف میں کھڑے کر دیئے گئے۔یہاں ہم اپنے سیاسی حکمرانوں کو بھی یہ بتا نا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کی موجودہ حکومت کی پاکستان دشمن پالیسیوں پر گہری اور عمیق نظریں رکھے۔ گزشتہ دنوں بنگلہ دیش میں ہونے والی ’سیاسی پھانسیوں ‘ پر پاکستانی وزارت ِ خارجہ نے کسی رد ِ عمل کا اظہار کیوں نہیں کیا ۔ پاکستان دشمنی اور پاکستان کے خلاف بنگلہ دیشی عوامی حلقوں میں ریاستی پیمانے پر فضا ہموار کی جارہی ہے اور یہاں ’مسلم بنگلہ دیش ‘ اور بنگلہ دیشی برادری ‘ کے پ±رفریب نعرے لگائے جارہے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے تو یقینا بے نہ ہوگا کہ بنگلہ دیش پاکستان دشمنی میں بھارت سے بھی آج ایک قدم آگے نکل آیا ہے۔ پاکستانی قوم بنگلہ دیش کی موجودہ سیاسی جماعت کے اِس بہیمانہ طرز ِ یکطرفہ طرز ِ عمل پر شدید اور سراپا احتجاج کرتی ہے یعنی اب ہم بنگلہ دیش کو بھی ’بھارتی صوبہ ‘ یا بھارتی ریاست تصور کریں چونکہ بنگلہ دیشی وزیر اعظم حسینہ واجد ’را‘ کے بتائے ہوئے نقش ِ قدم پر چلنے سے باز آتی دکھائی نہیں دیتیں ہماری حکومت کے لئے یہ لمحات ’لمحہ ِ فکریہ ‘ ہیں۔

خواتین کے حقوق کے جعلی علمبردار

قائداعظم ؒ نے فرمایا کوئی بھی قوم اُس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک عورت مرد کے شانہ بشانہ کھڑی نہ ہو۔ عورت کو یورپ والے نہیں شریعت کے مطابق حقوق دلوائیں گے ۔ کے پی کے میں سو نئے قائم ہونے والے سکولوں میں 70سکول طالبات کے ہونگے ۔ یہ تھے الفاظ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے ۔ عورت کے حقوق کے لئے بنائے گئے حکومت پنجاب کے بل نے مذہبی حلقوں میں بڑا اشتعال اور بد اعتمادی کی فضا پیدا کی ۔ جس کی وجہ حکومت کے پرانے اتحادی مولانا فضل الرحمن نے حکومت وقت سے علیحدگی کی بھی ڈھکی چھپی دھمکی دے ڈالی ۔ اسی طرح معاشرے کے کئی دوسرے افراد نے بھی موجودہ خواتین تحفظ بل کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بل کے پاس ہونے اورلاگو ہونے سے خاندانوں میں انتشار پھیلے گا۔ خاندانی اور اسلامی کلچر پر زد پڑے گی ۔ کچھ لوگوں نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ یہ قانون موجودہ حکومت کی ڈرامہ پالیسی کا حصہ ہے ۔ اگر موجودہ حکومت خواتین کے لئے کام کرنا چاہتی ہے ۔! خواتین کی بہتری کیلئے اقدامات اٹھانا چاہتی ہے ۔! خواتین کی ترقی کی راہ ہموا ر کرنا چاہتی ہے۔! خواتین کو معاشرے کی معتبر شہری بنانا چاہتی ہے ۔! خواتین کومضبوط اور محفوظ بنانا چاہتی ہے تو خواتین کے لئے تعلیمی ماحول ، مدارس ، یونیورسٹیاں بنائے ۔ تاکہ خواتین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہو کر معاشرے میں باوقار طریقے سے زندگی بسر کرسکیں ۔ یہ سچ ہے اعلیٰ تعلیم یافتہ مائیں بڑی معیاری اور اعلیٰ نسل تیار کرتی ہیں ۔ہمارے ہاں سستی شہرت حاصل رکنے کے لئے اسمبلیاں اور افراد قانون تو بنادیتی ہیں ۔ مگر عملی میدان میں نہ ممبران اسمبلی کردار ادا کرتے ہیں اور نہ بڑے بڑے عہدوں پر براجمان لوگ۔ جس شہر ، جس ضلع ، جس ڈویژن یا جس بھی صوبے مین دیکھا جائے حکومتوں کا پراپیگنڈہ زورو شور سے جاری ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے ۔ پرائمری سکولوں کے اساتذہ کا انتظامیہ نے جیناحرام کررکھا ہے ۔ درجن بھر ٹیمیں سکولوں کے دوروں پر رہتی ہیں ۔ خواتین کو مرد حضرات روزانہ چیک کرنے آئے ہوئے ہوتے ہیں ۔ روزانہ کی چیک پڑتال سے اساتذہ اندر سے ٹوٹ چکے ہیں ۔ افسران کی پیشیاں بھگت بھگت کر استاد بھی اب مجرم کی طرح بے حیا بنایا جارہا ہے ۔ یقینا صفائی ، حاضری ، اور سکول کی معلومات تک کے معاملات بہتر ہوگئے ہیں ۔ مگر معیار تعلیم پہلے سے گر گیا ہے ۔بلکہ سرکاری اداروں میں تعلیمی نظام آخری ہچکیاں لے رہا ہے ۔ پرائمری سکولوں میں جہاں بچوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے ۔ وہاں ہر وقت کئی چیکروں کے سامنے سولی چڑھتا رہتا ہے ۔ دوسری طرف ہائی سکول ، کالجز ، یونیورسٹیاں میں اساتذہ کو پوچھنا والا کوئی نہیں ۔ پرائمری سکول ٹیچر چھٹی نہیں لے سکتا ۔ آدھی چھٹی کیلئے بھی پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں ۔ جب کہ ہائی سکولوں ، کالجز اور یونیورسٹیز کے اساتذہ مرضی سے کلاسز لیتے ہیں مرضی سے اداروں میں آتے ہیں۔ حکومت پنجاب نے تعلیمی میدان میں بہتری لانی ہے تو ہائی سکولز ، کالجزاور یونیورسٹیز سطح پر بہتری کی منصوبہ بندی کرکے عملہ اقدامات کرے ۔ پرائمری سکول ٹیچر دن مین پانچ گھنٹے پڑھاتے اور کالج کا ٹیچر دن میں ایک دو کلاسز لے کر چھٹی کرے تو اسے کیا نام دینگے ۔ بات خواتین کی بہتری کیلئے قانون سازی کی ہورہی تھی۔ عمران خان نے نئے گورنر کے پی کے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کو اسلامی قانون کے مطابق حقوق و احترام دلائیں گے ۔ مخولی حقوق اور احترام عورت کو ذلیل و خوار کرتے ہیں ۔ مغرب میں عورت کو بے حیائی کا مرکز بنادیا ہے عورت کو جو احترام اسلام نے دیا ہے عورت کو وہ اسلامی حقوق مل جائیں تو عورت کا رتبہ کہیں بلند ہوجائے گا۔ اسلام میں عورت ماں کی خدمت کرنے والے کو جنت کا حقدارقرار دیا گیا ہے ۔ ہر مرد عورت کا بیٹا ہے ۔ عمران خان کے بقول عورت کو اسلام نے جو حقوق دیئے ہیں وہ کوئی دوسر ا معاشرہ مذہب دے ہی نہیں سکتا ۔ عورتوں کے حقوق کے علمبردار وں کو چاہئے کہ ہر ضلع میں ایک خواتین یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرکے ہر خاتوں کیلئے یونیورسٹی میں داخلے کیلئے سہولت باہم پہنچائی جائے ورنہ عورت کے حقوق کے بل پاس کرنے والے پہنچان لئے جائینگے ۔ لڑکیاں اعلیٰ تعلیم کیلئے دھکے کھا رہی ہیں اور یونیورسٹیوں میں خواتین طالبات کو داخلے نہیں ملتے ۔ اور خواتین کے حقوق کے جعلی علمبردار میاں کے بیوی کو جھڑکنے پر خاوندوں کیلئے سزائیں اور جرمانے تجویز کررہے ہیں ۔ خواتین کے حقوق کے علمبردار ہر ضلع میں خواتین کیلئے یونیورسٹی کیمپس کا بندوبست کریں ورنہ چپ رہ کر بلیک میل کرنا چھوڑ دیں ۔

Google Analytics Alternative