کالم

نجی سود کے خلاف کے پی کے اسمبلی کا انتہائی اچھا اقدام

خیبر پختو10سال قید کی سزا اور دس لاکھ روپے تک جُرمانے کی سزا مقرر کر دی گئی ہے۔سودی لین دین میں معاونت کرنے والے بھی سزا کے حق دار ہونگے ۔ ماضی قریب میں سراج الحق صاحب جب صوبائی اسمبلی کے ممبر تھے تو اُنہوں نے اُس وقت پہلی بار یہ بل پیش کیا تھا مگر اس بل میں کچھ کمی اور بیشی کی وجہ سے اس کو واپس لیا گیا۔علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے کچھ اور قائدین جس میں پروفیسر ابراہیم خان، فرید احمدپراچہ اور ڈاکٹر عطا ءالرحمان شامل تھے اُنہوں نے بھی سپریم کو رٹ میں سودی نظام کو چیلنج کیا تھا ۔ جماعت اسلامی صوبہ سرحد کے سابق امیر مولانا گوہر الرحمان مرحوم نے وفاقی شرعی عدالت میں اسکو چیلنج کیا تھا اور وفاقی شرعی عدالت میں جو دلائل پیش کئے وہ ایک کتابی شکل میں چھپ گئے ہیں۔اگر ہم اسی نجی بل پر نظر ڈالیں تو اس بل میں جماعت اسلامی کے علاوہ خیبر پختون خوااسمبلی میں موجود تمام پا رٹیوں کا Contributionہے ۔ آج کل ہم دیکھتے ہیں کہ پو رے ملک اور باالخصوص خیبر پختون خوا میں حکومتی سطح کے علاوہ نجی سطح پر سود کا کاروبار انتہائی عروج پر ہے۔ لوگ گا ڑیاں، مو ٹر سائیکل ، دوسرے املاک تین یا چار چند سود پر دیتے ہیں اور اس سودی کاروبار سے غریبوں اور لاچاروں پر ظلم کرتے ہیں۔بد قسمتی سے خیبر پختون خوا میں قانون نہ ہونے کی وجہ سے سودیے غریب لوگوں انتہائی ظلم ڈھاتے تھے۔ سود ی کاروبار میں ملوث لوگ اتنے طاقت ور ہوتے ہیں کہ کوئی سائل اُسکے خلاف بات کرنے کی جرات نہیں کر سکتا اور یہ سودخورغریب مقروض لوگوں سے تھوڑے سے عرصے کےلئے دئے گئے پیسوں پر 4 یا 5 چندسود لیتے تھے۔ اللہ نے بیو پار کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔قُر آن مجید کی4 آیاتوں اور40 احادیث میں سود کی حُرمت کا ذکر ہے۔سورة آل عمران میں ارشاد ہے اے ایمان والو دگنا چوگنا سود نہ کھاﺅ اور دوزخ کی آگ سے بچو۔ اللہ نے بیو پار کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔ سورةلبقرة میں ارشاد ہے اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایا ہے اسکو چھوڑ و اگر تم ایمان والے ہو۔پھر اگر تم عمل نہ کرو تو اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے اعلان جنگ سُن لو۔ حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے سود کھانے والے، سود لینے والے اور سودی تحریر فرمانے یا حساب لکھنے والے اور سودی شہادت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا سود کے ستر گناہ ہیں ان میں ادنیٰ ایساہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں سے زنا کرے۔ فاروق اعظمؓ کا ارشاد ہے کہ سود کو بھی چھوڑو اور جس میں سود کا شُبہ ہے انکو بھی چھوڑو۔حضرت علی ؓ کا ارشاد ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جو قرض کوئی منافع پیدا کرے وہ ربا یعنی سود ہے۔ اسلام کا کوئی عمل ایسا نہیں جو انسانوںکے فلاح کےلئے نہ ہو۔ اور دوسرے مذاہب کی طر ح دین اسلام میں سودکو حرام قرار دیا گیا ہے۔ سود سے غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتے جاتے ہیں۔غُربت جوکہ سماجی بیماری ہے اس سے معاشرے کا ایک عزت دار انسان ذلالت کا شکار ہوجاتا ہے اور اُس کی اخلاقی قدریں تباہ وبر باد ہوجاتی ہیں۔ جہاں دولت چند ہاتھوں میں ہوگا تو اس سے معاشرے میں لالچ ،کرپشن، چو ری ، اقدام قتل اور قتل جیسے واقعات میں اضا فہ ہوجاتا ہے نتیجتاً معاشرے کا توازن بگڑ جاتا ہے ، ملک افراتفری اور سول وار کا شکار ہوجاتا ہے ۔تجارت میں برابری اور توازن ہے جبکہ اسکے بر عکس سود میں برابری اور توازن نہیں۔ کسی کی جائز ضرورت اور تکلیف سے فائدہ اُٹھا کر ناجائز پیسے کمائے جاتے ہیں۔ سود سے مختلف اشیاءکی قیمتوں اور مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ دولت کے چند ہاتھوں میں ارتکاز کی وجہ سے بے روز گاری میں اضافہ ہوتا ہے۔پیسہ جب گر دش میں ہوتا ہے تو اس سے زیادہ فائدہ اُٹھایا جا سکتا ہے۔ سود سے دولت کی گر دش رُک جاتی ہے اور معاشرے کے زیادہ لوگوں کے بجائے چندلوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں۔سودی نظام میں سودخوردوسروں کی تکالیف سے فائدہ اُٹھا کر دولت کو اکٹھا کرکے اسکو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔ سو دی نظام سے خود عرضی لالچ، نفاق ، نفرت اور اللہ پر توکل اور اچھائی کا جذبہ ختم ہوتا جاتا ہے۔ اورا نسان پیسوں کے اکٹھا کرنے اور اسکو نتھ نئے طریقوں سے حا صل کرنے کے لئے کوشاں ہوتا ہے۔سود خور کے آگے رشتے اور تعلق کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ اُسکا محور پیسہ اور بس پیسہ ہوتا ہے۔ سود جوکہ ظالمانہاور دولت کا غیر مساویانہ نظام ہے اس کا اصل مقصد دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ہوتا ہے جس سے معاشرے میںغریبوں کوامیروں سے نفرت ہوجاتی ہے اور معاشرہ افرا تفری کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسلام میں سود کے خلاف جو نظام تشکیل دیا ہے وہ دولت کا مساویانہ طور پر خرچنا، زکواة کی ادائیگی، صدقات ، وراثت اور اللہ کے راہ میں خرچنا شامل ہے، جس سے معاشرے میں محبت اور اخوت میں اضافہ ہوتا ہے۔۔فرماتے ہیں جتنا لیاجائے اتنا دیا جائے اگر زیادہ کا مطالبہ کیا جائے تو یہ سود ہے۔ کسی کو اجارے ٹیکے پر زمیں دینا سود نہیں مگر Mortgage کرنا سود ہے۔ پاکستان اپنی قومی آمدنی کا 65فی صد سود کی ادائیگی پر دے رہے ہیں۔اتنی بھاری رقم عالمی سود خوروں کو دینے کے بعد غریبوں کے لئے کیا بچا ۔ امریکہ کے جان برگر جنہوں نے اپنی پو ری عمر آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور ڈبلیو ٹی او ،امریکہ بر طانیہ کے صدور اور وزرائے اعظم کے ساتھ گزاری۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے نمائندہ بھی رہے، انہوں نے اپنی کتاب Confession of economic hit man میں وہ سب کچھ بتا دیا جو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف غریب ممالک کے ساتھ کرتے ہیں۔اُنہوں نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ان دو اداروں کے ممبر ممالک ہو تے ہیں جو ان اداروں کو فنڈنگ کرتے ہیں۔ امریکہ، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا سب سے بڑاعطیہ دینے والا ملک ہے ۔ عطیہ دینے کیوجہ سے امریکہ کا سب سے زیادہ اثر رسوخ ہے اور امریکہ دنیا میں اپنی مرضی کی خا رجہ پالیسی عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے ذریعے تسلط کرتی ہے۔جان بر گر کہتے ہیں کہ امریکہ ان دو عالمی اداروںکے ذریعے اُن ممالک کو ٹارگٹ کرتے ہیں جہاں پر معدنی وسائل ہوں یا انکی جغرافیائی سٹریٹجک لوکیشن ہو۔ان کے اکثر شکار تیسرے دنیا کے ترقی پذیرممالک ہوتے ہیں۔ یہ اُن ممالک کو غیر پیداواری پروجیکٹس کےلئے قرضے دیتے ہیں جس سے نہ تو کوئی آمدن اور نہ کوئی اقتصادی بڑھوتری ہوتی ہے اور نہ اس سے کوئی روزگار دلائی جاسکتی ہیں۔جس وقت مقروض ممالک قرضوں کی ادائیگی سے قاصر ہوںتو پھر اس ممالک پر دباﺅ ڈالا جاتا ہے کہ قومی اداروں کی نجکاری کریں ، یا اپنی تجارت کو بڑھانے کے لئے زبر دستی من پسند تجارتی روٹس کھولے جاتے ہیں جو کسی ملک پر قبضہ کرنے کےلئے ضروری ہے۔ جان بر گر کہتے ہیں اسکے بعد وہ ان مقروض ممالک کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ اپنی فوج انکے حوالے کردیں تاکہ وہ انکے لئے دنیا کے کسی حصے میں اُنکی مفا دات کی جنگ لڑ سکیں۔ اگر کسی ملک کی لیڈر شپ اس قسم کی بات سے انکار کر دیں تو پھر اسکو دو آپشن دئے جاتے ہیں ۔ یا تو اُنکے سوئس بینک اور سوس اکاﺅنٹ بھر دئے جاتے ہیں بصورت دیگر انکی حکومت تبدیل کی جاتی ہے۔ اگر وہ سیاسی طور پر مضبو ط ہے تو اسکے جہاز کو ہوا میں اُڑاکر قتل کیا جا سکتا ہے۔ آکسفام کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹرنے کہا کہ سال2016 میں دنیا کے ایک فیصدمالدار ترین لوگوں کے وسائل دنیا میں 99 فیصد لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ 600 ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پاس دنیا کے 60 فیصد دو لت ہے-

وزیر اعظم اقوام متحدہ میں ۔۔۔۔!

 وزیر اعظم نواز شریف کے اقوام متحدہ میں کیے گئے خطاب کی، پاکستان میں ،سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر تحسین کی گئی ہے جو اس بات کا اعلان بھی ہے کہ سماج بتدریج فکری پختگی کی طرف گامزن ہے اور وہ وقت زیادہ دورنہیں جب معاملات میں حتمی حیثیت ہیجان ،نفرت اور تعصب کی بجائے دلیل ،اعتدال اور انصاف کو حاصل ہو گی۔سماج کسی انقلاب سے نہیں ارتقاءسے بدلتا ہے اور آثار بتا رہے ہیں ہمارا سماج ارتقاءکی اولین دستکوں سے گونج رہا ہے۔
سیاست کے وہ نامعقول کواڑ جن کی قسمت میں مقفل رہنا لکھ دیا گیا ہے ،بند ہی رہیں گے تاہم بیچ کی راس کے لوگوں اور کسی صف میں کھڑے ان سیاسی کارکنان کو جنہوں نے دیانت اور تدبر کو طلاق بائن کبری نہیں دے رکھی ان دستکوں پر توجہ کرنا ہو گی ۔دنیائے فکر کی مقفل اور زنگ آلود کواڑوں کو وا کرنے کا وقت آن پہنچا ہے ۔مارگلہ کے دامن میں موسم انگڑائی لے رہا ہے ۔لازم ہے کہ اب وقت کا موسم بھی بدلے۔ہمیں اپنی نفسیاتی گروہوں کو کھولنا ہو گا۔اس کے لیے ضروری ہے چند امور پر غور فرمایا جائے۔
1۔آج جس نواز شریف کی تحسین ہو رہی ہے کہ اس نے قومی موقف کا احسن طریقے سے ابلاغ کیا ،کل تک اسی نواز شریف کی حب الوطنی کا آملیٹ بنایا جا رہا تھا ۔اب بات صرف تحسین تک محدود نہیں رہنی چاہیے ہمیں خود سے یہ بھی پوچھنا ہے کہ کل جس شخص نے اقوام متحدہ میں اس قوم کا موقف پیش کیا اس کی شناخت کیا ہے ؟ ملک کے منتخب وزیر اعظم کی یا مودی کے یار کی؟وہ وطن عزیز کا منتخب رہنما ہے یا مودی کا یار ہے اور یہ تو ہمیں اب یاد ہی ہو گیا ہے کہ مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ؟
2۔ہماری فکر کی بنیادوں میں وہ کون سی کجی رہ گئی ہے کہ ہم ہر منتخب وزیر اعظم کو غدار قرار دینے میں ایک لمحہ کا تامل نہیں فرماتے؟لیاقت علی خان کی حب الوطنی ہمارے ہاں ایک سوال، بھٹو غدار،بے نظیر سیکیورٹی رسک،نواز شریف مودی کا یار ۔۔۔غدار۔یہ اتفاق ہے یا ایک منصوبہ ہے کہ جمہوری رہنما کو ہمیشہ اتنا مشکوک بنا کر رکھو کہ جمہوریت کا ستیا ناس کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو یہ کار خیر آسانی سے ہو جائے؟حالات کی نزاکت کی وجہ سے بہت سے سخن ہائے گفتنی فی الوقت نا گفتہ ہی چھوڑ دیتے ہیں اور صرف اسی سوال پر اکتفا کرتے ہیں۔
3۔ہمارے ہاں اہم تزویراتی فیصلے اس وقت ہوئے جب ملک میں جمہوریت نہیں تھی یا تھی تو اتنی کمزور کہ فیصلے پارلیمان میں نہیں ہوئے۔چنانچہ اب ایک بیانیہ بھی مرتب ہو چکا ہے اور ایک ماحول بھی تشکیل پا چکا ہے ۔ ایک منتخب وزیر اعظم اگر سوچنے کا کوئی دوسرا انداز اختیار کرے تو ہم کھڑے کھڑے اس کو غدار قرار دے دیتے ہیں۔ایسا کیوں ہے؟اس بات کا تو بالکل امکان موجود ہے کہ وزیر اعظم کے سوچنے کا کوئی زاویہ مکمل طور پر غلط ہو ،ایسے کسی بھی زاویے پر نقد بھی ہوتا رہنا چاہیے کہ جمہوریت میں چیک اینڈ بیلنس ایک بنیادی چیز ہے لیکن کیا اس پر منتخب وزیر اعظم کو غدار قرار دے دینا ایک صحت مند سوچ کہلائی جا سکتی ہے ؟اگر قومی مسائل پر مختلف انداز میں سوچنے کا حق ہم منتخب وزیر اعظم کو بھی نہیں دے رہے تو پھر یہ حق کس کو ہے؟ میری رائے میں تو ان مسائل پر مختلف زاویوں سے سوچنے کا سب سے زیادہ استحقاق ایک منتخب وزیر اعظم کو حاصل ہوتا ہے ۔اختلاف رائے ہونا چاہیے ۔یہ بات بھی درست ہے کہ وزیر اعظم عقل کل نہیں ۔ایک نہیں وہ ایک سو غلطیاں کر سکتا ہے لیکن ہمیں اپنی نفسیاتی گروہوں کو کھول کر قومی مسائل پر غور کرنے کی روش اپنانی چاہیے ۔ یاد رکھیے منتخب وزیر اعظم غدار نہیں ہوتا۔سیاسی مخالفت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ غداری کی اسناد جاری کرنا شروع کر دی جائیں۔
اعتدال کا راستہ سب سے اچھا راستہ ہے۔جمہوری عمل اور پارلیمان کا احترام ہونا چاہیے ۔
اسی طرح فوج کا بطور ادارہ احترام ہونا چاہیے۔بطور ادارہ فوج کے احترام کا مطلب یہ نہیں کہ آمروں کو گوارا کر لیا جائے اور آمروں سے بے زاری کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ فوج کو بطور ادارہ سینگوں پر لے لیا جائے۔ دونوں مختلف چیزیں اور ہیں اور ہر دو کے ساتھ معاملہ بھی الگ الگ ہونا چاہیے۔
ہر ریاستی ادارے کی افادیت ہے اور یہ افادیت مسلمہ ہے ۔ جدید ریاست کھڑی ہی اسی تقسیم کار کے اصول پر ہے۔اس نے طے کر دیا ہے کہ کون سا کام کس نے کرنا ہے ۔امن ایک نعمت ہے لیکن اگر جنگ مسلط ہوتی ہے تو دفاع وطن کا مقدس فریضہ افواج پاکستان نے انجام دینا ہے ۔زخمیوں کی دیکھ بھال ڈاکٹر حضرات کریں گے۔سفارتی محاذ پر وزیر اعظم اور دفتر خارجہ بروئے کار آئیں گے۔گویا ذمہ داریوں کی تقسیم سے جدید ریاست نے سماج میں ایک توازن پیدا کر دیا ہے ۔یہ توازن ہر حال میں قائم رہنا چاہیے۔اس کےلئے ہمیں اپنی نفسیاتی گروہوں کو کھولنا ہو گا۔مگر عرض ہے منتخب وزیر اعظم غدار نہیں ہوتا۔

یہ نئی بھارتی سازشیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

یوں تو بھارت نے عرصہ دراز سے ہر سطح پر پاکستان کے خلاف سازشوں اور مکروہ ہتھکنڈوں کا جال بچھا رکھا ہے ۔ اور اس حوالے سے ہمیشہ سے ہی مکاریوں اور ریا کاریوں پر مبنی ایسے ایسے ہتھ کنڈے استعمال کیے جاتے رہے ہےں جن کا تصور بھی کوئی مہذب انسانی معاشرہ نہیں کر سکتا ۔
مگر گذشتہ چند ہفتوں سے تو دہلی کے ان روایتی حربوں میں خطر ناک حد تک تیزی آ گئی ہے ۔ تبھی تو بھارت کے اوچھے ہتھکنڈوں سے آگاہی رکھنے والے با اعتماد حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی اور ان کے حواری پچھلے کچھ دنوں سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی غرض سے کئی نئی طرح کے حربے اعلانیہ اور خفیہ دونوں ڈھنگ سے استعمال کر رہے ہیں ۔
 اسی پیرائے میں با خبر حلقوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایک طرف ”را “ ، ” این ڈی ایس “ اور کچھ دوسرے بھارتی مہرے وطن عزیز میں دہشتگردی کے اپنے پرانے طریقوں کو خطرناک حد تک تیز کر چکے ہیں تو دوسری جانب بھارتی سفارت کار اس ضمن میں ہراول دستے کا کردار ادا کر تے ہوئے گلگت بلتستان ، آزاد کشمیر اور بلوچستان میں اپنے میڈیائی رابطوں کو بروئے کار لا کر ایسے عناصر اور خیالات کو پروان چڑھانے کی مکروہ کوشش کر رہے ہیں جن کے ذریعے ان مذکورہ علاقوں میں پاکستان مخالف جذبات کو ابھارا جا سکے ۔
با خبر ذرائع کے مطابق اس ضمن میں مقبوضہ کشمیرکے مختلف علاقوں میں ایسے عناصر کو خاص طور پر تیار کیا گیا ہے جو آکاش وانی اور ٹیلی ویژن کے ذریعے اپنے زہریلے خیالات کو پھیلانے کی کوشش میں مصروف ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ آزاد کشمیر ، گلگت بلتستان اور بلوچستان میں وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد الزام تراشی ،قطعی بے سروپا پروپیگنڈے اور لغو قسم کے افسانے تراشے جارہے ہیں ۔ اور ان حربوں کے ذریعے مقبوضہ ریاست میں جاری انسانیت سوز مظالم سے توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش کی جا رہی ہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایک سے زائد مرتبہ اس امر کا مطالبہ کر چکے ہیں کہ انھیں اس بات کی اجازت دی جائے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں جا کر خود زمینی حقائق کا مشاہدہ کر سکیںاور اس حوالے سے باقاعدہ ” فیکٹ فائنڈنگ مشن “ کے قیام کا کہا گیا ۔ مگر چونکہ ہندوستان اچھی طرح جانتا ہے کہ در حقیقت وہ نہ صرف کشمیریوں پر ظلم ڈھانے کا مجرم ہے بلکہ اس کی پوری تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ دہلی سرکار اور اس کے حواری عرصہ دراز سے مقبوضہ ریاست میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہو تے رہے ہیں ، اس لئے انھوں نے ” UNCHR “ کو اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا حالانکہ انسانی حقوق کے ان اداروں نے کوئی ایسا مطالبہ نہیں کیا تھا جسے پورا کرنا بھارت سرکار کے بس میں نہ ہو ۔ اگر بھارت سرکار ذرا سی بھی غیر جانبدار ہوتی اور اگر اس کا انسانیت پر ذرا سا بھی یقین ہوتا تو وہ اس بات سے انکار نہ کرتی بلکہ خندہ پیشانی سے ان کا استقبال کرتی ۔
یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ بھارت کی ان سازشوں کا تفصیل سے تذکرہ کرتے ہوئے اعتدال پسند ماہرین نے واضح کیا ہے کہ حالیہ دنوں میں بھارت کی منسٹری آف ایکسٹرنل افیئرز سے تعلق رکھنے والے ” اشیش “ نے با قاعدہ طور پر بھارتی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس ضمن میں انھیں فوری طور پر مطلوبہ مدد فراہم کی جائے اور اسی پس منظر میں پاکستان میں تعینات بھارتی سفارت کار اور فرسٹ سیکرٹری پی او ایل ” ستے نارائن ساشتری رگھو رام “ نے محض چند روز قبل یعنی 26 اگست 2016ءکو ایک خصوصی مراسلے میں پاکستان کے خلاف بھارتی کارروائیوں کو تیز کرنے کی بات کی ہے ۔ مبصرین نے اپنی بات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ دہلی کی ان تمام تر سازشوں کے باوجود اگر بھارت سرکار خود کو بے گناہ اور پاکستان کو قصور وار ٹھہرائے تو اسے ستم ظریفی ہی قرار دیا جا سکتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ دہلی کے حکمران اپنی اس مکروہ روش پر نظر ثانی کریں گے ۔

محاذ آرائی کی بجائے قانونی راستہ اختیار کیا جائے

 حکومت اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہونے سے سیاسی منظرنامہ دھندلاہٹ کا عکاس دکھائی دے رہا ہے اور سیاسی اُفق پر چھائے گہرے بادل کسی طوفانی کیفیت کااشارہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور سیاسی درجہ حرارت آئے دن بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ایک طرف وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد نواز شریف ترقیاتی کاموں کا دھڑا دھر افتتاح کررہے ہیں اور بھرپور عوامی جلسوں سے خطاب کرکے حکومتی کارکردگی پر روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں ۔ احتجاجی سیاست کرنے والوں کو عوام ہر جگہ بھرپور جواب دے رہے ہیں ۔ پنجاب اور کراچی میں ان کو خوب جواب دیا گیا۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے دل میں بغض نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کا جذبہ ہے پختونخواہ میں بھی حکومت بنا سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا جس کو جہاں مینڈیٹ ملا اس کا احترام کرتے ہیں ہم نے صوبائی حکومتوں کو مکمل تعاون فرا ہم کیا کچھ لوگوں نے نعرے لگوائے کام نہیں کیا میرے پاس سیاسی مخالفین کو جواب دینے کام وقت نہیں۔یہ وقت واقعی احتجاجی سیاست کا نہیں عوام کی خدمت کا ہے لیکن حکومت کو دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اس بات کے پس منظر میں جانے کی ضرور ت ہے اور ان محرکات و عوامل کا جائزہ لینا چاہیے جو احتجاجی سیاست کا ذریعہ بن رہے ہیں حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے ملک میںا من قائم رکھنا ، مہنگائی ، بیروزگاری کا خاتمہ اور سماجی انصاف کی فراہمی بھی حکومت کے فرائض میں شامل ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ امر کہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست میں برداشت کا فقدان ہے اور ہٹ دھرمی کا رجحان پایا جاتا ہے جس سے سیاسی ہلچل عوام کا مقدر بنی رہتی ہے۔ وزیراعظم جس تواتر سے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں اس سے ان کی نیت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ حکمت عملی اچھی ہے اور یہ اقدامات مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کارکردگی کو بڑھا رہے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکا م کا جو منظر اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے یہ قطعی طورپر جمہوریت کیلئے نیک شگو ن قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے وہ سیاسی مخالفین کی بات کو سنے اور اس قیمتی وقت کو ضائع نہ کرے کیونکہ حکومت وہی کامیاب قرارپاتی ہے جو سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو نہ صرف اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے بلکہ اس کے تحفظات کو بھی دور کرتی ہے پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکومتی سطح پر متفقہ ٹی او آرز کا نہ بننا ہی احتجاجی سیاست کا باعث قرار پایا اور تحریک انصاف سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے اور اب تو چیئرمین پی ٹی آئی نے رائے ونڈ مارچ کا اعلان بھی کردیا ہے اور اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری تحریک قصاص چلائے ہوئے ہیں اور وہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکا قصاص مانگ رہے ہیں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید تحریک نجات اور جماعت اسلامی دھرنا اور پیپلز پارٹی بھی سڑکوں پر آنے کیلئے پر تول رہی ہے اور جو سیاسی منظرنامہ بنتا دکھائی دے رہا ہے وہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے حکومت سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے احتجاج پر سنجیدہ غور وفکر کرے اور ان کو اعتماد میں لے ۔پانامہ پیپرز پر متفقہ ٹی او آرز کو یقینی بنائے یہی وہ راستہ ہے جو جمہوریت کیلئے سود مند ہے۔ حکومت کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی ہے تو دوسری طرف اس کو بھارتی جارحیت اور سازش کا سامنا ہے ان حالات میں سیاسی محاذ آرائی کامتحمل ہماراملک نہیں ہوسکتا اس لئے حکومت برداشت کے جمہوری کلچر کو اپناتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام لائے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا ۔ ملک ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا ۔حکومت سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرے تاکہ جمہوریت پر کوئی کاری ضرب نہ لگے۔ ملک میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھائے بغیر محاذ آرائی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں مل جل کر ملک و قوم کی ترقی کیلئے کام کریں، سیاسی استحکام سے ہی ملک ترقی کے راستے پرگامزن ہوگا۔بالواسطہ جمہوریت کا نظام نجانے کیوں کامیابی سے اپنے منزل کی طرف رواں دواں نہیں ہوپارہا حالانکہ بڑی ریاستوں میں بالواسطہ جمہوری نظام کامیاب قرار پاتا ہے کامیاب جمہوریت کی پہلی شرط تعلیم ہے جب تعلیم پر نظر دوڑائی جائے تو رونا آتا ہے یہ روبہ تنزل ہے۔ جمہوریت کی کامیابی یہ تقاضا کرتی ہے کہ سیاسی جماعتیں صحتمدانہ اور معاشی اصولوں پر قائم ہوں اور ملک کی ترقی و خوشحالی کو اپنا نصب العین سمجھیں۔ سیاسی رہنماﺅں کا قابل دوراندیش اور تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ جمہوریت کی کامیابی میں ایک شرط یہ بھی قرار پاتی ہے کہ ہر ایک کو تحریر اور تقریر کی آزادی ہو تاکہ ملکی مسائل پر آزادانہ رائے قائم ہوسکے ۔ جمہوریت میں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتے ہیں اور حکومت فلاح عامہ ، اخلاقی اور تعلیمی ضرورت کے ساتھ ساتھ امن و استحکام ، مساوات، احساس ذمہ داری اور جذبہ حب الوطنی ، خود اعتمادی بھی جمہوریت کی کامیابی کی شرائط میں شامل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان کا فقدان ہے جس سے حکومت اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کیخلاف صف بندی کیے ہوئے دکھائی دیتی ہیں جس سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہورہا ہے اور ملک کی ترقی و خوشحالی متاثر ہورہی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتیں صحت مندانہ کردار ادا کریں اور حکومت بھی سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لیکر چلے تاکہ محاذ آرائی نہ ہو اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا جاسکے۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے تحفظات دور کرے۔ یہی کامیاب جمہوریت کا راستہ ہے۔
 آبی آلودگی کی روک تھام وقت کی ضرورت
 ملک میں آبی آلودگی کا شور عوام الناس کیلئے جہاں پریشان کن ہے وہاں حکومت کیلئے لمحہ فکریہ بھی ہے ۔ آبی آلودگی سے انسان طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہورہا ہے اور اس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ پانی انسان کی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے بدن کیلئے اہم جزو ہے اس کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا لیکن تعجب ہے کہ وطن عزیز میں لوگوں کو صاف پانی ملنا بھی محال ہے عوام پہلے ہی شور کی آلودگی ، زمینی آلودگی کے شکار تھے اور اب آبی آلودگی بھی ان کا مقدر بنے دکھائی دینے لگی ہے ۔ حکومت آبی آلودگی کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ لوگوں کو موذی امراض سے بچایا جاسکے ۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے اور عوام کو صاف و شفاف پینے کا پانی بہم پہنچائے ۔ آبی آلودگی پر عدالت عظمیٰ نے بھی نوٹس لیا ہے اور اس ضمن میں کئی وفاقی سیکرٹری بھی سرزنش کے شکار ہوئے ۔ حکومت کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس کے باسی پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ جمہوریت میں عوام حکمران جماعت کا محاسبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔

سیاسی قائدین اور ان کی خدمات

میرے پاس  مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین، جس میں پاکستان مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف ، اے این پی، جماعت اسلامی، جمیعت لعلمائے اسلام، پاکستان پیپلز پا رٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ق)، کچھ آزاد اراکین کے موبائیل نمبر ہیں اور اکثر و بیشتر مختلف سیاسی پا رٹیوں کے راہنماﺅں کے ساتھ رابطہ ہوتا رہتا ہے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ وہ سیاسی قائدین جو ریڈیو، ٹی وی اور مختلف اخبارات میں ٹاک شوز اور انٹر ویو میں اللہ رسول کانام لیتے ہیں اور پاکستان کے عوام کے مسائل کی وجہ سے انکو نیند نہیں آتی ان سیاست دانوں اور مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین سے جب آپ رابطہ کریں گے تو یہ کبھی بھی آپکو جواب نہیں دیں گے۔ اور جب الیکشن کے دوران ووٹ لینے آتے ہیں تو پیروں پر پڑیں گے اور کسی کے 50 سال پہلے مرحوم والدین، بہن بھائی اور عزیز و آقارب کے لئے فا تحہ پڑھتے آتے ہونگے۔ جب یہ لوگ ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز بن جاتے ہیں تو پھر کبھی آپکو پکڑائی نہیں دیں گے۔ گزشتہ دنوں میرے دل میں خیال آیا کہ مختلف سیاسی پا رٹی کے لیڈران اور قائدین کے سیل نمبر معلوم کرکے ان سے رابطہ کیا جائے اور تجزیہ کیا جائے کہ ان میں کونسے ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز جواب یاResponce دیتے ہیں ۔ میں ہر سیاسی پا رٹی کے چالیس ایم پی اے، ایم این اے اور سینیٹرز کے نمبر معلوم کرکے اس سے کسی اہم ایشو پررابطہ کر نے کی کو شش کی اور میرے اس سروے یہ بات ثابت ہوئی کہ عوامی اور سماجی رابطوں کے لحا ظ سے جماعت اسلامی سب آگے یعنی پہلے نمبر پر جنکے 40 ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹرز اور پا رٹی کے اہم عہدیداروں میں 35 نے کسی ایشو پر ریسپانس دیا، پیپلزپارٹی کے اہم شخصیات میں 40 میں 25، مسلم لیگ نواز کے 40 اعلی عہدیداروں میں صرف مہتاب عباسی اور پشاور سے ایک ایم این اے ، تحریک انصاف کے چالیس میں۰۱ عہدیداروں یعنی ساجد نواز ، عثمان ترہ کئی،عاقب اللہ ،علی محمد خان وغیرہ نے جواب دیا اور تحریک انصاف کے ان سب کے سب کا تعلق کے پی کے سے تھا ۔ کے پی کے کے علاوہ کسی اور صوبے کے تحریک انصاف کے کسی عہدیدار نے کوئی جواب یا ریسپانس نہیں دیا۔ ایم کیو ایم کے تقریبا 40 میں ۵ اور اے این پی کے کسی عہدیدار نے جواب نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کے پا رٹی کے کسی ایم این اے ایم پی ایز نے جواب نہیں دیا۔ ان میں جو سب سے زیادہ ایکٹیو سینیٹر جو ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں وہ جماعت اسلامی کے سراج الحق، پاکستان پیپلز پا رٹی کے سید خور شید شاہ ، پاکستان عوامی لیگ کے شیخ رشید احمدجماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، ایم کیو ایم بیرسٹر سیف اور صوابی سے قومی محا ذ کے بابر سلیم ، تحریک انصاف کے ساجد نواز ، عثمان ترہ کئی،عاقب اللہ ،علی محمد خان سر فہرست ہیں۔ ہم ان لوگوں کو قومی ، صوبائی اسمبلیوں ، سینیٹ میں بھیج دیتے ہیں مگر بڑی افسوس کی بات ہے کہ پھر ایم این اے،سینیٹر بن کر وہ کسی اور دنیا کی مخلوق بن جاتے ہیں۔ مُجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُن سیاسی پا رٹیوں کے لیڈران جو ٹی وی کے ہر چینلز پر بیٹھ کر ہمیں محبت ،خوت کا درس دیتے ہیں وہی ایم این اے ، ایم پی اے اور سینیٹرز ، صوبائی اسمبلی کے ممبران کسی اہم ایشو پر سُننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر ہم دیکھیں تو تحریک انصاف کے پنجاب اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز ہیں وہ متو سط طبقے کے ہیں مگر یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ وہ عوام سے گھبراتے ہیں۔اے این پی کے اہم لیڈر کی توجہ میں نے ایک اہم قومی مسئلے کی طرف مفضول کرائی تو ایم این اے صا حب نے جواب دیا کہ آپ نے تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دیا ۔ میں نے اُسے کہا آپ ایک بُہت بڑے لیڈر ہیں اور میں آپ سے اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی۔ہمارے یہ عوامی نمائندے پاکستان کے مسائل سے بے خبر ہیں۔ پچھلے دنوں پشاور کے مسلم سٹی کالونی گیا ۔ یہ وہ علاقہ جو نو شہرہ اور پشاور کے سنگم پر واقع ہے اور یہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی پر ویز خٹک اور خیبر پختون خوا کے گورنرافتخار جھگڑا کا انتخابی حلقہ ہے اور بد قسمتی سے جہاں پر ۸۱ گھنٹے سے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں جب میں کے پی کے کے گو رنر اور وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک سے سے اُنکے موبائیل نمبر پر رابطہ کرنے کی کو شش کی تو ان دونوں حضرات نے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق خان نے پیسکو کے صوبائی چیف سے اس سلسلے میں بات کی اور پشاور سے ایک ایم این اے مسز بخاری نے کہا کہ وہاں پر بجلی چو ری زیادہ ہوگی اس وجہ سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ میںنے اسے کہا میڈم آپ مُجھے بتائیں کہ بجلی چوری روکنا کس کی ذمہ داری ہے۔در اصل سیا سی پا رٹیوں کی جو راہنماءعوام سے فا صلہ رکھتے ہیں وہ اچھے لیڈر نہیں ہوتے ۔اس میں بھی کوئی شک اور شُبہ نہیں کہ پاکستان کے عوام کو کوئی پتہ نہیں چلتا کہ ہم کس کو مُنتخب کرکے ووٹ دیتے ہیں مگر مُجھے اُمید ہے کہ وہ دن جلد آنے والا ہے کہ پاکستانی عوام اچھے اور بُرے میں تمیز کر سکیں گے اور پھر اُنکو ووٹ دیں گے جو انکی زخموں پر مرہم لگائیں ۔ وہ دوربہت جلد آنے والا ہے کہ پاکستانی عوام اس قسم کے خود غرض عناصر کو رد کریں

افواج پاکستان ناقابل تسخیر

کچھ روز پہلے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گذشتہ چند ہفتوں میں بہت سی ایسی کامیابیاں ملی ہیں جن کی بنیاد پر غیر جانبدار حلقے بجا طور پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ پاک فوج نے گذشتہ کچھ عرصے میں بڑی حد تک دشمن کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اب افرا تفری اور بے سر و سامانی کے عالم میں پاکستان کے مخالفین ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں جس سے ان کی بوکھلاہٹ بہت عیاں ہے کیونکہ حالیہ ہفتوں میں ایک جانب پاک افواج اور انٹیلی جنس اداروں نے ان کے تخریب کاری کے بہت سے ایسے منصوبوں کو خاک میں ملایا ہے جن کی بنیاد پر ایک جانب ” را “ اور ” این ڈی ایس “ کو اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے تو دوسری طرف ایسے چند حلقے جو خود کو نام نہاد داعش کے جنم داتا سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر افواج پاکستان کی صلاحیتوں کو انڈر ایسٹیمیٹ کرنے کی بھول میں مبتلا ہو چلے تھے ، ایسے تمام وطن دشمن عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے اور ان کے عزائم بڑی حد تک اپنی موت آپ مر چلے ہیں ۔
یاد رہے کہ اس ضمن میں گذشتہ کچھ عرصے میں پاکستان کو شاندار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ۔ اگرچہ اس تلخ حقیقت سے بھی پوری طرح صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ داعش کے یہ چند گرگے ، ” را “ ، این ڈی ایس “ ، ” ٹی ٹی پی “ اور بعض دیگر غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں ان دنوں بھی اپنی مکروہ سازشوں میں مصروف ہیں اور وقتاً فوقتاً انھیں اپنی نا پاک سعی میں کچھ نہ کچھ کامیابی بھی ملتی رہی ہے ۔
اسی تناظر میں پاک فوج کا کہنا ہے کہ ملک میں خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم داعش نے جگہ بنانے کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے تاہم اس کے خاتمے کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ۔پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے راولپنڈی میں ایک طویل پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ داعش کے تین سو سے زائد اراکین جس میں ان کے امیر حافظ عمر شامل ہیں سب گرفتار ہو چکے ہیں ۔
انھوں نے بتایا کہ اس تنظیم کے پاکستان میں سربراہ حافظ عمر تھے جو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے 15 اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ فیصل آباد میں میڈیا کے دفاتر پر حملوں میں بھی ملوث رہے ۔ اس کے علاوہ لاہور، سرگودھا اور اسلام آباد میں میڈیا ہا ¶سز پر حملوں میں بھی یہ ملوث تھے ۔
 آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ داعش کے پاکستان میں تین سو نو افراد میں سے 25 غیر ملکی تھے جن میں افغانستان، عراق اور شام کے شہری بھی شامل تھے ۔ جنرل باجوہ نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم کے رہنما ¶ں کی تصاویر بھی جاری کیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اور چند دیگر پاکستان مخالف عناصر بہت سی دیگر شر انگیز کاروائیوں کا بھی حصہ رہے ۔ ’حافظ عمر کے علاوہ علی رحمان عرف ٹونہ، عبدالسلام عرف رضوان عظیم اور خرم شفیق عرف عبداللہ منصوری بھی سرکردہ رہنما تھے۔ ان کے سر پر 25 لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر تھا۔‘پاکستان میں داعش کی موجودگی کے ابتدائی اشارے مختلف شہروں میں وال چاکنگ کے ذریعے دکھائی دیے تھے۔
مبصرین کے مطابق فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’یہ لوگ مختلف لوگوں کو وال چاکنگ کے لیے ایک ہزار روپے ادا کرتے تھے۔ لکھنے والوں کے لیے واحد کشش یہ ہزار روپے ہوتے تھے لیکن پاکستانی قوم نے مل کر ان لوگوں کو یہاں جگہ بنانے کی اجازت نہیں دی ہے۔
غیر جانبدار ذرائع نے اس صورتحال کو وطن عزیز کے لئے انتہائی حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور یقین ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں افواج پاکستان اسی تندہی سے اپنا فریضہ سر انجام دیتی رہیں گے البتہ سول سو سائٹی کا بھی فرض ہے کہ تمام مشکوک افراد کی سر گرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے تا کہ ملک کے اندرونی اور بیرونی مخالفین اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہ ہو پائیں

دہشت گردی عالمگیر مسئلہ

پاکستان عرصہ دراز سے دہشت گردی کی زد میں ہے اور اب تو اسی دہشت گردی نے عالم اسلام اور اس کے بعد یورپ کا بھی رخ کر لیا ہے اور اس کو بہت آسان معاملہ سمجھنے والا اور اپنی ماہر رانہ رائے، سیمناروں اور ورکشاپوں سے پاکستان کو نوازنے والا یورپ آج اپنے بچاﺅ کی تدابیر میں مصروف ہے۔ عالم اسلام کے بھی محفوظ اور مضبوط سمجھے جانے والے ممالک ان کاروائیوں کی زد میں آچکے ہیں۔ سعودی عرب میں حالیہ دہشت گرد کاروائیاں بھی اسی عالمی دہشت گردی اور سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد ہے کہ عالم اسلام کو دو دھاری تلوار سے کاٹا جائے یعنی ایک تو اس کا امن خراب کیا جائے اور دوسرے اس میں پھوٹ بھی ڈالی جائے لہٰذا سعودی دھماکوں کے کچھ ملزمان کو پاکستان سے جوڑ دیا گیا۔ جدہ میں ہونے والے دھماکے کے ملزم عبداللہ گلزار کو پاکستانی شہری بتایا گیا جبکہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ عبداللہ گلزار کا اصل نام ذوالفقار فیاض احمد کاغذی ہے اور وہ بھارت کی ریاست مہاراشٹر کا رہنے والا تھا اور ”را “کےلئے کام کرتا تھا لیکن اُسے پاکستانی شہری ظاہر کر کے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی ۔دراصل پاکستان کے نام کے ساتھ دہشت گردی اور شدت پسندی کچھ ایسے جوڑ دی گئی ہے کہ اب اس پر ہر طرح کا الزام لگا دینا بہت آسان ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مختلف سازشوں کے تحت شدت پسندی کو دخیل کر دیا گیا ہے یہاں فقہ اور مسلک کی ایسی جنگ چھیڑی گئی ہے کہ اُس کو ختم کرنے کے لیے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔شدت پسندی کو پھیلانے کے لیے بڑی بے دردی سے مدارس کو استعمال کیا گیا وہی مدارس جو علم و تعلیم کا مرکز تھے اور یہاں بڑے امن کے ساتھ قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی تھی یہ بے ضرر طلباءاپنے کام سے کام رکھتے تھے اور پُر امن طریقے سے اپنی حاصل کی ہوئی تعلیم دوسروں تک منتقل کرتے تھے لیکن عالمی طاقتوں کی سازشوں نے اپنے مقاصد کےلئے ان معصوم لوگوں کو استعمال کیا اور یہ سب بڑی آسانی سے ان سازشوں کا شکار ہو بھی گئے۔ عام لوگ جو مدارس میں اپنے بچے دینی تعلیم کےلئے بھیجتے تھے وہ ان حالات کی نذر ہوتے گئے اور دہشت گردوں کے ہتھے چڑھتے گئے یہی بچے خود کش دھماکوں میں استعمال ہوتے رہے اور ہورہے ہیں شدت پسندی کو بھی بہت حد تک یہی سے فروغ ملتا رہا۔ اس ساری صورت حال میں ضرورت اس امر کی تھی کہ ان مدارس کو قومی تعلیمی دھارے میں شامل کیا جاتا لیکن اس کےلئے کوئی سنجیدہ کو شش نہیں کی گئی۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد جب قومی لیڈر شپ کے احساس میں مصنوعی یا حقیقی، جیسا بھی سہی ارتعاش پیدا ہوا اورقوم کی آہ و بکا کا کچھ کچھ اثر ہوا تو یہ سر جوڑ کر بیٹھے اور دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف منصوبہ بندی کی اور ایک متفقہ قومی ایکشن پلان بنایا گیا تو اس میں مدارس کو بھی قومی تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کی بات کی گئی یہ کام بہت پہلے ہو جانا چا ہیے تھا لیکن قومی ایکشن پلان میں اس اہم کام کو شامل کرنے کے بعد بھی اس پر ابھی تک کام شروع نہیں ہو سکا۔ حیرت انگیز طور پر مدارس کی طرف سے اس بات پر اعتراض بھی کیا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن کیوں کی جائے اسے اسلام اور مدرسوں کے خلاف سازش قرار دیا گیا ، عوام کے سامنے اسے یوں بنا کر پیش کیا گیا جیسے یہ اسلام کے خلاف سازش ہو اور علماءاور مدارس کو پاکستان میں خطرات لاحق ہوں اور یوں قومی ایکشن پلان کی اس شق کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ حقیقت حال یہ ہے کہ بہت سارے مدارس بھی آج کل تجارتی مقاصد کے لیے بنائے گئے ہیں لہٰذا انہیں حکومت کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے ان میں سے کئی ایک میں ایسا نصاب پڑھایا جارہا ہے جو بجائے اسلام کے عام اصولوں کو سمجھانے کے نہ صرف اپنے فقے کو ہی حتمی اور عین اسلام بتاتا ہے بلکہ دوسرے مسالک کو کفر کے زمرے میں بڑے آرام سے شامل کر دیتا ہے اور یوں معاشرے میں نفرت پیدا کرنے کی مکمل کوشش کی جاتی ہے ۔ یہ تو ایک پہلوہے اور سب سے اہم ہے کیونکہ اسلام میں بے اتفاقی کی کوئی گنجائش نہیں اسی چیز نے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے کہ مسلمان آپس میں معمولی معمولی اختلافات کی بنا پر باہم دست و گریبان رہے ایک دوسرے کا قتل عام کرتے رہے اور اب بھی وہی ہو رہا ہے۔ شدت پسندی اور دہشت گردی نے نہ صرف عالم اسلام، اسلام اور مسلمانوں کو بے تحاشا نقصان پہنچایا بلکہ دشمنوں کو اسلام کے خلاف بات کرنے کا موقع دیا لیکن ہم اپنا رویہ بدلنے کو کسی طور تیار نہیںمگر اب ہم اتنا نقصان اٹھا چکے ہیں کہ ہمارے پاس مزید کسی ایسے رویے کی گنجائش نہیں ۔ حکومت نے ایک بار پھر تنظیم المدارس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت مدارس کو مرکزی دھارے میں لایا جائے گا اُمید ہے کہ اس بار یہ تنظیم سختی اور تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور حالات اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اور حکومتی موقف کو سمجھتے ہوئے تعاون کرے گی۔ پاکستان میں اس وقت تقریبا چالیس ہزار مدارس کام کر رہے ہیں جن میں اندازاََ 5 3. ملین یعنی 35 لاکھ طلباءتعلیم حاصل کر رہے ہیں سوچنے والی بات یہ ہے اس بڑی تعداد کو مفت تعلیم اور قیام و طعام کیسے فراہم کیا جا رہا ہے آخر عوام سے حاصل ہونے والے چندے اتنے سارے اداروں کو یہ سہولیات فراہم کرنے کے قابل کیسے بنا رہے ہیں لہٰذا ان کا حساب کتاب بھی ہونا ضروری ہے بالکل اُسی طرح جیسے دوسرے اداروں کا ہوتا ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ یہ ادارے کسی قانون کے تحت آنے کو تیار نہیں ،کہیں ان کو سیاسی جماعتوں کی آڑ حاصل ہے اور کہیں یہ مذہب کا سہارا لے لیتے ہیں ۔ ہمارے مدارس کا نظام تعلیم صدیوں پرانے طریقوں پر چل رہا ہے تبدیلی سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے بارے میں خدانخواستہ کوئی ایسی جسارت کی جائے لیکن یہ ضروری ہے کہ جدید ،پیشہ ورانہ اور سائنسی مضامین بھی نصاب میں شامل کئے جائیں تاکہ یہ بچے جب ان تعلیمی اداروں سے نکلیں تو وہ دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ آج سے تقریباََ ہزار سال پہلے جب عباسی وزیر نظام الملک نے اپنے دور کے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی تو اِن کے نصاب میں علم فلکیات جیسے جدید مضمون کو بھی شامل کیا اگر دیکھا جائے تو اس مضمون کا دینی مضامین سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اسے شامل نصاب کیا گیا ۔ درس نظامی کی صورت میں بھی اس نصاب میں تبدیلی کی گئی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج درس نظامی کو 300 سال ہو چکے ہیں لیکن نصاب وہی کا وہی ہے بلکہ اکثر اوقات اس کی زبان میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہی دقیق زبان استعمال ہو رہی ہے جو عام لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے شاید اسے بھی غیر اسلامی سمجھا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس کے نصاب میں دینی مضامین کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی مضامین بھی شامل کیے جائیں اور یہ سمجھنا چھوڑ دیا جائے کہ یہ مضامین غیر اسلامی ہیں جب تک کہ ان میں اسلام سے متصادم مواد شامل نہ ہو۔ اگر یہ 35 لاکھ طلباءبھی قرآن و حدیث کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیو ی تعلیم حاصل کر سکیں تو وہ اپنی زندگی آج کی دنیا میں اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ کے راستے پر چلتے ہوئے زیادہ بہتر طور پر بسر کر سکتے ہیں یہاںدینی مضامین بھی ان کی حقیقی روح کے مطابق پڑھائے جائیں۔ اگر حکومت قومی ایکشن پلان کے اوپر واقعی عمل کر وا کے ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کی تمام شقوں پر مکمل عمل کروانا ہوگا اور مدارس کو بھی اس پر عمل کروانے پر مجبور کرنا ہوگا تاکہ ملکی حالات کو بہتر سے بہتر کیا جا سکے۔

عیدالاضحی اور اس کے تقاضے

عیدالاضحی حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دینے کیلئے اس کے گلے پر چھری چلائی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے فرمایا اے ابراہیمؑ تیری قربانی قبول ہوئی اور اپنے پاس کھڑے مینڈھے کو قربان کردیا چنانچہ آپؑ نے مینڈھے کو راہ خدا میں ذبح کیا ۔ حضرت اسماعیلؑ نے نہایت فرمانبرداری کا نمونہ پیش کرتے ہوئے کہا ابا جان وہ کر گزرئیے جس کاحکم آپ کو آپ کے رب نے دیا ہے۔ آپ انشاءاللہ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔ علامہ اقبالؒ نے اس کی منظر کشی کیا خوب انداز میں کی فرماتے ہیں۔
یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آداب فرزندی
 اس عید کی کئی حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں یہ عید مسلمانوں کے اندر ایثار اور قربانی کا جذبہ پیداکرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہماری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں جاتا صرف ہماری نیتیں اور جذبہ ایثار جاتا ہے۔ مسلمان عید قربان پر اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ یہ شہادت کی الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہوتا آج یہ عید ہم سے یہ تقاضا کررہی ہے کہ خدا کی رضا کیلئے ہر قربانی کیلئے تیار رہیں لیکن صد افسوس کہ ہم اسلام کی روح سے ہٹتے جارہے ہیں ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے لیکن آج مسلمان ہی مسلمان کا خون کررہا ہے ، قتل و غارت گری ، کا بازار گرم ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے ۔ راہزنی اور چوری ڈکیتی مسلمانوں نے اپنا معمول بنا لیا ہے ۔ اسلام امن کا دین ہے اور سلامتی کا درس دیتا ہے۔ اسلام حقوق العباد پر زور دیتا ہے لیکن آج آجر آجیر سے جو سلوک روا رکھے ہوئے ہے اس کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اسلام محنتی کو اللہ کا دوست قرار دیتا ہے لیکن آج مزدور کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ سماجی نا انصافی ہے حق تلفی عام ہوگئی ہے اور معاشرے میں طرح طرح کی قباحتیں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ اس عالم میں ایثار کی بات ایک سوالیہ نشان دکھائی دینے لگی ہے۔ آج مسلمان غیر مسلموں کے زیر عتاب ہیں اور دنیا میں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنے دکھائی دے رہے ہیں جس کے محرکات آپس کی نا اتفاقی اور اتحاد کا نہ ہونا شامل ہے۔ جب تک مسلمان متحد رہے ان کی دھاک ہرسو دکھائی دیتی رہی اب ان میں جذبہ ہمدردی اور ایثار کا فقدان ہے جس سے یہ مار کھائے جارہے ہیں ۔ عیدالاضحی کی خوشیاں تب ہی حقیقی خوشیاں ثابت قرار پاسکتی ہیں جب ان میں غریب و مساکین کو شامل کیا جائے جس خوشی میں غرباءشامل نہ ہوں وہ خوشی خوشی نہیں رہتی آقائے دو جہاں نے درویشی کو پسند فرمایا آپ غریبوں ، محتاجوں اور یتیموں کا بہت خیال رکھتے تھے آج ذرا ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو شرم سے ہماری نگاہیں جھک جاتی ہیں ہم غاصب ہیں جس ملک میں دولت کا غیر منصفانہ سسٹم ہو وہاں سماجی انصاف کیسے ممکن ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں ہونے سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے یہ تفریق اسلام کے اصولوں کے منافی ہے آج عید قربان پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس معاشرے کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں گے اور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ ملک کیلئے ہر قربانی دیں گے اور اس کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ یہی خوشی حقیقی خوشی کہلائے گی یہ قربانی ایک نہ ایک دن دینا پڑے گی تاکہ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے۔ عیدالاضحی کے تقاضے پورے کرنے سے ہی عید کی حقیقی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں آج مسلمان قربانیاں بھی کرتے ہیں لیکن تعجب ہے کہ پھر بھی ان کے گردونواح میں مستحق لوگ ان کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جذبہ ایثار کو اپنائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں ، ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مل جل کر کام کریں۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو حل کرے ان کے معیار زندگی کو بلند کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھائے۔
ٹرانسپورٹروں کی من مانیاں
 عید کے پرمسرت موقع پر ٹرانسپورٹروں نے راولپنڈی ،اسلام آباد اور دیگر شہروں سے اپنے گھر لوٹنے والے پردیسیوں سے انتہائی ناروا سلوک رکھا رکھا زائد کرائے کی وصولی کے ساتھ ساتھ مسافروں کو گاڑیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسا گیا اگر کوئی مسافر مزاحمت کرنے کی جرا ¿ت کرتا تو اس کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ٹریفک قوانین کی بکھری دھجیاں دیکھ کر ایسا لگتا کہ یہاں کوئی قانون نہیں اور ٹرانسپورٹر بے لگام گھوڑے کی طرح من مانیاں کرتے رہے بس سٹاپس ، لاری اڈوں ،مسافروں کی حالت زار دیکھ کر انسان کا دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوجاتا ہے ایک جمہوری دور حکومت میں عوام ذلیل و خوار ہورہے ہیں قانون کی گرفت اتنی ڈھیلی کہ کوئی ان منہ زور ٹرانسپورٹروں کو پوچھنے والا نہیں قانون داری کے فقدان نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے جن میں لاقانونیت سرفہرست ہے۔ انتظامیہ قومی تہوار کے مواقعوں پر ایسے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنائے جن کی بدولت مسافر کسی تکلیف کے بغیر سفر کرسکیں سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے بالکل ممکن ہے اگر انتظامیہ اپنے فرائض فرض شناسی سے ادا کرے ، سیکرٹری پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی ڈھیلی گرفت ہی ٹرانسپورٹروں کو قانون شکنی کا مرتکب کرانے کا باعث بن رہی ہے ۔ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں اوورلوڈنگ زائد چارجنگ اور روٹ مکمل نہ کرنے کی شکایات عام ہیں لیکن کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہ آئی۔
پیشہ وربھکاریوں کی یلغار
راولپنڈی اسلام آباد میں بھکاریوں کی یلغار جہاں شہریوں کیلئے پریشان کن بنی دکھائی دیتی ہے وہاں انتظامیہ کیلئے ایک سوالیہ نشان بھی ہے ۔ لاری اڈوں، ریلوے اسٹیشن اور پبلک مقامات پر ان کی فوج ظفر موج دیکھنے میں آتی ہے اور یہ مختلف رنگ میں بھیک مانگنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ،پیشہ ور بھکاریوں نے اصل حق داروں کے حقوق بھی غصب کررکھے ہیں اور یہ تمیز کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ حق کون ہے۔ پنڈی اسلام آباد اور گردونواح میں بھکاریوں کیخلاف کریک ڈاﺅن کی ضرورت ہے تاکہ ان شہریوں کو پیشہ ور بھیک منگوں سے نجات دلائی جاسکے ۔ اس وقت شہری ان بھکاریوں کی سرگرمیوں سے بے حد پریشان ہیں کیونکہ ہر جگہ یہ ان کو شرمندہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بعض دفعہ ان کو جھڑکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ اس قدر ڈھیٹ ہوچکے ہیں کہ ان کے اندر غیرت و اہمیت نام کی کوئی چیز نہیں اور یہ ہاتھ پھیلانا ہی فخر محسوس کرتے ہیں۔ سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹانا چاہیے لیکن سائل حق دار بھی ہو۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک سے غربت و افلاس کو ختم کرنے کیلئے عملی اقدام کرتے تاکہ غریبوں کی عزت و نفس مجروح نہ ہو اگر عوام زکوة، عشر اورخمص دیانتداری سے دینا شروع کردیں تو ملک میں کوئی غریب دکھائی نہ دے لیکن یہ المیہ ہے کہ ہم اپنے فرائض کوادا کرنے میں بھی تغافل پسندی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس سے معاشرہ طرح طرح کے مسائل کا شکار ہے۔
Google Analytics Alternative