کالم

محاذ آرائی کی بجائے قانونی راستہ اختیار کیا جائے

 حکومت اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہونے سے سیاسی منظرنامہ دھندلاہٹ کا عکاس دکھائی دے رہا ہے اور سیاسی اُفق پر چھائے گہرے بادل کسی طوفانی کیفیت کااشارہ کرتے دکھائی دے رہے ہیں اور سیاسی درجہ حرارت آئے دن بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ایک طرف وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد نواز شریف ترقیاتی کاموں کا دھڑا دھر افتتاح کررہے ہیں اور بھرپور عوامی جلسوں سے خطاب کرکے حکومتی کارکردگی پر روشنی ڈالتے نظر آتے ہیں ۔ احتجاجی سیاست کرنے والوں کو عوام ہر جگہ بھرپور جواب دے رہے ہیں ۔ پنجاب اور کراچی میں ان کو خوب جواب دیا گیا۔ وزیراعظم کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے دل میں بغض نہیں بلکہ لوگوں کی خدمت کا جذبہ ہے پختونخواہ میں بھی حکومت بنا سکتے تھے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا جس کو جہاں مینڈیٹ ملا اس کا احترام کرتے ہیں ہم نے صوبائی حکومتوں کو مکمل تعاون فرا ہم کیا کچھ لوگوں نے نعرے لگوائے کام نہیں کیا میرے پاس سیاسی مخالفین کو جواب دینے کام وقت نہیں۔یہ وقت واقعی احتجاجی سیاست کا نہیں عوام کی خدمت کا ہے لیکن حکومت کو دور اندیشی سے کام لیتے ہوئے اس بات کے پس منظر میں جانے کی ضرور ت ہے اور ان محرکات و عوامل کا جائزہ لینا چاہیے جو احتجاجی سیاست کا ذریعہ بن رہے ہیں حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی جان و مال کی حفاظت کو بھی یقینی بنائے ملک میںا من قائم رکھنا ، مہنگائی ، بیروزگاری کا خاتمہ اور سماجی انصاف کی فراہمی بھی حکومت کے فرائض میں شامل ہے ۔ سب سے بڑھ کر یہ امر کہ سیاسی جماعتوں کو ساتھ لے کر چلنا بھی حکومت کی ذمہ داری ہے لیکن صد افسوس کہ ہمارے ہاں سیاست میں برداشت کا فقدان ہے اور ہٹ دھرمی کا رجحان پایا جاتا ہے جس سے سیاسی ہلچل عوام کا مقدر بنی رہتی ہے۔ وزیراعظم جس تواتر سے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے دکھائی دیتے ہیں اس سے ان کی نیت پر شبہ نہیں کیا جاسکتا ۔ یہ حکمت عملی اچھی ہے اور یہ اقدامات مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی کارکردگی کو بڑھا رہے ہیں لیکن سیاسی عدم استحکا م کا جو منظر اس وقت دیکھنے میں آرہا ہے یہ قطعی طورپر جمہوریت کیلئے نیک شگو ن قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ حکومت کے پاس اب بھی وقت ہے وہ سیاسی مخالفین کی بات کو سنے اور اس قیمتی وقت کو ضائع نہ کرے کیونکہ حکومت وہی کامیاب قرارپاتی ہے جو سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو نہ صرف اپنے ساتھ لے کر چلتی ہے بلکہ اس کے تحفظات کو بھی دور کرتی ہے پانامہ لیکس پر اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرنا حکومت کا کام ہے لیکن حکومتی سطح پر متفقہ ٹی او آرز کا نہ بننا ہی احتجاجی سیاست کا باعث قرار پایا اور تحریک انصاف سڑکوں پر احتجاج کررہی ہے اور اب تو چیئرمین پی ٹی آئی نے رائے ونڈ مارچ کا اعلان بھی کردیا ہے اور اس ضمن میں سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ ڈاکٹر طاہر القادری تحریک قصاص چلائے ہوئے ہیں اور وہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے شہداءکا قصاص مانگ رہے ہیں عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید تحریک نجات اور جماعت اسلامی دھرنا اور پیپلز پارٹی بھی سڑکوں پر آنے کیلئے پر تول رہی ہے اور جو سیاسی منظرنامہ بنتا دکھائی دے رہا ہے وہ حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے حکومت سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے احتجاج پر سنجیدہ غور وفکر کرے اور ان کو اعتماد میں لے ۔پانامہ پیپرز پر متفقہ ٹی او آرز کو یقینی بنائے یہی وہ راستہ ہے جو جمہوریت کیلئے سود مند ہے۔ حکومت کو اس وقت کئی چیلنجز کا سامنا ہے ایک طرف دہشت گردی ہے تو دوسری طرف اس کو بھارتی جارحیت اور سازش کا سامنا ہے ان حالات میں سیاسی محاذ آرائی کامتحمل ہماراملک نہیں ہوسکتا اس لئے حکومت برداشت کے جمہوری کلچر کو اپناتے ہوئے ملک میں سیاسی استحکام لائے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں ہوگا ۔ ملک ترقی و خوشحالی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتا ۔حکومت سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لے کر چلے اور اپوزیشن کے تحفظات کو دور کرے تاکہ جمہوریت پر کوئی کاری ضرب نہ لگے۔ ملک میں جمہوری کلچر کو پروان چڑھائے بغیر محاذ آرائی کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں مل جل کر ملک و قوم کی ترقی کیلئے کام کریں، سیاسی استحکام سے ہی ملک ترقی کے راستے پرگامزن ہوگا۔بالواسطہ جمہوریت کا نظام نجانے کیوں کامیابی سے اپنے منزل کی طرف رواں دواں نہیں ہوپارہا حالانکہ بڑی ریاستوں میں بالواسطہ جمہوری نظام کامیاب قرار پاتا ہے کامیاب جمہوریت کی پہلی شرط تعلیم ہے جب تعلیم پر نظر دوڑائی جائے تو رونا آتا ہے یہ روبہ تنزل ہے۔ جمہوریت کی کامیابی یہ تقاضا کرتی ہے کہ سیاسی جماعتیں صحتمدانہ اور معاشی اصولوں پر قائم ہوں اور ملک کی ترقی و خوشحالی کو اپنا نصب العین سمجھیں۔ سیاسی رہنماﺅں کا قابل دوراندیش اور تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے۔ جمہوریت کی کامیابی میں ایک شرط یہ بھی قرار پاتی ہے کہ ہر ایک کو تحریر اور تقریر کی آزادی ہو تاکہ ملکی مسائل پر آزادانہ رائے قائم ہوسکے ۔ جمہوریت میں حکمران عوام کے سامنے جوابدہ ہوا کرتے ہیں اور حکومت فلاح عامہ ، اخلاقی اور تعلیمی ضرورت کے ساتھ ساتھ امن و استحکام ، مساوات، احساس ذمہ داری اور جذبہ حب الوطنی ، خود اعتمادی بھی جمہوریت کی کامیابی کی شرائط میں شامل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان کا فقدان ہے جس سے حکومت اور سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کیخلاف صف بندی کیے ہوئے دکھائی دیتی ہیں جس سے سیاسی عدم استحکام پیدا ہورہا ہے اور ملک کی ترقی و خوشحالی متاثر ہورہی ہے۔ وقت کی ضرورت ہے کہ سیاسی جماعتیں صحت مندانہ کردار ادا کریں اور حکومت بھی سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کو اپنے ساتھ لیکر چلے تاکہ محاذ آرائی نہ ہو اور ملک کو ترقی کے راستے پر گامزن کیا جاسکے۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ اپوزیشن کے تحفظات دور کرے۔ یہی کامیاب جمہوریت کا راستہ ہے۔
 آبی آلودگی کی روک تھام وقت کی ضرورت
 ملک میں آبی آلودگی کا شور عوام الناس کیلئے جہاں پریشان کن ہے وہاں حکومت کیلئے لمحہ فکریہ بھی ہے ۔ آبی آلودگی سے انسان طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہورہا ہے اور اس کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں ۔ پانی انسان کی صحت کیلئے انتہائی ضروری ہے بدن کیلئے اہم جزو ہے اس کے بغیر کوئی جاندار زندہ نہیں رہ سکتا لیکن تعجب ہے کہ وطن عزیز میں لوگوں کو صاف پانی ملنا بھی محال ہے عوام پہلے ہی شور کی آلودگی ، زمینی آلودگی کے شکار تھے اور اب آبی آلودگی بھی ان کا مقدر بنے دکھائی دینے لگی ہے ۔ حکومت آبی آلودگی کی روک تھام کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ لوگوں کو موذی امراض سے بچایا جاسکے ۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں کو نبھائے اور عوام کو صاف و شفاف پینے کا پانی بہم پہنچائے ۔ آبی آلودگی پر عدالت عظمیٰ نے بھی نوٹس لیا ہے اور اس ضمن میں کئی وفاقی سیکرٹری بھی سرزنش کے شکار ہوئے ۔ حکومت کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے کہ اس کے باسی پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ جمہوریت میں عوام حکمران جماعت کا محاسبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں لیکن یہاں معاملہ اس کے برعکس ہے ۔

سیاسی قائدین اور ان کی خدمات

میرے پاس  مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین، جس میں پاکستان مسلم لیگ(ن)، تحریک انصاف ، اے این پی، جماعت اسلامی، جمیعت لعلمائے اسلام، پاکستان پیپلز پا رٹی، ایم کیو ایم، مسلم لیگ(ق)، کچھ آزاد اراکین کے موبائیل نمبر ہیں اور اکثر و بیشتر مختلف سیاسی پا رٹیوں کے راہنماﺅں کے ساتھ رابطہ ہوتا رہتا ہے۔میں نے یہ بات نو ٹ کی ہے کہ وہ سیاسی قائدین جو ریڈیو، ٹی وی اور مختلف اخبارات میں ٹاک شوز اور انٹر ویو میں اللہ رسول کانام لیتے ہیں اور پاکستان کے عوام کے مسائل کی وجہ سے انکو نیند نہیں آتی ان سیاست دانوں اور مختلف سیاسی پا رٹیوں کے قائدین سے جب آپ رابطہ کریں گے تو یہ کبھی بھی آپکو جواب نہیں دیں گے۔ اور جب الیکشن کے دوران ووٹ لینے آتے ہیں تو پیروں پر پڑیں گے اور کسی کے 50 سال پہلے مرحوم والدین، بہن بھائی اور عزیز و آقارب کے لئے فا تحہ پڑھتے آتے ہونگے۔ جب یہ لوگ ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز بن جاتے ہیں تو پھر کبھی آپکو پکڑائی نہیں دیں گے۔ گزشتہ دنوں میرے دل میں خیال آیا کہ مختلف سیاسی پا رٹی کے لیڈران اور قائدین کے سیل نمبر معلوم کرکے ان سے رابطہ کیا جائے اور تجزیہ کیا جائے کہ ان میں کونسے ایم این اے، ایم پی اے اور سینیٹرز جواب یاResponce دیتے ہیں ۔ میں ہر سیاسی پا رٹی کے چالیس ایم پی اے، ایم این اے اور سینیٹرز کے نمبر معلوم کرکے اس سے کسی اہم ایشو پررابطہ کر نے کی کو شش کی اور میرے اس سروے یہ بات ثابت ہوئی کہ عوامی اور سماجی رابطوں کے لحا ظ سے جماعت اسلامی سب آگے یعنی پہلے نمبر پر جنکے 40 ایم این اے، ایم پی اے، سینیٹرز اور پا رٹی کے اہم عہدیداروں میں 35 نے کسی ایشو پر ریسپانس دیا، پیپلزپارٹی کے اہم شخصیات میں 40 میں 25، مسلم لیگ نواز کے 40 اعلی عہدیداروں میں صرف مہتاب عباسی اور پشاور سے ایک ایم این اے ، تحریک انصاف کے چالیس میں۰۱ عہدیداروں یعنی ساجد نواز ، عثمان ترہ کئی،عاقب اللہ ،علی محمد خان وغیرہ نے جواب دیا اور تحریک انصاف کے ان سب کے سب کا تعلق کے پی کے سے تھا ۔ کے پی کے کے علاوہ کسی اور صوبے کے تحریک انصاف کے کسی عہدیدار نے کوئی جواب یا ریسپانس نہیں دیا۔ ایم کیو ایم کے تقریبا 40 میں ۵ اور اے این پی کے کسی عہدیدار نے جواب نہیں ۔ مولانا فضل الرحمان کے پا رٹی کے کسی ایم این اے ایم پی ایز نے جواب نہیں دیا۔ ان میں جو سب سے زیادہ ایکٹیو سینیٹر جو ہر چیز پر نظر رکھتے ہیں وہ جماعت اسلامی کے سراج الحق، پاکستان پیپلز پا رٹی کے سید خور شید شاہ ، پاکستان عوامی لیگ کے شیخ رشید احمدجماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ، ایم کیو ایم بیرسٹر سیف اور صوابی سے قومی محا ذ کے بابر سلیم ، تحریک انصاف کے ساجد نواز ، عثمان ترہ کئی،عاقب اللہ ،علی محمد خان سر فہرست ہیں۔ ہم ان لوگوں کو قومی ، صوبائی اسمبلیوں ، سینیٹ میں بھیج دیتے ہیں مگر بڑی افسوس کی بات ہے کہ پھر ایم این اے،سینیٹر بن کر وہ کسی اور دنیا کی مخلوق بن جاتے ہیں۔ مُجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اُن سیاسی پا رٹیوں کے لیڈران جو ٹی وی کے ہر چینلز پر بیٹھ کر ہمیں محبت ،خوت کا درس دیتے ہیں وہی ایم این اے ، ایم پی اے اور سینیٹرز ، صوبائی اسمبلی کے ممبران کسی اہم ایشو پر سُننے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ اگر ہم دیکھیں تو تحریک انصاف کے پنجاب اور دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے جتنے بھی قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز ہیں وہ متو سط طبقے کے ہیں مگر یہ بد قسمتی کی بات ہے کہ وہ عوام سے گھبراتے ہیں۔اے این پی کے اہم لیڈر کی توجہ میں نے ایک اہم قومی مسئلے کی طرف مفضول کرائی تو ایم این اے صا حب نے جواب دیا کہ آپ نے تحریک انصاف کو ووٹ کیوں دیا ۔ میں نے اُسے کہا آپ ایک بُہت بڑے لیڈر ہیں اور میں آپ سے اس قسم کے جواب کی توقع نہیں تھی۔ہمارے یہ عوامی نمائندے پاکستان کے مسائل سے بے خبر ہیں۔ پچھلے دنوں پشاور کے مسلم سٹی کالونی گیا ۔ یہ وہ علاقہ جو نو شہرہ اور پشاور کے سنگم پر واقع ہے اور یہ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلی پر ویز خٹک اور خیبر پختون خوا کے گورنرافتخار جھگڑا کا انتخابی حلقہ ہے اور بد قسمتی سے جہاں پر ۸۱ گھنٹے سے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے ۔ اس سلسلے میں جب میں کے پی کے کے گو رنر اور وزیر اعلیٰ پر ویز خٹک سے سے اُنکے موبائیل نمبر پر رابطہ کرنے کی کو شش کی تو ان دونوں حضرات نے کوئی جواب نہیں دیا۔ البتہ جماعت اسلامی کے صوبائی امیر مشتاق خان نے پیسکو کے صوبائی چیف سے اس سلسلے میں بات کی اور پشاور سے ایک ایم این اے مسز بخاری نے کہا کہ وہاں پر بجلی چو ری زیادہ ہوگی اس وجہ سے زیادہ لوڈ شیڈنگ ہوگی۔ میںنے اسے کہا میڈم آپ مُجھے بتائیں کہ بجلی چوری روکنا کس کی ذمہ داری ہے۔در اصل سیا سی پا رٹیوں کی جو راہنماءعوام سے فا صلہ رکھتے ہیں وہ اچھے لیڈر نہیں ہوتے ۔اس میں بھی کوئی شک اور شُبہ نہیں کہ پاکستان کے عوام کو کوئی پتہ نہیں چلتا کہ ہم کس کو مُنتخب کرکے ووٹ دیتے ہیں مگر مُجھے اُمید ہے کہ وہ دن جلد آنے والا ہے کہ پاکستانی عوام اچھے اور بُرے میں تمیز کر سکیں گے اور پھر اُنکو ووٹ دیں گے جو انکی زخموں پر مرہم لگائیں ۔ وہ دوربہت جلد آنے والا ہے کہ پاکستانی عوام اس قسم کے خود غرض عناصر کو رد کریں

افواج پاکستان ناقابل تسخیر

کچھ روز پہلے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا تھا کہ پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو گذشتہ چند ہفتوں میں بہت سی ایسی کامیابیاں ملی ہیں جن کی بنیاد پر غیر جانبدار حلقے بجا طور پر یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ پاک فوج نے گذشتہ کچھ عرصے میں بڑی حد تک دشمن کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور اب افرا تفری اور بے سر و سامانی کے عالم میں پاکستان کے مخالفین ایسے اقدامات اٹھا رہے ہیں جس سے ان کی بوکھلاہٹ بہت عیاں ہے کیونکہ حالیہ ہفتوں میں ایک جانب پاک افواج اور انٹیلی جنس اداروں نے ان کے تخریب کاری کے بہت سے ایسے منصوبوں کو خاک میں ملایا ہے جن کی بنیاد پر ایک جانب ” را “ اور ” این ڈی ایس “ کو اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے تو دوسری طرف ایسے چند حلقے جو خود کو نام نہاد داعش کے جنم داتا سمجھنے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو کر افواج پاکستان کی صلاحیتوں کو انڈر ایسٹیمیٹ کرنے کی بھول میں مبتلا ہو چلے تھے ، ایسے تمام وطن دشمن عناصر کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا ہے اور ان کے عزائم بڑی حد تک اپنی موت آپ مر چلے ہیں ۔
یاد رہے کہ اس ضمن میں گذشتہ کچھ عرصے میں پاکستان کو شاندار کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ۔ اگرچہ اس تلخ حقیقت سے بھی پوری طرح صرف نظر نہیں کیا جا سکتا کہ داعش کے یہ چند گرگے ، ” را “ ، این ڈی ایس “ ، ” ٹی ٹی پی “ اور بعض دیگر غیر ملکی خفیہ ایجنسیاں ان دنوں بھی اپنی مکروہ سازشوں میں مصروف ہیں اور وقتاً فوقتاً انھیں اپنی نا پاک سعی میں کچھ نہ کچھ کامیابی بھی ملتی رہی ہے ۔
اسی تناظر میں پاک فوج کا کہنا ہے کہ ملک میں خود کو دولت اسلامیہ کہلوانے والی شدت پسند تنظیم داعش نے جگہ بنانے کی کوشش کی تھی جسے ناکام بنا دیا گیا ہے تاہم اس کے خاتمے کا کام ابھی ختم نہیں ہوا ۔پاکستان فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے راولپنڈی میں ایک طویل پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ داعش کے تین سو سے زائد اراکین جس میں ان کے امیر حافظ عمر شامل ہیں سب گرفتار ہو چکے ہیں ۔
انھوں نے بتایا کہ اس تنظیم کے پاکستان میں سربراہ حافظ عمر تھے جو قانون نافذ کرنے والے ادارے کے 15 اہلکاروں کی ہلاکت کے علاوہ فیصل آباد میں میڈیا کے دفاتر پر حملوں میں بھی ملوث رہے ۔ اس کے علاوہ لاہور، سرگودھا اور اسلام آباد میں میڈیا ہا ¶سز پر حملوں میں بھی یہ ملوث تھے ۔
 آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ داعش کے پاکستان میں تین سو نو افراد میں سے 25 غیر ملکی تھے جن میں افغانستان، عراق اور شام کے شہری بھی شامل تھے ۔ جنرل باجوہ نے پریس کانفرنس کے دوران تنظیم کے رہنما ¶ں کی تصاویر بھی جاری کیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ اور چند دیگر پاکستان مخالف عناصر بہت سی دیگر شر انگیز کاروائیوں کا بھی حصہ رہے ۔ ’حافظ عمر کے علاوہ علی رحمان عرف ٹونہ، عبدالسلام عرف رضوان عظیم اور خرم شفیق عرف عبداللہ منصوری بھی سرکردہ رہنما تھے۔ ان کے سر پر 25 لاکھ روپے کا انعام بھی مقرر تھا۔‘پاکستان میں داعش کی موجودگی کے ابتدائی اشارے مختلف شہروں میں وال چاکنگ کے ذریعے دکھائی دیے تھے۔
مبصرین کے مطابق فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’یہ لوگ مختلف لوگوں کو وال چاکنگ کے لیے ایک ہزار روپے ادا کرتے تھے۔ لکھنے والوں کے لیے واحد کشش یہ ہزار روپے ہوتے تھے لیکن پاکستانی قوم نے مل کر ان لوگوں کو یہاں جگہ بنانے کی اجازت نہیں دی ہے۔
غیر جانبدار ذرائع نے اس صورتحال کو وطن عزیز کے لئے انتہائی حوصلہ افزا قرار دیا ہے اور یقین ظاہر کیا ہے کہ آنے والے دنوں میں افواج پاکستان اسی تندہی سے اپنا فریضہ سر انجام دیتی رہیں گے البتہ سول سو سائٹی کا بھی فرض ہے کہ تمام مشکوک افراد کی سر گرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے تا کہ ملک کے اندرونی اور بیرونی مخالفین اپنے ناپاک عزائم میں کبھی کامیاب نہ ہو پائیں

دہشت گردی عالمگیر مسئلہ

پاکستان عرصہ دراز سے دہشت گردی کی زد میں ہے اور اب تو اسی دہشت گردی نے عالم اسلام اور اس کے بعد یورپ کا بھی رخ کر لیا ہے اور اس کو بہت آسان معاملہ سمجھنے والا اور اپنی ماہر رانہ رائے، سیمناروں اور ورکشاپوں سے پاکستان کو نوازنے والا یورپ آج اپنے بچاﺅ کی تدابیر میں مصروف ہے۔ عالم اسلام کے بھی محفوظ اور مضبوط سمجھے جانے والے ممالک ان کاروائیوں کی زد میں آچکے ہیں۔ سعودی عرب میں حالیہ دہشت گرد کاروائیاں بھی اسی عالمی دہشت گردی اور سازش کا حصہ ہے جس کا مقصد ہے کہ عالم اسلام کو دو دھاری تلوار سے کاٹا جائے یعنی ایک تو اس کا امن خراب کیا جائے اور دوسرے اس میں پھوٹ بھی ڈالی جائے لہٰذا سعودی دھماکوں کے کچھ ملزمان کو پاکستان سے جوڑ دیا گیا۔ جدہ میں ہونے والے دھماکے کے ملزم عبداللہ گلزار کو پاکستانی شہری بتایا گیا جبکہ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ عبداللہ گلزار کا اصل نام ذوالفقار فیاض احمد کاغذی ہے اور وہ بھارت کی ریاست مہاراشٹر کا رہنے والا تھا اور ”را “کےلئے کام کرتا تھا لیکن اُسے پاکستانی شہری ظاہر کر کے پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کی گئی ۔دراصل پاکستان کے نام کے ساتھ دہشت گردی اور شدت پسندی کچھ ایسے جوڑ دی گئی ہے کہ اب اس پر ہر طرح کا الزام لگا دینا بہت آسان ہے۔ پاکستانی معاشرے میں مختلف سازشوں کے تحت شدت پسندی کو دخیل کر دیا گیا ہے یہاں فقہ اور مسلک کی ایسی جنگ چھیڑی گئی ہے کہ اُس کو ختم کرنے کے لیے ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کی ضرورت ہے ۔شدت پسندی کو پھیلانے کے لیے بڑی بے دردی سے مدارس کو استعمال کیا گیا وہی مدارس جو علم و تعلیم کا مرکز تھے اور یہاں بڑے امن کے ساتھ قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی تھی یہ بے ضرر طلباءاپنے کام سے کام رکھتے تھے اور پُر امن طریقے سے اپنی حاصل کی ہوئی تعلیم دوسروں تک منتقل کرتے تھے لیکن عالمی طاقتوں کی سازشوں نے اپنے مقاصد کےلئے ان معصوم لوگوں کو استعمال کیا اور یہ سب بڑی آسانی سے ان سازشوں کا شکار ہو بھی گئے۔ عام لوگ جو مدارس میں اپنے بچے دینی تعلیم کےلئے بھیجتے تھے وہ ان حالات کی نذر ہوتے گئے اور دہشت گردوں کے ہتھے چڑھتے گئے یہی بچے خود کش دھماکوں میں استعمال ہوتے رہے اور ہورہے ہیں شدت پسندی کو بھی بہت حد تک یہی سے فروغ ملتا رہا۔ اس ساری صورت حال میں ضرورت اس امر کی تھی کہ ان مدارس کو قومی تعلیمی دھارے میں شامل کیا جاتا لیکن اس کےلئے کوئی سنجیدہ کو شش نہیں کی گئی۔ سانحہ اے پی ایس کے بعد جب قومی لیڈر شپ کے احساس میں مصنوعی یا حقیقی، جیسا بھی سہی ارتعاش پیدا ہوا اورقوم کی آہ و بکا کا کچھ کچھ اثر ہوا تو یہ سر جوڑ کر بیٹھے اور دہشت گردی اور شدت پسندی کے خلاف منصوبہ بندی کی اور ایک متفقہ قومی ایکشن پلان بنایا گیا تو اس میں مدارس کو بھی قومی تعلیمی دھارے میں شامل کرنے کی بات کی گئی یہ کام بہت پہلے ہو جانا چا ہیے تھا لیکن قومی ایکشن پلان میں اس اہم کام کو شامل کرنے کے بعد بھی اس پر ابھی تک کام شروع نہیں ہو سکا۔ حیرت انگیز طور پر مدارس کی طرف سے اس بات پر اعتراض بھی کیا گیا کہ مدارس کی رجسٹریشن کیوں کی جائے اسے اسلام اور مدرسوں کے خلاف سازش قرار دیا گیا ، عوام کے سامنے اسے یوں بنا کر پیش کیا گیا جیسے یہ اسلام کے خلاف سازش ہو اور علماءاور مدارس کو پاکستان میں خطرات لاحق ہوں اور یوں قومی ایکشن پلان کی اس شق کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ حقیقت حال یہ ہے کہ بہت سارے مدارس بھی آج کل تجارتی مقاصد کے لیے بنائے گئے ہیں لہٰذا انہیں حکومت کے سامنے جوابدہ ہونا چاہیے ان میں سے کئی ایک میں ایسا نصاب پڑھایا جارہا ہے جو بجائے اسلام کے عام اصولوں کو سمجھانے کے نہ صرف اپنے فقے کو ہی حتمی اور عین اسلام بتاتا ہے بلکہ دوسرے مسالک کو کفر کے زمرے میں بڑے آرام سے شامل کر دیتا ہے اور یوں معاشرے میں نفرت پیدا کرنے کی مکمل کوشش کی جاتی ہے ۔ یہ تو ایک پہلوہے اور سب سے اہم ہے کیونکہ اسلام میں بے اتفاقی کی کوئی گنجائش نہیں اسی چیز نے اسلام کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے کہ مسلمان آپس میں معمولی معمولی اختلافات کی بنا پر باہم دست و گریبان رہے ایک دوسرے کا قتل عام کرتے رہے اور اب بھی وہی ہو رہا ہے۔ شدت پسندی اور دہشت گردی نے نہ صرف عالم اسلام، اسلام اور مسلمانوں کو بے تحاشا نقصان پہنچایا بلکہ دشمنوں کو اسلام کے خلاف بات کرنے کا موقع دیا لیکن ہم اپنا رویہ بدلنے کو کسی طور تیار نہیںمگر اب ہم اتنا نقصان اٹھا چکے ہیں کہ ہمارے پاس مزید کسی ایسے رویے کی گنجائش نہیں ۔ حکومت نے ایک بار پھر تنظیم المدارس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے جس کے تحت مدارس کو مرکزی دھارے میں لایا جائے گا اُمید ہے کہ اس بار یہ تنظیم سختی اور تنگ نظری کا مظاہرہ نہیں کرے گی اور حالات اور حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے اور حکومتی موقف کو سمجھتے ہوئے تعاون کرے گی۔ پاکستان میں اس وقت تقریبا چالیس ہزار مدارس کام کر رہے ہیں جن میں اندازاََ 5 3. ملین یعنی 35 لاکھ طلباءتعلیم حاصل کر رہے ہیں سوچنے والی بات یہ ہے اس بڑی تعداد کو مفت تعلیم اور قیام و طعام کیسے فراہم کیا جا رہا ہے آخر عوام سے حاصل ہونے والے چندے اتنے سارے اداروں کو یہ سہولیات فراہم کرنے کے قابل کیسے بنا رہے ہیں لہٰذا ان کا حساب کتاب بھی ہونا ضروری ہے بالکل اُسی طرح جیسے دوسرے اداروں کا ہوتا ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ یہ ادارے کسی قانون کے تحت آنے کو تیار نہیں ،کہیں ان کو سیاسی جماعتوں کی آڑ حاصل ہے اور کہیں یہ مذہب کا سہارا لے لیتے ہیں ۔ ہمارے مدارس کا نظام تعلیم صدیوں پرانے طریقوں پر چل رہا ہے تبدیلی سے مراد ہر گز یہ نہیں کہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے بارے میں خدانخواستہ کوئی ایسی جسارت کی جائے لیکن یہ ضروری ہے کہ جدید ،پیشہ ورانہ اور سائنسی مضامین بھی نصاب میں شامل کئے جائیں تاکہ یہ بچے جب ان تعلیمی اداروں سے نکلیں تو وہ دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ آج سے تقریباََ ہزار سال پہلے جب عباسی وزیر نظام الملک نے اپنے دور کے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھی تو اِن کے نصاب میں علم فلکیات جیسے جدید مضمون کو بھی شامل کیا اگر دیکھا جائے تو اس مضمون کا دینی مضامین سے کوئی تعلق نہیں تھا لیکن اسے شامل نصاب کیا گیا ۔ درس نظامی کی صورت میں بھی اس نصاب میں تبدیلی کی گئی لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج درس نظامی کو 300 سال ہو چکے ہیں لیکن نصاب وہی کا وہی ہے بلکہ اکثر اوقات اس کی زبان میں تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور وہی دقیق زبان استعمال ہو رہی ہے جو عام لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے شاید اسے بھی غیر اسلامی سمجھا جا رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مدارس کے نصاب میں دینی مضامین کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی مضامین بھی شامل کیے جائیں اور یہ سمجھنا چھوڑ دیا جائے کہ یہ مضامین غیر اسلامی ہیں جب تک کہ ان میں اسلام سے متصادم مواد شامل نہ ہو۔ اگر یہ 35 لاکھ طلباءبھی قرآن و حدیث کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیو ی تعلیم حاصل کر سکیں تو وہ اپنی زندگی آج کی دنیا میں اللہ تعالیٰ اور رسولﷺ کے راستے پر چلتے ہوئے زیادہ بہتر طور پر بسر کر سکتے ہیں یہاںدینی مضامین بھی ان کی حقیقی روح کے مطابق پڑھائے جائیں۔ اگر حکومت قومی ایکشن پلان کے اوپر واقعی عمل کر وا کے ملک میں امن و امان کی صورت حال بہتر کرنا چاہتی ہے تو اسے اس کی تمام شقوں پر مکمل عمل کروانا ہوگا اور مدارس کو بھی اس پر عمل کروانے پر مجبور کرنا ہوگا تاکہ ملکی حالات کو بہتر سے بہتر کیا جا سکے۔

عیدالاضحی اور اس کے تقاضے

عیدالاضحی حضرت ابراہیمؑ کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اللہ کے حکم سے اپنے بیٹے حضرت اسماعیلؑ کی قربانی دینے کیلئے اس کے گلے پر چھری چلائی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیمؑ سے فرمایا اے ابراہیمؑ تیری قربانی قبول ہوئی اور اپنے پاس کھڑے مینڈھے کو قربان کردیا چنانچہ آپؑ نے مینڈھے کو راہ خدا میں ذبح کیا ۔ حضرت اسماعیلؑ نے نہایت فرمانبرداری کا نمونہ پیش کرتے ہوئے کہا ابا جان وہ کر گزرئیے جس کاحکم آپ کو آپ کے رب نے دیا ہے۔ آپ انشاءاللہ مجھے ثابت قدم پائیں گے۔ علامہ اقبالؒ نے اس کی منظر کشی کیا خوب انداز میں کی فرماتے ہیں۔
یہ فیضان نظر تھا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسماعیلؑ کو آداب فرزندی
 اس عید کی کئی حکمتیں اور اسرار پوشیدہ ہیں یہ عید مسلمانوں کے اندر ایثار اور قربانی کا جذبہ پیداکرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کو ہماری قربانیوں کا گوشت اور خون نہیں جاتا صرف ہماری نیتیں اور جذبہ ایثار جاتا ہے۔ مسلمان عید قربان پر اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہیں ۔ یہ شہادت کی الفت میں قدم رکھنا ہے لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہوتا آج یہ عید ہم سے یہ تقاضا کررہی ہے کہ خدا کی رضا کیلئے ہر قربانی کیلئے تیار رہیں لیکن صد افسوس کہ ہم اسلام کی روح سے ہٹتے جارہے ہیں ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے لیکن آج مسلمان ہی مسلمان کا خون کررہا ہے ، قتل و غارت گری ، کا بازار گرم ہے۔ ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے ۔ راہزنی اور چوری ڈکیتی مسلمانوں نے اپنا معمول بنا لیا ہے ۔ اسلام امن کا دین ہے اور سلامتی کا درس دیتا ہے۔ اسلام حقوق العباد پر زور دیتا ہے لیکن آج آجر آجیر سے جو سلوک روا رکھے ہوئے ہے اس کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے۔ اسلام محنتی کو اللہ کا دوست قرار دیتا ہے لیکن آج مزدور کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جارہا ہے ۔ سماجی نا انصافی ہے حق تلفی عام ہوگئی ہے اور معاشرے میں طرح طرح کی قباحتیں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ اس عالم میں ایثار کی بات ایک سوالیہ نشان دکھائی دینے لگی ہے۔ آج مسلمان غیر مسلموں کے زیر عتاب ہیں اور دنیا میں جہاں بھی مسلمان بستے ہیں ظلم و ستم کا نشانہ بنے دکھائی دے رہے ہیں جس کے محرکات آپس کی نا اتفاقی اور اتحاد کا نہ ہونا شامل ہے۔ جب تک مسلمان متحد رہے ان کی دھاک ہرسو دکھائی دیتی رہی اب ان میں جذبہ ہمدردی اور ایثار کا فقدان ہے جس سے یہ مار کھائے جارہے ہیں ۔ عیدالاضحی کی خوشیاں تب ہی حقیقی خوشیاں ثابت قرار پاسکتی ہیں جب ان میں غریب و مساکین کو شامل کیا جائے جس خوشی میں غرباءشامل نہ ہوں وہ خوشی خوشی نہیں رہتی آقائے دو جہاں نے درویشی کو پسند فرمایا آپ غریبوں ، محتاجوں اور یتیموں کا بہت خیال رکھتے تھے آج ذرا ہم اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو شرم سے ہماری نگاہیں جھک جاتی ہیں ہم غاصب ہیں جس ملک میں دولت کا غیر منصفانہ سسٹم ہو وہاں سماجی انصاف کیسے ممکن ہے۔ دولت چند ہاتھوں میں ہونے سے امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے یہ تفریق اسلام کے اصولوں کے منافی ہے آج عید قربان پر یہ عہد کرنا ہوگا کہ ہم اس معاشرے کو اسلام کے سانچے میں ڈھالیں گے اور پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ ملک کیلئے ہر قربانی دیں گے اور اس کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ یہی خوشی حقیقی خوشی کہلائے گی یہ قربانی ایک نہ ایک دن دینا پڑے گی تاکہ علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کا خواب شرمندہ تعبیر ہو پائے۔ عیدالاضحی کے تقاضے پورے کرنے سے ہی عید کی حقیقی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں آج مسلمان قربانیاں بھی کرتے ہیں لیکن تعجب ہے کہ پھر بھی ان کے گردونواح میں مستحق لوگ ان کا منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جذبہ ایثار کو اپنائیں اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں ، ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے مل جل کر کام کریں۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ وہ عوام کے مسائل کو حل کرے ان کے معیار زندگی کو بلند کرے اور اپنی ذمہ داریوں کو بطریق احسن نبھائے۔
ٹرانسپورٹروں کی من مانیاں
 عید کے پرمسرت موقع پر ٹرانسپورٹروں نے راولپنڈی ،اسلام آباد اور دیگر شہروں سے اپنے گھر لوٹنے والے پردیسیوں سے انتہائی ناروا سلوک رکھا رکھا زائد کرائے کی وصولی کے ساتھ ساتھ مسافروں کو گاڑیوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسا گیا اگر کوئی مسافر مزاحمت کرنے کی جرا ¿ت کرتا تو اس کے ساتھ بدتمیزی کی جاتی ٹریفک قوانین کی بکھری دھجیاں دیکھ کر ایسا لگتا کہ یہاں کوئی قانون نہیں اور ٹرانسپورٹر بے لگام گھوڑے کی طرح من مانیاں کرتے رہے بس سٹاپس ، لاری اڈوں ،مسافروں کی حالت زار دیکھ کر انسان کا دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوجاتا ہے ایک جمہوری دور حکومت میں عوام ذلیل و خوار ہورہے ہیں قانون کی گرفت اتنی ڈھیلی کہ کوئی ان منہ زور ٹرانسپورٹروں کو پوچھنے والا نہیں قانون داری کے فقدان نے کئی مسائل کو جنم دیا ہے جن میں لاقانونیت سرفہرست ہے۔ انتظامیہ قومی تہوار کے مواقعوں پر ایسے ٹھوس اقدامات کو یقینی بنائے جن کی بدولت مسافر کسی تکلیف کے بغیر سفر کرسکیں سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے بالکل ممکن ہے اگر انتظامیہ اپنے فرائض فرض شناسی سے ادا کرے ، سیکرٹری پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی کی ڈھیلی گرفت ہی ٹرانسپورٹروں کو قانون شکنی کا مرتکب کرانے کا باعث بن رہی ہے ۔ مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ راولپنڈی اسلام آباد کے درمیان چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ میں اوورلوڈنگ زائد چارجنگ اور روٹ مکمل نہ کرنے کی شکایات عام ہیں لیکن کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہ آئی۔
پیشہ وربھکاریوں کی یلغار
راولپنڈی اسلام آباد میں بھکاریوں کی یلغار جہاں شہریوں کیلئے پریشان کن بنی دکھائی دیتی ہے وہاں انتظامیہ کیلئے ایک سوالیہ نشان بھی ہے ۔ لاری اڈوں، ریلوے اسٹیشن اور پبلک مقامات پر ان کی فوج ظفر موج دیکھنے میں آتی ہے اور یہ مختلف رنگ میں بھیک مانگنے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے ،پیشہ ور بھکاریوں نے اصل حق داروں کے حقوق بھی غصب کررکھے ہیں اور یہ تمیز کرنا مشکل ہوگیا ہے کہ حق کون ہے۔ پنڈی اسلام آباد اور گردونواح میں بھکاریوں کیخلاف کریک ڈاﺅن کی ضرورت ہے تاکہ ان شہریوں کو پیشہ ور بھیک منگوں سے نجات دلائی جاسکے ۔ اس وقت شہری ان بھکاریوں کی سرگرمیوں سے بے حد پریشان ہیں کیونکہ ہر جگہ یہ ان کو شرمندہ کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔ بعض دفعہ ان کو جھڑکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن یہ اس قدر ڈھیٹ ہوچکے ہیں کہ ان کے اندر غیرت و اہمیت نام کی کوئی چیز نہیں اور یہ ہاتھ پھیلانا ہی فخر محسوس کرتے ہیں۔ سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹانا چاہیے لیکن سائل حق دار بھی ہو۔ حکومت کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک سے غربت و افلاس کو ختم کرنے کیلئے عملی اقدام کرتے تاکہ غریبوں کی عزت و نفس مجروح نہ ہو اگر عوام زکوة، عشر اورخمص دیانتداری سے دینا شروع کردیں تو ملک میں کوئی غریب دکھائی نہ دے لیکن یہ المیہ ہے کہ ہم اپنے فرائض کوادا کرنے میں بھی تغافل پسندی کا مظاہرہ کررہے ہیں جس سے معاشرہ طرح طرح کے مسائل کا شکار ہے۔

شیخ رشید اور رؤز نامہ پاکستا ن

aa

عید ُا لا ضحی نام ہے عظیم قربانی کی یادداشت کا!

دنیا کی ہر قوم خوشی کے تہوار مناتی ہے تہواروں کے پیچھے کوئی نہ کوئی فلسفہ ضرورہوتا ہے جس طرح مسلمان ایک سنجیدہ امت ہے اسی طرح مسلمانوں کے تہوار بھی سنجیدہ ہیں کیوں نہ ہوں جس امت کو لوگوں کی اصلاح کے لئے اُٹھایا گیا ہوںوہ بردبار ، پُروقارقاراور سنجیدہ ہوتی ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”اور اسی طرح تو ہم نے تمہےں اےک امّتِ وَسَط بناےا ہے۔تا کہ تم دنےا پر گواہ ہو اور رسول تم پر گواہ ہو“۔البقرا(۳۴۱) ۔ دوسری جگہ فرمایا گیا ”اَب دنےا مےں وہ بہترےن گرو ہ تم ہو جسے انسانوں کی ہداےت کے لےے مےدان مےں لاےا گےا ہے۔ تم نےکی کا حکم دےتے ہو اور بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر اےمان رکھتے ہو۔“ امتِ وَسَط بنانے کا مقصد اےک امتےازی نشان سے مراد ےہ ہے کہ جب آخرت مےں رسول اپنی اُمت پر گواہی دےںگے کہ اے ربّ مےں نے تےرا پےغام امتِ مسلمہ تک پہنچا دےا تھا۔ اَب تم نے اس امت کو امتِ َ وسَط بناےا تھا ےہ اِن کا رہتی دنےا تک کام تھا کے وہ دنےا کی قوموں تک تےرا پےغام پہنچائےں۔ ےہ اعزاز کہ نبی کے بعد اس امت نے نبی کے قائم مقام کی ڈےو ٹی ادا کر کے دنےا کی قوموں کے سامنے نبی کی شر ےعت کو نافذ کرنا تھا کےا اس امت نے ےہ کام کےا؟ ےہ ہے امتِ وَسَط کا مفہوم۔اس امت کے سارے خوشی کے تہوار اس کے شیان شان ہیں۔عیدالفطر میں مسلمان ۰۳ دن کے روزے رکھتے ہیں تراویح پڑھتے ہیں شب بیداری کا اہتمام کرتے ہیں تہجد کے نفل ادا کرتے اللہ سے رو رو کے اپنے گناہوں کی بخشش کے دعائیں مانگتے ہیں اپنی زکوٰة ادا کرتے ہیں فطرانہ ادا کرتے ہیں اس کے بعد شکرانے کے طور پر عید الفطر کی دو رکعت نماز ادا کرتے ہیں پھر خوشی مناتے ہیں۔ اسی طرح عید الالضحیٰ سے پہلے پوری دنیا سے مسلمان اللہ کے گھر خانہ کعبہ میں جمع ہوتے ہیں سخت گرمی اور سخت سردی میں سفر کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں خانہ کعبہ کا طواف کرتے ہیں صفاءمروہ کے درمیان سعی کرتے ہیں قربانی کرتے ہیں منا میں خیموں کی بستی آباد کرتے ہیں۔مدینے میں مسجد نبوی میں نمازیںادا کرتے ہیںسارے مناسک حج کی ادائیگی کے بعد عیدالاضحی مناتے ہیں اس سارے پروسس کے اندر جو فلسفہ پوشیدہ ہے وہ قربانی کا فلسفہ ہے امتِ مسلمہ ہر سال عےدُالا ضحیٰ پر سنتِ ابرا ہےم علےہ السلام پر عمل کرتے ہوئے جانوروں کی قربانی کرتے ہےں اور ےہ عمل پوری دنےا مےںجہا ں جہاں مسلمان آباد ہےں تسلسل سے ہو رہا ہے ابراہےم ؑ نے اللہ سے دعُا مانگی اے پروردگار مجھے اےک بےٹا عطا کر جو صالحوں مےں سے ہو۔اُ س د ُعا کے بدلے مےں اللہ نے اُس کو ا ےک حلےم برُدبار لڑکے کی بشارت دی۔اورحضرت اسماعےل ؑ پےدا ہوئے۔ ” وہ لڑکا جب اِس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچا گےا تو ابراہےم ؑ نے اس سے کہا، بےٹا مےں خواب مےں دےکھتا ہوں کہ مےں تمہےں ذبح کر ہا ہوں اب تو بتا تےرا کےا خےال ہے۔ اس نے کہا ابّا جان جو کچھ آپ کو حکم دےاجارہا ہے کر ڈالےے آپ مجھے صابروں مےں پائےںگے۔ آخر مےں ان دونوںنے سر تسلےم خم کر دےا اور ابراہےم ؑ نے اپنے بےٹے کو ماتھے کے بَل گرِ ا دےا۔ اور ہم نے ندا دِی کہ اَے ابراہےم ؑ تو نے خواب سچ کر دکھاےا ہم نےکی کرنے والوں کو اےسی ہی جزا دےتے ہےں۔ےقےنا ےہ اےک کھلی آزمائش تھی۔ اور ہم نے اےک بڑی قربانی فد ےے مےں دے کر اِس بچے کو چھڑا لےا۔ اوراُسکی تعرےف اور توصےف ہمےشہ کے لےے بعد کی نسلوں مےںچھوڑ دی سلام ہے ابراہےم ؑ ؑپر۔ہم نےکی کرنے والوں کو اےسی ہی جزا دےتے ہےں ےقےنا وہ ہمارے مومن بندوں مےں سے تھا اور ہم نے اُسے اسحاق ؑ کی بشارت دی ۔اےک بنی صالحےن مےں سے ۔ اسے اور اسحاق ؑ کو برکت دی اَب اُن دونوں کی ذرےّت مےں سے کوئی محسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صرےح ظلم کرنے والا “ (الصفٰت۱۰۱تا۳۱۱) قارئےن! مسلمان عیدُا لا ضحیٰ کے دن قربانی کرتے ہیں اورقربانی نام ہے خوشی کے موقعے پر اللہ کے راستے مےں اپنی عزےز ترےن چےز کو قربان کرنے دےنے کا ۔ےہی سبق ہمےں سنتِ ابراہےم ؑ ؑسے ملتا ہے کس طرح باپ ؑبےٹے ؑنے اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلےمِ خم کر دےا۔ کس طرح باپ ؑ نے اللہ کا حکم بجا لاتے ہوئے اپنے بےٹے ؑ کو منہ کے بل گرا دےا اور قربان کرنے کے لےے تےار ہو گئے ۔ پھر جب اللہ انسان سے راضی ہو جاتا ہے تو سارے عالم مےں اپنے پسندےدہ بندے کا نام سربلند کرتا ہے آج دنےا کے ڈےڑھ ارب سے زائد مسلمان اللہ کے حکم کے مطابق اُس وقت سے لےکر آج تک اور قےامت تک ہر سال اس سنتِ ابراہےم ؑ کو جاری وساری کئے ہوئے اور کرتے رہےں گے( انشا اللہ) پھر اللہ اپنے اےسے نےک بندوں پر آخرت مےں جو انعامات کی بارش کرےگاان انعامات کا احاطہ انسانی ذہن کے لےے ممکن ہی نہےں ۔ اللہ مسلمانوں کو اپنی راہ مےں بہترےں چےزےں قربان کرنے کی تو فےق عطا فرمائے ۔عیدُالاضحیٰ منانے کا یہی فلسفہ ہے۔

عید قرباں

عالم اسلام کے موضوعی حالات میں ، اپنے جلو میں ہزاروں سوچیں، صدہا فکریں ، بے انتہا کرب لیکر عیدالاضحی پھر آگئی۔تا قیامت وقت کی گردش جاری رہے گی ۔ مسرور ایام دوڑتا رہے گا ، صبح و شام اپنا سفر مکمل کرتے رہیں گے اور وقت گزرتارہے گا ۔
 وقت گزراں ہے کسی طورگزر جائے گا
 تہوار اور رتیں اسی طرح آتے رہیںگے لیکن ہر بار نئے انداز ،نئے طور اور نئی طرح سے حالات و واقعات ، حادثات احساس کو نیازاویہ ، فکر کو نیا وزن اور خیال کو ایک نئی جہت عطا کرتے رہیں گے۔ عید قرباں ایک اشاریہ ہے اللہ سے محبت کا، اس کیلئے ہر چیز کو تجنے کا اور اس کی راہ میں عزیز ترین شے کو قربان کرنے کا، قربانی ایک جذبہ صادقہ ہے اور یہی جذبہ ہے جس کے تحت کائنات کا یہ نظام رواں دواں ہے ۔ وطن عزیز کی بنیادوں میں بھی قربانیوں کی ایک طویل داستان رقم ہے ۔ ہمارے ہاںہر آنے والی حکومت غریب عوام سے قربانیوں کی طلبگار رہی اور لاچار عوام کو مسلسل یاد دلاتی آرہی ہے کہ قربانی دیں اپنے لئے ، قوم کیلئے لیکن اکابرین اقتدار نے خود ہمیشہ غریب عوام کیلئے قربانی دینے سے گریزاں رہنے کی پالیسی ہی اپنائی ، برعکس ان کے قوم نے کبھی ان اکابرین اقتدار کو مایوس نہیں کیا ۔ موجودہ دور میں بھی بعض حکمرانوں اور سیاسی زعما نے اپنی قوم کو ، اپنے قبیلے اور کمیونٹی کو قربانی کی بھینٹ چڑھایا اورقوم کو ناکردہ جرم کی پاداش میں قربانی کا بکرا بننا پڑا ۔ ایسی قربانیاں قوم کیلئے تباہی و آفت کا سبب بنتی ہیں ۔ اپنے سماج کا مشاہدہ کریں ہر فرد دوسرے فرد کو ہی قربانی کا درس دیتا نظر آئے گا لیکن خود قربانی کیلئے ہرگز آمادہ نہیں۔ مولانا حضرات مساجد اور جلسوں میں آقا اور اہلبیت و صحابہ کی ناموس پر قربانی کیلئے ہمہ وقت تیار لیکن جب کہا جائے کہ آپ اپنی اس تقریر کو ہی آپ پر نچھاور کردیں اور اس کا معاوضہ نہ لیں تو ہرگز تیارنہیں۔ حالیہ بلدیاتی الیکشن میں ایک امیدوار کا سپورٹر اپنے امیدار پر کڑا وقت آنے کی صورت میں اپنے بچے قربان کردینے کا تذکرہ جذبات کی رو میں بہہ کر رہا تھا لیکن جب راقم نے اسے کہا کہ محترم آپ اپنے امیدوار کا صرف ایک دن کے خرچ بمعہ مٹھائی کے قربان کردیں ، اپنے بچوں کی قربانی رہنے دیں تو پھر ان کی ساری جذباتی روانی جھاگ کی طرح بیٹھ گئی ، بات کدھر چلی گئی تو قارئین رہنما قربانی دیتے ہیں قوم کیلئے ، والدین قربانی دیتے ہیں اولاد کیلئے ، بھائی بہن ، رشتے دار ، دوست احباب ، الغرض تمام رشتوں کے قائم و دائم رہنے کی بنیاد اور ان میں استحکام و پائیداری جذبہ قربانی پر ہی منحصر ہے ۔ فلسطینی اور کشمیری عوام اپنی آزادی کیلئے کئی دہائیوں سے مسلسل قربانیاں دیتے چلے آرہے ہیں، مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کی نئی لہر کو جاری و ساری ہوئے دو ماہ کے قریب ہوچکے ۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام 64 ارب کا معاشی خسارہ برداشت کرچکے ہیں ۔ مقبوضہ وادی میں خوراک ، ادویات اور ایندھن کی شدید کمی ہے، بچوں کیلئے دودھ ناپید ہے، سوسے زائد افراد کو شہید کیا جاچکا ہے ، سات ہزار سے زائد مکانات کو منہدم کردیا گیا ہے، ایک ہزار سے زائد افراد نابینا ہوچکے ہیں۔18 لاکھ سے زائد پیلٹ گن کے چھرے فائر کیے جاچکے ہیں۔ کشمیریوں کی قربانیوں کی ایک طویل تاریخ رقم ہورہی ہے۔ اس بار عیدقربان نے مسلمانوں پر فکر کے کتنے دریچے واکردئیے ہیں۔ اس موقع پر انفرادی اور اجتماعی سطح پر اُمت کو بہت کچھ سوچنا ہے، عمل کی ایک راہ متعین کرنی ہے۔ مسلمان تمام ذرائع کے حامل ہونے کے باوجود جس حالت سے گزر رہے ہیں،عید قربان ہمارے لئے پھر اخوت کا، اللہ کی رضا کے حصول کا اور قربانی کا پیغام لیکر آتی ہے ۔ کیا یہ نہیں ہوسکتا کہ عالم اسلام اس نئے اسلامی سال میں حکمت عملی کی ایک نئی جہت اپنائے ۔ اپنا تاج و تخت اور اقتدار بچانے کیلئے مسلمان بادشاہ اور حاکم کس کس کا دامن تھامے ہوتے ہیں، صاحبان خیر کو سب اندازہ ہے لیکن بدلتے ہوئے زمانے میں وہر کی اس صدی میں اب کسی اور سہارے اقتدار قائم رکھنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ آج عام آدمی جاگ چکا ہے ۔ ذرائع ابلاغ نے دنیا کے کونے کونے کو حالات حاضرہ سے آگاہی بخش دی ہے ۔ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان صاحبان اقتدار و اختیار اپنے عوام کے بارے میں سوچیں ۔ یہی سوچ ان کی قربانی ہوگی اور عوام کی فلاح کیلئے اٹھایا جانے والا ان کا ہر قدم ایثار ہوگا اور یہ قربانی اور ایثار دراصل ان کے اقتدار کیلئے نیک فال ہوگا ۔ شخصی حکومتیں ، خاندانی بادشاہتیں اب زیادہ چلنے والی نہیں ہیں، سازشوں اورحکمت عملیوں کی بنا پر اقتدار کو کسی حدتک طول دیا جاسکتا ہے لیکن بغیر جذبہ قربانی کے دلوں پر حکومت نہیں کی جاسکتی ۔ آج عید قرباں پکار پکار کر جذبہ قربانی کا اعادہ چاہتی ہے ۔ صاحبان اقتدار سے بھی اور عوام سے بھی ، مسلم امہ کو بہتر سنجیدگی سے سوچناہے کہ آج مسلمان ہونا ”جرم“ کیوں قرار دیا جا رہا ہے ؟ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ مغرب کے بہت سے ملکوں میں عام مسلمان خود کو ظاہر کرنے میں ایک طرح کاہر اس محسوس کرتا ہے ۔ دہشت گردی ، بغاوت، شدت پسندی ، وحشت انگیزی ، ہر ناپسندیدہ عمل مسلمان سے وابستہ کردیا گیا ہے آخر کیوں؟ غالباً ہم نے اللہ کی رضا کو پس پشت ڈال دیا ہے اور قربانی کے اس جذبے کو فراموش کردیا ہے جس نے مسلمانوں کو عالم کی سروری عطا کی تھی ۔ جو قومیں اپنے وجود، قومی تشخص اور ملی سربلندی کیلئے قربانی دیتی ہیں وہی عالم میں سرفراز ہوتی ہیں۔ تاریخ ایسی قوموں کے تذکرے سے پروقار بھی ہے اور سبق دہندہ بھی ۔ عید قرباں مسلم اُمہ کو ایثار اور قربانی کا یہ سبق پھر حرز جاں بنانا ہے اور عہدکرنا ہے کہ نفس امارہ کی قربانی دے
کر ثابت کیا جائے گا کہ امت مسلمہ آج بھی ایثار و قربانی سے تہی نہیں ہے۔
 عید قرباں پر کریں یہ عہد ہم
 خیر کی اب ہوگی ارزانی بہت
 اور دنیا سے کہیں ملت میں ہے
 جذبہ ایثار وقربانی بہت
 ہم ایثار و قربانی کے جذبے کے خالق اس معبود برحق سے عالم اسلام کیلئے خیر کی دعا کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس طرح حضرت ابراہیمؑ کو ان کی قربانی قبول کرکے سرخرو کیا ۔ مسلم اُمہ کو ان کی قربانیوں کاصلہ عطا فرمائے ۔ تیرے نام لیوا اس کرہ ارض کے مختلف خطوں ، عالم انسانیت کی سرفرازی کیلئے جو قربانیاں دے رہے ہیں انہیں شرف قبولیت عطا فرمائے ۔ کاش اگلی عید قرباں مسلمانوں کیلئے خیر و امن و آشتی ، سرفرازی اورسرخروئی کا پیغام لائے ، تیری رحمت سے توکچھ بھی بعید نہیں۔
Google Analytics Alternative